سوال : کیا ابن حجر کا ابوبکر کی خلافت پر اجماع کا دعوی کرنا قابل قبول ہے؟
جواب :
ابن حجر نے کہا ہے : اگر حدیث ولایت ، قابل تاویل نہیں ہے تو کم سے کم
ابوبکر اور دوسرے دونوں افراد کی خلافت کی حقانیت پر اجماع ہے اور یہ اس
کی خلافت کی حقانیت پر مفید قطع ہے اور علی کی ولایت کو باطل کرتا ہے
کیونکہ اجماع قطعی ہے اور خبر واحد، ظن کا فائدہ دیتی ہے ۔ ظنی اور قطعی
ہونے میں کوئی تعارض نہیں ہے لہذا قطعی پر عمل کرنا چاہئے اور دلیل ظنی کو
لغو کرنا چاہئے ، اس کے علاوہ مسئلہ ولایت میں شیعوں کے نزدیک دلیل ظنی
کا کوئی اعتبار نہیں ہے (١) ۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں :
اولا : ابن حجر نے ان تینوں کی خلافت پرکس طرح اجماع کا دعوی کیا ہے جب کہ ایسے اجماع کا کوئی وجود نہیں ہے ۔
ثانیا : اگر فرض کرلیں کے اجماع ثابت ہے لیکن چونکہ اس کی وجہ معلوم ہے اور
تہدید و لالچ کے ساتھ یہ اجماع پایا جاتا ہے لہذااس کا کوئی اعتبار نہیں
ہے ۔
ثالثا : احادیث ولایت کس طرح خبر واحدہے جب کہ علماء اہل سنت میں سے بہت زیادہ افراد نے اس کو نقل کیا ہے ۔
رابعا : احادیث ولایت کو اصحاب میں سے چودہ افراد نے نقل کیا ہے اور ابن حجر نے''الصواعق المحرقہ '' میں اس حدیث (مروا ابابکر فلیصل بالناس)
کے متواتر ہونے کاادعا کیا ہے ، اس اعتراف کے ساتھ کہ اصحاب میں سے آٹھ
افراد نے اس کو نقل کیا ہے اور عایشہ و حفصہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے ،
لیکن احادیث ولایت کو چودہ اصحاب نے نقل کیا ہے پھر اس کو حدیث واحد جانتے
ہیں !! بلکہ ابن حزم نے پانی بیچنے کے مسئلہ میں صرف چار اصحاب کے نقل
کرنے پر تواتر کا ادعی کیا ہے ۔
خامسا : احادیث ولایت جس سے شیعہ حضرات استدلال کرتے ہیں ، قطعی ہے خصوصا اس وقت جب دوسری دلیلیں اس کی تائید کردیتی ہیں (٢) ۔
___________________
١۔ صواعق محرقة، ص ٦٦۔
٢۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات (٢) ، ص ١٧٢۔
سوال ۔وہ روایات جو ابو بکر کی خلافت کے متعلق وارد ہوئی ہے ،معتبرہے ؟
جواب :۔ اہل سنت نے خلفاء کی خلافت کے متعلق بہت سی روایتیں نقل کی ہیں اور خود ہی ان حدیثوں کو جعلی اور غلط ثابت کیا ہے ہم یہاں پر ان میں سے چند احادیث کو بیان کریں گے:
۱۔ ایک مرفوع حدیث، رسول خدا (ص) سے نقل کی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا میرے بعد میری امت کے متولی و سر پرست ابو بکر ہوں گے ۔
ذہبی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا : یہ حدیث جھوٹی اور غلط ہے ۔ ۱
۲۔ اسی طرح ایک دوسری مرفوع حدیث، نقل کی ہے : جبرئیل (ع) نے پیغمبر اسلام سے مخاطب ہو کر فرمایا : ابو بکر آپ کی حیات میں آپ کے وزیر ہوں گے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے خلیفہ ہوں گے۔
ذہبی نے اس حدیث کوابوہارون اسماعیل بن محمد فلسطینی کی ایجاد کردہ احادیث میں شمار کرتے ہوئے کہا ہے : ابن جوزی نے اس حدیث کو تاریک سندکے ساتھ نقل کیاہے اورکہا ہے کہ ابو ہارون ایک جھوٹا آدمی ہے ۔
۳۔ خطیب بغدادی نے عبد اللہ بن جراد سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے: رسول خدا (ص) کے لئے ایک گھوڑا لایا گیا آپ اس پر سوار ہوگئے اور اس کے بعدفرمایا اس گھوڑے پر وہی شخص سوار ہو سکتا ہے جو میرے بعد میرا خلیفہ اور جانشین ہوگا، اس وقت ابو بکر اس گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ سیوطی نے اس حدیث کو جعلی حدیثوں میں شمار کیا ہے۔ ۳
۴۔ عائشہ نے رسول خدا (صلی للہ علیہ و آلہ)سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: میرے بعدائمہ خلافت ابو بکر اور عمروغیرہ ہوں گے ۔
ذہبی نے اس حدیث کو ذکر کر نے کے بعد کہا ہے: یہ حدیث باطل ہے اور اس حدیث کو علی بن صالح انماطی نے وضع ( یعنی گڑھا ہے )۴
۵۔ ابن عباس نے اس آیت ” و اذاٴ سر النبی الیٰ بعض ازواجہ حدیثا“ کی تفسیربیان کرتے ہو ئے کہا ہے: پیغمبر اسلام نے ایک رازی کی بنیاد پر حفصہ سے فرمایا: میرے بعد ابو بکرخلیفہ ہوں گے اور عمر ، ابو بکر کے بعد جانشین ہوں گے ، اور اس بات کو حضرت عائشہ سے بھی بیان کیا ہے ۔ ۵
ذہبی نے اس حدیث کو کذاب خالد بن اسماعیل مخزومی کی جعلی حدیثوں میں شمار کیا ہے(۶)۔
۶۔ ابو ہریرہ نے نقل کیا ہے :ایک روزجبرئیل رسول خدا (ص) کے پاس تشریف فرماتھے کہ اچانک ادھر سے ابو بکر کا گذرہوا تو رسول خدا (ص) نے فرمایا :یہ ابو بکر ہیں، تم ان کو پہچانتے ہو؟ تو جبرئیل نے عرض کیا ان کو کیسے نہیں جانتا یہ تو زمین سے زیادہ آسمانوں پر مشہور ہیں اور ملائکہ ان کو حلیم قریش کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ اور یہ آپ کی حیات طیبہ میں آپ کے وزیر اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے جانشین ہوں گے ۔
ابن حبان نے اس حدیث کو اسماعیل بن محمد بن یوسف کے واسطہ سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ شخص حدیث چور ہے اور اس کی ا حادیث قابل استدلال نہیں ہیں اور ابن طاہر نے اس شخص کو جھوٹا کہا ہے ۔۷
۷۔ انہوں نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ امام علی علیہ السلام کی طرف بھی نسبت دیدی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے بھی ابو بکر کو خلیفہ رسول سے توصیف کیا ہے... ، ایک حدیث میںحضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابو بکرنے حضرت علی (السلام) سے فرمایا آپ آگے تشریف لے آئیے اور نماز پڑھا ئیے تو حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا : نہ ، خدا کی قسم میں نماز نہیں پڑھاوں گا کیونکہ تم خلیفہ رسول ہو ۔
ذہبی نے اس حدیث کو عبد اللہ ابن محمد قدامی کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت شمار کی ہے اور ابن عدی نے کہا ہے : اس کی اکثر حدیثیں حفظ کے قابل نہیں ہیں۔
خلفاء کی خلافت کے متعلق دوسری متعدد احادیث موجودہیں اس سے زیادہ تحقیق کیلئے کتاب” الغدیر“ کی طرف مراجعہ فرمائیں( ۱۰) ۔(۱۱)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔ کتاب میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۶۲۷۔
۲۔ کتاب میزان الاعتدال جلد ۱ ص۲۴۷۔
۳۔ کتاب الاالمصنوعة جلد۱ ص ۳۰۱۔
۴۔ کتاب میزان الاعتدال جلد ۳ ص ۱۳۳۔
۵۔کتاب انساب الاشراف جلد ۱ ص ۴۲۴۔
۶۔کتاب الاعتدال جلد۱ ص ۶۲۷۔
۷۔کتاب المجرومین جلد ۱ ص ۱۳۰۔
۸۔ کتاب میزان الاعتدال جلد ۲ ص۲۸۸۔
۹۔ کتاب الکامل فی الضعفاء جلد ۴ ص ۴۸۸
۱۰۔ کتاب الغدیر جلد۵ ص ۵۳۲ و ۵۶۶۔
۱۱۔ کتاب علی اصغر رضوانی ، امام شناسی و پاسخ بہ شبھات( ۲) ص ۵۹۷۔
سوال : ابن داغر حلی نے حضرت زہراء(علیھا السلام) کے مصائب سے متعلق اپنے اشعار میں کیا کہا ہے؟
۷ ـ منعوا خلافةَ ربِّها وولیِّها ببصائر عمیت وضلَّ رشادُها
۸ـ واعصوصبوا فی منعِ فاطمَ حقَّها فقضتْ وقد شاب الحیاةَ نکادُها
۹ـ وتوفّیت غصصاً وبعد وفاتِها قُتلَ الحسینُ وذُبِّحت أولادُها
۷۔ ان لوگوں نے بصیرت نہ ہونے اور اپنی کج روی کی وجہ سے خلافت اور صاحب خلافت اور اس کے ولی کے سامنے دیوار کھڑی کردی۔
۸۔ اور انہوں نے گروہ در گروہ آکر حضرت فاطمہ زہرا(علیھا السلام)کو ان کے حق سے محروم کردیا اور وہ معصومہ جن کی زندگی تاریک ہوگئی تھی وہ اس دنیا سے چلی گئیں۔
۹۔ حضرت فاطمہ زہرا (علیھا السلام) رنج و غم کے ساتھ اس دار فانی سے چلی گئیں اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند حسین کو قتل کردیا گیا اور آپ کی اولاد کو ذبح کردیا(۱)۔
۱۔ شفیعی شاہرودی، الغدیر سے منتخب اشعار، ص
سؤال : کیا
وہ حدیث جس میں جناب فاطمہ اور ان کی اولاد پر دوزخ کی آگ حرام ہے ابن
تیمیہ کے کہنے کے مطابق جعلی اور گڑھی ہوئی ہے واس کاکوئی اعتبار نہیں ہے
،؟
جواب : وہ کہتا ہے کہ ،
وہ حدیث جو علامہّ نے رسولاسلام سے نقل کی ہے کہ ( اِ نّ فاطمہ أحصنت فَر جھا فحرّمَھا اللہُ وذرَّ یتھا علی النّار ) فاطمہ زھراء چونکہ پاک دامن تیھں اس لیے اللہ نے اُن پر اور ان کی اولاد پر جھنم کی آگ کو حرام قرار دیا ہے ،
یہ حدیث اھل معرفت کے نزدیک جھوٹی ہے اور اس حدیث کا جھوٹا ہونا لوگوں پر
ابھی واضح ہوجاے گا ، یہ کہنا کہ ،، فاطمہ پاک دامن تھیں لہذا خدا نے ان
پر اور ان کی اولاد پر آگ کو حرام قرار دیا ہے ،، یہ بالکل باطل ہے
کیونکہ سارہ بھی پاک دامن تھیں لیکن اللہ تعالی نے ان کی اولاد پر آگ کو
کہیں حرام قرار نہیں دیا اسی طرح پیغمبر اسلام کی پھوپھی صفیہ تھیں جبکہ
وہ پاک دامن تھیں اور ان کی بعض اولاد نیک اور صالح تھی اور بعض اولاد نیک
نہیں تھی ،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاک دامن عورتٰیں بہت ہیں جن کی تعداد کو صرف خدا ہی
جانتا ہے اور ان کی اولاد میں سے بعض نیک و صالح ہیں اور بعض کی اولاد نیک
نہیں ہیں بعض مومن ہیں اور بعض کافر ہیں لہذا فاطمہ کا پاک دامن ہونے میں
کوئی فضیلت وامتیاز وبرتری نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ اس صفت میں دیگر
عورتوں کے ساتھ مساوی ہیں ، (۱)
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ تعجب ہے اس شخص پر کہ جو ہر وقت یہ گمان
کرتا ہے کہ اجماع یا اتفاق اس کے ارادہ کے تحت ہے کہ جب بھی اس کو کوئی
آیت یاحدیث یا کوئی اور مسلہ اس کے عقیدہ کے مطابق نہ ہو تو فوراً حکم
صادر کردیتا ہے کہ علماء اجماع کریں چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ وہ بھی بلا
فاصلہ اس کی آواز پر لبیکّ لبیکّ کہدیتے ہیں اور اجماع کرلیتے ہیں اس کے
بعد وہ اس اجماع کے ذریعہ سے استدلال کرتا ہے ،! خدا کی قسم اگر انسان کو
جھوٹ بولنے اوربھودہ باتیں کرنے سے منع نہ کیا گیا ہوتا جتنا جھوٹ اس شخص
نے بولا ہے کوئی اور نہیں بول سکتا تھا ،
ائے کاش ہم جانتے کہ اس نے اس حدیث کے متعلق کس طرح سے کہدیا جبکہ اس کو
حافظاّن حدیث اور حدیث کی معرفت رکھنے والے اشخاص جیسے حاکم ، خطیب بغدادی ،
بزّاز ، ابویعلی ، عقیلی ، طبرانی ، ابن شاھین ، ابو نعیم ، محّب طبری ،
ابن حجر ، سیوطی ، متّقی ھندی ، ھیثمی ، زرقانی ، صباّن وبَدَ خسی (۲)
وغیرہ نے نقل کیا ہے اور اس حدیث کے صحیح ہونے کی بھی تائید کی ہے ، جو اس
کے جھوٹ اور اجماع کے باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے ،؟ ! ائے کاش وہ ان
دعوی کرنے والوں کے نام جن کے متعلق اس نے جھوٹ بولنے کا حکم لگایا ہے ان
کی طرف اشارہ کیا ہوتا اور ہمیں ان کے کچھ کلام وآثار سے آگاہ کردیتا ،
کیا یہ عقل سے دور کی بات نہیں ہے کہ جو اس اپنے وھم و گمان سے خیالی پلاؤ
پکائی ہے اور اس حدیث پر شبھ اندازی کی ہے جو صحیح ہے اور اس کی تاید بھی
ثٓابت ہے ایسی حدیث کو مورد نقد واعتراض قرار دیا ہے ،
کیونکہ اس کی عادت یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے فضایل اس کو پسند
نہیں آتے لہذا ہم اُس سے معلوم کرتے ہیں کہ عّفت و پاکدامنی اور ان کی
اولاد پر آگ کے حرام ہونے میں کیا ملازمہ پایاجاتا ہے جو اس نے سارہ و
صفّیہ جیسی دیگرمؤمنہ خواتین کے ذریعہ سے نقد کیا ہے ؟ بلکہ یہ فضیلت تو
سیّدہ نساءالعالمین کے لیے مخصوص ہے اس کے علاوہ بہت سے فضایل ہیں جو آپ
سے مخصوص ہیں ، اگرچہ جناب سارہ وجناب مریم وجناب حوّا یاان کے علاوہ دیگر
جوخواتین ہیں وہ صاحب فضیلت عظمت ہیں لیکن ان میں وہ فضایل نہیں پاے جاتے
جو جناب سیدّہ میں پائے جاتے ہیں ، لہذا اس وجہ سے اگر ان کے فرزندوں یا
ان کی اولادمیں خاص امتیازات پاے جاتے ہیں تو اس میں کوئی مشکل پیش نہیں
آنی چاہیے جبکہ اس لہذا سے ان کے فضایل کم نہیں ہیں ،
علامہّ زرقانی مالکی اس خیالی پلاؤکے ملازمہ کی ردّ اپنی کتاب ،، شرح
المواھب ،، میں کرتے ہوئے کہتے ہیں : کہ اس حدیث کو ابویعلی و طبرانی و
حاکم نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے ، و نیز حاکم کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے
اور اس کے بہت سے شواھد پائے جاتے ہیں ، اور اس کا جناب سیّدہ کی اولاد پر
آگ کے حرام نہ ہونے کو قرار دینے کا کیا مطلب،اور ان کی صفت یہ تھی کہ وہ
پاک دامن تھیں اس سے جناب مریم کی طرف اشارہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ،
اوّل: یہ ہے کہ اسنے ان کی فضیلت و برتری کو صرف پاکدامنی میں ہی آشکار
کردیا دوم : اس نے صفت پاک دامن کی مدح کی ہے اور اس کی اھّمیت کو واضح
کیا ہے ، جب کہ جناب فاطمہ زھراء کے لیے بہت زیادہ ایسی حدیثیں ہیں کی جن
ذکر ہوا ہے کہ آپ پر دوزخ کی آگ حرام (۳)
اور اس حدیث کی بہت سی دیگر حدیثوں سے تائید بھی ہوتی ہے جیسے ابن مسعود کی یہ حدیث ( انماّ سمُیتّ فاَ طمۃ لانّ اللہ َ قد فَطَمھا وذریتھا عن یوم القیامۃ )
(۴) اس وجہ سے آپ کا نام فاطمہ رکھا گیا ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے
قیامت کے روزآپ اور آپ کی اولاد سے جھنم کی آگ کو دور رکھا ہے ( یعنی
خدا وند عالم نے آپ اور آپکی اولاد پر دوزخ کی آگ کو حرام قرار دیا ہے )
پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا جناب فاطمہ زھراء علیہا السلام سے یہ فرمانا( اِنّ اللہَ غیرُ معذُبکِ ولا أحداً من ولدکِ )(۵)اللہ تعالیٰ تم پر اور تمہاری اولاد میں سے کسی پر بھی عذاب نہیں کرے گا،
دوسری حدیث میں رسول اسلام نے علی علیہ السلام سے فرمایا ( اِنّ اللہَ قدَ غفرَ لکَ
وَ لذُرّیتّک )(۶) خدا وند عالم نے تم کو اور تمھاری ذریت کو بخش دیا ہے ،
اور کہیں پر رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اس طرح سے فرمایا ( وَعدَ نی ربّی فی أھل بیتی من أقرّ منھم بالتوحید ولیی بالبلاغ أنہ لا یعذّ بُھم )(۷)
میرے پرور دگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میرے اھل بیت میں سے جس نے بھی
اللہ تعالیٰ کی توحید اور میں اس کا رسول ہوں کا اقرار کیا ہے تو اس کو
کبھی بھی عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا (۸)
۱۔ منھاج السنۃ ۲: ۱۲۶،
۲۔ رجوع کریں : مستدرک حاکم [ ۳، ۱۵۲، تاریخ بغداد [ ۳، ۵۴، ]؛ مسند برّاز
[ ۵، ۲۲۳، ح ۱۸۲۹،]؛ وابو یعلی نے بھی اس روایت اپنی مسند کبیر میں ذکر
کیا ہے [ اُسی طرح سے جیسے المطالب العالیہ ۴،۷۰، ح۳۹۷۸،] میں ذکر ہوا ہے ؛
نقل کیا ہے اور المعجم الکبیر میں طبرانی نے [۲۲، ۴۰۶،ح ۱۰۱۸، ] اور
والثغور الباسمہ میں ؛ سیوطی : نے ۴۶،و۔۔۔۔۔۔
۳۔ شرح المواھب زرقانی ۳: ۲۰۳، اور اس کا پورا کلام جو اس نے اپنی کتاب
میں نقد کی ہے ،، الصراع بین الا سلام والوثنیۃ ،، میں آیگا ،
۴۔ تاریخ ابن عساکر [ ۱۷، ۷۷۰؛ مختصر تاریخ دمشق ۲۶، ۲۸۶،] ؛ الصواعق : ۹۶،[ص۱۶۰،]
۵۔ اس حدیث کو طبرانی نے کتاب [المعجم الکبیر ۱۱، ۲۱۰، ح ۱۱۶۸۵، اسی سند
کے ساتھ جو اس کے ثقہ راویوں نے نقل کیا ہے ، اور ابن حجر نے الصواعق:
۹۶،و۱۴۰، [ص۱۶۰،و۳۳۵،] میں اس کے صحیح ہونے کی تاید کی ہے
۶۔ الصواعق : ۹۶،و۱۴۰،[۱۶۱،و۲۳۳،و۲۳۵]؛
۷۔ حاکم نے مستدرک: ۳: ۱۵۰[۳، ۱۶۳،ح ۴۷۱۸،]میں اور اس کے علاوہ دیگر لوگوں
نے جیسے سیوطی وغیرہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے ،الجامع الصغیر ، سیوطی ۲،
۷۱۶،ح ۹۶۲۳،؛ کنزالعماّل۱۲، ۹۶،ح ۳۴۱۵۶،]
۸۔ شفیعی شاھرودی ، منتخب از جامع الغدیر ،ص ۳۰۸.
اس حدیث میں پیغمبر اسلام نے اپنے أہل بیت کو امت کے لیے امان قرار دیا ہے تاکہ ان کی امت اختلاف سے دور رہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر امت مسلہّ رسول اسلام کے بعد أہل بیت کے بتاءے ہوءے راستہ پر عمل پیرا ہوجاءے اور ان کی اقتدا کرلیں تو اختلاف سے بچے رہے نیگے اور ھدایت تک پہونچ جاءےنیگے ،
حدیث أمان کو اہل سنتّ کے علما میں سے ایک جماعت نے اپنی اپنی کتابو ں میں نقل کیا ہے ، ان کی بعض عبارتیں اس طرح سے ہیں ،
۱، حاکم نیشا پوری نے صحیح سند کے ساتھ رسول اسلام ، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ( النجوم أمان لاھل الارض من الغرق وأھل بیتی أمان لأمتی من الاختلاف ، فاذا خالفھا قبیلۃ من العرب اختلفو ا فصاروا حزب من ابلیس، (۱) ترجمہ ، ستارے اہل زمین کے لیے امان ہیں تاکہ وہ غرق نہ ہو اسی طرح میرے اہلبیت میری امت کے لیے امان ہیں تا کہ ان میں اختلاف نہ ہونے پاءے اگر عرب میں سے کویئ قبیلہ ان کی مخالفت کرے گا تو ان میں خود اختلاف ہوجاءے گا اوروہ شیطان کے گروہ میں سے ہوگا ،
ابن حجر مکیّ وسیوطی نے بھی اس حدیث کو اِسی مضمون کے ساتھ نقل کیا ہے ، (۲)
۲۔ ابن حجر نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ( ۔۔۔ وأھل بیتی أمان لآمتی من الاختلاف فاذا خالفتھا قبیلۃ من العرب اختلفوا فصارو حزب ابلیس)
میرے اہل بیت وسیلہ امان ہیں میری اُمت کے لیے تاکہ وہ اختلاف میں نہ پڑیں اگر عرب میں سے کویئ قبیلہ ان کی مخالفت کرے گا تو ان میں خود اختلاف ہوجاءے گا اور وہ شیطان کے گروہ میں سے ہوگا ،
۳۔ابویعلی موصلی نے اپنی کتاب مسند میں سند حسن کے ساتھ رسول اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ( النجوم أمان لآھل السماء وأھل بیتی أمان لاُمتی (۳)ترجمہ ‘‘ جس طرح سے ستارے اہل آسمان کے لیے وسیلہ امان ہیں اِ سی طرح میرے اھلیبت اہل زمین کے لیے وسیلہ آمان ہیں ،
یہ حدیث اِسی طرح دوسرے مضمون سے بھی جوکہ قریب المعنی ہیں نقل ہویئ ہے ، (۴)
۱۔ مستدرک حاکم ،ج ۳، ص ۱۴۹،
۲۔ الصواعق المحرقہ ، ص ۱۵۰، احیا المیتّ ،ج ۳۵،
۳۔ منتخب کنزالعماّل ، ج ۵ ص ۹۲، الجامع الصغیر ، ج ۲، ص ۱۸۹، ؛ذخاءر العقبی ، ص ۱۷،
۴۔ علی اصغر رضوانی ، امام شناسی وپاسخ بہ شبہات (۲) ص ۴۱۵،
سوال : پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد قرآن کریم کا جمع ہونا ، عقل سے سازگار ہے؟
جواب : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم) اور مسلمان ،قرآن کریم کی جس عظمت اور اہمیت کے قائل ہیں اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ جو روایتیں کہتی ہیں کہ قرآن کریم ، پیغمبرا کرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد جمع ہوا ہے، غلط ہیں،اس کے علاوہ
قرآن کریم ،مسلمانوں کے پاس سب سے گرانقدر چیز ہے ، لہذا انہوں نے اس کو
محفوظ کرنے میں بہت زیادہ کوشش کی ہے کیونکہ یہی نبوت کی بنیاد ہے ، کیا
یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جیسی
شخصیت اس کو جمع کرنے اور لکھنے کو اہمیت نہ دیں؟ یا دوسرے کام کرنے لگ
جائیں اور اس کے سوروں اور آیتوں کو منظم و مرتب کرنے سے غافل ہوجائیں؟
قرآن کریم آپ کا زندہ جاوید معجزہ ہے اور اس کے ذریعہ سے تمام زمانوں میں
سب کو چیلنج کیا جاسکتا ہے ،اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر لازم تھا کہ اس کی حفاظت کی کوشش کریں، کیونکہ
انسان کا ذہن اور حافظہ جس قدر بھی قوی ہو لیکن پھر بھی اس پر اعتماد نہیں
کیا جاسکتا ۔
قرآن کریم آہستہ آہستہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر نازل
ہوتا تھا اور آنحضرت (ص) نے ”کاتبان وحی“ کے نام سے ایک گروہ معین کررکھا
تھا جو اس کو نازل ہوتے ہی لکھتے تھے ۔ ابوعبداللہ زنجانی نے کتاب ”تاریخ
القرآن“ میں اس متعلق لکھا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
کے پاس کچھ لکھنے والے تھے جو وحی کو معین خط یعنی نسخ میں لکھتے تھے اور
یہ ۴۳/افراد تھے ان میں سب سے زیادہ زید بن ثابت اور علی بن ابی طالب
(علیہ السلام) نے قرآن کو لکھا، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ قرآن کریم
کو لکھنے کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔
اس کے بعد عمر بن خطاب کے مسلمان ہونے کے واقعہ کو لکھتے ہیں کہ کس طرح
انہوں نے اپنی بہن کے گھر سورہ حدید(سبح اللہ) اور سورہ طہ کے ایک حصہ کو
مشاہدہ کیا ، اس کے بعد لکھتے ہیں : ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
مسلمان ، قرآن کریم کو لکھنے کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے اور پورا قرآن ،
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا (۱) ۔
روایات میں بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید کے بعض سورے یا کسی سورہ کا ایک حصہ
تمام مسلمانوں کے پاس موجود تھا ، عبادہ بن صامت کہتے ہیں : جو بھی مہاجر
آتا تھا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کو کسی ایک مسلمان کے
حوالہ کردیتے تھے تاکہ وہ اس کو قرآن سکھائے ۔ کلیب کی روایت میں بیان ہوا
ہے : میں علی (علیہ السلام) کے ساتھ تھا کہ مسجد میں بلند آواز سے قرآن
پڑھنے کی آواز بلند ہوئی تو حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا: ان کو
مبارک ہو!
ایک گروہ قرآن کریم کو بلند آوازسے پڑھتا تھا ،حکم ہواکہ قرآن کریم کو آرام اور آہستہ سے پڑھو ۔
ان دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ، قرآن کریم کی قرائت کو
اہمیت دیتے تھے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ قرآن کریم ، ابوبکر کے زمانہ تک
جمع نہ ہوا ہو؟
نتیجہ یہ ہے کہ خلفاء کے زمانہ تک قرآن کریم کا جمع نہ ہونا ایسا خیال ہے
جو قرآن، سنت اور عقل کے مخالف ہے اور قرآن کریم کے جمع کرنے کو ابوبکر سے
نسبت نہیں دی جاسکتی ۔ عثمان کے زمانہ میں جو قرآن کا جمع ہونا کہا جاتا
ہے وہ بھی مسلمانوں کے درمیان ایک قرائت کو جمع کرنا تھا ۔
اہل سنت کے بزرگ علماء نے اس حقیقت کو قبول کیا ہے ،حارث محاسبی کہتے ہیں
: مشہور یہ ہے کہ عثمان نے قرآن کو جمع کیا ہے جب کہ یہ صحیح نہیں ہے،
کیونکہ عثمان نے لوگوں کو ایک قرائت پر جمع کیا اس لئے کہ اس وقت بہت سی
قرائتیں مرسوم تھیں ۔
لیکن یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے قرآن کریم کو
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد جمع کیا ہے تو اس
کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے قرآن کریم کو شال نزول کے مطابق اور منسوخ کو
ناسخ پر مقدم کیا ہے ۔اس کو علامہ مجلسی نے ”بحارالانوار میں اور صاحب
کتاب تاریخ القرآن نے قبول کیا ہے ۔ اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا تو
امام علی (علیہ السلام) چند روز میں کس طرح قرآن کو جمع کرتے؟(۲) ۔
۱۔ تاریخ القرآن، ص ۴۳، فصل۶۔
۲۔ سیمای عقاید شیعہ، ص ۱۸۱۔
جواب : عمر بن خطاب کی نظر میں قرآن کریم سے چار آیتیں حذف ہوئی ہیں : آیہ رجم، آیہ فراش، آیہ رغبت اور آیہ جہاد۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اہل سنت کی صحاح ستہ اور مسانید نے ان کو نقل کیا ہے ، جب کہ ان آیتوں کی عبارت گواہ ہے کہ یہ قرآن نہیں ہے، اگر چہ ان کا مضمون دین کے مطابق ہے ، وہ چار آیتیں یہ ہیں :
۱۔ آیہ رجم
عمر نے حج سے واپس آتے ہوئے ایک خطبہ میں کہا :
آیہ رجم کے متعلق ہلاک ہوجاؤ گے ، ہمیں کتاب خدا میں دوحدیں نہیں ملتیں، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے رجم (سنگسار) کیا تو ہم نے بھی رجم کیا ۔ اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے کتاب خدا میں کسی چیز کا اضافہ کردیا ہے تو میں اس طرح لکھتا: ”الشیخ و الشیخة اذا زنیا فارجموھما البتة“۔ زنا کار بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کو یقینا سنگسار کرو ۔ ہم نے اس آیت کو پڑھا ہے (۱) ۔
اس جملہ کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ قرآن نہیں ہے ، اس کے مضمون میں بھی اشکال ہے، کیونکہ سنگسار اس مرد اور عورت کو کیا جاتا ہے جو شادی شدہ ہوں ،چاہے وہ جوان ہوں، یا بوڑھے ۔
۲۔ آیہ فراش
عمر بن خطاب نے اُبی بن کعب سے کہا : کیا ایسا نہیں ہے کہ جو چیز کتاب خدا سے حذف ہوگئی ہے ہم اس کو اس طرح پڑھتے تھے : ”الولد للفراش و للعاھر الحجر“؟فرزند ، بستر پر سونے والے شوہر کا ہے اور زناکار کے لئے پتھر ہے ۔ اُبی نے کہا : کیوں نہیں (۲) ۔
یہ کلام اگر چہ فصیح ہے ،لیکن قرآن کریم کا جزء نہیں ہوسکتا ، لیکن خلیفہ خیال کرتے تھے کہ یہ قرآن کریم کی عبارت ہے ۔
۳۔ آیہ رغبت
بخاری نے روایت کی ہے کہ عمر نے کہا : ہم کتاب خدا میں اس طرح پڑھا کرتے تھے : اپنے باپ سے اعراض اور دوری نہ کرو کیونکہ باپ سے اعراض کرنا کفر ہے ”لا ترغبوا عن اآبائکم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آبائکم“ (۳) ۔
۴۔ آیہ جہاد
سیوطی کے بقول عمر نے ابن عوف سے کہا : جو چیز ہم پر نازل ہوئی ہے اس کو ہم قرآن کریم میں نہیں دیکھتے ”ان جاھدوا کما جاھدتم اول مرة“؟۔ جس طرح پہلے جہاد کرتے تھے اسی طرح اب بھی جہاد کرو ۔ اس نے کہا قرآن کریم میں سے جو آیتیں حذف ہوئی ہیں ان میں سے ایک بھی ہے (۴) ۔
1 . صحیح بخارى: ج 8، ص 208 ـ 211.
2 . الدرّ المنثور: ج 1، ص 106.
3 . صحیح بخارى: ج 8، ص 208 ـ 211; صحیح مسلم: ج 4، ص 167 و ج 5، ص 116.
4. سیماى عقاید شیعه، ص 171.
قرآن کریم۔ تحریف قرآن۔ تحریف کے قائلین
ام المومنین عایشہ
سوال : ام المومنین عایشہ کی نظر میں قرآن کریم سے کیا حذف ہوا ہے ؟
جواب : دودھ پلانے والی آیت: کتاب موطا
میں مالک کی روایت کے مطابق عایشہ سے روایت ہے کہ عایشہ نے کہا : قرآن
کریم میں دس مرتبہ دودھ پلانے حرام قرار دیا گیا تھا پھر اس دس مرتبہ کو
پانچ مرتبہ سے نسخ ہوگیا”خمس معلومات“۔ اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم) کا بھی انتقال ہوگیا ہے جو ہم ان سے معلوم کرتے ۔ جب کہ قرآن
میں جو لوگ پڑھتے تھے وہ دس مرتبہ تھا (۱) ۔
عایشہ نے جس آیت کو نقل کیا ہے وہ بھی عمر کی آیت کی طرح ہے ، لہذا یہ
قرآن کی عبارت نہیں ہوسکتی اور اگر قرآن کریم کی آیت ہوتی تو مصحف میں
لکھی جاتی ، اس کے حذف ہونے پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے (۲) ۔
۱۔ تنویر الحوالک، ج ۲، ص ۱۱۸، آخر کتاب رضا(ع )
۲۔ سیمای عقاید شیعہ، ص ۱۷۲۔
سوال : کیا قرآن کریم ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے زمانہ میں جمع ہوا ہے؟
جواب : قرآن کریم پیغمبر اکرم (صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوا اور تمام سوروں اور آیتوں کو ان کے
حکم سے مرتب کیا گیا ۔ اس بات پرتاریخی شواہد کے علاوہ خود پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حدیث دلیل ہے جس میں آپ نے سورہ حمد کا
”فاتحة الکتاب“ نام رکھا اور فرمایا : فاتحة الکتاب کے بغیر نماز صحیح
نہیں ہے (۱) ۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا اور سورہ حمد اس کے شروع میں تھا اگر قرآن
کریم کے تمام سورے اور آیتیں منتشر تھیں تو پھر سورہ حمد کا فاتحة الکتاب
نام رکھنے کے کوئی معنی نہیں ہیں ۔
تاریخی حقایق گواہ ہیں کہ قرآن کریم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا ، یہاں پر ہم ایسے شواہد پیش کریں گے
جودلالت کرتے ہیں کہ قرن کریم آنحضرت (ص) کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا اور
پھر ان شواہد کو ان روایات کے ساتھ مقایسہ کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ
قرآن کریم پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد جمع ہوا
ہے اور پھر ان کے ذریعہ حقیقت تک پہنچ جائیں گے ۔
۱۔ طبرانی اور ابن عساکر نے شعبی سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں چھے لوکوں نے قرآن کریم کو جمع کیا: اُبی
بن کعب، زید بن ثابت، معاذ بن جبل، ابوالدرداء، سعد بن عبید اور ابوزید۔
۲۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے انس بن مالک سے سوال کیا: پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں کس نے قرآن جمع کیا؟ اس نے کہا: چار
آدمیوں نے قرآن کریم کو جمع کیا اور یہ چاروں انصار سے تھے : اُبی بن کعب،
زید بن ثابت، معاذ بن جبل اور ابوزید ۔
۳۔ مسروق کے بقول عبداللہ بن عمر نے کہا : میں عبداللہ بن مسعود کودوست
رکھتا ہوں کیونکہ میں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا
ہے کہ آپ نے فرمایا : قرآن کریم کو چار آدمیوں کو تعلیم دو : عبداللہ بن
مسعود، سالم، معاذ اور اُبی بن کعب ۔
۴۔ نسائی نے عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے : میں نے قرآن کریم کو جمع کیا
اور ہر شب اس کو ایک مرتبہ پڑھتا تھا، اس کی خبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ نے فرمایا : قرآن کو پورے مہینہ میں ایک
مرتبہ پڑھو ۔
۵۔ عثمان سے نقل ہوا ہے کہ جب بھی وحی نازل ہوتی تھی تو پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کاتبان وحی کوبلاکر فرماتے تھے : اس آیت کو فلاں
سورہ میں فلاں آیات کے پاس لکھ دو (۲) ۔
۶۔ تاریخ القرآن کے مولف ابو عبداللہ زنجانی نے لکھا ہے : پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں بعض اصحاب نے قرآن کریم یا اس کے
کچھ حصہ کو جمع کرنے کیلئے قدم اٹھایا ،لیکن انہوں نے جس قرآن کو پیغمبر
اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع کیا تھا اس کو ان کے
بعد کامل کیا ۔
۷۔ محمد بن اسحاق نے ”الفہرست“ میں کہا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم) کے زمانہ میں قرآن کوجمع کرنے والوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں :
علی بن ابی طالب(علیہ السلام)،سعد بن عبید، ابوالدرداء معاذ بن جبل،
ابوزید، ثابت بن زید، اُبی بن کعب، عبید بن معاویہ اور زید بن ثابت ۔
۸۔ سیوطی نے ”الاتقان“ میں محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے : قرآن کریم کو
جمع کرنے والے چار افراد کے نام یہ ہیں: معاذ بن جبل، عبادة بن صامت، اُبی
بن کعب، ابوالدرداء اور ابو ایوب انصاری ۔
۹۔ تاریخ القرآن کے مولف نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے : قرآن کریم کو جمع
کرنے والے چار افراد کے نام یہ ہیں : معاذ بن جبل، اُبی بن کعب، ابوزید،
یا ابوالدرداء، یا عثمان، اورتمیم داری ۔
۱۰۔ خوارزمی نے کتاب مناقب میں علی بن رباح سے نقل کیا ہے کہ علی بن ابی
طالب (علیہ السلام) اور اُبی بن کعب نے قرآن کریم کوپیغمبر کرم (صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع کیا ۔
۱۱۔ ایک روایت میں ابوبکر حضرمی نے امام صادق (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے
کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) سے
فرمایا:
قرآن میرے بستر کے پاس حریر،کاغذ اور دوسری چیزوں پر لکھا ہوا ہے ، اس کو
اٹھا لو اور اس کو برباد نہ کرنا جس طرح یہودیوں نے توریت کو ضایع کردیا
ہے (۳) ۔ حضرت علی (علیہ السلام) بھی گئے اور اس کوزرد کپڑے میں لپیٹ کر
اس پر مہر لگائی ۔
۱۲۔ حدیث ثقلین بھی اس بات پر گواہ ہے کہ قرآن کریم ، پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا اور اگر اس حدیث کو
مذکورہ اقوال میں اضاف کردیں تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ قرآن
کریم،پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوا ہے ،
آنحضرت (ص) نے فرمایا : میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے
جارہاہوں : کتاب خدا اور اپنی عترت، اگر تم ان دونوں سے تمسک کرو گے تو
کبھی گمراہ نہ ہوگے اور یہ دونوں بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں
تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے (۴) ۔
یہ حدیث واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ قرآن کریم ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا ،لیکن یہ جو کہاجاتا ہے کہ
قرآن کریم سینوں میں محفوظ تھا ، غلط ہے ، اگر یہ حدیث ، پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں قرآن کے لکھنے پر دلالت نہ کرے تو کم
سے کم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام سورے اور آیات ، پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ می اپنی جگہ پر منظم کردئیے گئے تھے ،
چاہے کاغذ پر نہ لکھا گیا ہو (۵) ۔
1 . مسند احمد: ج 2، ص 428.
2 . البیان: ص 26 ـ 27.
3 . تاریخ القرآن، ص 7 و 8.
4 . این حدیث از احادیث متواتر بلکه بیش از حدّ تواتر است.
5. سیماى عقاید شیعه،ص 178
سوال : اصحاب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے حدیث غدیر کے بعض راویوں کے نام بیان کریں؟
جواب: علامہ امینی (رحمة اللہ علیہ)کتاب
الغدیر(۱) میں بزرگ صحابہ کے ۱۱۰ نام لکھنے کے بعد حدیث غدیر کو نقل کرتے
ہوئے فرمایا(۲): اس وقت کی فضاء اقتضاء کرتی ہے کہ اس حدیث کے روایوں کی
تعدا اس سے کئی گنا زیادہ ہونا چاہئے ۔کیونکہ جن راویوں نے اس حدیث کو سنا
اور حفظ کیا ہے ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور فطرتا انہوں نے سفر
سے واپس آنے کے بعد اس حدیث کودوسروں سے بھی بیان کیا ہوگا کیونکہ ہر
مسافر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ واپس آنے کے بعد عجیب وغریب واقعات کو نقل
کرتا ہے،ہم اختصار کی وجہ سے یہاں پر صرف ۲۵ ، افراد کے نام یہاں پر ذکر
کریں گے(۳) ۔
۱۔ ابوہریرہ دوسی، ۷۸ سال زندہ رہے ، متوفی ۵۷۔۵۹ ہجری (۴) ۔
۲۔ اسماء بنت عمیس خثعمیہ۔ابن عقدہ نے ”کتاب الولایة“(۵) میں روایت کی ہے ۔
۳۔ پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شریک حیات ام سلمہ(۶) ۔
۴۔ ام ہانی بنت ابوطالب(۷) ۔
۵۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خادم ابوحمزہ انس بن مالک انصاری خزرجی (متوفی ۹۳ ھ)(۸) ۔
۶۔ جابر بن عبداللہ انصاری کا چورانوے سال کی عمر میں مدینہ میں انتقال ہوامتوفی ۷۳، ۷۴، ۷۸(۹) ۔
۷۔ ابوذر جندب بن جنادہ غفاری، متوفی ۳۱(۱۰) ۔
۸۔ حسان بن ثابت۔آپ کی سوانح حیات اور اشعار کو ملاحظہ کرنے کیلئے پہلی صدی میں غدیر کے شعراء کے باب میں مراجعہ کریں (۱۱) ۔
۹۔ سبط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) امام حسن مجتبی (علیہ
السلام) ۔ ابن عقدہ نے ”کتاب الولایة“(۱۲) میں امام حسن مجتبی (علیہ
السلام) کی حدیث کو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے اور ”جعابی“ نے ”النخب“ میں
نقل کیا ہے ۔ ”خوارزمی“ نے ان کو بھی حدیث غدیر کے راویوں میں شمار کیا
ہے(۱۳) ۔
۱۰۔ سبط پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ،سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام) (۱۴) ۔
۱۱۔ زبیر بن عوام قریشی (۳۶ھ) ۔ان کا شمار عشرہ مبشرہ (۱۵)کے مشہور دس
افراد میں ہوتا ہے ”ابن مغازلی “ نے بھی ان سب کو حدیث غدیر کے راویوں میں
شمار کیا ہے(۱۶) ۔ اور ”جزری“شافعی نے ”اسنی المطالب“ میں ان کو حدیث غدیر
کے راویوں میں شمار کیا ہے (۱۷) ۔
۱۲۔ ابواسحاق سعد بن ابی وقاص، متوفی ۵۴، ۵۵، ۵۶، ۵۸ ھ(۱۸) ۔
۱۳۔ ابوعبداللہ سلمان فارسی، آپ تقریبا ۳۰۰ سال زندہ رہے، متوفی ۳۶، ۳۷ھ (۱۹) ۔
۱۴۔ ابن عقدہ نے ”حدیث الولایة“ (۲۰) میں ان سے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے ۔
۱۵۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے چچا ،عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم، متوفی ۳۲ (۲۱) ۔
۱۶۔ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہاشمی ، متوفی ۸۰ ھ۔ ابن عقدہ نے حدیث
غدیر کو ان سے نقل کیا ہے ،انہوں نے اسی حدیث سے معاویہ کے خلاف استدلال
پیش کیا(۲۲) ۔
۱۷۔ عبداللہ بن عباس، متوفی ۶۸ھ (۲۳) ۔
۱۸۔ ابوعبدالرحمن عبداللہ بن عمر بن خطاب عدوی، متوفی (۷۲، ۷۳)(۲۴) ۔
۱۹۔ ابوعبدالرحمن عبداللہ بن مسعود ہذلی،متوفی ۳۲، ۳۳(۲۵) ۔
۲۰۔ عثمان بن عفان،متوفی ۳۵ھ۔ ان کا شمار عشرہ مبشرہ (۱۵)کے مشہور دس
افراد میں ہوتا ہے ”ابن مغازلی “ نے بھی ان سب کو حدیث غدیر کے راویوں میں
شمار کیا ہے ۔
۲۱۔ امیر المومنین علی بن ابی طالب صلوات اللہ علیہ(۲۷) ۔غدیر میں آپ کا
شعر مشہور ہے اور ثقہ راویوں نے اس کو نقل کیا ہے ۔پہلی صدی کے شعراء میں
یہ شعر اور اس کے راویوں کو بیان کیا ہے (۲۸) ۔ اسی طرح ”شوری“ اور ”جمل“
میں آپ نے حدیث غدیر سے استدلال کیا ہے اور ”رحبہ“ میں حدیث غدیر کی قسم
دینے کے سلسلہ میں بیان کریں گے(۲۹) ۔
۲۲۔ عمربن خطاب متوفی ۲۳ھ۔ (۳۰) ۔
۲۳۔ عمرو عاص (۳۱) ۔اس کا شمار غدیر کے شعراء میں ہوتا ہے جس کا ذکر پہلی
صدی کے شعراء میں بیان ہوگا(۳۲) ۔ ہمدان کے ”برد“نامی شخص نے حدیث سے اس
کے خلاف استدلال کیا اور آخر کار عمروعاص نے اس حدیث کا اعتراف کیا ہے
(۳۳) ۔
۲۴۔ صدیقہ طاہرہ بنت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)(۳۴) ۔
۲۵۔ فاطمہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب۔ ابن عقدہ (۳۵ ) اور منصور رازی نے کتاب الغدیر میں اس سے اس حدیث کو نقل کیا ہے (۳۶) ۔
۱۔ مراجعہ کریں:
۲۔ [در الغدیر 1/144].
۳۔ مندرجہ ذیل اسماء ، حروف تہجی کی ترتیب سے ذکر ہوئے ہیں ۔
۴۔ مراجعہ کریں : تهذیب الکمال [20/484، شماره 4089]; تهذیب التهذیب 7:
337 [7/296]; مناقب خوارزمى: 130 [ص 156، ح 184]; الدرّ المنثور 2: 259
[3/19]; تاریخ مدینة دمشق [12/234]; تاریخ الخلفاء: 114 [ص 158]; کنز
العمّال 6: 154 [11/609، ح 32950; و 13/157، ح36486].
5 ـ [کتاب الولایة/152].
6 ـ جواهر العقدین [ورقه 174]; ینابیع المودّة: 40 [1/38، باب 4].
7 ـ جواهر العقدین [ورقه 174]; ینابیع المودّة: 40 [1/38، باب 4].
8 ـ المعارف: 291 [ص 580]; مقتل الإمام الحسین(علیه السلام)، خوارزمى
[1/48]; تاریخ الخلفاء: 114 [ص 158]; کنز العمّال 6: 154 و 403 [11/609، ح
32950; و 13/157، ح 36486].
9 ـ الاستیعاب، ابن عبد البرّ 2: 473 [قسم سوم/1099، شماره 1855]; کنز العمّال 6: 398 [13/137، ح 36430 و 36433].
10 ـ فرائد السمطین: باب 58 [1/315، ح 250]; مقتل الإمام الحسین(علیه السلام)، خطیب خوارزمى [1/48].
11 ـ نگاه کن: ص 148 ـ 160 از همین کتاب.
12 ـ [کتاب الولایة/150].
۱۳۔ [ذهبى نے کتاب الغدیر میں، ح 121، وصالحانى، و شهاب الدین إیجى در
توضیح الدلائل میں/ ق 197/ ب، ان کو ان صحابه میں شمار کیا هے جنهوں نے
حدیث غدیر کو نقل کیا هے].
14 ـ مقتل الإمام الحسین(علیه السلام)، خوارزمى [1/48].
۱۵۔ عثمان کے زمانہ میں ایک حدیث کو جعل کی گیا ہے جس کی نسبت پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف دی گئی ہے ،اس حدیث میں ۱۰ لوگوں کو
جنت کی بشارت دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ”عشرہ مبشرہ“ کے نام سے
مشہور ہوگئی، یہ دس افراد مندرجہ ذیل ہیں : حضرت علی (علیہ السلام)،
ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمن بن عوف،
ابوعبیدة بن جراح و سعید بن زید بن عمرو ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بہشت
میں علی (علیہ السلام) اور ان کے دشمن ایک ساتھ جمع ہوگئے ہیں، مراجعہ
کریں : سنن ترمذى 5/311، ح 3830 و 3831 و 3832; سنن أبی داود 2/401، ح
4648; مسند احمد 1: 193، و چاپ دیگر: 1/316، ح 1678; و همین کتاب/951 ـ
959.
تقی الدین مقریزی نے کتاب الخطط المقریزیة، ج ۲، ص ۳۳۲ پر ادعا کیا ہے کہ
یہ لوگ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حیات میں فتوی دیتے تھے
،مراجعہ کریں : حصر الاجتهاد، آقا بزرگ طهرانى: 71].
16 ـ مناقب علیّ بن أبی طالب(علیه السلام) [ص 27، ح 39].
17 ـ أسنى المطالب: 3[ص 48].
18 ـ خصائص أمیرالمؤمنین، حافظ نسائى: 3 [ص 28، ح 9]; والسنن الکبرى [5/107، ح 8397].
19 ـ فرائد السمطین: باب 58 [1/315، ح 250].
20 ـ [کتاب الولایة/152].
21 ـ أسنى المطالب: 3 [ص 48].
22 ـ نگاه کن: کتاب سُلَیم بن قیس [2/834، ح 42].
23 ـ خصائص أمیر المؤمنین، حافظ نسائى: 7 [ص 47، ح 24]; و السنن الکبرى [5/112، ح 8405].
24 ـ جامع الأحادیث [7/369، ح 23003]; تاریخ الخلفاء: 114 [ص 158]; کنز العمّال 6: 154 [11/609، ح 32950].
25 ـ الدرّ المنثور 2: 298 [3/117]; فتح القدیر [2/60]; روح المعانی 2: 348 [6/193].
26 ـ مناقب علىّ بن أبی طالب(علیه السلام): 27، ح 39.
27 ـ مسند أحمد 1: 152 [1/246، ح 1313].
28 ـ[نگاه کن: 145 ـ 147].
29 ـ [نگاه کن: همین کتاب ص 56 ـ 59].
30 ـ مناقب علىّ بن أبی طالب(علیه السلام) [ص 22، ح 31]; الریاض النضرة، محبّ الدین طبرى 2: 161 [3/113 ـ 114; و 4/204].
31 ـ الإمامة والسیاسة، ابن قتیبه: 93 [1/97]; مناقب خوارزمى: 126 [ص 199، ح 240].
32 ـ نگاه کن: ص 165 ـ 178 از این کتاب.
33 ـ نگاه کن: الإمامة والسیاسة، ابن قتیبه: 93 [1/97].
34 ـ أسنى المطالب [ص 50]; مودّة القربى، علىّ بن شهاب الدین همدانی: مودّت پنجم.
35 ـ [کتاب الولایة/153].
36- گزیده اى جامع از الغدیر، ص 47.
سوال : تابعین سے حدیث غدیر کے بعض راویوں کے نام بیان کریں؟
جواب : علامہ امینی (رحمة اللہ علیہ)نے
موسوعہ الغدیر (۱) میں۸۴ تابعین کے نام ذکر کئے ہیں جنہوںنے حدیث غدیر کو
نقل کیا ہے ، لہذا ہم یہاں پر اختصار کی وجہ سے صرف ۶ تابعین کے نام ذکر
کریںگے:
۱۔ ابوالقاسم اصبغ بن نباتہ تمیمی اہل کوفہ (۲) ۔عجلی (۳) اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعی کہا ہے ۔
۲۔ سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب قرشی عدوی مدنی ۔ ذہبی نے کتاب تذکرة
(۴) میں ان کی سوانح حیات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : یہ فقیہ تھے اور حجت
تھے ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے علم و عمل اور زہد و شرف
کو ایک جگہ جمع کردیا تھا ۔
کتاب تقریب (۵) میں بیان ہوا ہے :
آپ سات فقہاء میں سے ایک تھے ، آپ بغیر دلیل کے کوئی بات نہیں کرتے تھے ،
یہ متانت اور شخصیت میں اپنے والد کی طرح تھے ، صحیح قول کی بناء پر آپ کا
انتقال ۱۰۶ ہجری میں ہوا ۔
۳۔ اموی خلیفہ ،عمر بن عبدالعزیز، متوفی ۱۰۱۔
۴۔ عمر بن علی امیر المومنین (علیہ السلام) ۔ کتاب تقریب (۶) میں بیان ہوا
ہے : یہ ثقہ تھے اور ان کا شمار روات کے تیسرے طبقہ میں ہوتا ہے ۔ ولید کے
زمانہ میں ان کا انتقال ہوا اور ایک قول کی بناء پر ولید سے پہلے انتقال
ہوا ۔
۵۔ محمد بن عمر بن علی امیر المومنین (علیہ السلام) ،عمر بن عبدالعزیز کی
خلافت کے زمانہ میں ان کا انتقال ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ۱۰۰ ہجری
میں انتقال ہوا ۔
ابن حبان(۷) نے ان کو ”ثقہ“ کے عنوان سے یاد کیا ہے اور ابن حجر (۸) نے
کہا ہے : آپ بہت زیادہ صادق تھے ، آپ کا شمار روات کے چھٹے طبقہ میں ہوتا
ہے ،تیس سال کی عمر میں انتقال ہوا (۹) ۔
۶۔ معروف بن خربوذ(۱۰) ۔ (”ب“ پر پیش اور اس کے آخیر میں ذال ہے) ۔
ابن حبان نے ان کو ثقہ کہا ہے (۱۱) ۔(۱۲) ۔
1۔ مراجعہ کریں الغدیر 1/145 ـ 166].
2 ـ نگاه کن: اُسد الغابة 3: 307; 5: 205 [3/469، شماره 3341].
3 ـ تاریخ الثقات: 71، شماره 109.
4 ـ تذکرة الحفّاظ 1: 77 [1/88، شماره 77].
5 ـ تقریب التهذیب [1/280، شماره 11، حرف سین]. 7 ـ نگاه کن: حلیة الأولیاء، أبو نعیم 5: 364; و تاریخ مدینة دمشق 5: 320 [6/251].
6 ـ تقریب التهذیب: 281 [2/61، شماره 490، حرف عین].
7 ـ الثقات [5/353].
8 ـ تقریب التهذیب [2/194، شماره 562، حرف میم].
۹۔ ـ [طبقات ابن سعد/قسم متمّم/249، شماره136 میں آیا هے :انہوں نے
ابوالعباس کی خلافت کو درک کیا ہے ان کی خلافت ۱۳۲ سے ۱۳۶ تک باقی رہی ۔
10۔ خزرجی نے خلاصة، ج ۳، ص ۴۴، شمارہ ۷۱۰۷ میں ان کا نام ”خَرَّبوذ“ لکھا
ہے اور تقریب التقریب ، ابن حجر ، ج ۲، ص ۲۰۰ پر اس طرح بیان ہوا ہے : خ
پر زبر، ر پر تشدید یا سکون،پ پر پیش اور واو ساکن۔
11 ـ الثقات 5: 439.
12- گزیده اى جامع از الغدیر، ص 50.
سوال : مختلف زمانوں سے جن علماء نے حدیث غدیر کو بیان کیا ہے ان کے نام بیان کریں؟
جواب : مرحوم علامہ امینی (رحمة اللہ
علیہ) نے کتاب الغدیر (۱) میں دوسری صدی سے چوتھی صدی تک ۳۶۰ علماء کے نام
بیان کئے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو مختلف سندوں کے ساتھ اپنی کتابوں میں
بیان کیا ہے ،ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
۱۔ امام شافعی، ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی، متوفی ۲۰۴۔ جیسا کہ ابن
اثیر کی ”نہایہ“ (۲) بیان ہوا ہے کہ انہوں نے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے (۳)
۔
۲۔ محمد بن کثیر ابوعبداللہ عبدی بصری، سلیمان بن کثیر کے بھائی جو ان سے پچاس سال بڑے تھے ۔ ابن حبان نے کہا ہے (۴):
وہ ثقہ اور فاضل تھے ۔ ۲۲۳ ہجری میں سو سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔
۳۔ امام حنبلیان، ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی، متوفی ۲۴۱۔انہوں نے
حدیث غدیر کو صحیح اسناد کے ساتھ کتاب مسند (۵) اورکتاب مناقب میں نقل کیا
ہے ۔
۴۔ حافظ ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری، متوفی ۲۵۶، مشہور صحیح کے
مصنف، جس کا شمار صحاح ستہ میں ہوتا ہے ، انہوں نے اس حدیث کو اپنی تاریخ
کی کتاب میں ذکر کیا ہے (۶) اور عجیب بات یہ ہے کہ اپنی صحیح میں اس حدیث
کو نقل نہیں کیا ہے اور اس وجہ سے ان کی کتاب کے صحیح ہونے پر علامت سوال
لگ گیا ہے!۔
۵۔ حافظ محمد بن عیسی، ابو عیسی ترمذی، متوفی ۲۷۹۔ ان کا شمار صحاح ستہ کے
مصنفین میں ہوتاہے اور یہ ہر طرح کی توثیق سے بے نیاز ہیں ۔
۶۔ حافظ احمد بن یحیی بلاذری متوفی ۲۷۹۔
علمائے اسلام ، ان پراور ان کی کتاب پر اعتمادکرتے ہیں، ان کی اس کتاب اور
دوسری کتابوں سے اب تک حدیث کو نقل کرتے ہیں ،اس حدیث کو کتاب انساب
الاشراف (۷) میں بیان کیا ہے ۔
۷۔ حافظ عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابوعبدالرحمن شیبانی ، متوفی ۲۹۰۔ خطیب
بغدادی نے اپنی تاریخ (۸) میں ان کو ثقہ بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں
ثبت و ضبط اور مطالب کو سمجھنے کی طاقت تھی(۹) ذہبی نے کتاب تذکرةمیں کہا
ہے :
ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ بزرگان ، رجال احادیث، علل احادیث(حدیث میں موجود
ضعف اور اشکالات) ، راویوں کے اسماء،طلب حدیث کے استمرارکی شناخت کے لئے
عبداللہ کو مقدم کرتے تھے
۸۔ حافظ ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی، ”سنن“ کے مولف، متوفی ۳۰۳۔ ذہبی
نے کتاب”تذکرہ“ (۱۰) میں دار قطنی سے اس طرح حکایت کی ہے: نسائی اپنے
زمانہ میں مصر کے سب سے بڑے فقیہ تھے اورحدیث میں سب سے زیادہ آگاہ تھے ۔
انہوں نے حدیث غدیر کو کتاب سنن(۱۱) اورکتاب خصائص (۱۲) میں مختلف طرق کے ساتھ ثقہ رجال سے نقل کیا ہے ۔
۹۔ حافظ محمد بن جریر طبری ، ابوجعفر ،کتاب تفسیر اور مشہور تاریخ طبری کے
مولف متوفی ۳۱۰۔ ذہبی نے کتاب تذکرہ (۱۳) میں ان کو امامت، زہد، اور دنیا
سے دوری اختیار کرنے جیسے صفات سے متصف کیا ہے ،انہوں نے غدیر کے سلسلہ
میں مستقل کتاب لکھی ہے ۔
۱۰۔ ابوعمر احمد بن عبد ربہ قرطبی ، متوفی ۳۲۸۔ ابن خلکان نے کتاب تاریخ (۱۴) میں ان کی سوانح حیات کو اس طرح بیان کیا ہے :
ان کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور
لوگوں کے احوال و اخبار سے آگاہ تھے ، انہوں نے ایک کتاب ”العقد الفرید“
لکھی ہے جو کہ بہت مفید ہے ، کتاب عقدالفرید (۱۵) میں لکھا ہے : علی نے
پندرہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیااور آپ وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے لا الہ الا اللہ و محمد رسول اللہ کی گواہی دی ہے، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے آپ کے متعلق فرمایا : من کنت مولاہ فعلی مولاہ ، اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ“۔
۱۱۔ حافظ علی بن عمر بن احمد دارقطنی (۱۶) متوفی ۳۸۵۔ آپ کی سوانح حیات
تراجم احوال اور تاریخ کی بہت سی کتابوں میں لکھی گئی ہے ، خطیب بغدادی نے
اپنی تاریخ (۱۷) میں کہا ہے :
یہ اپنے زمانہ میں تنہا بزرگ، رئیس، بے نظیر اور امام تھے ، علم حدیث ،
راویوں کے اسماء اور ان کے احوال انہی پر ختم ہوجاتے ہیں، آپ صادق،
امانتدار ، فقیہ اور عادل تھے ، آپ کی شہادت قبول ہوتی تھی، ان کا عقیدہ
اور مذہب صحیح و سالم تھا ، دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں بھی آپ
کو بہت زیادہ مہارت تھی ۔
۱۲۔ متکلم قاضی محمد بن طیب بن محمد، ابوبکر باقلانی، متوفی ۴۰۳، بصرہ کے
رہنے والے اور بغداد میں ساکن تھے ۔ آپ کاشمار علماء کلام میں ہوتا تھا
اور اس علم میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں، خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ
(۱۸)میں ان کی توثیق بیان کی ہے ۔
۱۳۔ ابواسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم ثعلبی نیشاپوری (۱۹) ، مشہور مفسر
متوفی ۴۲۷، ۴۳۷۔ ابن خلکان نے اپنی تاریخ (۲۰) میں ان کی سوانح حیات میں
لکھا ہے : یہ اپنے زمانہ میںبہترین مفسر تھے ،انہوں نے تفسیر کبیر جو سب
سے بہترین تفسیر ہے ،لکھی ہے ۔
۱۴۔ حافظ احمد بن حسین بن علی، ابوبکر بیہقی، متوفی ۴۵۸۔ اکثر تراجم احوال
اور تاریخ لکھنے والوں نے ان کی سوانح حیات کو لکھا ہے ، ابن اثیر نے کتاب
الکامل(۲۱) میں ان کو اس طرح یاد کیا ہے : یہ شافعی مذہب میں حدیث اورفقہ
کے امام تھے ،ان کی بہت زیادہ تالیفات ہیں ان میں سے ایک کتاب ”السنن
الکبیر“ دس جلدوں میں ہے ، یہ بہت ہی عفیف اور زاہد تھے ۔
۱۵۔ حافظ ابو عمر، یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر ، قرطبی، متولد
۳۶۸، متوفی ۴۶۳۔ کتاب ”استیعاب“ کے مصنف نے ان کو علم انساب اور اخبار کا
ماہر لکھا ہے ۔
۱۶۔ ابوالحسن علی بن محمد جلابی، شافعی ،معروف بہ ابن غزالی، متوفی ۴۸۳۔
علم حدیث اور فنون میں ان کی مہارت کتاب مناقب ((۲۳) میں نظر آتی ہے ۔
۱۷۔ حافظ ابوحامد محمد بن محمد طوسی، غزالی ، مشہور بہ حجة الاسلام، متوفی
۵۰۵۔ ان کی سوانح حیات ، تراجم احوال اور تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے
(۲۴) ۔
۱۸۔ ابوالقاسم جار اللہ محمود بن عمر زمخشری (۲۵) ، متوفی ۵۳۸۔ ابن خلکان
نے اپنی تاریخ (۲۶) میں ان کی سوانح حیات لکھتے ہوئے بیان کیا ہے : یہ
اپنے زمانہ میں تفسیر، حدیث، نحو، علم بیان کے ماہر اور بے نظیر امام تھے
اور لوگ دور و دراز سے علم حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس آتے تھے ۔
۱۹۔ ابوالفتح محمد بن ابی القاسم عبدالکریم شہرستانی، شافعی کا شمار اشاعرہ کے متکلمین میں ہوتا ہے،متوفی ۵۴۸۔
ابن خلکان (۲۷) نے ان کی اس طرح توصیف کی ہے : آپ مبّرزامام ،فقیہ اور
متکلم تھے، سبکی نے کتاب ”طبقات (۲۸) میں ان کی سوانح حیات لکھی ہے،
شہرستانی نے ملل و نحل (۲۹) میں ان کی تعریف کی ہے ، انہوں نے حدیث غدیر
کو کتاب ملل و نحل میںذکر کیا ہے ۔
۲۰۔ ابو عبداللہ محمد بن عمر بن حسین، فخر الدین رازی شافعی ، متوفی ۶۰۶،
تفسیر کبیر کے مصنف۔ ابن خلکان نے کتاب تاریخ (۳۰) میں ان کی اس طرح تعریف
بیان کی ہے : یہ اپنے زمانہ میں بہترین صافت کے مالک اور بے نظیر تھے، علم
کلام ،معقولات اور علم اوائل(۳۱) میں اپنے ہم عصروں پر برتری رکھتے تھے ۔
۲۱۔ حافظ احمد بن عبداللہ ، فقیہ حرم، محب الدین ابوعباس طبری مکی شافعی،
متوفی ۶۹۴۔ سُبکی نے کتاب طبقات (۳۲) میں ان کی سوانح حیات کو لکھا ہے ۔
انہوں نے حدیث غدیر کو اپنی دوکتابوں ”الریاض النضرة“ اور ”ذخائر العقبی“
(۳۳) میں کئی طرق سے لکھا ہے ۔
۲۲۔ حافظ احمد بن علی بن محمد، ابوالفضل عسقلانی مصری شافعی، معروف بہ ابن
حجر، متولد ۷۷۳ ، متوفی ۸۲۵۔ آپ نے کتاب ”اصابة“ اور ”تہذیب التہذیب“ لکھی
ہیں(۳۴) ۔
۲۳۔ حافظ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین مصری، سیوطی (۳۵) ،
شافعی،متوفی ۹۱۱۔ عبدالحی نے کتاب ”شذرات الذہب“ (۳۶) میں ان کی سوانح
حیات لکھی ہے اور ان کی بہت زیادہ تعریف لکھی ہے اس کے بعد ان کی تالیفات
کو ذکر کرتے ہوئے کہا ہے : انہوں نے ستر دفعہ سے زیادہ پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بیداری کی حالت میں دیکھا ہے اور طی الارض کی
کرامت کو ان کے لئے بیان کیا ہے ،ابن عیدروس نے بھی اپنی کتاب النور
السافر (۳۷) میں ان کی تعریف کی ہے اور ان کی بہت سی کرامات اور تالیفات
کو بیان کیا ہے ۔
۲۴۔ حافظ شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیثمی، سعدی، انصاری،
شافعی، متولد ۹۰۹، متوفی ۹۷۴۔ ابن عیدورس نے اپنی کتاب النور السافر(۳۸)
میں ان کی سوانح حیات لکھی ہے ۔
۲۵۔ سید محمد بن عبداللہ حسینی آلوسی، شہاب الدین ابوثناء بغدادی، شافعی ،
متولد ۱۲۱۷ ، متوفی ۱۲۷۰۔ عراق کے بزرگ علماء دین میں آپ کا شمار ہوتا تھا
، مختلف فنون اور علوم میں آپ کو مہارت تھی، آپ عراق کے مشہور اور علم
وادب کے خاندان میں پیدا ہوئے ، آپ کی بہت سی تالیفات ہیں (۳۹) ۔
(ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع و ھو شہید)(۴۰) ۔
اس واقعہ میں نصیحت کا سامان موجود ہے اس انسان کے لئے جس کے پاس دل ہو یا جو حضور قلب کے ساتھ بات سنتا ہو(۴۱) ۔
۱۔ مراجعہ کریں : [نگاه کن: الغدیر 1/167 ـ 311].
2 ـ النهایة فى غریب الحدیث والأثر 4: 246 [5/228].
3 ـ نگاه کن: مناقب الشافعى، بیهقى [1/337].
4 ـ [الثقات 9/77].
5 ـ [مسند احمد 1/84 و 118 و 119 و 152 و 331; 4/281 و 368 ـ 372; 5/347 و 366 و 370 و 419].
6 ـ تاریخ البخاری 1 : قسم 1، ص 375.
7 ـ أنساب الأشراف[2/108 ـ 112].
8 ـ تذکرة الحفّاظ 1: 237 [2/665، شماره 685].
9 ـ تاریخ بغداد 9: 375.
10 ـ تذکرة الحفّاظ 2: 268 [2/698، شماره 719].
11 ـ [السنن الکبرى 5/45 و 108 و 130 ـ 136].
12 ـ [خصائص أمیر المؤمنین: 50 و 64 و 94 ـ 96 و 100 و 104].
13 ـ تذکرة الحفّاظ 1: 277 ـ 283 [2/710، شماره 728].
14 ـ وفیات الأعیان 1: 34 [1/110، شماره 46].
15 ـ العقد الفرید 2: 275 [4/122].
16 ـ [ر. ک: علل الدار قطنی 3/224; 4/91].
17 ـ تاریخ بغداد 12: 34.
18 ـ تاریخ بغداد 5 : 379.
19 ـ [ر. ک: تفسیر ثعلبى 4/92; 10/35].
20 ـ وفیات الأعیان 1: 22 [1/79، شماره 31].
21 ـ الکامل فی التاریخ 10: 20[6/238، حوادث سال 458 هـ].
22 ـ نگاه کن: تذکرة الحفّاظ، ذهبى 3: 324 [3/1128، شماره 1013].
23۔ ذہبی نے کتاب معرفة الکبار، ج۲،ص ۵۶۶ پر ان کی کتاب سے حضرت علی (علیہ
السلام) کے فضائل و مناقب کو بیان کیا ہے ،انہوں نے کتاب مناقب کے ص ۱۶ پر
”پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے قول ”من کنت مولاہ فعلی
مولاہ“کے عنوان سے ایک باب لکھا ہے اور وہاں پر نو (۹) اصحاب کے ذریعہ
سترہ طرق سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔
24۔ سُبکی نے کتاب طبقات الشافعیة الکبری ، ج ۴، ص ۱۰۱۔ ۱۸۲ پر ان کی سوانح حیات کو بیان کیا ہے ۔
25۔ ”زمخشر“ خوارزم کے دیہاتوں میں سے ایک بزرگ دیہات ہے (معجم البلدان، ج ۳، ص ۶۹۴۔
26 ـ وفیات الأعیان 2: 197 [5/168، شماره 711].
27 ـ وفیات الأعیان [4/273، شماره 611].
28 ـ طبقات الشافعیّة الکبرى 4: 78[6/128، شماره 653].
29 ـ [الملل والنحل 1/163].
30 ـ وفیات الأعیان 2: 48 [4/248، شماره 600].
31۔ ”علم اوائل“ کی تعریف میں کہا گیا ہے : ”ھو علم یتعرف منہ اوائل
الوقائع والحوادث بحسب الموطن والنسب“۔ علم اوائل ایسا علم ہے جس میں
واقعات اور حوادث کے اوائل اور آغاز کو بیان کیا گیا ہے ،اس معنی میں کہ
جو واقعہ بھی رونما ہوا ہے وہ کس سے منسوب ہے اور کس جگہ اور کن حالات میں
رونما ہوا ہے،یہ علم ، علم تاریخ کی ایک فرع ہے اس سلسلہ میں جو کتابیں
لکھی گئی ہیں ان میں سے ایک ابوہلال عسکری کی ”کتاب الاوائل“(۳۹۵) ہے ،
مراجعہ کریں: کشف الظنون، حاجی خلیفہ، ج ۱، ص ۹۹۱۔
32 ـ طبقات الشافعیّة الکبرى 5: 9 [8/18، شماره 1046].
33 ـ [ذخائر العقبى/67 ـ 68; 87 ـ 88].
34۔ سخاوی نے کتاب ضوء اللامع ،ج ۲، ص ۳۶۔۴۰ پر تفصیل کے ساتھ ان کی سوانح
حیات کو لکھا ہے اور ان کے مشایخ اور تالیفات کو بھی بیان کیا ہے ۔ نیز
عبدالحی نے شذرات الذہب، ج ۷، ص ۲۷۰۔ ۲۷۳پرسال ۸۵۲ ہجری کے حوادث میں آپ
کی بہت زیادہ تعریف کی ہے ۔
35۔ ”اسیوط“ سے منسوب ، یہ نیل کے مغربی علاقوں میں صعید کے نزدیک ایکشہر ہے (معجم البلدان، ج۱، ص ۱۹۳۔
36 ـ شذرات الذهب 8: 51 ـ 55 [10/74، حوادث سال 911 هـ].
37 ـ النور السافر: 54 ـ 57 [ص 51 ـ 54، حوادث سال 911 هـ].
38 ـ النور السافر: 287 ـ 292 [ص 258 ـ 263، حوادث سال 974 هـ]; و نگاه کن: البدر الطالع 1: 109.
39۔ آپ کی سوانح حیات کتاب اعلام العراق، ج ۲۱ ، اور مشاہیر العراق، ج ۲، ص ۱۹۸ پر بیان ہوئی ہے ۔
40 ـ سوره ق: 37.
41- گزیده اى جامع از الغدیر، ص 51.
سوال : غدیر کو قلم بند کرنے والے بعض علماء کے نام بیان کریں؟
جواب : اس حدیث پر علماء کی توجہ اس قدر
تھی کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں کے درمیان لکھنے پر اکتفاء نہیں
کیا بلکہ اس کے متعلق مستقل کتابیں لکھی ہیں، اور جن طرق کو انہوں نے صحیح
سمجھا ہے ان طرق کو معین کیا ہے ، انہوں نے یہ کام اس لئے انجام دیا تاکہ
اس حدیث کو تحریف اور نابودی سے محفوظ کرسکیں، ان میں سے بعض علماء کے نام
مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ ابوجعفر محمد بن جریر بن یزید بن خالد طبری آملی،متولد (۲۲۴) اور متوفی
(۳۱۰) ۔ انہوں نے حدیث غدیر کے متعلق کتاب ولایت لکھی اور اس کو ستر طرق
سے بیان کیا ہے ۔ حموی نے ”معجم الادباء“ (۱) میں طبری کے حالات بیان کئے
ہیں: انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کے فضائل میں ایک کتاب لکھی ہے ، اس
کتاب کے شروع میں غدیر خم کی روایات کے صحیح ہونے کے متعلق بیان فرمایا
پھر امام علی (علیہ السلام) کے فضائل کو شمار کیا ہے، اگر چہ تمام فضائل
کو اس کتاب میں جمع نہیں کیا ہے ۔ نیز یہ بھی کہا ہے (۲):
جب بھی آپ کسی میں بدعت کودیکھتے تو اس کو چھوڑ دیتے اور اس سے دوری اختیار کرتے ۔
۲۔ ابوعباس احمد بن محمد بن سعید ہمدانی، حافظ ،مشہور بہ این عقدہ، متوفی
۳۳۳۔ انہوں نے طُرُق حدیث غدیر میں کتاب ولایت لکھی ہے اور اس کو ۱۰۵
طریقوں سے روایت کیا ہے ، ابن اثیر نے ”اسد الغابہ“ میں اور ابن حجر نے
”اصابہ“ میں اس کتاب سے بہت سی چیزیںنقل کی ہیں ۔
مرحوم علامہ امینی (رحمة اللہ علیہ )نے کتاب الغدیر(۳) میں ان کی ۲۶، تالیفات کاذکر کیا ہے اور آخر میں کہا ہے :
غدیر خم کے سلسلہ میں اور بھی کتابیں موجود ہیں جو غدیر کی نماز کی بحث میں بیان ہوں گی (۴) ۔
”کلا انھا تذکرة ،فمن شآء ذکرہ، فی صحف مکرمة“ (۵) ۔
ہرگز ایسا نہیں ہے جو تم خیال کرتے ہو یہ قرآن ایک نصیحت اور یاد آوری
کیلئے ہے ، جس کا جی چاہے وہ اس سے نصیحت لے سکتا ہے، یہ باعزّت صحیفوں
میں ہے (۶) ۔
1 ـ معجم الاُدباء 18: 80.
2 ـ همان: 84.
3 ـ [نگاه کن: الغدیر 1/313 ـ 325].
4 ـ نگاه کن: ص 130 از این کتاب.
5 ـ عبس: 11 ـ 13.
6- گزیده اى جامع از الغدیر، ص 5
سوال : اسلامی روایات میں مصلح جہانی کی کیا خصوصیات بیان ہوئی ہیں؟
جواب : شیعہ اور اہل سنت سے منقول اسلامی روایات میں مصلح جہانی کی خصوصیات اس طرح بیان ہوئی ہیں ؟
۱۔ آپ اہل بیت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں سے ہیں، اس متعلق ۳۸۹ روایات بیان ہوئی ہیں ۔
۲۔ آپ امام علی (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ،اس متعلق ۲۱۴ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۳۔ آپ حضرت فاطمہ زہرا (علیہاالسلام) کی اولاد میں سے ہیں ،اس متعلق ۱۹۲ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۴۔ آپ امام حسین(علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ،اس متعلق ۱۴۸روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۵۔ آپ امام سجاد (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ،اس متعلق ۱۸۵ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۶۔ آپ امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزند ہیں ،اس متعلق ۱۴۶ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۷۔ آپ ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) سے بارہویں راہنما ہیں اس متعلق ۱۳۶ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۸۔ وہ روایتیں جو آپ کی ولادت کو بیان کرتی ہیں، اس متعلق ۲۱۴ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۹۔ وہ روایتیں جو آپ کی عمر کو بیان کرتی ہیں ، اس متعلق ۳۱۸ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۱۰۔ وہ روایتیں جو آپ کی غیبت کے طولانی ہونے کو بیان کرتی ہیں، اس متعلق ۹۱ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۱۱۔ وہ روایتیں جو کہتی ہیں کہ آپ کے ظہور سے پوری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا ، اس متعلق ۲۷ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
۱۲۔ وہ روایتیں جو کہتی ہیں کہ آپ کے ظہور کے وقت زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی ، اس متعلق ۱۳۲ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
اس بنیاد پر مستقبل میں اس مصلح جہانی کا وجود اسلامی احادیث و روایات کے
مطابق یقینی ہے ۔ لیکن آپ کی ولادت کے سلسلہ میں اختلاف ہے ،یعنی یہ ہے کہ
کیایہ مرد اس دنیا میں آچکا ہے اور اس وقت سے اب تک زندہ ہے یا متولد ہوگا؟
شیعہ اور اہل سنت کے محققین کہتے ہیں کہ آپ کی ولادت ہوچکی ہے اور ان کا
اعتقاد ہے کہ آپ کی والدہ گرامی حضرت نرجس خاتون ہیں آپ کی ولادت ۲۵۵ ہجری
میں ہوئی ہے اور ابھی تک زندہ وسلامت ہیں، اہل سنت کے بعض علماء قائل ہیں
کہ آپ کی ولادت ہوگی ۔
شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی (علیہ السلام) ۲۵۵ ہجری میں اپنے والد
امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے گھر میں متولد ہوئے اور ابھی تک زندہ
وسلامت ہیں (۱) ۔
۱۔ سیمای عقاید شیعہ ، ص ۲۵۱۔
سوال : مہدی موعود کی ولادت سے متعلق شیعہ اور اہل سنت کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب : شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی
(علیہ السلام) ۲۵۵ ہجری میں اپنے والد امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے
گھر میں متولد ہوئے اورامام حسن عسکری کی شہادت تک آپ اپنے والد کے پاس
رہے (۲۶۰ہجری) اور ابھی تک زندہ وسلامت ہیں، بزرگ اور قدیم محدثین نے اس
طرح نقل کیا ہے :
۱۔ فضل بن شاذان (متوفی ۲۶۰ھ) نے محمد بن علی بن حمزہ سے نقل کیا ہے کہ
انہوں نے کہا : میں نے امام حسن عسکری (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا
کہ آپ نے فرمایا : ولی خدا، بندوں پر اس کی حجت ، میرے بعد میرے جانشین کی
شب نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری طلوع فجر کے وقت ولادت ہوئی (۱) ۔
۲۔ کلینی (متوفی ۳۲۹ھ) کہتے ہیں : حضرت صاحب الامر (علیہ السلام) نیمہ
شعبان ۲۵۵ ہجری کو متولد ہوئے ،اس کے بعد دوسرا قول نقل کرتے ہیں کہ آپ
۲۵۶ ہجری میں متولد ہوئے (۲) ۔
اہل سنت کے بعض بزرگ علماء بھی حضرت مہدی (علیہ السلام) کی ولادت کے سلسلہ
میں شیعوں کے اقوال کی تائید کرتے ہیں اور ان کی تعداد ۷۸ ہے ، ان سب کے
اقوال کتاب ”منتخب الاثر“ میں بیان ہوئے ہیں (۳) ہم یہاں پر چند اقوال کو
نمونہ کے طور پر ذکر کریں گے ۔
۳۔ ابن صباغ مالکی (متوفی ۸۵۵ھ) نے اپنی کتاب ”الفصول المھمة“ کی بارہویں
فصل میں حضرت مہدی (علیہ السلام) ، خلف صالح امام عسکری (علیہ السلام) کے
متعلق اس طرح کہا ہے : آپ بارہویں امام ہیں، اور آپ کی تاریخ ولادت، امامت
کی دلیلیں، آپ کی احادیث، اور آپ کی غیبت، غیبت کی کیفیت اور سلسلہ نسب کو
تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے (۴) ۔
۴۔ ابن حجر ہیثمی (متوفی ۹۷۴ھ) نے اپنی کتاب کی تیسری فصل میں جو کہ اہل
بیت سے مخصوص ہے ، ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) کے اسماء کو ذکر کرتے ہوئے
امام حسن عسکری (علیہ السلام) تک پہنچتے ہیں اور پھر کہتے ہیں: ابوالقاسم
محمد حجت، جن کی عمر اپنے والد کی وفات کے وقت پانچ سال کی تھی ،خدا نے ان
کو بچپنے ہی میں حکمت عطاء کردی تھی ،آپ کو قائم منتظر بھی کہتے ہیں ، کہا
گیا ہے کہ آپ مدینہ میں غائب ہوگئے اور معلوم نہیں ہے کہ کہاں گئے (۵) ۔
۵۔ نوفلی قریشی گنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ھ) نے اپنی کتاب کا ایک باب آپ کی
طولانی عمر اور اس وقت تک آپ کے زندہ ہونے سے مخصوص کیا ہے اور کہا ہے :
عیسی، الیاس اور خضر کے زندہ رہنے کی دلیل کی بناء پر آپ بھی زندہ ہیں (۶)
۔
۶۔ ابن خلکان نے کہا ہے : شیعوں کے اعتقاد کی بنیاد پر ابوالقاسم محمد بن
حسن العسکری، بارہویں امام ہیں، آپ کی ولادت روز جمعہ ، نیمہ شعبان ۲۵۵
ہجری کو ہوئی ۔ جب آپ کے والد کی شہادت ہوئی تو آپ کی عمر پانچ سال تھی،
آپ کی والدہ کا نام خمط یانرجس ہے ، شیعہ کہتے ہیں : آپ اپنے والد کے گھر
میں سرداب میں داخل ہوئے ، جب کہ آپ کی والدہ پریشان تھیں، ا س کے بعد آپ
باہر نہیں آئے، یہ واقعہ ۲۶۵ ہجری کا ہے ، اس وقت آپ کی عمر ۹ سال تھی (۷)
۔
1 . کفایة المهتدى: ص116، حدیث 8.
2 . کافى: ج 1، ص 519.
3 . منتخب الاثر فى الإمام الثانى عشر: ص 369 ـ 393.
4 . الفصول المهمّه: ص 291.
5 . الصّواعق: ص 208.
6 . البیان فى اخبار صاحب الزمان: ص 148.
7. سیماى عقاید شیعه، ص 253.
آيا كرامت هاي عرفا از جنس معجزه نيست؟
پاسخ :
براي بهتر روشن شدن اصل پاسخ نكاتي به عنوان مقدمه ذكر مي گردد كه در واقع اين نكات مباني و اصول پاسخ را تشكيل مي دهد.
الف) تعريف معجزه:
معجزه در لغت از عَجز گرفته شده و به معناي عاجز ساختن و انجام دادن كاري كه ديگران از انجام دادن آن عاجز باشند.[1]
و در اصطلاح براي معجزه تعاريف زيادي ذكر كرده اند كه به چند مورد از آنها اشاره مي شود:
1. معجزه خواه از انبياء صادر بشود و خواه از ائمه هدي ـ عليه السلام ـ خرق عادتي است كه علت آن را بايد خارج از مجراي علل و اسباب طبيعي جستجو كرد.[2] يعني معجزه فقط متكي به اراده و خواست خداوند است و استناد و معجزه به خداوند مفاد آيات شريفه اي است كه خداوند مي فرمايد: «هيچ پيغمبري حق نداشت بدون اذن خداوند معجزه بياورد.»[3] البته در قرآن كريم از معجزه به «آيت» تعبير شده است و كلمه معجزه در آن استعمال نشده است.
2. معجزه آن است كه خلاف قوانين طبيعت باشد. مانند: سخن گفتن ريگ يا شن در دست پيامبر ـ صلّي الله عليه و آله ـ و شهادت مارمولك به نبوت آن حضرت، معجزه به عالم امر مربوط است و از قانون علت و معلول خارج است كه عالم امر همان (كن و فيكون) است.[4]
3. معجزه امري است خارق العاده و بيرون از نظام علل و معلول و اسباب و مسبباتي كه عادتاً ما به آنها برخورده و آنها را مي شناسيم.[5]
4. معجزه آن است كه مدعي منصبي از مناصب الهي آن را بياورد كه خرق عادت باشد و ديگران از آوردن آن عاجز باشند تا گواه باشد بر مدعاي او. و اين ادعا مخالف عقل و نقل نباشد.[6]
ب) معناي كرامت:
1. كرامت امري است خارق العاده كه بواسطة تقرب در پيشگاه خداوند و لطافت روحي و صفاي باطن از انسان براي اثبات حق مثال آن صادر مي شود.[7]
2. كرامت آن است كه برخلاف عادت باشد (نه برخلاف قوانين طبيعت) مثلاً از خدا بخواهد كه او را ثروتمند كند يا مريضي را شفا بدهد و مانند اينها كه بنابراين تعريف كرامت مساوي با «استجابت دعا» است.[8]
ج) فرق كرامت با معجزه: اولاً، صاحب كرامت با جديت در عبادت و بندگي به مقام كرامت مي رسد و چنان نيست كه بالذات داراي مقام و كرامت باشد برخلاف صاحب معجزه مانند: پيامبر و امام كه داراي يك نوع امتياز ذاتي هستند و خداوند آن ذوات را برگزيده و يك امتياز ذاتي داده است كه مي توانند امور خارق العاده اي را انجام دهند.
ثانياً: معجزه هميشه مقرون به تحدي است يعني شخص پيامبر و امام براي اثبات مدعا با تحدي* اعجاز مي كند. لكن صاحب كرامت گر چه از اوليا است اما در مورد كار خارق العاده ادعاي تحدي ندارد.[9]
ثالثاً: معجزه برخلاف قانون طبيعت است اما كرامت بر خلاف عادت است.[10]
با توجه به نكاتي كه ذكر گرديد بايد گفت كرامت عرفا نمي تواند از جنس معجزه باشد. براي اينكه معجزه كنندگان و صاحبان كرامت هيچ وقت در يك رديف و از يك قدرت مساوي برخوردار نيستند، روي اين جهت معجزه آيه اي از آيات الهي است و آن را با دست هر كس جاري نمي كند بلكه اراده مستقيم خداوند در آن دخالت دارد و اينگونه نيست كه هر گاه صاحب معجزه بخواهد، بتواند معجزه كند.
در همين رابطه است كه امام صادق ـ عليه السلام ـ مي فرمايد: معجزه نشانه اي براي خداست كه خداوند آن را به كسي جزء پيامبران و رسولان و حجت هاي الهي عطا نمي كند و هدف از آن، اين است كه بوسيلة آن راستگوئي راستگو از دروغ گوئي دروغ گو شناخته شود.[11]
بنابراين ما سه فرق عمده در فرق معجزه و كرامت مي توانيم ذكر كنيم:
1. معجزه همراه با تحدي است ولي كرامت همراه با تحدي نيست.
2. معجزه امري خارق العاده است ولي كرامت اين گونه نيست و مستند به علل و عوامل طبيعي است.
3. معجزه من عندالله است و كسبي نيست ولي كرامت كسبي است.
معرفي منابع جهت مطالعه بيشتر:
1. علامة طباطبائي، محمدحسين الميزان، ح 6، عربي ترجمه، ج 11 و 12.
2. سبحاني، جعفر، منشور جاويد، ج 10.
3. عبدوت، محمدتقي، بيست و پنج اصل از اصول اخلاقي امامان ـ عليه السلام ـ.
________________________________________
[1] . ركني يزدي، محمد مهدي، آشنائي با علوم قرآن، انتشارات آستان مقدس رضوي، چاپ اول، 1379 ش، ص 153.
[2] . طالقاني، مولا نظر علي، كاشف الاسرار، مؤسسة خدمات فرهنگي رسا، چاپ اول، 1379، ص 82.
[3] . انعام/110 و مؤمن/78.
[4] . رضوي، مرتضي، محي الدين در آئينة فصوص، قم، انتشارات فخر دين، 1383 ش، ص 92 و 91.
[5] . طباطبايي، محمدحسين، بررسي هاي اسلامي، بي نا، بي تا، ص 273، به كوشش سيد هادي خسروشاهي.
[6] . خوئي، ابوالقاسم، البيان في التفسير القرآن، مؤسسه الزهراء، چاپ بيروت، بي تا، ص 20.
[7] . طباطبائي، محمدحسين، بررسي هاي اسلامي، ص 274.
[8] . رضوي، مرتضي، محي الدين در آئينة فصوص، ص 93.
* . تحدي يعني مبارز طلبيدن.
[9] . اميني، ابراهيم، بررسي مسائل كلي امامت، قم، انتشارات دفتر تبليغات اسلامي، 1373، ص 306.
[10] . رضوي، مرتضي، محي الدين در آئينة فصوص، ص 94.
[11] . مجلسي، محمدباقر، بحارالانوار، بيروت، مؤسسه الوفاء، 1403 ق، ج 11. ص 77.
سؤال: معجزه چیست؟
جواب: کارها و جریان هایى که برخلاف موازین عادى و جریان معمول عالم طبیعت، از طرف کسى که مدّعى نبوّت است به وقوع پیوندد، به طورى که علل مادّى و قوانین عادى طبیعى از تفسیر و تحلیل آن عاجز بوده و با هیچ کدام از عوامل عادى قابل تطبیق نباشد.
بنابراین همیشه، معجزه از نظام علل و معلول عادى طبیعى ـ که ما به آن عادت کرده و آشنا شده ایم ـ بیرون است. در اینجا براى اینکه مطلب به خوبى روشن شود به ذکر یک مثال مى پردازیم.
همه ما با تجربه دریافته ایم که آتش مى سوزاند، البتّه در صورت نبودن عوامل خنثى کننده و فراهم بودن شرایط عادى دیگر از قبیل نزدیکى آتش به جسمى که قابلیّت سوختن را دارد و این یک جریان عادى و مطابق قانون علّت و معلول است که به طور عادى در هر زمان و مکان جریان دارد.
بنابراین اگر ما مى بینیم که آتش با وجود فراهم بودن شرایط مناسب معمولى و نبودن موانع عادى، اثر سوزاندن خود را نسبت به بدن یک انسان از دست داد، ناگزیر خواهیم دانست که این جریان، به طور کامل غیر عادى و خارق العاده بوده و از قانون علّت و معلول طبیعى و جریان عادى تخلّف کرده است، زیرا سنّت و قانون جارى طبیعت، ایجاب مى کند که در چنین حادثه اى، انسان مزبور به کلّى خاکستر شود. چنین حادثه اى را معجزه مى نامند.(1)
1- آفریدگار جهان، ص 168.
گروه امامت و خلافت
پاسخ :
بدون شك عصمت پيامبران و ائمه عليهم السلام اكتسابي و بر اساس لياقت و امتحان است ؛ زيرا اگر خدادادي محض باشد ، هيچ ارزشي ندارد و فضيليت محسوب نميشود .
نكتۀ اساسي در بحث عصمت اين است كه بايد ديد منشأ عصمت در معصومين چيست ؟ بنابر اعتقاد شيعيان كه با دلايل محكم و قاطع قابل اثبات است ، منشأ عصمت معصومين علم قطعي ، شهودي و وجداني به حقايق امور و عواقب اعمال است ؛ به طوري كه سبب ميشود ارادۀ انسان قوي و در نفس او قوه اي ايجاد شود كه او را از انجام گناه و لغزش محافظت ميكند .
اين علم ، علمي است كه دارندۀ آن صاحب چشم بصيرتي ميشود كه عواقب ، آثار و لوازم گناه و ترك واجبات را در دنيا و آخرت با تمام وجود لمس ميكند . و از انسان موجودي ميسازد كه در تمام عمرش حتي به اندازۀ زرهاي با دستورات پروردگارش مخالفت نميكند و حتي فكر انجام معصيت و يا ترك واجب در مخيلۀ او نميگنجد .
اين مسأله حتي در برخي موارد براي ساير انسانها نيز اتفاق ميافتد ؛ مثلاً انساني كه ميداند در داخل اين ظرف زهر خطرناكي است ، هرگز از آن نخواهد نوشيد و حتي فكر خوردن آن را نيز نخواهد كرد ؛ زيرا انسان به كشنده بودن زهر علم قطعي دارد و اين علم باعث ميشود كه انسانها در تمام عمرشان حتي يك بار مرتكب آن نشوند ؛ با اين كه هر انساني مختار است و هر وقت كه اراده كند ميتواند با خوردن خودكشي كند ؛ چنانچه هستند انسانهاي ضعيف النفسي كه حتي با دانستن كشنده بودن زهر ، با خوردن آن خود کشي مي کنند .
و يا مثلاً هر انسان عاقل ، آگاه و آبرو داري كه در جامعه داراي منصب و مقام رفيعي است ، هرگز اتفاق نميافتد كه بدون لباس و لخت و عريان در ملأ عام ظاهر شود ؛ با اين كه در انجام آن کاملا مختار است ؛ اما چون به عواقب آن آگاه است ، حتي انجام آن را تصور نميكند .
و يا مثلاً مادري که فرزندي شيرخواري دارد ، هر گز تصور اين را نمي کند که چاقو بردارد و سر فرزند خودش را ببرد ؛ با اين که اين عمل از اعمال اختياري مادر است ؛ اما علم اين شير خوار فرزند او است و علاقه شديدي به او مانع اين مي شود که حتي اين فکر پليد را از سر بگذراند .
معصومين (عليهم السلام) از طرفي علم قطعي به عواقب گناه دارند و از طرف ديگر ذات خداوند را به حقيقت شناخته اند و مي دانند که با انجام معصيت ، از دستور چه کسي سر پيچي خواهند کرد ؛ لذا در تمام طول عمرشان حتي فکر گناه را هم نمي کنند ؛ با اين که در انجام آن قدرت کامل دارند .
مرحوم شيخ مفيد رحمت الله عليه در اين باره مي فرمايد :
العصمة لطف يفعله الله تعالى بالمكلف بحيث يمتنع منه وقوع المعصية وترك الطاعة مع قدرته عليهما .
عصمت ، لطفي از جانب خداوند كه شامل حال مكلف ميشود و او را از وقوع در معصيت و ترك اطاعت باز ميدارد ؛ با اين كه آن شخص قادر به انجام آن دو است .
النكت الإعتقادية - الشيخ المفيد - ص 37 .
براي اثبات اين علم براي معصومين عليهم السلام دلايل فراواني وجود دارد ؛ از جمله در بارۀ حضرت آدم علي نبينا وآله وعليه السلام ميفرمايد :
وَعَلَّمَ آَدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا
البقره / 31
در بارۀ حضرت داود و سليمان علي نبينا وآله وعليهما السلام ميفرمايد :
وَلَقَدْ آَتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ . وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
النمل / 15_ 16 .
و نيز ميفرمايد :
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا . إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ
الجن / 26_ 27 .
در بارۀ حضرت يوسف علي نبينا وآله وعليه السلام ميفرمايد :
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آَتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ . وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ . وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ .
يوسف / 22_23 .
و باز در بارۀ حضرت يوسف علي نبينا وآله وعليه السلام ميفرمايد :
وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ
يوسف / 33 .
همچنين از زبان حضرت يعقوب علي نبينا وآله وعليه السلام وقتي كه فرزندانش وي را به خاطر گريه بر حضرت يوسف ملامت ميكردند ، ميفرمايد :
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
يوسف / 86 .
و در بارۀ حضرت لوط علي نبينا وآله وعليه السلام ميفرمايد :
وَلُوطًا آَتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ .
الأنبياء / 74 .
و در بارۀ رسول گرامي اسلام صلي الله عليه و آله و سلم ميفرمايد :
َلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
البقره / 120
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ
البقره / 145 .
اين علم الهي خاص ، لطفي است كه خداوند به بندگان برگزيدۀ خودش عطا كرده و سبب و منشأ ايجاد ملكۀ تقوي تا عاليترين درجۀ آن ؛ يعني عصمت شده است . مثلاً در بارۀ حضرت يوسف عليه السلام همين علم باعث شد كه مرتكب فاحشه نشود ؛ با اين كه كاملاً در انجام آن مختار بوده است .
در نتيجه ، عصمت امري است اكتسابي ؛ اما منشأ آن علمي است كه خداوند به آنها لطف كرده است .
موفق باشيد
گروه پاسخ به شبهات
مؤسسه تحقيقاتي حضرت ولي عصر (عج)
سوال : اذان کے قانون کے متعلق شیعوں کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب : شیعہ امامیہ کے یہاں اہل بیت
(علیہم السلام )سے اذان وا قامت کے سلسلہ میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی
ہیں جن کے مطابق وہ اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اذان واقامت دین کا متن
اور اسلام کا شعار ہے ، اور خدا وند عالم نے اس کو قلب پیغبر اسلام پر
نازل کیا ہے وہ خدا جس نے نماز کو واجب قرار دیا ہے اسی نے اذان کو بھی
واجب قرار دیا ہے ، دونوں کا مبداء ایک ہی ہے یعنی دونوں اللہ کی طرف سے
نازل ہوئے ہیں ، اور کسی بھی انسان کی چاہے وہ خواب غفلت میں ہو یا بیداری
کی حالت میں تشر یع اذان میں مشارکت نہیں ہے ، اذان کی تمام فصلوں میں
”اللہ اکبر“ سے لیکر ”لاالہ االّااللہ “ تک، خداوند عالم کی کی نشانیاںاور
اس کی بزرگی اور اخلاص نظر آتا ہے ۔اورانسان کو اس کی فہم سے زیادہ بلند
تعلیمات کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ اگر تشریع اذان انسان کے ہاتھوں میں ہوتی
اور وہ اس میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کرتے اور ایک جملہ کو دوسرے کے ساتھ
ترکیب دیتے تو وہ اس طرح واضح ہوجاتا جس طرح ریت میں دُرّ،یا گوہر
نظرآجاتا ہے ۔
اسی وجہ سے ائمہ اہل البیت (علیہم السلام) کا اتفاق ہے کہ اذان کو بنانے
والا خدا وند عالم ہے ، جبرائیل (علیہ السلام) اس کو زمین پر لیکر آئے
تھے اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کو یاد کرایا تھا اورپیغمبر
اسلام نے بلال کو حفظ کرایا تھا ، اذان کی تشریع میں کوئی بھی شامل نہیں
ہے ، اماموں کے نزدیک یہ مسلم امور میں شمار ہوتا ہے لہذا اس کے متعلق ہم
یہاں پر بعض روایات ذکر کرتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کی یہ اذان
اللہ کی طرف سے ہے :
۱۔ کلینی نے صحیح سند کے ساتھ امام باقر (علیہ السلام)سے روایت کی ہے کہ
آپ نے فرمایا : جس وقت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو شب معراج
آسمان پر لے جایا گیا اور آپ کی سواری بیت المعمورپر پہونچی تونماز کا
وقت ہوا جبرایئل نے اذان واقامت کہی پیغمبر اسلام آگے کھڑے ہوئے فرشتہ
اور دیگر انبیا ء آپ کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہو گئے ۔
۲ ۔ کلینی نے صحیح سند کے ساتھ امام صادق علیہ اسلام روایت کی ہے کہ آپ
نے فرمایا: جس وقت جبرائیل اذان لیکر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اسوقت آپ کا سر مبارک علی (علیہ السلام)
کے زانو پر تھا جبرایئل نے اذان واقامت کہی جب پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ) بیدار ہوئے تو علی (علیہ السلام)نے فرمایا یا رسول اللہ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم )آپ نے کچھ سنا تو رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ) نے فرمایا کہ ہاں میں نے سنا ہے (۱) اس کے بعد آپ نے فرمایا:
یاعلی کیا تم نے حفظ کر لیا ؟ تو آپ نے فرمایا جی ہاں میں نے حفظ کرلیا
اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ بلال کو بلاو آپ نے بلال کو بلایا اور پیغمبر
اسلام نے بلال کو اذان واقامت کی تعلیم دی ۔
۳۔ نیز عمر بن اذنیہ ،امام صادق (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیںکہ آپ نے
فرمایا : کیا تم ان لوگوں سے بھی روایت نقل کرتے ہو ، میں نے کہا میں آپ
پر فدا ہوجاوٴں کس چیز کے متعلق ؟ آپ نے فرمایا : اذان کے سلسلہ میں ،
میں نے جواب دیا یہ کہتے ہیں : اذان کواُبی بن کعب نے خواب میں دیکھا ہے
تو آپ نے فرمایا یہ جھوٹ بولتے ہیں خدا کا دین اس سے بلند و بالاتر ہے جو
خواب میں دیکھا جا ئے ۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ سدیر صیر فی نے امام سے عرض
کیا: میں آپ پر قربان ہوجا وٴں آپ اس کے متعلق کچھ بیان فرمایئے تو امام
صادق (علیہ السلام) نے فرمایا : جس وقت اللہ تعالی نے اپنے رسول (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم )کو ساتویں آسمان کی بلندی کا عروج بخشا ..الخ (۲) ۔
۴۔ شیعہ فقہا ء میں سے شہید نے اپنی کتاب ذکری ٰ میں جن کا شمارچوتھی صدی
میں ہوتا ہے ابن ابی عقیل سے نقل کیا ہے اور وہ امام صادق (علیہ السلام)
سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ہر اس شخص پرلعنت کی ہے جو یہ کہتا ہے کہ پیغمبر
اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے اذان کو عبداللہ بن زید سے لیا ہے اس
کے بعد آپ نے فرمایا : تمہارے رسول پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے
لیکن پھر بھی تم گمان کرتے ہو کہ رسول اسلام نے اذان کو عبداللہ بن زید سے
لیا ہے (۳) ۔ اذان کے سلسلہ میں فقط شیعوں ہی نے آئمہ اہل بیت( علیہم
السلام) سے روایات کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ حاکم اور دیگر لوگوں نے بھی ان
سے روایات کو نقل کیا ہے،ہم یہاں پراہل سنتّ سے چند روایات نقل کرتے ہیں :
۵۔ حاکم نے سفیان اللیل سے نقل کیا ہے : جس وقت حسن بن علی (علیہ السلام)
کا واقعہ پیش آیا اور ہم مدینہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دوران
گفتگو اذان کا تذکرہ ہونے لگا ، بعض لوگ کہنے لگے کہ اذان کی ابتداء ایک
خواب سے ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے ، امام (علیہ السلام) نے فرمایا
: اذان کا مرتبہ اس کہیں بلند وبالاہے ، جبرایئل نے آسمان پر اذان کے
کلمات کو دودو مرتبہ پڑھا ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)نے اس کو یاد کیا ہے اور اقامت کے کلمات کو ایک بار پڑھا ہے اور رسول
اسلام کو تعلیم دیا ہے (۴) ۔
۶۔ ہارون بن سعید نے شہید زید بن علی بن الحسین (علیہم السلام ) سے اور
انھوں نے اپنے پدربزگوار علی (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ رسول خدا
(صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) نے شب معراج اذان کو سیکھا تھا اور ان پر نماز
واجب ہوئی تھی (۵) (۶) ۔
۱۔ علی ((علیہ السلام) ) خود اس حدیث کے بیان کرنے
والے ہیں اور آپ نے فرشتہ کے کلام کو سنا بھی ہے ۔ رجوع کریں : صحیح
بخاری اور اس کی شرح ارشادالساری :ج۶ ص۹۹ ، اور اس کے علاوہ دیگر موارد کہ
جو پیغمبر نہیں تھے اور انھوں نے فرشتہ کے کلام کو سنا ہے ، یا از طرف غیب
ان سے بات کی گئی ہے ۔
۲۔ کافی : ج۳، ص ۳۰۲باب آغاز اذان ، حد یث ۱، و۲، باب النوادر ، ص ۴۸۲،
حد یث ۱، عنقر یب ذکر آیگا کہ چار لوگوں نے اذان سننے کا دعویٰ کیا ہے
۳۔ وسائل الشیعہ : ج۴، ص ۶۱۲ ، باب اول ابواب اذان واقامت میں سے ، حدیث ۳،
۴۔ مستدرک حاکم :ج۳ ، ص۱۷۱، کتاب معرفة الصحابہ ،
۵۔ کنز العمال : ج۶ ص ۲۷۷، شمارہ۳۹۸،
۶۔ سیمای عقاید شیعہ ، ص ۳۷۶،
سوال : کیا پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ)کے اہل بیت پر خاص عنایت کے سلسلہ میں قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے؟
جواب :
قرآن کریم کی آیات کامطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ
علیہ و آلہ)کے اہل بیت پر خدا وند عالم کی خاص توجہ رہی ہے اور اسی وجہ سے
ان لوگوں میںنبوت، امامت اور وصایت کی قابلیت و صلاحیت پائی جاتی ہے ،
یہاںپر ہم کچھ آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ پیغمبر خدا نبوت پر مبعوث ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنے نزدیک کے خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کاحکم دیا گیا : ”وانذر عشیرتک الاقربین(۱)۔
۲۔ خدا وند عالم کا تکوینی ارادہ اہل بیت پیغمبر(علیہم السلام)کی عصمت و طہارت پر دلالت کرتا ہے : ”انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطہرکم تطھیرا “(۲)۔بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کاحق ہے۔
۳۔ خدا وند عالم نے پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ)کے اہل بیت کو ایسی
صلاحیت عطا کی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے مباھلہ میں شرکت کی
” فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ
تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَائَنَا وَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا
وَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ
فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِین “(۳)
پیغمبر، علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے
کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو
بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت
قرار دیں۔
۴۔ خدا وند عالم نے حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)سے خطاب کرکے
فرمایا: لوگوں سے کہو مجھے تم سے اپنے قرابت داروں کی محبت کے علاوہ کچھ
نہیں چاہئے : قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربی(۴)۔
۵۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کوحکم دیا کہ اپنے اہل بیت کو نماز کے سلسلہ میں بہت زیادہ تاکید کرو : وامراھلک بالصلاة واصطبر علیھا(۵)۔
__________________
۱۔ سورہ شعراء آیت ۲۱۴۔
۲۔ سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
۳۔ سورہ آل عمران، آیت ۶۱۔
۴۔ سورہ شوری، آیت ۲۳۔
۵۔ سورہ طہ، آیت ۱۳۲۔
۶۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات(۱)، ص۱۴۸۔
جواب : زمخشری نے کتاب ”ربیع الابرار“ (۱) کے لہو و لعب ،لذات اور عیش و نوش کی محافل (۲) کے باب میں اور شہاب الدین ابشیھی نے ”المستطرف“ (۳) میں کہا ہے :
خدا وندعالم نے شراب کے متعلق تین آیتیں نازل کی ہیں :
پہلی آیت : خداوندعالم فرماتا ہے : ”
یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیہِما إِثْمٌ کَبیرٌ
وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُما اٴَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِما وَ
یَسْئَلُونَکَ ما ذا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کَذلِکَ یُبَیِّنُ
اللَّہُ لَکُمُ الْآیاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ“(۴)
۔ یہ آپ سے شراب اورجوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ان
دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ
،فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور یہ راسِ خدا میں خرچ کے بارے میں سوال
کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو کہہ دیجئے کہ جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو. خدا
اسی طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کرسکو ۔
اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بعض مسلمان شراب پیتے تھے اوربعض اس سے دوری
اختیار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ایک شخص شراب پی کر نماز میں مشغول ہوگیا
اوربیہودہ باتیں کہنے لگا ، جس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : ” یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَ اٴَنْتُمْ سُکاری حَتَّی تَعْلَمُوا ما تَقُولُون(۵)“ ۔ ایمان والو خبر دار نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے شراب ،ترک کردی اور بعض شراب پیتے
رہے ، یہاں تک کہ ایک روز ”عمر“ (رضی اللہ عنہ) نے شراب پی اور اس کے بعد
”اسود بن یعفر“ کے اشعار کے ذریعہ جنگ احد کے کفار پر نوحہ پڑھنے لگے وہ
اشعار یہ ہیں:
1 ـ وکائن بالقلیبِ قلیبِ بدر من الفتیان والعربِ الکرامِ
2 ـ وکائن بالقلیبِ قلیبِ بدر من الشیزى المکلّل بالسنامِ(6)
3 ـ أیوعدنی ابنُ کبشةَ أن سنحیى وکیف حیاة أصداء وهامِ؟
4 ـ أیعجز أن یردّ الموتَ عنّی وینشرنی إذا بَلِیتْ عظامی؟
5 ـ ألا من مبلغُ الرحمن عنّی بأنّی تارکٌ شهر الصیامِ
6 ـ فقل للهِ یمنعنی شرابی وقل للهِ یمنعنی طعامی)
۱۔ کنویں (بدر
کے کنویں) کے پاس عرب کے کریم جوان سو رہے ہیں، ۲۔ اس کنویں (بدر کے
کنویں) کے پاس سخاوت مند افراد اپنی بزرگی کے ساتھ سو رہے ہیں ۔ ۳۔ فرزند
کبشہ (پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)(۷) مجھے مرنے کے بعد زندہ
ہونے سے ڈرا رہے ہیں، مرنے کے بعد خراب شدہ جسم جس کو کیڑوں اور حشرات نے
کھا رکھا ہے ، کس طرح زندہ ہوسکتا ہے؟ ! ۔ ۴۔ کیا اس میں اتنی طاقت ہے کہ
وہ مجھ سے موت کودور رکھے، اور میری ہڈیوں کو خراب ہونے کے بعد زندہ
کرے؟!۔ ۵۔ کیا کوئی پیامبر ہے جو میری طرف سے خدا کو یہ پیغام پہنچائے کہ
میں نے رمضان المبارک کے روزوں کو ترک کردیا ہے؟! ۶۔ اپنے خدا سے کہو کہ
اگر اس میں طاقت ہے تومجھے شراب پینے سے روکے، ! اور خدا سے کہو کہ اگر
تجھ میں طاقت ہے تو مجھے کھانا کھانے سے محروم کرے! ۔
عمر کے شراب پینے اور اشعار پڑھنے کی خبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم) کو دی گئی ، آنحضرت غضبناک ہوگئے اور آپ اس حالت میں وہاں پہنچے
کہ آپ کی عبا زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور آپ کے ہاتھ میں جو بھی چیز تھی
اس سے عمر کے سر پر مارا ۔ عمر نے کہا : خدا اور اس کے رسول کے غضب سے خدا
کی پناہ چاہتا ہوں ۔
اس کے بعد خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی :
” إِنَّما یُریدُ الشَّیْطانُ اٴَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَداوَةَ وَ
الْبَغْضاء َ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ
اللَّہِ وَ عَنِ الصَّلاةِ فَہَلْ اٴَنْتُمْ مُنْتَہُونَ “ ۔
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ تمہارے درمیان بغض اور
عداوت پیدا کردے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روک دے تو کیا تم واقعا رک
جاؤ گے ۔
اس وقت عمر نے کہا : ”انتھینا ، انتھینا“۔ ہم اب شراب نہیں پئیں گے ، اب شراب نہیں پئیں گے(۹) ۔
۱۔ ربیع الابرار ، ج ۴، ص ۵۱۔
۲۔ ایران اور عراق کے کتب خانوں میں اس کتاب کے متعدد نسخے موجود ہیں ۔
۳۔ المستطرف، ج ۲، ص ۲۹۱ و ۲۶۰۔
۴۔ سورہ بقرة، آیت ۲۱۹۔
۵۔ سورہ نسا، آیت ۴۳۔
۶۔ یہ بیت کتاب ”المستطرف“ میں بیان نہیں ہوئی ہے ۔
۷۔ مشرکین رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو ابوکبشہ کی طرف نسبت دیتے تھے ابوکبشہ ، قبیلہ خزاعہ سے ایک شخص تھا جو قریش کو بت پرستی سے منع کرتا تھا اورچونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی ان کو بت پرستی سے منع کرتے تھے لہذاآنحضرت (ص) کو ابوکبشہ سے تشبیہ دیتے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ ابن ابی کبشہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نانہال کی طرف منسوب ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نانا وہب بن عبد مناف کی کنیت ابوکبشہ تھی اور ان کی اس سے مراد یہ تھی کہ آپ اپنے نانا سے بہت زیادہ مشابہ تھے ۔ بعض نے کہا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دایہ حلیمہ سعدیہ کے شوہر کی کنیت ابو کبشہ تھی یا حلیمہ کے شوہر کے بھائی کی کنیت ابوکبشہ تھی اور کبھی کبھی ابن ابی کبشہ کے بجائے ابن کبشہ کہا جاتا ہے ، اس سے مراد یہ ابن ابی کبشہ کی ترخیم ہے ، یا کبشہ سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے داد عبدالمطلب ہیں جو مکہ میں قبیلہ کے رئیس تھے اور آپ کی بہت زیادہ عظمت و جلالت تھی ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابن کبشہ ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دادا حضرت اسماعیل کی طرف منسوب ہے ، خداوندعالم نے کبشی کو ان کا فدیہ قرار دیا تھا ۔
۸۔ سورہ مائدہ، آیت ۹۱۔
۹۔ شفیعی شاھرودی، گزیدہ ای جامع از الغدیر، ص ۵۵۷۔
جواب : زمخشری نے کتاب ”ربیع الابرار“ (۱) کے لہو و لعب ،لذات اور عیش و نوش کی محافل (۲) کے باب میں اور شہاب الدین ابشیھی نے ”المستطرف“ (۳) میں کہا ہے :
خدا وندعالم نے شراب کے متعلق تین آیتیں نازل کی ہیں :
پہلی آیت : خداوندعالم فرماتا ہے : ”
یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیہِما إِثْمٌ کَبیرٌ
وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُما اٴَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِما وَ
یَسْئَلُونَکَ ما ذا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کَذلِکَ یُبَیِّنُ
اللَّہُ لَکُمُ الْآیاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ“(۴)
۔ یہ آپ سے شراب اورجوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ان
دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ
،فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور یہ راسِ خدا میں خرچ کے بارے میں سوال
کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو کہہ دیجئے کہ جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو. خدا
اسی طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کرسکو ۔
اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بعض مسلمان شراب پیتے تھے اوربعض اس سے دوری
اختیار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ایک شخص شراب پی کر نماز میں مشغول ہوگیا
اوربیہودہ باتیں کہنے لگا ، جس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : ” یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَ اٴَنْتُمْ سُکاری حَتَّی تَعْلَمُوا ما تَقُولُون(۵)“ ۔ ایمان والو خبر دار نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے شراب ،ترک کردی اور بعض شراب پیتے
رہے ، یہاں تک کہ ایک روز ”عمر“ (رضی اللہ عنہ) نے شراب پی اور اس کے بعد
”اسود بن یعفر“ کے اشعار کے ذریعہ جنگ احد کے کفار پر نوحہ پڑھنے لگے وہ
اشعار یہ ہیں:
1 ـ وکائن بالقلیبِ قلیبِ بدر من الفتیان والعربِ الکرامِ
2 ـ وکائن بالقلیبِ قلیبِ بدر من الشیزى المکلّل بالسنامِ(6)
3 ـ أیوعدنی ابنُ کبشةَ أن سنحیى وکیف حیاة أصداء وهامِ؟
4 ـ أیعجز أن یردّ الموتَ عنّی وینشرنی إذا بَلِیتْ عظامی؟
5 ـ ألا من مبلغُ الرحمن عنّی بأنّی تارکٌ شهر الصیامِ
6 ـ فقل للهِ یمنعنی شرابی وقل للهِ یمنعنی طعامی)
۱۔ کنویں (بدر
کے کنویں) کے پاس عرب کے کریم جوان سو رہے ہیں، ۲۔ اس کنویں (بدر کے
کنویں) کے پاس سخاوت مند افراد اپنی بزرگی کے ساتھ سو رہے ہیں ۔ ۳۔ فرزند
کبشہ (پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)(۷) مجھے مرنے کے بعد زندہ
ہونے سے ڈرا رہے ہیں، مرنے کے بعد خراب شدہ جسم جس کو کیڑوں اور حشرات نے
کھا رکھا ہے ، کس طرح زندہ ہوسکتا ہے؟ ! ۔ ۴۔ کیا اس میں اتنی طاقت ہے کہ
وہ مجھ سے موت کودور رکھے، اور میری ہڈیوں کو خراب ہونے کے بعد زندہ
کرے؟!۔ ۵۔ کیا کوئی پیامبر ہے جو میری طرف سے خدا کو یہ پیغام پہنچائے کہ
میں نے رمضان المبارک کے روزوں کو ترک کردیا ہے؟! ۶۔ اپنے خدا سے کہو کہ
اگر اس میں طاقت ہے تومجھے شراب پینے سے روکے، ! اور خدا سے کہو کہ اگر
تجھ میں طاقت ہے تو مجھے کھانا کھانے سے محروم کرے! ۔
عمر کے شراب پینے اور اشعار پڑھنے کی خبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم) کو دی گئی ، آنحضرت غضبناک ہوگئے اور آپ اس حالت میں وہاں پہنچے
کہ آپ کی عبا زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور آپ کے ہاتھ میں جو بھی چیز تھی
اس سے عمر کے سر پر مارا ۔ عمر نے کہا : خدا اور اس کے رسول کے غضب سے خدا
کی پناہ چاہتا ہوں ۔
اس کے بعد خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی :
” إِنَّما یُریدُ الشَّیْطانُ اٴَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَداوَةَ وَ
الْبَغْضاء َ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ
اللَّہِ وَ عَنِ الصَّلاةِ فَہَلْ اٴَنْتُمْ مُنْتَہُونَ “ ۔
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ تمہارے درمیان بغض اور
عداوت پیدا کردے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روک دے تو کیا تم واقعا رک
جاؤ گے ۔
اس وقت عمر نے کہا : ”انتھینا ، انتھینا“۔ ہم اب شراب نہیں پئیں گے ، اب شراب نہیں پئیں گے(۹) ۔
۱۔ ربیع الابرار ، ج ۴، ص ۵۱۔
۲۔ ایران اور عراق کے کتب خانوں میں اس کتاب کے متعدد نسخے موجود ہیں ۔
۳۔ المستطرف، ج ۲، ص ۲۹۱ و ۲۶۰۔
۴۔ سورہ بقرة، آیت ۲۱۹۔
۵۔ سورہ نسا، آیت ۴۳۔
۶۔ یہ بیت کتاب ”المستطرف“ میں بیان نہیں ہوئی ہے ۔
۷۔ مشرکین رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو ابوکبشہ کی طرف نسبت دیتے تھے ابوکبشہ ، قبیلہ خزاعہ سے ایک شخص تھا جو قریش کو بت پرستی سے منع کرتا تھا اورچونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی ان کو بت پرستی سے منع کرتے تھے لہذاآنحضرت (ص) کو ابوکبشہ سے تشبیہ دیتے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ ابن ابی کبشہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نانہال کی طرف منسوب ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نانا وہب بن عبد مناف کی کنیت ابوکبشہ تھی اور ان کی اس سے مراد یہ تھی کہ آپ اپنے نانا سے بہت زیادہ مشابہ تھے ۔ بعض نے کہا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دایہ حلیمہ سعدیہ کے شوہر کی کنیت ابو کبشہ تھی یا حلیمہ کے شوہر کے بھائی کی کنیت ابوکبشہ تھی اور کبھی کبھی ابن ابی کبشہ کے بجائے ابن کبشہ کہا جاتا ہے ، اس سے مراد یہ ابن ابی کبشہ کی ترخیم ہے ، یا کبشہ سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے داد عبدالمطلب ہیں جو مکہ میں قبیلہ کے رئیس تھے اور آپ کی بہت زیادہ عظمت و جلالت تھی ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابن کبشہ ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دادا حضرت اسماعیل کی طرف منسوب ہے ، خداوندعالم نے کبشی کو ان کا فدیہ قرار دیا تھا ۔
۸۔ سورہ مائدہ، آیت ۹۱۔
۹۔ شفیعی شاھرودی، گزیدہ ای جامع از الغدیر، ص ۵۵۷۔
جواب :
ابن عباس سے نقل ہوا ہے : شریح قاضی نے عمر بن خطاب سے مشکل مسئلہ کا حل
دریافت کیا ، اس کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا اور غصہ کی حالت میں ادھر سے
ادھر کررہے تھے ،خلاصہ یہ کہ وہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکے ، یہاں تک کہ
تمام اصحاب کو بلایا اور مسئلہ کو ان کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اس کا
راہ حل بیان کرو ، ان سب نے کہا : ” یاامیر المومنین ! انت المفزع و انت المنزع“ ۔ اے امیر المومنین تم سب کی پناہ گا ہ ہواور تم ہی منبع و مآخذ ہو ۔ عمر اس بات سے غصہ ہوگئے اور کہا : ”اتقو اللہ و قولوا قولا سدیدا یصلح لکم اعمالکم“۔
خدا سے ڈرو اور ایسی بات کہو جو تمہارے لئے فائدہ مند ہو ۔ سب نے کہا : اے
امیر المومنین ! ہمارے پاس تمہارے سوال کا جواب نہیں ہے ۔ عمر نے کہا : ”اما واللہ انی لاعرف ابا بجدتھا و ابن بجدتھا، واین مفزعھا و این منزعھا “
لیکن خدا کی قسم ایسے شخص کو پہچانتا ہوں جو علم و دانش کا چشمہ اور حلال
مشکلات ہے (اور تمام مسائل کو جانتا ہے ) اور اس مسئلہ کا جواب بھی اچھی
طرح جانتا ہے، سب نے کہا : شاید تمہاری مراد علی ابن ابی طالب ہیں؟ اس نے
کہا : للہ ھو و وھل طفحت حرة بمثلہ و ابرعتہ؟! انھضوابنا الیہ“۔
جی ہاں میری مراد وہی ہیں،کیا کوئی ایسی ماں ہے جس نے ایسا بچہ کو جنم دیا
ہو اور ایسا کامل انسان، معاشرہ کے حوالہ کیا ہو؟ ! لہذا کھڑے ہوجاؤ ،ان
کے پاس چلتے ہیں، ان سب نے کہا : کیا تم ان کے پاس جانا چاہتا ہو؟! تم حکم
کرو کہ وہ تمہارے پاس آئیں،عمر نے کہا : ”ھیھات ھنالک شجنة من بنی ھاشم ، و شجنة من الرسول، و اثرة من علم یوتی لھا ولایاتی، فی بیتہ یوتی الحکم، فاعطفوا نحوہ“۔
کیا تم نہیں جانتے کہ اس گھر میں بنی ہاشم کی ایک شاخ ہے اور پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شاخ ہے اور ان کے پاس علم کی بہت سی
نشانیاں ہیں جن کے پاس ہمیں خود جانا چاہئے، وہ کسی کے پاس نہیں جاتے اور
حکمت ان ہی کے گھر سے ملے گی لہذا ان کے پاس چلو ۔ تمام اصحاب ، عمر کے
ساتھ حضرت علی (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور سب نے دیکھا کہ وہ ایک
دیوار کے پاس کھڑے ہیں اور اس آیت کی تلاوت کررہے ہیں :”ایحسب الانسان ان یترک سدی“
(۱) ۔ کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اس کو بے ہدف چھوڑ دیا گیا ہے ؟! اس کے
بعد اس کی تکرار کرتے ہیں اور گریہ کرتے ہیں ، عمر نے شریح سے کہا : جو
مسئلہ تم نے مجھ سے نقل کیا ہے اس کو اباالحسن سے نقل کرو ۔
شریح نے کہا : میں مسند قضاوت پر تھا کہ یہ شخص میرے پاس آیا اور کہا :
ایک شخص نے ایک آزاد عورت جس کا مہر بہت زیادہ تھا اور ایک ام الولد عورت
(ام الولد عورت اس کنیز کو کہتے ہیں جس کے اپنے مولا سے کوئی اولاد ہو) کو
میرے حوالہ کیا اور کہا : میرے واپس آنے تک ان کو نفقہ دیتے رہنا ، پہلی
رات دونوں عورتوں کے یہاں ولادت ہوگئی ، ایک کے لڑکی اور ایک کے لڑکا
متولد ہوا اور ان میں سے ہر ایک زیادہ میراث لینے کی وجہ سے ادعا کرتی ہے
کہ لڑکا اس کا ہے اور لڑکی سے دونوں انکار کرتی ہیں ۔ امیر المومنین علی
(علیہ السلام) نے فرمایا : تم نے ان دونوں کے درمیان کس طرح فیصلہ کیا:
شریح نے کہا : اگر میں ان کے درمیان فیصلہ کرسکتاتو آپ کے پاس نہ آتا ،
امیر المومنین علی (علیہ السلام) نے درخت کا ایک پتہ اٹھایا اورشرح کو
دکھا کرفرمایا: اس مسئلہ میں قضاوت کرنا اس درخت کے پتہ سے آسان ہے ،اس کے
بعد ایک برتن منگایا اور ان عورتوں میں سے ایک عورت سے فرمایا: اپنے دودھ
کو اس برتن میں نکالو ، اس کے بعد آپ نے اس کا وزن کیا ، پھر دوسری عورت
سے کہا : اس نے بھی اپنا دودھ اس برتن میںنکالا ، آپ نے پھر اس کا بھی وزن
کیا تو آپ نے دیکھا کہ دوسری عورت کے دودھ کا وزن پہلی عورت کے دودھ سے
آدھا ہے ،اس کے بعد آپ نے دوسری عورت سے فرمایا: تم اپنی لڑکی کو اٹھا لو
اور پہلی سے کہا تم اپنے لڑکے کو اٹھا لو ۔ اس کے بعدشریح سے فرمایا:
”اما علمت ان لبن الجاریة علی النصف من لبن الغلام؟ و ان میراثھا نصف
میراثہ؟ و ان عقلھا نصف عقلہ؟ و ان شھادتھا نصف شھادتہ؟ و ان دیتھا نصف
دیتہ؟ وھی علی النصف فی کل شیء“۔ کیا
تم نہیں جانتے کہ لڑکی کا دودھ کا وزن لڑکے کے دودھ سے آدھا ہے ؟ اور لڑکی
کی میراث بھی لڑکے کی میراث سے آدھی ہے؟ اوراس کی عقل بھی لڑکے کی عقل سے
آدھی ہے ؟ اور اس کی شہادت (گواہی) بھی لڑکے کی شہادت سے آدھی ہے ؟ اور اس
کی دیت بھی لڑکے کی دیت سے آدھی ہے؟ اور سب چیز میں آدھی ہے ،اس وقت عمر
کو بہت زیادہ تعجب ہوا اور اس نے کہا: ” ابا حسن لا ابقانی اللہ لشدة لست لھا ولا فی بلد لست فیہ“ (۲)
۔ یا ابوالحسن ! خداوندعالم کبھی بھی مجھے تمہارے بغیر کسی چیز میں مبتلا
نہ کرے اور جس شہر میں آپ نہ ہو مجھے اس شہر میں اکیلا نہ چھوڑے(۳) ۔
۱۔ سورہ قیامت ، آیت ۳۶۔
۲۔ کنز العمال ۳ : ۱۷۹، ۵/ ۸۳۰،ح ۱۴۵۰۸۔
۳۔ شفیعی شاھرودی ، گزیدہ ای جامع از الغدیر، ص ۵۳۶۔
سوال ۔ کیا قرآن میں بعض صحابہ کی طرف فسق و فجور کی نسبت دینا نظریہ عدالت صحابہ پر اشکال کا باعث نہیں ہے ؟
جواب ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے ( یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِنْ جاء َکُمْ فاسِقٌ
بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا اٴَنْ تُصیبُوا قَوْماً بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا
عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمینَ) ( ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی
تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد
اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے ،
خدا وند عالم حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کی تحقیق اور اس سے احتیاط کی
رعایت کی جائے اس کے کہنے کے مطابق عمل نہ کیا جا ئے ممکن ہے کہ وہ واقع
کے لحاظ سے خطاکار اور جھوٹا ہو ،
ابن کثیرنے بہت سے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ انہوںنے کہا : یہ آیت
ولیدبن عقبہ کے لیے نازل ہوئی ، جس وقت پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم )نے ولید کو بنی مصطلق سے زکات جمع کرنے کے لیے حارث بن ضرار کے پاس
جوکہ اپنے قبیلہ کے سردار تھے، بھیجا تاکہ وہ زکات کا جمع شدہ مال جوحارث
بن ضرار کے پاس ہے وہ اس کے حوالے کردیں۔ لیکن ولیدڈر کی وجہ سے آدھے
راستہ سے وآپس آگیا ، اورپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی
خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)حارث نے زکات دینے سے منع کردیا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتا تھا ،
پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )یہ سنکر ناراض ہوئے اور ایک گروہ
کو حارث کے پاس بھیجا ، ادھر حارث اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف روانہ ہوا ،راستہ میں اچانک آپ کی ملاقات
اس جماعت سے ہو گئی جن کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے
بھیجا تھا وہ کہنے لگے یہی حارث ہے جس وقت دونوں قر یب ہوئے تو حارث نے
پوچھا کہا ں کا ارادہ ہے؟ تو انھوں کہا ہم تمہارے ہی پاس جارہے تھے ، حارث
نے پوچھا کس لیے ؟ توانھوں کہا کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)نے ولید ابن عقبہ کو تمہارے پا س بھیجا تھا وہ کہتا ہے کہ تم نے زکات
دینے سے منع کر دیا اور تم اس کو قتل
بھی کرنا چاہتے تھے ، حارث نے کہا: اس خداکی قسم جس نے رسول کو حق کے ساتھ
مبعوث با رسالت فرمایا میں نے ہر گز ولید کو نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ میرے
پاس آیا ، حارث جس وقت رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت
میں حاضر ہوے، تو آپ نے معلوم کیا کہ تم نے ولید کو زکات دینے سے منع
کردیا اور تم میرے بھیجے ہو ئے قاصد کو قتل کر نا چاہتے تھے ؟ تو حارث نے
کہا خدا کی قسم ایسا نہیں ہے میں نے اس کو نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ میرے
پاس آیا ، میں نے خود سوچا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)کی طرف سے کوئی زکات لینے کے لیے نہیں آیا تو میں ڈر گیا کہ کہیں خدا
اور اس کا رسول مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گئے ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ( یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا
إِنْ جاء َکُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا اٴَنْ تُصیبُوا قَوْماً
بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمینَ)(۲) ۔(۳ ) ۔
__________________
۱۔ سورہ حجرات،
آیت ۶ ۔
۲۔ تفسیر ابن کثیر : ج ۴ ، ص ۲۰۹ ۔
۳۔ سیمای عقاید شیعہ ، ص ۳۲۳ ۔
جواب : جنگ اُحد میں حالات مسلمانوں کے
خلاف ہوگئے ، کیو نکہ انھوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)کے قول کی مخالفت کی اور مال غنیمت لوٹنے کے لیے انھوں نے اس در ہّ کو
خالی چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ان کو شکت سے دو چار ہونا پڑا ، یہ واقعہ تفصیل
کے ساتھ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میںمیں ذکر ہوا ہے ۔ ان لوگوں نے میدان
جنگ میں رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو تنہا چھوڑ دیا ، فقط
چند صحابہ تھے جو رسول اسلام کے ہمراہ رہ گئے تھے ، ہر چند پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ان کو میدان میں وآپس آنے اور مدد کرنے
کے لیے بلایا لیکن وہ اس مشکل ترین مرحلہ میں رسول کو چھوڑ کر پہاڑ کی
چوٹیوں پر چلے گئے تاکہ دشمن کے حملہ سے محفوظ رہیں ، قرآن کریم نے ان کے
اس بھاگنے کو بیان کیا ہے ارشاد ہو ا : ” إِذْ تُصْعِدُونَ وَ لا تَلْوُونَ عَلی اٴَحَدٍ وَ
الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ فی اٴُخْراکُمْ فَاٴَثابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ
لِکَیْلا تَحْزَنُوا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا ما اٴَصابَکُمْ وَ اللَّہُ
خَبیرٌ بِما تَعْمَلُون“(۱) ۔ اس وقت کو یاد کرو جب تم بلندی پر جارہے تھے اور مڑ
کر کسی کو دیکھتے بھی نہ تھے، جب کہ رسول پیچھے کھڑے تمہیں آواز دے رہے
تھے جس کے نتیجہ میں خدا نے تمہیں غم کے بدلے غم دیا تاکہ نہ اس پر رنجیدہ
ہو جو چیز ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس مصیبت پر جو نازل ہوگئی ہے اور اللہ
تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ) (۱) ۔
یہ آیت ان لوگوں سے مخاطب ہے جو رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو
اُحد کے میدان میں چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ یہ آیت مشر کین کے خوف سے میدان
جنگ سے فرار کرنے کی توصیف بیان کرتی ہے ۔ اس وقت کسی نے بھی رسول کی
آوازکی طرف توجہ نہیں کی ،جبکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان
کو پکارتے رہے ( ائے لوگو ں وآپس آجاو میں اللہ کا پیغمبرہوں ، لیکن اس
حالت میں کسی فرار کرنے والے نے آپ کی بات کا جواب نہیں دیا ۔
آیت ان کے تفرقہ اور فرار کو بیان کررہی ہے ، ان میں سے بعض پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے نزدیک تھے اور بعض دورتھے ، لیکن کسی نے
بھی رسول اسلام کی آواز پر لبیک نہیں کہا اور رسول اسلام (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم )کو مشرکوں کے درمیان چھوڑ کر چلے گئے اور اس بات کی طرف بالکل
توجہ نہیں کی کہ کہیں رسول قتل یا زخمی نہ ہوجائیں ۔
البتہ ایک گروہ تھا جوآنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حفاظت کررہا
تھا اورشمنوں کے شرکو دفع کررہا تھا ، ان لوگوں کو خدا وندعالم نے قرآن
کریم میں”
سَیَجْزِی اللَّہُ الشَّاکِرینَ“کی تعبیر سے یاد کیا ہے (۲) ۔اس کے بعد خدا وند عالم نے
جنگ سے بھاگنے اور جھاد سے فرار کرنے والوں کو لغزش سے یاد کیا ہے ، کہ جس
میں شیطان نے فتنہ برپا کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں
ارشاد فرمایا ہے” إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطانُ بِبَعْضِ ما
کَسَبُوا “( ۳ ) ۔ یہ
وہی ہیں جنہیں شیطان نے ان کے کئے دھرے کی بناء پر بہکا دیاہے اور خدا نے
ان کو معاف کردیا کہ وہ غفور اور حلیم ہے ) ۔
اور یہ بھاگنے والے لوگ منا فق نہیں تھے کیونکہ منافق کو کبھی معاف نہیں
کیا جا سکتا ، جبکہ خدا نے ان کو معاف کر دیا تھا اور یہ عادل اصحاب میں
سے تھے (۴) ۔
۱۔ سوٴرہ آل عمران : ۱۵۳ ،
۲۔ سورہ آل عمران: ۱۴۴
۳۔ سوٴرہ آل عمران : ۱۵۵
۴۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۲۷
سوال : کیا ان لوگوں کو عادل سمجھا جاسکتا ہے جنہوں نے خدا اور رسول کی طرف فریب کی نسبت دی ہے ؟
جواب : جنگ احزاب ،
اسلام کی مشہور جنگوں میں سے ایک ہے ، مشرکین اور یہود ،اسلام کو شکست
دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہوگئے اور انھوں نے دس ہزار مسلح افراد کے
ساتھ مدینہ کا محاصرہ کرلیا ، مسلمانوں نے دشمنوں کے حملہ کو روکنے کے لیے
مدینہ سے کچھ فاصلہ پر ایک خندق کھودکر تیار کی ، ان کا یہ محاصرہ تقر
یباً ایک ماہ تک برقرار رہا ، اس جنگ میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم )کے اصحاب سخت امتحان میں مبتلا ہوگئے ، اور اس کٹھن مشکل اور
متزلزل ماحول میںمومن اور متزلزل افراد کی شناخت بھی ہوگئی ، اصحاب رسول
اس وقت دو گروہ میں تقسیم ہوگے :
ایک مومینن کا گروہ تھا جن کا شعار(نعرہ) یہ تھا” قالُوا ہذا ما وَعَدَنَا اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ
صَدَقَ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ “یہ وہی بات ہے جس کا خدا اور رسول نے
وعدہ کیا تھا اور خدا و رسول کا وعدہ بالکل سچا ہے (۱) ۔
دوسرا گروہ منافقین کا تھا جن کا شعار یہ تھا کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم
سے جھوٹا وعدہ کیا ہے” ما وَعَدَنَا اللَّہُ وَ رَسُولُہُ
إِلاَّ غُرُورا“۔ خدا و رسول نے ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے،
(۲) ۔
وہ موٴمینن جن کا ایمان کمزور تھا وہ یہ خیال کرتے تھے کہ خدا اور رسول نے
ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے ، کیا ان کو عادل وپاک کہا جا سکتا
ہے ؟ البتہ وہ منا فق نہیں تھے ، چونکہ وہ مسلمان ہو نے کا اظہار کرتے
تھے ، لیکن دل سے کا فرتھے، کیونکہ آیت میں دلوں کے بیمار ہو نے والوں کو
منا فقین پر عطف کیا ہے ۔
اگر کوئی جنگ احزاب سے مربوط آیات کا دقت ّکے ساتھ مطالعہ کرے تو اس کو
معلوم ہو جا یئگا کہ بعض صحابہ نے خندق کھودنے میں کس حد تک مقاومت کی ہے ،
ان میں سے بعض لوگ، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے اس بہانے
سے اجازت طلب لیتے تھے کہ ان کے گھر محفوظ نہیں ہیں ، لہذا ہم مدینہ
وآپس جا ناچاہتے ہیں ، جب کہ خدا وند عالم فرماتا ہے کہ ان کے گھر محفوظ
تھے ، بلکہ وہ اس جنگ سے فرار کر نا چاہتے تھے کیونکہ انھوں نے خدا سے عہد
کیا ہوا تھا کہ وہ فرار نہیں کرینگے کیونکہ عہد خدا کے متعلق سوال کیا
جائے گا (۳) ۔ ( ۴) ۔
___________________
۱۔ سوٴرہ احزاب، آیت ۲۲ ۔
۲۔ سوٴرہ احزاب، آیت ۱۲ ۔
۳۔ سوٴرہ احزاب، آیت ۱۳ ( وَ ما ہِیَ بِعَوْرَةٍ إِنْ یُریدُونَ إِلاَّ
فِراراً )
۴۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۲۸۔
سوال : جن کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے باغی گروہ کے نام سے دیا کیا ہے کیا ان کو عادل کہا جا سکتا ہے ؟
جواب : صحابہ کی
عدالت کو قرآن کی کسوٹی پرپرکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہونچے کہ صحابہ بھی
تابعین کی طرح ہیں ، ان کے درمیان عادل،فاسق ، نیک اوربد افراد موجود ہیں ،
بعض اصحاب کی وجہ سے بارش ہوتی تھی ، اور بعض صحابہ کا مقام بہت گرا ہوا
تھا۔ سنت نبوی بھی بعض کی حالت کو بیان کرتی ہے ۔ ہم یہاں پربعض احادیث کو
بیان کریںگے:
الف: مسلمانوں میں سے ایک تباہ کار گروہ کا سردار ابو سعید سے نقل کرتا ہے :
جو شخص مجھ سے بہتر ہے ( یعنی ابوقتادہ ) اس نے مجھ خبر دی ہے کہ رسول
خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے جنگ خندق کے موقع پرجب عمار بن یاسر
کو دیکھا جو کہ خندق کھودنے میں مشغول تھے تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ
پھیرا اور فرمایا ائے سمیہّ کے بیٹے! ایک باغی گروہ تم کو قتل کر ے گا (۱)
۔
بخاری نے بھی نیز ابو سعید سے روایت نقل کی ہے : ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھا
کر لاتے تھے اور عمار دو دواینٹ لاتے تھے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم )نے ان کو دیکھا تو مٹی کو ان کے اوپرسے صاف کیا اور فرمایا :
بیچارہ عمار! ان کو بہشت کی طرف بلاینگے اور وہ ان کو دوزخ کی طرف ۔
حمیدی کہتا ہے : کہ اس حدیث میں زیادتی کا ہونا مشہور ہے ، کیونکہ بخاری نے
اس حدیث کو اس طریق سے نقل نہیں کیا ہے شاید یا تو یہ حدیث ان تک پہونچی
نہیں ہے یا پھر اس نے کسی غرض کی وجہ سے اس کو حذف کر دیا ۔
ابو بکر برقانی اور ابو بکر اسماعیلی نے اس پہلے اس حدیث کو نقل کیا ہے ،
ان دونوں کے نظریہ کے مطابق حدیث اس طرح ہے : رسول خدا( صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم) نے فرمایا : بیچارہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا وہ ان کو
بہشت کی دعوت دینگے اور وہ ان کو دوزخ کی طرف بلاینگے ، (۲) ۔
حمیدی نے بخاری کی اس علت کو بالکل واضح کر دیا کہ اس نے کس طرح حدیث کے
ساتھ کھلواڑ کیا ہے ، اور وہ کسی خاص ہدف کی وجہ سے حدیث کے ایک حصہ کو
حذف کر دیتا ہے ، اس نے اِس جملہ” ایک باغی گروہ ان کو قتل کر ےگا“کو حذف
کر دیا ، تاکہ معاویہ کو اس سے برَی کردے او ر اس کے برے افعال کی توجہیہ
کرسکے ۔
ہم صحابہ کی عدالت کے معتقدین سے سوال کر تے ہیں کہ وہ تجاوز کرنے والاگروہ
جس نے عمار جیسے صحابی کو قتل کیاہے ،کو ن تھے ؟ کیا ان کے درمیان صحابہ
میں سے کوئی ایسا صحابی تھا جو اس گروہ کی تایئد کرتا ہو؟! ، بیشک معاویہ
اس باغی گر گروہ کا سردار تھا اور عمر عاص اس جنگ میں اس کا وزیر تھا اور
معاویہ کا اس جنگ میں کامیاب ہونا بھی اسی کی حیلہ گیری کی وجہ سے تھا ،
اس باغی گروہ میںچند اصحاب بھی شامل تھے ، جیسے نعمان بن بشیر انصاری ۔
عقبہ بن عامر جھنی و یسار بن سبع جھنی ۔ ان کے علاوہ اور دیگر لوگ بھی
موجود تھے (۳) ۔
______________________
۱۔ جامع الاصول : ج ۹ ، ص۴۲ ، شمارہ
۶۵۸۰ ۔
۲۔ جامع الاصول : ج ۹ ص ۴۴ ، شمارہ ۶۵۸۳ ۔
۳۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۳۱ ۔
اس وقت عمرنے کہا : درد اور بیماری نے پیغمبر اسلام پر غلبہ کر لیا ہے ، کتا ب خدا ہمارے پاس ہے جو ہمارے لیے کافی ہے یہاں ےک کہ بہت زیادہ باتیں اور اختلاف ہوگیا۔
حضرت نے فرمایا: میرے پاس سے کھڑے ہوجاوٴ ،میرے قریب جھگڑا کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔
ابن عباس نے وہاں سے جاتے وقت کہایہ تمام مصیبت اس وجہ سے ہے کہ پیغمبر اسلام جو لکھنا چاہتے تھے، ان کولکھنے نہیں دیا (۱) ۔
سعید بن جبیر نے بھی ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ہاے جمعرات کا دن پوچھاگیا جمعرات کے روز کیا تھا ؟ تو آپ رونے لگے اور آپ کے آنسوں سے زمین تر ہوگئی ، اس کے بعد کہنے لگے جمعرات کے روز جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی بیماری میں شدت ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”قلم و کاغذ لیکر آو تاکہ تمہارے لیے ایک ایسی چیز لکھدوں جس کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہونگے ، جولوگ وہاں پر موجود تھے وہ آپس میں جھگڑا کرنے لگے جبکہ پیغمبر اسلام کی موجودگی میں اس طرح جھگڑا کرنا بہتر نہیں ہے ۔ اس کے بعد کہنے لگے: رسول خدا (معاذاللہ ) ہذیان بک رہے ہیں ،تو اس وقت رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے فرمایا : مجھے تنہا چھوڑ دو ، کیونکہ اس وقت میری حالت اس سے بہتر ہے جس کی تم میری طرف نسبت دے رہے ہو (۲) ۔
یہاں پرقارئین کے لیے قابل غوربات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے جس کا م کے لیے فرمایا ( یعنی قلم و دوات طلب کیا ) تو پہلی مرتبہ میں ان کو اس سے نسبت دے دی کہ ان پر بیماری کا غلبہ ہے ، اور یہ کہنے والا کوئی اور نہیں حضرت عمر ہی تھے جن کو تاریخ میں آج بھی یاد کیا جا تا ہے ، اور جب دوسری مرتبہ پھر قلم ودوات طلب کیا تو ہذیا ن کی نسبت دے دی کہ (معاذاللہ ) ہذیان بک رہے ہیں ، اس مقام پر کہنے والے کا نام نہیں آیا ہے اور لفظ عمر کی جگہ یہ لفظ لایا گیا کہ ( کسی نے کہا کہ یہ تو ہذیان بک رہے ہیں ) پہلے والے جملے میں نام اس لیے ذکر کیا گیا کہ وہ جملہ اس دوسرے والے جملے سے تھوڑا سبک تھا اس لیے وہاں پر کہنے والے کا نام آگیا ، جبکہ اس پورے کلام میں کہنے والا ایک ہی ہے ، لیکن دوسری جگہ پر اس مطلب کو ایک الگ طریقہ سے ذکر کیا ۔کہا گیا کہ جب پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی بیماری بڑھی تو آپ نے فرمایا کہ”ہڈی لائی جائے تاکہ تمہارے لیے ایک نامہ لکھ دوں تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو ں ، یہ سنکر لوگوں نے آپ کے قریب جھگڑا کرنا شروع کردیا جبکہ پیغمبر کے نزدیک جھگڑا کرنا بہتر نہیں تھا اس وقت یہ کہا گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے یہ تو ہذیان بک رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو کیونکہ اس وقت میری حالت اس سے بہتر ہے جس کی تم میری طرف نسبت دے رہے ہو (۳) ۔
چوتھی مرتبہ اس طرح نقل ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے کہا: بیماری نے پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر غلبہ کر لیا ہے ، قرا ٓن کریم تمہارے پاس ہے ، اور قرآن کریم ہی ہمارے لیے کافی ہے (حسبنا کتاب اللہ) اہل خانہ نے مل کر جھگڑا کرنا شروع کردیا ۔بعض کہہ رہے تھے: قلم وکاغذلاکر دیدو تاکہ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تمہارے لیے ایسانامہ لکھ دیں جس کے بعد گمراہ نہ ہو ۔ لیکن بعض لوگ دوسری باتیں کہہ رہے تھے ۔ جب بیہودہ باتیں اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاوٴ (۴) ۔
خدا کے لیے ذرا سوچئے کہ اگر کوئی رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے الزامی حکم کی مخالفت کرئے اور رسول پر بیماری کا غلبہ یا ہذیان جیسے فحش کلمات کواستعمال کرے ، کیا وہ ایسا صاحب ملکہ ہوسکتا ہے جو حرام کام کا مرتکب نہ ہو؟ ، کہاں یہ جملے اور کہا ں رسول کی وہ تعریف جو خدا نے اپنی زبان میں قرآن مجید میں ارشادفرمایا (ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی) (۵) ۔
رسول کا یہ صحابی کس طرح کہتا ہے کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے اگر اس کا یہ کہنا صحیح ہے تو پھر مسلمانو ں نے صحاح ستہ ،سنن اورمسانید جیسی حدیث کی کتابیں کیوں لکھی ہیں (۶) ۔
______________________
۱۔ صحیح بخاری : ج ۱ ، ص ۳۸ شمارہ ۱۱۴
۔
۲۔ صحیح بخاری : ج ۲ ، ص ۲۸۷ ، شمارہ ۳۰۵۳ ۔
۳۔ صحیح بخاری : ج ۲ ، ص ۳۲۱ ، ص ۳۱۶۸ ۔
۴۔ صحیح بخاری : ج ۳ ، ص ۱۳۲ ، شمارہ ۴۴۳۲ ، ونیز : ج ۴ ، ص ۱۰ ، شمارہ
۵۶۶۹ ،و ۷۳۶۶ ۔
۵۔ سوٴرہ نجم : ۳۔۴۔
۶۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۳۲ ۔
لیکن آج وہ صاحب شمشیر اور اسلام کا ہیرو بنا ہوا ہے جبکہ اس نے پئے در پئے بے گناہ افراد کو قتل کیا ہے ۔
اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے بھی اس کی اس جنایت سے بیزاری اختیار کی ہے لیکن وہی شخص رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بعد سب سے زیادہ نیک اور تیغ بے نیام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ اس نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا اور اسی رات ان کی زوجہ کے ساتھ زنا کیا ، اسی طرح دوسروں کا حال بھی روشن اور واضح ہے (۲) ۔
______________________
۱۔ صحیح بخاری ،کتاب المغازی ، باب ، خالد بن ولید
کو بنی خز یمہ کی طرف بھیجنا ، حدیث ۴۳۳۹ ۔
۲۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۴۱ ۔
جواب : بخاری نے
ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے: ہم پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)کی خدمت میں حاضر تھے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )
کوئی چیز تقسیم کررہے تھے کہ ذوالخویصرہ جو بنی تمیم سے تھا ،وہاں آیا اور
کہنے لگا یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) عدالت سے کام لیجئے ،
تو آپ نے فرمایا کہ وائے ہو تجھ پر اگر میں عدالت سے کام نہیں کروں گا تو
پھر کون عدالت سے کام لے گا ، اگر میں عدالت سے کام نہیں کروں گا تو
خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگا ، عمر نے کہا: یا رسول اللہ اگر آپ
اجازت دیں تو ابھی اس کا سر قلم کردوں ، تو آپ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ،
اس کے پاس ایسے دوست ہیں جن میں سے ہر ایک کی نماز اور روزے تمہاری نماز
اور روزں کے مقابلہ میں حقیر ہیں ۔ وہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن ان کے
حلق سے نیچے نہیں اُترتا اور دین سے اس طرح نکل جانیگے جس طرح کمان سے تیر
نکل جاتا ہے ، (۱) (۲) ۔
_______________________
۱۔ صحیح بخاری : ج ۴، ص ۱۷۹ ، باب ، اسلام میں بنوت
کی علامات ، بحارالانوار ج ۳۳ ، حدیث ۵۷۹ ۔
۲۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۴۱ ۔
جواب : ابو ہریرہ
نے نقل کیا ہے کہ ہم جنگ خیبر میں موجود تھے،پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ) نے ایک شخص اور اس کے ساتھیوں سے جو کہ مسلمان ہونے کا دعویٰ
کرتے تھے ، فرما یا:”وہ اہل دوزخ میں سے ہیں“ جب جنگ شروع ہوئی تو اس شخص
نے بڑی شدّت کے ساتھ جنگ لڑی اور بہت سے زخم کھائے ، یہاں تک کہ بعض لوگ
شک میں پڑ گئے ۔اس کے بعد وہ زخموں کی وجہ سے بہت زیادہ رو رہا تھالہذا اس
نے اپنے تیردان سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعہ خودکشی کرلی ، مسلمانوں
میں سے بعض لوگ تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ) آپ کا کہنا صحیح ثابت ہوا، فلاں شخص نے خودکشی کر ڈالی،
پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا : اے فلاں شخص تم
جاوٴ اور علان کر و کہ موٴمن کے علاوہ کوئی بہشت میں داخل نہیں ہوسکتا
،خدا وند عالم ہمیشہ اپنے دین کی ایک فاجر شخص کے ذریعہ تائےد کرتا ہے ۔
(۱) (۲) ۔
۱۔ صحیح بخاری : ج ۳ ص ۷۳ ، شمارہ ۴۲۰۳ ۔
۲۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۴۲
سوال : پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے محلم بن جثامہ پرکیوں لعنت کی؟
جواب : محلم بن
جثامہ مسلمانوں کے گروہ کے ساتھ جس میں ابو قتادہ بھی تھے، جہاد کے لیے
مدینہ سے باہرگئے ، جیسے ہی یہ لوگ وادی”اضم “ پہونچے ، تو عامر بن اضبط
اشجعی جو کہ اونٹ پر سوار تھا انکے قر یب سے گذرا اور اس نے مسلمان ہونے
کے عنوان سے ان کو سلام کیا ، چونکہ محلم بن جثامہ اور عامر کے درمیان
پہلے سے کچھ اختلاف تھا ، لہذا اس نے عامر پر حملہ کردیا اور اس کو قتل
کردیا اوراس کا اونٹ ودیگر سامان وغیرہ بھی لے لیا ، جب یہ لوگ وآپس
پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ
خبر عام ہوئی ، تو اس وقت ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی (یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی
سَبیلِ اللَّہِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ اٴَلْقی إِلَیْکُمُ
السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً )(۱)ایمان والو
جب تم راسِ خدا میں جہاد کے لئے سفر کرو تو پہلے تحقیق کرلو اور خبردار جو
اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تو مومن نہیں ہے)
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نے
اس سے فرمایا کہ خدا تجھے معاف نہیں کرئے گا (۲) (۳) ۔
______________________
۱۔ اسد الغابہ : ج ۴ ، ص ۳۰۹ ، سوٴرہ نساء : ۹۴
۲۔ تفسیر ابن کثیر : ج ۱ ، ص ۵۳۹
۳۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص۳۴۴
.: Weblog Themes By Pichak :.
