🔰 *ثقافتوں  کے سنگم میں بے لگام این جی اوز* 🔰
*🖋📚تحریر :*
*ارشاد حسین مطہری*
   💠 *اشاریہ*
جو خطہ آج کل بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے  پرانی تاریخ میں پولولو، پلو، بلور، بلتی اور تبت خورد جیسے مختلف ناموں سے موسوم ہوتا رہا ہے شاید یہ مختلف نام بلتستان میں رائج مختلف ادوار میں مختلف مذاہب اور حکمرانوں کی وجہ سے پڑهے ہوں۔ 
💠 *بلتی تهذیب کا نقطہ عروج*
بلتستان قدیم زمانے سے اب تک  مختلف  معاشرتی، تہذیبی اور مذہبی تغیرات  اور تبدیلیوں کا خطہ رہا ہے۔ باہر سے مختلف قوموں،طائفوں اور مہم جووں کی آمد و رفت،  خاص طور سے ایران، کشمیر،ہندوستان،کاشغر اور ختن اقوام کی یہاں مسکن گزینی تاریخ میں ثبت و ضبط ہے۔ بلتستان کی زرخیز ثقافت نے ہر  نووارد مہمان  کومسکن و ماوا عطاکر کے اس کی خوب تواضع کی ۔ کون انکار کرسکتا ہے کہ اشاعت اسلام کے سلسلے میں ایران سے آئے ہوئے مبلغین نے بلتی تهذیب پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ چنانچہ محمد حسن حسرت کا کہنا ہے کہ بلتستان کی ثقافت کئی قدیم تمدنوں کے سنگم سے بنی ہے اور یہی منفرد تهذیب و تمدن اور آداب و شائستگی بلتی معاشرہ کو ممتاز مقام بخشی ہے جہاں ایک طرف 400 قبل از مسیح بلتستان چین کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے نظام چوتوس، اصول تقویم، نظام آبپاشی اور کاشت کاری کے قدیم طریقے بلتی تهذیب کا حصہ بنے اسی طرح بلتستان کے مختلف دروں سے کاشغر،یارقند کے ساتھ تعلقات کی بناء پر ماضی میں یہاں تهذیب و تمدن کے کئی گوشوں میں اضافہ ہوتا رہا 
دوسری طرف بلتستان کے حکمرانوں کا ہندوستان کے مغل درباروں کے ساتھ تعلقات نے یہاں کی تهذیب و ثقافت کو مزید جلا بخش دی۔ فنون لطیفہ، تعمیرات اور صنعت و حرفت کے میدان میں  ترقی ہوئی ۔ جب اس خطے میں اسلام نے اپنے آغوش تمدنی کو فراح دلی کے ساتھ باز کیا تو بلتستان میں تهذیب و تمدن کے نئے دور کا آغاز ہوا،  جس تمدن کی بنیاد فکر و اندیشہ پر استوار ہے اس تمدن کی بنیاد اس لیے پڑی کہ لوگوں کو گمراہی اور خرافات سے نجات دلائے جیسا کہ پروردگار عالم  اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ  ( ص) کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے : 
《وَ يَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَ اْلأَغْلالَ الَّتِي كانَتْ عَلَيْهِمْ》 (اعراف: 157) 
 اور(رسول کا کام یہ ہے  کہ) ان (لوگوں )پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے) طوق اتارتے ہیں، 
"إِصْر" کے معنی حبس اور قید کرنا ہے .اسی طرح وہ وزنی کام جس سے انسان کوئی فعالیت دیکھانے سے روکے«اصر» کہا جاتا ہے.( لغت نامہ دهخدا، ج 7، ص 2750 
پیغبر اکرم نے معاذ ابن جبل کو یمن کی طرف اسلام کا آفاقی پیغام  پہنچانے کے لیے بھیجتے  وقت فرمایا: 《و أَمِتْ أَمْرَ الْجاهِلِيَّةِ إِلّا ما سَنَّهُ الْإِسْلامُ وَ أَظْهِرْ أَمْرَ الْإِسْلامِ كُلَّهُ صَغِيرَهُ وَ كَبِيرَهُ.》( تحف العقول، ص 26)
اے معاذ!جاهليت کے آثار (انحرافی افكار او رعقايد ) کو مٹا دو اور اسلامی چھوٹی بڑی سنتوں ( جو عقل کی طرف دعوت تھی کو ) زنده کرو.
💠 *اسلامی تمدن کے نمونے*
اسلام سے پہلے عرب کے دو قبیلے اوس اور خزرج کے درمیان 120 سال سے آپس میں جنگ تھی ایک دن قبیلہ خزرج  کا سربراہ  اسعد بن زرارہ  قریش مکہ سے مدد لینے کے لیے مکہ آیا۔جب وہ مکے میں   بیت اللہ کی زیارت کے دوران پیغمبر اکرم کو دیکھا جو قبیلہ بنی ہاشم کے کچھہ جوانوں کی جھرمٹ میں حجر اسماعیل کے قریب  بیٹھے لوگوں کو یکتا پرستی کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اسعد پیغمبر  خدا  کے نزدیک گیا اور سلام کرنے کے بعد پیغمبر (ص) اور اس کے نئے دین کے اهداف کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : میرے مبعوث به رسالت ہونے کے  اہداف یہ ہیں: 
1: شرک اور بت پرستی کو مٹانے آیا ہوں ۔  قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا 
2: والدین  کے ساتھ احسان کرنا ہے    وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
3: مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنا جرم ہے۔
4:  علانیہ اور پوشیدہ بے حیائی اور برے کاموں سے  تمیں دور رکھوں۔  وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ
5:  ناحق خون بہانا حرام ہے۔  وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ
6: یتیم کے مال میں خیانت کرنا ممنوع ہے وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ
7: میرے آئین میں ناپ تول  میں انصاف ہونا چاہیے۔ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ
8:  ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتے۔ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
9: جب بات کرو تو عدل کے ساتھ۔ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ
10: اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کرنے کی ہدایت ہے۔  وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا(سورہ انعام 151-152)
پیغمبر اکرم نے اپنے نوپا تمدن کے منشور 10 بند میں پیش کیا تو اسعد نے فورا اسلام قبول کیا اس لیے کہ اس زمانے میں جو ثقافت رائج تھی اس میں انصاف ناپید، خیانت عام، شرک و بت پرستی کا دور دورہ تھا  اور انسانی اقدار کا نام تک بھی نہیں تھا 
💠 *سوچنے کی بات*
میرے بلتستان کے  جوان اور نو جوانوں سے سوال ہے کہ  پیغمبر (ص)  نے جن گمراہیوں ، انحرافات اور کجرویوں کی اصلاح کے لیے  جو فلاح و بہبود پر مبنی منشور عرب  کے تمدن اور تهذیب سے خالی معاشرہ میں  پیش فرمایا کیا ہمارے ترقی یافتہ معاشرہ میں یہ سب انحرافات اور کجرویاں موجود نہیں؟!
عرب جاہلی معاشرے میں لڑکیوں کو ایک بار زندہ درگور کرتے تھے  مگر یہی سلسلہ آج بھی جاری نہیں؟!  اپنی ماوں بہنوں کو سر عام بے حجاب نامحرموں کے  درمیان نچانے اور رقص سرود کی محفلوں کی زینت و زین بنانا کیا ان کی انسانیت کو زندہ درگور کرنا نہیں؟!
کیا ہمارے خرید فروش میں ناپ تول میں انصاف کیا جاتا ہے؟ کیا ہماری عدالتوں اور انصاف کے کٹہروں میں انصاف کی رعایت ہوتی ہے ؟ !
کیا محکموں میں انصاف فراہم ہوتا ہے؟!
کیا یتیموں اور بے نوا لوگوں کے ساتھ ہمدری ہوتی ہے؟! 
کیا بے حیائی، برے اور فحاشی جدید طرز پر عام نہیں؟! 
کیا اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوتا ہے اور بےگناہ انسانوں کا  خون نہیں بہایا جاتا؟!
کیا ہمارے معاشرے میں کئے ہوئے وعدوں کو  پورے کیا جاتا ہے ؟!
ہم نے چند بے حیائی  پر مبنی  کاموں کو ثقافت کا نام دے رکھا ہے اور  سب اس پر خوش ہیں۔  ستم بالائے ستم یہ ہے  کہ آج بلتستان بھر میں بلتی ثقافت کے نام سے جتنے فیسٹولز منعقد ہوتے ہیں ان کا  اہتمام کرنے والے غیر مقامی افراد یا تنظمیں ہیں جن کو ناچ گانے کے سوا کچھ علم ہی نہیں۔  اور افسوس  کا مقام یہ ہے مقامی افراد بے حیائی سے مملو  ان فیسٹولز اور نمائشگاہوں سے خوب محظوظ  ہوتے ہیں اس غیر اخلاقی اور ثقافتی حرکت پر بجائے روکنے کے ان کے ساتھ دیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ 
بلتستان میں این جی اوز
 بلتستان میں دیندار طبقہ  اور علماء کرام این جی اوز کے بارے میں مثبت سوچ نہیں رکھتے  ہیں اور ان کو ہمیشہ سے اسلام مخالف ایک نیٹ ورک سمجھتے  آئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ این جی اوز کا   کام معاشرے کے نوجوان نسل خصوصا مستورات کو خراب کرنا ہے حتی بلتستان کے بعض علاقوں میں ان کے خلاف باقاعدہ فتوی جاری ہوتا ہے اور علما نے ان کے ساتھ  سخت مزاحمت  کی  ہے۔ بلتستان میں این جی اوز خاص طور سے AKRSP کے خلاف پہلی بار 90 کے عشرہ میں مولانا جان علی شاہ کاظمی نے اسکردو میں ان کے خلاف ایک  زبردست تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں بهت ساروں نے این جی اوز کی نوکریاں  چھوڑدیں اور مولانا نے نوکری چھوڑنے والوں کو یہ نوید سنائی کہ ان افراد کے لیے  متبادلہ طریقہ کار کا  انتظام کیا جائے گا جس کے تحت  انہوں نے  گنگوپی نہر کے برابر فوقانی منزل پر پاک فاونڈیشن کے نام سے ایک سماجی تنظم کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا اور مولانا بلتستان سے جانے کے بعد پھر وہاں کا رخ نہیں کیا۔ لہذا این جی اوز کی کچھ  کارکردگیوں کو دیکھتے  ہوئے مجموعی طور  پر اسے منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے بارے میں ماہر امور ایں جی اوز  اور صدر انجمن " اتم" پاکستان  غلام محمد شاکری نے کہتے ہیں  کہ : 《  ایں جی اوز کی بطور مجموع نفی یا اس کا دفاع کرنا درست نہیں اس لیے کہ  بلتستان میں ہونے والی سماجی، تعلیمی اور حتی زرعی ترقی میں این جی اوز کا بڑا رول رہا ہے  》لہذ ان تنظیموں کے بارے میں یہ جانا ضروری ہے کہ کون کون سے این جی اوز خدمت خلق انجام دیتے ہیں اور کون کونسے این جی اوز پس  پردہ اپنے  مذموم اہداف رکھتے ہیں؟ جب تک ان میں تفریق نہیں کی جائے گی ان کے خلاف مزاحمت کرنا ممکن ہے ہمارے لیے نقصان دہ ہو۔ 
💠 *این جی اوز کی خدمات*
 بلتستان، علمی، فلاحی، زرعی،  صحت اور سیاحت کے لحاظ سے  آج جس مقام پر کھڑا ہے اس میں این جی اوز کا مرکزی کردار رہا ہے۔ این جی اوز کا وجود نہ ہوتا  تو یقینا اتنی ترقی ممکن نہ تھی۔ کیونکہ بهت سارے ترقیاتی کام این جی اوز کی مدد سے سرانجام پائے ہیں۔ جن میں چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 
💠 *1: فلاحی*
 🔵 *الف : آبادکاری*
 بلتستان میں اکثر بنجر زمین کو دور دراز جگہوں سے نہریں یا پائپ لائن کے ذریعہ آباد کرنے میں این جی اوز خاص کر  AKRSP کی نمایان خدمات ہیں۔ اسی طرح تعلیمی میدان  میں بھی بهت سارے این جی اوز نے خدمات انجام دی ہیں اور اب تک جاری ہے۔  خصوصا سائٹ ایریازمیں تعلیم عام کرنے اور لوگوں کو تعلیم کی طرف متوجہ کرنے میں این جی اوز کا  بنیادی کردار رہا ہے۔
🔵 *ب :سیلاب کی روک تھام*
بلتستان میں مختلف مقامات ہمیشیہ سیلاب کے زد میں رہتے ہیں۔ بڑے پیمانے کے سیلاب سے بہت زیادہ  نقصانات ہوتے ہیں۔ این جی اوز نے بلتستان میں قدم رکھنے کے بعد نالوں کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو روکنے کے لیے مختلف جگہوں پر خطیر رقم کی لاگت سے بند تعمیر کرائے گئے گرچہ اس وقت لوگ اپنی مددآپ کے تحت یہ کام انجام دیتے ہیں لیکن ابتدا میں سیلاب سے مقابلہ کرنے کے لیے تاروں جال بناکر بند بنانے کا طریقہ AKRSP اور دیگر این جی اوز نے  پیش پیش کیا ہے۔ 
🔵 *ج: شجر کاری*
بلتستان میں شجری کاری کا مہم کوئی نئی بات نہیں لوگ قدیمی اور سنتی طریقہ سے شجری کیا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں کچھ سوکھ جاتے تھے  اورکچھ کامیاب ہوتے تھے۔ لیکن این جی اورز کی مدد سے جدید طرزسے جب سے یہ کام شروع کیا ہے نہ صرف  درختوں کے بیچ خراب ہوتے ہیں بلکہ درخت کامیابی سے پھلتا پھولتا اور جلدی ثمر آور ہوجاتے ہیں۔
💠 *2 : تعلیمی*
بلتستان میں این جی اوز کی سرگرمیاں نوے کے عشرے میں زیادہ نظر آتی ہیں۔ این جی اوز  کی  بلتستان میں تعلیمی کارکردگی کے بارے میں بلتستان کے مشہور تاریخ دان اور تاریخ نویس   محمد یوسف حسین آبادی کا کہنا ہے کہ " 1992 کے بعد بلتستان میں پبلک اسکولوں کے قیام کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا " این جی اوز کی تعلیمی کارکردگی اس کے بعد سے روز بہ روز بڑھتی  گئی جوآج تک جاری ہے۔
💠 *بلتستان میں این جی اوز کا منفی رول*
گرچہ بعض این جی اوز کی قابل تحسیں خدمات ہیں اور خدمت کے سوا ان کا کوئی اور ہدف نہیں ہے لیکن بعض دیگر این جی اوز  کی  کارکردگی مشکوک ہے۔اپ سوال یہ ہے ہم کس طرح پہچانے شفاف خدمت کرنے والے ادارہ کونسا ہے اور  مذموم اغراض  کی بنا پر  کام کرنے والے ادارے کونسے ہیں؟  ان کی پہچان کے لیے ایں جی اوز کے امور کے ماہریں کا کہنا ہے کہ بطور کلی ہم ان کی کارکردگی سے اچھے اور برے کی پہچان کر سکتے ہیں۔ لیکن عموما مقامی اور ہمارے خطہ  ایشیاء کی  سطح کی اکثر میں تنظمیں بے غرض ہیں۔ لیکن یورپی ممالک اور ان کے تعاون سے چلنے والے اداروں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ 
📚 *کچھ تجاویز:*
این جی اوز  کی منفی اور اسلامی ثقافت سے متصادم کارکردگیوں کو روکنے  کے لیے  درجہ ذیل تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔  
1: آپ  بہترین پالیسی اور پروگرام ان کے مقابلہ میں پیش کرکے ان کے دائر کار کو کم  سے کم کرسکتے ہیں۔ 
2 : آپ مقامی این جی اوز بنائیں جو ان غیر مقامی این جی اوز کے ساتھ تمام ترقیاتی کاموں میں معاہدہ کریں اور خدمت اور پروگرام آپ کی کی طرف سے  ہو  اور ان کے کاموں نگرانی کرتے رہیں۔
اللہ ہم سب کو دشمنوں کی سازش سمجھنے کی توفیق دے (آمین)



تاريخ : شنبه چهارم دی ۱۴۰۰ | 14:23 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |