ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی
امام
حسین علیہ السلام ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ بنوامیہ کی غاصبانہ
اور ظالمانہ حکمرانی کے خلاف قیام کرکے ظلم اور ظالم کی بساط لپیٹ لیں؛ تا
ہم ایسا موقع امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت تک حتی شہادت امام مجتبی
(ع) کے کئی سال بعد تک بھی ہاتھ نہیں آیا؛ لیکن زمانہ جتنی کہ معاویہ کی
موت قریب آرہی تھی، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام نے معاویہ کے
خلاف اپنی تشہیری اور تبلیغاتی جنگ کو شدت بخشی تا آنکہ معاویہ کی موت سے
ایک سال قبل مِنی کے مقام پر 200 صحابیوں اور عالم اسلام کے 500 مفکرین کے
اجتماع سے خطاب کیا اور اہل بیت (ع) کے حقوق گنوائے اور انہیں ان حقوق کے
احیاء اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی دعوت دی۔ امام علیہ السلام نے ان اقدامات
کے ذریعے مرگ معاویہ کے بعد بنو امیہ کی حکومت کے خلاف قیام کے لئے مقدمات
فراہم کررہے تھے اور مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ معاویہ کی موت کے ایک سال بعد امام حسین علیہ السلام سفر حج پر نکلے اور عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر بھی آپ (ع) کے ہمراہ تھے۔ امام (ع) نے بنوہاشم کے تمام مردوں اور خواتین، قرابتداروں اور پیروکاروں کو اکٹھا کیا اور انصار میں سے بھی ان لوگوں کو اکٹھا کیا جنہیں آپ (ع) جانتے تھے یا ان کے خاندان والوں کو جانتے تھے؛ اور کئی قاصد روانہ کرکے اس سال حج کے لئے آنے والے اور صلاح و عبادت کے حوالے سے معروف اصحاب نبی (ص) کو بھی بلوایا تا کہ سب کو اس اجتماع میں حاضر کرسکیں۔
مِنی کے مقام پر امام حسین علیہ السلام کے خیموں میں سات سو اصحاب و عالم اسلام کے ممتاز مفکرین اور علماء اکٹھے ہوئے۔ اکثر افراد تابعی تھے اور 200 صحابہ رسول اللہ (ص) تھے، نیز عام لوگوں کی بھی خاصی تعداد حاضر ہوئی تھی۔
امام حسین علیہ السلام خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور خداوند متعال کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اما بعد! اس طاغوت نے ہم اور ہمارے پیروکاروں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے وہ آپ سب نے دیکھا ہے، اور آپ جانتے ہیں اور وہ سب آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ اگر میں نے سچ بولا تو میری تصدیق کریں اور اگر میں نے جھوٹ بولا تو تردید کریں۔
[گر آپ نے تصدیق کرلی تو] آپ پر اللہ کے حق کی قسم! آپ پر رسول اللہ کے حق کی قسم! اور آپ کے پیغمبر (ص) سے میری قرابت کی قسم! کہ اپنے وطن کو لوٹنے کے بعد اپنے قبائل کے قابل اعتماد افراد کو مجتمع کرو اور میری یہ باتیں ان کے لئے بھی نقل کرو؛ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ موضوع (امامت) کہیں آپ کی یادوں سے مٹ نہ جائے اور حق مغلوب ہوجائے اور مٹ جائے؛ "فَادعوهُم إلى ما تَعلَمونَ مِن حَقِّنا ؛ فَإِنّی أتَخَوَّفُ أن یَدرُسَ هذَا الأَمرُ و یَذهَبَ الحَقُّ و یُغلَبَ "، اور خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے ؛ اور اللہ اپنے نور کو کمال منزل تک پہنچانے والا ہے، چاہے کافر لوگ ناپسند کریں؛ "وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُون".(1)
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے ان حقائق کی یادآوری فرمائی جن میں اس ہر ایک اہل بیت علیہم السلام کی امامت اور ولایت کی حقانیت کی سند ہے اور سات سو نامور افراد کے اجتماع میں شریک سات سو افراد میں سے ہر ایک نے ان حقائق پر گواہی دی ہے۔ مذکورہ حقائق و معارف کچھ یوں ہیں:
1۔ مواخات کے مشہور تاریخی سنت کے دن ـ جب مہاجرین و انصار میں سے ہر دو آدمیوں کے درمیان اخوت و برادری کی رسم ادا کی گئی ـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کو دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا۔
2۔ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند مگر علی علی (ع) کے گھر کا دروازہ!
امام حسین (ع) نے یہ نکتہ بھی سب کو یاد دلایا اور ان سے تصدیق کرائی کہ رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے خانہ علی (ع) کے سوا مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کرواديئے۔
3۔ خدا کے حکم کے مطابق دوسروں کو مسجد کی طرف ایک دریچہ کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی۔
4۔ رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے حجۃالوداع سے واپسی کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر علی علیہ السلام کو خلافت اور ولایت امر کا عہدہ سونپ دیا؛ کیونکہ یہ اس خاندان کی ولایت و امامت کی اہم ترین دلیل ہے جس پر تأکید ہونی چاہئے۔ امام حسین (ع) نے اس حوالے سے خاص طور پر فرمایا: "آپ کو خدا کی قسم دلاتا ہوں، کیا جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غدیر خم کے دن امیرالمؤمنین (ع) کو منصوب کیا اور ولایت کو ان کے لئے مستقر کردیا اور فرمایا: حاضرین غائبین کو بتائیں؟ اور اجتماع میں حاضر تمام افراد نے مل کر جواب دیا: خدا کی قسم! درست فرما رہے ہیں۔
5۔ حدیث منزلت؛ غزوہ تبوک کے وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا: تیری نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسیٰ کے ساتھ، تم میرے بعد ہر مؤمن کے ولی ہو "أنتَ مِنّی بِمَنزِلَةِ هارونَ مِن موسى ، وأنتَ وَلِیُّ كُلِّ مُؤمِنٍ بَعدی"۔
6۔ واقعۂ مباہلہ میں رسول اللہ (ص) کے ہمراہ امیرالمؤمنین، سیدہ فاطمۃالزہراء اور حسنین علیہم السلام کا کردار۔
7۔ قلعۂ خیبرکی فتح اور رسول اللہ (ص) کا یہ کلام مبارک کہ "میں کل یہ عَلَم ایسے فرد کو دونگا جو حملہ کرنے والا اور فرار نہ ہونے والا ہے اللہ اور اس کے رسول (ص) اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرتا ہے، اور خداوند متعال اسی کے ہاتھوں قلعۂ خیبر کو فتح فرمائے گا؛ لَأَدفَعُهُ إلى رَجُلٍ یُحِبُّهُ اللّه ُ ورَسولُهُ ویُحِبُّ اللّه َ ورَسولَهُ، كَرّارٍ غَیرِ فَرّارٍ، یَفتَحُهَا اللّه ُ عَلى یَدَیهِ"
8۔ سورہ برائت کا ابلاغ؛ امام حسین علیہ السلام نے اس واقعے کے بارے میں فرمایا: رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے ارشاد فرمایا: میری طرف سے میری اپنی ذات یا میرے کسی فرد کے سوا ابلاغ نہیں کر سکتا؛ "لا یُبَلِّغُ عَنّی إلّا أنَا أو رَجُلٌ مِنّی"۔
9۔ رسول اللہ (ص) کو جو بھی مشکل اور دشواری پیش آتی آپ (ص) علی (ع) سے مخاطب ہوتے اور انہیں وہ مسئلہ حل کرنے کے لئے روانہ کرتے۔
10۔ علی علیہ السلام نے فرمایا: اے على! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں، اور آپ میرے بعد ہر مؤمن اور مؤمنہ کے ولی ہیں؛ "یا عَلِیُّ ! أنتَ مِنّی وأنَا مِنكَ ، وأنتَ وَلِیُّ كُلِّ مُؤمِنٍ ومُؤمِنَةٍ بَعدی"۔
11۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے علوم و معارف کے خزانے علی علیہ السلام کو منتقل کیا کرتے تھے۔
12۔ رسول اللہ (ص) نے علی (ع) سے اپنی سیدہ بیٹی (س) کا نکاح کراتے وقت فرمایا: "زَوَّجتُكِ خَیرَ أهلِ بَیتی، أقدَمَهُم سِلما وأعظَمَهُم حِلما وأكثَرَهُم عِلما؛ جان پدر! آپ کے شوہر میرے خاندان کے بہتریں فرد ہیں، اسلام میں سب پر سبقت لینے والے، حلم و بردباری میں خاندان کے سب سے عظیم اور عالم ترین ہیں؛ اور یوں آپ (ص) نے علی (ع) کو جعفر اور حمزہ (علیہماالسلام) پر فوقیت دی۔
13۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میں، فرزندان آدم کا سردار و سرور ہوں اور میرے بھائی علی (ع) عرب کے سردار، فاطمہ (س) جنت کی خواتین کی سیدہ اور میرے دو بیٹے حسن و حسین (ع) جنت کے جوانوں کے سردار ہیں؛ "أنَا سَیِّدُ وُلدِ آدَمَ، وأخی عَلِیٌّ سَیِّدُ العَرَبِ، وفاطِمَةُ سَیِّدَةُ نِساءِ أهلِ الجَنَّةِ، وَابنایَ الحَسَنُ وَالحُسَینُ سَیِّدا شَبابِ أهلِ الجَنَّةِ"۔
14۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے وصال سے قبل علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ان کو غسل دیں اور انہیں بتایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس امر میں علی (ع) کی مدد کریں گے۔
15۔ رسول اللہ (ص) نے اپنے آخری خطبے کے ضمن میں ارشاد فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: کتاب اللہ اور میرا خاندان، پس تم ان دو کا دامن تھامو ہرگز گمراہ نہ ہونگے؛ "أیُّهَا النّاسُ ! إنّی تَرَكتُ فیكُمُ الثَّقَلَینِ كِتابَ اللّه ِ وأهلَ بَیتی ، فَتَمَسَّكوا بِهِما لَن تَضِلّوا"۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے حاضرین کو قسم دلائی کہ کیا انھوں نے یہ بات رسول اللہ (ص) سنی ہے کہ "جو شخص گماں کرے کہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور علی (ع) سے بغض و عداوت رکھے، وہ جھوٹا ہے؛ کوئی بھی علی کی دشمنی کرنے والا کوئی شخص بھی مجھ سے محبت نہیں کرتا۔
کسی نے کہا: یا رسول اللہ (ص)! ایسا کیوں ہے؟
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: کیونکہ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ جو ان سے محبت کرے گا وہ میرا حبدار ہے اور جو میرا حبدار ہے وہ خدا کا محب ہے اور جو شخص ان سے دشمنی کرے گا وہ میرا دشمن اور جو مجھ سے دشمنی کرے گا وہ خدا کا دشمن ہے؛ "مَن زَعَمَ أنَّهُ یُحِبُّنی ویُبغِضُ عَلِیّا فَقَد كَذَبَ ، لَیسَ یُحِبُّنی وهُوَ یُبغِضُ عَلِیّا"! فَقالَ لَهُ قائِلٌ: یا رَسولَ اللّهِ وكَیفَ ذلِكَ؟ قالَ: "لِأَنَّهُ مِنّی وأنَا مِنهُ، مَن أحَبَّهُ فَقَد أحَبَّنی ومَن أحَبَّنی فَقَد أحَبَّ اللّهَ، وَ مَن أبغَضَهُ فَقَد أبغَضَنی ومَن أبغَضَنی فَقَد أبغَضَ اللّهَ".
حاضرین نے اس بات کی بھی تصدیق کردی اور اس کے بعد منتشر ہوگئے۔ (2)
نتیجہ:
قرآن اور اہل بیت (ع) سے دوری معاشروں کو اسلام کی تعلیمات و معارف اور اعلی اقدار سے دور کردیتی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام سے دوری کی صورت میں قرآن کی پیروی بھی اسلامی معاشرے کے انحراف اور نابودی کا راستہ نہیں روک سکتی جیسا کہ قرآن کا دامن چھوڑ کر محبت اہل بیت (ع) کا دعوی کرنے والا معاشرہ بھی فلاح نہیں پاسکتا۔ چنانچہ ہلاکت اور نابودی سے بچاؤ اور سعادت و خوشبختی کے حصول کے لئے اہل بیت (ع) کی پیروی اور اہل بیت (ع) کی ذوات مقدسہ سے ہی قرآنی معارف کا حصول، وہی اہم موضوع ہے جو امام حسین علیہ السلام نے انحراف زدہ معاشرے کی نجات کے لئے مورد تأکید ٹہرایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:
1۔ سوره صفّ آیه 8۔
2۔ كتاب سلیم بن قیس "اسرار آل محمد (ص)"، ج 2 ص 788 ، بحار الأنوار : ج 33 ص 181 و الاحتجاج : ج 2 ص 87۔
ابنا: کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان کوہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں۔
(۱) پیغمبر (ص) کی سنت کو زندہ کرنا:
بنی امیہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی سنت کو مٹا کر زمانہٴ جاہلیت کے نظام کو جاری کیا جائے۔ یہ بات حضرت کے اس قول سے سمجھ میں آتی ہے کہ ”میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے یا فساد پھیلانے کے لئے نہیں جا رہا ہوں۔ بلکہ میرا مقصد امت اسلامی کی اصلاح اور اپنے جد پیغمبر اسلام (ص) و اپنے بابا علی بن ابی طالب کی سنت پر چلنا ہے۔“
(۲) باطل کے چہرے پر پڑی ہوئی نقاب کو الٹنا:
بنی امیہ اپنے ظاہری اسلام کے ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ واقعہ کربلا نے ان کے چہرے پر پڑی اسلامی نقاب کوالٹ دیا، تاکہ لوگ ان کے اصلی چہرے کو پہچان سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ نے انسانوں و مسلمانوں کو یہ درس بھی دیا کہ انسان کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور دین کامکھوٹا پہنے فریبکار لوگوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔
(۳) امر بالمعروف کو زندہ رکھنا:
حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کے اس قیام کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر تھا ۔ آپنے ایک مقام پر بیان فرمایا کہ میرا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکرہے۔ایک دوسرے مقام پر بیان فرمایا کہ : اے الله! میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کو بہت دوست رکھتا ہے۔
(۴) حقیقی اور ظاہری مسلمانوں کے فرق کو نمایاں کرنا:
آزمائش کے بغیر سچے مسلمانون، معمولی دینداروںا ور ایمان کے جھوٹے دعویداروں کو پہچاننا مشکل ہے۔ اور جب تک ان سب کو نہ پہچان لیا جائے، اس وقت تک اسلامی سماج اپنی حقیقت کا پتہ نہیں لگاسکتا۔ کربلا ایک ایسی آزمائش گاہ تھی جہاں پر مسلمانوں کے ایمان، دینی پابندی و حق پرستی کے دعووں کوپرکھا جا رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے خود فرمایا کہ لوگ دینا پرست ہیں جب آزمائش کی جاتی ہے تودیندار کم نکلتے ہیں۔
(۵) عزت کی حفاظت کرنا:
حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت وآزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کرلیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ : ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میںذلت کوقبول کرنے والا نہیں ہوں۔
(۶) طاغوتی طاقتوں سے جنگ:
امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو الله کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ا ور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کوحرام کررہا ہو، تواس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے الله کی طرف سے سزا دی جائے گی۔“
(۷) دین پر ہر چیز کو قربان کردینا چاہئے:
دین کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے بچانے کے لئے ہر چیز کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں ،بھائیوں اور اولاد کو بھی قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے امام علیہ السلام نے شہادت کو قبول کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی اہمیت بہت زیادہ اور وقت پڑنے پر اس کو بچانے کے لئے سب چیزوں کو قربان کردینا چاہئے۔
(۸) شہادت کے جذبے کو زندہ رکھنا:
جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا ،تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایاکہ : میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔
(۹)اپنے ہدف پرآخری دم تک باقی رہنا:
جو چیز عقیدہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے، وہ ہے اپنے ہدف پر آخری دم تک باقی رہنا۔ امام علیہ السلام نے عاشورا کی پوری تحریک میںیہ ہی کیا ،کہ اپنی آخری سانس تک اپنے ہدف پر باقی رہے اور دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ امام علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک بہترین درس یہ دیا کہ حریم مسلمین سے تجاوز کرنے والوںکے سامنے ہرگز نہیں جھکنا چاہئے۔
(۱۰)جب حق کے لئے لڑو تو ہر طبقہ سے کمک حاصل کرو:
کربلا سے، ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر سماج میں اصلاح یا انقلاب منظور نظر ہو تو سماج میں موجود ہر س طبقہ سے مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاکہ ہدف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔امام علیہ السلام کے ساتھیوں میں جوان، بوڑھے، سیاہ سفید، غلام آزاد سبھی طرح کے لوگ موجود تھے۔
(۱۱) افراد کی قلت سے گھبرانا نہیںچاہئے :
کربلا ،امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کی مکمل طور پر جلوہ گاہ ہے کہ ”حق و ہدایت کی راہ میں افراد کی تعدا د کی قلت سے نہیںگھبرانا چاہئے۔“ جو لوگ اپنے ہدف پر ایمان رکھتے ہیں ان کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ساتھیوں کی تعداد کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہئے اور نہ ہی ہدف سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔ امام حسین علیہ السلام اگر تنہا بھی رہ جاتے تب بھی حق سے دفاع کرتے رہتے اور اس کی دلیل آپ کا وہ قول ہے جو آپ نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ آپ سب جہاں چاہو چلے جاؤ یہ لوگ فقط میرے -----۔
(۱۲)ایثار کے ساتھ سماجی تربیت کوملا دینا:
کربلا ،تنہا جہاد و شجاعت کا میدان نہیں ہے بلکہ سماجی تربیت و وعظ ونصیحت کا مرکز بھی ہے۔ تاریخ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا یہ پیغام پوشیدہ ا ہے۔ امام علیہ السلام نے شجاعت، ایثار اور اخلاص کے سائے میں اسلام کو نجات دینے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کیا اور ان کی فکری و دینی سطح کو بھی بلند کیا،تاکہ یہ سماجی و جہادی تحریک ،اپنے نتیجہ کو حاصل کرکے نجات بخش بن سکے۔
(۱۳) تلوار پر خون کوفتح:
مظلومیت سب سے اہم اسلحہ ہے۔ یہ احساسات کو جگاتی ہے اور واقعہ کو جاودانی بنادیتی ہے۔ کربلا میں ایک طرف ظالموں کی ننگی تلواریں تھی اور دوسری طرف مظلومیت۔ ظاہراً امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی شہید ہو گئے۔ لیکن کامیابی انھیں کو حاصل ہوئی۔ ان کے خون نے جہاں باطل کو رسوا کیا وہیں حق کو مضبوطی بھی عطا کی۔ جب مدینہ میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ابراہیم بن طلحہ نے سوال کیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ تو نماز کے وقت ہوگا۔
(۱۴) پابندیوں سے نہیں گھبرانا چاہئے:
کربلا کا ایک درس یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے عقید و ایمان پر قائم رہنا چاہئے۔ چاہے تم پر فوجی و اقتصادی پابندیاں ہی کیوں نہ لگی ہوں۔ امام علیہ حسین السلام پر تمام پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ کوئی آپ کی مدد نہ کرسکے اس لئے آپ کے پاس جانے والوں پر پابندی تھی۔ نہر سے پانی لینے پر پابندی تھی۔ مگر ان سب پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی کربلا والے نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی دشمن کے سامنے جھکے۔
(۱۵) نظام :
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی پوری تحریک کو ایک نظام کے تحت چلایا۔ جیسے ،بیعت سے انکار کرنا، مدینہ کو چھوڑ کر کچھ مہینے مکہ میں رہنا، کوفہ و بصرے کی کچھ شخصیتوں کو خط لکھ کر انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے دعوت دینا۔ مکہ، منیٰ اور کربلا کے راستے میں تقریریں کرنا وغیرہ۔ ان سب کاموںکے ذریعہ امام علیہ السلام اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عاشورا کے قیام کا کوئی بھی جز بغیر تدبیر کے پیش نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عاشور کی صبح کو امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے درمیان جو ذمہ داریاں تقسیم کی تھیں وہ بھی ایک نظام کے تحت تھیں۔
(۱۶) خواتین کے کردار سے استفادہ:
خواتین نے اس دنیا کی بہت سی تحریکوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم علیہم السلام------ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے کے واقعات میں بھی خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ اسی طرح کربلا کے واقعات کو جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب سلام الله علیہا، حضرت سکینہ علیہا السلام، اسیران اہل بیت اورکربلا کے دیگر شہداء کی بیویوں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہونچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک اسیران کربلا نے ہی پہنچایا ہے۔
(۱۷)میدان جنگ میں بھی یاد خدا:
جنگ کی حالت میں بھی الله کی عبادت ا ور اس کے ذکرکو نہیں بھولنا چاہئے۔ میدان جنگ میں بھی عبادت و یادخدا ضروری ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور دشمن سے جو مہلت لی تھی، اس کا مقصدتلاوت قرآن کریم ، نماز اور الله سے مناجات تھا۔ اسی لئے اپنے فرمایاتھاکہ میں نماز کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔ شب عاشور آپ کے خیموں سے پوری رات عبادت و مناجات کی آوازیں آتی رہیں۔ عاشور کے دن امام علیہ السلام نے نماز ظہر کو اول وقت پڑھا۔ یہی نہیں بلکہ اس پورے سفر میں حضرت زینب سلام الله علیہا کی نماز شب بھی قضا نہ ہوسکی ، چاہے آپ کو بیٹھ کر ہی نماز کیوں نہ پڑھنی پڑی ہو۔
(۱۸) اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا:
سب سے اہم بات انسان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے۔ چاہے اس ذمہداری کو نبہانے میں انسان کو ظاہری طور پر کامیابی نظر نہ آئے۔ اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی اپنی ذمہ داری کوپورا کرنا ہے ، چاہے اسکا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی، اپنے کربلا کے سفر کے بارے میں یہی فرمایا تھاکہ جو الله چاہے گا بہتر ہوگا، چاہے میں قتل ہو جاؤں یا مجھے (بغیر قتل ہوئے) کامیابی مل جائے۔
(۱۹) مکتب کی بقاء کے لئے قربانی:
دین کے معیار کے مطابق، مکتب کی اہمیت، پیروان مکتب سے زیادہ ہے۔ مکتب کو باقی رکھنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت دین کے اہداف کے خلاف ہے لہٰذا بیعت سے انکار کردیا اور دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی، اور امت مسلمہ کو سمجھا دیا کہ مکتب کی بقا کے لئے مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاںضروری ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قانون فقط آپ کے زمانہ سے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔
(۲۰) اپنے رہبر کی حمایت ضروری ہے:
کربلا ،اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کے سروں سے اپنی بیعت کو اٹھالیا تھااور فرمایا تھا جہاں تمھارا دل چاہے چلے جاؤ۔ مگر آپ کے ساتھی آپ سے جدا نہیں ہوئے اور آپ کو دشمنون کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا۔ شب عاشور آپ کی حمایت کے سلسلہ میں حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑہے ان سے بھی اپنے رہبر کی حمایت ظاہر ہوتی ہے ،جیسے حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے میران داہنا ہاتھ جدا کردیا تو کوئی بات نہیں، میں پھر بھی اپنے امام ودین کی حمایت کروں گا۔
مسلم ابن عوسجہ نے آخری وقت میں جو حبیب کو وصیت کی وہ بھی یہی تھی کہ امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کردنیا۔
(۲۱) دنیا ، خطرناک لغزش گاہ ہے:
دنیا کے عیش و آرام و مالو دولت کی محبت تمام سازشوںا ور فتناو فساد کی جڑہے۔ میدان کربلا میں جو لوگ گمراہ ہوئے یا جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیںکیا، ان کے دلوں میں دنیا کی محبت سمائی ہوئی تھی۔ یہ دنیا کی محبت ہی تو تھی جس نے ابن زیاد وعمر سعد کو امام حسین علیہ السلام کا خون بہانے پر آمادہ کیا۔ لوگوں نے شہر ری کی حکومت کے لالچ اور امیر سے ملنے والے انعامات کی امید پر امام علیہ السلام کا خون بہا یا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے آپ کی لاش پر گھوڑے دوڑآئے انھوںنے بھی ابن زیاد سے اپنی اس کرتوت کے بدلے انعام چاہا۔ شاید اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ لوگ دنیا پرست ہوگئے ہیں، دین فقط ان کی زیانوں تک رہ گیا ہے۔ خطرے کے وقت وہ دنیا کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کے دلوں میں دنیا کی ذرا برابربھی محبت نہیں تھی ،اس لئے انھوں نے بڑے آرام کے ساتھ اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کردیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن صبح کے وقت جو خطبہ دیا اس میں بھی دشمنوں سے یہی فرمایا کہ تم دنیا کے دھوکہ میں نہ آجانا۔
(۲۲) توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے:
توبہ کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا، انسان جب بھی توبہ کرکے صحیح راستے پر آ جائے بہتر ہے۔ حر جو امام علیہ السلام کو گھیرکر کربلا کے میدان میں لایا تھا، عاشور کے دن صبح کے وقت باطل راستے سے ہٹ کر حق کی راہ پر آگیا۔ حر امام حسین علیہ السلام کے قدموں پر اپنی جان کو قربان کرکے، کربلا کے عظیم ترین شہیدوں میں داخل ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ہر حالت میں اور ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
(۲۳) آزادی:
کربلا ،آزادی کا مکتب ہے اور امام حسین علیہ السلام اس مکتب کے معلم ہیں۔ آزادی وہ اہم چیز ہے جسے ہر انسان پسندکرتا ہے۔ امام علیہ السلام نے عمر سعد کی فوج سے کہا کہ اگر تمھارے پاس دین نہیں ہے اور تم قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ہو تو کم سے کم آزاد انسان بن کر تو جیو۔
(۲۴) جنگ میں ابتداء نہیں کرنی چاہئے:
اسلام میں جنگ کو اولویت نہیں ہے۔ بلکہ جنگ، ہمیشہ انسانوںکی ہدایت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ ک دور کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام نے ہمیشہ یہی کوشش کی، کہ بغیر جنگ کے معاملہ حل ہوجائے۔ اسی لئے آپنے کبھی بھی جنگ میں ابتداء نہیں کی۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا تھا کہ ہم ان سے جنگ میں ابتداء نہیں کرےں گے۔
(۲۵)انسانی حقوق کی حمایت:
کربلا جنگ کا میدان تھا ،مگر امام علیہ السلام نے انسانوں کے مالی حقوق کی مکمل حمایت کی۔ کربلا کی زمین کو اس کے مالکوں سے خرید کر وقف کیا۔ امام علیہ السلام نے جو زمین خریدی اس کا حدود اربع چارضر ب چار میل تھا۔ اسی طرح امام علیہ السلام نے عاشور کے دن فرمایا کہ اعلان کردو کہ جو انسان مقروض ہو وہ میرے ساتھ نہ رہے۔
(۲۶) الله سے راضی رہنا:
انسان کا سب سے بڑا کمال، ہر حال میں الله سے راضی رہنا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ ہم اہل بیت کی رضا وہی ہے جو الله کی مرضی ہے۔ اسی طرح آپ نے زندگی کے آخری لمحہ میں بھی الله سے یہی مناجات کی کہ پالنے والے! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں۔
به گزارش فارس از اسلامآباد، شیعیان پاکستان، روز شهادت حضرت علی اصغر (ع) گهواره نمادین شهید شیرخواره کربلا را درست میکنند و هنگام ذکر مصایب امام حسین (ع) و چگونگی شهادت حضرت علی اصغر (ع) توسط ذاکرین و علما، آن در معرض دید عزاداران قرار میدهند.
آنان گهوارههای چوبی را با پارچه سیاه، گلهای سرخرنگ و نوعی عطر تزیین میکنند و آن را در بین عزاداران میگردانند.
مردم نیز با تجمع پیرامون این گهوارهها نوحهخوانی و سینهزنی میکنند.
در ادامه گوشههایی از این مراسم به روایت دوربین به نمایش درآمده است:




وی افزود: دولت پاکستان با ابلاغ دستور العمل به مقام های ایالتی این کشور، از آنان خواسته تا در ایام ماه محرم، نسبت به اقدامات و حملات تروریستی هوشیار و آماده باشند.
وزیر کشور پاکستان خاطر نشان کرد: براساس دستورات ابلاغ شده به مقام های مربوطه, نیروهای پلیس و یگان های ضد تروریستی در روزهای برگزاری دسته جات سینه زنی شیعیان در شهرهای مختلف این کشور، در آماده باش کامل بسر برده و در امام بارگاهها (حسینیه ها)، مساجد و اماکن برپایی مجالس عزاداری، مستقر می شوند.
وی گفت: در برخی از شهرها از جمله اسلام آباد، راولپندی، کراچی، لاهور، کویته و پیشاور , بالگردهای نظامی به پرواز در می آیند و مسیر دسته جات عزاداری را به طور کامل تحت کنترل قرار می دهند.
رحمان ملک گفت : همچنین از پلیس اسلام آباد خواسته شده تا در شبهای دهه اول ماه محرم با استقرار در اماکن عمومی پرازدحام و بخش های مختلف پایتخت، به ویژه مساجد و امام بارگاهها ( حسینیه ها) ، آماده مقابله با هرگونه حوادث غیر مترقبه باشند.
این مقام دولتی تاکید کرد: لازم است برای برقراری هرچه بهتر امنیت و اطمینان شهروندان، درهای امنیتی ( گیت ) الکترونیکی و اسکنرهای هوشمند در محل های ورود و خروج مساجد و اماکن برگزاری مجالس محرم نصب شود.
وزیر کشور پاکستان با اشاره به افزایش شمار نیروهای امنیتی در اسلام آباد و استقرار آنان در مبادی ورود و خروج شهر به ویژه اجرای طرح گشت نیروهای پلیس، گفت: طرح گشت پلیس در طول شب افزایش می یابد.
وی گفت: برخی از عناصر تندرو به دنبال تحریک فرقه گرایی در ایام محرم هستند اما مردم پاکستان باید با اتحاد و همبستگی این طرح های شیطانی را خنثی کنند.
رحمان ملک افزود: فروش سیم کارت های غیر قانونی و بدون نام و نشان از اول ماه آینده میلادی متوقف خواهد شد.
ˈآصف علی زرداریˈ رییس جمهور پاکستان اوایل ماه جاری، با واکنش نسبت به اقدام شبه نظامیان برای استفاده از تلفن همراه در عملیات های خود ،از مسوولان دولتی خواست ضمن مسدود کردن شماره های این افراد از فروش سیم کارت در فروشگاههای غیرمجاز در شهرها جلوگیری شود.
مقام های وزارت کشور پاکستان معتقدند: شبه نظامیان و گروههای جنایتکار در این کشور به طور معمول با هدف برقراری ارتباط با همدستان خود جهت ارتکاب جرم و عملیات های تروریستی از سیم کارت های بی نام و نشان استفاده می کنند.
دولت پاکستان در ایام تعطیلات اعیاد فطر و قربان در سال جاری برای جلوگیری از وقوع هرگونه حادثه , خدمات تلفن همراه را برای ساعاتی در ۱۳ شهر این کشور مسدود کرد.
رسانه های محلی به نقل از مقام های آگاه در پاکستان اعلام کردند: در حال حاضر میلیون ها نفر در پاکستان از سیم کارت های ثبت نشده استفاده می کنند و شبه نظامیان با سوء استفاده از وضعیت پیش آمده, ضمن خریداری سیم کارت ها از فروشگاههای غیرمجاز در سراسر کشور به اقدامات غیرقانونی خود ادامه می دهند.
خبرگزاری فارس: به رغم تعطیلی فعالیتهای تجاری در روزهای عزاداری در پاکستان، این کشور در ماه محرم به واسطه رونق در ساخت و فروش ماکت مخصوص عزاداری، پخت و پز گسترده نذری و تزئین مساجد و اماکن مذهبی به رشدی 25 درصدی در اقتصاد خود دست مییابد.
به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس در اسلامآباد، در طول ماه محرم اکثر فعالیتهای تجاری در پاکستان به حالت تعطیل و نیمه تعطیل در میآید.
سالهاست بعضی مردم و به خصوص کسانی که با شیعیان دشمنی دارند، به اینکه توقف چنین فعالیتهایی منجر به ضرر اقتصادی کشور میشود، اعتراض داشته و همواره نسبت به برگزاری آیین باشکوه عزاداری به دیده خصومت مینگرند.
دولت در این ماه، 2 روز تعطیل رسمی اعلام کرده است اما معمولا در پاکستان فعالیتهای سازمانها دولتی و خصوصی، مدارس و کارخانهها از ششم تا دهم محرم به حال نیمه تعطیل درمیآید.
«شجر عباس»، که در یک مؤسسه خصوصی ساخت لوازم ورزشی در شهر «سیالکوت» کار میکند، در گفتوگو با خبرنگار فارس، با اشاره به اینکه از پنجم محرم به بعد سر کار نمیرود افزود: در روزهای سوگواری حتی اهل سنت هم سرکار حاضر نمیشوند.
در چنین شرایطی که همه فعالیتهای تجاری و اقتصادی متوقف میشود، میتوان تصور کرد که ضرر اقتصادی بزرگی به کشور وارد شود.
بر همین اساس، گروههای حزبی افراطی مانند «سپاه صحابه پاکستان» (که تحت عنوان «اهل سنت و الجماعت» فعالیت میکند) خواستار محدود شدن تجمعات و مراسم محرم شدند اما گزارشات و تحقیقات نشان داده است که واقعیت عکس این تصور است.
تحقیقات نشان میدهد که به رغم تعطیلی کسب و کار، اقتصاد پاکستان در این ماه نه تنها روند رو به رشد دارد بلکه شروع به جهش میکند.
طبق قانون اقتصاد، اگر سرمایه راکد بماند، ضرر اقتصادی بزرگی به بار میآورد اما اگر پول، از جایی به جای دیگر در جریان باشد، موجب ترقی اقتصاد خواهد شد و این همان چیزی است که در محرم اتفاق میافتد.
«علی ابرار»، خبرنگار تلویزیون «جیو» پاکستان معتقد است که به برکت ماه محرم، میلیاردها روپیه وارد جریان اقتصادی کشور میشود.
بر اساس یک برآورد، هر سال در ماه محرم 2000 «تعزیه» برپا میشود که هرکدام تا دهها هزار روپیه هزینه دارد و این یک صنعت مستقل است که کار صدها نفر را رونق میبخشد.
همچنین در روز عاشورا به میزان زیادی غذای نذری تهیه و در نقاط مختلف کشور توزیع میشود و بیشتر مردم از این غذا میخورند.
با توجه به این مسئله، اگر مخارج غذا را برای نصف جمعیت پاکستان محاسبه کنیم، 55 میلیارد روپیه برای آن هزینه میشود.
«حلیم» غذایی است که بسیاری معتقدند بعد از شهادت امام حسین (ع) به اسیران کربلا داده شد بنابراین در بیشتر مجالس عزاداری و تجمعات مذهبی حلیم تهیه میشود.
در بعضی از این مجالس همزمان 100 دیگ حلیم پخته میشود. و تا چهلم حدود 100 میلیون روپیه صرف تهیه حلیم میشود.
همچنین هر خانواده شیعه در پاکستان وظیفه خود میداند که در این ماه حداقل یک مجلس در خانهاش برگزار کند که هر مجلس از بیست هزار تا دویست هزار روپیه هزینه دارد.
تزئین و آمادهسازی امام زادهها و مساجد از دیگر صنایعی است که در ایام محرم از رونق خاصی برخوردار است.
مزین کردن دیوارهای این اماکن به نقاشیها و تصاویر مربوط به کربلا، با توجه به تعداد مجالس سوگواری، برای دهها هزار نفر در طول محرم ایجاد شغل میکند.


مردم در تمیز کردن یک امامزاده شرکت میکنند و آن را برای مراسم متعددی که در طول دو ماه آینده در آن برگزار خواهد شد آماده میکنند

بازسازی امامزادهای در لاهور
یکی از کارهایی که در محرم رونق میگیرد ساخت ماکت ظریح (زیارت) برای مجالس و بردن آن به خیابانها همراه با راهپیمایان در حال سوگواری است.
در این صنعت صدها تن فلز استفاده میشود و صدها نفر مشغول به کار میشوند.


شخصی در حال ساختن «زیارت» در کارگاهش

شخصی در حال حکاکی اسامی و طرحهای مناسب «زیارت» بر روی ورقههای فلز


معمولا یک اتاق را در امامزادهها و حتی در منازل برای نگهداری «زیارت»ها اختصاص میدهند
سایر هزینههای مربوط به مجالس شامل تبلیغات، نور، سخنران، تأمین امنیت، تهیه شربت،که از اول تا دهم محرم توزیع میشود، تزئین امامزادهها با استفاده از طلا و نقره، نمیتواند هزینهای کمتر از صدها میلیارد روپیه داشته باشد و این یعنی رشد 25 درصدی اقتصاد پاکستان به برکت ایام محرم.

براساس آمارهاي غيررسمي، 20 درصد مردم كشور پاكستان را شيعيان تشكيل ميدهند. سه فرقه شيعه اثنيعشري، اسماعيلي (آقاخاني) و شش امامي (بُهريها) شيعيان اين كشور را تشكيل ميدهند. شيعيان اثني عشري بيشترين تعداد را دارند و عنوان تشيع بيشتر ناظر بر آنها است.
شيعيان پاكستان در مناطق «بلتستان» و «گلگت» و همچنين در مناطق قبيلهنشين و آزاد «اورگزيچ» و «كرم اجنسي» كه متعلق به اين كشور هستند، تجمع بيشتري دارند.
در پاكستان مرسوم است، دولتمردان اين كشور به مناسبت شهادت امام حسين (ع) و ياران باوفاي آن حضرت پيامهاي تسليتي خطاب به مردم ارسال ميكنند.
اكثر شيعيان با شروع ماه محرم جامه سياه بر تن ميكنند، چراغهاي منازل خود را خاموش ميكنند و هنگام خواب از رختخواب استفاده نميكنند.
شيوههاي عزاداري در شهرها و مناطق مختلف پاكستان متفاوت است و مردم هر منطقه طبق آداب و رسوم ديرينه خود به عزاداري ميپردازند.
مجالس سخنراني، روضهخواني، سينهزني، زنجيرزني، تاسوعا و عاشورا از جمله مراسم اين روزها در پاكستان است.
* شيوههاي مختلف عزاداري در پاكستان
در سالهاي اخير در مناطق مختلف اين كشور شيوههاي مختلفي متداول شده است. به عنوان مثال در لاهور، جوانان هنگام سينهزني يك پا را عقب گذاشته، پاي ديگر را جلو ميآورند، برخي به هوا ميپرند، عدهاي پيراهن را از تن بيرون ميآورند و يا برخي ديگر با تنپوش زيرين سينهزني ميكنند.
در اكثر مناطق شيعهنشين مردم به صورت گروهي و يا دستههاي 5 تا 10 نفري نوحه ميخوانند و عدهاي از عزاداران، در اطراف آنها حلقه ميزنند و با تكرار نوحه، ابيات و مرثيه در سوگ سالار شهيدان سينه ميزنند.
هيأت زنان به دنبال دستههاي سينهزني مردها (در شهرهاي كراچي، لاهور، مولتان و ديگر شهرهاي بزرگ پاكستان) در خيابانها در حال سوگواري، راهپيمايي و سينهزني ميكنند.
* سينهزني
ـ سينهزني و مراسم زنانه كه فقط زنان در آن حضور دارند: در اين برنامهها كه اغلب در حسينيهها برگزار ميشود زنان نوحه ميخوانند و گروهي سينه ميزنند.
ـ سينهزني هنگام عبور از آتش: سينه زني در روي بستري از آتش در چند شهر پاكستان از جمله شهرهاي جهنگ، فيصلآباد، لاهور، مولتان و پاراچنار مرسوم است. مردم ابتدا آتش فراواني مهيا ميكنند، پس از اينكه هيزمها خوب بر افروخته شدند و شعله آتش فروكش كرد، هيأت سينهزنان با پاي برهنه از روي آنها عبور ميكنند.
ـ سينهزني با طبل: هيأتهاي عزاداري در برنامههاي خود از طبل و سنج استفاده ميكنند، شيعيان در شهرهاي كراچي، مولتان و پاراچنار بيشتر به اين شيوه به سوگواري ميپردازند.
ـ سينهزني با سكوت: در اين نوع سينهزني تمام شركتكنندگان در حاليكه آثار حزن و اندوه بر چهره دارند، ضمن رعايت سكوت، سينه ميزنند و پيشاپيش صف عزاداران، علمهاي بزرگي را حمل ميكنند. اين مراسم در شهرهاي مولتان، كراچي و دير اسماعيل خان مرسوم است.
ـ سينه زني با يك دست: اين نوع سينه زني فقط بين شيعيان اردوزبان اين كشور رايج است. گروه نوحهخوان، نوحه ميخوانند و عزاداران ضمن پاسخ به آنها، با يك دست سينه ميزنند.
ـ ملنگي: نوعي سينهزني پرشور و خروش است كه تمام عزاداران بدون پيراهن سينهزني ميكنند. اين شيوه سينهزني در كليه شهرها و مناطق شيعهنشين پاكستان رايج است. همچنين به قشري از مردم كه در حسينيهها جمع شده و يك نفر ضمن طبل و فلوت زدن، مصائب اهل بيت (ع ) را ميخواند و مردم گريه و شيون ميكنند، «ملنگ» ميگويند.
* زنجيرزني
مراسم زنجيرزني با ورود اسلام به هند و پاكستان، وارد اين كشورها شد. اين مراسم، در گذشته به همان شيوهاي كه در ايران رواج داشت، برگزار ميشد. بعدها مردم پاكستان و هند با اضافه كردن تيغ و چاقو به انتهاي زنجير، در شيوه زنجيرزني تغييراتي ايجاد كردند.
اغلب جوانان شيعه مذهب پس از برآورده شدن نذرشان به اين شيوه زنجير ميزنند.
مرسوم است، خانوادههايي كه صاحب فرزند نميشوند، در صورت پسردار شدن، وي را همه ساله در هياتِ زنجيرزنان ابا عبدالله حسين (ع) شركت دهند.
زنجيرزني كه منجر به جراحات جسمي سوگواران ميشود، مخالفيني نيز دارد كه اين شيوه عزاداري را به دليل آسيب رساندن فرد به خودش حرام ميدانند.
مراسم زنجيرزني در تمام شهرهاي پاكستان برپا ميشود. حتي برخي جوانان اهل سنت و مسيحي نيز در مجالس عزاداري سيدالشهدا (ع) زنجيرزني ميكنند.
* محتواي سوگواري سالار شهيدان
از روز اول ماه محرم تا روز دهم اين ماه، مراسم و مجالس عزاداري در حسينيههاي اين كشور داير است. علما و ذاكرين در طول اين مدت، هر شب گوشهاي از برنامههاي سفر شهادتطلبانه امام حسين(ع) و يارانش را به ترتيب زير براي مردم بيان ميكنند:
شب اول: حركت امام حسين(ع) براي شركت در مراسم حج و ناتمام گذاشتن آن.
شب دوم: حركت امام حسين(ع) و يارانش از مكه به سوي كربلا.
شب سوم: جدا شدن فاطمه صغري (س) دختر امام حسين (ع) از خانواده.
شب چهارم: شهادت پسران مسلم بن عقيل (ع).
شب پنجم: برخورد حر با امام حسين (ع) و شهادت حر و قاسم بن الحسن(ع).
شب ششم: زندگي و شهادت حضرت علي اكبر (ع).
شب هفتم: زندگي و شهادت ابوالفضل العباس(ع).
شب هشتم: زندگي و شهادت علي اصغر(ع).
شب نهم: (تاسوعا) پيوستن حر رياحي به ياران امام حسين (ع).
شب دهم: (عاشورا) شهادت امام حسين(ع).
تمام اين مراسم مخصوص مردان است و زنان، روزها در حسينيهها به عزاداري ميپردازند.













این مرجع تقلید محرم را بهترین فرصت تبلیغی عنوان و بیان کرد: برکاتی که این ماه برای شیعیان و بشریت دارد، غیرقابل تصور است و از گذشته تاکنون این برکات برای مردم نازل شده است و ما باید بهره لازم و کافی را از این ماه ببریم.
وی محرم را دانشگاه بزرگ برای تربیت انسانهای بزرگ دانست و افزود: کلاسهای این دانشگاه از ابتدای محرم آغاز و تا پایان ماه ادامه دارد و تربیتشدگان این ماه در برابر هجمههای شیطان مقاوم میشوند.
صافیگلپایگانی اضافه کرد: خوشبختانه تاسوعا و عاشورا نورانیت دائمی دارند و از گذشته تاکنون دشمنان در تلاش بودهاند تا این نور را خاموش کنند، در حالی که نور خدا هرگز خاموش شدنی نیست و کسی نمیتواند به مبارزه با آن بپردازد.
وی تاکید کرد: زمانی بود که مانع برگزاری مجالس عزای امام حسین (ع) میشدند، اما اینک این نام حسین (ع) است که در سراسر جهان برافراشته شده و هیچ مکانی در ماه محرم بدون نام اباعبدالله (ع) وجود ندارد.
توصیههای این مرجع تقلید در حالی صورت میگیرد که با فرارسیدن ماه محرم هزاران نفر از مبلغان و طلاب علوم دینی عازم اقصی نقاط کشور میشوند تا به تبلیغ دین و آگاهی مردم بپردازند.
هنوز هم با گذشت زمان و گسترش فناوریهای جدید، هنوز هم رسانه موثر تبلیغ و منبر کارکرد و جایگاه خود را حفظ کرده است، ولی در این میان نکته حائز اهمیت این است که از این رسانه موثر چه مطالبی در اختیار مردم قرار گیرد؟
نگاهی به نقش عاشورا و محرم و صفر در تاریخ ایران نشان میدهد که همواره مردم مسلمان این کشور با تکیه بر بصیرت و آگاهی که از محرم و صفر و مجالس حسینی به دست میآوردند به وضعیت خود سامان بخشیده و بر ناملایمات غلبه میکردند.
امروز نیز در شرایط کنونی کشور محرم و صفر امسال میتواند نقش تعیین کنندهای در پیشرفت کشور و حل مشکلات مختلف داشته و در این عرصه مبلغان وظیفهای خطیر را عهده دار هستند.
ماه محرم، ماه حماسه و ماتم است و سزاوار است همه ارادتمندان اهل بیت (علیهم السلام) با تشکیل مجالس سوگواری، هرچه باشکوهتر در تعظیم این شعائر بکوشند و خطبای گرامی فلسفه شهادت آن بزرگواران و آثار مهم آن را برای بقای اسلام و تشیع، شرح دهند و مخصوصاً جوانان و نوجوانان خود را با این مراسم آشنا کنند و در انجام این مراسم از آنچه که مایه وهن مذهب در نظر دوست و دشمن میشود، جدا بپرهیزند و توجه داشته باشند که عاشورا و مراسم حسینی است که اسلام را زنده نگه داشته است و هر سال خون تازهای در رگهای اسلام جاری میسازد و تا مراسم حسینی، پرشور، پر شعور و پرشکوه برپاست، آسیبی به اسلام نخواهد رسید.
اعمال مخصوص این ماه به همراه برخی از وقایع آن میآید:
اول محرم:
آغاز سال هجری قمری است، گرچه هجرت در ماه ربیع الاول صورت گرفت، ولی به مناسبت آغاز سال، سزاوار است همه مؤمنان به یاد حادثه عظیم هجرت و آثار مهم آن در تاریخ اسلام و فداکاری های مولای متّقیان علی(ع) در لیلة المبیت باشند.
دوم محرم:
روز ورود امام حسین(ع) و یارانش به سرزمین کربلا (در سال 61 هجری قمری) است که سرآغاز حماسه های عظیم عاشورا است.
هفتم محرم:
روز بستن آب به روی سپاه امام حسین (ع) است، در این روز دستوری از سوی عبیداللّه بن زیاد برای عمر بن سعد رسید که بین حسین(ع) و یارانش و آب حایل شوند، تا قطرهای از آب فرات ننوشند.
نهم محرم (تاسوعا):
«شیخ کلینی» از امام صادق(ع) نقل میکند که آن حضرت فرمود: "روز تاسوعا، روزی است که امام حسین(ع) و یارانش را در کربلا محاصره کرده و دشمنان برای جنگ با آن حضرت اجتماع کردند و پسر مرجانه و عمر بن سعد از زیادی لشکر خویش خوشحال شدند و امام حسین(ع) و اصحابش را در آن روز ضعیف شمردند و یقین کردند که برای امام حسین(ع)یاوری نخواهد آمد و مردم عراق وی را کمک نخواهند کرد" آنگاه آن حضرت فرمودند:
«بِأبی المُسْتَضْعَفُ الغَریبُ; پدرم فدای آن ضعیفِ غریب باد».
در این روز شمر همراه با نامهای از سوی عبیداللّه بن زیاد خطاب به عمر بن سعد وارد کربلا شد که بر امام حسین(ع) و یارانش سخت بگیرد تا تسلیم شوند و وادار به بیعت گردند و در صورت امتناع، همه آنها را به قتل برساند. امام حسین(ع) حاضر به پذیرش ذلّت بیعت با دشمن نشد؛ ولی از آنان خواست که آن شب را به وی مهلت دهند، تا به عبادت و دعا و نماز بپردازد، و فردا در معرکه نبرد با آنان روبه رو خواهد شد.
دهم محرم (عاشورا):
روز پرحماسه و فراموش نشدنی تاریخ اسلام و تشیّع؛ روز فداکاری، جانبازی و شهادت سرور و سالار شهیدان حضرت اباعبداللّه الحسین(ع) و یاران باوفایش، در سرزمین کربلا (در سال 61 هجری قمری) است.
دوازدهم محرم:
روز شهادت امام زین العابدین(ع) (بنابر روایتی در سال 94 یا 95 هجری قمری) است.
بیست و پنجم محرم:
روز شهادت امام زین العابدین(ع) است بنابر روایتی دیگر.
اعمال ماه محرم
1ـ به هنگام رؤیت هلال محرّم، مستحب است تکبیر بگویی و اگر میتوانی دعای مشروحی را که سیّد در «اقبال الاعمال» آورده است، بخوانی.
2ـ در شب اوّل محرّم صد رکعت نماز بخوان و در هر رکعت سوره «حمد» و «قل هو اللّه» (سوره توحید) را میخوانی و هر دو رکعت را به یک سلام پایان میدهی؛ در روایتی از رسول خدا(ص) آمده است:
"هر کس این نمازها را بخواند و روز اوّل ماه محرّم را روزه بگیرد، مانند کسی است که در طول سال بر انجام خیر مداومت داشته باشد و تا سال آینده از فتنه ها محفوظ خواهد بود و اگر بمیرد وارد بهشت خواهد شد".
3ـ مطابق روایت دیگری از رسول خدا(ص) در شب اوّل محرم دو رکعت نماز میخوانی به این نحو:
در رکعت اوّل سوره «حمد» و سوره «انعام» و در رکعت دوم سوره «حمد» و سوره «یس».
علاوه بر این نمازها، مستحب است نماز اوّل هر ماه نیز خوانده شود که با مراجعه به نشانی اینتر نتی زیر میتوانید از چگونگی انجام آن مطلع شوید:
http://persian.makarem.ir/prayer/?gid=270#
4ـ در روز اوّل محرّم، روزه گرفتن مستحب است، که در روایتی امام رضا(ع) فرمودهاند:
"هر کس این روز را روزه بگیرد و حاجت خویش را از خداوند بخواهد، خداوند دعایش را به اجابت خواهد رساند، این روز همان روزی بود که حضرت زکریّا در آن، از خداوند فرزندی را طلب کرد و خداوند دعایش را به اجابت رساند و یحیی را به وی عنایت فرمود".
5ـ از امام علی بن موسی الرضا(ع) نقل شده است که رسول گرامی اسلام(ص) روز اوّل محرّم، دو رکعت نماز میخواند و پس از نماز دستها را بلند میکرد و این دعا را سه مرتبه قرائت میکرد:
اَللّـهُمَّ اَنْتَ الاْلـهُ الْقَدیمُ، وَ هذِهِ سَنَةٌ جَدیدَةٌ،
خدایا تویی معبود ازلی و این سال تازه است
فَاَسْئَلُکَ فیهَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّیْطـانِ، وَ الْقُوَّةَ عَلی هذِهِ النَّفْسِ الاْمّارَةِ بِالسُّوءِ، وَ الاِشْتِغالَ بِما یُقَرِّبُنی اِلَیْکَ،
از تو خواهم در این سال نگهداریم را از شیطان و نیروی بر این نفس که پیوسته به گناه فرمان میدهد و سرگرمی بدانچه مرا به تو نزدیک کند
یا کَریمُ یا ذَاالْجَلالِ وَالاْکْرامِ، یا عِمادَ مَنْ لا عِمادَ لَهُ، یا ذَخیرَةَ مَنْ لا ذَخیرَةَ لَهُ، یا حِرْزَ مَنْ لا حِرْزَ لَهُ، یا غِیاثَ مَنْ لا غِیاثَ لَهُ، یا سَنَدَ مَنْ لا سَنَدَ لَهُ، یا کَنْزَ مَنْ لا کَنْزَ لَهُ،
ای صاحب جلالت و بزرگواری، ای تکیه گاه کسی که تکیه گاهی ندارد، ای ذخیره آن کس که ذخیره ندارد، ای پناهگاه آن کس که پناهگاهی ندارد، ای فریادرس آن کس که فریادرسی ندارد، ای پشتیبان آن کس که پشتیبانی ندارد، ای گنج آن کس که گنجی ندارد،
یا حَسَنَ الْبَلاءِ،یا عَظیمَ الرَّجآءِ، یا عِزَّ الضُّعَفآءِ، یا مُنْقِذَ الْغَرْقی، یا مُنْجِیَ الْهَلْکی، یا مُنْعِمُ یا مُجْمِلُ، یا مُفْضِلُ یا مُحْسِنُ،
ای که آزمایشت نیکوست، ای بزرگ مایه امید، ای عزت بخش ناتوانان، ای نجات بخش غریقان، ای خلاص کننده هالکان، ای نعمت بخش، ای زیباپرور، ای فزون بخش، ای نیکوده،
اَنْتَ الَّذی سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّهارِ، وَضَوْءُ الْقَمَرِ وَشُعاعُ الشَّمْسِ، وَدَوِیُّ الْمآءِ وَحَفیفُ الشَّجَرِ، یا اَللهُ لا شَریکَ لَکَ،
تویی که سجده کرد (و به کمال خضوع درآمد) برایت سیاهی شب و روشنی روز و تابش ماه و شعاع خورشید و صدای ریزش آب و بهم خوردن درخت، ای خدایی که شریک نداری،
اَللّـهُمَّ اجْعَلْنا خَیْراً مِمّا یَظُنُّونَ، وَاغْفِرْلَنا ما لا یَعْلَمُونَ، وَلا تُؤاخِذْنا بِما یَقُولُونَ، حَسْبِیَ اللهُ لا اِلـهَ اِلاَّ هُوَ،
خدایا قرارمان ده بهتر از آنچه مردم گمان کنند و بیامرز از ما آنچه را که نمی دانند و مگیر ما را بدانچه گویند بس است مرا خدا، معبودی جز او نیست،
عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظیمِ، امَنّا بِهِ، کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا، وَما یَذَّکَّرُ اِلاَّ اُولُوا الاْلْبابِ،
بر او توکل کنم و اوست پروردگار عرش عظیم، ایمان داریم به او و هرچه هست از نزد پروردگار ماست و اندرز نگیرند جز خردمندان،
رَبَّنا لاتُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنا، وَهَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً، اِنَّکَ اَنْتَ الْوَهّابُ.
پروردگارا منحرف مساز دلهای ما را پس از آن که هدایتمان کردی و ببخش به ما از پیش خود رحمتی که براستی تویی بخشایشگر.
6ـ مرحوم «شیخ طوسی» فرموده است که مستحب است دهه اوّل محرّم را روزه بگیرد؛ ولی در روز عاشورا از غذا و آب امساک نماید، امّا روزه نگیرد، و چون وقتِ عصر فرا رسید، به مقدار کمی، تربت تناول کند (زیرا روزه گرفتن در این روز شیوه بنیامیّه بود که به شکرانه جریان کربلا، روزه میگرفتند).
منابع:
- پایگاه اینترنتی آیتالله العظمی ناصر مکارم شیرازی www.makarem.ir
* محرم ماهي است كه به وسيله سيد مجاهدان و مظلومان اسلام زنده شده ،
و از توطئه عناصر فاسد و رژيم بني اميه، كه اسلام را تا لب پرتگاه برده
بودند ، رهايي بخشيد.
* اين خون سيد الشهدا است كه خونهاي همه ملت هاي اسلامي را به جوش
مي آورد .
* ماه محرم براي مذهب تشيّع ماهي است كه پيروزي، در متن فداكاري و خون به دست آمده است.
* محرم ماه نهضت بزرگ سيد شهيدان و سرور اولياي خداست، كه با قيام
خود در مقابل طاغوت، تعليم سازندگي و كوبندگي به بشر داد، وراه فناي ظالم و
شكستن ستمكار را به فدايي دادن و فدايي شدن دانست. واين خود سرلوحۀ
تعليمات اسلام است براي ملتها تا آخر دهر.
* با حلول ماه محرم، ماه حماسه و شجاعت و فداكاري آغاز شد.ماهي كه
خون بر شمشير پيروز شد.ماهي كه قدرت حق، باطل را تا ابد محكوم «و داغ
باطله » بر جبهه ستمكاران و حكومتهاي شيطاني زد. ماهي كه به نسل ها در طول
تاريخ ، راه پيروزي بر سر نيزه را آموخت.ماهي كه شكست ابر قدرتها را در
مقابل كلمه حق، به ثبت رساند.ماهي كه امام مسلمين ، راه مبارزه با ستمكاران
تاريخ را به ما آموخت.
* سيد الشهدا را كشتند، اسلام ترقي اش بيشتر شد.
* سيدالشهدا _سلام الله عليه_ با همه اصحاب و عشيره اش قتل عام
شدند،لكن مكتبشان را جلو بردند.
* شهادت حضرت سيدالشهدا مكتب را زنده كرد .
* زنده نگه داشتن عاشورا ، يك مسأله بسيار مهم سياسي _ عبادي است.
* انقلاب اسلامي ايران ، پرتويي از عاشورا و انقلاب عظيم الهي آن
است.
* كربلا كاخ ستمگري را با خون در هم كوبيد ، و كربلاي ما كاخ سلطنت
شيطاني را فرو ريخت.
* كربلا را زنده نگه داريد و نام مبارك حضرت سيد الشهدا را زنده نگه
داريد ، كه با زنده بودن او اسلام زنده نگه داشته مي شود.
* مسأله كربلا ، كه خودش در رأس مسائل سياسي هست ، بايد زنده بماند.
* ملت بزرگ ما بايد خاطره عاشورا را، با موازين اسلامي ، هر چه
شكوهمندتر حفظ نمايد.
* اين محرم را زند ه نگه داريد؛ ما هر چه داريم از اين محرم است.
* محرم و صفر است كه اسلام را زنده نگه داشته است.
* تمام اين وحدت كلمه اي كه مبدأ پيروزي ما شد ، براي خاطر اين
مجالس عزا و اين مجالس سوگواري و اين مجالس تبليغ و ترويج اسلام شد.
* مجالس بزرگداشت سيد مظلومان و سرور آزادگان ، كه مجالس غلبه سپاه
عقل بر جهل،و عدل بر ظلم، وامانت بر خيانت، و حكومت اسلامي بر حكومت طاغوت
است ، هر چه با شكوه تر و فشرده تر بر پا شود ، و بيرق هاي خونين عاشورا به
علامت حلول روز انتقام مظلوم و ظالم ، هر چه بيشتر افراشته شود.
* ماه محرم ماهي است كه مردم آماده اند براي شنيدن مطالب حق.
* گريه كردن بر عزاي امام حسين ، زنده نگه داشتن نهضت ، و زنده نگه
داشتن همين معنا كه يك جمعيت كمي در مقابل يك امپراطوري بزرگ ايستاد ،
دستور است.
* بايد سينه زدن هم محتوا داشته باشد.
* عاشورا روز عزاي عمومي ملت مظلوم است ، روز حماسه و تولد جديد اسلام و مسلمانان اس
.: Weblog Themes By Pichak :.
