رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ وہ آئندہ نسلوں کو راستہ دکھانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا: ٹیچروں اور اساتذہ سے ملاقات کا مقصد، رائے عامہ میں ان کے کردار کو مزید نمایاں کرنا اور استاد کی قدر و قیمت پر تاکید کرنا ہے تاکہ خود استاد اور اس کے اہل خانہ بھی اس کے پیشے پر فخر کریں اور سماج بھی ٹیچر کو ایک قابل فخر شخص کی نظر سے دیکھے۔
وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تعلیم و تربیت کے ادارے کو ایک تمدن ساز نسل کی پرورش کرنے والا ادارہ بتایا اور ٹیچروں کی خدمات خاص طور پر کورونا کی وبا کے دوران ان کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے ان کے معاشی مسائل کو حل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ بچوں اور نوجوان نسل کی اس طرح پرورش کی جانی چاہیے کہ ان میں قومی اور اسلامی و ایرانی تشخص پیدا ہو، اس میں خود اعتمادی ہو، وہ استقامت کرنے والی ہو، امام خمینی کے افکار و اہداف سے آگاہ ہو، دانشور اور کارآمد ہو۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ وہ آئندہ نسلوں کو راستہ دکھانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا: ٹیچروں اور اساتذہ سے ملاقات کا مقصد، رائے عامہ میں ان کے کردار کو مزید نمایاں کرنا اور استاد کی قدر و قیمت پر تاکید کرنا ہے تاکہ خود استاد اور اس کے اہل خانہ بھی اس کے پیشے پر فخر کریں اور سماج بھی ٹیچر کو ایک قابل فخر شخص کی نظر سے دیکھے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے معلم کے مفہوم کے دو اہم استعمالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تعلیم دینے والے شخص کے معنی میں معلم کی قدروقیمت بہت زیادہ ہے کیونکہ آيات قرآن کی رو سے خداوند عالم، تعلیم دینے والا ہے اور پیغمبر، تمام علماء، حکماء، دانشور اور شہید مطہری جیسی نمایاں شخصیات بھی معلم کی انتہائي اعلی قدروقیمت کی حامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ معلم کے مفہوم کا دوسرا استعمال تربیت سے متعلق ہے۔ اس میں تعلیم دینے کی خصوصیت بھی شامل ہے تاہم اس پہلو کی قدروقیمت زیادہ ہے کیونکہ وہ جن افراد کی تربیت کرتا ہے وہ تعلیم اور تربیت حاصل کرنے کے لئے عمر کے سب سے موزوں دور میں ہوتے ہیں اور ان پر تعلیم کا اثر دوسرے تمام افراد سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے اسلامی تمدن کی ایجاد اور اس کے فروغ کے طویل المیعاد ہدف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انسانی وسائل، ہر تمدن کا انفراسٹرکچر ہوتے ہیں اور نیا اسلامی تمدن قائم کرنے والے، اس نسل کے ہیں جو اس وقت آپ ٹیچروں کے حوالے کی گئی ہے، بنابریں اس زاویے سے ٹیچر کے کام کی اہمیت اور قدر و منزلت کو سمجھنا ضروری ہے۔
انھوں نے تعلیم و تربیب کے بارے میں کچھ نکات بیان کرتے ہوئے کہا: طالب علم کو قومی تشخص کا حامل ہونا چاہیے اور علم کے پرچم کو لہرانے کے ساتھ ہی، اسے خود اعتمادی سے قومی اور پر افتخار اسلامی و ایرانی تشخص کا پرچم بھی لہرانا چاہیے۔
آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے انقلاب کے بعد کے انتھک محنت کرنے والے افراد سمیت ملک کی مایہ ناز ہستیوں سے طلباء کی ناآشنائي، امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے رہنما افکار اور انقلاب کے فیصلہ کن اہداف سے ان کی لاعلمی نیز انقلاب کے واقعات سے ان کی ناواقفیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ٹیچروں کو بچوں اور جوان نسل کو آگاہ کرنے کے ساتھ ہی اس طرح کے مسائل کو ان کے دل و جان میں اتار دینا چاہیے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے استقامت اور مزاحمت کی قدر شناسی کو طلباء کے لئے ضروری قرار دیا اور کہا: ایسی دنیا میں جہاں ہر کوئي، چاہے مشرق ہو یا مغرب، سینہ زوری کر رہا ہے، آئندہ نسل کو استقامت کی قدر و اہمیت کو ابھی سے سمجھ لینا چاہیے تاکہ ان تمدن ساز تعلیمات کے سائے میں وہ ملک و قوم کو سرفراز کر سکے۔
انھوں نے غیر مفید موضوعات کی تعلیم کے بجائے مہارتوں کی تعلیم کے لیے کچھ گھنٹے مختص کیے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا: اسلامی طرز زندگي، سماجی تعاون، مطالعہ، تحقیق، سماجی مسائل سے مقابلہ، نظم و ضبط اور قانون پر عمل درآمد جیسے امور، ان مہارتوں میں شامل ہیں جنھیں اسکولوں میں سکھایا جانا چاہیے اور بچپن اور نوجوانی سے ہی یہ چیزیں لوگوں کی گھٹی میں پڑ جانی چاہیے۔
آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بچوں اور نوجوانوں کو ملک کا سرمایہ اور ٹیچروں کے ہاتھوں میں بڑی امانتوں سے تعبیر کرتے ہوئے کہا: ان قیمتی امانتوں کو، مومن و دیندار ٹیچروں کی تربیت اور پرورش کے زیر سایہ علمی، اخلاقی اور عملی لحاظ سے زیادہ قدروقیمت والے افراد میں تبدیل ہونا چاہیے۔
انھوں نے اساتذہ کی معاشی بہبودی کی اپنی مستقل سفارش کو ایک بار پھر دوہراتے ہوئے کہا: سرکاری وسائل کی مشکلات کے باوجود، ٹیچروں کے معاشی مسائل، انشورنس، ریٹائرمنٹ اور علاج معالجے جیسے موضوعات پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
اس ملاقات کی ابتدا میں تعلیم و تربیت کے وزیر جناب نوری نے تغیر کے دستاویز پر عمل درآمد، سائبر اسپیس اور نئي ٹیکنالوجیوں کی گنجائش کے تعلیم و تربیت کے میدان میں استعمال، ٹیچروں کی معیشت اور درسي مآخذ میں تبدیلی کے سلسلے میں اپنی وزارت کے پروگراموں اور اقدامات کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔
==== *خصوصی اشاعت* =====
*الہی اورغیرالہی ادیان میں*
*مہدویت اور انتظار کا عقیدہ*
*تحریر✍️ : محمدعلی شریفی*
دنیا جس بحران سے دوچار ہے اس بحران سے نکالنے کیلئے ایک صالح اور بے عیب نظام کی ضرورت ہے اس لئے کہ انسانوں کے بنائے گئے تمام نظام موجودہ صورتحال سے نمٹنے سے عاجز اور ناتواں ہیں پوری دُنیا نے دیکھ لیا کہ دنیا کی تمام طاقتیں اپنی پوری کوششوں کے باوجود اس بحران سے نکالنے میں ناکام رہی ہیں اور ان حکومتوں کی صورتحال زیادہ خراب ہے جو دنیا کو چلانے کا خواب دیکھ رہےہیں جب یہ حکمران ایک ملک کو بحران سے نکالنے میں ناکام رہے تو اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کیا اس بیماری کی اصل علت مذہب ہے اس حالت سے مایوس انسانوں کو تب نجات ملے گی جب الله کے دکھائے ہوے ہادی کی اطاعت کریں گے۔
اس ہادی برحق پر عقیدہ کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ تمام ادیان کا مشترک عقیدہ ہے جس کو کبھی مسیح ، کبھی مہدی اورکبھی کسی اور نام سے یاد کیا جاتا ہے
عالمی اور جہانی مصلح کے انتظار کا تفکر، روشن مستقبل کی امید ہے یہ امید ہمیشہ سے انسان کی الہی فطرت میں موجود تھی ادیان الہی اور بشری مکاتب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے مختلف مکاتب کے پیروکار ایک آسمانی موعود کہ جس کے بارے میں دینی متون میں تذکرہ ملتا ہے اور وعدہ دیا گیا ہے، عقیدہ رکھتے ہیں۔
🔖ہندووں کے عقیدے کے مطابق
حکومت جہانی اورشخص موعود کا عقیدہ ایک عالمی نظریہ ہے، تمام آسمانی ادیان یہاں تک کہ لادینی مکاتب فکر بھی اس عقیدے میں مشترک نظر آتے ہیں لیکن اس شخصیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس کے ظہور سے پہلےاور بعد کے حوادث کے بارے میں اوراس انقلاب کا بانی اور منجی عالم بشریت کون ہوگا ؟مختلف نظریئے پائے جاتے ہیں
*یہاں چند ادیان کا تذکرہ کرتے ہیں*
اب ہم اختصارکےساتھ آسمانی کتابوں سے چند نمونے ان آیات کے پیش کرتے ہیں جو آخری زمانے میں عالمی حکومت زمین کےپاک اور صالح افراد کے ہاتھوں میں ہوگی اور دنیا والے خواہ جس مکتب سے بھی ہوں ، اس منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے لمحہ بہ لمحہ انتظار کررہے ہیں
*دین مسیح میں مہدویت کا تصور :*
عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ جس ہستی کے ہم سب منتظر ہیں وہ جناب عیسی مسیحؑ ہیں ۔ یہودیوں کےہاتھوں قتل ہونے کے بعد ﷲ تعالی نے انہیں دوبارہ زندگی دی اور آسمان پر لے گیا تاکہ آخری زمانہ میں انہیں دوبارہ زمین پر بھیج دیا جائے اور ان کے ذریعے ہی وعدہ الہی پورا ہو
*انجیل اور مہدویت کا تصور۔۔۔ :*
انجیل کی بہت سی جگہوں پر اس عقیدہ کا تذکر ملتا ہے جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے :
اور عنقریب جنگوں اور اسکی افواہوں کو سنیں تو کبھی ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے بے صبری کا مظاہرہ کریں، اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ، لیکن وہ دن تاریخ کا اختتامی زمانہ نہیں۔ ؛
🔰دوسری جگہ آیاہے ،، اپنی کمر کو باندھ لو اور اپنے چراغوں کو روشن رکھو اور رات میں اس طرح رہو جیسے کوئی اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے،،۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ افراد جن کا مالک آنے کے بعد ان کو جاگتا ہوا پائے...؛
،،مہدی اور عیسیٰ دجال اور شیطان کو قتل کریں گے؛؛
*زبور میں تذکرہ ۔۔۔۔:*
زبور کے نظریہ مہدویت کو قرآن میں بھی بیان کیاہےسورہ انبیاء آیت نمبر 105 میں اللہ تعالی کاارشاد ہوتاہے !!اورہم نےذکر(تورات ) کےبعد زبورمیں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کےوارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے،،
آخری زمانےمیں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئےگا اس کے سر پر بادل سایہ فگن ہوگا۔
" آخری زمانے میں تمام دُنیا توحید کی ماننے والی ہو جائے گی جو آخری زمانے میں آئے گا اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہوگا،،
،،ان کے ظہور کے بعد ساری دُنیا کے دُکھ مٹا دیئے جائیں گے،
ظالموں اور منافقوں کو ختم کر دیا جائے گا ، یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا ،،نرجس خاتون،،کا بیٹا ہو گا
*دین زرتشتی کے ہاں مہدویت کا تصور*
زرتشتیوں کا عقیدہ ہے: ایک مرد سرزمین نازیان سے جو ہاشم کی ذریت سے ہوگا خروج کرےگا۔ اپنے جد کے دین اور فراوان لشکر کے ساتھ قیام کرئےگا۔،
زمینوں کو آباد کرےگا اور اس کو عدل سے بھردے گا ۔ ایک اور جگہ رسول خدا(ص) کی نبوت کی بشارت کے بعد آیا ہے : وہ پیامبر جو خورشید عالم اور شاہ زمان سے معروف ہیں اس کی بیٹی کی نسل سے ایک مرد خلافت پر پہنچے گا ، دنیا میں یزدان کی حکم سے حکومت کرےگا،
وہ اس پیامبر کا آخری خلیفہ ہے درمیان عالم یعنی مکہ میں، اس کی حکومت تا روز قیامت قائم رہےگی آئین زرتشت اپنی تمام تر تحریفات کے باوجود ، مسئلہ مہدویت کے بارے میں مکمل بحث کی ہے ۔
*دین یہود میں منجی کا تصور :*
یہودیوں کا نظریہ ہے کہ وہ شخص جناب إسحاق کی نسل سے ہوگا ابھی پیدا نہیں ہوا بعد میں آئےگا؛ چنانچہ توریت کا یہودی مفسر حنان إیل ،سفر تکوین نمبر17إصحاح نمبر 20 کے ذیل میں لکھتا ہے : اس آیت کی پیشن گوئی سے ہزاروں سال گزر گئے یہاں تک عرب حضرت إسماعیلؑ کی نسل سے ایک عظیم امت کی شکل میں پورے عالم پر غالب آیا ہے کہ جس کے جناب إسماعیلؑ مدّتوں سے منتظر تھے
لیکن ذریہ اسحاقؑ میں ہمارے گناہوں کی وجہ سے وعدہ الہی اب تک پورا نہیں ہوا ہے پھر بھی ہمیں اس حتمی وعدے کے پورے ہونے میں نااُمید نہیں ہونا چاہئیے
*یہودیوں کا عصر حاضر میں مسیحا کا انتظار ۔۔۔*۔۔
سوسال پہلے یہودی مفکرین نے کہا ہماری قوم نے صدیاں مسیحا کا انتظارکیا خواریاں اور ذلتیں برداشت کیں اب ہمارے صبرکا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اب ہم خود سے قیام شروع کریں اوراس انتظار کی گھڑی کو ختم
کردیں اور فلسطین ،،جوکہ پہلے یہودیوں کامرکزتھا ،،کو لینے کیلئے اقدام کریں
یہ جماعت بعد میں صہیونیست سے معروف ہوئی ان کو اکثر یہودیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا چونکہ ان کے دینی عقیدے کے مطابق صرف مسیحا ایسے کام کیلئے قدم اٹھا سکتا ہے
لیکن صہیونستیوں نے صبر؛ حوصلہ اور تبلیغات کے ذریعے بہت سے یہودیوں کو قانع کیا اور دنیاکےمختلف ممالک سےلاکر فلسطین میں لاکربسانے میں کامیاب ہوئے۔اور غاصب صیہونی اسرائیل حکومت تشکیل دی بہت سے یہودی اب بھی اپنے دینی عقیدے پر قائم ہیں اور مسیحا کے انتظار میں ہیں اوراسرائیلی ریاست کے مخالف ہیں
*ہندو مذہب میں منجی کا تصور*
"آخری زمانے میں زمین ایک ایسے مرد کے ہاتھوں میں آئے گی کہ خدا جس کو دوست رکھتا ہے وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہوگا اُس کا نام "مبار ک و نیک"ہے۔
کتاب ،،اوپانیشاد،،میں بیان ہوا ہے کہ آخری زمانے میں مظہر وشنود سفید گھوڑے پر سوار ہاتھوں میں برہنہ تلوار لئے ظہور کرے گا دم دار ستارے کی مانند چمکے گا مجرموں کو ہلاک کرے گا ایک نئی زندگی پیدا کرے گا طہارت و پاکیزگی کو پلٹائے گا
ہندؤں نے اپنی کتاب مقدس "وید" میں لکھا کہ "دنیا کی خرابی کے بعد آخری زمانہ میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو خلائق کا پیشوا ہوگا۔ اس کا نام "منصور" ہوگا ۔ وہ ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں کرکے اپنے دین پر لے آئے گا اور مومن و کافر میں سے ہر ایک کو پہچانتا ہوگا
*دین اسلام میں تفکرمہدویت ۔۔:*
تمام مسلمانون کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آپ (ع) کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح بیان ہوا ہے۔۔حضرت اسماعیل(ع) کی نسل سے خاتم النبیین(ص) اورآپ کی نسل سے فاطمہ زہرا(س) اورآپ سے امام حسین(ع) اوران کی نسل سے مہدی موعود ہیں۔
مسلمان بالخصوص مذہب تشیع میں انتظار یعنی امام زمانہ (عج) کی امامت و ولایت پر، اس کے ظہور پر مضبوط ایمان رکھنا اور ساتھ ہی افراد صالح کے ہاتھوں عالمی حکومت کے آغاز پر عقیدہ رکھنا ہے
اسی لئے مسلمان قرآن کے واضح وعدوں پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ الہی قانون کے مطابق دنیا خدا کے وعدوں اور قانوں کے مطابق چل رہی ہے ۔ اگرچہ دنیا کے چند روز ظالموں کے فائدہ میں جارہے ہیں لیکن ایک دن عالمی حکومت ، صالح اور حق پرست افراد کے ہاتھوں میں آئے گی اور خدائی قانون کے مطابق پوری دنیا میں عدل و انصاف برقرار ہوگا
مسلمانوں کےدوسرے فرقوں اور مکتب اہل بیت میں اتنافرق ہے کہ اہل تشیع کی نظر میں اس ہستی کی ولادت 15 شعبان255ہجری کوسامراء میں ہوئی اوراب تک خداکے حکم سے پردہ غیبت میں ہیں
لیکن دوسرے مذاہب کے نظریئے
کےمطابق بعدمیں پیداہونگے وہی اس دنیاکوعدل و انصاف سے بھر دیں گے
نظریہ مہدویت کےسب قائل ہیں
*قرآن اور نظریہ مہدویت ۔:*
قرآن کی بہت سی آیات میں موضوع مہدویت اور عالمی حکومت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے بعض محققین نے 265 آیات میں اس موضوع،، نظریہ مہدویت ،،سے متعلق گفتگو ہونےکا دعوا کیا ہے ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں سورہ توبہ آیت نمبر 32،33 ، سورہ نور آیت نمبر 55 ، سورہ غافر آیت نمبر51 ، سورہ انبیاء آیت نمبر 105،قصص5،6 سورہ ھود آیت نمبر 86وسورہ حج آیت نمبر 41
🔺ان آیات قرآنی سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دن کی منتظر ہے جس دن پوری دنیا کی حکومت ، پاک و صالح انسانوں کے ہاتھوں آئے گی اور جس دن کا مسلمان شدت سے انتظار کررہے ہیں وہی امام مھدی (عج) کے قیام کا دن ہے
🌼🌼🌼🌼🤲🏼🌼🌼🌼🌼
*اللھم عجل لولیک الفرج*
💞💓
*اتم پاکستان*
💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠 *خصوص اشاعت*
=== *کرونا وائرس اور ہماری حکمت عملی* ==
ڈاکٹر ارشاد حسین مطہری
💠💠💠💠💠💠💠💠💠 https://www.facebook.com/groups/821904421556306/permalink
*Whatsapp Group1*
https://chat.whatsapp.com/JcfFva9BO3A2gaQMEefCc5
جیسا کہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ایک وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہر کوئی اس وائرس کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتا ہے ؛ اس سے نہ صرف انسانی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ،بلکہ دنیا کے اقتصاد کو بھی بری طرح سے متاثر کردیا ہے. ایسی اجتماعی پریشانیوں میں کچھ مفاد پرست عناصر حالات کی سنگینی سے سوء استفاده کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؛ دنیا کی چند حقیر ضروریات کی تکمیل کی خاطر دوسروں کے جان مال اور ایمان سے کھیلتے ہیں. اس نفسانفسی اور پریشان کن حالات میں انسان جائے تو کہاں جائے ؟ اپنے دکھ اور درد کو کس کے پاس بیان کرے ؟ طبیب اور حکیم واقعی کون ہے اور جعلی کون ؟ کس کے در پر دستک دے؟ اس لئے کہ ہر کوئی حکیم اور طبیب بنا ہوا ہے، ہر کوئی ہاتھوں میں ہزاروں نسخے لیے بیٹھاہے اور ہر شخص کو اپنی طرف دعوت دیتاہے اور لوگوں کو فریب دیکر لاکھوں روپے بٹورنےکے علاوہ غلط نسخے دیکر، بیمار
شفا پانے کے بجائے مزید بیماری کا شکار ہوجاتاہے .
دوسرے ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی یہ وائرس بڑھتا جارہا ہے
لہذا حکومت اور عوام کا اس سلسلے میں پریشان ہونا ایک ضروری امر ہے اور اس مہلک بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر حکومت کو بھی اور عوام کو بھی کرنی چاہیے ؛ لیکن اب تک کی اطلاع کے مطابق سرکار کی پوری توجہ تفتان باڈر پر لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے یہ وائرس صرف ایران سے ہی آنا ہے اور کہیں سے نہیں ، یہ وائرس چین سے پھیلا ہے وہاں کے باڈر بند کرنا تو دور کی بات اس پر کوئی گفتگو ہی نہیں کرتے اور دنیا کے اکثر ممالک سے فضائی رابطے برقرار ہیں حتی ان ممالک سے بھی جن میں یہ وائرس پھیلا ہے ان کے بارے میں کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی کوئی بات نہیں کی جارہی ہے صرف اور صرف تفتان باڈر پر کیوں توجہات مرکوز ہیں؟ اور مقامات مقدسہ سے زیارت کرکے آنے والے زائرین پر صرف سختیاں کیوں ہیں؟ یہ وائرس صرف ایران اور عراق میں پهیلا ہے اور کہیں نہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ اس وائرس کو مذہب کے خلاف ایک جنگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے طالبان، القاعدہ اور داعش کی طرح ،کرونا کو بھی مذہب کے خلاف استعمال کیا جانے لگا ہے لہذا اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ وائرس امریکہ کی ایجاد کردہ ہے اور اگر ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ یہ وائرس بنائے گئے ہیں تو یہ سوال خود بخود ذہن میں آتا ہے کہ یہ وائرس کس مقصد اور ہدف کے لئے بنائے گئے ہیں
*Whatsapp Group2*
https://chat.whatsapp.com/LZ33NNBQfRb9gYvWDzqMKb
*Whatsapp Group3*
https://chat.whatsapp.com/BjWyjLfqFroAQ4uCLgFjX2
محترم قارئین
ہمیں فی الحال اس کے پس پردہ
حقائق کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس وقت جس چیز کی سب سے اہم ضرورت ہے وہ اس بیماری کی روک تھام اور مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہیں تاکہ جتنی جلدی ہوسکے اس وبا سے نجات حاصل کریں
اس کے لیے چند بنیادی باتوں کی طرف توجہ رکھنا ضروری ہے :
1 قابل اعتماد ڈاکٹروں کی ہدایات پر ضرور توجہ دیں اور ان کے تجویز کردہ نسخوں پر جہاں تک ممکن ہوسکے عمل کریں اس لیے کہ یہی دین کا پیغام بھی ہے روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوئے تو لوگوں نے بیماری کی تشخیص دینے کے بعد آپ کو دوائی پیش کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہہ کر دوائی کھانے سے انکار کیا، کہ جب تک خدا مجھے سلامتی نہ دے، میں علاج نہیں کراوں گا لہٰذا بیماری نے طول پکڑ لیا اس وقت خدا کی طرف سے وحی ہوئی؛ میری عزت و جلالت کی قسم ! اس وقت تک تجھے شفا نہیں دونگا جب تک آپ دوائی استعمال نہیں کرتے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوائی استعمال کی جس سے آپ ٹھیک ہوگئے لیکن ان کا دل مغموم رہا خدا کی طرف سے وحی آئی اے موسیٰ کیا تم یہ چاہتا ہے کہ جو اعتماد تیرا مجھ پر ہے اس کے ذریعے میں اپنی حکمت کو نابود کردوں؟ میرے سوا کس نے دوائی کے اندر شفا رکھی ہے؟
2 اس سلسلے میں حکومت خاص طور سے محکمہ صحت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات
کا خاص خیال رکھا جائے اور محکمہ صحت کے دستورات پر مکمل پابند رہیں . جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے اس وقت تک اس قسم کے اجتماعی مسائل کا حل ناممکن ہے .
3 سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ خدا سے ارتباط کو نہ بھولیں دعا، مناجات اور دیگر عبادتوں کے ذریعے سے اپنے ارتباط کو پروردگار عالم سے ہر حال میں برقرار رکھیں اس لیے کہ جیسا کہ مولا علی علیہ السلام دعائے کمیل میں ارشاد فرماتے ہیں " یا مَنْ اِسْمُهُ دَوآءٌ وَ ذِکرُهُ شِفآءٌ " شفا دینے والی ذات وہی ہے.
اور تعجب ہے جو شخص اللہ پر ایمان رکھتاہو اور اہل البیت علیہم السلام سے اظہار عقیدت کرے اور زندگی کی دشواریوں میں ان کی طرف رجوع کرنے کے بجائے غیروں کے در پر سجدہ ریز رہے
صحیفہ سجادیہ جیسا عظیم دعاؤں کامجموعہ؛ جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں ہے، سے کتنے ہم آشنا ہیں
دعا کمیل میں حضرت علی علیہ السلام کس طرح خدا سے راز و نیاز کرتے ہیں
آئیں دامن اہلبیت سے تمسک کریں یہی حلال مشکلات ہیں اور یہی خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بھی
*اتم گروپ کے قارئین*
کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹر ناہید نفیسی صاحبہ جو میڈیکل کی دنیا میں جانی پہچانی شخصیت ہے ان کی ایک عمر تحقیقات کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس کا اردو ترجمہ " روحانی علاج " زیر اہتمام الهدی اسلامی تحقیقاتی مرکز شایع کرچکا ہے اس کا ایک بار ضرور مطالعہ فرمائیں موجودہ صورتحال میں زیادہ مفید ہو
*الهدی اسلامی تحقیقاتی مرکز ( اتم ) پاکستان*
💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠
پروگرام :
❄️ *سیاسی و سماجی تبصرہ*❄️
======== *میڈیا اور ہم* ========
حجت الاسلام
غلام محمد شاکری
=============================
*قسط :1*
*مقدمہ*
جس دور سے ہم گزر رہے ہیں میڈیا کا دور ہے اس وقت انسانی زندگی کے تمام معاملات، ضروریات،حمل و نقل، علاج و معالجہ اور تعلیم و تربیت غرض ہر کام، حتی یہاں تک کہ جنگ بھی میڈیا کے ذریعے سے انجام دیے جانے لگی ہے ۔ میڈیا کی اسی وسعت نے دنیا کو ایک گهر کے مانند ببنا دیا ہے اور ہر چیز کا معیار تبدیل ہوچکا ہے ۔
طاقتور وہی ہے جو زیادہ اور موثر میڈیا رکھتا ہو!
مہذب اور امن پسند لوگوں کے تعین بھی میڈیا ہی کرتا ہے میڈیا میں ایسی جادوئی طاقت ہے کہ مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا سکتا ہے یعنی ظلم کا معیار بلکل بدل گیا ہے۔ اسرائیل مظلوم ہے اور فلسطینی عوام غاصب، قابض اور ظالم!
آپ ذرا غور کریں کہ یہ ذرائع ابلاغ، ہتھیاروں اور بموں سے بهی زیادہ خطرناک ہے ہیں اور یہی میڈیا خاص طور سے مغربی دنیا کامیڈیا مسلسل ہماری ثقافت، تہذیب اور دین پر حملے کررہا ہے اور ہماری نئی نسل کو ذہنی اور اخلاقی طور پر قتل کررہا ہے مگر ستم یہ ہے اسے قاتل نہیں کہلاتا اور کسی قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا ۔
آج استعماری طاقتیں جو میڈیا پر قابض ہیں اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل اور مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے دوسری قوموں خصوصاً مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی اقدار میں بگاڑ پیدا کرنے کی پوری کوشش کررہی ہیں
ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارے مسلمان نوجوان حتی پڑے لکھیے طبقے تک پر مغربی میڈیا کے اثرات اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ آج ہی پڑھا لکھا مسلمان طبقہ استعماری افکار اور ان کے میڈیا کے پراپگنڈہ پر کوئی اعتراض نہیں کرتا اور اگر کسی کو کسی چیز پر کوئی اعتراض ہیں تو اسلام اور اسلام کی تعلیمات پر ہے
کوئی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ دنیا کے اس کونے سے اٹھ کر ہمارے خطے میں لشکر کشی کرکے ہمارے مال و دولت کو کیوں غارت کرکے لے جاتے ہیں؟ لیکن اس ظلم اور ناانصافی پر احتجاج کرنے کے جرم میں آج اسلامی ملکوں میں مرجعیت کی مشروعیت سے لیکر ان کی مقبولیت تک پر مغربی میڈیا کے ساتھ ساتھ مسلمان بهی ہزاروں قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ....
*جاری ہے*
![]()
جامعہ روحانیت بلتستان میں صدارتی اور مجلس نمایندگان کیلیے ثبت نام جاری ہے۔
اور ثبت نام ۱۲ ربیع الاول تک جاری رہے گا۔
صدر اور مجلس نمایندگان کیلیے الیکشن کمیشن جامعہ روحانیت کے طرف سے جاری کردہ شرایط در ذیل ہے۔
بسمه تعالی
واعتصموا بحبل الله جمیعا و لا تفرقوا
✍بحول و قوت الهی جامعه روحانیت بلتستان شش ساله شد و همزمان با ولادت با سعادت رسول اعظم اسلام حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله و سلم و فرزند برومندش حضرت امام صادق علیه السلام چهارمین دوره انتخابات ریاست ج.ر.ب و سومین دوره مجلس نمایندگان ج.ر.ب شانزدهم ربیع الاول مطابق با 26 آذر ماه بروز جمعه برگزار خواهد شد.?
ثبت نام این دوره انتخابات از روز 5 ربیع الاول مطابق با 15 آذر ماه بروز دوشنبه آغاز و ثبت نام برای ریاست ج.ر.ب تا 12 ربیع الاول شب ساعت 12 و ثبت نام نمایندگان مجلس تا 13 ربیع الاول ساعت 12 شب ادامه خواهد یافت.
ازساعت 12 ظهر تا ساعت 7 شب روز انتخابات صندوقهای رای باز و راس ساعت 7 رای گیری به پایان خواهد رسید.
صندوقهای رای در حسینیه بلتستانیه مستقر خواهند بود.
شرایط مجلس نمایندگان
ماده 22-
1- ایمان و تعهد عملی به اسلام و معتقد به ولایت فقیه؛
2- دارا بودن اطلاعات و تجربه لازم برای انجام وظایف؛
3- عضو جامعه روحانیت بلتستان؛
حداقل، مشغول بودن در کارشناسی ارشد یا معادل آن، (رسائل مکاسب) یا فارغ التحصیل از این سطوح
شرایط ریاست *جامعه روحانیت بلتستان
ماده 33-
رئیس باید دارای شرایط ذیل باشد
1- متعهد, کارآمد و دارای حسن سابقه و معمم.
2- ایمان و تعهد عملی به اسلام و معتقد به ولایت فقیه؛
3- دارا بودن اطلاعات لازم برای انجام وظایف؛
4- حد اقل طلبه کارشناسی ارشد باشد
5- طلبه رسمی باشد.
تبصره: کسی که در هیأت مدیره حزب یا تشکل دیگری عضو باشد بدون استعفاء از آن مسئولیت نمی تواند ریاست جامعه روحانیت را بعهده بگیرد.
برای تسهیل در امر ثبت نام مجلس نمایندگان، در مدارس نیز نمایندگان کمسیون انتخابات مستقر خواهند شد ولی ثبت نام برای ریاست فقط در دفتر و حضوری بعمل خواهد آمد.
مدرسه حجیته
آقایان قنبر عبادی و نثار جنتی
مدرسه امام
آقایان ارشاد مطهری و سید بشارت تهگسوی
جامعه العلوم
آقایان حیدر عابدی و کاظم روحانی
در دفتر ج.ر.ب نیز هر روز از ساعت 5 بعد از ظهر تا شب ساعت هشت مسئولین الیکشن کمیشن مستقر خواهند بود.
اعضا،اصلی الیکشن کمیشن
سید سعید موسوی، نثار حسین اتحادی، نثار حسین جنتی، قنبر علی عبادی، محمد حسین حیدری و مشتاق حسین حکیمی
رئیس الیکشن کمیشن :حجت الاسلام و المسلمین سید سعید موسوی
قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔
خدا نے ہدایت کے لئے انسان کو رسول ظاہری و باطنی سے نوازا۔ رسول باطنی سے مراد عقل ہے۔ نعمت عقل ہر انسان رکھتا ہے۔ عقل ایک ایسی عظیم دولت ہے کہ جس کی نظیر نہیں۔ کائنات کی تمام ترقی و پیشرفت کا راز عقل سے درست استفادہ کرنا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ نعمت عقل کو درک کرتے ہیں، اس کی منزلت اور قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ درنتیجہ عقل سے درست استفادہ کرکے دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ نعمت عقل کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر ومنزلت سے آشنائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی ناکام رہتے ہیں اور آخرت میں بھی نامراد۔ پاکستان کی سرزمین پر وقت کے یزیدیوں نے ملت تشیع کی سرمایہ شخصیات کی زبان بندی کا اعلان کرکے اپنی حماقت، سفاہت و جہالت اور استبداد کا کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس قبیح حرکت کے ذریعے پوری دنیا کو ایک بار پھر اپنی منافقت، دوغلی پالیسی، علم دشمنی، تبلیغ دین سے منافرت، حق کی مخالفت، عدم صداقت اور ملت تشیع کے ساتھ خصوصی طور پر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تعصب اور ظلم و ستم کا برتاو جاری و ساری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس مزموم و نامناسب حرکت سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں پر اسلام اور مسلم دشمن عناصر کا تسلط کتنا ہے۔ وہ کس طرح ان پر حکمرانی کرتے ہیں۔ اس ناروا سلوک سے اس حقیقت کو درک کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ ہمارے حکمران اپنی عقلی صلاحیتں کھو چکے ہیں۔ ان سے آزادی اور اختیار کی نعمتیں سلب ہوچکی ہیں۔ وہ مسند اقتدار پر صرف نمائشی مجسمے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ در واقع وہ مسلم دشمنوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل اور سعود آل یہود و سقوط کے ایجنٹ و آلہ کار ہیں، جن کے اشارے سے وہ اپنے ملک میں قوانین، اصول اور احکامات جاری کرتے ہیں۔ ملت تشیع کی فعال شخصیات بالخصوص فخر قوم، مفسر قرآن، محسن ملت، عظیم شخصیت حجت الاسلام والمسلمین علامہ محسن علی نجفی کی زبان بندی کا اعلان صرف اپنے بے دین آقاؤوں کی رضایت و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔ اورنگزیب فاروقی، منگل باغ، ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی جیسے امن اور انسانیت کے دشمنوں کی صف میں امن اور اتحاد بین المسلمین کے داعی، محسن ملت اور آقای شفا نجفی و علامہ امینی جیسی شخصیات کو لاکھڑا کرنے کی کوشش کرنا، اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہماری حکومت کا نظام دوسرے چلا رہے ہیں۔
ہمارے حکمران اغیار کے اشارے، کنائے اور حکم سے سر مو اختلاف نہیں کرسکتے۔ جس کی تازہ مثال بہت سارے شریف لوگوں من جملہ محسن ملت کے بینک اکاؤنٹ منجمند کرنے کا حالیہ حکومتی اعلان ہے، جس میں مولانا عبدالعزیز جیسے دیشتگردوں کی سرپرستی و تربیت کرنے والوں کی خباثتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے، ایسے خطرناک دہشتگردوں کو دہشتگردی کی تربیت کا جواز فراہم کرنے کے لئے، ہماری شخصیات کو بھی ان ملک و ملت کے ناسوروں کے زمرے میں لانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، جو صد در صد ظلم ہے۔ قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔
پوری تاریخ یزید کے ناپاک کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ آج کرہ ارض پر موجود انسان یزید کے نام سے ہی متنفر ہیں۔ اس کا نام سننا تک گوارا نہیں کرتے۔ یزید اور آل یزید نے بھی ماہ محرم الحرام میں ظلم کی انتہا کر دی تھی اور آج کے یزیدیوں نے بھی ٹھیک محرم کے قریب حق اور حقیقت بیان کرنے والوں کی زبان بندی کا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اگر آپ زبان پر پابندی لگاتے ہیں تو ان پر پابندی لگاو جو شیعہ ذاکرین کے لبادے میں ممبر حسین کی توہین کرتے ہیں، جو ممبروں پر چڑھ کر ناچتے ہیں، نفاق و کفر کا پرچار کرتے ہیں اور لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ زبان بندی کی پابندی ان پر لگاو، جو امن کے دشمن ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محسن ملت علامہ شیخ محسن نجفی صاحب پر کس جرم میں زبان بندی کی پابندی لگائی گئی ہے؟ جی ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اتحاد کے داعی ہیں، وہ بے لوث قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ رفاہی اور معاشرتی میدان میں بھی ملت پاکستان کے لئے متعدد بنیادی خدمات سرانجام دی ہیں۔
جن کے کچھ نمونے یہ ہیں:
1۔ ملک کے مختلف شہروں میں 22 سے زیادہ مدارس دینیہ کا قیام، پسماندہ علاقوں میں 68 سے زیادہ جگہ پر اسوہ سکول سسٹم کا قیام، کالجز اسوہ ماڈل کالج اسلام آباد، اسوہ کالج سکردو، پاک پولی ٹیکنیکل کالج چنیوٹ کا قیام، مدارس حفظ قرآن کی تاسیس، دارالقرآن اور دینیات سنٹرز کا قیام، امام بارگاہ و مساجد کی تعمیر، ملک کے مختلف حصوں میں 100 سے زائد مساجد بنائی جا چکی ہیں۔ یتیموں اور غریبوں کے لئے رہائشی منصوبوں پر کام کیا ہے، جن میں سکردو، مظفر آباد، اور مانسہرہ میں مکانات کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مکانات تعمیر ہوچکے ہیں، ٹیوب ویل اور کنوے کی تعمیر، یتیموں اور فقراء کی امداد، غریبوں کی کفالت، بزرگ شہریوں کی امداد، مستحق افراد کی شادیاں اور ہر سال اجتماعی شادی کے پروگرام بھی سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے ملت پاکستان کے سینکڑوں طلباء کی تعلیمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تربیت سے آراستہ کرکے پاکستانی معاشرے کو مفید انسان پیش کر دیئے ہیں اور مختلف اچھی علمی کتابیں تصنیف کرکے برصغیر کی قوم کو غربت علمی سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کی تصنیفات کے کچھ نمونے یہ ہیں:
الکوثر فی التفسیر القرآن بلاغ القرآن (ترجمہ و حاشیہ)، النھج السوی فی معنی المولیٰ والولی، دراسات الایدو الوجیۃ المقارنۃ، محنت کا اسلامی تصور، فلسفہ نماز، راہنماء اصول، تلخیص المنطق للعلامۃ المظفر، تلخیص المعانی للتفتازانی، اسلامی فلسفہ اور مارکسزم، تدوین و تحفظ قرآن، شرح و ترجمہ خطبہ زھراء سلام اللہ علیہا، آئین بندگی وغیرہ اور ان کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی مقالات جو مختلف ملکی اور غیر ملکی جرائد و مجلات میں چھپ چکے ہیں۔ وقت کے یزیدیوں کیلئے اب بھی فرصت ہے کہ جلد از جلد ہماری ان عظیم شخصیات پر لگائی گئی زبان بندی کی پابندی اٹھائیں، یہ سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ یاد رکھو کہ ظلم کو دوام حاصل نہیں، بالآخر ظلم مٹ کے رہیگا اور امن و اتحاد کے داعی، دین مقدس اسلام اور ملت پاکستان کی خدمات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر رکهنے والی عظیم علمی و فکری شخصیت، محسن ملت، علامہ محسن نجفی پر عائد کردہ زبان بندی کی پابندی اور ان کے بینک اکاونٹس کے انجماد کو فوری طور پر ختم کریں، وگرنہ ماہ محرم نزدیک ہے، جگہ جگہ حسینی عزادار اپنے مولا و آقا کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے حکومت وقت کی اس ناانصافی و ستم پر مبنی حرکت کے خلاف آواز بلند کرکے ظالموں کا جینا حرام کر دیں گے۔ سیدالشہداء حضرت امام حسین (ع) نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ ہمیں ذلت کی زندگی نہیں چاہئے، اس کے بجائے عزت کی موت کے استقبال کے لئے ہم تیار ہیں۔
: یقینی طور پر ان میں سب سے نمایاں نام علامہ شیخ محسن علی نجفی کا ہے، جو اسلام آباد کے معروف دینی اداروں جامعہ کوثر اور جامعہ اہل البیت کے سربراہ ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور کئی ایک علمی و تعلیمی اداروں کے بانی ہیں۔ انھوں نے دینی اداروں کے قیام کے علاوہ عصری تعلیم کے ایسے ادارے اور کالج قائم کئے، جنھوں نے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کالجوں کے مقابلے میں اپنی کامیابیوں کا سکہ منوایا۔ شیخ محسن علی نجفی نے کچھ ہی عرصہ پہلے تفسیر الکوثر کے نام سے قرآن حکیم کی ایک مکمل اور قابل افتخار تفسیر لکھی ہے، جو تھوڑے ہی عرصے میں پاکستان کی مقبول ترین تفاسیر قرآن میں شامل ہوگئی ہے۔
تحریر: ثاقب اکبر
قومی ایکشن پلان پر یکساں طور پر پورے ملک میں عملدرآمد کے لئے ملک کے تمام محب وطن حلقے اور پارٹیاں آواز بلند کرتے رہے ہیں، لیکن یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پلان فورتھ شیڈول کے نام پر اس ملک کے شرفاء کے سروں پر بھی دھول ڈال دے گا اور حق و باطل میں کوئی تمیز باقی نہ رہے گی۔ ایک طرف اس ملک میں وہ لوگ ہیں جو جی ایچ کیو سے لے کر کالجوں، یونیورسٹیوں، وکیلوں، علماء، سیاستدانوں، ہسپتالوں، قبرستانوں، جنازوں، مسجدوں، مزاروں اور امام بارگاہوں پر حملہ آور ہیں، ایسے دہشت گرد جو القاعدہ، طالبان اور داعش جیسی انسانیت دشمن تنظیموں سے وابستہ ہیں، ایسی تنظیمیں جو سپاہ، جیش اور لشکر جیسے ناموں سے سرگرم عمل ہیں، ایسے گروہ جو تکفیر، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ میں اپنا منفی کردار کئی دہائیوں سے ادا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو اس ملک میں رواداری، ہم آہنگی، یکجہتی، محبت اور اخوت کے جذبوں کو عام کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ان میں کئی جماعتیں، ادارے اور افراد موثر طور پر وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو حکومتوں کو ادا کرنا چاہیے اور شاید اس سے بڑھ کر یہ کہا جاسکے کہ جو حکومتیں بھی ادا نہیں کرسکتیں۔
گذشتہ دنوں جب فورتھ شیڈول کے نام پر دو ہزار سے زیادہ افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اعلان ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس فہرست میں جہاں ایک طرف شدت پسند اور تکفیری عناصر کے نام موجود ہیں، وہاں اس ملک کے معتبر، محب وطن، مثبت شناخت رکھنے والے اور خدمات کا روشن ماضی رکھنے والے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید کسی دفتری غلطی، کسی بابو کی غلط فہمی کی وجہ سے یا شاید اداروں میں گھسی ہوئی بعض کالی بھیڑوں کے ایماء پر ایسا ہوگیا ہے اور جونہی ذمہ دار حکام کی نظر اس فہرست پر پڑے گی تو حق و باطل میں اختلاط اور اچھے اور برے کو ایک ہی آنکھ سے دیکھے جانے کا تاثر ختم ہو جائے گا اور جن بے گناہوں کا نام اس فہرست میں شامل ہوا ہے، انھیں یقینی طور پر نکال دیا جائے گا، لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا بلکہ اگلا مرحلہ بھی آگیا اور ان تمام افراد کی قومی شناخت کو معطل کر دیا گیا۔
ویسے تو اس فہرست میں شامل متعدد افراد کو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ جنھوں نے اس ملک میں امن و امان کے قیام اور سلامتی و رواداری کے فروغ کے ساتھ ساتھ رفاہی اور فلاحی خدمات کا بھی ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تاہم اس میں بعض نام ایسے نمایاں ہیں، جنھوں نے سالہا سال سے اخوت و محبت کا پرچم اپنے ہاتھ میں تھام رکھا ہے۔ یقینی طور پر ان میں سب سے نمایاں نام علامہ شیخ محسن علی نجفی کا ہے، جو اسلام آباد کے معروف دینی اداروں جامعہ کوثر اور جامعہ اہل البیت کے سربراہ ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور کئی ایک علمی و تعلیمی اداروں کے بانی ہیں۔ انھوں نے دینی اداروں کے قیام کے علاوہ عصری تعلیم کے ایسے ادارے اور کالج قائم کئے، جنھوں نے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کالجوں کے مقابلے میں اپنی کامیابیوں کا سکہ منوایا۔ شیخ محسن علی نجفی نے کچھ ہی عرصہ پہلے تفسیر الکوثر کے نام سے قرآن حکیم کی ایک مکمل اور قابل افتخار تفسیر لکھی ہے، جو تھوڑے ہی عرصے میں پاکستان کی مقبول ترین تفاسیر قرآن میں شامل ہوگئی ہے۔ وہ گذشتہ کئی برسوں سے علمائے اسلام کانفرنس کے نام پر ایک ایسی کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں، جس میں تمام مکاتب فکر کے جید اور مایہ ناز علمائے کرام، مذہبی جماعتوں کے اکابر شریک ہوتے ہیں اور اتحاد امت اور وحدت مسلمین کے عنوان سے اپنے نظریات و افکار کو پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے مسلمانوں کو بالخصوص اور امت اسلامیہ کو بالعموم اتفاق و اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔
مذکورہ بالا فہرست میں علامہ شیخ محمد امین شہیدی کا نام بھی شامل ہے، جنھوں نے مرحوم قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر ملی یکجہتی کونسل کے احیاء اور فعالیت کے لئے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ قاضی صاحب نے مرکزی ذمہ داروں کا انتخاب کیا تو انھیں اتفاق رائے سے مرکزی سیکرٹری مالیات منتخب کیا گیا۔ حال ہی میں جب ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی ذمہ داروں کا نئے سرے سے چناؤ ہوا تو انھیں اتفاق رائے سے مرکزی نائب صدر منتخب کیا گیا۔ انھوں نے ملک بھر میں اتحاد امت کے لئے اجتماعات منعقد کئے اور ان کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ وہ میڈیا پر انٹرویوز ہوں یا اجتماعات میں خطابات، ہمیشہ اس ملک کی بہتری کے لئے گفتگو کرتے ہیں اور امت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل رہے ہیں۔
اسی فہرست میں علامہ مقصود علی ڈومکی کا نام بھی شامل ہے۔ وہ اس وقت ملی یکجہتی کونسل صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ جہاں دہشت گرد ایک عرصہ سے دندناتے پھرتے ہیں اور جنھوں نے ایک ہی دن میں کئی مرتبہ سینکڑوں افراد کو خاک و خون میں نہلایا ہے، اس سرزمین پر وہ حوصلے اور صبر کی علامت اور اتحاد و وحدت کی نشانی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ بدترین حالات میں بھی مسلمانوں کو آپس میں متحد ہونے کے لئے صدا بلند کی۔ انھوں نے جذباتی ترین مراحل میں بھی صبر کی نصیحت کی۔ اس سرزمین پر قاتلوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے نہ کہ صبر و شکیبائی کا درس دینے والوں اور اتحاد و اتفاق کی نصیحت کرنے والوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرکے ان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی۔ ہمیں یہ کہتے ہوئے بھی افسوس ہو رہا ہے کہ صرف معروف افراد میں سے کئی ایک بے گناہوں کو اذیت اور آزار کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایسے تعلیم یافتہ اور پرامن نوجوانوں کو بھی ’’گناہگاروں‘‘ کی مذکورہ فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے، جن پر اس ملک کے دیگر نوجوانوں کو ناز کرنا چاہیے، جنھوں نے محنت اور قابلیت سے اپنے آپ کو اس ملک کا مفید شہری ثابت کیا ہے۔ ہم ایسے کئی ایک اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو جانتے ہیں کہ جن کا نام غلط طور پر فورتھ شیڈول میں شامل کرکے ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا گیا ہے۔
ہم نے چند نام بطور نمونہ لکھے ہیں۔ یقینی طور پر اس فہرست میں اور بھی ایسے افراد ہوں گے اور ممکنہ طور پر دیگر مکاتب فکر کے بے گناہ افراد بھی ہوں گے، جنھیں فورتھ شیڈول میں غلط طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ حکومت اس فہرست پر نظرثانی کرے اور جن کا نام غلط طور پر یا غلط فہمی سے اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، ان کا نام اس فہرست سے نکالے اور ان سے اس سلسلے میں معذرت بھی کرے۔ یہی کافی نہیں اگر بعض کالی بھیڑوں نے جان بوجھ کر نیک نام اور بے گناہ افراد کو اس فہرست میں شامل کیا ہے تو ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جانا ضروری ہے، تاکہ ایسے افراد کو عبرت کا نشان بنایا جائے جو حکومت کے علاوہ ریاستی اداروں کو اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے یا اپنے فرقہ وارانہ مقاصد کے پیش نظر یا زیر زمین دہشت گرد تنظیموں سے اپنے روابط کی بنا پر اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ اس طریق کار کو فوری طور پر اختیار کئے بغیر وہ دھول زمین پر نہیں بیٹھ سکتی جو فورتھ شیڈول کے نام پر اڑائی گئی ہے۔
علامہ محمد امین شہیدی کسی تعارف کے محتاج نہیں، نامور عالم دین اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے رکن ہیں، اسوقت ملی یکجہتی کونسل میں نائب صدر بھی ہیں، ان کا نام حکومت کی جانب سے شیڈول فور میں ڈال دیا گیا ہے، اسکے ساتھ ہی علامہ محمد امین شہیدی کا شناختی کارڈ معطل اور پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے شیڈول فور میں شامل افراد کے اکاونٹس بھی سیز کر دئیے گئے ہیں، جن میں علامہ امین شہیدی کا نام بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز نے اس تمام تر صورتحال اور ملکی حالات پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ
اسلام ٹائمز: حکومت کیجانب سے آپ کا نام بھی شیڈول فور کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، جس میں مولانا عبدالعزیز اور لدھیانوی جیسے لوگ شامل ہیں۔ اسے بیلنس پالیسی کہیں گے یا کچھ اور نام دیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایک لمبے عرصے سے قانون اسی کا غلام ہے جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے۔ قوانین کی عمل درآمدی اسی کے خلاف ہوتی ہے، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ واقعات اور مسائل کے حوالے سے ایک خاص طبقہ تھا جس نے پاکستان کے امن کو تباہ کیا، حکومت اور ریاست کی مجبوری تھی کہ ایسے عناصر کو تنہا کرتے اور انہیں سائیڈ لائن لگاتے۔ لیکن یہ ایک عجیب منطق ہے اور ابتدا سے چلی آ رہی ہے، بالخصوصی انگریزوں کی یہ پالیسی رہی ہے، جن سے ان کالے انگریزوں نے بھی سیکھا ہے کہ ظالم کے ساتھ مظلوم کو بھی اکٹھا کر دو، اِدھر سے چار مارتے ہو تو اُدھرے سے بھی دو مار دو، تاکہ بیلنس رہے اور ادھر سے کوئی ردعمل نہ آئے۔ اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف مظالم ڈھائے۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ جب کوئٹہ کی سرزمین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو اس وقت کے آئی جی بلوچستان نے بیان دیا تھا کہ شیعوں کو بھی چاہیئے کہ انہیں ٹارگٹ کرکے ماریں۔ یعنی وہ زمین ہموار کرنا چاہتے تھے کہ شیعہ بھی کارروائیاں کریں اور انہیں بیلنس کیا جاسکے، لیکن وہاں عقل اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل بیت علیہ السلام کے ماننے والوں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا اور یہ موقع کسی کے ہاتھ میں نہیں آنے دیا۔ لیکن اس کے باوجود کوئٹہ کے شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔
جب فرقہ وارانہ جماعتوں کے نام پر پابندیاں لگیں تو ان پابندیوں میں بلینسنگ کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے تحریک جعفریہ جیسی جماعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ اُن کو کہا گیا کہ آئندہ آپ کوئی سرگرمی اور فعالیت نہیں کرسکتے۔ جب پشاور کے واقعہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے نام پر ایک پالیسی بنی جس میں کہا گیا کہ کالعدم جماعتوں پر پابندی لگے گی، ان کی ہر صورت زبان بندی کی جائے گی، انہیں پرچم نہیں اٹھانے نہیں دیئے جائیں گے، انہیں کوئی ریلی نہیں نکالنے دی جائے گی، انہیں معاشرے میں کوئی افراتفری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنے دی جائے گی۔ اس میں بھی انہوں نے بلینس پالیسی اپنائی، کالعدم جماعتوں کے ساتھ بےگناہ لوگوں کو بھی رگیدنا شروع کر دیا گیا، انہیں اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا۔ اس دوران بہت سارے ایسے واقعات ہوئے جن میں نظر آتا تھا کہ بےگناہ عزادار کو اور بانی مجلس کو صرف جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد شدت پسند اور کالعدم جماعتوں کو مطمئن کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ انہیں بتایا جاسکے کہ ہم ادھر بھی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ اب جب شیڈول فور کی باری آئی تو اس میں حکومت اور ریاستی اداروں نے ہر اس بندے کو سامنے رکھا جو بولتا تھا، جو حکومت کی پالیسی کے خلاف بولتا تھا یا حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتا تھا۔ شیڈول فور کا مقصد تھا کہ امن و امان تباہ کرنے والوں کو قانون کے دائرہ میں لایا جائے، جیسے لال مسجد کے خطیب تھے، جیسے مسلح جھتے تھے، جیسے کافر کافر کے نعرہ لگانے والے بدبخت لوگ تھے، جیسے فرقہ وارانہ لٹریچر تقسیم کرنے والے اور اس کو چھاپنے والے تھے، لیکن یہاں بھی بیلنس کی پالیسی اپنائی گئی اور ان شیعہ افراد کو شامل کیا گیا، جن کا اتحاد امت اور اتحاد وحدت کے حوالے سے واضح رول ہے، ان کا فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے کے حوالے سے کوئی رول نہیں تھا۔ ان افراد کو فقط حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے جرم میں شیڈول فور میں ڈال دیا گیا۔
اب یہ جو سلسلہ چل نکلا ہے، شناختی کارڈ معطل کرنے، پاسپورٹ بلاک کرنے اور زبان بندی کا، اس میں بھی بیگناہ لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، ان افراد کو شامل کیا گیا ہے، جو اس امت اور اس ملک کو مقتدر اور سربلند ملک دیکھنا چاہتے ہیں، جنہوں نے دوسرے مسالک کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضا قائم کرنے کیلئے شب و روز محنت کی ہے۔ میں خود اس وقت ملی یکجہتی کونسل میں نائب صدر ہوں اور اس کیلئے ہم نے خون پسینہ بہایا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ملی یکجہتی کونسل اتحاد امت کیلئے کس طرح کام کر رہی ہے، اب وہ لوگ جو ملی یکجہتی کونسل میں شامل نہیں ہیں، ان کے ساتھ بیگناہوں کو اور ہم جیسوں کو بھی شامل کر رہے ہیں۔ اس سے ان کی ساکھ زیرو ہو جاتی ہے۔ اس اقدام سے جو بےگناہ لوگ ہیں، ان کے منفی جذبات سامنے آئیں گے۔ اس طرح کی ظلم کی پالیسیاں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ جس ڈیپارٹمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے، اس نے پاکستان کیخلاف فیصلہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہونے چاہیئں، عدالتیں اور ادارے آپ کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ کس نے روکا ہے کہ آپ شواہد پیش نہ کریں۔ اگر کسی پر جرم ثابت ہوتا ہے اور عدالت سزا دیتی ہے تو اس پر عمل درآمد کریں۔ لیکن اس طرح شہری آزادیاں صلب کریں، بنیادی ترین حق کو چھیننا، شناختی معطل کرنا اور پاسپورٹ بلاک کرنے جیسے اقدام سے کسی طور پر بھی معاشرے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس وقت بھی و ہ لوگ جو ریاست کی آغوش میں پل رہے تھے، وہ اب بھی پل رہے ہیں اور یہی ہمارا قصور ہے کہ ہم اس پر آواز بلند کرتے تھے۔ وہ چھاونیاں آج بھی آباد ہیں، وہ لوگ آج بھی پرامن زندگیاں بسر کر رہے ہیں، وہ لوگ جنہوں نے ریاستی اداروں پر حملے کئے تھے، وہ آج بھی آزاد زندگی گزار رہے ہیں، ان کی سکیورٹی ہو رہی ہے، جبکہ انہوں نے اس ملک کے اندر میں منافرت پھیلانے، نفرت پھیلانے، لوگوں کو نشانہ پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے مقابلے میں جنہوں نے ملک کو فرقہ واریت سے پاک کرنے کی کوشش کی، جنہوں نے نفرت کے خاتمے کیلئے عملی اقدام کیا، جنہوں نے مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے کیلئے عملی اقدام کرنے کی کوشش کی، انہیں تنگ کیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اندھیری رات کے بعد بلآخر سویرا ہوتا ہے، ظلم کیخلاف آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا، حق اور سچ کی آواز کوئی نہیں دبا سکتا۔ یہ جتنا بھی ظلم کرلیں کم از کم یہ اموی اور عباسیوں سے زیادہ ظلم نہیں کرسکتے۔ یہ کسی کا موقف تبدیل نہیں کرسکتے، اگر وہ موقف انصاف پر مبنی ہے۔ ہم بڑے اطمینان کے ساتھ دعوے کرسکتے ہیں کہ ہم نے جو راستہ چنا ہے، وہ حق گوئی اور سچ کا راستہ ہے، ظلم کی مخالفت کا راستہ ہے، طالبان، القاعدہ اور النصرہ کے خلاف آواز بلند کرنے کا راستہ ہے، ہم کھڑے ہیں اور آخری وقت تک کھڑے ہیں، جب تک خون کا آخری قطرہ ہے۔ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو بہت بڑی لعنت اور اللہ سے دشمنی سمجھتے ہیں۔ پوری شفافیت کے ساتھ اپنے مشن اور ارادے پر قائم ہیں۔ ہم تمام مسالک کو آپس میں جوڑنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے مشن پر قائم ہیں۔ شیعہ سنی اور دیوبندی سنی کو ملانے کیلئے اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ یہ ہماری شرعی، اسلامی، عقلی اور محب وطن ہونے کا تقاضا ہے۔
اسلام ٹائمز: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک خاص لابی ان افراد کیخلاف سرگرم عمل ہے جو میڈیا پر انکے موقف کو کمزور کرتے ہیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کیا آپکی بھی یہی رائے کہ ایک خاص قسم کی لابی اسوقت متحرک ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: جی یقنی طور پر ایسا ہے، دیکھنا چاہیے کہ مجھ سے نقصان کس کو تھا، میری گفتگو سے فائدہ کس کو تھا، یقیناً میری گفتگو سے پاکستان اور محب وطن لوگوں کو فائدہ تھا، میری گفتگو سے نقصان پاکستان مخالف قوتوں اور دہشتگردوں کو تھا۔ نقصان ان لوگوں کا تھا، جو پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانا چاہتے ہیں، جو فرقہ واریت کی آگ کو مزید بڑھوا دینا چاہتے ہیں، انہی کی خواہش تھی کہ میری زبان بندی ہو، اداروں کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں کہ آپ کو فلاں قتل میں ملوث کر دیں گے، تاکہ میں طالبان کے خلاف بات نہ کروں، تاکہ میں ان کے خلاف بات نہ کرسکوں، جنہیں دہشتگردی کی وجہ سے کالعدم قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی کی سزا دی جا رہی ہے، اگر یہ اسی کی سزا ہے تو ہم حق گوئی تو نہیں رک سکتے۔
اسلام ٹائمز: کیا آپ اس ریاستی جبر کیخلاف قانونی اقدمات کرینگے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: دیکھیں قانون نے ہمیں جو جو راستہ اپنانے کیلئے کہا ہے، وہ میں اپناوں گا۔ یقینی طور پر میں یہ کام کروں گا، قانون نے جہاں جہاں مجھے اجازت دی ہے کہ میں اس طرح کے ریاستی کالے اقدامات کیخلاف جاوں تو وہ میں ان شاء اللہ ضرور جاوں گا۔
اسلام ٹائمز: آپ اس وقت ملی یکجہتی کونسل میں نائب صدر ہیں، کونسل نے بھی اس پر کوئی آواز اٹھائی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: ابھی ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس نہیں ہوا، یہ تازہ واقعہ ہے، کونسل کا اجلاس ہوگا تو اس مسئلے پر مجموعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور بات کریں گے۔ دیکھیں کیا نیتجہ نکلتا ہے۔
اسلام ٹائمز: نیکٹا نے اسٹیرنگ کمیٹی بنائی ہے، جسکا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ آپ بھی اسکا حصہ ہیں۔ اسکے باوجود آپکا نام شیڈول فور میں ہے، عجیب نہیں ہے۔ کیا وہاں اجلاس میں بھی یہ بات اٹھائیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: نیکٹا نے ایک اسٹرینگ کمیٹی بنائی ہے، جس میں اہل فکر، اہل سیاست، اہل دانش اور معاشرے کے معتبر طبقات کی نمائندگی ہے، اس میں جو مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی ہے، اس میں اہل تشیع کی نمائندگی میں کر رہا ہوں، جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس پر یہی کہوں گا کہ ان شاء اللہ نیکٹا اسٹرینگ کمیٹی میں بھی اس پر ضرور آواز اٹھائیں گے۔
اسلام ٹائمز: لین دین آپ نہیں کرسکتے، اکاونٹس آپکے منجمد کر دیئے گئے ہیں، شناختی کارڈ آپکا معطل ہے اور ملک سے باہر آپ نہیں جا سکتے، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ان ریاستی اقدامات سے منفی جذبات جنم لیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: میں نے عرض کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے منفی جذبات جنم لیں گے، یہ منفی جذبات پیدا کرنے میں کون لوگ ملوث ہیں؟ ظاہر ہے جو حکومت اور ریاست کے مختلف اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جن کا کام اپنا الو سیدھا کرنا ہے، جن کا کام کرپشن کرنا اور اپنا کام سیدھا کرنا ہے۔ اگر آپ پیسہ خرچ کریں تو یہ سب چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انصاف کے حصول کیلئے پورے یقین کے ساتھ چلیں گے، ان شاء اللہ کوئی لاقانیت نہیں ہونے دیں گے۔ یہ طے بات ہے کہ ریاست کے اس طرح کے اقدامات سے بعض لوگوں میں منفی جذبات ابھریں گے، لیکن یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بعض فرقہ پرستوں نے منفی جذبات کا اظہار بھی کیا ہے، لیکن ہم فرقہ پرست نہیں ہیں، ہم تکفیری سوچ کے حامل نہیں ہیں، ہم فرقہ پسندی کو لعنت سمجھتے ہیں، دوسرے فرقوں کی بےاحترامی کو لعنت سمجھتے ہیں، باہر سے مداخلت کو لعنت سمجھتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے میں اگر کسی ملک کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے اور ایک دوسرے کیخلاف کھڑے کرنے میں کوئی ملک لابنگ کر رہا ہے، اثر و رسوخ کا استعمال کر رہا ہے، پیسہ خرچ کر رہا ہے تو وہ سعودی عرب ہے۔ جب اس طرح سے مداخلتیں کریں گے اور مختلف اداروں میں کرائے کے مزدوں سے اقدامات کرائیں گے تو اس سے منفی جذبات جنم لیتے ہیں، لیکن ایک بات واضح کر دوں کہ ہم ملک کے بانیوں کی اولاد ہیں، اس لئے ہم سجھتے ہیں کہ اس ملک میں سب کو جینے کا حق حاصل ہے، ان لوگوں کو بھی جینے کا حق حاصل ہے، جو مسلمان نہیں ہیں لیکن اس ملک کے شہری ہیں، انہیں بھی برابری کی بنیاد پر جینے کا حق حاصل ہے۔ ہم قانون اور ریاست کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس طرح کے کالے قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔
اسلام ٹائمز: نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات طے کئے گئے تھے، لیکن عملی طور پر تین نکات پر عمل درآمد کیا گیا، کیا آپ سمجھتے ہیں اسکی وجہ پک اینڈ چوز بھی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: جی بالکل ایسا ہے، فوج کے ذمے جو کام تھا اس نے کیا، لیکن حکومت کے ذمے جو کام تھا وہ نہیں کیا گیا۔ وہاں عملداری نظر نہیں آئی۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے کتنے نکات پر عمل درآمد ہوا ہے اور کتنوں پر نہیں۔ بڑے بڑے لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جن نکات پر عمل ہوا ہے وہ تین یا چار ہیں۔ اب تک کتنے مدارس بند ہوئے، کتنوں کے فنڈنگ روکی گئی، ابتک کتنے دہشتگردوں کے اڈوں کو بند کیا گیا، یوٹیوب ان لوگوں کی بدزبانی اور گفتگو سے بھری پڑی ہے، آپ لوڈاسپیکر پر تو پابندی لگاتے ہیں لیکن ان کی زبان بندی کیوں نہیں کراتے جو نفرت پھیلاتے ہیں۔؟ اس طرح لسٹ بناتے چلیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ فقط تین چار کے علاوہ پندرہ سے سولہ نکات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ شہروں میں ضرب عضب شروع نہیں کیا گیا۔ ہم کہتے ہیں کہ ضرب عضب میں پک اینڈ چوز نہ کی جائے، اس کا دائرہ کار اتنا وسیع ہونا چاہیئے کہ جو بھی دہشتگرد ہے، اسے سزا ملنی چاہیئے۔ چاہے وہ فرقہ پرستی اور شدت پسندی پھیلاتا ہے یا بیرون ملک سے پیسے لیکر نفرت پھیلاتا ہے، اسے روکا جائے۔
اسلام ٹائمز: سیرل المیڈا کی اسٹوری آپ نے بھی پڑھی ہوگی، یقیناً اس میں جھوٹ نہیں ہے، دہشتگرد ایک عرصہ تک اس ریاست کا اثاثہ رہے ہیں، یہی وجہ بنی کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہوگیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت واقعاً دہشتگردوں سے نمنٹا چاہتی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی: دیکھیں ان حقیقتوں کا کوئی انکار تو نہیں کرسکتا۔ ابھی جو شکار پور میں عید کے موقع پر واقعہ ہوا تھا، دو خودکش حملہ آوروں کو عوام نے پکڑا تھا، ایک مارا گیا دوسرے کی جیکٹ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت اتاری۔ اللہ نے معجزہ دکھایا کہ وہ پھٹا نہیں۔ میں خود وہاں گیا تو عوام نے بتایا کہ یہاں سے کچھ مہینے قبل پانچ سو کے قریب دھماکہ خیز مواد پر مبنی ڈرم برآمد ہوئے اور چار سے پانچ افراد کو بھی پکڑا گیا۔ مگر وہ چند دن بعد سب کے سب آزاد ہوگئے، میں نے وہاں کے ایم این اے آفتاب میرانی سے استفسار کیا کہ آپ لوگ دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں یا نہیں، کیا آپ لوگ امن کے خواہاں ہیں یا نہیں، تو ان کے ساتھ ایک پولیس افسر تھا، اس نے کہا کہ میں وہ آفسر ہوں، جس نے یہ آپریشن کرکے دھماکہ خیز مواد برآمد کیا اور ملزمان کو گرفتار کیا۔ اس نے بتایا کہ ہم نے تمام ملزمان کیخلاف ایف آئی آرز کاٹیں، لیکن چار مہینوں کے بعد سب کے سب آزاد ہوگئے۔ جس ملک میں بنیادی دہشتگردی کرنے والوں کو چند مہینوں میں چھوڑ دیا جائے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ یہ چھوڑنے والے کون ہیں، ظاہر ہے کہ ریاست کے ہی لوگ ہیں، لہذا ان اداروں کی تطہیر کی اشد ضرورت ہے۔ کیا سیاسی لوگ چند ووٹوں کی خاطر ان کالعدم جماعتوں اور دہشتگردوں کی سپورٹ نہیں حاصل کرتے۔ ریاستی اداروں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، جب تک ان کالی بھیڑوں کو صاف نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پاکستان دہشتگردی سے پاک نہیں ہوسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملک میں ان غلط پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث یہ ملک یہاں پہنچا، کہاں غلطی ہوئی، اس کے ازالے کی ضرورت ہے، جو پرامن لوگ ہیں، انہیں پرموٹ کریں اور جو دہشتگرد اور شدت پسند ہیں، انہیں تنہا کریں۔ مجرموں کو سزا ملنی چاہیئے۔
اسلام ٹائمز: یمن اور شام کے حوالے کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: دیکھیں کہ ظلم کی رات طویل نہیں ہوتی، ایک نہ ایک وقت صبح ہو کر رہتی ہے، سورج طلوع ہو کر رہتا ہے۔ بظاہر مظالم کی وجہ سے رات طولانی لگتی ہے، ایک دن امن کا سورج طلوع ہوگا، جن لوگوں نے ایک لاکھ لوگوں کو شام میں دہستگردی کیلئے جمع کیا تھا، وہ آج ان سے برات کر رہے ہیں، ان کو لانے والا بندر بن سلطان ہی تھا، وہی سعودی عرب جو داعش، طالبان، لشکر جھنگوی اور دیگر کالعدم جماعتوں کی ماں ہے، اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ روس کی مداخلت کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ اب فرقین مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں، اب کیونکہ زمینی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور فتح کا سلسلہ ہر روز آگے بڑھ رہا ہے، اس لئے دہشتگردوں کو بنانے والی قوتیں بیک فٹ پر ہیں، ایک دن ان شاء اللہ شام میں امن آئے گا کہ وہاں جمہوری حکومت قائم ہوگی۔ ایک غیر جانبدار الیکشن ہوگا، مسئلہ حل ہوگا۔ جہاں تک یمن کی بات ہے، وہ ایک لٹا پھٹا ملک ہے، اس پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے، اسرائیل اور امریکہ نے یمن کیخلاف سعودیوں کی مدد کی ہے۔ تمام حقوق بشر کی تنظیمیں نابینا ہوگئی ہیں، گنگ ہوگئی ہیں، اس ظلم کیخلاف کوئی نہیں بول رہا، اس کے باجود مظلوم کا خون بولتا ہے، ابھی مجلس ترحیم پر انہوں نے حملہ کیا اور چھ سو افراد کو شہید کیا، پوری دنیا میں سعودیوں کیخلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے، یہ جتنا ظلم بڑھاتے جاتے ہیں، ان کیخلاف نفرت کی دیوار بڑھتی جائے گی۔ مثبت قوتیں مایوس نہیں ہوتیں، یمنیوں کو ان شاء اللہ ایک دن آزادی ملے گی، یمن سعودی، اسرائیلی اور امریکی چراگاہ نہیں بنے گا، ان سے آزاد ہوکر رہے گا۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے یمن کو آج کی کربلا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ موصل کی آزادی میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، لہذا اس کی مکاری سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقے الضاحیہ میں سید الشہداء امام بارگاہ میں دس محرم شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاداری میں شرکت کی اور عزداران حسینی سے خطاب کیا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایسے تمام شہداء کے اہلخانہ کو تسلیت عرض کی، جنہوں نے دینی اقدار اور مقدسات کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کابل اور بغداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے عزاداران حسینی کیلئے بھی اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: "اس سال مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ہر میدان میں مجاہدین کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کامیابیوں نے تکفیری دہشت گردوں کو کمزور اور عاجز کر ڈالا ہے۔"
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے یمن کے خلاف سعودی جارحانہ اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آج ہم یمن کے بارے میں بات کریں گے اور ہم نے تاکید کی ہے کہ ضاحیہ، صور، بعلبک اور الھرمل سے مغربی البقاع تک منعقد ہونے والی مجالس عزاداری میں یمن کے عوام، یمن کی فوج اور رضاکار فورس سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ ہر سیاسی ماہر اور تجزیہ کار کیلئے یہ حقیقت انتہائی واضح ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جنگ سیاسی اہداف کی خاطر نہیں بلکہ اس دشمنی اور کینہ توزی کا نتیجہ ہے جو سعودی حکومت کے دل میں یمنی عوام کی نسبت پایا جاتا ہے۔ سعودی حکومت جس انداز میں یمن میں عام اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام کر رہی ہے، اس کے اہداف ہرگز سیاسی نہیں ہوسکتے بلکہ یہ اقدامات وہابیت کی دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جنگ کا مقصد یمنی عوام کی قوت ارادی کو ختم کرنا ہے، کیونکہ وہ خود مختاری اور عزت کے خواہاں ہیں۔"
سید حسن نصراللہ نے کہا: "آج یمن میں بھی کربلا کی طرح بیگناہ انسانوں کا قتل اور ٹکڑے ہوئے لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ صنعا اور یمن کے دیگر شہروں میں غم انگیز مناظر نظر آتے ہیں جبکہ یمنی عوام انتہائی شجاعت اور استقامت سے امریکی اور سعودی قتل و غارت اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمنی عوام ہرگز جارح قوتوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، ان کے دشمنانہ اقدامات کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے اور ہم بہت جلد امام خامنہ ای کی اس پیشین گوئی کو حقیقت کا رنگ اختیار کرتا دیکھیں گے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آل سعود کی ناک مٹی پر رگڑی جائے گی۔ سید حسن نصراللہ نے یمنی عوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "میں اپنے یمنی بھائیوں کو اپنے ذاتی تجربے اور ایمان کی روشنی میں کہتا ہوں کہ خداوند متعال پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو وحشی دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔"
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے مسئلہ فلسطین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہنا شروع ہوگئے تھے کہ فلسطینی انتفاضہ شکست کا شکار ہو کر ختم ہوچکی ہے، لیکن حال ہی میں انجام پانے والے شہادت طلبانہ اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ انتفاضہ فلسطینی جوانوں کے دلوں، عقل اور ضمیر کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "غاصب اسرائیلی بہت جلد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ فلسطین کی سرزمین ان کی موت، شکست اور ان کا خون جاری ہونے کی سرزمین ہے۔ اسرائیلیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ وہیں لوٹ جائیں، جہاں سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے تھے اور فلسطینی مزاحمت کا بھی یہی پیغام ہے۔" سید حسن نصراللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی حکام کے سامنے خشوع و خضوع کا فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسرائیل وہی ہے جو امریکہ سے بے تحاشہ اسلحہ وصول کرتا ہے اور غیر مشروط امریکی حمایت سے بھی برخوردار ہے۔ اس وقت ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن اسرائیل کی نامحدود حمایت کے اظہار میں ایکدوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے فلسطین کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔"
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے عراق میں جاری داعش کے خلاف آپریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقی عوام کو خبردار کیا اور کہا: "امریکی موصل کے ذریعے شام کے مشرقی حصے میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے داعش کے تمام دہشت گرد عناصر کو شام کے مشرقی حصے میں جمع کر دیا ہے، تاکہ اس جگہ ان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ ایسی صورت میں داعش اپنی قوت بحال کرنے کے بعد دوبارہ عراق پر حملہ آور ہوسکے گی۔" سید حسن نصراللہ نے کہا: "یہ ایک امریکی سازش ہے، جس کا مقصد موصل میں عراقی عوام کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کرنا ہے۔ لہذا عراق کی مسلح افواج اور رضاکار فورس کو چاہئے کہ وہ موصل میں موجود داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کر ڈالیں اور ان کے کمانڈرز کو گرفتار کر لیں اور انہیں شام کی طرف بھاگنے کی اجازت نہ دیں، کیونکہ شام میں ان دہشت گرد عناصر کی موجودگی عراق کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوگی۔"
سید حسن نصراللہ نے بحرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام اپنے عظیم مقاصد کی راہ میں ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اس استقامت اور شجاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرینی عوام اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے اور پوری دنیا تک اپنی آواز پہنچانی چاہئے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "ہم نے اسرائیل اور اسرائیل سے ملنے والی اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم نے اسرائیل پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اسلامی مزاحمت ہرگز اسرائیل کے خلاف میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ ہماری طاقت کا راز فوج، عوام اور اسلامی مزاحمت کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح ہم نے لبنان کی شمالی سرحدوں پر بھی تکفیری دہشت گرد عناصر سے مقابلے کیلئے نظریں جما رکھی ہیں۔ ہم ملک کے دفاع کیلئے وہاں موجود رہیں گے۔" حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ مجاہدوں کی شہادت نے حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ بعض ہمارے شہداء کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے۔ اسی طرح بعض یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حزب اللہ لبنان مالی اعتبار سے کمزور ہوگئی ہے، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ میرا جواب ایک جملہ ہے کہ ہم نے نہ تو شکست کھائی ہے اور نہ ہی ہم تھکے ہیں۔
به گزارش گروه وبگردی باشگاه خبرنگاران جوان، روز جمعه 18 تیرماه برهان وانی رهبر 22 ساله حزب مجاهدین به ضرب گلوله کشته شد و همین کافی بود تا موجی از تظاهرات و اعتصاب گسترده، کشمیر را فرا بگیرد.
فردای مرگ برهان وانی و پس از انکه تشییع جنازه او با حضور 70هزار نفر توسط نظامیان هندی به خشونت کشیده شد، تصاویر صورت ها و تن خونین مردم منطقه جامو و کشمیر بر روی شبکه های اجتماعی نقش بست. اما از بد حادثه 43 کشته و بیش از 2000 زخمی کشمیری در میان خبرهای نیس و آنکارا نظر جهانیان را به خود جلب نکرد. حالا دهمین روزیست که کشمیر روی خوش به خود ندیده و مردمی که از سوی هندی ها تروریست خوانده می شوند و از سوی احزاب پاکستانی گزینه ای برای اخذ رای دانسته می شوند، تحت شدید ترین تدابیر امنیتی به خیابان ها می آیند و مورد حمله قرار می گیرند.

پلیس هند که پیشتر برای دستگیری وانی، 15 هزار دلار تعیین کرده بود، با اطلاع از حضور وی در مراسم نمازجمعه، موقعیت او را محاصره کرده و او و دو همراهش را به قتل رساند.
از همان شامگاه جمعه، سه روز عزای عمومی اعلام شده و اعتراضات به اقدام پلیس هند آغاز شد. زمانی که تشییع وانی با شکوه هرچهتمامتر برگزار شد، تظاهرکنندگان با قوت بیشتر به کار خود ادامه داده و در مواجهه با برخوردهای پلیس هند به درگیریهای خشونتآمیز روی آوردند.

تشییع با شکوه برهان وانی
دلایل بیتوجهی جهانیان به سرکوب مردم کشمیر
آقای روحالله رضوی کارشناس مسائل کشمیر در گفتگو با تسنیم درباره مسئله کشمیر و دلایل بیتوجهی جامعه جهانی به آن گفت : مسئله کشمیر هم باید همانند مسائل مهم منطقهای دیگر مورد توجه قرار گیرد. اما دلیل اینکه چرا آن طور که باید و شاید به این مسئله پرداخته نشده است، به ویژه طی چند سال اخیر به بحرانهای منطقهای برمیگردد.
بازیگرانی که در مسئله کشمیر تاثیرگذار هستند، یعنی هند و پاکستان طی 60 تا 70 سال اخیر در این زمینه ایفای نقش کردهاند و هر کدام از نگاه خود به این مسئله پرداختهاند و این مسئله سبب شد تا عملا زمینه نگاه بین المللی به این مسئله فراهم نشود.زیرا هند مسئله کشمیر را یک مسئله داخلی خود می داند و پاکستان هم از این مسئله به عنوان ابزار و اهرمی برای فشار بر هند استفاده میکند.
اصرار دولت هند بر اینکه مسئله کشمیر یک مسئله داخلیاش است و نیز نوع نگاه منفعت محور پاکستان به این مسئله باعث شده که طی این سالهای طولانی، اطلاعات و اخبار درستی از کشمیر به خارج از این منطقه منتقل نشود و بحرانهای منطقهای هم طی چند سال اخیر به آن(نپرداختن رسانهها به مسئله کشمیر) دامن زده است.
رد پای انگلیس در اشغال کشمیر
رضوی درباره اینکه آیا استعمارگران انگلیسی در مصایب و رنج طولانی مردم کشمیر نقش داشتهاند، تصریح میکند که انگلیسیها به هندیها کمک کردند تا نیروهای نظامی خود را در کشمیر مستقر کنند.(استعمار پیر انگلیس در اشغال سرزمین متعلق به ملت فلسطین هم نقش اصلی و محوری را ایفا کرد)
از آن زمان، اختلافات میان هند و پاکستان شروع شد که با رخ دادن چند جنگ میان دو طرف به اوج خود رسید.

نقشهای از منطقه مورد مناقشه در کشمیر
کشمیر کجاست؟
کشمیر منطقهای در شمال غربی شبهجزیره هند است که از ایالت جامو و کشمیر تحت کنترل هند، ایالت گلگت بلتستان و کشمیر آزاد تحت کنترل پاکستان و منطقه اقصای چین تحت کنترل جمهوری خلق چین تشکیل میشود. این منطقه عمدتاً کوهستانی است و رشتهکوه قراقروم شامل قله کی۲ دومین نقطه مرتفع کره زمین و چندین قله مرتفع دیگر در آن قرار دارند.کشمیر یکی از حوزههای اصلی نفوذ زبان فارسی بهشمار میرود.
ایالت هندی جامو و کشمیر حدود ۱۰۱٬۴۳۷ کیلومتر مربع وسعت دارد و در سرشماری سال ۲۰۱۱ بیش از ۱۲ میلیون نفر جمعیت داشتهاست. پایتخت تابستانی آن سرینگر مرکز تاریخی منطقه و پایتخت زمستانی آن جامو است. منطقه تحت کنترل پاکستان از کشمیر آزاد به پایتختی مظفرآباد با مساحت ۵٬۶۱۹ کیلومتر مربع و ایالت گلگت بلتستان با مساحت ۷۲٬۴۹۶ کیلومتر مربع تشکیل میشود و مساحت مناطق عمدتاً خالی از سکنه تحت کنترل چین هم ۴۲٬۶۸۵ کیلومتر مربع است.

این منطقه تا پیش از استقلال هندوستان در سال ۱۹۴۷ یک دولت سلطنتی تحتالحمایه بریتانیا داشت. در جریان جدایی پاکستان از هند هر دو کشور مدعی حکومت بر این منطقه بودند که به وقوع چندین جنگ بین این دو کشور انجامید.
سابقه تاریخی حضور تشیع در کشمیر به سده هشتم بازمیگردد. در این دوران برخی از صوفیان و علمای شیعه ایرانی و گروهی از سادات به این منطقه مهاجرت کردند. گسترش تشیع با تأسیس سلسله چکها در کشمیر به اوج خود رسید. بعد از چکها بااینکه شیعیان تا امروز از قدرت سیاسی به دور بودهاند، همچنان به حیات اجتماعی خود در کشمیر ادامه دادهاند. امروزه شهرهای کارگیل، سرینگر، بدگام و دره کشمیر در بخش کشمیر تحت نظارت هند و مناطق بلتستان و گلگت در کشمیر تحت نظارت پاکستان، ازجمله مراکز مهم تشیع در کشمیر به شمار میآیند.
ایالت کشمیر (قبل از تقسیم) از پنج بخش دره کشمیر، جامو، لداخ، بلتستان، پونچ و گیلگت تشکیل شده بود. جمعیت کشمیر در سال ۱۹۴۱میلادی/ ۱۳۲۰ش. ۴۰۲۱۶۱۶ نفر بود که از آن میان ۷۷ درصد مسلمان، ۲۰ درصد هندو و ۳% سیک و اقلیتهای دیگر بودند.
در سال ۱۸۴۶ بر اساس معاهده امرتسر، انگلستان حکومت کشمیر را به گلاب سینگ فروخت و او سلسله دُگرا را در این منطقه تأسیس کرد. در دوران حکومت سلسله دگرا مسلمانان بهشدت سرکوب شدند و تبعیض شدیدی بین مسلمانان و هندوها وجود داشت.
کشمیر تحت نظارت پاکستان
مناطق شمالی: بخشی از کشمیر تحت نظر پاکستان است که از جنوب و شرق با کشمیر تحت سلطه هند و کشمیر آزاد هم مرز است و در منتها الیه شمال پاکستان قرار دارد و از شمال به افغانستان و از شمال شرق به مرزهای چین محدود است. این منطقه به دو بخش عمده گلگت و بلتستان تقسیم شده است:
مناطق شمالی متمرکزترین منطقه شیعه نشین پاکستان است که مناطقی از آن مانند روندو و کلتری و کرمنگ در بلتستان و نگر در گلگت ۱۰۰٪ شیعه هستند. در حال حاضر مناطق شمالی به پنج شهرستان تقسیم شدهاند که ۳۹٪ جمعیت آن شیعه اثناعشری، ۲۷٪ سنی، ۱۸٪ شیعه اسماعیلی و ۱۶٪ شیعه نوربخشی هستند.
کشمیر آزاد: کشمیر آزاد بخشی از کشمیر تحت نظارت پاکستان است که در غرب منطقه کشمیر هند قرار گرفته و با ۱۳۲۷۹۷ کیلومتر مربع مساحت، از نظر اداری دارای ریاست مستقلی است. اکثر جمعیت این منطقه را اهل سنت تشکیل میدهند و شیعیان به طور پراکنده در سراسر منطقه حضور دارند. بیشترین جمعیت شیعه کشمیر آزاد در مظفرآباد و اطراف آن مستقراند. پس از مظفرآباد، بیشترین شیعیان در شهرستانهای کوتلی، پونج، باغ و میرپور زندگی میکنند.
کشمیر تحت نظارت هند
مهمترین مناطق شیعه نشین در کشمیر هند از این قرارند:
کارگیل:در ۲۰۵ کیلومتری سرینگر است و ۱۴۰۰۰۰ هزار تن جمیعت دارد که ۹۰درصد اهالی آن شیعه هستند.
لداخ: با ۳۰۰۰۰ تن جمعیت که ۵۲ درصد آن مسلمانند و ۹۰ درصد مسلمانان شیعه هستند.
سرینگر: مرکز ایالت جامو و کشمیر با جمعیت ۹۰۰۰۰۰ نفری که ۹۴ درصد آنان مسلمانند و ۲۶ درصد مسلمانان شیعه.
بودگام: با جمیعت ۵۹۳۷۶۸ نفر که ۳۶ درصدشان شیعیه هستند.
باره مولا: جمعیت ۹۰۰۰۰۰ نفر و ۹۷ درصد مسلمان و ۳۲ درصد شیعه

شیعیان اثنی عشری در کشمیر به دو گروه فرقه قدیم و فرقه جدید تقسیم شدهاند که هر یک بعدها دچار انشعابات درونی شدند. این گروه بندی در اواخر قرن نوزدهم میلادی شکل گرفته است و ریشه در اختلاف بر سر رهبری دینی شیعیان داشته است. رهبری فرقه قدیم را علمای خاندان انصاری کشمیر بر عهده دارد که نسبشان به سید حسین قمی باز میگردد و از سدههای گذشته در میان شیعیان از موقعیت بالایی برخوردار بودهاند. بنیانگذار فرقه جدید، سید مهدی موسوی از اهالی بودگام است که بعد از سفر به نجف و تکمیل تحصیلات و بازگشت به کشمیر در سال ۱۸۸۰م./۱۲۹۷ق. پیروان زیادی یافت. بعدها فرقه قدیم به دو گروه افتخاری و عباسی و فرقه جدید به دو گروه مصطفوی و محمدی تقسیم شدند که هر یک حسینیهها و مساجد خاص خود را دارند. صاحبنظران، این گروه بندیها را از عوامل تفرقه اجتماعی بین شیعیان کشمیر به حساب میآورند که خود از عوامل عقب ماندگی فرهنگی و اجتماعی در جامعه شیعی کشمیر است.
شیعیان در کشمیر تحت نظارت هندوستان، با بیتوجهی دولت روبرو بودهاند. برخی نیز هندوها را به تفرقه افکنی بین شیعیان و سنیهای هندوستان متهم میکنند. مجموع این عوامل باعث انزوای شیعیان کشمیر شده است؛ به شکلی که مشارکت شیعیان در امور سیاسی اندک است و شرایط اقتصادی آنان وضع مطلوبی ندارد. همچنین به دلیل اینکه بسیاری از شیعیان تحصیل کرده نیستند موقعیت شغلی مناسبی ندارند.
منبع: مشرق
شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے اور یہ دن عالم اسلام کی مشترک عید ہے ۔ مؤمنین رمضان مبارک کے گزرجانے اور اس مہینے میں عبادت وتقوی پرہیز گاری و تہذیب نفس کے ساتھ گزارنے پر خوشی اور اللہ سے ان نعمات کا شکریہ کرنے کیلۓ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط قائم کرتے ہوۓ عید کی نماز پڑھتے ہیں ۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے اور یہ دن عالم اسلام کی مشترک عید ہے ۔ مؤمنین رمضان مبارک کے گزرجانے اور اس مہینے میں عبادت وتقوی پرہیز گاری و تہذیب نفس کے ساتھ گزارنے پر خوشی اور اللہ سے ان نعمات کا شکریہ کرنے کیلۓ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط قائم کرتے ہوۓ عید کی نماز پڑھتے ہیں ۔
پیغمبر اسلام (ص) نے اس دن کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اذا کان اول یوم من شوال نادی مناد : ایھا المؤمنون اغدو الی جوائزکم، ثم قال : یا جابر ! جوائز اللہ لیست کجوائز ھؤلاء الملوک ، ثم قال ھو یوم الجوائز ۔
یعنی جب شوال کا پہلا دن ہوتا ہے ، آسمانی منادی نداء دیتا ہے : اے مؤمنو! اپنے تحفوں کی طرف دوڑ پڑو ، اس کے بعد فرمایا: اے جابر ! خدا کا تحفہ بادشاھوں اور حاکموں کے تحفہ کے مانند نہیں ہے ۔ اس کے بعد فرمايا" شوال کا پہلا دن الھی تحفوں کا دن ہے ۔
امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے عید فطر کے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! یہ دن وہ ہے جس میں نیک لوگ اپنا انعام حاصل کرتے ہیں اور برے لوگ ناامید اور مایوس ہوتے ہیں اور اس دن کی قیامت کے دن کے ساتھ کافی شباھت ہے اس لۓ گھر سے نکلتے وقت اس دن کو یاد جس دن قبروں سے نکال کرخدا کی کی بارگاہ میں حاضر کۓ جاؤ، نماز میں کھڑے ہونے کے وقت خدا کے سامنے کھڑے ہونے کو یاد کرو اور اپنے گھروں میں واپس آنے میں اس وقت کو یاد کرو جس وقت بہشت میں اپنی منزلوں کی طرف لوٹو گے۔ اے خدا کے بندو ! سب سے کم چیز جو روزہ دار مردوں اور خواتین کو رمضان المبارک کےآخری دن عطا کی جاتی ہے وہ یہ فرشتے کی بشارت ہے جو صدا دیتا ہے :
اے بندہ خدا مبارک ہو ! جان لے تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف ہو گۓ ہیں اب اگلے دن کے بارے میں ہوشیار رہنا کہ کیسے گذارو گے ۔
بزرگ عارف ربانی ملکی تبریزی نے عید کے دن کے بارے میں فرمایا ہے :
عید فطر ایسا دن ہے کہ جس کو اللہ نے دوسرے دنوں پر منتخب کیا ہے اور اس دن کو اپنے بندوں کو تحفے دینے کیلۓ انتخاب کیا ہے ، تاکہ اس دن حاضر ہوکر امید رکھتے ہوئے آئے اپنے خطاؤں کی معافی مانگے ، اپنی حاجات طلب کرے اور اپنی آرزو بیان کرے ، اور خداند عالم نے بھی وعدہ کیا ہے کہ جو مانگو گے وہ عطا کروں گا۔ اور توقع سے زیادہ دوں گا، اور خداوند عالم اس کے حق میں اس قدر مھربانی ، بخشش اور نوازش کرے گا جس کا اسے تصور بھی نہیں ہو گا ۔
شوال کے پہلے دن کو اس لۓ عید فطر کہتے ہیں کہ اس دن کھانے پینے کی محدودیت ختم ہونے کا اعلان ہو جاتا ہے کہ مؤمنین دن میں افطار کریں فطر اور فطور کا معنی کھانے پینے کا ہے، کھانے پینے کی آغاز کرنے کو بھی کہا گیا ہے ۔ کسی وقت تک کھانے پینے سے دوری کرنے کے بعد جب کھانا پینا شروع کیا جاۓ تو اسے افطار کہتے ہیں اور اسی لۓ رمضان المبارک میں دن تمام ہونے اور مغرب شرعی ہونے پر روزہ کہولنے کو افطار کہا جاتا ہے یعنی کھانے پینے کی اجازت حاصل ہوجاتی ہے ۔
عید فطر کیلۓ اعمال اور عبادات مخصوص بیان ہوۓ ہیں جن کو انجام دینے کی معصومین (ع) نے بہت تاکید فرمائی ہے ۔
معصومین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عید فطر اپنے اعمال اور عبادات کا انعام حاصل کرنے کا دن ہے اس لۓ مستحب ہے کہ اس دن بہت زیادہ دعا کی جاۓ ، خدا کی یاد میں رہا جاۓ ، لاپرواہی نہ کی جاۓ اور دنیا اور آخرت کی نیکی طلب کی جاۓ ۔
عید کی نماز کے قنوت میں پڑھتے ہیں :
اللّهُمَّ أَهْلَ الْكِبْرياءِ وَالْعَظَمةِ وَ أهْلَ الجُودِ وَالجَبَرُوتِ وَ أَهْلَ العَفْو وَالرَّحْمَةِ وَ أَهْلَ التَقّوىٰ وَالمَغْفِرَة، أَسْئَلُكَ بَحَقِّ هذَا الْيوَمِ الّذي جَعَلْتَهُ لِلمُسْلِمينَ عيداً وَ لِمُحَمّدٍ صَلّىٰ اللهُ عَليْه وَ آلِهِ ذُخْراً وَ شَرَفاَ وَ کِرامتاً وَ مَزيداً، أَن تُصَلّي عَلىٰ مُحَمّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تُدْخِلني في كُلِّ خَيْرٍ أَدْخَلْتَ فيهِ مُحَمَّداً وَ آلَ مُحَمَّد وَ أَنْ تُخْرِجَني مِنْ كُلِّ سُوءٍ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَ آل مُحَمَّدٍ، صَلَوٰاتُكَ عَلَيُهِ وَ عَلَيْهِمْ، اللّهُمَّ إني أَسْئَلَكَ خَيرَ مٰا سَئَلَكَ مِنْهُ عِبادُكَ الصّٰالِحُونَ وَاَعُوذُ بِكَ مِمّا اسْتَعاذَ مِنْهُ عِبادُكَ الْمُخْلِصوُنَ (الصّٰالِحُونَ ) .
بار الھا ! اس دن کے واسطے کہ جسے مسلمانوں کیلۓ عید اور محمد صلی اللہ علیہ والہ کیلۓ شرافت ، کرامت اور فضیلت کا ذخیرہ قرار دیا ہے ۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد و آل محمد پر درود بھیج اور مجھے اس خیر میں شامل فرما جس میں محمد و آل محمد کو شامل فرمایا ہے اور مجھے ہر بدی سے نکال دے جن سے محمد و آل محمد کو نکالا ۔ ان پر آپ کا درود وسلام ہو، خدایا تجھ سے وہی کچھ مانگتا ہوں جو تیرے نیک بندے تجھ سے مانگتے ہیں ، اور تجھ سے ان چیزوں سے پنا ہ مانگتا ہوں کہ جن سے تیرے مخلص بندے مانگتے تھے ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے مجلس شورای اسلامی اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوتے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج صبح حسینیہ امام خمینی (رہ) میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد انتخابات میں شرکت کو ہر ایرانی کا حق اور فریضہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات اس طرح منعقد ہونے چاہییں کہ دشمن کو مایوس اور ایران سے حریصانہ نظروں کو دور کر دیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، فرمایا کہ جو بھی ایران، اسلامی عزت اور قومی عظمت کو دوست رکھتا ہے، اسے انتخابات میں شرکت کرنی چاہیے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات و احکام میں اچھے کام میں جلدی کرنے کی تاکید کی گئی ہے اس لیے لوگ پولنگ اسٹیشنوں میں آنے کے لیے جلدی کریں لیکن اس کا مطلب عجلت کا مظاہرہ کرنا نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امید ظاہر کی کہ ملت ایران ان انتخابات میں گزشتہ انتخابات کی طرح بھرپور طریقے سے شرکت کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
رہبر انقلاب اسلامی نے مجلس شورای اسلامی اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوتے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج صبح حسینیہ امام خمینی (رہ) میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد انتخابات میں شرکت کو ہر ایرانی کا حق اور فریضہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات اس طرح منعقد ہونے چاہییں کہ دشمن کو مایوس اور ایران سے حریصانہ نظروں کو دور کر دیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، فرمایا کہ جو بھی ایران، اسلامی عزت اور قومی عظمت کو دوست رکھتا ہے، اسے انتخابات میں شرکت کرنی چاہیے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی تعلیمات و احکام میں اچھے کام میں جلدی کرنے کی تاکید کی گئی ہے اس لیے لوگ پولنگ اسٹیشنوں میں آنے کے لیے جلدی کریں لیکن اس کا مطلب عجلت کا مظاہرہ کرنا نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امید ظاہر کی کہ ملت ایران ان انتخابات میں گزشتہ انتخابات کی طرح بھرپور طریقے سے شرکت کرے گی۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اس بات پر امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت، اسلامی نظام کے دوستوں کی خوشحالی اور دشمنوں کی مایوسی کا باعث ہو گی۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے آج صبح اسلامی پارلیمنٹ اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کی پولینگ شروع ہوتے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور انتخابات کو اسلامی نظام کی ایک بڑی نعمت قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا: عوام انتخابات میں حصہ لے کر اپنی آرزوں کو پہنچ پائیں گے۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے اس بات پر امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت، اسلامی نظام کے دوستوں کی خوشحالی اور دشمنوں کی مایوسی کا باعث ہو گی۔
انہوں نے مزید واضح کیا: امید کی جاتی ہے کہ خداوند عالم مسئولین اور منتخب ہونے والے افراد کو توفیق عطا کرے کہ پہلے سے زیادہ بہتر طریقے سے لوگوں کی مشکلات کو حل کر سکیں۔
آیت اللہ العظمیٰ حسین نوری ہمدانی نے مجلس شورائے اسلامی اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے پولینگ کے شروع ہوتے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔
مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ حسین نوری ہمدانی نے مجلس شورائے اسلامی اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے پولینگ کے شروع ہوتے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا۔
انہوں نے ووٹ ڈالنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم سب پر ضروری ہے کہ ہم اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھوں سے رقم کر کے اسلامی جمہوریہ ایران میں وحدت اور یکجہتی کا ثبوت دیں اور دشمن کے منہ پر زور دار طمانچہ ماریں۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نے مزہد کہا: ہمارا ووٹ دینے کا مطلب امام انقلاب اور شہیدوں کی ارمانوں کا مثبت جواب دینا ہے اور امید ہے کہ ملت ایران بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ پولننگ اسٹیشنوں پر حاضر ہو گی اور متعہد، انقلابی اور ملک کی مشکلات سے آگاہ افراد کو اپنا ووٹ دے گی۔
واضح رہے کہ آج بروز جمعہ ۲۶ فروری کی صبح آٹھ بجے پورے ایران میں اسلامی پارلیمنٹ کے دسویں دور اور مجلس خبرگان رہبری کے پانچویں دور کے انتخابات کا آغاز ہوا۔
مختلف عالمی میڈیا اور خبررساں اداروں نے آج جمعے کی صبح سے اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقدہ ماہرین اسمبلی اور پارلیمنٹ کے نئے دور کے انتخابات پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے بھرپور کوریج دی.
'رائٹرز' نیوز ایجنسی نے ایک بریکنگ نیوز کے تحت اعلان کیا کہ ایران میں انتخابات کا آغاز ہوگیا اور سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ووٹ کاسٹ کردیا.
اس خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں سپریم لیڈر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے بعد ایرانی قوم سے کہا کہ وہ دیر ہونے سے پہلے انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کرے.
رائٹرز نے کہا کہ ایران میں منعقدہ دونوں انتخابات میں چھے ہزار امیدواروں نے حصہ لیا ہے جن میں سے 586 خواتین امیدوار ہیں.
'فرانسیسی نیوز ایجنسی' کی رپورٹ کے مطابق؛ جوہری معاہدے کے بعد ایران میں پہلے الیکشن کا انعقاد ہورہا ہے. اس رپورٹ کے مطابق، جمعے کے روز ایران میں ماہرین اسمبلی اور مجلس شورائے اسلامی (پارلیمنٹ) کے انتخابات کا آغاز ہوگیا.
عربی نیوز چینل 'المیادین' نے اپنی رپورٹ میں ایران میں منعقدہ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت کا ذکر کیا.
المیادین نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ ایرانی عوام نے مختلف شہروں بالخصوص تہران، قم اور اصفہان میں بڑی تعداد میں انتخابات میں شرکت کی ہے.
مصری خبر رساں ادارے 'الیوم السابع' نے بھی ایرانی انتخابات کی بھرپور کوریج دیتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے انتخابات میں ایرانی قوم کی بڑی تعداد میں شرکت پر زور دیا.
عربی ملکوں کے ذرائع ابلاغ عامہ نے بھی ایران میں منعقدہ انتخابات پر مختلف رپورٹس دی ہیں.
چین کے مشہور نیوز چینل 'فونیکس' نے رپورٹ دی ہے کہ دنیا کی نظریں ایرانی انتخابات پر ہیں.
اس رپورٹ کے مطابق؛ ماہرین اسمبلی کے پانچویں اور پارلیمنٹ کے دسویں دور کے انتخابات نہ صرف ایرانی قوم کیلئے بلکہ بین الاقوامی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل ہے.
'بی بی سی' اور 'سی این این' کی مختلف رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ دنیا اور بالخصوص بین الاقوامی مبصرین ایران کے انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہیں.
یمنی نیوز چینل 'المسیرہ' نے بھی ایرانی انتخابات پر بھرپور کوریج دیتے ہوئے کہا ہے کہ توقع کی جاتی ہے 70 فیصد ایرانی عوام انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے.
اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں انقلاب اسلامی کی سالگرہ قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ قم المقدس میں بھی عظیم ریلی نکالی گئی جس میں مراجع عظام، علماء اور عرام نے بھر پور شرکت کی۔
قم المقدس ميں صبح 9 بجے ریلی کا مطہری اسکوائر سے آغاز ہوا، ریلی اراک روڈ سے پل حجتہ اور ارم روڈ سے گزرتے ہوئے حرم مطہر میں اختتام پذير ہوئی سردی کے باوجود عوام نے بھر پور شرکت کی ۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ نوری ہمدانی ، آیت اللہ سید محمود شاہرودی اور آیت اللہ جوادی آملی نے ریلی میں شرکت کی اس کے علاوہ علماء ،فضلاء اور طلاب نے بھی ریلی میں بھر پور شرکت کی ۔ ریلی کے شرکاء نے امریکہ ، اسرائیل ، آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف نعرے لگائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیں آج امریکہ مردہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھیں ۔ ایرانی عوام نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ بصیرت کے ساتھ انقلاب اسلامی کی حفاظت کر رہے ہیں اور انقلاب کی حفاظت میں وہ کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔



عہد ِ حاضر میں ایران میں ٧٥٠ ایسے تحقیقاتی سینٹر ، کالج اور حکومت سے متعلق یونیورسٹیاں موجود ہیں کہ جن میں موجود ماہرین کی شبانہ روز محنت کی بنا پر ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ کیمسٹری، میڈیسن، کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں اس کا شمار دنیا کے پہلے ٢٠ ملکوں میں ہوتا ہے۔ایران اسٹیم سیل اور کلوننگ ریسرچ میں دنیا کے ١٠ ملکوں میں شامل ہے۔آئی بائیو امپلانٹس کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تحریر : سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
١٠ فروری ١٩٧٩ ء کو ریڈیو تہران سے اعلان کیا گیا کہ توجہ فرمائیے: '' یہ انقلاب کی آواز ہے'' یہ اعلان کرتے ہوئے ریڈیو نے در حقیقت ٢٥٠٠ سالہ شہنشاہی اور ظالم شاہی نظام کی سر نگونی کی نوید اور باطل پر حق کی فتح کی خوشخبری دی ۔ ٣٧ برس قبل اسلامی انقلاب ١٠ فروری ١٩٧٩ء کو بیسویں صدی کے عظیم رہنما امام روح اللہ الموسوی الخمینی علیہ رحمہ کی سرپرستی ،رہنمائی اور قیادت میں قیام پذیر ہوا اور خطے سے شیطانی و طاغوتی قوتوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا۔ عمر خیام، سعدی، فردوسی، حافظ ، شمس تبریز اور حسین بن منصور حلاج کی سرزمین ایران میں انقلاب آج اسی آب و تاب اور پورے جوش و ولولے کے ساتھ ترقی کرتا ہوا اپنی منزلوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ انقلاب نہ صرف دن کی روشنی میں خورشید اور رات کی تاریکیوں میں مہتاب کی مانند چمک دمک رہا ہے بلکہ دنیا بھر کی مظلوم قوموں کی حمایت اور عالمی سامراجی اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر آواز بلند کرنے میں سر فہرست خطے میں موجود ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے مظلوم، مجبور اور محکوم اقوام کی حمایت و نصرت کوفرضِ عین سمجھ کر اسکی ادائیگی میں مصروف عمل ہے ۔ جسکی روشن مثال قبلہ اوّل کی آزادی کے لیے اور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرنا اور فلسطینیوں کی تحریک کی حمایت ہے۔ اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے چند سو جوانوں کا اسرائیل کے حملوں کے جواب میں مزاحمت ، حزب اللہ کی طرف سے لبنان وشام میں اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اسرائیل اور اسکے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبا کر ذلت و رسوائی کے ساتھ شکست سے ہمکنار کرنا بھی انقلابِ اسلامی ایرانی کے ثمرات میں سے ایک ہے جسے پوری دنیا جانتی ہے۔ مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت اور خطے میں دہشت گرد تنظیموں القاعدہ، دولتِ اسلامیہ، جنداللہ، طالبان، آئی ایس آئی ایس اور داعش کے خلاف برسرِپیکار ہونا اور بوسنیا ، چیچنیا، کشمیر میں آزادی کی تحریکوں کی حمایت بھی انقلابِ اسلامی ایران کی بدولت ممکن ہو سکا۔ اخلاقی و انسانی اقدار کی پامالی اور عالمی استعمار و استبداد کے خلاف برپا ہونے والے اس انقلاب نے سرمایہ داری اور اشتراکی نظام میں بٹی دنیا میں ایک ہمہ گیر ارتعاش برپا کر دیا۔ اپنی خصوصیت کے اعتبار سے سامراج دشمن انقلاب جوآج ٣٧ سال گذر جانے کے بعد نہ صرف مزید طاقتور ہو رہا ہے بلکہ اسی اسلامی انقلاب کی بہاریں دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور خطے میں شروع ہونے والی اسلامی بیداری اور شعور و فکر کی لہر بھی انقلابِ اسلامی ایران کی مرہون منت ہے۔ اٹھارویں صدی کے انقلاب فرانس اور بیسویں صدی کے انقلاب روس اور چین کے بعد انقلابِ ایران تاریخ کا ایک سنہری حصہ ہے۔ اس انقلاب کے ذریعے ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت، آمریت اور مطلق العنانیت کا خاتمہ کرکے ملک میں ''ولایت فقہیہ'' نافذ کی گئی لیکن ملک کو جمہوری راستوں پر چلانے کا بھی عزم کیا گیا۔ قدامت پسند سخت گیر قیادت بھی رہی اور اصلاح پسند بھی حکومت میں رہے لیکن ایران جمہوری طریقے سے اپنی مضبوط قومی سوچ اور منظم انداز میں ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے حیرت انگیز طور پر آگے بڑھا اور اس دوران ایرانی قوم کسی بھی موقع پر تقسیم کا شکار ہوتے نظر نہیں آئی۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ایرانی قوم نے بقاء کی غیر معمولی جبلت کے ساتھ حالات کا سامنا اور اسکا مردانہ وار مقابلہ بھی کیا اور ایران کی معیشت اور سماج کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔ان ٣٧ سالوں میں ایران کے ارد گرد خوفناک انتشار اور افراتفری کی آگ کے شعلے بہت تیزی کیساتھ بھڑکتے رہے، تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک خانہ جنگی کا شکار رہے اور انکی معیشت آئے دن کمزور ہوتی رہی، لیکن ایران سیاسی، سماجی ، مذہبی اور معاشرتی طور پر ایک مستحکم ریاست میں تبدیل ہوتا رہا اور اسکی معیشت مسلسل ترقی کی منزلیں طے کرتی رہی۔ اس دوران ایران کی مذہبی اور سیاسی قیادت نے اپنے تدبر ، سیاسی بصیرت ، گڈ گورننس ،بہترین خارجہ و داخلی پالیسیوں اور کامیاب سفارت کاری کے ذریعے اس خطے کی جیو پولیٹک اور جیو اسٹریٹیجک میں ایران کو مرکزی حیثیت بھی دلائی۔ انقلاب ِاسلامی ایران ایک ایسی آئیڈیالوجیکل تحریک تھی جو جغرافیائی سرحدوں میں پابند نہیں تھی اور یہی نقطہ مغربی دنیاکی ایران سے دشمنی کا آغاز تھا۔ وہ خوفزدہ تھے کہ اس انقلاب کے افکار کا دائرہ ایران کی سرحدوں سے باہر پھیلے گا اور دنیا کی آزادی بخش تحریکیں اس انقلاب کی قومی و اسلامی قدروں سے متاثر ہو کر بیدار ہو جائیں گی لہذا سامراج و استبدادی طاقتوں نے انقلاب کے آئیڈیالوجک افکار، اسٹریجیک اور سیاسی نتائج کی تاثیر کو بھانپ لیا اور شروع دن سے اسے ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف رہے۔ اس تمام عرصے میں عالمی طاقتوں نے انقلاب ِ ایران کو ناکام بنانے، اپنی جنگی معیشت کو فروغ دینے اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر قبضہ کرنے کی غرض سے ایران کے گرد گھیرا تنگ بھی کیا اوراپنی پشت پناہی میں ایران کو عراق کے ساتھ جنگ میں الجھا بھی دیا گیا، جس کے نتیجے میں١٩٨٠ء سے ١٩٨٨ء تک کی ٨ سال کی اس جنگ میں ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کا حامل ملک عراق معاشی طور پر تباہ اور عدم استحکام کا شکار ہوگیالیکن اس جنگ سے بھی ایران میں سیاسی ، مذہبی اور داخلی افراتفری پیدا کرنے کی عالمی سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ فرزندانِ توحید نے مغربی ممالک کی جانب سے دیئے گئے اسلحہ سے لیس اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کی ناپاک سوچ رکھنے والوں کا مسلسل آٹھ سال تک سینہ سپر ہو کر اس یک طرفہ جنگ کاا یمانی قوت و جذبے کیساتھ نہ صرف اپنی سرزمیں کے انچ انچ کا تحفظ کیا بلکہ انقلابِ اسلامی کی بھی حفاظت کی اور آخر کار عراق سمیت اسکے پشت بانوں کو اقوام متحدہ کی مدد کا سہارا لیکر جنگ بندی کا مطالبہ کرناپڑا۔عرب دنیا نے جس طرح صدام حسین کی معاشی، سیاسی، اخلاقی، دفاعی پشت پناہی کی وہ بھی ایک کھلا راز ہے اور جسطرح امریکہ کے عزائم کو تقویت پہنچائی وہ بھی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔انقلاب کی وجہ سے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا رویہ ایران کیساتھ انتہائی جارہانہ متعصبانہ اور مخاصمانہ رہا اورامریکہ ،اسرائیل اور اُنکے مغربی اتحادیوں کی طرف سے ایران پر حملے کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو بنیاد بنا کر ہر طریقے سے ایران کو دبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں ۔ امریکہ و مغرب کی طرف سے دنیا کے شائد کسی دوسرے ملک کو اس قدر طویل ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو جتنا ایران کو کرناپڑا۔ سرد جنگ کے خاتمے اور سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد ہمارا خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ایران کے پڑوسی ملک افغانستان میں ١٩٧٩ء میں لگنے والی آگ نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا مگر ایران اس سے محفوظ رہا۔درحقیقت اس دہشت گردی نے عالمی سامراجی ایجنڈے کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس خطے میں اس عالمی ایجنڈے کا سب سے بڑا ہدف ایران تھا ، اس کے باوجود بھی ایران نے اپنی سرزمیں کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک رکھا۔ ان تمام غیر معمولی سازشوں ،پابندیوں اور جارحانہ رویوں کے باوجودسیاسی ، دفاعی ،داخلی،خارجی و اقتصادی ماہرین اور غیر جانبدار مبصرین یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران ہر حوالے سے ایک مضبوط ، منظم اورمستحکم طاقت اور ریجنل لیڈر کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور ان غیر معمولی چیلنجز ، رکاوٹوں اور نامساعد حالات میں ایران میں استحکام اسی طرح حیرت انگیز ہے جس طرح ایران کا انقلاب حیرت انگیز تھا اور انقلاب کے بعد کے ٣٧ سالوں میں ایران کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کی داستان بھی اتنی ہی حیرت انگیز ہے۔ ان ٣٧ سالوں میں ایران میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس نے تعلیمی، سائنس وٹیکنالوجی، میڈیسن، کیمسٹری، ریاضی اور دیگر اقتصادی و سماجی شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی۔ دنیا میں سائنس کے شعبے میں ہونے والی ترقی میں ایران نے گیارہ گناہ زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔ عہد ِ حاضر میں ایران میں ٧٥٠ ایسے تحقیقاتی سینٹر ، کالج اور حکومت سے متعلق یونیورسٹیاں موجود ہیں کہ جن میں موجود ماہرین کی شبانہ روز محنت کی بنا پر ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ کیمسٹری، میڈیسن، کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں اس کا شمار دنیا کے پہلے ٢٠ ملکوں میں ہوتا ہے۔ایران اسٹیم سیل اور کلوننگ ریسرچ میں دنیا کے ١٠ ملکوں میں شامل ہے۔آئی بائیو امپلانٹس کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے۔١٩٧٨ء میں ایران میں صرف آٹھ ہزار ڈاکٹر موجود تھے جبکہ اس وقت ایک لاکھ دس ہزار سے زائد قابل ترین ڈاکڑز موجود ہیں۔ایشیا میںنئی دوائیں ایجاد کرنے اور نئی ترکیب والی دوائیں بنانے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور بنیادی سیلوں میں پیوند لگانے میں ایران دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ١٩٧٩ ء سے پہلے صرف پچیس فیصد دوائیں ملک کے اندر سے تیارکی جاتی تھیں لیکن اب یہ شرح ٩٥ فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اب ایران میں ١٢٠٠ سو سے زیادہ ادویات تیار کی جاتی ہیں۔اینجی پارس نامی دوا ایرانی ماہرین طب نے سات سال کی محنت کے بعد دریافت کی ے جو شوگر کے مریضوں کے لئے نہایت ہی مفید ہے اور اگر کسی مریض کا کوئی اعضا ء کاٹنے کی نوبت بھی آجائے تب بھی اس کے استعمال سے مریض کو شفا ملتی ہے۔نینو ٹیکنالوجی کا علم پیدا کرنے والے ملکوں میں ایران کا دنیا بھر میں ساتواں نمبر ہے۔لیبارٹری میں کام آنی والی مشینیں، مائیکروسکوپ، ایس ٹی ایم، کیرو میٹر گرافی، اینٹی بیکٹیریا محصولات کی ایجاد، افزائش کی قوت بڑھانے والے نینو میٹرز کی ایجاد اور اسی طرح توانائی کو کنٹرول،گاڑیوں میں ایندھن کا کم خرچ اورانواع اقسام کے ایسے لباس جس پر پانی کا اثر نہ ہو شامل ہیں۔بائیوٹیکنالوجی کے بعد طب کے میدان میں دوسرا بڑا انقلاب بنیادی خلیوںکی تحقیق کا علم ہے۔ ایران میں قائم تحقیقاتی سینٹرز نے انسان کے بنیادی خلیے تیار کر کے ایران کا نام دنیا کے ان پہلے دس ملکوں میں درج کروا دیا ہے جنہوں نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے۔انفلیونزا، ہیپاٹائیٹس اور تپ دق کی بیماریوں کی ویکسین تیار کرنے میں ایران کا پہلا نمبر ہے۔ ایران میں استعمال ہونے والے ٩٩ فیصد لین لائن اور ٦٢ فیصد موبائل فون ایران میں بنائے جاتے ہیں ۔ ایران میں تین کروڑ ٦٩ لاکھ انٹر نیٹ کے مراکز، موبائل فون کے ٢٧٣ آپریٹرز، دنیا کے کے ١١٢ ممالک کے ساتھ رومنگ کے ذریعے رابطے کی سہولت موجود ہے۔ایران خطے کا وہ واحد ملک ہے جو بغیر کسی بیرونی امداد کے سٹیلائٹ بنانے میں نہ صرف کامیاب ہوا ہے بلکہ دنیا کا آٹھوں ملک ہے جو اپنے بل بوتے پر سٹیلائٹ فضا میں بھیجنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ دنیا کا ٩واں ملک ہے، جس کی اپنی اسپیس ٹیکنالوجی ہے اور جس نے مدار میں کامیابی سے سٹیلائٹ چھوڑے ہیں۔١٩٨٠ء سے ٢٠١٢ء تک اوسط عمر ، تعلیم تک رسائی اور معیار زندگی کے حوالے سے ایران ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں ٦٧ فیصد اضافہ ہوا اور اس انڈیکس میں ایران کا شماردنیا کے سرفہرست ملکوں میں ہے۔ ١٩٧٦ء کے مقابلے میں شرح خواندگی ٣٦ فیصدسے ٩٩ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایران نے اپنی فوج اور ملکی دفاع کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ ڈراؤن ٹیکنالوجی میں ایران نے اتنی ترقی کی ہے کہ اسکی مثال امریکہ کا ڈراؤن صحیح سلامت اتار کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالنا ہے۔ اسکے علاوہ ایرانی بحریہ دنیا کی مضبوط ترین اور بہترین تربیت یافتہ بحریہ ہے جس نے گذشتہ دور میں کئی بار امریکہ سمیت غیر ملکی مداخلت کو روکا اور انہیں نہائت ہی مستعدی سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور بھی کیا ۔ ایرانی ریڈار ٹیکنالوجی بھی دنیا کی ایڈوانس ترین ٹیکنالوجی ہے جو کسی بھی قسم کی نقل و حرکت کو بھانپنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران کے پاس دنیا کا جدید ترین میزائل سسٹم موجود ہے جو فضا اور زمین میں اپنے ٹارگٹ پر پہنچنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اپنے بل بوتے پر پُرامن مقاصد کے لئے بیس فیصدیورینیم کی افزدگی کرکے بھی دنیا کو ورطہ ء حیرت میں ڈالا ہے۔ بجلی ، گیس، تیل، قدرتی معدنیات و قیمتی دھات کے حوالے سے ایران انتہائی خود کفیل ہے اور وہ یہ چیزیں دوسرے ملکوں کو برآمد بھی کرتا ہے۔دنیا کے ملکوں کو ضروری ٦٥ فیصد توانائی اسی علاقے سے گذرتی ہے اس لئے مشرق وسطیٰ کے خطے کی جیو پولیٹیک اور جیو اسٹریٹیجک کی اہمیت کے پیش نظر ایران کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔اسی لئے عرب بہار اور عراق پر امریکہ کے حملے نے ایران کے لئے جہاں نئے چیلنج پیدا کئے وہیں ایران کو نئے مواقع بھی ملے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ زیادہ ہوا اور یمن، لبنان، بحرین، شام، عراق ان سب خطوں میں ایرانی اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اب مشر ق وسطیٰ میں امن کے قیام اور اس خطے میں نئی صف بندی کے لئے ایران کی طرف دیکھا جارہا ہے۔ایران نے ٣٧ سالوں میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی مکارانہ چالوں ،سازشوں اور دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اُنکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ایران نے عالمی طاقتوں کو چیلنج بھی کیا اور سفارت کاری کے ذریعے دباؤ باوقار طریقے سے برابری کی بنیاد پر ان کے ساتھ مفاہمت بھی کی۔یہ ایران کی کامیاب سیاسی، سفارتی اور خارجی حکمت عملی ہے کہ امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اس بات پر مجبور ہوئیں کہ اسلامی انقلاب ایران کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے مذاکراتی میز پر ایرانی شرائط کے ساتھ بیٹھیں اور تمام شرائط مان کر ماضی کی تمام پابندیاں ختم کر کے ایران کی اہمیت و حیثیت اور اسے خطے کی ایک بڑی اسلامی طاقت کے طور پر تسلیم کیا، حالانکہ ان سامراجی و طاغوتی طاقتوں کی یہ تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی شرائط پر دنیا کی اقوام سے بات کی ہے اور اپنے سے کمزور ممالک پر ہمیشہ فوجی چڑھائی کے ذریعے اپنے مطالبات تسلیم کروائے ہیں۔لیکن ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی کے ذریعے خطے کی سیاست میں اپنی اہمیت و کردار کو تسلیم کروایا۔ چین کے صدر شی چن پنگ کا ٨٠٠ افراد کے ہمراہ کسی بھی ملک کا سب سے پہلا دورہ اور دونوں ملکوں کی تجارت کاحجم ٦٠٠ ارب ڈالرز تک لے جانے پر اتفاق، یورپی یونین اور ایران کے درمیان تجارتی لین دین چھ گناہ سے زیادہ بڑھانے کے اعلانات، جرمنی کے وزیر اقتصادی امورکا اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ اور اس کے بعد جرمنی اور فرانس کی بڑی بڑی کمپنیوں کے نمائندہ وفود کی تہران آمد، روس کے صدر پیوٹن، جرمنی کے چانسلر اور دیگر مغربی ممالک کا بڑے پیمانے پر ایران میںسرمایہ کاری اور امریکہ کی طرف سے ١٠٠ ارب ڈالر سے زائد کے منجمد اثاثے ایران کو واپس کرنے کا اعلان بھی ایران کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے حالیہ تنازعہ کو حل کرنے میں پاکستان کے علاوہ چین، روس اور امریکہ کی قیادت کے کردار کا کچھ عرصہ پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح کے تنازعات پہلے بھی پیدا ہوئے لیکن ان میں ایران کو ہی عالمی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اب صورتحال اس کے بر عکس ہے۔ایران کی کامیابیوں اور انقلابِ ایران کے ثمرات کی ایک طویل داستان ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں مگر۔۔۔۔۔!
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے مراجع تقلید نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے دن یعنی ۱۱ فروری کو عالمی استکبار کے خلاف ایران بھر میں نکالی جانے والی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی تاکید کی ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی، آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ سبحانی، آیت اللہ علوی گرگانی اور آیت اللہ نوری ہمدانی نے الگ الگ بیان جاری کر کے تمام ملت اور اسلامی انقلاب کے پیروکاروں کو انقلاب کی کامیابی کے دن منائے جانے والے قومی جشن اور ملک بھر میں نکالی جانے والی پرجوش ریلیوں میں بھرپور شرکت کی تاکید کی ہے۔
مراجع تقلید نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ان ریلیوں میں بھرپور شرکت سے دشمن مایوس ہو گا اور یہ ریلیاں اسلامی نظام کے اقتدار کو دشمن کے مقابلے میں ثابت کریں گی اور دشمن کے مقاصد کو ناکام بنائیں گی۔
آیت اللہ جوادی آملی نے خاص طور پر کہا کہ ان ریلیوں میں لوگوں کو باوضو اور قصد قربت کے ساتھ شرکت کرنا چاہیے تاکہ ان کا یہ عمل اسلامی نظام کی بقا اور اس انقلاب کو امام عصر (عج) کے انقلاب سے ملانے میں مددگار ثابت ہو۔

آیت اللہ شیخ باقر نمر آل سعود کے خلاف ایک مضبوط آواز تھی، ایک ایسی آواز کہ جس نے سعودی مظالم کے خلاف جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، دنیائے اسلام کی اس عظیم شخصیت کو آج آل سعود نے ہم سے چھین لیا ہے اور آیت اللہ شیخ باقر نمر شہادت کے عظیم مرتبے پر فائض ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز شیخ باقر نمر کے کچھ فرامین کو جو انہوں نے آل سعود کے خلاف مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے تھے، اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے قارئین ان ارشادات کو پوری دنیا میں پھیلا کر اس عظیم شخصیت کے نظریات کو پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔
1) نجد و حجاز اور مشرق و جنوب پر ایک صدی سے مسلط آل سعود نامی خاندان کی ملوکیت پورے ملک میں منظم فرقہ وارانہ امتیازات پر استوار ہے اور خاص طور پر الشرقیہ کے دو علاقوں الاحساء اور القطیف کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
2) میں کلمۂ حق کے اظہار سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا، خواہ سعودی خاندان مجھے گرفتار کرے، خواہ مجھے تشدد کا نشانہ بنائے اور اذیت و آزار دے اور حتیٰ مجھے شہید کر دے۔
3) ہم آل سعود کی طرف سے عوام اور بالخصوص شیعیان آل رسول (ص) کی عزت و حیثیت پر تجاوز اور انہیں تمام شہری حقوق سے محروم کرکے انہیں دوسرے درجے کے شہریوں کا درجہ دیئے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ہم اس ملک میں رہنے والے شیعیان آل محمد (ص) کا بہر صورت تحفظ کریں گے۔
4) میں آل سعود کے خلاف جدوجہد کے اگلے مورچے میں خود ہی بیٹھا ہوا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جدوجہد کے بغیر کسی مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور مقاصد کے حصول کے لئے ایثار اور شجاعت و جہاد کی ضرورت ہے۔
5) ہم پرامن جدوجہد پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں مسلح تحریک کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا کرتی اور ملک میں عدل و انصاف قائم نہیں ہوا کرتا اور ملک کے باشندے حریت کے ساتھ نہيں جی سکتے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبہ جہاد میں بھی زور دیا گیا ہے کہ عدل جہاد کے سوا قائم نہیں کیا جاسکتا اور حق ایثار، جہاد اور شجاعت کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔
6) شیعیان آل رسول (ص) آل سعود کے ظلم و تجاوز کے سامنے خاموش نہيں رہیں گے۔ اے آل سعود! ہم خاموش نہیں رہیں گے، تم جو ظلم بھی چاہو ہم پر روا رکھو، جو بھی چاہتے ہو کرو اور ہماری شخصیت اور ہماری حیثیت کو پامال کرو۔
7) سعودی عرب کے تمام ذرائع ابلاغ اور اخبارات و جرائد آل سعود سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان کی تشہیری مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ان کا رویہ آزاد صحافت سے کوسوں دور ہے۔
8) سعودی مفتی آل سعود کے بنے بنائے افراد ہیں، سعودی حکام انہیں پیسہ دیتے ہیں، تاکہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کو آپس میں الجھائے رکھیں اور یوں سعودی شہزادے پورے چین و سکون کے ساتھ ملکی وسائل لوٹتے رہیں۔
9) اے آل سعود! میں جاتنا ہوں کہ آج نہیں تو کل مجھے گرفتار کرنے کے لئے آؤ گے، میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں کیونکہ تمہاری منطق ہی یہی ہے، "گرفتاری، ٹارچر اور قتل و غارت" لیکن ہم قتل و غارت سے نہيں ڈرتے، ہم کسی بھی مصیبت سے نہيں ڈرتے۔
10) اگر آل سعود کے حکام پرامن مظاہروں کی مخالفت کرتے ہيں اور دھرنوں پر پابندی لگاتے ہیں تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لئے نئے نئے راستے اختیار کریں گے اور اپنے جائز حقوق لے کر رہیں گے، مظاہرے اور دھرنے ہمارے احتجاجی طریق کار کا ایک ہی جزو ہے۔
آیت اللہ شیخ نمر سعودی حکام کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی استبدادی اور آمر حکمرانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر بحرین پر مسلط آل خلیفہ کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی درباری عدالت نے شیخ نمر کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جس کے بعد سے تمام مراجع عظام اور دینی و مذہبی شخصیات نے سعودی عرب کے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی جبکہ کئی ممالک میں شیخ نمر کی حمایت اور آل سعود کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ اس ظالم اور خائن سعودی بادشاہت نے ایک مظلوم عالم کو حق گوئی کی پاداش میں آج سزائے موت دے کر اپنی بربریت اور فتنہ انگیزی کا ثبوت دے دیا۔ انشاءاللہ شیخ نمر اور مظلومین کا خون سعودی نظام کی تباہی کا سبب بنے گا۔

آیت اللہ نمر باقر النمر تیرہ سو اناسی ہجری قمری میں مشرقی سعودی عرب کے صوبے قطیف کے شہر العوامیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی بن ناصر آل نمر بھی اپنے علاقے کے معروف عالم اور خطیب تھے۔ ان کے خاندان سے دیگر علماء میں آیت اللہ محمد بن ناصر آل نمر کا نام بھی لیا جاسکتا ہے۔ آیت اللہ نمر نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے آبائی شہر عوامیہ میں حاصل کی، اس کے بعد وہ دینی علوم کے حصول کی خاطر سن چودہ سو ہجری مطابق انیس اناسی میں ایران تشریف لائے۔ دس سال تک یہاں مقیم رہنے کے بعد دمشق کے نواح میں واقع دینی مرکز زینبیہ تشریف لے گئے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر ایران اور شام میں حصول علم اور تدریس کے بعد سعودی عرب واپس پہنچے اور اپنے آبائی شہر العوامیہ میں دینی علوم کی تدریس اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔
انہوں نے سن دو ہزار تین میں العوامیہ میں مرکزی نماز جمعہ قائم کی اور اس کے بعد الامام القائم مرکز کی بنیاد ڈالی۔ یہ مرکز آگے چل کر سن دو ہزار گیار میں مرکز الاسلامیہ میں تبدیل ہوگیا۔ آیت اللہ نمر باقر نمر نے العوامیہ میں مساجد کے کردار کو اجاگر کرنے، نماز جمعہ کے قیام، شادی بیاہ کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے، معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھانے، نوجوانوں کو دینی مسائل اور معاملات سے آشنا کرنے اور سماجی برائیوں سے مقابلہ کرنے کا مشن شروع کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر نے جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے بھی جدوجہد کی اور سن دو ہزار چار سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن دو ہزار سات تک جاری رہا۔
آیت اللہ نمر باقر نمر نے فروری دو ہزار نو میں سعودی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ملک کی شیعہ آبادی کو اس کے حقوق نہ دیئے اور ملک میں آزادانہ انتخابات نہ کرائے تو وہ عوام کو احتجاج اور مظاہروں کی کال دے دیں گے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر اپنی تقریروں میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور عوام کو ان کے جمہوری اور مذہبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رہے۔ سعودی حکومت نے سن دو ہزار آٹھ میں حکم زباں بندی جاری کرتے ہوئے ان کے خطبات اور تقریروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سن دو ہزار گیارہ میں تیونس اور مصر میں آمریتوں کے خاتمے کی تحریک شروع ہوئی تو آیت اللہ نمر باقر نمر نے بھی ایک بار پھر اپنے خطبات کا سلسلہ شروع کر دیا اور ملک میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ سن دو ہزار تین میں انہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا، انہیں نماز جمعہ پڑھانے سے منع کیا گیا اور اس مسجد کو مسمار کر دیا گیا، جہاں وہ نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے لیکن آیت اللہ نمر باقر نمر اسی تباہ شدہ مقام پر نماز جمعہ پڑھاتے رہے۔
انہیں سن دو ہزار چار، دو ہزار پانچ، دو ہزار چھے اور دو ہزار آٹھ میں گرفتار کیا گیا اور مہینوں تک جیل میں رکھا گیا۔ آیت اللہ نمبر باقر نمر کو چھٹی اور آخری بار آٹھ جولائی سن دو ہزار بارہ میں، باقاعدہ منصوبے کے تحت ان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ اس حملے میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے اور ان کے پیر میں چار گولیاں لگی تھیں۔ سعودی حکومت کی ایک نمائشی عدالت نے پندرہ اکتوبر سن دو ہزار چودہ کو اس مجاہد عالم دین اور آمریت مخالف رہنما کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کو خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کے لوگوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور دنیا بھر میں اس کے خلاف مظاہرہے بھی ہوتے رہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سعودی حکام نے ایک بار پھر تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے دو جنوری دو ہزار سولہ کو اس عالم ربانی کو شہید کر دیا۔

حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سعودیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ داعش اور القاعدہ مستقبل میں خود ان کے لئے بھی خطرہ بن جائیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ یمن میں دونوں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آج ہماری جنگ تکفیریوں سے ہے، لیکن ہمیں اپنے اصل دشمن یعنی اسرائیل سے ہرگز غافل نہیں رہنا چاہیئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ صیہونیوں کے خدمت گزار ہیں۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے کو درپیش ایک خطرہ، وہابیت کا ہے، جس کو پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے مسلم امہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اہلسنت مسلمان، تکفیری اور وہابی نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے درمیان وہابی انتہائی اقلیت میں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مغربی کنارے میں تیسری تحریک انتفاضہ قریب پہنچ گئی ہے، کہا کہ صیہونی دشمن کے خلاف ہماری جنگ ایک حقیقت ہے اور اسی وجہ سے ہم ہروقت اسلحہ سے لیس اور تیار ہیں۔
منٰی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ جو کچھ منٰی میں رونما ہوا وہ داعشی سعودیوں کا غیر انسانی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودیوں نے جان بوجھ کر حجاج کرام کی مدد نہیں کی اور انہیں گھنٹوں تک دشوار حالات کے رحم کرم پر چھوڑ دیا، پھر زخمیوں اور مرنے والوں سب کو ایک ساتھ بلڈوزروں کے ذریعے اٹھا کر کنٹینروں میں بھر دیا۔ حزب اللہ کے سیکٹری جنرل نے استفسار کیا کہ سعودیوں کو معلوم تھا کہ ایک خاص ملک کے حجاج ایک طے شدہ راستے پر چل رہے ہیں تو رمی جمرات کے ایک راستے کو آخر کس لئے بند کیا گیا؟ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر ایران صدائے احتجاج بلند نہ کرتا تو سعودی سانحہ منٰی پر آسانی کے ساتھ پردہ ڈال دیتے، مرنے والوں کو خاموشی سے دفن کر دیتے اور جسے چاہتے جیل میں ڈال دیتے۔

اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ منٰی سانحے کے حوالے سے اب تک ہماری زبان جذبات کی حامل، برادرانہ اور مودبانہ رہی ہے، جہاں ضروی تھا وہاں سفارتکاری سے کام لیا گیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اسلامی جمہوریہ ایران اپنی طاقت و اقتدار کی زبان استعمال کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کی صبح تہران کے مہرآباد ایئر پورٹ پر منٰی سانحے کے شہداء کے پاکیزہ جنازوں کے پہلے کارواں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے منٰی سانحے کے بارے میں ایران کے واضح مطالبات اور موقف پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہئے کہ اس سانحے میں کچھ افراد مقصر تھے یا نہیں، اگر ثابت ہوجائے کہ اس سانحے میں سکیورٹی اہلکار مقصر تھے تو ہم کسی بھی طرح اپنے پیاروں کا خون معاف نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ منٰی سانحے میں رمی جمرات کے موقع پر شہید ہونے والے ایرانی حجاج کی تعداد چار سو پینسٹھ ہوگئی ہے۔ اسلامی جمہوری ایران نے اب تک اس سانحے کے سلسلے میں صبر و تحمل سے کام لیا ہے اور سعودی حکومت کو بخوبی یہ سمجھا دیا ہے کہ جب تک سانحے کے تمام پہلو واضح نہیں ہو جاتے، اس وقت تک تہران اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ اس سانحے کی تحقیقات کی بنیاد، تمام شہداء کے خون کے دفاع پر رکھی گئی ہے۔ بنا برایں اس سلسلے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، لیکن سعودی حکام اس مسئلے کو اس کے اصلی راستے سے ہٹا کر اور دوسروں پر الزام لگا کر اصل موضوع کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر افسوسناک منٰی سانحے کی وجوہات کے بارے میں کوئی ذمہ دارانہ جواب دینے کے بجائے اسے حجاج کی بدنظمی کا نتیجہ قرار دے دیا۔
یہ ایسے عالم میں ہے کہ منٰی سانحے نے عالمی رخ اختیار کر لیا ہے اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ مشعر و منٰی کا سانحہ قضاء و قدر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قابل نفرت اور ہولناک جرم ہے۔ اس بیان میں منٰی سانحے میں لاپتہ ہونے والوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بہت عجیب موضوع ہے، کیونکہ ہم کسی تباہ کن زلزلے یا ان بے گناہوں کی بات نہیں کر رہے ہیں جو ملبے کے نیچے دب کر لاپتہ ہوگئے بلکہ ہم اس ازدحام کی بات کر رہے ہیں کہ جس کے نتیجے میں ایک تعداد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور ایک تعداد زخمی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سینکڑوں زائرین کہاں لا پتہ ہوگئے ہیں؟ مسلمہ امر ہے کہ خانہ کعبہ کے تقریباً پانچ ہزار حاجیوں کا جاں بحق ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ جسے ایک تعزیتی پیغام دے کر یا افسوس ظاہر کرکے آسانی سے نظرانداز کردیا جائے۔ لیکن سعودیوں کے موقف سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس وہم و گمان کا شکار ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی جانب سے اپنے اقدامات کے بارے میں کوئی بھی توجیہ قابل قبول ہے۔
اسلامی جمہوری ایران کے صدر کا بیان صریح اور واضح ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے بھی اپنے حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ ایران نے اب تک عالم اسلام کے سلسلے میں صبر و تحمل، اسلامی آداب اور برادرانہ احترام کا پاس و لحاظ رکھا ہے، لیکن اب جان لینا چاہئے کہ اگر ضروری ہوا تو ایران، موذی اور تکلیف پہنچانے والے عناصر کے خلاف اپنے موجود وسائل کے ذریعے جواب دے سکتا ہے۔ جیسا کہ اسلامی جمہوری ایران کے صدر نے بھی تاکید کی کہ تمام قوموں اور مسلم امۃ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور انھیں یہ اطمینان بھی حاصل ہونا چاہئے کہ آئندہ برسوں میں اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔ اسی بنا پر ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ممالک کی شراکت سے بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ قانونی اداروں کے ذریعے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر منٰی سانحے کے حقائق سامنے لائے جائیں۔
دیگر ذرائع کے مطابق سانحہ منٰی میں شہید ہونیوالے 104 ایرانی حاجیوں کی میتیں سعودی عرب سے تہران پہنچا دی گئیں۔ گذشتہ روز طیارہ 104 میتیں لیکر تہران پہنچا اور اس موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور دیگر اعلٰی عہدیدار ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ ایران کے رہبر اعلٰی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کو متنبہ کیا تھا اگر اس نے ایرانی حاجیوں کی میتیں حوالے نہ کیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ حج کے موقع پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کو عموماً سعودی عرب میں ہی سپرد خاک کر دیا جاتا ہے، تاہم ایران نے سعودی عرب سے شہید ہونے والے اپنے تمام شہریوں کی میتوں کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد اب سعودی عرب کی جانب سے میتیں واپس بجھوانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے 464 حاجی شہید ہوئے۔ تہران میں منعقدہ تقریب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ سب کے لئے بڑا امتحان ہے۔ انہوں نے کہا اس واقعے میں ہماری زبان بھائی چارے اور احترام کی ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جب ضرورت پڑی ہم نے سفارتی زبان کا استعمال کیا۔ اگر ضرورت پڑی تو اسلامی جمہوریہ ایران طاقت کی زبان بھی استعمال کرے گا۔
ترجمہ و ترتیب: زیدی

ویلنٹائن ایک مغربی جشن اور ایک درآمد شدہ ثقافت کا نام ہے جو کچھ عرصے سے مسلم ممالک کے نوجوان طبقے میں بھی رائج ہوچکی ہے۔
14 فروری وہ دن ہے جس دن مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اب مسلم ممالک میں بھی بعض رسوم بپا کی جاتی ہیں اور تحفے تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے، محبت کا اظہار ہوتا ہے نامحرموں کے ساتھ؛ مغربی ثقافت کی زد میں آنے والے نوجوان ایک دوسرے کو (ہر کوئی جنس مخالف کو) تحائف دینےکے ساتھ ساتھ عشق و محبت کا اظہار کرتے ہیں اور بےحیائی کے علمبردار سڑکوں پر بےحیائی کی نمائش کا پرچار کرتے ہیں تا کہ اس طرح کی دوستیوں کو معاشرتی حیثیت دی جائے۔
سوال: ویلنٹائن کی بنیاد اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ اور 14 فروری کو کس بنیاد پر ویلنٹائن نامی جشن منایا جاتا ہے؟
جواب: اس بےحیائی کے بانی مبانی بھی اور اس کے پیروکار بھی ابھی اس سلسلے میں معتبر معلومات پیش کرنے سے عاجز اور بےبس ہیں اور سب اس دن کے لئے ایک بےمعنی سا افسانہ پیش کرتے ہیں جو بالکل جعلی اور غیر مصدقہ ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان بھی اس جعلی افسانے کی حقیقت سے آگہی کے بغیر ہی اس درآمد شدہ افسانے کے پیروکار بن گئے ہیں۔
ویلنٹائن کا افسانہ:
"کسی زمانے میں!" قدیم روم کا ایک فرمانروا اپنی سپاہ کی آمادگی کے تحفظ کی نیت سے ان کو شادی نہيں کرنے دیتا تھا کیونکہ "شادی ان کی سستی کا سبب ہورہی تھی!"۔ اسی اثناء میں ایک پادری "جس کا نام ویلنٹائن تھا!" لڑکیوں سے سپاہیوں کا عقد جاری کیا کرتا تھا اور جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو پادری کو جیل میں ڈال دیا۔ پادری جیل داروغہ کی بیٹی پر عاشق ہوا اور اس کے نام کارڈ لکھتا تھا اور بادشاہ نے اس کو 14 فروری کے دن اس کے اقدامات کی بنا پر پھانسی دے دی اور مغربی دنیا میں اس کو "شہید عشق" کا نام دیا گیا۔
تشہیر کا سبب
اس افسانے کو مغربیوں نے خوب خوب اچھالا اور مغربی ذرائع ابلاغ نے اس کو وسیع سطح پر رواج دیا جس کی وجہ اس کا غیر ثقافتی پہلو ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ بےراہروی اور مادر پدر آزادی، بےعفتی اور بےحیائی کو فروغ دیا جاسکے اور ہر سال "لو ڈے" یا "یوم محبت" کے تحت قسما قسم ناپاک اور غیر اخلاقی اعمال و افعال کو عشق و محبت کے پاک اور مقدس عنوان، انجام دے کر نوجوانوں کو فساد اور فحشاء کے دلدل میں پھنسا نیا جاتا ہے۔
جو کچھ ہر روز ویلنٹائن کے پس پردہ مقاصد میں سے ہر روز نمایاں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خاندانی رشتے نیست و نابود ہوجائیں، نوجوان شادی بیاہ سے نفرت کریں، دوستی اور دوستوں کی تلاش کو فروغ دیا جائے اور خاندان کی تشکیل اور شریک حیات کے انتخاب کو معاشرتی حیات سے نکال باہر کیا جائے۔ یہ اہداف و مقاصد سیٹلائٹ چینلز پر مختلف زبانوں میں چلائی جانے والی مغربی تشہیری مہم کے تحت ڈراموں اور فلموں یا پھر براہ راست پروگراموں میں بخوبی محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ آج ان پروگراموں کے ذریعے اسلامی معاشروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بہت سے مسلمانوں نے "دل پاک ہونا چاہئے!" کے بہانے دشمن کو اپنے گھروں میں گھسنے کا انتظآم خود ہی کرتے ہوئے ڈش اینٹنا کے ذریعے اپنے خاندانوں کو مزيد زد پذیر کردیا ہے اور یوں ہمارے خاندان بھی اس المناک یلغار کا براہ راست نشانہ بن رہے ہیں اور یوں ویلنٹائن جیسے فتنوں کے اہداف و مقاصد زیادہ سے زيادہ طشت از بام ہورہے ہیں۔ اور پھر ویلنٹائن کے ساتھ ساتھ ویلنٹائن سے متعلق کچھ اشیاء بھی ہمارے ملکوں میں درآمد ہونے لگے ہیں۔ یہ سب ایک سیاسی منصوبے یا ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو شاید ہم اسلام کے مسلّمہ فرمان "یعنی شادی بیاہ کی ضرورت" کی مختلف اتہاہ کا ادراک کرسکیں اور دوسری طرف سے دشمنان اسلام کی طرف سے اسلام فوبیا کے ضمن میں مغربی ممالک کے مختلف اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد ممکن ہے کہ ہم ویلنٹائن کے منصوبہ سازوں کی شناخت بھی کرسکیں اور سمجھ سکیں کہ ویلنٹائن مغرب کے ثقافتی یلغاریوں کی نہایت عظیم ثقافتی یلغار کا ایک جزء ہے۔ اور شاید اس سوال کو اپنے ذہن میں دہرایا جاسکے کہ اس قسم کے افسانے کی ترویج اور اس کو ایک ثقافت و تہذیب میں بدلنے کی سازش کا مقصد بےحیائی اور مادر پدر آزادی کے فروغ کے سوا کچھ بھی نہيں ہے۔ بے شک یہ دن دو نامحرموں کے درمیان ایک ناپاک رابطے کی تجدید کا دن ہوسکتا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں اور تجربے سے ثابت ہے کہ اس قسم کا بےبنیاد اور جھوٹا عشق اور اس محبت کے شجر بےثمر کی کوئی جڑ نہيں ہے معاشرے کی جڑیں سست کرنے کے لئے۔
اس میں شک نہيں ہے کہ ویلنٹائن مغربی ثقافتی یلغار کا حصہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشروں میں ایسی اخلاقی خلائیں موجود ہیں جن کو پر کرنے کے لئے اس قسم کے افسانے بھی بھی ہمارے اندر گھر کر لیتے ہیں؛ کچھ کمی ہے کچھ قلت ہے جس کا ازالہ کیا جارہا ہے اور ہمارے نوجوان اس قسم کے غیر اخلاقی امور کا خیر مقدم کرتے نظر آتے ہیں۔
اسلام اور ہمارے مسلم معاشروں میں مرد اور عورت کے درمیان محبت کا رشتہ جوڑنے کے تمام تر قوانین و احکام موجود ہیں لیکن خداوند مکتب نے ان کا صحیح تعارف نہیں کرایا؛ ہمارے یہاں دن بھی ہیں مناسبات اور مواقع بھی ہیں جو افسانے نہیں بلکہ حقائق ہیں لیکن ان پر کام نہیں ہوتا بلکہ بعض تو انہیں حرام قرار دیتے ہیں تاکہ ویلنٹائن کے وارے نیارے ہوں!!
ہمارے یہاں ولادت اور شہادت کے دن ہیں جن کو عید یا عزا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ طاہرین اور بزرگ اسلامی شخصیات کے ایام ولادت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کی شادیوں کی تاریخیں، امیرالمؤمنین علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی کا دن، ایام ولادت رسول اللہ(ص) ہفتہ وحدت کے عنوان سے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یوم ولادت "یوم الاب (Father Day) کے عنوان سے، یو ولادت سیدۃ العالمین سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ(ص) "یوم الام (Mother Day) " کے عنوان سے، یوم ولادت حضرت فاطمہ معصومہ کریمہ اہل بیت(س) یوم البنت (Daughter Day) کے عنوان سے، یوم ولادت حضرت علی اکبر(ع) "یوم نوجوان" کے عنوان سے، منائے جاتے ہیں اور کئی اور مناسبتیں اور کئی اور ایام جشن و سرور، ہمارے مکتب اور ہماری اسلامی ثقافت میں موجود ہیں۔ یہ ایام نہ صرف افسانے نہیں ہیں بلکہ عین حقیقت ہیں اور عوام کے اعتقادات میں پیوست ہیں، اور بے شک یہ ایام خاندان نامی ادارے کی تقویت و استحکام اور حقیقی عشق و محبت کے اسباب فراہم کرسکتے ہیں اور ہمارے تشخص کو نمایاں تر کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ خداوندان مکتب نے نہ صرف ان امور کو صحیح ثقافت کے طور پر رائج نہیں کیا بلکہ ان کی شدید مخالفت کی اور میلاد کی دشمنی اپنائی اور جشن کو حرام قرار دیا اور جشن میلاد منانے والوں پر کفر و شرک کے فتوے لگائے اور نہ صرف ان کی مخالفت کی اور انہيں محدود کرنے کا مطالبہ کرتے رہے بلکہ مغربی ثقافتی یلغار کا سامنا کرنے کے لئے بھی ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وہ سیٹلائٹ چینلز کے سامنے بےبس ہیں اور جب ہم جیسے لوگ انہیں ان چینلز کے تباہ کن اقدامات کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں تو وہ یا ہم جیسوں کو دھتکارتے ہیں یا پھر خاموشی میں ہی عافیت سمجھتے ہیں؛ عافیت پسندی کی بنا پر۔ جیسا کہ وہ انسانوں کے قتل عام پر عافیت پسندی کی بنا پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
بعض علماء اور اکابرین کے اپنے گھروں کا حال بھی عام لوگوں کے گھروں سے کسی طور بہتر نہیں ہے اور بعض کے گھروں میں تو عوام سے بھی کہیں زيادہ بری صورت حال ہے "سیٹلائٹ چینلز کی وجہ سے!"؛ یا پھر بعض اکابرین کا خیال ہے کہ سیٹلائٹ چینلز یا ویلنٹائن جیسے فتنوں کے سامنے خاموشی اختیار کرکے ـ اور کچھ نہ کرکے ـ وہ ان کے جواز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس کا نتیجہ بھی الٹا نکل رہا ہے اور عوام ان کے صحیح، معقول اور قابل قبول موقف کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمارے نوجوان نہ صرف ویلنٹائن کے ایام میں جشن گناہ مناتے ہیں بلکہ ہمارے شہروں کی بعض دکانوں پر ویلنٹائن کا سازو سامان بر سر بازار بکتا ہے اور کہیں تو شہر کا شہر ویلنٹائن کی تصویر بن جاتا ہے۔
لگتا ہے کہ ہمارے علماء اور دانشور اگر ہماری دینی و مذہبی رسومات کا صحیح تعارف کرائیں، میلاد و وفات منانے میں روڑے نہ اٹکائیں اور اسلامی شخصیات کو مکاتب اور جماعتوں تک محدود نہ کریں تو اس سے ہمیں ہمارا تشخص بھی ملے گا ویلنٹائن جیسے افسانوں کے فروغ کا سدباب بھی کیا جاسکےگا، ثقافتی اور سماجی خلاؤں کا بھی ازالہ ہوگا اور دشمن کی ثقافتی یلغار کا راستہ بھی روکا جاسکے گا۔
پس، ویلنٹائن اور اس جیسی دوسری درآمدی اقدار کے فروغ کے سامنے خاموشی اور حقائق کو نظر انداز کرکے گوشہ عافیت میں دبکنا، مسئلے کا علاج نہیں ہے۔
17 ربيع الاول 1435 ہجري کي رات کو حسينيہ بلتستانيہ قم ميں ايک عظيم الشان سمينار (مومنين کي اتحاد سے مسلمين کي اتحاد تک) کے عنوان سے انعقاد ہوا۔ جس سے بلتستان سے تشريف لايے ہويے مايہ ناز عالم دين حجت الاسلام و المسلمين شيخ يوسف کريمي صاحب نے خطاب کيا۔
سمينار کے آخر ميں صدر جامعہ روحانيت حجت الاسلام محمد علي ممتاز نے نئے سال کيليے اپني کابينہ کا اعلان کيا اور کابينہ کے افراد کے نام درج ذيل ہيں
1۔ نايب صدر۔ حجت الاسلام نياز علي اسدي
2۔ جنرل سيکرٹري۔ حجت الاسلام مشتاق حسين حکيمي
3۔ ڈپٹي جنرل سيکرٹري۔ حجت الاسلام علي محمد جوادي
4۔ معاونت آموزش۔ حجت الاسلام شبير حسين وزيري
5۔ معاونت پژوھش۔ حجت الاسلام محمد علي ذاکري
6۔ معاونت امور مالي۔ حجت الاسلام علي احمد صادقي
7۔ معاونت تبليع۔ حجت الاسلام حيدر شريفي
8۔ معاونت فرھنگي۔ حجت الاسلام حيدر شريفي پاروي
9۔ رابطہ سيکرٹري۔ حجت الاسلام علي احمد جعفري
10۔ ميڈيا اور تبليغات کے انچارج۔ حجت الاسلام ارشاد حسين مطہري
11۔ آفيس سيکرٹري۔ حجت الاسلام محمد جان حيدري
دریں اثناء صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ دہشت گرد دونوں ملکوں کی سرحدوں پر موجود ہیں، جو افغان اور پاکستانی عوام کے لئے خطرہ ہیں، ان سے مل کر ہی نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے افغان پولیس افسر جان علی کی خدمات کو بھی سراہا، جس نے ساتھیوں کی جان بچاتے ہوئے خودکش حملہ ناکام بنایا اور اپنی جان دیدی۔ افغان خبررساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں باہمی دلچسپی، پاکستان افغانستان دوطرفہ تعلقات، پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ترکی افغانستان اور پاکستان کے درمیان سہ ملکی مذاکرات،خطے کی صورتحال اور افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد کے تناظر سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماوں نے اتفاق کیا کہ اپنی سرزمین ایک دوسرے کے ملکوں کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائیگی۔
آئی این پی کے مطابق صدارتی محل کے بیان کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے ہنگو میں خودکش حملہ آور کو سکول میں داخل ہونے کی کوشش سے روکنے کے دوران شہید ہونے والے طالب علم اعتزاز حسن کو اس کی بہادری پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کے عوام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اس کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 17 سالہ طالب علم اعتزاز حسن نے بہادری کا کارنامہ سرانجام دے کر دیگر ساتھیوں کو دہشت گردی سے بچا لیا، اس پر وہ خراج عقیدت کے مستحق ہیں۔ سرحد کے دونوں اطراف دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے عوام کو ترقی اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بنانے سے روکنے کے لئے نظریں گاڑھے ہوئے ہیں، تاہم ہمیں ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔
دریں اثناء سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ خطے میں امن کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم طالبان کی جانب سے مثبت ردعمل کا انتظار ہے، پاکستان اور سعودی عرب امن عمل میں افغانستان کی مدد کریں۔ سعودی عرب، افغانستان میں قیام امن کے عمل میں مثبت کردار ادا کرے، ساتھ ہی ساتھ اپنے دوست ملک پاکستان کو بھی درخواست کرے کہ وہ خطے اور خصوصاً افغانستان میں امن عمل کے کردار میں خصوصی تعاون کرے، تاکہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں اور امن و امان قائم کیا جائے، افغانستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں، ہمیں افغان طالبان کی جانب سے مثبت ردعمل کا انتظار ہے اور رہے گا۔
شہید علامہ دیدار جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز کے جنازے کے شرکاء لبیک یاحسین (ع) کے سیاہ پرچم ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے اور لبیک یاحسین (ع)، حسینیت زندہ باد، یزیدیت مردہ باد، شیعہ سنی بھائی بھائی تکفیریوں کی شامت آئی، فرقہ واریت نامنظور و دیگر اور نعرے لگاتے رہے۔
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
| کراچی، شہید علامہ دیدار علی جلبانی اور انکے محافظ شہید سرفراز بنگش کی نماز جنازہ |
لبنان کی تحریک مقاومت حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ایک کمانڈر حسان
اللقیس کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے نزدیک شہید کر دیا گیا ہے۔ بدھ کے
روز لبنانی ٹی چینل المنار پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ
حزب اللہ کے اس کمانڈر کو بیروت کے مشرق میں واقع حدث کے علاقے میں ان کے
گھر کے نزدیک شہید کیا گیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے اس بیانیہ میں صیہونی
ریاست اسرائیل کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بیانیہ میں مزید کہا گیا
ہے کہ اس قتل کی براہ راست ذمہ داری صیہونی ریاست پر عائد ہوتی ہے کیونکہ
اس جعلی حکومت نے بارہا مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے اس شہید برادر کو قتل
کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ اپنی اس شوم کوشش میں ناکام رہے تھے۔ بیانیہ
میں آگے چل کر کہا گیا ہے کہ صیہونی دشمن مکمل طور پر اس فجیع جرم کا ذمہ
دار ہے اور اب اس کے ردعمل میں ہونے والی کسی بھی کارروائی کا ذمہ دار وہ
خود ہوگا۔
صیہونی حکومت نے 2000ء اور 2006ء میں لبنان پر دو جنگیں
مسلط کی تھیں۔ 2006ء کی 33 روزہ جنگ میں ایک ہزار دو سو لبنانی جن میں سے
اکثریت کا تعلق عام شہریوں سے تھے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے
باوجود مذکورہ بالا دو جنگوں میں حزب اللہ کے مجاہدین نے صیہونی فورسز کو
شکست فاش دی تھی اور دشمن اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے بغیر عقب نشینی پر
مجبور ہوا تھا۔
2012ء میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا
تھا کہ تحریک مزاحمت لبنان کے دفاع کی توانائی اور شجاعت رکھتی ہے اور
لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کے میزائل اپنے دفاع
میں مقبوضہ فلسطین کے داخل تک اپنے اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ سید حسن
نصراللہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے اہداف کا تعین کر رکھا ہے اور
اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو اپنی عوام اور ملک کے دفاع کے لئے اپنے ان
میزائلوں سے استفادہ کرنے میں کسی قسم کا تامل نہیں کریں گے۔ حزب اللہ کے
سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ کارروائی لاکھوں صیہونی کی
زندگی کو جہنم میں تبدیل کر دے۔ سید مقاومت نے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ
ہونے والے کوئی بھی ممکنہ جنگ صیہونی ریاست کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگی،
اور یہ جنگ کسی بھی صورت میں 2006ء میں ہونے والی جنگ سے قابل مقایسہ نہیں
ہوگی۔
ادھر غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حسان اللقیس کو ان کی
رہائش گاہ کے قریب قتل کیا گیا۔ حسان اللقیس کو تنظیم کے مرکزی رہنما سید
حسن نصر اللہ کا قریبی ساتھی اور ہتھیاروں کی تیاری کا ماہر سمجھا جاتا
تھا۔ حسان اللقیس کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ نصف شب کے قریب اپنی رہائش
گاہ پر پہنچے۔ گھات لگائے حملہ آور حسان اللقیس کے منتظر تھے جیسے ہی انھوں
نے کار پارک کی انھیں نشانہ بنا دیا گیا۔ حزب اللہ کی طرف سے اس قتل کا
ذمہ اسرائیل کو ٹھرایا گیا ہے۔ لبنانی مقاومتی تنظیم حزب اللہ کی طرف سے
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل متعدد بار حسان اللقيس کو مروانے کی کوششیں
کرتا رہا ہے، تاہم اُسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس بیان میں مزید کہا
گیا کہ حسان اللقيس کے قتل میں اسرائیل ملوث ہے۔ دُشمن کو یہ ذمہ داری
قبول کر لینی چاہیے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان ییگال
پالمر نے حسان اللقيس کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے الزام کو سرے سے
رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ حزب
اللہ کی خودکار جوابی حرکت ہے۔ حزب اللہ تنظیم ہر چیز کا الزام اسرائیل پر
عائد کر دیتی ہے۔ واضح رہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف متعدد جنگیں لڑ
چُکی ہے۔ 2006ء میں ایک مہینے تک جاری رہنے والی ایسی ہی ایک جنگ کے دوران
حسان اللقيس کا ایک بیٹا مارا گیا تھا۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر
شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ گذشتہ دو عشروں سے بھی زیادہ عرصے سے وہ حزب اللہ
کے کمانڈروں کے قتل میں ملوث رہی ہے۔ 1992ء میں اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹرز
نے حزب اللہ کے رہنما اور سید حسن نصراللہ کے پیشرو سید عباس موسوی کے
قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اُن کی بیوی، ایک پانچ
سالہ بیٹا اور چار محافظ جاں بحق ہوگئے تھے۔ آٹھ سال پہلے حزب اللہ رہنما
شیخ راغب حرب کو جنوبی لبنان میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حزب اللہ کو سب سے
بڑی ضرب 2005ء میں اُس وقت لگی جب دمشق میں اس کے چوٹی کے ایک کمانڈر عماد
فائز مغنیۃ کی گاڑی پر ہونے والے بم حملے کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے
تھے۔
رپورٹ: این ایچ نقوی
شام
کے وقت جب میں گھر پہنچا تو امی جان اور ابو جی کو بہت پریشان پایا۔ ٹی وی
پر چلنے والی خبر نے مجھے بھی پریشان کر دیا۔ خبر یہ تھی کہ راجہ بازار
میں ہنگامہ، پتھراؤ، فائرنگ اور مدینہ مارکیٹ کو آگ لگا دی گئی ہے۔ مدینہ
مارکیٹ کی خبر نے تو جیسے سب کو ہی بہت پریشان کر دیا۔ پریشانی کی اہم وجہ
ہمارا چھوٹا بھائی ثاقب تھا۔ جو پولیس میں ہے اور اس کی ڈیوٹی مدینہ مارکیٹ
کی چھت پر لگی ہوئی تھی۔ وہاں دیوبندی مسجد بھی تھی اور اسی مسجد میں ان
کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ پریشانی کی وجہ سے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا
کیا جائے۔
فیصلہ کیا گیا کہ میں خود جا کر وہاں کا جائزہ لوں اور
ثاقب کو کسی طرح گھر لے کر آؤں۔ جب میں گھر سے نکلا تو میرے بعد میرا چھوٹا
بھائی عمر بھی چلا گیا۔ میں نے جب وہاں جا کر دیکھا تو سپاہ صحابہ کے
دیوبندیوں کا ایک ہجوم تھا، یہ سب لوگ اہل تشیع کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
گنج منڈی والے پل سے آگے کسی کو جانے نہیں دیا جا رہا تھا۔ میں نے ثاقب کو
تلاش کرنا تھا، اس لیے میں نے دوسرے راستے کی طرف رخ کر لیا۔ باقی تمام
اطراف کوئی ہنگامہ نہیں تھا، بس مدینہ مارکیٹ کی طرف جانے والے راستے پر ہی
ہنگامہ تھا، باقی تمام اطراف میں اہل تشع ماتم کر رہے تھے اور پولیس نے ان
کو سکیورٹی فراہم کر رکھی تھی، لیکن راجہ بازار اور مدینہ مارکیٹ کی طرف
بہت ہنگامہ تھا، وہاں لوگ دکانوں کو آگ لگا رہے تھے اور پتھراو کر رہے تھے،
اس طرف سے لوگوں کو پولیس اور آرمی آگے نہیں جانے دے رہی تھی۔ میں نے ہر
طرف سے کوشش کی، لیکن میرا رابطہ کسی بھی طرح ثاقب سے نہ ہوسکا اور میں
افسردہ خالی ہاتھ گھر کی طرف لوٹ آیا۔
گھر آکر میں والد صاحب کو
تسلی دیتا رہا کہ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں ہے، حالات ٹھیک ہیں، بس کچھ لوگ ہی
پتھراو کر رہے ہیں، لیکن میں خود حالات دیکھ کر آیا تھا، جو کہ بہت خراب
تھے۔ کچھ ہی دیر میں ثاقب کا گھر کے نمبر پر فون آگیا کہ وہ خیریت سے ہے
اور آفس پہنچ گیا ہے اور عمر بھی اس کے آفس میں ہے۔ سب کو تسلی ہوئی اور 9
بجے ثاقب گھر پہنچ گیا۔ سب سے پہلی خبر تو اس نے یہ سنائی کہ اس کا موٹر
سائکل جلا دیا گیا ہے۔ پھر میں نے اس سے تفصیل پوچھی کہ وہاں ہوا کیا تھا،
یہ سارا مسئلہ کہاں سے شروع ہوا تو اس نے کچھ یوں تفصیل سنائی۔
"مولوی
صاحب جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، اس مسجد کے مولوی صاحب دیوبند مسلک سے تعلق
رکھتے ہیں، مولوی صاحب اہل تشیع کے خلاف بہت نفرت انگیز تقریر کر رہے تھے،
مسجد میں سپاہ صحابہ کے لوگ اسلحہ سمیت موجود تھے اور لاؤڈ اسپیکر پر کافر
کافر شیعہ کافر، یزیدیت زندہ باد کے نعرے لگوا رہے تھے، کچھ ہی دیر میں
وہاں اہل تشیع کا جلوس آنا تھا اور مولوی صاحب انتہائی جوش سے شیعوں کے
خلاف تقریر کر رہے تھے۔ جب جلوس وہاں پہنچا تو نفرت انگیز نعرے سن کر شیعوں
نے پتھراو شروع کر دیا، لیکن مولوی صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ تقریر
میں انہوں نے میلاد اور عاشورہ کے جلوسوں میں شرکت کرنے والے سنی اور شیعہ
مسلمانوں کو کافر اور مشرک قرار دے دیا، جس کی وجہ سے جلوس میں شامل سنی
اور اہل تشیع کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے شدید احتجاج کیا، اس پر دیوبندی
مسجد سے پتھراو شروع ہوگیا اور سپاہ صحابہ کے راجہ بازار کے صدر اور اس کے
رشتہ داروں نے جلوس پر فائرنگ شروع کر دی اور انہوں نے پتھراو اور
فائرنگ کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں کھڑے موٹر سائکلز کو آگ لگانا شروع کر دی،
جب آگ مارکیٹ میں لگنا شروع ہوئی تو سپاہ صحابہ کے مولوی حضرات نے پولیس سے
اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران باہر موجود شیعوں اور بریلویوں نے بھی
پولیس سے اسلحہ چھین لیا اور اپنے دفاع میں فائرنگ شروع کر دی۔ ادھر ہم
صرف دو پولیس والے تھے، اس لیے پھر ہم بڑی مشکل سے چھتوں سے چھلانگیں لگا
کر وہاں سے نکلے اور آفس پہنچے۔” اس کے بعد کا جو ہنگامہ ہے وہ سب آپ کو
سچی اور حھوٹی خبروں کے ساتھ سننے اور پڑھنے کو مل گیا ہے۔
میرے
خیال میں ایک چھوٹی سی بات کی وجہ سے اتنا بڑا مسئلہ بنا ہے۔ اگر آج کے
خطبہ میں دیوبندی مولوی صاحب اہل تشیع اور سنی بریلویوں کے خلاف تقریر نہ
کرتے، جبکہ وہ جانتے تھے کہ آج ان کا جلوس بھی یہاں ہی آنا ہے اور یہاں آکر
جلوس نے ختم ہونا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے تقریر کی اور خالص شیعوں
کے خلاف تقریر کی تو پھر ایسا مسئلہ تو ہونا ہی تھا۔ پھر اس کے بعد سپاہ
صحابہ کے مسلح لوگوں نے جلوس پر پتھراو اور فائرنگ شروع کر دی اور سنی
بریلوی اور شیعہ کو اغوا کرکے دوبندی مسجد میں لے آئے، کچھ بے گناہ شیعہ
اور سنی زندہ جلا دیئے گئے اور سپاہ صحابہ والے دیوبندی بھاگ گئے، ایک مسجد
شہید ہوگئی۔ سو سے زیادہ دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ کتنے ہی انسانوں کی جان
چلی گئی اور کتنے ہی زخمی حالت میں ہسپتالوں میں موجود ہیں اور اس پر یہ
جھوٹی خبروں نے اور نقصان پہنچایا ہے۔
اس واقعے کی کوریج پر مامور
اسلام آباد میں ایک ٹی وی کے رپورٹر نے بی بی سی کے نامہ نگار محمود جان
بابر کو بتایا کہ وہ فوارہ چوک میں ڈیوٹی پر موجود ہیں اور ابھی کچھ دیر
پہلے علاقے کے دیوبندی لوگوں نے ان کی گاڑیوں اور کیمروں پر ہلہ بول دیا
اور انہیں زبردستی یہ کہتے ہوئے رہائشی علاقے کے اندر لے گئے کہ لاشیں اندر
پڑی ہیں، تباہی اندر ہوئی ہے اور میڈیا باہر سے کس چیز کی کوریج کر رہا
ہے۔
یااللہ پاکستان کی خیر فرما، آمین

ایران پاکستان کے سرحدی علاقے سراوان میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے ایرانی سرحدی فورس کو اپنے دھشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھشتگرد گروپ ’’بیگانہ‘‘ سے وابستہ مسلح افراد نے سراوان سرحد پر موجود ایرانی سپاہیوں کو اس وقت اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی ڈیوٹیاں بدل رہے تھے۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے نائب سیکورٹی گورنر نے اس خبر کی تائید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ جھڑپ ایک دم سرحد کے اوپر ہوئی جس میں ایرانی سپاہیوں کے ۱۴ افراد کو شہید، ۶ کو زخمی اور ۴ کو اغوا کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلح دھشتگرد حملہ کر کے پاکستان کی طرف فرار کر گیے۔
شیعہ سنی اتحاد میں دن بدن مضبوطی/ فتنہ پرور افراد کا منہ توڑ جواب دیں گے
ابنا کی رپورٹ کے مطابق صوبہ چاربھار کے نمایندے جدگال یعقوب نے اس حادثہ کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس حملے میں شہید ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہیوں کی شہادت کے موقع پر جو گزشتہ شب سرحد پر دھشتگردوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں رہبر معظم انقلاب اور ان کے گھروالوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ شب سراوان بارڈر پر کئے گئے حملے کا مقصد ایران میں ایرانی برداری کے اندر موجود اتحاد اور یکجہتی کو خدشہ دار کرنا ہے۔
صوبہ چابہار کے نمائندے نے مزید کہا: یقینی طور پر اس بزدلانہ حملے کے پیچھے عالمی استکبار اور استعمار کا ہاتھ ہے لیکن خدا انہیں اندھا کرے انہوں نے نہیں دیکھا کہ ۸ سالہ دفاع مقدس میں ہمارے جوانوں نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اسلامی انقلاب کی جڑوں کو مضبوط بنانے میں کس قدر قربانیاں پیش کیں؟
یعقوب جدگال نے تاکید کی: ایران میں شیعہ سنی اتحاد دن بدن مضبوط ہو رہا ہے اور ہرگز ہم دشمنوں کو اختلاف اور تفرقہ کی اجازت نہیں دیں گے اور بہر قیمت اپنے وطن کی حفاظت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم ملک کے سکیورٹی عہدہداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ان افراد کے ساتھ سختی سے نمٹیں جو صوبہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.: Weblog Themes By Pichak :.


































