شعبہ دعوت و ارشاد: پچھلے ایک صدی کے دوران توحید و سنت کی تبلیغ سے فیضاب ہوکر سینکڑوں افراد راہ حق پا چکے ہیں اور سلف صالحین کے منہج پر گامزن ہیں موجودہ دور میں یہ شعبہ یومیہ وعظ و نصیحت ، ہفتواری دروس، تبلیغی دوروں، اجتماعات اور جلسوں کا انتظام کرتا ہے۔

دارالقضاء والافتاء: مقتدر علماء کی کمیٹی ہے جس کے ذریعے مقدمات کا شرعی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ سرکاری عدالتیں بھی بعض مقدمات میں فریقین کو اس کمیٹی کی طرف بھیج دیتی ہیں۔ نیز عوام کی طرف سے آنے والے سوالات کا جواب اور فتوی بھی دیا جاتا ہے ۔ 

شعبہ کفالت ایتام: اس ادارے کے تحت ناردرن ایریاز کے سینکڑوں یتیموں تک کفالت کی باقاعدہ رقم پہنچانے کے علاوہ تعلیم و تربیت کے معیار کی نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے اس معیار کو منظم، مربوط اور بہتر بنانے کے سلسلے کی تمہیی کے طور پر دارالایتام کی عمارت بھی تیار ہو گئی ہے۔

   الاغاثہ الاسلامیہ: کے زیر عنوان غواڑی، سکردو اور یوگو میں فری ڈسپنسریاں قائم ہیں۔ غواڑی میں ایک ایمبولینس کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

 شعبہ تعمیرات: حسب ضرورت مساجد اور مدارس کی تعمیر و مرمت کا اہتمام کرتا ہے۔ اہل خیر کے تعاون سے اب تک سینکڑوں مساجد و مدارس کی تعمیر و مرمت ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔

شعبہ رفاہ عامہ: یہ شعبہ تعمیرات کا فلاحی پہلو ہے جس کے ذریعے عوام اور ادارے کی زرعی ضروریات کے لئے اب تک بیسوں کوہلوں کی تعمیر ومرمت ہو چکی ہیں۔ نیز پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے 200  قریب کنویں اور ٹنکیاں تعمیر کی گئیں۔ نیز واٹر پائپ کے منصوبوں میں بھی تعاون کیا گیا۔ عوام کی بجلی سپلائی کے لئے دو جنریٹر خریدے گئے۔ ایک فلاحی ادارے کے تعاون سےبنا ہوا پن بجلی گھر غواڑی کی اکثر آبادی کو روشنی فراہم کر رہا ہے۔ ان کے اخراجات لوگوں کے جمع کردہ فیس سے پورے کئے جاتے ہیں۔

مجلہ التراث: یہ مجلہ جامعہ ہذا کا ترجمان ہے۔ جو اردو زبان میں توحید و سنت کی دعوت اور اصلاح معاشرہ کا درد لئے 1998 سے ہر چھے ماہ بعد طلوع ہو رہا تھا۔ اب اس کی بڑھتی ہوئی مانگ اور قارئین کرام کے اصرار پر سہ ماہی کر دیا گیا ہے۔


صندوق البر: علاقے کی عمومی فقرو حاجت مندی کے پیش نظر فقراء و مساکین اور ناگہانی ضرورت مندوں کا خیال رکھنے اور غریبوں کی شادی میں تعاون کے لئے اقدام کرتا ہےصندوق الطالب: کالجوں ، یونیورسٹیوں اور بیرونی دینی مدارس کے مستحق طلباء کو تعلیم جاری رکھوانے کے لئے معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس وقت سینکڑوں طلباء اس فنڈ سے استفادو کر رہے  ہیں۔ جامعہ اور برانچ مدارس کا تمام تدریسی و خدماتی عملہ مذکورہ دونوں مصارف کے لئے ماہانہ تعاون کرتا ہے۔

شعبہ کفالت مکتبات: جامعہ دارالعلوم کی مرکزی لائبریری کے علاوہ علاقہ بھر میں درجنوں ذیلی لائبریریاں قائم کی کئی ہیں تاکہ تعلیم یافتہ لوگ اپنے فرصت کے قیمتی لمحات علوم نبوت کی روشنی میں حیات انسانی کا اصل مقصد سمجھنے میں صرف کریں۔ نیز قرآن مجید اور عام فہم دینی لٹریچرز کی تقسیم بھی عمل میں آتی رہتی ہیں۔

محاسبہ کمیٹی: جامعہ کی آمد و خرچ کا حساب رکھنے کے لئے ہمہ وقتی سٹاف مستعد رہتا ہے۔ حسابات کی جانچ پڑتال کے لئے معتمد حساب دانوں کی ٹیم مقرر ہے جو اپنی رپورٹ مجلس شوری کو پیش کرتی ہے۔

تاريخ : پنجشنبه سیزدهم خرداد ۱۳۸۹ | 19:41 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


دوسرے مرحلے کی تجدید:

نصرت الٰہی ہمرکاب رہی ۔ بزرگوں کی مخلصانہ دعائیں رنگ لاتی رہیں اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل علماء کی خدمات حاصل رہیں  اور مخلص اہل احسان کا فیاضانہ تعاون برگبار لاتا رہا۔ مرکزی دارالعلوم بلتستان غواڑی کی عمارت توسیع کے باوجود تنگی داماں کا شکوہ رہیں اور مخلص محسنین کے باہمی تعاون سے 2000ء کو کلیۃ الحدیث کا افتتاح کیا گیا۔ یہاں مرحلہ متوسطہ(مڈل گروپ) سے آخر تک کے طلبہ کو منتقل کیا گیا۔ جبکہ مرحلہ ابتدائیہ (پرائمری گروپ) کو مناسب کمروں کی فراہمی تک حسب سابق وہاں رکھا گیا۔ اب کلیۃ الشریعۃ کی شاندار عمارت مکمل ہو رہی ہے۔

کلیۃ الدراسات الاسلامیہ بنات: دارالعلوم کے سابق عمارت میں قائم معہد خدیجۃ الکبری کے نصاب اور نظام میں بہتر ترمیم کے ساتھ اس سے کلیۃ الدراسات الاسلامیہ للبنات کا نام دیا گیا۔ اب وہاں بھی نئے دور کے تقاضوں کے مطابق عمارت بن رہی ہے۔

جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی کی خدمات:

جامعہ بنیادی طور پر ایک خالص دینی تعلیمی و تبلیغی ادارہ ہے۔ لیکن دعوت و توحید و سنت اور تعلیم کتاب و سنت کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے اس سے بہت سے فلاحی اور رفاہی نوعیت کی خدمات بھی ادا ہو رہی ہے۔ اور تعلیمی، ثقافتی، عدالتی اور فلاحی میدانوں میں کام چلانے کے لئے متعدد ادارے اور کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ ان خدمات کی مختصر سی جھلک پیش خدمت ہے۔

ادارۃ التعلیم: یہ ادارہ جامعہ دارالعلوم غواڑی کے چاروں شعبوں پر ہمہ وقت توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ تعلیمی، امتحانی، اور ادارتی معاملات کے ایک مربوط نظام کے تحت جامعہ کے تمام برانچ مدارس کی باقاعدہ نگرانی کرتا ہے۔

عصری تعلیم: جامعہ کی سر پرستی میں رائج الوقت سرکاری نصاب تعلیم کے فروغ کے لئے کئی پرگرام چل رہے ہیں:

(۱) جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی کے قسم البنین اور قسم البنات دونوں میں زیر درس طلباء و طالبات کو مڈل سے میٹرک کی سطح تک بنیادی مضامیں کی تیاری کا موقع اور علمی معاونت فراہم کیجاتی ہے۔2002 میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کے میٹرک سال اول آرٹس گروپ کے امتحان میں اسی جامعہ کے ہونہار طلباء نے پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں۔ جس پر جامعہ کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

(2)    برنامج المساعدہ التعلیمیہ کے تحت مرکز اسلامی سکردو میں کالج کے ریگولر طلباء کے لئے قیام و طعام، اسلامی عقائد کے دروس اور تعلیمی و تربیتی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔

(3) الاثر پبلک سکول : جامعہ دارالعلوم کے سر پرستی اور کوشش سے الاثر پبلک سکولز کا سلسلہ قائم کیا گیا ۔ غواڑی میں کامیابی کے بعد اب یہ سکول کریس، یوگو ،کھرفق میں بھی قائم ہو چکے ہیں۔ ان سکولوں کے اخراجات طلبہ کے فیس سے پورے کئے جاتے ہیں۔ کمی بیشی کی صورت میں ادارہ کفالت کرتا ہے۔



تاريخ : پنجشنبه سیزدهم خرداد ۱۳۸۹ | 19:38 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی

 (شعبہ تعلقات عامہ جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی کیجانب سے2006 میں نشر کی گئی پمفلٹ سے نقل کیا گیا ہے )

بلتستان: اسلامی جمہوریہ پاکستان کے انتہائی شمال میں کوہ قراقرم اور ہمالیہ کی چند وادیوں پر مشتمل قدیم آبادی ہے۔ یہ انتظامی لحاظ سے دو ضلعوں سکردو اور گنگچھے میں منقسم ہے۔ یہاں تقریبا چار لاکھ افراد بستے ہیں۔ ان میں سے تقریبا پندرہ فیصد اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں، یہ علاقہ سیاچن گلیشئر، کے ٹو اور دیوسائی میدان وغیرہ کے بنا پر دفاعی و سیاحتی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل اور بین الاقوامی مہم جو سیاحوں کی جولا نگاہ ہے۔

دخول اسلام: مقامی روایات کے مطابق یہاں آٹھویں صدی ہجری کے آخری عشروں میں نامور مبلغ دین سید علی ہمدانیؒ کی مساعی جمیلہ سے اسلام پھیلا۔ بعد میں ان کا نام لیتے ہوئے متعدد داعی وارد ہوئے اور عوام الناس رفتہ رفتہ فرقہ بندی کا شکار ہوئے اور اولین مبلغ کا اپنا مذہب (شافعی) ناپید ہو گیا۔

تجدید دعوت و توحید: تیرویں صدی کے اواخر میں بابا محمد حسین پشاوری  کے ہاتھوں توحید و سنت کے تبلیغ و تعلیم  کو فروغ حاصل ہوا۔ اور انہی کے فیض یافتہ عبدالرحیم عبدالعزیز ؒ نے مولانا حافظ عبدالمنان وزیر آبادی  ؒسے سند فراغت حاصل کر لی۔ 1305ھ 1884ء غواڑی میں کتاب و سنت کی ترویج کے لئے جدو جہد شروع کی ۔ لیکن انہیں مختلف ہتھکنڈوں سے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

پھر داعی موصوف کے بھتیجے مولانا محمد موسی بن علی بن عبدالعزیز کو حصول علم نبوی کا شوق دہلی لے گیا۔ آپ محدث العصر سید نذیر حسین دہلوی سے سند فراغت لیکر 1318ھ 1897ء میں وطن واپس آئے اور محلہ گھربی کھور میں مدرسہ دارالحدیث قائم کیا۔ اسی دور میں کریس ، شگر ، بلغار وغیرہ میں ایسے ہی دینی مدارس قائم ہوئے اور ہر جگہ ان مدارس نے داعی اول کے  منہج و عقیدے کی ترویج میں گرانما خدمات سر انجام دیے۔ لیکن بعد میں غواڑی کا مدرسہ مشن میں کامیابی کے لحاظ سے سب پر فوقیت حاصل کر گیا۔ اور ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے نام میں بھی کئی بار تبدیلی آّئی۔

دوسرا مرحلہ: 1395ھ 1974 میں سماحۃ الشیخ ابن باز ؒ  کی خصوصی ہدایت پر الشیخ عبدالرحمان خلیق ؒ اور الشیخ عبدالوہاب حنیف ؒ  یہاں مبعوث ہوئے ۔ ان کے دور میں دارالعلوم بلتستان غواڑی کے مادی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ مدینہ یونیورسٹی میں داخلے کا سلسلہ قائم ہوا،۔ بلتستان میں پہلے سے قائم قابل ذکر مدارس میں سے مدرسہ منبع العلوم شگر کے علاوہ باقی تمام مدارس اس کی برانچیں بن گئیں۔ حسب ضرورت نئے برانچ مدارس قائم کیے گئے۔  1982 میں مرکز اسلامی سکردو قائم ہوا۔



تاريخ : پنجشنبه سیزدهم خرداد ۱۳۸۹ | 19:36 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |