پیغمبر اسلام (ص) کی بعثت، شرک، ناانصافی، نسلی قومی و لسانی امتیازات، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز کہی جا سکتی ہے. 

 27 رجب المرجب؛ رسول اللہ (ص) کی بعثت؛ مسلمانان عالم کو یہ عید مبارک ہو

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا :-

ہجرت سے 13 سال قبل،27 رجب المرجب کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت، شرک، ناانصافی، نسلی قومی و لسانی امتیازات، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز ہے اور صحیح معنوں میں خدا کے آخری نبی نے انبیائے ما سبق کی فراموش شدہ تعلیمات کو از سر نو زندہ و تابندہ کرکے عالم بشریت کو توحید، معنویت، عدل و انصاف اورعزت و کرامت کی طرف آگے بڑھایا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دلنشین پیغامات کے ذریعے انسانوں کو مخاطب کیا کہ ”خبردار ! خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا اور کسی کواس کا شریک قرار نہ دینا تاکہ تم نجات و فلاح پا سکو“۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس پر خلوص معنوی تبلیغ نے جہالت و خرافات کی دیواریں بڑی تیزی سے ڈھانا شروع کردیں اورلوگ جوق درجوق اسلام کے گرویدہ ہوتے چلے گئے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت جو درحقیقت انسانوں کی بیداری اورعلم و خرد کی شگوفائی کا دور ہے۔

مورخین کابیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا میں عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی " یامحمد" آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھرآوازآئی پھرآپ نے ادھرادھردیکھا، ناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پرپڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقراء“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا " مااقراء" کیاپڑھوں انہوں نے عرض کی کہ " اقراء باسم ربک الذی خلق الخ" پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔
مپیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۳۸سال کی عمرمیں " کوہ حرا " کواپنی عبادت گذاری کی منزل قراردیااوراس کے ایک غارمیں بیٹھ کرعبادت کرتے تھے۔

غارکی لمبائی چارہاتھ اورچوڑائی ڈیڑھ ہاتھ تھی اورخانہ کعبہ کودیکھ کرلذت محسوس کرتے تھے یوں تو دو دو، چارچارشبانہ روز وہاں رہاکرتے تھے لیکن ماہ رمضان سارے کا سارا وہیں گزارتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی " یامحمد" آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھر آواز آئی پھرآپ نے ادھر ادھر دیکھا ناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پر پڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقراء“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا”مااقراء-“ کیاپڑھوں انہوں نے عرض کیا کہ " اقراء باسم ربک الذی خلق الخ" پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔
کیونکہ آپ کوعلم قرآن پہلے سے حاصل تھا جبرئیل کے اس تحریک اقراء کا مقصدیہ تھا کہ نزول قرآن کی ابتداء ہوجائے اس وقت آ پ کی عمر چالیس سال ایک یوم تھی اس کے بعد جبرئیل نے وضو اور نماز کی طرف اشارہ کیا اور اس کی تعداد رکعات کی طرف بھی حضور کو متوجہ کیا چنانچہ حضور والا صفات نے وضو کیا اور نماز پڑھی آپ نے سب سے پہلے جو نماز پڑھی وہ ظہر کی تھی پھر حضرت وہاں سے اپنے گھرتشریف لائے اور خدیجةالکبری اور علی ابن ابی طالب علیهماالسلام سے واقعہ بیان فرمایا۔

ان دو بزرگواروں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! ہم عرصۂ دراز سے اس دن کا انتظار کررہے تھے۔ اور یوں دونوں ایمان لائے اور دونوں نے اظہار ایمان کیا اور نماز عصر ان دونوں نے رسول الله (ص) کی امامت مین با جماعت ادا کی یہ اسلام کی پہلی نماز باجماعت تھی جس میں رسول کریم امام اورخدیجہ اورعلی ماموم تھے۔

آپ درجہ نبوت پر ابتدا ہی سے فائزتھے، ۲۷رجب کومبعوث برسالت ہوئے اسی تاریخ کونزول قرآن کی ابتداء ہوئی۔

یہاں اس افسانے کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے جو بعض اسلام مخالف قوتوں کے لئے بھی ایک دستاویز کی صورت اختیار کرگیا ہے اور وہ یوں کہ رسول اللہ (ص) غار حرا سے آئے تو آپ (ع) کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آپ (ص) کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے؟ اور یہ کہ آپ کو بخار چڑھ گیا تھا اور ام المؤمنین سیدہ خدیجة الکبری سلام اللہ علیہا نے آپ (ص) کو چادر دی اور آپ نے چادر اوڑھ لی۔ اور پھر حضرت خدیجہ نے عرض کیا: یا محمد (ص)! فکرمندی کی کوئی ضرورت نہین ہے، میرے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل ان مسائل سے آگہی رکھتے ہیں اب ان کے پاس جاکر معلوم کرتے ہیں کہ کیا واقعہ نمودار ہوا ہے۔ دونوں ورقہ کے پاس پہنچے اور معاذاللہ ورقہ نے کہا: "لگتا ہے کہ آپ اس زمانے کے نبی ہیں"!!!؟؟؟... یہ ایک جھوٹا افسانہ ہے جو شیعہ عقائد کے مطابق بالکل باطل اور غلط ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) نے خود ہی فرمایا ہے کہ "میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (ع) پانی اور مٹی کے درمیان تھے"۔
بعثت کے بعد آپ نے تین سال تک نہایت رازداری اورپوشیدگی کے ساتھ فرائض انجام دیئے اس کے بعد کھلے عام تبلیغ کاحکم آگیا”فاصدع بما تؤمر“ جو حکم دیاگیاہے اس کی تکمیل کرو،
تاریخ ابو الفدا میں ہے کہ " تین برس تک پیغمبر خدا دعوت فطرت اسلام خفیہ کرتے رہے مگر جب کہ یہ آیت نازل ہوئی" و انذر عشیرتک الاقربین" یعنی ڈرا اپنے کنبے والوں کو جو قریبی رشتہ دار ہیں....

.....



تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:42 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

چھوٹے سے مقالے میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ولادت سے بعثت تک کے مختصر حالات تحریر کررہے ہیں اور اس مقالے کے آخر میں آپ کی ایک سو احادیث بھی لکھ رہے ہیں جو ہماری زندگی میں مشعل راہ ثابت ہوں گی۔ 

 حضرت پیغمبر اسلام (ص) کا مختصر زندگی نامه
                    بسم الله الرحمٰن الرحیم
پیغمبر اسلام ، خاتم النبیین ،اشرف المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام صادق علیہ السلام کی تاریخ ولادت با سعادت کے موقع پر ہم دنیا کے تمام مسلمانوں اور خصوصاً محبان اہل بیت علیہم السلام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ پیغمبر اسلام اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اسلامی سماج ،ابدی سعادت حاصل کرے گا۔ ہم اس دن کے منتظر ہیں جب فرزند پیغمبر اور آپ کے آخری وصی برحق حضرت مہدی موعود علیہ السلام ظہور فرما کر اس دنیا میں پھیلے اندھیروں کو دور کرکے روشنی پھیلائیں گے ، ظلم اور ظالموں کا خاتمہ کرکے اس دنیا کو عدل و انصاف سے پر فرمائیں گے۔ اس وقت ہم پوری دنیا میں کلمہٴ حق کا بول بالا دیکھیں گے ، انشا ء الله۔

ہم اس چھوٹے سے مقالہ میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ولادت سے بعثت تک کے مختصر حالات تحریر کررہے ہیں اور اس مقالہ کے آخر میں آپ کی ایک سو احادیث بھی لکھ رہے ہیں جو ہماری زندگی میں مشعل راہ ثابت ہوں گی۔

میلاد نور:
یوں تو انسانی تاریخ میں بہت سے اہم دن آئے اور گذر گئے ، لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا دن وہ عظیم دن ہے جسے انسان چاہتے ہوئے بھی نہیں بھلا سکتا۔ اس دن الله کے آخری نبی اس دنیا میں تشریف لائے ۔ اس دن اس دنیامیں اس عظیم انسان نے قدم رکھا جس کی زیارت کے تمام انبیاء مشتاق تھے۔ اس دن دنیا میں وہ تشر یف لائے جن کے بارے میں انبیاء ما سبق نے اپنے اوصیاء کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر وہ آپ کے سامنے آگئے تو انھیں ہمارا سلام کہنا۔ مسلمانوں کی فضیلت اس سے بڑھ کر او ر کیا ہوسکتی ہے کہ انہیں وہ عظیم سعادت نصیب ہوئی جس کی تمنا لئے ہوئے بہت سے انبیاء اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ چونکہ الله نے ہمیں یہ عظیم سعادت عطا فرمائی ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم آپ کی امت کا جز بنے رہیں اور آپ کی تعلیمات کی قدر کرتے ہوئے ان پر عمل کریں ۔ 

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ ولادت:
پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ ولادت میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہے ۔ شیعہ آپ کی ولادت ۱۷/ ربیع الاول کو مانتے ہیں اور سنی آپ کی ولادت کے سلسلہ میں بارہ ربیع الاول کے قائل ہیں ۔ اسی طرح آپ کی ولادت کے دن میں بھی مسلمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ آپ کی ولادت جمعہ کے روز ہوئی اور اہل سنت کہتے ہیں کہ جس دن آپ کی ولادت ہوئی وہ پیر کا دنتھا۔

پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے والدین:
آپ کے والد ماجد حضرت عبد الله ابن عبد المطلب ہیں۔ حضرت عبد الله وہ انسان ہیں جو خاندانی شرافت کے اعتبار سے دنیا بھر میں ممتاز ہیں ۔ حضرت عبد الله کے والد حضرت عبد المطلب ہیں ، جن کی عظمت و ہیبت کا یہ عالم تھا کہ جب ابرہہ خانہٴ کعبہ کو مسمار کرنے کی غرض سے مکہ آیا اور آپ اس کے پاس گئے تو وہ آپ کو دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہوگیا۔

حضرت عبد الله اس خاندان سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانہ کے حسین و جمیل ،رشید، مودب اور عقلمند انسان تھے۔ یوں تو مکہ کی بہت سی خواتین آپ سے شادی کی متمنی تھیں مگر چونکہ نور نبوت کو ایک خاص آغوش کی ضرورت تھی اس لئے آپ نے سب کو نظر انداز کرتے ہوئے جناب آمنہ بنت وہب سے شادی کی۔ 

تاریخ میں ملتا ہے کہ ابھی اس شادی کو چالیس دن بھی نہ ہوئے تھے کہ جناب عبد الله نے تجارت کی غرض سے شام کا سفر اختیارکیا، جب آپ اس سفر سے واپس لوٹ رہے تھے تو آپ اپنے ننھیا ل والوںسے ملاقات کے لئے مدنیہ گئے اور وہیں پر آپ کا انتقال ہوگیا یعنی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا تھا۔ چونکہ جناب آمنہ جناب عبد الله کے ساتھ زیادہ دن نہ رہ سکیں تھیں اس لئے وہ آپ کی یادگار اور اپنے بیٹے سے بے حد پیار کرتی تھیں۔ جب پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پانچ سال کے ہوئے تو جناب آمنہ ، جناب عبد المطلب سے اجازت لے کر ام ایمن کے ساتھ ، اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے مدنیہ گئیں۔ اس سفر میں پیغمبر اسلام بھی آپ کے ہمراہ تھے اور یہ پیغمبر اسلام کا پہلا سفر تھا۔ جب یہ قافلہ مکہ کی طرف واپس پلٹ رہا تھا تو راستہ میں ابواء نامی جگہ پر جناب آمنہ بیمار ہوئیں اور آپ کا وہیں پر انتقال ہوگیا۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کو وہیں دفن کیا اور ام ایمن کے ساتھ مکہ آگئے۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والے آج بھی ابواء میں جناب آمنہ کی قبر پر زیارت کے لئے جاتے ہیں ۔جب پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم اس حادثہ کے ۵۰/سال بعد اس مقام سے گذرے تو اصحاب نے دیکھا کہ آپ سواری سے نیچے اتر کر ، کسی سے کچھ کہے بغیر ایک طرف آگے بڑھنے لگے ، کچھ اصحاب یہ جاننے کے لئے کہ آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں آپ کے پیچھے چلنے لگے۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ پر جاکر رکے اور بیٹھ کر قرآن پڑھنے لگے ۔ آپ قرآن پڑھتے جاتے تھے اور اس جگہ کو غور سے دیکھتے جاتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد آپ کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے، اصحاب نے سوال کیا یا رسول الله! آپ کیوں گریہ فرمارہے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایاکہ یہ میری ماں کی قبر ہے آج سے پچاس سال قبل میں نے انھیں یہاں پر دفن کیا تھا۔

ماں کا سایہ سر اٹھ جانے کے بعد پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی دیکھ ریکھ کی پوری ذمہ داری جناب عبد االمطلب نے سنبھالی۔ وہ آپ کو بہت پیار کرتے تھے اور اپنے بیٹوں سے کہتے تھے کہ یہ بچہ دوسرے بچوں سے مختلف ہے ابھی تم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہولیکن آنے والے وقت میں یہ بچہ الله کا نمائندہ بنے گا۔ ہاں جناب عبد المطلب اس بچہ کے معصوم چہرے پر نور نبوت دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ جلد ہی اس کے پاس وحی کے ذریعہ الله کا وہ دین آنے والا ہے جو دنیا کے تمام ادیان پر چھا جائے گا۔ ہاں جناب عبد المطلب کی نگاہیں وہ سب کچھ دیکھ رہیں تھیں جسے دیکھنے سے باقی لوگ قاصر تھے۔ جب جناب عبد المطلب کا آخری وقت قریب آیا ، تو آپ کے بڑے بیٹے جناب ابوطالب نے آپ کے چہرے پر پریشانی کے کچھ آثار دیکھے، وہ آگے بڑھے اور اپنے والد سے اس پریشانی کا سبب جاننا چاہا تو جناب عبد المطلب نے فرمایا کہ مجھے موت سے کوئی خوف نہیں ہے میں صرف اس بچہ کی طرف سے فکرمند ہوں کہ اسے کس کے سپرد کروں۔ کیا اس بچے کی سرپرستی کو تم قبول کرتے ہو؟ کیا تم یہ وعدہ کرتے ہو کہ میری طرف سے اس کی کفالت کرتے رہو گے؟ جناب ابوطالب نے جواب دیا کہ بابا مجھے منظور ہے۔ جناب ابوطالب نے اپنے بابا سے کئے ہوئے وعدہ کو اپنی زندگی کے آخری سانس تک نبھایا اور پوری زندگی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی مدد و حفاظت کرتے رہے ۔ جناب ابوطالب پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بیٹوں سے زیادہ چاہتے تھے اور آپ کی زوجہ فاطمہ بنت اسد یعنی مادر حضرت علی علیہ السلام، پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو ماں کی طرح پیار کرتی تھیں۔ 

پیغمبر اسلام (ص) کے سفر 
۱) پیغمبر اسلام (ص)نے عرب سے باہر سفر کئے اور آپ دونوں ہی بار شام تشریف لے گئے ۔آپ (ص) نے یہ دونوں سفر بعثت سے پہلے کیئے ۔

پہلی بار آپ (ص)بارہ سال کے سن میں اپنے چچا ابو طالب (ص) کے ساتھ گئے اور دوسری بار پچیش سال کے سن میں جناب خدیجہ کے تجارتی نمائندہ کی شکل میں تشریف لے گئے ۔بعثت کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے عرب کے اندر بہت سے سفر کئے لیکن عرب سے باہر کے آپ کے صرف یہی دو سفر تاریخ میں درج ہیں ۔

بعثت سے پہلے پیغمبر اکرم (ص) کا کردار
کسی بھی انسان کی سماجی زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ موٴثر ہوتی ہے وہ اس کے ماضی کا کردار ہے ۔پیغمبر اسلام(ص) کی ایک خاصیت یہ تھی کہ وہ دنیا کے کسی بھی مدرسہ میں پڑھنے نہیں گئے ۔آپ (ص) کا کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہ کرنا اس بات کا سبب بنا کہ جب آپ (ص) نے لوگوں کے سامنے قرآنی آیتوں کی تلاوت کی تو وہ تعجب میں پڑگئے اور آپ کے گرویدہ ہو گئے ۔اگر آپ (ص) کسی دنیاوی مدرسہ میں پڑھے ہوتے تو لوگ یہی سمجھتے کہ یہ آپ کی مدرسہ کی تعلیم کا کمال ہے ۔

آپ کی دوسری صفت یہ ہے کہ آپ (ص) نے اس ماحول میں جس میں کچھ لوگوں کو چھوڑ کر سبھی بتوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے کبھی کسی بت کے سامنے سر نہیں جھکایا ۔لھذا جب آپ (ص) نے بتوں اور بت پرستوں کی مخالفت کی تو کوئی آپ(ص) کو یہ نہ کہہ سکا کہ آپ(ص) ہمیں کیوں منع کر رہے ہیں ؟ آپ بھی تو کل تک ان کے سامنے سر جھکاتے تھے ۔

آپ(ص) کی خاصیت یہ تھی کہ آپ(ص) نے مکہ جیسے شہر میںجوانی کی پاک و پاکیزہ زندگی بسر کی اور کسی برائی میں ملوث نہیں ہوئے جب کہ ان دنوں مکہ شہر برائیوں کا مرکز تھا ۔

بعثت سے پہلے آپ(ص) مکہ میں صادق ، امین اور عاقل مانے جاتے تھے ۔آپ(ص) لوگوں کے درمیان محمد امین (ص) کے نام سے مشہور تھے ۔ صداقت و امانت میں لوگ آپ (ص) پر بہت زیادہ اعتمادکرتے تھے اور بہت سے کاموں میں فقط آپ(ص) ہی کی عقل پر اعتماد کیا جاتا تھا ۔ عقل ، امانت و صداقت آپ کے ایسے صفات تھے جنہوں نے آپ(ص) کو عالم میں ممتاذ بنا دیا تھا ۔ یہاں تک کہ جب لوگ آپ(ص) کو اذیتیں دینے لگے اور آپ کی باتوں کا انکار کرنے لگے تو آپ(ص) نے ان سے فرماےا کہ : کیا تم نے مجھے کبھی جھوٹ بولتے سنا ہے ؟ سب نے یک زبان کہا نہیں ، ہم آپ(ص) کو سچا اور امانت دار مانتے ہیں ۔

پیغمبر اسلام(ص) کی شادی
پیغمبر اسلام (ص) جب پچیس سال کے ہوئے تو انہوں نے جناب خدیجہ کی پیشکش پر ان سے شادی کی ۔ جناب خدیجہ ایک ثروت مند خاتون تھیں اور آپ کی ذات میں ظاہری و باطنی تمام کمالات پائے جاتے تھے ۔پیغمبر اسلام (ص)کی بعثت کے بعد آپ نے اپنی پوری دولت اسلام کی ترویج میں قربان کردی ۔انہوں نے پوری زندگی پیغمبر اسلام (ص)کا ساتھ دیا وہ اولین مسلمانوں میں تھیں وہ اس وقت پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ نماز پڑھتی تھی  جب امام و ماموم کی تعداد کل تین افراد پر مشتمل تھی یعنی پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی (ص) اور حضرت خدیجہ ۔

اس شادی کے نتیجہ میں حضرت زہرا  (ص)اس دنیا میں تشریف لائیں جو آگے چل کر حضرت علی (ص) کی شریک حیات اور گیارہ معصوم اماموں کی ماں قرار پائیں ۔ہمارا درود و سلام ہو پیغمبر اسلام (ص) اور آپ کی آل پاک پر ۔

ہم اس مقالہ کے آخر میں پیغمبر اسلام (ص) کی ایک سو حدیثیں لکھ رہے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنی دینی و دنیوی زندگی کو کامیاب بنا سکتے ہیں ۔

۱) آدمی جیسے جیسے بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی حرص اور تمنائیں جوان ہوتی جاتی ہیں ۔

۲) اگر میری امت کے عالم و حاکم فاسد ہوں گے تو امت فاسد ہو جائے گی ۔ اور اگر وہ نیک ہوں گے تو امت نیک ہوگی ۔

۳) تم سب ، آپس میں ایک دوسرے کی دیکھ ریکھ کے ذمہ دار ہو ۔

۴) مال کے ذریعہ سب کو راضی نہیں کیا جا سکتا مگر اچھے اخلاق کے ذریعہ سب کو خوش رکھا جا سکتا ہے ۔

۵) ناداری ایک بلا ہے ، جسم کی بیماری اس سے بڑی بلا ہے اور دل کی بیماری ( کفر و شرک ) سب سے بڑی بلا ہے ۔

۶) مومن ہمشیہ حکمت کی تلا ش میں رہتا ہے ۔

۷) علم کو بڑھنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

۸) انسان کا دل اس ,,پر “ کی مانند ہے جو بیابان میں کسی درخت کی شاخ پر لٹکا ہوا ہوا کے جھونکون سے اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ۔

۹) مسلمان ، وہ ہے ، جس کے ہاتھ و زبان سے مسلمان محفوظ رہےں۔

۱۰) کسی کی نیک کام کے لئے راہنمائی کرنا بھی نیک کام کرنے کے مثل ہے ۔

۱۱) …

۱۲) ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔

۱۳)  عورتوں کے ساتھ برا برتاوٴ کرنے میں اللہ سے ڈرو اور جو نیکی ان کے شایان شان ہو اس کو انجام دینے سے پرہیز نہ کرو ۔

۱۴ ) تمام انسانوں کا رب ایک ہے اور سب کا باپ بھی ایک ہے ، سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم(ص) مٹی سے پیدا ہوئے ہیں لھذا تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز وہ ہے جو تقوی میں زیادہ ہے ۔

۱۵ ) ضد ، سے بچو کیوں کہ اس کی بنیاد جہالت پر ہے ، اور اس کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے ۔

۱۶ ) سب سے برا انسان وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں کو معاف نہ کرتا ہو اور نہ ہی دوسروں کی لغزشوں کو نظر انداز کرتا ہو،ا اور اس سے بھی برا وہ ہے جس سے دوسرے انسان امان میں نہ ہوں اور نہ اس سے نیکی کی توقع رکھتے ہوں ۔

۱۷ ) غصہ نہ کرو اور اگر غصہ آجائے تو اللہ کی قدرت کے بارے میں غور کرو۔

۱۸ ) جب تمہاری تعریف کی جائے تو کہو اے اللہ تو مجھے اس سے اچھا بنادے جو یہ گمان کرتے ہیں ، اور جو یہ نہیں جانتے اسے معاف کردے اور جو یہ کہتے ہیں مجھے اس کا مسئول قرار نہ دے ۔

۱۹ ) جاپلوس لوگوں کے منھ پر مٹی مل دو ( یعنی ان کو منھ نہ لگاوٴ ) 

۲۰ ) اگر اللہ کسی بندہ کے ساتھ نیکی کرنا چاہتاہے ، تو اس کے نفس کو اس کا رہبر و واعظ قرار دیتا ہے ۔

۲۱ ) مومن صبح شام اپنی غلطیوں کا گمان کرتا ہے ۔

۲۲) آپ کا سب سے بڑا دشمن نفس امارہ ہے جو آپ ہی ذات میں چھپا ہوا ہے ۔

۲۳) سب سے بہادر انسان وہ ہے جو نفس کی ہوی و ہوس پر غالب رہتے ہیں ۔

۲۴) اپنے نفس کی ہوی و ہوس سے جنگ کرو تاکہ اپنے وجود کے مالک رہو۔

۲۵ ) خوش قسمت ہیں وہ افراد جو اپنی برائیوں پر توجہ دینے کی وجہ سے دوسروں برائیاں تلاش نہیں کرتے ۔

۲۶ ) سچ ، سے دل کو سکون ملتا ہے اور جھوٹ سے پریشانیاں بڑھتی ہیں ۔

۲۷ ) مومن دوسروں سے محبت کرتا ہے اور دوسرے اس سے محبت کرتے ہیں ۔

۲۸) مومن آپس میں ایک دوسرے سے اسی طرح وابستہ رہتے ہیں جسیے کسی عمارت کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے وابستہ رہتے ہیں ۔

۲۹) مومنین کی آپسی دوسی و محبت کی مثال جسم جیسی ہے جب جسم کے کسی حصہ میں درد ہوتاہے تو باقی حصہ بھی بے آرامی محسوس کرتے ہیں ۔

۳۰) تمام انسان آپس میں کنگھے دانتوں کی طرح برابر ہیں ۔

۳۱ ) علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔

۳۲) فقیری ذلت سے ، دولت عقلمندی سے اور عبادت فکر سے بڑھ کر نہیں ہے ۔

۳۳) گہوارہ سے گور تک علم حاصل کرو۔

۳۴) علم حاصل کرو چاہے وہ چین ہی میں کیوں نہ ہو۔

۳۵ ) مومن کی شرافت رات کی عبادت میں اور اسکی عزت دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے میں پوشیدہ ہے ۔

۳۶) صاحبان علم ، علم کے پیاسے ہوتے ہیں ۔

۳۷) لالچ انسان کو اندھا اور بہرہ بنا دےتا ہے ۔

۳۸) ․․․․․․․․․

۳۹) پرہیزگاری ، انسان کے جسم و روح کو سکون پہنچاتی ہے ۔

۴۰) اگر کوئی انسان چالیس دن تک صرف اللہ کے لئے زندگی بسرکرے تو اس کی زبان سے حکمت کے چشمہ جاری ہوں گے ۔

۴۱) مسجد کے گوشہ میں تنہا بیٹھنے سے زیادہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ انسان اپنے خاندان کے ساتھ رہے ۔

۴۲) آپ کا سب سے اچھا دوست وہ ہے جو آپ کو آپ کے عیبوں کی طرف متوجہ کرے ۔

۴۳) علم کو کتابت کے ذریعہ محفوظ کرو ۔

۴۴) جب تک دل صحیح نہ ہوگا ایمان صحیح نہیں ہو سکتا اور جب تک زبان صحیح نہیں ہو گی دل صحیح نہیں ہوسکتا۔

۴۵) جب تک کسی کی عقل کو نہ آزما لو اس وقت تک ․․․․․․

۴۶) تنہا عقل کے ذریعہ ہی نیکی تک پہونچا جا سکتا ہے لھذ ا جس کے پا س عقل نہیں ہے اس کے پاس دین بھی نہیں  ہے ۔

۴۷) نادان انسان ، دین کو ، اسے تباہ کرنے والوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں ۔

۴۸ ) میری امت کے ہر عقل مند انسان پر چار چیزیں واجب ہیں ، علم حاصل کرنا ، اس کے مطابق عمل کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اور اسے پھیلانا ۔

۴۹) مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا ۔

۵۰) میں اپنی امت کی فقیری سے نہیں بلکہ بے تدبیری سے ڈرتا ہوں ۔

۵۱) اللہ زیبا و زیبائی کو پسندکرتا ہے ۔

۵۲) اللہ ہر صاحب فن مومن سے محبت کرتا ہے ۔

۵۳) مومن ، چاپلوس نہیںہوتا۔

۵۴) طاقتور وہ نہیں ، جس کے بازو مضبوط ہوں ، بلکہ طاقتور وہ ہے جو اپنے غصہ پر غالب آجائے ۔

۵۵) ․․․․․․․․․․․

۵۶) سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم عزت کے ساتھ زندگی بسر کرتاہو۔

۵۷) کتنا اچھا ہو اگر حلال دولت کسی نیک انسان کے ہاتھ میں ہو۔

۵۸) موت کے بعد عمل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے مگر تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ ثواب ملتا رہتا ہے ، صدقہ ٴ جاریہ ، مسلسل فائدہ پہونچانے والاعلم اور نیک اولاد جو والدین کے لئے دعائے خیر کرے ۔

۵۹) اللہ کی عبادت کرنے والے تین گروہ میں تقسیم ہیں 

پہلا گروہ : ان لوگوں کا ہے جو اللہ کی عبادت ڈر سے کرتے ہیں اور یہ غلاموں والی عبادت ہے ۔

دوسرا گروہ : ان افراد پر مشتمل ہے جو اللہ کی عبادت انعام کی لالچ میں کرتے ہیں اور یہ تاجروں والی عبادت ہے ۔

تیسرا گروہ : ان لوگوں کا ہے جو اللہ کی عبادت اس کی محبت میں کرتے ہیں اور یہ آزاد اانسانوں کی عبادت ہے 

۶۰) ایمان کی تین علامتیں ہیں ، تنگ دست ہوتے ہوئے بھی دوسروں کو سہارا دینا ، دوسروں کو فائدہ پہونچانے کے لئے اپنے حق کو چھوڑ دینا اور صاحبان علم سے علم حاصل کرنا ۔

۶۱)  اپنے دوستوں سے دوستی کا اظہار کرو تاکہ آپسی محبت مضبوط ہوجائے ۔

۶۲ ) دین کے لئے تین گروہ خطرناک ہےں ، بے عمل عالم ،باعمل جاہلاور ظالم امام۔

۶۳) انسانوں کو ان کے دوستوں کے ذریعہ پہچانوں ، کیوں کہ ہر انسان اپنے ہم مزاج افرا د کو دوست بناتا ہے ۔

۶۴) مخفی گناہوں سے صرف گناہ گار کو نقصان پہنچتا ہے لیکن ظاہری گناہوں سے پورے سماج کو ۔

۶۵) اموردنیا میں کامیابی کے لئے کوشش کرو لیکن آخرت کے لئے اس طرح کوشش کرو جیسے ہمیں اس دنیا سے کل ہی اٹھ جانا ہے۔

۶۶) رزق کو زمین کی تہہ میں تلاش کرو ۔

۶۷ ) اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنے سے انسان کی قدر کم ہوجاتی ہے اور انکساری سے انسان کی عزت بڑھتی ہے ۔

۶۸ ) اے اللہ ! میری زیادہ روزی مجھے بڑھاپے میں عطا کرنا ۔

۶۹) باپ پر بیٹے کے جو حقوق ہیں ان میں سے یہ بھی ہےں کہ اس کا اچھا نام رکھے اسے تعلیم دلائے اور بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے ۔

۷۰) جس کے پاس قدرت ہوتی ہے وہ اسے اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرتا ہے ۔

۷۱ ) اعمال کے ترازو میں سب سے وزنی چیز خوش اخلاقی ہوگی ۔

۷۲ ) عقل مند انسان جن تین چیزوں کی طرف توجہ دیتے ہیں وہ یہ ہیں ، زندگی کا سکھ ، توشہٴ آخرت اور حلال عیش۔

۷۳ ) خوش قسمت ہیں وہ افراد جو اضافی دولت کو دوسروں میں تقسیم کر دیتے ہیں اور اضافی باتوں کو اپنے پاس محفوظ کر لیتے ہیں ۔

۷۴) موت ہم کو ہر غلط چیز سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔

۷۵) انسان حکومت و مقام کے لئے کتنی حرص کرتا ہے اور عاقبت میں کتنے رنج و پریشانیاں برداشت کرتاہے ۔

۷۶) سب سے بدتر انسان بے عمل عالم ہے ۔

۷۷) جہاں پر حاکم بدکارہوں گے اور جاہلوں کو عزت دی جائے گی وہاں پر بلائیں نازل ہوں گی ۔

۷۸) لعنت ہو ان لوگوں پر جو اپنے کام دوسروں پر تھوپتے ہیں ۔

۷۹) انسان کی خوبصورتی اس کی گفتگو میں ہے ۔

۸۰ ) عبادت کی سات قسمیں ہیں اور ان میں سب سے بڑی عبادت رزق حلال حاصل کرنا ہے ۔

۸۱) سماج میں عادل حکومت کا پایا جانا اور قیمتوں کا کم ہونا اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ اس سماج سے خوش ہے ۔

۸۲) ہر قوم اسی حکومت کے قابل ہے جو ان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔

۸۳ ) غلط بات کہنے سے کینہ کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

۸۴ ) بت پرستی کی بات مجھے جس چیز سے منع کیا گیا وہ لوگوں کے ساتھ -․․․․․․․․․

۸۵ ) جو کام بغیر غور و فکر کے کیا جاتا ہے اس میں نقصان کا احتمال زیادہ پایا جاتا ہے ۔

۸۶) ․․․․․․․․․․․․

۸۷) دوسروں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو چاہے وہ مسواک کی لکڑی ہی کیوں نہ ہو۔

۸۸) اللہ کو یہ پسند نہیں کہ کوئی اپنے دوستوں کے درمیان کوئی خاص فرق قائم کرے ۔

۸۹) اگر کسی چیز کو فال بد سمجھو تو اپنے کام کو پورا کرو، اگر کسی بری چیز کا خیال آئے تو اسے بھول جاوٴ اور اگر حسد پیدا ہو تو اس سے بچو ۔

۹۰)ایک دوسرے سے محبت سے ہاتھ ملاوٴ تاکہ کینہ دور ہو ۔

۹۱) جو صبح اٹھ کر مسلمانوں کے امور کی اصلاح کے بارے میں غور و فکر نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے ۔

۹۲) خوش اخلاقی دل سے کینہ کو دور کرتی ہے ۔

۹۳) سچائی بیان کرنے میں لوگوں سے نہیں ڈرنا چاہیئے ۔

۹۴ ) عقل مند انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ مل جل کررہے ۔

۹۵) ایک سطح پر زندگی بسر کرو تاکہ تمہار ادل بھی ایک سطح پر رہے ، ایک دوسرے سے ملو جلو تاکہ آپس میں محبت رہے ۔

۹۶ ) موت کے وقت ، لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا مال چھوڑا ؟ اور فرشتہ پوچھتے ہیں کہ نیک کام کیا کیاکیئے ؟

۹۷) وہ حلال کام جس سے اللہ کو نفرت ہے ، طلا ق ہے ۔

۹۸) سب سے بڑا نیک کام لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کراناہے ۔

۹۹) اے اللہ ! تو مجھے علم کے ذریعہ بزرگی عطا کر ، بردباری کے ذریعہ زینت عطا کر ، پرہیز گاری کے ذریعہ محترم بنااور تندرستی کے ذریعہ خوبصورتی عطا کر ۔


تاريخ : سه شنبه دهم بهمن ۱۳۹۱ | 22:48 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اسراء و معراج

مقدمه:

1 - هر پیامبری به طور طبیعی و حتمی دارای معجزه است.

2 - فلسفه و هدف نهائی معجزه، اثبات حقانیت ادعای پیامبر درباره نبوت اوست. لذا پیامبر اسلام - ‏صلی الله علیه و آله - مثل سایر پیامبران دارای معجزه است، یكی از معجزات آن حضرت، معراج است كه هم نص صریح قرآنی و هم اتفاق مسلمانان وجود دارد، این‏كه معراج چگونه بود، توضیحاتی را ذكر می‏كنیم:

الف) معراج در لغت و اصطلاح:

معراج در لغت به معنای نردبان، آلت عروج، جای بالا رفتن و بلند گردیدن است[1] و در اصطلاح، عروج و صعود بر آسمان‏هاست كه ویژه حضرت رسول اكرم - ‏صلی الله علیه و آله و سلم - بود[2].

ب) چگونگی معراج:

در اصل مسأله معراج سخنی نیست، زیرا هم آیات قرآن و هم روایات فراوان بر آن گواهی می‏دهد،اما این‏كه معراج جسمانی بوده یا روحانی؟ اكثریت قاطعی از دانشمندان شیعه و سنی، با استفاده از آیات و روایات، قائل به معراج جسمانی حضرت پیامبر - ‏صلی الله علیه و آله و سلم - می‏باشند.

ج) دلایل جسمانی بودن معراج:

1) سبحان الذی اسری بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی باركنا حوله لنریه من آیاتنا انّه هو السمیع البصیر[3] پاك و منزه است خدائی كه بنده‏اش را در یك شب از مسجد الحرام به مسجد الاقصی - كه گرداگردش را پربركت ساخته‏ایم - برد تا برخی از آیات خود را به او نشان دهیم، چرا كه او شنوا و بینا است.

مفسران در استدلال از آیه فوق برای جسمانی بودن معراج، گفته‏اند: اولاً: خداوند وقتی این واقعه را در كتاب مقدسش بیان می‏كند از خود به تسبیح و تنزیه یاد می‏كند سبحان الذی اسری بعبده و این نشان‏دهنده یك امر فوق‏العاده خطیر و بزرگی می‏باشد، و اگر معراج روحانی بود، امر خطیر و بزرگی شمرده نمی‏شد تا از آن به تسبیح و تنزیه یاد شود.

ثانیاً: اگر معراج حضرت روحانی می‏بود، می‏فرمود: بروح عبده یعنی روح او را سیر دادم[4]. اما این‏كه در آیه تعبیر به عبده آمده زیرا متبادر از لفظ عبد همان شخصیت خارجی است كه از تن و روان تركیب یافته است، و در قرآن مجید این لفظ در هویت خارجی به كار رفته است، مانند:

« أرایت الذی ینهی عبداً اذا حلّی»[5] آیا دیدی كسی را كه نهی می‏كرد بنده‏ای را وقتی نماز گذارد «و انه لاقام عبداللَّه یدعوه»[6] وقتی بنده خدا برمی‏خاست تا او را بخواند و همچنین است در آیات دیگر... و در سوره نجم از شهود دل، و رؤیت دیده سخن می‏گوید و می‏فرماید: «ما كذب الفؤاد ما رأی»[7]؛ دل آنچه را كه دیده دید، تكذیب نكرد

و اگر معراج روحانی بود، بحث از تكذیب دل، توسط دیده بی‏معنی بود.

و نیز می‏فرماید:

«ما زاغ البحر و ما طغی»[8] چشم نلغزید و طغیان نكرد.

این قرائن سه گانه به ضمیمه اتفاق علماء اسلام جز عده‏ای انگشت‏شماری از آنان - گواه بر این است كه این سیر ملكوتی با همین بدن عنصری انجام گرفت و تفاوتی در آغاز و پایان نبوده است، بنابراین آن چه از بعضی‏ها نقل شده كه معراج پیامبر - ‏صلی الله علیه و آله و سلم - روحانی بوده و یا در عالم رؤیا صورت گرفته، با ظاهر آیات ناسازگار است[9].

2 - دلیل دیگر بر جسمانی بودن معراج این است كه اگر معراج جسمانی نبود، با خبر دادن حضرت از این واقعه، قریش در پی تكذیب او بر نمی‏آمدند، و نیز عده‏ای كه اسلام آورده بودند با شنیدن این واقعه از دین بر نمی‏گشتند، و نیز همسر پیامبر، ام معانی نمی‏گفت این واقعه را برای مردم بازگو مكن، زیرا تكذیب می‏كنند و نیز ابوبكر كه او را در این واقعه تصدیق نمود فضیلت برای او به حساب نمی‏آمد[10].

3 - دلیل دیگر بر جسمانی بودن معراج این است كه حضرت، مسیر مكه تا بیت‏المقدس و از آن جا تا عرش را با براق (براق مركبی است سریع و دارای بال) سیر نمود و براق حامل جسم است نه روح.

د) ارزیابی معراج از دیدگاه علم:

یكی از آرزوهای بسیار دیرینه بشر، مسافرت به فضا و مسخر كردن كرات دیگر بوده است، كه این آرزوی دیرینه امروزه در قرن بیستم توسط دانشمندان تحقق پیدا كرده و دانشمندان با ساختن فضاپیماها و آپلوها توانسته‏اند بشر را به كرّات دیگر برسانند و امروز، وسائلی وجود دارد كه انسان می‏تواند به فضا سفر كند و كرّات دیگر را تسخیر كند، و مسأله سرعت زیادی كه با آن بتواند از جاذبه زمین جدا شده و به فضا برسد، نیز حل شده است.

با توجه به مطالب یاد شده مشكلاتی كه در سفر معراج تصور می‏شود از قبیل نبودن وسایل نقلیه سریع امروزی، نبودن هوا، بی‏وزنی، گرمای سوزان، اشعه‏های خطرناك، و مسأله سرعت كه باید سرعتی بیش از سرعت نور وجود داشته باشد تا بتواند به آسمان‏ها سیر كند، قابل حل است و استبعادی كه در گذشته می‏شد، امروز به وقوع پیوست. تمام موانع و مشكلاتی كه در سفر فضائی به ذهن می‏رسد، می‏بینیم امروزه حل شده است و بشر با نیروی علم بر آن فائق آمده و امروزه به آسانی می‏تواند به كرّات دیگر سفر كرده و مدت‏های زیادی آن‏جا بماند.

علاوه بر آن، بدون شك معراج جنبه‏های عادی نداشته، بلكه با استفاده از نیرو و قدرت بی‏پایان خداوند صورت گرفته است و همه معجزات انبیاء همین گونه است، خلاصه این‏كه معجزه باید عقلاً محال نباشد، همین اندازه كه عقلاً امكان‏پذیر شد، بقیه با استمداد از قدرت خداوند حل شدنی است، وقتی انسان بتواند با نیروی محدودش بر تمام مشكلات فائق آید، آیا با نیروی نامحدود الهی، مسأله حل شدنی نیست؟

نكته دیگر این‏كه: ما یقین داریم كه خدا مركب سریع‏السیری كه متناسب این سفر بوده باشد در اختیار پیامبرش گذارده است و او را از نظر خطراتی كه در این سفر وجود داشته، زیر پوشش حمایت خود گرفته، این مركب چگونه بوده است و چه نام داشته براق یا مركب دیگر؟ در هر حال از نظر ما مركب مرموز و ناشناخته‏ای است[11].

البته بعضی دیگر، مشكلات مسأله معراج را این‏گونه حل نموده‏اند كه مسأله معراج بعد از پذیرفتن نبوت و رسالت اوست، وقتی ما رسالت او را پذیرفتیم و اذعان كردیم كه جبرئیل امین وحی در لحظه كوتاهی فاصله آسمانها تا زمین را طی كرده و پیام وحی را به حضرت می‏رساند، بنابراین پیمودن این فاصله یك امر ممكن است، وقتی امر ممكن شد، برای حضرت یك امر ممكن تحقق پیدا كرده است و نیز داستان آصف بن برخیا كه از علم كتاب بهره‏مند بود و توانست با یك چشم برهم زدن تخت بلقیس را از یمن به شام بیاورد، این خود دلیل است كه سرعت خود امر ممكنی است، و برای پیامبر اكرم یك امر ممكن تحقق یافته است[12].

خلاصه:

بنابراین مسأله معراج نه از نظر عقل غیرممكن است و نه با علوم روز مخالف است و وقتی با دلیل قاطع نقلی از آیات و روایات ثابت شد، جای انكار باقی نمی‏ماند و باید آن را پذیرفت.

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . لغت نامه دهخدا، واژه معراج، ج 44، ص 711

[2] . همان

[3] . اسراء / 1.

[4] . قرطبی، ابی عبداللَّه محمد بن احمد الانصاری، جامع احكام القرآن، ج 10، ص 208-209، طبع مؤسسه تاریخ عربی

[5] . علق / 6

[6] . جن / 19

[7] . نجم / 8

[8] . نجم / 17

[9] . سبحانی، جعفر، منشور جاوید، ج 6، ص 99-100، انتشارات جامعه مدرسین

[10] . مراغی، احمد مصطفی، تفسیر مراغی، ج 15، ص 6، طبع دار احیاء التراث العربی، بیروت

[11] . مكارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، ج 12، ص 18-20، طبع دارالكتب الاسلامیه، تهران

[12] . فخر رازی، ابوعبداللَّه محمد بن عمر بن حسین، مفاتیح الغیب )تفسیر كبیر(، ج 20، ص 147-148، طبع دار احیاء التراث.

مهدي پيشوايي - تاريخ اسلام، ص163

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:10 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

معراج پیامبر اسلام(ص)

یكى از معجزه هاى پیامبر گرامى اسلام- صلى الله علیه وآله - كه نص قرآن ـ در ابتداى سوره ى اسراء و سوره نجم ـ و احادیث فراوان و اتفاق مسلمانان بر وقوع آن دلالت مى كند، معراج آن حضرت است، و آن سیر شبانه ى حضرت از مسجد الحرام به مسجد الاقصى و عروج از آن جا به آسمان ها و عوالم دیگر و بازگشت ایشان در همان شب به جایگاه نخست مى باشد.

سه نظریه عمده در باره جسمانى و یا روحانى بودن معراج وجود دارد:

1. سیر و معراج، جسمانى و در حال بیدارى بوده است؛ 2. هر دو روحانى بوده است؛ 3. سیر از مكه تا بیت المقدس جسمانى و عروج به آسمان ها و ملكوت روحانى بوده است[1].

اكثریت قاطع دانشمندان شیعى و سنى دیدگاه اول را پذیرفته اند. برخى نیز دیدگاه دوم و دسته اى هم نظریه سوم را بیان مى كنند. هر یك از سه گروه، دلیل هایى براى اثبات گفته ى خود ارائه مى كنند كه در این جا تنها به برخى از مشهورترین آن ها اشاره مى كنیم:

1. استدلال به آیه ى: (سُبْحانَ الَّذِی أَسْرى بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِی بارَكْنا حَوْلَهُ...)؛[2] پاك و منزه است خدایى كه بنده اش را در یك شب از مسجد الحرام به مسجد الاقصى ـ كه گرداگردش را پر بركت ساخته ایم ـ برد... .

مفسران در استدلال به این آیه براى جسمانى بودن معراج گفته اند: اولا، خداوند در ابتداى بیان این واقعه در كتاب مقدسش، از خود به تسبیح و تنزیه یاد مى كند: (سُبْحانَ الَّذِی أَسْرى بِعَبْدِهِ) و این نشان دهنده ى وقوع یك امر فوق العاده مهم و بزرگ است و اگر معراج تنها روحانى و مربوط به قلب پیامبر- صلى الله علیه وآله - بود، امر مهم و بزرگى به شمار نمى آمد، آن گونه كه در بیان آن نیاز به تسبیح و تقدیس باشد.

ثانیاً، اگر معراج حضرت روحانى بود، مى فرمود: «بروح عبده»؛ یعنى روح او را سیر داد، ولى در آیه تعبیر به «عبده» شده است و متبادر از لفظ «عبد»، همان شخصیت خارجى است كه از تن و روان ـ با هم ـ تركیب شده است؛ همان گونه كه در سایر موارد استعمال این لفظ (عبد) در قرآن مجید[3]، مراد هویت و شخصیت خارجى است.

2. خداوند متعال در سوره ى نجم درباره ى این قضیه مى فرماید: (ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى)؛[4] دل آنچه را كه دیده تكذیب نكرد» اگر معراج فقط روحانى بود، سخن گفتن از تكذیب دل توسط دیده بى معنا بود.

و نیز در همین سوره مى فرماید: (ما زاغَ الْبَصَرُ وَ ما طَغى)؛[5] چشم (محمد در شب معراج) نلغزید و طغیان نكرد. این آیه نیز بیانگر آن است كه رؤیت (دیدن) در شب معراج به وسیله ى چشم عنصرى (بصر) بوده است.

این دو آیه و همچنین آیات دیگر سوره نجم، گواه بر این است كه معراج و سیر ملكوتى حضرت با همین بدن عنصرى و در حالت بیدارى انجام گرفته است.

3. اگر معراج حضرت جسمانى نبود، دلیلى براى نگرانى امّ هانى[6](همسر پیامبر) در انتشار این خبر و تكذیب قریش و نیز سست شدن ایمان ضعیف برخى از مسلمانان وجود نداشت.

4. در كتب تاریخ و احادیث، وسیله ى به معراج رفتن حضرت نیز تعریف و توضیح داده شده است كه حضرت با بُراق (وسیله اى سریع و داراى بال[7]) این سفر ملكوتى را انجام داده اند؛ و اگر معراج ایشان روحانى بود نیازى به چنین مركبى وجود نداشت.

ارزیابى معراج از دیدگاه علم

یكى از آرزوهاى بسیار دیرینه بشر، مسافرت به فضا و تسخیر كردن كرات دیگر بوده است كه این آرزوى دیرینه، امروزه ـ در قرن بیستم و پس از آن ـ توسط دانشمندان تحقق یافته و دانشمندان با ساختن فضاپیماها و آپولوها توانسته اند بشر را به كرات دیگر برسانند. امروزه وسایلى وجود دارد كه انسان مى تواند بر جاذبه ى زمین چیره شود و به فضا سفر كرده، كرات دیگر را تسخیر كند. با توجه به این نكته، مشكل هایى كه در سفر معراج در زمان هاى گذشته تصور مى شد؛ از قبیل نبودن وسایل نقلیه سریع امروزى، نبودن هوا، بى وزنى، گرماى سوزان، اشعه هاى خطرناك، امروزه با پیشرفت هاى علمى صورت گرفته، بر طرف شده است، و بشر توانسته است با نیروى علم بر آن ها پیروز شود و افرادى به كرات دیگر سفر كرده و مدت هاى طولانى در آن جا بمانند.

البته باید توجه داشت كه تحقق معراج با ویژگى هایى كه دارد، حتى با علوم پیشرفته امروزى نیز قابل دستیابى نیست و اساساً معجزه هاى پیامبران این گونه است؛ اما آنچه كه گفته شد، مى تواند استبعاد علمى این واقعیت را برطرف سازد. آنچه لازم است، محال نبودن معجزه از نظر عقلى است؛ همین اندازه كه از نظر عقل امكان پذیر باشد، بقیه ى مسائل با استمداد از قدرت خداوند حل شدنى است. وقتى انسان بتواند با نیروى محدودش بر مشكلات یاد شده، پیروز شود، آیا با نیروى نامحدود الهى نمى تواند بر آن مشكلات و حتى بالاتر از آن ها پیروز گردد؟!

بر همین اساس، برخى از دانشمندان نوشته اند كه مسأله ى معراج پس از پذیرفتن نبوت و رسالت حضرت، مطرح مى شود؛ یعنى زمانى كه ما رسالت او را پذیرفتیم و باور كردیم كه جبرئیل (امین وحى) در لحظه ى كوتاهى فاصله آسمان ها تا زمین را مى پیماید و پیام وحى را به حضرت مى رساند؛ بنابراین، پیمودن این فاصله امرى ممكن خواهد شد و براى حضرت نیز امر ممكن تحقق پیدا كرده است[8].

و نیز داستان آصف بن برخیا كه مقدارى از علم كتاب را دارا بود و توانست با یك چشم برهم زدن، تخت بلقیس را از یمن به شام ببرد.

این نمونه ها، شهادت مى دهد كه براى پیامبر اكرم- صلى الله علیه وآله - امرى ممكن تحقق یافته است، و خلاصه این كه معراج جسمانى، نه از نظر عقل غیر ممكن است و نه با علوم روز منافات دارد و اگر با دلیل هاى خاص خود، از آیات و روایات ثابت شود، جایى براى انكار آن از نظر علمى باقى نمى ماند.

--------------------------------------------------------------------------------

[1]. توصیه ها پرسش ها و پاسخ ها، جوادى آملى، ص74ـ75.

[2]. اسراء، 1.

[3]. مانند آیه 9 ـ 10 سوره علق و آیه 19 سوره جن.

[4]. نجم، 16.

[5]. نجم، 17.

[6]. برخى نوشته اند كه معراج پیامبر- صلى الله علیه وآله (- از خانه ام هانى ـ خواهر على- علیه السلام ـ) آغاز شده است و از امّ هانى در این باره نقل مى كنند: «پیامبر آن شب در خانه من بود، پس از نماز عشا خوابید و ما هم خوابیدیم؛ پس از سپیده دم او ما را بیدار كرد، وقتى نماز صبح را با او گزاردیم ماجراى معراج را برایمان تعریف كرد، من به او گفتم: این سخن را با مردم مگو كه تو را به دروغ نسبت و آزارت مى دهند، فرمود: «به خدا خواهم گفت» ر. ك: زندگانى محمد (ص)، ص265.

[7]. بحار الانوار، ج18، ص381.

[8]. تفسیر كبیر، ج20، ص148ـ147.

فاضل عرفان- مركز مطالعات و پژوهش هاي فرهنگي حوزه علميه
 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:10 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

معجزات پیامبر اسلام(ص)

یكی از دلایل بر نبوت پیامبران ارئه معجزه از ناحیه پیامبران الهی به پیروان و مردم می باشد.

پیامبر اكرم ـ صلّی الله علیه و آله ـ درراستای نبوت و پیامبری خویش دارای معجزات متعدد و گوناگونی بود كه در این نوشتار به برخی از آنها اشاره می شود:

1. از حضرت ابی عبدالله (جعفر بن محمد) صادق - علیهما السلام - در حدیثی نقل شده كه چون رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ متولد شد شیطان (از رفتن به) آسمانهای هفتگانه ممنوع شد؛ و شیاطین بواسطه ستارگان رانده شدند، و قریش گفتند: این (نشانه) بپا شدن رستاخیزی است كه از اهل كتاب می شنیدیدم آن را ذكر می كردند؛ تا این كه گفت: صبح آن روزیكه پیغمبر بدنیا آمده بود، بتها وارد صبح شدند در حالی كه همگی برو در افتاده بودند؛ و در آن شب ایوان كسری لرزید وچهارده كنگره اش افتاد، دریاچه ساوه فرو رفت، و آتشهای (آتشكده های فارس) كه از هزار سال پیش از آن خاموش نشده بود خاموش شد تا این كه گفت: وطاق كسری از میان شكست، و آن قسمت از دجله كه پر آب بود شكافته شد (چون سد شكست و آبی كه پشت سد جمع شده بود رخنه پیدا كرده سرازیر شد) ، و در آن شب نوری ازطرف حجاز انتشار یافته بعد درخشید تا بمشرق رسید، و تخت هیچ پادشاهی از پادشاهان دنیا باقی نماند مگر این كه صبح آن روز وارونه بود و پادشاه هم لال شده بود و آن روز نحن نمی گفت، و علم كاهنین گرفته شد و جادوی جادو گران نابود شد و هیچ شیطانی (از آنها كه رفیق كاهنین بودند و اخبار شد و جادوی جادوگران نابود شد و هیچ شیطانی (از آنها كه رفیق كاهنین بودند و اخبار را از آسمانها استراق سمع كرده بر فقاشان می رساندند) در عرب باقی نمانده مگر این كه از (رفتن نزد) رفیقش ممنوع شد تا این كه گفت: آمنه فرمود: بخدا قسم! فرزندم بهدنیا آمد و با دستش خودش را از (افتادن) زمین نگهداری كرد؛ و بعد سر طرف آسمان بلند كرده بآسمان نظر انداخت، سپس از او نوری بیرون آمد كه همه چیز برای او روشن شد؛ و در آن پرتو از گوینده ای شنیدم كه می گفت، تو سرور و آقای مردمان را بدنیا آوردی، او را محمد نام گذار.

2. برای ما حدیث نموده اند از براء بن عازب كه گفت: هنگامی كه رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ بكندن خندق امر نمود، سنگ بزرگ و سختی در عرض خندق برایش نمایان شد كه كلنك ها در آن كار نمی كرد، پس رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ آمد و چون آن را دید جامه اش را گذاشته؛ و كلنك به دست گرفته فرمود: بسم الله، و ضربتی بآن سنگ وارد آورده یك سوم آن را شكست؛ و فرمود الله اكبر، كلید های شام بمن داده شد؛ بخدا قسم! من كاخهای قرمز آنجا را الساعه می بینم، سپس برای مرتبه دوم ضربتی وارد آورده فرمود: بسم الله، و یك سوم دیگرش را شكافت و فرمود: الله اكبر، كلیدهای فارس بمن داده شد و بخدا قسم! من كاخ سفید مدائن را می بینم، سپس سومین بار ضربتی زده بقیه آن سنگ را شكست و فرمود: الله اكبر، كلید های یمن بمن داده شد؛ و بخدا قسم! من دروازه های صنعاء را از اینجا می بینم.

3. برای ما حدیث نمده اند از ابان بن عثمان از حضرت صادق جعفر بن محمد - علیهما السلام - كه فرمود: روزی رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله ـ به جابر بن عبدالله انصاری فرمود: تو باقی خواهی ماند تا فرزندم محمد بن علی بن حسین بن علی بی ابیطالب - علیهم السلام - را كه در توراه معروف به باقر است ملاقات كنی، پس هرگاه بدیدارش نائل شدی از من سلامش برسان؛ پس جابر خدمت علی بن الحسین - علیهما السلام - شرفیاب شده و محمد بن علی علیهما السلم را بصورت پسر بچه ای نزد ایشان دید؛ بوی گفت: ای پسر! رو بمن بیا پس روی آورد؛ بعد گفت: پشت بگردان پشت گردانید، جابر گفت، به پروردگار كعبه قسم! خصلتها و رفتار پیغمبر خدا صلّی الله علیه و آله ـ است، سپس رو بحضرت علی بن الحسین - علیهما السلام - نموده عرض كرد: این كسیت؟ فرمود: این فرزندم و صاحب این امر (امامت) پس از من محمد باقر - علیه السلام - است، جابر از جا بلند شده روی دو پای آنحضرت افتاده آنها را می بوسید و می گفت: ای فرزند رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ! جانم فدای جانت باد، سلام پدرت را بپذیر، رسول خدا ترا سلام می رساند، تا آخر حدیث.

4. برای ما حدیث كرده اند از عبد الله بن عباس كه گفت: رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ بعلی - علیه السلام - فرمود: یا علی! تو جانشین منی بر امتم؛ تا این كه فرمود: یا علی! مژده باد ترابشهادت چون تو پس از من مظلوم و كشته خواهی شد، علی - علیه السلام - گفت: یا رسول الله! آیا این عمل در سلامتی دین من خواهد بود؟ فرمود: یا علی! در سلامتی دین تست؛ تو هرگز لغزش پیدا نمی كنی و از راه بدر نمی روی، و اگر تو نبودی حزب خدا پس از من شناخته نمی شد.

5. برای ما حدیث كرده اند از ابان بن عثمان از حضرت ابی عبدلله جعفر بن محمد صادق - علیه السلام - كه فرمود: هنگامی كه پیغمبر خدا صلّی الله علیه و آله ـ بآسمان برده شد، تا این كه فرمود: چون صبح نمود بقریش فرمودند: خداوندی كه جلالش بزرگست مرا به بیت المقدس برده سیرم داد، و آثار پیغمبران را بمن نمود؛ و من در فلان موضع به قافله ای گذشتم كه شتری گم كرده بودند پس از آبشان آشامیده و باقیمانده اش را ریختم ابوجهل (بسایرین) گفت: فرصتی بدست شما آمد؛ از وی بپرسید چند پایه و چه مقدار قندیلهای آنجا بود: پس عرض كردند: یا محمد! اینجا اشخاصی هستند كه بیت المقدس رفته و دیده اند پس برای ما پایه ها و قندیلها و محرابهایش را تصیف كن آنگاه جبرئیل آمده و صورت بیت المقدس را مقابل صورتش آویزان نمود؛ آن حضرت شروع كرد به آنها از آن چه می پرسیدند خبر می داد، و چون بایشان خبر داد، گفتند: تا قافه وارد شود و از آن چه تو گفتی از آن ها سؤال كنیم،رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ بآنها فرمود: تصدیق این مطلب این است كه تا قافله با طلوع خورشید برای شما پدیدار می شود و جلو آنها شتری خاكستری است، پس چون صبح شد روی آورده و بگردنه می نگریستند، و می گفتند: الآن خورشید طلوع می كند، پس در آن میان كه آنها در این حالت بودند هنگامی كه قرص خورشید نمایان شد قافله نیز برای آنها نمودار شد كه در جلو شتری خاكستری داشتند، از اهل قافله راجع بآنچه رسول خدا صلّی الله علیه و آله ـ فرموده بود سؤال كردند، آنها گفت: بلی! چنین بوده است، شتر ما در فلان محل گم شد؛و ما آب را گذاشته بودیم و چون صبح نمودیم آن آب ریخته شده بود، و (متأسفانه) آن معجزه هم برای آنها جز سركشی نیفزود.

محمد بن احسن الحرالعاملي - اثبات الهداة، ترجمه احمد جنتي، ج1، ص 533

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:9 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

سیره‌ پیامبر(ص) در قرآن

مقدمه

تمام اعمال، حركات، سكنات، گفته‌ها و اوصاف نفسانی كه سیره و سنت پیامبر نام دارد از طریق وحی انجام می‌گیرد از این رو سنت و سیره آن حضرت حجت است لذا اطاعت از سنت و سیره اطاعت خداوند است، «مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ.»[1]

«كسی كه از پیامبر اطاعت كند همانا اطاعت خداوند را نموده» پس بنابراین این دو از هم جدا نخواهند بود، زیرا تمام آنچه را می‌گوید و انجام می‌دهد از ناحیه خداوند است و هرگز از روی هوی و هوس نمی‌باشد، «وَ ما یَنْطِقُ عَنِ الْهَوی إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحی[2]» «هرگز از روی هوای نفس سخن نمی‌گوید، آن‌چه آورده چیزی جز وحی نیست كه به او وحی شده است».

إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ ما یُوحی[3] «تنها از آنچه به من وحی می‌شود پیروی می‌كنم».

و چون پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برای همگان اسوه حسنه است «لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِی رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَهٌ حَسَنَهٌ»[4] پس باید آنچه كه رسول خدا برای مردم آورده بگیرند و اجراء كنند و آنچه كه از او نهی كرده از آن خودداری كنند. «ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا[5] آنچه كه پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برای شما آورده بگیرید و آنچه را كه از آن نهی كرده از آن خودداری كنید.»

این آیه سند روشنی برای حجت بودن سنت رسول خدا[6] ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ است.

سیره پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ در قرآن:

در مورد سیره پیامبر در قرآن بحث گسترده‌ای است ولی ما به طور اختصار به بعضی از آنها اشاره می‌كنیم.

دلسوزی نسبت به امت

پیامبر اسلام ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ آن قدر به مردم دلسوز بود و در صدد هدایت آنها بود كه قرآن آن را این گونه بیان می‌فرماید: فَلَعَلَّكَ باخِعٌ نَفْسَكَ آثارِهِمْ إِنْ لَمْ یُؤْمِنُوا بِهذَا الْحَدِیثِ أَسَفاً[7] «شاید جان خود را به دنبال آنان، آن گاه كه به رسالت تو ایمان نیاوردند از دست بدهید.»

این نشان از سعی و تلاش پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ اسلام در هدایت امت دارد تا جایی كه خود را در پرتگاه هلاكت و نابودی قرار می‌دهد تا مردم را هدایت كند.

خداوند در جوابی دیگر می‌فرماید: وَ لا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لا تَكُنْ فِی ضَیْقٍ مِمَّا یَمْكُرُونَ[8]

«بر گستاخی كافران غم مخور، از مكر و حیله آنان بر خود فشار مده.»

باز می‌فرماید: فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَراتٍ إِنَّ اللَّهَ عَلِیمٌ بِما یَصْنَعُونَ[9].

«جان خود را به اثر شدت تأسف به آنها از دست مده، خداوند از آنچه كه انجام می‌دهند آگاه است.»[10]

تطهیر امت اسلامی

یكی از كارهای پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ این است كه پاك كننده‌ی امت اسلامی است چون خود پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ پاك و مطهر است لذا امت خویش را پاك می‌كند: خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَهً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیهِمْ بِها وَ صَلِّ عَلَیْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ[11].

«از اموال آنها صدقه‌ای بگیر تا به وسیله آن پاك و پاكیزه‌شان سازی برایشان دعا كن زیرا دعای تو برای آنان آرامش است».

زكات در این آیه به عنوان نمونه است بلكه تمام دستورات اسلامی پاك كننده است و كسی كه دستورات اسلام را انجام بدهد به طهارت می‌رسد، در آیه فوق به پیامبر خطاب می‌كند و این جمله «تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیهِمْ» وصف صدقه نیست زیرا ضمیر «ـها» به صدقه بر می‌گردد لذا ضمیر «هم» در تطهیرهم و تزكیهم به صدقه بر نمی‌گردد با این توصیف معنای آیه این می‌شود كه ای پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ : با گرفتن صدقه از اموال مردم، خود مردم را تطهیر و تزكیه می‌كنی.[12]

رأفت و رحمت پیامبر نسبت به امت

رحمت و رأفت از صفات خداوند است، رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ مظهر این صفات الهی است وقتی كه پیامبر از مردم زكات می‌گیرد خداوند به پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ می‌فرماید: وَ صَلِّ عَلَیْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ[13] «ای پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برای آنها دعا كن زیرا تو برای آنها آرامشی» یعنی ای پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ تو برای آنها رحمتی پس برای آنها دعا كن كه دعای مستجاب تو باعث آرامش و سكون آنها خواهد شد اگر چه دادن زكات جز وظایف آنها است ولی باز پیامبر با آن رحمت خاصه‌ی خود برای آنها دعا می‌كند.

لذا خود پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ می‌فرماید: حیوتی خیره لكم و مماتی خیر لكم، «زندگی من برای شما خیر است مرگ من هم برای شما خیر است»[14]

صبر و پایداری

خداوند مسئولیت سنگینی بر عهده پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ قرار داد و فرمود: إِنَّا سَنُلْقِی عَلَیْكَ قَوْلاً ثَقِیلاً[15] «ما گفتار سنگینی را به تو وحی می‌كنیم» این گفتار سنگین همان رسالت جهانی اوست، انجام این رسالت جز با پایداری و صبر ممكن نیست لذا خداوند در آیات متعددی پیامبر را دعوت به صبر می‌كند: وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ[16] «برای خدا در طریق ابلاغ رسالت بردبار باش». فَاصْبِرْ كَما صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لا تَسْتَعْجِلْ[17] «بسان پیامبران اولوا العزم صبر نبی و درباره آنها عجله نكن.[18]»

فَاسْتَقِمْ كَما أُمِرْتَ وَ مَنْ تابَ مَعَكَ[19] «بنابراین همان گونه كه فرمان یافته‌ای استقامت كن هم‌چنین كسانی كه با تو به سوی خدا آمده‌اند».

پس از این استفاده می‌شود این سیره پیامبر كه همان صبر و استقامت باشد وظیفه پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ به تنهایی نیست بلكه تمام كسانی كه از شرك به سوی ایمان باز گشته‌اند باید استقامت كنند.[20]

سراسر زندگی پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ با مشكلات همراه بوده آزارها و اذیت‌های فراوانی نسبت به او روا می‌داشتند او را سنگباران می‌كردند، محاصره اقتصادی و سیاسی می‌نمودند، یاران او را شكنجه و آزار می‌دادند او را دشنام و ناسزا می‌گفتند، گاه او را دیوانه و گاه ساحر خطاب می‌كردند اما در تمام این مشكلات شیكبا و صبور بود و با این صبر و استقامتی كه پیشه كرد باعث شد كه دینش جهانی شود، باید مؤمنین به این سیره اقتداء كنند لذا علی ـ علیه السّلام ـ می‌فرماید: صبر و استقامت به رهبران و زمامداران واجب است زیرا خداوند به پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ فرمود: فَاصْبِرْ كَما صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ، همین معنا را بر دوستان و اهل طاعتش نیز واجب كرده است چرا كه می‌گوید برای شما در زندگی پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ اسوه نیكویی است.[21]

خلق عظیم

« وَ إِنَّكَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ[22]، تو بر خویی بزرگ هستی» یكی از ویژگیهای برجسته پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ در قرآن به عنوان خلق عظیم است «فَبِما رَحْمَهٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ،[23] در پرتو رحمت الهی در برابر تندی آنها نرم شدی و اگر خشن و سنگدل بودی از اطراف تو پراكنده می‌شدند.»

قرآن در جایی دیگر رمز نفوذ در مردم و قیام به وظایف رهبری را این گونه بیان می‌فرماید: وَ لا تَسْتَوِی الْحَسَنَهُ وَ لاَ السَّیِّئَهُ ادْفَعْ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَكَ وَ بَیْنَهُ عَداوَهٌ كَأَنَّهُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ[24] «هرگز بدی و نیكی یكسان نیست بدی را با نیكی دفع كن، تا دشمنان سرسخت مانند دوستان گرم و صمیمی شوند»

در طول زندگی پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ موارد بسیار زیادی از عطوفت و مهربانی رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ چه در رابطه با كفار و چه در رابطه با مسلمین وجود دارد، مثلاً در جریان فتح مكه، با آن كه مردم مكه پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ را انواع آزارها و اذیت‌ها كرده بودند امّا وقتی پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ مكه را فتح كرد همه را آزاد كرد و فرمود: امروز بر شما سرزنشی نیست خدا همگان را می‌بخشد.[25]

گذشت و عفو

یكی از خصایص رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ گذشت و عفو بود، هر چه انسانیت انسان قوی‌تر شود گذشت او بیشتر خواهد شد و چون پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ رحمه للعالمین است و از طرفی هم خدا می‌دانست كه پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ اهل چنین خصلتی است لذا او را امر به عفو و گذشت كرد و فرمود: فاعف عنهم[26] «پس از آنها در گذر» پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ آن قدر اهل گذشت بود كه حتی از وحشی كه قاتل عمویش حمزه بود گذشت كرد زیرا وقتی كه وحشی مسلمان شد پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ از او سؤال كرد تو وحشی هستی؟ گفت: بله، فرمود: عمویم حمزه را چگونه كشتی؟ او جریان را برای پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ گفت، پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ گریه كرد و او را بخشید.[27]

مشورت كردن

مشورت كردن با مردم یك نوع احترام به رأی آنها است، اگر شخصی با كسی مشورت كند در حقیقت با این كارش به او می‌فهماند كه تو دارای معرفت و عقل و درایت هستی كه من با تو مشورت می‌كنم و اگر انسانی همچون پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ چنین كاری را انجام دهد باعث افتخار آن طرف می‌شود لذا خداوند به پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ می‌فرماید با مردم مشورت كن، وَ شاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ[28] «در كارها با آنها مشورت كن» لذا پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ در جنگ بدر با اصحابش مشورت كرد[29].

عبادت

وقتی كه آیه: یا أَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ إِلاَّ قَلِیلاً[30] «ای جامه به خود پیچیده شب را جز كمی به پا خیز» بر پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ نازل تمام شب را به عبادت می‌پرداخت تا این كه پاهایش متورم شد لذا خداوند فرمود: ما انزلنلا علیك القرآن لتشقی[31]؛ ما قرآن را بر تو نازل نكردیم كه به زحمت افتی» و همچنین خداوند به پیامبرش فرمود: «فاقروا ما تیسر من القرآن؛[32] اكنون آنچه كه برای شما میسر است قرآن بخوانید». معلوم می‌شود كه خداوند به پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ دستور می‌دهد كه به خودش آسان بگیرد.[33]

یا این كه نماز شب كه برای دیگران مستحب است اما بر پیامبر واجب است، «و من اللیل فتهجد به نافله لك؛[34] مقداری از شب را برخیز و نماز بخوان كه آن خاص تو است». و به خاطر این عبادت بود كه به مقام محمود رسید «عسی ان یبعثك ربك مقاماً محموداً؛[35] امید است كه پروردگارت تو را به مقام در خور ستایش برانگیزد».

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . سوره‌ی نساء، آیه 218.

[2] . سوره‌ی نجم، آیه 2 و 3.

[3] . سوره‌ی انعام، آیه 50.

[4] . سوره‌ی احزاب، آیه 21.

[5] . سوره‌ی حشر، آیه 7.

[6] . تفسیر نمونه، ناصر مكارم شیرازی، (قم، دارالكتب الاسلامیه، چاپ 12، 1374)، ج 23، ص 507.

[7] . سوره‌ی كهف، آیه 6.

[8] . سوره نمل، آیه 70.

[9] . سوره‌ی فاطر، آیه 80.

[10] . منشور جاوید، جعفر سبحانی، (قم، دفتر انتشارات اسلامی، چ 1، 1367)، ج 6، ص 245.

[11] . سوره‌ی توبه، آیه 103.

[12] . تفسیر المیزان، محمد حسین طباطبائی، (بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات، چ 2، 1391 هـ)، ج 9، ص 377.

[13] . سوره‌ی توبه، آیه 103.

[14] . ناسخ التواریخ (زندگانی پیامبر)، محمد تقی سپهر، (تهران، انتشارات اساطیر، چ 1، 1381)، ج 4، ص 1813.

[15] . سوره‌ی مزمل، آیه 5.

[16] . سوره‌ی مدثر، آیه 7.

[17] . سوره‌ی احقاف، آیه 35.

[18] . جعفر سبحانی، منشور جاوید، همان، ص 249.

[19] . سوره‌ی هود، آیه 112.

[20] . تفسیر نمونه، همان، ج 9، ص 257.

[21] . همان، ج 21، ص 384.

[22] . سوره‌ی قلم، آیه 40.

[23] . سوره‌ی آل عمران، آیه 159.

[24] . سوره‌ی فصلت، آیه 34 ـ 35.

[25] . منشور جاوید، همان، ص 245.

[26] . سوره‌ی آل عمران، آیه 159.

[27] . محمد فی القرآن، سید رضی صدر، (قم، مركز انتشارات اسلامی، چ 2، 1420)، ص 78.

[28] . سوره‌ی آل عمران، آیه 159.

[29] . محمد فی القرآن، همان، ص 81.

[30] . سوره‌ی مزمل، آیه 1 ـ 2.

[31] . طه، آیات 1 ـ 2.

[32] . مزمل، آیه‌ی 20.

[33] . محمد فی القرآن، همان، ص 109.

[34] . اسراء، 79.

[35] . اسراء، 79.

حسن منتظري- مركز مطالعات و پژوهش‌هاي فرهنگي حوزه علميه



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:9 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

گسترش اسلام در جزیره العرب

پس از فتح مكه، اسلام به سرعت در قبایل عربی و اعرابی گسترش یافت. اكنون قریش كلیددار حرم، مسلمان شده و مكه تحت سلطه‌ی اسلام درآمده بود. بنابراین، دیگر مشكل چندانی بر سر راه اسلام قبایل عرب وجود نداشت. رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ به بسیاری از سران قبایل مهم نامه نوشت و از آنان خواست تا اسلام را بپذیرند. بسیاری دیگر نیز تسلیم شرایط جدیده شد و عجالتاً اسلام را پذیرفتند. از برخی از آنها نقل شده كه وقتی دیدیم همه‌ی «وفود عرب» مسلمان می‌شوند، ما نیز برای این كه به عنوان «شرّ العرب» شناخته نشویم مسلمان شدیم.[1]

روشن بود كه این اظهار اسلام به هیچ روی، و به تمام معنا، صادقانه نبود بلكه بیشتر قبایل با ملاحظه‌ی اوضاع جدید، چاره‌ای جز پذیرش اسلام نداشتند. از سوی دیگر، رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ نیز «اسلام» آنان را متفاوت از «ایمان» دانست. آنها فقط «تسلیم» شده بودند اما هنوز اسلام را از عمق «عقل» نشناخته، و طبعاً از عمق «قلب» نپذیرفته بودند.[2] ارتداد بسیاری از قبایل پس از رحلت رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ، شاهد عدم اعرابِ نو مسلمان بود. سال نهم، سال «اسلام قبایل» یا سال «وفود»؛ یعنی حضور نمایندگان قبایل در حضور پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برای اظهار اسلام بوده است. سیره‌نویسان فهرستی از این «وفدها» یا «هیأت‌های نمایندگی» را نوشته‌اند. مناسب است كه از برخی از آنها وب رخورد اجمالی‌شان آنان با پیامبر ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ داشته باشیم.

یكی از مهمترین وفدها، وفد ثقیف است. ثقیف ساكنان شهر طائف بودند كه در برابر حمله‌ی رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ به شهرشان مقاومت كردند. اكنون پس از گذشت چند ماه، چاره‌ای جز پذیرش اسلام نداشتند. آنان احساس می‌كردند تا وقتی اسلام را نپذیرند یك قدم از حصن خود نمی‌توانند خارج شوند،[3] بنابراین باید هر چه زودتر در این باره فكری بكنند. پیش از آنكه سران ثقیف تصمیمی بگیرند، عروه بن مسعود مسلمان شد و به طائف بازگشت، اما چون هنوز جوّ بر ضد او بود، بدست ثیفان كشته شد. با عوض شدن شرایط، هیئتی از ثقیف راهی مدینه شد كه مسئولیت آن به عهده عبدیالیل بن عمرو بود. آنان ابتدا به سراغ مغیره بن شعبه كه از ثقیف بود رفتند و او آنان را نزد رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برد. حضرت از آمدن آنها اظهار مسرّت كرده از ایشان به گرمی استقبال كرد. برای آنها چند خیمه در كنار مسجد زدند و آنها، چند روزی شاهد اقامه‌ی نماز توسط اصحاب رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ و تهجد شبانه‌ی آنان بودند.

پس از آن، وفد ثقیف چند شرط برای پذیرش اسلام مطرح كرد.[4] یكی حلال شمردن «زنا» بود كه رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ سخت با آن مخالفت كرده آیه‌ی «ولا تَقْرَبُوا الزِّنا إنّه كانَ فاحِشَهً و ساءَ سَبیلاً»[5] را تلاوت فرمودند. پس از آن درخواست حلال شمردن «ربا» را كردند كه حضرت با خواندن آیه‌ی 278 سوره‌ی بقره فرمودند كه خداوند آن را تحریم كرده و راهی برای حلال شمردن آن وجود ندارد. درباره‌ی «شراب» همین درخواست را مطرح كردند كه آیه‌ی 90 سوره‌ی مائده تلاوت شد. پس از آن اجازه خواستند تا بت آنان كه نامش «الربّه» بود بر جای بماند. حضرت فرمود: باید منهدم شود. آنان گفتند: دست كم تا سه سال یا دو سال باقی باشد، اما رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ نپذیرفت. آنها گفتند: مشكل زنان و كودكان و عوام مردمند، اگر بناست منهدم شود این كار نباید به دست ما باشد. رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ پذیرفت تا كسانی را برای هدم «الربّه» به طائف بفرستند.[6] بدین ترتیب طائف یكی دیگر از شهرهای حجاز، اسلام را پذیرفت.

رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ به رؤسای قبایل كه متنفذان قوم و قبیله خویش بوده و در خصلت‌های انسانی برگزیدگان قبیله بودند، احترام می‌گذاشتند. این هیأت‌ها معمولاً شامل همین رؤسای قبیله می‌شد. آنان چند روزی را كه در مدینه می‌ماندند میهمان رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ بودند، هنگام رفتن نیز، رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ هدایایی كه گاه عبارت از طلا و فضّه[7] بود به آنان تقدیم می‌كرد. این احترام سبب می‌شد تا به رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ علاقمند شوند. كافی بود رئیس یك قبیله اسلام را بپذیرد، به دنبال آن، گاه تمام افراد قبیله اسلام را می‌پذیرفتند.[8] برخی از قبایل چندان مورد لطف رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ قرار می‌گرفتند كه مرتعی به آنان واگذار می‌گردید طبیعی بود كه پس از آن هیچ كس حق تجاوز به مرتع آنان را نداشت. به عنوان مثال آن حضرت منطقه‌ی عقیق را به طایفه‌ی بنی عقیل داده و سند آن را چنین نوشتند:

«به نام خداوند بخشنده‌ی مهربان. این آن چیزی است كه محمد رسول خدا، به سه تن به نام‌های ربیعه، مطرَّف و انس بخشیدند. عقیق را به آنان دادند تا آنگاه كه نماز بگذارند، زكات بپردازند و مطیع باشند.[9] در متنی كه برای وائل بن حجر از وفد حَضْر موت نوشته شد آمده است كه من آنچه را از اراضی و حصون در دست توست، برای تو قرار دادم...[10] اقطاع یا بخشیدن زمین به رؤسای طوایف درباره‌ی بسیاری از وفدها مطرح شده و نامه‌هایی به عنوان سند نوشته شد كه تا قرن‌ها نزد خاندان آنان باقی ماند. در وفد بنی البكّاء، معاویه بن ثور از رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ خواست تا دست تبرك خویش را بر سر فرزند او بگذارد و رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ چنین كرد. بعدها نواده‌ی او در شعری گفت:

و أبِیَ الّذی مَسَحَ الرّسولُ برأسه و دعا لَه بالخَیر و البَرَكات[11]

در همین وفد، شخصی با نام «عبد عمرو» بود كه رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ نامش را «عبدالرحمن» گذاشت.[12] آنها جدای از گرفتن زمین و هدایا، «امانی» از رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ می‌گرفتند. این «امان» بدان معنا بود كه قبیله‌ی مذكور مسلمان شده و از حقوق مسلمانی برخوردار است. جامعه‌ی مسلمان نباید به آنان حمله كرده، بلكه باید در برابر تجاوز دیگران از آنها دفاع كنند. رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برای شماری از این وفدها احكام و شرایع اسلام را می‌نگاشتند.[13]

وفد خَثْعَم از آن حضرت خواستند تا كتابی برای ایشان بنویسد تا از آنچه در آن آمده، پیروی كنند.[14] یكی از وفدها وفد عامر بن صعصعه بود. عامر بن طفیل رئیس مزبور در همان آغاز گفت: ای محمد! اگر من مسلمان شوم چه چیز در برابر می‌گیرم. حضرت فرمود: «لك ما للمسلمین و علیك ما علی المسلمین» شما از حقوق یك مسلمان برخورداری. عامر گفت: آیا رهبری پس از خود را به من واگذار می‌كنی؟ حضرت فرمود: «الامْر لِلّه یَضَعُهُ حَیْثُ یَشاء». عامر بازگشت و ایمان نیاورد، اما پس از هلاكت عامر قبیله‌ی بنی‌عامر اسلام آورند.

یكبار نیز وفد بنی‌تغلب مشتمل بر شماری مسلمان و مسیحی آمد كه قرار شد مسیحیان بر نصرانیت خود بمانند، اما از مسیحی كردن فرزندان‌شان اجتناب كنند.[15] در مدتی كه رؤسای وفود در مدینه می‌ماندند به دستور رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ برخی از اصحاب به آنان قرآن و احكام شریعت تعلیم می‌كرد.[16] آن حضرت هر كس كه بهتر قرآن می‌خواند به امامت جماعت آنان می‌گماشت. زمانی وفد جعفی به مدینه آمد؛ این طایفه خوردن «قلب» را جایز نمی‌دانستند حضرت فرمود: اسلام شما جز به خوردن قلب كامل نمی‌شود،‌ آنگاه قلب بریان شده‌ای را برای آنان آوردند. سلمه بن یزید، رئیس طایفه‌ی مزبور در خوردن اولین لقمه، دستش لرزید، حضرت فرمود: بخور و او خورد و البته در شعری گفت: در حالی كه انگشتان دستم می‌لرزید از روی كراهت قلب را خوردم:

علی أنی أكلتُ القلب كَرْهَا و تُرْعَدُ حین مسَّتْهُ بنانی[17]

یكی از اقدام رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ نصب رئیس برای قبیله بود كه البته از میان همان متنفذان انتخاب می‌شد. بدین ترتیب رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ حاكمیت سیاسی مدینه را بر قبایل تحكیم می‌كردند. در نامه‌ای كه برای وفد جعفی نوشته شده به صراحت تعبیر «انی استعملك علی مُرّان و...» درباره‌ی قیس بن سلمه آمده است.[18] درباره‌ی صُرَد بن عبدالله اَزْدی نیز آمده كه رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ او را حاكم مسلمانان طایفه‌ی خود كرد.[19] قیس بن حُصَین نیز از طرف رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ حاكم قبیله بنی‌حارث بن كعب شدند.[20]

مسأله‌ی امنیت قبایل كه پیش از این بدان اشاره كردیم، برای آنها بسیار مهم بود، آنان طالب «امان الله و امان رسوله» و «ذمّه الله و ذمّه رسوله» بودند. در نامه‌هایی كه برای قبایل نوشته شده معمولاً به این مسأله توجه شده است. تعبیر دیگری كه در نامه‌ای جهت «وفد مَهره» نوشته شده آمده است كه «هذا كتابٌ من محمد و رسول اللهِ لمَهْری بن الابیض علی من آمَنَ به من مَهْره ألاّ یُؤْكَلُوا... و من آمن به فله ذمّه الله و ذمّه رسوله.»[21] درباره‌ی «لا یؤكلوا» آمده است كه: «ای لایغار علیهم»؛ یعنی نباید مورد غارت قرار گیرند. این همان امنیتّی است كه قبایل نو مسلمان خواستار آن بودند.

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . طبقات الكبری، ج1، ص338.

[2] . خداوند در آیه‌ی 14 در سوره‌ی حجرات درباره‌ی اعراب نو مسلمان فرمود: «اعراب بادیه نشین گفتند: ایمان آوردیم. بگو: ایمان نیاورده‌اند، بگویید كه تسلیم شده‌ایم، و هنوز ایمان در دلهایتان داخل نشده است. و اگر خدا و پیامبرش را اطاعت كنید از ثواب اعمال شما كاسته نمی‌شود، زیرا خدا آمرزنده مهربان است. مؤمنان كسانی هستند كه به خدا و پیامبر او ایمان آورده‌اند و شك نكرده‌اند و با مال و جان خویش در راه خدا جهاد كرده‌اند. اینان راستگویانند.»

[3] . المغازی، ج3، ص962.

[4] . و این همان است كه خداوند در سوره‌ی حجرات از آن یاد می‌كند كه با اسلام آوردن بر سر رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ منت می‌گذارند، در حالی كه خدا به خاطر هدایت‌شان، باید بر ایشان منت بگذارد.

[5] . اسراء/32.

[6] . المغازی، ج1، صص968 ـ 963؛ امتاع الاسماع، ج1، صص493 ـ 490؛ طبقات الكبری، ج1، صص313 ـ 312.

[7] . طبقات الكبری، ج1، ص298 (وفد ثعلبه).

[8] . همان، ج1، ص299 (وفد سعد بن بكر).

[9] . همان، ج1، ص302، و نكـ : صص317، 319، 324.

[10] . همان، ج1، ص349.

[11] . همان، ج1، ص304؛ و نمونه‌ی دیگر ص310 و نمونه‌ی دیگر 350؛ بدین ترتیب معلوم می‌شود كه مسح كردن و تبرك به رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ جستن سنت مرسوم بوده است.

[12] . یكی دیگر نیز نامش «غاوی بن عبدالعزی» بود كه رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله و سلّم ـ او را «راشد بن عبدالله» نامیدند؛ طبقات الكبری، ج1، ص308 كما این كه طایفه‌ی «بنوغیان» را «بنورَشْدان» خواندند؛ طبقات، ج1، ص333.

[13] . طبقات الكبری، ج1، ص307.

[14] . همان، ج1، ص348.

[15] . طبقات الكبری، ج1، ص316.

[16] . طبقات الكبری، ج1، ص324.

[17] . طبقات الكبری، ج1، صص325 ـ 324؛ اینان نتوانستند طاقت بیاورند مخصوصاً وقتی در مورد مادرشان از حضرت سئوال كردند كه علی‌رغم خیرات فراوان دخترانش را زنده بگور كرده جایگاهش كجاست؟، حضرت فرمودند: جهنم است؛ آنها در بازگشت مرتد می‌شدند.

[18] . همان، ص325 و نیز نكـ : ص327.

[19] . همان، ج1، ص338.

[20] . همان، ج1، ص340.

[21] . همان، ج1، ص355.

رسول جعفريان ـ تاريخ سياسي اسلام (سيره‌ رسول خدا)، ص653

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:8 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اقدامات پیامبر(ص) پس از فتح مكه

بعد از اینكه رسول خداـ صلی الله علیه و آله ـ بر‌ شهر مكه مسلّط شده و سپاه اسلام وارد مكه گردید رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ فرمود تا اعلام كنند، هر كس در خانه خویش مانده یا به مسجد رفته و یا به خانه ابوسفیان برود در امان باشد. این اقدام برای آن بود كه جماعت مشركان متلاشی شده و مقاومتی صورت نگیرد. ابوسفیان نیز با فریادهای خود مردم را به رفتن به خانه‌هایشان تحریك كرده و از آنان می‌خواست تا سلاح خویش را رها كنند. می‌توان گفت كه شكسته شدن مقاومت و شخصیت ابوسفیان پیش از فتح مكه، بیش از نیمی از قوای باقیمانده قریش را بر باد داد.

رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ تنها خون چند زن و مرد مشرك را هدر اعلام كرد و از مسلمانان خواست كه هر كجا آنان را دیدند ـ و او چسبیده به پرده كعبه بود ـ بكشند. این افراد عبارت از چند زن و مرد بودند: (از مردان) عكرمه بن ابی جهل (بخشوده شد) ، هبّار بن أسود (بخشوده شد) ، عبدالله بن سعد بن ابی سرح (بخشوده شد) كه زمانی مسلمان و بعداً مرتد شده بود، مقیس بن صبابه لیثی (در فتح مكه كشته شد) ، حویرث بن نُقَیذ،[1] عبدالله بن هلال ادرمی؛ و وحشی قاتل حمزه (بخشوده شد) ، حویرث بن الطلال خزاعی (به دست امام علی ـ علیه السّلام ـ كشته شد).[2] از زنان: هند دختر عَتَبه بن ربیعه و همسر ابوسفیان (بخشوده شد) ، ساره مولای عمرو بن هاشم، دو كنیز آوازه‌خوان با نام قُرَیبه و قرینا (یكی كشته شد، دومی گریخت و بعد تأمین گرفت) [3] كه متعلق به ابو اخطل نامی بودند.[4] عبدالله بن اخطل نیز در شمار اینان بود. او در حالی كه بر پرده‌های كعبه آویزان بود، كشته شد. او از مرتدان بود اشعاری در هجو اسلام می‌سرود و به كنیزانش می‌داد تا آن اشعار را به غنا بخوانند. در تمام سیره پیامبر می‌توان شاهد بود كه حضرت از نقش تبلیغات‌چیان دشمن غفلت نكرده و در هر فرصتی كه به دست آورده آنان را از میان برداشته است. بازی با احساسات مردم در تحریك آنها بر ضد حق، از نظر آن حضرت، امری خطیر و غیر قابل بخشایش بوده است.

در فتح مكه، حضرت فاطمه ـ سلام الله علیها ـ نیز حضور داشتند. وقتی ام هانی خواهر امام علی ـ علیه السّلام ـ دو تن از مشركان پلید را پناه داد، امام در خانه او قصد كشتن آن دو را كرد، اما ام هانی مانع شد. پس از آن برای گرفتن پناه نزد رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ می‌آمد كه فاطمه زهرا ـ سلام الله علیها‌ ـ را دید و از برخورد برادرش گله كرد. ام هانی می‌گوید: فاطمه ـ سلام الله علیها ـ از برادرم بر من سخت‌گیرتر بود و به من گفت: آیا تو هم مشركان را پناه می‌دهی؟ رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ درخواست ام هانی را پذیرفت و به احترام او فرمود: كسی را كه تو پناه دهی من نیز پناه می‌دهم.[5]

زمانی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ برای نخستین بار به مسجد وارد شد، تكبیر می‌گفت و مسلمانان همراه آن حضرت تكبیر می‌گفتند. شماری از مشركان نیز بر فراز كوه‌ها این صحنه را نظاره می‌كردند. آن حضرت طواف كرد، پس از آن به سراغ بت‌ها رفت. در آن زمان سیصد و شصت بت در كعبه بود كه بزرگترین آنها هُبَل بود. حضرت یك یك با چوب دستی خود بر آنها زد و با خواندن آیه «جاءَ الحَقُ وَ زَهَقَ الباطِل»[6] آنان را بر زمین انداخت.[7] آن حضرت پس از ورود به كعبه تصویر‌هایی كه از ابراهیم ـ علیه السّلام ـ و ملائكه و مریم بر دیوارهای درون كعبه بود محو كردند.[8]

به گزارش ابن ابی شیبه و حاكم نیشابوری، از امام علی ـ علیه السّلام ـ نقل شده است كه فرمود: (در آن روز) رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ مرا برداشت تا كنار كعبه برد، آنگاه فرمود: بنشین؛ من نشستم؛ آن وقت حضرت بر شانه من قرار گرفت و فرمود: برخیز؛ زمانی كه ضعف مرا دربرخواستن دید فرمود: بنشین، من نشستم، آن حضرت از شانه من پایین آمد، خود نشست و فرمود: بر شانه من بالا برو؛ بر شانه آن حضرت قرار گرفتم و آن حضرت برخاست فرمود: بت بزرگ قریش را بینداز. آن بت از مس ساخته شده و اطراف آن به میخ‌هایی در زمین بسته شده بود. آن حضرت فرمود كه آن را تكان داده و بر زمین اندازم، و من چنین كردم![9] در نقلی آمده است كه هر اثری كه از شرك در مسجد بود آنرا شسته و یا محو كردند.[10] آن حضرت پس از طواف سر خویش را با آب زمزم شست. مسلمانانی كه اطراف آن حضرت بودند، قطرات آبی كه از سر آن حضرت می‌ریخت به قصد شرك برداشته به خود می‌مالیدند.[11]

رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ خطبه‌ای در مكه ایراد كرد و ضمن بیان نصایح اخلاقی چند، به ضمیمه برخی از احكام شرعی، بخش اصلی سخنان خود را به بیان تفاوت حقوق میان مردم پیش از اسلام و پس از آن اختصاص دارد. آن حضرت یادآور شد كه مردم باید گذشته را فراموش كرده و زندگی نوینی را آغاز كنند:«هر رِبایی كه در جاهلیت معمول بوده (طلب هایی كه ثروتمندان رباخوار داشتند( و هر خون و مالی كه بر عهده داشتید، و همه افتخارات گذشته را زیر پایم گذاشتم، مگر مسأله پرده‌داری كعبه و سقایت حجاج. در برابر قتل خطایی باید دیه ـ‌كه عبارت از صد شتر كه چهل عددش باردار باشدـ پرداخته شود. خداوند كبر و نخوت جاهلی و تكبر به پدران را از بین برده است؛ همه شما فرزندان آدم هستید و آدم از خاك بود و برترین شما، با تقواترین شماست. حرمت مكه برای همیشه محفوظ است و جز یك ساعت برای من، برای هیچ كس حلال نشده و نخواهد شد. آنگاه پس از بیان چند حكم خانوادگی فرمودند: مسلمان برادر مسلمان است و مسلمانان در برابر دیگران ید واحده هستند، خونشان باید محفوظ بماند. دور و نزدیك آنان برابرند و نیرومند و ناتوان در جنگ به تساوی غنیمت می‌گیرند.[12] سپس شمار دیگری از احكام خانوادگی را نیز بیان كردند.

زمانی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ خطبه را خواند، مسلمانی با نام ابوشاه از آن حضرت خواست تا آن چه را فرموده برای او بنویسد. حضرت فرمودند تا برای او نوشته شود.[13] این خبر یكی از دلایل جواز نوشتن حدیث است كه در صدر اسلام كسانی از نگاشتن آن منع كردند و اندكی بعد، دیگران، به نمایندگی آنها، احادیث مجعولی ارائه كردند كه خود پیامبر ـ صلی الله علیه و آله ـ اجازه نوشتن حدیث را نداده است!

هنگامی كه بلال بر بام كعبه اذان گفت، قریش بر روی كوهها و اندرون خانه‌ها صدای او را شنیدند و هر كدام با سخنی اظهار تأسف كردند. جویریه دختر ابوجهل گفت: به جانم سوگند! خدا نام محمد را برافراشت. ما به هر حال نماز می‌گزاریم، اما به هیچ روی كسانی كه عزیزان ما را كشته‌اند دوست نداریم. حارث بن هشام گفت: ای كاش مرده بودم و چنین روزی را ندیده بودم! ابوسفیان نیز نزد آنان بود. او گفت: من چیزی نمی‌گویم، زیرا اگر سخنی بگویم همین ریگها محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ را خبر خواهند كرد.[14] تجربه ثابت كرده بود كه بسیاری زا سخنان پنهانی منافقان و مشركان در آیات قرآن منعكس شده و افشا شده بود.

در آن روز، رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ جز مواردی كه پیشتر برشمردیم ـ‌و كسانی از همانها نیز بخشوده شدندـ از همه مشركان در گذشت. وحشی قاتل حمزه، هند، مثله كننده حمزه و عبدالله بن سعد بن ابی سرح مرتد (و این آخری به اصرار عثمان) [15] نیز بخشوده شدند. كسانی چون سهیل بن عمرو كه در همه جنگهای قریش بر ضد مسلمانان حضور داشت و در حدیبیه بدترین برخوردها را با رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ كرد، مورد عفو قرار گرفت. شعار پیامبر ـ صلی الله علیه و آله ـ در برابر مردم مكه آن بود كه«الاسلام یَجُبُّ ما قبله[16]» به محض این كه كسی اسلام را پذیرفت، از گذشته چشم پوشی می‌شود.

عنوان «طلقا» یا آزاد شدگان، كه اشاره به قریشیانی بود كه در اصل اسیر پیامبر بودند، اشاره به منت رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بر آنها در آزاد كردنشان داشت. این نام«سوء پیشینه‌ای» بود كه همیشه در پرونده مشركان لجوج مكه كه در فتح این شهر یا سال بعد از آن مسلمان شدند باقی ماند.[17] عنوان دیگر تعبیر «مؤلّفهُ قلوبهم» بود، كسانی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ برای جلب دوستی‌شان، كمك مالی به آنها كرد. این تعبیر نیز معرّف شخصیت آنان بود.

هند همسر ابوسفیان از جمله كسانی بود كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ ابتدا فرمان كشتنش را دادند، اما به هر روی، همراه زنان دیگر، نزد رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ آمد و اظهار اسلام كرد. بسیاری از مشركان نیز به یمن، نجران و نقاط دیگر گریختند كه به تدریج بازگشتند و اظهار اسلام كردند. یكی از فراریان می‌گوید: ما از ترس جان خویش گریختیم تا آن‌كه به ما خبر دادند، تنها گفتن شهادتین باعث امنیت جانی و مالی شما می‌شود. آنگاه ما بازگشتیم و اسلام آوردیم.[18] یكی از فراریان عكرمه بن ابی جهل بود كه به یمن گریخت و پس از مدتی مسلمان شد. زمانی كه عكرمه نزد رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ آمد پرسید: به چه چیزی دعوت می‌كنی؟ حضرت فرمود: نماز، زكات و... عكرمه گفت: ما دعَوْتَ الّا إلی الْحق و امرٍ حسنٍ جمیل؛ حضرت فرمودند: خدایا! همه دشمنیهایی كه بر ضد من كرده ببخشای.[19] در این میان حتی هبّار بن اسود نیز كه هر بار رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ نامش را می‌شنید خشمگین می‌شد، و حتی در فتح مكه نیز از بخشودگان مستثنی شده بود، بخشوده شد.[20]

رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ پس از فتح مكه گروههایی را به اطراف فرستاد تا بتهای بر جای مانده قبایل را از بین ببرند. عمرو بن عاص با گروهی برای شكستن بت «سواع» كه متعلق به هذیل بود، عازم آن دیار شد. پرده‌دار بت گفت: تو قادر به هدم بت نیستی! اما او بت و «بیت خزائنه» (محلی كه ثروت بخشوده شده به بت در آن بوده) را خراب كرد. پرده‌دار كه شاهد خورد شدن بت بوده و حادثه غیر منتظره‌ای را دید گفت: أسْلَمت لِلّه.[21] بتهای دیگر كه به وسیله گروههای اعزامی خراب شدند، عبارت بودند از: ذی الكفین بت طائفه عمرو بن حُمَمَه؛ بت منات در منطقه مُشلَّل. در تمام خانه‌های مكه نیز بتهایی وجود داشت و رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ اعلام كرد: هر كس به خدا و رسول ایمان آورده، اگر بتی در خانه دارد، آن را بشكند یا بسوزاند.[22]

بدین ترتیب قدرت سیاسی شرك شكسته شد و مكه پس از بیست سال مقاومت در برابر اسلام با سرپنجه تدبیر رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ تحت حاكمیت اسلام درآمد، مصداق بارز این تدبیر در فتح بدون خونریزی بود، آن هم در حادثه‌ای بزرگ چون فتح مكه و میان دو دشمن كه دشمنی‌شان بسیار كهنه و پرجراحت بود و حوادثی چون بدر و احد را پشت سر نهاده بود، و این آیه قرآن كه گفته شده،[23] در این‌باره نازل گشته این چنین به این ماجرا می‌پردازد:

«وَ هُوَ الّذی كفَّ أیْدِیَهم عَنْكم و أیدِیَكُم عَنْهم بِبَطْنِ مَكَّهَ مِنْ بَعْدِ أنْ اَظْفَرَكُم عَلَیْهِم وَ كانَ اللهُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیراً، اوست كه چون در بطن مكه پیروزیتان داد، دست آنها را از شما و دست شما را از آنها بازداشت و خدا به كارهایی كه می‌كردید آگاه بود.»[24] خداوند با وجود دشمنیهای مردم مكه دلیل بازداشتن دست مسلمانان را از آنها، این می‌داند مردم مكّه، مسلمانانی بودند كه ایمان خویش را كتمان می‌كردند و در صورت بروز جنگ ممكن بود آنان نیز از بین بروند و مسلمانان نادانسته مرتكب خطا شوند: «ایشان همانهایند كه كفر ورزیدندو شما را از مسجدالحرام بازداشتند و نگذاشتند كه قربانی به قربانگاهش برسد. اگر مردان مسلمان و زنان مسلمانی كه آنها را نمی‌شناسید در میان آنها نبودند، و بیم آن نبود كه آنها را زیر پای درنوردید و نادانسته مرتكب خطایی شوید، خدا دست شما را از آنان باز نمی‌داشت. و خدا هر كه را بخواهد مشمول رحمت خود گرداند. اگر از یكدیگر جدا بودند، كافرانشان را به عذابی دردآور عذاب می‌كردیم.»[25]

رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در فتح مكه كسی را بر پذیرش اسلام مجبور نكرد و هركس مسلمان شد به انتخاب خودش، آن را پذیرفت، گرچه بسیاری از مشركان بدسابقه، برای بخشوده شدن گذشته‌شان و گرفتن امنیت مسلمان شدند. اما كسان زیادی تا سال نهم و اندكی پس از آن بر شرك خویش باقی بودند. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در مدتی كه در مكه بود در خانه‌ای سكنی نكرد و در خیمه سر برد. آن حضرت خیمه‌اش را در منطقه حجون زده و برای اقامه هر نماز عازم مسجدالحرام می‌شد.[26] گویا خانه آن حضرت را عقیل، پس از هجرت پیامبر ـ صلی الله علیه و آله ـ تصاحب كرده بود و لذا وقتی از حضرت خواستند تا در خانه‌اش سكنی گیرد، فرمود: مگر عقیل برای ما خانه‌ای گذاشته است؟

شاید یكی از دلایل عدم توقف آن حضرت در مكه و حتی سكونت در خانه‌ای از خانه‌های مكه، این بود كه نمی‌خواست انصار توهم كنندكه او آنان را ترك كرده‌ است. یك‌بار نیز به آنان فرمود: من به سوی خدا و شما هجرت كرده‌ام، حیات و مماتم، حیات و ممات شماست.[27] در فتح مكه حدود دو هزار تن از مردم این شهر به لشكر اسلام پیوستند، گو این‌كه همه آنان مسلمان نبودند؛ اما روشن بود كه بزودی مسلمان خواهند شد. اما به هر روی این اسلام ارزش اسلام آوردن پیش از فتح مكه را نداشت. خداوند این مطلب را به صراحت بیان كرد:

«و ما لَكُم أنْ لا تُنْفِقوا فی سَبیل الله و لله میراثُ السّموات و الارض، لایَسْتَوی مِنْكم مَنْ أنْفَقَ من قَبْلِ الفَتْح و قاتَلَ، اولئكَ اَعْظَمُ دَرْجَهً مِنَ الذینَ اَنفَقُوا من بَعْدُ و قاتلوا و كلاًّ وَعَد اللهُ الحُسْنی و الله بِما تعمَلونَ خَبیر، چرا در راه خدا انفاق نمی‌كنید و حال آنكه از آن خداست میراث آسمانها و زمین؟ از میان شما آنان كه پیش از فتح (مکه) انفاق كرده و به جنگ رفته، با آنان كه بعد از فتح انفاق كرده‌اند و به جنگ رفته‌اند، برابر نیستند؛ مرتبه آنان فراتر است و خدا به همه وعده نیك می‌دهد و به هر كاری كه می‌كنید آگاه است.[28]

دلیل این برتری نیز روشن است. فتح مكه سبب شد كه نومسلمانان از یك امتیاز دیگر نیز بی‌بهره شوند و آن «هجرت» بود، پیش از این به تفصیل درباره این سخن رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ كه فرمود:«لا هجره بعد الفتح»[29] سخن گفته‌ایم.

فتح مكه آغاز رشد تصاعدی اسلام در جزیره العرب بود. تصور تسلط رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بر مكه، برای اعراب ناممكن بود. قریش با قدرت آنچنانی كه حمایت قبایل زیادی را به همراه داشت شكست‌ناپذیر می‌نمود، به ویژه كه عنوان «قداست» را نیز یدك كشیده خود را صاحب حرم می‌دید. پس خدا و خدایان باید از او دفاع كنند و البته نكردند. گفته شده است كه اعراب در زمان فتح مكه می‌گفتند: ببینید! اگر محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ بر قریش غلبه یافت، راستگوست. راوی این سخن می‌گوید: زمانی كه خبر فتح مكه به ما رسید همه قبائل اقدام به پذیرش اسلام كردند.[30] زمانی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ از ذی الجوشن ضبابی خواست تا اسلام را بپذیرد. گفت: وقتی اسلام را خواهد پذیرفت كه او بر كعبه پیروز شود.[31] زمانی پیش از فتح مكه، طایفه بنی عبد بن عدی برای پذیرش اسلام نزد رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ آمدند. آنان گفتند: اگر با گروهی غیر قریش جنگ كنی همراهیت می‌كنیم، اما با قریش جنگ نخواهیم كرد.[32] مسعودی این واقعیت با این عبارت روشن می‌گوید: زمانی كه مكه فتح شد، عرب تسلیم اسلام شد.[33] و در جای دیگر گفته شده است كه: لا تذلُّ العرب حتّی یذلُّ اهل مكه‌[34] فضاله نیز كه در روز فتح مسلمان شد آن روز را روز نابودی شرك دانست و در شعری گفت! اگر در این روز بودی می‌دیدی كه:

لرأیت دین الله أضحی و بَیّنا و الشّرك یغشی وَجْهه الاظلام[35]

ابن اسحاق نیز در این باره توضیحاتی آورده است.[36]

زمانی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در مكه بود، ـ بین پانزده تا بیست روز ـ خالدبن ولید را همراه گروهی به سوی قبیله بنی‌جذیمه فرستاد تا به اسلام دعوتشان كند. این قبیله در ناحیه یَلَمْلم سكونت داشتند. زمانی كه آنان خالد را با جمعی از مسلمانان ـ سیصد و پنجاه نفر ـ دیدند به اتكای اسلام و اذان و مسجد خود آسوده خاطر بودند. خالد در برابر آنان ایستاد و پرسید: چرا سلاح در دست دارید؟ گفتند: برای دفاع از دین اسلام در برابر مخالفان و در نقلی دیگر: برای دفاع در برابر دشمنان خود.[37] پس از آن به دستور خالد سلاح را زمین گذاشتند، اما خالد آنان را اسیر كرد و برخی را به برخی دیگر بست. در آن لحظه میان مسلمانان اختلاف شد تا آنكه در نیمه‌های شب منادی خالد فریاد زد: هر كس اسیر خویش را بكُشد! كسانی از بنو سلیم كه همراه خالد بودند، اسیرانشان را كشتند، اما مهاجرین و انصار از فرمان او سرپیچی كردند.[38] پس از آنكه به مكه آمدند، عمر و عبدالرحمن بن عوف به خالد گفتند: تو به خاطر عمویت فاكه، كه در جاهلیت به دست بنی خذیمه كشته شده چنین كردی.[39]

رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ نیز با شنیدن خبر، بر خالد خشم گرفت و صورتش را از او برگرداند. خالد می‌گفت: رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ او را برای جنگ فرستاده بود، در حالی كه دروغ می‌گفت، زیرا رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ خود فرمود: من خالد را برای دعوت فرستادم نه جنگ.[40] به علاوه افرادی سرّیه همگی مسجد و اذان بنی خذیمه را دیده و شنیده بودند. رسول خدا فرمودند: خدایا! من از آنچه خالد انجام داده به تو تبرّی می‌جویم.[41]

در آن مجلس عمار به خالد تندی كرد و پس از آن خالد به عمار. حضرت فرمود: ساكت باش خالد! چیزی به عمار مگو، كسی كه با او دشمن باشد با خدا دشمنی كرده و هر كسی كه بر او غضب كند بر خد ا غضب كرده است. پس از آن پولی تسلیم امام علی ـ صلی الله علیه و آله ـ كردند تا نزد بنی‌جذیمه رفته فدیه كشتگان آنها را بپردازد.[42] و آنان را تسلّی دهد. اصولاً خالد روحیه نظامی گری داشت و فاقد شخصیت فكری و اخلاقی لازم بود. چهره واقعی او را باید در تحولات پس از رحلت پیامبر ـ صلی الله علیه و آله ـ جستجو كرد. اما پیش از آن یاد از این نكته هم بی‌ثمر نیست كه خالد در جنگ حنین هم، پیرزنی را به قتل رساند كه مورد اعتراض پیامبر ـ صلی الله علیه و آله ـ واقع شد.[43]

به سوی حنین:

با فتح مكه از سه دشمن جدی پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله ـ قریش كه اصلی‌ترین آنها بود شكست خورد. دو گروه دیگر، یكی طایفه هوازن بود كه همزمان با شنیدن خبر حركت رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ از سوی مدینه خود را آماده كرده بود و دیگر طایفه ثقیف كه در شهر طائف مستقر بود. این دو گروه پس از فتح مكه بنای سركشی نهادند. بنابراین، قبل از آنكه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ مكه را ترك كند، می‌بایست شورش اینان را آرام می‌كرد.

رهبری هوازن در دست مالك بن عوف نصری بود كه سی سال بیشتر نداشت و فردی متكبر بود.[44] او بر خلاف توصیه پیران قبیله و علی رغم تخلف برخی طوایف هوازن، اقدام به تشكیل سپاهی در منطقه اوطاس كرد.[45]وی دستور داد تا همه سپاهیان، زنان و كودكان و نیز شتران و گاوان و گوسفند خود را به همراه بیاورند. دلیل او برای این اقدام آن بود تا همه بدانند كه از جان و ناموس و مال خود دفاع می‌كنند.[46] در این جنگ، قبیله ثقیف، نصر، جُشم، سعدبن بكر و گروهی از بنی هلال حضور داشتند.[47] رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ پس از نصب عتّاب بن اسید به عنوان حاكم مكه[48] به همراه دوازده هزار نفر عازم حنین شد.

نخستین چیزی كه جلب توجه كرد، كثرت سپاهیان اسلام بود. به نقل واقدی، ابن سعد و بلاذری، ابوبكر با نگاهی به فزونی جمعیت مسلمانان به پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله ـ گفت: امروز از ناحیه قلت جمعیت شكست نمی‌خوریم. بلافاصله این آیه نازل شد:«خدا شما را در بسیاری از جاها كمك كرد و نیز در روز حنین، آنگاه كه انبوهی لشكر شما را به شگفت آورده بود.» [49] قاعدتاً آیه مزبور پس از جنگ نازل شده، اما ناظر به همان سخن ابوبكر و امثال اوست.[50] شمار فراوانی از این مسلمانان، نومسلمانانی بودند كه طی دو سال پس از حدیبیه ایمان آورده بودند و طبعاً آشنایی با معارف دینی و عمق نگرش توحیدی نداشته و از لحاظ روحی نیز آمادگی كافی برای انجام رسالت دینی خود نداشتند. شاهد آن، واقعه‌ای است كه در مسیر حُنَین پیش آمد.

یكی از مقدسات مشركان در جاهلیت، درختی بود كه آن را «ذات انواط» می‌نامیدند. دلیل نامگذاری آن به «انواط» این بود كه مشركان به دلیل قداستی كه داشت، اسلحه خود را بر آن می‌آویختند و در اطراف آن اعتكاف می‌كردند.[51] در روایتی واقدی آمده است كه مشركان كنار این درخت قربانی می‌كردند و یك روز به اعتكاف می‌ماندند. در وقت حضور نزد آن، عبایشان را به كنار می‌نهادند و بدون عبا نزد آن می‌رفتند.[52]

زمانی كه مسلمانان در راه حنین بودند، درخت بزرگی پدیدار شد. راوی ماجرا گوید: ما به رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ عرض كردیم: همان‌طور كه برای مشركان ذات انواط بود، برای ما نیز ذات انواطی قرار ده. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در برابر این درخواست دو بار تكبیر گفتند و فرمودند: سوگند به كسی كه جانم در كف اختیار اوست، چیزی گفتید كه قوم موسی به او گفتند؛ آنگاه این آیه را تلاوت كردند:

«و بنی اسرائیل را از دریا گذرانیدیم. آنگاه بر قومی گذشتند كه به پرستش بتهای خود دلبسته بودند: گفتند: ای موسی همان‌طور كه آنها را خدایانی است برای ما هم خدایی قرار ده (اِجْعَلْ لَنا اِلهاً كَما لَهُمْ الِهه) گفت: شما مردمی بی‌خرد هستید».[53] این واقعه، جهالت مردم را نسبت به حقیقت توحید كه پایه و اساس دعوت رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بوده، در میان اصحاب نشان می‌دهد. ما علی‌رغم تأكیدات گذشته بر تبرّك، تأكید داریم كه از تبرّكِ به آنچه همانند مسأله ذات انواط است، انسان مسلمان به شرك نزدیك شده و از حقیقت توحید باز می‌ماند.

در غزوه حنین مردم مكه نیز همراه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بودند. آنان چندان علاقمند به پیروزی آن حضرت نبودند بلكه برای دیدن نتیجه این جنگ و بهره‌مندی از غنایم، سپاه را همراهی می‌كردند.[54] این مسأله مشكل مهمی برای سپاه بود. كافی بود تا شماری از اینان از صحنه نبر بگریزند، در آن صورت تمام سپاه از هم متلاشی می‌شد.

سپاه هوازن به فرماندهی مالك بن عوف در وادی حنین ـ در فاصله سی كیلومتری مكه ـ مستقر شد. انس بن مالك یكی از راویان اخبار حنین گوید: مردان هوازن جلو، و پشت سر آنان شتران و گوسفندان و زنان نیز سوار بر شتران بودند و از این طریق سیاهی لشكر بزرگی را تدارك دیده بودند. او می‌گوید: وادی حنین، منطقه پر شِعب بود و تنگه‌های فراوانی داشت. گروههای مختلفی از هوازن در این شعب‌ها و تنگه‌ها پنهان شده بودند. سپاه اسلام نیز مرتب و منظم حركت می‌كردند. ناگهان از میان شعب‌های مزبور، حمله متحدی آغاز شد. طایفه بنی سلیم كه لشكر مقدّم بود و خالد فرماندهی آنان را داشت،[55] روی به فرار نهاد و دیگران به دنبال آنان گریختند. حمله مشركان پیش از طلوع آفتاب در آخرین ساعات شب بوده است.

عباس بن عبدالمطلب می‌گوید: در آن لحظه تنها كسی را كه من در كنار رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ دیدم ابوسفیان بن حارث بود كه افسار قاطر رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ را در دست داشت. او می‌گوید: زمانی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ دید همه در حال گریزند به من دستور داد تا آنها را صدا بزنم آنگاه فرمود بگو: ای گروه انصار، ای «اصحاب سمره».[56] در این لحظه آنان به سرعت بازگشتند، همان‌گونه كه ماده شتران به سوی بچه خود می‌آیند.[57] امید رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ نه به نومسلمانانِ پس از حدیبیه بلكه به اصحاب شجره و انصار بود. در نقل فوق، عباس از درستی و راستی انصار و مقاومت‌شان در جنگ ستایش می‌كرد. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ خود نیز فریاد می‌زد: ای مردم! به سوی من آیید، من رسول خدا هستم، من محمد بن عبدالله ـ صلی الله علیه و آله ـ هستم. اما كسی بر جای نماند.[58] در نقل دیگری آمده است كه همگی مسلمانان به جز اندكی شامل چند تن از مهاجر و انصار به هزیمت رفتند. بر جای ماندگان تنی چند از خاندان خود پیامبر همچون علی ـ علیه السّلام ـ، عباس،[59] ابوسفیان بن حارث و یكی دو سه نفر دیگر بودند.

ابن ابی شیبه از حكم بن عتیبه نقل می‌كند: زمانی كه مردم در حنین گریختند جز چهار نفر، كسی با پیامبر ـ صلی الله علیه و آله ـ نماند، سه نفر از بنی هاشم و یك نفر جز آنها.[60] در شعر عباس بن عبدالمطلب نیز آمده است كه ما تنها نُه نفر بودیم كه در كنار رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ ماندیم و دیگران گریختند.[61] حارثه بن نعمان به دستور رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ به شمارش افرادی كه گریخته بودند پرداخت! او می‌گوید به زحمت تخمین زدم كه حدود یكصد نفر هستند؛ گفته‌اند كه سی و سه تن از مهاجران و شصت و هفت نفر از انصار بوده‌اند.[62] در اینجا زمینه جعل اخبار وجود داشته است، چه همه دو طایفه كوشیده‌اند تا خود را از فراریان ندانند.

به هر روی پایداری تنی چند و بازگشت شماری از مهاجران و انصار و مقاومت‌شان، هوازن را به شكست كشانده، شماری از آنان به اسارت درآمدند. ام حارث كه با شویش آمده بود، لجام شتر شوهر را سخت گرفته و به او می‌گفت: چرا از رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ می‌گریزی؟ ام حارث می‌گوید: دیدم عمر از كنار ما در حال گریز است. گفتم: ای عمر! این چه حال است؟ عمر گفت: قضای الهی است![63]

پس از غلبه دشمن، برخی مسلمانان به قتل كودكان دست زدند. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ از این اقدام سخت نگران شدند. برخی مسلمانان گفتند: مگر اینان فرزندان مشركین نیستند؟ رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ فرمود: حتی بهترین شما نیز اولاد مشركین هستید (كه اكنون مسلمانان شده‌اید) آنگاه افزودند: هركودكی بر فطرت تولد می‌یابد تا به تدریج زبان عربی فرا می‌گیرد و این پدر و مادر اویند كه وی را مسیحی یا یهودی می‌كنند.[64]

پیروزی آنها در حنین پس از گریز مسلمانان، تنها با حمایت الهی صورت گرفت. این نكته‌ای است كه خداوند آن را تأكید كرده و در اخبار تاریخی نیز آمده است. عامل عمده فرار حضور منافقان و كفار مكه بود، كه همراه سپاه آمده و مردم را تحریك به فرار می‌كردند. ابوسفیان در حال گریز مردم می‌گفت:فرار اینان تا كنار دریا ادامه خواهد داشت. برادر مادری صفوان بن امیه نیز گفت: اكنون سحر باطل شد. اما صفوان او را توبیخ كرد با این دلیل كه اگر بناست كسی ارباب او باشد ترجیح می‌دهد كه او اربابی قریشی باشد نه از هوازن.[65]به هر روی سپاه اسلام پیروز شد و زنی مسلمان ضمن شعری گفت:

غَلَبَت خَیلُ الله خیْلَ اللاّت و الله اَحَقُّ بالثّبات [66]

گذشت كه زنی نیز به دست خالد بن ولید كشته شد و به دنبال رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ از كشتن كودكان، از كشتن كودكان، زنان و بردگان نهی فرمود.[67] یك شاعر هوازنی بعد از آن‌كه مسلمان شد. این اشعار را سرود: در روز حنین سپاه هوازن به گونه‌ای جنگید كه هیچ كس اطراف رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ نماند؛ پس از آن جبرئیل به كمك مسلمانان آمد و به دنبال آن عده‌ای از ما اسیر شد. اگر جبرئیل نیامده بود، شمشیرهای ما از ما دفاع می‌كردند.[68] از طایفه ثقیف كه همراه هوازی بودند هفتاد نفر كشته شدند،[69] و دیگران به سوی طائف گریختند.

خداوند درباره نصرت خود به مسلمانان در آن روز می‌فرماید:«خدا شما را در بسیاری از جاها یاری كرد، و در روز حنین، آنگاه كه انبوهی لشكرتان شما را به شگفت آورده بود ولی برای شما سودی نداشت و زمین با همه فراخیش بر شما تنگ شد و بازگشتید و به دشمن پشت كردید. آنگاه خدا آرامش خویش را بر پیامبرش و بر مؤمنان نازل كرد و لشكریانی كه آنها را نمی‌دیدند فرو فرستاد و كافران را عذاب كرد، و این است كیفر كافران.»[70] بحیر بن زهیر در شعری گفت: اگر حمایت الهی نبود مسلمانان شكست خورده بودند.[71] بهترین اشعار در این غزوه اشعار عباس بن مرداس است كه ابن اسحاق به تفصیل آنها را آورده است.[72]

از آنجا كه مشركان هوازن زنان و فرزندان و اموالشان را به همراه آورده بودند، پس از گریزشان، همه به تصاحب مسلمانان در آمد. غنایم مزبور و اسیران به جِعرانه فرستاده شد تا بعداً میان مسلمانان تقسیم شود.

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . امام علی ـ علیه السّلام ـ پس از چندی جستجو وی را به قتل رساند، نكـ : المغازی، ج2، ص857.

[2] . سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص340.

[3] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص411؛ اسم یكی از آنها قریبه و دیگری «فَرَتْنی» بوده و این دومی زنده مانده و مسلمان شده است؛ نكـ : سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص341.

[4] . نكـ : المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص404.

[5] . المغازی، ج2، ص830؛ در نقل ابن ابی شیبه (المصنف، ج7، ص407) اشاره به موضع فاطمه زهرا ـ علیها سلام ـ نشده اما از حضور وی در فتح مكه یاد شده است؛ و نكـ : السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص411.

[6] . اسراء، 81.

[7] . المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، صص397،403.

[8] . المغازی، ج2، ص834.

[9] . المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، صص404 ـ403، ش36907؛ سبل الهدی والرشاد، ج5، صص357ـ356، به نقل از حاكم نیشابوری و ابن ابی شیبه.

[10] . المنصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص406.

[11] . همان، ج7، ص405.

[12] . سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص365ـ364(به تفصیل و از مآخذ مختلف)؛ المغاری، ج2، ص836؛ المصنف، ابن ابی شیبه،ج7، ص398 و نك: السیره النبویه، ابن هشام،ج4، ص412.

[13] . المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص406؛ برای دیدن متن آنچه به طور كوتاه برای وی نوشته شده نك: مكاتیب الرسول، ج1، ص521؛ از مصادر مختلف؛ سبل الهدی، ج5، ص366.

[14] . المغازی، ج2، صص847ـ846.

[15] . المغازی، ج2، ص855؛ رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ مایل بود او كشته شود؛ وقتی عثمان برای امان گرفتن او را نزد رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ آورده بود، سه بار در خواست كرد تا اجازه بیعت دهد آن حضرت دو بار نخست در خواست او را رد كرد و برای سومین بار پذیرفت. پس از آن رو به اصحاب كرد و فرمود یك مرد عاقل در میان شما نبود كه در طی دو بار رد كردن من او را بكشد؟ آنها گفتند: شما اگر به گوشه چشم اشاره می‌فرمودید چنین می‌كردیم. حضرت فرمودند: برای پیامبر سزاوار نیست كه این چنین با چشم اشاره كند. و نك: المغازی، ج2، صص857ـ856؛ ابن هشام(السیره، ج4، ص409) می‌گوید: بعدها عمر او را به كار گماشت و عثمان نیز.

[16] . رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ این سخن را در برابر اظهار اسلام ابن زِبَعْری شاعر قریش و محرك مردم بر ضد مسلمانان فرمودند؛ نك: المغازی، ج2، ص849.

[17] . نكـ : تاریخ تحول دولت و خلافت، صص116،136،193؛ در همان فتح مكه حسان بن ثابت ضمن شعری اشاره كرد كه شمشیرهای انصار، ابوسفیان را در مكه به صورت یك برده و بنی عبدالدار را به صورت كنیزان در آورده است. السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص426.

[18] . طبقات الكبری، ج7، صص139ـ138.

[19] . المغازی، ج2، ص852؛ سبل الهدی، ص5، ص379.

[20] . المغازی، ج2، ص858.

[21] . المغازی، ج2، ص870.

[22] . المغازی، ج2، ص871ـ870.

[23] . المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص405.

[24] . فتح، 24.

[25] . فتح، 25.

[26] . سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص349.

[27] . المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص397؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص369؛ السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص416؛ در اینجا به اجمال اشاره كنیم كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ برای تقویت موقعیت انصار در برابر قریش تلاش فراوانی كرد اما حیله‌گری قریش ـ همان‌گونه كه انتظار می‌رفت ـ اوضاع را دگرگون كرد. در اینجا تنها اشاره كنیم كه ضمن اخبار حوادث فتح مكه در دو مورد كوشیده شده تا چهره سعد بن عباده، ضایع شود. این هم، به دلیل نمایندگی او از انصار است و هم مواضع او در سقیفه، به عنوان مثال گفته‌اندكه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بخاطر سخنی از او خشمگین شده پرچم را از وی گرفت و به پسرش داد (المغازی، ج2، ص822ـ821) در حالی كه در نقلی دیگر آمده است او خود پرچم را به دست فرزندش داد (المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص399)؛ ابن اسحاق (السیره النبویه، ج4، صص407ـ406) روایت مزبور را از قول برخی نقل كرده و می‌گوید: رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ علی ـ علیه السّلام ـ را فرستاد تا پرچم را از او بگیرد و در نقلهای دیگر آمده كه پرچم را از سعد گرفتند و به زبیر دادند (سبل الهدی، ج5، ص337). پیداست كه روایت مشكل دارد عجیب‌تر از همه اینها جمع این روایات متناقض است! نكـ : سبل الهدی، ج5، ص337 درباره مورد دوم نیز نكـ : المغازی، ج2، صص867ـ866.

[28] . الحدید، 10.

[29] . نكـ : المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، صص408ـ409،407؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص389.

[30] . طبقات الكبری، ج1، ص336.

[31] . مجمع الزوائد، ج6، ص162؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص 39.

[32] . طبقات الكبری، ج1، ص306.

[33] . التنبیه و الاشراف، ص 239، (فلما فتح مكه انقادت العرب للاسلام).

[34] . المصنف، ابن ابی شیبه، ج7، ص 410.

[35] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص 417؛ ابن اسحاق اشعار فراوانی درباره فتح مكه آورده كه برخی بسیار جالب است.

[36] . همان، ج4، ص 560.

[37] . نكـ : طبقات الكبری، ج1، ص 147.

[38] . المغازی، ج3، ص 876.

[39] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص 341؛ در آنجا شرح درگیری قریش با بنی جذیمه آمده است

[40] . المغازی، ج3، ص883، و نكـ: طبقات الكبری، ج2، ص 147.

[41] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص 430ـ 429.

[42] . المغازی، ج3، صص 882 ـ 881؛ سیره النبویه، این هشام، ج4، ص 430.

[43] . المغازی، ج3، ص 912.

[44] . درباره او گفته شده: كان مسبلاً؛ یعنی كسی كه لباسهای بلندی می‌پوشید به طوری كه لبایش برزمین می‌كشید. او این كار را به خاطر تكبری كه داشت انجام می‌داد.

[45] . عاتق در معجم المعالم الجغرافیه ( ص34) می‌گوید: اوطاس منطقه مسطحی است كه در شرق مكه در فاصله یك صد و نود كیلومتری قرار دارد. بنابراین این محل نباید به حنین كه در فاصله سی كیلومتری مكه ـ در راه طایف ـ قرار دارد ارتباطی داشته باشد و ضرورتاً نمی‌تواند «اوطاسی» باشد كه مكرر در اخبار جنگ حنین از آن یاد شده است.

[46] . المغازی، ج3، صص888 ـ 887.

[47] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص437.

[48] . و ی در آن وقت فقط بیست سال داشت.

[49] . توبه، 25، المغازی، ج3، ص89؛ طبقات الكبری، ج2، ص150؛ انساب الاشراف، ج1، ص365، شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج15، ص106.

[50] . در برخی نقلها كه محتوای آن قدری تند است نام قائل سخن را نیاورده‌اند. از یونس بن بُكیر نقل شده است كه مردی در حنین گفت: ما از قلت شكست نمی‌خوریم. این بر رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ گران آمد و سبب هزیمت شد (سبل الهدی، ج5، ص469)، گاهی سخن مزبور را به یك نوجوان انصاری نسبت داده‌اند و گاهی به خود پیغمبر (همان). شامی می‌گوید: صحیح آن است كه قائل آن غیر رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بوده و از ابن اسحاق نقل می‌كند كه: برخی گفته‌اند یكی از بنی بكر چنین گفته است. و البته ابن عبد البر همان نقل واقدی را پذیرفته كه ابوبكر قائل این سخن بوده است (نكـ : سبل الهدی، ج5، صص470ـ469) و نكـ : شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج15، ص106.

[51] . تاج العروس ذیل مورد «نوط: ینوطون بها سلاحهم ـ ای یُعقلون ـ و یعكفون حولها».

[52] . المغازی، ج3، صص891ـ890.

[53] . اعراف، 138؛ المغازی، ج3، صص891ـ890؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5. ص465؛ السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص442.

[54] . المغازی، ج3، ص895ـ894.

[55] . خالد در این جنگ نیز زنی را كشت كه مورد اعتراض رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ قرار گرفت. المغازی، ج2، ص912؛ سبل الهدی، ج5، ص493؛ فرار بنی سلیم كه گویا تا اندازه‌ای به عمد نیز بوده ـ به دلیل خویشی آنها با هوازن ـ یك از مشكلات اصلی فرار مردم در این جنگ بوده‌ است. نكـ : المغازی، ج3، ص897.

[56] . درختی كه بیعت رضوان در زیر آن انجام شد.

[57] . المغازی، ج3، ص899ـ898؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، صص477ـ476؛ السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص445.

[58] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص443.

[59] . انس می‌گوید: و كان علیّ یومئذ اشدّ الناس قتالاً بین یدیه، سبل الهدی و الرشاد، ج5: ص478؛ به نقل از طبرانی و ابویعلی.

[60] . سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص485.

[61] . سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص511.

[62] . المغازی، ج3، ص901ـ900؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص485.

[63] . المغازی، ج3، ص904؛ ابوقتاده نیز در برخورد با عمر، از او دلیل گریز مردم را پرسید، و او گفت: قضای الهی است. نكـ : همان، ص908؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص487؛ با وجود این اخبار، ابن اسحاق، عمر را در شمار كسانی كه ثابت مانده‌اند ذكر كرده‌ است؛ نكـ : السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص443.

[64] . المغازی، ج3، ص905؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص488.

[65] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، صص444 ـ 443، المغازی، ج3، ص910، سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص472؛ و نكـ: ص473.

[66] . السیره النبویه، ابن هشام، المغازی، ج3، ص912، سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص489.

[67] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص458.

[68] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص475.

[69] . سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص492.

[70] . توبه، 26 ـ 25.

[71] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص459؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص502.

لو لا الإله و عَبْدُهُ ولّیْتُمُ حین استخفّ الرُّعبُ كلّ جبان

[72] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4،صص470 ـ 460؛ سبل الهدی و الرشاد، ج5، ص507 ـ 503؛ در این اشعار بیشتر از همه بر نقش بنو سلیم تأكید شده كه از قضا اولین گروهی بودند كه گریختند.

رسول جعفريان- سيره رسول خدا (ص)، ج1، ص626
 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:8 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

فتح مكه

پس از انعقاد پیمان صلح حدیبیه كه یكی از مواد آن برقراری آتش بس ده ساله بین مشركان و مسلمانان بود، پیامبر اسلام با استفاده از آرامشی كه با قطع دشمنی ها و كارشكنی های قریش و توقف حملات نظامی آنها به دست آمده بود، گام های بلندی برداشت : هیأت های تبلیغی متعددی به مناطق مختلف فرستاد، رسالت جهانی خود را به اجرا گذاشت، بسیاری از قبایل دشمن را در اطراف مدینه خلع سلاح كرده و یا با آنها پیمان صلح بست و خیبر نیز كه كانون دائمی فتنه و خطر بود سقوط كرد .

پیمان شكنی قریش

پس از دو سال، پیمان صلح حدیبیه توسط قریش نقض گردید . به موجب ماده چهارم این پیمان هر قبیله آزاد بود كه با محمد - صلی الله علیه و آله- یا با قریش هم پیمان شود ؛ در همان هنگام قبیله خزاعه با مسلمانان و بنوبكر (از بنی كنانه) با قریش اعلام اتحاد كردند[1].

در سال هشتم هجرت قبیله بنی بكر، شبانه به قبیله خزاعه حمله كردند . در این حمله قریش با اسلحه و افراد نظامی، با بنی بكر همكاری كردند و گروهی از خزاعی ها را به قتل رساندند . با این كار، پیمان حدیبیه نقض گردید[2]. به دنبال استمداد رئیس قبیله خزاعه از پیامبر اسلام حضرت اعلام بسیج عمومی كرد[3] و تصمیم گرفت با سپاهی به مكه حمله كند و برای آنكه حركت مسلمانان به اطلاع قریش نرسد و دشمن غافلگیر شود و مكه بدون مقاومت و خونریزی سقوط كند، مقصد را پنهان داشت[4] و دستور داد راه مكه تحت مراقبت قرار گیرد[5] و از خداوند خواست كه قریش را از این حركت، بی خبر نگه دارد[6].

پیامبر اسلام با جمع آوری نیرو، با یك سپاه ده هزار نفری[7] به سمت مكه حركت كرد تدبیر آن حضرت مؤثر واقع شد و تا هنگامی كه ارتش اسلام در پشت دروازه مكه (مرّالظهران ) اردو زد، جاسوسان قریش از حادثه آگاه نشدند !‌

عباس عموی پیامبر اسلام صلی الله علیه و آله تا آن سال در مكه اقامت داشت و هنگام حركت ارتش اسلام به سوی مكه، رهسپار مدینه بود و در منزل جحفه به حضور پیامبر اسلام - صلی الله علیه و آله- رسید و همراه مسلمانان به مكه بازگشت . او در آخرین شبی كه ارتش اسلام بیرون مكه اردو زده بود، در بیرون شهر به ابوسفیان برخورد و او را به حضور پیامبر اسلام آورد[8]. ابوسفیان با مشاهده ارتش مجهّز و انبوه اسلام سخت مرعوب شد . رسول خدا او را مورد عفو قرار داد و به درخواست عباس فرمود :‌ هر كس به مسجدالحرام پناهنده شود و یا در خانه خود بنشیند و یا به منزل ابوسفیان پناه برد در امان خواهد بود.

پیش از ورود ارتش اسلام به مكه، ابوسفیان خبر امان رسول خدا را به اطلاع مكیان رساند . این تدبیر در جلوگیری از خونریزی و تسلیم بدون مقاومت شهر مؤثر واقع شد و مكه سقوط كرد تنها در یكی از مناطق شهر كه گروهی از افراد لجوج قریش مقاومت كردند، تعدادی كشته شدند[9].

رسول خدا پس از ورد به مكه سوار بر شتر شد خانه خدا طواف كرد و در همان حال با اشاره عصایی كه در دست داشت، بتها را كه با قلع در اطراف كعبه محكم شده بود، واژگون می كرد و می فرمود : حق آمد و باطل نابود شد، آری باطل همواره نابودشدنی است[10].

آن گاه ( چنان كه میان مورخان و محدثان مشهور است ) حضرت علی - علیه السلام- به فرمان پیامبر - صلی الله علیه و آله- بر شانه آن حضرت رفت و بت بزرگی را كه بر فراز كعبه بود، بر زمین افكند و در هم شكست[11].

طبق روایتی از امام صادق - علیه السلام- بتی كه - علی علیه السلام- آن را در هم شكست هبل بود كه به دستور پیامبر اسلام در باب بنی شیبه (یكی از درهای ورودی مسجد الحرام) دفن شد . ( تا زیر پای مردم لگدمال شود!‌) از این رو ورود به مسجد الحرام از این در استحباب یافت[12].

--------------------------------------------------------------------------------

[1] - پیش از ظهور اسلام بین این دو قبیله دشمنی و خونریزی وجود داشته است (‌ابن هشام السیره النبویه ج 4 ص 31 ) و از همان زمان خزاعه با عبدالمطلب هم پیمان بودند . (واقدی المغازی ج 2 ص 781 )‌.

[2] - ابن هشام السیره النبویه ج 1 ص 33 ؛ واقدی المغازی ج 2 ص 783 ؛ ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ( نجف المكتبه الحیدریه ، 1384 ه . ق ) ج 2 ص 47 ابن هشام می گوید : در این حمله یك نفر از خزاعی ها كشته شد ( ج 4 ص 33 ) اما واقدی و ابن سعد تعداد مقتولان را بیست نفر نوشته اند (المغازی ج 2 ص 784 ؛ الطبقات الكبری ج 2 ص 134 ) .

[3] - واقدی پیشین ج 2 ص 799 - 800 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ، ص 135.

[4] - واقدی پیشین ج 2ص 796 - 802 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ، ص 134.

[5] - واقدی پیشین ج 2 ص787 - 796 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ، ص134.

[6] - ابن هشام ، پیشین ، ج 4 ص 39 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ص 134 ؛‌ تاریخ یعقوبی ج 2 ص 47 .

[7] - ابن هشام ، پیشین ، ج 4 ص 42 و 63 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ص 135 ؛ واقدی پیشین ج 2 ص 801 .

[8] - ابن هشام ، پیشین ، ص 42 ، 44 ، 46 ؛ واقدی پیشین ج 2 ص 817 - 819 .

[9] - 15 تا 28 نفر . ابن هشام ، پیشین ، ص 50 ؛ واقدی پیشین ج 2 ص 825 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ص 136 .

[10] - جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل كان زهوقا اسراء (17 ) : 81 .

[11] - ابن هشام ، پیشین ، ج 4 ص 59 ؛ واقدی پیشین ج 2 ص 832 ؛‌ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 2 ص 136 ؛ همچنین ر . ك :‌ طوسی الامالی ( قم دارالثقافه 1414 ه ق ) ص 336 ؛‌ حلبی السیره الحلبیه بیروت دارالمعرفه ج 3 ص 30 ؛ زینی دحلان ، السیره النبویه و الاثار المحمدیه بیروت دار المعرفه ط 2 ج 2 ص 102 ؛‌قسطلانی المواهب اللدنیه بالمنح المحمدیه بیروت دارالمعرفه ط 1 1416 ه ق ج 1 ص 332 ؛ علی بن موسی بن طاووس الطرائف فی معرفه مذاهب الطوائف قم مطبعه الخیام ج 1 ص 80 - 81 ؛ ابن شهرآشوب مناقب آل ابی طالب قم المطبعه العلمیه ج 2 ص 135 و 136 ؛ جار الله زمخشری تفسیر كشاف مكتبه مصطفی البابی الحلبی ج 2 ص 244 .

علامه امینی این حادثه را از 41 نفر از محدثان اهل سنت نقل كرده است . الغدیر ج 7 ص 10 - 13 . بر اساس تعدادی از منابع همچون : مناقب خوارزمی وفرائد السمطین و ینابیع الموده تذكره الخواص و نیز طبق برخی از روایات منقول در بحار و غیره این حادثه در یكی از سالهای پیش از هجرت رخ داده و شبانه و دور از چشم قریش صورت گرفته است احتمالا قضیه به هر دو صورت رخ داده است .

موضوع صعود علی علیه السلام بر شانه پیامبر اسلام ، از قدیم در اشعار تعدای از شعراء انعكاس یافته است از آن جمله ابن العرندس حلی از شعرای قرن نهم هجری ضمن قصیده بلندی می گوید :

و صعود غارب احمد فضل له دون القرابه و الصحابه افضلا

الغدیر ج 7 ص 8 .

صعود علی علیه السلام بر دوش احمد فضیلتی است بزرگ برای او . این فضیلت غیر از خویشاوندی و صحابی بودن است .

همچنین ابن ابی الحدید ضمن یكی از قصاید سبع علویات خود كه مربوط به فتح مكه است می گوید :

رقیت باسمی غارب احدقت به ملائك یتلون الكتاب المسطرا

بغارب خیر المرسلین واشرف الا نام و ازكی فاعل و طیء الثری

به عالیترین دوشی كه فرشتگان تلاوت كننده كتاب ،‌ آن را احاطه كرده اند ؛ بالا رفتی ، به دوش بهترین فرستادگان ، گرامی ترین مردم و پاكیزه ترین كسی كه بر این عرصه خاك گام نهاده است دكتر محمد ابراهیم آیتی بیرجندی تاریخ پیامبر اسلام انتشارات دانشگاه تهران ص 529 - 530 .

[12] - حر عاملی وسایل الشیعه بیروت دار احیاء التراث الاسلامی ج 9 ص 323 ابواب مقدمات الطواف باب استحباب دخول المسجد الحرام من باب بنی شیبه حدیث 1 .

مهدي پيشوايي - تاريخ اسلام، ص 281

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:7 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

مدینه نخستین مركز علوم اسلامی

دانش اندوزی الهی در مكه مكرمه با بعثت نبوی كار خود را آغاز كرد و با ایمان آوردن حضرت علی بن ابی طالب ـ علیه السلام ـ و خدیجه، نخستین ثمره خود را به جهان بشریت عرضه داشت.[1] این حوزه با كار بزرگ و جهانی كه در پیش داشت، از جای كوچك آغاز به كار كرد. حضور در حوزه دروس آسمانی مكه كه مدرس آن پیشوای مدرسان جهان و بزرگ پیامبر خدا، حضرت محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ بود، با انتخاب ویژه او همراه می گردید.

هرگاه پیامبر شخصی را مستعد پذیرش اسلام می دید به آیین الهی فرا می خواند و جان وی را از شرك و بت پرستی می پالایید. این روش تا دعوت عمومی (سه سال پس از بعثت) ادامه داشت. با آغاز دعوت عمومی برخی از مردم مكه اسلام آورده، به دین توحید گرویدند. اقامه نماز و قرائت قرآن در كنار خانه خدا از نخستین تبلیغات اسلامی بود كه شاگردان مكتب وحی برای به انجام رساندن آن از شكنجه و شهادت در راه خدا باكی نداشتند و برای رساندن پیام قرآن به گوش مردم از مرگ استقبال می كردند.

خانه رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ نخستین حوزه علمیه جهان اسلام است كه اصحاب برای فراگیری قرآن و اصول اعتقادی و احكام دینی خود به آنجا رفت و آمد داشتند. سپس خانه بعضی از اصحاب نیز برای آموزش انتخاب گردید.

بنابر نقل محمد بن اسحاق در «الفهرست»، «علی بن ابی طالب»، «سعد بن عبید بن النعمان بن عمرو بن زید»، «ابوالدرداء عویمر بن زید»، «معاذ بن جبل بن اوس»، «ابوزید ثابت بن زید بن النعمان»، «ابی بن كعب بن قیس»، «عبید بن معاویه» و «زید بن ثابت» از جمله جمع آورندگان قرآن كریم در زمان پیامبر خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ بودند.[2] و به عنوان اساتید قرآن، محلِ رجوع امت اسلامی محسوب می شدند.

حوزه علمیه مدینه

حوزه علمیه مدینه منوره به دوره های مختلف و اعصار گوناگون تقسیم می شود و یكی از مهمترین و پر تحرك ترین حوزه های علمیه شیعه در عصر معصومین ـ علیهم السلام ـ است. البته با به انزوا كشاندن امامان شیعه از رونق حوزه مدینه كاسته شد، لیكن هنوز بعد از گذشت هزار و چهارصد سال به حیات خود ادامه می دهد؛ هرچند رژیمهای سیاسی حاكم بر آن تنگ می گیرند.

عصر رسالت دوره اول (سال 12 بعثت)

سال دوازدهم بعثت رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ دوازده تن از انصار به مكه آمده، در محلی به نام عقبه با پیامبر خا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ ملاقات كردند. به دنبال آن مصعب بن عمیر به مدینه رفت و در ترویج دین اسلام كوشید و به آنان قرآن آموخت. وی از فرزندان هاشم بن عبدمناف و از فاضلترین یاران رسول خداست كه به فرمان پیامبر تبلیغ دین خدا را برعهده گرفت و در جنگ بدر و احد حضور یافت. وی در جنگ احد در حالی كه پرچمدار اسلام بود به شهادت رسید و پرچم را علی بن ابی طالب ـ علیه السلام ـ برپا داشت.

دوره دوم (11ـ1 ه.ق)

این دوره با هجرت رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ از مكه به مدینه آغاز گردید و تا رحلت ایشان ادامه داشت هجرت پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و تأسیس حكومت اسلامی در مدینه، موجب تشكل هرچه بیشتر امت اسلامی گردید و حضور آن حضرت، مدینه را به بزرگترین مركز نشر و معارف اسلامی تبدیل نمود. حوزه پربركت نبوی ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ شاگردان فرزانه و عزیز الوجودی را پرورید كه بعدها خود محور علمی، فرهنگی و سیاسی حوزه علمیه آن دیار مقدس گردیدند.

حضرت امام علی بن ابی طالب ـ علیه السلام ـ، حضرت فاطمه زهرا ـ سلام الله علیها ـ، امام حسن و امام حسین ـ علیهما السلام ـ، تربیت یافتگان خاص مكتب وحی بودند كه در دامان پیامبر پرورش یافتند و از منبع نورانی وحی سیراب گشتند، آنان به اسراری دست یافتند كه دیگران را دسترسی به آن غیرممكن بود.

علاوه بر تدوین قرآن كریم به دست مبارك حضرت امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ[3] در این حوزه، اولین كتاب فقه و حدیث به املای حضرت رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و به خط حضرت علی ـ علیه السلام ـ نگاشته شد كه در احادیث ائمه - علیهم السلام - از آن به «كتاب الجامعه» یاد شده است.

كتاب دیگری كه به قلم توانای وصی پیامبر در این حوزه نوشته شده «صحیفهُ الفرائض» یا «فرائض علی ـ علیه السلام ـ» است.[4]

«مصحف فاطمه سلام الله علیها» كتاب گرانقدر دیگری است كه در آن حوزه بی نظیر نوشته شده است. حضرت فاطمه زهرا ـ سلام الله علیها ـ دارای چنان مقام والایی بود كه فرشتگان الهی با وی حدیث می گفتند؛ آن گونه كه با مریم و همسر ابراهیم خلیل ـ علیه السلام ـ سخن گفته بودند.[5]

حضرت فاطمه ـ علیها السلام ـ با گرد آوری آن احادیث، مصحف فاطمه را فراهم آورد، كه حجم آن سه برابر حجم قرآن كریم بود و در آن احكام شرعی، مجازاتهای اسلامی و رویدادهای روزگار به تفصیل بیان گردیده است.[6]

سلمان فارسی كه بعدها به سلمان محمدی شهرت یافت از تربیت یافتگان عصر رسالت حوزه مدینه است كه به مقام «سلمان منا اهل البیت ـ علیهم السلام ـ» نایل آمد.

یكی از رخدادهای حوزه مدینه در عصر رسالت، اعزام مبلغان و قرآن شناسان از جانب رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ است، كه در راه نشر معارف قرآنی به شهادت نایل آمدند. اعزامی كه به درخواست «عامر بن مالك» ملقب به «ابوبراء» تحقق یافت، شهادت 39 قرآن شناس از چهل مبلغ را در پی آورد. و در «رجیع» نیز جمعی (ده تن) از اسلام شناسان شهد شیرین شهادت را سركشیدند.[7]

عصر امامت

حوزه علمیه مدینه منوره در عصر امامت، هشت دوره را به خود دید و از تربیت امامان شیعه بهره ها برد. دوره هفتم كه از سال 95 هجری آغاز شد و تا سال 148 ادامه داشت عصر امامت حضرت باقر و امام صادق ـ علیهما السلام ـ و یكی از پربارترین دوره های حوزه های علمیه شیعه و جهان اسلام محسوب می گردد.

دوره سوم (40ـ11 ه.ق)

این دوره نخستین دوره از عصر امامت و سومین دوره از ادوار دوازده گانه حوزه علمیه مدینه است. دوره سوم با رحلت رسول اعظم الهی ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ آغاز می شود و با شهادت امام علی بن ابی طالب به پایان می رسد. وصی پیامبر پس از رحلت رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ، ریاست حوزه مدینه را برعهده داشت، همان گونه كه پیشوایی مسلمین از جانب الهی به وی محول گردیده بود. لیكن با پیدایش ماجرای سقیفه، امام علی ـ علیه السلام ـ از برقرار ساختن حكومت اسلامی و بسط هویت امت بركنار ماند، تا به اصرار و اجماع مردم، خلافت و حكومت ظاهری را پذیرا گشت.

لذا دوران امامت سی ساله حضرت مولی الموحدین علی ـ علیه السلام ـ به دو بخش عمده تقسیم می گردد:

1. 25 سال نظارت بر امور.

2. پنج سال حكومت.

در آغاز انحراف، پرورده مكتب رسالت، حضرت فاطمه زهرا ـ سلام الله علیها ـ «نهضت فاطمی» را علیه سقیفه پی ریزی كرد تا مردم را به كژی كه در مسیر رخ داده، آگاه نماید. وی علیه سرگردانی و اضطراب، دورویی و بی توجهی و پیمان شكنی قیام كرد و آنان را اندرز داد كه با این كار از ایمان، به شرك باز می گردید و با خسرانی مواجه می شوید كه از صفات مشركان است. ترك جهاد، تن آسایی و رفاه زدگی ثمره این روش ناپسند است كه انزوای رهبری معصوم را در پی دارد.

صدیقه طاهره ـ سلام الله علیها ـ روشها و راه حلهایی را برای خارج شدن از این سیر نادرست ارائه داد كه می توان به موارد زیر اشاره كرد:

1. مطرح كردن قرآن و عترت

2. جدایی ناپذیری قرآن و عترت

3. خطرات جدایی ثقلین

4. دفاع از رهبری امام علی ـ علیه السلام ـ

لیكن دعوت دخت پیامبر بی پاسخ ماند و به شهادت خود و فرزندش به عنوان نخستین مدافعان حریم ولایت و امامت انجامید.

حضرت امیر المؤمنین علی ـ علیه السلام ـ در دوره 25 ساله امامت خود ناظر و مراقب كارها و فعالیتهای سیاسی فرهنگی بود. او به سؤالات علمای ادیان پاسخ می گفت و اصل امامت و وصایت بعد از پیامبر را تبیین می نمود. به فتوحات اسلامی و قضاوتها و احكام نظارت داشت و حاضر نبود با وجود او حدی از حدود الهی ضایع گردد.[8]

پنج سال دیگر امامت حضرت علی ـ علیه السلام ـ ادامه حكومت پیامبر و قرآن بود، كه با افرادی چون معاویه و طلحه و زبیر و عایشه و خوارج در جنگ های صفین و جمل و نهروان درگیری هایی داشت.

«نهج البلاغه»[9] در این دوره تولد یافته است. خطبه ها، نامه ها و كلمات قصار علی ـ علیه السلام ـ در این دوره غذای معنوی حوزه مدینه را تأمین كرده است. و در حقیقت روحی است بر كالبد حوزه های علمیه شیعه، كه تا جهان باقی است به حوزه های شیعه زندگی خواهد بخشید و شیعه درس سیاست، دیانت، زهد و تقوای الهی را از آن خواهد آموخت و با اصول دین و احكام فردی و سنن اجتماعی و... آشنا خواهد شد.

طلایه داران این دوره چون عصر رسالت نمی توانستند آشكارا به فعالیت علمی بپردازند. منع تدوین حدیث[10] و جو آشوب طلبی كه معاویه و یاران وی افراشته بودند می توانست هر یك انرژی شیعه را حبس نماید یا تنها در جهت دفع سموم دشمن به كار گرفته شود، ولی شیعه با شهادت، دفتر خونین حوزه خویش را نگاشت و به تدوین حدیث پرداخت و از امر به معروف و نهی از منكر باز نایستاد. شهادت مظلومانه ابوذر غفاری در تبعید، گواه بر جو نا امن سیاسی درعصر علوی ـ علیه السلام ـ است.

اینك برای آشنایی با نخستین شیعیان و شاگردان مكتب علوی ـ علیه السلام ـ نام اصحاب خاص نبی اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و حضرت علی ـ علیه السلام ـ را یادآور می شویم. كسانی كه از عصر رسالت به شیعیان علی ـ علیه السلام ـ شهرت داشتند:

1. عبدالله بن عباس بن عبدالمطلب

2. عبدالله بن جعفر بن ابی طالب

3. عون بن جعفر بن ابی طالب

4. محمد بن جعفر بن ابی طالب

5. سلمان فارسی

6. مقداد بن الاسود

7. ابوذر غفاری

8. عمار بن یاسر

9. حذیفه بن یمان

10. خزیمه بن ثابت

11. ابو ایوب انصاری

12. ابوهیثم مالك بن تیهان

13. ابی بن كعب

14. سعد بن عباده الخزرجی

15. قیس بن سعد بن عباده

16. حجر بن عدی الكندی

17. عمرو بن حمق خزاعی

18. اسامه بن زید بن حارثه كلبی

اسامی فوق جزء اولین گروه از طبقات شیعه هستند كه در حوزه درس پیامبر خدا و وصی او حاضر شده و بهره ها برده اند. كسانی كه قرآن و عترت را با هم جمع نموده و در دوران آشفتگی سیاسی، مبانی عقیدتی خویش را از دست نداده اند بلكه در جهت نشر آن اهتمام ورزیده اند.

این دوره 29 راوی از شاگردان مكتب صدیقه طاهره را نیز در خود جای داده است، كه از آن حضرت حدیث نقل نموده اند.[11]

دوره چهارم (60ـ41 ه.ق)

این دوره بیست ساله شامل خلافت و امامت حضرت امام حسن مجتبی ـ علیه السلام ـ و قسمت عمده امامت امام حسین ـ علیه السلام ـ می باشد. با شهادت حضرت علی ـ علیه السلام ـ خلافت از پایگاه عالی تربیت و خاندان رسالت به دست كسانی چون معاویه افتاد. حیله های عمرو عاص و اموال معاویه مردم را فریفت و از حق دور نمود. رسالت امام حسن و امام حسین ـ علیهما السلام ـ در دوران حكومت معاویه شناساندن خیانتها و نمایاندن مكرهای دشمن حق و عدالت بود. تنها با تدبیر و حكمت می شد در مقابل سالوس جهل و جعل حدیث ایستاد. چه معاویه پیش از آنكه تهاجم نظامی نماید، تهاجم فرهنگی می كرد و با تشبث به مقدسات برای كوبیدن مقدسات اقدام كرده بود.

در این دوره حضرت امام حسین ـ علیه السلام ـ نیز بسان برادرش با جهاد فرهنگی مفاهیم اساسی اسلام را با سخنان خویش روشن ساخت و اصطلاحات اسلامی را كه از سوی امویان تحریف گشته بود، احیا نمود و به تربیت شاگردان پرداخت تا مفاهیم اصیل قرآنی را در اقصی نقاط جهان منتشر نمایند. جمع راویان آن حضرت 99 تن می باشند.[12] كه شماری از احادیث در زمینه اصول اعتقادی و فروع احكام را از امام سوم شیعیان نقل نموده اند. از جمله مباحث این عصر بحث قضا و قدر و مسأله جبر است كه امویان در توسعه این بینش تلاشهای فراوانی می نمودند. چنان كه این مباحث از مسایل روز حوزه های درسی گردیده بود. «حسن بصری» از رجال معروف آن عصر در ضمن نامه ای مفهوم قضا و قدر را جویا می شود و امام در جوابش می نویسد:

«از آنچه در مفهوم «قدر» به تو شرح می دهم پیروی كن كه چنین شرحی از ویژگی های ما اهل بیت است.

دوره پنجم (ماه رجب سال 60 تا ماه صفر سال 61 ه.ق)

این دوره مصادف با حكومت معاویه بود كه امام حسین ـ علیه السلام ـ به فعالیت های فرهنگی و تربیت شاگردان اهتمام داشت.

دوره ششم (95 - 61 ه.ق)

این دوره، روزگار امامت امام چهارم حضرت علی بن الحسین ـ علیه السلام ـ است. امام سجاد ـ علیه السلام ـ چه در دوران اسارت و چه بعد از آن تفسیر نهضت حسینی را عهده دار شد و فلسفه سیاسی اسلام را در مورد رهبری اسلامی و مدینه قرآنی روشن ساخت. «صحیفه سجادیه» كه به زبور آل محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ شهرت یافته، طرح كلی مدینه فاضله اسلامی در قالب دعا است.

وی 173 راوی حدیث دارد[13] كه از شاگردان مكتب او به حساب می آیند و در این میان دو فرزند بزرگ به جهان اسلام عرضه داشته كه در علم و فقاهت و جهاد و شهادت اسوه شیعیان گردیدند.

زید بن علی بن الحسین ـ علیه السلام ـ كه به «حلیف القرآن» (هم پیمان قرآن) شهرت یافته بود به قیام خونین دست زد تا در طلب خون جدش برآید و امر به معروف و نهی از منكر نماید و امام محمد باقر ـ علیه السلام ـ كه بزرگ مرزبان فرهنگی شیعه در عصر اموی گردید هر دو از فرزندان و تربیت یافتگان مكتب امام سجاد ـ علیه السلام ـ بودند همچنین امام سجاد ـ علیه السلام ـ به پیروی از پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ در نشر پیام عاشورا از شاعران متعهد و متدین بهره جست و آنان را با پاداشهای دنیوی و اخروی مورد تمجید قرار داد.

دوره هفتم (148 - 95 ه.ق)

در این دوره حوزه علمیه مدینه از رهبری و تربیت دو امام، حضرت امام محمد باقر ـ علیه السلام ـ و حضرت امام جعفر صادق ـ علیه السلام ـ بهره برد. در عصر صادقین ـ علیهما السلام ـ به موجب اوضاع مساعد اجتماعی زمینه طرح و گسترش علوم اهل بیت ـ علیهم السلام ـ فراهم گشت و هزاران دانش پژوه فقه و اصول و تفسیر و عقاید و... در حوزه آن دو پیشوای رستگاری و علم حاضر شدند و علوم اهل بیت ـ علیهم السلام ـ را در سرزمینهای اسلامی و غیر اسلامی منتشر ساختند.

در این عصر انقراض امویان، بر سر كار آمدن عباسیان، پیدایی داعیانی بسان ابوسلمه خلال و ابومسلم خراسانی، تأسیس شعبه ای دیگر از حكومت اموی در اسپانیا پیدایی نهضت ترجمه، گسترش مجادلات كلامی از جمله مسایلی بودند كه در جامعه اسلامی مطرح شدند و می بایست امامان شیعه به تمامی این امور پاسخ دهند و حركتی در خور هر یك از آنان داشته باشند تا امت اسلامی را از گرداب پرتلاطم زمان خویش رهایی بخشند و نور قرآن را بر جان امت اسلامی بیفشانند و عطر محمدی را با مشام آنان آشنا سازند. پرورش مرام شناسان و گسترش فرهنگ قرآنی، آموزش فقه و احكام عبادی، سیاسی و اقتصادی مردم، نشر علم اخلاق و عرفان ناب، تأیید قیامها و اقدامها و احیای فرهنگ عاشورا و مطرح نمودن رهبری معصوم ـ علیه السلام ـ با ارج نهادن به شعر حماسی و شاعران متعهد از جمله فعالیتهای این دوره حوزه مدینه منوره در عصر امامت است.

زمان امامت حضرت امام باقر ـ علیه السلام ـ (از سال 95 تا 114 هجری) عصری بود كه دعاهای امام سجاد ـ علیه السلام ـ به بار نشست و امت را از حماسه عاشورا و رهبری در مدینه فاضله اسلامی آگاهانید و خاندان اموی دوران سقوط را پشت سر نهادند و امت اسلامی كه با كلام پیام آور عاشورا از نهضت سرخ حسینی درس دینداری و عشق و ایثار آموختند، بی محابا بر حوزه مدینه وارد گردیدند تا از علوم اهل بیت ـ علیهم السلام ـ بهره برند. رژیمهای سیاسی به موجب اختلافات داخلی ناتوان از مقابله با این حركت دینی و نهضت علمی شدند. لذا امام باقر ـ علیه السلام ـ فرصت را غنیمت شمرده، دست به انقلاب عظیم فرهنگی زد تا امت را با دین خدا و كتاب آسمانی و مدینه فاضله قرآنی آشنا سازد و از این رو به لقب «باقر» شهرت یافت.

یعقوبی نویسد:

«بدان سبب باقر نامیده می شود كه علم را شكافت.»

استاد ابوزهره درباره مرجعیت عام امام باقر ـ علیه السلام ـ می نویسد:

«امام باقر ـ علیه السلام ـ وارث امام سجاد ـ علیه السلام ـ در امامت و هدایت مردم بود. از این رو علمای تمام بلاد اسلامی از هر سو به محضر او می شتافتند و كسی از مدینه دیدن نمی كرد جز اینكه به خدمت او شرفیاب شده، از علوم بی پایانش بهره ها می گرفت.»[14]

ابواسحاق وقتی به او مراجعه نمود و مقام بسیار بلند و اعجاب انگیز علمی امام باقر ـ علیه السلام ـ را در علوم مختلفی چون فقه و حدیث و احكام حلال و حرام مشاهده كرد، در توصیف وی گفت:

«لمْ ار مثله قطُ.»[15]

«مثل او هرگز كسی را ندیده ام.»

لیكن دوری مردم از عصر رسالت و منع تدوین حدیث تا قرن دوم هجری باعث رسوخ انحرافاتی در احادیث اهل سنت گشته بود. امام باقر ـ علیه السلام ـ به عنوان وارث علم پیامبر و پدران معصومش، مواضع اهل بیت ـ علیهم السلام ـ را در فقه روشن ساخت. روش آن حضرت در روشن نمون مسائل فقهی بر مبنای كتاب و سنت بود و استدلال فقهی ایشان از چنان قوتی برخوردار بود كه آشنایان به كلام ایشان را وا می داشت تا به نظر فقهی كه صادر كرده، گردن نهند.

روایت قیس، نمونه ای از استدلال امام به كتاب و سنت است كه نفوذ كلام ایشان را نشان می دهد. محول بن ابراهیم از قیس بن ربیع روایت می كند: از ابواسحاق درباره مسح برخُفین (چكمه) سؤال كردم، در جواب گفت: مردم را می دیدم كه مسح بر خفین می كردند، تا شخصی از بنی هاشم كه «محمد بن علی بن الحسین» بود را دیده، درباره مسح برخفین از او سؤال كردم. فرمود:

«امیرالمؤمنین علی ـ علیه السلام ـ بر خفین مسح نمی كرد و آن حضرت می فرمود: كتاب خدا نیز آن را تجویز نكرده است.»

سپس ابواسحاق گفت: از وقتی كه امام مرا نهی فرمود، دیگر مسح بر خفین نكردم. قیس بن ربیع گوید: من نیز از وقتی كه بر مسأله آگاهی یافتم، دیگر بر خفین مسح نكردم.

امام محمد باقر ـ علیه السلام ـ همان گونه كه با استدلال به قرآن و سنت در مقابل استدلالهای سست اصحاب قیاس می ایستاد، موضع خویش را در مقابل فرقه هایی چون «مرجئه» و «خوارج» نیز مشخص می نمود تا امت اسلامی راه رستگاری را از دیگر راههای انحرافی تشخیص دهند.

از دیگر فعالیتهای فرهنگی امام باقر ـ علیه السلام ـ مقابله با جعل حدیث و تهاجم فرهنگی عصر خویش بود كه از سوی یهودیان در جامعه اسلامی پراكنده شده بود. این احادیث كه به اسرائیلیات مشهور است بیشتر در مورد تفسیر، پیامبران سلف و برتری دادن بیت المقدس بر كعبه بود. كلینی نمونه ای از نفوذ اسرائیلیات در جامعه را در روایتی این گونه نقل می كند.

«زراره نقل می كند كه خدمت امام باقر ـ علیه السلام ـ بودم امام در حالی كه در مقابل كعبه نشسته بود فرمود: نگاه كردن به خانه خدا عبادت است.

در همان حال شخصی از قبیله بُجَیْله كه او را عاصم بن عمر می نامیدند نزد امام آمده گفت: كعب الاحبار می گوید: كعبه هر روز صبح برابر بیت المقدس سجده می كند!

امام ـ علیه السلام ـ فرمود: نظر تو در این مورد چیست؟

آن مرد گفت: سخن كعب صحیح است.

امام باقر ـ علیه السلام ـ فرمود: تو و كعب هر دو دروغ می گویید، آن گاه در حال غضب فرمود:

«ما خلق الله عزوجل بقعهً فی الارض احب الیه منها.»[16]

«خداوند متعال بقعه ای محبوبتر از كعبه روی زمین نیافریده است.»

شیخ طوسی 466 تن از اصحاب خاص حضرت امام محمدباقر ـ علیه السلام ـ را بر شمرده است كه راویان حدیث و شاگردان مكتب آن حضرت بوده اند.[17] البته عدد شاگردان ایشان بیش از این رقم است و ما در بین كتب اهل سنت نیز به راویانی بر می خوریم كه از ایشان نقل حدیث كرده اند.

پس از امام محمد باقر ـ علیه السلام ـ امامت و رهبری امت به امام صادق ـ علیه السلام ـ رسید. آن حضرت نیز بسان پدر در ترویج علوم اهل بیت كوشید و تشنگان دانش را از علم الهی سیراب ساخت. از جمله دگرگونی هایی كه در عصر امامت ایشان روی داد تبعید آن بزرگ مرد علم و ایمان و اسوه نیك سیرتان و ملكوتیان به عراق بود.[18] خلفای عباسی تحمل نظاره توان نهضت فرهنگی حوزه امام صادق ـ علیه السلام ـ را نداشتند. لذا با تبعید وی به عراق خواستند بزرگ حوزه علمیه شیعه و دانشگاه فقه جعفری در مدینه را به تعطیل كشانند. لیك تبعید پیشوای مصلحان، باران رحمتی شد تا سرزمین عراق دیگر بار سنگینی قدمهای خلیفه خدا در روی زمین را بر خود حس كند و غرور ایام امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ را در خاطره اش تجدید نماید. شاگردان بسیاری در مسجد كوفه مركز خلافت و امامت حضرت علی بن ابی طالب ـ علیه السلام ـ برگرد وجود فرزندش امام صادق ـ علیه السلام ـ جمع آمدند تا علوم اهل بیت ـ علیهم السلام ـ از فقه و حدیث و تفسیر و... را آموخته، در جهان بگسترانند.

حسن بن علی الوشاء می گفت: در مسجد كوفه نهصد نفر را دیده كه «حدثنی جعفر بن محمد» می گفتند.[19]

كسانی كه از حوزه درس ایشان در مدینه و كوفه بهره برده اند حدود چهار هزار نفر بوده[20] كه شیخ طوسی 3222 تن از ایشان را در كتاب خویش نام برده است.[21]

حضور امام صادق در دو حوزه شیعی مدینه و كوفه موجب گشت تا برخی از رجال اهل سنت چون مالك بن انس» (در حجاز) و «ابوحنیفه» (در كوفه) از علوم وی بهره برند.

بسیاری از محدثین جرأت نقل حدیث از امام صادق ـ علیه السلام ـ را نداشتند. با زوال بنی امیه، حكومت تازه به قدرت رسیده بنی عباس زمام امور را به دست گرفت و كسانی چون مالك توانایی نقل حدیث از وی را در خویش یافتند. لیكن فرزانگانی چون «زراره بن اعین» و «ابوبصیر لیث المرادی» و «محمد بن مسلم» و «برید بن معاویه العجلی» با نقل احادیث صادقین (امام باقر و صادق ـ علیهما السلام ـ) ولایت و امامت آن بزرگان را زنده نگاه داشتند و به نشر علوم آنان كمر همت بستند.[22]

دوره هشتم (183 - 149 ه.ق)

با روی كار آمدن منصور، عصر اختناق دیگر بار روی نمود و با به شهادت رسیدن امام صادق ـ علیه السلام ـ بر شدت آن افزوده گشت. ده سال پس از شهادت امام صادق ـ علیه السلام ـ، خلیفه عباسی منصور دوانیقی در سال 158 قمری درگذشت و موسی بن مهدی عباسی ملقب به هادی تا سال 170 هجری و بعد از وی هارون الرشید تا سال 193 خلافت نمود.

بدین ترتیب عصر امامت حضرت امام موسی كاظم ـ علیه السلام ـ مقارن با خلافت سه تن از خلفای عباسی است.

كارهای فرهنگی در عصر صادقین ـ علیهما السلام ـ با شیوه های مطلوب پیش رفته است. از این رو امام كاظم ـ علیه السلام ـ در امتداد حركت فرهنگی امام باقر و امام صادق ـ علیهما السلام ـ، رهبری علویان و شیعیان را در عصر خلافت عباسی به سوی نهضتی از نوع قیام حسینی سوق داد، به تقویت نیروها پرداخت و زمینه ساز حركتهای انقلابی برای از میان برداشتن دستگاه عباسی شد. چنان كه نوشته اند، هارون درباره آن حضرت می گفت: «می ترسم فتنه ای برپا كند كه خونها ریخته شود.»[23]

به همین علت وقتی امام تحت نظر از مدینه به سوی بغداد خارج می شود، دو كجاوه از دروازه های مدینه بیرون می رود تا نیروهای بازدارنده را به تردید كشند. و زمانی كه امام در بغداد زندانی می شود، سالهای سال در زندانهای انفرادی به سر می برد تا اجازه ملاقات از هر كسی گرفته شود. با این حال شیخ طوسی 271 تن از راویان آن حضرت را در كتاب خویش نام برده است.[24]

دوره نهم (203 - 183 ه.ق)

حوزه دانش اندوزی مدینه منوره در عصر امامت پس از امام كاظم ـ علیه السلام ـ به رهبری امام علی بن موسی الرضا ـ علیه السلام ـ اداره می شد كه در طی بیست سال امامت خویش با حضور در دو حوزه مهم شیعه، مدینه و خراسان فرهنگ سیاسی جامعه را سامان داده، به مبارزات فرهنگی و اعتقادی تحرك بخشید.

پیش از این دوره امت اسلامی در حوزه درس امام صادق ـ علیه السلام ـ با مبانی نظری شیعه و فلسفه سیاسی الهی آن آشنا گشته و در مكتب امام هفتم سطوح عملی آن را از امام معصوم ـ علیه السلام ـ فرا گرفته است. لذا عصر رضوی، عصری است كه مردم بیش از پیش به پیشوایان شیعه روی نموده اند. بنی عباس برای از بین بردن این تمایل دست به حركات سیاسی و تهاجمات فرهنگی زد تا مسأله لزوم رهبر عادل معصوم را از اذهان مردم دور نمایند.

سرعت بخشیدن به ترجمه و نشر افكار و فلسفه های بیگانه و تحریف مبانی اسلامی از سوی علمای ملل و ادیان تحت عناوین پزشكان و كتابداران و اخترشناسان دربار عباسی، از جمله تهاجمات فرهنگی این دوره است تا بدین وسیله امت اسلامی را از قرآن و سنت و مدینه و غدیر به خلافت عباسی و درباری هارون الرشید متمایل گردانند.

حضرت امام رضا ـ علیه السلام ـ برای مقابله با تهاجم فرهنگی عصر خویش، با مناظرات و استدلالات عقلی و نقلی به حراست از باورهای قرآنی پرداخته، می فرماید:

«اذا كانت الروایات مخالفه للقرآن كذبتها.»[25]

«وقتی روایات مخالف قرآن كریم باشند، من آنها را تكذیب می نمایم.»

از طرفی بنی عباس با مطرح نمودن ولایتعهدی امام رضا ـ علیه السلام ـ بر آن شد تا خلافت خویش را در جهت فلسفه سیاسی شیعه قلمداد نمایند. امام علاوه بر بیاناتی كه در مدینه می فرمایند در نیشابور با كلامی كوتاه و روشن تمامی فلسفه الهی سیاسی تشیع را به امت تشنه محمدی عرضه می دارند.

آن حضرت از طریق پدران گرامی اش، از رسول اعظم الهی نقل می كند كه خداوند فرمود:

«لا اله الا الله حصنی، فمن دخل حصنی، أمن من عذابی.»

«لا اله الا الله دژ مستحكم من است، هر كس داخل آن گردد، از عذاب من ایمن خواهد بود.»

پس بعد از لحظاتی فرمود: «بشروطها، و انا من شروطها.[26] با شرایطی كه من یكی از آن شرایط می باشم.» شیخ طوسی نام 317 تن از شاگردان مكتب امام رضا ـ علیه السلام ـ را و عطاردی 360 تن از راویان حدیث ایشان را كه بدون واسطه از آن حضرت به نقل حدیث پرداخته اند در كتاب خویش یادآور شده اند.[27]

دوره دهم (260 - 203 ه.ق)

این دوره به سه تن از امامان شیعه اختصاص دارد كه از نظر مشی فرهنگی و سیاسی، شیوه ای واحد داشته اند و آن به سبب موضع واحدی بود كه خلافت عباسی در برابر آنان پیش گرفته بود. خلافت عباسی با آگاهی از جایگاه اجتماعی ائمه شیعه ـ علیهم السلام ـ، امام رضا ـ علیه السلام ـ را به ولایتعهدی برگزید. چه آنكه حركتهای فرهنگی ـ اجتماعی امامان در طی عصر امامت به جایی رسیده بود كه امت اسلامی امامت و خلافت را حق پیشوایان شیعه می دانستند. از این رو برای مقابله با انقلابات فرهنگی ـ سیاسی، امام رضا ـ علیه السلام ـ به ولایتعهدی انتخاب شد، تا جو سیاسی حاكم بر امت اسلامی از حالت شورش و انقلاب به حال سكوت و سكون برگردد و در صورت موفقیت بر رژیم سیاسی عباسی صحه گذارد.

امامان شیعه ـ علیهم السلام ـ توانسته بودند با مواضع خویش شیعه را از زندانها و شهادتگاهها به متن جامعه برگردانند و تا پایگاه قدرت عالی اسلامی برسانند. لذا سه تن از امامان به ترتیب از سالهای 203 تا 220، 220 تا 254، و 254 تا 260 با فلسفه وحدت موضع، بر آن بودند تا قدرت عباسیان را كاهیده، در صورت امكان به حقوق از بین رفته ای كه در مدینه غدیر بیان گردیده، نایل آیند. اگر هم به حقوق مشروع خود نرسند، حداقل از موضع خویش عقب نشینی ننمایند. همین وحدت روش باعث شد تا این امامان به عنوان «ابن الرضا» (فرزند رضا ـ علیه السلام ـ) شهرت یابند. چرا كه عباسیان از این سه امام آن قدر می هراسیدند كه از امام رضا ـ علیه السلام ـ می هراسیدند و همان گونه كه امام هشتم را از نماز عید باز گردانیدند تا مبادا در پرتو آن نماز به خلافت دست یابد، امام محمد تقی، علی النقی و حسن عسگری ـ علیهم السلام ـ را نیز زندانی و تحت نظر قرار دادند.

با شهادت امام رضا ـ علیه السلام ـ در خراسان (مشهد الرضا ـ علیه السلام ـ) چشمها دیگر بار به سوی مدینه شد. خانه امام رضا ـ علیه السلام ـ كه در آن فرزندش امام محمدتقی ـ علیه السلام ـ ساكن بود و پیشتر خانه امام صادق ـ علیه السلام ـ بوده است. منزلی كه درش همواره به سوی شیعه باز بوده و تشنگان معرفت را سیراب نموده است. امامت امام جواد ـ علیه السلام ـ با سؤالات فقهی كه از ایشان به عمل آمد بر همگان مشخص گشت[28] و شیعه، وی را پیشوای خویش بعد از امام رضا ـ علیه السلام ـ شناخت؛ همان گونه كه برامامت وی نصوصی نیز وارد شده بود.

والی مدینه مأمون را از ماجرا آگاه ساخت و خلیفه عباسی برای دوام رژیم باطل خویش دستور داد تا ایشان را از مدینه به بغداد گسیل دارند. محتمل است پس از رفتن امام جواد ـ علیه السلام ـ به بغداد بار دیگر، دفعاتی به مدینه آمده باشد. در مورد آمدن آن حضرت به مدینه و احترام مردم آن دیار روایاتی در دست است.[29]

امام جواد ـ علیه السلام ـ از دو سو به گفت و گوی علمی فراخوانده می شد: از طرف شیعیان و از سوی مأمون و معتصم دو خلیفه هم عصر وی، كه در همه موارد امام به سؤالات آنان پاسخ می فرمود. شیخ طوسی 113 راوی از راویان حدیث امام محمد تقی ـ علیه السلام ـ را[30] و استاد سید محمد كاظم قزوینی 276 راوی حدیث از مكتب امام جواد (محمد تقی) ـ علیه السلام ـ را نام برده است.[31]

با توجه به این نكته كه ارتباط با امامان شیعه از عصر امام رضا ـ علیه السلام ـ توأم با مشكلات عدیده ای بوده است و شیعیان سؤالات خود را از طریق نامه مطرح می نمودند. امام جواد ـ علیه السلام ـ نسبت به بعضی دیگر از امامان از راویان حدیث بیشتری برخوردار است. حضرت عبدالعظیم حسنی یكی از راویان حدیث امام جواد ناشران علوم اهل بیت در حوزه «ری» است.

امام علی النقی ـ علیه السلام ـ نیز بعد از پدر بزرگوارش همان موضع را با خلفای عباسی ادامه داد و به مرحله ای از حركت فرهنگی توفیق یافت كه امام جماعت حرمین شریفین به متوكل عباسی نوشت: «اگر تو را به حرمین (مكه و مدینه) نیازی هست، «علی بن محمد» را از این دو شهر بیرون كن، زیرا او مردم را به سوی خود فرا خوانده است و گروه زیادی دعوتش را پذیرفته اند.»[32]

«یزداد» پزشك نصرانی دربار عباسی انگیزه فراخوانی امام هادی ـ علیه السلام ـ به سامرا را این گونه بیان داشته است:

«براساس آنچه شنیده ام انگیزه خلیفه از احضار «علی بن محمد» به «سامرا» این بوده است كه مبادا مردم بویژه چهره های سرشناس، به وی گرایش پیدا كنند و در نتیجه حكومت از دست بنی عباس خارج شود.»[33]

متوكل با توجه به فزونی عدد شیعیان و شیفتگان امام در مدینه، در ضمن نامه ای احترام آمیز، به بهانه اشتیاق دیدار، آن حضرت را به سامرا فراخواند.[34] امام هادی ـ علیه السلام ـ به همراه فرزندش امام حسن عسگری ـ علیه السلام ـ با سپاهی چند صد نفری مدینه را ترك گفت و در سامرا به شهادت رسید.

یكی از ترفندهای رژیم عباسی تبعید امامان از شهر خویش و خانه پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ بود. آنان برای جدایی افكنی بین شیعیان و پیشوایانشان، امامان را به مراكز خلافت خود فرا می خواندند. از آن جمله، امام صادق ـ علیه السلام ـ از مدینه به كوفه، امام كاظم و امام جواد ـ علیهما السلام ـ به بغداد، امام رضا ـ علیه السلام ـ به خراسان (مرو، مشهد) ، و امام هادی ـ علیه السلام ـ به سامرا فرا خوانده می شوند.

عمده ترین علت فراخوانی، جدایی بین امت و امام بوده تا امامان شیعه فرصتی برای براندازی حكومت آنان نداشته باشند. امام هادی ـ علیه السلام ـ به همین سبب به مركز خلافت دعوت شد تا دانشگاه شیعه و مراكز فرهنگی سیاسی جهان اسلام به تعطیل كشیده شود. «داویت.م. رونلدسن» گوید:

«گروه زیادی از شهرهای شیعه نشین همچون عراق، ایران و مصر، برای استفاده از محضر او به سوی مدینه می شتافتند.»[35]

شیخ طوسی 185 تن از شاگردان امام هادی ـ علیه السلام ـ را ذكر كرده است كه از مكتب آن بزرگ بهره برده اند.[36] و استاد سید محمد كاظم قزوینی شمار راویان حدیث امام علی النقی ـ علیه السلام ـ را به 346 تن رسانده است.[37]

لازم است یادآوری شود كه امام حسن عسگری ـ علیه السلام ـ در دوران امامت خویش در سامرا بودند و حضرت ولی عصر ـ عجل الله تعالی فرجه الشریف ـ در دیار غربت متولد شدند. شهر مدینه خالی از امام ماند و دانشگاه شیعه كه از عصر رسالت ـ پیش از هجرت ـ كار خود را در این شهر آغاز كرده بود به تعطیلی كشیده شد.

دانش پژوهان حوزه علمیه مدینه

اینك پس از بررسی اجمالی ادوار دهگانه حوزه مدینه منوره در عصر رسالت و امامت، مشاهیر دانش پژوهان و محدثان و مفسران این حوزه از حوزه های علمیه شیعه كه بار علمی بسیار عظیمی را در این دوره های پر مخاطره بر دوش كشیده و دانشگاه علمی شیعه را فروغ بخشیده اند، به اختصار معرفی می گردند:

آل ابی رافع

این خاندان از برترین خانواده های شیعه و از متقدم ترین اسلام آورندگان به دین مبین اسلام هستند. ابورافع در مكه اسلام آورد و دوبار هجرت نمود، یك بار با جعفر بن ابی طالب ـ علیه السلام ـ به حبشه و دیگر بار با رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ به مدینه. وی از جمله كسانی است كه به هر دو قبله نماز گزارده است. بعد از رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ ملازم حضرت علی ـ علیه السلام ـ بود و با آن حضرت به كوفه رفت و خزانه دار امام در كوفه گردید و پس از شهادت امام با حضرت امام حسن ـ علیه السلام ـ به مدینه بازگشت. وی از نخستین دانشمندان شیعه محسوب می گردد. كتاب «السنن و الأحكام و القضایا» از تصنیفات اوست كه روایات آن را از حضرت علی ـ علیه السلام ـ نقل نموده است. «عبیدالله» و «علی» نیز از فرزندان او و از اصحاب حضرت علی ـ علیه السلام ـ و كاتبین ایشان به شمار می روند. كتاب «قضایا امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ» از تصنیفات عبیدالله است. «علی ابن ابی رافع» نیز كتابهای بسیاری در فنون فقه نگاشته كه از آن جمله می توان كتابهای وی در «وضو» و «صلاه» را نام برد. همچنین عبیدالله بن علی بن ابی رافع و عون بن عبیدالله بن ابی رافع و محمد بن عبیدالله بن ابی رافع از راویان احادیث حضرت علی ـ علیه السلام ـ می باشند.

آل أبی شعبه

آل ابی شعبه از بهترین و موثق ترین خاندان شیعه هستند كه احادیث اهل بیت ـ علیهم السلام ـ را نقل نموده اند. «ابوشعبه» از اصحاب امام حسن و امام حسین ـ علیهما السلام ـ است و «علی» و «عمر» فرزندان اویند.

«عبیدالله»، «محمد»، «عمران» و «عبدالأعلی» كه از فرزندان «علی» می باشند همگی از اصحاب امام صادق ـ علیه السلام ـ هستند.

«یحیی بن عمران» از اصحاب امام صادق و امام كاظم ـ علیهما السلام ـ است و «احمد بن عمر بن ابی شعبه» از اصحاب امام كاظم و امام رضا ـ علیهما السلام ـ. افراد دیگری نیز در این خاندان می باشند كه از اصحاب ائمه ـ علیهم السلام ـ و مصنفان كتب حدیث شناخته می شوند.

آل أعین

این خاندان از بزرگان شیعه می باشند كه احادیث اهل بیت ـ علیهم السلام ـ را روایت نموده اند و برخی از آنان در فقه به مدارج عالی نایل شده اند. اوایل این خاندان امام سجاد، امام باقر و امام صادق ـ علیهم السلام ـ را درك نموده اند و تا غیبت كبری باقی بودند و دانشمندانی در فقه و حدیث و قرائت و ادب اسلامی به جهان شیعه ارزانی داشته اند.

«حمران»، «زراره»، «عبدالملك» و «بكیر» فرزندان «اعین» هستند كه هر یك فرزندانی هم داشته و از امامان شیعه به نقل حدیث پرداخته اند.

آل أبی صفیه

«ابو حمزه ثمالی، ثابت بن دینار» بزرگ خاندان آل ابی صفیه است و «محمد» «علی» و «حسین» پسران وی می باشند كه از ثقات شناخته می شوند.

ابوحمزه ثمالی در پیشگاه ائمه ـ علیهم السلام ـ مقامی والا داشت و موفق به ملاقات امام سجاد، امام باقر، امام صادق و امام كاظم ـ علیهم السلام ـ گردید. ابن ندیم كتاب تفسیری را به وی نسبت می دهد.

فضل بن شاذان گوید: امام رضا ـ علیه السلام ـ می فرمود:

«ابوحمزه ثمالی در زمان خویش بسان سلمان فارسی در عصر خود بود و چهار تن از اهل بیت را خدمت نموده است: «علی بن الحسین» ـ علیه السلام ـ، «محمد بن علی» ـ علیه السلام ـ، «جعفر بن محمد» ـ علیه السلام ـ و «زمانی چند از عصر امام موسی كاظم » ـ علیه السلام ـ.

آل أبی اراكه

اسم او «میمون الكندی» است و «بشیر» و «شجره» فرزندان اویند. «اسحاق بن بشیر»، «علی بن شجره» و «حسن بن شجره» نیز از این خاندان هستند كه از ائمه ـ علیهم السلام ـ تعلیم دیده و روایت نقل نموده اند.

آل أبی الجعد

سالم، عبید و زیاد پسران ابی الجعد و از اصحاب امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ هستند.

آل أبی الجهم

از خاندان قابوس بن نعمان بن منذر خانواده بزرگی در كوفه است كه «سعید بن الجهم» از آنهاست. «حسین بن سعید»، «منذر بن سعید»، «محمد بن المنذر بن سعید» و «منذر بن محمد بن منذر ابن سعید» نیز از همین خاندان هستند.

سعید بن ابی الجهم از ثقات حدیث است كه بیشتر از ابان بن تغلب و حضرت صادق و كاظم ـ علیهما السلام ـ روایت نقل كرده است. وی كتابی در انواع بابهای فقه و در قضایا و سنن نگاشته است.

نصر بن قابوس و نعیم قابوسی نیز از این خاندان هستند. نصر بن قابوس از امام صادق، امام كاظم و امام رضا ـ علیهم السلام ـ حدیث نقل نموده است.

آل أبی ساره

«حسن بن ابی ساره» و برادرش «مسلم» و فرزندش «محمد بن حسن» و برادرزادگانش «عمرو بن مسلم» و «معاذ بن مسلم» و «حسین بن معاذ» از این خاندان هستند. «محمد بن حسن بن ابی ساره» از اصحاب امام صادق و امام باقر ـ علیهما السلام ـ است.

بنوالیاس البجلی الكوفی

ابوالیاس از اصحاب امام باقر ـ علیه السلام ـ و امام صادق ـ علیه السلام ـ است و كتابی نیز تألیف كرده است. فرزندش الیاس بن عمرو نیز از مشایخ اصحاب امام صادق ـ علیه السلام ـ و دارای كتاب حدیث است.

بنو عبدربه

«شهاب»، «وهب»، «عبدالرحیم»، «عبدالخالق» و «اسماعیل بن عبدالخالق» از این خاندان شیعه می باشند كه از امام باقر و امام صادق ـ علیهما السلام ـ حدیث نقل كرده اند.

اسماعیل بن عبدالخالق از بزرگان حدیث و فقهای شیعه امامیه است كه كتابی دارد كه جمعی از آن روایت كرده اند.

بنو سوقه

«سوقه» و فرزندانش «حفص»، «زیاد» و «محمد» از ثقات می باشند كه از امام سجاد، امام باقر و امام صادق ـ علیه السلام ـ نقل حدیث كرده اند.

بزرگان و شاگردان حوزه مدینه در صدر اسلام

جابر بن عبدالله بن عمرو الانصاری

وی از شیعیان امیرالمؤمنین علی ـ علیه السلام ـ است كه در طبقه اول روات حدیث جای گرفته و از كسانی است كه «صحیفه فاطمه ـ علیها السلام ـ» را كه در آن نام ائمه اثنی عشر ـ علیهم السلام ـ برده شده، روایت نموده است. جابربن عبدالله انصاری از اصحاب امام حسن، امام حسین، امام سجاد و امام باقر ـ علیهم السلام ـ بوده و نخستین كسی است كه به زیارت مرقد امام حسین ـ علیه السلام ـ رفته است.

جندب بن جناده، ابوذر الغفاری

وی چهارمین مسلمان و خادم رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و از بزرگان صحابه است كه در اثر خشم عثمان به «ربذه» تبعید شد و در آنجا به لقای حق شتافت.

حذیفه بن الیمان

وی از اصحاب رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و صاحب سر آن حضرت و از چهار بزرگ مرد شناخته شده[38] و از جمله كسانی است كه بر حضرت فاطمه ـ سلام الله علیها ـ نماز گزارده اند.[39]

خالد بن زید بن كلیب (ابو ایوب انصاری)

وی از بزرگان صحابه است كه حضرت رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ وقتی به مدینه قدم نهادند در خانه ایشان سكنی گزیدند. او پس از پیامبر از اصحاب امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ به شمار آمد.

خالد بن سعید بن العاص

وی از كسانی است كه در گرایش به دین اسلام بر دیگران پیشی گرفتند و ولایت حضرت علی ـ علیه السلام ـ را پذیرفتند. او به همراه مهاجران به حبشه هجرت كرد و در جنگهای صدر اسلام شركت جست و پس از رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ از جمله دوازده نفری بود كه كار ابوبكر را ناپسند شمرد و مردم را به رهبری معصوم ـ علیه السلام ـ دعوت كرد.

خباب بن الارت تمیمی

وی از اصحاب رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و علی ـ علیه السلام ـ است كه بعد از پیامبر در كوفه سكونت گزید و در سال 37 هجری به دیار باقی شتافت.

خزیمه ذوالشهادتین

وی از بزرگان اصحاب پیامبر خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و حضرت علی ـ علیه السلام ـ است كه در جنگ صفین بعد از عمار به شهادت رسیده است. علت نامگذاری خزیمه به «ذوالشهادتین» این است كه روزی پیامبر از بیابان گردی اسبی خرید. وی گفت: كسی نیست كه بر این خرید شهادت دهد. خزیمه شهادت داد و پیامبر سخن او را تصدیق نمود. و به جای دو شهادت پذیرفت. آن گاه رو به خزیمه كرده، فرمود: چگونه به چیزی شهادت دادی كه در آن جا حاضر نبودی؟ خزیمه گفت: ای رسول خدا من شما را به اخبار آسمانی تصدیق كردم نه به خبرهای زمینی.[40]

عمار بن یاسر

ابویقظان از اصحاب پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و از نخستین ایمان آورندگان به وی است. پدر و مادرش را قریش به جهت خود داری از سب رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ به شهادت رساندند و عمار جانش را نجات داد و دوبار هجرت نمود. پس از رحلت پیامبر از اصحاب حضرت علی ـ علیه السلام ـ گردید و در ركاب آن حضرت در جنگ صفین شربت شهادت نوشید و سخن رسول اعظم الهی ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ تفسیر گشت كه «عمار را گروهی باغی (سركش) خواهند كشت.»

زنان دانش پژوه در حوزه مدینه

از آنجایی كه آموزش علوم، خاص گروه، نوع و نژاد خاصی نیست جامعه زنان نیز از صدر اسلام در فراگیری علوم ـ بخصوص دانشهای دینی ـ شركت فعال داشته اند.

علاوه بر حضرت خدیجه و حضرت فاطمه ـ علیها السلام ـ، گروهی از راویان حدیث نبوی ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ و اهل بیت عصمت و طهارت، زنان مسلمان بوده اند و در نشر معارف قرآنی و علوم اسلامی نقش مؤثر داشته اند.

راویان حدیث نبی اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ عبارتند از:

1. حضرت فاطمه زهرا ـ سلام الله علیها ـ

2. ام سلمه (همسر پیامبر)

3. عایشه

4. حفصه

5. ام حبیبه

6. میمونه

7. زینب بنت جحش

8. اسماء بنت ابی بكر

9. ام هانی (فاخته، بنت ابی طالب)

10. ام الفضل (لبابه)

11. زینب (همسر ابن مسعود)

12. الربیعه بنت مسعود

13. فاطمه بنت قیس

14. ام خالد بنت خالد بن سعید بن العاص

15. ام رومان

16. ام العلا

17. حنساء

18. صفیه بنت شیبه

19. خوله بنت ثامر

20. ام سلیط

21. خوله بنت حكیم

22. حرامه بنت وهب

23. ام الحصین

24. ام مبشر

25. ام هشام بنت حارثه اخت عمر

26. اسماء بنت عمیس[41]

راویان حدیث حضرت امیرالمؤمنین علی ـ علیه السلام ـ نیز در بین این گروه عبارتند از:

1. ام حكیم بنت عمرو بن سفیان الخولیه

2. عمره بنت نفیل

3. نضره الأزدیه[42]

در میان راویان حدیث امام حسن ـ علیه السلام ـ نیز یك بانو احادیث ایشان را نقل كرده است.

1. فاطمه بنت حبابه الوالبیه[43]

او احادیث امام حسین ـ علیه السلام ـ را نیز نقل نموده است.[44]

«ام البراء» از دیگر بانوانی است كه احادیث امام سجاد ـ علیه السلام ـ را نقل كرده است.[45] و «خدیجه بنت محمد بن علی بن الحسین ـ علیه السلام ـ» و «حبابه الوالبیه» از راویان حدیث امام باقر ـ علیه السلام ـ می باشند.[46]

شیخ طوسی - رصی الله عنه - نام دوازده تن از بانوان مسلمان را نیز نام می برد كه راویان احادیث امام صادق ـ علیه السلام ـ می باشند:

1. ام الحسن بنت عبدالله بن محمد بن علی بن الحسین ـ علیه السلام ـ

2. سالمه بنت مولاه أبی عبدالله ـ علیه السلام ـ

لازم است یادآوری شود كه زینب و ام كلثوم، دختران امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ، «اسماء بنت عمیس» و «زینب بنت ابی رافع» نیز از مكتب فاطمه زهرا ـ سلام الله علیها ـ بهره برده و روایاتی از آن حضرت نقل نموده اند. و «فاطمه بنت الحسین ـ علیه السلام ـ» نیز از جمله راویان حضرت فاطمه ـ سلام الله علیها ـ است كه مرسلاً به نقل حدیث ایشان پرداخته است.[47]

اینها همه در حالی است كه تا قبل از ظهور اسلام تنها «هفده» تن از قریش خواندن و نوشتن می دانستند و فقط یك زن قریشی به نام «شفاء بنت عبدالله عدوی» از این نعمت بهره برده بود اما با ظهور اسلام علاوه بر مردان، زنان مسلمان نیز به تحصیل علم رو آوردند؛ چنانكه با اسلام آوردن شفاء به دستور پیامبر خدا، «حفصه» همسر ایشان نیز از او خواندن و نوشتن آموخت.[48]

دوره یازدهم

دوره یازدهم حوزه علمیه پر بركت مدینه از عصر امامت حضرت مهدی - عجل الله تعالی فرجه الشریف - تا غیبت كبری به طول انجامیده است و در عصر غیبت نیز تا قبل از پیروزی انقلاب اسلامی ایران ادامه داشته است. این دوران بسیار طولانی با تبعید و زندانی نمودن و تحت نظر گرفتن شیعیان همراه بوده است و گرایش به اهل بیت ـ علیهم السلام ـ جرمی نابخشودنی تلقی می شد و خشونت و كشتار كه گاهی صورت قتل عام پیدا می كرد، تاوانی بود كه شیعیان این سرزمین مقدس در مقابل پیروی از اهل بیت پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ می پرداختند. لیكن همواره در حدود ثلث جمعیت مردم حجاز را شیعیان تشكیل داده كه با تحمل سختی های روزگار به حیات خود ادامه داده اند.

حرمین شریفین همواره مورد توجه دانشمندان شیعه و عاشقان حضرت ختمی مرتبت ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ بوده است و با وجود اختناقی كه از سوی رژیمهای سیاسی اعمال گردیده، عالمان شیعی به عنوان پاسداری از حریم ولایت در آنجا سكونت اختیار كرده اند یا سالی چند را برای ارشاد و تبلیغ و همدردی و همراهی با شیعیان حجار در آن سرزمین مقدس به سر برده اند.[49]

همواره از عهد اموی تاكنون سعی بر آن بوده است تا با تهمتهای ناروا و تعصبات جاهلی، شیعه را از جامعه حجاز و شهر پیامبر خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ بیرون رانند، لیك نه تهمت آتش سوزی سال 654 مسجد النبی ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ، و نه دستاویزی كه در سال 1088 ه.ق در مكه برای كشتن علمای شیعه قرار دادند، هیچ كدام در اخراج شیعیان مؤثر نیفتاد.[50]

در سال 1157 ه.ق به دلیل رخدادهای عراق و تسلط نادرشاه بر برخی از مناطق تحت سلطه عثمانی ها یكی از علمای شیعه نزد شریف مكه كه آن زمان «امیر مسعود» بود، آمده و گفت: كه با خلیفه عثمانی موافقت شده تا «مذهب جعفری» به رسمیت شناخته شده، در كنار ائمه مذاهب چهارگانه، امامی از جعفریه نیز در مسجد نماز بگذارد. به دنبال این ماجرا، اوضاع آشفته شد و وزیر ترك جده، پیغام فرستاد كه آن شخص را تحویل او بدهند، اما شریف مكه از این كار خودداری كرده در عین حال برای آنكه متهم به تشیع نشود، دستور داد تا در آن شب بر تمامی منابر، «روافض» لعنت شوند.[51]

این شیوه سیاست گذاری بعد از تسلط وهابیان بر عربستان نیز ادامه یافت. چنانكه وقتی «سید محمد تقی آل احمد» برادر جلال آل احمد از سوی مراجع تقلیدی چون آیه الله العظمی سید ابوالحسن اصفهانی و آیه الله العظمی بروجردی به مدینه اعزام گردید تا مسؤولیت ارشاد شیعیان نخاوله را برعهده گیرد، وقتی مسأله ساختن آرامگاهی برای ائمه بقیع - علیهم السلام - را مطرح كرد با قهوه ای مسموم شده و به شهادت رسید.[52] همان گونه كه «شهید ثانی» نیز در مكه دستگیر شد و به شهادت رسید.[53]

دوره دوازدهم

شیعیان حجاز 25% (در حال حاضر تقریباً دو میلیون نفر) از كل جمعیت این كشور را تشكیل می دهند كه در منطقه نفت خیز و استراتژیك منطقه شرقیه و در مرزهای یمن و عربستان و مدینه منوره مستقر هستند.

تا پیش از حاكمیت آل سعود و در دوران حكومت عثمانی ها بر منطقه، شیعیان در مناطق مسكونی خود از نوعی خودمختاری بهره مند بودند، اما با حاكمیت و تسلط رژیم سعودی بر منطقه قطیف و حومه آن، شیعیان به شدت مورد آزار قرار گرفتند و از حقوق اولیه خود نیز محروم شدند.

لذا فعالیت حوزه مدینه فعلاً به طور علنی وجود ندارد و احتمال دارد به طور غیر رسمی احكام و فقه تدریس و تعلیم شود البته برخی از شیعیان در ایران و شهر قم در مركز جهانی اشتغال به تخصیل دارند

پیروزی انقلاب اسلامی ایران تأثیر شگرفی در فعالیتهای فرهنگی ـ سیاسی شیعیان به وجود آورد. چرا كه برپایی جمهوری اسلامی اندیشه دینی وهابی و رژیم سعودی را مورد هجوم قرار داد. از این رو دوره دوازدهم حوزه علمیه حجاز (مدینه منوره) از آغاز پیروزی انقلاب اسلامی ایران شروع گردیده و همچنان ادامه دارد.

واقعه اول محرم 1400 ه.ق (بیست و یكم نوامبر 1979 م.) و تظاهرات وسیع مردم در منطقه شرقی عربستان نمونه های بارزی از این تأثیرپذیری را نشان می دهد.

حوزه علمیه احساء

«أحساء» یا «لُحسا» از مراكز قدیمی تشیع است كه امروزه استانی در شرق عربستان سعودی بر ساحل غربی خلیج فارس و مركز آن شهر «هفوف» می باشد.

دین اسلام از همان سال اول هجری (622 میلادی) با همت و تلاش العلاء بن الخضرمی صحابی و فرستاده رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله ـ، به این سرزمین راه یافت و نخستین مسجدی كه بعد از مسجد النبی ـ صلی الله علیه و آله ـ در آن نماز جمعه برگزار گردید، «مسجد عبدالقیس» از مساجد این دیار است.

تمام مردم احساء مسلمان و نیمی از آن شیعه اند. شیعیان نیز پیرو دو نحله اصولی و شیخیه هستند. قدمت حضور شیعه در این سرزمین به قرن دوم هجری، بلكه همزمان با صدر اسلام است.

با تشكیل دولت صفوی در ایران دانشمندان شیعی از اقضی نقاط جهان به ایران مهاجرت كردند كه برخی از علمای احساء نیز در آن ردیف قرار دارند.

شیعیان احساء عرب بوده، گاه نسبشان به حضرت امام كاظم ـ علیه السلام ـ می رسد. شهرهای «هفوف و المبرز» دو شهری است كه عموماً شیعیان در آن سكنی گزیده اند. شیعیان احساء كه اكثراً در فقه شیعی تخصص داشته و رجال مشهوری همچون «احمد بن فهد»، «ابن ابی جمهور» و «شیخ احمد احسایی» از میان ایشان برخاسته اند، با شیعیان ایران، عراق، قطیف، بحرین، مدینه منوره، كویت، سوریه، لبنان، پاكستان، هند و امارات متحده عربی روابط نزدیك و ای بسا پیوندهای خویشاوندی دارند.

امروزه قاضی امور عرفی شیعیان احساء شیعی جعفری است كه از طرف حكومت تعیین می شود و مقرش در شهر هفوف است.

«احمد بن فهد» از دانشمندان برجسته شیعه است كه در این سرزمین تولد یافته و در حله وفات كرده و دفن شده است. وی كه از علمای قرن نهم هجری است تألیفاتی چون «عده الداعی» و خلاصه التنقیح فی مذهب الحق الصحیح فی شرح الارشاد» دارد.

همچنین از میان دهها دانشمند شیعی كه از این سرزمین برخاسته اند و با تألیفات و تبلیغات خویش حیات شیعی را در این دیار استمرار بخشیده اند به عنوان نمونه باید از «محمد باقر الشخص» نام برد كه ازعلمای قرن چهاردهم هجری است. وی در سال 1314 در «القاره» از روستاهای احساء دیده به جهان گشود و پس از طی تحصیلات مقدماتی راهی نجف اشرف شده، از «میرزا محمد حسین نایینی»، «شیخ محمد رضا آل یاسین» بهره برده، و از این دو فقیه بزرگ اجازه اجتهاد دریافت كرده است. همچنین از برخی دیگر از علمای نجف اجازه روایت اخذ كرد و به نگارش كتب درفقه و اصول و دیگر علوم اسلامی رو آورد. وی در سال 1382 هجری در نجف اشرف دار فانی را وداع گفت.[54]

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . سیره ابن هشام، ج1، ص240 و 246.

[2] . تاریخ القرآن، ابی عبدالله زنجانی، ص52ـ53.

[3] . قرآن هایی احتمالاً به خط حضرت علی ـ علیه السلام ـ به یاگار مانده است كه می توان به نمونه هایی از آنها در «آستان قدس رضوی»، «گنجینه قرآن» و «كتابخانه حضرت علامه امینی در نجف اشرف» اشاره كرد.

[4] . اعیان الشیعه، ج1، ص246.

[5] . ر.ك: قرآن كریم، آل عمران/ 41 و هود/ 70ـ73.

[6] . با پیروزی انقلاب اسلامی ایران و نهضت فرهنگی كه روی داد برخی از پژوهشگران سخنان آن حضرت را گردآوری نمودند، از آن جمله است: «مسند فاطمه الزهرا ـ علیه السلام ـ»، «عطاردی»، «نهج الحیاه»، مؤسسه تحقیقاتی امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ ، «صحیفه فاطمیه»، «جواد قیومی» و «مسند فاطمه الزهراء» شیخ الاسلامی.

[7] . مغازی، واقدی، ج1، ص340ـ354.

[8] . «لا یضیع لله حدّ و انا حاضر»، نهج البلاغه، خطبه 73، صبحی صالح.

[9] . نهج السعاده، تألیف شیخ محمدباقر محمودی، كتاب ارزنده ای است در هشت مجلد كه متن كامل سخنان آن حضرت را با اسناد هر یك از خطبه ها و كلمات فراهم آورده است.

[10] . الغدیر، ج6، ص294، تاریخ الفقه الجعفری، هاشم معروف الحسینی، ص164ـ167.

[11] . مسند فاطمه الزهرا ـ علیها السلام ـ ، شیخ عزیزالله عطاردی.

[12] . رجال طوسی، ص71ـ81.

[13] . رجال الطوسی، ص102 - 81.

[14] . الامام الصادق ـ علیه السلام ـ ، ابوزهره، ص22.

[15] . الامام الصادق و المذاهب الاربعه، اسد حیدر، ج2، ص445 و اعیان الشیعه، ج4، قسم 2، ص20.

[16] . الكافی، فروع، كلینی، ج4، ص239 - 240.

[17] . رجال طوسی، ص102 - 142.

[18] . الملل و النحل، الشهرستانی، ج1، ص147، و چهار امام اهل سنت و جماعت، محمد رئوف توكلی، ص18.

[19] . الامام الصادق، فضل الله، ص129، الامام الصادق و المذاهب الاربعه، ج1، ص67.

[20] . كشف الغمه، اربلی، ج2، ص166.

[21] . رجال الطوسی، ص142 - 342.

[22] . اختیار معرفه الرجال، طوسی، ص137 - 136، وسائل الشیعه، ج18، ص104 - 103.

[23] . منتهی الآمال، باب نهم، فصل پنجم.

[24] . رجال الطوسی، ص342 - 366.

[25] . التوحید، صدوق، ص110، الكافی، ج1، ص95.

[26] . مسند الامام الرضا ـ علیه السلام ـ ، الشیخ عزیز الله العطاردی، ج1، ص44 - 43، عیون الاخبار، ج2، ص134، التوحید، ص25 - 24، معانی الاخبار، ص371، الامالی، ص142، حلیه الاولیاء، ج3، ص192.

[27] . راویان امام رضا ـ علیه السلام ـ در مسند الرضا ـ علیه السلام ـ ، عزیز الله عطاردی.

[28] . الكافی، ج1، ص314، بحارالانوار، ج50، ص99ـ100، اثبات الوصیه، ص113.

[29] . الكافی، ج1، ص493 - 492.

[30] . رجال الطوسی، ص408ـ398.

[31] . الامام الجواد من المهد الی اللحد، السید محمد كاظم القزوینی، مؤسسه الرساله، 1414 ق.

[32] . عیون المعجزات، ص131، بحارالانوار، ج50، ص209.

[33] . بحار الانوار، ج 50، ص161.

[34] . ر.ك: الارشاد، ص333.

[35] . ائمتنا، ج2، ص257، عقیده الشیعه، ص215.

[36] . رجال الطوسی، ص420ـ409.

[37] . الامام الهادی، من المهد الی اللّحد، السید محمد الكاظم القزوینی.

[38] . سید تفرشی در نقد الرجال، در شرح حال جندب بن جناده ابی ذر گوید: «چهار بزرگ مرد، سلمان و مقداد و أبوذر و حذیفه... رضی الله عنهم هستند».

[39] . رجال السید بحرالعلوم، ج2، ص168، الدرجات الرفیعه، ص285.

[40] . رجال السید بحرالعلوم، ج2، ص345، طبقات ابن سعد الكبری، ج4، ص379.

[41] . رجال الطوسی، ص34ـ32.

[42] . همان، ص66.

[43] . همان، ص66.

[44] . همان، ص81.

[45] . همان، ص102.

[46] . همان، ص142.

[47] . مسند فاطمه الزهرا، عطاردی، ص602ـ590.

[48] . ر.ك: فتوح البلدان، بلاذری، ص460ـ456.

[49] . آقای رسول جعفریان در كتاب علل بر افتادن صفویان، بیست تن از شیعیانی را كه در عصر صفوی در مكه یا حرمین شریفین می زیسته اند، نام برده است.

ر.ك: ص360 و ریاض العلماء، ج1، ص35، 67، 109، 115، 240؛ ج2، ص44، 83، 171، 226، 375، 385، 399؛ ج4، ص35؛ ج3، ص363، 367؛ ج5، ص102، 117، 138.

[50] . علل بر افتادن صفویان، ص360، الذیل علی الروضتین، ص164، سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص495. همچنین ص366 مدرك پیشین، به نقل از «سمط النجوم العوالی» ج4، ص528ـ529.

[51] . علل برافتادن صفویان، ص369، تاریخ مكه، ص423، خلاصه الكلام، احمد زینی دحلان، ص184.

[52] . از چشم برادر، شمس آل احمد، ص212.

[53] . ریاض العلماء، ج2، ص375ـ385، تعلیقه امل الامل، ص50.

[54] . دائره المعارف الاسلامیه الشیعه، حسن امین، ج1، جزء سوم، ص91 ـ 79؛ دائره المعارف تشیع، بنیاد اسلامی طاهر، ج1، ص498 ـ 500.

سيد عليرضا سيد كباري - حوزه هاي علميه در گستره جهان، ص133

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:6 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اقدامات پیامبر(ص) در مدینه
1. بنای مسجد

تأسیس مسجد باید یكی از نخستین اقدامات رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در مدینه شناخته شود. «مسجد» كه پیش از آن نیز در قبا تأسیس شده بود با ساده‌ترین امكانات سرپا شده و بعدها نقش مهمی را در فرهنگ و تمدن اسلامی ایفا كرد. اخباری كه درباره بنای مسجد به دست رسیده گرچه مفصل است اما اختلافات چندی نیز با یكدیگر دارد. گفته شده است كه پیش از ورود آن حضرت، اسعد بن زراره با جمعی از مسلمانان از زمینی كه در حوالی خانه ابوایوب انصاری ـ محل سكونت رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ بود به عنوان مسجد استفاده می‌كرد.[1] در كنار این زمین و متصل بدان «مرْبدی» قرار داشت كه عبارت بود از زمینی كه حیوانات اهلی را در آن نگاه می‌دارند. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ این زمین را كه بنا به برخی نقلها، در گوشه‌ای از آن نخلستانی متروك و حتی قبوری از مشركان وجود داشت خرید و پس از آن تسطیح آن، به ساختن مسجد اقدام نمود. در روایتی این زمین از آن دو یتیم (با نام‌های سهل و سهیل( دانسته شده كه سرپرستی آنان را معاذبن عفراء ـ و در روایتی اسعد بن زراره ـ[2] بر عهده داشته است با اینكه آنان راضی به تقدیم زمین بودند، رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ جز به خرید آن رضایت نداد. طبری با نقل این روایت روایت درست را آن می‌داند كه زمین از آن «بنی النجار» بوده و پس از آنكه آنان زمین را واگذار كردند، رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ به تسطیح آن پرداخته و مسجد را بنا كردند. به نقل وی پیش از بنای مسجد آن حضرت در زمین مسطحی كه پیش از آن محل نگهداری گوسفندان بوده نماز می‌گزاردند.[3] در این روایت هیچ سخنی از دو یتیم به میان نیامده است گرچه محتمل است كه خبر اینكه از بنی النجار بوده، منطبق با خبری باشد كه زمین را متعلق به دو یتیم دانسته است.

این نیز محتمل است كه چنین اختلافاتی در اخبار مربوط به مسجد (علاوه بر اینكه مربوط به حداقل دو بار ساختن آن در سال اول و سال هفتم است، و با یكدیگر آمیخته شده) ناشی از این باشد كه مسجد در چند قطعه زمین بنا شده و هر قسمتی از آن به صورتی بوده یك قسمت مِرْبد، (یا: مُربد) یك قسمت نخلستانی متروك و یك قسمت نیز قبرستان مشركین. درباره این قبرها گفته شده كه به دستور رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ آنها را تخریب كرده و استخوان‌های آنها را در جای دیگری زیر خاك كردند. در آغاز تنها دیواری ساخته شد كه سقفی نداشت، پس از آن ستون‌هایی از درخت خرما قرار داده و سقف را با شاخه‌های خرما پوشاندند. به طوری كه در هنگام آمدن باران سطح مسجد گِلی شده و در سجده، پیشانی رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ و مردم گِل آلوده می‌شد. در آن زمان قبله به سمت شمال (بیت المقدس) بود. درباره مساحت نخست مسجد نیز گفته شده است كه70 ذرع دیوار شمال به سمت جنوب و60 ذرع عرض آن از غرب به شرق بوده است.[4] به نقل مورخان رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ خود از نزدیك در ساختن مسجد مشاركت داشت.[5] به نقل ابن سعد آن حضرت خود در آوردن سنگ‌ها كمك می‌كرد و زیر لب زمزمه می‌كرد:

اللهم لا عیش الا عیش الاخره فاغفر الانصار و المهاجره

مسجد رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ تا سال هفتم هجری همان بنای نخستین را داشت و تنها در این سال بود كه پس از بازگشت مسلمانان از خیبر و افزایش جمعیت آنان بر وسعت مسجد افزوده شد.[6] مسجد در دوران حیات رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ مركزیت عبادی، نظامی و سیاسی داشته و با توجه به فضایی كه اسلام در اندیشه و عمل جامعه جاهلی ایجاد كرده بود، نقشی اساسی در شكل‌دهی جامعه اسلامی جدید داشت. بدین ترتیب ساختن مسجد از نخستین گامهای بنای جامعه جدید باید تلقی شود. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ دركنار مسجد دو خانه، به همان سادگی دیواره‌های مسجد (و در واقع دو اتاق) برای همسران خود ساخت در كنار آن خانه‌ای برای علی ـ علیه السّلام ـ و فاطمه ـ علیها السلام ـ بنا گردید، دیگر صحابه نیز در اطراف آن خانه‌هایی بنا كردند كه در ضمن دری نیز به مسجد داشت.[7]

2. پیمان برادری میان مسلمانان:

یكی دیگر از اقدامات نخست رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در مدینه ـ و در روایتی پیش از آن در مكه ـ برقرار ساختن پیمان برادری میان مسلمانان به صورت دو به دو بود. این عقد برادری را مؤاخاه نامیده‌اند و بیشتر سیره نویسان، پس از بنای مسجد از آن یاد كرده‌اند. درباره زمان دقیق آن اختلاف نظر وجود دارد. برخی برآنند كه پنج ماه پس از هجرت بوده؛ برخی دیگر نه ماه گفته‌اند، دیگران در زمان بنای مسجد و یا پیش از آن را معین كردند. برخی دیگر یكسال پس از هجرت را.[8]

اختلاف دیگر آن است كه آیا این عقد اخوت در میان مهاجرین و انصار بوده، یعنی یك مهاجر با یك انصاری، یا در میان مهاجران بوده است. ابن اسحاق تنها از عقد برادری مهاجرین و انصار یاد كرده است.[9] در میان كسانی كه برادر یكدیگر خوانده شده‌اند گاه دو مهاجر و گاه یك انصاری با یك مهاجر دیده می‌شود. به نظر چنین می‌آید كه (همان طور كه برخی مورخان) دوبار عقد مؤاخاه بسته شده است. یك بار در مكه در میان مهاجران بود مانند عقد اخوت ابوبكر با عمر،[10] حمزه با زید بن حارثه، عثمان و عبدالرحمن بن عوف،[11] زبیر و ابن مسعود، عبیده بن حارث با بلال و... خود رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ با علی بن ابیطالب ـ علیه السّلام ـ.[12] بار دوم پیوند اخوتی بود كه در مدینه و میان انصار و مهاجرین بسته شد.[13]

قاعدتاً مشكلی كه مهاجران در مكه داشتند و هر كدام طبعاً عُلْقه‌های قبیله‌ای خود را تا حدودی قطع كرده بودند، ایجاب كرده بود تا پیوند مؤاخاه در میان آنان مطرح شود. در این میان افرادی كه در مكه با یكدیگر عقد مؤاخاه داشتندـ‌ گر چه بعداً در مدینه از انصار برادرانی یافتندـ اما بیشترشان پیوندهای اخوت پیشین را حفظ كردند.[14]

این پیوندكه طبعاً ایجاد آن بر اساس وجوه اشتراك آنان با یكدیگر بوده، بعدها همچنان حفظ شد. آثار آن را در پیوندهای سیاسی بعدی ابوبكر و عمر،و عثمان و عبدالرحمن‌بن‌عوف (در شورای بعد از درگذشت عمر) و نیز میان زبیر و ابن مسعود شاهدیم زمانی كه عبدالله‌بن‌مسعود با عثمان درگیر شد، زبیر از عبدالله دفاع كرد و زمانی كه عبدالله در گذشت زبیر بر او نماز خواند نه عثمان.[15]

درباره عقد اخوت میان رسول خداـ صلی الله علیه و آله ـ و امیرالمؤمنین ـ علیه السّلام ـ تردیدی وجود ندارد.[16]تنها تردید ابراز شده از سوی ابن تیمیه است كه علاوه بر انكار عقد اخوت در میان مهاجران، گفته است: مواخاه برای تألیف قلوب با یكدیگر بوده و معنی ندارد كه رسول خدا با كسی عقد مواخاه بسته باشد. باید توجه داشت كه ابن تیمیه فی حد نفسه در صدد انكار بیشترین فضائل امام المتقین علی بن ابی‌طالب ـ علیه الصلاه و السّلام ـ است. وی در این باره مورد اعتراض شدید دیگر اهل سنت از جمله سمهودی و شامی، عسقلانی و دیگران قرار گرفته است. علاوه بر دهها نص تاریخی، ابن تیمیه به قیاس در برابر نص دست زده است.[17]

بلاذری در بیان افرادی كه با یكدیگر عقد اخوت داشته‌اند، در آغاز«برادران مهاجر» را یاد كرده و در ادامه از «برادران مهاجری و انصاری».[18] این نیز تأییدی است بر این كه مواخاه دوباره صورت گرفته است. از گزارشات مورخان چنین بدست می‌آید كه در مدینه در یك مجلس حدود45 تن انصاری با45 تن مهاجران با یكدیگر عقد مواخاه بسته‌اند، گرچه در ادامه با ورود مهاجران جدید این عقد اخوت استمرار یافته است. بلاذری نوشته است هیچ مهاجری بدون برادر وانهاده نشد.[19] گزارشهایی نیز درباره «عقد خواهری» در میان زنان مؤمن در دست است. گفته شده است كه حضرت فاطمه ـ سلام الله علیهاـ با ام سلیم عقد خواهری داشته است.[20] در نقل دیگری از رسول خدا آمده كه خواهران مؤمن عبارتند از میمونه بنت الحارث و ام الفضل سلمی و اسماء.[21]

این پیمان بر اساس«حق و مواساه»صورت گرفته است. در بسیاری از نقلها آمده است كه یكی از پایه‌های دیگر این اخوت برقراری «توارث» میان آنان بوده است:«یتوارثون بعد الممات دون ذوی الارحام»[22] از امام باقرـ علیه السّلام ـ نیز روایت شده است كه «انّهم كانوا یتوارثون بالمؤاخاه».[23] چنین پیوندی می‌توانسته بسیار مستحكم باشد. گفته شده است كه «توارث» بعدها ملغی گردید و «ذوی الارحام» جای آن را گرفت. در واقع طبیعی قضیه نیز همین بوده زیرا مهاجران در آغاز، بیشترشان پیوندهای خود را با ذوی الارحام مشرك رد كرده بودند، اما به تدریج این پیوندها (با مسلمان شدن و هجرت كردن آنان به مدینه) تقویت شد. به علاوه اسلام با آن كه در از میان بردن پیوندهای قبیله‌ای و حلفهای جاهلی تلاش كرد، اما بنیاد خانواده را پایدار و تقویت آن را لازم می‌شمرد. به روایت ابن سعد زمانی كه آیه «وَ اوُلوُا الارْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللهِ انَّ اللهَ بِكُلِ شَیءٍ عَلیم.[24] » نازل شد، حكم پیشین را نسخ كرده و مؤاخاه در میراث منتفی شد و هر كسی به نسب و ورثه خود بازگشت داده شد.[25] این مسأله در جریان بدر منقطع شد و ظاهراً واقدی گمان كرده كه به طور كلی مؤاخاه پس از بدر صورت نگرفته ـ ‌در حالی كه مؤاخاه تا مدتها ادامه داشته است ـ به همین دلیل او عقد مؤاخاه سلمان با ابوالدرداء[26] را منتفی دانسته است، زیرا سلمان در فاصله میان احد و خندق اسلام آورد.[27] این درست است كه توارث برداشته شد، اما اصل مؤاخاه باقی ماند.[28] گرچه باید گفت كه در«شكل» پیشین نبوده و طبعاً به صورت دو به دو، چندان ضرورتی نیز نداشته است.

آن چه اهمیت بیشتری داشت، اخوت تمامی مؤمنان با یكدیگر بود كه در سال نهم هجرت در سوره حجرات مورد تأكید قرار گرفت«انّمَا الْمُؤْمِنُون اِخْوَه[29]» مسأله خانواده حكم خاص خود را دارد اخوت مؤمنان نیز جای خود. خداوند در سوره احزاب نیز پس از آن كه همسران رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ را «امّهات المؤمنین» خوانده یادآور شد كه «و اُولوا الاَحام بَعْضُهَمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ الله مِنَ الْمؤمِنینَ و المُهاجرین».[30] برخی گفته اند این آیه نفی توارث در مؤاخاه بوده است.

اهمیت عقد مؤاخاه در شرایط سال نخست هجرت كاملاً قابل درك است. این مسأله در درجه اول برای حمایت از مهاجران بی سر پناه بوده است. لذا نقل شده است كه: آخی رَسُولُ الله بَیْنَ اَصْحابِهِ، آخی بَیْنَ الفَقیرِ و الغَنی لِیَرُدّ الغَنِیّ عَلَی الْفَقیر،[31] زمانی كه سعد بن ربیع انصاری با عبدالرحمن بن عوف برادر شد پیشنهاد كرد تا «ان یناصفه اهلَهُ و ماله».[32] سهیلی تحلیل جالبی از مؤاخاه كرده: «رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در زمانی كه به مدینه درآمد میان اصحاب خود عقد مؤاخاه بست تا وحشت غربت را از میان آنان بردارد و پس از مفارقت اهل و عیال، آنان را با یكدیگر مأنوس سازد و برخی را كمك برای دیگران قرار دهد؛ اما و زمانی كه اسلام عزت یافت، قلوب با یكدیگر انس یافت و وحشت از میان رفت خداوند آیه «اوالارحام» نازل كرد و همه مؤمنان را با یكدیگر برادر ساخت.»[33]

از مهمترین اهداف این مؤاخاه می‌توانست تأكید بر ایجاد اخوت ناشی از ایمان به خداوند باشد این مسأله در كاستن از قدرت حلف‌ها و پیمانهای جاهلی اهمیت زیادی داشت، به ویژه كه این پیمان بر اساس در حق بود در حالی كه پیمانهای جاهلی تعریف خاصی برای حق جز منافع قبیله‌ای نداشتند (مگر در حلفی چون حلف الفضول). ایجاد روحیه تعاون و همكاری و تأكید بر «الفت همگانی» و اتحاد جامعه بر اساس برادری اسلامی از نتایج قطعی چنین عقدی بوده است. در واقع، باید این اقدام را پس از ساختن مسجد (خانه خدا و متعلق به همه مردم و همه قبایل) دومین اقدام ضروری برای تقویت بنیه جامعه اسلامی دانست. چنین تحولی از جامعه قبیله‌ای جاهلی به امت اسلامی، مهمترین مسأله برای رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در دعوت اسلامیش بوده است.

3. نخستین قانون اساسی امت واحده:

حضور قبایل مختلف و طوایف متعددی كه در مدینه زندگی می‌كردند بر طبق سنتهای جاهلی، سبب نزاع و اختلافات بود. افزون بر آن، قبایل یهودی علاوه بر مسائل قبیله‌ای، تعارض تازه‌ای با مسلمانان پیدا كرده و بر زمینه‌های اختلاف و تعارض افزوده بودند. این اختلافات می‌بایستی از میان می‌رفت تا امكان تشكیل یك «دولت» فراهم شود. در برخی موارد، این اختلاف باید از اساس محو می‌گردید. این موارد عبارت بود از اختلافات موجود میان قبایل مسلمان. در مواردی نیز می‌بایست بر اساس مصالح سیاسی و یا سیاستهای اصولی كه اسلام در ارتباط با ادیان دیگر مطرح می‌كرد، حل و فصل می‌شد. در این قسمت در درجه اول، یهود، پس از آن‌ها مشركان مسلمان ناشده مدینه و پس از آنان مسیحیان نجران قرار داشتند. تشكیل چنین دولتی كه بتواند در محیطی با این تشتت، قدرت برتر خود را حفظ كند مشروط به ایجاد انسجام در میان مردم بود. در آغاز مسلمانان و پس از آن ایجاد توافق با یهود.

تا آن‌جا كه به اسلام و مسلمانان مربوط می‌شد، آموزه‌های اسلامی مهمترین ركن اتحاد به شمار می‌رفت. هرچند به لحاظ آن‌كه اسلام در آغاز راه بود، نباید چندان سختگیری می‌شد. مهمترین آموزه، قوت بخشیدن به گرایش توحیدی در جامعه و به وجود آوردن یك عقیده مشترك به خداوند بود. البته توحید، تنها عبارت از پذیرفتن یك ذات واحد و حتی عبادت او نبود، بلكه توحیدی مورد نظر بود كه خداوند را به عنوان حاكم و صاحب «ولایت» مطرح كرده و رسولی را نیز برای اعمال این حكم و ولایت به میان مردم بفرستد. بر این اساس، مسلمانان باید مطیع خداوند و رسول او باشند. این اطاعت مهمترین ثمره سیاسی عقیده توحید و اساسی‌ترین اصل برای ایجاد «وحدت» به شمار می‌رفت. حاصل چنین وحدتی شكل‌گیری امّت[34] واحده بود و تشكیل امّت واحده برای تشكیل دولت و نظام امری بس ضروری. پیش از آن در عقد برادری و قبل از آن در ساختن مسجد، بر این وحدت تأكید شده بود. مسجد محلی متعلق به خدا و پس از آن متعلق به همه مؤمنان بود بدون آنكه هیچ امتیاز قبیله‌ای یا جز آن، مطرح باشد.

جنبه اثباتی نگرش توحیدی، تحكیم پیوند همه مؤمنان با خداوند و جنبه منفی آن مربوط به كاستن از نفوذ معیارهای قبیله‌ای بود. این معنی كه «حكم تنها اختصاص به خداوند» دارد، در همان سوره‌های مكی نیز مورد تأكید قرار گرفته بود.[35] بعدها در آیات مدنی نیز در عبارتهای مختلف گوشزد شد: «أفَحُكْمُ الجاهِلیَّه یَبْغُون و مَنْ أحْسَنُ مِنَ اللهِ حكماً لقومٍ یوقنون».[36] «یا أیّها الّذینَ امَنوا اَطیعُوا اللهَ وَ اَطیعُوا الرَّسولَ وَ أُولی الأمر مِنْكم فإنْ تنازَعْتم فی شیءٍ فرُدُّوه إلَی الله و الرَّسُول إنْ كُنْتم تًؤمِنونَ بِاللهِ و الْیومِ الاخِرِ ذلكَ خَیْرٌ و أحْسَنُ تأویلاً».[37] «و ما كانَ لِمُؤمنٍ و لا مُؤمِنهٍ اذا قَضَی اللهُ و رسولُهُ أَمْراً أنْ یَكُونَ لهم الخیرهُ من أمْرِهِم و مَنْ یَعْصِ الله و رسولَهُ فَقَدْ ضلَّ ضَلالاً مُبینا».[38] تعبیر «اَطیعُوا الله و رسوله»[39] و نظیر آن[40] نیز مكرر در قرآن آمده است.

در این میان، آنچه كه اهمیت فراوان داشت، حل و فصل اختلافات نه در نزد رؤسا و منتفذان محلی بلكه ارجاع آنها به خدا و رسول بود. ایجاد چنین گرایشی در میان قبایلی كه هیچ‌گاه دولتی را تجربه نكرده بودند، امری سخت بوده و نیاز به فرصتی طولانی داشت. آگاهیم كه پس از گذشت ده سال از تشكیل دولت و آن‌گاه كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ رحلت كرد، هنوز بسیاری از قبایل نمی‌توانستند تسلط مدینه را به عنوان یك دولت درك كنند و آن را بپذیرند؛ هر چند اقدامات رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ آن اندازه عمیق و حتی مورد نیاز جامعه عربی در آن روزگار بود كه با وجود گسترده اختلافات قبایلی، دولت اسلامی پایدار بماند و بر قبایل مختلف غلبه یابد.

با وجود این آموزه‌ها، و تنها با اعتماد بر آنها، می‌توان به «قوام دولت» امیدوار بود؛ دولت باید دستورالعمل‌های مشخصی را نیز معین می‌ساخت و بر اساس آنها جریان عملی جامعه را تحت كنترل درآورد. برای این كار، افزون بر قدرت، قوانین مشخصی مورد نیاز است كه بر پایه آن آموزه‌ها، جریان عملی زندگی قبایل مسلمان شده را تنظیم كند. هم حكومت بداند چه می‌كند و هم توده‌های مؤمن تكلیف خود را بدانند. جامعه نیاز به «فقه» دارد؛ فقه به معنای «قانون». در واقع، جدای از آنچه واقع شد، تحول از یك جامعه قبیله‌ای به یك دولت، به طور طبیعی نیازمند قانونی است كه مصالحی فراتر از ساختار قبیله‌ای را در نظر گیرد. قانون جدید باید منطبق بر خواست مردمانی باشدكه از قبایل مختلف فراهم آمده‌اند. طبعاً افزون بر مسأله «زندگی كردن»، آرمان‌ها و باورهای دینی آنها و اعتقادشان به اهدافی مشخص، در شكل‌گیری به این قانون اهمیت دارد.

در جامعه دینی جدید، بخشی از این قانون با دین پیوند دارد. این پیوند از دو سوست، نخست آن كه برخی از قوانین از متن دین گرفته می‌شود. دوم آن كه سایر قوانین باید به گونه‌ای باشد كه مصالح كلی دین و حفظ و حراست از آن را تأمین كند. به سخن دیگر، فقه ایجاد شده، تركیبی است از دستورات خداوند، رسول خدا، و احكام حكومتی كه حاكم اعم از پیامبر و جز او، بر اساس مصالح واقع‌بینانه، برای زندگی دین مدارانه این جامعه ارائه می‌دهند.

تا اینجا، قرآن وجود داشت و رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ نیز در كنار قرآن، قوانینی را برای اداره جامعه جدید مطرح می‌كرد. اما تا آنجا كه به اصل شرع به عنوان وضع قوانین ثابت برمی‌گشت، كار تمام شده نبود. جامعه آن روزگار، مسائل خاص خود را داشت و لازم بود تا بر اساس قوانین قرآنی و پیامبری، شرایط و مصالح موقت آن جامعه در نظر گرفته شود، و قوانینی به صورت منضبط برای اداره جامعه ارائه شود. دینی است كه در هر شرایطی باید به آنها عمل شود بخشی نیز احكام و فقه حكومتی است كه اهداف بالفعل را در نظر می‌گیرد. به هر روی این درست است كه قرآن در دسترس بود اما می‌بایست بر اساس آن، مجموعه‌ای از قوانین تدوین شود تا بتواند این جامعه را در ارتباط با این دولت سر پا نگاه دارد و از سوی دیگر راه را برای تربیت بهتر مردم هموار سازد.

«پیمان عمومی» كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ در همان سال نخست هجرت میان مسلمانان، یهودیان و مشركان یثرب به امضا رساند، نخستین گام برای ایجاد قانون اساسی مبتنی بر قرآن به شمار می‌رفت. حركتی كه بعدها باید در طول تمدن اسلامی ادامه می‌یافت و سرمایه‌ای عظیم برای اندیشه سیاسی در این تمدن سترگ می‌شد.

متن این عهدنامه را سیره‌نگاران به طور كامل آورده‌اند.[41] استاد احمدی میانجی این متن را از منابع متعدد نقل و سپس به شرح آن پرداخته است.[42] این عهدنامه به صورت یك متن مكتوب درآمده و همه مسلمانان یهودیانی كه در آن عهدنامه، از ایشان نام برده شده محتوای آن را پذیرفته‌اند. بخشهایی از آن مربوط به مسائل داخلی مسلمانان، قسمتی مربوط به برخورد دو جانبه یهودیان و مسلمانان و یكی دو نكته نیز درباره مشركان مدینه است.

در آغاز آمده است كه، این كتاب محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ است در میان مؤمنان و مسلمانان از قریش و مردم یثرب و هر كسی كه از آنها پیروی كرده و به آنان ملحق شد و به همراهشان جهاد كرد، آنها «امه واحده» هستند. بنابراین در آغاز، بر یك مفهوم اساسی كه پایه دولت اسلامی را تشكیل می‌دهد، تأكید شده است.

با این حال تركیب قبیله‌ای در جامعه جاهلی یك امر اساسی بوده و تغییر آن بر مبنای امت واحده به این سادگی امكان پذیر نبود؛ لذا به دنبال آن از تك تك قبایل، یاد شده و گوشزد می‌شود كه در چهارچوب امت واحده، نظم و انسجام داخلی قبیله خود را خواهند داشت «انّهم امّه واحده علی رباعتهم» یعنی هر قبیله بر «رباع» خود خواهد بود، «یعنی بر همان وصفی كه در سابق بر آن بوده‌اند.»[43] این امر به ویژه در امر «معاقل» یا «دیات» بود؛ یعنی بر اساس همان پرداخت‌های قبلی در دیه (فعلاً) عمل ‌كنند.[44] دنبال آن تأكید می‌شود كه «كل طائفه منهم تفدی عانیها بالمعروف و السقط بین المؤمنین» هر طایفه‌ای برای اسیر خود فدیه خواهند پرداخت، اما بر اساس معروف و رعایت قسط در میان مسلمانان.

این تعبیرات همراه با ذكر یكایك قبایل و بطون آنها تكرار می‌شود، این تكرار به معنی مشاركت رسمی همه آنان در این «عهد نامه» است. پس از، آن از اصول كلی میان مؤمنان یاد می‌شود:«مسلمانان در میان خود بدهكاری كه بدهی سنگینی دارد رها نمی‌كنند و او را در دادن دیه و یا فدیه یاری خواهند كرد؛ هیچ مسلمانی با موالی[45] یك قوم، بدون حضور آن قوم پیمانی نخواهد بست. دستان مؤمنان و پرهیزگاران را بر ضد هر كسی كه از میان خودشان به آنان تجاوز كرده و یا كسی كه در پی ظلم و دشمنی و ایجاد فساد در میان مؤمنان است با یكدیگر متحد خواهند بود، حتی اگر فرزند یكی از آنها باشد.»[46]

این اصل به ویژه در برتری بخشیدن به معیارهای اسلامی بر پیوندهای نسبی، درخشش خاص خود را داشت:«هیچ مؤمنی، مؤمنی را به خاطر كافری نخواهد كشت و هیچ كافری را بر ضد مؤمنی یاری نخواهد كرد، عهد و امان و حرمت خداوند (ذمّه الله) برای همه یكسان و به یك اندازه است.» هر كسی كه مسلمان شد از حقوقی كه سایر مسلمانان برخوردارند، بهره‌مند خواهد شد. هر كسی كه مسلمانی را پناه داد، پناه او به منزله ذمّه خداوند بوده و پذیرفته خواهد شد. «هر یهودی كه از ما پیروی كرد (مسلمان شد) از او حمایت خواهد شد و به دشمنان او كمك نخواهد شد.» این تأكیدی است بر اینكه هر كس از هر فرقه‌ای مسلمان شد از تمامی حقوق یك مسلمان برخوردار است. «اگر مؤمنان در سِلْم و صلح بر آمدند همه تصمیم خواهند گرفت و هیچ مؤمنی به تنهایی اقدامی نخواهد كرد.»

چنین تصمیمی عملاً بر دوش رهبری خواهد بود، چون تصمیم گیری «عن ملاءٍ» جز به وسیله رهبری امّت كه هدایت امّت واحده را بر عهده دارد، ممكن نخواهد بود. «در زمان جنگ همه گروههای مسلمان یكی پس از دیگری در جنگ شركت خواهند كرد.» در واقع جنگ وظیفه همگان است نه گروهی خاص، لذا همه گروهها به نوبت در آن شركت خواهند كرد تا «كسانی كه در راه خدا خونشان ریخته می‌شود در میان همه گروهها باشد.» نه اینكه بیشتر شهدا از یك گروه خاص باشند. «و اینكه مؤمنان و پرهیزگاران بر بهترین هدایت و استوارترین آن هستند.» این معیاری اساسی است بدین صورت كه تنها محك ارزش گذاری ایمان و تقوا است.[47]

یك مسلمان باید وفادار به این اصل ارزشی باشد. «و اینكه هیچ كس از مشركان یثرب مال و جانی از قریش را پناه نداده و بر ضد مؤمنی آنها را یاری نخواهد كرد.»، «هر كس مؤمنی را بكشد قصاص خواهد شد مگر آنكه ولی مقتول راضی شود. همه مؤمنان باید حمایتگر این امر بوده و برای اقامه آن قیام كنند.»

«هیچ مؤمنی كه اقرار به این صحیفه كرده و به خدا و قیامت ایمان آورده روا نیست تا از فتنه‌گر و بدعت پیشه‌ای حمایت كند و هر كس او را یاری كرده و پناه دهد لعنت و غضب خداوند تا قیامت بر او باد؛ اگر چنین كند فدیه‌اش پذیرفته نخواهد بود.» « و همه شما مؤمنان در هر چیزی كه اختلاف كردید باید (برای حل آن) به خدا و محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ رجوع كنید.» این اصل همانگونه كه گذشت مهم‌ترین آموزه برای ایجاد امت واحده بود. بعد از این، اصولی در ارتباط با یهودیان مطرح می‌شود:«تا زمانی كه مسلمانان مشغول جنگ (بر ضد مهاجمین به مدینه) هستند، یهودیان مخارج خود را متقبل خواهند شد و یهود بنی عوف، امتی در كنار مؤمنان خواهد بود.» پس از آن، یهودیان سایر قبایل عربی از جمله: یهود بنی ساعده، یهود بنی جُشَم، یهود بنی الاوس، یهود بنی ثعلبه، یهود بنی شطبیه نیز همسنگ با یهود بنی عوف شناخته می‌شوند، بدین معنی كه «امّت واحده» را با مسلمانان تشكیل می‌دهند.

در این امت واحده «مسلمانان بر دین خود و یهودیان نیز دین خود را خواهند داشت.» این تأمین عمومی در صورتی است كه «افراد دچار ظلم و خطایی نشوند، در آن صورت جز خود و اهل بیت خویش را نابود نخواهند كرد. برّ و نیكی باید مانع گناه باشد. مولای بنی ثعلبه و مشاوران و نزدیكان (بطانه: صاحب سرّ) یهود نیز در این معاهده داخل هستند و هیچ كس جز به اذن محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ از آن خارج نخواهد شد»؛ «حتی از قصاص در یك جراحت (ساده) نیز گذشت نخواهد شد و كسی كه دیگران را بكشد (به صورت فتك: یعنی پنهان شدن و به طور ناگهانی كسی را كشتن) به فتك كشته خواهد شد. البته اگر كسی ظلم كرد، خارج از این قرار نامه بوده و مورد فتك واقع خواهد شد.» این بدان جهت بود كه همه تأمین كامل داشته باشند، به ویژه سخن نخست كه از قصاص جراحت كوچكی نیز گذشت نخواهد شد، برای تأكید بر این تأمین عمومی بود. استثنای به ظلم نیز خود عاملی برای تهدید (یهود) به ظلم و تجاوز بود. «خداوند بر این صحیفه ناظر است.

یهود مخارج خود را متقبل شده و مسلمانان نیز، و با هر كس كه با اهل این صحیفه به جنگ برخیزد به یكدیگر كمك خواهند كرد؛ و در میانشان نصیحت و صلح حاكم خواهد بود و نیكی مانع از گناه است. با گناه كسی، هم‌پیمان او مؤاخذه نخواهد شد و به مظلوم كمك خواهد شد و مسلمانان و یهودیان، تا وقتی در جنگ هستند مخارج خود را تأمین خواهند كرد؛» این تأكید، در ارتباط با یهودیان كه به عهدشكنی شهره بودند اهمیت داشت. «یثرب برای اهل این صحیفه، حرم خواهد بود.» این امر جز اثبات حرم بودن مدینه بدین معنی بود كه در هیچ شرایطی نباید جنگی میان دو گروه روی دهد.

نكته دیگر آنكه «پناهنده مثل خود فرد بوده، و مورد اضرار واقع نخواهد شد». «در میان اهل این صحیفه (پذیرندگان آن) اگر حادثه‌ای رخ دهد كه ترس (ایجاد) فتنه از آن باشد، (برای حل آن) ، به خدا و رسول ـ صلی الله علیه و آله ـ ارجاع داده خواهد شد. خداوند با كسی است كه این صحیفه را حرمت بدارد.» یهودیان با قریش و كسانی كه آنها را نصرت دهند، تجارت نخواهند كرد و (همراه مسلمانان) با كسی كه به یثرب حمله كند خواهند جنگید. اگر هر كدام از مسلمانان یا یهود طرف دیگر را به پیمان صلح با هم پیمانان خود فراخواند او قبول خواهد كرد مگر آنكه آن هم پیمانان در جنگ با دین (و مسلمانان) باشند. هر جمعیتی صاحب دیاری است كه در آن سكونت دارد. این كتاب، از ظالم و خطاكار حمایت نخواهد كرد. هر كس از مدینه بیرون رود یا در آن بماند ایمن خواهد بود. خدا و رسول، پناه دهنده هر نیكوكار و پرهیزگاری هستند مگر آنكه از او ستم یا خطایی سر زند.»

این «صحیفه» می‌توانست كمك بزرگی به دولت جدید التأسیس باشد. بخش عمده‌ای از آن در جلوگیری از مخالفت یهود با مسلمانان و محدود كردن آنان در ایجاد نفاق و اختلاف در میان مسلمانان بود. آنها از تماس گرفتن با مشركان و تجارت با آنان منع شده بودند و بدین ترتیب، مانع مهمی بر سر راه اتحاد قریش و یهود بر ضد اسلام ایجاد شده بود. این قرارداد، فرصتی مناسبی برای نشر دعوت اسلامی به شمار می‌رفت.[48]

از سوی دیگر مسلمانان كه پیش از آن فقط بر اساس ایمان خود از رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ متابعت می‌كردند، اكنون وفاداری خود را نسبت به اصولی مشخص ابراز كرده و از لحاظ روحی بر اساس ضوابط جدید، آمادگی بیشتری برای «عمل» داشتند. باید توجه داشت كه در این عهد نامه عنوانی برای دولت اسلامی وجود ندارد، اما تعبیر «مؤمنین» حكایت از وجود جامعه اسلامی به رهبری رسول دارد. در واقع تعهدات له و علیه در این قرارداد بر محور «مؤمنان» است.

قبایل عربی از جمله یهود بنی نجار، یهود بنی الحارث، یهود بنی ساعده، یهود بنی جُشَم، یهود بنی الاوس، یهود بنی ثعلبه، یهود بنی شطبیه، نیز همسنگ با یهود بنی عوف شناخته می‌شوند؛ به این معنی كه «امت واحده»‌ را با مسلمانان تشكیل می‌دهند. در این امت واحده «مسلمانان بر دین خود و یهود نیز دین خود را خواهند داشت.» این تأمین عمومی در صورتی است كه «افراد دچار ظلم و خطایی نشوند؛ در آن صورت جز خود و كسان خویش را نابود نخواهند كرد. برّ و نیكی نباید مانع گناه باشد. موالی بنی ثعلبه و مشاوران و نزدیكان (بطانه:صاحب سرّ) یهود نیز داخل در این معاهده هستند و هیچ كس جز به اذن محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ از آن خارج نخواهند شد»؛ «حتی از قصاص در یك جراحت (ساده) نیز گذشت نخواهند شد و كسی كه دیگری را بكشد (به صورت فتك یعنی پنهان شدن و به طور ناگهانی كسی را كشتن) ، به فتك كشته خواهد شد. البته اگر كسی ظلم كرد، خارج از این قرارنامه بوده و مورد فتك واقع خواهد شد.»

هدف از این اصول آن بود كه همه تأمین كامل داشته باشند به ویژه در مورد صرف نظر نكردن از قصاص حتی ساده‌ترین جراحت. استثنای به ظلم نیز خود عاملی برای تهدید (یهود) به ظلم و تجاوز بود «خداوند بر این صحیفه ناظر است. یهود مخارج خود را متقبل شد و مسلمانان نیز؛ و با هر كس كه با اهل این صحیفه به جنگ برخیزد به یكدیگر كمك خواهند كرد؛ و در میانشان نصیحت و صلح حاكم خواهد بود و نیكی مانع از گناه است. با گناه كسی، هم پیمان او مؤاخذه نخواهد شد و به مظلوم كمك خواهد شد و مسلمانان و یهودیان تا وقتی در جنگ هستند مخارج خود را تحمل خواهند كرد.» این تأكید در ارتباط با یهودیان كه به عهدشكنی شهره بودند اهمیت داشت.

«یثرب برای اهل این صحیفه حرم خواهد بود»؛ این امر جز اثبات حرم بودن مدینه به این معنی بود كه در هیچ شرایطی نباید جنگی میان دو گروه درگیر شود. «پناهنده به فرد مثل خود فرد بوده و مورد اضرار واقع نخواهد شد.» «در میان اهل این قرارنامه (پذیرندگان آن) اگر حادثه‌ای روی دهد كه ترس (تولید) فتنه از آن باشد مرجع حل آن حادثه خدا و رسول خواهد بود. خداوند با كسی است كه این صحیفه را حرمت بدارد.«یهودیان با قریش و كسانی كه آنها را نصرت دهند، تجارت نخواهند كرد و (همراه مسلمانان) با كسی كه به یثرب حمله كند خواهند جنگید. اگر هر كدام از مسلمانان یا یهود طرف دیگر را به پیمان صلحی با هم پیمان خود فرا خواند او قبول خواهد كرد مگر آنكه،آن هم پیمان در جنگ با دین باشد. هر جمعیت صاحب دیاری است كه در آن سكونت دارد». ‌«این كتاب از ظالم و خطاكار حمایت نخواهد كرد. هر كس از مدینه بیرون رود یا در آن بماند ایمن خواهد بود. خدا و رسول پناه دهنده به هر نیكوكار و پرهیزگاری هستند مگر آنكه از او ستم یا خطایی سرزند.»

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . نكـ: فتوح البلدان، ص20؛ سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص485.

[2] . دلائل النبوه، ج2، ص538.

[3] . تاریخ الطبری، ج2، صص397 ـ 396؛ دلائل النبوه، بیهقی، ج2، صص 540 ـ 539؛ فتح الباری، ج7، ص 295؛ طبقات، ج1، ص240.

[4] . نكـ: مدینه شناسی، ج1، صص 32 ـ30؛ مساحت مسجد4200 ذرع است كه مساوی است با 186/2071 متر.

[5] . تاریخ الطبری، ج2، ص397.

[6] . طبقات الكبری، ج1، ص240؛ سیر تاریخی تغییر و تحولات مسجد را بنگرید در نوشته دیگر ما با عنوان آثار اسلامی مكه و مدینه، تهران، نشر مشعر، 1377.

[7] . بعد از غزوه بدر رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ (به فرمان جبرئیل) دستور داد تا تمام این درها جز در خانه امام علی ـ علیه السّلام ـ به مسجد، مسدود شود. (سُدوّ الابواب الا باب علی) نكـ: الصحیح، ج4، ص94؛ دلائل الصدق،ج1، صص 22 ـ 21.

[8] . سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص533.

[9] . السیره النبویه، این هشام، ج2، ص 505 ـ 504.

[10] . نك: تاریخ جرجان، ص 96، مختصر تاریخ دمشق، ج9، ص139.

[11] . نك: طبقات الكبری، ج3، ص 56.

[12] . وفاء الوفاء، ج1،ص268؛ المستدرك، ج3، ص14؛ المعجم الكبیر، ج24، ص137.

[13] . تقسیم به دو بار بسته شدن عقد مؤاخاه در: سبل الهدی، ج3، ص527؛ تاریخ الخمیس، ج1، ص353. (از فتح الباری و ابن عبد البر)آمده است.

[14] . برخی نیز اخوت با برادران انصاری را پایدار داشتند درباره بلال و ابورویحه انصاری، نك: اسیره النبویه، ابن هشام، ج2، ص507؛ در تاریخ المدینه،ج3، ص1056ـ1054.

[15] . برخی نیز اخوت با برادران انصاری را پایدار دانسته‌اند، درباره بلال و ابورویحه انصاری، نك: اسیره النبویه، ابن هشام، ج2، ص507 در تاریخ المدینه،ج3، ص1056ـ1054.

[16] . به روایت ابن اسحاق رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ فرمود:«تآخَوْا فی الله اخوین ثم اخذ بِید علی‌بن‌ابی طالب، فقال: هذا اخی» اسیره النبویه، ابن هشام،ج2، ص505(به ادامه بحث نگاه كنید).

[17] . نك: وفاء، ج1، ص128؛ السیره الحلبیه، ج2، ص20؛ سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص534؛ الصحیح، ج3، ص63ـ61(و ارجاعاتی كه در آنجا آمده است)؛ الغدیر، ج3، ص125ـ112(و ارجاعات همان جا)؛ به تصریح ابن عباس، رسول خدا در مدینه نیز علی ـ علیه السّلام ـ را برای اخوت با خود برگزید. نك: سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص528.

[18] . انساب الاشراف، ج1، ص270.

[19] . انساب الاشراف، ج1، ص271.

[20] . تهذیب تاریخ دمشق، ج6، ص11ـ10.

[21] . الاستیغاب، ص400ـ401.

[22] . طبقات الكبری، ج1، ص238.

[23] . مجمع البیان، ج4، ص561.

[24] . انفال،75.

[25] . طبقات الكبری، ج1، ص238؛ سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص528؛ باید توجه داشت كه درست در قسمت نخست همین آیه آمده است«والذین امنوا من بعد و هاجروا و جاهدوا معكم فاولئك منكم» یعنی تأكید بر اینكه آنها از شما هستند گرچه اولو الارحام حكم خاص خود را دارد.

[26] . ثقه الاسلام كلینی روایتی از امام صادق ـ علیه السّلام ـ آورده كه «اَخی رسول الله صلی الله علیه و آله بین سلمان و ابی ذر، و اشترط علی ابی ذر ان لایعصی سلمان» روضه الكافی، ص162؛ درباره آن نك: الصحیح، ج3، ص69ـ68.

[27] . انساب الاشراف، ج1، ص271.

[28] . ابن عباس می‌گوید: كه پس از آن «نصر و نصیحت» باقی ماند نك: سهل الهدی و الرشاد، ج3، ص535.

[29] . حجرات،10.

[30] . احزاب، 6؛ و نكـ : مجمع البیان، ج8، ص339؛ سوره احزاب در سال پنجم هجرت نازل شده است. البته وصیت مستثنی شده چنان كه حمزه در غزوه احد زیدبن‌حارثه را كه با وی عقد اخوت داشته وصی خود كرد. نك: السیره النبویه، ابن هشام، ج2، ص505.

[31] . الكامل ضعفاء الرجال، ج6، ص118.

[32] . بخاری، ج2، ص2.

[33] . الروض الانف، ج2، ص18؛ سبل الهدی و الرشاد، ج3، ص553 از همو.

[34] . این اصطلاح كاربردی در متون جاهلی ـ به جز یك مورد ـ نداشته است؛ ركـ:

W .Montgomery ،Watt Islamic PoLiticaL Thought ،p. lo.

اما در قرآن مكرر مورد استفاده قرار گرفته است، گاه به معنای «دین» و مواردی به معنای «جمعی كه بر یك دینند و به سوی یك نقطه در حركت‌اند و یك قصد واحد دارند» به كاررفته است. نقطه ثقل این لغت در استعمال متعدد، آن نفی تفرقه و وحدت در حركت و تصمیم‌گیری است.

[35] . انعام، 57؛ یوسف، 67،40.

[36] . مائده،50: آیا حكم جاهلیت را می‌جویند؟ برای آن مردمی كه اهل یقین هستند چه حكمی از حكم خدا بهتر است.

[37] . نساء، 59: ای كسانی كه ایمان آورده‌اید از خدا اطاعت كنید و از رسول و اولی الامر خویش فرمان برید و چون در امری اختلاف كردید اگر به خدا و روز قیامت ایمان دارید، به خدا و پیامبر رجوع كنید. در این خیر شماست و سرانجامی بهتر دارد.

[38] . احزاب، 36: كه هیچ مرد و زن مؤمنی را نرسد كه چون خدا و پیامبرش در كاری حكمی كردند آنها را در كارشان اختیاری باشد، هركه از خدا و پیامبرش نافرمانی كند سخت در گمراهی افتاده است.

[39] . انفال، 46،20.

[40] . فتح، 17؛ حجرات، 15.

[41] . السیره النبویه، ابن هشام، ج2، صص504 ـ 501؛ السیره النبویه، ابن كثیر، ج2، صص323ـ320؛ السیره الحلبیه، ج2، ص96؛ إعلام الوری، ص45؛ عیون الاثر، ج1، صص262ـ260؛ ابو عبید، الأموال، (قاهره، 1353 ق)، صص 206ـ202؛ مجموعه الوثائق السیاسه فی العهد النبوی و الخلافه الراشده، صص 7ـ1؛ نثر الدر، ج1، صص223ـ222.

[42] . مكاتیب الرسول، ج1، صص263ـ241.

[43] . القوم علی رباعتهم ای: علی استقامتهم؛ یرید انهم علی امرهم الذی كانوا علیه؛ نكـ: مكاتیب، ج1، ص242.

[44] . نكـ: مكاتیب الرسول، ج1، ص243.

[45] . مولی القوم یعنی كسانی كه به لحاظ نَسَب جزو آن قبیله به شمار نمی‌آید اما به عقد و یا به آزاد شدن توسط آن قبیله، به عنوان مولای آن قوم شناخته می‌شود. رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله ـ فرمودند: مولی القوم منهم. و این تكلیف نیز بر اساس همان سخن بوده است.

[46] . این مفهوم آیه «وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا ...» بود، حجرات، 9.

[47] . پشتوانه این اصل، آیه «انّ إكرمكم عند الله اتقیكم» است؛ حجرات، 13.

[48] . مكاتیب الرسول، ج1، ص261.

رسول جعفريان- تاريخ سياسي اسلام (سيره رسول خدا)، ج1، ص430

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:5 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

همسران پیامبر اسلام(ص)

موضوع تعدد همسران پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله ـ همواره یكی از مسائل مورد بحث در میان اندیشمندان مسلمان و غیر مسلمان بوده است كه در این راستا اندیشمندان و محققان با تمسك به دلائل عقلی و نقلی، بحث همسران پیامبر و تعدد آنها را مورد بحث قرار داده و علل آن را ذكر نموده اند. ولی مایلیم اول داده های تاریخی كه گویای واقعیات مربوط به ازدواج نبی مكرّم است بپردازیم به آیاتی كه در این خصوص سخنی دارند و آیاتی كه ترسیم می كنند اهداف و یا كاركرد ازدواج را اشاره نمائیم تا تحلیل ما برآمده از یك سری داده های مستند و عینی باشد و هر مراجعه كننده ای به آن هم بتواند با معیارهای علمی داوری نماید.

اول: داده های تاریخ در مورد همسران پیامبر گرامی:

ناگفته نماند این داده ها عمدتاً یا حتی تمامی آن مربوط به همسرانی است كه با پیامبر زندگی كردند و رابطه زناشوئی داشتند غیر از همسرانی كه در حدّ عقد، یا هبه یا خواستگاری باقی مانده اند.

1 - حضرت خدیجه دختر خویلد از طایفه قریش و از بزرگان و سادات قبیله بنی اسد، او زنی بود كه قبل از ازدواج با پیامبر دو شوهر دیگر جدا، جدا اختیار كرده بود كه هر یك آن ها فوت كرده بودند و از هر دوی آن ها فرزند داشت و در حالی كه پیامبر گرامی جوانی 25 ساله بود خدیجه خود زنی حدوداً 40 ساله، حضرت خدیجه از ایشان خواستگاری نمود و قاصد فرستاد كه میل ازدواج با محمد امین - صلی الله علیه وآله - را دارد و این زندگی مشترك بدون ورود هیچ زنی دیگر تا 25 سال ادامه یافت یعنی حضرت رسول به سن 50 سالگی و حضرت خدیجه به 65 سالگی رسید تا این كه بعد از آزادی از شِعب أبی طالب، ایشان همراه حضرت ابوطالب رحلت نمودند[1].

2 - سوده دختر زمعه از طایفه قریش و از قبیله عامریّه كه درگیر با پیامبر اكرم - صلی الله علیه وآله - بودند لكن او از جمله افرادی بود كه از قبیله جدا و همراه همسر خود اسلام آوردند و به حبشه هجرت نمودند لكن همسر ایشان بنابر نقلی مسیحی گشت آن گاه هر دو به مكه بازگشتند ولی بعد از مدتی همسر سوده یعنی سكران پسر عمر جان به جان آفرین واگذارد، حال سوده جدای از قبیله و مهاجرت كرده، همسر مرده هم گردید، یعنی پایگاه اجتماعی قبیله ای و خانوادگی هر دو را از دست داد، تنها پناه گاه او جامعه كوچك و مظلوم اسلامی مكه است. در این زمان است كه به پیشنهاد همسر عثمان بن مظعون تن به این ازدواج می دهد یعنی خوله بنت حكیم وقتی پیامبر را بی همسر دید و آن طرف سوده را چنین یافت اقدام به این عمل نمود و در كنارش پیشنهاد ازدواج با عایشه دختر ابوبكر از بزرگان قوم بنی تمیم را نیز داد. جالب است بدانیم برادر سوده وقتی از این ازدواج باخبر شد، از شدّت غضب مشتی از خاك را بر سر خود ریخت.[2]

3 - عایشه تنها زن باكره پیامبر اكرم - صلی الله علیه وآله -، دختر ابوبكر خلیفه اول كه از مسلمانان مكّی و سالمندان قبیله بنی تمیم بود ایشان در كودكی بعد از رحلت حضرت خدیجه در مكه به عقد نبی مكرّم درآمد ولی بعد از مهاجرت و رسیدن به سنّ بلوغ آن هم به اصرار ابوبكر در مدینه در حدود سال سوم هجری به خانه پیامبر رفت.[3]

4 - حفصه دختر عمر خلیفه دوم، او نیز اگر چه سِنّ چندانی نداشت لكن شوهر او به خاطر اصابت جراحت در جنگ بدر به شهادت رسید، عمر وقتی دخترش را بی همسر یافت، در پی شوهر دادن او برآمد ابتدا به سراغ عثمان و ابوبكر رفت كه هر دو جواب منفی دادند؛ جهت ابراز ناراحتی و اعتراض از آن ها نزد نبی مكرّم رفت، حضرت وقتی با این جریان مواجه گردید، و از طرفی این عمل عمر خود تعریض به نبی مكرّم نیز بود، تن به این ازدواج با همسر شهید را داد و دلجوئی از اندك مهاجرین همراه پیامبر از مكه به مدینه را انجام داد.[4]

5 - زینب دختر خزیمه هلالیّه مشهور به مادر مساكین و محل رجوع فقراء و دردمندان بود ایشان نیز قبل از ازدواج با پیامبر، دو همسر دیگر برگزیده بود كه همسر دوم او در جنگ احد در سپاه اسلام بود و زخمی گردید بعد از مدتی شهید شد در این موقع كه زینب جزء اندك مهاجرین قبل از بدر به مدینه است پیامبر از او خواستگاری می كند، در جواب عرض می كند هر آن چه را پیامبر برگزیدند قبول دارم، البته بعد از ازدواج فقط مدت كوتاهی (گویند بین سه یا 8 ماه) زنده ماند و او همچون خدیجه (سلام الله علیها) جزء دو همسری بودند كه در حال حیات پیامبر، رحلت كردند.[5]

6 - هند، مشهور به أم حبیبه قریشی از خاندان بنی امیّه، لكن جزء ایمان آورندگان به پیامبر است او و همسرش دو بار به حبشه هجرت كردند و برای بار دوم كه به مكه برگشتند مواجه با هجرت نبی مكرم - صلی الله علیه وآله - می شوند كه بعداً با مشكلات جان كاه خودشان را به مدینه می رسانند نهایت همسر بزرگوارشان در جنگ احد زخمی و بعد از مدتی شهید می گردند حال هند زنی خسته از رنج سفرهای طولانی و مكرّر همراه با وحشت و اضطراب به حبشه و از آن جا به مدینه است زنی سال خورده و همسر مرده می باشد، در این هنگام پیامبر پیرمرد و حدود پنجاه و پنج سال به سراغ او می رود و بخانه اش می آورد.[6]

7 - رَمْله مشهور به ام حبیبه، دختر رأس الشیطان یعنی ابوسفیان، كسی كه بر خلاف پدر و برادرانش ومادرش، به اسلام ایمان آورد و به خاطر دین خدا رنج سفر به حبشه را متحمل گردید و متأسفانه همسر خویش را در این سفر از دست می دهد وقتی نبی مكرّم از این حادثه باخبر می شود پیكی را نزد نجاشی پادشاه حبشه جهت خواستگاری از امّ حبیبه می فرستد، و مرحوم نجاشی نیز با احترام نبی مكرّم - صلی الله علیه وآله - از طرف ایشان مهر گران قیمت را برای ام حبیبه قرار می دهد و نهایت در سال هفتم هجری ام حبیبه وارد مدینه و به خانه رسول خدا - صلی الله علیه وآله - می رود. در این جریان ابوسفیان سخت برآشفته می شود و كلمات زشتی را اداء می كند.[7]

8 - زینب بنت حجش قریشی و از خاندان نوفل، و دختر عمه رسول گرامی، رسول خدا اول از او برای زید بن حارث پسر خوانده خود خواستگاری می كند، زینب ناراضی است تا این كه متوجه می شود خدا به این موضوع رضایت دارد تن در می دهد ولی توفیق در زندگی حاصل نمی گردد، و نهایت منتهی به طلاق می شود؛ هم چنان كه آیه 37 سوره مباركه احزاب در اول بحث آوردیم به آن اشاره دارد حال زینب سر خورده از ازدواج، زینبی كه حاضر به زندگی با زید، غلام آزاد شده گردید، ولی عملا در زندگی شكست خورد از طرفی در این موقع خدا برای شكستن خرافه منع ازدواج با همسر پسر خوانده و منع ازدواج با همسر غلام آزاد شده برای بزرگ مردان خاندان و قبایل، پیامبرش را امر می كند تا با زینب ازدواج كند.[8]

9 - جویره دختر حارث رئیس قبیله بنی المصطلق. در میان سال پنجم و ششم هجری وقتی جنگی به واسطه توطئه ای كه این قوم علیه مسلمین بنا كرده بودند درگرفت همسر جویره كشته و خودش اسیر مسلمین می گردد ایشان بعد از تثبیت اسارتش خودش را با عقد و قرارداد مكاتبه (كه بحث مفصل در فقه دارد) به صورت كنیز مكاتبه یكی از انصار درمی آورد تا بتواند در مسیر زمان با ادای بهای خود آزاد گردد، لكن از آن جائی كه زنی با هوش و خوش رفتار... بود خدمت رسول خدا - صلی الله علیه وآله - رسید تا در پرداخت بهای او به مولایش از حضرت كمك بستاند، حضرت فرمودند آیا حاضری اگر بهای آن را بپردازم در عوض به عقد من درآئید، جویره قبول نمود و بعد از طی مراحل، ازدواج سر گرفت و جویریه از اسارت درآمد و در پی آزادی و ازدواج او با رسول خدا، حارث پدر جویره رئیس قبیله به همراه جمع كثیری از قبیله اسلام آوردند.[9]

10 - میمونه دختر حارث هلالیه در مكه حضور دارد نزدیك های سال هفتم هجری شوهرش فوت می كند در همین زمان نبی مكرّم اسلام جهت ادای حجّ عمره سه ماهه بر حسب قرارداد قبلی با قریش، در مكه مشرّف است عباس عمومی پیامبر گرامی - صلی الله علیه وآله - و شوهر خواهر میمون وساطت می كند تا میمونه را از تنهائی و از سرزمین شرك برهاند و به همراه خویش به عنوان همسر به مدینه ببرد حضرت قبول فرمودند.[10]

11 - صفیّه آخرین همسر عقدی كه به خانه رسول خدا آمد دختر حی بن اُخطب و از سلاله هارون برادر موسی (علیهما السلام) است از ناحیه پدری و مادری به قبایل یهود بنی نظیر و بنی قریظه متصل است، قبل از نزاع بین مسلمین و آن دو قبیله شبی در خواب ماه را می بیند كه از طرف مدینه به دامن او افتاده است و جریان را به شوهرش اطلاع می دهد، شهور یهودی او و دشمن كینه توز نبی مكرّم - صلی الله علیه وآله - چنان سیلی به صورتش می زند كه بعد از مدتی كه اسیر گردید روی او نیلی بود و سپس به صفیّه می گوید قصد همسری پادشاه مدینه را نمودید. مدتی می گذرد بعد از مرگ شوهرش در جنگ به اسارت مسلمین درمی آید كنیز و اسیر مسلمین و سهم نبی مكرم می گردد پیامبر گرامی او را مخیّر به رجعت نزد قوم و قبیله یهودی خویش می كند و یا این كه مسلمان شود آن گاه به عقد نبی مكرّم - صلی الله علیه وآله - درآید صفیّه دومی را غنیمت می شمارد اسلام می آورد و همسر حضرت می گردد این در حالی است كه قبل از این دو بار ازدواج نموده بود. صفیّه شیفته و عاشق گداخته نبی مكرّم بود.[11]

دوم:

1. یقیناً نبی مكرّم برخلاف قانون ازدواج مشی نمی كردند و این توجیه كه هیچ قصدی از اهداف چهارگانه ازدواج را نداشتند به نظر می رسد تفسیر كلام گوینده به آن چه كه راضی نیست می باشد (ضرب المثل عربی «تفسیر بما لایرضی صاحِبُه») زیرا او اول شاگرد مكتب قرآن بود؛ علاوه به خاطر مشغله های شدید روحی، سیاسی و نظامی و اجتماعی حاصل از مسئولیّت نبوّت و حكومت اسلامی در مدینه روان و بدن او را شدیداً نیازمند به كانون گرم خانواده می كرد، بالطبع زنانی كه زمینه رغبت در آن ها برای وصلت با پیامبر وجود داشت و از طرفی تعدد زوجات زمینه سبقت گیری هر یك از دیگری در خدمت و جلب قلب پیامبر - صلی الله علیه وآله - اثر مثبتی داشت، و مضاف، این اولیاء الهی در همه قوای روحی و بدنی قوی تر از بقیه انسان ها هستند از جمله قوه جنسی، لكن آن ها قوّه جنسی را مثل قوّه غضب فقط در راه خدا و با قانون خدا به كار می گیرند.

2. آن چه زمینه نگاه منفی به تعدّد ازدواج پیامبر می باشد، نگاه قوم مداران هست یعنی سنجش فرهنگ دیگر اقوام با معیار فرهنگ قوم خویش است، در نتیجه حُسن و سوء فرهنگ دیگر را از طریق ترازوی فرهنگ خویش می خواهند بسنجند و این عمل را اندیشمندان علوم اجتماعی تقبیح می كنند[12] و آن را نوعی رویگری قوم مداران «نژادپرستی» (Ethocentvism) می دانند، در حالی كه اگر ازدواج پیامبر را در فرهنگ عرب در چهارده قرن قبل بررسی كنیم نه ظلم به زن محسوب می گردید و نه عمل ناپسند اجتماعی بود، مضاف به این كه هیچ منافاتی بامبانی عدالت اسلامی نداشته است.

3. قرآن مجید در سوره احزاب، همان طور كه در صدر بحث آورده ایم، آزادی ازدواج متعدد برای نبی مكرم را جهت رفع حرج و مشكلات از پیامبر برشمرده است و در همین سوره در جریان ازدواج زینب دو نمونه از حرج را ذكر كرد و فرموده ما عروسی با زینب بنت جحش را بر تو لازم دانستیم تا حرج از مؤمنین رفع شود و آن رفع و برداشتن دو قانون خرافی بود یكی منع ازدواج یا همسر پسر خوانده دیگر منع ازدواج با همسر غلام برای آزاده به خاطر وجود قانون تفاوت طبقاتی، ولی یك قاعده كلّی را آیه 50 سوره احزاب با توجه به آیه 37 بیان می دارد و آن این كه ازدواج های پیامبر بُل هوسانه نبود بلكه برای رفع حرج و مشكلات بود و نمونه ای از مشكلات را اجتماعی، فرهنگی ذكر فرمود و بقیه ازدواج ها نیز از همین قبیل بود.

4. بهترین دلیل عملی و واقعی و مشهود بر این كه ازدواج های پیامبر از روی هوس رانی و حرم سراسازی و توهین به زن نبود نحوه و سن و شرایط پیامبر و همسران ایشان می باشد زیرا:

اولا: آن حضرت بهترین دوران و عنفوان جوانی را مجرّد بودند تا سن 25 سالگی و بعد هم كه ازدواج نمود، با زنی اگر چه عزیز و بزرگوار و محبوب خداست، لكن از نظر جنسی زنی است كه اوج غرور او گذشت، زیرا در چهل سالگی قرار دارد، علاوه دو شوهر نیز از قبل نمود و از هر یك فرزندی داشت و حضرت با این همسر تا اواخر عمر خود و تا پایان عمر زنش زندگی كرد.

ثانیاً: جز عایشه همه همسرانش بیوه بلكه چند شوهر كرده بودند و لذا از هیچ یك آن ها صاحب فرزند نگردید.

ثالثاً: عایشه را در سنّی به عقد درآورد كه هیچ استعداد همسری نداشت ولذا سال ها بعد از عقد آن هم به اصرار ابوبكر به خانه برد.

رابعاً: این ها را در بحرانی ترین و پرمشغله ترین زمان به عقد درآورد یعنی در حال رهبری 70 جنگ و سریّه و....

5. در خیلی از ازدواج ها اهداف سیاسی هویدا است و لذا در ازدواج ام حبیبه دختر ابوسفیان از جمله هدف، به خاك مالیدن دماغ رئیس شركت است و در جریان ازدواج با صفیّه و جویره نیز كاملا مقصود آشكار است و لذا در تاریخ جویره را با بركت ترین زن جهان اسلام می دانند به جهت این كه اسلام آوردن او سبب اسلام آوردن صدها نفر بدون خون ریزی گردید.

6. پاره ای از ازدواج ها جهت تكریم رنج و زحمت حاصل از مهاجرت و قبول اسلام بود مثل ازدواج با امّ سلمه و امّ حبیبه و حفصه و... كه از مهاجرین اولی جهان اسلام به مدینه و حبشه و... بودند.

7. پاره ای از ازدواج ها برای ایجاد امنیت اجتماعی برای یاران و احترام به همسران داغ دیده شهید بود زیرا با ترویج ازدواج با همسران شهید، این فرهنگ را زنده كرد كه بعد از شهادت لازم نیست مجرّد باقی بمانید و این ازدواج مجدد هیچ توهین به شهید و فرهنگ شهادت نیست و از طرفی زنان اطمینان پیدا می كردند كه بعد از مرگ شوهران شان بی پناه نمی مانند و لذا منع ازحضور جنگی شوهران شان نمی كردند، علاوه چه تجلیلی و تكریمی بالاتر از اینكه سرپرست مستقیم و نزدیك آن ها خود نبی مكرّم شود و این را با لحاظ حال و هوای اخلاقی و اجتماعی مدینه باید خوب درك نمود.

8. نفس وصلت با پیامبر - صلی الله علیه وآله - هم برای زنان و هم برای برخی اقوام آن ها مبارك و میمون بود و لذا به راحتی تن به ازدواج می دادند بلكه در اواخر عمر شریف آن حضرت، زنان خود به خواستگاری پیامبر می رفتند و خود را به آن حضرت هبه می كردند كه در آیه 50 سوره احزاب تصریح به آن نمودند (ما همه آیه را نیاوردیم).

9. در پایان آن چه منحصر نبی مكرّم بود اجتماع ازدواج بیش از 4 زن دائمی در یك زمان بود والاّ برای همه مردان تعدّد ازدواج به صورت طلاق و ازدواج و به صورت ازدواج موقت و به صورت خرید كنیز آزاد است.

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1]ـ البته اخیراً یكى از مورخین شعیه با توجه به شواهد و قرائن تاریخى كه وارد گردیده است معتقد به باكره بودن حضرت خدیجه شدند هم چنان كه در سن آن نیز قول دیگرى ارائه دادند.

[2]ـ اسدالغانه، فى معرفد الصحاب، همان، ج 5، ص 484. الاستیعاب، همان، ص 1867. الكامل فى التاریخ، همان، ج 1، ص 655، 657. السیره النبویّه، همان، ج 4، ص 293، 298.

[3]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 501، 504. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1881، 1815.

[4]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 466. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1853.

[5]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 560، 588. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1920، 1921.

[6]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 525، 526. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1811، 1812.

[7]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 573، 574. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1843، 1929.

[8]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 463، 465. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1849، 1852.

[9]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 419، 422. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1804، 1805.

[10]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 550، 551. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1914، 1918.

[11]ـ اسدُالغانه، همان، ج 5، ص 490، 491. الاستیعاب، همان، ج 4، ص 1871، 1873. در همه ى این موارد از سیره النبویّه و الكامل فى التاریخ و نقش عایشه در تاریخ اسلام نیز استفاده كردیم به همان مأخذ.

[12]ـ گیدنز، آنتونى، جامعه شناسى عمومى، چ دوم، 1374، نشر فى، ترجمه ى: صبورى، منوچهر، ص 36، 47، ص 798 گوثر، و، كوتب، فرهنگ علوم اجتماعى، چ اول، 1376، انتشارات مازیار، ویراستار، زاهدى مازندرانى، محمدجواد، ص 667.

مهدي پيشوائي- تاريخ اسلام، ص174

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:3 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

خلق و خوی حضرت محمد(ص)

با توجه به اینكه پرداختن به تمام زوایای سیره نبوی ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ مجال و بحث بسیار مفصلی را می طلبد، لذا با توجه به ظرفیت و امكان این موضوع همین مقدار كفایت می كند.

«إنّكَ لَعَلی خُلُقٍ عَظیمٌ»[1]

پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ لباس و كفش خود را می دوخت، گوسفندان خود را می دوشید، با بردگان هم غذا می شد، برزمین می نشست، بدون اینكه خجالت بكشد مایحتاج خانه اش را از بازار تهیه می كرد، و برای اهل خانه می برد، با ثروتمند و فقیر یكسان مصافحه می كرد و دست خود را نمی كشید تا طرف دست خود را بكشد.

به هر كسی می رسید سلام می كرد. چه توانگر و چه درویش، چه كوچك و چه بزرگ و اگر به مهمانی و خوردن چیزی دعوت می شد آن را كوچك نمی شمرد، هر چند خرمائی پوسیده باشد.

«وَ كانَ خَفیف الْمَؤونَهِ كَریمُ الطّبیعَهِ، جَمیلُ الْمُعاشِرهِ، طَلْقُ الْوَجْهِ بَسّاماً مِنْ غَیْرِ ضِحْكٍ، مَحْزُوناً مِنْ غَیْرِ عَبُوسٍ، مُتَواضِعاً مِنْ غَیْرِ مَذلَّهٍ، جَواداً مِنْ غَیْرِ سَرْفٍ، رَقیقُ الْقَلْب، رَحیماً بِكُلِّ مُسْلِمٍ».

مخارج زندگی آن حضرت سبك، دارای طبع بزرگ و خوش معاشر، و خوش رو بود. بدون اینكه بخندد همیشه تبسمی بر لب داشت و بدون اینكه چهره اش درهم كشیده باشد، اندوهگین به نظر می رسید. بدون اینكه از خود ذلتی نشان دهد همواره متواضع بود. بدون اینكه اسراف بورزد سخی بود، دل نازك و با همه مسلمانان مهربان بود.[2]

امام صادق ـ علیه السلام ـ می فرمود:

«یُقَسِّمُ لَحظاتِهِ بَیْن أصحابِهِ فَیَنْظُرُ اِلی ذا، وَ یَنْظُرُ اِلی ذا بالسَّویَّهِ قالَ: وَ لَمْ یَبْسِطْ رَسُولُ اللهِ رِجْلَیْهِ بَیْنَ أصْحابِهِ».[3]

پیامبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ بین أصحاب خود بطور مساوی چشم می دوخت و به آنان یكنواخت نظر می افكند و فرمود: هرگز پای خود را بین أصحاب دراز نكرد.

«كانَ رَسُولُ اللهِ إذا حَدَثَ بِحَدیثٍ تَبسَّمَ فی حَدیثِه»[4]

«لَقَدْ كانَ النَبیَّ صلَّی اللهُ عَلیْهِ وَ آلِهِ یُداعِبُ الرَّجُلُ یُریدُ بِهِ أنْ یَسِرَّهُ»[5]

هنگام سخن گفتن لبخند می زد و با مردم شوخی می كرد و منظورش از این كار مسرور ساختن آنها بود.

جوانی نزد آن حضرت شرفیاب شد و گفت می شود كه به من اجازه بدهی تا زنا كنم. اصحاب بانگ بر وی زدند پیامبر ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ فرمود:

جوان بیا نزدیك من بنشین، جوان در كنار آن حضرت نشست، آنگاه فرمود: هیچ دوست می داری كه كسی با مادر و خواهر و یا دختر تو ویا با محارم تو زنا كند؟ عرض كرد رضا ندهم فرمود: همه بندگان خدا چنین باشند. آنگاه دست مبارك بر سینه او فرود آورد و گفت:

«َاللّهُمَّ اغّفِر ذَنْبَهُ وَ طَهِّرْ قَلْبَهُ وَ حَصِّنْ فَرْجَه» خدایا از گناهش در گذر، دلش را پاكیزه كن و او را از شهوترانی حفظ فرما.

آن جوان را دیگر با هیچ زن بیگانه ندیدند و برای همیشه در عفت و پاكی باقی ماند.[6]

یك روز حضرت رسول ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ با عده ای در مسجد نشسته، به صحبت مشغول بودند. خانمی از انصار وارد شد، از پشت سر نزدیك گردیده لباس آن حضرت را بطور پنهانی گرفت، رسول الله ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ گمان كرد با او كاری دارد از جا برخاست بعد از برخاستن آن زن چیزی نگفت آنجناب نیز با او حرفی نزد، در جای خود نشست. برای مرتبه دوم لباس ایشان را گرفت ولی چیزی نگفت و همچنین تا مرتبه چهارم پیغمبر برخاست آن زن از پشت سر مقداری پارچه لباس حضرت را پاره كرده رفت.

مردم اعتراض كردند كه این چه كاری بود كردی: چهار بار پیغمبر ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ را از جا بلند كردی و چیزی نگفتی، خواسته تو چه بود؟ گفت در خانه ما مریضی است مرا فرستاده اند كه تكه ای از لباس آن حضرت جدا كنم بعنوان تبرك همراه او بنمایند تا شفا یابد![7]

مردی از امیر المؤمنین علی ـ علیه السلام ـ درخواست كرد اخلاق پیغمبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ را برایش بشمارد فرمود: تو نعمتهای دنیا را بشمار تا من نیز اخلاق آن جناب را برایت بشمارم، عرض كرد چگونه ممكن است نعمتهای دنیا را احصاء كرد با این كه خداوند در قرآن می فرماید:

«وَ اِنْ تَعُدُّوا نِعْمَهَ اللهِ لا تَحْصُوها» اگر بشمارید نعمتهای خدا را نمی توانید بپایان رسانید.

امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ فرمود: خداوند تمام نعم دنیا را قلیل و كم می داند در این آیه كه می فرماید:«قُلْ مَتاعُ الدُّنْیا قَلِیلٌ» بگو متاع دنیا اندك است و اخلاق پیغمبر اكرم ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ را در این آیه عظیم شمرده و چنانچه می فرماید:«اَنَّكَ لَعَلی خُلُقٍ عَظیمٌ» ترا خوئی بسیار بزرگ است. اینك تو چیزی كه قلیل است نمی توانی بشماری، من چگونه چیزی كه عظیم و بزرگ است شمارش كنم! ولی همینقدر بدان تمام پیامبران مظهر یكی از اخلاق پسندیده بودند چون نوبت به آن جناب رسید تمام اخلاق پسندیده را جمع كرد از اینرو فرمود:«اِنِّی بُعِثْتُ لِأتَمّمَ مَكارِمَ الْاَخلاقِ» من برانگیخته شدم تا اخلاق نیكو را تمام كنم.[8]

مرد عربی از رسول الله ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ تقاضای كمك مالی كرد. حضرت به اندازه كفایت به او بخشید فرمود: احسان بتو كردم؟ گفت نه بلكه كار خوبی هم نكردی. اطرافیان خشمناك شده از جای حركت كردند تا او را كیفر دهند. حضرت اشاره كرد خودداری كنید. آنگاه وارد منزل شد مقدار دیگری به او بخشید بعد فرمود اینك احسان كردم. گفت آری خداوند پاداش نیكوئی به شما عنایت كند.

سپس به آن مرد عرب فرمود تو در پیش اصحابم سخنی گفتی كه باعث كدورت آنها شد اكنون اگر صلاح می دانی همین حرف را پیش آنها بزن تا رنجیدگی برطرف شود.

فردا صبح هنگامی كه اصحاب حضور داشتند خدمت پیغمبر ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ رسید. فرمود: دیروز این مرد حرفی زد، پس از آنكه بعطایش اضافه كردم می گفت: از من راضی شده رو به او كرده فرمود: همینطور است؟ عرض كرد آری خداوند در فامیل و خانواده به شما خیر عنایت كند.

آنگاه حضرت محمد ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ رو به اصحاب كرد فرمود مثل من و مثل این مرد مانند كسی است كه شترش رم كرده و در حال فرار باشد مردم به دنبال آن شتر بروند هر چه بیشتر ازدحام كنند آن حیوان فرارش زیادتر می شود. صاحب شتر فریاد می كند مرا با شترم واگذارید من بهتر او را رام می كنم و راه رام كردنش را خوبتر می دانم آنگاه خودش پیش می رود گرد و غبار از پیكر او می زداید تا آرام شود كم كم او را خوابانده جهاز بر او می گذارد و سوار می شود.

من هم اگر شما را آزاد می گذاشتم وقتی این مرد آن حرف را زد او را می كشتید بیچاره به آتش جهنم می سوخت.[9]

امیر المؤمنین علی ـ علیه السلام ـ فرمود: كه مردی یهودی از رسول الله ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ چند دینار طلبكار بود، روزی تقاضای پرداخت طلب خود را نمود پیامبر ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ فرمود: فعلاً ندارم. گفت از شما جدا نمی شوم تا بپردازید. فرمود من هم در اینجا با تو می نشینم. به اندازه ای نشست كه نماز ظهر و عصر و مغرب و عشاء و نماز صبح روز بعد را همانجا خواند، اصحاب، یهودی را تهدید كردند، پیامبر ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ رو به آنها كرد و فرمود: این چه كاری است می كنید؟ عرض كردند یك یهودی شما را بازداشت كند؟ فرمود:

«لَمْ یَبْعَثَنی رَبِّی عَزَّوَجَلَّ بِأَن اَظْلَم مُعاهِداً وَ لا غَیْرُهُ»

خداوند مرا مبعوث نكرده تا به كسانی كه معاهده مذهبی با من دارند یا غیر آنها ستم روا دارم.

صبحگاه روز بعد تا بر آمدن آفتاب نشست. در این هنگام یهودی گفت:« اَشهد ان لا إله الاّ الله و أشهد اَنّ محمداً رسوله» نیمی از اموال خود را در راه خدا دادم. بعد گفت ای رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ به خدا سوگند این كاری كه نسبت به شما كردم نه از نظر جسارت بود خواستم ببینم اوصاف شما مطابقت می كند با آنچه را كه در تورات به ما وعده داده اند زیرا در آنجا خوانده ام كه:

«مُحَمّدِ بْنِ عَبْدُالله مْولِدِ مَكَّه وَ مُهاجِرِه بِطیِّبَهٍ، وَ لَیْسَ بِفَظٍّ وَلا غَلیظٍ وَلا سَخّابٍ، وَلا مُتزّیَن بِالْفُحشِ وَ لا قَولِ الخِناءِ».

محمد بن عبدالله در مكه متولد می شود و به مدینه هجرت می كند درشتخوان و بداخلاق نیست. با صدای بلند سخن نمی گوید ناسزاگو و بد زبان نمی باشد اینك گواهی می دهم به یگانگی خدا و پیامبری شما، تمام ثروت من در اختیارتان هر چه خداوند دستور داده درباره آن عمل كنید در پایان داستان، مولا امیر المؤمنین ـ علیه السلام ـ می فرماید مرد یهودی ثروت زیادی داشت، اما پیامبر ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ شبها در زیر عبای خود می خوابید و بالشی از پوست داشت كه داخل آن لیف خرما بود. یك شب روكش آن جناب را دو برابر كردند. صبحگاه فرمود: رختخواب شب گذاشته ام مرا از نماز (نافله) بازداشت دستور داد همان یك عبا را بیندازید.[10]

باز هم شمه ای از خلق و خوی آن حضرت:

شیر گوسفندان را خود می دوشید، چون خادمش در آسیاب كردن خسته می شد به او كمك می كرد، آب وضوی شبش را خودش تهیه می كرد، در پیاده روی كسی بر او سبقت نداشت، موقع نشستن تكیه نمی كرد، در كارها به اهل خانه كمك می نمود و با دست خود گوشت خرد می كرد، چون برسر سفره غذا حاضر می شد مانند بندگان می نشست و هرگز در اثر پرخوردن آروغ نزد.

هدیه را می پذیرفت ولو جرعه ای از شیر باشد، ولی غذائی كه بعنوان صدقه بود از آن میل نمی كرد. به چهره هیچكس خیره نمی شد، خشمش برای خدا بود و هرگز برای خویشتن غضب نمی كرد، گاهی از شدت گرسنگی بر شكم سنگ می بست.

دو لباس با هم به تن نمی كرد، بیشتر لباسهای آنحضرت سفید بود، روی شبكلاه عمامه می پوشید، یك لباس مخصوص روز جمعه داشت، عبائی داشت كه چون می خواست در جائی بنشیند آن را دو تا كرده و بزیر حضرت می انداختند، انگشتری نقره در انگشت كوچك دست راستش می كرد.

گاهی بدون پوشیدن عبا و عمامه وبدون كفش پیاده راه می رفت، تشییع جنازه می كرد و در دورترین نقاط شهر از بیماران عیادت می فرمود. با فقراء می نشست و با آنان هم غذا می شد و با دست خود به آنان غذا می داد و به كسانی كه در اخلاق با فضیلت بودند احترام می گذاشت و با اشخاص ابرومند الفت می گرفت و به آنان نیكی می كرد به احدی از مردم جفا نمی كرد. پوزش عذرخواهان را می پذیرفت. در غیر اوقاتی كه قرآن بر او نازل می شد، و یا موعظه می كرد، از مردم تبسمش بیشتر بود و گاهی كه خنده می كرد بدون قهقهه بود.

هرگز به كسی فحش نداد، و هیچوقت زن یا خادمی را لعن نكرد، هرگاه در حضور آن حضرت كسی ملامت می شد می فرمود به او كاری نداشته باشید. در مقابل بدی دیگران بدی نمی كرد، بلكه گناه آنان را ندیده می گرفت و از آنان می گذشت هر كسی می رسید ابتدا، به او سلام می كرد و بعد با او مصافحه می نمود.

رسول خدا نمی نشست و بلند نمی شد مگر بیاد خدا و چنانكه مشغول نماز بود و كسی در كنارش می نشست نماز خود را تخفیف می داد و تمام می كرد و بسوی او بر می گشت و می فرمود: آیا حاجتی داری؟

نشستن رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ اكثر اوقات چنین بود، ساقهای پا را بلند می كرد و دو دست خود را از جلو بر آن حلقه می زد و در موقع ورود به یك مجلس در نزدیك ترین جائی كه خالی بود می نشست و بیشتر اوقات رو به قبله می نشست.

هر كس بر وی داخل می شد از او احترام می كرد چنانكه گاهی لباس خود را زیر او پهن می كرد و یا او را بر تشك خود می نشانید.

حال رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ در رضا و غضب یكسان بود و جز حق بر زبان چیزی نمی راند.[11]

از فال بد زدن بدش می آمد و دوست داشت همیشه از خوبیها گفتگو شود.

اگر كسی پیش آن حضرت سخن دروغی می گفت. آنجناب لبخندی می زد و می فرمود: سخنی است كه وی می گوید.

هنگامی كه رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ صحبت می كرد و یا از چیزی سؤال می شد سه مرتبه تكرار می فرمود تا اینكه حرف طرف كاملاً روشن شود و دیگران نیز متوجه فرمایش حضرتش گردند.[12]

وقتی یكی از مسلمانان به آنحضرت سلام می كرد و می گفت سلام علیك در جوابش می فرمود: و علیك السلام و رحمهالله و چون می گفت السّلام عَلیكَ و رحمهُ اللهِ می فرمود: و علیكَ السَّلام و رَحمَهُ اللهِ وَ بركاتُه و به این كیفیت رسول الله (صلی الله علیه و آله) در پاسخ سلام خود اضافه می نمود.[13]

همینكه به مردی نگاه می كرد و از وی خوشش می آمد، می فرمود: آیا شغلی دارد؟ اگر می گفتند، بیكار است می فرمود: از چشم من ساقط شد. عرض می شد، یا رسول الله برای چه از چشم شما افتاد می فرمود: زیرا مؤمن وقتی بیكار بود دین خود را اسباب معشیت قرار می دهد![14] رسول الله ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ موی خود را شانه می زد و اغلب با آب صاف می كرد و می فرمود: آب برای خوشبو كردن مؤمن كافی است.

می فرمود: زدن موی شارب بطوری كه لب آشكار شود از سنت است. مجوس ریش خود را تراشیده و سبیل را رها كرده زیاد می كنند و ما سبیل خود را می زنیم و محاسن خویش را می گذاریم.

امام صادق ـ علیه السلام ـ می فرمود: رسول الله ـ صلی الله علیه و آله وسلم ـ ظرف مخصوص عطر داشتند، پس از هر وضو بلافاصله آن را بدست گرفته خود را معطر و خوشبو می ساخت، در نتیجه چون از خانه بیرون می آمد بوی عطر در محل عبور آن بزرگوار منتشر می شد.[15]

اگر عطری برای آن حضرت تعارف می آوردند خود را به آن معطر می ساخت و می فرمود: بویش پاكیزه و حمل كردنش آسان است و بیش از آن مقداری كه برای خوراك خرج می كرد، به عطر پول می داد.[16]

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . قلم - 4

[2] . سنن النبی(صلی الله علیه و آله) 48-41

[3] سنن النبی(صلی الله علیه و آله) 48-41

[4] سنن النبی(صلی الله علیه و آله) 48-41

[5] سنن النبی(صلی الله علیه و آله) 48-41

[6] .بحار، ج16 ص267.

[7] . بحار، ج16 ص264.

[8] . وقایع الایام، ج3 ص 25.

[9] . سفینه البحارج1 ص 416.

[10] . بحار ج 16 ص 16

[11] . مناقب ابن شهر آشوب ج 1 ص 145.

[12] . مكارم الاخلاق ج1 ص 19.

[13] . مستدرك الوسائل ج2 ص 70.

[14] مستدرك ج2 ص 415.

[15] . كافی ج6 ص515.

[16] . كافی ج6 ص515.

سيد كاظم ارفع - سيره عملي اهل بيت(ع)، ج1، ص19

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:3 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

جوانی پیامبر اسلام(ص)

حلف الفضول[1]

حلف الفضول كه آن را بهترین و ارزشمندترین پیمانهای قریش خوانده اند[2]، میان سران چند تیره از قریش بسته شد. این پیمان از آنجا شكل گرفت كه مردی از قبیله بنی زبید وارد مكه شد و كالایی به عاص بن وائل از تیره بنی سهم فروخت. عاص كالا را گرفت، ولی بهای آن را نداد. مرد زبیدی هر چند به وی مراجعه كرد نتیجه ای نگرفت. چنان كه قبلا گفته شد در آن روزگاران در جزیره العرب نظام قبیلگی حاكم بود و هر قبیله از منافع افراد خود حمایت می كرد و اگر غریبه ای مورد ظلم واقع می شد، حامی و دادرسی نداشت. مرد زبیدی ناگزیر هنگامی كه سران قریش در كنار كعبه گرد آمده بودند،‌ بالای كوه ابوقبیس رفت و با سرودن اشعاری پر سوز و گداز، دادخواهی كرد[3].

با شنیدن ندای دادخواهی او، با پیشگامی زبیر بن عبدالمطلب، بزرگان بنی هاشم، بنی عبدالمطلب، بنی زهره، بنی تمیم و بنی حارث (كه از تیره های خوشنام قریش بودند) ، در خانه عبدالله بن جدعان تیمی گرد آمدند و پیمان بستند كه برای یاری و گرفتن حق هر ستمدیده ای همدستان شده، اجازه ندهند در مكه بر احدی ستم شود، چه وابسته به آنها باشد و چه غریبه، چه فقیر و پست باشد و چه ثروتمند و با شرف. آن گاه نزد عاص رفته حق مرد زبیدی را از وی گرفتند و به آن مرد دادند[4]. حضرت محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - كه در آن هنگام بیست سال داشتند[5] از اعضای این پیمان بودند.

شركت محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - در این پیمان كه یك حركت جوانمردانه و نوعی حمایت از حقوق بشر در آن جامعه جاهلی بود، بیشتر از این نظر اهمیت دارد كه جوانان هم سن و سال او در مكه،‌ سرگرم عیش و نوش و خوشگذرانی بودند و ارزشهای انسانی مانند حمایت از مظلوم، پاك سازی جامعه و اجرای عدالت، برای آنها مفهوم نداشت ؛ او در كنار بزرگان قریش در چنین پیمانی شركت كرد. او پس از بعثت،‌ از شركت خود در این پیمان به نیكی یاد می كرد و می فرمود :‌

در خانه عبدالله بن جدعان در پیمانی شركت كردم كه اگر به جای آن، شتران سرخ مو به من می دادند،‌ آن چنان خوشحال و شاد نمی شدم، و اگر در عصر اسلام نیز مرا به چنان پیمانی دعوت كنند، می پذیرم[6].

این پیمان به این مناسبت كه افزون بر پیمانهای موجود، و از آنها برتر بود، حلف الفضول نامیده شد[7] این پیمان همواره پناهگاه مظلومان و بی پناهان بود و بعدها در چند مورد نیز افراد غریبه و مظلوم، با استمداد از بنیانگذاران آن، از چنگ زورمندان مكه رهایی یافتند[8] [9].

سفر دوم به شام

خدیجه - دختر خویلد - كه زنی تجارت پیشه، با شرافت و ثروتمند بود، افرادی را برای بازرگانی می گماشت و سرمایه ای را برای تجارت در اختیارشان قرار می داد و مزدی به آنان می پرداخت[10]. وقتی محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - به بیست و پنج سالگی رسید[11]،‌ ابوطالب به او گفت : من تهیدست شده ام و روزگار سخت شده است. اكنون كاروانی از قریش رهسپار شام می شود، كاش تو هم نزد خدیجه كه مردانی را برای تجارت می فرستد، می رفتی و كار تجارت او را به عهده می گرفتی.

از سوی دیگر، خدیجه از راستگویی، امانت و اخلاق پسندیده محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - آگاهی یافت و در پی او فرستاد كه : اگر كار تجارت مرا عهده دار شوی، بیش از دیگران به تو می پردازم و غلام خویش میسره را نیز برای دستیاریت می فرستم. حضرت محمد این پیشنهاد را پذیرفت[12] و همراه میسره رهسپار شام شد[13]. در این سفر بیش از سفرهای گذشته سود عایدشان شد[14].

میسره در این سفر از حضرت محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - كراماتی مشاهده كرد كه او را به حیرت انداخت در این سفر نسطور راهب از پیامبری او در آینده بشارت داد. همچنین میسره محمد را دید كه بر سر تجارت،‌ با شخصی اختلاف پیدا كرد. آن مرد گفت : به لات و عزی سوگند یاد كن تا سخنت را بپذیرم. او پاسخ داد : در عمرم هرگز به لات و عزی سوگند یاد نكرده ام[15].

میسره در بازگشت از سفر،‌ كرامات محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - و آنچه را مشاهده كرده بود، برای خدیجه بازگو كرد[16].

ازدواج با خدیجه

خدیجه بانویی خردمند، دوراندیش و شرافتمند بود و از نظر نسب از زنان قریش برتر بود[17]. او در اثر امتیازات اخلاقی و اجتماعی متعددی كه داشت، در زمان جاهلیت،‌ طاهره[18] و سیده قریش[19] نامیده می شد. بنابر مشهور، او قبلا دو بار ازدواج كرده و همسرانش درگذشته بودند[20] بزرگان قریش همه علاقه مند به ازدواج با او بودند[21] مردان نامداری همچون عقبه بن ابی معیط، ابوجهل و ابوسفیان از او خواستگاری كرده بودند و او موافقت نكرده بود[22].

از سوی دیگر، خدیجه با محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - خویشاوند بود و نسب هر دو در قصی به هم می رسید. او اطلاعاتی از آینده درخشان محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - داشت[23] و علاقه مند به ازدواج با او بود[24].

خدیجه به محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - پیشنهاد ازدواج كرد و محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - با موافقت عموهایش، این پیشنهاد را پذیرفت و در یك جمع خانوادگی ازدواج صورت گرفت[25]. بنابر قول مشهور در این هنگام خدیجه چهل سال و محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - بیست و پنج سال داشت[26]. خدیجه نخستین زنی بود كه محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - با او ازدواج كرد[27].

نصب حجر الاسود

اخلاق و رفتار نیكوی محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - امانت، درستكاری و راستگویی او مردم مكه را شیفته كرده بود و همه او را امین می نامیدند[28]. او چنان در دل مردم جا داشت كه از داوری او در مورد نصب حجر الاسود[29] استقبال كردند و او با تدبیری خاص، اختلاف آنان را حل كرد. توضیح اینكه :‌

هنگامی كه محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - سی و پنج ساله بود،‌ در اثر سیلی كه از كوههای مكه جاری شد، دیوارهای كعبه از چند جا شكست. كعبه تا آن روز سقف نداشت و دیوارهایش كوتاه بود، از این جهت اندوخته های داخل آن حفاظ لازم را نداشت.قریش تصمیم داشت سقفی برای كعبه بسازد، اما موفق به اجرای این تصمیم نشده بود. پس از این حادثه، بزرگان مكه در صدد برآمدند كه كعبه را خراب و بازسازی كنند و سقفی نیز برای آن بسازند.

هنگام بازسازی كعبه، میان تیره های قریش بر سر نصب حجر الاسود در جایگاه مورد نظر اختلاف به وجود آمد و رقابتها و تفاخرهای قبیلگی بار دیگر زنده شد. هر قبیله می خواست افتخار نصب این سنگ نصیب او گردد. برخی از قبایل،‌ با فرو بردن دست خویش در طشتی پر از خون پیمان بستند تا نگذارند این افتخار نصیب قبیله ای دیگر شود.

سرانجام با پیشنهاد سالمندترین مرد قریش،‌ توافق كردند كه نخستین كسی كه از باب بنی شیبه (یا باب صفا) وارد مسجد (الحرام) شود، درباره نصب حجر الاسود، در میان قبایل داوری كند، ناگاه محمد - صلی الله علیه و آله و سلم - از آن در وارد شد. همه گفتند : این محمد امین است و ما همگی به حكم او راضی هستیم به دستور امین قریش، پارچه ای آوردند. او پارچه را پهن كرد و حجر الاسود را در میان آن گذاشت و از رؤسای قبایل خواست كه هر كدام گوشه ای از آن را بگیرند و مشتركا سنگ را تا پای دیوار ببرند، چون سنگ را نزدیك دیوار آوردند او با دست خویش آن را در جای اولیه قرار داد[30]. با این تدبیر لطیف اختلاف میان قبایل حل و از بروز یك جنگ خونین جلوگیری شد.

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] - از جمله حوادثی كه گفته اند محمد _ صلی الله علیه و آله و سلم _در جوانی در آن حضور داشته جنگ فجار بود . این حادثه را پیش از حلف الفضول و در 14 تا 20 سالگی او نوشته اند . اما چون شركت او در این جنگ مورد تردید است و بلكه شواهدی بر نفی آن وجود دارد ، از طرح آن خودداری كردیم ( الصحیح من سیره النبی الاعظم ،‌ج 1 ، ص 95 ـ 97 ‍‍‍‍؛ درس هایی تحلیلی از تاریخ اسلام ، ج 1 ص 303 ـ 503 ) .

[2] - ابن سعد ، الطبقات الكبری ( بیروت : دار صادر )‌، ج 1 ، ص 128 ؛ محمد بن حبیب ، المنمق فی اخبار قریش ، تحقیق خورشید احمد فارق (‌بیروت : عالم الكتب ،‌ ط 1 ، 1405 ه . ق ) ، ص 52 .

[3] - یا آل فهر (یا للرجال خ ل )‌ لمظلوم بضاعته ببطن مكه نائی الاهل و النفر

و محرم اشعث ( شعث خ ل ) لم یقض عمرته یا آل فهر و بین الحجر

و الحجر هل مخفر من بنی سهم بخفرته ام ذاهب فی ضلال مال معتمر

ان الحرام لمن تمت حرامته و لا حرام لثوب الفاجر الغدر .

[4] - محمد بن حبیب ، پیشین ، ص 52 - 53 ؛ ابن سعد ، پیشین ، ص 128 ؛ تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 13 ؛ ابن هشام ، السیره النبویه‌ ، ج 1 ، ص 142 ؛ بلاذری ، انساب الاشراف ، تحقیق : الشیخ محمد باقر المحمودی ( بیروت : موسسه الاعلمی للمطبوعات، ط 1 ،‌1394 ، ه . ق )‌ج 2 ، ص 12 .

[5] - محمد بن سعد ، پیشین . سنّ محمد _ صلی الله علیه و آله و سلم _را در آن هنگام بیش از این نوشته اند ، تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 13 ؛ المنمق ، ص 53 ؛ ابن ابی الحدید ، شرح نهج البلاغه (‌قاهره :‌ دار احیاء‌ الكتب العربیه ، 1962 م ) ج 15 ، ص 225 .

[6] - ابن هشام ، پیشین ، ص 142 ؛ یعقوبی ، پیشین، ‌ص 13 ؛ بلاذری ،‌ پیشین ، ص 16 ؛ محمد بن حبیب ،‌ پیشین ،‌ص 188 .

[7] - محمد بن حبیب ،‌ پیشین ، ص 54 - 55 .

[8] - همان ،‌ بلاذری ، پیشین ، ج 2 ، ص 13 .

[9] - خاطره این پیمان در عصر اسلام نیز باقی بود ، چنان كه امام حسین علیه السلام در اختلافی كه بر سر مزرعه ای با ولید بن عتبه بن ابی سفیان ، برادرزاده معاویه و حاكم مدینه داشت ،‌او را تهدید كرد كه اگر به زورگویی ادامه دهد ، دست به قبضه شمشیر برده ، در مسجد پیامبر ، (قریش ) را به چنین پیمانی دعوت خواهد كرد . با شنیدن این سخن تعدادی از شخصیتهای قریش اعلام آمادگی كردند . ولید با آگاهی از این حركت ، عقب نشینی كرد ! (‌ابن هشام ، پیشین ، ج 1 ،‌ ص 142 ؛ بلاذری ، پیشین ، ج 2 ، ص 14 ؛ حلبی ، پیشین ، ج 1 ،‌ ص 215 ؛ ابن ابی الحدید ،‌ پیشین ، ج 15 ، ص 226 ؛ ابن اثیر ، الكامل فی التاریخ (‌بیروت : دار صادر )‌ ج 2 ص 42 .

[10] - ابن هشام ،‌ پیشین ، ج 1 ، ص 199 ؛ ابن اسحاق ، السیر و المغازی ،‌تحقیق سهیل زكار (‌بیروت : دارالفكر ، ط 1 ، 1398 ه . ق ) ص 81 ؛‌سبط ابن الجوزی ، در تذكره الخواص ،‌ص 301 می گوید : خدیجه آنها را به صورت مضاربه استخدام می كرد ، و ابن اثیر در اسد الغابه‌ ،‌ ج 1 ، ص 16 ، می گوید : یا اجیر می كرد یا به صورت مضاربه عمل می كرد .

[11] - ابن سعد ، پیشین ، ج 1 ، ص 129 .

[12] - شواهدی نشان می دهد كه كار محمد _ صلی الله علیه و آله و سلم _ به صورت مضاربه و مشاركت بوده است نه مزدوری و حقوق بگیری. (الصحیح من سیره النبی الاعظم ،‌ج 1 ، ص 112 )‌.

[13] - ابن هشام ، پیشین ، ص 199 ؛ ابن اسحاق ، پیشین ، ص 81 .

[14] - ابن سعد ، پیشین ، ص 130 .

[15] - ابن سعد ،‌ پیشین ، ص 130 .

[16] - ابن اسحاق ، پیشین ،‌ ص 82 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ص 131 ؛ ابن اثیر، الكامل فی التاریخ (‌بیروت : دار صادر )‌ج 2 ، ص 39 ؛ طبری، تاریخ الامم و الملوك ( بیروت : دارالقاموس الحدیث )‌ج 2 ، ص 196 ؛‌ بیهقی ، دلائل النبوه ،‌ ترجمه محمود مهدوی دامغانی (‌تهران : مركز انتشارات علمی و فرهنگی ،‌ 1361 ) ج 1 ، ص 215 ؛ ابن اثیر اسد الغابه ( تهران ، المكتبه‌ الاسلامیه‌ ) ج 5، ص 435 ؛‌ ابی بشر ، محمد بن احمد الرازی الدولابی ، الذریه‌ الطاهره‌ ، تحقیق السید محمد جواد الحسینی الجلالی ( بیروت : موسسه الاعلمی للمطبوعات ، ط 2 ، 1408 ه .ق ) ص 45 ـ 46 .

[17] - ابن هشام ، پیشین ، ج 1 ،‌ ص 200 ـ 201 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 1 ، ص 131 ؛ بیهقی ،‌ پیشین ، ج 1 ، ص 215 ؛ رازی دولابی ، پیشین ، ص 46 ؛ ابن اثیر ، الكامل فی التاریخ ، ج 2 ، ص 39 .

[18] - ابن اثیر ،‌ اسدالغابه‌ ،‌ ج 5 ، ص 434 ؛ حلبی ، پیشین ، ج 1 ، ص 224 ؛ عسقلانی ، الاصابه فی تمییز الصحابه ( بیروت ، دار احیاء‌ التراث العربی )‌ ج 4 ، ص 281 ؛ ابن عبدالبر ، الاستیعاب فی معرفه الاصحاب (‌در حاشیه الاصابه‌ )‌ج 4 ،‌ ص 279 .

[19] - حلبی ،‌ پیشین ،‌ج 1 ،‌ ص 224 .

[20] - همسران قبلی او عتیق بن عائذ (‌عابد خ ل ) و ابوهاله هند بن نباش بود . (‌ابن اثیر ،‌ اسد الغابه‌ ، ج 5 ، ص 434 ؛ ابن حجر،‌ پیشین ،‌ ص 281 ؛ ابن عبدالبر ، پیشین ، ص 280 ؛ حلبی ، پیشین ،‌ج 1 ، ص 229 ؛ ابوسعید خرگوشی ، شرف النبی ، ترجمه نجم الدین محمود راوندی ( تهران : انتشارات بابك ، 1361 )‌ص 201 ؛‌شیخ عبدالقادر بدران ، تهذیب تاریخ دمشق ( بیروت ؛ دار احیا‌ء التراث العربی ، ط 3 ،‌ 1407 ه . ق )‌ ج 1 ، ص 302 )‌. برخی از اسناد و شواهد تاریخی حاكی از آن است كه خدیجه قبلا ازدواج نكرده بود و محمد _ صلی الله علیه و آله و سلم _ نخستین همسر او بود . بعضی از محققان معاصر نیز روی این موضوع تأكید دارند. ( مرتضی العاملی ، جعفر الصحیح من سیره النبی الاعظم ، ج 1 ، ص 121 )‌.

[21] - ابن سعد ،‌ پیشین ؛ بیهقی ، پیشین ، ص 215 ؛ طبری ، پیشین ، ج 2 ، ص 197 ؛ حلبی ،‌ پیشین ؛ ابن اثیر ، الكامل فی التاریخ ، ج 2 ، ص 40 .

[22] - مجلسی ، بحار الانوار (‌تهران : دار الكتب الاسلامیه‌ ) ج 16 ، ص 22 .

[23] - مجلسی ،‌ پیشین ، ص 20 ـ 21 ؛‌ ابن هشام ، پیشین ، ج 1 ، ص 203 ؛ ابن شهرآشوب ، مناقب آل ابی طالب ( قم : المطبعه العلمیه‌ ) ج 1 ص 41 .

[24] - مجلسی ، پیشین ، ص 21 - 23 .

[25] - ابن اسحاق ، پیشین ،‌ ص 82 ؛ بلاذری ، انساب الاشراف ، محمد حمیدالله ( قاهره دارالمعارف ) ج 1 ، ص 98 ، تاریخ یعقوبی ، ج 2 ص 16 ، ابن اثیر الكامل فی التاریخ ، ج 2 ص 40 ؛ رازی دولابی ، پیشین ، ص 46 ، حلبی پیشین ص 227 ؛ ابن شهرآشوب پیشین ج 1 ص 42 ؛ مجلسی پیشین ج 16 ص 19 .

[26] - بلاذری ، پیشین ص 98 ؛ ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 1 ص 132 ؛ طبری پیشین ج 2 ص 196 ؛ حلبی پیشین ص 228 ؛ ابن عبدالبر ، الاستیعاب ج 4 ص 280 ؛ ابن اثیر اسد الغابه ج 5 ص 435 ؛‌ الكامل فی التاریخ ، ج 2 ص 39 . درباره سن خدیجه هنگام ازدواج اقوال دیگری نیز هست . ر . ك : امیر مهیا الخیامی ، زوجات النبی و اولاده ( بیروت موسسه‌ عزالدین ط 1 1411 ه ق ) ص 53 و 54 .

[27] - ابن هشام ، پیشین ج 1 ص 201 ؛ رازی دولابی پیشین ص 49 ؛ بیهقی پیشین ج 1 ص 216 ؛ ابوسعید خرگوشی پیشین ص 201 ؛ شیخ عبدالقادر بدران تهذیب تاریخ دمشق ج 1 ص 302 ؛ ابن اثیر اسد الغابه ج 5 ص 434 .

[28] - ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 1 ص 121 ؛ ابن هشام پیشین ج 1 ص 210 ؛ بیهقی پیشین ج 1 ص 211 ؛ مجلسی پیشین ج 15 ص 369 .

[29] - این سنگ كه از مقدس ترین اجزای كعبه است ، در روایات ، سنگ بهشتی و‌ آسمانی معرفی شده كه حضرت ابراهیم به امر خداوند آن را جزء كعبه قرار داد ( مجلسی پیشین ج 12 ص 84 و 99 ؛ ازرقی تاریخ مكه ،‌تحقیق : رشدی الصالح ملحس ( بیروت دارالاندلس ، ط 3 ، 1403 ه ق ) ج 1 ص 62 - 63 )‌ حجر الاسود تاكنون باقی است و سنگی است بیضی شكل سیاه رنگ متمایل به سرخی و در ركن شرقی كعبه در ارتفاع یك متر و نیم از زمین نصب شده و مبدا طواف است .

[30] - ابن سعد ،‌ پیشین ، ج 1 ص 145 و 146 ؛ تاریخ یعقوبی ج 2 ص 14 و 15 ؛‌ مجلسی پیشین ج 15 ص 337 و 338 ؛ بلاذری پیشین ج 1 ص 99 و 100 ؛‌ مسعودی مروج الذهب ( بیروت : دار الاندلس ، ط 1 ، 1965 م ) ج 2 ، ص 271 - 272 . برخی از مورخان علت خرابی كعبه و انگیزه بازسازی آن را حادثه دیگری نوشته اند اما همه مورخان داوری محمد را نقل كرده اند . ر ك : ابن اسحاق ، السیر و المغازی ، ص 103 ؛ ابن هشام ، پیشین ، ج 1 ، ص 205 ؛ بیهقی دلائل النبوه ،‌ ترجمه محمود مهدوی دامغانی ج 1 ص 210 .

مهدي پيشوايي- تاريخ اسلام، ص 115

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:2 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

كودكی و نوجوانی حضرت محمد(ص)

- تولد

عرب جاهلی، مبدأ تاریخ ثابت و منظمی نداشت، بلكه حادثه ای از حوادث مهم محلی مانند مرگ شخصیتی بزرگ و مشهور یا جنگی خونین بین دو قبیله را مدتی مبدأ تاریخ قرار می داد[1]. حتی همه قبایل عرب مبدأ تاریخ واحد نداشتند، بلكه هر قبیله ای حادثه ای را كه به نظر او مهم می آمد، مبدأ تاریخ قرار می داد[2].

هنگامی كه سپاه فیل به فرماندهی ابرهه، فرمانروای حبشه كه برای تخریب كعبه، به مكه حمله كرده بود[3]، به صورت خارق العاده و با قدرت نمایی غیبی خداوند شكست خورد ؛ این رویداد، دیگر حوادث آن روزگار را تحت الشعاع قرار داد و آن سال مدتها به عنوان عام الفیل مبدأ تاریخ قرار گرفت[4]. حضرت محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ در همان سال در مكه متولد شد[5].

این حادثه با توجه به برخی از قراین و شواهد از جمله هجرت حضرت محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ در سال 622 میلادی و نیز وفات آن حضرت كه در سال 632 میلادی و در سن 60 - 63 سالگی رخ داده، در حدود سال 569 - 570 میلادی بوده است[6].

- دوران كودكی و شیرخوارگی

حضرت محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ دو ماهه بود[7] كه پدرش عبدالله در بازگشت از سفر بازرگانی شام، در شهر یثرب درگذشت و در همان جا به خاك سپرده شد[8]. قرآن كریم از یتیمی او چنین یاد كرده است :

آیا (پروردگارت تو را یتیم نیافت و پناه داد و تو را گمشده یافت و هدایت كرد، و تو را فقیر یافت و بی نیاز كرد ؟[9]

نوزاد آمنه پس از نخستین روزهای تولد كه از شیر مادر استفاده كرد[10] مدت كوتاهی ثویبه - كنیز آزادشده ابولهب - او را شیر داد[11]. آن گاه طبق عادت عرب[12] او را به دایه ای به نام حلیمه سعدیه از قبیله بنی سعد بن بكر سپردند كه در بادیه زندگی می كرد[13]. حلیمه دو سال او را شیر داد[14] و تا پنج سالگی نگهداری كرد و سپس به خانواده اش تحویل داد[15].

گویا انگیزه سپردن كودك به دایه بادیه نشین، پرورش او در هوای پاك صحرا و دوری از خطر بیماری وبا در شهر مكه بوده است[16]. یادگیری زبان فصیح و اصیل عربی در میان قبایل بادیه نشین نیز انگیزه دیگری است كه از سوی برخی از مورخان معاصر عنوان شده است[17].

جمله ای از پیامبر اسلام با اشاره با اشاره به این موضوع نقل شده است كه شاید شاهد این انگیزه باشد :

من از همه شما فصیح ترم، چه، هم قرشی هستم و هم در میان قبیله بنی سعد بن بكر شیر خورده ام[18].

در برخی از منابع تاریخی درباره چگونگی انتخاب حلیمه برای دایگی، آمده است كه چون محمد یتیم بود، هیچ دایه ای حاضر نشد او را بپذیرد ؛ زیرا آنان می خواستند در برابر دایگی از پدر كودك كمك مالی دریافت كنند و چون حلیمه موفق به یافتن كودكی نشد، ناگزیر با وجود یتیمی محمد ـ صلی الله علیه و آله ـ او را پذیرفت[19]. ولی نپذیرفتن محمد از طرف دایگان به خاطر یتیمی او قابل قبول به نظر نمی رسد ؛ زیرا :

1 - چنان كه گفتیم در تعدادی از منابع آمده است كه عبدالله چند ماه پس از تولد محمد درگذشت. بنابر این او در آن هنگام هنوز یتیم نشده بود.

2 - با توجه به موقعیت ممتاز و احترام بسیار بالای عبدالمطلب در مكه و ثروت فراوان او نه تنها دایگان از این امر سر باز نمی زدند، بلكه برای دایگی كودك چنین خانواده ای، سر و دست می شكستند.

3 - در بسیاری از منابع تاریخی كه این قضیه نقل شده، این بخش به چشم نمی خورد[20].

- درگذشت مادر و كفالت عبدالمطلب

آمنه پس از آن كه كودك خود را از حلیمه تحویل گرفت، همراه فرزندش و ام ایمن - كنیز عبدالله - با قافله ای به یثرب سفر كرد تا هم سر قبر همسرش عبدالله بروند و هم با دایی های او دیدار كنند[21]. پس از یك ماه توقف در یثرب، هنگام بازگشت به مكه، آمنه در منزلی به نام ابواء درگذشت و در همان جا به خاك سپرده شد. در آن هنگام محمد شش ساله بود[22]. ام ایمن او را با قافله به مكه آورد و به عبد المطلب تحویل داد[23]. عبد المطلب سر پرستی و كفالت او را به عهده گرفت و تا زنده بود، از فرزندزاده خود به خوبی نگهبانی می كرد و او را مورد تفقد و نوازش فوق العاده قرار می داد و می گفت: او رتبه والایی خواهد داشت[24].

- درگذشت عبدالمطلب و سرپرستی ابوطالب

محمد هشت ساله بود كه عبدالمطلب نیز درگذشت و كفالت او را به ابوطالب كه با عبدالله پدر محمد از یك مادر بودند، سپرد[25]. از آن روز ابوطالب سرپرستی محمد را به عهده گرفت. گر چه او پر عایله و تنگدست[26] اما مردی بزرگوار، با همت و مورد احترام و اطاعت مردم[27] و در میان قریش سرفراز بود[28]. او به محمد سخت علاقه مند بود، به طوری كه او را بیش از فرزندان خویش دوست می داشت[29].

فاطمه بنت اسد - همسر ابوطالب - نیز در سرپرستی و پرورش او نقشی مهم داشت و در این راه زحمت فراوان كشید. او نه تنها محمد را همچون مادری مهربان دوست می داشت، بلكه او را بر فرزندان خویش نیز مقدم می داشت. حضرت محمد هرگز زحمات او را فراموش نمی كرد و از او به عنوان مادر یاد می كرد[30].

- سفر به شام و پیشگویی راهب

در یكی از سالها ابوطالب همراه كاروان قریش برای تجارت عازم شام شد. بنا به تقاضای محمد (كه بر حسب اختلاف مورخان، در آن هنگام 8، 9، 12 یا 13 ساله بود) ابوطالب او را نیز به همراه خود برد. زمانی كه كاروان به بصری[31] رسید، در كنار صومعه ای به استراحت پرداخت. در آن صومعه راهبی به نام بحیرا زندگی می كرد كه عالم بزرگ مسیحیان بود. در میان جمعیت برادرزاده ابوطالب توجه وی را جلب كرد ؛ زیرا برخی از نشانه هایی را كه او درباره پیامبر موعود می دانست، در محمد مشاهده كرد. او پس از اندكی گفت و گو با محمد و طرح پرسشهایی از او از نبوت آینده محمد خبر داد و به ابوطالب سفارش كرد كه از او مراقبت و از گزند یهود حفظ كند[32]. تذكر چند نكته درباره این حادثه لازم است :

1 - این حادثه در برخی از منابع تاریخی و حدیثی به صورت مختصر و در برخی دیگر با شاخ و برگ و تفصیلات نقل شده است، اما اصل قضیه جای شبهه و تردید نیست ؛ زیرا قرآن مجید در آیات متعدد، پیشگویی پیامبران پیشین، از بعثت حضرت محمد را نقل كرده، بر آگاهی علمای اهل كتاب از نشانه های او و شناخت آنان در این زمینه تأكید می كند[33] و همچنین پیشگویی های متعدد اهل كتاب از بعثت پیامبر در كتب تاریخ و حدیث نقل شده است[34].

2 - نشانه هایی كه علمای اهل كتاب درباره محمد در اختیار داشتند، برخی مربوط به زندگی شخصی و ویژگیهای بدنی او (از قبیل یتیمی در كودكی، سیما، نام) و برخی دیگر، مربوط به ویژگیهای خانوادگی و قبیلگی او (مانند عرب بودن، ازدواج با زنی با شخصیت و....) بوده است. از بارزترین نشانه های بدنی حضرت، خال درشتی بین دو كتف او بوده كه خال نبوت یا مهر نبوت نامیده می شد[35].

3 - پیشگویی بحیرا تنها برای كاروانیان تازگی داشت ؛ زیرا نه تنها ابوطالب، بلكه سایر بستگان نزدیك محمد نیز از آینده درخشان او خبر داشتند[36].

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] - برای آگاهی بیشتر درباره ی این حوادث ر . ك : مسعودی ، التنبیه و الاشراف ، ص 172 _ 181 ؛ دكتر محمد ابراهیم آیتی ، تاریخ پیامبر اسلام (چ 2 انتشارات دانشگاه تهران ، 1361 ) ، ص 26 _ 27 .

[2] - مسعودی ، مروج الذهب ، ص 27 .

[3] - شیخ طوسی ، الامالی ( قم : دارالثقافه ، ط 1 ، 1414 ه . ق ) ، ص 80 _ 82 ؛ بیهقی ، دلائل النبوه ، ترجمه محمود مهدوی دامغانی ، ص 94 _ 97 ؛ ابن هشام ، السیره النبویه ، ج 4 ، ص 44 _ 55 ؛ بلاذری ، پیشین ، ص 67 - 69 ؛ محمد بن حبیب بغدادی ، المنمق فی اخبار قریش ، تحقیق : خورشید احمد فارق ( بیروت : عالم الكتب ، ط 1 ، 1405 ه . ق ) ، ص 70 _ 77.

[4] - پیش از حادثه سپاه فیل ، قریش ، دركذشت قصی را كه شخصیتی بزرك و برجسته بود و برای نخستین بار قریش را به قدرت رساند مبدأ تاریخ قرار داده بود . ( ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 4 . )

[5] - كلینی ، اصول الكافی ( تهران : دار الكتب الاسلامیه ، 1381 ه . ق ) ، ج 1 ، ص 439 ؛ ابن واضح ، تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 4 ؛ مسعودی ، مروج الذهب ، ج 2 ، ص 274 ؛ مجلسی ، بحارالانوار ، ج 15 ، ص 250 _ 252 ؛ حلبی ، السیره الحلبیه ، ص 95 ؛ بیهقی ، پیشین ، ص 72 _ 73 ؛ ابن كثیر ، السیره النبویه ، ج 1 ، ص 201 ؛ محمد بن سعد ، الطبقات الكبری ، ج 1 ، ص 101 ؛ ابن اثیر ، اسد الغابه ، ج 1 ، ص 14 ، ؛ ابن هشام ، السیره النبویه ، ج 1 ، ص 167 ، الشیخ عبدالقادر بدران، تهذیب تاریخ دمشق ( بیروت : دار احیاء التراث العربی ، ط 3 ، 1407 ه . ق ) ، ج 1 ، ص 282 ؛ ابن اسحاق ، السیر و المغازی ، تحقیق : سهیل زكار ( بیروت : دارالفكر ، ط 1 ، 1398 ه . ق ) ص 61 .

[6] - علی اكبر فیاض ، تاریخ اسلام ( تهران : انتشارات دانشگاه تهران ، چ 3 ، 1367 ) ص 62 ؛ عباس زریاب ، سیره رسول الله (بخش اول از آغاز تا هجرت ) ( تهران: سروش ، چ 1 ، 1370 ) ، ص 86 _ 87 ؛ سید جعفر شهیدی ، تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان امویان ( تهران : مركز نشر دانشگاهی ، چ 10 ، 1369 ) ، ص 37 .

در این كه آیا تولد حضرت ، دقیقا در همان عام الفیل اتفاق افتاده یا جلوتر یا عقب تر و نیز در تطبیق عام الفیل با سالهای میلادی ، احتمالات و نظریات دیگری ابراز شده است كه نقل آنها در این كتاب ضرورتی ندارد. برای آگاهی بیشتر ر . ك : محمد خاتم پیامبران ، ج 1 ، ص 176 ، 177 ؛ مقاله سید جعفر شهیدی ؛ رسولی محلاتی ، درس هایی از تاریخ تحلیلی اسلام ( قم : ماهنامه پاسدار اسلام ، 1405 ه . ق ) ج 1 ، ص 107 به بعد ؛ ابن كثیر ، السیره النبویه ، ج 1 ، ص 203 ؛ تهذیب تاریخ دمشق ، ج 1 ، ص 281 _ 282 ؛ سید حسن تفی زاده ، از پرویز تا چنگیز ( تهران : كتابفروشی فروغی ، 1349 ) ص 153 ؛ حسین مونس ، تاریخ قریش ، ( الدار السعودیه ، ط 1 ، 1408 ه . ق ) ، ص 153 _ 159 .

ضمنا برخی از مورخان اروپایی ، انگیزه لشكركشی ابرهه را كه در منابع اسلامی ، انگیزه مذهبی و رقابت بین كلیسای قلیس در یمن و كعبه در حجاز معرفی شده است ، كشورگشایی ، و حمله ابرهه به ایران از طریق شمال عربستان ، به تحریك دولت روم ، معرفی كرده اند . (فیاض، پیشین ، ص 62 ؛ ابوالقاسم پاینده ، مقدمه ترجمه فارسی قرآن مجید ، ص _ لز _ ) كه نیاز به بحث و بررسی جداگانه دارد و از گنجایش این كتاب بیرون است .

[7] - كلینی ، پیشین ، ص 439 ؛ ابن واضح ، پیشین ، ص 6 ؛ ابوالفتح محمد بن علی الكراجكی ، كنز الفوائد ( قم : دارالذخائر ، ط 1 ، 1410 ه . ق ) ، ج 2 ، ص 167 ، سن حضرت محمد را هنگام مرگ پدر ، هفت ماه و بیست و هشت روز نیز نوشته اند . ( محمد بن سعد ، الطبقات الكبری (بیروت : دار صادر ، ج 1 ، ص 100 ) ، برخی دیگر از مورخان ، درگذشت عبدالله را پیش از ولادت حضرت محمد نوشته اند . ( ابن سعد ، پیشین ، ص 99 _ 100 ؛ ابن اثیر ، اسد الغابه ، ج 1 ، ص 13 ؛ ابن هشام ، السیره النبویه ، ج 1 ، ص 167 ؛ الشیخ عبدالقادر بدران ، تهذیب تاریخ دمشق ، تألیف ابن عساكر (بیروت : دار احیاء التراث العربی ، ط 3 ، 1407 ه . ق ) ج 1 ، ص 284 . ) اما برخی از اسناد و شواهد ، روایت اول را تأیید می كند از جمله اشعار عبدالمطلب كه طی آن كفالت او را به ابوطالب سپرد :

اوصیك یا عبد مناف بعدی بمفـــــرد بید ابیه فرد

فارقه و هو ضـجیـج المهد فكنت كالامّ له فی المجد

( تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 10 ؛ ر . ك : ابن شهر آشوب ، مناقب آل ابی طالب (قم : المطبعه العلمیه ) ج 1 ، ص 36 ) .

[8] - تهذیب تاریخ دمشق ، ج 17 ، ص 282 ؛ ابن سعد ، پیشین ، ج 1 ، ص 99 ؛ مسعودی ، التنبیه و الاشراف ، ص 196 ؛ محمد بن جریر طبری ، تاریخ الامم و الملوك ( بیروت : دارالقاموس الحدیث ) ، ج 2 ، ص 176 ؛ ابن اثیر ، الكامل فی التاریخ ( بیروت : دار صادر ) ، ج 2 ، ص 10 .

[9] - الضحی (93 ) : 6 _ 8 .

[10] - تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 6 ؛ حلبی ، پیشین ، ج 1 ، ص 143 .

[11] - تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 6 ؛ طبرسی ، اعلام الوری ، ص 6 ؛ بیهقی ، پیشین ، ص 110 ؛ ابن اثیر ، اسد الغابه ، ج 1 ، ص 15 ؛ مجلسی ، بحارالانوار ، ج 15 ، ص 384.

[12] - حلبی ، پیشین ، ج 1 ، ص 146 .

[13] - تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 7 ؛ ابن هشام پیشین ، ج 1 ، ص 171 ؛ محمد بن سعد ، پیشین ، ص 110 ؛ مسعودی ، التنبیه و الاشراف ، ص 196 ؛ مروج الذهب ، ج 2، ص 274 ؛ طبرسی ، اعلام الوری ، ص 6 ؛ بیهقی ، پیشین، ص 101 _ 102 ؛ ابن كثیر ، السیره النبویه ، ج 1 ، ص 225 ؛ ابن اسحاق ، السیر و المغازی ، تحقیق : سهیل زكار ، ط 1 ، 1398 ه . ق ) ، ص 49 .

[14] - بلاذری ، انساب الاشراف ، تحقیق : محمد حمید الله ( قاهره : دارالمعارف ) ج 1 ، ص 94 ؛ مقدسی ، البدء و التاریخ ، ط پاریس ، 1903 م ، ج 4 ، ص 131 ؛ مجلسی

بحارالانوار ، ج 15 ، ص 401 ؛ ابن سعد ، پیشین ، ج 1 ، ص 112 .

[15] - تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 7 ؛ ابن شهر آشوب ، پیشین ، ج 1 ؛ بلاذری ، پیشین ، ص 94 ؛ مسعودی ، مروج الذهب ، ج 2 ، ص 275 .

[16] - ابن ابی الحدید ، شرح نهج البلاغه ، تحقیق : محمد ابوالفضل ابراهیم ( قاهره : دار احیاء الكتب العربیه ، 1961 ) ، ج 13 ، ص 203 ؛ مجلسی ، پیشین ، ص 401 .

[17] - جعفر سبحانی ، فروغ ابدیت ( قم : مركز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم ، چ 5 ، 1368 ) ، ج 1 ، ص 159 ، سید مرتضی جعفر العاملی ، الصحیح من سیره النبی الاعظم ( قم : 1400 ه . ق ) ، ج 1 ، ص 81 .

[18] - انا اعربكم ، انا قرشی و استرضعت فی بنی سعد بن بكر ( ابن هشام ، السیره النبویه ، ج 1 ، ص 176 و ر . ك : ابن سعد ، پیشین ، ص 113 ؛ حلبی ، پیشین ، ص 146 ؛ ابوسعید واعظ خرگوشی ، شرف النبی ، ترجمه نجم الدین محمود راوندی ، ( تهران انتشارات بابك ، 1361 ) ، ص 196 .

گفته شده در مدتی كه محمد نزد حلیمه در بادیه به سر می برد ، قضیه شق صدر پیش آمد . اما محققان و تحلیل گران تاریخ اسلام ، بنا به دلایل متعدد ، این موضوع را دور از واقعیت و از مجعولات می دانند . ( ر . ك : سید جعفر مرتضی عاملی ، الصحیح من سیره النبی الاعظم ، ج 1 ، ص 82 ، سید هاشم رسولی محلاتی ، درسهایی از تاریخ تحلیلی اسلام ، ج 1 ، ص 189 و 204 ؛ شیخ محمد ابوریه ، اضواء علی السنه المحمدیه ، ( مطبعه صور الحدیثه ، ط 2 ، ه . ق ) ج 1 ، ص 175 _ 177 ) .

[19] - ابن هشام ، پیشین ، ج 1 ، ص 171 _ 172 ؛ بلاذری ، پیشین ، ص 93 ؛ ابن سعد ، پیشین ، ص 110 _ 111 .

[20] - از آن جمله ابن شهرآشوب كه از محدثان بزرگ و برجسته است ، این قضیه را نقل كرده ، ولی موضوع یتیمی حضرت محمد به آن شكل كه گفته شده ، در آن نیست . ( مناقب آل ابی طالب ، ج 1 ، ص 121 ) .

[21] - سلمی ، مادر عبدالمطلب ، اهل یثرب و از قبیله بنی نجار بود ( بیهقی ، پیشین ، ج 1 ، ص 33 .

[22] - ابن اسحاق ، پیشیین ، ص 65 ؛ بلاذری پیشین ، ص 94 ؛ ابن سعد ، پیشین ، ص 116 ؛ ابن هشام ، پیشین ، ص 177 ، بیهقی ، پیشین ، ص 121 ؛ طبرسی ، پیشین ، ص 9 ، صدوق ، كمال الدین و تمام النعمه ، تصحیح علی اكبر غفاری (قم : موسسه النشر الاسلامی ، 1363 ) ج 1 ، ص 172 ؛ تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 7 ؛ الشیخ عبدالقادر بدران ، تهذیب تاریخ دمشق ، ج 1 ، ص 283 .

[23] - حلبی ، پیشین ، ج 1 ، ص 172 .

[24] - ابن هشام ، پیشین، ص 178 ، صدوق ، پیشین ، ج 1 ، ص 171 ؛ مجلسی ، پیشین ، ص 406 ؛ تاریخ یعقوبی ، ج 2 ص 9 .

[25] - ابن هشام ، پیشین، ص 189 ، مجلسی ، پیشین ، ص 406 ؛ طبری ، پیشین ، ج 2 ، ص 194 .

[26] تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 11 ؛ ابن سعد پیشین ، ج 1 ، ص 119 ؛ مجلسی ، پیشین ، 407 ؛ سهیلی ، الروض الانف ( قاهره : موسسه المختار ) ج 1 ، ص 193.

[27] - تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 11 ؛ جواد علی ، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، ( بیروت : دار العلم للملایین ، ط 1 ، 1968 م ) ج 4 ، ص 82.

[28] - ابن ابی الحدید ، شرح نهج البلاغه ، تحقیق : محمد ابوالفضل ابراهیم (قاهره ، دار احیاء الكتب العربیه ، 1962 م ) ج 15 ، ص 219 .

[29] - ابن سعد ، پیشین ، ج 1 ، ص 119 ، ابن شهرآشوب ، پیشین، ج 1 ، ص 36 ؛ مجلسی ، پیشین ، ص 407 ؛ شیخ عبدالقادر بدران تهذیب تاریخ دمشق ، ج 1 ، ص 285 .

[30] - تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 11 ؛ ابن ابی الحدید ، پیشین ، ج 1 ، ص 14 ؛ مقدمه اصول كافی ، ج 1 ، ص 453 .

[31] - قصبه ای در سرزمین حوران از توابع دمشق ( یاقوت حموی ، معجم البلدان ، ( بیروت : دار احیاء التراث العربی ، 1399 ه . ق ) ج 1 ، ص 441 ) .

[32] - این قضیه را مورخان و محدثان اسلامی در منابع زیر نقل كرده اند :

ابن هشام السیره النبویه ج 1 ص 191 - 193 ؛ محمد بن جریر طبری تاریخ الامم و الملوك ج 2 ص 195 ؛ سنن ترمذی ج 5 ؛ المناقب باب 3 ص 590 حدیث 2620 ؛ ابن اسحاق السیر و المغازی تحقیق سهیل زكار ص 73 ؛ محمد بن سعد الطبقات الكبری ج 1 ص 121 ؛ مسعودی مروج الذهب ج 2 ص 286 ؛ صدوق كمال الدین و تمام النعمه ج 1 ص 182 - 186 ؛ بلاذری انساب الاشراف ج 1 ص 96 ؛ بیهقی دلائل النبوه ترجمه محمود مهدوی دامغانی ج 1 ص 195 ؛ طبرسی اعلام الوری ص 17 - 18 ؛ ابن شهر آشوب مناقب آل ابی طالب ج 1 ص 38 - 39 ؛ ابن اثیر الكامل فی التاریخ ج 2 ص 27 ؛ ابن اثیر اسدالغابه ج 1 ص 15؛ شیخ عبدالقادر بدران تهذیب تاریخ دمشق تألیف حافظ ابن عساكر ج 1 ص 270 و 354 ؛ ابن كثیر سیره النبی ج 1 ص 243 - 249 و البدایه و النهایه ج 2 ص 229 - 230 ؛ حلبی انسان العیون (السیره الحلبیه ) ج 1 ص 191 ؛ مجلسی بحارالانوار ج 15 ص 409 .

[33] - بقره (2) : 41 ، 42 ، 89 ، 146 ؛ اعراف (7 ) : 157 ؛ انعام (6 ) : 20 ؛ صف (61 ) : 6 .

[34] - ر. ك : جعفر سبحانی، راز بزرگ رسالت، تهران كتابخانه مسجد جامع تهران،1358، ص 262 - 278 . در زمینه پیش گویی پیامبران پیشین در مورد پیامبر اسلام كتاب های مستقلی نوشته شده است كه به عنوان نمونه سه كتاب زیر را می توان نام برد :

محمد در تورات و انجیل تألیف پروفسور عبدالاحد داود ترجمه فضل الله نیك آیین ؛ مدرسه سیار تألیف شیخ محمد جواد بلاغی ترجمه ع ؛ و انیس الاعلام تألیف فخر الاسلام .

[35] - ابن هشام پیشین ج 1 ص 193 ؛ بیهقی پیشین ص 195 ؛ سنن ترمذی، تحقیق ابراهیم عطوه عوض، بیروت، دار احیاء التراث العربی ، ج 5 ؛ المناقب باب 3 ص 590 حدیث 2620 ؛ شیخ عبدالقادر بدران تهذیب تاریخ دمشق ج 1 ص 278 ؛ ابن كثیر سیره النبی ج 1 ص 245 ؛ صحیح بخاری تحقیق الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی ج 5 ص 28 باب 23 حدیث 71 .

[36] - تاریخ یعقوبی ج 2 ص 11 ؛ بلاذری انساب الاشراف ج 1 ص 81 ؛ اصول كافی ج 1 ص 447 .

مهدي پيشوائي- تاريخ اسلام، ص103

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:2 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

ولادت پیامبر اسلام(ص)

عموم سیره نویسان اتّفاق دارند كه تولّد پیامبر گرامی اسلام - صلی الله علیه و آله- در عام الفیل در سال 570 میلادی بوده است. زیرا آن حضرت به طور قطع، در سال 632 میلادی درگذشته است و سنّ مبارك او 62 تا 63 سال بوده است. بنابر این، ولادت او در حدود 570 میلادی خواهد بود.

اكثر محدثان و مورخان بر این قول اتفاق دارند كه تولد پیامبر، در ماه « ربیع الاول » بوده، ولی در روز تولد او اختلاف دارند. معروف میان محدّثان شیعه این است كه آن حضرت، در هفدهم ربیع الاول، روز جمعه، پس از طلوع فجر چشم به دنیا گشود؛ و مشهور میان اهل تسنن این است كه ولادت آن حضرت، در روز دوشنبه دوازدهم همان ماه اتفاق افتاده است[1].

مراسم نامگذاری پیامبر اسلام

روز هفتم فرا رسید. « عبدالمطلب »، برای عرض سپاسگزاری به درگاه الهی گوسفندی كشت و گروهی را دعوت نمود و در آن جشن باشكوه، كه از عموم قریش دعوت شده بود؛ نام فرزند خود را « محمّد » گذارد. وقتی از او پرسیدند: چرا نام فرزند خود را محمد انتخاب كردید، در صورتی كه این نام در میان اعراب كم سابقه است؟ گفت: خواستم كه در آسمان و زمین ستوده باشد. در این باره « حسان بن ثابت » شاعر رسول خدا چنین می گوید:

فشــــق له من اسمه لیجله فذوالعرش محمود و هذا محمد

آفریدگار، نامی از اسم خود برای پیامبر مشتق نمود. از این جهت خدا « محمود » (پسندیده) و پیامبر او « محمد » (ستوده) است و هر دو كلمه از یك مادّه مشتقند و یك معنی را می رسانند[2].

قطعاً الهام غیبی در انتخاب این نام بی دخالت نبوده است. زیرا نام محمد، اگر چه در میان اعراب معروف بود، ولی كمتر كسی تا آن زمان به آن نام نامیده شده بود. طبقِ آمار دقیقی كه بعضی از تاریخ نویسان به دست آورده اند، تا آن روز فقط شانزده نفر به این اسم نامگذاری شده بودند. چنانكه شاعر در این باره گوید:

ان الذین سموا باسم محمّد من قبل خیر الناس ضعف ثمان[3]

كسانی كه به نام محمد، پیش از پیامبر اسلام نام گذاری شده بودند، شانزده نفر بودند.

« احمد » یكی از نام های مشهور پیامبر اسلام بود

هر كس مختصر مطالعه ای در تاریخ زندگی رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلّم ـ داشته باشد؛ می داند كه آن حضرت، از دوران كودكی دو نام داشت و مردم او را با هر دو نام خطاب می كردند. یكی « محمد » كه جد بزرگوارش عبدالمطلب برای او انتخاب كرده بود، و دیگری « احمد » كه مادرش آمنه او را به آن، نامیده بود. این مطلب یكی از مسلمات تاریخ اسلام است و سیره نویسان این مطلب را نقل كرده اند و مشروح این مطلب را در سیره حلبی می توانید بخوانید[4].

عموی گرامی وی، « ابوطالب » كه پس از درگذشت « عبدالمطلب » كفالت و سرپرستی « محمد » به او واگذار شده بود؛ با عشق و علاقه زائد الوصفی، چهل و دو سال تمام، پروانه وار به گرد شمع وجود وی گشت، و از بذل جان و مال در حراست و حفاظت او دریغ ننمود. در اشعاری كه درباره برادرزاده خود سروده، گاهی از او به نام « محمد »، و گاهی به نام « احمد » اسم برده است و این خود حاكی از آن است كه در آن زمان یكی از نامهای معروف وی همان « احمد » بوده است.

دوران شیرخوارگی پیامبر

نوزاد قریش فقط سه روز از مادر خود شیر خورد، و پس از او، دو زن دیگر به افتخار دایگی پیامبر نائل شده اند:

1ـ ثویبه: كنیز ابولهب كه چهار ماه او را شیر داد. عمل او، تا آخرین لحظات مورد تقدیر رسول خدا و همسر پاك او (خدیجه) بود. وی قبلاً حمزه عموی پیامبر را نیز شیر داده بود. پس از بعثت، پیامبر كسی را فرستاد تا او را از « ابولهب » بخرد. وی امتناع ورزید، امّا تا آخر عمر از كمك های پیامبر بهره مند بود. هنگامی كه پیامبر اكرم از جنگ خیبر بر می گشت، از مرگ او آگاه شد و آثار تأثر در چهره مباركش پدید آمد. از فرزند او سراغ گرفت تا در حقّ او نیكی كند، ولی خبر یافت كه او زودتر از مادر خود فوت كرده است[5].

2ـ حلیمه: دختر ابی ذؤیب كه از قبیله سعد بن بكر بن هوازن بوده است و فرزندان او عبارت بودند از: عبدالله، انیسه، شیماء؛ آخرین فرزند او از پیامبر اكرم پرستاری نیز نموده است. رسم اشراف عرب این بود كه فرزندان خود را به دایه ها می سپردند؛ و دایگان معمولاً در بیرون شهرها زندگی می كردند تا كودكان را در هوای صحرا پرورش دهند؛ و رشد و نمو كامل، و استخوان بندی آنها محكمتر شود؛ و ضمناً از بیماری وبای شهر « مكه » كه خطر آن برای نوزادان بیشتر بود مصون بمانند؛ و زبان عربی را در یك منطقه دست نخورده فرا گیرند. در این قسمت دایگان قبیله ی « بنی سعد » مشهور بودند. آنها در موقع معینی به مكه می آمدند، و هر كدام نوزادی را گرفته همراه خود می بردند. چهار ماه از تولد پیامبر اكرم گذشته بود كه دایگان قبیله بنی سعد به مكه آمدند و آن سال، قحطی عجیبی بود، از این نظر به كمك اشراف بیش از حد نیازمند بودند.

برخی از تاریخ نویسان می گویند: هیچ یك از دایگان حاضر نشد به محمد شیر دهد، زیرا بیشتر طالب بودند كه اطفال غیر یتیم را انتخاب كنند تا از كمكهای پدران آنها بهره مند شوند، و نوعاً از گرفتن طفل یتیم سر باز می زدند. حتی حلیمه این بار از قبول او سر باز زد ولی چون بر اثر ضعف اندام، هیچ كس طفل خود را به او نداد؛ ناچار شد كه نوه ی عبدالمطلب را بپذیرد و با شوهر خود چنین گفت كه: برویم همین طفل یتیم را بگیریم و با دست خالی برنگردیم، شاید لطف الهی شامل حال ما گردد. اتفاقاً حدس او صائب درآمد، از آن لحظه كه آماده شد به « محمد »، آن كودك یتیم، خدمت كند؛ الطاف الهی سراسر زندگی او را فرا گرفت[6].

نخستین قسمت این تاریخ افسانه ای بیش نیست، زیرا عظمت خاندان بنی هاشم؛ و شخصیت مردی مانند « عبدالمطلب » كه جود و احسان، نیكوكاری و دستگیری او از افتادگان، زبانزدِ خاص و عام بود، سبب می شد كه نه تنها دایگان سر باز نزنند بلكه مایه ی سر و دست شكست دایگان درباره او می گردید. از این جهت این بخش از تاریخ افسانه ای بیش نیست.

علت اینكه او را به دیگر دایگان ندادند، این بود كه: نوزاد قریش پستان هیچ یك از زنان شیرده را نگرفت. سرانجام، حلیمه ی سعدیه آمد پستان او را مكید. در این لحظه وجد و سرور خاندان عبدالمطلب را فرا گرفت[7].

عبدالمطلب رو به حلیمه كرد و گفت: از كدام قبیله ای؟ گفت: از « بنی سعد ». گفت: اسمت چیست؟ جواب داد: حلیمه. عبدالمطلب از اسم و نام قبیله او بسیار مسرور شد و گفت: آفرین آفرین، دو خوی پسندیده و دو خصلت شایسته، یكی سعادت و خوشبختی و دیگری حلم و بردباری[8].

دوران كودكی پیامبر

صفحات تاریخ گواهی می دهد كه: زندگانی رهبر عالیقدر مسلمانان، از آغاز كودكی تا روزی كه برای پیامبری برگزیده شد؛ متضمن یك سلسله حوادث شگفت انگیز است و تمام این حوادثِ شگفت انگیز، جنبه ی كرامت داشته و همگی گواهی می دهند كه حیات و سرگذشت رسول گرامی یك زندگانی عادی نبوده است.

1ـ تاریخ نویسان، از قول حلیمه چنین نقل می كنند كه او می گوید: آنگاه كه من پرورش نوزاد «آمنه» را متكفل شدم؛ در حضور مادر او، خواستم او را شیر دهم. پستان چپ خود را كه دارای شیر بود در دهان او نهادم؛ ولی كودك به پستان راست من بیشتر متمایل بود. اما من از روزی كه بچه دار شده بودم، شیری در پستان راست خود ندیده بودم. اصرار نوزاد، مرا بر آن داشت كه پستان راستِ بی شیر خود را در دهان او بگذارم. همان دم كه كودك، شروع به مكیدن كرد، رگهای خشك آن پر از شیر شد و این پیش آمد موجب تعجب همه حضار گردید[9].

2ـ باز او می گوید: از روزی كه « محمد » را به خانه خود بردم؛ روز به روز خیر و بركت در خانه ام بیشتر شد، و دارایی و گلّه ام فزونتر گردید[10].

ما در قرآن، نظایر این جریان را درباره مریم (مادر عیسی) می خوانیم: مثلاً می فرماید: وقتی وضع حمل مریم فرا رسید، به درختی پناه برد و (از شدّت درد و تنهایی و وحشت از اتّهام) از خدا تمنای مرگ كرد. در این موقع صدایی شنید: « غمناك مباش، پروردگار تو چشمه آبی زیر پای تو قرار داده و درخت (خشكیده ی) خرما را تكان ده، خرمای تازه بر تو می ریزد[11]».

اگر چه میان مریم وحلیمه، از نظر مقام و ملكات فاضله، فاصله زیاد است. ولی اگر لیاقت و آراستگی خود « مریم »، موجب این لطف الهی شده؛ اینجا هم ممكن است مقام و منزلتی كه این نوزاد در درگاه خدا دارد، سبب شود كه خدمتكار آن حضرت مشمول لطف الهی گردد.

بازگشت به آغوش خانواده

دایه مهربان محمد، پنج سال از وی محافظت كرد، و در تربیت و پرورش او كوشید. در طیّ این مدّت زبان عربی فصیح را آموخت، كه بعدها حضرتش به این افتخار می كرد. سپس حلیمه او را به مكه آورد، و مدتی نیز آغوش گرم مادر را دید، و تحت سرپرستی جدّ بزرگوار خود قرار گرفت؛ و یگانه مایه تسلی بازماندگان « عبدالله »، همان فرزندی بود كه از او به یادگار مانده بود[12].

سفری به « یثرب » و مرگ مادر

از روزی كه نوعروس عبدالمطلب (آمنه) ، شوهر جوان و ارجمند خود را از دست داده بود؛ پیوسته مترصد فرصت بود كه به « یثرب » برود و آرامگاه شوهر خود را از نزدیك زیارت كند، و در ضمن، از خویشان خود در یثرب، دیداری به عمل آورد.

با خود فكر كرد كه فرصت مناسبی به دست آمده، و فرزند گرامی او بزرگ شده است و می تواند در این راه شریك غم او گردد. آنان با « امّ اَیمَن »، بار سفر بستند و راه یثرب را پیش گرفتند و یك ماه تمام در آنجا ماندند. این سفر برای نوزاد قریش، با تألمات روحی توأم بود. زیرا برای نخستین بار دیدگان او به خانه ای افتاد كه پدرش در آن جان داده و به خاك سپرده شده بود[13] و طبعاً مادر او تا آن روز چیزهایی از پدر وی برای او نقل كرده بود.

هنوز موجی از غم و اندوه در روح او حكمفرما بود كه ناگهان، حادثه ی جانگداز دیگری پیش آمد، و امواجی دیگر از حزن و اندوه به وجود آورد. زیرا موقع مراجعت به مكه، مادر عزیز خود را در میان راه، در محلی به نام « اَبواء » از دست داد[14].

این حادثه محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ را بیش از پیش، در میان خویشاوندان عزیز و گرامی گردانید، و یگانه گلی كه از این گلستان باقی مانده بود، فزون از حد مورد علاقه ی عبدالمطلب قرار گرفت. از این جهت او را از تمام فرزندان خود بیشتر دوست می داشت و بر همه مقدم می شمرد.

در اطراف كعبه، برای فرمانروای قریش (عبدالمطلب) بساطی پهن می كردند. سران قریش و فرزندان او در كنار بساط حلقه می زدند، هر موقع چشم او به یادگار « عبدالله » می افتاد، دستور می داد كه راه را باز كنند تا یگانه بازمانده ی عبدالله را روی بساطی كه نشسته است بنشاند[15].

قرآن مجید، دوره یتیمی پیامبر را در سوره « الضحی » یاد آور می شود و می گوید: « الم یجدك یتیماً فآوی[16]؛ مگر تو را یتیم نیافت و پناه نداد؟ »

حكمت یتیم گشتن نوزاد قریش، برای ما چندان روشن نیست. همین قدر می دانیم كه سیل خروشان حوادث بی حكمت نیست، ولی با این وضع می توان حدس زد كه خدا خواست رهبر جهانیان، پیشوای بشر، پیش از آنكه زمام امور را به دست بگیرد و رهبری خود را آغاز كند، شیرینی و تلخی روزگار را بچشد و در نشیب و فراز زندگی قرار گیرد؛ تا روحی بزرگ و روانی بردبار و شكیبا پیدا كند، و تجربیاتی از سختیها بیندوزد، و خود را برای مواجهه با یك سلسله از شدائد، سختیها، محرومیتها و دربدریها، آماده سازد.

خدای او خواست طاعتِ كسی بر گردن او نباشد؛ و از نخستین روزهای زندگی حرّ و آزاد بار آید، و مانند مردان خود ساخته موجبات پیشرفت و ترقی و تعالی خود را به دست خویش فراهم سازد، تا روشن گردد كه نبوغ، نبوغ بشری نیست و پدر و مادر در سرنوشت او دخالتی نداشتند و عظمت و بزرگی او از منبع وحی سرچشمه گرفته است.

مرگ عبدالمطلب

حوادث جانگداز جهان، پیوسته در مسیر زندگانی انسان خودنمایی می كنند. و مانند امواج كوه پیكر دریا، یكی پس از دیگری سر برداشته و كشتی زندگی او را مورد هدف قرار می دهند، و ضربات شكننده ی خود را بر روح و روان آدمیزاد وارد می سازند.

هنوز امواجی از اندوه، در دل پیامبر حكومت می كرد، كه برای بار سوم، با مصیبت بزرگتری مواجه گردید. هنوز هشت بهار بیشتر از عمر او نگذشته بود، كه سرپرست و جدّ بزرگوار خود (عبدالمطلب) را از دست داد. مرگ « عبدالمطلب » آن چنان روح وی را فشرد كه در روز مرگ او، تا لب قبر اشك ریخت، و هیچ گاه او را فراموش نمی كرد[17].

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] - مقریزی، در « الامتاع » ، صفحه ی 3، همه ی اقوالی را كه در روز و ماه و سال تولد آن حضرت وجود دارد، آورده است، مراجعه شود.

[2] - سیره حلبی ج 1 / 93.

[3] - همان مدرك / 97.

[4] - « انسان العیون فی سیره الامین و المأمون » ج 1 / 93 - 100.

[5] - بحار الانوار جلد 15 / 384 ؛ « مناقب » ابن شهر آشوب ج 1 / 119.

[6] - سیره ابن هشام ج 1 / 162 ـ 163.

[7] - بحار ج 15 / 442.

[8] - بخ بخ سعد و حلم. خصلتان فیهما خیر الدهر و عز الابد یا حلیمه - « سیره حلبی » ج 1 / 106.

[9] - بحار ج 15/ 345.

[10] - مناقب ابن شهر آشوب ج 1 / 24.

[11] - لا تَحزَنی قَد جَعَلَ رَبّك تَحتكِ سَرِیّاً وَ هُزّی اِلیكِ بِجِذعِ النّخلَه تُساقِط علَیكِ رُطباً جنیّاً ـ سوره مریم، آیه های 24 ـ 25.

[12] - سیره ابن هشام ج 1 / 167.

[13] - خانه ای كه قبر حضرت عبدالله در آنجا قرار داشت، تا چندی پیش و قبل از توسعه ی فلكه « مسجد النبی » محفوظ بود ولی اخیراً به بهانه ی توسعه ی فلكه، خانه ویران گردید و آثار قبر از بین رفت.

[14] - سیره حلبی ج 1 / 125.

[15] - سیره ابن هشام ج 1 / 168.

[16] - سوره الضحی / 6.

[17] - یعقوبی در تاریخ خود ج 2 ص 7 - 8 پیرامون سیره ی « عبدالمطلب » و اینكه او یك فرد خدا پرست بود نه بت پرست، سخن گفته و یادآور شده است كه بسیاری از دستورهای او در اسلام امضا شده است.

جعفر سبحاني - فرازهايي از تاريخ پيامبر اسلام (ص)، ص

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:1 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

خاندان پیامبر اكرم(ص)

از رسول خدا ـ صلّی الله علیه و آله ـ (كه بدون شك از اولاد اسماعیل ذبیح، رسول خدا فرزند ابراهیم خلیل[1]، رسول خدا است) روایت شده است كه فرمود: «إذا بَلَغَ نَسَبی إلی عَدْنانَ فَاَمْسِكُوا[2] و نیز فرمود: «كَذَبَ النّسّایونَ قال الله تعالی: وَقروناً بَیْنَ ذلِكَ كَثیراً»[3].

بدین جهت تاریخ اسلام را كه معمولاً با ذكر مقدماتی راجع به عربستان و عرب و در این كتاب با شرح حال اجداد پیامبر اسلام آغاز می شود از جد بیستم رسول اكرم یعنی «عَدْنان» شروع می كنیم:

جد بیستم: عَدْنان[4] پدر عرب عَدْنانی است كه در تِهامه، نَجد و حجاز تا شارف الشّام و عراق مسكن داشته اند و آنان را عرب مَعَدَی، عرب نِزاری. عرب مُضَری. عرب اسماعیل، اسماعیلیان، عرب شمالی، عرب متعرّبه، عرب مستعربه، بنی اسماعیل بنی مشرق، بنی قَیْدار و قَیْدار نیز می گویند و نسبشان به اسماعیل بن ابراهیم ـ علیهما السلام ـ می رسد[5].

و مادر فرزندان اسماعیل «رَعْله» دختر یكی از جُرْهُمیان به نام مُضاض بن عَمْرو جُرْهمی بود. قبیله «جُرْهُم» كه از اعقاب «جُرْهُم بن قحْطان» بوده و از جنوب به شمال عربستان آمده بودند. از «عرب قحطانی» اند كه آنان را «عرب عاریه» و «عرب جنوبی» نیز می گویند. و نسبشان به «یعرب بن قَحْطان» می رسد.

قَحْطان بن عابر بن شالخ بن أَرْفَخْشَد بن سام بن نوح[6] در موقع پراكنده شدن فرزندان نوح از بابل به یمن آمد و پادشاه شد. و فرزندان وی یَعْرَب، عمان و حضرموت حكومت آن نواحی را به دست گرفتند و سپس «یَشْجُب بن یَعْرَُب» و آنگاه «سَبَأ بن یَشْجُب» به سلطنت رسیدند. «حِِمْیَر» و «كَهْلان» پسران «سَبَأ» بودند و اسامی 23 نفر از پادشاهان سَبَأ آمده است. پیش از عرب «قَحْطانی»، «عرب بائده» در عربستان سكونت داشته اند و قوم جنوبی عاد، قوم شمالی ثمود و اقوام طَسْم و جَدیس و عَمالِقه از این دسته اند. عاد و ثمود و دو پیغمبرشان هود و صالح در قرآن مجید ذكر شده اند[7].

و «طَسْم» هم ممكن است همان «لطوشیم» مذكور در تورات باشد[8]. چنانكه مورّخین اسلامی «جَدیس» را با «گودیسیت»[9] بطلمیوس یونانی یكی دانسته اند. و به قول ابن اسحاق: ثمود و جَدیس، پسران «عابَر بن سام بن نوح» اند.

عَدْنان دو پسر داشت: «مَعَدَ» و «عَكّ» كه «بَنی غافق» از «عَكّ» پدید آمده اند.

جد نوزدهم: مَعَد بن عَدْنان[10] مادر مَعَدَ از قبیله «جُرْهُم» بود و ده فرزند داشت. كنیه وی «أبو قُضاعه»[11] بود. در موقع سلطه «بُخْت نَصَّر»، «إرمیا» و «برخیا» «مَعَدّ» را با خود به «حَرّان» بردند و او را در آنجا سكونت دادند و چون جنگ آرام گرفت به مكّه اش باز آوردند. آنگاه برادران و عموهای خود را یافت كه به طوائف یمن پیوسته و با آنان پیوند زناشوئی برقرار كرده اند. و چون از طرف مادر «جُرْهُمی» بوده از قبایل یمن مهربانی دیده اند[12].

برخی نوشته اند كه چون «بُخْت نَصَّر» از فتح بیت المَقْدِس بپرداخت، برای تسخیر بلاد عرب آماده گشت و با «عَدْنان» بسیار جنگیدند تا بر وی غلبه یافت و بسیاری از یارانش را كشت. «عدنان» با فرزندان خویش به سوی یمن رفت و همانجا بود تا وفات یافت. عدنان را چند پسر بود كه مَعَدّ بر همه آنان سروری یافت[13].

به قول ابن اسحاق: مَعَدّ بن عَدْنان چهار پسر به نامهای: «نِزار»، «قُضاعه»، «قَنَص» و «إیاد» داشت.

جد هجدهم: نِزاربن مَعَدّ سرور و بزرگ فرزندان پدرش بود و در مكّه جای داشت و او را چهار پسر به نامهای «مُضَر»، «رَبیعه»، «أثمار» و «إیاد»[14] بود. دو قبیله «خَشْعَم» و «بَجیله» از أنمار بوجود آمده اند.

مادر «مُضَر» و «إیاد»، «سَوْده» دختر «عَكّ بن عَدْنان» و مادر «رَبیعه» و «أنمار»: «شقیقه» و به قولی «جُمعه» دختر«عَكّ بن عَدْنان» بوده است. دو قبیله بزرگ رَبیعه و مُضَر از نِزار پدید آمده اند.

جد هفدهم: مُضَربن نزار دو پسر داشت: «اَلْیأس»[15] و «عَیْلان» كه مادرشان زنی از قبیله «جُرْهُم» بود.

از رسول اكرم روایت شده است كه فرمود: «لاتَسُبُّوا مُضَرَ ورَبیعهَ فإنَّهما كانا مسلمین» مُضَر و رَبیعه را دشنام ندهید، چه آن دو مسلمان بوده اند»[16].

«مُضَر» سرور فرزندان پدرش و مردی بخشنده و دانا بود. از وی روایت شده كه به فرزندانش گفت: «كسی كه بدی كشت كند پشیمانی بدرود، و بهترین نیكی با شتابتر آن است. پس نفوس خود را در آنچه شما را به صلاح آورد، بر آنچه ناخوش دارد وادار كنید، و در آنچه شما را تباه سازد از آنچه خوش دارد باز دارید، كه در میان صلاح و فساد جز شكیبائی و پرهیزگاری چیزی نیست»[17].

قبایل «بنی ذُبْیان» و «بنی هِلال» و «بنی ثَقیف» از «مُضَر بن نِزار» منشعب شده اند[18].

جد هجدهم: الیَأس بن مُضَر پس از پدر در میان قبایل بزرگی یافت و او را «سیّد العشیره» لقب دادند. سه پسر به نامهای «مُدْرِكه»، «طابخه»، «قَمَعَه»[19] داشت و مادرشان «خِنْدِف» دختر «عِمْران بن الحاف بن قُضاعه» و نام اصلی وی «لیلی» بود.

قبایلی را كه نسبشان به الیَأس می رسد «بنی خِنْدِف»گویند. یعقوبی گوید: «الیأس را بیماری گرفت و مرگ وی روز پنجشبنه بود».

جد پانزدهم: مُدْرِكه بن الیَأس، نامش «عامر»[20] و كنیه اش «أبوالْهُذیَل» و «أبو خُزَیْمه» بود. «مُدْركه» چهار فرزند داشت: «خُزَیْمه»، «هُذَیْل»، «حارثه» و «غالب»[21]. نسب قبیله «هُذَیْل» و «عبدالله بن مسعود» صحابی معروف به «مُدْرٍكه بن الیَأس» می رسد.

جد چهاردهم: خُزَیْمَه بن مُدْرِكه، كه مادرش «سلمَی» دختر «أسد بن رَبیعه بن نِزار» و به قول ابن اسحاق زنی از «بنی قُضاعه» بود، بعد از پدر حكومت قبایل عرب را داشت و او را چهار پسر به نامهای كِنانه، أسَد، أسَدَه و هُون بود.

نسب قبیله بنی أسد و «قارَه» یعنی «بَنی هُون بن خُزَیْمه» و أُمّ المؤمنین «زَیْنَب» دختر «جَحْش بن رِئاب» و برادرانش «عبدالله» و «عُبَیْدالله»، فرزندان «أُمَیْمَه» دختر «عبدالمطّب» به «خُزَیْمه بن مُدْرِكه» منتهی می شود.

جد سیزدهم: كِنانه بن خُزَیْمَه، كه از وی فضائل بی شماری آشكار گشت و عرب او را بزرگ می داشت، كنیه اش «ابو مُضَر» بود و مادرش «عُوانه» دختر «سَعْد بن قَیْس بن عَیْلان بن مُضَر» و فرزندانش: نَضْر، مالك، عبد مناه، مِلْكان و حُدَال. قبایل: «بَنی لَیْث» و «بَنی عامر» از «كِنانه بن خُزَیْمه» پدید آمده اند.

جد دوازدهم: نَضْر بن كِنانه، مادرش به قول یعقوبی «هاله» دختر «سُوَیْد بن غِطْریف» و به قول ابن اسحاق و طبری و دیگران «بَرّه»[22] دختر «مُرّ بن أدّ بن طابخه» بود.

و فرزندان وی: مالك و یَخْلُد و صَلْت و كنیه اش «أبو الصَّلت» بوده است[23].

یعقوبی می گوید: «نَضْر بن كِنانه» او ل كسی است كه «قُرَیش» نامیده شد گویند او را برای پاكدامنی (تقرّش) و بلند همتی كه داشت «قَرَیش» گفته اند. و به قولی چون بازرگان و دارا بود، و به قولی دیگر مادرش او را «قریش» نامید كه تصغیر «قرش» است و آن جانوری است دریائی. پس كسی كه از فرزندان «نضربن كنانه» نباشد «قرشی» نیست و به قولی دیگر «قریش» را برای آن «قریش» گفته اند كه پس از پراكندگی فراهم شدند، و «تقرش» هم به معنی فراهم گشتن (تجمع) است.

جد یازدهم: مالِك بن نَضْر، مادر وی «عاتكه» دختر «عَدْوان بن عَمْرو بن قَیْس بن[24] عَیْلان» و فرزند وی «فِهربن مالك» بود.

جد دهم: فِهر بن مالك، مادر وی «جَنْدَله» دختر «حارث بن مُضاض بن عَمْرو جُرْهُمی» است و فرزندان وی: غالب، مُحارِب، حارث، أسد و دختری به نام «جَنْدَله» می باشند.

نسب أبو عُبَیْده جرّاح (عامر بن عبدالله بن جرّاح) به «ضَبّه بن حارث بن فِهر» و نسب «ضَحّاك بن قَیْس» به «شَیْبان بن مُحارِب بن فِهر» می رسد و «بنی حارث بن فِهر» و «بَنی مُحارِب بن فِِهر» دو قبیله اند.

برخی قُرَیش را لقب «فِهْر بن مالك» و برخی دیگر «قُریش» را نام و «فِهر» را لقب وی دانسته اند، به گفته اینان «بنی مالك بن نَضْر» و «بنی نَضْربن كِنانه» را اگر از اولاد «فِهْر» نباشند «قُرَشی» نگویند.

جد نهم: غالب بن فِهْر، مادر وی «لیلی» دختر «سَعْد بن هُذَیْل» بود، و فرزندان وی: لُؤَیّ و تَیْسم الأدِرم[25] و فرزندان تَیْسم بن غالب: «بنوأدرم بن غالب» معروف شده اند.

جد هشتم: لُؤَیّ بن غالب، مادر وی: «سَلْمی» دختر «كَعْب بن عَمْرو خُزاعی»[26] بود. و فرزندانش: كَعْب، عامر، سامَه، عَوْف و خُزَیْمه، نسبت قبیله «بنی عامر بن لُؤیّ» به «عامر» می رسد.

نسب أُمّ المؤمنین «سَوْدَه» دختر «زَمَعَه بن قَیْس» و «عَمْرو بن عَبْدوَدّ» به «لُؤَیّ بن غالب» می رسد.

جد هفتم:كَعْب بن لُؤَیّ، مادر وی «ماویَّه» دختر «كَعْب بن قَیْن جَسْر» قُضاعی است. فرزندانش: مُرَّه، عَدِیّ و هُصَیْص، و كنیه اش «أبوهُصَیْص»، نسب «بَنی سَهْم» و «بَنی جُمَح» از جمله: «عَمرو بن عاص سَهْمی» و «عُثْمان بن مَظْعون جُمَحی» صحابی معروف و «صَفْوان بن أمَیَّه بن خَلَف جُمَحی» به «هُصیْص بن كَعْب» و نسب «بنی عَدِیّ» از جمله: «عُمر بن خطّاب بن نُفَیْل» و «سَعید بن زَید بن عَمْرو بن نُفَیْل» به «عَدِیّ بن كَعْب» می رسد.

«كَعْب بن لُؤَیّ» از همه فرزندان پدرش بزرگوارتر و ارجمندتر بود، وی اولین كسی است كه در خطبه اش «أمّا بعد» گفت، و روز جمعه را «جمعه» نامید، و پیش از آن عرب را «عَروبه» می نامیدند، «كَعْب» مردم را در روز جمعه فراهم ساخت و برای آنان سخنرانی كرد و چنین گفت:

«بشنوید و یاد بگیرید، و بفهمید و بدانید، كه شب آرام است، و روز روشن، و زمین بستری هموار،‌و آسمان كاخی بلند است و كوه ها میخها، و ستارگان نشانه ها و گذشتگان مانند آیندگان و پسران یادآوری (پدران) اند، پس با خویشان خود پیوند كنید، و دامادهای خود را نگهداری كنید، و مالهای خود را به ثمر آورید، آیا رفته ای را دیده اید كه باز آید، یا مرده ای را كه برانگیخته شود؟ خانه (جاوید) در جلو شماست. و گمان جز آن است كه می گوئید،‌ حرم (كعبه) خود را آراسته دارید، و بزرگش شمارید و دست از آن باز ندارید، چه زود است خبری بزرگ برسد، و پیامبری بزرگوار از آن بیرون آید». سپس می گفت:

«روزی است و شبی، هر دوری با پیشامدی تازه، برای ما شب و روز آن یكسان است (شب و روز) ‌هرگاه باز آیند، حوادث تازه ای را به همراه دارند،‌ و نعمت هائی نیز كه پرده های آن بر ما فرو هشته است، دگرگونی ها و خبرهائی كه بر مردم چیره می شود (مرد را دگرگون می سازد) آنها را گره هائی است كه تلخ آن را نمی توان گشود (به احتمالی: نمی توان شیرین یافت) ، ناگهان پیامبر خدا، محمّد ـصلّ الله علیه و آله ـ می رسد پس خبرهائی می دهد كه گوینده اش بسی راستگوست».

سپس می گفت: «ای كاش (زنده مانده) آنگاه كه خویشان و بستگان دست از یاری حق می كشند، دعوت او را می شنیدم، ‌اگر (در زمان او) دارای گوشی و دیده ای و دست و پائی بودم، از خوشحالی دعوتش و شادمانی فریادش، مانند شتر نری بر می خاستم و به یاری او می شتافتم».

چون «كَعْب» از دنیا رفت، قُرَیْش روز مرگ او را مبدأ تاریخ خویش قرار دادند و تا «عام الفیل» همچنان مبدأ تاریخ بود.

جد ششم: مُرّه بن كَعْب، مادر وی: «وَحْشِیّه» دختر «شَیْبان بن مُحارب بن فِهْر بن مالك بن نَضْر» است، و فرزندان وی: كِلاب، تَیْسم و یَقَظَه. و كنیه اش «أبو یَقَظَه» (به فتح قاف و ظا) نسب طایفه «بَنی مَخْزوم» از جمله: «أمّ المؤمنین «أمّ سَلَمَه» و «خالد بن وَلید» و «أبوجَهْل: عَمْرو بن هِشام بن مُغیره» به «یَقَظَه» و نسب طائفه «بَنی تَیْسم» از جمله: أبو بكر و طَلْحَه بن عُبَیْدالله، به «تَیْسم بن مُرَّه» می رسد.

جد پنجم: كِلاب بن مُرَّه، مادرش: «هِنْد» دختر «سُرَیْر[27] بن ثَعْلَبَه بن حارث بن (فِهْر بن) مالك (بن نَضْر) بن كِنانه بن خُزَیْمه» است و فرزندانش: «قُصَیّ بن كِلاب» و «زُهْرَه بن كِلاب» و یك دختر، و كنیه اش «أبو زُهْره» و نامش «حكیم»[28] است.

«كِلاب بن مُرَّه» پس از پدر، بزرگواری یافت و شأن و مقامش بالا گرفت و شرافت پدر و نیای مادری برای وی فراهم گردید. چه نیاكان مادرش امر حج را به دست داشتند و ماه ها را حلال و حرام می كردند، و از این رو «نَسَأه» و نیز «قَلامِس»[29] نامیده می شدند.

رسول اكرم در باره دو فرزند «كِلاب بن مُرَّه» یعنی «قُصَیّ» و «زُهْرَه» گفت: صریحا قُرَیْشٍ ابْنا كِلابٍ (دو بطن خالص قریش دو پسر كِلاب اند).

نسب بَنی زُهْره، از جمله: «آمنه» دختر «وَهْب بن عَبْدمَناف بن زُهْرَه» مادر بزرگوار رسول اكرم و «سَعْد بن أبی وَقّاص: مالك بن أهیَبْ بن عبد مَناف» زُهری برادر زاده حضرت «آمنه» و «هاشم بن عُتبه بن أبی وَقّاص» معروف به «مِرْقال» برادر زاده سَعْد، و از شهدای صفّین و أصحاب أمیرالمؤمنین و «عبدالرحمن بن عَوْف زُهْری» به «زُهْرَه بن كِلاب» می رسد.

جد چهارم: قُصَیّ بن كِلاب، مادرش «فاطمه» دختر «سَعْد بن سَیَل» (به فتح سین و یاء) است. و فرزندانش: عَبْد مَناف، عبدالدّار، عبدالعُزّی و عبد قُصَیّ و دو دختر،. كنیه اش «أبوالمُغیره»[30] و نامش زَید و لقب دومش «مُجَمِّع».

مادر قُصَیّ، پس از وفات شوهرش: «كِلاب» به ازدواج «رَبیعه بن حَرام عُذْری» در آمد، و «رَبیعه» وی را به سرزمین قوم خویش برد.

فاطمه، فرزند خردسال خویش: «قُضَیّ» را كه نامش «زَیْد» بود با خود همراه برد و چون از سرزمین پدرانش دور گشت، او را «قُصَیّ» نامید.

چون قُصَیّ در خانه «رَبیعه» به جوانی رسید، مردی از «بَنی عُذْره» به او گفت: به قوم خود ملحق شو كه از ما نیستی، گفت: مگر من از كدام قبیله ام؟ گفت: از مادرت بپرس. قُصَیّ از مادرش جویا شد و او گفت: تو هم خود، و هم از حیث پدر و نسب از او بزرگوارتری. توئی فرزند «كِلاب بن مُرَّه» و قوم تو نزدیكان خدا و در حرم اویند. قُصَیّ تا رسیدن ماه حرام صبر كرد. و آنگاه با حاجیان «قُضاعه» به مكّه آمد تا آنكه بزرگ و بزرگوار شد، و فرزندانی از وی پدید آمدند. در این موقع دربانی و كلید داری خانه كعبه با قبیله «خُزاعه» بود كه پس از «جُرْهُمیان» بر مكّه غالب شده بودند. و اجازه حجّ (حركت از عرفات، و اجازه رمی جَمَرات، و كوچ كردن از منی) با قبیله «صوفه» یعنی «غَوْث بن مُرّ بن أدّ بن طابخه» كه خود و فززندان وی را «صوفه» می گفتند، بود.

جد سوم: عَبْدمَناف بن قُصَیّ، مادرش «حُبَّی» دختر «حُلَیْل خٌزاعی» است و فرزندانش: هاشم، عَبْدشَمس، مُطَّلِب، نَوْفَل، أبوعَمْرو و شش دختر. و كنیه اش: «أبوعَبْدشَمْس» و نامش: «مُغَیْره» و او را «قَمَرالبَطحاء» می گفتند[31].

نسب «عُبَیْده بن حارث» شهید بدر و «محمّدبن ادریس شافعی» به «مُطَّلِب بن عَبْدمَناف» و نسب «بنی أُمیَّه» به «عبدشَمْس» می رسد.

چون «قُصَیّ» از دنیا رفت و در «حَجون»[32] دفن شد، «عبدمَناف بن قُصَیّ» سروری یافت و مقامش بالاگرفت و امور مكّه بدون نزاع و اختلاف به دست فرزندان «قُصَیّ» اداره می شد.

نسب «بنی عبدشَمْس» از جمله: «بنی أُمیَّه» و «بنی مُطَّلِب» و «بنی نَوْفَل» به «عبدمَناف» می رسد.

جد دوم: هاشم بن عَبْدمَناف، مادرش: «عاتكه» دختر «مُرَّه بن هِلال بن فالج» است، یكی از دوازده عاتكه ای كه در میان مادران رسول اكرم بوده اند و نامشان در تاریخ یعقوبی و مآخذ دیگر به تفصیل ذكر شده[33] و روایت شده است كه رسول خدا بسیار می گفت: «أنا ابنُ العواتك» (منم پسر عاتكه ها) و نیز می گفت: «أنَا ابنُ العواتِكِ من سُلَیْمٍ» (منم پسر عاتكه ها از بنی سُلَیْم).

و فرزندان وی: عبدالمُطَّلِب، أسد، أبو صَیْفیّ، نَضْله و پنج دختر، و كنیه اش: «أبونَضْله»، نامش: عَمْرو و معروف به «عَمْرو العُلَی» و القاب وی: هاشم و «قمر» و «زاد الرّاكب»[34] بود. پس از وفات «عبدمَناف» و «عبدالدّار» میان «بنی عَبدمَناف» یعنی «هاشم» و «عَبدشَمْس» و «مُطَّلِب» و «نَوْفَل» و «بنی عبدالدّار» كه سرورشان «عامربن هاشم بن عَبْدمَناف بن عبدالدّار» بود بر سر مناصب كعبه نزاعی سخت در گرفت. «بنی أسدبن عَبدالعُزّی» و «بنی زُهْره بن كِلاب» و «بنی تَیم بن مُرَّه» و «بنی حارث بن فهر» با «بنی عَبْدمَناف» همراه شدند و میانشان پیمانی منعقد شد كه به «حِلْف الُمطَیَّبین» معروف گشت.

«بنی مًخْزوم» و «بنی سَهْم» و «بنی جُمَح» و «بنی عَدِیّ» با «بنی عبدالدّار» هم پیمان گشتند و «أحلاف»[35]نامیده شدند، و «بنی عامر بن لُؤَیّ» و «بنی مُحارب بن فِهْر» بی طرف ماندند.

با این ترتیب مقدمات جنگ میان طوائف قُرَیْش فراهم گشت، اما جنگ روی نداد و با یكدیگر صلح كردند، و قرار بر این شد كه «سِقایت» و «رِفادت» به «بنی عبدمناف» داده شود، «حِجابت» و «لِواء» و «دارالنّدوه» به دست «بنی عبدالدّار» باشد، در میان «بنی عبدمناف»، «هاشم» متصدی رِفادت و سقایت گردید، چه برادر بزرگترش «عبدشمس» هم فقیر و هم عیالوار بود، و هم بیشتر اوقات به سفر می رفت و كم در مكّه اقامت داشت. به گفته یعقوبی، دو پیمان: «مُطَیَّبین» و «لَعَقه» در زمان «عبدالمُطَّلِب بن هاشم» به انجام رسید، و دختر عبدالمُطّلِب كاسه طیب را برای «مُطَیَّبین» فراهم ساخت، كه دست در آن فرو بردند.

در موسم حجّ «هاشم» در میان قًُرَیْش به پا می خاست و چنین می گفت:

«ای گروه قًرَیْش، شما همسایگان خدا و أهل بیت الحرام او هستید، در این موقع زُوّار خدا (و حاجیان خانه او) نزد شما می آیند، تا حرمت خانه او را بزرگ دارند و اینان میهمانان خدایند، و سزاوارترین میهمان به این كه گرامی داشته شود، میهمان خداست. خدا شما را برای این كار بگزید و به این افتخار سرفراز داشت، سپس حقوق همسایگی شما را بهتر از هر همسایه ای برای همسایه اش رعایت فرمود، پس میهمانان و زائران او را گرامی دارید. زیرا كه ایشان، ژولیده و غبارآلوده از هر شهری بر شتر لاغر مانند چوبه های تیر، می رسند، در حالی كه خسته و بدبو و ناشسته و نادار گشته اند، پس آنان را پذیرائی كنید و بی نیازشان سازید (پس برای ایشان چیزی فراهم سازید، تا در این ایامی كه ناچار باید در مكّه بمانند برای ایشان خوراكی تهیه كنید، چه سوگند به خدا اگر مرا ثروتی برای این كار به قدر كفایت می بود، زحمت آن را به شما نمی دادم) [36].

«هاشم» حاجیان را در مكّه و مِنی، عَرَفات و مَشْعَر، غذا می داد و برای آنان نان و گوشت و روغن و سَویق تریت می كرد، و آب را همراهشان می برد، تا وقتی كه مردم متفرق می شدند و به شهرهای خود رهسپار می گشتند و نیز در سال قحطی برای قوم خود نان خرد كرده و تریت می ساخت و بدین جهت «هاشم» نامیده شد.

«هاشم» نخستین كسی بود كه دو سفر بازرگانی: زمستانی و تابستانی، یعنی: «دو رحله شتاء و صیف»[37] را برای قُرَیْش برقرار ساخت. سفری در زمستان به شام و سفری در تابستان به حَبَشه[38]. یا سفری در زمستان به یمن و عراق و سفری در تابستان به شام و فلسطین[39].

و نیز می گویند كه «عبدشَمْس» برادر «هاشم» با پادشاه حبشه چنین پیمانی بسته بود، و نَوْفَل با پادشاه و مطَّلب با پادشاه یَمَن[40]. مطرود بن كَعْب خُزاعی درباره هاشم گفته است:

عَمْرو الَّذی هَشَم الثَّریدَ لقومِه قَوْمٍ بِمَكّّه مُسْنتینَ عِجافٍ

سُنَّتْ إلَیْهِ الرِّحْلَتانِ كِلاهُما سَفَرُ‌الشِّتاء وَرِحْلِهُ الأصیاف[41]

«آن عَمْرو كه برای قوم خود، قومی كه در مكّه قحطی زده و لاغِر شده بودند تَریت خرد كرد، دو سفر تابستانی و زمستانی به وسییله او برقرار گشت».

نسب «بَنی هاشم» عموماً به «هاشم بن عَبْدمَناف» می رسد و مادر أمیرالمؤمنین ـ علیه السلام‌ ـ «فاطمه» دختر «أسد بن هاشم» است. «هاشم» در یكی از سفرهای شام در «غَرَّه» وفات كرد، سپس «عَبْدشَمْس» در مكّه، آنگاه «مطَّلِب» در «رَدْمان» یَمَن، و پس از او نَوْفَل در «سَلْمان» عراق درگذشتند.

جد اول: عَبْدالمطَّلِب بن هاشم، مادرش «سَلْمی» دختر «عَمْرو بن زَیْد بن لَبید (بن حرَام) بن خداش بن عامر بن غَنْم بن عَدِیّ بن نَجّار: تَیْم الاّت بن ثَعْلَبَه بن عَمْرو بن خَزْرَج» بود و فرزندانش: عبّاس، حَمْزه، عبدالله، أبوطالب، (عبدمَناف) ، زُبَیْر، حارث، حَجْل (غَیْداق) ، مُقَوًّم (عبدالكَعْبه) ، ضِرار أبولَهَب (عَبْدالْعُزّی) [42]، قُشَم[43] و شش دختر از جمله: «عاتكه» مادر «عبدالله بن أبی أُمیَّه مَخْزومی» برادر پدری «أُمّ سَلَمَه» كه چون مادرش نیز عاتكه نام داشت بعضی به اشتباه او را دختر عمّه رسول اكرم نوشته اند، و «أُمَیْمَه» مادر أُمّ المؤمنین «زَیْنَب» دختر «جَحْش أسدی» و برادرش «عبدالله بن جَحْش» شهید أُحُد. و «صفیّه» مادر «زُبَیْر بن عوّام» و «بَرَّه» مادر «أبوسَلَمه مَخْزومی».

كنیه عبدالمُطَّلِب «أبوالحارث» و نامش «شَیْبَه الْحَمْد» و نام اولش «عامر» بوده است[44].

نسب ائمه معصومین ـ‌علیهم السلام ـ و همه طالبیان[45] كه انسابشان در كتاب «عمده الطّالب فی أنساب آل أبی طالب» تألیف «جمال الدّین أحمد بن علی حسینی» معروف به «ابن عِنَبَه» متوفّی به سال 828 هجری و شرح فداكاری آنان در كتاب «مَقاتِل الطّالبییّین» تألیف «أبوالفرج علیّ بن حسین اصفهانی» متوفّی به سال 356 هجری آمده است به «أبوطالب بن عبدالمُطَّلِب» و نسب «بنی العبّاس» از جمله: 37 نفر از خلفای عبّاسی عراق (132 - 656 ه.) به «عبّاس بن عبدالمُطّلِب» و نسب 17 نفر خلفای عبّاسی مصر (659 - 923) به سی و پنجمین خلیفه عبّاسی عراق یعنی «الظّاهر بالله» (622 - 623) می رسد[46].

«هاشم» در یكی از سفرهای خود به مدینه با «سَلْمَی» دختر «عَمْرو بن خَزْرَجی» ازدواج كرد و «عَبْدالمُطَّلِب» از وی تولّد یافت، و در موقع وفات «هاشم»، «عَبْدالمُطَّلِب» نزد مادر خویش در مدینه ماند و هنوز پسری نابالغ بود. «مُطَّلِب بن عَبْدمَناف» بعد از برادرش «هاشم» امر مكّه و سِقایت و رِفادت حاجیان را به عهده گرفت، و چون «عَبْدالمُطَّلِب» بزرگ شد مُطَّلِب خود به مدینه رفت و از مادر وی اجازه گرفت و او را با خود به مكّه آورد، و چون او را در ردیف خویش سوار كرده بود مردم بی خبر از حقیقت امر گفتند: «مُطَّلِب» بنده ای خریده است، اما «مُطَّلِب» می گفت: وای برشما این پسر برادر من «هاشم» است، و او را از مدینه می آورم.

از آن روز برای او نام «عَبْدالمُطَّلِب» معروف گشت، و نام اصلی وی كه شَیْبه یا شَیْبَه الْحَمْد بود از یاد رفت.

چون «مُطَّلِب» در «رِدْمان» یَمَن وفات یافت. «عَبْدالمُطَّلِب» در مكّه به سروری و بزرگواری و آقائی رسید، و آوازه او بلند و برتری اش آشكار گشت و قُرَیْش هم سروری او را پذیرفتند.

«عَبْدالمُطَّلِب» پس از آنكه داستان اصحاب فیل به انجام رسید، اشعاری گفت كه یعقوبی آن را نقل كرده است[47]. و اشعاری دیگر كه مجلسی از مجالس مفید، و امالی شیخ طوسی، و كنز كراجكی نقل كرده است[48]. شیخ طوسی در مصباح المُتَهَجّد می گوید: در دهم ماه ربیع الاول و هشت سالگی رسول اكرم، سال هشتم عام الفیل، «عَبْدالمُطَّلِب» وفات یافت[49]. قبر «عَبْدالمُطَّلِب» و «عَبْدمَناف» و «أبوطالب» و أمّ المؤمنین «خَدیجه» در حَجون واقع، و به «قبرستان أبو طالب» معروف است[50].

دختران «عَبْدالمُطَّلِب»: صَفِیّه، بَرَّه، عاتكه، أُمّ حَكیم: بَیْضاء، أمَیْمه و أرْوَی هركدام پیش از مرگ پدر و به امر وی مرثیّه ای گفته اند كه ابن اسحاق آن را نقل كرده است[51].

«عبدالله» پدر رسول خدا در بیست و پنچ سالگی، در مدینه نزد دائی های پدرش طایفه «بَنی النَّجّار» در خانه ای معروف به «دار النّابغه» وفات كرد[52]به قول مشهور. وفات وی پیش از میلاد رسول خدا روی داد، اما یعقوبی همین قول مشهور را خلاف اجماع گفته، و به موجب روایتی از «جعفربن محمد» ـ علیهما السّلام ـ، وفات او را دو ماه پس از ولادت رسول خدا دانسته[53]و سپس قول یك سال پس از میلاد را هم از كسانی نقل كرده است: قول 28 ماه پس از میلاد و قول هفت ماه پس از میلاد هم نقل شده است[54].

علت وفات عبدالله را در مدینه چنین نوشته اند كه برای تجارت با كاروان قریش رهسپار شد، و در بازگشتن از شام در اثر بیماری، در مدینه در میان «بنی عدیّ بن النّجّار» توقف كرد، یك ماه بستری بود، و چون كاروان قریش به مكه رفتند و «عَبْدالمُطَّلِب» از حال وی جویا شد، بزرگترین فرزند خود حارث را نزد وی به مدینه فرستاد، اما هنگامی «حارث» به مدینه رسید كه «عبدالله» وفات كرده بود.

به قول واقدی: از «عبدالله» كنیزی به نام «أُمّ اَیْمَن» و پنج شتر و یك گله گوسفند و به قول ابن اثیر: شمشیری كهن و پولی نیز به جای ماند كه رسول خدا آنها را ارث برد[55].

مادر رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ

«آمنه» دختر«وَهْب» بن عَبْدمَناف بن زُهْره بن كِلاب» كه ده سال و به قولی ده سال و اندی پس از واقعه حفر زَمْزم، ویك سال پس از آن كه «عَبْدالمُطَّلِب» برای آزادی «عبدالله» از كشته شدن صد شتر فدیه داد، به ازدواج «عبدالله» در آمد، وشش سال و سه ماه پس از ولادت رسول خدا[56]، در سفری كه فرزند خویش را به مدینه برده بود تا خویشان مادری وی (از طرف مادر عبدالمطّب) یعنی «بنی عَدِیّ بن النّجّار» او را ببینند، هنگام بازگشتن به مكه در سی سالگی در «أبْواء» وفات كرد و همانجا دفن شد.

«علّامه مجلسی» می گوید: شیعه امامیه بر ایمان «أبوطالب» و «آمنه» دختر «وَهْب» و «عبدالله بن عبدالمطّلب» و اجداد رسول خدا تا آدم ـ علیه السّلام ـ اجماع دارند[57].

نسب رسول خدا ـ صل الله علیه و آله ـ

محمّد بن عبدالله بن عبدالمطّلب (شَیْبه الحَمد، عامر) بن هاشم (عَمْرو العُلَی) بن عَبْدمَناف (مُغیره) بن قُصَیّ (زَید) بن كِلاب (حكیم) بن مُرَّه بن كَعْب بن لُؤَیّ بن غالب بن فِهْر (قریش) بن مالك بن نَضْر (قَیْس) بن كنانه بن خُزَیْمه بن مُدْركه (عمرو) بن الیَأسن نِزار (خلدان) بن معدّ بن عدنان ـ‌علیهم السّلام ـ.

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . نسب بنی اسرائیل: یعقوب بن اسحاق بن ابراهیم و بنی عیصو بن اسحاق. یعنی: «أدمیان» كه از بین رفته اند، در ابراهیم خلیل یا رسول خدا یكی می شود.

[2] . بحارالانوار ج 15 ص 105 . یعنی: هرگاه نسب من به عدنان رسید از ذكر اجداد جلوتر خودداری كنید.

[3] . بحارالانوار ج 15 ص 105، التنبیه والاشراف، ص 195، الجامع الصغیر، ج 2 ص 90. یعنی نسب شناسان نادرست گفته اند، خداوند متعال گفته است از آنان جماعت های بسیاری را هلاك كرده ایم. (سوره فرقان، آیه 38).

[4] . بفتح عین و سكون دال.

[5] .رك: تورات، سفر پیدایش، باب 25، آیه 18. باب 37، آیه 25، سفرداوران باب 6، آیه 33. باب 7، آیه 12، باب 8، آیه 24. كتاب اشعیای نبی. باب 21، آیه 16 - 17. كتاب ارمیای نبی، باب 49، آیه 28. غزل غزل های سلیمان، باب اول، آیه 5.

[6] . در تورات: سفر تكوین، باب 10، آیه 21- 30 و نیزاول تواریخ، باب اول،‌آیه 17- 23: یقطان بن عابر بن شالح بن ارفكشاد بن سام بن نوح آمده است.

[7] . قصص هود در سوره های اعراف 60 - 72، هود 50 -60، 89. شعراء 123 - 140. و قصص صالح در سوره های اعراف 73 -79. هود 61- 68. شعراء 141 - 159. نمل 45 - 53. قمر 23 - 31. شمس 11 - 15 و نیز نام صالح در سوره هود 89، و نیز داستان ثمود در سوره ذاریات 43 - 46. و داستان عاد و ثمود در سوره حاقه 4 - 7، فصلت 13 - 18 آمده است.

دیار و مساكن قوم ثمود در وادی القری میان مدینه و شام، همان «حجر» بود كه در قرآن مجید آمده است.

به عقیده برخی، عاد و «عادارم» همان «هدورام» است كه در تورات: سفر تكوین باب 10، آیه 27 و اول تواریخ، باب 1، آیه 21، جزو فرزندان یقطان (یعنی قحطان) ذكر شده است و گمان دارند كه قبیله وی در ساحل جنوبی عربستان سكونت داشته اند (ر.ك: قاموس كتاب مقدس، ص 920)، اما قوم ثمود در شمال حجاز مسكن داشته و از قدیمی ترین اقوام عرب شمالی بوده اند.

[8] . سفر تكوین، باب 25، آیه 3.

[9] . Godisitae

[10] . بفتح میم و عین و تشدید دال.

[11] . ترجمه تاریخ یعقوبی: ج 1، ص 278.

[12] . تاریخ الامم و الملوك: ج 2، ص 27، الكامل ج 2، ص 21.

[13] . ترجمه تاریخ یعقوبی: ج 1، ص 278.

[14] . قس بن ساعده ایادی خطیب معروف عرب، و ابو داود ایادی: جاربه بن حجاج، شاعر معروف عرب، به ایاد بن نزار نسبت داده می شوند. و قبایل بنی بكر بن وائل، بنی تغلب بن وائل، بنی عنز بن وائل، و بنی عبدالقیس كه در نسبت به آنان، عَبْدیّ، قَیْسیّ و عَبْقسیّ نیز گویند و بنی عنزه (بفتح عین و نون) بن اسد بن ربیعه و بنی نمر بن قاسط، به ربیعه بن نزار (جوامع السیره ص4).

[15] . در بعضی از صفحات جلد اول كتاب سیره ابن هشام كلمه الیاس به كسر همزه قطع در اول مانند الیاس پیغمبر ضبط شده است (ص 77) ولی ظاهراً این اشتباه است و چنانكه از كتاب تاج العروس (ماده الس و یأس) به دست می آید، كلمه الیاس در الیاس بن مضر از ماده یأس است و الف و لام آن مانند الف و لام الفضل است (رجوع شود به ج 4).ه.

[16] . ر.ك: ترجمه تاریخ یعقوبی، ج 1، ص 285.

[17] . مدرك سابق، ص 284.

[18] . از قبیله بنی ذبیان است: نابغه ذُبیان شاعر معروف عرب، از اصحب معلقات عشر و از قبیله بنی هلال است: سُلَیْم بن قَیْس هِلالی از اصحاب امیرالمؤمنین و حسنین و سجاد و باقر ـ علیهم السلام ـ. و از قبیله بنی ثقیف است عروه بن مسعود ثقفی و مختار بن أبی عُبَیْد ثَقَفیّ و حَجاج بن یوسُف ثَقَقیّ . و دیگر قبایل قَیْس: سُلَیْم، مازِن، فَزارَه، عَبْس، أشْجَع، مُرَّه، غَطَفان، عُقَیْل، قُشَیْر، حَریش، جَعْده،عَجْلان، كِلاب، بَكّاء، سُواءه، بنوجُشَم، بنَونَصْر، سَعْد، هَوازِن، مُحارِب، عَدْوان، فَهْم، باهِلَه، غَنیّ، طُفاوه و غیره به مُضَر منتسب است.

[19] . نامشان به ترتیب عامر، عَمرو و عُمیر است.

[20] . ر.ك: مروج الذهب،‌ج 1، ص 74 - 75.

[21] . به قول ابن اسحاق، اما به قول طبری نام وی «عمرو» بود.

[22] . آنچه در معارف ابن قتیبه ص 30، 50 و تاریخ طبری، ج 2، ص 23 - 24 و الكامل ج 3، ص 18 و سیره النبی ج1، ص 102 آمده است كه مادر نَضْربن كِنانه «بَرّه» دختر «مُرّ أدّ بن طابخه» بود كه پیش از این زن خُزَیْمه پدر كِنانه بوده است. غلطی است كه علمای انساب به آن گرفتار شده اند، و جاحظ در كتاب «الاصنام» بر آن تنبیه كرده و گفته است: كنانه بن خزیمه زن پدرش را گرفت و از وی هیچ فرزندی نداشت و زنی دیگر همنام او یعنی بَرّه دختر مُرّ بن أدّ بن طابخه داشت كه مادر نضربن كنانه بود. (ر.ك معارف ابن قتیبه، ص 30، حاشیه).

[23] . فرزندان صلت در قبیله خزاعه در آمدند و از آنهاست: كُشَیِّربن عبدالرَّحمن خُزاعی، شاعر طبقه دوم از شعرای اسلامی كه از طایفه بَنی مُلَیْح بن عَمْرو خُزاعی است كه صلت بن نضر نسبت داده می شوند. وفات «كًشیّرعَزّه» در سال 105 روی داد و امام باقر ـ علیه السلام ـ در تشییع وی شركت فرمود (ر.ك: طبقات فحول الشعراء ص 452، سفینإ البحار، ج 2، ص 471، سیره ابن هشام، ج 1، ص 104، وفیات الاعیان، ج 3، ص 265،‌رقم 519، ترجمه تاریخ یعقوبی، ج 1، ص 296.

[24] . بعضی از كتب كلمه ابن را ندارد (ر.ك به: جمهره انساب العرب ص 10، 243، 247، 468، 480 وغیره، چاپ سوم دارالمعارف مصر و به معارف ابن قتیبه ص 64 س 2و 14 ، ص 79 س 7 و غیره) .م.

[25] . ویعلب و وهب و كثیر و حراق كه از ایشان نسلی باقی نماند (ترجمه یعقوبی، ص 298) و قیس بن غالب (ابن هشام، ج 1، ص 99، ط مصطفی حلبی 1355.م.)

[26] . یاسلمی، دختر عمرو بن ربیعه خزاعی (ترجمه تاریخ یعقوبی، ص 298 پاورقی 1) یا عاتكه دختر یَخْلُد بن نَضْر بن كِنانه (الكامل، ج 2، ص 16).

[27] . سُرَیْر اول كسی است كه ماه های حرام را جابجا كرد (یعقوبی).

[28] . حكیمُ بن مُرّه سادَ الْوَرَی بِبذلِ الَّنوالِ و كَفِّ الأَذی

أَباحَ الْعَشیرهَ إِفضاله و جَنَّبَها طارقاتِ الرَّدَی (عمده الطالب، ص 26).

[29] . قَلامِس: جمع قَلَمَّس بر وزن عَمَلَّس: مردی از كنانه كه نزد جَمْره عَقَبه می ایستاد و می گفت: خدایا من ماه ها را پس و پیش می كنم (رجوع شود به قاموس).

[30] . چه نام عبد مناف «مغیره» بود.

[31] . چنانكه عبدالله بن عَبْدالْمُطَّلِب «قمر حَرَم» و عباس بن امیرالمؤمنین «قمر بنی هاشم» گفته می شدند (قمر بنی هاشم).

[32] . حجون به فتح حاء، كوه یا مكانی است در مكه (معجم البلدان، ج 2، ص 225 چاپ بیروت 1375ه.)م.

[33] . ر.ك: ترجمه تاریخ یعقوبی، ج 1، ص 517-520.

[34] . عمده الطالب، ص 25.

[35] . و نیز «لَعَقه» یعنی خون لیسان، چه بنی سَهْم كه از «حِلْف المُطَیَّبین» خبر یافتند، گاوی كشتند و گفتند: هركس دست خود را در خون آن داخل كند و آن را بلیسد از ماست. بَنی سَهْم و بنی عبدالدّار و بنی جُمَح و بَنی عَدِیّ و بنی مَخْزوم دست های خود را در آن فرو بردند و «لَعَقه»یعنی خون لیسان نامیده شدند. (ترجمه تاریخ یعقوبی، ص 322).

[36] . ر.ك: ترجمه تاریخ یعقوبی، ص 311-312، سیره النبی،‌ج 1، ص 147، شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 3، ص 457 و نیز در ص 458 از شرح نهج البلاغه در هم چنین در جمهره خطب العرب، ج 1، ص 32،‌خطبه دیگری نیز از هاشم نقل شده است.

[37] . قرآن مجید، سوره قریش.

[38] . تاریخ یعقوبی، ج1، ص 243.

[39] . در این باره به كتب تفاسیر مانند طبری، فخررازی، تبیان شیخ طوسی، مجمع البیان، آلوسی و غیره، تفسیر سوره قریش و نیز به شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید ج 15، ص 202 و 210 چاپ عیسی البابی 1962 م و بحارالانوار ج 15، ص 123 چاپ علوی و آخوندی مراجعه شود.م.

[40] . تاریخ یعقوبی، ج 1، ص 244، جاپ بیروت 1379 ه. و تفسیر آلوسی ج 30، ص 240، چاپ بیروت نقل از بحر و غیره.م.

[41] . در نسخه به جای مسنتین (به باء) مسنتون (به واو) و به جای الاصیاف (به صاد مهمله) الاضیاف (به ضاد معجمه) بود، اینجانب با توجه به منابع و معنی، شعر را به ابن نحو تصحیح كردم.م.

[42] . سیره النبی، ج 1، ص 119.

[43] . برخی غیداق و حَجْل را دو نفر شمرده و نا حجل را «مُغیره» نوشته و برای عبدالمطل داوزده پسر نوشته اند (نسب قُرَیْش) برخی دیگر مُقَوَّم و عَبْدالكَعْبه را نیز دو نفر دانسته و بدین ترتیب پسران عبدالمطلب را سیزده نفر شمرده اند، بعضی مثل ابن هشام، قشم را هم ذكر نكرده و پسران عبدالمطلب را ده نفر دانسته اند (مصباح الأسرار، ص 179،‌نقل از ذخائر العقبی).

[44] . عبدالمطلب را ده نام بود كه عرب و پادشاهان ایران و حبشه و روم او را به آن نام ها می شناختند. از جمله: عامر، شَیْبَه الْحَمْد، سَیّدالبَطْحاء، ساقی الحَجیج، ساقی الغَیْث، غَیْث الوَرَی فی العام الجَدْب، أبو السّاده العَشَره. عبدالمطّلب . حافر زَمْزَم (بحار، ج 15، ص 128) و ابراهیم ثانی (تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 11 چاپ بیروت 1379 ه.) و از معارف ابن قتیبه نقل شده كه او را «فیاض» و «مطعم طیر السماء» می گفته اند و مستجاب الدعوه بوده است.

[45] . یعنی: بنی علی، بنی جعفر و بنی عقیل.

[46] . نسب بنی حارث و بنی أبی لهب نیز به عبدالمطلب می رسد.

[47] . ر.ك: ترجمه تاریخ یعقوبی، ج 1، ص 330.

[48] . ر.ك: بحار، ج 15، ص 132، 140-141.

[49] . ص 553.

[50] . در كتاب عیون اخبار الرضا، ص 306. و أمالی صدوق، ص 107و ج 15 بحار چاپ جدید، ص 125-126، اشعاری از عبدالمطلب نقل شده است كه امام علی بن موسی الرضا آنها را برای ریان بن صلت خواند.

[51] . ر.ك: سیره النبی، ج 1، ص 181-186.

[52] . و نیز در همان دار نابغه جَعْدی دفن شد (الكامل).

[53] . كلینی نیز همین قول را اختیار كرده است (ر.ك: اصول كافی، ج 1، ص 439).

[54] . اسدالغابه، ج 1، ص 13، و بحارالانوار، ج 15، ص 125. به علاوه مسعودی قول یك ماه پس از میلاد و سال دوم میلاد را نیز نقل كرده است (التنبیه والاشراف ص 196).

[55] . ر.ك: بحار، ج 15، ص 125،‌اسدالغابه، ج 1، ص 14.

[56] . و به قول كلینی در كافی، ج 1، ص 439: چهار سال.

[57] . ر.ك. به : مرآت العقول (شرح كافی) ج 1، جزء 3، ص 364، 36 سال 1321، در این خصوص روایات بسیاری هم وارد شده است، ر.ك. به: اصول كافی، چاپ آخوندی، ج 1، ص 444،‌به بعد حدیث 17 و 18، 21، 28، 32، 33و ..... و به بحارالانوار، ج 15، باب 1، ص 3، حدیث 2 به بعد .م.

ابراهيم آيتي - تاريخ پيامبر اسلام، با اندكي تلخيص، ص1 - 53

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:0 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

قبیله‌ قریش

این قبیله از با نفوذترین قبایل در میان عرب بوده و بعد از اسلام نیز تا قرن‌ها بر جهان اسلام حكومت كرده است. خلفا تا پیش از عثمانیان، همیشه قریشی بوده و حتی در ابتداء‌، بیشتر حكام نیز قریشی بوده‌اند. تأثیر آن‌ها در تاریخ دوره‌ی ‌جاهلی و اسلامی، از یك طرف و شناخت وضعیت داخلی این قبیله به عنوان قبیله‌ی نمونه،‌ می‌تواند در راستای بحث ما در زمینه اوضاع سیاسی و اجتماعی جزیره العرب مفید افتد. این قبیله كه پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ نیز از میان آنان برخاست؛ به عنوان یكی از مشهورترین و با شرافت‌ترین قبایل میان عرب شناخته می‌شد. قریش از بنی كنانه، و بنی كنانه از مُضَر، و مضر از عدنان و در نهایت به اسماعیل ـ علیه السلام ـ خاتمه می‌یافت. نسب شناسان، كسانی را كه فرزند نضر بن كنانه، باشند قریشی می‌گویند.[1]

قصی بن كلاب كه از فرزندان قریش بود و در روزگار جوانی او، قریش در اطراف حرم پراكنده بودند، توانست با زیركی خاص خود، كلید داری كعبه را از دست خزاعه خارج كند. بر اساس آنچه برخی اظهار كرده‌اند، این امر با استعانت قیصر روم بوده است![2] و البته این گفته بعید می‌نماید. وی قبیله خود را از اطراف مكه جمع آوری كرده و بر پایه شرافت هر یك، آنان را در جاهای دور و نزدیك حرم جای داد،[3] از این رو او را مجمَع نامیدند.[4] از جمله كارهای مهم او تشكیل «دار الندوه» محلی برای مشورت رؤسای قریش در امور مهم بوده است،[5] اقدامی كه در نوع خود یك ابتكار سیاسی به حساب می‌آمده است. او به علاوه، كار رسیدگی به حجاج را نیز بر عهده داشته و از مردم می‌خواسته تا به آن‌ها كمك كنند.[6]

آن دسته از قریش كه در وادی مكه ساكن بودند «قریش البطایح»،‌ و آن‌ها كه در اطراف مكه ساكن بوده‌اند «قریش الظواهر» خوانده می‌شدند، گو این كه تا قبل از اقدام قصی،‌همه آن‌ها اهل ظواهر مكه بوده‌اند. بعدها نیز كه قریش در مكه استقرار یافتند، نظم بدوی خود را همچنان حفظ كردند.[7] بعد از قصی كارهای كعبه و امور قریش به دو فرزندش عبدالدار و عبد مناف افتاد. بعضی نیز گفته‌اند كه او همه مقامات را به عبدالدار تفویض كرد[8] پس از آن‌ها هاشم و عبد شمس دو فرزند عبد مناف مقامات را تقسیم كرده و امور كعبه به هاشم و ریاست به عبد شمس رسید. در واقع كار مكه یكسره به دست فرزندان عبد مناف افتاد.[9]

خدمات قصی و هاشم و بعد از او عبدالمطلب به حجاج در ایام حج، ‌یكی از اموری بود كه شهرتی همه جانبه برای قریش به همراه آورد. از میان قریشیان، عبدالمطلب به علت پایبندی به دین حنیف ابراهیم ـ علیه السلام ـ و هوش ذكاوتی كه در اداره‌ی امور داشت موقعیتی برتر یافت؛‌ بطوری كه او را به عنوان «شیخ» قبول داشتند.[10] به تد ریج كه شمار عشیره‌ها و بطون قریش رو به افزایش نهاد، مسؤولیت‌های مهم قبیله و كعبه در عهده تیره‌های مختلف قرار گرفت. هنگام ظهور رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ از میان بنی هاشم، عباس مسؤولیت سقایت؛ یعنی آب رسانی حجاج را به عهده داشت. از بنی امیه ابو سفیان ریاست سپاه قریش را (كه در جنگ احد و خندق نیز شركت جست) بعهده داشت. از بنی نوفل، حارث بن عامر مسؤول رفادت و غذا برای حجاج بود. از بنی اسد، یزید بن زمعه مسؤولیت مشاوره داشته و قریش برای اخذ كار‌های مهم با او مشورت می‌كرد. و از بطون دیگری نیز افراد دیگر مسؤولیت‌هایی بر عهده داشتند.[11]

شهرت قریش

از كتب تاریخ چنین بر می‌آید كه قریش در میان عرب شرافت و عزت ویژه‌ای را دارا بوده و معمولاً با عناوین، « آل الله»، «جیران الله»، « سكان حرم الله» خوانده می‌شدند.[12] مردم آن‌ها را به عنوان بزرگ و شریف قبول كرده[13] و چه بسا در جنگ‌ها به جای آن‌ها وارد كارزار می‌شده‌اند.[14] باید گفت عظمت و شهرت قریش، در همه تیره‌ها و خانواده‌ها و عشیره‌های قریش نیست، بلكه تنها در خاندان قصی، و بعد از او خاندان هاشم و عبدالمطلب می‌باشد؛ چرا كه وجود این افراد در نهایت. سبب شهرت قریش گردید. در یك مسابقه‌ی افتخار به نسب، ابوبكر خود را از قریش معرفی كرد، طرف او خوشحال شده پرسید: از خانواده‌قصی هستی؟ ابوبكر گفت: خیر. طرف پرسید: آیا عبدالمطلب و هاشم از شماست؟ ابوبكر بار دیگر پاسخ منفی داد! بعد از آن بود كه شخص سائل با بی‌اعتنایی رد شد.[15]

خدمات قصی در تشكیل دارالندوه[16] و انجام امور رفاهی برای حجاج، در شهرت قریش تأثیر فراوان داشته است. یعقوبی می‌نویسد: قصی اوّلین كسی بود كه به قریش عزت داد و فخر آن‌ها را آشكار نمود.[17] اضافه بر این مسؤولیت كلید داری كعبه در میان قریش (در عشریه قصی) بوده است و به همین جهت از مناطق مختلف با آن‌ها در ارتباط بوده و این خود سبب شهرت آن‌ها گردیده است؛[18] پیداست كه این شرافت و ریاست، تنها در فرزندان قصی بوده و در این جهت كسی با آن‌ها منازعه نمی‌كرده، جز آن‌كه مغلوب می‌شده است.[19]

هاشم نیز در جهت حمایت از زوّار بیت الله الحرام، تلاش فراوان داشت. وی اهل مكه را در اكرام به حجاج تحریك كرده و از آنان می‌خواست تا هر كمكی كه می‌توانند به آن‌ها كه زوّار خانه خدایند،‌ بكنند.[20] قریش گاه مالیاتهایی به عنوان حق قریش از زوار می‌گرفتند.[21] در برابر گفته شده كه قریش بخشی از اموال خویش را تسلیم هاشم می‌كردند تا در كمك به زوار مصرف كند.[22] او در حق قریش نیز خدمات زیادی انجام داد و كاروانهای تجارتی زمستانی و تابستانی را كه قرآن در سوره قریش اشاره فرموده به راه انداخت و امان نامه‌ای نیز از قیصر برای كاروانها فراهم كرد.[23] لذا درباره او گفته‌اند:

هوالّذی سنّ الرّحیل لقومه رحل الشتاء رحله الاصیاف[24]

« او كسی است كه مسافرت تابستانی و زمستانی برای قوم خود سنت كرد.» ابن عباس می‌گوید: آنگاه كه قریش در فشار و گرسنگی به سر می‌برد، هاشم آنها‌ را جمع كرده و به كار و تجارت آشنا كرد.[25] دیگران نیز اشاره كرده‌اند كه هاشم اولین كسی است كه كاروان‌های تابستانی و زمستانی را به راه انداخته است.[26] گو این كه تجارت قریش قبل از وی محدود به خود مكه و برای اعراب بوده است اما هاشم آنها را به خارج مكه برده است.[27]

ابن خلدون مسأله مسافرتهای تابستانی و زمستانی را ابتكار هاشم ندانسته است و او می‌گوید:‌این مسافرت‌ها به ضرورت ییلاق و قشلاقی بوده كه همه عرب بدان گرفتار بوده‌اند و آنها بایستی این مسافرتها را برای فرار از گرما انجام دهند.[28] در جواب باید گفت اولاً این مسأله كه درباره عرب ذكر شده، جدای از مسأله مسافرت‌های تجارتی تابستانی و زمستانی است كه قرآن درباره قریش آورده است. ثانیاً آنان كه از این مسافرت‌ها یاد كرده‌اند اهداف آن را تجارت ذكر كرده‌اند نه برای فرار ا ز گرما. ثالثاً تاریخ به این مطلب كه هاشم مبتكر این مسافرت‌ها بوده، صراحت دارد، شاهد آن همان شعری است كه گذشت. بنابراین سخن ابن خلدون اجتهاد در برابر نصّ است. علاوه بر هاشم، عبدالمطلب نیز از موقعیت ممتازی برخوردار بوده است. حلبی می‌گوید: او ملجا قریش در مشكلات و از حلیمان و حكیمان آنان بوده است. وی اول كسی است كه در غار حرا به عبادت پرداخته است.[29]

قریش تنها كسانی بودند كه اولاً به دلیل داشتن امان نامه و ثانیاً و مهمتر از آن، به عنوان این كه اهل حرمند،‌ زمینه برای تجارت داشتند. آنان در هر جا كه مورد هجوم غارتگران قرار می‌گرفتند، خود را اهل حرم معرفی می‌كردند. قرآن نیز در سوره‌ قریش بدین مطلب اشاره دارد.[30] كعبه نزد اكثر عرب قداست داشت و آن‌ها اهل كعبه و اهل حرم را احترام می‌نهادند. قریش به دلیل آن كه خود را اهل حرم می دانستند، امتیازات دینی خاصی را به خود اختصاص داده و نام « اهل حمس» را برای خود برگزیده بودند. آن‌ها دینداری خود را برتر از دیگران می‌دیدند.[31]

نكته دیگری نیز كه بر شهرت قریش افزوده بود واسطه تجارتی بودن مكه و بر سر راه تجارت حبشه، یمن، شامات قرار داشتن آنان می‌بود؛ این تجارت شامل سفر به یمن، حضرموت، حیره (در شرق) ، بصری (در شمال) ،‌ شام، غزه و مصر می‌شد.[32] آن‌ها به دلیل كار تجارت، از جنگ دست كشیدند تا دچار اسارت و یا از دست دادن اموالشان نشوند.[33]

علاوه بر اینها، قریش به علت تقدس خود، توانسته بود حمایت افراد زیادی را جلب كند؛ از این رو از لحاظ قدرت نیز یكی از پر قدرت‌ترین قبایل بود، مخصوصاً در پیمانی كه با احابیش؛ یعنی گروه‌های زیاد مستقر در كوه‌های مكه منعقد نمود،‌ توانست قدرت بیشتری كسب كند،[34] از آنجا كه عرب به فزونی نیروهایش اهمیت می‌داد. و آن را نشانه شرافت می‌دانست، این اقدام موجب شهرت و برتری قریش بود.[35] در دوران پس از هجرت، بعد از شكست قریش در مقابل پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ، اسلام به پیروزی قطعی رسید؛ زیرا قریش یعنی مشهورترین قبیله شكست خورده بود. جنگ ابرهه با كعبه و حمایت خداوند از خانه خود، بالاترین افتخار را برای كعبه و اهل آن به همراه داشت،[36] هیكل می‌گوید:‌ این حادثه‌ مهم، هیبت دینی مكه را بالا برده و مسلماً در پی آن ارزش تجاری را نیز افزونی بخشید.[37] این واقعه دل كسانی را نیز كه به كعبه ایمان محكمی نداشتند معتقد كرده و نسبت به آن مطمئن نمود. آبی می‌گوید: داستان فیل سبب عظمت قریش نزد عرب‌ها شده و لذا آن‌ها را « اهل الله » نامیدند.[38]

به دلایلی كه گذشت،‌ قریش، پیش از اسلام شهرتی داشته اما شهرت آن بعد از اسلام چندین برابر شد،‌ اولاً: ‌از آن روی كه پیامبر از این قبیله بود و این خود مهمترین عامل شهرت برای قریش بود. ثانیاً،‌ بنی امیه به تدریج این اصل را مطرح كردند كه خلفا باید قریشی باشند. آنان برای این سخن خود احادیثی نیز ساختند و بدین ترتیب در اندیشه‌ سیاسی ـ مذهبی اهل سنت این اصل استقرار كامل یافت. البته اهمیت قریشی بودند خلیفه، از همان روزهای نخست خلافت نیز مطرح بود؛ چنانكه عباس به علی ـ علیه السلام ـ می‌گفت: اگر من و ابو سیفیان با تو بیعت می‌كردیم، فرزندان عبد مناف با ما مخالفت نمی‌كردند، و اگر آن‌ها مخالفت نمی‌كردند هیچ كس از قریش با ما اختلاف نمی‌كرد، و اگر قریش با تو بیعت می‌كرد هیچ كس از عرب، با تو مخالفت نمی‌نمود.[39]

تبلیغات بنی امیه برای نشان دادن برتری قریش بر عرب در شهرت قریش تأثیر فراوانی داشته است؛ معاویه به صعصعه بن صوحان می‌گوید: ‌اگر قریش نبود شما در ذلّت بودید! صعصعه جواب داد، این گونه نیست؛ چرا كه قریش نه پر جمعیت‌ترین است و نه با شرف‌ترین.[40] ابوبكر در سقیفه به انصار می‌گفت:‌شما می‌دانید كه عرب جز از قریش اطاعت نخواهد كرد.[41] عمر نیز می‌گو.ید كه قریش اشرف اقوام نزد عرب هستند.[42] علی ـ علیه السلام ـ در مورد قریش می‌فرماید: اگر قریش از پیامبر (و نام او و دین او) برای رسیدن به قدرت و شرافت و سیاست بهره نمی‌برد، تنها یك روز بعد از مرگ پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ بت پرست و مرتد می‌شد.[43] بلال همیشه قبل از اذان بر قریش نفرین می‌كرد[44] و از خدا بر ضد آنان كمك می‌خواست، با این حال جاعلان حدیث،‌ دهها حدیث بر فضل و برتری قریش ساخته‌اند[45] به عنوان مثال نقل شده: جبرئیل نزد من آمد و گفت: ‌تمام شرق و غرب و شمال و جنوب را گشتم، بهتر از قریش نیافتم و از قریش بهتر هاشم را یافتم. و یا این كه « قریش نمك این امت است، آیا می‌توان طعام بدون نمك داشت؟» بعد از اسلام نیز قریش رو در روی حافظان سنن پیامبر و اهل بیت حضرت ایستاده و غاصب خلافت هستند؛ این قریش بودند كه جنگ جمل و صفین را در مقابل علی ـ علیه السلام ـ به راه انداختند.

در هر حال، مسأله‌ی شهرت قریش تا اندازه‌ای مربوط به قبل از بعثت و مقداری مربوط به بعد از اسلام است. قبل از بعثت، كسانی از عرب، قریش را از خاندان غسان و كسری نیز برتر می‌دانسته‌اند.[46] جواد علی پس از بحث در این باره می‌نویسد: به اعتقاد من این اسلام بوده كه قریش را قریش كرده،‌ آن‌ها را بر عرب‌ها سیادت داده و به این موفقیت رسانده است.[47]

ما نیز ضمن تأیید این نكته، به اهمیت نسبی قریش در جاهلیت تأكید داریم. دلایل فراوانی وجود دارد كه تا قبل از فتح مكه، بسیاری از اعراب به خاطر حرمتی كه برای قریش قایل بودند اسلام نیاوردند.[48] از پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ نیز نقل شده كه فرمود: ‌مردم تابع قریش هستند، صالحین در پی صالحین قریش و فجار هم در پی فجار قریش.[49] محمد بن حبیب فهرست برخی از احادیثی را كه در وصف قریش آمده و قسمتی از آن‌ها ساختگی است، آورده است.[50]

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . المعارف، ص31؛ مجمع البیان، ج10، ص545؛ السیره ‌الحلبیه، ج1، ص16؛ تاریخ ابن خلدون، ج2، جزء اول، صص324، 320 لسان العرب ذیل مورد قریش؛ عمده‌ الطالب، ص26.

[2] . بلوغ الارب، ج2، ص173.

[3] . مروج الذهب، ج2، ص32؛ المعارف، ص51.

[4] . تاریخ الیعقوبی، ج1، صص240ـ237؛ حیاه محمد، ص57، و نك: المفصل، ج4، ص56.

[5] . اخبار مكه، ج1، ص110؛ المنمق، ص32؛ انساب الاشراف، ج1، ص49؛ المعارف، ص32.

[6] . تاریخ الطبری، ج2، ص295؛ طبقات الكبری، ج1، صص73ـ72؛ المفصل، ج4، ص56.

[7] . المنمق، ص14.

[8] . المفصل، ج1، ص512.

[9] . اخبار مكه ازرقی، ج1، ص66؛ یعقوبی، ج1، ص241.

[10] . تاریخ ابن خلدون، ج2، ص226؛ بلوغ الارب، ج1، ص248.

[11] . العقد الفرید، ج3، ص316؛ بلوغ الارب، ج1، ص250 و 249.

[12] . العقد الفرید، ج3، ص327؛ الاغانی، ج17، ص313.

[13] . العقد الفرید، ج3، ص323.

[14] . همان، ص327.

[15] . العقد الفرید، ج3، ص327؛ شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج4، ص127؛ المحاسن و المساوی، ج1، ص121.

[16] . بلوغ الارب، ج1، ص235؛ حیاه محمد، ص57؛ این خانه محل مشاوره‌ی قریش در امور مهم و به ویژه، جنگ و صلح بوده و گفته‌اند كه افرادی كه سن آنان كمتر از چهل بوده حق شركت در آن را نداشتند، نكـ: المنمق، ص21، 19، 18.

[17] . تاریخ الیعقوبی، ج1، ص240؛ و نكـ: انساب الاشراف، ج1، ص50.

[18] . فجر الاسلام، ص14؛ المنمق، ص13؛ العصر الجاهلی، ص50.

[19] . المحبر، ص165؛ المنمق، ص530.

[20] . نهایه‌ الارب، ج16، ص34.

[21] . المفصل، ج4، ص21.

[22] . المنمق، ص12ـ11.

[23] . یعقوبی، ج1، ص243؛ الكامل فی التاریخ،‌ج2، ص16؛ المنمق، ص32؛ شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج15، ص211؛ انساب الاشراف، ج1، ص59.

[24] . انساب الاشراف، ج1، ص59؛ السیره النبویه، ج1، ص125؛ و نكـ: المحبر، ص162؛ بلوغ الارب، ج1، صص307 و 245.

[25] . مجمع البیان، ج1، ص546.

[26] . همان، ج1، ص545.

[27] . المنمق، صص32ـ31.

[28] . تاریخ ابن خلدون، ج2، صص337ـ336.

[29] . السیره الحلبیه، ج1، ص237؛ المنمق، ص13.

[30] . مجمع البیان، ج1، ص456، ایلاف به معنای آن است كه مردم بدون حلف و پیمان در امان باشند و این ضمن قراردادی كه میان قریش و رومی‌ها و اعراب امضاء‌شد، مطرح بوده است. نكـ: المنمق، صص33ـ32.

[31] . السیره النبویه، ابن هشام، ج1، صص203ـ199.

[32] . العصر الجاهلی، ص50.

[33] . ثمار القلوب، ص11.

[34] . انساب الاشراف، ج1، ص53.

[35] . برای دیگر، صفات و خصال قریش نكـ: رسائل الجاحظ، رسائل السیاسیه، صص110ـ102.

[36] . سوره‌ی فیل.

[37] . حیات محمد، ص64.

[38] . نثر الدر، ج1، ص394.

[39] . شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج2، ص48.

[40] . همان، ج2، ص130.

[41] . همان، ج6، ص40.

[42] . همان، ج12، ص95.

[43] . شرح نهج البلاغه، ابن ابی الحدید، ج20، صص299ـ298.

[44] . التراتیب الاداریه، ج1، ص79.

[45] . ر.ك. سیره دحلان، ج1، صص4ـ3.

[46] . العصر الجاهلی، ص51.

[47] . المفصل، ج4، ص126.

[48] . التنبیه و الاشراف، ص239.

[49] . المنمق، ص7.

[50] . همان، ص7 به بعد.

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 19:0 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

وضعیت شبه جزیره عربستان

عربستان، شبه جزیره بزرگی است كه در جنوب غربی آسیا قرار دارد و مساحت آن سه میلیون كیلومتر مربع است، یعنی تقریباَ دو برابر مساحت ایران و 6 برابر فرانسه و 10 برابر ایتالیا و 80 برابر سویس می باشد.

این شبه جزیره، به طور مستطیلِ غیر متوازی الاضلاع است كه از شمال به فلسطین و صحرای شام؛ از مشرق به حیره و دجله و فرات و خلیج فارس؛ از جنوب به اقیانوس هند و خلیج عمان؛ و از مغرب به بحر احمر محدود می شود.

بنابراین، از طرف مغرب و جنوب به وسیله دریا، و از شمال و مشرق به وسیله صحرا و خلیج فارس محصور شده است.

از زمانهای گذشته این سرزمین را به سه بخش تقسیم كرده اند: 1. بخش شمالی و غربی كه « حجاز » می نامند. 2. بخش مركزی و شرقی كه آن را « صحرای عرب» می گویند. 3. بخش جنوبی كه « یمن » نامیده می شود.

در داخل شبه جزیره، صحراهای بزرگ و شنزارهای گرم و تقریباً غیر قابل سكونت فراوان است. یكی از این صحراها، صحرای «بادیه سماوه» است كه امروز به آن « نفوذ » گفته می شود؛ و دیگر صحرای وسیعی است كه تا خلیج فارس امتداد دارد، و نام امروز آن « الربع الخالی » است، و سابقاً به قسمتی از این صحراها « احقاف » و قسمت دیگر را « دهنا » می گفتند.

در اثر این صحراها، یك سوّم مساحت شبه جزیره را، سرزمینهای بی آب و علف كه قابل سكونت نیست، تشكیل می دهد. فقط گاهی، در اثر بارندگی در قلب صحراها، آبهای مختصری پیدا می شود و پاره ای از قبایل عرب، مدت كمی شتر و چارپایان خود را برای چرا به آنجا می برند.

هوای شبه جزیره، در صحراها و سرزمینهای مركزی بسیار گرم و خشك و در سواحل، مرطوب و در پاره ای از نقاط معتدل است،و در اثر بدی آب و هوا، جمعیت آن از پانزده میلیون نفر تجاوز نمی كند.

در این سرزمین، یك سلسله كوه هایی است؛ كه از طرف جنوب به طرف شمال كشیده شده، و آخرین ارتفاع آنها در حدود 2470 متر است.

معادن طلا و نقره و احجار كریمه (سنگهای پر قیمت) از قدیم، منابع ثروت شبه جزیره بود، و در میان حیوانات بیشتر به تربیت شتر و اسب می پرداختند؛ و از میان مرغان، كبوتر و شتر مرغ بیش از مرغهای دیگر وجود داشت. بزرگترین وسیله ثروت امروز عربستان، به واسطه استخراج نفت و بنزین است. مركز نفت شبه جزیره، شهر « ظهران » است كه اروپائیان به آن « دهران » می گویند. این شهر در عربستان در ناحیه « احساء »، در حدود خلیج فارس واقع شده است.

برای این كه خواننده گرامی، به وضع عربستان بیشتر آشنا شود؛ به شرح سه بخش مزبور می پردازیم.

1. « حجاز » كه بخش شمالی و غربی عربستان را تشكیل می دهد و همه خاك آن از فلسطین گرفته تا مرز یمن، در كنار بحر احمر قرار دارد. حجاز سرزمینی است كوهستانی و دارای بیابانهای لم یزرع و سنگلاخ های زیاد می باشد.

در تاریخ، این منطقه بیش از سائر مناطق اسم و رسم دارد. ولی واضع است كه این شهرت، معلول یك سلسله امور معنوی و دینی است و هم اكنون كعبه (خانه خدا) ، كه قبله میلیونها مسلمان است، در آنجا می باشد.

نقطه ای كه كعبه در آنجا قرار گرفته است؛ از سالیان دراز پیش از اسلام، مورد احترام ملل عرب و غیر عرب بوده است، و به پاس احترام آن، جنگ در حدود كعبه را حرام می دانستند تا آنجا كه اسلام نیز برای آن حدودی قائل شده است.

از شهر های مهمِّ حجاز، مكه و مدینه وطائف می باشد. و حجاز از سابق دارای دو بندر بوده؛ یكی « جدّه » كه اهالی مكه از آن استفاده می نمایند، و دیگری « ینبوع » كه اهل مدینه قسمت مهمی از نیازهای خود را، از این بندر به دست می آورند. این دو بندر در كنار دریای احمر واقع شده است.

مكه معظمه

از مشهور ترین شهر های جهان و پر جمعیت ترین شهرهای حجاز است و حدود 300 متر، از سطح دریا بلند تر است. شهر مكه، چون میان دو سلسله كوه واقع شده است؛ از دور دیده نمی شود. جمعیّت شهر مكّه امروز حدود 150 هزار نفر می باشد.

تاریخچه شهر مكّه

تاریخ مكه از زمان حضرت ابراهیم ـ علیه السّلام ـ شروع می شود. وی فرزند خود « اسماعیل » را با مادرش هاجر، برای اقامت به سرزمین مكه فرستاد، فرزند وی در آنجا با قبایلی كه در آن نزدیكیها زندگی می كردند وصلت كرد. حضرت ابراهیم ـ علیه السّلام ـ به دستور خداوند خانه كعبه را بنا كرد، و بنا به یك رشته روایات صحیح بنای كعبه را كه یادگار حضرت نوح بود تعمیر نمود، و از این پس آبادی شهر مكه شروع شد.

اطراف مكّه، به قدری شوره زار است كه به هیچ وجه قابل زراعت نیست و به قول بعضی خاور شناسان در هیچ جای دنیا نمی توان نظیری برای آن از نظر بدی اوضاع جغرافیایی پیدا كرد.

مدینه منوره

شهری است در شمال مكّه، كه تقریباً 90 فرسنگ از هم فاصله دارند، در اطراف شهر؛ باغات و نخلستانها است، و زمین آن برای غرس اشجار، و كشت وزرع آماده تر است.

قبل از اسلام، نام آن « یثرب » و پس از هجرت پیامبر اسلام (ص) ؛ « مدینه الرسول » نامیده شد؛ بعد ها برای تخفیف، آخر آن را حذف كرده و « مدینه » گفتند. در تاریخ می خوانیم كه نخستین كسانی كه در این مرز و بوم سكنی گزیدند، گروه « عمالقه‌ » بودند سپس طائفه یهود، و اوس و خزرج كه در میان مسلمانان؛ به نام انصار خوانده شدند.

منطقه حجاز بر خلاف سائر مناطق، از دست برد كشور گشایان محفوظ مانده، و آثار تمدن روم و ایران ـ دو امپراطوری بزرگ جهان قبل از اسلام ـ در آنجا دیده نمی شود زیرا اراضی لم یزرع و غیر قابل سكونت آن، چندان ارزشی نداشت كه تا برای به دست آوردن آن لشكركشی كنند، و بعد از هزاران مشكلات كه لازمه تسلط بر خاك آن منطقه بود، تازه دست خالی برگردند.

در این باره، داستان زیر را به دقت مطالعه كنید، این داستان را « دیودور » نقل كرده است.

« در آن زمان كه « دمتریوس»، سردار بزرگ یونانی، به قصدِ تصرف عربستان وارد « پترا » (یكی از شهرهای قدیمی حجاز) شد؛ ساكنان آنجا به او چنین گفتند: « ای سردار یونانی چرا با ما جنگ می كنی!؟ ما در ریگستانی بسر می بریم كه فاقد همه گونه وسائل زندگانی است، ما برای اینكه سر به فرمان كسی ننهیم، چنین صحرای خشك و بی آب و علفی را انتخاب نموده ایم. بنابر این، تحف و هدایای ناقابل ما را قبول بنما و از تصرف منطقه ما صرف نظر كن، و ضمناً اگر بخواهی بر قصد خود باقی بمانی ما از همین الان، اعلان می كنیم، كه در آینده نزدیك، دچار هزاران مشكلات و مصائب خواهی شد. و بدان! كه « نبطی » از طرز معیشت خود دست بردار نیست و اگر بعد از طیِّ مراحلی،چند نفری را، به عنوان اسارت به چنگ آوری و بخواهی همراه خود ببری، سودی از آنان نخواهی دید، زیرا آنان غلامانی خواهند بود بد اندیش و بدروش و حاضر نخواهند شد كه طرز زندگی خود را عوض كنند.

سردار یونانی پیام صلح طلبانه آنان را پذیرفت، و از لشكركشی و تسلط بر خاك عربستان منصرف شد»[1]

2. بخش مركزی و شرقی كه آن را « صحرای عرب » می نامند، و منطقه « نجد » كه جزء همین قسمت است سرزمین مرتفع و دارای آبادیهای مختصری است؛ و پس از تسلط سعودیها، ناحیه « ریاض » كه پایتخت آنان است، از مراكز مهم عربستان شده است.

3. بخش جنوب غربی شبه جزیره، كه آن را « یمن » می نامند، طول آن از شمال به جنوب در حدود هفتصد و پنجاه كیلومتر، و از غرب به شرق در حدود چهارصد كیلومتر است. مساحت این كشور را شصت هزار هزار میل مربع تخمین زده اند، ولی وسعت سابق آن، بیش از این بوده، و قسمتی از آن (عدن) در نیم قرن اخیر تحت الحمایه انگلستان بوده، از این لحاظ حد شمال آن نجد و حد جنوبی آن عدن، و از مغرب به دریای سرخ و از مشرق به صحران « الربع الخالی » منتهی می شود.[2]

از شهرهای معروف یمن، شهر تاریخی« صنعاء» است و از بنادر معروف یمن، بند « الحدیده» است كه در كنار دریای سرخ قرار دارد.

ناحیه یمن، پرنعمت ترین نقطه ایست كه در جزیره دیده می شود، سابقه تمدن درخشان و با عظمت دارد؛ یمن مقرِّ سلطنت ملوك « تبایعه» (جمع تبع) بود و آنان سالیان دراز در یمن حكومت كرده اند، یمن قبل از اسلام مركز مهم تجارت بود؛ و در حقیقت چهار راه عربستان به شمار می رفت. معادن زرخیز عجیبی داشت، و طلا و نقره و احجار كریمه آن، به خارج كشور صار می گردید.

آثار و نمونه های تمدن آن روز یمن؛ تا امروز باقی است. مردم باهوش یمن، در دورانی كه وسائل كارهای سنگین در دست بشر نبود، توانسته بودند با همت بلند خود ساختمان های جالب و مرتفع بنا كنند.

سلاطین یمن حكومتهای بی منازعی داشتند، ولی در عین حال از اجرای نظامنامه حكومت، كه دانشمندان یمن تصویب و تدوین كرده بودند؛ و خودداری نمی كردند. و در قسمت كشاورزی، باغ داری، گوی سبقت را از دیگران ربوده بودند، آئین نامه دقیق برای كشت و زرع زمینها، و آبیاری مزارع و باغها تهیه كرده و به مورد اجراء گذاشته بودند. از این لحاظ كشورشان، از كشورهای ممتاز و مترقی آن دوران شمرده می شد.

« گوستاولبون» ـ مورخ معروف فرانسوی ـ درباره یمن می نویسد: « در تمام عربستان نقطه ای خرّم تر و حاصلخیزتر از یمن نیست».

« ادریسی»، مورخ شهیر قرن 12، درباره شهر صناء می نویسد:« آنجا دارالسلطنه عربستان و پایتخت یمن است و ابنیه و قصور این شهر، معروف دنیاست، منازل و مساكن معمولی شهر باسنگهای تراشیده بنا شده است».

این آثار شگفت آوری كه از حفاریها و كاوشهای اخیر خاورشناسان به دست آمده؛ تمدن شگفت انگیز دوران گذشته یمن را، در قسمت های مختلف آن « مأرب» و « صنعا» و « بلقیس» ثابت می نماید.

در شهر مأرب (شهر معروف سبا) ، كاخهای آسمانخراش كه دروازه ها و طاقهای آنها از طلا زینت می یافته بود، و ظروف طلا و نقره و همچنین تخت خوابهای فلزی زیاد وجود داشت.[3]دو یمن در سال 1990 با یكدیگر متحد شدند

از آثار تاریخی « مأرب»، سدِّ معروف آن می باشد، كه هنوز آثار آن باقی است، و آن به وسیله سیلی كه در قرآن، از آن به نام « عرم» یاد شده است، خراب گشت. [4]

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . تمدن اسلام و عرب ، ص 93 ـ 94.

[2] . اخیراً یمن به دو بخش: شمالی و جنوبی تقسیم شده و هر كدام برای خود حكومت و نظامی دارد دو یمن در سال 1990 با یكدیگر متحد شدند.

[3] . تمدن اسلام و عرب ، ص 96.

[4] . برای توضیح بیشتر درباره وضع جغرافیائی و اقتصادی و سیاسی شبه جزیره، به كتاب جغرافیای كشورهای اسلامی مراجعه بفرمایید .

جعفر سبحاني - فروغ ابديت، ج1، ص

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 18:59 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

عرب پیش از اسلام


برای شناختن وضع عرب قبل از اسلام، می توان از منابع زیر استفاده نمود:

1ـ تورات (با تمام تحریفاتی كه در آن انجام گرفته است).

2ـ نوشته های یونانیان و رومیان در قرون وسطی.

3ـ تواریخ اسلامی كه به قلم دانشمندان اسلامی نگارش یافته است.

4ـ آثار باستانی كه در حفاریها و كاوشهای خاورشناسان به دست آمده و تا حدّی پرده از روی مطالبی برداشت است.

به طور مسلّم، شبه جزیره عربستان از زمانهای گذشته مسكنِ قبایل زیادی بوده، كه برخی از آنان در طی حوادث نابوده گردیده اند. ولی در تاریخ این سرزمین، سه قبیله كه تیره هایی از آنها جدا شده است، بیش از همه نام و نشان دارند:

1ـ « بائده »... و آن به معنای نابودشده است، زیرا این قوم بر اثر نافرمانی های پیاپی، به وسیله بلاهای آسمانی و زمینی نابود گشتند. شاید آنان همان قوم عاد و ثمود بودند؛ كه در قرآن مجید از آنها به طور مكرر یاد شده است.

2ـ « قحطانیان »: فرزندان یعرب بن قحطان، كه در « یمن » و سایر نقاط جنوبی عربستان مسكن داشتند، و آنان را عرب اصیل می نامند و یمنی های امروز، و قبیله های « اوس » و « خزرج »، كه در آغاز اسلام دو قبیله بزرگ در مدینه بودند، از نسل قحطان می باشند. قحطانیان دارای حكومت های زیادی بودند، و در عمران و آبادی خاك یمن بسیار كوشیده و تمدن هایی را از خود به یادگار گذارده اند. و امروز كتیبه های آنان با اصول علمی خوانده می شود و تا حدودی تاریخچه قحطانی را روشن می نماید و هر چه درباره تمدن عرب قبل از اسلام گفته می شود، همگی مربوط به همین گروه؛ آن هم در سرزمین یمن، می باشد.

3ـ « عدنانیان »: فرزندان حضرت اسماعیل، فرزند ابراهیم خلیل ـ علیه السلام ـ می باشند، كه ریشه ی این تیره را در بحثهای آینده روشن خواهیم ساخت. و خلاصه ی آن این است كه: ابراهیم مأمور شد، كه فرزند خود اسماعیل را با مادر وی « هاجر »، در سرزمین مكه جای دهد، ابراهیم ـ علیه السلام ـ هر دو را از خاك فلسطین به سوی دره ی عمیقی (مكه) كه بی آب و علف بود، حركت داد، دست لطف و مهر پروردگار جهان به سوی آنان دراز گردید و چشمه ی زمزم را در اختیار آنان گذارد، اسماعیل با قبیله ی « جرهم »، كه در نزدیكی مكه خیمه زده بودند، وصلت نمود. فرزندان زیادی نصیب وی شد، كه یكی از آنها « عدنان » است كه با چند واسطه، نسب وی به اسماعیل می رسد.

فرزندان عدنان، به تیره های گوناگونی تقسیم شدند و از میان آنان قبیله ای كه شهرتی به دست آورد، قبیله ی قریش و در میان آنان بنی هاشم بودند.

اخلاق عمومی عرب

مقصود، آن رشته از اخلاق و آداب اجتماعی است، كه پیش از اسلام در میان آنان رواج داشت، برخی از این رسوم در میان تمام عرب گسترش پیدا كرده بود. به طور كلی اوصاف عمومی و پسندیده ی عرب را می توان در چند جمله خلاصه نمود:

اعراب زمان جاهلی و به خصوص فرزندان عدنان، طبعاً سخی و مهمان نواز بودند، كمتر به امانت خیانت می كردند؛ پیمان شكنی را گناه غیر قابل بخششی می دانستند؛ در راه عقیده فداكار بودند و از صراحت لهجه كاملاً برخوردار بودند؛ حافظه های نیرومندی برای حفظ اشعار و خطبه ها در میان آنان پیدا می شد؛ و در فنّ شعر و سخنرانی سرآمد روزگار بودند؛ شجاعت و جرأت آنان ضرب المثل بود؛ دراسب دوانی و تیراندازی مهارت داشتند؛ فرار و پشت به دشمن كردن را زشت و ناپسندیده می شمردند.

ولی در برابر اینها یك رشته فسادهای اخلاقی دامنگیر آنها شده بود كه جلوه ی هر كمالی را از بین برده بود، و اگر روزنه ای از غیب به روی آنان باز نمی شد به طور مسلم طومار حیات انسانی آنها درهم پیچیده می شد. یعنی اگر در اواسط قرن ششم میلادی، آفتاب روان پرور اسلام، بر دلهای آنان نتابیده بود؛ دیگر شما امروز اثری از عرب عدنانی مشاهده نمی كردید و بار دیگر داستان اعراب « بائده » تجدید می گشت!

سخنان امیرالمؤمنین ـ علیه السلام ـ در بیان اوضاع عربِ قبل از اسلام، شاهد زنده ای است كه آنان از نظر زندگی و انحطاط فكری و فساد اخلاقی در وضع اسفناكی بودند. امیرمؤمنان در یكی از خطبه های خود، اوضاع عرب پیش از اسلام را چنین بیان می كند:

خداوند، محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ را بیم دهنده ی جهانیان و امین وحی و كتاب خود، مبعوث نمود در حالی كه شما گروه عرب در بدترین آئین و بدترین جاها به سر می بردید. در میان سنگلاخها و مارهای كر (كه از هیچ صدایی نمی رمیدند) اقامت داشتید. آب های لجن را می آشامیدید و غذاهای خشن (مانند آرد هسته ی خرما و سوسمار) می خوردید و خون یكدیگر را می ریختید و از خویشاوندان دوری می كردید، بتها در میان شما سر پا بود، از گناهان اجتناب نمی نمودید[1] ».

ما سرگذشت اسعد بن زراره را، كه می تواند روشنگر نقاط زیادی از زندگی مردم حجاز باشد، در این جا می آوریم:

سالیان دراز آتشِ جنگِ خانمان براندازی میان دو قبیله « اوس » و « خزرج »، كه در مدینه سكنی داشتند شعله ور بود، روزی یكی از سرانِ « خزرج » به نام « اسعد بن زراره » برای تقویت قبیله خود، سفری به مكه نمود، تا به وسیله كمك های نظامی ومالی « قریش » دشمن صد ساله ی خود، « اوس » را، سركوب سازد. وی به خاطر روابط دیرینه ای كه با « عتبه بن ربیعه » داشت، به خانه وی وارد شد، و هدف خود را با وی در میان گذارد، و تقاضای كمك كرد. دوست دیرینه وی عتبه، چنین پاسخ داد: ما نمی توانیم به تقاضای شما پاسخ مثبت دهیم، زیرا امروز گرفتاری داخلی عجیبی پیدا كرده ایم، مردی از میان ما برخاسته، به خدایان ما بد می گوید، نیاكان ما را آبله و سبك عقل می شمرد و با بیان شیرین خود، گروهی از جوانان ما را به خود جذب كرده، و از این راه شكاف عمیقی میان ما پدید آورده است. این مرد در غیر موسم حج در « شعب ابوطالب » به سر می برد و در موسم حج از « شعب » بیرون می آید و در حجر اسماعیل می نشیند و مردم را به آیین خود دعوت می كند.

« اسعد » پیش از آن كه با سران دیگر قریش تماس بگیرد، تصمیم به بازگشت به « مدینه » گرفت. ولی او به رسم دیرینه ی عرب، علاقه مند شد كه خانه ی خدا را زیارت كند. امّا عتبه از این كار او را بیم داد، كه مبادا هنگام طواف، سخن این مرد را بشنود و سخن او در وی اثر بگذارد. از طرف دیگر هم ترك مكه بدون زیارت خانه خدا، زشت و زننده بود، سرانجام برای حلّ مشكل، عتبه پیشنهاد كرد كه اسعد پنبه ای در گوش خود فرو برد تا سخن او را نشنود.

اسعد، آهسته وارد « مسجد الحرام » شد و آغاز به طواف كرد. در نخستین شوط طواف، چشم او به پیامبر اسلام افتاد، دید مردی در حجر اسماعیل نشسته و عده ای از بنی هاشم دور او را گرفته و از وی محافظت می نمایند، ولی از ترسِ تأثیر سخن او جلو نیامد. سرانجام در اثناء طواف با خود اندیشید كه این چه كار احمقانه و نابخردانه ای است كه من انجام می دهم، ممكن است فردا در مدینه از من پیرامون این حادثه سؤالاتی بنمایند، من در پاسخ آنان چه بگویم؟ از این جهت لازم دید كه درباره این حادثه اطلاعاتی به دست آورد.

او قدری پیش آمد، و به رسم عرب جاهلی سلام كرد و گفت: « انعم صباحا »، حضرت در جواب وی فرمود: خدای من تحیّتی بهتر از این فرو فرستاده است و آن این است كه بگوییم: « سلام علیكم ». آنگاه اسعد از اهداف پیامبر سؤال كرد، پیامبر در پاسخ پرسش او، آیه های 152 و 153، از سوره انعام را كه واقعاً آیینه ی تمام نمای روحیات و آداب عرب جاهلی بود؛ تلاوت نمود. و این دو آیه كه متضمن درد و درمان ملتی بود كه صد و بیست سال با یكدیگر جنگ داشتند؛ تأثیر عمیقی در دل وی گذارد. لذا فوراً اسلام آورد، و تقاضا نمود كه كسی را به عنوان مبلّغ به « مدینه » اعزام فرماید و پیامبر « مصعب بن عمیر » را به عنوان معلم قرآن و اسلام، به مدینه اعزام نمود.

دقّت در مفاد این دو آیه، ما را از هر گونه بحث و مطالعه در اوضاع عرب بی نیاز می نماید. زیرا این دو آیه آشكارا می رساند كه بیماری های مزمن اخلاقی، زندگی عرب جاهلیت را تهدید می كرد. از این جهت ما متن آیه ها را در پاورقی و ترجمه آنها را با مختصر توضیح از نظر خوانندگان می گذرانیم:

بگو: بیائید، من اهداف رسالت خود را تشریح كنم. اهداف من عبارتند از:

1ـ من برای این مبعوث شده ام، كه شرك و بت پرستی را از بین ببرم[2].

2ـ در سرلوحه ی برنامه ی من احسان و نیكویی به پدر و مادر قرار گرفته است[3].

3ـ در آیین پاك من، فرزندكشی به منظور ترس از فقر، زشت ترین عمل شمرده می شود[4].

4ـ برای این برانگیخته شده ام كه بشر را از كارهای زشت دور كنم و از هر پلیدی پنهان و آشكار باز دارم[5].

5ـ در شریعت من آدم كشی، و خونریزی به ناحق اكیداً ممنوع است، و اینها سفارشهای خدا است تا بیندیشید[6].

6ـ خیانت به مالِ یتیم حرام است[7].

7ـ اساسِ آیین من عدالت است و كم فروشی حرام می باشد[8].

8ـ هیچ كس را به بیش از توانایی خود تكلیف نمی كنیم[9].

9ـ زبان و گفتارهای انسان كه آیینه ی تمام نمای روحیات او است، باید در راه كمك به حق و حقیقت به كار افتد و جز راست نباید بر زبان جاری شود، اگر چه بر ضرر گوینده باشد[10].

10ـ به پیمان هایی كه با خدا بسته اید، احترام بگذارید[11].

اینها سفارش های خدای شما است كه باید از آن پیروی كنید.مضامین این دوآیه و طرز گفتگوی پیامبر با اسعد، گواه بر این است كه تمام این صفات پست، دامنگیر توده ی عرب بوده و برای همین جهت رسول خدا در نخستین برخورد با اسعد، این دو آیه را برای او خواند و از این طریق او را با اهداف رسالت خود آشنا ساخت[12].

مذهب در عربستان

وقتی ابراهیم خلیل، پرچم یكتا پرستی را در محیط حجاز برافراشت، گروهی به او پیوستند. اما درست معلوم نیست كه تا چه اندازه آن رادمرد الهی، توانست آیین توحید را گسترش دهد، و صفوف فشرده ای را از خدا پرستان تشكیل دهد.

امیرمؤمنان، اوضاع مذهبی ملل عرب را چنین تشریح می كند:

« مردم آن روز دارای مذهب های گوناگون، و بدعت های مختلف و طوائف متفرق بودند، گروهی خداوند را به خلقش تشبیه می كردند (و برای او اعضایی قائل بودند) ، و برخی در اسم او تصرف می كردند (مانند بت پرستان، كه « لات » را از الله و « عزّی » را از عزیز گرفته بودند) ، و جمعی به غیر او اشاره می كردند. سپس آنان را به وسیله رسول اكرم هدایت كرد و به معارف الهی آشنا ساخت[13] ».

طبقه روشنفكر عرب، ستاره و ماه را می پرستیدند.

اما طبقه منحط، كه اكثریت ساكنین عربستان را تشكیل می داد؛ علاوه بر بتهای قبیله ای و خانگی، به تعداد روزهای سال 360 بت می پرستیدند و حوادث هر روز را به یكی از آنها وابسته می دانستند.

بت پرستی در محیط مكه، پس از ابراهیم خلیل ـ علیه السلام ـ به كوشش « عمرو بن قصی » انجام گرفت. ولی به طور مسلم در روزهای نخست به این صورت گسترده نبود، بلكه روز نخست آنها را شفیع دانسته؛ آنگاه گام فراتر نهاده، كم كم آنها را صاحبان قدرت پنداشتند. بت هایی كه دور كعبه چیده شده بود، مورد علاقه و احترام همه طوائف بوده؛ اما بتهای قبیله ای تنها مورد تعظیم یك دسته خاصی بود و برای اینكه بت هر قبیله محفوظ بماند، برای آنها جاهایی معین می كردند و كلیدداری معابد، كه جایگاه بتان بود به وراثت دست به دست می گشت.

بتهای خانگی، هر شب و روز میان یك خانواده پرستش می شد، هنگام مسافرت خود را به آنها می مالیدند؛ و در حال مسافرت برای عبادت خود، سنگهای بیابان را می پرستیدند؛ و در هر منزلی كه فرود می آمدند، چهار سنگ را انتخاب كرده و زیباترین آن ها را معبود و بقیه را پایه ی اجاق قرار می دادند.

اهالی مكه، علاقه ی مفرطی به حرم داشته و هنگام مسافرت سنگهایی از آن همراه خود برده، و در هر منزلی فرود می آمدند، آنها را نصب كرده و می پرستیدند. و شاید اینها همان « انصاب » باشند كه به سنگهای صاف و بی شكل تفسیر شده؛ و در برابر آنان « اوثان » است كه به سنگهای شكل دار و پر نقش و نگار و تراشیده معنی گردیده است. و اما « اصنام » بتهایی بودند كه آنها از زر و سیم ریخته و یا از چوب تراشیده می شدند.

« لات » مادر خدایان به شمار می آمد؛ معبدش نزدیكِ « طائف » قرار داشت و به صورت سنگ سفیدی بود كه پرستش می شد. « منات »، خدایِ سرنوشت و پروردگار مرگ و اجل بود، كه معبدش بین مكه و مدینه بود.

« لات » و « عزّی » را ابوسفیان در روز احد، همراه خویش آورده بود، و از آنها استمداد می جست.

بر اثر پرستش این معبودهای پوشالی گوناگون، تضادها و تعارضها و جنگها و اختلافها و كشت و كشتارها و بالاخره بدبختی ها و خسارت های مادی و معنوی فراوانی، دامنگیر این صحرانشینان وحشی بود.

امیرمؤمنان علی ـ علیه السلام ـ در یكی از خطبه های خود، درباره اعراب پیش از اسلام می فرماید: « خدا محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ را، به رسالت مبعوث ساخت، تا جهانیان را بیم دهد و او را امین دستورهای آسمانی خود قرار داد. در آن حال، شما ای گروه عرب بدترین دینها را داشتید؛ و در بدترین سرزمینها زندگی می نمودید؛ و در بین سنگهای خشن و مارهای گزنده می خوابیدید؛ از آب تیره می نوشیدید و غذای ناگوار می خوردید، خون یكدیگر را می ریختید و پیوندهای خویشاوندی را قطع می نمودید؛ بتها در میان شما بر پا بود و گناهان سراسر وجود شما را فرا گرفته بود[14].

موقعیت زن در میان اعراب

زن محرومیت عجیبی در میان آنان داشته و با فجیع ترین وضع زندگی می كرده است. گذشته از این، آیات قرآنی كه در مذمت اعمال ناشایست آنان، نازل گردیده است؛ انحطاط اخلاقی آنان را در این قسمت روشن می سازد. قرآن كریم، عمل ناشایست آنان (كشتن دختران) را چنین حكایت می كند و می فرماید: « و اذا المؤودده سئلت[15]؛ روز قیامت روزی است كه از دختران زنده به گور شده سئوال می شود! » راستی انسان باید تا چه اندازه گرفتار انحطاط اخلاقی باشد، كه میوه ی دل خویش را پس از رشد و نمو یا در همان روزهای ولادت زیر خروارها خاك پنهان كند، و از فریاد و ناله او متأثر نشود؟!

نخستین طایفه ای كه در این موضوع پیش قدم شدند؛ قبیله « بنی تمیم » بودند. « نعمان بن منذر »، فرمانروای عراق برای سركوب كردن مخالفان با لشكر انبوهی مخالفان خود را تار و مار ساخت. اموال آنان را مصادره و دختران آنها را اسیر كرد. نمایندگان بنی تمیم به حضور او رسیدند و درخواست كردند كه دختران آنها را باز گرداند ولی به خاطر اینكه برخی از اسیران در محیط زندان، ازدواج كرده بودند، « نعمان » آنان را مخیّر كرد كه: یا روابط خود را با پدران قطع كنند و در آن سرزمین با شوهران به سر ببرند؛ و یا اینكه طلاق گرفته به وطن خود باز گردند. دختر قیس بن عاصم، محیط زناشویی را مقدم داشت. آن پیرمرد سالخورده كه یكی از نمایندگان بنی تمیم بود، از این عمل سخت متأثر شد و با خود عهد كرد كه بعد از این دختران خود را، در آغاز زندگی نابود سازد؛ و كم كم همین رسم به بسیاری از قبایل سرایت كرد.

وقتی « قیس بن عاصم »، خدمت رسول اكرم ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ شرفیاب شد، یكی از انصار، از دختران وی سؤال نمود. قیس در پاسخ گفت: من تمام دختران خود را زنده به خاك كرده ام، و كوچكترین تأثر در دل خود احساس ننموده ام (مگر یك بار!) و آن موقعی بود كه در سفر بودم و ایام وضع حمل همسرم نزدیك بود. اتفاقاً سفرم به طول انجامید، پس از مراجعت از حمل همسرم پرسیدم. وی در پاسخ من گفت: به عللی، بچه، مرده به دنیا آمد؛ ولی در واقع دختر زاییده بود، و از ترس من دختر را به خواهران خود سپرده بود. سالها گذشت و ایام جوانی و طراوت دختر فرا رسید، و من كوچكترین اطلاعی از داشتن دختری نداشتم. تا اینكه روزی در خانه نشسته بودم، ناگهان دختری وارد خانه شد و سراغ مادرش را گرفت. دختری بود زیبا و گیسوانش را به هم بافته و گردن بندی به گردن انداخته بود. من از همسر خود پرسیدم كه این دختر زیبا كیست؟ وی در حالی كه اشك در چشمانش حلقه زده بود، گفت: این دختر تو است. همان دختری است كه هنگام مسافرت تو به دنیا آمده؛ از ترسِ تو پنهان كرده بودم. سكوت من در برابر همسرم نشانه رضایت بود. او تصور كرد كه من دست خود را آلوده به خون وی نخواهم كرد. لذا روزی همسرم با خیال مطمئن از خانه خارج گردید، من به موجب پیمان و عهدی كه داشتم؛ دست دخترم را گرفته به یك نقطه دوردست بردم، درصدد حفر گودال برآمدم. هنگام حفر، دختر مكرر از من می پرسید كه: « منظور از كندن زمین چیست؟! » پس از فراغ دست وی را گرفته كشان كشان او را در میان گودال افكندم، و خاكها را به سر و صورت او ریخته و به ناله های دلخراش وی گوش ندادم.

او همچنان ناله می كرد و می گفت: « پدر جان مرا زیر خاك پنهان می سازی؟! و در این گوشه تنها گذارده به سوی مادرم برمی گردی؟! » ولی من خاكها را می ریختم تا آنجا كه او زیر خروارها خاك پنهان گردید و خاك او را فرا گرفت.

آری، یگانه موردی كه دلم سوخت؛ همین مورد است. وقتی سخنان قیس پایان یافت، چشم های رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ پر از اشك شده بود، این جمله را فرمود: « انّ هذه لقسوه و من لا یَرحَم لا یُرحَم؛ این عمل یك سنگ دلی است و كسی كه رحم و عواطف نداشته باشد؛ مشمول رحمت الهینمی گردند[16] ».

خرافات و افسانه پرستی نزد عرب

قرآن مجید هدفهای مقدس بعثت پیامبر اسلام را با جمله های كوتاهی بیان كرده است. یكی از آنها كه شایان توجه بیشتری می باشد، این آیه است: « و یضع عنهم اصرهم و الاغلال التی كانت علیهم[17]؛ پیامبر اسلام، تكالیف شاق و غل و زنجیرهایی را كه بر آنها است بر می دارد ». اكنون باید دید مقصود از غل و زنجیری كه در دوران طلوع فجر اسلام، به دست و پای عرب دوران جاهلیت بود؛ چیست؟ مسلماً مقصود؛ غل و زنجیر آهنین نیست؛ بلكه منظور همان اوهام و خرافاتی است كه فكر و عقل آنها را از رشد و نمو باز داشته بود؛ و یك چنین گیر و بند كه به بال فكر بشر بسته شود، به مراتب از سلسله ی آهنین، زیان بخش تر و ضرربارتر است.

یكی از بزرگ ترین افتخارات پیامبر گرامی این است كه: با خرافات و اوهام و افسانه و خیال؛ مبارزه نمود، و عقل و خرد بشر را از غبار و زنگ خرافات شستشو داد. و فرمود: من برای این آمده ام كه قدرت فكری بشر را تقویت كنم؛ و با هر گونه خرافات به هر رنگ كه باشد، حتی اگر آن خرافه به پیشرفت هدفم كمك كند سرسختانه مبارزه نمایم.

سیاستمداران جهان، كه جز حكومت بر مردم غرض و مقصدی ندارند، پیوسته از هر پیش آمدی به نفع خود استفاده می كنند. حتی اگر افسانه های باستانی و عقاید خرافی ملّتی به ریاست و حكومت آنها كمك كند، از ترویج آن خودداری نمی نمایند؛ و اگر آنان، افرادی متفكر و منطقی باشند، در این صورت به نام احترام به افكار عمومی و عقاید اكثریت، از افسانه ها و اوهام كه با میزان و مقیاس عقل تطبیق نمی كند، طرفداری می كنند.

ولی پیامبر اسلام، نه تنها از آن عقاید خرافی كه به ضرر خود و اجتماع تمام می شد، جلوگیری می نمود؛ بلكه حتی اگر یك افسانه محلی؛ یك فكری بی اساس به پیشرفت هدف او كمك می كرد، با تمام قوا و نیرو با آن مبارزه می نمود و كوشش می كرد كه « مردم بنده ی حقیقت باشند نه بنده ی افسانه و خرافات ». اینك از باب نمونه داستان زیر را مطالعه بفرمایید:

.... یگانه فرزند ذكور حضرت پیامبر، به نام ابراهیم درگذشت. پیامبر در مرگ وی غمگین و دردمند بود؛ و بی اختیار اشك از گوشه چشمان او سرازیر می شد. روز مرگ او آفتاب گرفت، ملّت خرافی و افسانه پسندِ عرب: گرفتگی خورشید را نشانه عظمت مصیبت پیامبر دانسته و گفتند: آفتاب برای مرگ فرزند پیامبر گرفته است. پیامبر این جمله را شنید، بالای منبر رفت و فرمود: آفتاب و ماه، دو نشانه بزرگ از قدرت بی پایان خدا هستند و سر به فرمان او دارند، هرگز برای مرگ و زندگی كسی نمی گیرند. هر موقع ماه و آفتاب گرفت، نماز آیات بخوانید. در این لحظه از منبر پایین آمد، و با مردم نماز آیات خواند[18] ».

فكر گرفتگیِ خورشید، به خاطر مرگ فرزندِ صاحب رسالت، گر چه عقیده مردم را نسبت به وی راسختر می ساخت؛ و در نتیجه به پیشرفت آیین او كمك می كرد؛ ولی او هرگز راضی نشد كه موقعیت او از طریق افسانه در دل مردم تحكیم گردد.

مبارزه وی با افسانه و خرافه، كه نمونه بارز آن، مبارزه با بت پرستی و الوهیت هر مصنوعِ ممكن می باشد؛ نه تنها شیوه ی دوران رسالت او بود، بلكه او در تمام ادوار زندگی، حتّی در زمان كودكی با اوهام و خرافات مبارزه می نمود.

روزی كه سنّ محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ از چهار سال تجاوز نمی كرد، و در صحرا زیر نظر دایه و مادر رضاعیِ خود « حلیمه » زندگی می نمود، از مادر خود خواست كه همراه برادران رضاعی خود به صحرا رود. « حلیمه » می گوید: فردای آن روز، محمد را شستشو دادم و به موهایش روغن زدم، به چشمانش سرمه كشیدم، و برای اینكه دیوهای صحرا به او صدمه نرسانند، یك مهره ی یمانی كه در نخ قرار گرفته بود، برای محافظت به گردن او آویختم. محمد ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ مهره را از گردن درآورد و به مادر خود چنین گفت: مادر جان آرام باش، خدای من كه پیوسته با من است، نگهدار و حافظ من است[19].

خرافات در عقاید عرب جاهلی

عقاید تمام ملل و جامعه های جهان، روز طلوع ستاره اسلام، با انواعی از خرافات و افسانه ها آمیخته بود و افسانه های یونانی و ساسانی بر افكار مللی كه مترقی ترین جامعه ی آن روز به شمار می رفتند؛ حكومت می كرد. و هم اكنون در میان مللِ مترقی شرق، خرافه های زیادی وجود دارد؛ كه تمدّنِ كنونی نتوانسته آنها را از قاموس زندگی مردم بردارد.

تاریخ، برای مردم شبه جزیره، خرافه و افسانه های زیادی ضبط كرده است، و نویسنده كتاب « بلوغ الارب فی معرفه احوال العرب[20] »، بیشتر آنها را در همان كتاب با یك سلسله شواهد شعری و غیره گرد آورده است. انسان پس از مراجعه به این كتاب و غیر آن، با انبوهی از خرافات روبرو می گردد كه مغز عرب جاهلی را پر كرده بود. و این رشته های بی اساس، یكی از علل عقب افتادگی این ملت، از ملل دیگر بود. بزرگ ترین سد، در برابر پیشرفت آیینِ اسلام، همان افسانه ها بود؛ و از این جهت پیامبر با تمام قدرت می كوشید كه آثار «جاهلیت » را، كه همان افسانه و اوهام بود از میان بردارد. هنگامی كه « معاذ بن جبل » را به یمن اعزام نمود، به او چنین دستور داد:

« وَ اَمِت اَمرَ الجاهِلیهِ الا ما سَنَّهُ الاِسلامُ وَ اَظهَر اَمرَ الاِسلامِ كُلَّه صغیرَه و كبیرَه[21] »، یعنی: ای معاذ، آثار جاهلیت و افكار و عقاید خرافی را، از میان مردم نابود كن و سنن اسلام را كه همان دعوت به تفكر و تعقل است، زنده نما.

او در برابر توده های زیادی از عرب كه سالیان درازی افكار جاهلی و عقاید خرافی بر آنها حكومت كرده بود؛ چنین می گفت: « كل مأثره فی الجاهلیه تحت قدمی[22]، یعنی: با پدید آمدن اسلام، كلیه ی مراسم و عقاید و وسایل افتخارِ موهوم، محو و نابود گردید و زیر پای من قرار گرفت.

اینك برای روشن ساختن ارزش معارف اسلام، نمونه هایی از خرافات مرسوم در آن عصر را در این جا می آوریم:

1ـ آتش افروزی برای آمدن باران:

شبه جزیره عربستان، در بیشتر فصول با خشكی روبرو است. مردم آنجا برای فرود آمدن باران، چوب هایی را از درختی به نام « سلع » و درخت زودسوز دیگری به نام « عشر » گرد می آوردند و آنها را به دم گاو بسته، گاو را تا بالای كوه می راندند. سپس چوبها را آتش زده، به جهت وجود موادِ محترقه در چوبهای « عشر »، شعله های آتش از آنها بلند می شد و گاو بر اثر سوختگی شروع به دویدن و اضطراب و نعره زدن می كرد؛ و آنان این عمل ناجوانمردانه را، به عنوانِ یك نوع تقلید و تشبیه به رعد و برق آسمانی انجام می دادند. شعله های آتش را به جای برق، و نعره ی گاو را به جای رعد، محسوب می داشتند، و این عمل را در نزول باران مؤثر می دانستند.

2ـ اگر گاو ماده آب نمی خورد، گاو نر را می زدند:

گاوهای نر و ماده را برای نوشیدن آب كنار جوی آب می بردند، گاهی می شد كه گاوهای نر، آب می نوشیدند ولی گاوهای ماده لب به آب نمی زدند، آنان تصور می كردند كه علّتِ امتناع، همان وجود دیوها است كه در میان شاخ های گاو نر جا گرفته اند و نمی گذارند گاوهای ماده آب بنوشند و برای راندن دیوها به سر و صورت گاوهای نر می زدند[23].

3ـ شتری را در كنار قبری حبس می كردند، تا صاحب قبر هنگام قیامت پیاده محشور نشود:

اگر مرد بزرگی فوت می كرد، شتری را در كنار قبر او در میان گودالی حبس می كردند، و آب و علف به او نمی دادند، تا جان سپرد، و متوفّی روز رستاخیز بر آن سوار شود و پیاده محشور نگردد.

4ـ شتری را در كنار قبر پی می كردند:

از آنجا كه شخص متوفی، در دوران زندگی برای عزیزان و مهمانان خود، شتر نحر می كرد؛ برای تكریم از متوفّی و سپاسگزاری از او، بازماندگانش در پای قبر او شتری را به طرز دردناكی پی می كردند.

5ـ قسمت دیگری از خرافات:

برای رفع نگرانی و ترس، از وسایل زیر استفاده می كردند:

موقعی كه وارد دهی می شدند و از بیماری وبا، یا دیو می ترسیدند، برای رفع ترس در برابر دروازه ی روستا، 10 بار صدای الاغ در می آوردند و گاهی این كار را با آویختنِ استخوان روباه به گردن خود، توأم می نمودند. و اگر در بیابانی گم می شدند، پیراهن خود را پشت و رو می كردند و می پوشیدند. موقع مسافرت كه از خیانت زنان خود می ترسیدند، برای كسب اطمینان نخی را بر ساقه یا شاخه درختی می بستند، موقع بازگشت اگر نخ به حال خود باقی بود، مطمئن می شدند كه زن آنها خیانت نورزیده است، و اگر باز، یا مفقود می گردید، زن را به خیانت متهم می ساختند.

اگر دندان فرزند آنان می افتاد، آن را با دو انگشت به سوی آفتاب پرتاب كرده می گفتند: آفتاب! دندان بهتر از این بده. زنی كه بچه اش نمی ماند؛ اگر هفت بار بر كشته ی مرد بزرگی قدم می گذاشت، معتقد بودند كه: بچه ی او باقی می ماند و.....

این بود مختصری از انبوه خرافاتی كه محیط زندگی اعرابِ دوران جاهلیت را تاریك و سیاه، و فكر آنها را از پرواز به اوج تعالی باز داشته بود.

مبارزه اسلام با خرافات

اسلام با این خرافه ها، از طرق مختلفی مبارزه كرده است. هنگامی كه عده ای از اعراب بیابانی كه با آویزه جادویی و قلاده هایی كه در آنها سنگها و استخوانها به بند كشیده می شد، بیماران خود را معالجه می كردند، خدمت رسول خدا ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ شرفیاب شدند و درباره مداوا با گیاهان و داروهای طبی پرسش نمودند؛ رسول اكرم فرمود: لازم است بر هر فرد بیمار سراغ دارو رود، زیرا خدایی كه درد را آفریده دارو نیز آفریده است[24]. حتّی موقعی كه سعد بن ابی وقاص بیماری قلبی گرفت، حضرت فرمود: باید پیش « حارث كلده » طبیب معروف ثقیف بروید، سپس خود آن حضرت او را به دارویِ مخصوصی راهنمایی كرد[25].

علاوه بر این، بیاناتی درباره آویزه های جادویی كه فاقد همه گونه آثارند؛ وارد شده است. اینك به نقل دو روایت در این باره اكتفا می كنیم:

1ـ مردی كه فرزند او دچار گلودرد شده بود، با آویزه های جادویی وارد محضر پیامبر شد. پیامبر فرمود: فرزندان خود را با این آویزه های جادویی نترسانید، لازم است در این بیماری از عصاره ی عود هندی استفاده نمایید[26].

امام صادق ـ علیه السلام ـ می فرمود: « ان كثیراً من التمائم شرك؛ بسیاری از بازوبندها و آویزه ها شرك است[27] ».

پیامبر و اوصیای گرامی او با راهنمایی مردم به داروهای زیاد، كه همه آنها را محدثان بزرگ اسلام، تحتِ عنوانِ « طب النبی » و « طب الرضا » و.... گرد آورده اند؛ بار دیگر ضربه ی محكمی بر این اوهام كه گریبان عرب دوران جاهلیت را گرفته بود؛ وارد ساخته اند.

علم و دانش در حجاز

مردم حجاز را مردم « اُمّی » می خواندند. « امّی » به معنیِ درس نخوانده است، یعنی یك فرد به همان حالتی كه از مادر زاییده شده است، باقی بماند.

برای شناخت میزانِ ارزش علم، در میان عرب كافی است بدانید كه در دوران طلوع ستاره اسلام، در میان قریش فقط هفده نفر توانایی خواندن و نوشتن داشتند. در مدینه، در میان دو گروه « اوس » و « خزرج »، فقط یازده نفر دارای چنین كمالی بودند[28].

با توجه به این بحث كوتاه و فشرده درباره ی مردم این منطقه، عظمتِ تعالیم اسلام، در كلیّه ی شئون اعم از اعتقادی و اقتصادی و اخلاقی و فرهنگی روشن و نمایان می گردد و پیوسته باید در ارزشیابی تمدن ها حلقه ی قبلی را بررسی كرد، آنگاه عظمت را ارزیابی نمود[29].

 

--------------------------------------------------------------------------------

[1] - ان الله بعث محمداً نذیراً للعالمین و امیناً علی التنزیل و انتم معشر العرب علی شر دین و فی شر دار منیخون بین حجاره خشن و حیات صم، تشربون الكدر و تأكلون الحشب و تسفكون دماءكم و تقطعون ارحامكم؛ و الاصنام فیكم منصوبه و الاثام بكم معصوبه « نهج البلاغه خ 26 ».

[2] - قل تعالوا اتل ما حرم ربكم علیك الا تشركوا به شیئاً.

[3] - و بالوالدین احساناً.

[4] - و لا تقتلوا اولادكم من املاق نحن نرزقكم و ایّاهم.

[5] - و لا تقربوا الفواحش ما ظهر منها و ما بطن.

[6] - و لا تقتلوا النفس التی حرم الله الا بالحق، ذلكم وصّاكم به لعلّكم تعقلون.

[7] - و لا تقربوا مال الیتیم الا بالتی هی احسن حتی یبلغ اشده.

[8] - و اوفوا الكیل و المیزان بالقسط.

[9] - لا نكلف نفساً الا وسعها.

[10] - و اذا قلتم فاعدلوا و لو كان ذا قربی.

[11] - و بعهد الله اوفوا ذلكم وصاكم به لعلّكم تذكّرون.

[12] - « اعلام الوری » / 35- 40 و نیز « بحار الانوار » ج 19 / 8 - 11.

[13] - « و اهل الارض یومئذ ملل متفرقه و اهواء منتشره و طوائف متشتته بین مشبه لله بخلقه او ملحد فی اسمه او مشیر الی غیره فهداهم به من الضلاله و انقذهم من الجهاله » ، نهج البلاغه، خ 1.

[14] - نهج البلاغه خ 26.

[15] - سوره تكویر/ 8.

[16] - ابن اثیر در « اسد الغابه » ماده قیس از او نقل كرده كه پیامبر ـ صلی الله علیه و آله و سلم ـ پرسید: تاكنون چند دختر زنده به گور كردی؟ گفت: 12 دختر. این سرگذشت در كتاب « حیاه محمد » نگارش « محمد علی سالمین » ص 24 و 25 نقل شده است.

[17] ـ سوره ی اعراف / 157.

[18] - بحار الانوار ج 22 / 155.

[19] - « مهلاً یا امّاه، فانّ معی من یحفظنی ». بحار ج 15 / 392.

[20] - نگارش سید محمد آلوسی ج 2 / 286 ـ 369.

[21] - تحف العقول / 25؛ سیره ابن هشام ج 3 / 412.

[22] - سیره ابن هشام ج 3 / 412.

[23] - شاعر عرب زبان در این باره كه گاو نر به جرم آب نخوردن گاو ماده زده می شد، چنین می گوید:

فانی اذا كالثور یضرب جنبه اذا لم یعف شربا و عافت صواحبه

[24] - التاج، ج 3 / 178، یعنی این آویزها در رفع بیماری مؤثر نیست.

[25] - التاج، ج 3 / 179.

[26] - التاج، ج 3 / 184.

[27] - سفینه ماده رقی.

[28] - فتوح البلدان ابوالحسن بلاذری / 457 و 459.

[29] - برای آگاهی گسترده از عقاید و فرهنگ و تقالید و تیره های جامعه عرب به دو كتاب زیر مراجعه نمائید:

الف ـ بلوغ الارب فی معرفه احوال العرب نگارش محمود آلوسی متوفای سال 1270 هـ.ق.

ب ـ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام نگارش استاد جواد علی، این كتاب در ده جلد تنظیم شده و تمام مباحث مربوط به زندگی عرب جاهلی را ترسیم كرده است.

جعفر سبحاني- فرازهايي تاريخ پيامبر اسلام (ص)، ص

تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 18:58 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

یثرب پیش از اسلام

یثرب را نام فردی دانسته‌اند از نوادگان حضرت نوح - علیه السلام- (یثرب بن قانیه بن مهائیل....) !، همچنان كه معنای لغوی خاصی نیز برای آن یاد كرده‌اند كه عبارت از :« لوم و فساد و عیب» است. به همین دلیل نوشته‌اند كه رسول خدا - صلی الله علیه و آله و سلم - پس از ورود به آن، فرمودند این كلمه بكار برده نشود و بجای آن، آن را «طابه» و «طیبه» نامیدند.[1] گفته شده است كه یثرب تنها بخشی از منطقه‌ای بوده كه بعد از هجرت رسول خدا - صلی الله علیه و آله و سلم - «مدینه‌ الرسول» یا به اختصار «مدینه» نامیده شده است.[2] گر چه بعد از هجرت نیز گاه و بی‌گاه یثرب نامیده می‌شد؛ از جمله در قرآن از قول منافقان ـ در سال پنجم هجرت یا اندی بعد از آن ـ آمده است كه مردم شهر را با عنوان «یا اهل یثرب» خطاب می‌كردند.[3] در شعری از همسر عثمان ـ كه بعد از كشته شدن وی آن را سروده ـ از این شهر با عنوان یثرب یاد شده است.[4] در اشعار شاعران صحابی نیز كلمه یثرب آمده است.[5]

پیش از اسلام این كنطقه به عنوان یك «شهر متمركز» شناخته نمی‌شده‌در مجموع، عبارت از «واحه‌هایی » بوده كه برخی‌ از آن‌ها در فضای مسطح «سهل» و برخی از آن‌ها در مرتفعات و میانه شعاب قرار داشته است. در واقع از لحاظ جغرافیایی دو رشته‌ «حره»؛ یعنی كوهكهای سنگلاخی سیاه كه گویی به آتش سوخته‌اند، در دو سوی غرب و شرق آن كشیده شده است. حرّه شرقی كه با نام « حره واقم» شناخته می‌شود، در شمال، به كوه احد منتهی شده و تقریباً تا جنوب امتداد می‌یابد. همینطور حره‌غربی كه «حره وبره» نامیده می‌شود، در شمال تا بئر رومه و در جنوب تا محاذی محله قبا امتدا دارد. این دو حره به عنوان حفاظ شهر به شمار می‌آید. در جنوب نیز كما بیش این سنگ‌ها دیده می‌شود. بدین ترتیب باید گفت تقریباً تنها ناحیه آی از مدینه كه با زمین هموار به خارج از آن متصل می‌شود شمال آن است. بیشتر یهودیان در قسمت حره غربی و واحه‌های منتهی به آن سكونت داشته‌اند. این ناحیه كه بسیاری از اوسیان نیز در آن سكونت داشته‌اند، یثرب نامیده می‌شده، گرچه نباید از نظر دور داشت كه بزودی این كلمه بر تمامی این نواحی ـ با حفظ نام‌های اختصاصی ـ اطلاق شده است.

مناطق مسكونی مدینه بیشتر عبارت از خانه‌های معمولی از سنگ و آجر و خشت بوده و احتمالاً در میان هر طایفه‌ای، بویژه یهودیان، علاوه بر خانه‌های معمولی، حصن‌ها و قلعه‌هایی نیز وجود داشته كه به نام «اطم» شناخته می‌شود. این قلعه‌ها برای مواقع ضروری (جنگ‌ها) مورد استفاده قرار می‌گرفته، اما شهر در مجموع حصاری نداشته است (بعد‌ها در طی تاریخ، بخشی اصلی مدینه كه همان مناطق مسكونی اطراف مسجد النبی - صلی الله علیه و آله و سلم - بود، حصار داشته است). در مورد ساكنان قدیمی این نواحی، اخباری نثل شده كه چندان محل اعتماد نیست.[6]

آنچه از مجموع آن‌ها بدست آمده، این است كه چند بار بنی اسرائیل به دلایل مذهبی و سیاسی، بدین سوی هجوم آورده، بر آنجا مسلط شده و ساكنان آن را متفرق كرده‌اند. از كیفیت آن حملات و نیز رمان دقیق آن‌ها گزارش دقیقی در دست نیست اما آنچه كه توسط مورّخان مفروض گرفته شده، این است كه: یهودیان ساكن مدینه در زمان بعثت، پیش از ساكنان عرب آن؛ یعنی اوس و خزرج، در آنجا سكونت داشته‌اند. احتمالاً این مهاجران در جریان جمله رومی‌ها به قدس، در قرون نخست میلادی‌، به حجاز پناه آورده‌اند.[7] این منطقه هیچ حكومتی نداشته و آنان می توانستند همانند دیگر قبایل، تنها با اتكا به قوای داخلی خود، در آنجا بسر برند، بویژه كه دوری آن از دسترس رومیان ضد پهلوی نیز برای آنان اطمینان بخش بود. طبعاً به دلیل آن كه در آن زمان قدرت قابل توجهی در برابرشان نبود. در بهترین نقاط ـ از لحاظ كشاورزی ـ میان دو حره شرقی و غربی سكونت گزیدند.

درباره دلیل سكونت آنان در این نواحی، به خاطر داشتن اطلاعاتی از تورات؛ درباره ظهور رسول خدا - صلی الله علیه و آله و سلم - در چنین دیاری، ‌اخبار زیادی را مورّخان نقل كرده‌اند[8] سكونت آن‌ها بیشتر در كنار حره شرقی بوده‌ است. از لحاظ نژاد، این مسلّم است كه یهودیان این نواحی غیر عرب و از بقایای یهود اسرائیلی بوده‌اند. از اشارات مستمرّ قرآن به بنی اسرائیل و تطبیق آن‌ها بر یهودیان مدینه،‌ می‌توان چنین امری را ثابت دانست. به علاوه،‌منابع اتفاق دارند كه زبان مذهبی آنان عبری بوده است. علاوه بر این مورّخان و نسب شناسان عرب ـ كه برای همه ساكنان، حتی شده نسب عربی و.ضع می‌كنند ـ هیچگونه نسب عربی برای آنان یاد نكرده‌اند. اینها نشان می‌دهد كه غیر عرب بودن آن‌ها برای همه محرز بوده است. اعرابی كه با نام اوس و خزرج شناخته می شدند ـ و بعدها با نام انصار ـ مهاجران جنو جزیره العرب به این ناحیه بوده‌آند. اوس و خزرج دو فرزند یك پدر با نام حارثه بن ثعلبه بوده‌اند.[9]

از اوس یك فرزند به دنیا آمد به نام مالك بن اوس و بدنبال آن از پنج فرزند وی، پطن در میان اوس شهرت یافت كه هر كدام خود چند خاندان و طایفه در خود داشتند. خزرج خود پنج فرزند داشت (!) كه از آن‌ها نیز پنج بطن در درون قبیله خزرج شكل گرفت و در زمان ظهور اسلام هر كدام آن‌ها نیط مشتمل بر چند خانواده و عشیره بودند؛ به عنوان مثال از نسل نجاز بن ثعلبه بن خزرج چهار عشیره با نام‌های مالك بن نجار، عدی بن نجار،‌ مازن بن نجار، و دینار بن نجار شكل گرفت كه در میان دو حره شرقی و غربی زندگی كرده و رسول خدا - صلی الله علیه و آله و سلم - نیز در همانجا فرود آمد و مسجد نیز همانجا ساخته شد. ـ بنی نجار دایی‌های رسول خدا - صلی الله علیه و آله و سلم - بودند ـ محل‌هایی كه اوسیان در آن سكونت داشتند در حوالی مناطق یهودی نشین مدینه در قسمت حره شرقی و نواحی قبا قرار داشت. جایی كه از لحاظ زراعی دارای زمین‌های قابل و حاصلخیزی بود. اوسی‌ها با بنی قریظه پیمانهایی داشتند.

تاریخ و دلایل مهاجرت این قبایل یمنی به شمال جزیره، مورد توجه اخباریان و تاریخ نویسان بوده است. بیشترین تكیه بر روی سیل عرم و خراب شدن سدّ مأرب صورت گرفته كه بدنبال آن، تعداد زیادی از قبایل جنوب به مناطق مختلف جزیره مهاجرت كردند (كه از جمله آن‌ها مهاجرت خزاعه به مكه بود) این نظر كه مهاجرت اوس و خزرج بعد از سیل عرم بوده مورد تردید قرار گرفته است. گفته شده كه این مهاجرت می‌توانسته دلایل سیاسی و نظامی ـ نزاعهای میان قبایل و قدرت طلبی حبشی‌ها و حاكمان محلّی در آن حدود ـ و همچنین دلیل اقتصادی داشته باشد.[10]

حدسی كه درباره تاریخ این مهاجرت زده شده، در حدود 347 میلادی است. در حال یكه سیل عرم در حدود سالهای 477 ـ 450 رخ داده است. بدین ترتیب مهاجرت آنان سال‌ها پیش از سیل عرم صورت گرفته است. هر چند این احتمال نیز از نظر دور نمانده كه سیلی دیگر سبب آن مهاجرت بوده است.[11]

مهاجرت این قبایل به یثرب و سكونت آن‌ها در این ناحیه، می‌توانست مشكلاتی را با یهودیان به وجود آورد. گفته شده كه در آغاز آن‌ها با امضای معاهداتی با یكدیگر روابط مناسبی داشتند اما به تدریج با توجه به كثرت اعراب، آنان بر یهود تفوق یافته و یهودیان به صورت اقلّیت ـ اما اقلیتی قوی ـ در آمدند. به مرور زمان همه این طوایف یهودی و عربی،‌ بدلایل اقتصادی و نیز عصبیّت‌های قبیله‌ای، با یكدیگر به منازعه برخاسته و روابطی كه در همه جای جزیره العرب، در میان قبایل از حرب و حلف وجود داشت، در اینجا نیز برقرار گردید. اوس و خزرج ـ احتمالاً به تحریك یهودیان كه خود را مغلوب تصور می‌كردند ـ با یكدیگر جنگ‌های فراوانی كردند. یكی از نخستین جنگ‌ها در روایت مورّخان به «یوم سمیر» (یا: سمیعه) شهرت یافته، پس از آن نیز درگیریهای دیگری (كه برخی از آنها در ماههای حرام بوده و به همین دلیل فجار نام گرفته (غیر از جنگ‌های فجار در مكه و اطراف آن است) وافع شده است. آخرین آن‌ها جنگ بعاث (نام یكی از مناطق نزدیگ به حره شرقی) است كه جنگ شدیدی میان اوس و خزرج صورت گرفته است. در این جنگ كه احتمالاً پنج سال پیش از سال نخست هجرت روی داده،‌ بسیاری از بزرگان اوس و خزرج كشته شدند. عایشه این جنگ و كشته شدن سران آن‌ها را در آمدی برای ظهور اسلام در مدینه دانسته است.[12] تفصیل رخدادهای بعاث را ابو الفرج اصفهانی نقل كرده است. [13]در این جنگ اوسیان بر خزرجیان غلبه كردند (علی رغم آنكه حضیر كتائب (پدر اسید بن حضیر صحابی) كه رئیس آنان بود به قتل آمد،)

با این كه در این جنگ خزرجی ‌ها شكست خوردند، اوس در كشتن آنان افراط نكردند. آن‌ها تصمیم گرفتند تا خزرجی‌ها را كه برادرانشان بودند بر «ثعالب» (روباه‌ها) ترجیح دهند. این تعبیر شاید اشاره به یهودیان (حیله‌گر) بوده است.[14] نوع این جنگ‌ها گرچه می‌توانسته در آغاز ناشی از حسادت خزرج نسبت به زمین‌های حاصل خیزی باشدكه در اختیار اوس (و هم پیمانان یهودی آن‌ها) بوده،[15] اما در ادامه با «ثار» های مكرری كه در دو سو مطرح بوده ادامه می‌یافته است. باید گفت كه جمعیت خزرج تقریباً دو برابر اوس بوده است. این امر آمارهایی كه از تعداد بیعت كنندگان اوسی و خزرجی در عقبه دوم و نیز اسامی شهدای احد در دست داریم، بخوبی به دست می‌آید. محتمل است كه برخی از جنگ‌های جاهلی،‌برخی از طوایف، از خزرج و یا اوس،‌در آن شركتی نداشته‌اند. اوسی‌ها پیمانی با یهودیان قریظی داشتند كه بعدها آثاری در تاریخ اسلام، در جریان غزوه بنی قریظه داشت. كسانی از خزرج نیز دوستی‌هایی با بنی النضیر داشتند كه آثاری در جریان غزوه بنی النضیر داشت. در عین حال از تحریكات یهودیان برای ایجاد اختلاف در میان اوس و خزرج در قبل و بعد از اسلام شواهدی وجود دارد.[16] در اطراف مدینه برخی از فبایل عربی ـ غیر از اوس و خزرج ـ زندگی می‌كردند. از جمله قبیله‌ «مزینه» و «سلیم» كه در شرق مدینه سكو.نت داشته و با برخی از بطون اوسی هم پیمان بودند. همین طور قبیله «جهینه» كه همپیمان با برخی از طوایف قبیله خزرج بوده در غرب مدینه سكونت داشتند. قبیله «اشجع» نیز در شمال مدینه بوده و همپیمان برخی از خزرجیان بودند.[17]

از نقطه نظر دینی، قبایل ساكن یثرب همگی بت پرست و به اصطلاح قرآن «مشرك» بودند. به همین دلیل پیوند آنان با مكه و مشركان آن سرزمین مقدس، بسیار نیرومند بوده است. می‌توان گفت آنان تمامی آداب بت‌پرستی قریش و مراسم منحرف شده بازمانده از ابراهیم (علیه السلام) را كه مورد رعایت مكیان بود، رعایت می‌كردند. بدین ترتیب پیوند آنان از لحاظ فرهنگی با مكه گسترده بوده است. در برابر، هیچگونه پیوند فكری با یهودیان ساكن مدینه نداشتند و كمترین تأثیری از آنان نپذیرفته بودند. همیطور از نصرانی‌ها، كه البته حضوری در شهر آنان نداشتند. گرچه قافله‌های تجاری آن‌ها از نجران یا یمن به سمت شمال، به منطقه آنان آمد شد داشت.[18] عدم تأثیر گذاری گسترده یهود در عرب، بیشتر به دلیل بی‌توجهی یهود به نشر دعوتشان بود. آنان خود را قوم برگزیده خداوند دانسته و به دین یهود چهره نژادی داده بودند. به علاوه این تلقّی برای اوس و خزرج بود كه دین بومی منطقه همان بت پرستی است و نباید به دینی كه از خارج وارد شده وقعی نهاد. با این حال یعقوبی آورده است كه جمعی از اوس و خزرج به دلیل مجاورت با یهود خیبر، قریظه و نضیر، یهودی شدند.[19]

از آنجا كه قبایل عرب هر كدام به بت خاصّ خود عنایت داشتند ـ گرچه به سایر بت‌ها نیز احترام می‌نهادند ـ بت «منات» مورد علاقه و عبادت اوس و خزرج بود. این بت در نزدیكی دریای احمر در منطقه‌قدید ـ جنوب غربی یثرب ـ قرار داشت و سخت مورد احترام ساكنان عرب یثرب بود.[20] گفته شده كه اوس و خزرج برای مراسم حج عازم مكه می‌شدند اما برای تراشیدن سر نزد منات رفته و تنها با چنین اقدامی حج خویش را تمام شده و مقبول می‌دانستند.[21] بعدها اشاره خواهیم كرد كه مواردی از نگرش «حنیفی» نیز در یثرب وجود داشته است. این می‌توانسته بیشتر متأثر از حنفیان مكی باشد تا یهودیان موحد مدنی؛ گرچه باید پذیرفت كه در مجموع به دلیل فرهنگی بودن یهودیان، آنان تأثیری در اوس و خزرج داشته‌اند. دست كم آن، مسأله آشنایی اوس و خزرج با ظهور پیامبری جدید است كه خود از دلایل پذیرش اسلام توسط ساكنان یثرب دانسته شده است.

از نظر اقتصادی محیط یثرب نسبت به مكه متفاوت بود، گرچه در اینجا نیز تجارت وجود داشت اما نه همانند تجارت مكیان كه قافله‌های تجاری تابستانی و زمستانی داشته باشند. اقتصاد مدینه بر پایه كشت و زرع و نخلستان‌هایی بوده كه در نواحی مختلف مدینه وجود داشته است.[22] خرما یكی از محصولات مدینه بوده كه بخشی از تغذیه مردم نیز به وسیله آن انجام می‌گرفته است، گرچه اشباع مسلمانان از خرما، تنها بعد از فتح خیبر بوده است.[23] در مدینه آب به وفور به دست می‌آمده، با این حال امكان كندن چاه و داشتن آب شیرین در همه‌ نواحی مدینه امكان پذیر نبوده است.[24] در مجموع باید گفت مدینه در قیاس با مكه از توان اقتصادی درونی برخوردار بوده و از این زاویه بر مكه امتیاز قابل توجهی داشته است.

در میان ساكنان یثرب، یهودان توان اقتصادی بیشتری داشته و به دلیل داشتن چنین توانی دست به احتكار اجناس و ربا خواری می‌زده‌اند. بعلاوه، در صنعت و بویژه ساختن شمشیر، نیزه و تیر توسط یهودیان صورت می‌گرفته و این ـ با توجه به جنگ‌های مداوم ـ در آمد قابل ملاحظه‌ای برای آنان داشته است. بی‌توجهی اعراب را به این قبیل مسائل باید در روحیه عربی آن‌ها و توجه به همان اصول بایده‌نشینی دانست. در واقع اهالی یثرب گرچه تا حدودی شهر نشین بودند اما خصلت‌های عرب بادیه‌ای (كه در آن محیط شایع و گسترده بود) بر آنان اثر گذاشته بود. جنگ‌های پیاپی میان اوس و خزرج نیز حاكی از این روحیه بوده است.[25]

--------------------------------------------------------------------------------

[1] . تاج العروس، ج2، ص85؛ در قرآن آمده است «لاتثریب علیكم الیوم یغفر الله لكم» یوسف (12): 92، ونكـ: مفردات، ص75.

[2] . معجم البلدان، ج6، ص430؛ تاج العروس، ج2، ص85.

[3] . احزاب، 33 و 13.

[4] . معجم البلدان، ج6، ص430، از ابن عباس.

[5] . السیره النبویه، ابن هشام، ج4، ص384.

[6] . نكـ: المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، ج4، ص133.

[7] . گزارش پراكنده یهودیان در اراضی مدیترانه‌ای و از جمله عربستان و دلایل آن را ویل دورانت (تاریخ تمدن، ج14، ص433) آورده است.

[8] . (ان علماؤهم كانوا یجدون فی التوراه صفه النبی (صلی الله علیه و آله و سلم) و انه یهاجر الی بلد فیه نخل بین حرتین فاقبلوا من الشام یطلبون الصّفه) معجم البلدان، ج6، ص84.

[9] . اوس و خزرج با عنوان «بنی‌قیله» شناخته می‌شدند. در یك نقل آمده كه «قیله» مادر اوس و خزرج بوده است.

[10] . درباره‌ی دلایل مهاجرت آنها نكـ: یثرب قبل الإسلام، صص72ـ67.

[11] . نكـ: یثرب قبل الإسلام، صص73ـ72.

[12] . بخاری، ج2، ص309 و 320 (و منابع دیگر كه در بحث دلایل «گسترش سریع اسلام در مدینه» خواهد آمد).

[13] . الاغانی، ج17، صص128ـ117.

[14] . الاغانی، ج17، ص125 «یا معشر الأوس اسجحوا ولا تهلكوا اخوتكم فجورا هم خیرٌ من جوار الثعالب» (اسجحوا؛ یعنی عفو كنید.)

[15] . از قول یكی از رهبران خزرج آمده است كه: بیاضه بن عمر و شما را در زمین سخت و صعبی سكونت داده‌اند. به خدا قسم تا شما را در منازل بنی‌قریظه و بین النضیر در كنار آب‌های شیرین و نخل‌های پربار سكونت ندهم با همسرم همبستر نمی‌شوم. نكـ: وفاء الوفاء، ج1، ص217.

[16] . نكـ: تفسیر الطبری، ج7، ص55، در آنجا به نقل از شاس بن قیس یهودی آمده كه وقتی اتحاد اوس و خزرج را در سایه‌ی اسلام دید گفت: «قد اجتمع ملأ بنی قیله بهذه البلاد، لا والله، مالنا معهم اذا اجتمع ملؤهم بها من قرار». درباره‌ی آیه‌ی «یا ایها الذین آمنوا ان تطیعوا فریقاً من اهل الكتاب یردّكم بعد ایمانكم كافرین.» (آل‌عمران/100)، نقل‌هایی درباره‌ی تحریكات یهود در ایجاد اختلاف روایت شده است (نكـ: اسباب النزول، ص77).

[17] . یثرب قبل الاسلام، ص133.

[18] . طبعاً بطور محدود می‌توان كسانی را در قبایل عربی یافت كه نصرانی شده باشند در یثرب و برخی از توابع آن همچون وادی القری سخن از تأثیرات محدود نصرانیت به میان آمده؛ نكـ یثرب قبل الاسلام، ص110؛ شیخو علی رغم وجود صراحت تاریخ بر اینكه اوس و خزرج بت‌پرست بوده‌اند با ارائه چند حدس دور از ذهن خواسته تا مرام اوس و خزرج را دین مسیحیت بداند. نكـ: النصرانیه و آداب‌ها بین عرب الجاهلیه، صص114ـ115.

[19] . یعقوبی، ج1، ص257؛ اسامی جمله از طوایف یهودی قبایل عربی در پیمان عمومی رسول خدا (صلی الله علیه و آله و سلم) با مسلمانان و یهودیان آمده است.

[20] . درباره بت‌های اختصاصی قبایل و محل نصب آنها، نكـ: اطلس تاریخ الاسلام، ص100، و نقشه‌ی ش37.

[21] . نكـ: الاصنام، ص12، 14؛ المحبر، صص316ـ313.

[22] . با توجه به آیات 99 و 141 سوره‌ی انعام، می‌توان با برخی از محصولاتی كه برای اعراب حجاز قابل حصول بوده آشنایی یافت.

[23] فتح الباری، ج7، ص495، «عایشه: ما شبعنا حتی فتحت خیبر».

[24] . درباره فروش آب چاه بئر رومه توسط یهودیان، نكـ: وفاء الوفاء، ج3، ص970، و نیز نكـ: الصحیح من سیره النبی (صلی الله علیه و آله و سلم)، ج3، ص119ـ113؛ استاد بر این عقیده است كه عثمان بئر رومه را در دوران خلافت خود خریداری كرده است.

[25] . المفصل، ج4، ص141ـ140.

 



تاريخ : چهارشنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۱ | 18:57 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |