🌌 *لیلتہ الرغائب کی فضیلت و اعمال*🌌

💚🗯 *لیلتہ الرغائب کیا ہے؟*🗯💚
ماہِ رجب کی پہلی شب جمعہ کو لیلتہ الرغائب کہا جاتا ہے۔

💚❤ *لیلتہ الرغائب کی فضیلت*❤💚
واضح رہے کہ *لیلتہ الرغائب* کیلئے *رسول اکرمؐ* سے بے شمار فضیلت کے ساتھ ایک عمل وارد ہوا ہے جس کو ابن طاؤوسؒ  نے اقبال میں نقل کیا ہے۔
شیخ طوسیؒ اپنے اسناد سے *نبیِ  کریمؐ* سے روایت کرتے ہیں کہ *آپؐ نے فرمایا:*
*لٙا تٙغْفِلُوْا عٙنْ اٙوّٙلِ لٙیْلٙةِ الْجُمُعٙةِ*
یعنی(ماہِ رجب کی)پہلی شب جمعہ سے غافل نہ ہو۔
👈🏽یہ وہ رات ہے جس کو ملائکہ *لیلتہ الرغائب* یعنی رغبت و شوق والی رات کہتے ہیں۔☘☘☘☘☘☘
اِس رات کی فضیلت میں سے یہ ہے کہ اِسکی وجہ سے بیشمار گناہ بخشے جائیں گے اور جو شخص اِس شب کی مخصوص نماز کو پڑھے جب اُسکی قبر کی پہلی رات آئے گی تو خدا اُس نماز کا ثواب اُسکی قبر میں بھیجے گا خوبصورت شکل میں فصیح زبان کے ساتھ وہ اُس سے کہے گی *🤝🏻اے میرے دوست تجھ کو بشارت ہو کہ نجات پا گیا ہر سختی اور مصیبت سے*

💦 *وہ پوچھے گا کہ تو کون ہے؟*💦
*خدا* کی قسم میں نے تجھ سے بہتر چہرہ نہیں دیکھا اور تجھ سے زیادہ میٹھا کلام نہیں سنا تجھ سے اچھی خوشبو نہیں سونگھی،تو وہ جواب دے گی کہ *میں تمہاری وہ نماز ہوں جو فلاں رات فلاں مہینہ اور فلاں سال میں بجا لایا تھا میں آج تمہارے پاس آئی ہوں تاکہ تمہارا حق ادا کروں اور تمہاری مونس تنہائی بنوں اور تمہاری وحشت کو دور کروں اور جب صور پھونکا جائے گا تو میں تم پر سایہ کروں گی قیامت میں خوشا بحال کہ تم سے نیکی معدوم نہیں ہوئی*

*لیلتہ الرغائب کے اعمال*
اِس کے اعمال کی کیفیت یہ ہے کہ *ماہِ رجب* کی پہلی *جمعرات کو روزہ* رکھے اور جب *شبِ جمعہ* ہو جائے تو *نمازِ مغرب و عشاء* کے درمیان بارہ{12} رکعت *نماز* ادا کرے ہر *دو رکعت* پر سلام پڑھے،ہر رکعت میں *سورہ حمد کے تین مرتبہ انا انزلناہ* اور بارہ{12} مرتبہ *قل ھواللہ* پڑھے۔
*نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر{70} مرتبہ اِسطرح صلوات پڑھے۔👇🏻*

*اَللّٰھُمَّ صل ِّ عَلیٰ مُحَمَّدِ(نِ)النَّبِیِّ الاُمِّیِ وَ عَلیٰ اٰلِہٖ۔*
خدایا!رحمت نازل فرما نبی اُمی حضرتؐ پر اور اُن کی آلؑ پر۔
🕋 *پھر سجدے میں جائیں اور ستر{70} مرتبہ کہیں:*🕋👇🏻
*سُبُوْحٌ قُدُّوسٌ رٙبُّ الْمٙلٙآ ئِکٙةِ وٙالرُّوْحِ۔*
فرشتوں اور روح کا رب،بے عیب،پاک تر ہے۔

*🧎🏻‍♂پھر سجدے سے سر اٹھاو اور ستر{70}مرتبہ کہیں:👇🏻*
*رَبّ ِ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ اَنَّكَ اَنْتَ الْعَلُِّي اْلاَ عْظَمُ۔*
پالنے والے بخش دے،رحم فرما اور درگزر کر اُن گناہوں سے جن کو تو جانتا ہے،بے شک تو بلند،بزرگ تر ہے۔

🕋 *پھر سجدے میں جائیں اور ستر{70} مرتبہ کہیں:*🕋👇🏻

*سُبُوْحٌ قُدُّوسٌ رٙبُّ الْمٙلٙآ ئِکٙةِ وٙالرُّوْحِ۔*
فرشتوں اور روح کا رب،بے عیب،پاک تر ہے۔

*🤲🏻پھر اپنی حاجات طلب کریں کہ* 
*{اِن شاء اللہ} پوری ہوں گی۔*



تاريخ : چهارشنبه هفتم اسفند ۱۳۹۸ | 16:29 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

🌌 *لیلتہ الرغائب کی فضیلت و اعمال*🌌


💚🗯 *لیلتہ الرغائب کیا ہے؟*🗯💚

ماہِ رجب کی پہلی شب جمعہ کو لیلتہ الرغائب کہا جاتا ہے۔


💚❤ *لیلتہ الرغائب کی فضیلت*❤💚

واضح رہے کہ *لیلتہ الرغائب* کیلئے *رسول اکرمؐ* سے بے شمار فضیلت کے ساتھ ایک عمل وارد ہوا ہے جس کو ابن طاؤوسؒ  نے اقبال میں نقل کیا ہے۔
شیخ طوسیؒ اپنے اسناد سے *نبیِ  کریمؐ* سے روایت کرتے ہیں کہ *آپؐ نے فرمایا:*
*لٙا تٙغْفِلُوْا عٙنْ اٙوّٙلِ لٙیْلٙةِ الْجُمُعٙةِ*
یعنی(ماہِ رجب کی)پہلی شب جمعہ سے غافل نہ ہو۔


👈🏽یہ وہ رات ہے جس کو ملائکہ *لیلتہ الرغائب* یعنی رغبت و شوق والی رات کہتے ہیں۔☘☘☘☘☘☘
اِس رات کی فضیلت میں سے یہ ہے کہ اِسکی وجہ سے بیشمار گناہ بخشے جائیں گے اور جو شخص اِس شب کی مخصوص نماز کو پڑھے جب اُسکی قبر کی پہلی رات آئے گی تو خدا اُس نماز کا ثواب اُسکی قبر میں بھیجے گا خوبصورت شکل میں فصیح زبان کے ساتھ وہ اُس سے کہے گی 


*🤝🏻اے میرے دوست تجھ کو بشارت ہو کہ نجات پا گیا ہر سختی اور مصیبت سے*


💦 *وہ پوچھے گا کہ تو کون ہے؟*💦


*خدا* کی قسم میں نے تجھ سے بہتر چہرہ نہیں دیکھا اور تجھ سے زیادہ میٹھا کلام نہیں سنا تجھ سے اچھی خوشبو نہیں سونگھی۔


تو وہ جواب دے گی کہ *میں تمہاری وہ نماز ہوں جو فلاں رات فلاں مہینہ اور فلاں سال میں بجا لایا تھا میں آج تمہارے پاس آئی ہوں تاکہ تمہارا حق ادا کروں اور تمہاری مونس تنہائی بنوں اور تمہاری وحشت کو دور کروں اور جب صور پھونکا جائے گا تو میں تم پر سایہ کروں گی قیامت میں خوشا بحال کہ تم سے نیکی معدوم نہیں ہوئی*


*لیلتہ الرغائب کے اعمال*
اِس کے اعمال کی کیفیت یہ ہے کہ *ماہِ رجب* کی پہلی *جمعرات کو روزہ* رکھے اور جب *شبِ جمعہ* ہو جائے تو *نمازِ مغرب و عشاء* کے درمیان بارہ{12} رکعت *نماز* ادا کرے ہر *دو رکعت* پر سلام پڑھے،ہر رکعت میں *سورہ حمد کے تین مرتبہ انا انزلناہ* اور بارہ{12} مرتبہ *قل ھواللہ* پڑھے۔


*نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر{70} مرتبہ اِسطرح صلوات پڑھے۔👇🏻*


*اَللّٰھُمَّ صل ِّ عَلیٰ مُحَمَّدِ(نِ)النَّبِیِّ الاُمِّیِ وَ عَلیٰ اٰلِہٖ۔*

خدایا!رحمت نازل فرما نبی اُمی حضرتؐ پر اور اُن کی آلؑ پر۔


🕋 *پھر سجدے میں جائیں اور ستر{70} مرتبہ کہیں:*🕋👇🏻
*سُبُوْحٌ قُدُّوسٌ رٙبُّ الْمٙلٙآ ئِکٙةِ وٙالرُّوْحِ۔*
فرشتوں اور روح کا رب،بے عیب،پاک تر ہے۔

*🧎🏻‍♂پھر سجدے سے سر اٹھاو اور ستر{70}مرتبہ کہیں:👇🏻*
*رَبّ ِ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ اَنَّكَ اَنْتَ الْعَلُِّي اْلاَ عْظَمُ۔*
پالنے والے بخش دے،رحم فرما اور درگزر کر اُن گناہوں سے جن کو تو جانتا ہے،بے شک تو بلند،بزرگ تر ہے۔

🕋 *پھر سجدے میں جائیں اور ستر{70} مرتبہ کہیں:*🕋👇🏻

*سُبُوْحٌ قُدُّوسٌ رٙبُّ الْمٙلٙآ ئِکٙةِ وٙالرُّوْحِ۔*
فرشتوں اور روح کا رب،بے عیب،پاک تر ہے۔

*🤲🏻پھر اپنی حاجات طلب کریں کہ* 
*{اِن شاء اللہ} پوری ہوں گی۔*

 

*التماس دعا جمعیا*



تاريخ : دوشنبه پنجم اسفند ۱۳۹۸ | 18:37 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |



امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت/ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا/ آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات/ امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت 

تیار کنندہ: سید افتخار علی جعفری


 محمد(ع)، باقر علوم آل محمد(ص)
 امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت
             کسی معصوم کی علمی حیثیت پر روشنی ڈالنا بہت دشوار ہے ،کیونکہ معصوم اور امام زمانہ کو علم لدنی حاصل ہوتا ہے، وہ خدا کی بارگاہ سے علمی صلاحیتوں سے بھرپور متولد ہوتا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام چونکہ امام زمانہ اور معصوم ازلی تھے اس لیے آپ کے علمی کمالات،علمی کارنامے اور آپ کی علمی حیثیت کی وضاحت ناممکن ہے تاہم میں ان واقعات میں سے مستثنی ازخروارے،لکھتاہوں جن پرعلماء عبورحاصل کرسکے ہیں۔
          علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھاگئی ہے اورہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیاہے (مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱) ۔
          روضة الصفاء میں ہے کہ ’’بخدا سوگند کہ ما خازنان خدائیم درآسمان زمین الخ‘‘ خدا کی قسم ہم زمین اور آسمان میں خداوندعالم کے خازن علم ہیں اور ہم یہ شجرہ نبوت اور معدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں، لسان الواعظین میں ہے کہ ابو مریم عبدالغفار کا کہنا ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہواکہ :
۱ ۔ مولا کونسا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا: جس سے اپنے برادر مومن کو تکلیف نہ پہنچے ۔  ۲۔  کونسا خلق بہتر ہے؟ فرمایا: صبر اور معاف کردینا   ۳ ۔ کون سا مومن کامل ہے؟ فرمایا: جس کے اخلاق بہتر ہوں  ۴ ۔  کون سا جہاد بہتر ہے؟  فرمایا: جس میں اپنا خون بہہ جائے  ۵ ۔ کونسی نماز بہترہے؟ فرمایا: جس کا قنوت طویل ہو، ۶ ۔ کون سا صدقہ بہترہے؟ فرمایا: جس سے نافرمانی سے نجات ملے،  ۷ ۔ بادشاہان دنیا کے پاس جانے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: میں اچھا نہیں سمجھتا، پوچھاکیوں؟ فرمایاکہ اس لیے کہ بادشاہوں کے پاس کی آمدورفت سے تین باتیں پیداہوتی ہیں  :  ۱ ۔ محبت دنیا، ۲ ۔فراموشی مرگ،  ۳ ۔ قلت رضائے خدا۔
          پوچھا پھر میں نہ جاؤں؟ فرمایا: میں طلب دنیا سے منع نہیں کرتا، البتہ طلب معاصی سے روکتا ہوں ۔
          علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے اور اس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم و زہد اور شرف میں ساری دنیا سے فوقیت لے گئے ہیں آپ سے علم القرآن، علم الآثار، علم السنن اور ہرقسم کے علوم، حکم، آداب وغیرہ کے مظاہرہ میں کوئی نہیں ہوا، بڑے بڑے صحابہ اور نمایاں تابعین، اور عظیم القدر فقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابرین عبداللہ انصاری کے ذریعہ سے سلام کہلایا تھا اور اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ یہ میرا فرزند”باقرالعلوم“ ہوگا،علم کی گتھیوں کو سلجھائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی(اعلام الوری ص ۱۵۷ ،علامہ شیخ مفید)
          علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اور تفسیر قرآن و علم السیرت و علوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدر امام محمد باقر علیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین اور امام حسین علیہم السلام کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔ (ملاحظہ ہوکتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷ ۔)
          علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات اور کمالات و احسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہوگیاہو اور جس کی طینت و طبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ”باقرالعلوم“ علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں، آپ کادل صاف، علم و عمل روشن و تابندہ نفس پاک اورخلقت شریف تھی، آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسرہوتے تھے۔
          عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اور گہرے نشانات نمایاں ہوگئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اور عاجز وماندہ ہیں آپ کے ہدایات و کلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کااحصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
          علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمدباقرعلامہ زمان اورسردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحر اور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰) علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سردار اور متبحر علمی کی وجہ سے باقر مشہور تھے آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اور آپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیاتھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔
          علامہ شبراوی لکھتے ہیں کہ امام محمد باقر (ع) کے علمی تذکرے دنیا میں مشہور ہوئے اور آپ کی مدح و ثناء میں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہنی نے یہ تین شعر لکھے ہیں:
          ترجمہ  :  جب لوگ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہیں تو پورا قبیلہ قریش اس کے بتانے سے عاجز رہے گا، کیونکہ وہ خود محتاج ہے اور اگر فرزند رسول امام محمد باقر(ع) کے منہ سے کوئی بات نکل جائے تو بے حد و حساب مسائل و تحقیقات کے ذخیرے مہیا کر دیں گے یہ حضرات وہ ستارے ہیں جو ہرقسم کی تاریکیون میں چلنے والوں کے لیے چمکتے ہیں اور ان کے انوار سے لوگ راستے پاتے ہیں (الاتحاف ص ۵۲ ،وتاریخ الائمہ ص ۴۱۳) ۔
          علامہ ابن شہرآشوب کابیان ہے کہ صرف ایک راوی محمدبن مسلم نے آپ سے تیس ہزارحدیثیں روایت کی ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۱۱) ۔
حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا
          مورخ شہیر ذاکرحسین تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۲ میں لکھتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے ۷۵ ھ میں امام محمدباقر علیہ السلام کی صلاح سے اسلامی سکہ جاری کیا اس سے پہلے روم و ایران کا سکہ اسلامی ممالک میں بھی جاری تھا۔
          اس واقعہ کی تفصیل علامہ دمیری کے حوالہ سے یہ ہے کہ ایک دن علامہ کسائی سے خلیفہ ہارون رشید عباسی نے پوچھا کہ اسلام میں درہم ودینارکے سکے، کب اورکیونکر رائج ہوئے انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجراخلیفہ عبدالملک بن مروان نے کیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے نا واقف ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کے اجراء اور ایجاد کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی،ہارون الرشیدنے کہا کہ بات یہ ہے کہ زمانہ سابق میں جو کاغذ وغیرہ ممالک اسلامیہ میں مستعمل ہوتے تھے وہ مصر میں تیارہوا کرتے تھے جہاں اس وقت نصرانیوں کی حکومت تھی،اور وہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب برتھے وہاں کے کاغذ پر جو ضرب یعنی (ٹریڈمارک) ہوتا تھا،اس میں بزبان روم(اب،ابن،روح القدس لکھاہواتھا ،فلم یزل ذلک کذالک فی صدرالاسلام کلہ بمعنی علوما کان علیہ ،الخ)۔
          اوریہی چیز اسلام میں جتنے دور گذرے تھے سب میں رائج تھی یہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کازمانہ آیا، تو چونکہ وہ بڑا ذہین اورہوشیار تھا،لہذا اس نے ترجمہ کرا کے گورنر مصر کو لکھاکہ تم رومی ٹریڈمارک کو موقوف و متروک کردو،یعنی کاغذ کپڑے وغیرہ جو اب تیارہوں ان میں یہ نشانات نہ لگنے دو بلکہ ان پر یہ لکھوادو ”شہداللہ انہ لاالہ الاہو“ چنانچہ اس حکم پر عمل درآمد کیاگیا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کا جن پر کلمہ توحید ثبت تھا، رواج پایا تو قیصرروم کوبے انتہا ناگوار گزرا اس نے تحفہ تحائف بھیج کر عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت کو لکھاکہ کاغذ وغیرہ پر جو”مارک“ پہلے تھا وہی بدستورجاری کرو، عبدالملک نے ہدایا لینے سے انکار کردیا اور سفیر کو تحائف وہدایا سمیت واپس بھیج دیا اور اس کے خط کاجواب تک نہ دیا قیصرروم نے تحائف کو دوگنا کرکے پھر بھیجااور لکھاکہ تم نے میرے تحائف کو کم سمجھ کر واپس کردیا،اس لیے اب اضافہ کرکے بھیج رہاہوں اسے قبول کرلو اور کاغذ سے نیا”مارک“ ہٹادو، عبدالملک نے پھر ہدایا واپس کردیا اورمثل سابق کوئی جواب نہیں دیااس کے بعدقیصرروم نے تیسری مرتبہ خط لکھااورتحائف وہدایابھیجے اورخط میں لکھاکہ تم نے میرے خطوط کے جوابات نہیں دئیے ،اورنہ میری بات قبول کی اب میں قسم کھا کر کہتاہوں کہ اگرتم نے اب بھی رومی ٹریڈمارک کوازسرنو رواج نہ دیا اور توحیدکے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے تو میں تمہارے رسول کو گالیاں،سکہ درہم ودینار پرنقش کراکے تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردوں گا اورتم کچھ نہ کرسکو گے دیکھو اب جو میں نے تم کولکھاہے اسے پڑھ کرارفص جبینک عرقا،اپنی پیشانی کاپسینہ پوچھ ڈالواور جومیں کہتاہوں اس پرعمل کرو تاکہ ہمارے اورتمہارے درمیان جورشتہ محبت قائم ہے بدستورباقی رہے۔
          عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کوپڑھا اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ،ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں میں دنیاتاریک ہوگئی اس نے کمال اضطراب میں علماء فضلاء اہل الرائے اورسیاست دانوں کوفورا جمع کرکے ان سے مشورہ طلب کیا اورکہاکہ کوئی ایسی بات سوچو کہ سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے یا سراسر اسلام کامیاب ہوجائے، سب نے سرجوڑکر بہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی ایسی رائے نہ دے سکے جس پرعمل کیاجاسکتا”فلم یجد عنداحدمنہم رایایعمل بہ“ جب بادشاہ ان کی کسی رائے سے مطمئین نہ ہوسکا تواور زیادہ پریشان ہوا اوردل میں کہنے لگا میرے پالنے والے اب کیا کروں ابھی وہ اسی تردد میں بیٹھا تھاکہ اس کا وزیراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا،بادشاہ تو یقیناجانتاہے کہ اس اہم موقع پراسلام کی مشکل کشائی کون کرسکتاہے ،لیکن عمدا اس کی طرف رخ نہیں کرتا،بادشاہ نے کہا”ویحک من“ خداتجھے سمجھے،توبتاتوسہی وہ کون ہے؟ وزیراعظم نے عرض کی ”علیک بالباقرمن اہل بیت النبی“ میں فرزند رسول امام محمدباقرعلیہ السلام کی طرف اشارہ کررہاہوں اور وہی اس آڑے وقت میں تیرے کام آسکتے ہیں ،عبدالملک بن مروان نے جونہی آپ کانام سنا قال صدقت کہنے لگا خداکی قسم تم نے سچ کہا اورصحیح رہبری کی ہے۔
          اس کے بعداسی وقت فورااپنے عامل مدینہ کولکھا کہ اس وقت اسلام پرایک سخت مصیبت آگئی ہے اوراس کادفع ہوناامام محمدباقرکے بغیرناممکن ہے،لہذا جس طرح ہوسکے انھیں راضی کرکے میرے پاس بھیجدو،دیکھواس سلسلہ میں جو مصارف ہوں گے،وہ بذمہ حکومت ہوں گے۔
عبدالملک نے دوخواست طلبی، مدینہ ارسال کرنے کے بعدشاہ روم کے سفیرکو نظر بندکردیا،اورحکم دیاکہ جب تک میں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پایہ تخت سے جانے نہ دیاجائے۔
          حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں عبدالملک بن مروان کاپیغام پہنچااورآپ فوراعازم سفرہوگئے اوراہل مدینہ سے فرمایاکہ چونکہ اسلام کاکام ہے لہذا میں تمام اپنے کاموں پراس سفرکو ترجیح دیتاہوں الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جاپہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پریشان تھا،اس لیے اسے نے آپ کے استقبال کے فورا بعدعرض مدعاکردیا،امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا”لایعظم ہذاعلیک فانہ لیس بشئی“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادر وتوانا قیصرروم کواس فعل قبیح پر قدرت ہی نہ دے گا اور پھرایسی صورت میں جب کہ اس نے تیرے ہاتھوں میں اس سے عہدہ برآہونے کی طاقت دے رکھی ہے بادشاہ نے عرض کی یابن رسول اللہ وہ کونسی طاقت ہے جومجھے نصیب ہے اورجس کے ذریعہ سے میں کامیابی حاصل کرسکتاہوں۔
          حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ تم اسی وقت حکاک اور کاریگروں کوبلاؤ اوران سے درہم ودینارکے سکے ڈھلواؤ اور ممالک اسلامیہ میں رائج کردو، اس نے پوچھاکہ ان کی کیا شکل وصورت ہوگی اور وہ کس طرح ڈھلیں گے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ سکہ کے ایک طرف کلمہ توحید دوسری طرف پیغمراسلام کانام نامی اور ضرب سکہ کا سن لکھاجائے اس کے بعداس کے اوزان بتائے آپ نے کہاکہ درہم کے تین سکے اس وقت جاری ہیں ایک بغلی جودس مثقال کے دس ہوتے ہیں دوسرے سمری خفاف جوچھ مثقال کے دس ہوتے ہیں تیسرے پانچ مثقال کے دس ،یہ کل ۲۱/ مثقال ہوئے اس کوتین پرتقسیم کرنے پرحاصل تقسیم ۷/ مثقال ہوئے،اسی سات مثقال کے دس درہم بنوا،اوراسی سات مثقال کی قیمت سونے کے دینارتیارکرجس کا خوردہ دس درہم ہو،سکہ کانقش چونکہ فارسی میں ہے اس لیے اسی فارسی میں رہنے دیاجائے ،اوردینارکاسکہ رومی حرفوں میں ہے لہذااسے رومی ہی حرفوں میں کندہ کرایاجائے اورڈھالنے کی مشین (سانچہ) شیشے کابنوایاجائے تاکہ سب ہم وزن تیارہوسکیں۔
          عبدالملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلوالیے اور سب کام درست کرلیا اس کے بعدحضرت کی خدمت میں حاضرہوکردریافت کیاکہ اب کیاکروں؟ ”امرہ محمدبن علی“ آپ نے حکم دیاکہ ان سکوں کو تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردے، اورساتھ ہی ایک سخت حکم نافذکردے جس میں یہ ہوکہ اسی سکہ کو استعمال کیاجائے اور رومی سکے خلاف قانون قراردیئے گئے اب جوخلاف ورزی کرے گااسے سخت سزادی جائے گی ،اوربوقت ضرورت اسے قتل بھی کیاجاسکے گا۔
          عبدالملک بن مروان نے تعمیل ارشادکے بعد سفیرروم کو رہاکرکے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہناکہ ہم نے اپنے سکے ڈھلواکررائج کردیے اورتمہارے سکہ کوغیرقانونی قراردے دیا اب تم سے جوہ وسکے کرلو۔
          سفیرروم یہاں سے رہاہ وکرجب اپنے قیصرکے پاس پہنچااوراس سے ساری داستان بتائی تووہ حیران رہ گیا،اورسرڈال کردیرتک خاموش بیٹھاسوچتارہا، لوگوں نے کہابادشاہ تونے جو یہ کہاتھا کہ میں مسلمانوں کے پیغمبرکو سکوں پرگالیاں کنداکرادوں گا اب اس پرعمل کیوں نہیں کرتے اس نے کہاکہ اب گالیاں کندا کرکے کیاکروں گااب توان کے ممالک میں میراسکہ ہی نہیں چل رہااورلین دین ہی نہیں ہورہا(حیواة االحیوان دمیری المتوفی ۹۰۸ ھ جلد ۱ طبع مصر ۱۳۵۶ ھ)۔
آپ کے بعض علمی ہدایات و ارشادات
          علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابرجعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے ملاتوآپ نے فرمایا اے جابرمیں دنیا سے بالکل بے فکرہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیاکوکچھ نہیں سمجھتا،اور تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ دنیاچھوڑی ہوئی سواری اتاراہواکپڑا اور استعمال کی ہوئی عورت ہے مومن دنیاکی بقاسے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نورخدااس سے پوشیدہ نہیں ہوتا مومن کوتقوی اختیارکرناچاہئے کہ وہ ہروقت اسے متنبہ اوربیدارکھتاہے سنودنیاایک سرائے فانی ہے ’’نزلت بہ وارتحلت منہ “ اس میں آناجانالگارہتاہے آج آئے اورکل گئے اوردنیاایک خواب ہے جوکمال کے ماننددیکھی جاتی ہے اورجب جاگ اٹھے توکچھ نہیں …
          آپ نے فرمایا تکبربہت بری چیزہے ،یہ جس قدرانسان میں پیداہوگا اسی قدراس کی عقل گھٹے گی ،کمینے شخص کاحربہ گالیاں بکناہے ۔
          ایک عالم کی موت کوابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچارہاہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جواللہ کی اطاعت کریں آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشاجاتاہے اورجس رخسارپر آنسوجاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
          سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے ۔
          خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو چاہئے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کومحفوظ رکھیں۔
          دعاسے قضابھی ٹل جاتی ہے ۔ نیکی بہترین خیرات ہے
          بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کواپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے،اور دوسرے کی آنکھ کا تنکانظرآئے ،یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اوردوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خودعمل نہ کرے، صرف دوسروں کوتعلیم دے۔
          جو خوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے ،وہ تمہارابھائی اور دوست نہیں ہے (مطالب السؤل ص ۲۷۲) ۔
          علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ جب کوئی نعمت ملے تو کہو الحمدللہ اورجب کوئی تکلیف پہنچے توکہو”لاحول ولاقوة الاباللہ“ اورجب روزی تنگ ہوتو کہو استغفراللہ ۔
          دل کو دل سے راہ ہوتی ہے،جتنی محبت تمہارے دل میں ہوگی ،اتنی ہی تمہارے بھائی اور دوست کے دل میں بھی ہوگی ۔
تین چیزیں خدا نے تین چیزوں میں پوشیدہ رکھی ہیں :
          ۱ ۔ اپنی رضااپنی اطاعت میں ،کسی فرمانبرداری کوحقیرنہ سمجھو شایداسی میں خداکی رضاہو۔
          ۲ ۔ اپنی ناراضی اپنی معصیت میں، کسی گناہ کومعمولی نہ جانو توشایدخدا اسی سے ناراض ہوجائے۔
          ۳ ۔  اپنی دوستی یااپنے ولی، مخلوقات میں کسی شخص کو حقیرنہ سمجھو، شایدوہی ولی اللہ ہو (نورالابصار ص ۱۳۱ ،اتحاف ص ۹۳) ۔
          احادیث آئمہ میں ہے امام محمدباقرعلیہ السلام فرماتے ہیں انسان کوجتنی عقل دی گئی ہے اسی کے مطابق اس سے قیامت میں حساب وکتاب ہوگا۔
          ایک نفع پہنچانے والاعالم سترہزارعابدوں سے بہترہے ،عالم کی صحبت میں تھوڑی دیربیٹھنا ایک سال کی عبادت سے بہترہے خدا ان علماء پر رحم و کرم فرمائے جواحیاء علم کرتے اور تقوی کو فروغ دیتے ہیں ۔
          علم کی زکواة یہ ہے کہ مخلوق خداکو تعلیم دی جائے ۔ قرآن مجید کے بارے میں تم جتناجانتے ہو اتناہی بیان کرو۔
          بندوں پرخداکا حق یہ ہے کہ جوجانتاہو اسے بتائے اورجو نہ جانتاہواس کے جواب میں خاموش ہوجائے ۔ علم حاصل کرنے کے بعداسے پھیلاو،اس لیے کہ علم کوبند رکھنے سے شیطان کاغلبہ ہوتاہے ۔
          معلم اورمتعلم کا ثواب برابرہے ۔  جس کی تعلیم کی غرض یہ ہوکہ وہ … علماء سے بحث کرے ،جہلا پررعب جمائے اورلوگوں کواپنی طرف مائل کرے وہ جہنمی ہے ،دینی راستہ دکھلانے والا اورراستہ پانے والا دونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں۔ جودینی راستہ دکھلانے والا اور راستہ پانے والا دونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں ۔
          جودینیات میں غلط کہتاہو اسے صحیح بنادو، ذات الہی وہ ہے، جوعقل انسانی میں نہ سماسکے اورحدودمیں محدودنہ ہوسکے ۔
          اس کی ذات فہم و ادراک سے بالاتر ہے خداہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، خداکی ذات کے بارے میں بحث نہ کرو،ورنہ حیران ہو جاؤگے ۔ اجل کی دو قسمیں ہیں ایک اجل محتوم،دوسرے اجل موقوف، دوسری سے خداکے سواکوئی واقف نہیں، زمین حجت خداکے سواکوئی واقف نہیں ،زمین حجت خداکے بغیرباقی نہیں رہ سکتی۔
          امت بے امام کی مثال بھیڑ کے اس گلے کی ہے،جس کا کوئی بھی نگران نہ ہو۔
          امام محمدباقرعلیہ السلام سے روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پوچھاگیا توفرمایاکہ روح ہواکی مانندمتحرک ہے اوریہ ریح سے مشتق ہے ، ہم جنس ہونے کی وجہ سے اسے روح کہاجاتاہے یہ روح جو جانداروں کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ،وہ تمام ریحوں سے پاکیزہ ترہے۔
…روح مخلوق اورمصنوع ہے اورحادث اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی ہے۔
…وہ ایسی لطیف شئے ہے جس میں نہ کسی قسم کی گرانی اورسنگینی ہے نہ سبکی، وہ ایک باریک اوررقیق شئے ہے جوقالب کثیف میں پوشیدہ ہے،اس کی مثال اس مشک جیسی ہے جس میں ہوا بھردو،ہوا بھرنے سے وہ پھول جائے گی لیکن اس کے وزن میں اضافہ نہ ہوگا۔۔ روح باقی ہے اور بدن سے نکلنے کے بعد فنا نہیں ہوتی، یہ نفخ صور کے وقت ہی فناہوگی۔
آپ سے خداوندعالم کے صفات کے بارے میں پوچھاگیا توآپ نے فرمایا،کہ وہ سمیع و بصیر ہے اور آلہ سمع و بصرکے بغیرسنتا اور دیکھتاہے،رئیس معتزلہ عمربن عبیدنے آپ سے دریافت کیاکہ”من یحال علیہ غضبی“ ابوخالد کابلی نے آپ سے پوچھاکہ قول خدا”فامنواباللہ ورسولہ والنورالذی انزلنا“ میں،نورسے کیامرادہے؟آپ نے فرمایا”واللہ النورالائمة من آل محمد“ خداکی قسم نورسے ہم آل محمدمرادہیں۔
 آپ سے دریافت کیاگیاکہ یوم ندعواکل اناس بامامہم سے کون لوگ مرادہیں آپ نے فرمایاوہ رسول اللہ ہیں اوران کے بعدان کی اولادسے آئمہ ہوں گے، انہیں کی طرف آیت میں اشارہ فرمایاگیاہے جوانہیں دوست رکھے گااوران کی تصدیق کرے گاوہی نجات پائے گااورجو ان کی مخالفت کرے گاجہنم میں جائے گا، ایک مرتبہ طاؤس یمانی نے حضرت کی خدمت میں حاضرہوکریہ سوال کیاکہ وہ کونسی چیزہے جس کاتھوڑااستعمال حلال تھا اورزیادہ استعمال حرام،آپ نے فرمایاکہ وہ نہرطالوت کاپانی تھاجس کاصرف ایک چلو پیناحلال تھا اوراس سے زیادہ حرام پوچھا وہ کون ساروزہ تھاجس میں کھاناپیناجائزتھا،فرمایا وہ جناب مریم کا روزہ صمت تھا جس میں صرف نہ بولنے کاروزہ تھا ،کھاناپیناحلال تھا، پوچھا وہ کون سی شئے ہے جوصرف کرنے سے کم ہوتی ہے بڑھتی نہیں، فرمایاکہ وہ عمرہے ۔ پوچھاوہ کون سی شئے ہے جوبڑھتی ہے گھٹتی نہیں ،فرمایاوہ سمندرکاپانی ہے ،پوچھاوہ کونسی چیزہے جوصرف ایک باراڑی پھرنہ اڑی،فرمایاوہ کوہ طورہے جوایک بارحکم خداسے اڑکربنی اسرائیل کے سروں پرآگیاتھا۔ پوچھاوہ کون لوگ ہیں جن کی سچی گواہی خدانے جھوٹی قراردی،فرمایاوہ منافقوں کی تصدیق رسالت ہے جودل سے نہ تھی۔
          پوچھابنی آدم کا ۱/۳ حصہ کب ہلاک ہوا،فرمایاایساکبھی نہیں ہوا،تم یہ پوچھوکہ انسان کا ۱/۴ حصہ کب ہلاک ہواتومیں بتاؤں کہ یہ اس وقت ہواجب قابیل نے ہابیل کوقتل کیا،کیونکہ اس وقت چارآدمی تھے آدم،حوا،ہابیل اورقابیل ،پوچھاپھرنسل انسانی کس طرح بڑھی فرمایاجناب شیث سے جوقتل ہابیل کے بعدبطن حواسے پیداہوئے۔
امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت
          آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود ہشام بن عبدالملک نے آپ کو زہرکے ذریعہ شہیدکرا دیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں انتقال فرما گئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میں دفن ہوئے (کشف الغمہ ص ۹۳ ،جلاء العیون ص ۲۶۴ ،جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ ص ۴۴۹ ،انوارالحسینہ ص ۴۸ ، شواہدالنبوت ص ۱۸۱ ، روضة الشہداء ص ۴۳۴) ۔
          علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوار امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہر سے شہیدکردیئے گئے (نورالابصار ص ۳۱ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
          آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولید والی مدینہ کی زہر خورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ وقت ہشام بن عبدالملک کی مرسلہ زہرآلود زین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی (جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۸) ۔
          شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اور کہا کہ بیٹا میرے کانوں میں میرے والد ماجد کی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلدبلا رہے ہیں (نورالابصار ص ۱۳۱) ۔ آپ نے غسل و کفن کے متعلق خاص طور سے ہدایت کی کیونکہ امام راجز امام نشوید امام کوامام ہی غسل دے سکتا ہے (شواہدالنبوت ص ۱۸۱) ۔
          علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی فرمایا کہ ۸۰۰/ درہم میری عزاداری اور میرے ماتم پرصرف کرنا اور ایسا انتظام کرناکہ دس سال تک منیٰ میں بزمانہ حج میری مظلمومیت کا ماتم کیاجائے (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔
          علماء کابیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بندہائے کفن قبر میں کھول دینا اورمیری قبر چارانگل سے زیادہ اونچی نہ کرنا(جنات الخلود ص ۲۷) ۔



تاريخ : یکشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۲ | 13:6 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

حضرت علی (ع)خدا کی بندگی، رسول اسلام (ص) کی جانشینی کے لحاظ سے کامل ترین انسان نظر آتے ہیں چنانچہ 19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام (ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں ” لافتی الّا علی لاسیف الّا ذوالفقار ” کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی :” ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ” خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔ 

 

عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی مفتخرترین ہستیوں میں مرسل اعظم ، نبی رحمت حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سب سے پہلا نام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کا آتا ہے۔

 لیکن آپ سے متعلق محبت و معرفت کی تاریخ میں بہت سے لوگ عمدا” یا سہوا” افراط و تفریط کا بھی شکار ہوئے ہیں اور شاید اسی لئے ایک دنیا دوستی اور دشمنیوں کی بنیاد پر مختلف گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو گئی ہے خود امیرالمومنین نے نہج البلاغہ کے خطبہ ایک سو ستائیس میں ایک جگہ خبردار کیا ہے کہ : ” جلد ہی میرے سلسلے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ دوست جو افراط سے کام لیں گے اور ناحق باتیں میری طرف منسوب کریں گے اور دوسرے وہ دشمن جو تفریط سے کام لے کر کینہ و دشمنی میں آگے بڑھ جائیں گے اور باطل کی راہ اپنا لیں گے ۔میرے سلسلے میں بہترین افراد وہ ہیں جو میانہ رو ہیں اور راہ حق و اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے ۔

وہ سچے مسلمان جو اہلبیت رسول (ص) سے محبت کرتے ہیں اور ان کواپنے لئے ” اسوہ ” اور” نمونۂ عمل ” سمجھتے ہیں صرف اس لئے ایسا نہیں کرتے کہ وہ ہمارے نبی (ص) کی اولاد ہیں اور ان کی نسل اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس لئے محبت و اطاعت کرتے ہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں عزیز و محترم ہیں اور ان کو اللہ نے اپنا نمائندہ اورعالم بشریت کا امام و پیشوا قراردیا ہے ۔البتہ جن کو اہلبیت (ع) کی صحیح معرفت نہیں ہے وہ ان کو یا تو اولاد رسول (ص) سمجھ کر مانتے اور احترام کرتے ہیں یا پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو ایک اچھا انسان سمجھ کر ان کی تعریف و ستائش کرتے اور عقیدت و ارادت کا اظہار کرتے ہيں ۔ لیکن مسلمانوں کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ خدا نے ان کو امام و رہنما بنایاہے اور اسوہ و نمونہ قرار دے کر ان کی اطاعت و پیروی واجب قرار دی ہے ۔ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنا اور ان کے آئینۂ کردار میں خود کو ڈھالنا ہمارا فریضہ ہے ۔چنانچہ حضرت علی (ع) کی محبت اور معرفت میں اس پہلو کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے مسلمانوں کو دراصل اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ ثابت کرنا چاہئے کہ جب ہم ” علی کی پیروی ” کی بات کرتے ہيں تو یہ اوروں کی پیروی سے الگ ، خدا و رسول (ص) کی پیروی کے مترادف ہے ایک مسلمان حضرت علی (ع) سے محبت و اطاعت عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہے ۔جس طرح قرآن کی تلاوت رسول اسلام (ص) کی پیروی ،نماز و روزہ کی ادائگی ، حج کے اعمال اور راہ خدا میں جہاد و سر فروشی عبادت ہے علی ابن ابی طالب (ع) کی محبت اور پیروی بھی عبادت ہے ۔ظاہر ہے محبت و اطاعت اسی وقت کارساز ہے جب ان کی امامت و رہبری کی معرفت کے ساتھ ہو ۔
ورنہ محبت کی ایک وہ صورت بھی ہے جو درویشوں اور فقیروں کے یہاں پائی جاتی ہے وہ بھی حضرت علی (ع) کو اپنا قطب اور پیشوا مانتے ہیں مگر حضرت علی (ع) کی عملی زندگی سے خود کو دورکئے ہوئے ہیں عیسائي دانشور جارج جرداق ادعا کرتے ہیں کہ “میں خداؤں کی پرستش کرتا ہوں میرے لئے علی ابن ابی طالب کمال اور عدالت و شجاعت کے پروردگار ہیں ” ۔ظاہر ہے اس عیسائي دانشور کی محبت اور اس کا اظہار الگ عنوان رکھتا ہے وہ عیسائي تھے اور عیسائي رہے ہیں انہوں نے” انسانی عدل و انصاف کی آواز” کے عنوان سے حضرت علی (ع) کی مدح و ستائش میں ایک پوری کتاب کئی جلدوں میں لکھ دی مگر ان کی محبت اسلام کی نظر میں کسی دینی معیار پر پوری نہیں اترتی ۔اسلام میں وہی محبت کارساز ہے جو معرفت کےساتھ ہو ورنہ محبت میں سہی اگر کوئی حضرت علی (ع) کو الوہیت یا نبوت و رسالت کی منزل میں پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ غلو اورشرک ہے جس کی طرف حدیث میں آیا ہے :
” ہلک فیہ رجلان مبغض قال و محب غال“
“مبغض قال ” سے مراد وہ کینہ توز دشمن ہیں جو جان بوجھ کر علی (ع) کے فضائل چھپاتے یا انکار کرتے ہیں ۔ اور ” محب غال ” سے مراد محبت کے وہ جھوٹے دعویدار ہیں جو حضرت علی (ع) کو خدا کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں ۔ایک مسلمان کی حیثیت سے جب ہم علی ابن ابی طالب (ع) کی سیرت اورکردار کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ خدا کی بندگی رسول اسلام (ص) کی جانشینی اور مسلمانوں کی امامت و پیشوائی کے لحاظ سے بہتریں مسلمان اور کامل ترین انسان نظر آتے ہیں ۔اسی لئے ان کی شخصیت اور کردار ابدی اور جاوداں ہے چنانچہ 19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام (ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں ” لافتی الّا علی لاسیف الّا ذوالفقار ” کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی :
” ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ” خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے
اور مسجد کوفہ میں جب سارے مسلمان اپنے امام وپیشوا کے غم میں نوحہ و ماتم کرنے میں مصروف تھے خدا کا مخلص بندہ اپنے معبود سے ملاقات کااشتیاق لئے آواز دے رہا تھا” فُزتُ وَ رَبّ الکَعبہ ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اور علی (ع) آج بھی کامیاب ہیں کیونکہ ان کی سیرت ،ان کا کردار ،ان کے اقوال و ارشادات ان کی حیات اور شہادت کاایک ایک پہلو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اسی لئے علی ابن ابی طالب (ع) سے محبت اور معرفت رکھنے والے کل بھی اور آج بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ علی (ع) کی شہادت تاریخ بشریت کے لئے ایک عظیم خسارہ اورایسی مصیبت ہے کہ اس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔نبی اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ملت اسلامیہ جب حضرت علی (ع) کی ولایت و امامت پر متفق ہوا اور حکومت و اقتدار امیرالمومنین کے حوالے کردیا گیا تو 18 ذی الحجّہ سنہ 35 ہجری سے 21 ماہ رمضان المبارک سنہ 40 ہجری تک چار سال دس مہینہ کی مختصر مدت میں علی ابن ابی طالب نے وہ عظیم کارنامے قلب تاریخ پر ثبت کردئے کہ اگر ظلم و خیانت کی شمشیر نہ چلتی اور جرم و سازش کا وہ گھنونا کھیل نہ کھیلا جاتا جو عبدالرحمن ابن ملجم اور اموی خاندان کے جاہ طلبوں نے مل کر کھیلا تھا تو شاید دنیائے اسلام کی تقدیر ہی بدل جاتی پھر بھی علی ابن ابی طالب (ع) نبی اکرم (ص) کی 23 سالہ زندگی کے ساتھ اپنی پانچ سالہ حکومت کے وہ زریں نقوش تفسیر و تشریح کی صورت میں چھوڑ گئے ہیں کہ رہتی دنیا تک کے لئے اسلام کی حیات کا بیمہ ہوچکا ہےاور قیامت تک روئے زمین پرقائم ہونے والی ہر حکومت اس کی روشنی میں عالم بشریت کی ہر ضرورت کی تکمیل کرسکتی ہے ، چونکہ 21 رمضان المبارک کو علوی زندگی کا وہ صاف و شفاف چشمہ جو دنیائے اسلام کو ہمیشہ سیر و سیراب کرسکتا تھا ہم سے چھین لیا گيا لہذا یہ مصیبت ایک دائمی مصیبت ہے اورآج بھی ایک دنیا علی (ع) کے غم میں سوگوار اورماتم کناں ہے ۔
19 رمضان:سن40 ھ ق : حضرت علی علیہ السلام مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ سے شدید زخمی ہوئے ۔
عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، خوارج میں سے تھا اور ان تین آدمیوں میں سے تھا کہ جنہوں نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ تین افراد یعنی امام علی بن ابیطالب (ع) معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو عاص کو قتل کرڈالیں گے ۔ہر کوئی اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوا اور اس طرح عبدالرحمن بن ملجم مرادی بیس شعبان سن چالیس کو شھر کوفہ میں داخل ہوا۔
انیسویں رمضان سن چالیس کی سحر کو کوفہ کی جامعہ مسجد میں امیرالمومنین علی (ع) کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ دوسری طرف قطامہ نے ” وردان بن مجالد” نامی شخص کے ساتھ اپنے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ روانہ کیے.
اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی (ع) کے ناراض سپاہیوں اور اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ،حضرت امام علی (ع) کو قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھاتا رہا ۔ حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان کے شب اپنی بیٹی ام کلثوم کے ہاں مہمان تھے .
روایت میں آیا ہے کہ آپ اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔
بہر حال نماز صبح کیلۓ آپ کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوئے اور سوئے ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کو بیدار کیا جو پیٹ کے بل سویا ہوا تھا ۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا ۔
جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ لگایا :” للہ الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک ” ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک پر حملہ کیااور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ( ماتھے ) تک زخمی ہوگیا .
حضرت علی علیہ السلام نےمحراب میں گر پڑے اسی حالت میں فرمایا : بسم اللہ و بااللہ و علی ملّۃ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبہ ؛ خدای کعبہ کی قسم ، میں کامیاب ہو گيا ۔
کچھ نمازگذار شبث اورا بن ملجم کو پکڑنے کیلئےباھر کی طرف دوڑ پڑے اور کچھ حضرت علی (ع) کی طرف بڑے اور کچھ سر و صورت پیٹتے ماتم کرنے لگۓ ۔
حضرت علی (ع) کہ جن کے سر مبارک سے خون جاری تھا فرمایا: ھذا وعدنا اللہ و رسولہ ؛یہ وہی وعدہ ہے جو خدا اور اسکے رسول نے میرے ساتھ کیا تھا ۔
حضرت علی (ع) چونکہ اس حالت میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لۓ اپنے فرزند امام حسن مجتبی (ع) سے نماز جماعت کو جاری رکھنے کو کہا اور خود بیٹھ کر نماز ادا کی ۔
روایت میں آيا ہے کہ جب عبدالرحمن بن ملجم نے سرمبارک حضرت علی (ع) پر شمشیر ماری زمین لرز گئ ، دریا کی موجیں تھم گئ اور آسمان متزلزل ہوا کوفہ مسجد کے دروازے آپس میں ٹکراۓ آسمانی فرشتوں کی صدائيں بلند ہوئيں ، کالی گھٹا چھا گئ ، اس طرح کہ زمین تیرہ و تار ہو گی اور جبرئيل امین نے صدا دی اور ھر کسی نے اس آواز کو سنا وہ کہہ رہا تھا: تھدمت و اللہ اركان الھدي، و انطمست اعلام التّقي، و انفصمت العروۃ الوثقي، قُتل ابن عمّ المصطفي، قُتل الوصيّ المجتبي، قُتل عليّ المرتضي، قَتَلہ اشقي الْاشقياء؛ خدا کی قسم ارکان ھدایت منہدم ہوگئے علم نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کیا گيا اور پرہیزگاری کی علامت کو مٹایا گيا اور عروۃ الوثقی کو کاٹا گيا کیونکہ رسول خدا(ص) کے ابن عم کو شھید کیا گيا۔ سید الاوصیاء ، علی مرتضی کو شھید کیا گيا، انہیں شقی ترین شقی [ابن ملجم ] نے شھید کیا۔
اس طرح بہترین پیشوا ، عادل امام ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز اور ھمدرد حاکم ، کاملترین انسان ، خدا کا ولی ، رسول خدا حضرت محمد مصطفے (ص) کے جانشین، کو روی زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ کو جاملے ، پیغمبروں اور رسول خدا (ص) کے ساتھ ہمنشین ہوئے اور امت مہربان ، عادل اوربابرکت امام کے وجود سے محروم ہوگئی۔



تاريخ : چهارشنبه نهم مرداد ۱۳۹۲ | 0:49 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

تیرہ رجب مولائے متقیان،امیر المومنین،یعسوب الدین،حیدر کرار،غیر فرار،باب العلم، معدن الحلم،علی مرتضیٰ،شیر خدا علی ابن ابی طالب کا یوم ظہور ہے۔ اس مسرت موقع پر تمام عالم اسلام کو اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی کی طرف سے ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ 

 مولا امیرالمؤمنین (ع)

 ابنا:   بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت"

تیرہ رجب مولائے متقیان،امیر المومنین،یعسوب الدین،حیدر کرار،غیر فرار،باب العلم، معدن الحلم،علی مرتضیٰ،شیر خدا علی ابن ابی طالب کا یوم ظہور ہے۔ تمام عالم اسلام کو ادارہ القمر آن لائن اس موقع پر ہدیہ تہنیت پیش کرتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام تیرہ رجب (599 – 661) کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔
حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور انہوں نے اسی سایہ نبوت میں پرورش پائی ۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ علی علیہ السلام دین اسلام پر پیدا ہوئے۔یہ کہنا بڑا ظلم ہے کہ علی بچوں میں سب سے پہلے اسلام لے کر آئے۔

جگر گوشہ بتول ،خاتون جنت سیدہ فاطمہ سلام اللہ اور مولائے متقیان زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی کہ مرد اور عورت آپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں ،کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے ,
باب العلم کی زندگی ہر رخ سے ایک آفتاب درخشندہ ہے۔علم، حلم، عبادت، خطابت، شجاعت، ریاضت، تلاوت ہر ایک وصف گویا منفرد تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ زندگی دراصل اطلاعت پروردگار اور اطاعت رسول کانام ہے۔ انہوں نے کام کرنے کو انسان کی معراج بنایا۔
علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے او جو کچھ مزدوری ملتی تھی اسےگھر پر لاتے اور کچھ رقم سے بازار سے جو خرید کر خاتون جنت کو دیتے تھے اورسیدہ چکی پیستی , کھانا پکاتی اورگھر میں صفائی کرتیں, حسنین کی پرورش اورفرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتیں خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں۔
بہت سے مفسرین اور مفکرین نے اہلیبیت اطہار کے حوالے سے اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انکے لیئے کھانا اور کپڑے جنت سے آ جاتے تھے اور گویا روئے زمین پر یہ مثالی ہستیاں مافوق الفطرت طور پر زندگی گزارتی تھیں۔حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ خانوادہ رسالت کے ہر فرد کو اگرچہ خالق کائنات نے بیش بہا معجزات عنایت لیئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی عام انسان کی طرح محنت مزدوری اور کام کاج کر کے گزاری اور دوسروں کے لیے کام میں عظمت کی مثال چھوڑی۔
مدینہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا.پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی ,

اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا , گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے , ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کرلیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے .
اس لڑائی میں زیادہ رسول اللہ نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے . علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا . 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت علی کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے .
تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی کو تنہا بھیجا اورانھوںنے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔
غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمروبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعاب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کی تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔
کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چناچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر آئی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر آگیا کہ اس کا قاتل علی سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔
آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔
رسول اللہ کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمے تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا۔
جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ براَت کی آیتیں سنائیں-
حضرت علی علیہ السلام کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے.
کبھی یہ کہتے تھے کہ ‘‘علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں‘‘ .کبھی یہ کہا کہ ‘‘میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ‘‘ کبھی یہ کہا ‘‘تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے‘‘ کبھی یہ کہا‘‘علی کومجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی‘‘کبھی یہ کہا‘‘علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے‘‘۔
کبھی یہ کہ‘‘وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘۔
 ہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی نفسِ رسول قرار پائے اور اللہ کے نبی انہیں مولائے کائنات اور اپنا وصی کہا. عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کا دروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح کاسرپرست اورحاکم ہوں اسی طرح علی سب کے سرپرست اور حاکم ہیں۔ جس کا میں مولا ہوں اسکا علی مولا ہے۔
اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے حضرت علی کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے حضرت علی کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے.
جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول آپ کی لاش کو کس طرح چھوڑتا, چنانچہ رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا , رسول کے دفن سے فرصت ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اتنی دیر میں پیغمبر کی جانشینی کاانتظام ہوگیا ہے . اگر کوئی دوسرا انسان ہوتاتو جنگ آزمائی پر تیار ہوجاتا مگر حضرت علی کو اسلامی مفاد اتنا عزیز تھا کہ آپ نے اپنے حقوق کے اعلان کے باوجود اپنی طرف سے مسلمانوں میں خانہ جنگی پیدا نہیں ہونے دی , نہ صرف یہ کہ آپ نے معرکہ آرائی نہیں چاہی بلکہ جس وقت ضرورت پڑی , اس وقت اسلامی مفاد کی خاطر آپ نے امداد دینے سے دریغ بھی نہیں کیا , مشکل مسائل کے فیصلہ اور ضروری مشورہ ليے جانے پر اپنی مفید رائے کااظہار کیاا س سے کبھی پہلو نہیں بچایا .
خلیفہ وقت حضرت عمر کا یہ قول اس بات کا شاہد ہے کہ ‘‘اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا‘‘۔
علی علیہ السلام اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ ومنسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔
پچیس برس تک رسول کے بعد حضرت علی نے خانہ نشینی میں بسر کی اور جب 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی کے سامنے پیش کیا توآپ نے پہلے انکار کیا , لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا .
مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا , آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل اور صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں . جن میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .
ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود محنت مزدوری کرتے، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے،غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے ، جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے ۔یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں ,
انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بجھادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میںمال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے .
حضرت علی علیہ السلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل ابن ملجم کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے
دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہےآخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے
مکمل نام. علی ابن ابی طالب
ترتیب. امام اول
جانشین .حسن علیہ السلام
تاریخ ولادت. جمعہ، 13 رجب، 22 قبل ہجری
جائے ولادت. خانۂ کعبہ، مکہ مکرمہ
لقب. ابو تراب
کنیت. ابو الحسن
والد. ابو طالب ابن عبد المطلب [والد کا نام بعض منابع میں عمران بتایا گیا ہے لیکن معتبر تاریخی منابع کے مطابق امیرالمؤمنین علیہ السلام کے والد کا نام "عبدمناف" اور آپ کی کنیت ابوطالب ہے جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دادا کا نام شیبة الحمد بن ہاشم بن عبدمناف اور ان کا لقب عبدالمطلب ہے]۔
والدہ: فاطمہ بنت اسد
تاریخ وفات: 21 رمضان، 40 ہجری
جائے وفات: نجف، عراق
وجۂ وفات: شہادت



تاريخ : جمعه سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:56 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں :’’توبہ میں تاخیر کرنا دھوکہ ہے، اور توبہ کرنے میں بہت زیادہ دیرکرنا حیرت و سرگردانی کا سبب ہے، خدا سے ٹال مٹول کرنا ہلاکت ہے اور بار بار گناہ کرنا تدبیر خدا سے ایمن ہونا ہے‘‘۔ 

 امام جواد (ع) کی نورانی سیرت کا مختصر خاکہ
  حضرت امام محمد تقی (ع) دنیا کے تمام فضائل کے حامل تھے ،دنیا کے تمام لوگ اپنے مختلف ادیان ہونے کے باوجود آپ (ع) کی غیر معمولی صلاحیتوں سے حیرت زدہ تھے ،آپ (ع) سات سال اور کچھ مہینے کی عمر میں درجۂ امامت پر فائز ہوئے ،آپ (ع) نے ایسے علوم و معارف کے دریا بہائے جس سے تمام عقلیں مبہوت ہو کر رہ گئیں، تمام زمانوں اور آبادیوں میں آپ (ع) کی ہیبت اور آپ کی عبقری (نفیس اور عمدہ )صفات کے سلسلہ میں گفتگو ہونے لگی۔
اس عمر میں بھی فقہا اور علماء آپ (ع) سے بہت ہی مشکل اور پیچیدہ مسا ئل پوچھتے تھے جن کا آپ (ع) ایک تجربہ کار فقیہ کے مانند جواب دیتے تھے ۔ راویوں کا کہنا ہے کہ آپ (ع) سے تین ہزار مختلف قسم کے مسائل پوچھے گئے جن کے جوابات آپ (ع) نے بیان فرمائے ہیں ۔
ظاہری طور پر اس حقیقت کی اس کے علاوہ اور کو ئی وجہ بیان نہیں کی جا سکتی ہے کہ شیعہ اثناعشری مذہب کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے ائمہ اہل بیت (ع) کو علم ،حکمت ،اور فصل الخطاب عطا کیا ہے اور وہ فضیلت عطا کی ہے جو کسی شخص کونہیں دی ہے ہم ذیل میں مختصر طور پر اس امام (ع) سے متعلق بعض خصوصیات بیان کر رہے ہیں :
آپ (ع) اپنے والد بزرگوار کی زند گی میں
امام (ع) نے اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ اور آغوش پدری میں پرورش پا ئی اور تکریم و محبت کے سایہ میں پروان چڑھے، امام رضا (ع) آپ (ع) کو آپ (ع) کے نام کے بجائے آپ (ع) کی کنیت ابو جعفر سے پکارتے تھے ، جب مام رضا (ع) خراسان میں تھے تو امام محمد تقی (ع) آپ (ع) کے پاس خطوط لکھا کرتے تھے جو انتہا ئی فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہوتے تھے ۔
امام علی رضا (ع) نے اپنی اولاد کو جو اعلیٰ تربیت دی ہے اس میں سے ایک یہ ہے کہ آپ (ع) ان کو ہمیشہ نیکی، اچھا ئی اور فقراء کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے جیسا کہ آپ (ع) نے خراسان سے اُن کے نام ایک خط میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریر فرمایا :
’’میری جان تم پر فدا ہو مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض غلام نے تمہاری سواری کو باغ کے چھوٹے دروازے سے باہر نکالتے ہیں ،یہ ان کی کنجو سی کی وجہ سے ہے تاکہ کو ئی بھی تمھیں راستہ میں نہ ملنے پائے ،لہٰذا میرا تمہاری گردن پر جو حق ہے اس کی بنا پر میں یہ چا ہتا ہوں کہ تمہاری آمد و رفت صرف بڑے دروازے سے ہونی چا ہئے ،اور جب بھی تم سوار ہو کر نکلو تو تمہارے ساتھ سونے ،چا ندی (درہم و دینار کے سکے )ضرور ہونا چا ہئیں ،تاکہ جو بھی تم سے مانگے اس کو فوراً عطا کردو ،اور تمہارے چچاؤں میں سے جو کو ئی تم سے نیکی کا مطالبہ کرے اس کو پچاس دینار سے کم نہ دینا اور تمھیں زیادہ دینے کا بھی اختیار ہے ،اور اپنی پھوپھیوں کو بھی پچاس دینار سے کم نہ دینا اور زیادہ دینے کا تمھیں اختیار ہے، خدا تمھیں بہترین توفیق عطا فرمائے لہٰذا انفاق کرتے رہو اور خدا کے سلسلہ میں کسی طرح کے بخل کا خیال مت کرو‘‘۔
کیا آپ (ع) نے اس عظیم الشان تربیت کا اندازہ لگایا ہے جس میں شرافت و کرم بالکل نمایاں و آشکار ہے ؟ امام رضا (ع) نے اپنے فرزند ارجمند کے دل کی گہرا ئیوں میں مکارم اخلاق اور اچھے اخلاق کو بھر دیا ہے تاکہ وہ اپنے جد کی امت کے لئے اسوۂ حسنہ یا نمونۂ عمل بن سکیں ۔
خاندان نبوت کا اعزاز و اکرام
خاندان نبوت و رسالت امام محمد تقی (ع) (جبکہ آپ (ع) بالکل نو عمر ہی تھے )کے ذریعہ عزت و شرافت و بزرگی میں اور چند قدم آگے نظر آتا ہے ،اور کمسنی کے باوجود ان کی امامت و فضا ئل کے معترف ہیں جیسا کہ محمد بن حسن عمارہ سے روایت ہے :
میں مدینہ میں علی بن جعفر کے یہاں تھا اور دو سال سے آپ (ع) کے بھا ئی یعنی امام مو سیٰ کاظم (ع) کے اقوال و احا دیث لکھا کر تا تھا ،جب ابو جعفر محمد بن علی رضا مسجدالنبی ؐمیں داخل ہوئے تو علی بن جعفر نعلین اور ردا ء کے بغیر آپ (ع) کے پاس پہنچے، آپ (ع) کے ہاتھوں کو چوما اور آپ (ع) کی تعظیم و تکریم کی اور امام محمد تقی (ع) نے اُن کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے عرض کیا :’’اے چچا خدا آپ (ع) پر رحم فرمائے، تشریف رکھئے ‘‘۔
علی بن جعفر بڑے ہی ادب اور خضوع سے یہ کہتے ہوئے جھکے :اے میرے سردار !میں آپ (ع) کے کھڑے ہوتے ہوئے کیسے بیٹھ سکتا ہوں ؟
جب امام محمد تقی (ع) واپس چلے گئے تو علی بن جعفر اصحاب کے پاس آئے اصحاب نے اُن سے کہا : آپ (ع) ان کے باپ کے چچا ہیں پھر بھی اُن کی اتنی تعظیم کرتے ہیں!! علی بن جعفر نے جذبۂ ایمانی کے انداز میں ، جواب میں اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر جواب دیا ،خاموش رہو کیونکہ جب خدا نے میری اس بزرگی کو امامت کے لئے مناسب نہ سمجھا اور اسی جوان کو امام قرار دیا اور اُ س کو اس کے مناسب مقام پر رکھا تو میں تمہاری بات سے خدا کی پناہ چا ہتا ہوں بلکہ میں تو اُن کا غلام ہوں ۔
یہ حدیث علی بن جعفر کے عمیق ایمان پر دلالت کر تی ہے، آپ (ع) نے اپنے اصحاب پر یہ واضح کر دیا کہ بیشک امامت انسان کی مشیت اور اس کے ارادہ کے تابع نہیں ہو سکتی ،امرامامت اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے یہ ایسا امر ہے جس کو خداوند عالم اپنے بندوں میں سے جسے چا ہتا ہے عطا کر دیتا ہے چا ہے وہ عمر میں چھوٹا ہو یا بڑا ۔
آپ (ع) کا زہد
امام محمد تقی (ع) اپنی ساری زند گی میں متقی و پرہیز گار و زاہد رہے ،آپ (ع) نے دنیا میں اپنے آباء و اجداد کی طرح زہد اختیار فرمایا ،ان ہی کی طرح زندگی بسر کی ،جنھوں نے دنیا سے بے رغبتی کی اور خدا سے لو لگائی۔
امام محمد تقی (ع) جوان تھے اور مامون اپنے پاس آنے والے حقوق شرعیہ جن کی ما لی حیثیت بہت زیادہ ہو تی تھی سب کے سب آپ (ع) کے پاس بھیج دیتا تھا آپ ان میں سے اپنے مخصوص امور کے علاوہ کچھ بھی خرچ نہیں کرتے تھے، بقیہ سب کا سب فقرا اور محروموں پر خرچ فرمادیتے تھے ،حسین مکاری سے روایت ہے کہ جب امام محمد تقی کی بغداد میں اتنی تعظیم وتکریم دیکھی تو میں نے خود سے کہا کہ اب میں اپنے وطن واپس نہیں پلٹوں گا اور عنقریب بغداد میں مقیم ہو کر نعمتوں سے مستفیض ہوں گا، امام اس کے دل کی بات سے آگا ہ ہوگئے اور اس سے فرمایا :اے حسین! مجھے میرے جد رسول اللہ کے حرم میں جو کی روٹی اور دلاہواموٹا موٹانمک اس سے زیادہ محبوب ہے جس کے بارے میں توسوچ رہا ہے ۔۔۔‘‘۔(۱)
امام ملک اور سلطنت کے خواہاں نہ تھے، آپ بالکل حکومت کی طرف سے کئے جانے والے مظاہر کی کوئی پروا نہیں کرتے آپ نے ہمیشہ زہدا ختیار کیا اور دنیا سے رو گردان رہے ۔
آپ(ع) کی سخاوت
امام ابو جعفر (ع) لوگوں میں سب سے زیادہ سخی وفیاض تھے، اکثر لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے اور آپ (ع) کا فقراکے ساتھ نیکی کرنا مشہور تھا اور آپ کو آپ کے بہت زیادہ کرم اور سخاوت کی وجہ سے جواد کے لقب سے نواز ا گیا ہم ذیل میں آپ کی سخاوت کے کچھ واقعات نقل کررہے ہیں :
۱۔مورخین نے روایت کی ہے کہ احمد بن حدید اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ حج کیلئے نکلے تو ان پر ڈاکوؤں نے حملہ کر کے ان کا سارا مال ومتاع لوٹ لیا، مدینہ پہنچ کر احمد امام محمد تقی کے پاس گئے اور ان سے سارا ماجرا بیان کیا تو آپ نے اُن کیلئے ایک تھیلی لا نے کا حکم دیا اور اُن کو مال عطا کیا تا کہ پور ی جماعت میں تقسیم کردیں اس مال کی مقدار اتنی ہی تھی جتنا مال ان کا لوٹا گیاتھا۔(۲)
۲۔عتبی سے روایت ہے کہ ایک علوی مدینہ میں ایک کنیز خرید نا چا ہتا تھا، لیکن اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا جس سے اس کو خرید ا جا سکے تو اس نے امام محمد تقی سے اس کی شکایت کی امام نے اس کے مالک سے سوال کیا تو اس نے آپ کو بتایا، امام نے اس کے مالک سے مزرعہ(کھیت) اور کنیز کو خرید لیا ،علوی نے کنیز کے پاس پہنچ کر اس سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اس کو خرید اجا چکا ہے لیکن نہیں معلوم اس کو مخفی طور پر کس نے خرید اہے علوی نے امام کی طرف متوجہ ہو کر بلند آواز میں عرض کیا ۔فلاں کنیز فروخت کردی گئی ہے ۔
امام (ع) نے مسکراتے ہوئے کہا : کیا تم کو معلوم ہے اس کو کس نے خرید ا ہے ؟
اس نے جواب دیا :نہیں ۔
امام اس کے ساتھ اس کھیت کی طرف گئے جس میں وہ کنیز تھی اور امام نے اس کو اس میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا تو اس نے اس میں داخل ہونے سے منع کیا چونکہ وہ اس کے مالک کو نہیں پہچانتا تھا، جب امام نے اس سے اصرار کیا کہ تو اس نے قبول کرلیا جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس میں کنیز کو دیکھا امام نے اس سے فرمایا کیا تم اس کو پہچا نتے ہو ؟
اس نے کہا: ہاں ۔
علوی کو معلوم ہو گیا کہ امام (ع) نے اس کو خریدلیا ہے۔
امام نے اس سے فرمایا:یہ کنیز ’قصر‘مزرعہ غلہ اور جو کچھ اس قصر میں مال ودولت ہے سب تیرے لئے ہے، علوی خوش ہو گیا اور اس نے امام کا بڑی گر مجو شی سے شکریہ اداکیا ۔(۳)
یہ امام (ع) کی سخاوت و کرم کے بعض واقعات تھے ۔
آپ (ع) کے وسیع علوم
امام محمد تقی (ع) بچپن میں ہی اپنے زمانہ کے تمام علماء میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے ،بڑے بڑے علماء آپ (ع) کے مناظروں ،فلسفی ،کلامی اور فقہی بحثوں سے متأثر ہوکر آپ (ع) کی عظمت کا لوہا مانتے تھے ،اور منتصر کے پاس جاکر آپ (ع) کے فضل و بر تری کا اقرار کرنے تھے ،فقہا اور علماء سات سال کی عمر میں ہی آپ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور آپ (ع) کے علوم سے مستفیض ہوتے تھے یہاں تک کہ آپ (ع) کی فضیلت شائع ہو گئی ،مختلف بزموں اور نشستوں میں آپ (ع) کا چر چا ہونے لگا ،اپنے کمال و فضل کی بنا پر آپ (ع) دنیا والوں کے لئے حیرت وتعجب کاسبب قرار پائے ،جب مامون نے اپنی بیٹی کا امام سے عقد کرنے کا ارادہ کیا تو اُ س نے عباسیوں کو بلایاتو اُنھوں نے مامون سے امام کے امتحان کا مطالبہ کیا تو مامون نے قبول کر لیا ۔
اس نے امام کے امتحان کے لئے بغداد کے قاضی القضات یحییٰ بن اکثم کو معین کیااور یہ وعدہ کیا کہ اگروہ امام کوان کے امتحان میں ناکام کردے اور وہ جواب نہ دے سکیں تو اس کو بہت زیادہ مال و دولت دیا جا ئے گا،یحییٰ اس مجلس میں پہنچا جس میں وزراء اور حکّام موجود تھے سب کی نظریں امام (ع) پر لگی ہو ئی تھیں چنانچہ اس نے امام (ع) سے عرض کیا :کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ (ع) سے کچھ دریافت کروں ؟
امام (ع) نے مسکراتے ہوئے فرمایا :’’اے یحییٰ !جو تم چاہو پوچھو !‘‘
یحییٰ نے امام (ع) سے کہا :آپ (ع) فرمائیے حالت احرام میں شکار کرنے والے شخص کا کیا حکم ہے ؟
امام (ع) نے اس مسئلہ کی تحلیل کرتے ہوئے اس طرح اس کی مختلف صورتیں بیان کیں اور یحییٰ سے سوال کیا کہ تم نے ان شقوں میں سے کو نسی شق پوچھی ہے ؟
آپ (ع) نے فرمایا :’’ اُس نے حدود حرم سے باہر شکارکیا تھا یا حرم میں ،شکار کرنے والا مسئلہ سے آگاہ تھا یا نہیں ،اس نے عمدا شکار کیا ہے یا غلطی سے ایسا ہو گیا ہے ،شکار کرنے والا آزاد تھا یا غلام ،وہ بالغ تھا یا نا بالغ ،اُس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا ،شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا ، شکار چھوٹا تھا یا بڑا ، شکار ی شکار کرنے پر نا دم تھا یامُصر ،شکار رات کے وقت کیا گیا ہے یا دن میں اور اس نے حج کیلئے احرام باندھا تھا یا عمرہ کیلئے ؟‘‘۔
یحییٰ کے ہوش اڑ گئے وہ عاجز ہو گیا چونکہ اُس نے اپنے ذہن میں اتنی شقیں سو چی بھی نہیں تھیں ، مجمع میں تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلند ہو نے لگیں ، اور سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت (ع) کو علم و حکمت اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسول کو عطا کیا ہے ۔
امام محمد تقی (ع) نے اس مسئلہ کی متعدد شقیں بیان فرما ئیں جبکہ ان میں سے بعض شقوں کا حکم ایک تھا جیسے شکار رات میں کیا جائے یا دن میں ان دونوں کا حکم ایک ہے لیکن امام (ع) نے اس کی دشمنی کو ظاہر کرنے اور اسے عاجز کرنے کے لئے ایسا کیا تھا چونکہ وہ آپ (ع) کا امتحان لینے کی غرض سے آیا تھا ۔
مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کران سے کہا :ہم اس نعمت پر خدا کے شکر گذار ہیں، جو کچھ میں نے سوچا تھا وہی ہوا ،کیا تمھیں اُن کی معرفت ہو گئی جن کا تم انکار کر رہے تھے ؟ ۔(۴)
جب عباسی خاندان پر اس چھوٹے سے سِن میں امام محمد تقی (ع) کا فضل و شرف اور اُن کا وسیع علم آشکار ہو گیا تو مامون نے اپنی بیٹی ام الفضل کا آپ (ع) سے عقد کر دیا ۔
حقیقی ایمان
اللہ پرایمان اس پر بھروسے اور توکل پر دلالت کر تا ہے ہم اُن میں سے ذیل میں چند نصیحتیں بیان کر رہے ہیں :
۱ ۔ اللہ پر اعتماد
امام محمد تقی (ع) کا فرمان ہے :جوشخص خدا پر بھروسہ کر تا ہے خدا اس کو خو شی دکھلاتا ہے، جوشحص خدا پر توکل کرتا ہے خدا اس کو مصیبتوں سے بچاتا ہے خدا پر بھروسہ ایسا قلعہ ہے جس میں مو من ہی جا سکتا ہے خدا پر توکل کرنا برائی سے بچانے کا ذریعہ اور ہر دشمن سے حفاظت کا وسیلہ ہے ۔(۵)
اِن سنہرے کلمات میں جس چیز کی تمام انسانوں کو اپنی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے وہ خالق کائنات اور زندگی دینے والے پر بھروسہ کرنا ہے جس نے اللہ پر بھروسہ کیا وہ خو شی دیکھے گا اور اللہ پر بھروسہ کرنا انسان کے امور کے لئے کافی ہے ۔
۲۔اللہ کے ذریعہ بے نیازی
امام محمد تقی (ع) نے اللہ کے ذریعہ بے نیازی اور اسی سے امید باندھنے کی دعا فر ما ئی :جوشخص خدا کے ذریعہ بے نیاز ہوگا لوگ اسی کے محتاج ہوں گے ،اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا لوگ اس سے محبت کر یں گے ‘‘۔(۶)
۳۔اللہ سے لو لگانا
امام محمد تقی (ع) نے اللہ سے لو لگانے کی ترغیب دلا ئی چونکہ خدا کا فیض اور لطف و کرم کبھی ختم نہیں ہوتا: ’’لیکن جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور سے لَو لگا ئی خدا اس شخص پر لو لگانے والے کو غالب کردیتا ہے ‘‘۔(۷)
مکارم اخلاق
امام محمد تقی (ع) نے مکارم اخلاق اور محاسن صفات پر مشتمل دعا میں فرمایا ہے :’’انسان کے بہترین اخلاق کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا ،اس کے کرم کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے محب کے ساتھ اچھا برتاؤ کر تا ہے ،اس کے صبر کا نمونہ یہ ہے کہ وہ شکایت نہیں کرتا ،اس کی خیر خوا ہی کی پہچان یہ ہے کہ وہ ناپسند باتوں سے روکتا ہے ،نرمی کی پہچان یہ ہے کہ انسان اپنے دینی بھا ئی کی ایسے مجمع میں سر زنش نہ کرے جہاں اُس کو بُرا لگتا ہے ،اس کی سچی صحبت کی پہچان یہ ہے کہ وہ کسی پر بار نہیں بنتا ،اس کی محبوبیت کی پہچان یہ ہے کہ اس کے موافق زیادہ اور مخالف کم ہوتے ہیں ‘‘۔(۸)
امام محمد تقی (ع) نے ان بہترین کلمات کے ذریعہ حسن اخلاق اور مکارم اخلاق،سچائی قائم کرنے اور حقیقی فکر و محبت کرنے کی بنیاد ڈالی ۔
آداب سلوک
امام محمد تقی (ع) نے لوگوں کے درمیان حسن سلوک اور اس کے آداب کا ایک بہت ہی بہترین نظام معین فرمایا ۔آپ (ع) اس سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں :
۱۔’’تین عادتوں سے دل موہ لئے جاتے ہیں :معاشرے میں انصاف ،مصیبت میں ہمدردی ، پریشا ن حالی میں تسلّی‘‘ ۔(۹)
۲۔’’جس شخص میں تین باتیں ہو ں گی وہ شرمندہ نہیں ہوگا :جلد بازی سے کام نہ لینا ،مشورہ کرنا ، عزم کے وقت اللہ پر بھروسہ کرنا ،جوشخص اپنے بھا ئی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کرے وہ اس کا محسن ہے اور جو علانیہ طور پر اس کو نصیحت کر ے گویا اُس نے اس کے ساتھ برا ئی کی ہے ‘‘۔(۱۰)
۳۔’’مومن کے اعمال نامہ کی ابتدا میں اس کا حسن اخلاق تحریر ہو گا ،سعادتمند کے اعمال نامہ کے شروع میں اس کی مدح و ثنا تحریر ہو گی ،روایت کی زینت شکر ،علم کی زینت انکساری ،عقل کی زینت حسن ادب ہے ، خوبصورتی کا پتہ کلام کے ذریعہ چلتا ہے اور کمال کا پتہ عقل کے ذریعہ چلتا ہے ‘‘۔(۱۱)
امام کے یہ کلمات حکمت ،قواعد اخلاق اور آداب کے اصول پر مشتمل ہیں ،اگر کسی شخص کے پاس صرف یہی کلمات ہوں تو آپ (ع) کی امامت پر استدلال کرنے کیلئے کافی ہیں ، ایک کمسن اپنی عمرکے ابتدائی دور میں کیسے ایسی دا ئمی حکمتیں بیان کرنے پر قادر ہو گیا جن کا بڑے بڑے علماء مثل لانے سے عاجز ہیں ؟
آپ (ع) کے مو عظے
ہم ذیل میں آپ (ع) کے بعض مو عظے بیان کر رہے ہیں :
۱۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام فر ماتے ہیں :’’توبہ میں تاخیر کرنا دھوکہ ہے ،اور توبہ کرنے میں بہت زیادہ دیرکرنا حیرت و سرگردانی کا سبب ہے ،خدا سے ٹال مٹول کرنا ہلاکت ہے اور بار بار گناہ کرنا تدبیر خدا سے ایمن ہونا ہے ،خداوند عالم کا فرمان ہے :(لا یَأْمَنُ مَکْرَ اﷲِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ)(۱۲) ‘‘۔(۱۳)
’’مکر خدا سے صرف گھاٹا اٹھانے والے ہی بے خوف ہوتے ہیں ‘‘
۲۔ایک شخص نے آپ (ع) سے عرض کیا :مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے تو آپ (ع) نے اس کو یہ بیش بہا نصیحت فرمائی :’’صبر کو تکیہ بناؤ ،غریبی کو گلے لگاؤ ،خواہشات کو چھوڑ دو ،ہویٰ و ہوس کی مخالفت کرو ،یاد رکھو تم خدا کی نگاہ سے نہیں بچ سکتے، لہٰذا غور کرو کس طرح زند گی بسر کرنا ہے ‘‘۔(۱۴)
۳۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے بعض اولیا کو وعظ و نصیحت پر مشتمل یہ گرانبہا خط تحریر فرمایا : ’’ہم اس دنیا سے چلو بھر پانی لیتے ہیں لیکن جس شخص کی خواہش اپنے دوست کی طرح ہو اور وہ اس کی روش کے مطابق چلتا ہو تو وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ہوگا جبکہ آخرت چین و سکون کا گھر ہے ‘‘۔(۱۵)
آپ (ع) کے یہ وہ موعظے اور ارشادات ہیں جو انسان کو اس کے رب سے نزدیک کرتے ہیں اور اس کے عذاب و عقاب سے دور کرتے ہیں ،انسان کے نفس میں اُبھرنے والے برے صفات کا اتباع کر نے سے ڈراتے ہیں ،یہ برے صفات انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ،انسان کو رذائل اور جرائم کے میدانوں میں گامزن کر دیتے ہیں ،امام محمد تقی (ع) نے اپنے وعظ و ارشادات میں اپنے آباء و اجداد کا اتباع فرمایا ہے ،یہ وہ تابناک نصائح ہیں جن کا ہم اُن کی سیرت و سوانح حیات میں مطالعہ کرتے ہیں ۔
مامون کا امام (ع) سے مسئلہ کی وضاحت طلب کرنا
مامون نے امام محمد تقی (ع) سے اس مسئلہ کی وضاحت طلب کی جو آپ (ع) نے یحییٰ بن اکثم سے پوچھا تھا ، تو آپ (ع) نے یوں وضاحت فرما ئی :
’’اگر حالتِ احرام میں حدود حرم سے باہر شکا رکیا ہے اور شکار پرندہ ہے اور بڑا بھی ہے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے ،اگر یہی شکار حدود حرم کے اندر ہوا ہے تو کفارہ دُوگنا (یعنی دو بکریاں )، اگر پرندہ چھوٹا تھا تو دنبہ کا وہ بچہ جو ماں کا دودھ چھوڑ چکا ہو ،اگر یہ شکار حرم میں ہوا ہے تو اُس پرندہ کی قیمت اور ایک دنبہ ،اگر شکار وحشی گدھا ہے تو کفارہ ایک گائے اوراگر شکار شتر مُر غ ہے تو کفارہ ایک اونٹ ہے اگرشکاری کفارہ دینے پر قادر نہیں ہے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس پر بھی قادر نہیں ہے اٹھارہ دن روزے رکھے ، اگر اس نے گائے کا شکار کیا ہے تو اس کا کفارہ بھی ایک گا ئے ہے اگر اس کفارہ کو دینے پر قادر نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو نو دن کے ر وزے رکھے ،اگر شکار ہر ن ہے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے اگر وہ اس کفارہ کو دینے پر قادر نہ ہو تو دس مسکینوں کو کھانا کھلائے اگر یہ بھی نہ دے سکے تو تین دن کے روزے رکھے ،یہ شکار اگر حدود حرم میں ہوا ہے تو کفارہ دوگُنا ہوگا :(ھدْیاًبالغ الکعبۃِ)اگر احرام حج کا ہے تو قربانی منیٰ میں کرے گا جس طرح دوسرے حا جی کرتے ہیں اور اگر احرام عمرہ کا ہے تو کفارات کو خانۂ کعبہ تک پہنچانا ہوگا اور قربانی مکہ میں ہو گی ،اور بکری کی قیمت کے مانند صدقہ دینا ہوگا ۔
اگر اس نے حرم کے کسی کبوتر کا شکار کیا ہے تو وہ ایک درہم صدقہ دے گا اور ایک درہم سے حرم کے کبوتروں کے لئے چارا خریدے گا ،بچہ کا شکار کرے تو آدھا درہم صدقہ دے گا اور اگر بیضہ توڑدے تو ایک چوتھا ئی درہم صدقہ دے گا ،محرم کو ہر حال میں کفارہ ادا کرنا ہوگا چاہے وہ جان بوجھ کر شکار کرے یا بھول کر شکار کرے ،چاہے وہ اس مسئلہ سے واقف ہو یا ناواقف ،غلام کا کفارہ مالک کو ادا کرنا ہوگا چونکہ غلام خود بھی مالک کی ایک ملکیت ہی شمار ہوتا ہے ،اگر حالت احرام میں شکار کا پیچھا کرے اور شکار مرجائے تو اس کو فدیہ دینا ہوگا ،اگر اپنے اس فعل پر اصرار کرے گا تو اُس پر آخرت میں بھی عذاب ہوگا اور اگر اپنے اس فعل پر پشیمان و شرمندہ ہوگا تو وہ آخرت کے عذاب سے بچ جا ئے گا ،اگر وہ رات میں غلطی سے اس کا گھونسلا خراب کردے تو اُس کو کچھ نہیں دینا ہوگا جب تک کہ وہ شکار نہ کرے ،اگر وہ رات یا دن میں اس کا شکار کرلے تو فدیہ دینا ہوگا ،اوراگر احرام حج کا ہے تو فدیہ کو مکہ پہنچانا ہوگا ۔۔۔‘‘۔
مامون نے اس مسئلہ کو لکھنے کا حکم دیا اس کے بعد عباسیوں سے مخاطب ہو کر یوں گو یا ہوا :کیا تم میں کو ئی اس مسئلہ کا جواب دے سکتا ہے ؟
نہیں ،خدا کی قسم قاضی بھی اس کا جواب نہیں دے سکتا ۔
اے امیر المو منین! آپ بہترجانتے ہیں ۔۔۔
آگاہ ہوجاؤ کیا تم نہیں جانتے کہ اہل بیت (ع) عام مخلوق نہیں ہیں ؟رسول ؐ اللہ نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی بچپن میں ہی بیعت کی ہے اور ان دونوں بچوں کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہیں کی ہے، کیا تمھیں نہیں معلوم کہ حضرت علی (ع) نو سال کے سن میں رسول اللہ پر ایمان لائے ،اور اللہ و رسول ؐ نے ان کا ایمان قبول کیا اور ان کے علاوہ کسی اور بچہ کا ایمان قبول نہیں کیا ؟ نہ ہی رسول ؐ اللہ نے آپ (ع) کے علاوہ کسی اور بچہ کو دعوت دی ،اور کیا تمھیں نہیں معلوم کہ اس ذریت میں جو حکم پہلے پر نافذ ہوگا وہی حکم آخری پر نافذ ہو گا ۔(۱۶)
مامون ایمان لے آیاکہ ائمہ اہل بیت (ع) کا اسلام میں بہت ہی بلند وبالا مقام ہے اور اُن کے چھوٹے بڑے فضیلت میں برابر ہیں ۔
یہ بات بھی شایانِ ذکر ہے کہ جب امام محمد تقی (ع) بغداد میں تھے تو علماء اور راوی آپ کے مختلف علوم فقہ، کلام ،فلسفہ ، قرآن کریم کی تفسیر اور علم اصو ل وغیرہ پر مشتمل دوروس تحریر کیا کر تے تھے ۔(۱۷)
امام محمد تقی علیہ السلام کے پایۂ علمی ،مناظرہ اور دیگر علمی اور فکری کارنامے آپ (ع) کی نوجوانی کے ہیں شیعو ں کا اس بات پر مطلق ایمان ہے کہ ائمہ اہل بیت (ع) کو اللہ نے علم و حکمت اور فصل خطاب عطا کیا ہے اور ان کو وہ فضیلت عطاکی ہے جو دنیا میں کسی کو بھی نہیں عطا کی ہے ۔۔۔
حوالہ جات
۱۔حیاۃالامام محمد تقی (ع) ،صفحہ ۷۵۔
۲۔وافی بالوفیات ،جلد ۴،صفحہ ۱۰۵۔
۳۔مرآۃ الزمان، جلد ۶صفحہ ۱۰۵ ۔
۴۔الارشاد، صفحہ ۲۶۱۔وسائل ،جلد ۹،صفحہ ۱۸۷،وغیرہ ۔
۵۔فصول مہمہ ابن صباغ، صفحہ ۳۷۳۔
۶۔جوہرۃ الکلام، صفحہ ۲۵۰۔
۷۔حیاۃ الامام محمد تقی (ع) ، صفحہ ۱۰۵۔
۸۔در تنظیم صفحہ ۲۲۳۔الاتحاف بحب الاشراف ،صفحہ ۷۷۔
۹۔جوہرۃ الکلام ،صفحہ ۱۵۰۔
۱۰۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ۷۸۔
۱۱۔ایضاً
۱۲۔سورۂ اعراف، آیت ۹۹۔
۱۳۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۶۔
۱۴۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۶۔
۱۵۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۶۔
۱۶۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۲۔وسائل الشیعہ ،جلد ۹ صفحہ ۱۸۸۔یہ مکالمہ ارشاد، صفحہ ۳۱۲میں مختصر طور پر نقل ہوا ہے ۔
۱۷۔ اس سلسلہ میں رجوع کیجئے: عقیدۃ الشیعہ ،صفحہ ۲۰۰،حیاۃالامام محمد تقی (ع) ، صفحہ ۲۵۷۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



تاريخ : سه شنبه سی و یکم اردیبهشت ۱۳۹۲ | 18:28 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

حضرت امام علی نقی علیہ السلام ہرحال میں یادالہی اورعبادت خدامیں مشغول رہتے اور وہ دنیا سے استغناء اورمصائب کے ہجوم میں اپنے آبائے طاہرین کی طرح صبر و استقامت کا پہاڑ تھے۔ 

 امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر تسلیت و تعزیت عرض ہے

 ابنا: حضرت امام علی نقی علیہ السلام ہرحال میں یادالہی اورعبادت خدامیں مشغول رہتے اور وہ دنیا سے استغناء اورمصائب کے ہجوم میں اپنے آبائے طاہرین کی طرح صبر و استقامت کا پہاڑ تھے۔ 

دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے پیش آنا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی امدادکرنا،  وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی (رہ)کی سیرت میں نمایاں طور پرنظرآتے ہیں۔

قیدکے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی تیار رہتی تھی دیکھنے والوں نے جب اس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں اپنے دل میں موت کا خیال رکھنے کے لیے یہ قبر اپنی نگاہوں کے سامنے تیار رکھتا ہوں.

امام علیہ السلام کا اپنے اس عمل سے بادشاہ وقت کو یہ عملی جواب دینا تھا کہ تو ہمیں موت سے نہیں ڈرا سکتا ہم تو ہمیشہ موت کے لئے تیار ہیں اور ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے کبھی تسلیم نہیں ہونگے۔متوکل کے بعداس کابیٹا مستنصرپھرمستعین اورپھر ۲۵۲ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا معتزابن متوکل نے بھی اپنے باپ کی راہ و روش کونہیں چھوڑااورحضرت کے ساتھ سختی ہی کرتارہا یہاں تک کہ اسی نے آپ کوزہردیدیا ۔

علامہ ابن جوزی تذکرةخواص الامةمیں لکھتے ہیں کہ آپ معتزباللہ کے زمانہ خلافت میں شہیدکئے گئے ہیں اورآپ کی شہادت زہرسے واقع ہوئی ہے، علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے شہیدکیاگیاہے (انوارالابصارص ۱۵۰) ۔آپ کی شہادت بتاریخ ۳/ رجب ۲۵۴ہجری بروز پیر  واقع ہوئی . اور حضرت امام نقی (ع) کی نماز جنازہ ان کے فرزند حضرت امام حسن عسکری (ع) نے ادا کی اور آپ کو  سامرہ دفن کردیا گیا۔

.......



تاريخ : سه شنبه بیست و چهارم اردیبهشت ۱۳۹۲ | 0:31 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
امام سجاد علیہ السلام نے آیہ کریمہ «وَ مِنْ وَرائهم بَرْزَخٌ الى يوم يُبْعَثُون»؛(31) ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے کی تلاوت کے بعد فرمایا: «هو القبر و انّ لهم فيها معيشةً ضنكا و الله اِنّ القبر لروضةٌ من رياض الجنة او حُفْرَةٌ مِن حُفَرِ النّار؛ بزرخ قبر ہے جس میں انکے لئے زندگی گزارنا سخت ہے خدا کی قسم بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ 

 قرآن امام سجاد علیه السلام کے کلام میں

قرآن ایک ایسی گرانقدر اور ارزشمند کتاب ہے جو تمام انسانوں کے لیے نمونہ عمل ہے۔ جس پر عمل پیرا ہوکر ہدایت کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ قرآن کے مطابق تا روز قیامت نہ ایسی کوئی کتاب پیدا ہوسکتی ہے اور نہ اس سے بہتر۔ قرآن کی حکمت تمام دانشمندوں کو اپنے سامنے تعظیم سے سر خم کرواتی ہے۔ جتنا بھی انسان پاک فطرت صفای روح و قلب اور طھارت ظاہری و باطنی سے بہرہ مند ہو اتنا ہی وہ اس نورانی کتاب سے فیضیاب ہوسکتا ہے اور اس کے جمال کو اپنی بصیرت سے مشاہدہ کرسکتا ہے جیسا کہ قرآن فرماتا ہے :«لايمسُّهُ الاّ المطهّرون۔»(1)

جہاں تک پیغمبراکرم(صلی الله علیہ و آلہ و سلم) اور اس کے اہل بیت(علیہم السلام) کا تعلق ہے وہ خدا کے طرف سے منتخب ہوئے ہیں اور آیت تطہیر کے مطابق وہ پاکیزگی اور قداست سے بہرہ مند ہیں اور ہر پلیدی و برائی سے مبرا ہیں یہی قرآن کے حقیقی مفسر ہیں انکی عصمت کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ انہی نورانی چہروں میں ایک تابناک چہرہ جناب سید الساجدین حضرت امام زين العابدین علیه السلام کا ہے اس مقالہ میں قرآن کو امام زین العابدین علیه السلام کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کی گئی آو! امام کے ہاتھوں معارف قرآنی کاجام نوش کریں۔

عظمت قرآن

اامام زین العابدین علیه السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے"من اعطاه الله القرآن فَرَأى‏ انّ احداً اُعطى افضل ممّا اُعطى فقد صغّر عظيما و عظّم صغيراً"؛جس آدمی کو خداتعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو اگر وہ یہ تصور کرے کہ کسی کو اس سے بہتر الہی ہدیہ عطا کیا گیا ہے ۔ حقیقت میں اس نے عظیم کو پست اور پست کو عظیم سمجھا ہے۔ (2)

خصوصیات قرآن

امام زین العابدین علیه السلام اپنے نورانی دعاؤں میں قرآن کی اس طرح توصیف کرتے ہیں

الف) نور ہدایت

قرآن مجید نے اپنی صفت کلمہ نور سے بیان کی ہے جیسے اس آیۃ شریفہ میں ذکر ہوا ہے « و انزلنا اليكم نوراً مبينا»(3) لیکن یہ نورانیت کن افراد کے لیے ہے؟ امام علیه السلام اس کا جواب یوں بیان کرتے ہیں :« و جَعَلْتَهُ نوراً نَهتَدِى مِن ظُلَمِ الضَّلالَة والجَهالة باتّباعه» خدایا تم نے قرآن کو نور قرار دیا جس کی پیروی سے ہم ظلمت کے اندھیرے اور جہالت سے نجات حاصل کرسکیں۔ (4)

قرآن کے نہ بجھ نے والے نور کی تشریح امام سجاد علیه السلام کچھ اس طرح کرتے ہیں « و نور هُدىً لايُطْفَأ عَنِ الشّاهِدين برهانه؛ اور اس کو ہدایت کا نور قرار دیا جو مشاہدہ کرنے والوں کے لیے کبھی خاموش نہ ہونے والی دلیل ہے۔(5)

ب)مرض کی دوا

اللہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: « و َنُنَزِّلُ مِنَ القرآن ما ھو شفاءٌ و رحمةٌ للمؤمنين»اور ہم قرآن میں وہ سب کچھ نازل کررہے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے (۶)۔لیکن سوال یہ ہے کہ کب اور کن لوگوں کے لئے؟ امام زین العابدین علیه السلام اس سوال کا جواب اپنے پربرکت الفاظ سے کچھ اس طرح دیتے ہیں۔«و شفاءً لِمَنْ اَنْصَتَ بِفهم التّصديق الى اسْتماعه؛ قرآن شفا ہے اس شخص کے لئے جو اِس کو یقین اور تصدیق کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہے اور اس کے سننے کے لیے خاموش رہتا ہے۔

میزان عدالت :

قرآن مجید کا ارشاد ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿8﴾اے ایمان والو خدا کے لئے قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو اور خبردار کسی قوم کی عداوت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ انصاف کو ترک کردو -انصاف کرو کہ یہی تقوٰی سے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ﴿8﴾ قرآن پیغمبر اکرم کو مخاطب قرار دے کر فرماتا ہے۔ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتَابٍ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ اور یہ کہیں کہ میرا ایمان اس کتاب پر ہے جو خدا نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔(۹) اور عدالت خانوادہ تشکیل دینے کے لیے پایہ و کرسی جانتے ہوئے فرماتا ہے « فَاِنْ خفتم الاّ تعدلوا فواحدة»(10)(آیت ۳) اور اسی طرح اقتصادی روابط کے لئے بھی بنیاد قراردیا ہے:« و اوفوا الكيل و الميزان بالقسط» اور ناپ تول میں انصاف سے پورا پورا دینا (۱۱) اور اسی طرح اختلافات کا حل بھی عدالت کے مطابق ہی چاہتا ہے۔« فاصلحوا بينهما بالعدل و اقسطوا اِنّ الله يُحِبُّ المُقْسطين» ان میں عدل کے ساتھ اصلاح کردو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے(۱۲)۔ لیکن عدالت کو یقینی بنانے کے لئے کن قوانین و ضوابط اور معیاروں کی ضرورت ہے ؟ امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :« و ميزان عدلٍ لايَحيفُ عن الحقّ لسانه» قرآن عدالت کی ترازو ہے اس کی زبان حق گوئی سے باز نہیں رہتی ہے۔ (۱۳)

زیبا تلاوت

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث شریف میں ارشاد فرماتے ہیں « لكلّ شى‏ء حِلية و حِيلة القرآن الصّوتُ الحسن» ہر چیز کے لئے زینت ہوتی ہے اور قرآن کی زینت اچھی آواز ہے۔»(14) امام صادق علیہ السلام ترتیل کے بارے میں اس طرح تفسیر کرتے ہیں «آن است كه در آن درنگ كنى و صداى خويش را زيبا سازى۔»(15) اس جھت بھی امام سجاد علیه السلام نصب العین ہیں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں «كان علىّ ابن الحسين صلوات الله عليهما احسن الناس صوتاً بالقرآن و كان السّقّاؤون يمرّون فيقفون ببابه يسمعون قرائتَه و كان ابو جعفرعليه السلام احسن الناس صوتاً» على بن الحسين‏ عليه السلام خوش صداترين افراد در خواندن قرآن بود۔ افراد سقا همواره به هنگام عبور، بر در خانه‏اش مى‏ايستادند و به قرائت او گوش مى‏دادند۔ و ابوجعفر(امام باقرعليه السلام) نيز نيكوترين صدا را در خواندن قرآن داشت۔»(17)

قرآن سے الفت:

زہری کہتا ہے میں نے امام علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا :« لو مات مَنْ بين المشرق و المغرب لما استوحشتُ بعد اَنْ يكون القرآن معى» اگر تمام لوگ مشرق سے مغرب تک مر جائے، چونکہ قرآن میرے ساتھ ہے؛ مجھے کوئی وحشت نہیں ہوگی۔(۱۹)

قرآن اور آخری زمانے کے لوگ :

امام سجاد علیہ السلام سے توحید کے بارے میں سوال پوچھا گیا آپ نے فرمایا " خداوند جانتا تھا کہ آخر زمانے میں لوگ زیادہ تفکر کرتے ہونگے اس لیے خداوند نے سورہ توحید اور سورہ حدید تا (علیم بذات الصدور ) نازل فرمایا۔ ۔۔۔۔(۲۰)

قرآن میں تفکر :

زہری کہتا ہے : میں نے امام علی بن الحسین علیہ السلام سے سنا کہ :« آيات القرآن خزائن فكلما فتحت خزانةٌ ينبغى لك ان تنظر ما فيها» قرآن مخفی خزانہ ہے پس جب بھی اس خزانے کا دروازہ کھولا جائے بہتر ہے کہ جوکچھ بھی اس میں ہے اس پر نظر ڈالو۔ (۲۱)

حروف مقطعہ کی تفسیر :

قرآن مجید کے انتیس سورے حروف مقطعہ سے آغاز ہوتے ہیں مفسروں نے ان کے مختلف معنی ذکر کئے ہیں مھمترین تفسیروں میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن کریم انہی حروفوں کا نمونہ ہے جو تمام انسانوں کے اختیار میں ہیں اگرتونائی رکھتے ہو تو اس جیسا اختراع کرو۔

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں " قریش اور یھود قرآن کو بے جا نسبت دیتے تھے۔ اور کہتے تھے قرآن سحر ہے اس کو(پیغمبر نے) خود ایجاد کیا ہے اور خدا سے منسوب کیا ہے خدا نے انکو اعلان فرمایا (الم۔۔۔) یعنی اے محمد! یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے انہی حروف مقطعہ (الف۔لام۔میم) میں سے ہیں جو آپکی زبان اور آپکے ہی حروف ہیں۔( انکو کہو) اگر اپنے مطالبے میں سچے ہو تو اس جیسا لاو۔(۲۲)

خدا کے خاص بندوں کی خصوصیتیں

قرآن کریم کا ارشاد ہےأَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ۔آگاہ ہوجاؤ کہ اولیائ خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ محزون اور رنجیدہ ہوتے (۲۳)اولیاء خدا کی خصوصیتیں کیا ہوتی ہیں؟ عیاشی امام باقرعلیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ میں نے علی بن الحسین علیہ السلام کی کتاب میں یہ دریافت کیا کہ اولیاء خدا کو نہ خوف ہوتا ہے اور نہ ہی غم و بریشانی چونکہ واجب الٰہی کو انجام دیتے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو پکڑا ہے(پر عمل کرتے ہیں)۔جو کچھ خدا نے حرام قرار دیا ہے اس سے پرہیز کرتے ہیں اوردنیا میں جلد فانی ہونے والی زندگی کی زینت سے زھد اختیار کیا ہے اور جوکچہ خدا کے پاس ہے اس کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور پاک رزق کے تلاش میں رہتے ہیں اور فخرفروشی اور زیادہ طلبی کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور اس کے بعد اپنے واجب حقوق انجام دینے کےلئے انفاق کرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنکی آمدنی میں اللہ تعالٰی نے برکت عطا کی ہے اور جو کچھ آخرت کیلئے پہلے سے ہی بیجتے ہیں اس کا ثواب انکو دیا جائےگا۔(۲۴)

حقیقی سپاہی

مکہ کے راستے میں عباد بصری امام زین العابدین علیہ السلام سے ملاقات کرتا ہے۔اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے: جہاد اور اسکی سختی کو چھوڑدیا اور حج اور اسائش کی طرف آئے ہو؟ اس کے بعد آیہ کریمہ «اِنّ الله اشترى من المؤمنين انفسهم و اموالهم بأنّ لهم الجنّة» کی تلاوت کی۔ امام نے فرمایا: آیت کا اگلا حصہ بھی بڑھ لو! عباد بصری نے دوسری آیت کی تلاوت کی «التّائبون العابدون السّائحون الرّاكعون السّاجدون الآمرون بالمعروف و النّاهون عن المنكر و الحافظون لحدود الله و بشّر المؤمنين»(25)؛ یہ لوگ توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے ، حمد پروردگار کرنے والے، راس خدا میں سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدے کرنے والے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے اور حدود الٰہیہ کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اے پیغمبر آپ انہیں جنت کی بشارت دیدیں۔اس وقت امام نے فرمایا: جب بھی ایسے افراد پاؤں جن میں یہ اوصاف ہو انکے ہمراہ جھاد حج سے افضل ہے۔

زھد کی معنی

کچھ لوگ تصور کرتے ہیں کہ زھد کی معنی اجتماع سے دوری اور زندگی کی خوبصورتی سے ہاتھ دو لینا ہے۔جب کہ قرآن مجید فرماتا ہے: ((مَنْ حَرَّمَ زينة الله الّتى اخرج لعباده و الطّيّبات من الرّزق)) کس نے اس زینت کو جس کو خدا نے آپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ رزق کو حرام کردیا ہے۔(27) اور اسی طرح دعا کی صورت میں انسان کو سکھایا کہ خدا سے دنیا اور آخرت کی نیکی طلب کرے «ربّنا آتنا فى الدّنيا حسنة و فى الاخرة حسنة»)28( اس بارے میں امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں۔

«اَلا و انّ الزهد فى آية من كتاب الله لكيلا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتيكم؛ خبردار! زھد جو قرآن کی اس آیت میں ہے فرماتا ہے جو کچھ آپ نے کھویا ہے اس کے بارے میں افسوس نہ کرو اور جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے وابستہ اور خوش نہ ہوجاو(29)

اسی طرح نھج البلاغہ میں پڑھتے ہیں کہ امام فرماتے ہیں: زھد قرآن کے دو کلموں میں ہے جیسے خدا فرماتا ہے لكيلا تأسوا ۔۔۔ جو بھی اپنے گزشتہ پر افسوس نہ کرے اور اپنے مستقبل پر مغرور اور وابستہ نہ ہوجائے اس نے زہد کو دونوں جانب سے حاصل کیا ہے۔(30)

عالم برزخ

امام سجاد علیہ السلام نے آیہ کریمہ «وَ مِنْ وَرائهم بَرْزَخٌ الى يوم يُبْعَثُون»؛(31) ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے کی تلاوت کے بعد فرمایا: «هو القبر و انّ لهم فيها معيشةً ضنكا و الله اِنّ القبر لروضةٌ من رياض الجنة او حُفْرَةٌ مِن حُفَرِ النّار؛ بزرخ قبر ہے جس میں انکے لئے زندگی گزارنا سخت ہے خدا کی قسم بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

منابع و مآخذ:

1۔ سورہ واقعه آیت 79۔

2۔ اصول كافى، ج 2، ص 605، باب فضل حامل القرآن، ح 7۔

3۔ سورہ نساء آیت 174۔

4 و 5۔ صحيفه سجاديه، دعاى 42۔

6۔ سورہ اسراء آیت 82 ۔

7۔ صحيفه سجاديه، دعاى 42۔

8۔ سورہ مائده آیت 8۔

9۔ سورہ شورى آیت 15۔

10۔ سورہ نساء آیت 4۔

11۔ سورہ انعام آیت 152۔

12۔ سورہ حجرات آیت 9۔

13۔ صحيفه سجاديه، دعاى 42۔

14۔ اصول كافى، ج 2، ص 615، باب ترتيل القرآن بالصوت الحسن، ح 9۔

15۔ تفسير صافى، ج 1، ص 45، مقدمه يازدهم ۔

16۔ اصول كافى، ج 2، ص 615، ح 4۔

17۔ وہی مأخذ، ح 11۔

18۔ وہی مأخذ، باب فضل حامل القرآن، ح 7۔

19۔ وہی مأخذ، باب فضل القرآن، ح 13۔

20۔ تفسير صافى، ج 2، ص 866 ۔

21۔ اصول كافى، ج 2، ص 609، باب فى قرائته، ح 2۔

22۔ تفسير برهان، ج 1، ص 54۔

23۔ سورہ يونس آیت 62۔

24۔ تفسير صافى، ج 2، ص 757۔

25۔ توبه آیت 111 و 112۔

26۔ تفسير صافى، ج 1، ص 734، ذيل آيه 111 سوره توبه۔

27۔ سورہ اعراف آیت 32۔

28۔ سورہ بقره آیت 201۔

29 و 30۔ تفسير صافى، ج 2، ص 665، ذيل آيه 23 سوره حديد۔

31۔ سورہ مؤمنون آیت 100۔



تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم آذر ۱۳۹۱ | 15:17 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
صادق آل محمد (علیہ السلام) جناب عباس (علیہ السلام) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ" کان عمنا العباس نافذ البصیرۃ، صلب الایمان جاہد مع ابی عبد اللہ (علیہ السلام) و ابلی بلاء حسنا و مضی شہیدا "(ہمارے چچا عباس (علیہ السلام) عمیق بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے، امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کیا، بہترین امتحان دے کر مقام شہادت پر فائز ہو گئے"۔ 

 قمر بنی ہاشم حضرت ابوالفضل العباس (علیہ السلام)ولادت با سعادت
۳ شعبان المعظم ۲۶ ہجری قمری مدینہ منورہ میں آپ (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت ہوئی، حضرت عباس کی ولادت سے کائنات خوشیوں سے مملو ہو گئی۔ ا میر المؤمنین (علیہ السلام) نے آپ (علیہ السلام) کے کانوں میں اذان و اقامت کہی۔ ولادت باسعادت کے ساتویں دن ایک دنبہ ذبح کروا کر عقیقہ کیا اور فقراء میں تقسیم کیا۔
 امیر المؤمنین (علیہ السلام) حضرت عباس (علیہ السلام) سے انتہائی محبت کرتے تھے، اپنی گود میں بٹھاتے تھے اور آستینوں کو الٹ کر بازوپر بوسہ دیتے تھے اور آنسو بہاتے تھے ایک دن ام البنین (علیہ السلام) مادر گرامی حضرت عباس (علیہ السلام) اس ماجرا کو دیکھ رہی تھیں، انہوں نے گریہ کرنے کی وجہ دریافت کی تو امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا" یہ ہاتھ حسین (علیہ السلام) کی مدد اور نصرت میں کاٹے جائیں گے میں اس دن کو یاد کر کے رو رہا ہوں"۔
تربیت حضرت عباس (علیہ السلام)
وہی گھرانہ جس میں جوانان جنت کے سرداروں نے تربیت پائی اسی میں حضرت عباس (علیہ السلام) کی بھی تربیت ہوئی اور شروع سے ہی عترت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے درس انسانیت، شہامت، اخلاق، صداقت اور فداکاری سیکھا۔ آپ کی ذاتی استعداد اور خاندانی تربیت اس چیز کا باعث بنی کہ جسمانی رشد کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معنوی کمالات بھی حاصل کیے جناب عباس (علیہ السلام) نہ صرف قد و قامت میں ممتاز اور منفرد تھے بلکہ خردمندی، دانائی اور انسانی کمالات میں بھی اپنی مثال آپ تھے وہ جانتے تھے کہ کس دن کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور انہیں حجت خدا کی نصرت ومدد کرنا ہے، وہ عاشورا ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے تاریخ میں ملتا ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب آپ (علیہ السلام) کی تمام اولاد آپ (علیہ السلام) کے اطراف میں نگران و پریشان اور گریہ کناں کھڑی تھی عباس (علیہ السلام) کا ہاتھ حسین (علیہ السلام) کے ہاتھ میں دیا اور یہ وصیت کی" کربلا میں حسین (علیہ السلام) سے جدا نہ ہونا"۔
حضرت عباس (علیہ السلام) کی ازدواجی زندگی
حضرت عباس علیہ السلام نے اٹھارہ سال کی عمر میں امام حسن علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دور میں عبد اللہ بن عباس کی بیٹی حضرت لبابہ کے ساتھ شادی کی۔ عبد اللہ بن عباس راوی حدیث، مفسر قرآن، اور امام علی (علیہ السلام) کے بہترین شاگرد تھے۔ اس خاتون کی شخصیت بھی ایک علمی گھرانے میں پروان چڑھی تھی اور بہترین علم و ادب کے زیور سے آراستہ تھیں جناب عباس (علیہ السلام) کے ہاں دو بیٹے پیداہوئے حضرت عبید اللہ اور حضرت فضل جو بعد میں بزرگ علماء اور فضلا میں سے شمار ہوئے حضرت عباس (علیہ السلام) کے پوتوں میں سے کچھ افراد راویان حدیث اور اپنے زمانے کے برجستہ علماء میں شمار ہوتے ہیں یہ نور علوی جو جناب عباس (علیہ السلام) کی صلب میں تھا نسل در نسل تجلی کرتا رہا اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاویداں بن گیا۔
شجاعت حضرت عباس (علیہ السلام)
آپ (علیہ السلام) نے اپنی گرانقدر زندگی کے چودہ سال امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے ساتھ گزارے اس کے علاوہ آپ (علیہ السلام) کے ننہال( قبیلہ بنی کلاب) جو شجاعت، بہادری اور شمشیر زنی میں معروف تھے آپ کی شجاعت ان دو خاندانوں کی تاثیر تھی گویا عباس (علیہ السلام) شجاعت کے دو سمندروں کا آپس میں ملنے کا نام ہے تاریخ نے اس ہاشمی نوجوان کے جنگ صفین کے بعض کرشموں کو قلمبند کیا ہےملتا ہے کہ:
 صفین کی جنگ کے دوران ایک نقاب پوش نوجوان امیر المؤمنین کے لشکر سے نکلا جس کی ہیبت سے دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور دور سے خاموش تماشائی بن گئے معاویہ کو اس بات پر غصہ آیا اس نے اپنی فوج کے شجاع ترین آدمی" ابن شعثاء" کو میدان میں جانے کا حکم دیا کہ جو ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتا تھا اس نے کہا" اے امیر مجھے لوگ دس ہزار آدمی کے برابر سمجھتے ہیں آپ مجھے ایک نوجوان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں معاویہ نے کہا پس کیا کروں ابن شعثا نے کہا میرے سات بیٹے ہیں میں ان میں سے کسی ایک کو بھیجتا ہوں تا کہ اس کا کام تمام کر دے معاویہ نے کہا بھیج دو اس نے ایک کو بھیجا اس نوجوان نے پہلے وار میں اسے واصل جہنم کر دیا دوسرے کو بھیجا اس کا بھی وہی حال ہوا اسی طر ح تیسرے چوتھے اور ساتویں تک سارے کے سارے واصل جہنم ہوگئے معاویہ کی فوج میں زلزلہ آ گیا آخر کار خود " ابن شعثا" میدان میں یہ رجز پڑھتا ہوا آیا اے جوان تو نے میرے سات بیٹوں کو قتل کیا ہے خدا کی قسم تمہارے ماں باپ کو تیری عزا میں بٹھاؤں گا اس نے تیزی سے حملہ کیا تلواریں چمکنے لگیں آخر اس نوجوان نے ایک کاری ضرب سے " ابن شعثاء" کو زمین بوس کر دیا سب کے سب مبہوت رہ گئے امیر المؤمنین نے وا پس بلا لیا نقاب ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا یہ نو جوان کون تھا یہ قمر بنی ہاشم یہ بار ہ سالہ نوجوان شیر خدا کا شیر تھا۔
وفاداری حضرت عباس (علیہ السلام)
 جناب عباس (علیہ السلام) نے جب سے آنکھ کھولی تھی (علیہ السلام) مدینہ میں قبیلہ بنی ہاشم ہی میں رہتے تھے اور امام حسن (علیہ السلام) اور امام حسین (علیہ السلام) کو اپنے ارد گرد دیکھا اور ان کی مہر ومحبت کے سائے میں پروان چڑھے اور امامت کے چشمہ علم ومعرفت سے سیراب ہوتے رہے، آپ (علیہ السلام) ہمیشہ امام حسین (علیہ السلام) کے شانہ بشانہ رہتے تھے جوانی کو امام (علیہ السلام) کی خدمات میں گزار دیا بنی ہاشم کے درمیان آپ (علیہ السلام) کا خاص رعب و دبدبہ تھا جناب عباس (علیہ السلام) بنی ہاشم کے تین جوانو ں کو حلقہ بنا کر ہمیشہ ان کے ساتھ چلتے تھے جو ہمیشہ امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے اور ہر وقت ان کا دفاع کرتے او را س رات بھی جب معاویہ کے مرنے کے بعد ولید یزید کی بیعت کے لیے امام حسین (علیہ السلام) کو دارالخلافہ بلایا تینوں جوان جناب عباس (علیہ السلام) کی نظارت میں دارالخلافہ گئے اور امام (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق باہرکھڑے رہتے تھے اور امام (علیہ السلام) کے حکم کا انتظار کرتے تھے۔
یزید کی بیعت کا انکار کرنے پر امام (علیہ السلام) کو یزید کے مقابلے میں قیام کرنا پڑا اس سفر میں بھی جناب عباس امام (علیہ السلام) کے شانہ بشانہ تھے اور پروانے کی طرح امام (علیہ السلام) کے گرد چکر لگا رہے تھے کہ کہیں میرے مولا کو کوئی گزند نہ پہنچے ۔
حضرت عباس (علیہ السلام) کربلا میں
کربلا میں امام حسین (علیہ السلام) نے حضرت عباس (علیہ السلام) کو اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا، خیام حسینی (علیہ السلام) کی حفاظت و نگہبانی آپ کے ذمہ تھی۔ عصر تاسوعا جب لشکر عمر ابن سعد نے خیام حسینی (علیہ السلام) کو گھیر ے میں لینے کی کوشش کی تو امام حسین (علیہ السلام) نے جناب عباس (علیہ السلام) کو دشمن کی طرف بھیجا تا کہ معلوم کر سکیں کہ دشمن کا کیا ارادہ ہے ؟ جب چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت عباس (علیہ السلام) قوم اشقیاء کے پاس جاتے ہیں اور وہ جنگ کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں تو جناب عباس (علیہ السلام) وہاں پر جوابی کاروائی کرنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ میں اپنے مولا (علیہ السلام) کو آگاہ کرتا ہوں اور حکم لیتا ہوں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب عباس (علیہ السلام) مطیع محض حجت خدا تھے اور ان کے اشارے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے اور جب آ کر امام حسین (علیہ السلام) کو دشمن کے ارادے سے آگاہ کرتے ہیں تو امام (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بنفسی یا اخی اے میرے بھائی تجھ پر میری جان قربان ہو جائے تو جانتا ہے کہ مجھے عبادت خدا سے عشق ہے جاؤ دشمن سے کہو کہ ہمیں آج کی رات مہلت دے دے یہاں پر دو تین باتیں قابل غور ہیں علماء فرماتے ہیں کہ "کلام الامام امام الکلام" ہوتا ہے اور فدیہ کا اصول یہ ہے کہ مفضول کو افضل پر قربان کیا جاتا ہے اور یہاں پر حجت خدا یہ فرما رہی ہے کہ میں تجھ پہ قربان ہو جاؤں یہ جناب عباس (علیہ السلام) کے مقام و منزلت کی رفعت کی علامت ہے دوسری بات یہ کہ کسی شجاع انسان کے لیے انتہائی سخت ہوتا ہے کہ وہ کسی کمینے دشمن کے پاس جا کر ایک رات زندہ رہنے کی مہلت مانگے یہ جناب عباس (علیہ السلام) کی اطاعت امام اور بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حکم امام (علیہ السلام) کو بجا لاتے ہیں۔بنی ہاشم اور اصحاب کے شہید ہو جانے کے بعد حضرت عباس (علیہ السلام) نے امام (علیہ السلام) سے جنگ کی اجازت طلب کی تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا عباس (علیہ السلام) تم میری فوج کے سپہ سالار ہو الغرض امام (علیہ السلام) نے کہا عباس (علیہ السلام) اگر جاتے ہی ہو تو جانے سے پہلے ایک دفعہ بچوں کے لیے پانی لاؤ جناب عباس (علیہ السلام) ہمیشہ کی طرح اطاعت کرتے ہوئے مشکیزہ اٹھایا اور ہلکے سے اسلحہ کے ساتھ دریائے فرات کی طرف چل پڑے جب علی (علیہ السلام) کے اس شیر بیٹے نے میدان کی طرف رخ کیا توفوج اشقیاء بھیڑوں کیطرح بھا گ رہی تھی۔ دریا میں داخل ہو گئے اور مشکیزے کو پانی سے بھرنے کے بعد پانی کو چلو میں لیا اور پھینک دیا یہ عباس (علیہ السلام) کی وفا کی معراج ہے کہ انہوں نے امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے اہل بیت (علیہ السلام) کی پیاس کی یاد میں خود بھی پانی نہ پیا ۔ واپسی کا ارادہ تھا عمر ابن سعد نے اعلان کیا کہ ساری فوج کو جمع کیا جائے اور عباس (علیہ السلام) پر حملہ کیا جائے کہیں پانی خیام حسینی (علیہ السلام) تک نہ پہنچ جائے، چاروں طرف سے لشکر یزید نے عباس ابن علی (علیہ السلام) پر حملہ کیا آپ (علیہ السلام) کی یہی کوشش تھی کہ پانی کا مشکیزہ محفوظ رہے اور پانی خیام حسینی (علیہ السلام) تک پہنچ جائے پانی کے مقابلے میں اپنے جسم کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے دشمن نے آپ (علیہ السلام) کے دونوں بازو قلم کر دیے اور یوں یہ مطیع امام (علیہ السلام) اور سقائے اہل بیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) شہادت کے رفیع درجے پر فائز ہو گیا۔
 یہ وہ عظیم ہستی ہے کہ جس کے بارے میں حجت خدا امام وقت، امام سجاد (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں کہ " خدا وند متعال کے ہاں چچا عباس (علیہ السلام) کا ایسا عظیم مقام ہے جس پر تمام شہداء روز قیامت رشک کریں گے " اسی طرح صادق آل محمد (علیہ السلام) جناب عباس (علیہ السلام) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ" کان عمنا العباس نافذ البصیرۃ، صلب الایمان جاہد مع ابی عبد اللہ (علیہ السلام) و ابلی بلاء حسنا و مضی شہیدا "(ہمارے چچا عباس (علیہ السلام) عمیق بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے، امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کیا، بہترین امتحان دے کر مقام شہادت پر فائز ہو گئے"۔
منابع
ارشاد شیخ مفید، اعیان الشیعہ، بحار الانوار، تاریخ طبری، حیاۃ الامام الحسین ابن علی (علیہ السلام)، زندگانی قمر بنی ہاشم (علیہ السلام)


تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم آذر ۱۳۹۱ | 15:17 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
حديث 1 :
امام حسن (ع) : از آن حضرت سؤال شد : زهد چيست ؟ فرمود : رغبت به تقوي و بي رغبتي به دنيا .
قيل له - عليه السلام - ما الزهد ؟ قال : الرغبة في التقوي والزهادة في الدنيا .
تحف العقول ، ص 227
حديث 1 :
حضرت رسول (ص) : نشان منافق سه چيز است : 1 - سخن به دروغ بگويد . 2 - از وعده تخلف كند .3 - در امانت خيانت نمايد .
آية المنافق ثلاث : اذا حدث كذب واذا وعد اخلف واذا اؤتمن خان .
صحيح مسلم ، كتاب الايمان ، ح 89
حديث 1 :
امام سجاد (ع) : سپاس خداي را كه اول است و پيش از او اولي نبوده ( مبدا هر موجودي است ) و آخر است و پس از او آخري نباشد ( مرجع همه اشياء است )
الحمد لله الاول بلا اول كان قبله ، و الاخر بلا اخر يكون بعده .
صحيفه سجاديه
حديث 1 :
امام علي (ع) : [1] امام عليه السلام فرمود :[2]در فتنه ها همچون شتر کم سن و سال باش نه پشتی که سوار شوند و نه پستانی که بدوشند
1 - قال [ع ] : کن فی الفتنه کابن اللبون لا ظهر فيرک و لا ضرع فيحلب
نهج البلاغه
حديث 1 :
امام حسين (ع) : چگونه با چيزي كه خود در وجودش نيازمند توست ، براي وجود تو دليل آورده شود؟ آيا چيزي هست كه آشكارتر از تو باشد تا وسيله آشكار كردن تو باشد؟ كي پنهاني تا نيازمند دليلي باشي كه بر تو دلالت كند؟ و كي دوري تا آثارت وسيله رسيدن به تو باشند؟ كور باد آن چشمي كه تو را مراقب و نگهبان خود نبيند.
كيف يستدل عليك بما هو في وجوده مفتقر إليك ؟ أ يكون لغيرك من الظهور ما ليس لك حتي يكون هو المظهر لك ؟ متي غبت حتي تحتاج إلي دليل يدل عليك ؟ و متي بعدت حتي تكون الَثار هي التي توصل إليك ؟ عميت عين لا تراك عليها رقيبا...
دعاي عرفه ، بحار الانوار، ج 98، ص 226
حديث 1 :
امام محمد باقر(ع) : چه بسا شخص حريص بر امري از امور دنيا ، كه بدان دست يافته و باعث نافرجامي و بدبختي او گرديده است ، و چه بسا كسي كه براي امري از امور آخرت كراهت داشته و بدان رسيده ، ولي به وسيله آن سعادتمند گرديده است .
فلرب حريص علي امر من امور الدنيا قد ناله ، فلما ناله كان عليه وبالا و شقي به ، و لرب كاره لامر من امور الاخره قد ناله فسعد به .
حديث 1 :
امام جعفر صادق (ع) : سليمان ديلمي مي گويد : به امام صادق - عليه السلام - عرض كردم فلاني در عبادت و ديانت و فضيلت چنين و چنان است . فرمود : عقلش چگونه است ؟ گفتم نمي دانم . فرمود : پاداش به اندازه عقل است .
محمد بن سليمان الديلمي عن أبيه قال : قلت لابي عبدالله - عليه السلام - فلان بن عبادته و دينه و فضله ! فقال : كيف عقله ؟ قلت : لا أدري : فقال : ان الثواب علي قدر العقل .
اصول كافي ، ج 1 ، ص 12
حديث 1 :
حضرت زهرا (س) : در يكي از روزها ، صبحگاهان امام علي (ع ) فرمود : فاطمه جان آيا غذايي داري تا از گرسنگي بيرون آيم ؟ پاسخ دادند : نه ، به خدايي كه پدرم را به نبوت و شما را به امامت برگزيد سوگند ، دو روز است كه در منزل غذاي كافي نداريم و در اين مدت شما را بر خود و فرزندانم در طعام ترجيح دادم . امام (ع ) با تأسف فرمودند : فاطمه جان چرا به من اطلاع ندادي تا به دنبال تهيه غذا بروم ؟ حضرت زهرا (ع ) فرمودند : اي اباالحسن ، من از پروردگار خود حيا مي كنم كه چيزي را كه تو بر آن توان و قدرت نداري ، درخواست نمايم .
أصبح علي بن أبيطالب (ع ) ذات يوم ساغبا ، فقال : يا فاطمة هل عندك شيء تغذينيه ؟ قالت (ع ) : لا والذي أكرم أبي بالنبوة و أكرمك بالوصية ما أصبح الغداة عندي شيء ، و ما كان شيء أطعمناه مذ يومين إلا شيء كنت أؤثرك به علي نفسي و علي ابني هذين الحسن و الحسين . فقال علي (ع ) : يا فاطمة ألا كنت أعلمتيني فأبغيكم شيئا ؟ فقالت (ع ) : يا أباالحسن إني لأستحيي من إلهي أن أكلف نفسك ما لا تقدر عليه .
بحار الانوار ، ج 43 ، ص 59
حديث 1 :
امام موسي کاظم(ع) : مصيبت براي شكيبا يكي است و براي بي تابي كننده دوتاست .
المصيبه للصابر واحده و للجازع اثنتان
تحف العقول ، ص 437
حديث 1 :
امام رضا (ع) : مؤمن ، مؤمن واقعي نيست ، مگر آن كه سه خصلت در او باشد : سنتي از پروردگارش و سنتي از پيامبرش و سنتي از امامش . اما سنت پروردگارش ، پوشاندن راز خود است ، اما سنت پيغمبرش ، مدارا و نرم رفتاري با مردم است ، اما سنت امامش صبر كردن در زمان تنگدستي و پريشان حالي است
لا يكون المؤمن مؤمنا حتي تكون فيه ثلاث خصال ، سنة من ربه ، و سنة من نبيه ، و سنة من وليه . فاما السنة من ربه فكتمان سره ، و اما السنة من نبيه فمداراة الناس ، و اما السنة من وليه فالصبر في البأساء و الضراء



تاريخ : پنجشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۸۹ | 19:51 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |