جواب : بخاری نے سالم سے اور اس نے اپنے والد سے نقل کیا ہے : پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے خالد بن ولید کو بنی حزیمہ کے پاس بھیجا ،اس نے ان کو اسلام کی دعوت دی ، لیکن وہ اچھی طرح نہ کہہ سکے” اسلمنا“۔ یعنی ہم مسلمان ہوگئے ۔ اس کی جگہ انھوں نے اس طرح کہا ”صبا نا“ جیسے ہی خالد نے یہ سنا تو فوراً ان کو قتل اور اسیر کر نا شروع کردیا ، اور اس نے ایک ایک اسیر کو اپنے لشکر والوں کو دئے دیا اور ایک روز تمام کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے اسیر کو قتل کردیں ، تو میں نے کہا خدا کی قسم میں اپنے اسیر کو قتل نہیں کروں گا ، اور میرے دوست بھی اپنے اسیر کو قتل نہیں کرینگے ، یہاں تک کہ ہم پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ بیان کیا ، رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا اور دومرتبہ فرمایا :اے میرے پرور دگا ر! میںخالد کا کام سے تیری بارگاہ میں اس بیزاری کرتا ہوں(۱) ۔
لیکن آج وہ صاحب شمشیر اور اسلام کا ہیرو بنا ہوا ہے جبکہ اس نے پئے در پئے بے گناہ افراد کو قتل کیا ہے ۔
اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے بھی اس کی اس جنایت سے بیزاری اختیار کی ہے لیکن وہی شخص رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے بعد سب سے زیادہ نیک اور تیغ بے نیام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ اس نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا اور اسی رات ان کی زوجہ کے ساتھ زنا کیا ، اسی طرح دوسروں کا حال بھی روشن اور واضح ہے (۲) ۔

______________________
۱۔ صحیح بخاری ،کتاب المغازی ، باب ، خالد بن ولید کو بنی خز یمہ کی طرف بھیجنا ، حدیث ۴۳۳۹ ۔
۲۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۴۱ ۔



تاريخ : پنجشنبه سی ام دی ۱۳۸۹ | 13:36 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |