جواب : بخاری نے
ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے: ہم پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)کی خدمت میں حاضر تھے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )
کوئی چیز تقسیم کررہے تھے کہ ذوالخویصرہ جو بنی تمیم سے تھا ،وہاں آیا اور
کہنے لگا یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) عدالت سے کام لیجئے ،
تو آپ نے فرمایا کہ وائے ہو تجھ پر اگر میں عدالت سے کام نہیں کروں گا تو
پھر کون عدالت سے کام لے گا ، اگر میں عدالت سے کام نہیں کروں گا تو
خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگا ، عمر نے کہا: یا رسول اللہ اگر آپ
اجازت دیں تو ابھی اس کا سر قلم کردوں ، تو آپ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ،
اس کے پاس ایسے دوست ہیں جن میں سے ہر ایک کی نماز اور روزے تمہاری نماز
اور روزں کے مقابلہ میں حقیر ہیں ۔ وہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن ان کے
حلق سے نیچے نہیں اُترتا اور دین سے اس طرح نکل جانیگے جس طرح کمان سے تیر
نکل جاتا ہے ، (۱) (۲) ۔
_______________________
۱۔ صحیح بخاری : ج ۴، ص ۱۷۹ ، باب ، اسلام میں بنوت
کی علامات ، بحارالانوار ج ۳۳ ، حدیث ۵۷۹ ۔
۲۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۴۱ ۔
.: Weblog Themes By Pichak :.
