حدیث ثقلین  کی تحقیق یقینا حدیث ثقلین (جو کہ فریقین کے درمیان مورد ارفاق ھے) نے واضح بیان کے ساتھ یہ بات روشن کردیا ھے کہ نبی گرامی نے اپنی رحلت کے بعد امت اسلامی کو بے سر پرست نھیں چھوڑا اور اسلام و مسلمین کو اپنے حال پر نھیں چھوڑا ھے بلکہ قرآن وعترت کے مقام ومنزلت کو بیان کرتے ہوئے امت مسلمہ پر ان دونوں سے تمسک کو واجب قرار دیا ھے۔ اور قرآن و عترت سے تمسک رکھنے والوں کو انحراف و گمراھی سے محفوظ رھنے کی ضمانت بھی لی ھے۔ ([1])اور اس بات پر تاکید فرمائی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کو ثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان کے ذریعے قرآن کی عترت کے ساتھ اور عترت کی قرآن کے ساتھ ھمراھی کو واضح اور روشن کردیا ھے۔ ([2]) دوسری بات یہ کہ (صراحت کے ساتھ اپنے بعد) امت کی سیاسی اور علمی مر جعیت کو معین فرما دیا ھے۔ اب تک جو کچھ بیان کیا جا چکا ھے اس سے ہٹ کر ھم کو اس بات کی طرح توجہ رھے کہ حدیث ثقلین کی افادیت کسی زمانے سے مخصوص نھیں ھے۔ بلکہ ان دونوں (قرآن و عترت) سے تمسک تمام افراد پر ھر وقت ھر مقام پر ھمیشہھمیشہ واجب ھے۔ ھماری اب تک کی گفتگو اور آئیدہ بحث سے جو غقریب آپ ملا حظہ فرمائیں گے یہ بات روشن ہوجائے گی کہ اس حدیث (ثقلین ) میں غور و فکر اور بحث ان اھم مسائل میں سے ھے جو ھماری اور دوسرے برادران اسلامی کے لئے فائدہ مند ھیں اور اس سے بھت سارے باطل نظریات اور خیالی باتیں (جوکہ اخلاف وتقرقہ کا باعث ہوتی ھیں ) ختم ہو جائے گی۔ حدیث ثقلین کے ذیل میں جن موضوعات پر تحقیق کی گئی ھے وہ حسب ذیل ھیں۔ ۱۔ سند حدیث ۲۔ عام ابلاغ کہ جس پر تاکید ہوئی ھے ۳۔ نصوص حدیث ۴۔ مفہوم حدیث پھلی فصل سند حدیث ثقلین حقیقت امریہ ھے کہ حدیث ثقلین تمام مسلمانوں کے نزدیک مورد اتفاق ھے۔ علماء اسلام اور مفکرین نے جومع، سنن، تفاسیر اور تاریخی کتابوں میں اس کو بھت سے طریقوں، معتبراور صحیح سندوں کے ساتھ ذکر کیا ھے۔ کتاب غاتیہ المرام میں انتالس اھل سنت سے اور بیاسی حدیث علماء شیعہ کے حوالے سے درج ھیں۔ ([3]) علامہ سید حامد حسین ھندی (صاحب عبقات ) نے مذھب اربعہ کے علماء میں سے ایک سو نوں ایسے افراد کا تزکرہ کیا ھے جو دوسری صدی ھجری سے لیکر تیرہویں صدی ھجری کے آخر تک کے علماء ھیں۔ ([4]) سید محقق عبدالعزیز طبا طبائی نے دوسری صدی ھجری سے لیکر چودھویں صدی ھجری تک کے مزید ایک سو اکیس علماء کا ذکر کیا ھے۔ ([5])اس طرح علماء اھل سنت کی تعداد جنھوں نے حدیث ثقلین کو نقل کیا ھے تین سو گیارہ (۳۱۱) ہو جاتی ھے۔ ([6]) بھر کیف موردا عتماد اور مشہور و معروف کتابوں نے اس حدیث کو نقل کیا ھے ان اھم کتابوں میں سے بطور نمونہ ان کتابوں کو پیش کیا جاسکتا ھے صحیح مسلم۔ سنن ترمذی۔ سنن الدارمی۔ مسند احمد بن حنبل۔ خصائص نسائی۔ مستدرک الحاکم۔ اسد الغابہ۔ العقد الفرید۔ تذکرة الخواص۔ ذخائر العقبیٰ۔ تفسیر ثعبلی وغیرہ۔۔۔ ([7]) یہ وہ سنی کتب ھیں کہ جن کو حدیث ثقلین کی سند کے حوالہ سے ذکر کیا گیا ھے جبکہ شیعہ کتب اس کے علاوہ ھیں۔ ([8])مرد و عورت اصحاب رسول کی ایک کثیر تعداد نے حدیث ثقلین کی روایت کی ھے۔ ابن حجر نے صواعق محرقہ میں کھا ھے کہ حدیث تمسک (بہ قرآن و عترت ) کی سند کے بھت سارے طریقے ھیں۔ بیس (۲۰)سے زائد اصحاب نے اس کی روایت کی ھے۔ ([9]) عبقات الانوار میں مرد و عورت مل کر چوتیس (۳۴) اصحاب نے اس کو نقل کیا ھے۔ اور ان سب کے اسماء اھل سنت کی کتابوں سے لے گئے ھیں۔ ([10]) چنانچہ (احقاق الحق و غاتیہ المرام ) وغیرہ میں مذکورہ روایتوں اور سندوں کو اس میں بڑھا دیا جائے تومردو زن راوی اصحاب کی تعداد پچاس (۵۰)سے اوپر ہو جاتی ھے۔ ان کے اسماء حسب ذیل ھیں۔ (۱) امیر المومنین(ع) علیه السلام (۲) امام حسن علیه السلام (۳) سلمان فارسی (۴) ابوذر غفاری (۵) ابن عباس (۶) ابو سعد خدری (۷) عبد اللہ ابن حنطب (۸) جیربن مطعم (۹) براء بن عاذب (۱۰) انس بن مالک (۱۱) طلحہ بن عبد اللہ تمیمی (۱۲) عبد الرحٰمن بن عوف (۱۳) جابربن عبد اللہ انصاری (۱۴) ابوھشیم فرزند تیھان (۱۵) ابورافع صحابی رسول اکرم (ص) (۱۶) حذیفہ ابن یمانی (۱۷) حذیفہ ابن اسید غفاری (۱۸) حذیفہ ابن ثابت ذوالشھاد تین (۱۹) ذید بن ثابت (۲۰) ابوھر یرہ (۲۱) ابولیلیٰ انصاری (۲۲) ضمیرہ اسلمی (۲۳) عامر بن لیلیٰ (۲۴) حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ رعلیھا (۲۵) ام سلمہ (۲۶) ام ھانی (۲۷) زید بن ارقم (۲۸) ابن ابی دنیا (۲۹)حمزہ سلمی (۳۰) سعد ابن ابی وقاص (۳۱) عمرو بن عاص )۳۲(سھل بن سعد انصاری (۳۳) عدی بن حاتم (۳۴) عبقہ بن عامر (۳۵) ابو ایوب انصاری (۳۶) ابو شریخ خزاعی (۳۷) ابو قدامہ انصاری (۳۸) بریرہ (۳۹) جشی بن جنادہ (۴۰) عمر بن خطاب (۴۱) مالک بن حویرث (۴۲) جیب بن بدیل (۴۳) قیس بن ثابت (۴۴) زید شراحیل (۴۵) عائشہ بنت سعد (۴۶) عفیف بن عامر (۴۷) عبد بن حمید (۴۸) محمد بن عبد الرحمٰن بن فلاد (۴۹)ابو طفیل عامر بن واثلہ (۵۰) عمرو بن مرّہ (۵۱) عبد اللہ بن عمر (۵۲) اُبی بن کعب (۵۳)عمّار جو کچھ اب تک بیان کیا جا چکا ھے اس پر غور فرمائیں مذکورہ رادیوں کے مستقلاً روایت کرنے کے ساتھ ساتھ جس کا سنی و شیعہ کتب میں تذکرہ موجود ھے۔ یہ حدیث غدیر خم رسول اللہ کے خطبے میں بیان کی گئی ھے۔ اسی بناپر غدیر کی سند حدیث ثقلین کی بھی سند شمار ہوتی ھے۔ اور حدیث غدیر کو سو (۱۰۰) سے زائد اصحاب نے نقل کیا ھے انھیں اسناد پر حضرت امیر المومنین(ع) علیہ اسلام کے اس استدلال کا اضافہ کرتے ھیں۔ جو آپ نے حدیث ثقلین کے بارے میںایسے مجمع کے سامنے بیان فرمایا تھا جس میں اصحاب رسول بھی تھے اور اکثر صحابہ نے اس حدیث کے (رسول خدا) سے صادر ہونے کا اعتراف بھی کیا ھے۔ ([11]) اس کے علاوہ حدیث ثقلین کو ان افراد نے نقل کیا ھے کہ جھنوں نے اپنی کتاب کے مقدمے میں یہ بات لکھی ھے کہ ھم نے اپنی کتاب میں معتبر کتابوں سے صرف صحیح احادیث کو جمع کیا ھے۔ جیسے ([12]) ملا محمد مبین (فرھنگی محلی) لکھنوی ([13]) ولی اللہ لکھنوی۔ ھیشمی نے بھی اس بات کی صراحت کی ھے کہ جن افراد نے اس حدیث کو نقل کیا ھے وہ ثقہ اور مورد اطمنان افراد ھیں۔ ([14])  مذکورہ مقامات کے علاوہ دوسرے بھت سارے ایسے شواھد ھیں جو اس حدیث کی صحت اور تواتر دلالت کرتے ھیں۔ چنانچہ ایک گروہ نے اس کے تواتر کا ذکر کیا ھے ان میں سے ایک صفانی ھیں جوابحاث المسدّدہ کے ملحقات میں یور قمطراز ھیں۔ اس حدیث کے لئے روایات تواتر معنوی پر مشتمل ھیں۔ ([15]) بھر کیف حدیث ثقلین علماء اھل سنت و شیعہ کے نزدیک متفق علیہ حدیث ھے اور اس کا پیغمبر اسلام سے صادر ہوناقطعی ھے۔  دوسری فصل ابلاغ عام کہ جس پر تاکید ھوئی ھے۔ حدیث ثقلین کو قطعی اور یقینی طور پر رسول اکرم (ص) نے متعدد مقامات پر مختلف اوقات میں ارشاد فرمایا ھے کہ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ھے کہ اس کا مقصد عام لوگوں تک اس کو پنچانا اور امت مسلہ پرا تمام حجت کرنا ھے جن مواقع پر آنحضرت نے یہ حدیث بیان فرمائی ھے ان میں سے ایک مقام عرفہ ھے۔ صاحب سنن ترمزی نے اس حدیث کو اسی تمام سندوں کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ھے وہ کھتے ھیں۔ میں نے رسول اکرم (ص) کو ایام حج میں میدان عرفہ میں دیکھا کہ آپ ایک قصویٰ نامی اونٹنی پر سوار تھے۔ ([16])اور خطبہ ارشاد فرمایا رھے تھے میں آپ کو ارشاد فرماتے سنا: ایھاالناس میں تمھارے درمیان ایک امانت چھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگر اس کو محفوظ رکھا تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا (قرآن ) اور میری عترت کہ اھل عقل و فکر ھیں۔ ([17]) اور منیٰ میں بھی حضرت نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔ اس کو صاحب غیبتہ النمعانی نے اپنی کتاب میں اسناد کے ساتھ حریز بن عبداللہ عن ابی عبداللہ جعفر بن محمد عن آیاہٴ عن علی علیہ اسلام سے نقل کیا ھے۔ آپ نے فرمایا کہ مسجد حنیف میں رسول خدا(ص) نے خطبہ دیا۔ جس کے ضمن میں اس حدیث کو بیان کیا([18])اور فرمایا: یقینا میں (آخرت کی جانب ) تم سے پھلے جارھاھوں اور تم حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو گے وہ ایک ایسا حوض ھے جس کا عرض بصریٰ سے صنعا تک ھے اور اس پر رکھے ہوئے جام آسمانی ستاروں کے برابر ھیں آگاہ ہوجاوٴ کہ تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ ۱۔ ثقل اکبر جو کہ قرآن ھے ۲۔ثقل اصغر جو کہ میری عترت (طاھرہ)ھے یہ دونوں تمھارے اور خدا کے درمیان کھنچی ہوئی رسی کے مانند ھیں۔ لھٰذا ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمرہ نہ ہوگے اس کا ایک سرا خدا کے ھاتھ میں ھے اور دوسرا سرا تمھارے ھاتھوں میں ھے۔ ([19]) دوسری وہ جگہ جھاں پر رسول اکرم (ص) نے حدیث ثقلین ارشاد فرمائی غدیر خم ھے۔ چنانچہ مستدرک حاکم وغیرا میں زید بن ارقم سے روایت ھے کہ جب رسول اکرم (ص) حجتہ الوداع سے واپس ہورھے تھے تو غدیر خم میں منزل کی (اور لوگوں کو سائے میں جانے) کا حکم دیا: اور سائبانوں کے لئے خس وخاشاک اکھٹاکئے گئے (اور لوگ سائبانوں تلے جمع ہوئے)۔ اس وقت آپ نے فرمایا: گویا مجھے اس دنیا سے کوچ کا حکم مل چکا ھے اور میں نے اس پر لبیک کہہ دیا ھے (لھٰذا میری وصیت کو غور سے سنو) بیشک میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں جن میں سے ایک دوسرے سے بزرگ ھے کتاب خدا (قرآن) اور میری عترت لھٰذا دھیا ن رکھو کہ کس طرح تم ان دونوں کے سلسلے میں میری مدد کرتے ہو۔ اور یہ دونوں ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ (روز قیامت) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے اس کے بعد فرمایا: یقینا خدا میرا مولیٰ ھے اور میں ھر مومن کا مولیٰ ھوں اس کے بعد حضرت علی علیه السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا: جس کا میں مولیٰ ھوں اس کے علی مولیٰ ھیں ([20]) مسلم نے صحیح ([21])میں اور طبرنی نے معجم الکبیر ([22])میں اور ان کے علاوہ دوسرے افراد نے اس حدیث کی روایت کی ھے۔ نبی اکرم نے جن مواقع پر حدیث ثقلین بیان فرمائی ھے ان میں سے ایک مدینہ منورہ ھے جب آپ سفر سے واپس آئے تھے۔ چنانچہ ابن مغازلی شافعی نیاپنی مناقب میں حاکم سے اور انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ھے کہ رسول خدا(ص) سفر سے واپس آئے تو (آپ کے چھرے کا رنگ متغیر تھا اور آپ کریہ فرما رھے تھے اور اسی حالت میں آپ نے ایک بلیغ خطبہ دیا۔ اور فرمایا: اے لوگو! دو بھت قیمتی چیزیں تمھارے درمیان بطور جانشین چھوڑ کر جا رھا ھوں کتاب خدا (قرآن) اور میری عترت ([23])یہ حدیث پیغمبر اسلام آخری خطبے میں بھی ذکر کی گئی ھے۔ ینابیع المودة میں جموینی نے امام علی علیه السلام سے روایت کی ھے آپ نے فرمایا: نبی اکرم نے اپنے آخری خطبے میں (جس روز خدا تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی) فرمایا: دو چیزوں کو تمھارے سپرد کرکے جا رھا ھوں اگر ان سے متسک رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے کتاب خدا اور میری عترت۔ خدا وند مھربان وآگاہ نے مجھ سے وہ عدہ کیا ھے کہ یہ دونوں ھر گز جدا نہںھوں گے یھاں تک کہ قیامت کہ دن حوض کوثر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس طرح سے پھر دونوں ھاتھوں کی انگشت شھادت کو ملا کرفرمایا ایسے ([24])اس کے بعد انگشت شھادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرمایا ایسے نھیں۔ لھٰذا ان دونوں سے متمسک رہو ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو (ورنہ) یقینی طور پر گمراہ ہو جاوٴ گے۔۔۔ ([25]) غیتہ النمانی([26])اور ارجح المطالب ([27])میں اس حدیث کے مثل روایت کی گئی ھے۔ ان مواقع میں جھاں آپ نے حدیث ثقلین ارشاد فرمائی حالت بیماری بھی ھے جس میں آپ کی وفات ہوئی۔ چنانچہ ینابیع المودة میں (علّامہ قندوزی) نے لکھا ھے کہ: ابن عقدہ نے عروة بن خارجہ کے طریقے سے جناب زھرا سلام اللہ علیھا سے روایت کی ھے آپ نے فرمایا: کہ میں نے اپنے والد بزرگوار سے (اس بیماری کی حالت میں جو وفات کا باعث بنی) سنا آپ نے فرمایا: (جبکہ آپ کا حجرہٴ مبارک اصحاب سے بھرا ہوا تھا) اے لوگو! عنقریب قبض روح کے بعد تمھارے درمیان سے چلا جاوٴں گا ایک خاص بات کھنا چاھتا ھوں تاکہ تمھارے لئے حجت رھے۔ جان لو کہ۔ در حقیقت تمھارے درمیان اپنے خدا کی کتاب اور اپنی عترت کو بطور جانشین چھوڑ کر جارھا ھوں اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ علی علیه السلام قرآن کے ساتھ ھیں اور قرآن علی علیه السلام کے ساتھ ھے۔ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے اور ان میں فاصلہ نھیں ہوگا یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس وقت میں تم لوگوں سے سوال کروں گا کہ تم لوگوں نے ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کیا برتاوٴکیا([28]) ابن حجر کا کھنا ھے کہ۔ ([29])بعض سندوں میں ذکر کیا گیا ھے کہ رسول اکرم (ص) نے حدیث ثقلین کو عرقہ میں بیان فرمایا ھے۔ دوسرے طریقے سے روایت کی گئی ھے کہ رسول اکرم (ص) نے اس کو غدیر خم میں بھی بیان فرمایا ھے۔ اسی طرح اور ایک طریقہ سے روایت ھے کہ رسول اکرم (ص) نے اس کو مدینے میں ذکر فرمایاھے جبکہ آپ بستر بیماری پر تھے اور اصحاب سے آپ کا حجرہٴ مبارک بھرا ہوا تھا۔ دوسری جگہ کھا گیا ھے کہ طالٴف سے واپسی پر آپ نے حدیث ثقلین کو بیان کیا ھے جبکہ آپ کھڑے ہوئے خطبہ ارشاس فرما رھے تھے۔ پیغمبر اسلام کا مختلف طریقوں سے حدیث ثقلین کا فرمانا کسی قسم کے منافات کا سبب نھیں ھے۔ اس لئے کہ رحلت پیغمبر کے بعد لوگوں کی ھدایت و رھبری کے لئے قرآن و عترت کی اھمیت کے پیش نظر آپ نے اس حدیث کو مختلف مواقع پر متعدد بار فرمایا ھے۔ ([30]) اور اسی طرح سے اس کو بار بار ھرانا نھایت ھی سود مند تھا کیونکہ یہ کام: اولاً: قرآن و عترت کی اھمیت کی خاطر تھا۔ و ثانیاً: کسی کے لئے کوئی عذر کا موقع نہ چھوڑنے کی خاطر تھا۔ جیسا کہ خود پیغمبر نے اس طرف اشارہ فرمایا ھے (ایسا امر تمھارے لئے بیان کرنا چاھتا ھوں کہ تمھارے لئے حجت رھے)۔ حدیث ثقلین(مختلف زمان و مکان میں مثلاً عرفہ، منیٰ، غدیر خم، اور آخری خطبہ جو کہ رسول اکرم (ص) نے وفات سے پھلے ارشاد فرمایا تھا) لوگوں کے عظیم الشان رھبر کی جانب سے اس لئے بیان ہوئی کہ آپ کو اسلام و مسلمین کی حیات پر اختیار تام حاصل تھا۔ لھٰذا ( رسول خدا(ص) کی جانب سے) اس حدیث کا بار بار دھرانا جیسا کہ ذکر ہو چکا ھے خاص طور سے ایام ومقامات پر جبکہ شدت تمازت آفتاب زوروں پر تھی اور لوگوں کا اژدھام تھا (یعنی میدان غدیر خم میں) خصوصاً آپ کی حیات طیبہ کے آخری ایام میں اور آپ کا اپنی وفات کے بارے میں مطلع کرنا تاکہ مسلمان اس کی اھمیت کو محسوس کریں۔ اور برادرن اسلامی (خدا ان کے عزت وشرف میں اضافہ کرے) پر واجب ھے کہ زیادہ سے زیادہ اس حدیث کے مطالب توجہ فرمائیں اور اس پر عمل پیرا ھوں ۔ ھمارا فریضہ ھے کہ ھم اپنے آپ کو دیکھیں کہ آیا ھم قرآن و عترت رسول سے متمسک ھیں یا نھیں؟ خدا گواہ ھے کہ حدیث شریف (کہ جس پر مسلمان کا اجماع ھے) مسلمان کی رھبری کی وضاحت اور اتحاد واتفاق کے مسئلہ کو آسان بنانے کے لئے کافی ھے۔ اے برادران اسلامی فکر کریں غوور خوض کریں اور اپنے اصلاح نفس کے لئے کوشال رھیں اور حق حقیقت کا اعتراف کریں اس لئے کہ یہ راہ حق ھے اور پیغمبر اسلام(ص)  نے (متعدد مقامات اور بڑے ھی سخت مواقع پر) اس کی وصیت و سفارش کی ھے لھٰذا اس کی مخالف نہ کریں۔ مختلف زمان و مکان میں حدیث ثقلین کی نشر واشاعت اور اس میں وقت اور تفکر ھم پر واجب ھے اور ھماری یہ عمل درحقیقت رسول اکرم (ص) کی پیروی ھے جیسا کہ جناب ابوذر نے در کعبہ کی زنجیر کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ میں نے رسول اکرم (ص) کو فرماتے سنا ھے کہ آپ نے فرمایا: تمھارے درمیان دو گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ایک کتاب اور دوسرے میری عترت یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاوات کریں گے۔ پس دھان رکھنا تم لوگ دو چیزوں میں میری کس حد تک مدد کرتے ہو۔ ([31]) حدیث ثقلین سے استدلال تعیین خلیفہ کے لئے تشکیل دی گئی شوایٰ میں مولائے متقیان نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے دوسروں سے زیادہ حقد ارثابت کرنے کے لئے حدیث ثقلین سے استدلال فرمایا تھا۔ ابن مغازلی نے اپنی تمام اسناد کے ساتھ عامر بن واثلہ سے روایت کی ھے وہ کھتا ھے: شوریٰ کے دن علی علیه السلام کے ساتھ حجرہ میں تھا میں نے خود علی(ع)کو یہ کھتے سنا ھے انھوں نے اھل شوریٰ سے مخاطب ہو کر کھا: میں تمھارے درمیان ایک ایسی چیز سے استدلال کروں گا کہ عرب و عجم میں سے کوئی بھی اس کو بدلنے کی طاقت نھیں رکھتا۔ اس کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں تم کو خدا کی قسم دیتا ھوں کیا تم لوگوں میں سے کوئی ھے جو مجھ سے پھلے وحدانیت خدا پر ایمان لایا ہو۔؟ لوگوں نے یک زبان ہو کر کھا: نھیں۔ ( ھم آپ پر سبقت نھیں رکھتے) یھاں تک کہ آپ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتا ھوں کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اسلام نے فرمایا: تمھارے درمیان دو گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ایک قرآن دوسرے میری عترت جب تک اس سے متمسک رہو گے ھر گز گمراہ نھیں ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تککہ کوثر پر ھم سے ملاقات کریں گے۔ لوگوں نے کھا: ھاں۔ ایساھی ھے۔ ([32]) اسی طرح سے حضرت عثمان کے دور خلافت میں مسجد نبوی میں اصحاب کے درمیان آپ نے اس حدیث سے استدلال فرمایا: لوگوں نے یک زبان ہوکر کھا کہ ھم اس بات کی گواھی دیتے ھیں کہ رسول اسلام نے وھی کچھ فرمایا ھے جو کہ آپ نے کھا ھے۔([33]) امام حسن بن علی علیھما السلام نے بھی اپنے آپ کو امامت کا حقدار ثابت کرتے ہوئے اس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ھے۔ شیخ سلیمان قندوزی نے ینابیع المودةمیں مناقب ھشام بن حسان سے روایت کی ھے۔ جب لوگوں نے امام حسن علیه السلام کی بیعت کرلی توآپ نے فرمایا: ھم خدا کی فوج ھیں جو کہ غالب و فاتح ھیں۔ ھم عترت رسول ھیں جو کہ ان کے نزدیک ترین افراد ھیں ھم ھی رسول کے طیب و طاھر اھل بیت ھیں ھم دو گرانقدر چیزوں میں ایک ھیں جس کے بارے میں ھمارے جد محترم نے امت کے درمیان جانشینی کا اعلان کیا تھا ھم خدا کی کتاب ثانی ھیں جس میں تمام چیزیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ھیں باطل کسی بھی راستے سے ان میں نفوذ نھیں کر سکتا۔ ([34])  تیسری فصل سلسلہٴ سند حدیث ثقلین ۱۔ عنقریب (موت کے لئے) بلایا گیا ھوں میں نے اس پر لبیک کھی ھے اور تمھارے درمیان دو گر نقدر چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کتاب خدا جو آسمان سے لیکر زمین تک ایک آو یز ان ریسمان ھے اور میری عترت۔ خدا وندے علیم و خبیر نے مجھ کو اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ پس دھیان رکھو کہ تم لوگ اس دوامر میں میری کس طرح سے جماعت کرتے ہو۔ ([35])  ۲۔در حقیقت تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگر اس سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ دو چیزیں قیمتی ھیں کہ جس میں سے ایک کا رتبہ دوسرے سے بلند ھے۔ اور غدیر خم کے موقع پر رسول خدا(ص) نے اس فقرے کا اضافہ کیا ھے۔ (پسدھیان رکھو کہ ان دو چیزوں میں تم لوگ کس طرح سے میری مدد کرتے ہو یقینا یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے) اس کے بعد فرمایا (خدا میرا مولا ھے میں ھر مومن کا مولیٰ ھوں ) اس بعد حضرت علی علیه السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا جس کا میں مولا ھوں علی اس کے مولا ھیں۔ ([36]) ۳۔ غدیر خم میں بھی رسول نے فرمایا: اپنے اھلبیت کے بارے میں تمھیں یاد دھانی کراتا ھوں (کہ ان کے حق کا لحاظ کرنا اور ان کی پیروی کرنا) اور تین دفعہ اس جملہ کو دھرایا۔ ([37]) ۴۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے (جس دن آپ کی وفات ہوئی اسی دن آخری خطبہ میں) فرمایا: یقینا تمھارے درمیان دو چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے مستمک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ۱۔ کتاب خدا۔۲۔ میری عترت۔ خدائے رحیم وعلیم نے مجھ سے وعدہ کیا ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے ان دونوں کی طرح اس کے بعد دونوں ھاتھ کی انگشت شھادت کو اکھٹا کرکے فرمایا: یوں (اور انگشت شھادت اور انگشت وسطیٰ کو ملا کر فرمایا:) ان دونوں سے اپنا واسطہ جوڑ لو اور ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ور نہ گمراہ ہوجاوٴ گے۔ ([38]) ۵۔ حتمی طور پر اپنے بعد تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگران سے مستمک رہو گے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے کتاب خدا جو کہ تمھارے سامنے ھے دن و رات اس کو پڑھو اور قرآن میں وہ سب کچھ ھے جو تم چاھتے ہو اور پسند کرتے ہو۔ ایک دوسرے کے رقیب نہ بنو ایک اور دوسرے سے حسد نہ کرو دشمنی نہ کرو آپس میں برادرانہ رویہ اختیار کرو کیونکہ خدا نے تمھیں اس بات کا حکم دیا ھے۔ آگاہ ہو جاٴو (ان نصیحتوں کے بعد) تمھیں اپنی آلعلیهم السلام کے لئے وصیت و شفارش کررھا ھوں ۔ ([39]) ۶۔لھٰذا ن (قرآن و عترت) سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ نتیجہ ھلاکت ھے ان کو کوئی چیز نہ سکھاوٴ کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں ([40]) ۷۔میری عترت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ (گمراہ ہوکر) مروگے اپنے آپ کو علوم و معارف الٰھی میں ان سے بے نیاز نہ سمجھو کیونکہ تمھیں موت آنے والی ھے۔ یقینا ان کی مثال کشتی نوح کی مانند ھے جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے الگ ہوا ھلاک ہوا۔ ان کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ ([41])کی سی ھے جو کوئی اس میں داخل ہوا خدا نے اس کو معاف کر دیا۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ میری عترت میری امت کے لئے امان ھے۔ پس میری عترت جس وقت چلی جائے گی تو میری امت تک وہ چیز پھنچے گی جس کا وعدہ کیا جاچکا ھے۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ خدا وند تعالیٰ نے ان کو گمراھی سے دور رکھا ھے برائی و کثافت و گناہ سے ان کو منزہ رکھا ھے اور تمام عالم پر ان کو فوقیت بخشی ھے۔ جان لو کے خدا وند کرئم نے ان کی محبت کو واجب قرار دیا ھے اور ان کی موت وپیروی کا حکم دیا ھے۔ ([42]) ۸۔ در حقیقت تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ ۱ کتاب خدا۔ ۲۔ میری عترت۔ جان لو کہ یہ دونوں میرے بعد تمھارے درمیان میرے جانشین ھیں اور دونون ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([43]) ۹۔ یقینا تمھارے درمیان اپنے دو جانشین چھوڑ رھا ھوں ۔ کتاب خدا جو کہ دونوں ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ (روز محشر) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([44]) ۱۰۔ در حقیقت امت کے درمیان دو جانشین چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ قرآن اور میرے اھلبیتعلیهم السلام۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([45]) ۱۱۔حقیقتاً میرے رحیم و خیبر خدا نے مجھ کو خبر دی ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اور ان دونوں کے لئے میں نے یہ خدا سے خواست کی ھے۔ لھٰذا ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا اور اپنے آپ کو بے نیاز نہ سمجھنا۔ ورنہ (گمراہ ہو کر) مرو گے اور ان کو کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں جس پر بھی مجھے اس کے آپ سے زیادہ حق ولایت واطاعت ھے علی اس کے سر پرست وولی ھیں۔ خدایا جو علی کو دوست رکھے اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ۔ ([46]) ۱۲۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے جحفہ میں دوران خطبہ ارشاد فرمایا: کیا میں تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ حق نھیں رکھتا؟ سب نے یک زبان ہو کر کھا کیوں نھیں۔ یا رسول اللہ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: پس یقینا تم کو دو حقیقت و واقیعت کے بارے میں ذمہ دار سمجھتا ھوں ۔ قرآن اور میری عترت۔ ([47])  چوتھی فصل حدیث کی افادیت حدیث ثقلین سے حسب ذیل مطالب کا استفادہ ہوتا ھے۔ ۱۔ پیغمبر اکرم کا اپنی موت کے بارے میں اطلاع دینا کہ جس پر بھت ساری رویات دلالت کرتی ھیں مثلاً آپ نے فرمایا: (میری موت نزدیک ھے اور میں اس کے لئے آمادہ ھوں ) ([48]) نیز آپ نے فرمایا: (خدائے عزوجل نے مجھے بذریعہ وحی اس بات کی اطلاع دی ھے کہ میری موت کا وقت آچکا ھے۔) ([49]) اپنی موت کے بارے میں پیغمبر کا خبر دینا اس بات کا غماز ھے کہ رسول اپنی رحلت کے بعد اپنی امت کے وظیفوں اورذمہ داریوں کو بیان فرمانا چاھیتے تھے تاکہ امت مسلمہ کو ان کے حال پر نہ چھوڑیں اور ایسی باتیں قرین عقل ھیں۔ اور حقیقت حال یہ ھے کہ نبی اکرم جیسی عظیم شخصیت کی حامل بابرکت ذات اس بات پر کیسے راضی ہوجاتی کہ ان کی وفات کے بعد امت مسلمہ کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ جبکہ آپ کو اسلام پھیلانے اور پھنچانے میںبے شمار مصائب وآلام سے دوچار ہونا پڑا ھے۔ لھٰذا حکمت خدا اور درایت رسول خدا(ص) کا ان باتوں کے لئے راضی ہونا بعید از عقل ھے۔ ۲۔ خدا کی کتاب (قرآن) اور میری عترت طاھرہ کا امت کے درمیان چھوڑنا ان کی خلافت و جانشینی کے معنیٰ میں ھے اس بنا پر قرآن و عترت رسول، امت مسلمہ کے لئے رسول کے جانشین وخلیفہ ھیں اور ان کا آپس میں ھم آھنگ ہونا اور متضادنہ ہونا رسول کے قائم مقام ہونے پر دلالت کرتا ھے۔ اسی وجہ سے بعض روایات میں ان دونوں کو خلیفہ کے لفظ سے یاد کیا گیا ھے۔ احمد بن خنبل نے اپنی مسند میں زید بن ثابت سے روایت کی ھے کہ رسول اکرم (ص) (ص) نے فرمایا: در حقیقت میں نے تمھارے درمیان دو خلیفہ رکھ چھوڑا ھے۔([50])؟؟ ابن سعید خدری سے روایت ھے کہ رسول اکرم (ص) (ص) کا ارشاد ھے کہ۔ میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں بطور جانشین چھوڑ رھا ھوں ۔ قرآن اور عترت۔([51]) یا آپ نے فرمایا: میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزوںکو جانشین اور خلیفہ قرار دیتا ھوں ۔ ([52])در حقیقت تمھارے درمیان دو بھت قیمتی امر کو خلیفہ قرار دیتا ھوں ۔([53]) عترت طاھرہ کو خلیفہ بنانا اور ان کو اپنا مقام دینا اس بات کو متقاضی ھے کہ یہ (عترت رسول) تمام رسالتی کمال و جمال کے حامل ھیں۔ اسی واسطے احادیث میں مفہوم (خلیفہ )عترت کی سیاسی و علمی امامت و مرکزیت پر دلالت کرنا ھے۔ اور رسول وہ کا فرمان جس میں آپ نے بغیر کسی قید و شرط کے ان کی پیروی کا حکم دیا ھے اور ان سے آگے بڑھنے اور ان سے پیچھے رہ جانے کی ممانعت فرمائی ھے اسی افادیت و مرکزیت پر دلالت کرتا ھے۔ مگر افسوس کہ پیغمبر کی اتنی تاکید کے باوجود امت مسلمہ نے اھل بیتعلیهم السلام کی پیروی نہ کی اور ان کی حقوق کی مراعات نہ کی اور ان کی امامت وولایت کو قبول نہ کیا اور جس راہ پر خود چاھا چل پڑ ے(جب کہ متعدد مقامات اور مختلف اوقات میں رسول نے ان کی اتباع کا حکم دیا تھا خاص طور سے غدیر خم اور قبض روح کے وقت)اور امت نے ان سے احکام وآداب وسنن دینی حاصل نہ کئے اور معارف وعلوم دینی کے لئے ان کی جانب رجوع نہ کیا یھاں تک کہ مجبور ہو کر قیاس۔([54]) ابو یوسف نے اس سوال کو دوبارہ مضحکہ خیز انداز میں دھرایا اور جواب کا منتظر رھا اور کھا کہ خیمہ اور کجاوہ میں کیا فرق ھے ؟آپ نے فرمایا:ابو یوسف تم جس طرح سے اپنی فکر و نظر کے بل بوتے پر قیاس کر رھے ہو ایسا نھیں ھے تم دین سے کھیل رھے ہو،ھم وھی کچھ انجام دے رھے ھیں جو رسول اکرم(ص)  نے انجا م دیا۔ اور جو کچھ فرمایا اس کو کہہ رھے ھیں۔ پیغمبر جس قوت کجاوے میں سوار ہوتے تھے۔(احرام کی حالت میں)سایہ میں نھیں جاتے تھے۔ لیکن خیمہ، گھر،دیوار ان کے سائے میں جاتے تھے۔ (معارف ومعاریف جلد ۴ صفحہ۱۸۰۷) استحسان ([55]) کی جانب چلے گئے اس لئے کہ ان کے پاس مکمل سنت کا وجود نھیں تھا۔ اس لئے عمر بن خطاب کی ممانعت کے سبب دوسری صدی ھجری تک احادیث نبوی([56]) کو نھیں لکھا گیا۔([57]) عمر بن عبد العزیز نے جب یہ دیکھا کہ آثار حدیث نبی اکرم(ص)  ختم ہو رھے ھیں تو اس نے جمع حدیث کی ممانعت کا حکم ختم کردیا اور اس زمانے کے بعد سے علماء اھل سنت میں سے،مالک،احمد بن حنبل، بخاری،جیسے افراد نے جو آثار نبوی رہ گئے تھے ان کو قلمبند کر نا شروع کر دیا۔ باوجود یکہ بھت سارے آثار رسول اکرم(ص)  فراموشی کی نذر ہو گئے تھے یا ان کے حفظ کرنے والے مر گئے تھے۔ یھاں تک کہ کچھ محققین کا کھنا ھے کہ اھل سنت کے پاس احکام کی پانچ سو روایات سے زیادہ نھیں ھیں۔ بھر حال دوسری صدی ھجری تک سنت رسول اکرم(ص)  اھل سنت کے نزدیک نہ ھی جمع ہوئی تھی اور نہ ھی پہچانی جاتی تھی۔ جب کہ آپ کی مکمل سنت مطھرہ عترت طاھرہ کے پاس محفوظ تھی۔ پھر آخر کیا وجہ تھی کہ علوم آل محمد سے منھ پھیر لیا گیا درآن حالیکہ یہ اھل بیت علیهم السلام سنت نبی اکرم(ص)  کو جیسے چاھیے ویسے نقل کر رھے تھے۔ محقق یکتا روزگار آقای بروجردی فرماتے ھیں۔ ائمہ اھل بیت علیهم السلام کے پاس بھت ساری روایات موجود ھیں اور ان بزرگان کے پاس رسول اکرم (ص) کی زبانی بیان کردہ اور امیر الموٴمنین علیه السلام کی تحریر کردہ ایک کتاب ھے جس میں تمام سنت نبی اکرم(ص)  جس کو خدانے ان کو پھنچا نے کا حکم دیا تھا محفوظ ھیں۔ پھر آقای بروجری نے اس طرح کی کچھ احادیث کی وضاحت کی اور فرماتے ھیں۔ ([58]) الف۔ رسول خدا(ص) نے اپنی رحلت کے بعد امت مسلمہ کو یوں ھی آزاد نھیں چھوڑ دیا ھے بغیر کسی ھدایت کرنے والے اور واضح ھدایت کے ان کوتنھا نھیں رھنےء دیا ھے۔ بلکہ ھدایت کرنے والے رھبر حق کی جانب دعوت دینے والے آقامولا، رھبر، حامی (دین) اور محافظ (اسلام) کو معین فرمایا ھے۔ معارف الٰھی، واجباب دینی، سنت آداب (دینی) حلال و حرام، حکمت، احادیث، اور وہ تمام چیزیں جس کی امت مسلمہ کو قیامت تک ضرورت تھی حتی کہ زخم کے نشان کی دیت تک کا حکم بیان فرمایا ھے۔ پیغمبر نے کسی بھی فرد کو اس بات کی قطعی اجازت نھیں دی ھے کہ اپنی رائے یا نظریاتِ قیاس کے ذریعہ کوئی فتویٰ دے۔ کیونکہ کوئی بھی موضوع کوئی بھی چیز حکم سے خالی نھیں ھے۔ وہ حکم جو کہ خدا وند منان کی جانب سے پیغمبر اسلام کے لئے آیا ھے اور رسول اکرم (ص) نے یہ تمام قوانین خود حضرت علی علیه السلام کو تحریر کروائے ھیں۔ پیغمبر نے اس کے تحریر کرنے اور اس کی حفاظت کرنے اور اس کو فرزندان علی(ع)ابن ابی طالب تک جو کہ امامان امت ھیں پہچانے کا حکم دیا ھے۔ موملائے کائنات نے اس کو اپنے ھاتھوں تحریر فرمایا اور اس کو (اپنے بعد والے ائمہ) تک پھنچایا۔ ب۔ دوسرا فائدہ جو اس حدیث سے حاصل ہوتا ھے وہ یہ ھے کہ رسول خدا(ص) نے ان علوم کو صرف علی علیه السلام کے تحریر کروایا ھے حیات پیغمبر میں حضرت علی علیه السلام کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس سے باخبر نھیں تھا اور رسول نے علی علیه السلام سے اس بات کی خواھش کی کہ یہ ان گیارہ فرزندوں تک جو کہ امام امت ھیں، منتقل ہو جائے۔ لھٰذا اب امت مسلمہ پر واجب ھے کہ حلال و حرام اور وہ علم جو کہ ان کے دین کی ضرورت ھے امیر المومنین(ع) علیه السلام اور ان کے گیارہ فرزندوں سے حاصل کریں جواھل بیت رسول ھیں۔ حقیقت یہ ھے کہ یہ افراد اسرار اوسنت پیغمبر سے باخبر ھیں خزانئہ علم اور رسول کے دین مبین کے حامی ھیں۔ ج۔ وہ کتاب جو پیغمبر کی زبان مبارک سے سن کر امیر المومنین(ع) علیه السلام نے تحریر فرمائی ھے اماموں کے پاس رھی ھے اور اسے امام محمد باقر علیه السلام اور امام جعفر صادق علیه السلام نے کچھ اصحاب اور گروھوں کو دکھایا بھی ھے تاکہ لوگوں کو اطمینان ہو اور اس طرح سے اتمام حجت ہوسکے۔ محقق عظیم آقای برو جروی فرماتے ھیں۔لھٰذا ان سے احادیث لینا اور انھیں سیکھنا ضروری ھے کیونکہ یہ ان احادیث سے زیادہ اطمینان بخش ھیں جو دوسرے افراد کے پاس ھیں۔ ([59]) ۳۔ حقیقت یہ ھے کہ قرآن و عترت سے متمسک رھنا ھر مسلمان پر واجب ھے ایک کو چھوڑ کر دوسرے سے متمسک رھنا غلطی ھے۔ کیونکہ ان دونوں سے متمسک رھنے کے لئے حدیث ثقلین میں حکم آیا ھے۔ جس طرح لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ قرآن سے متمسک رھیں اسی طرح سے حکم دیا گیا کہ عترت سے جڑے رھیں۔ بعض روایات میں آیا ھے کہ تمھارے درمیان تمام حقیقتوں کو چھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے متمسک رھے اور وابستہ رھے تو میرے بعد ھر گز گمراہ نھیں نہ ہوگے۔ کتاب خدا شب و روز تمھارے پاس ھے جس میں وہ سب کچھ ھے جس سے تم محبت کرتے ہو اور جو کچھ تم چاھتے ہو۔ ([60]) اب قرآن کی طرف رجوع کرنے اور اس سے متمسک رھنے کا حکم اس بات کا غمازھے کہ قرآن ایک واضح اور روشن بیان کرنے والا اور قطعی جواب دھندہ ھے۔ امت مسلمہ کا قرآن سے تمسک صحیح نھیں ھے مگر صرف اس حد تک کہ ظورھر قرآن دلیل و حجت ھیں۔ اور ظواھر و محکمات قرآن ھر حال میں ھدایت و نور ھیں۔ اگر چہ آیات کی تفصیل اور تفسیر پیغمبر اور عترت پیغمبر کے ذمہ ھے، لھٰذا ظاھر قرآن و ضاحت اور تفصیل کی منزلوں میں نھیں ھے جیسے خصوصیات و کیفیت نماز، زکات، حج وغیرہ۔ اسی طرح سے مراتب معارف کی تعیین، اخلاقی۔ اجتماعی مسائل، قرآن کی (تفسیر بھی ) عترت آل علیهم السلام کے ذمہ ھے۔ بھر حال آل محمد علیهم السلام سے متمسک رھنے سے قرآن کو چھوڑ دینے کا قطعی جواز نھیں بنتا۔کیونکہ عترت آل محمد علیهم السلام نے احادیث میں اختلاف کی صورت میں قرآن ھی کومعیار بنایا ھے اور روایات و احادیث کی صحت وصواب کے لئے قرآن کی جانب رجوع کیا ھے۔ اس روسے قرآن کی جانب رجوع کرنے اور اس سے روشنی طلب کرنے کی تاکید کی گئی ھے، اوراس طرح کی تاکید قرآن کی تلاوت اور اس کے بارے غوروفکر کرنے کی ان کی روشوں سے جدا ھے۔ اس سلسلے میں حضرت امیر المو منین علیه السلام کا بیان کافی ہوگا۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ھے جو کبھی فریب نھیں دیتا ایسا ھدایت کرنے والا ھے جو گمراہ نھیں کرتا۔ اور ایسا سخنور ھے جو جھوٹ نھیں بولتا جو کوئی اس کاھم نشین ہوگا وہ زیادتی اور نقصان کے ساتھ اس کے پھلو سے الٹے گا۔ ھدایت میں زیادتی ہوگی جھل اور کور دلی میں کمی۔ اس بات کو جان لو کہ جو کوئی قرآن رکھتا ہوگا وہ فقر بیچارگی سے محفوظ ہوگا،کوئی بھی اس سے قبل غنی اور بے نیاز نھیں ہو سکتا۔ لھٰذا قرآن سے اپنے لئے شفا اور بھبود ی طلب کرو۔ مصائب کی برترفی اور مشکلات میں کامیابی کے لئے قرآن کی مدد حاصل کرو کیونکہ قرآن میں کفر ونفاق وگمراھی وضلالت جیسی بڑی سے بڑی بیماری کا علاج موجود ھے۔ لھٰذا جو کچھ بھی چاھتے ہو قرآن کے وسیلہ سے طلب کرو۔ اور قرآن سے دوستی کر کے خدا کی جانب متوجہ ہو۔ کتاب خدا کے توسل کے علاوہ مخلوقات سے کچھ بھی نہ مانگو۔(قرآن کو اپنی مادی آرزووٴں کے توسل کا وسیلہ نہ بناوٴ)۔کیونکہ بندے اس کے توسل سے جو تقرب خدا حاصل کریں گے وہ اس سے زیادہ لائق احترام ہوگا۔ یہ بات جان لو کہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ھے کہ جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ایسا متکلم ھے جس کی باتوں کی تصدیق ہوگی۔ قرآن جس کی شفاعت کرے اس کی شفاعت ہو جائے گی اور جس کے خلاف شکایت کرے گا اس کی شکایت سنی جائے گی۔([61]) ھمارے امام اور پیشوا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں کہ: تین افراد کی شکایت خدا کے نزدیک سنی جائے گی، ۱۔وہ ویران مسجد جس میں نماز نہ ادا کی جاتی ہو، ۲۔ایسا علم جو کہ جاھلوں کے درمیان زندگی بسر کر رھا ہو، ۳۔اور وہ قرآن جو غبار آلود ہو اور اس کی تلاوت نہ کی جاتی ہو۔([62]) نیز آپ نے فرمایا:درحقیقت قرآن رھنمائے ھدایت اور تاریکی میں روشن چراغ ھے لھٰذا تیز بین شخص کو چاہئے کہ وہ اس میں دقت سے کام لے اور اس کی روشنی سے مستفید ہونے کے لئے اپنی آنکھیں کھولے۔ کیونکہ اس میں تفکر اور تعقل ایک اھل دل کے لئے زندگی وحیات ھے۔ اس لئے کہ اندھیرے میں چلنے والا انسان روشنی ھی کے ذریعہ منزل مقصود تک پھنچتاھے، اب اس بات کی طرف آپ کی تو جہ ضروری ھے کہ اگر کوئی شخص صرف ذکر آل محمد علیهم السلام پر اکتفا کرتا ھے اور قرآن کے اوامر ونواھی پر کان نھیں دھر تا تو گویا ایسے شخص نے اھل بیت علیهم السلام سے صحیح تمسک نھیں کیا ھے کیونکہ۔ اھل بیت علیهم السلام قرآن کوھمیشہ ھمیشہ چھور دینے پر کبھی اور قطعی راضی نھیں ھیں۔ اور یہ بات بھی ذھن نشن رھنی چاھیٴے کہ اھل بیت علیهم السلام نبی کو چھوڑ کر قرآن پر اکتفا کرنا بھی کسی حال میں صحیح نھیں ھوگا۔ اس لئے کہ تاویل وتفسیر قرآن کریم آل محمد علیهم السلام کے پاس ھے اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ قیام عدل، تربیت وتزکیہ نفس اختلافات کی برطرفی اور ان کے مانند دوسرے امور میں عترت رسول اکرم(ص)  کی قطعی محتاج ھے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آل محمد علیهم السلام کو چھور کر تنھا قرآن سے تمسک کافی نھیں ھے اس لئے کہ خود قرآن میں آیا ت ولایت ان کی اطاعت ومودت کو واجب قرار دیتی ھیں۔ اور ( قرآن واھل بیت علیهم السلام ) ان دونوں میں سے ھر ایک، جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی وضاحت کی گئی ھے، ایک دوسرے کے لئے خبر دینے والے اور ایک دوسرے کو موافق و شانہ بشانہ ھیں۔([63]) بھر کیف ان دونوں سے تمسک واجب ھے اور اس پر حدیث ثقلین میں تاکید بھی کی گئی ھے اور یہ بیان کہ (اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے) اور اس کے مانند دوسری روایات میں کئی مقامات پر اس کا تذکرہ کیا گیا ھے۔ ۴۔قراان وعترت کو ثقلین کا نام دینا شاید اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ دونوں قیمتی ترین، عظیم اور نھایت ھی بلند چیزیں ھیں اور لفظ۔(ثقلین) اپنے تمام تر وجود کے ساتھ عظمت قرآن اور مقام رسول کا پیغام دینے والا ھے۔ عبقات الانوار میں نھایہ ابن اثیر سے یہ بات نقل کی گئی ھے کہ۔ ھر صاحب حیثیت جو کہ ایک بلند مقام ومنزلت کا حامل ہو اس کو(ثقل) کھتے ھیں۔ لھٰذا ان دونوں کو ان کی عظمت کے آشکار کرنے کے لئے (ثقل) کے نام سے یاد کیا ھے۔ ا س لئے (ثَقل، ث پر زبر ھے ) آسمانی تمام کتابوں میں سب سے عظیم وبر تر کتاب قرآن مجید ھے اور زندہ معجزہ ھے اور اس کی ضیا بار یاں چکمتے سورج کی مانند ھیں خود اعلان پروردگار ھے کہ باطل کسی بھی راہ سے اس میں نفوذ پیدا نھیں کر سکتا یہ نور ھدایت ھے۔ اور آل محمد علیهم السلام کا بھی کسی صورت میں دوسروں سے موازنہ نھیں کیا جا سکتا۔ ([64]) جس طرح سے انبیاء کا دیگر تمام بنی نوع بشر سے موازنہ کرنا غلطی ھے۔ اسی طرح سے آل محمد علیهم السلام کا دوسروں سے موازنہ کرنا ایک ناقابل معافی جرم ھے۔ اس لئے کہ مخلوقات پر حجت خدا اور اس کے علوم کے خزانے ھیں۔ مولای متقیان امیر الموٴمنین علیه السلام نے اھل بیت علیهم السلام کے مقام ومنزلت کو چند فقروں میں واضح کر دیا۔آپ نے فرمایا:وہ ( اھل بیت علیهم السلام مر کز اسرار، ملجا فرمان،منبع علم،مرجع احکام،کتب سماوی کی پنا گاہ اور دین خدا کی محکم دلیل ھیں)ان کی وجہ سے دین خدا کی کمر مضبوط ہوئی۔ یہ (دین خدا کے پشت وپناہ ھیں)ان کی وجہ سے دین کو سکون حاصل ہوا۔۔۔۔ آل محمد علیهم السلام کی کسی بھی شخص کے ساتھ مثال نھیں دی جا سکتی۔ اور وہ لوگ جو دسترخوان آل محمد علیهم السلام کے نمک خوار ھیں کبھی بھی ان کے برابر نھیں ہو سکتے وہ اسا س دین اور ارکان یقین ھیں جو حد سے بڑھ گئے ھیں ان کو چاہئے کہ واپس آئیں اور پیچھے رہ جانے والوں کو چاہئے کہ وہ ان سے آکر ملحق ہو جائیں۔ ولایت وحکومت ان کا حق ھے، رسول اسلام(ص)  کی وصیت ووراثت آل رسول کے پاس ھے۔ اب حق حقدار کے پاس پلٹ آیا ھے اور ایک بار وھیں آپھنچا جھاں سے کو چ کر کے گیا تھا۔([65]) بعض اوقات کیاجاتا ھے جیسا کہ زمخشری سے نقل ہوا ھے کہ ثقلین میں (ثا) اور (قاف) کے اوپر زبر قرآن و عترت پر اطلاق جن وانس سے ان کی شباھت کی وجہ سے ھے کیونکہ دنیا کا آبا د ہونا اور باقی رھنا جنات انسان کے سبب سے ھے۔ اس طرح سے دین کی سلامتی قرآن و عترت کے ذریعہ ممکن ھے۔ لیکن یہ بات سرے سے غلط ھے کیونکہ کلمہ ٴ ثقلین کا قرآن وعترت پر اطلاق از باب تشبیہ ہونے کے لئے کوئی قرینہ نھیں ھے۔ اس بات کا مکان پایا جاتا ھے کہ(ثقل)سے مراد یہ ہو کہ۔ ان سے متمسک ہونا ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اطاعت بجالانا ان کے حقوق پر توجہ دینا اور قرآن وعترت کا پورا پورا پاس ولحاظ رکھنا یہ ایک مشکل اور دشوار کام ھے، جیسا کہ بعض اھل لغت ومحدثین نے خیال ظاھر کیا ھے اور حموینی نے اس بارے میں ابی العباس سے روایت کی ھے۔ ابی العباس سے سوال کیا گیا کہ پیغمبر نے قرآن وعترت کو(ثقلین) کے نام سے کیوں یاد فرمایا۔ابی العباس نے جواب دیا:اس لئے کہ ان سے تمسک کرنا ایک سنگین امر ھے۔ ([66]) دوسری روایت میںابی العباس سے نقل ھے۔ اس لئے کہ ان سے متمسک ہونا اوراس پر عمل پیر اہونا ایک ثقیل اور سنگین فعل ھے۔ ([67])  عبقات الانوارمیں ازھری سے اور تہذیب اللغہ وغیرہ میں اس مطلب کو ذکر کیاگیا ھے۔ ([68]) کلمہ ٴ ثقل کے حرف ثا پر زیر اور قاف پر سکون کے ساتھ، ثقل بھاری بھرکم اور وزنی بوجھ کے معنیٰ میں ھے جو کہ اثقال کا واحد ھے لیکن یہ معنیٰ حدیث کے ظاھر کے خلاف ھے۔ ظاھر حدیث کے مناسب یہ ھے کہ ثقل بطور وصف متعلق بحال موصوف ھے پس یہ دونوں کے واسطے اس لحاظ سے وصف ھے کہ قرآن وعترت خدا ورسول کے نزدیک متین و گرانقدر اور صاحب مقام ومنزلت ھیں۔ ۵۔عترت۔ جیسا کہ نھایہ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ھے کہ رسول خدا(ص)  کے سب سے زیادہ نزدیکی افراد ھیں۔([69]) عترت سے مراد جیسا کہ صاحب نھایہ نے نقل فرمایا ھے۔صرف وہ افراد ھیں جو رسول اللہ کے منتخب اور نھایت ھی نزدیکی ھیں اور یہ بات یقینی طور سے کھی جاسکتی ھے کہ دوسرے اھل خاندان اس سے خارج ھیں یھاں پر موضوع سے متعلق افراد سارے اھل خاندان نھیں ھیں۔ اس لئے کہ روایت میں جو صفات بیان کی گئی ھیں کہ (وہ قرآن کے ھم پلہ سمجھنا اور معیار حق وھدایت جاننا)عموم افراد کو داخل کر کے ممکن نھیں ھے،بلکہ (عترت)سے مراد (متعدد رویات پیش نظر) صرف اھل بیت علیهم السلام ھیں۔ اور یہ وہ افراد ھیں جن کی طھارت کا اعلان قرآن نے کیاھے یہ پاک اور معصوم رھبران دین ھیں۔ ابن ابی الحدید کا کھنا ھے۔ رسول اکرم(ص)  نے عترت کو لوگوں کے سامنے پہچنوا دیا کہ کون لوگ ھیں! جب آپ نے فرمایا:درحقیقت تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں اس کے بعد فرمایا:(اور عترت جو کہ میرے اھل بیت علیهم السلام ھیں)اور دوسرے مقام پر اھل بیت کے مسئلہ کو واضح کر دیا جس وقت زیر کساء ان کو جمع کیا اور جب آیہٴ تطھیر نازل ہوئی۔([70]) آپ نے فرمایا:خدایا، میرے اھل بیت علیهم السلام ھیں لہٰذ ان سے رجس کو دور رکھ۔ ([71]) جر جانی شافعی متوفی ۳۶۵ ھ نے ابی سعید سے روایت کی ھے کہ آیہٴ تطھیر پانچ افراد کی شان میں نازل ہوئی ھے۔ رسول خدا(ص) ، علی علیه السلام، فاطمہ علیه السلام،حسن علیه السلام حسین علیه السلام۔([72]) ذھبی نے تلخیص مستدرک میں ام سلمہ سے روایت کی ھے کہ۔ آیت تطھیر میرے گھر میں نازل ہوئی پس رسول خدا(ص)  نے علی علیه السلام، فاطمہ علیه السلام،حسن علیه السلام،حسین علیه السلامکو جمع کر کے فرمایا: خدا یا یہ میرے اھل بیت علیهم السلام ھیں۔ ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں اھل بیت میں سے نھیں ھوں ۔ تو آپ نے فرمایا: تم خیر پر ہو۔ اھل بیت یہ ھیں (جو افراد داخل کساء ھیں)خدا یا میرے اھل خاندان لایق قدر ھیں۔([73]) اس کے علاوہ بھت سی روایات ھیں جو اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ آیہٴ تطھیر کے مصداق اھل بیت علیهم السلام رسول کے خاص اھل خاندان ھیں۔ نیز آیہٴ مباھلہ کی تفسیر اھل بیت علیهم السلام کو معین کرتی ھے۔ ([74]) مسلم نے اپنے اسناد کے ذریعہ سے روایت کی ھے کہ جب آیہٴ مبا ھلہ نازل ہوئی تو رسول نے علی علیه السلام، فاطمہ علیه السلام حسن، حسین کو طلب کر کے فرمایا: خدایا یہ میرے اھل بیت ھیں۔([75])اسی بنا پر عبقات الانوار میں نقل ہوا ھے کہ بزرگان اھل سنت نے حدیث ثقلین کی بنا پر اھل بیت کی سر براھی کو قبول کیا ھے۔ انھوں نے ھی کھا ھے کہ جب حکیم ترمذی نے کھا کہ رسول خدا(ص)  کا یہ فرمان کہ ( قرآن وعترت ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر ھم سے ملاقات کریں گے ) یہ اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ صرف یھی افراد ملت مسلمہ کے سر پرست وولی ھیں کوئی دوسرا نھیں۔ انھیں سے روایت ھے کہ سبط ابن جوزی نے حدیث ثقلین کو تذکر ة الخواص میں(تذکرة الائمة) کے ضمن میں بیان کیا ھے۔ ([76]) دوسری گنجی شافعی ھیں جنھوں نے کفایة الطالب میں زید ابن ارقم کی حدیث اور اس کی تفسیر جس میں یہ کھا ھے کہ اھل بیت علیهم السلام وہ ھیں کہ جن پر صدقہ حرام ھے۔ اور آگے کھتے ھیں کہ۔ حقیقت یہ ھے کہ اھل بیت علیهم السلام کے سلسلے میں زید کی تفسیر صحیح نھیں ھے۔ اس لئے کہ زید کی تفسیر یہ ھے کہ اھل بیت علیهم السلام وہ ھیں کہ جن پر صدقہ بعد رسول حرام ھے اور صدقہ کا حرام ہونا ایک عام کلیہ ھے جو حیات رسول اور بعد حیات رسول دونوں پر صادق آتا ھے اور یہ بات مذکورہ افراد کے لئے مخصوص نھیں ھے کیونکہ فرزندان مطلب پر صدقہ حرام تھا۔ مزیدفرماتے ھیں۔ صحیح یہ ھے کہ اھل بیت علیهم السلام سے مراد علی و فاطمہ وحسن حسین علیھم السلام ھیں جیسا کہ مسلم نے اپنی اسناد کے ساتھ عائشہ سے روایت کی ھے۔  (ایک صبح رسول باھر آئے اور آپ کے دوش پر سیاہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اس کے بعد حسن ابن علی علیه السلام آئے اور اس کے اندر داخل ہو گئے پھر حسین علیه السلام آئے پھر علی وفاطمہ بالترتیب آئے اور اس کے اندر داخل ہو گئے اس کے بعد رسول نے آیہٴ تطیھر کی تلاوت کی) خدا کا ارادہ صرف یہ ھے کہ پلیدی کو تم اھل بیت علیهم السلام سے دور رکھے اور تم کو مکمل پاک رکھے۔([77]) یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ اھل بیت علیهم السلام صرف وہ افراد ھیں کہ جن کو خدا نے اھل بیت کے نام سے یاد کیا ھے اور رسول اکرم (ص) نے ان کو زیر کساء جمع فرمایا: ([78]) ان کے علاوہ دوسرے جن افراد نے اس بات کا اعتراف کیا ھے کہ (اھل بیت علیهم السلام صرف مخصوص افراد ھیں) ان کی عبارتوں کو عبقات الانوار میں نقل کیا گیا ھے۔ ([79]) اب تک جتنی باتیں نقل کی گئی ھیں یہ ان متواتر روایات سے ھٹ کر ھیں جو اس بات اور موضوع سے متعلق ھیں۔ انھیں روایات میں سے۔ابن بابویہ نے عیون اخبار الرضا میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنے آباء سے حسین بن علی علیه السلام سے روایت کی ھے۔ ابن بابویہ کھتے ھیں کہ۔ امیر الموٴمنین علیه السلام سے رسول اکرم(ص)  کے اس قول (میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں جانشین بنا کر جا رھا ھوں قرآن اور میری عترت ) کے بارے میں سوال کیا گیا کہ عترت سے مراد کون لوگ ھیں ؟ آپ نے فرمایا:میں، اور حسن علیه السلام، حسین علیه السلام اور اماموں میں سے نو اور افرا جن کی نویں فرد مھدی اور قائم آل محمد (عجل اللہ فرجہ الشریف)ھیں۔ کتاب خداسے جدا نھیں ھوں گے اور قرآن ان سے جدا نھیں ہوگا یھاں تک کہ حوض کوثر پر ملاقات کریں گے۔ ([80]) لب لباب یہ ھے کہ عترت سے مراد اھل بیت علیهم السلام ھیں اور یہ افراد پاک، معصوم اور لائق احترام ھیں ۶۔قرآن ریسمان الٰھی ھے۔ اس پر قرآنی نص موجود ھے۔ < وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا >([81])اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقہ پیدا نہ کرو۔ کچھ روایتیں اس پر گواہ بھی ھیں۔ انھیں روایات میں ایک روایت جس کو ابی سعید خدری نے پیغمبر سے روایت کیا ھے کہ آپ نے فرمایا:میں عنقریب کوچ کرنے کا حکم پاچکا ھوں اور میں نے اس کو قبول بھی کر لیا ھے اور میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھاھوں کتاب خدا اور میری عترت، کتاب خدا ایسی رسی ھے جو کہ زمین وآسمان کے درمیان دراز ھے اور عترت جو کہ میرے اھل بیت ھیں۔ خدائے رحیم وخبیر نے مجھے اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے لھٰذا دیکھو کہ تم لوگ ان دوا مر میں میری کس حد تک مدد کرتے ہو۔([82]) اس لحاظ سے کہ اھل بیت حدیث ثقلین قرآن کے مساوی اور ھم پلہ قرار پائے ھیں حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی کا معنی ان پر صادق آتا ھے۔ اس لئے کہ یہ دونوں خدا کی جانب سے لوگوں کی ھدایت کے لئے منصوب ہوئے ھیں۔ لھٰذا اھل بیت علیهم السلام سے تمسک کتاب خدا سے تمسک کے مانند ھے اور ان سے تمسک کا مطلب ریسمان الٰھی کا اپنی گرفت میں لینا ھے۔ تاکہ تباھی و گمراھی (کے کنویں) میں گریں۔ تفصیر آلاء الرحمٰن میں آیہ اعتصام کے ذیل میں یوں کھا گیا ھے۔ گمراھی سے نجات پانے کے لئے کتاب خدا کو تھام لو جبکہ تم لوگ ریسمان الٰھی سے تمسک پر اجتماع کرنے والے ہو اور خدا نے اھل بیت علیهم السلام کو گمراھی سے محفوظ رکھنے کے لئے مقرر کیا ھے اور رسول نے اھل بیت علیهم السلام کے بارے میں فرمایا ھے کہ یہ مصداق حبل اللہ ھیں جو ان سے متمسک ہوگا گمراہ نھیں ہوگا۔ حدیث ثقلین میں جو بات کی گئی اور اس آیت میں لفظ حبل بطور کنایہ استمعال ہوا ھے یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ عدم تمسک گمراھی اور تباھی میں گھرنے کا سبب ھے۔ ([83]) اس کی عمومیت اور (حبل اللہ) کے قرآن سے مخصوص نہ ہونے کی دلیل یہ ھے کہ (حبل) کے معنی میں رسول اسلام بھی ھیں لھٰذا خدا کا یہ قول (وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّٰہِ جَمِیعاَ وَ لاََتفرَّقُوا)اس بیان کے بعد ھے کہ ( اور کیسے ممکن ھے کہ تم کافر ہوجاوٴ جبکہ تم پر آیات کی تلاوت ہوتی ھے۔ رسول تمھارے درمیان ھیں (لھٰذا خدا سے متمسک رہو) اور جو کوئی خدا سے متمسک رھے گا وہ صراط مستقیم کی جانب ھدایت پائے گا۔ ([84]) آیت کا مطلب یہ ھے کہ آیات خدا سے تمسک اور رسول اسلام کی پیروی ریسمان الٰھی سے متمسک ہونا ھے۔ چنانچہ خدا نے اس سے قبل کی آیت میں آیات قرآنی اور پیروی رسول کو اعتصام بہ خدا کے نام سے یاد کیا ھے لھٰذا جیسے رسول مصداق حبل اللہ ھیں ویسے ان کی عترت طاھرہ بھی حبل اللہ کی مصداق ھے جو کہ رسول قائم مقام ھیں۔ مذکورہ بالا استدلال کے علاوہ دیگر نصوص و روایات بھی ھیں جو عترت طاھرہ کے حبل اللہ ہونے پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ھیں۔ عبقات الانوار میں شیخ سلمان حنفی قذوزی سے خدا کے اس قول (وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ جَمِیعاَ وَ لاََتفرَّقُوا ) کی تفسیر میں نقل کیا گیا ھے۔ ثعلبی نے اپنی سندوں کے ساتھ ابان ابن تغلب سے روایت کی ھے کہ امام جعفر صادق علیه السلام نے فرمایا: ( ھم مصداق حبل اللہ ھیں) جو (وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ)کی آیت میں آیا ھے۔ نیز صاحب مناقب نے سعید بن جبیرعن ابن عباس رضی اللہ سے نقل کیا ھے کہ ھم لوگ رسول اکرم (ص) کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک بدو داخل ہوا اور اس نے کھا۔ اے رسول خدا(ص) ھم نے سنا ھے کہ آپ فرماتے ھیں کہ(وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ) توحبل اللہ کون لوگ ھیں جن کو ھم مضبوطی سے پکڑلیں۔ پیغمبر نے اپنا دست مبارک علی علیه السلام کے دست مبارک پر رکھا اور فرمایا: اس سے تمسک کرو کیونکہ یہ خدا کی مضبوط رسی ھیں۔ ([85]) جو روایات عترت طاھرہ کے حبل اللہ ہونے پر دلالت کرتی ھیں ان میں نعمانی کی وہ روایت شامل ھے جس میں اپنی تمام اسناد کے ساتھ حریز بن عبد اللہ نے امام صادق علیه السلام سے اور انھوں نے اپنے آبا واجداد کے حوالے سے انھوں نے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ھے کہ آپ نے فرمایا: پیغمبر اکرم نے مسجد حنیف میں خطبہ ارشاد فرمایا: اور یہ خطبہ آپ کے آخری حج کا ھے اس خطبہ میں آپ نے فرمایا:آگاہ رہو کہ میں نے تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزوں کو جانشین قرار دیا ھے ثقل اکبر (قرآن) ثقل اصغر (عترت)یہ دونوں تمھارے اور خدا کے درمیان ایک دراز رسی کی مانند ھیں اگر دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اس کا ایک سرا خدا کے ھاتھ میں ھے اور دوسرا سرا تمھارے ھاتھوں میں ھے۔ ([86]) ابن ابی الحدید کی بھی روایت اسی ضمن میں ھے وہ کھتا ھے۔ نبی اکرم(ص)  نے فرمایا:(تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں ۔ ۱۔ ایک کتاب خدا۔۲۔میرے اھل بیت یہ دونوں آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی کے مانند ھیں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہوگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([87]) لھٰذا عصری تقاضے کے تحت جو چیز اتحاد کے لئے ضروری ھے وہ قرآن وعترت سے تمسک ھے یہ دونوں ملت مسلمہ کے اتحاد کا سبب ھیں۔جس طرح سے حیات رسول میں قرآن اور ذات رسول اتحاد کا سبب تھی۔ لھٰذا ھم پر اور تمام برادران اسلامی پر یہ فرض عائد ہوتا ھے کہ وہ خواب غفلت سے بیدا رھوں اور اتحاد کے اصلی عنصر کو تلاش کریں اس کا اصلی عنصر وہ ھے جس کی طرف آیہٴ کریمہ نے تروجہ دلائی ھے اور ظاھر ی اتحاد کبھی اس کا بد ل نھیں ہو سکتا۔ ھر چند کہ اس طرح کا تحاد ٹھیک ھی ھے۔ حاصل کلام یہ ھے کہ قرآن و عترت کو حبل اللہ کھنا ان دونوں کے خدا سے قریبی تعلق پر دلالت کرتا ھے لھٰذا جس نے ان دونوں سے تمسک کیا اس نے گویا خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور حقیقت بھی یھی ھے کہ خدا کی بارگاہ میں پناہ اور اس سے تمسک گمراھی اور ضلالت سے نجات کا رستہ ھے۔ جس طرح سے ان سے دوری قعر ضلالت و گمراھی میں گرنے کے مانند ھے جس کے بعد اس کے لئے اس لغزش و گمراھی سے نجات کا کوئی راستہ نھیں ھے۔ ۷۔در حقیقت قرآن و عترت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ھیں اور کبھی جدا نھیں ھوں گے دوسری بھت ساری روایات جو رسول اکرم(ص)  کے بیان کی روشنی میں حدیث ثقلین کی وضاحت کرتی ھیں کہ(آگاہ ہو جاوٴ کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدانھیں ہو ں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے )آپ نے فرمایا:خدائے مھربان نے مجھے اس بات کی اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے۔ تو یہ ایک غیبی خبر تھی جو کہ قیام قیامت تک قرآن و عترت کی بقا کی بشارت دی رھی ھے۔ اور یہ کہ زمانہ ان دونوں سے کبھی خالی نھیں رھے گا۔ جس طرح قرآن زندہٴ جاوید معجزہ ھے اسی طرح عترت بھی(جو مخلوقات کے لئے قرآن کے مساوی وھم پلہ ھے)ھمیشہ رھنے والے ھیں۔اور زمین ان کے وجود پاک سے خالی نھیں رہ سکتی۔ ([88]) اس موضوع سے متعلق وارد ہونے والی حدیثیں اس کی وضاحت کرتی ھیں۔ جیسا کہ شیخ سلیمان حنفی قندوزی نے اپنے اسناد کے ساتھ امام حسن علیہ السلام سے روایت کی ھے۔ آپ نے فرمایا: ایک دن میرے جد محترم (رسول اکرم) (ص)  نے خطبہ ارشاد فرمایا:اور حمد وثناء الٰھی کے بعد فرمایا:اے لوگو! میں اس دنیا سے کوچ کرنے حکم پا چکا ھوں اور میں نے اس پر لبیک بھی کھا ھے۔ میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رھاھوں ۔ ۱۔قرآن۔۲۔میری عترت۔ اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور یقینا یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوچر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ لھٰذا ان سے علم حاصل کرو اور انھیں سکھانے کی کوشش نہ کرو۔اس لئے کہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں اور زمین ان سے خالی نہ ہوگی اور اگر زمین ان کے وجود پاک سے خالی ہو جائے تو زمین اپنے بسنے والوں سمیت تباہ ہو جائے گی۔ زمین کا حجت خدا سے خالی نہ ہونا ایک ایسا مر ھے جو عقلی اعبتار سے بھی ثابت ھے کیونکہ زمین کا حجت خدا سے خالی ہونا حکمت الٰھی (لوگوں پر اتمام حجت )کے منافی ھے۔ اور بے شمار روایتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ھے اس قسم کی روایات کو دوحصوں میں ذکر کیا جا سکتا ھے۔ وہ روایات جن میں آیا ھے کہ اھل بیت علیهم السلام اھل زمین کے لئے سبب امان ھیں۔ کتاب فضائل علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں احمد ابن محمد خنبل نے اپنے اسناد کے ذریعہ امام علی علیہ السلام سے روایت کی ھے۔ آپ نے فرمایا:کہ رسول اکرم(ص)  نے فرمایا ھے: اھل آسمان کے لئے آسمان کے ستارے امان کا سبب ھیں جب وہ نابود ہو جائیں گے تو اھل آسمان ختم ہو جائیں گے اور میرے اھل بیت میری امت کے لئے سبب امان ھیں جب یہ نہ رھیں گے تو اھل زمین کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔ ([89]) امالی شیخ میں ابن عباس سے روایت ھے کہ رسول اکرم(ص)  نے فرمایا:ستاروں کا وجود اھل آسمان کے لئے نجات کا سبب ھے اور میرے اھل بیت علیهم السلام میری امت کے لئے امان کا سبب ھیں۔جس وقت ستاروں کا وجود ختم ہو جائے گا اھل آسمان نابود ہو جائیں گے اور جس وقت میرے اھل بیت علیهم السلام نھیں رھیںگے اھل زمین ختم ہو جائیں گے۔([90]) وہ احادیث جو تاقیام قیامت رسول کی خلافت وجانشینی اور خدا کی حجتوں کے وجود پر دلالت کرتی ھیں۔ حموینی نے اپنی اسناد سے عبد اللہ بن عباس کے حوالے سے روایت کی ھے کہ پیغمبر نے فرمایا:بے شک میرے بعد لوگوں کے لئے میرے جانشین واوصیاء والٰھی حجت بارہ افراد ھوں گے اس کی پھلی فرد میرے چچا زاد بھائی (علی علیه السلام ) اور آخری فرد میرا بیٹا ہوگا۔کسی نے پوچھا یا ررسول اللہ آپ کا بیٹا کون ھے ؟آپ نے فرمایا:مھدی (عجل اللہ فرجہ الشریف)جو کہ زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ اس خدا کی قسم جس نے مجھے دنیا والوں کے لئے بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ھے اگر دنیا کے ختم ہونے میں صر ف ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدا اس دن کو اس قدر طولانی کردے گا کہ میرابیٹا مھدی ظہور کر سکے۔ اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور اس کی سلطنت مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوگی۔([91]) محمد بن موفق جو کہ اھل سنت کے جلیل القدر عالم ھیں انھوں نے اپنی کتاب میں سلمان محمدی (فارسی ) سے کچھ یوں روایت کی ھے۔ سلمان کھتے ھیں کہ میں نبی اکرم(ص)  کے پاس حاضر ہو ا تو دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام رسول اکرم(ص)  کے زانو پر بیٹھے ھیں۔ آپ حسین علیه السلام کی آنکھوں اور دھن مبارک کا بوسہ لے رھے ھیں اور فرماتے ھیں۔ کہ تم خود مولا ہو مولا کے بیٹے ہو مولا کے بھائی ہو اور آقاوٴ کے والد ہو۔ تم خود امام فرزند امام برادر امام اور پدر امامان ہو۔ تم حجت خدا فرزند حجت خدا برادر حجت خدا اور نو حجت خدا کے باپ ہو۔ اس کی نویں فرد قائم آل محمد ہوگا جو کہ تمھاری -صلب سے ہوگا۔([92]) مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ھے کہ وہ کھتے ھیں کہ میں نے پیغمبر کو فرماتے سنا ھے۔ (لوگوں کے امور ان سرپرستوں کے ذریعہ،جو کہ بارہ افراد ھیں، انجام پائیں گے )اس کے بعد رسول نے ایک فقرہ کھا جس کو میں صحیح طریقے سے سمجھ نہ سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا۔ پیغمبر نے کیا فرمایا: تو انھوں نے کھا کہ رسول نے کھا ھے کہ (یہ تمام افراد قریش سے ھوں گے )۔([93]) حموینی نے اپنی اسنا دکے ساتھ نافع سے روایت کی ھے وہ کھتے ھیں کہ میں نے پیغمبر کو فرماتے سنا ھے( دین قائم ودائم ھے یھاں تک کہ قیامت آجائے گی )لھٰذا تم لوگوں پر فرض ھے کہ دربارہ خلفا کی پیروی کرو جو سب کے سب اھل قریش ھوں گے۔ ([94]) اس سلسلے میں روایات کی ایک کثیر تعداد ھے جو کہ یھاں بیان نھیں کیگئی۔ اسی وجہ سے جواھر العقدین میں سمہودی سے روایت ھے کہ انھوں نے حدیث ثقلین کی شرح میں لکھا ھے۔ اھل بیت اطھار علیھم السلام میں سے ایک فرد کا وجود جو کہ تمسک کے لئے بھترین اور حقدار افراد ھیں ضروری ھے۔ اور یھی بات حدیث ثقلین سے واضح ہوتی ھے۔ یھاں تک کہ اھل بیت علیهم السلام سے تمسک کے موضوع کو(یعنی امت اسلامی کی عدم گمراھی )آشکار کرے۔ کھتے ھیں کہ قرآن مجید ایسا ھی ھے۔ (یعنی امت مسلمہ کے لئے وسیلہ ٴ نجات ھے)اھل بیت علیهم السلام بھی اھل زمین کے لئے سبب نجات ھیں جس وقت ان کا وجود پاک نہ رھے گا اھل زمین کا وجود ختم ہو جائے گا۔([95]) ابن حجر نے بھی صواعق محرقہ میں ا س بات کی تصریح کی ھے۔ کھتاھے جن احادیث میں اھل بیت علیهم السلام تمسک کا حکم دیا گیا ھے وہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ یہ افراد صبح قیامت تک اس بات کی حقدار ھیں۔ جس کا قرآن حقدار ھے۔ اسی وجہ سے یہ اھل زمین کے لئے سبب امان ھیں۔ ([96]) یہ حدیث ھر زمانے میں ایک امام کے زندہ موجود ہونے پر دلالت کرتی ھے اور صاحبان بصیرت پر یہ بات پوشیدہ نھیں ھے۔ ۸۔حدیث شریف ثقلین قرآن و عترت کی عصمت پر دلالت کرتی ھے اس لئے امت مسلمہ کو انحراف وگمراھی سے بچانے کا عھدہ ان کی مطلق پیروی اور کسی شرط کا عدم وجود ان کے معصوم ہونے کے علاوہ ممکن نھیں ھے۔ اور اسی حقیقت پر حدیث ثقلین میں (مختلف روش) سے وضاحت کی گئی ھے ان میں سے چند نکات کو پیش کر رھے ھیں۔ ۱۔اے لوگو!ً بے شک تمھارے درمیان ایسی چیز کو چھوڑ کر جا رھا ھوں اگر ان سے متمسک رہو گے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے۔ قرآن ومیری عترت۔ ([97]) ۲۔بھت ساری روایا ت میں صراحتاً ذکر ہوا ھے کہ (علی قرآن کے ساتھ ھیں اور قرآن علی علیه السلام کے ساتھ ھے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([98]) ۳۔بعض روایات میں ھے کہ پیغمبر نے علی علیه السلام کے لئے دعا فرمائی۔ خدا یا حق کو علی علیه السلامکے ساتھ رکھ اور علی علیه السلامجدھر جائیں حق کو ادھر ادھر موڑ۔([99]) ۴۔وہ ایسی چیز ھے کہ اگر اس کو مضبوطی سے پکڑے رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے۔ کتاب خدا۔ اور میری عترت۔ ([100]) اس کے علاوہ دوسری دلیلیں بھی موجود ھیں جیسے آیت تطھیر اور متواتر احادیث جو کہ اھل بیت علیهم السلام کی عصمت پر دلالت کرتی ھیں۔ ۱۔حاکم نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ابوذر سے روایت کی ھے کہ رسول اکرم(ص)  نے فرمایا:میرے اھل بیت کی مثال کشتیٴ نوح کی سی ھے۔ ([101]) جو کوئی اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جس نے روگردانی کی ھلاک ہو گیا اور ڈوب گیا۔([102]) ۲۔طبرانی نے ابی سعید سے نقل کیا ھے کہ رسول اکرم(ص)  نے فرمایا:میرے اھل بیت علیهم السلام کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ کی مانند ھے۔ ([103]) جو کوئی اس میں داخل ہو ا وہ بخش دیا گیا۔ ([104]) سید شرف الدین کھتے ھیں کہ۔ اھل بیت علیهم السلام اور باب حطہ کی تشبیہ کی وجہ یہ ھے کہ خدا نے اس دروازے کو جلال خداوندی کے سامنے تواضع کے ایک نمونے اور اس کی حکمت کا اعتراف قرار دیاتھا۔ اسی وجہ سے وہ دروازہ سبب مغفرت بنا ھے امت مسلمہ کا اھل بیت علیهم السلام کا مطیع محض ہونا اور ان کی بلند مقامی کا اعتراف بھی خدائی جلال کے سامنے تواضع کے نمونے ھیں۔ باب حطہ اور اھل بیت علیهم السلام کی وجہ تشبیہ یھی ھے۔ ([105]) بھر کیف علماء عامہ کے ایک گروہ جیسے فخر رازی ابن حجر ھیثمی، جلال الدین سیوطی، سندی وغیرہ ۔۔۔نے اس بات کا اعتراف کیا ھے ابن ابی الحدید نے اس حدیث کی اسناد کو محمد بن متویہ سے لیا ھے انھوں نے اس کو کتاب کفایہ میں در ج کیا ھے جس وقت کھا ھے۔([106]) بےشک علی علیه السلام معصوم ھیں اگر چہ ان میں عصمت کا پایاجانا ضروری نھیں ھے اور امامت میں بھی عصمت شرط نھیں ھے لیکن نصوص میں ان کی عصمت، علم باطن، اور یقین کا ذکر ھے۔ اور یہ وہ چیزیں ھیں جو آپ سے مخصوص ھیں دیگر اصحاب اس میں شریک نھیں ھیں مثال کے طور پر،اگر ھم کھیں کہ زید صاحب عصمت ھے اور یہ کہ زید کے لئے ضروری ھے کہ وہ صاحب عصمت ہو تو ان دونوں باتوںمیں فرق ھے اس لئے کہ وہ امام ھے اور امامت کی شرطوں میں سے ایک یہ ھے کہ وہ معصوم ہو۔ پھلا نظریہ ھمارے مذھب کا ھے اور دوسرا نظریہ مذھب شیعہ کا ھے۔ ([107]) یہ بات روشن ھے کہ قرآن کی عصمت کی وجہ یہ ھے کہ وہ خدا وند متعال کی طرف نازل ہوا ھے۔اس لئے کہ خداوند تعالیٰ کی جانب سے نزول قرآن اور پیغمبر کا اس کا لانا اور اس کا ابلاغ ھر طرح کے خطاو نسیان سے منزہ ھے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس کے مراتب نزول لوگوں کی حقیقی مصلحتوں کی خاطر ھیں اس کے علاوہ دوسری صورت حکمت الٰھی کے منافی کھی جا ئے گی۔ اس طرح عصمت ائمہ اس صورت میں ثابت ھے کہ ان کے علوم پیغمبر کے توسط سے خدا کا عطیہ ھیں۔اور ان کے علوم میں کسی طرح کی بھول کا امکان نھیں پایا جاتا کیونکہ ان کو خدا کی جانب سے لوگوں کی ھدایت کے لئے منصوب کیا گیا ھے۔ دھوکا، خطا،گمراھی،انحراف،یہ سب عیوب لوگوں کی ھدایت اور ذمہ داری کے مناسب نھیں ھے اور خدا کی حکمت سے بعید ھے۔ لھٰذا قرآن وعترت معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ تمام خطاوبھول سے بھی محفوظ ھیں اور ان دونوں کی پیروی ضلالت وگمراھی سے نجات کا ذریعہ ھے اور یہ فضیلت قرآن و عترت سے مخصوص ھے۔ ۹۔پیغمبر کی مختلف احادیث جو کہ اھل بیت علیهم السلام اور خدا کے درمیان رابطہ پر دلالت کرتی ھیں۔ جیسے (وہ دونوں تمھارے اور خدا کے درمیان دراز ریسمان کی مانند ھیں۔([108]) اس کا ایک سرا تمھارے ھاتھ میں ھے اور دوسرا سرا خدا کے ھاتھ میں ھے۔([109]) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([110])جب تک ان سے متمسک رہوگے ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ([111]) علی علیه السلام قرآن کے ساتھ ھیں اور قرآن علی علیه السلام کے ساتھ ھے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہوگے۔ ([112])ان پر سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرو ورنہ ھلاک ہو جاوٴ گے اور ان کے سایہ ٴ عاطفت سے دور نہ رہو ورنہ تباہ ہو جاوٴ گے اھل بیت علیهم السلام کو کشتی ٴ نوح کی مانند کھنا ستارگان آسمانی سے تشبیہ دینا قرآن واھل بیت علیهم السلام کو خلیفہ رسول بتانا۔ اس کے علاوہ دیگر شواھد اس بات کی غماز ھیں کہ خدا اور ان کے درمیان ایک خاص رابطہ ھے۔ اور یہ کہ ان لوگوں کی امداد غیبی کی تائید کی گئی ھے۔ ان کا یہ خاص رابطہ انھیں دوسرے لوگوں سے ممتا ز رکھتا ھے۔ اسی وجہ سے ھم کھتے ھیں۔ ھمارے نزدیک جو امامت ھے وہ ایک سنت کے نزدیک خلافت خلفا سے جدا ھے اس لئے کہ دونوں کے درمیان تفاوت ذاتی ھے ھمارے نزدیک حقیقت امامت حقیقت نبوت ھے دونوں کے درمیان واحد فرق وحی کے نزول کا ھے۔ اس لئے کہ وحی صرف انبیاء ورسل سے مخصوص ھے ھر چند کہ الٰھی وغیبی امداد کا سلسلہ باقی ھے۔([113]) ھادیان دین تمام الٰھی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں نبی و پیغمبر کے قائم مقام ھیں۔اور امامت کے بارے میں یہ نظریہ اھل سنت کے نظریئے کے بالکل خلاف ھے کیونکہ ان کے نزدیک ظاھری سیاست و رھبری (ھی امامت ھے )عدالت و عصمت کی کوئی شرط نھیں ھے۔ بھر حال حدیث ثقلین امامت کے سلسلہ میں آل محمد کے لئے جو کہ شیعی نظریہ ھے اس کی تائید و تصدیق کرتی ھے اور یہ (آل محمد )سیاسی، دینی تمام امور میں پیغمبر کی مانندھیں۔ بس فرق اتنا ھے کہ ھر بزرگوار قوانین اسلام کو پیغمبر سے حاصل کرتے ھیں اور تمام امور میں ان کا اتباع کرتے ھیں اور انھیں کے نور سے فیضیاب ہوتے ھیں اور آپ کی امت کے لئے آپ کے جانشین ھیں۔لھٰذا تمام صفات و کمالات پیغمبر آل محمد علیهم السلام سے مخصوص ھیں لوگوں کی رھبری وحکومت ان کی صفات کا ایک جز ھے لھٰذا حقیقت امامت کے سلسلے میں جو ھمارا نظریہ ھے وہ برادران اھل سنت کے نظریئے سے بالکل الگ ھے۔ حدیث ثقلین ھمارے (شیعی)ٌ نظریئے کے مطابق ھے اور عقل ودلائل عقلی ھمارے اس نظریئے کی تائید کرتی ھیں۔ دوسروں کے مقابل اعتقادی مسائل میں شیعیت کا امتیاز یہ ھے کہ غیبی رابطہ اور عوام الناس کے لئے آسمانی دروازوں کے کھلنے کا سبب آل محمد علیهم السلام کو جانتے ھیں۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:بے شک خدا بندوں کے امور کو انجام دینے کے لئے جب کسی بندے کا انتخاب کرتا ھے تو اس کو شرح صدر عطا کرتا ھے، حکمت کے چشمہ کو اس کے دل میں جاری کردیتا ھے، اس کو علم ودیعت کرتا ھے پھر وہ جواب دینے میں پیچھے نھیں رھتا اور حق وحقیقت کو بیان کرنے میں عاجز وپریشان نھیں ہوتا۔ ([114]) ۱۰۔بے شک عترت طاھرہ کی پیروی اسی طرح واجب ھے جس طرح قرآن کا اتباع فرض ھے۔ اور حدیث ثقلین سے یھی بات سمجھ میں آتی ھے۔ لھٰذا وہ محبت و مودت جو ان کی پیروی سے ھم آھنگ نہ ہوبے سود ھے۔ اھل بیت علیهم السلام کو قرآن کے مساوی وھم پلہ قرار دینا سبقت لے جانے اور پیچھے رہ جانے سے روکتا ھے اور آپ کا یہ فرماناکہ(اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھرگز گمراہ نہ ہوگے)اس محبت پر جو اطاعت کے شانہ بشانہ ہو دلالت کرتا ھے۔ اور یہ بات اظھر من الشمس ھے کہ عترت طاھرہ سے تمسک کا مطلب ان کے احکامات ونواھی پر عمل کرنا اور ان کی سیرت پاک پر عمل پیرا ہونا ھے۔ یھی وجہ ھے کہ تفتازنی کے حوالے سے یہ بات نقل کی جاتی ھے کہ حدیث ثقلین کے بیان کے بعد کھا ھے۔کیا تم لوگ نھیں دیکھ رھے ہو کہ رسول اکرم(ص)  نے اھل بیت علیهم السلام کو کتاب خدا سے متصل رکھا ھے۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ قرآن سے تمسک ضلالت و گمراھی سے نجات کا ذریعہ اور قرآن سے تمسک کا مطلب یہ ھے کہ اس کو پکڑے رھنے، اس کے علم وھدایت سے مستفید ہونے کے سوا کچھ نھیں ھے۔ پھر عترت سے تمسک بھی اس کے سوا کچھ نھیں ھے۔ ([115]) ابن حجر کھتے ھیں: بےشک پیغمبر نے (لوگوں) کو ان کی اطاعت و پیروی اور ان سے تمسک وحصول علم کی بھت تاکید کی ھے۔ ([116]) ا ب تک بیان شدہ مطالب کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ھے کہ جس طرح سے دستورات قرآن کی پیروی واجب ھے اسی طرح اھل بیت علیهم السلام کے اوامر ونواھی کی اطاعت بھی واجب ھے۔ یہ فکر بالکل غلط ھے کہ ان کے اوامر ونواھی وھی قرآن کے اوامر ونواھی ھیں اسی وجہ سے ان کی پیروی واجب ھے بلکہ حقیقت یہ ھے کہ یہ اولیاء خدا ھیں اور امور مسلمین پر حق حکومت کی بنا پر کوئی حکم فرماتے ھیں یا کسی بات سے منع کرتے ھیں تو یہ امر ونھی قرآنی احکامات سے زیادہ وسیع ھے۔ اور حدیث ثقلین نے ان کے اوامر ونواھی کے ابتاع کو جو واجب قرار دیا ھے تو یہ وجوب ان کی ولایت مطلقہ پر دلالت کرتا ھے۔ ([117]) عبقات الانوار میں اس بات کی طرف رھنمائی کی گئی ھے اور حقیقت سے آگاہ بھی کیا گیا ھے جھاں یہ کھا ھے کہ۔ حدیث ثقلین کا مفہوم اھل بیت علیهم السلام کے تمام اقوال وافعال اور احکام واعتقادات کی پیروی کرنا ھے۔ اور یہ بات ظاھر ھے کہ یہ شان وفضیلت صرف اس کے لئے ھے جو بعد حیات پیغمبر زعامت کبریٰ اور امامت عظمیٰ کا حامل ہو۔([118]) سید شرف الدین ۺ فرماتے ھیں کہ۔ اھل بیت کرام کی پیروی کے لئے احادیث صحیحہ متواتر ھیں۔خاص طور سے وہ روایات جو عترت طاھرہ سے نقل ہوئی ھیں۔(I[119]) لھٰذا حدی-ث کو صرف مودت واحترام پر حمل کرنا اور ان کی اطاعت وپیروی کو اھمیت نہ دینا، اھل بیت علیهم السلام و قرآن کو ھم پلہ سمجھنے اور ان پر سبقت نہ لے جانے اور پیچھے نہ رہ جانے کے منافی ھے اور ان دونون سے تمسک کرنے کے سلسلے میں موجود شواھد کے برخلاف ھے۔ مذکورہ باتوں سے واضح ہوتا ھے کہ قرآن و عترت پیشوا قرار دیئے گئے ھیں تاکہ ان کی اقتدا کی جائے اور اس بات پر حدیث ثقلین پوری وضاحت سے دلالت کرتی ھے۔  جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:رسول اکرم(ص)  نے اپنے آخری خطبے میں قرآن وآل محمد علیهم السلام کی پیروری کا حکم دیا ھے۔ آپ نے فرمایا:بےشک تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں ثقل اکبر وثقل اصغر ثقل اکبر کتاب خدا اور ثقل اصغر میری عترت ھے ان دوچیزوں میں میری مدد کرو اگر ان سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ([120]) ۱۱۔صاحب مجمع الزوائد نے جو نقل کیا ھے کہ (عترتی) کہ جگہ (سنتی)کاکلمہ آیا ھے تو اس سے متواتر روایات میں جو لفظ (عترتی اور اھل بیتی ) آیا ھے اس کے درمیان کوئی منافات نھیں ھے۔ مجمع الزوائد میں تمام اسناد کے ساتھ ابو ھریرہ سے روایت ھے کہ۔ رسول اکرم(ص)  نے فرمایا: بےشک تمھارے درمیان دو چیزوں کو بطور جانشین چھوڑ کر جا رھا ھوں کہ ان دونوں کی (ھمراھی) کے بعد ھر گزگمراہ نہ ہوگے۔ کتاب خدا، میرا نسب۔اور یہ دونون ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([121]) متواتر حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ رسول اکرم (ص) نے کتاب خدا اور عترت کو امت کے درمیان چھوڑ ا ھے۔ اس حدیث اور باقی متواتر احادیث کا طریقہٴ جمع یہ ھے کہ عترت سے مراد پیغمبر کے خاص الخاص اور نزدیکی افراد ھیں۔ کیونکہ نسب بالکل ھی قریبی افراد پر صادق آتا ھے اور نزدیکی افرا د حکم وموضوع کے ذریعہ مشخص ھیں۔اس لئے کہ جس کی پیروی گمراھی سے نجات کا ذریعہ ہو وہ پیغمبر کا ھر نزدیکی نھیں ہو سکتا بلکہ وہ نزدیکی افراد مراد ھیں جو کہ معصوم ھیں جیسا کہ اس بات پر بھت ساری نصوص موجود ھیں جن میں سے بعض کی جانب ھم نے اشارہ کیا ھے۔ یہ حدیث جس میں اس بات کا تذکرہ ھے کہ امت مسلمہ کو کتاب خدا اور سنت کی پیروی کا حکم دیا گیا ھے اور اس متواتر حدیث جس میں کتاب خدا و عترت کے سلسلے میں تاکید ھے کوئی تضاد نھیں ھے ۔ کیونکہ جامع اور حقیقی سنت(رسول) اھل بیت علیهم السلام کے علاوہ کسی اور کے پاس نیں ھے ۔ لھٰذا اگر ان احادیث کے نبی اکرم(ص)  سے صادر ہونے کے مان بھی لیں تو ان متواتر احادیث کے منافی ومخالف نھیں ھیں۔ اور یہ حدیث جو پیغمبر سے منقول ھے کہ۔ کتاب خدا میں جو کچھ تمھارے لئے بیان ھے اس کے ترک پر کوئی عذر قبول نھیں کیا جائے گا۔ اگر کتاب خدا میں کوئی حکم نہ ملے تو میری احادیث کی جانب رجوع کرو اور اگر احادیث میں موجود نہ ہوو تو میرے اصحاب سے سوال کرو کیونکہ یہ (ھدایت) میں ستاروں کے مانند ھیں۔ لھٰذا ان سے اگر کسی ایک سے بھی تمسک کر لیا تو گویا ھدایت پاگئے۔ اول:اھل سنت کے بزرگ علماء نے اس بات کو صراحتا ً کھا ھے کہ یہ حدیث جعلی اور گڑھی ہوئی ھے۔ صاحب عبقات نے ذکر کیا ھے کہ علماء اھل سنت کی ایک پوری جماعت نے اس حدیث کو جعلی،خفیف السند اور صحیح نہ ہونے کا اعتراف کیا ھے۔ ان میں سے احمد بن حنبل، بزاز، دار قطنی، ابن حزم، بھیقی نے مدخل میں، ابن عساکر، ابن جوزی، ابن دحیہ، ابو حیان، ذھبی،ابن میشم، ابن حجر عسقلانی ھیں۔ پس وہ حدیث جو خفیف السند ہو اس کا حدیث ثقلین کے ساتھ کیونکر تعارض ہو سکتا ھے جو کہ متواتر اور قطعی الصدور ھے۔ دوم: یہ حدیث اجماع و ضرورت دین کے خلاف ھے جیسا کہ علامہ میر حامد حسین ھندی نے اس جانب اشارہ کیا ھے۔ انھوں نے کھا ھے کہ بلاشبہ حدیث نجوم رسول خدا(ص)  کے تمام اصحاب کی صلاحیت اور اس بات کو ثابت کرتی ھے کہ سب کے سب امت کی ھدایت کرنے والے ھیں اور یہ چیز بالا جماع غلط ھے کیونکہ اصحاب رسول کی ایک بڑی تعدادنے بھت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس حدیث میں تمام اصحاب کی صلاحیت کا اثبات ھی اس کے جعلی اور منگڑھت ہونے کی سب سے بری دلیل ھے کیونکہ ان میں سے بھت سے بلکہ اکثر صحابیوں میں اس کی قطعی اھلیت نھیں پایٴی جاتی۔ اس کے علاوہ خود قرآن میں بھی صحابیوں کے ایک بڑے گروہ کے بد کردار ہونے کی بات کی گئی ھے خاص طور پر سورہٴ انفال، برائت،احزاب،منافقین،اور جمعہ میں اس کا مشاھدہ کیا جا سکتا ھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ اس بات کے مد نظر یہ کھاں سے صحیح ہوگا کہ رسول خدا(ص) و تمام اصحاب کو امت کی قیادت کا ذمہ دار اور ھدایت کا اھل قرار دیں۔ جبکہ کچھ اصحاب غلط رویئے اور مذموم صفات کے حامل تھے۔ اس کے ساتھ ھی پیغمبر اسلام(ص)  سے بھی کچھ صحابیوں کی مذمت میں بھت سی احادیث نقل ہوئی ھیں جنھیں اھل سنت کی کتب صحاح میں بخوبی دیکھا جا سکتا ھے۔ حدیث حوض، حدیث ارتداد، حدیث لا ترجعوا بعدی کفارا،حدیث الشرک اخفی من دبیب النمل،حدیث لا دری ما تحدثون بعدی،حدیث ابتاع سنن الیھود والنصاریٰ، حدیث التنافس، حدیث ان من اصحابی من لایرنی بعدی ولا اراہ،حدیث ان فی اصحابی منافقین، وحدیث قد کثرت علی الکذابہ وغیرہ ۔۔۔ایسی حدیثیں ھیں جو بعض اصحاب کی برائی ومذمت میں نقل کی گئی ھیں خود اھل سنت کی کتابوں میں ایسی حدیثوں کو نقل کیا گیا ھے۔ جن میں رسول خدا(ص)  نے بعض صحابیوں کی پیروی کرنے سے منع کیا ھے۔ مثال کے طور پر یہ حدیث کہ بلاشبہ جوا ن لوگوں کاابتاع کرے گا جھنمی ہوجائے گا۔ حنفی نے کھا ھے کہ آنحضرت نے فرمایاھے:میرے صحابیوں میں گمراھی کا وجود ھے لیکن خدا ان کے ماضی کے مد نظر انھیں بخش دے گا لیکن اگر اس کے بعد کسی گروہ نے ان کی پیروی کی تو خدا اسے جھنم میں ڈالے گا۔ ([122]) سوم:اگر ھم اس حدیث کو صحیح مان بھی لیں تب بھی اس میں اور حدیث ثقلین میں کوئی تضاد نھیں ہوگا کیونکہ یہ حدیث ایک طرح سے حدیث ثقلین کے معنی کی تاکید کرتی ھے۔حدیث میں خدا کی کتاب پر عمل معین کر دیا گیا ھے اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ھے کہ قرآن میں مذکورہ باتوں کے ترک کے لئے کسی کے پاس کوئی جواز نھیں ھے اور قرآن میں کسی حکم کے موجود نہ ہونے کی صور ت میں سنت پر عمل ضروری ہوتا ھے۔ اور اگر سنت میں بھی کسی خاص عمل کے حکم کا کوئی ذکر نہ ہو تو پھر اصحاب کی جانب رجوع کرنے کو کھا گیا ھے۔ اس صورت میں واضح ھے کہ حقیقی سنت اھل بیت پیغمبر کے پاس رھی ھے اور اس طرح سے ان کی پیروی کا واجب ہونا بھر حال کسی اور سے زیادہ اھم ھے لہٰذ ا عترت کی موجودگی میں اصحاب کی پیروی کا کوئی سوال ھی پیدا نھیں ہوتا۔ چھارم: بلا شبہ احکام کے سلسلے میں اصحاب کے درمیان اختلاف پایا جاتا ھے اور صحابہ کی اکثریت احکا م سے نابلد ھے اور اپنے جھل کا اعتراف بھی کرتے ھیں۔ تو ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ھے کہ رسول اکرم (ص) ایسے افراد کو مرجع ملت قرار دیں اور لوگوں کی ھدایت کی خاطر ایسے افراد کو معین فرمائیں۔ اس سے بڑھ کر بھت سارے حرام امور جیسے شراب فروشی، زباوغیرہ کے مرتکب اصحاب بھی تھے جس کوصاحب عبقات نے ذکر کیا ھے۔ ([123]) خدا کی پناہ ھم پیغمبر اسلام(ص)  کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دیں کہ آپ نے ایسے صحابہ کی طرف مراجعہ کا حکم دیا ھے۔ جب کہ خدا نے آپ کو لوگوں کی ھدایت و نجات کے لئے مبعوث فرمایا ھے: رسول اکر م(ص)  سے کھیں بالا ومنزہ ھیں کہ ان کی جانب ایسی باتوں کی نسبت دی جائے۔ جب کہ عقل ونص متواتر اس بات پر دلالت کرتے ھیں جن میں سے حدیث ثقلین بھی ھے جوا س بات پر روشن دلیل ھے کہ وھاں گمراھی کا مکان نھیں ھے اور (ان سے تمسک کی صورت میں)امت مسلمہ کے لئے گمراھی ممکن نھیں۔جو کوئی بھی اس قسم کے خرافات میں ملوث ہوگا گویا وہ راہ حق وعدل سے ہٹا ہوا ھے اور وہ قعر مذلت، حسد،دشمنی اور رقابت، بد کرداریوں میں گرفتار ھے۔ جبکہ پیغمبر اسلام(ص)  نے ان امور سے سخت ممانعت فرمائی ھے اور لوگوں کو روکا ھے اور اس بات پر تاکید فرمائی ھے کہ (بے شک میں تم لوگوں کو ان دو امور۔ ۱۔کتاب۔۲۔عترت کے سلسلے میں ذمہ دار سمجھتا ھوں )۔([124]) ۱۲۔بےشک حدیث ثقلین بعد حیات رسول عترت طاھرہ کے لئے امامت بلا فصل پر دلالت کرتی ھے لھٰذا صرف یھی اتباع کے لائق ھیں، متواتر احادیث اور روایات میں روشنی میں یہ بات ظاھر ہوتی ھے کہ رسول اکرم(ص)  نے مولای متقیان امیر الموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اپنے بعد اپنا وصی خلیفہ اور ولی مقرر فرمایا ھے۔ اسی وجہ سے سید مرتضیٰ نے محکی الشافی میں فرمایا : بےشک حدیث ثقلین بعد حیات رسول امیر الموٴمنین علیه السلامکی خلافت بلا فصل پر دلالت کرتی ھے۔ ([125]) ۱۳۔ صادق اور امین رسول کے حدیث ثقلین میں فرمان کے مطابق قرآن و عترت سے تمسک سبب ھدایت ھے۔ اسی وجہ سے شیعوں کو ضلالت یا رفض جیسے اتھام لگائے گئے اور اس میں کسی قسم کا گھا ٹا یا نقصان نھیں کیونکہ رسول کا قول ھر طرح کی خطاو نسیان سے منزہ ھے اور بات پر بھت ساری روایات تاکید کرتی ھیں۔ شیعہ فرقہ کامیاب ھے اس بات پر روایت گواہ ھے مگر(ھمیں اس خوش فھمی میں مبتلا ہو کر خود کو غافل نھیں کرنا چاھیئے ) آخر میں پیش پروردگار دعا گو ھوں کہ خدا ھمارے برادران کو حدیث ثقلین میں غور وخوض کی توفیق عنایت فرمائے اور حقیقت حال یہ ھے کہ حدیث ثقلین مشعل راہ ھے جس کو رسول نے لوگوں کے سامنے پیش کیا ھے تاکہ ملت تفرقہ اور گمراھی کا شکار نہ ہو اور ٹکڑوں میں نہ بٹے اور ایمان و عقیدہ میں متحد رھیں۔ خدایا ھم کو اور تمام برادران اسلامی کو قرآن وعترت کے متمسکین میں قرار دے۔ آمین یا رب العالمین سید محسن خرازی                                         [1] ان تمسکتم بھمالن تضلوا ابدا وانھمالن یفتر قاحتی یردا علی الحوض۔ [2] قرآن و عترت ایک دوسرے کی ضرورت نھیں ھے اور ھدایت خلق میں ایک دوسرے کے ممدّ و معاون ھیں۔ کسی ایک سے دوسرے کے بغیر انحراف و گمراھی ھے۔ [3] غاتیہ المراض ۲۱۱ طبع بیروت دررالقاموس الحدیث [4] نفحات الازھارفی خلاصة عبقات الانوار۔ ص۔۲۱۰۔۲۱۹ طبقع اولی ۴۱۴ (عبقات الانوار، ج۔ ۱ طبقع اول ص ۱۳۹۸ طبقع قم از صفحہ ۱۳ تا صفحہ ۲۵ [5] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲ طبقع قاھرہ (مصر) طبقع دوم ۱۹۶۵ صفحہ ۲۲۸ [6] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲صفحہ ۱۵۰ طبقع قاھر(مصر) طبقع دوم [7] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲ صفحہ ۱۵۰ طبقع قاھر(مصر) طبقع دوم [8] حدیث ثقلین تواتر کے ساتھ ذکر ھیں۔ [9] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲ طبقع قاھرہ (مصر) طبقع دوم ۱۹۶۵ صفحہ۔ ۲۲۸ [10] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۲۲۷۔۲۳۶ [11] غاتیہ المرام صفحہ ۲۳۱ [12] نفحات الازھار جلد ۱ صفحہ ۴۹۱ [13] نفحات الازھار جلد ۱ صفحہ۴۹۳ [14] یہ بات فیض الغد یر میں جلد ۲ صفحہ ۱۵ پر ان کے حوالے سے نقل کی گئی ھے۔ [15] نفحات الازھار جلد ۱ صفحہ۴۸۳ [16] قصویٰ۔ تیز رفتاری کے باعث اس کو قصویٰ کیا جاتا تھا۔ [17] سنن ترمزی جلد ۵ صفحہ، ۳۲۷۔ ۳۲۸ شمارہٴ حدیث ۳۸۸۴ [18] یہ بھت مشہور خطبہ ھے جو کہ حجہ الوداع میں ارشاد فرمایا ھے۔۔ [19] بصریٰ شام کے ایک شھر کا نام ھے صنعایمن کا ایک قصبہ ھے۔ اور وازہٴ شام کا ایک گاوٴں ھے۔ [20] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۰۹ مسندنسائی۔ کتاب الخصائص صفحہ۱۵۰ [21] صحیح مسلم جلد ۵ صفحہ ۲۵ ش۔ ۲۴۰۸ [22] المعجم الکبیر۔۵۔ صفحہ ۱۶۶۔ ۴۹۶۹ ّ( ابن حجر نے صواعق محرقہ میں صفحہ ۴۳ پر درج کیا ھے (طبع قاھرہ) [23] احقاق الحق جلد ۹ صفحہ ۳۵۵ [24] المسجّہ۔ انگشت شھادت [25] ینابیع المودة صفحہ ۱۱۷۔ ۱۱۶۔ طبع استانبول (ترکی) [26] غیتہ النمانی صفحہ ۴۳ [27] ارجح المطالب صفحہ ۳۱۴ طبع الاہور (پاکستان) [28] ینابیع المودة صفحہ ۳۸ [29] ھم نے ابن حجرسے نقل کیا ھے کہ حدیث ثقلین مختلف طرق سے روایت ہوئی ھے۔ صواعق محرقہ صفحہ ۲۲۸ طبقع قاھرہ۔ [30] حدیث ثقلین۔ آقای شیخ قوام الدین و شنوی صفحہ ۱۴۔ ۱۳۔ صواعق محرقہ صفحہ ۱۵۰ طبقع قاھرہ۔ [31] ینابیع المودة صفحہ ۳۷۔ ۳۸ [32] المناقب لابن مغازلی صفحہ ۱۱۲۔ ۱۱۵ [33] امیر المومنین(ع) نے عترت نبی اکرم کے بارے میں فرمایا۔ تم لوگ کھا جارھے ہو۔ تمھارا رخ کس جانب ھے۔ پرچم حق لھرا رھا ھے اس کی علامتیں آشکار ھیں۔ جبکہ ھدایت کے چراغ روشن ھیں لوگ بھیک کر کھاں جارھے ہو۔ کیوں سر گردان ہو۔ درآں حالیکہ عترت رسول تمھارے درمیان وہ ھے (عترت رسول) زمام حق، پرچم دین، اور زبان صدق ھیں۔ اور وہ بھترین منزل، (پاک و پاکیزہ دل ) جھاں قرآن کو محفوظ رکھتے ھیں ان کو وھیں محفوظ کر لو۔ پیاسوں کی مانند اس کے شفاف چشمے پر ٹوٹے پڑو۔ اے لوگو! اس حقیقت کو پیغمبر اسلام سے سیکھو کہ (جو کوئی ھم سے مرتا ھے وہ در حقیقت مرتا نھیں۔) اور ھم میں سے کوئی چیز پورانی نھیں ہوتی۔ پس جس چیز کا علم نھیں رکھتے اس کے بارے میں کچھ نہ کہو کیونکہ بھت سارے حقایق ایسے میں ہوتے ھیں جن کا تم انکار کرتے ہو اور جس کے خلاف کوئی دلیل نھیں رکھتے ہو اس سے غدر خواھی کرو اور وھی ھوں ۔ کیا میں نے تمھارے درمیان ثقل اکبر (قرآن) پر عمل نھیں کیا اور ثقل اصغر (عترت رسول) کو تمارے درمیان زندہ نھیں رکھا؟کیا پرچم ایمان کو تمھارے درمیان نصب نھیں کیا ؟ کیا حلال و حرام سے تم کو آگاہ نھیں کیا؟ کیا ایسا نھیں ھے کہ لباس عافیت کو (عدل) کے ساتھ تمھارے زین تن نھیں کیا؟ اور نیکوں کو اپنے قول و فعل سے تمار ھے درمیان پھلایا اور انسانی اخلاقی ملکہ سے تمھیں روشناس کرایا۔ لھٰذا اپنے وھم وگمان کو ایسی جگہ استعمال نہ کرو جس کی گھرائی تمھاری آنکھیں دیکھ نھیں سکتی۔ اور پرواز فکر پھنچ نھیں سکتی۔ ینابیع المودة صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۶ باب ۱۳۸ لمعحم المفھرس الفاظ نھج البلاغہ ،صفحہ۔ ۳۷ حصہ خطبات۔ خطبہ ۸۷ [34] ینابیع المودة صفحہ۲۱ [35] مسند اضمد جلد ۳ صفحہ ۱۷ [36] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۰۹ [37] مستدرک احمد ابن حنبل جلد ۴ صفحہ ۳۶۷ [38] ینابیع المودة صفحہ ۱۱۷۔ ۱۱۶ [39] ارحج المطالب صفحہ ۳۴۱ [40] المعجم الکبیر جلد ۳ صفحہ ۶۳ حدیث ۲۶۸۱ کے ذیل میں۔ [41] باب حطہ سے مرادار۔ یحایابیت المقدس ھے۔ [42] نفحات الازھار۔ نقل ازکتاب الاربعین فی فضائل امیر امومنین مخطوطہ جلد ۱ صفحہ ۳۷۴ [43] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ ۱۴۴ [44] احیاء المیت؟؟ للسیوطی صفحہ ۶۴ طبع دارالعلوم صفحہ ۴۸ طبع بیروت [45] مجمع الزوائد صفحہ ۱۶۲ [46] المعجم الکبیر للطبرانی جلد ۵ صفحہ ۱۶۷ حدیث ۴۹۷۱ کے ذیل میں۔ [47] حلتیہ الاولیاء جلد ۹ صفحہ ۱۶۴ حیاء المیت صفحہ۵۷۔۵۸ طبع دارلعلوم صفحہ ۳۸ طبع بیروت [48] اِنی اوشک ان ادعیٰ فاجیب۔ [49] اِن اللہ عزوجل اوحیٰ انی مقبوض۔ [50] اِنی تارک فیکم خلیفتین۔ مسند احمد بن خنبل جلد ۵ صفحہ ۱۸۲۔ ۱۸۹ ینابیع المودة صفحہ ۳۸ [51] ایھاالناس اِنی ترکت فیکم الثقلین خلیفتین۔ نفحاالازھار جلد ۱ صفحہ ۴۵۹ از تفسیر انوری (مخلوط) [52] اِنی مخلف فیکم الثقلین سمطة النجوم۔ العوالی، جلد ۲ صفحہ۵۰، نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۱۰۹ [53] قد خلفت فیکم الثقلین۔ پنابیع المودة صفحہ ۳۹ [54] قیاس سے مراد۔قیاس مستنبط العلة یعنی جب مقید آیات واحادیث میں کسی قسم کی علت نہ پائے تو اپنے پاس سے ایک علت گھڑ لے، رسول اکرم(ص)  نے ارشاد فرمایا:دین میں قیاس نہ کرو کیونکہ قیاس کے ذریعہ دین کو نھیں سمجھا جا سکتا اور پھلا وہ شخص جس نے قیاس کیا تھا ابلیس تھا،آپ نے فرمایا:جو کوئی دین میں قیاس کرے گا گویا اس نے مجھ پر افترا پردازی کی۔ایک دفعہ ابو یسف اھل سنت کے معروف فقیہ نے دوران حج امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ملاقات کی اور عرض کی۔آپ کیا فرماتے ھیں:اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مُحرم کجاوے میں سوار ھے تو کیا سایہ میں جا سکتا ھے۔ آپ نے فرمایا:نھیں۔ اس نے کھا اگر خیمہ میں ھے تو کیا خیال ھے؟آپ فرمایا:ھاں۔ [55] استحسان کا معنی یہ ھے کہ کسی حکم کا اثبات اور صورت میں کرے کہ اس کو وہ حکم پسند ھے بغیر اس کے کہ اس پر کوئی شرعی دلیل ہو۔ [56] ابن عبد البر نے کتاب جامع بیان العلم و فضلہ میں لکھا ھے کہ۔ عمر بن خطاب نے سنت کو لکھنا چاھا مگر پھر ان کا نظریہ تبدیل ہو گیا لھٰذا انھوں نے تمام (دور و نزدیک کے)شھروں میں یہ حکم لکھ بھیجا کہ جتنی چیزیں بھی سنت سے متعلق لکھی گئی ھیں ان کومٹا دیا جائے۔جامع بیان العلم جلد ۱صفحہ ۶۵ نقل از کتاب۔ فاسئلو اھل الذکر۔سماوی تیجانی صفحہ ۶۱تا۲۳۔ [57] عمر بن عبد العزیز جب حکومت پر قابض ہوا تو اس نے ابوبکر حزمی سے خواھش ظاھر کی کہ احادث و سنت نبوی اور عمر بن الخطاب کی باتوں کو لکھ ڈالے۔ کتاب سنت واقعی جلد۱ صفحہ ۹۴۔ [58] امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا:کہ ھمارے پاس ایک ایسی مکمل کتاب ھے جس کو طول ستر (۷۰) ھاتھ ھے پیغمبر کی زبانی امیر المومنین(ع) علیه السلام کی تحریریں ھیں اور کوئی ایسا حلال و حرام نھیں ھے کہ لوگ اس کی ضرورت محسوس؟؟ کرتے ھوں اور اس میں نہ ہواور ھر طرح کے حکم حتی ھلکی سی خراش کے بارے میں بھی حکم موجود ھے۔ اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۲۳۹۔ کتاب بصائرالدرجات صفحہ ۱۴۵۔ ۱۴۴۔ بجاری نے خود اپنی صحیحہ میں لکھا ھے کہ یہ کتاب علی علیه السلام کے پاس تھی اور اس بات کا کئی باب میں تکرار بھی کیا ھے۔ لیکن اپنی عادت کے تحت ان مطالب کو کسی بھی فصل یا باب میں ذکر نھیں کیا ھے۔۔ صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۳۶ صحیح بخاری جلد۲ صفحہ ۲۲۱ جلد۴ صفحہ ۶۷ صحیح مسلم جلد ۴ صفحہ ۱۱۵۔ اھل سنت واقعی جلد ۱ صفحہ ۸۴۔ [59] جامعة الاحادیث جلد ۱ صفحہ ۱۲۔ ۷ [60] ارجح المطالب صفحہ ۳۴۱ ہور نقل از کتاب احقاق الحق جلد ۹ صفحہ ۱۳۷ [61] نھج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام خطبہ ۱۷۶۔ [62] اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۴۴۹۔ [63] غایة المرام صفحہ۲۲۶ روایت ۳۶۔ [64] اس لئے کہ دوسرے افراد کسی بھی میدان میں ان کے مد مقابل آنے کی سکت نھیں رکھتے ھیں۔ [65] نھج البلاغہ خطبہ ۲ ترجمہ فیض الاسلام ۔ [66] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ۱۴۵۔ [67] تہذیب اللغةجلد ۹ صفحہ ۲۸۔ [68] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۲۵۱ [69] النھایہ۔ ابن اثیر جلد ۳ صفحہ ۷۷ا عترت الرجل۔ اخص اقاربہ [70] سورہٴ احزاب آیت ۳۳۔ [71] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۷۶۔۳۷۵۔ [72] الکمال فی الرجال جلد ۶ صفحہ ۲۰۸۷ طبع بیروت نقل از احقاق الھق جلد ۲۴ صفحہ ۶۰، ۵۹۔ [73] احقا ق الحق جلد ۲صفحہ ۵۱۹ از تلخیص مستدرک۔ مستدرک کے ذیل میں طبع ہوئی جلد ۳ صفحہ ۴۱۶ طبع حیدر آباد ۔ [74] آل عمران آیہ ۶۱۔ [75] صحیح مسلم جلد ۴ صفحہ۱۸۷۱۔مسلم تر مذی وابن المنذر اور حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعید ابن ابی وقاص سے روایت کی ھے کہ جب آیہ <قل تعالوا۔۔۔>نازل ہوئی تو رسول نے علی،فاطمہ حسن حسین علیھم السلام کو طلب فر مایا:اور کھا خدا یا یہ میرے اھل بیت علیهم السلام ھیں۔ احقاق الحق جلد ۳ صفحہ ۵۹۔۵۸۔ [76] تذکرة الخواص صفحہ ۲۹۰۔ [77] احزاب آیت ۳۳۔ [78] کفایة الطالب صفحہ ۵۴۔ [79] نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۳۴۱۔۳۴۷۔ [80] عیون اخبار الرضا جلد۱ صفحہ۴۶ حدیث ۲۵۔ [81] آل عمران آیت ۱۰۳۔ [82] طبقات الکبریٰ جلد ۲ صفحہ۱۹۴۔ [83] آلاء الرحمٰن صفحہ ۳۲۲ [84] سورہ آل عمران آیت ۱۰۱ [85] (نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۲۵۴ ینابیع المودة جلد ۱ صفحہ ۱۱۸ ) [86] غیبة النعمانی صفحہ ۴۳۔۴۲۔ [87] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۹ صفحہ ۱۳۳۔ [88] ینابیع المودة صفحہ۲۷۔۱۹۔ [89] فضائل احمد صفحہ ۲۶۷۔۱۸۹۔ [90] امالی طوسی صفحہ ۳۷۹۔۸۱۲۔ [91] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ ۵۶۲۔۳۱۲۔ [92] مقتل الحسین صفحہ ۱۴۶۔ [93] صحیح مسلم جلد ۳ش۔ ۱۴۵۲۔ [94] فرائد السمطین جلد ۲صفحہ ۱۵۰۔ [95] نفحات الازھار جلد۲صفحہ ۲۶۲۔از جواھر العقدین مخلوط فیض القدیر جلد۳ صفحہ ۱۵۔ [96] صواقع محرقہ صفحہ ۲۳۲۔ [97] صواعق محرقہ صفحہ ۲۳۲ طبع قاھرہ ۱۵۱۔ [98] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۲۴ فرائد السمطین جلد۱ صفحہ ۱۷۶۔۱۳۸۔ [99] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۲۵۔۱۲۴نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۲۶۷۔ [100] احیاء المیت صفحہ ۳۲۔۳۰ طبع بیروت صفحہ ۲۵۔ ۲۴۔ [101] کشتیٴ نوح سے تشبیہ کی وجہ یہ ھے کہ جوان سے محبت کرتا تھا اور عترت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس نعمت پر خدا کی تعریف و تمجید کرتا تھا اور عالموں کی ھدایت سے بھرہ مند ہوا ظلمت و تیرگی سے محفوظ رھا اور جو اس سے رو گردانی کرے گا کفران نعمت کے دریا میں غرق ہوگا اور اس کی بپھر ی موجوں کی نذر ہو جائے گا۔ [102] مستدر ک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۵۱۔ [103] باب حطہ سے تشبیہ کی وجہ یہ ھے کہ خدا نے(باب حطہ) میں داخل ہونے والے افراد کو جو کہ( باب اریحا)یا (بیت المقدس )ھے سکون واطمینان اور گناھوں کے طلب مغفرت پر ان کے لئے معافی دو گذر کا راستہ کھول دیا تھا اور اس امت کے لئے آل محمد کی محبت ومودت کو گناھوں کی بخشش کا ذریعہ بتا یا ھے۔ ثم اھتدیت۔ سماوی تیجانی صفحہ ۲۶۸۔ [104] المعجم الصغیر جلد ۲ صفحہ ۲۲۔ [105] المراجعات صفحہ ۳۴۔ [106] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۲۶۹۔ ۲۶۸ [107] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۷۷۔۳۷۶۔ [108] ھما حبل ممدود من السمآء بینکم وبین اللہ عزوجل ۔ [109] سبب منہ بید اللہ وسبب بایدیکم [110] انمھا لن یفترقا حتی یردا علی الحوض [111] ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا۔۔۔ [112] ھذا علی مع القرآن والقرآن مع علی لا یفترقان۔ [113] وحی نبوت کے اختتام پر یہ سلسلہ ختم نھیں ہوتا ۔ [114] کافی جلد ۱ صفحہ ۱۵۷۔ [115] شرح المقاصد جلد ۲ صفحہ ۲۲۲نقل از نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۲۴۸۔ [116] صواعق محرقہ صفحہ ۲۳۱طبع قاھری صفحہ ۱۵۱۔ [117] اگر یہ ولایت مطلقہ احکام الٰھی کے دائرے میں(قرآن وسنت و عقل والھام خدا وندی اور اس کے بڑھ کر رضایت خدا کے ھمراہ )ھے۔ [118] نفحات الازھار جلدد۲ صفحہ ۲۴۷۔ [119] المراجعات صفحہ ۲۵۔ [120] غایة المرام صفحہ ۲۲۵حدیث۲۶۔ [121] مجمع الزوائد جلد ۹ صفحہ ۱۶۳،طبع مصر۔ [122] نفحات الازھار جلد ۳ صفحہ ۱۶۸۔ ۱۷۱ کنز العمال جلد ۱۱ صفحہ ۱۱۴ کے بعد ۔ [123] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۱۷۸۔ [124] حلیة الاولیاء جلد ۹ صفحہ ۶۴۔ [125] الشافی فی الامامہ جلد۳ صفحہ ۱۲۲۔

تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 21:33 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
پاسخ:

"عزت" در اصل آن حالتى است كه انسان را مقاوم و شكست ناپذير مى‏سازد، و از آن جا كه تنها خداوند است كه شكست ناپذير است، لذا تمام عزت از آن اوست، و هر كس عزتى كسب مى‏كند از بركت درياى بى‏انتهاى اوست.

در چند جای قرآن تصریح شده که تمام عزت نزد خداوند است: «إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَميعاً» (نساء، 139؛ یونس، 65؛ فاطر، 10) لذا اگر کسی به دنبال کسب عزت باشد راهی ندارد مگر این که خداوند آن را به او عطا فرماید؛ و در راستای ایمان و اطاعت از خداوند است که انسان دارای عزت می شود.

در حديثى پيامبر (ص) فرمودند: "ان ربكم يقول كل يوم: أنا العزيز، فمن أراد عز الدارين فليطع العزيز": پروردگار شما همه روز مى‏گويد: منم عزيز؛ و هر كس عزت دو جهان خواهد بايد اطاعت عزيز كند. (تفسير نور الثقلين، ج‏4، ص 352)

اگر مى‏بينيم در بعضى از آيات قرآن "عزت" را علاوه بر خداوند، براى پيامبر(ص) و مؤمنان قرار مى‏دهد "وَ لِلَّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنِينَ" (منافقون، 8) به خاطر آن است كه آنها نيز از پرتو عزت پروردگار كسب عزت كرده‏اند، و در مسير طاعت او گام بر مى‏دارند.

ضمنا مؤمن اجازه ندارد عزت نفس خود را جریحه دار نموده و خود را ذلیل و خوار کند. در روایت آمده: خداوند همه كارهاى مؤمن را به او واگذار كرده‏ جز اين كه به او اجازه نداده است كه خود را ذليل و خوار كند، مگر نمى‏بينى خداوند در اين باره فرموده: عزت مخصوص خدا و رسول او و مؤمنان است. سزاوار است مؤمن هميشه عزيز باشد، و ذليل نباشد. (نورالثقلين جلد 5 صفحه 336)

در روایتی از امام حسن(ع) آمده: "و اذا اردت عزا بلا عشيرة، و هيبة بلا سلطان، فاخرج من ذل معصية اللَّه الى عز طاعة اللَّه"؛ هر گاه بخواهى بدون داشتن قبيله، عزيز باشى، و بدون قدرت حكومت، هيبت داشته باشى، از سايه ذلت معصيت خدا بدر آى و در پناه عزت اطاعت او قرار گير! ("بحار الانوار" جلد 44، صفحه 139)



تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 21:29 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
بسيار برتر؛ بسيار رفيع القدر.

و آن صيغه مبالغه است.

آن جمعا يازده بار در قرآن مجيد آمده است:

هشت بار در وصف خداى تعالى، مثل: «وَ لا يَؤُدُهُ حِفْظُهُما وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» (بقره، 255)

يكدفعه درباره قرآن: «وَ إِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ لَدَيْنا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» (زخرف، 4)

و يكبار در وصف نام نيك يا شريعت پيامبران: «وَ وَهَبْنا لَهُمْ مِنْ رَحْمَتِنا وَ جَعَلْنا لَهُمْ لِسانَ صِدْقٍ عَلِيًّا» (مريم، 50)

و يكبار درباره مكان ادريس عليه السّلام: «إِنَّهُ كانَ صِدِّيقاً نَبِيًّا وَ رَفَعْناهُ مَكاناً عَلِيًّا» (مريم، 57)

اهل لغت آن را در علوّ مقام و علوّ مكان هر دو گفته‏اند ولى ظهور همه آيات در علوّ مقام است. غير از آيه فوق (مريم، 57(

راغب گفته: معنى "هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ" آن است كه برتر است از اين كه وصف واصفين، بلكه علم عارفين به او احاطه كند.

در مجمع آمده: "علىّ" در اصل از علوّ است، خداى سبحان به وسيله اقتدار و نفوذ سلطان برتر و بالاتر است.

واژه های الْأَعْلَى، الْمُتَعال، علّيّون، عِلِّيِّين و ... از یک خانواده هستند.
_________
)ر.ک: قاموس قرآن، ج‏5، ص 36، واژه علو(

تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 21:28 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

رمز ذکر "یا فتاح"


در بعضى از روایات روى ذكر "یا فتاح" براى حل مشكلات تكیه شده است، چرا كه این اسم بزرگ الهى كه به صورت صیغه مبالغه از "فتح" آمده بیانگر قدرت پروردگار بر گشودن هر مشكل و از میان بردن هر اندوه و غم، و فراهم ساختن اسباب هر فتح و پیروزى است، در واقع هیچ كس جز او "فتاح" نیست، و "مفتاح" و كلید همه درهاى بسته در دست قدرت اوست.


یا فتاح

قُلْ لا تُسْئَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنا وَ لا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ (سبا 25) قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنا رَبُّنا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنا بِالْحَقِّ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیمُ (سبا 26)؛ بگو: (شما) از آن چه ما مرتكب شده‏ایم باز خواست نخواهید شد، و ما(نیز) از آن چه شما انجام مى‏دهید باز خواست نخواهیم شد.

بگو: پروردگار ما، ما و شما را (در قیامت) گرد مى‏آورد، سپس بین ما و شما به حقّ داورى خواهد كرد و اوست داور دانا.

نكته جالب در این آیه این است كه اینجا پیامبر (صلی الله علیه وآله) مامور است در مورد خودش تعبیر به "جرم" كند، و در مورد مخالفان تعبیر به كارهایى كه انجام مى‏دهند! و به این ترتیب این حقیقت را روشن سازد كه هر كس باید پاسخگوى اعمال و كردار خویش‏ باشد، چرا كه نتایج اعمال هر انسانى چه زشت و چه زیبا به خود او مى‏رسد و طرز فكر توجیه گر دیگری كه قرآن به دفع و بطلان آن مى‏پردازد، این است كه انسان مى‏تواند عمل خود را به گردن دیگرى نهد. این كار اگر در دنیا ممكن باشد در آخرت هرگز ممكن نخواهد بود.

به عبارت دیگر آیه 25 سوره مباركه سبا دلیل محكمی است بر اینكه هیچ كس به گناه دیگران مؤاخذه نمی شود، و هر كس گروگان عمل خود خواهد بود چنانكه در آیه دیگری می فرماید: (كُلُّ امْرِئٍ بِما كَسَبَ رَهِینٌ) (سوره طور، آیه 21)

ضمنا اشاره لطیفى به این نكته نیز دارد كه اگر ما اصرار به راهنمایى شما داریم نه به خاطر این است كه گناه شما را پاى ما مى‏نویسند و یا شرك شما ضررى به ما مى‏زند، ما روى دلسوزى و حق‏جویى و حق‏طلبى بر این كار اصرار مى‏ورزیم.

واژه "فتح" به طورى كه "راغب" در "مفردات" مى‏گوید: در اصل به معنى از بین بردن پیچیدگى و اشكال است، و آن بر دو گونه است: گاهى با چشم دیده مى‏شود، مانند گشودن قفل، و گاه با اندیشه درك مى‏شود مانند گشودن پیچیدگى اندوهها و غصه‏ها، و یا گشودن رازهاى علوم، و همچنین داورى كردن میان دو كس و گشودن مشكل نزاع و مخاصمه آنها

آیه بعد در حقیقت بیان نتیجه دو آیه قبل است، زیرا هنگامى كه به آنها اخطار كرد كه یكى از ما دو گروه بر حق و دیگرى بر باطلیم، و نیز اخطار كرد كه هر كدام از ما مسئول اعمال خویشتن هستیم، به بیان این حقیقت مى‏پردازد كه چگونه به وضع همگى رسیدگى مى‏شود، و حق و باطل از هم جدا مى‏گردد، و هر كدام بر طبق مسئولیتهایشان پاداش و كیفر مى‏بینند، مى‏فرماید: "به آنها بگو پروردگار ما همه ما را در روز رستاخیز جمع مى‏كند، سپس در میان ما به حق داورى مى‏كند" و ما را از یكدیگر جدا مى‏سازد، تا هدایت شدگان از گمراهان باز شناخته شوند، و هر كدام به نتیجه اعمالشان برسند. (قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنا رَبُّنا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنا بِالْحَقِّ)

اگر مى‏بینید امروز همه با هم آمیخته‏اند و هر كسى ادعا مى‏كند من بر حقم و اهل نجاتم، این وضع براى همیشه ادامه پیدا نخواهد كرد، و روز جدایى صفوف سرانجام فرا خواهد رسید، چرا كه "ربوبیت" پروردگار چنین اقتضا مى‏كند كه "سره" از "ناسره" و "خالص" از "ناخالص" و "حق" از "باطل" سرانجام جدا شوند، و هر كدام در بستر خویش قرار گیرند.

اكنون بیندیشید در آن روز چه خواهید كرد؟ و در كدامین صف قرار خواهید گرفت؟ و آیا پاسخى براى سؤالات پروردگار در آن روز آماده كرده‏اید در پایان آیه براى اینكه روشن سازد این كار قطعا شدنى است مى‏افزاید:

"اوست داور و جدا كننده آگاه" (وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیمُ).

رب العالمین

این دو نام كه از اسماء الحسنى الهى است، یكى اشاره به قدرت او بر مساله جداسازى صفوف مى‏كند، و دیگرى به علم بى پایان او، چرا كه جدا ساختن صفوف حق و باطل از یكدیگر بدون این دو ممكن نیست.

تكیه كردن در آیه فوق بر روى عنوان "رب" (پروردگار) اشاره به این است كه خداوند مالك و مربى همه ماست، و این مقام ایجاب مى‏كند كه برنامه چنین روزى را فراهم سازد، و در حقیقت اشاره لطیفى است به یكى از دلائل "معاد".

واژه "فتح" به طورى كه "راغب" در "مفردات" مى‏گوید: در اصل به معنى از بین بردن پیچیدگى و اشكال است، و آن بر دو گونه است: گاهى با چشم دیده مى‏شود، مانند گشودن قفل، و گاه با اندیشه درك مى‏شود مانند گشودن پیچیدگى اندوهها و غصه‏ها، و یا گشودن رازهاى علوم، و همچنین داورى كردن میان دو كس و گشودن مشكل نزاع و مخاصمه آنها.

بنا بر این اگر در مورد جداسازى صفوف مخصوصا در آنجا كه همه با هم آمیخته‏اند این واژه به كار رفته، به خاطر همین است، چرا كه علاوه بر جداسازى در میان آنها قضاوت و داورى كه یكى از معانى فتح است نیز انجام مى‏گیرد و هر كدام را به آنچه استحقاق دارد جزا مى‏دهد.

قابل توجه اینكه در بعضى از روایات روى ذكر "یا فتاح" براى حل مشكلات تكیه شده است، چرا كه این اسم بزرگ الهى كه به صورت صیغه مبالغه از "فتح" آمده بیانگر قدرت پروردگار بر گشودن هر مشكل و از میان بردن هر اندوه و غم، و فراهم ساختن اسباب هر فتح و پیروزى است، در واقع هیچ كس جز او "فتاح" نیست، و "مفتاح" و كلید همه درهاى بسته در دست قدرت اوست.

 

پیام‏های آیات:

1ـ اصرار انبیا بر هدایت مردم، از روى دلسوزى است نه به خاطر آن كه جبران گناه مردم بر عهده‏ى انبیا باشد و یا بالعكس. «قُلْ لا تُسْئَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنا»

در بعضى از روایات روى ذكر "یا فتاح" براى حل مشكلات تكیه شده است، چرا كه این اسم بزرگ الهى كه به صورت صیغه مبالغه از "فتح" آمده بیانگر قدرت پروردگار بر گشودن هر مشكل و از میان بردن هر اندوه و غم، و فراهم ساختن اسباب هر فتح و پیروزى است، در واقع هیچ كس جز او "فتاح" نیست، و "مفتاح" و كلید همه درهاى بسته در دست قدرت اوست
2ـ تواضع و ادب وسیله‏ى موفقیّت است. (كار خود را «جرم» و كار دیگران را «عمل» معرّفى مى‏كند.) «أَجْرَمْنا ... تَعْمَلُونَ»

3ـ اگر ارشاد شما در دنیا مؤثّر واقع نشد، نگران نباشید زیرا در قیامت به حساب همه رسیدگى خواهد شد. «قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنا رَبُّنا»

4ـ روز قیامت، هم یوم الجمع است، (روز گرد آمدن همه‏ى مردم) «یَجْمَعُ بَیْنَنا» و هم یوم الفصل. (روز جدایى مجرمان از نیكان) «ثُمَّ یَفْتَحُ»

5ـ داورى در قیامت بر اساس حقّ است. «یَفْتَحُ بَیْنَنا بِالْحَقِّ»

6ـ توجّه به معاد، انسان را در موضع‏گیرى‏ها و عملكردها حفظ مى‏كند. «یَفْتَحُ بَیْنَنا بِالْحَقِّ» (پرونده‏ى همه‏ى حیله‏ها و نفاق‏ها و زد و بندها و پیچیدگى‏هاى سیاسى و اجتماعى و ...، روزى باز مى‏شود و مورد بازخواست قرار مى‏گیرد.)

7ـ كسى جز خداوند، نه توان باز كردن پیچیدگى‏ها را دارد و نه از همه آنها آگاه‏ است. «هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیمُ»

آمنه اسفندیاری

بخش قرآن تبیان


منابع:

تفسیر نور ج9

تفسیر نمونه ج18

تفسیر هدایت ج10

تفسیر اثنی عشری ج10

 



تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 13:15 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

آیا زمان دقیق قیامت معلوم است ؟


مخفى ماندن تاریخ  قیامت - حتى بر شخص پیامبر اسلام(صلی الله علیه وآله) - به خاطر آن است كه خداوند مى‏خواهد مردم یك نوع آزادى عمل توأم با حالت آماده باش دائمى داشته باشند، چرا كه اگر تاریخ قیامت تعیین مى‏شد، هرگاه زمانش دور بود همه در غفلت و غرور و بیخبرى فرو مى‏رفتند، و هر گاه زمانش نزدیك بود ممكن بود آزادى عمل را از دست بدهند و اعمالشان جنبه اضطرارى پیدا كند، و در هر دو صورت هدفهاى تربیتى انسان عقیم مى‏ماند، به همین دلیل تاریخ قیامت از همه مكتوم است .


قیامت زمین
زمان وقوع رستاخیز را فقط خدا می داند!!

وَ یَقُولُونَ مَتى‏ هذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِینَ (سبا 29) قُلْ لَكُمْ مِیعادُ یَوْمٍ لا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ ساعَةً وَ لا تَسْتَقْدِمُونَ (سبا 30)؛ و آنان (با تمسخر) مى‏گویند: اگر راست مى‏گویید، این وعده (قیامت) چه وقت خواهد بود؟

بگو: براى شماست وعده روزى كه نه (مى‏توانید) ساعتى از آن تأخیر كنید و نه پیشى بگیرید.

از آنجا كه در آیات قبل به این معنى اشاره شده بود كه خداوند همه مردم را در روز رستاخیز جمع كرده و میان آنها داورى مى‏كند، در آیه 29 سؤالى از ناحیه منكران معاد به این صورت نقل مى‏كند:" آنها مى‏گویند: اگر راست مى‏گوئید این وعده رستاخیز در چه زمانى است"؟! (وَ یَقُولُونَ مَتى‏ هذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِینَ)

از آنجا كه انسان همواره در پى بهانه‏اى است كه خود را از زیر بار مسئولیت بیرون آورد. همواره می پرسد پس روز قیامت چه وقت فرا مى‏رسد؟ چرا مجرمان را كیفر نمى‏دهند؟ اگر راست مى‏گویید كه هر عقابى جریمه‏اى دارد و هر كار نیك  ثوابى، چرا از ثواب و عقاب خبرى نیست.

این سؤال را بارها منكران معاد از پیامبر اسلام (صلی الله علیه وآله) یا سائر پیامبران مى‏كردند كه گاه براى درك مطلب بود، و شاید غالباً از روى استهزاء كه آخر این قیامتى كه شما مرتباً روى آن تكیه مى‏كنید اگر راست مى‏گوئید كى خواهد آمد؟

اشاره به اینكه آدم راستگو باید تمام جزئیات مطلبى را كه خبر مى‏دهد بداند، از كم و كیف و زمان و مكان آن آگاه باشد.

ولى قرآن همواره از پاسخ صریح به این مطلب و تعیین زمان وقوع رستاخیز خود دارى مى‏كند و تأكید مى‏كند این از امورى است كه علم آن مخصوص خدا است، و احدى جز او از آن آگاه نیست.

رسول خدا(ص) مى‏فرماید: «اى ابوذر، پنج چیز را پیش از پنج چیز غنیمت شمر: جوانى‏ات را پیش از پیریت و تندرستى‏ات را پیش از بیمارى، توانگرى‏ات را پیش از بینواییت و آسایشت را پیش از مشغولیت و زندگى‏ات را پیش از مرگت». (بحارالانوار، ج 77، ص 75)

لذا در آیه بعد همین معنى را با عبارت دیگرى بازگو كرده مى‏فرماید:

"بگو وعده شما روزى خواهد بود كه نه ساعتى از آن تأخیر خواهید كرد، و نه ساعتى بر آن پیشى خواهید گرفت" (قُلْ لَكُمْ مِیعادُ یَوْمٍ لا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ ساعَةً وَ لا تَسْتَقْدِمُونَ‏).

این مخفى ماندن تاریخ قیام قیامت - حتى بر شخص پیامبر اسلام(صلی الله علیه وآله) - به خاطر آن است كه خداوند مى‏خواهد مردم یك نوع آزادى عمل توأم با حالت آماده باش دائمى داشته باشند، چرا كه اگر تاریخ قیامت تعیین مى‏شد هرگاه زمانش دور بود همه در غفلت و غرور و بی خبرى فرو مى‏رفتند، و هر گاه زمانش نزدیك بود ممكن بود آزادى عمل را از دست بدهند و اعمالشان جنبه اضطرارى پیدا كند، و در هر دو صورت هدفهاى تربیتى انسان عقیم مى‏ماند، به همین دلیل تاریخ قیامت از همه مكتوم است، همانگونه كه تاریخ شب قدر همان شبى كه فضیلت هزار ماه دارد، و یا تاریخ قیام حضرت مهدى (علیه السلام). تعبیرى كه در آیه 15 سوره طه آمده : إِنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ أَكادُ أُخْفِیها لِتُجْزى‏ كُلُّ نَفْسٍ بِما تَسْعى‏:" رستاخیز به طور یقین خواهد آمد، من مى‏خواهم آن را مخفى دارم، تا هر كس در برابر سعى و كوشش خود جزا داده شود" اشاره لطیفى به همین معنى دارد.

علاوه بر این، ندانستن جزئیات، مانع ایمان به كلیات نیست. مثلًا: شما از صداى زنگ خانه علم پیدا مى‏كنید كه شخصى پشت در است، گرچه جزئیات آن شخص را نمى‏دانید كه زن است یا مرد، سنّ و سوادش چگونه است، ندانستن این خصوصیات ضررى به علم و ایمان شما كه شخصى زنگ خانه را زد وارد نمى‏كند. آرى، ما به قیامت علم داریم گرچه زمان آن را ندانیم.

زمین قیامت

در ضمن اینكه آنها تصور مى‏كردند پیامبر (صلی الله علیه وآله) كه از رستاخیز خبر مى‏دهد اگر راست مى‏گوید باید تاریخ دقیق آن را نیز بداند این نهایت اشتباه است، و دلیل بر عدم آگاهى آنها از وظیفه نبوت است ،چرا که پیامبر صلی اللع علیه وآله تنها مأمور ابلاغ بود و بشارت و انذار، اما مسأله قیامت مربوط به خدا است و او است كه از تمام جزئیات آن آگاه است و آن قسمتى را كه براى مسائل تربیتى لازم دیده در اختیار پیامبرش گذارده است. آری خداى متعال بعضی زمانها را بر انسان پوشیده داشته، نه مى‏داند كه مرگش كى خواهد بود و نه كیفرش چه زمان خواهد رسید.

«اى ابوذر، پنج چیز را پیش از پنج چیز غنیمت شمر: جوانى‏ات را پیش از پیریت و تندرستى‏ات را پیش از بیمارى،  توانگرى‏ات را پیش از بینواییت و آسایشت را پیش از مشغولیت و زندگى‏ات را پیش از مرگت».(بحارالانوار، ج 77، ص 75)

رسول خدا(ص) مى‏فرماید:

«اى ابوذر، پنج چیز را پیش از پنج چیز غنیمت شمر: جوانى‏ات را پیش از پیریت و تندرستى‏ات را پیش از بیمارى،  توانگرى‏ات را پیش از بینواییت و آسایشت را پیش از مشغولیت و زندگى‏ات را پیش از مرگت». (بحارالانوار، ج 77، ص 75)

امام صادق(علیه السلام) نیز چنین مى‏فرمایند:

«اگر كسى بداند كه به یقین چه وقت خواهد مرد، به عمر خود اعتماد می كند، و در لذات و معاصى فرو می رود و در شهوات می غلطد، به این امید كه در روزهاى پایانى عمر توبه خواهد كرد و این شیوه‏اى است كه خداى متعال از آن خشنود نیست و از بندگانش نمی پذیرد- تا آن جا كه می گوید- بهترین چیز براى انسان این است كه مدت عمرش بر او پوشیده ماند پس در مدتى كه زنده است منتظر مرگ باشد و معاصى را ترك گوید و عمل صالح را برگزیند». (بحارالانوار، ج 2، ص 84)

پس چرا باید عمر را بیهوده صرف كنیم و چرا مسافتى را كه میان ما و مرگ افتاده است به لهو و لعب و معصیت طى كنیم. در حالى كه نمى‏دانیم زمان مرگ ما چه وقت خواهد بود؟     

           

پیام‏های آیات:

1ـ لازم نیست پاسخ هر سؤالى را بدانیم. سؤال كردند كه قیامت چه زمانى است؟ «مَتى‏ هذَا الْوَعْدُ» بگو: زمانش را نمى‏دانم. «مِیعادُ یَوْمٍ»

2ـ قیامت روز مهمى است. (كلمه «یَوْمٍ» همراه با تنوین، نشانه عظمت و بزرگى است.)

3ـ زمان وقوع قیامت قابل تغییر نیست. «لا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ ساعَةً وَ لا تَسْتَقْدِمُونَ»

آمنه اسفندیاری

بخش قرآن تبیان


منابع:

1- تفسیر نور، ج9

2- تفسیر نمونه، ج18

3- تفسیر هدایت، ج10

4- بحار الانوار، ج 2

5- بحار الانوار، ج 77

 



تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 13:13 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
 قرآن كريم و فلسفه‏ى امامت
علي ربانى گلپايگانى

اشاره:
در نوشتار پيشين، ديدگاه متكلمان اسلا‌مي را درباره‌ي فلسفه‌ي امامت، بررسي كرديم. اجراي احكام و حدود اسلا‌مي، برقراري نظم و امنيت و عدالت در جامعه‌ي بشري، دفاع از كيان اسلا‌م و امت اسلا‌مي، اهداف و مسووليت‌هاي امامت از ديد همه‌ي متكلمان اسلا‌مي (اعم از سني و شيعي) است.
‌متكلّمان‌ اماميّه، علاوه‌ بر اهداف‌ و مسؤ‌وليّت‌هاي‌ ياد شده، تبيين‌ درست‌ شريعت‌ و حفظ‌ آن‌ از خطر تحريف‌ را از برجسته‌ترين‌ اهداف‌ امامت‌ و شئون‌ و وظايف‌ امام‌ دانسته‌اند.
اهميّت‌ اين‌ مسئله، ايجاب‌ مي‌كند كه‌ با تتبّع‌ و تأمّل‌ بيش‌تر در قرآن‌ كريم‌ - كه‌ اساسي‌ترين‌ مرجع‌ عقايد و احكام‌ اسلامي‌ است‌ - به‌ بررسي‌ فلسفه‌ي‌ امامت‌ بپردازيم. نوشتار حاضر، اين‌ هدف‌ را دنبال‌ مي‌كند.

كاربردهاي‌ واژه امام‌ در قرآن‌
‌قبل‌ از هر چيز، لازم‌ است‌ كاربردهاي‌ واژه‌ي‌ <امام> را در قرآن‌ بررسي‌ كنيم‌ و كاربرد مورد نظر در اين‌ بحث‌ را روشن‌ سازيم:
1- افرادي‌ از بشر كه‌ از جانب‌ خداوند به‌ عنوان‌ امام‌ برگزيده‌ شده‌اند؛ خداوند درباره‌ي‌ حضرت‌ ابراهيم،عليه‌السّلام، فرموده‌ است: انّي‌ جاعلك للناس‌ اماما1
2- افرادي‌ از بشر كه‌ كفر و تباهي‌ را برگزيدند و كافران‌ و تبهكاران‌ به‌ آنان‌ اقتدا كرده‌اند؛ خداوند در قرآن‌ مي‌فرمايد: فقاتلوا ائمه` الكفر انهم‌ لا ايمان‌ لهم2 امامان‌ كفر را بكشيد؛ زيرا، آنان، به‌ عهد و پيمان‌ خود وفا نمي‌كنند.
3- كتاب‌ آسماني؛ خداوند درباره‌ي‌ تورات‌ فرموده‌ است: وَمِن ‏ قَبلِه‌ كِتابُ موسي اِماماً وَرَحمَه`3؛ پيش‌ از قرآن، كتاب‌ موسي‌ را نازل‌ كرديم‌ كه‌ امام‌ و رحمت‌ خداوند براي‌ بني‌اسراييل‌ باشد.
4- لوح‌ محفوظ؛ خداوند در قرآن‌ فرموده‌ است: وكُل شَيءٍ احصَيناهُ في امامٍ مُبينٍ4؛ هرچيزي‌ را در امامي‌ آشكار (لوح‌ محفوظ) ثبت‌ كرده‌ايم.
‌از آن‌ جا كه‌ وقايع‌ و حوادث، از پيش، در لوح‌ محفوظ‌ ثبت‌ و ضبط‌ گرديده، و از آن‌ جا سرچشمه‌ مي‌گيرند و با آن‌ مطابقت‌ دارند، از <لوح‌ محفوظ>، در اين‌ آيه، به‌ <امام‌ مبين> تعبير آورده‌ شده‌ است.5
‌از كاربردهاي‌ ياد شده، آن‌ چه‌ در اين‌ بحث‌ مقصود است، همان‌ كاربرد نخست‌ است؛ يعني، كساني‌ كه‌ از جانب‌ خداوند، به‌ عنوان‌ امام‌ و رهبر آدميان‌ برگزيده‌ شده‌اند.
‌از تدبّر در آيات‌ قرآن، به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ امامت‌ به‌ معناي‌ ياد شده، دو فلسفه‌ي‌ اساسي‌ دارد:
‌الف) امامت، فلسفه‌ي‌ خلقت‌ جهان‌ است؛ يعني، بدون‌ وجود امام، آفرينش‌ آسمان‌ها و زمين‌ و آدميان، لغو و بي‌حاصل‌ خواهد بود.
‌ب) امامت، واسطه‌ي‌ رسيدن‌ انسان‌ و ديگر موجودات كه‌ شايستگي‌ هدايت هاي‌ عقلاني‌ و وحياني‌ را دارند به‌ كمال‌ مطلوب‌شان‌ است: يعني، امام، واسطه‌ي‌ هدايت‌ بشر به‌ معناي‌ ايصال‌ به‌ مطلوب‌ است.
‌البته، مقصود، اين‌ نيست‌ كه‌ اهداف‌ وشئون‌ امامت، منحصر در دو مطلب‌ ياد شده‌ است، بلكه‌ اين‌ دو شالوده‌ و بنياد امامت‌ در ديگر ابعاد و قلمروها است اين‌ نكته، از بحث‌هاي‌ بعدي‌ روشن‌ خواهد شد.
‌اينك، به‌ تبيين‌ اين‌ دو مطلب‌ از ديدگاه‌ قرآن‌ كريم‌ مي‌پردازيم:

‌بخش‌ يكم‌ - امامت،‌ فلسفه‌ي‌ خلقت‌
‌براي‌ آن‌ كه‌ روشن‌ شود كه‌ امامت، فلسفه‌ي‌ خلقت‌ انسان‌ و جهان‌ است، بايد دو مطلب‌ زير را با رجوع‌ به‌ آيات، مورد پژوهش‌ قرار دهيم.
1- انسان‌ كامل، فلسفه‌ي‌ خلقت‌ جهان‌ است.
2- امام، انسانِ كامل‌ است.
3- در تبيين‌ دو مطلب‌ ياد شد، مطالب‌ زير نيز روشن‌ خواهد شد:
1- انسان‌ كامل، خليفه‌ي‌ خداوند در زمين‌ است.
2- پيامبران‌ الهي، امامان‌ و خلفاي‌ الهي‌ بوده‌اند.
3- خلافت‌ الهي‌ با امامت‌ ملازمه‌ دارد.
4- امامت‌ و خلافت‌ الهي، پس‌ از پيامبران‌ استمرار دارد.
‌مطالب‌ ياد شده، عناوين‌ و سرفصل‌هاي كلّي‌ بخش‌ نخست‌ اين‌ نوشتار را تشكيل‌ مي‌دهند.

انسان‌ كامل، فلسفه‌ي‌ خلقت‌ است‌
‌از مطالعه‌ي‌ قرآن، به‌ روشني‌ به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ انسان، در نظام‌ تكوين‌ و تشريع‌ الهي، موقعيّت‌ و جايگاه‌ ويژه‌اي‌ دارد، و از نقش‌ محوري‌ و مركزي‌ برخوردار است. قرآن‌ كريم، آشكارا يادآور شده‌ است‌ كه‌ خداوند همه‌ي‌ پديده هاي زميني‌ را براي‌ انسان‌ آفريده‌ است: هو الّذي‌ خلق‌ لكم‌ ما في‌ الارض‌ جميعاً6.
‌نيز در جاي‌ ديگر يادآور شده‌ است‌ كه‌ زمين، به‌ منزله‌ي‌ بساط‌ و فرشي‌ گسترده، و آسمان، چونان‌ سقفي‌ برافراشته‌ براي‌ آدميان‌ است، و خداوند، از آسمان، آب‌ فرو مي‌فرستند و گياهان‌ و انواع‌ ميوه‌ها را روزي‌ انسان‌ها مي‌سازد: الذي‌ جعل‌ لكم‌ الارض‌ فراشا والسّماء بِناء‌ وانزل‌ من‌ السماء ماء‌ فأخرج‌ به‌ من‌ الثمرات‌ رزقالكم7.
‌شب‌ و روز نيز در خدمت‌ بشر قرار داده‌ شده‌ تا در شب، آرامش‌ يابد و در روز، از روشنايي‌ هوا، براي‌ كسب‌ و كار و تأمين‌ معيشت‌ خويش‌ بهره‌ بگيرد: (هو الذي‌ جعل‌ لكم‌ الليل‌ لتسكنوافيه‌ و النهار مبصرا)8.
‌نكته‌ي‌ مهم، اين‌ است‌ كه‌ هدف‌ از آفرينش‌ انسان‌ و آفرينش‌ جهان‌ براي‌ او، اين‌ نبوده و نيست‌ كه‌ او در حيات‌ مادّي‌ و زندگي‌ دنيوي، كامجويي‌ بيش‌تري‌ كند و وسيله‌ي‌ لذّت‌گرايي‌ او به‌ طور كامل‌ فراهم‌ باشد، بلكه‌ فلسفه‌ي‌ آفرينش‌ او و آفرينش‌ جهان‌ براي‌ او، اين‌ بوده‌ است‌ كه‌ راه‌ حق‌شناسي‌ و حق‌پرستي‌ را بپويد و از اين‌ رهگذر، به‌ كمال‌ مطلوب‌ خويش‌ كه‌ همانا قرب‌ به‌ خداوند و لقاء الله‌ است، برسد. در آياتي‌ كه‌ پيش‌ از اين‌ يادآور شديم‌ به‌ اين‌ نكته‌ اشاره‌ شده‌ است. خداوند، نخست، آدميان‌ را مخاطب‌ ساخته‌ و آنان‌ را به‌ عبادت‌ پروردگاري‌ كه‌ آنان‌ را آفريده‌ است، فرا مي‌خواند: يا ايّها الناس‌ اعبدوا ربّكم‌ الذي‌ خلقكم‌ والذين‌ من‌ قبلكم‌ لعلّكم‌ تتقّون9. آن‌ گاه‌ يادآور مي‌شود كه‌ پروردگاري‌ كه‌ آنان‌ بايد او را پرستش‌ كنند، كسي‌ است‌ كه‌ زمين‌ و آسمان‌ را براي‌ آنان‌ آفريده‌ و از آسمان، آب‌ نازل‌ مي‌كند، و از زمين، گياه‌ و ميوه‌ مي‌روياند تا رزق‌ بشر تأمين‌ گردد، بنابراين، نبايد براي‌ خداوند، شريك‌ برگزينند: الذي‌ جعل‌ لكم‌ الارض‌ فراشا والسماء بناء وانزل‌ من‌ السماء ماءا فأخرج‌ به‌ من‌ الثمرات‌ رزقالكم‌ فلا تجعلوا للّه‌ انداد وانتم‌ تعلمون10.
قرآن‌ كريم، اين‌ حقيقت‌ را كه‌ هدف‌ آفرينش‌ انسان و جهان، اين‌ است‌ كه‌ انسان‌ها آزموده‌ شوند و در ميدان‌ ايمان‌ و عمل‌ صالح‌ از هم‌گوي‌ سبقت‌ را بربايند و سعادت‌ و كمال‌ مطلوب‌ خويش‌ را در آغوش‌ گيرند، در آيات‌ بسياري‌ و به‌ روش‌هاي‌ گوناگون، بيان‌ كرده‌ است. خداوند در سوره‌ي‌ كهف‌ آيه‌ي‌ هفتم‌ مي‌فرمايد:انّا جعلنا ما علي‌ الارض‌ زينه` لها ليبلوهم‌ ايّهم‌ احسن‌ عملاً؛ ما، آفريده‌هاي‌ زميني‌ را زينت‌ بخش‌ زمين‌ قرار داديم‌ تا آدميان‌ را بيازماييم‌ كه‌ كدام‌ يك‌ نيكوكارترند.
‌سيوطي، در ذيل‌ اين‌ آيه، از پيامبر اكرم(صلّي‌اللّهُ عليه‌وآله‌وسلّم) حديثي‌ را روايت‌ كرده‌ كه‌ بسيار آموزنده‌ است. يكي‌ از اصحاب‌ پيامبر، از آن‌ حضرت‌ از معناي‌ اين‌ آيه‌ مي‌پرسد. پيامبر(صلّي‌اللّهُ عليه‌وآله‌وسلّم) پاسخ‌ مي‌دهد. ليبلوكم‌ ايّكم‌ احسن‌ عقلا واورع‌ عن‌ محارم‌ الله‌ و اسرعكم‌ في طاعه` الله11؛ خداوند، مي‌خواهد شما را بيازمايد تا روشن‌ شود كه‌ كدام‌ يك‌ از شما عاقل‌تريد و در پرهيز از محارم‌ الهي‌ پروا پيشه‌تر و در اطاعات‌ خداوند شتابان‌تر مي‌باشيد؛ يعني‌ در، اين‌ آزمون‌ بزرگ‌ الهي، با پشتوانه‌ي‌ عقل‌ مي‌توان‌ پيروز گرديد. اين‌ عقل‌ است‌ كه‌ ستايش‌ و پرستش‌ خداوند را به‌ عنوان‌ شكرگزاري‌ نعمت‌هاي‌ الهي‌ بر انسان‌ واجب‌ مي‌كند و انسان را به‌ دورانديشي‌ و آينده‌نگري‌ بر مي‌انگيزد تا سعادت‌ ابدي‌ خويش‌ را قرباني‌ لذّت‌هاي‌ زودگذر و حيات‌ كوتاه‌ دنيوي‌ نكند.
‌با چنين‌ تأمّلات‌ عقلاني‌ است‌ كه‌ انسان‌ مي‌كوشد در پرهيزگاري‌ و فرمانبرداري‌ از خداوند، گوي‌ سبقت‌ را از ديگران‌ بربايد و به‌ كمال‌ مطلوب‌ و سعادت برين‌ دست‌ يازد.
‌از آن‌ چه‌ گفته‌ شد، اين‌ مطلب‌ به‌ دست‌ آمد كه‌ انسان‌ كامل، كسي‌ است‌ كه‌ در عقيده‌ و عمل، هرگز از مسير حق‌ منحرف‌ نمي‌گردد، و راه‌ حق‌ را به‌ درستي‌ مي‌شناسد، و به‌ نيكوترين‌ وجه‌ ممكن، مي‌پيمايد. چنين‌ انساني‌ است‌ كه‌ جهان‌ براي‌ او آفريده‌ شده‌ است، و برقراري‌ نظام‌ كيهاني، به‌ ميمنت‌ وجود او است.
انسان‌ كامل، حجّت‌ خداوند در زمين‌ است، و اگر لحظه‌اي‌ حجّت‌ خداوند در زمين‌ نباشد، وجودش‌ لغو خواهد بود، و چون‌ كار لغو، از خداوند صادر نمي‌شود، حيات‌ زميني، مختل‌ مي‌گردد. در احاديث‌ بسيار وارد شده‌ است‌ كه‌ اگر زمين‌‌از حجّت و امام‌ خالي باشد، اهلش‌ را فرو خواهد برد12: لو انّ الامام‌ رُفع‌ من‌ الارض‌ ساعه`ً لساخت‌ بأهلها.
‌بر همين‌ اساس‌ است‌ كه‌ در دعاي‌ عديله، درباره‌ي‌ وجود اقدس‌ امام‌ عصر(عجّل‌اللّه‌تعالي‌فرجه‌الشّريف) آمده‌ است: <ببقائه‌ بقيت‌ الدنيا، و بيمنه‌ رزق‌ الوري، وبوجوده‌ ثبتت‌ الارض‌ والسماء.13
‌از تأمل‌ و تدبّر در قرآن‌ و سخنان‌ پيشوايان‌ معصوم، به‌ روشني‌ به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ امام، در هر زمان، مصداق‌ و نمونه‌ي‌ كامل‌ترين‌ انسان‌ روزگار خويش‌ است، و از طرفي، هدف‌ از آفرينش‌ جهان، انسان‌ كامل‌ بوده‌ است. نتيجه‌ي‌ اين‌ دو مقدمه، اين‌ است‌ كه‌ وجود امام، فلسفه‌ي‌ خلقت‌ جهان‌ به‌ شمار مي‌رود. تبيين‌ اين‌ دو مطلب، چنين‌ است:

انسان‌ كامل‌ خليفه‌ي‌ خداوند در زمين‌ است‌
‌قرآن‌ كريم، يادآور مي‌شود كه‌ خداوند، خطاب‌ به‌ فرشتگان‌ فرمود: (انّي‌ جاعل‌ في‌ الارض‌ خليفه)14. فرشتگان، از اين‌ تصميم‌ الهي‌ به‌ شگفت‌ آمدند و با توجّه‌ به‌ اين‌ كه‌ موجود زميني، با لغزش‌ و خطا همراه‌ است‌ و چه‌ بسا دست‌ به‌ فساد و تباهي‌كه‌ با مقام‌ خليفه` اللهي‌ سازگاري‌ ندارد خواهد زد، به‌ خداوند گفتند: اتجعل‌ فيها مَن ‏ يفسد فيها ويسفك‌ الدماء ونحن‌ نسبّح‌ بحمدك ونقدّس‌ لك.
‌حاصل‌ سخن‌ فرشتگان، اين‌ است‌ كه‌ خليفه‌ي‌ خداوند، بايد موجودي‌ قدسي‌ و پيراسته‌ از تباهي‌ و فساد باشد، و اين‌ ويژگي، از آنِ فرشتگان‌ است‌ كه‌ موجودهايي‌ نوراني‌ و آسماني‌اند، نه‌ بشر كه‌ موجودي‌ است‌ زميني‌ و خاكي. خداوند،‌ اين‌ سخن‌ فرشتگان‌ را رد نكرد، امّا به‌ آنان‌ فرمود: انّي‌ اعلم‌ مالا تعلمون؛ يعني‌ درست‌ است‌ كه‌ انسان‌ موجودي‌ است‌ زميني‌ و خاكي، و موجود زميني‌ از آن‌ جهت‌ كه‌ زميني‌ است، با زمينه‌هاي‌ گناه‌ و انحراف‌ همراه‌ است، ولي‌ در اين‌ موجودي‌ كه‌ بنا است‌ به‌ مقام‌ خلافت‌ الهي‌ برسد، ويژگي‌هايي‌ نهفته‌ است‌ كه‌ او را از فساد و تباهي‌ باز مي‌دارد و به‌ مقام‌ و مرتبه‌اي‌ مي‌رساند كه‌ فراتر از مقام‌ و مرتبه‌ي‌ فرشتگان‌ است. از اين‌ روي، حقايق‌ و اسرار هستي‌ را به‌ آدم‌ (عليه‌السلام) آموخت‌ و آن‌ گاه‌ از فرشتگان‌ خواست‌ كه‌ آن‌ حقايق‌ را باز گويند. آنان‌ از عهده‌ي‌ اين‌ كار برنيامدند، و ايمان‌ خود به‌ علم‌ و حكمت‌ الهي‌ را يادآور شدند:
وعلم‌ آدم‌ الاسماء كلّها ثمّ عرضهم‌ علي‌ الملائكه` فقال‌ انبئوني‌ بأسماء هؤ‌لاء ان ‏ كنتم‌ صادقين‌ قالوا سبحانك لا علم‌ لنا الاّ ما علّمتنا انك انت‌ العليم‌ الحكيم15؛ خداوند، همه‌ي‌ نام‌ها را به‌ آدم‌ آموخت. آن‌گاه‌ آن‌ها را به‌ فرشتگان‌ عرضه‌ كرد و گفت: <اگر راست‌ مي‌گوييد (كه‌ شما شايسته‌ترين‌ موجود براي‌ خليقه` الهي‌ هستيد) اين‌ نام‌ها را براي من‌ بيان‌ كنيد.> فرشتگان‌ گفتند: <ما، جز به‌ آن‌ چه‌ تو به‌ ما آموخته‌اي، آگاه‌ نيستيم. تو داناي‌ بالذات‌ و حكيم‌ هستي.>.
‌از اين‌ آيات، نكات‌ زير به‌ دست‌ مي‌آيد:
1- مقام‌ متعالي‌ و قدسي‌ هر موجودي، ريشه‌ در علم‌ و آگاهي‌ دارد. به‌ عبارت‌ ديگر علم‌ و معرفت، سرچشمه‌ي‌ كمال‌ و تعالي‌ وجودي‌ است.
2- علوم‌ و معارف‌ موجودات، عاريتي‌ و بالغير بوده‌ و جلوه‌اي‌ از علم‌ ذاتي‌ خداوند است.
3- عالي‌ترين‌ مرتبه‌ي‌ اين‌ علم، در اختيار افرادي‌ از بشر است‌ كه‌ به‌ مقام‌ خليفه` اللهي‌ رسيده‌اند و مقام‌ علمي‌ و قدسي‌ آنان، فراتر از مقام‌ فرشتگان‌ است.
4- گزينش‌هاي‌ الهي، بر اساس‌ علم‌ و حكمت‌ است، و فعل‌ خداوند، از هر گونه‌ كاستي، پيراسته‌ است.
5- از آيه‌اي‌ كه‌ پس‌ از آيات‌ پيشين‌ آمده، به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ اين‌ علم‌ ويژه‌ كه‌ در اختيار خليفه‌ي‌ خداوند در زمين‌ قرار دارد، فراتر از علوم‌ و آگاهي‌هاي‌ مربوط‌ به‌ ظواهر موجودات‌ است، بلكه‌ آن، علمي‌ است‌ كه‌ به‌ غيب‌ و ملكوت‌ آسمان‌ها و زمين‌ تعلق‌ دارد: قال‌ الم‌ اقل‌ لكم‌ انّي‌ اعلم‌ غيب‌ السماوات‌ و الا‌رض16.
‌نيز در باره‌ي‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) مي‌فرمايد: <ما، ملكوت‌ آسمان‌ها و زمين‌ را به‌ ابراهيم‌ نشان‌ مي‌دهيم‌ تا از كساني‌ باشد كه‌ در عالي‌ترين‌ مرتبه‌ي‌ يقين‌ قرار دارند.>:
وكذلك نري‌ اًبراهيم‌ ملكوت‌ السماوات‌ والارض‌ وليكون‌ من‌ الموقنين17.
6- از آيات‌ پيشين، اين‌ نكته‌ نيز به‌ دست‌ آمد كه‌ خليفه‌ي‌ خداوند در زمين، كاملترين‌ انسان‌ در عصر و روزگار خويش‌ است، همان‌ گونه‌ كه‌ كامل‌ترين‌ و برترين‌ آفريده‌ي‌ خداوند نيز هست.
‌اين‌ مطلب‌ كه‌ خليفه‌ي‌ خداوند در زمين، برترين‌ موجود است‌ از اين‌ جا به‌ دست‌ آمد كه‌ فرشتگان‌ - كه‌ از مقام‌ قدسي‌ ويژه‌اي‌ برخوردارند نتوانستند از آن‌ چه‌ خداوند به‌ آدم(عليه‌السّلام) آموخت، خبر دهند، يعني، مقام‌ آدم(عليه‌السّلام) از مقام‌ فرشتگان‌ بالاتر است.
‌دليل‌ بر اين‌ كه‌ خليفه‌ي‌ خداوند در زمين، كامل‌ترين‌ انسان‌ عصر خويش‌ است، اين‌ است‌ كه‌ او، مقتدا و اسوه‌ و الگوي‌ علمي‌ و عملي‌ ديگران‌ است، و از نظر عقلي، قبيح‌ است‌ كه‌ مفضول، مقتدا و اسوه‌ي‌ فاضل‌ و افضل‌ قرار گيرد، و چون‌ خداوند، از هر گونه‌ فعل‌ قبيح‌ و ناروايي‌ منزّه‌ است. مي‌فهميم‌ كه‌ امام‌ كامل‌ترين‌ فرد عصر خويش‌ است.

پيامبران، امامان‌ و خلفاي‌ الهي‌ در زمين‌ بوده‌اند
‌قرآن‌ كريم، به‌ روشني، اين‌ حقيقت‌ را بيان‌ كرده‌ است‌ كه‌ پيامبران‌ الهي، امامان‌ و خلفا‌ي‌ الهي‌ در زمين‌ بوده‌اند. آياتي‌ كه‌ خليفه` الله‌ بودن‌ حضرت‌ آدم(عليه‌السّلام) را بازگو مي‌كند، پيش‌ از اين‌ يادآوري‌ شد. قرآن، در باره‌ي‌ حضرت داوود(عليه‌السّلام) مي‌فرمايد: يا داوود انّا جعلناك خليفه` في‌ الارض‌ فاحكم‌ بين‌ الناس‌ بالحق‌ ولاتتبع‌ الهوي‌ فيضّل عن‌ سبيل‌ اللّه18؛ اي داود! تو را خليفه‌ي‌ خود در زمين‌ قرار داديم، پس‌ در ميان‌ مردم، به‌ حق داوري‌ كن‌ و از خواهش‌ نفس‌ پيروي‌ مكن‌ كه‌ تو را از راه‌ خدا گمراه‌ مي‌سازد.>.
‌از اين‌ آيه‌ به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ حكم‌ و داوري‌ به‌ حق‌ در ميان‌ مردم، يكي‌ از جلوه‌ها و شئون‌ خلافت‌ الهي‌ در زمين‌ است. اين‌ مقام، اختصاص‌ به‌ حضرت‌ داود(عليه‌السّلام) نداشته‌ است، بلكه‌ يكي‌ از اهداف‌ و شئون‌ همه‌ي‌ پيامبران‌ الهي‌ بوده‌ است: فبعث‌ الله‌ النبيين‌ مبشّرين‌ ومنذرين‌ و انزل‌ معهم‌ الكتاب‌ بالحق‌ ليحكم‌ بينَ الناس‌ فيما اختلفوا فيه19؛ خداوند، پيامبران‌ را بشارت‌ دهنده‌ و بيم‌ دهنده‌ برانگيخت‌ و كتاب‌ و شريعت‌ حق‌ را با آنان‌ فرو فرستاد تا معيار حكم‌ در اختلافاتي‌ باشد كه‌ ميان‌ مردم‌ رخ‌ مي‌دهد.
‌اصولاً داود(عليه‌السّلام) از آن‌ نظر داراي‌ مقام‌ خلافت‌ الهي‌ بود كه‌ از پيامبران‌ و هاديان‌ الهي‌ بود. بنابراين، مقام‌ خلافت‌ الهي‌ وي، از ويژگي‌هاي‌ او به‌ شمار نمي‌رود. او، از آن‌ جهت‌ كه‌ يكي‌ از پيامبران‌ و برگزيندگان‌ خداوند است، داراي‌ چنين‌ مقامي‌ است‌. بنابراين، عموم‌ پيامبران‌ الهي، خلفاي‌ خداوند در زمين‌ بوده‌اند.
‌قرآن‌ كريم، در سوره‌ي‌ انعام‌ پس‌ از آن‌ كه‌ شماري‌ از پيامبران‌ را نام‌ مي‌برد، مي‌فرمايد: واجتبيناهم‌ وهديناهم‌ الي‌ صراط‌ مستقيم، ذالك هدي‌ الله‌ يهدي‌ به‌ مَن ‏ يشاء من‌ عباده20؛ آنان‌ را برگزيديم‌ و به‌ راه‌ راست‌ هدايت‌ كرديم. اين‌ هدايت‌ (خاص) خداوند است‌ كه‌ هر كس‌ از بندگان‌ خود را كه‌ بخواهد، به‌ آن‌ هدايت‌ مي‌كند.
‌قرآن‌ سپس‌ مي‌افزايد: اولئك الذين‌ آتيناهم‌ الكتاب‌ والحكم‌ والنبوه`21؛ آنان، كساني‌اند كه‌ كتاب‌ آسماني‌ و مقام‌ حكم‌ و داوري‌ در ميان‌ مردم‌ و مقام‌ پيامبري‌ را به‌ آنان‌ عطا كرده‌ايم.

خلافت‌ الهي‌ و امامت‌ بشر
‌از ديدگاه‌ قرآن‌ كريم، كساني‌ شايستگي‌ آن‌ را دارند كه‌ امامت‌ و پيشوايي‌ بشر را عهده‌دار شوند كه‌ به‌ مقام‌ خليفه` اللهي‌ برسند؛ يعني، مقام‌ امامت‌ و پيشوايي‌ بشر، ريشه‌ در مقام‌ خلافت‌ الهي‌ دارد. قرآن‌ كريم، در باره‌ي‌ حضرت‌ داود (عليه‌السلام) نخست‌ از مقام‌ خلافت‌ الهي‌ او ياد مي‌كند، آن‌گاه‌ از منصب‌ حكومت‌ و داوري‌ وي: يا داود انا جعلناك خليفه`ً في‌ الارض‌ فاحكم‌ بين‌ الناس‌ بالحق و درباره‌ي‌ عموم‌ پيامبران‌ مي‌فرمايد: <ما، آنان‌ را برگزيديم‌ و هدايت‌ ويژه‌ي‌ خود را در اختيار آنان‌ قرار داديم، آن‌ گاه‌ كتاب‌ آسماني‌ و مقام‌ نبوت‌ و منصب‌ حكم‌ و داوري‌ ميان‌ مردم‌ را به‌ آنان‌ داديم.>: واجتبيناهم‌ وهديناهم‌ الي‌ صراط‌ مستقيم... اولئك الذين‌ آتيناهم‌ الكتاب‌ والحكم‌ والنبوه`.
‌از اين‌ آيات، به‌ روشني، به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ مقام‌ و منصب‌ امامت‌ و رهبري‌ بشر مانند‌ مقام‌ خلافت‌ الهي‌ و نبوّت، موهبتي‌ الهي‌ است‌ و با جعل‌ و نصب‌ الهي‌ تعيين‌ مي‌شود، نه‌ با انتخاب‌ و گزينش‌ بشر. در باره‌ي‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) آمده‌ است: واذا ابتلي‌ ابراهيم‌ ربّه‌ بكلمات‌ فأتمهن قال‌ انّي‌ جاعلك للناس‌ اماما22؛ آن‌ گاه‌ كه‌ پروردگار ابراهيم‌را با كلمات‌ (آزمون‌هايي) امتحان‌ كرد، و ابراهيم‌ به‌ صورت‌ كامل‌ از عهده‌ي‌ آن‌ آزمون‌ها بر آمد، خداوند به‌ او فرمود: <من‌ تو را امام‌ و پيشواي‌ مردم‌ قرار دادم.>.
‌قرآن‌ كريم‌ درباره‌ي‌ پيامبران‌ بني‌اسرائيل‌ مي‌فرمايد: وجعلنا منهم‌ ائمه` يَهدُون‌ بأمرنا لمّا صبروا و كانوا بأياتنا يوقنون23؛ برخي‌ از بني‌اسرائيل‌ را اماماني‌ قرار داديم‌ تا مردم‌ را به‌ امر ما هدايت‌ كنند، اين‌ مقام‌ را آن‌ گاه‌ به‌ آنان‌ داديم‌ كه‌ در راه‌ دين‌ پايداري‌ كردند و به‌ آيات‌ ما يقين‌ آوردند.
‌در جاي‌ ديگر، درباره‌ي‌ ابراهيم، اسحاق‌ و يعقوب‌ مي‌فرمايد: ووهبنا له‌ اسحاق‌ و يعقوب‌ نافله` و كلاّ جعلنا صالحين‌ وجعلناهم‌ ائمه` يهدون‌ بأمرنا24؛ اسحاق‌ و يعقوب‌ را به‌ ابراهيم‌ عطا كرديم‌ و همگي‌ را از صالحان‌ قرار داديم‌ و آنان‌ را اماماني‌ قرار داديم‌ كه‌ مردم‌ را به‌ امر ما هدايت‌ كنند.
‌از آيات‌ ياد شده، اين‌ مطلب‌ به‌ دست‌ آمد كه‌ پيامبران‌ الهي، مقامات‌ و شئون‌ زير را دارا بوده‌اند:
1- خلفاي‌ الهي‌ در زمين‌ بوده‌اند؛
2- از مقام‌ نبوّت‌ و وحي‌ برخوردار بوده‌اند؛
3- مقام‌ رسالت‌ و ابلاغ‌ پيام‌هاي‌ الهي‌ را به‌ بشر داشته‌اند؛
4- امامان‌ و پيشوايان‌ بشر بوده‌اند.

‌استمرار امامت‌ و خلافت‌ الهي‌ پس‌ از پيامبران‌
‌از مقامات‌ و شئون‌ ياد شده، دو مقام‌ نبوّت‌ و رسالت‌ از ويژگي‌هاي‌ پيامبران‌ بوده‌ است‌ و با ختم‌ نبوّت‌ و رسالت، كسي‌ داراي‌ چنان مقامي‌ نخواهد بود، امّا مقام‌ خلافت‌ و امامت، از ويژگي‌هاي‌ پيامبران‌ به‌ شمار نمي‌رود؛ چرا كه‌ از يك‌ سو خليفه‌ي‌ خداوند در زمين، فلسفه‌ي‌ وجودي‌ آفرينش‌ آسمان‌ها و زمين‌ است، و از سوي‌ ديگر، افراد بشر در مسير بندگي‌ و عبادت‌ خداوند و رسيدن‌ به‌ كمال‌ مطلوب‌ و سعادت‌ برين، به‌ امام‌ و پيشوايي‌ الهي‌ كه‌ هدايت‌ كننده‌ي‌ آنان‌ باشد، نيازمندند.
‌به‌ عبارت‌ ديگر، خلافت‌ الهي‌ در زمين، و امامت‌ و رهبري‌ بشر، به‌ عصر و زمان‌ خاصّي‌ اختصاص‌ ندارد. تا زمين‌ باقي‌ است‌ و حيات‌ دنيوي‌ ادامه‌ دارد و بشر در حيات‌ دنيوي‌ به‌ سر مي‌برد، خلافت‌ و امامت‌ الهي، به‌ مقتضاي‌ حكمت‌ و هدايت‌ الهي، ضرورت‌ دارد.
اين‌ مطلب‌ كه‌ امامت‌ به‌ عنوان‌ مقام‌ و منصب‌ الهي، پيوسته‌ در ميان‌ بشر ادامه‌ خواهد داشت، از قرآن‌ نيز به‌ روشني‌ استفاده‌ مي‌شود. يكي‌ از آن‌ آيات، آيه‌ي‌ شريفه‌ مربوط‌ به‌ امامت‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) است؛ زيرا، در اين‌ آيه، پس‌ از آن‌ كه‌ خداوند مقام‌ امامت‌ را به‌ آن‌ حضرت‌ اعطا مي‌كند، ابراهيم(عليه‌السّلام) آن‌ را براي‌ برخي‌ از فرزندانش‌ درخواست‌ مي‌كنند، ولي‌ خداوند در پاسخ‌ او مي‌فرمايد: لاينال‌ عهدي‌ الظالمين؛ يعني‌ امامت،‌ كه‌ عهدي‌ است‌ الهي،‌ نصيب‌ ظالمان‌ از ذريّه‌ي‌ ابراهيم‌ نخواهد شد، و تنها به‌ آن‌ دسته‌ از ذريّه‌ و فرزندان‌ او اختصاص‌ دارد كه‌ از هر گونه‌ ظلم‌ و ستمي‌ منزّه‌ و پيراسته‌اند و از مقام‌ عصمت‌ برخوردارند. بنابراين، تا هنگامي‌ كه‌ ذريّه‌ي‌ حضرت‌ ابراهيم‌ در دنيا باقي‌اند، مقام‌ و منصب‌ امامت‌ در معصومان‌ از ذريّه‌ي‌ او ادامه‌ خواهد يافت.
‌اين‌ مطلب، از آيات‌ ديگري‌ كه‌ مربوط‌ به‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) است، به‌ دست‌ مي‌آيد: واذ قال‌ ابراهيم‌ لاءبيه‌ وقومه‌ انّني‌ بَريءٌ مما تعبدون‌ الا الذي‌ فطرني‌ فانّه‌ سيهدين‌ وجعلها كلمه` باقيه` في‌ عقبه‌ لعلّهم‌ يرجعون25؛ آن‌ گاه‌ كه‌ ابراهيم‌ به‌ پدر و قوم‌اش‌ گفت: <من، از آن‌ چه‌ شما پرستش‌ مي‌كنيد، بيزاري‌ مي‌جويم، مگر از پرستش‌ آن‌ كسي‌ كه‌ مرا آفريده‌ و مرا هدايت‌ خواهد كرد. و خداوند، آن‌ هدايت‌ را حقيقتي‌ جاودانه‌ در نسل‌ او قرار داد، شايد گمراهان‌ (با وجود چنين‌ هدايتي) به‌ سوي‌ خداوند باز گردند.
‌روشن‌ است‌ كه‌ جمله‌ي‌ فانه‌ سيهدين بر هدايت‌ ويژه‌اي‌ از جانب‌ خداوند دلالت‌ مي‌كند كه‌ فراتر از هدايت‌ فكري‌ و عقلاني‌ است، اين‌ هدايت، همان‌ هدايت‌ ويژه‌اي‌ است‌ كه‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) به‌ واسطه‌ي‌ آن، به‌ مقام‌ امامت‌ رسيد. آن‌ هدايت، از جمله‌ي‌ اني‌ جاعلك للناس‌ اماما به‌ دست‌ مي‌آيد. خداوند، اين‌ هدايت‌ ويژه‌ را در خاندان‌ او، براي‌ هميشه‌ قرار داده‌ است‌ و فلسفه‌ي‌ آن، اين‌ است‌ كه‌ هدايت‌كننده‌ي‌ بشر به‌ راه‌ حق‌ باشد تا افراد بشر با بر خورداري‌ از چنين‌ هدايت‌ الهي‌ به‌ صراط‌ مستقيم‌ حق‌ باز گردند.
‌اين‌ مطلب‌ كه‌ از تأمّل‌ در آيات‌ به‌ دست‌ مي‌آمد. در احاديثي‌ كه‌ از ائمه‌ي‌ اهل‌ البيت(عليهم‌السّلام) روايت‌ شده‌ نيز وارد شده‌ است. در اين‌ روايات، كلمه` باقيه` به‌ امامت‌ تفسير شده‌ است‌ كه‌ در اهل‌ بيت‌ پيامبر اكرم(عليهم‌السّلام) و در ذريّه‌ي‌ امام‌ حسين‌ (عليه‌السلام) تا قيامت‌ ادامه‌ خواهد داشت.26
‌آيه‌ي‌ ديگري‌ كه‌ بر ادمه‌ي‌ امامت‌ حقّ تا روز قيامت‌ دلالت‌ مي‌كند، اين‌ آيه‌ است‌ كه‌ مي‌فرمايد: يوم‌ ندعوا كلّ اناس‌ بأمامهم‌ فمن‌ اوتي‌ كتابه‌ بيمينه‌ فاوِلئك يقروِ‌ون‌ كتابهم‌ ولايظلمون‌ فتيلا وَمن‌ كان‌ في‌ هذه‌ اعمي‌ فهو في‌ الاخره` اعمي‌ واضلّ سبيلا27؛ روز قيامت، هر گروهي‌ را با امام‌شان‌ فرا مي‌خوانيم. كساني‌ كه‌ نامه‌ي‌ عمل‌ آنان‌ به‌ دست‌ راست‌شان‌ داده‌ شود، نامه‌ي‌ خود را مي‌خوانند. و كم‌ترين‌ ظلمي‌ به‌ آنان‌ نخواهد شد. (پاداش‌ عمل‌ خود را كاملاً دريافت‌ مي‌كنند) و هر كس‌ در دنيا نابينا باشد (امام‌ حق‌ را نشناسد)، در آخرت‌ نام‌ نابينا و گمراه‌تر خواهد بود.
‌مفاد دو آيه‌ي‌ ياد شده، اين‌ است‌ كه‌ روز قيامت، انسان‌ها به‌ صورت‌ گروه‌ گروه‌ و دسته‌ دسته، وارد صحراي‌ محشر خواهند شد تا سرنوشت‌ آنان‌ از نظر سعادت‌ و شقاوت‌ و بهشت‌ و دوزخ، روشن‌ گردد. براي‌ تحقّق‌ اين‌ هدف، افراد را با امام‌ و پيشواي‌ آنان‌ دسته‌بندي‌ مي‌كنند و در محكمه‌ي‌ عدل‌ الهي، در قيامت‌ حاضر مي‌سازند. آن‌ گاه‌ نامه‌ي‌ كساني‌ كه‌ در دنيا از امام‌ حق‌ پيروي‌ كرده‌اند، به‌ دست‌ راست‌شان‌ داده‌ مي‌شود و آنان‌ پاداش‌ اعمال‌ خود را به‌ طور كامل‌ دريافت‌ مي‌كنند. اينان، اهل‌ نجات‌ و رستگاري‌ خواهند بود. كساني‌ كه‌ در دنيا، چشم‌ حقيقت‌ بين‌ آنان‌ كور بوده‌ است‌ و امام‌ حق‌ را نشناخته‌اند و از او پيروي‌ نكرده‌اند، در قيامت‌ از رستگاري‌ و سعادت‌ برين‌ محروم‌ خواهند بود.
‌از آن‌ چه‌ گفته‌ شد، روشن‌ شد كه‌ مقصود از <امام> در آيه‌ي‌ مزبور، اعم‌ از امام‌ حق‌ و باطل‌ است، ولي‌ در هر حال، مفاد آيه، اين‌ است‌ كه‌ امام‌ حق‌ تا قيامت‌ در بين‌ بشر باقي‌ خواهد بود. البته، پيوسته، در برابر امام‌ حق، امام‌ باطلي‌ هم‌ وجود خواهد داشت.
‌با توجّه‌ به‌ بحث‌هاي‌ گذشته، روشن‌ شد كه‌ امام‌ حق، كسي‌ است‌ كه‌ امامت‌اش‌ از مشيّت‌ و جعل‌ الهي‌ ناشي‌ گردد. او، كسي‌ است‌ كه‌ از مقام‌ خلافت‌ الهي‌ برخوردار است‌ و اسرار و حقايق‌ مربوط‌ به‌ آفرينش‌ انسان‌ و جهان‌ را مي‌داند و در طول‌ حيات‌ خود، ظلم‌ و گناه‌ نمي‌كند: لاينال‌ عهدي‌ الظالمين28.
‌مطلب‌ ياد شده، در احاديث‌ اهل‌ بيت‌ (عليهم‌السلام) نيز بيان‌ شده‌ است. از امام‌ صادق(عليه‌السّلام) روايت‌ شده‌ كه‌ فرمود: لايترك الارض‌ بغير امام‌ يحّل‌ حلال‌ الله‌ ويحرّم‌ حرامه؛ زمين، هرگز، بدون امامي‌ كه‌ حلال‌ خداوند را حلال‌ و حرام‌ خداوند را حرام‌ سازد، نخواهد بود.>؛ يعني، وجود امام، براي‌ شناخت‌ درست‌ احكام‌ الهي، پيوسته‌ ضرورت‌ دارد. آن‌گاه‌ امام‌ (عليه‌السلام) فرمود: <اين‌ مطلب، مفاد آيه‌ي‌ كريمه‌ي‌ يوم‌ ندعو كل‌ اناس‌ بامامهم است‌. امام‌ (عليه‌السلام) در پايان، به‌ حديث‌ نبوي‌ معروف‌ مَن ‏ مات‌ بغير اًمام‌ مات‌ ميته` جاهليه`` استشهاد كرده‌ است.
‌ضرورت‌ وجود امام‌ و حجّت‌ خداوند در زمين، در احاديث‌ اهل بيت (عليهم‌السّلام) به‌ صورت‌ مكّرر و مؤ‌كّد، بيان‌ شده‌ است. در بحث‌هاي‌ گذشته، نمونه‌هايي‌ را يادآور شديم. در اين‌ روايات، بر نكات‌ زير‌ تأكيد شده‌ است.
1- وجود امام‌ و پيشواي‌ الهي، در هر زمان، امري‌ است‌ ضروري‌ و اجتناب‌ناپذير.
2- پيشوايان‌ و حجّت‌هاي‌ الهي، خلفاي‌ خداوند در زمين‌اند: اولئك خلفاءُ الله‌ في ارضه.
3- حجّت‌ها و رهبران‌ الهي، كامل‌ترين‌ انسان‌هاي‌ عصر خويش‌اند.
4- رهبران‌ و حجّت‌هاي‌ خداوند، فلسفه‌ي‌ آفرينش‌ انسان‌ و جهان‌ به‌ شمار مي‌روند.29

پاسخ‌ به‌ يك‌ اشكال‌
‌از آيه‌ي‌ واذ ابتلي‌ ابراهيم‌ ربّه‌ بكلمات‌ فأتمهن‌ قال‌ اًني‌ جاعلك للناس‌ اًماما30 به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ ابراهيم‌ خليل(عليه‌السّلام) پس‌ از مقام‌ نبوّت‌ و رسالت. به‌ مقام‌ امامت‌ رسيده‌ است، از اين‌ روي‌ بايد گفت، مقام‌ امامت، بالاتر و برتر از مقام‌ نبّوت‌ و رسالت‌ است.
‌گواه‌ بر اين‌ كه‌ مقام‌ امامت‌ پس‌ از مقام‌ نبوت‌ و رسالت‌ به‌ وي‌ اعطا شده، اين‌ است‌ كه‌ آزمون‌هايي‌ كه‌ خداوند ابراهيم(عليه‌السّلام) را به‌ آن‌ها آزمود، در دوران‌ نبوت‌ و رسالت‌ او بوده‌ است، مانند احتجاج‌ او با پرستندگان‌ ستارگان‌ و ماه‌ و خورشيد، و احتجاج‌ او با آذر و نمرود، و نيز جريان‌ ذبح‌ فرزندش‌ اسماعيل.
‌گذشته‌ از اين، در احاديثي‌ كه‌ از اهل‌ بيت(عليهم‌السّلام) روايت‌ شده، به‌ اين‌ مطلب‌ تصريح‌ شده‌ است‌ كه‌ خداوند، مقام‌ امامت‌ را پس‌ از مقام‌ نبوّت‌ و رسالت‌ و خُلّت به‌ ابراهيم‌ (عليه‌السلام) اعطا كرده‌ است. در حديثي‌ از امام‌ صادق‌ (عليه‌السلام) روايت‌ شده‌ كه‌ فرمود: <خداوند، پيش‌ از آن‌ كه‌ ابراهيم‌ را به‌ نبوّت‌ برگزيند، به‌ بندگي‌ خويش‌ برگزيد، و پيش‌ از آن‌ كه‌ او را به‌ رسالت‌ برگزيند، به‌ نبوّت‌ برگزيد، و پيش‌ از آن‌ كه‌ او را به‌ عنوان‌ خليل‌ خود برگزيند، به‌ رسالت‌ برگزيد، و پيش‌ از آن‌ كه‌ مقام‌ امامت‌ را به‌ او عطا كند، او را به‌ عنوان‌ خليل‌ خويش‌ برگزيد،31 پس‌ از آن‌ كه‌ آن‌ مقامات‌ براي‌ او حاصل‌ گرديد. فرمود: انّي‌ جاعلك للناس‌ اماما.
‌در احاديث‌ ائمه‌ي‌ معصوم (عليهم‌السّلام) تفاوت‌ نبي‌ و رسول‌ به‌ اين‌ دانسته‌ شده‌ است‌ كه‌ نبي، فرشته‌ي‌ وحي‌ را در خواب‌ مي‌بيند، و رسول، فرشته‌ را در بيداري‌ مشاهده‌ مي‌كند. مراتب‌ ياد شده‌ درباره‌ي‌ حضرت ابراهيم‌ (نبوّت، رسالت، و خلّت، امامت) از آيات‌ قرآن‌ به‌ روشني‌ به‌ دست‌ مي‌آيد.
‌آيه‌ي‌ واذكر في‌ الكتاب‌ ابراهيم‌ انه‌ كان‌ صديقا نبيا، اذ قال‌ لابيه‌ يا ابت‌ لم‌ تعبد ما لايسمع‌ ولايبصر ولايغني‌ شيئا32 بر مقام‌ نبوّت‌ حضرت‌ ابراهيم‌ (عليه‌السلام) دلالت‌ مي‌كند.
‌آيه‌ي‌ ولقد جاء ت‌ رسلنا ابراهيم‌ بالبشري‌ قالوا سلاما قال‌ سلام33 بر مقام‌ رسالت‌ ابراهيم‌ دلالت‌ مي‌كند. اين، در دوران‌ بزرگ‌سالي‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) بوده‌ است.
‌آيه‌ي‌ واتّبع‌ ملّه` ابراهيم‌ حنيفا واتخذالله‌ اًبراهيم‌ خليلا34 مقام‌ خلّت‌ ابراهيم‌ است‌ كه‌ پس‌ از آن‌ كه‌ داراي‌ مقام‌ رسالت‌ بود و شريعت‌ حنيف‌ به‌ او وحي‌ شده‌ بود، به‌ آن‌ دست‌ يافت.
‌آن‌گاه ‌كه از همه‌ي‌ امتحانات‌ الهي‌ سرافراز بيرون‌ آمد به مقام‌ امامت‌ رسيد35.
‌با توجّه‌ به‌ مطلب‌ ياد شده، پرسش‌ و اشكالي‌ كه‌ در اين‌ جا مطرح‌ مي‌شود، اين‌ است‌ كه‌ <مفاد بحث‌هاي‌ پشين، اين‌ شد كه‌ پيامبران‌ الهي، امامان‌ و پيشوايان‌ بشر بوده‌اند؛ يعني، در عين‌ اين‌ كه‌ داراي‌ مقام‌ نبوت‌ و رسالت‌ بوده‌اند، مقام‌ امامت‌ نيز داشته‌اند، در اين‌ صورت، چگونه مي‌توان‌ مقام‌ رسالت‌ را از نبوّت، و مقام‌ امامت‌ را از آن‌ دو جدا ساخت>.

پاسخ‌
‌و مطلب‌ ياد شده‌ كه‌ هر دو از قرآن‌ كريم‌ به‌ دست‌ مي‌آيند، با هم‌ ناسازگار نيستند؛ چرا كه‌ آن‌چه‌ از آيات‌ دسته‌ي‌ نخست‌ (آياتي‌ كه‌ بر امامت‌ پيامبران‌ الهي‌ دلالت‌ دارند) به‌ دست‌ مي‌آيد، جز اين‌ نيست‌ كه‌ پيامبران‌ الهي، داراي‌ مقام‌ امامت‌ نيز بوده‌اند، امّا اين‌ كه‌ اين‌ مقام‌ در چه‌ زماني‌ به‌ آنان‌ اعطا شده‌ است، از اين‌ آيات، چيزي‌ به‌ دست‌ نمي‌آيد. اين‌ طلب، از آيات‌ مربوط‌ به‌ امامت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) و نيز احاديث‌ ياد شده‌ به‌ دست‌ مي‌آيد. مطابق‌ اين‌ آيات‌ و روايات، مقام‌ امامت، پس‌ از مقام‌ نبوت‌ و رسالت، به پيامبران‌ الهي‌ اعطا شده‌ است.
‌توضيح‌ اين‌ كه‌ مقام‌ نبوّت، يعني‌ اين‌ كه‌ فردي‌ به‌ عنوان‌ پيامبر الهي‌ برگزيده‌ شده‌ و مخاطب‌ وحي‌ نبوت‌ قرار گرفته‌ است. او، با داشتن‌ چنين‌ مقامي، از حقايق‌ غيبي‌ و احكام الهي خبر دارد. امّا هنوز به‌ مقام‌ ابلاغ‌ شريعت‌ الهي‌ به‌ بشر برگزيده‌ نشده‌ است. في‌المثل، پيامبر گرامي‌ اسلام، تا قبل‌ از آن‌ كه‌ به‌ مقام‌ رسالت‌ برگزيده‌ شود (قبل‌ از چهل‌ سالگي) از مقا نبوّت‌ برخوردار بود.
‌بنابراين، مقام‌ رسالت، مقامي‌ است‌ كه‌ پيامبر، مأموريّت‌ ابلاغ‌ شريعت‌ الهي‌ را به‌ بشر عهده‌دار مي‌گردد و سرانجام، به‌ مقام‌ امامت‌ مي‌رسد؛ يعني، مقامي‌ كه‌ در انديشه‌ و گفتار و رفتار، مقتداي‌ بشر مي‌گردد، چه‌ آن‌ چيزي‌ را كه‌ به‌ عنوان‌ وحي‌ براي‌ بشر فرا مي‌خواند، و چه‌ آن‌ چيزي‌ را كه‌ به‌ عنوان‌ تفسير و تبيين‌ وحي‌ الهي‌ به‌ آنان‌ مي‌آموزد؛ چرا كه‌ امامت، به‌ معناي‌ مقتدا بودن‌ فردي‌ براي‌ ديگران‌ در گفتار و رفتار است.36
‌بديهي‌ است‌ همه‌ي‌ پيامبراني‌ را كه‌ خداوند براي‌ هدايت‌ و رهبري‌ بشر فرستاده‌ است، مقامات‌ سه‌ گانه‌ مزبور را داشته‌اند همان‌گونه‌ كه‌ همگي‌ خلفاي‌ الهي‌ در زمين‌ بوده‌اند. و از امامت به معناي هدايت باطني و ايصال به مطلوب نيز به اذن و مشيت الهي برخوردار بوده اند.
البته، همان‌طور كه‌ قرآن‌ كريم‌ تصريح‌ كرده‌ است، پيامبران، از نظر فضايل‌ و كمالات‌ وجودي، متفاوت‌ بوده‌اند. مثلاً فرموده‌ است: تلك الرسل‌ فضلنا بعضهم‌ علي‌ بعض37 نيز فرموده‌ است: ولقد فضّلنا بعض‌ النبيين‌ علي‌ بعض38.
‌آري، پيامبران‌ الهي، از اين‌ جهت‌ كه‌ از هدايت‌ ويژه، يعني‌ هدايت‌ بي‌واسطه‌ي‌ الهي‌ برخوردار بوده‌اند، بر همه‌ي‌ كساني‌ كه‌ فاقد چنين‌ هدايت‌ ويژه‌اي‌ بوده‌اند، برتري‌ داشته‌اند: وكلاً فضّلنا علي‌ العالمين39 پيامبران‌ را بر همه‌ي‌ جهانيان‌ برتري‌ داديم.
مقصود از <العالمين> كساني‌اند كه‌ فاقد ويژگي‌ هدايت‌ بي‌ واسطه‌ي‌ الهي‌ بوده‌اند. از اين‌ روي، اگر با دلائل‌ عقلاني‌ يا وحياني‌ اثبات‌ شود كه‌ غير از پيامبران‌ نيز از چنين‌ هدايت‌ ويژه‌اي‌ برخوردار بوده‌اند، فضليت‌ پيامبران‌ بر‌آنان‌ از اين‌ جهت‌ (هدايت‌ بي‌واسطه‌ الهي) اثبات‌ نخواهد شد.40 بررسي‌ جوانب‌ اين‌ مسئله، به‌ مجال‌ ديگري‌ نياز دارد.

‌بخش‌ دوم‌ - امامت‌ و هدايت‌
‌يكي‌ از نقش‌ها و اهداف‌ اساسي‌ امامت، هدايت‌ افراد بشر است. پيش‌ از آن‌ كه‌ به‌ بررسي‌ نقش‌ هدايت‌كنندگي‌ امام‌ از ديدگاه‌ قرآن‌ كريم‌ بپردازيم، لازم‌ است‌ تعريف‌ هدايت‌ و كابردهاي‌ قرآني‌ آن‌ را بيان‌ كنيم.

تعريف‌ هدايت‌
‌واژه‌ي‌ <هدايت>، مصدر و به‌ معناي‌ <راهنمايي‌ و ارشاد> است.41 به‌ گفته‌ي‌ برخي‌ از واژه‌شناسان، هدايت، راهنمايي‌ همراه‌ با لطف‌ و مهرباني‌ است.42 اين‌ واژه، در زبان‌ عربي‌ هم‌ به‌ صورت‌ متعدي‌ به‌ كار رفته‌ است‌ و هم‌ به‌ صورت‌ لازم. گونه‌ي‌ دوم، با حرف‌ <الي> يا <لام> متعدي‌ مي‌شود. آيه‌ي‌اهدنا الصراط‌ المستقيم43 از گونه‌ي‌ نخست‌ و آيه‌هاي‌ والله‌ يهدي‌ مَن ‏ يشاء الي‌ صراط‌ مستقيم44 و انّ هذا القرآن‌ يهدي‌ للّتي‌ هي‌ اقوم45 از گونه‌ي‌ دوم‌ است.
‌هدايت، به‌ معناي‌ <پيمودن‌ راهي‌ كه‌ انسان‌ را به‌ مقصد مي‌رساند> نيز به‌ كار رفته‌ است.46 در اين‌ كاربرد، اين‌ واژه، لازم‌ است‌ نه‌ متعدّي‌ و به‌ معناي‌ <هدايت‌ يافتن> است‌ و نه‌ <هدايت‌ كردن>. وقتي‌ گفته‌ شود: هدي‌ الرجل، معناي‌ آن‌ اين‌ است‌ كه‌ <آن‌ مرد هدايت‌ شد>.47 به‌ عبارت‌ ديگر، كلمه‌ي‌ <هدي> در اين‌ كاربرد با كلمه‌ي‌ <اهتدي> برابر است.

انواع‌ هدايت‌ در قرآن‌
‌واژه‌ي‌ هدايت‌ در قرآن‌ كريم‌ كاربردهاي‌ گوناگوني‌ دارد:
1- هدايت‌ تكويني؛ چنان‌ كه‌ فرموده‌ است: ربّنا الذي‌ اعطي‌ كلّ شيء خلقه‌ ثمّ هدي48 (حضرت‌ موسي(عليه‌السّلام) به‌ فرعون‌ گفت)؛ پروردگار ما، كسي‌ است‌ كه‌ هر چيزي‌ را آفريده‌ و او را هدايت‌ كرده‌ است.
‌نيز فرموده‌ است: الّذي‌ قدّر فهدي49؛ آفريدگاري‌ كه‌ هر چيزي‌ را كه‌ آفريد، به‌ اندازه‌ آفريد و او را هدايت‌ كرد.
2- هدايت‌ تكويني‌ عموم‌ بشر؛ چنان‌ كه‌ فرموده‌ است: ونفس‌ وماسوّاها، فألهمها فجورها وتقواها50؛ سوگند به‌ نفس‌ و آن‌ كه‌ او را بياراست، آن‌ گاه‌ پليدي‌ها و پاكي‌ها را به‌ او الهام‌ كرد.
‌اين‌ هدايت، همان‌ هدايت‌ فطري‌ بشر است‌ كه‌ به‌ واسطه‌ي‌ عقل‌ و وجدان‌ در نهاد انسان‌ قرار داده‌ شده‌ است‌ و از قلمرو اختيار و اكتساب‌ انسان‌ بيرون‌ است.
3- هدايت‌ تشريعي؛ اين‌ هدايت، از طريق‌ شريعت‌هاي‌ آسماني‌ و پيامبران‌ و هاديان‌ الهي‌ تحقّق‌ يافته‌ است. قرآن‌ كريم، در باره‌ي‌ پيامبر اكرم(صلّي‌اللّهُ عليه‌وآله‌وسلّم) مي‌فرمايد: وما منع‌ الناس‌ ان ‏ يؤمنوا اذ جاءهم‌ الهدي51؛ چه‌ چيزي‌ مردم‌ را مانع‌ شده‌ است‌ كه‌ آن‌ گاه‌ كه‌ هدايت‌ ما به‌ سوي‌ آنان‌ آمد، به‌ او ايمان‌ بياورند.
‌درباره‌ي‌ تورات‌ مي‌فرمايد: وجعلناه‌ هدي‌ لبني‌ اسرائيل52؛ تورات‌ را هدايت‌ كننده‌ي‌ بني‌اسراييل‌ قرار داديم.
‌درباره‌ قرآن‌ مي‌فرمايد: شهر رمضان‌ الذي‌ اُنزل‌ فيه‌ القرآن‌ هدي‌ للناس53؛ ماه‌ رمضان، ماهي‌ است‌ كه‌ قرآن‌ براي‌ هدايت‌ بشر در آن‌ نازل‌ شد.
‌هدايت‌ تشريعي‌ نيز همانند هدايت‌ تكويني‌ فطري، عموميّت‌ دارد و به‌ فرد يا گروه‌ خاصي‌ اختصاص‌ ندارد: ولكلّ‌ قوم‌ هاد54.
4- هدايت‌ تكويني‌ خاص؛ از قرآن، به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ گروهي‌ از انسان‌ها، از گونه‌اي‌ هدايت‌ تكويني‌ خاصّ بهره‌مند مي‌گردند. آنان‌ دو دسته‌اند:
‌الف) پيامبران‌ و برگزيدگان‌ (انسان‌هاي‌ معصوم)؛
‌ب) صالحان‌ و پرهيزگاران.
‌قرآن‌ كريم، پس‌ از ذكر نام‌ عده‌اي‌ از پيامبران‌ مي‌فرمايد: واجتبيناهم‌ وهديناهم‌ اًلي‌ صراط‌ مستقيم‌ ذالك هدي‌ الله‌ يهدي‌ به‌ مَن ‏ يشاء من‌ عباده55؛ آنان‌ را برگزيديم‌ و به‌ راه‌ راست‌ هدايت‌ كرديم. اين‌ هدايت‌ ويژه‌ي‌ خداوند است‌ كه‌ هر يك‌ از بندگان‌ خود را كه‌ بخواهد از آن‌ بهره‌مند مي‌سازد.
‌در باره‌ي‌ مؤ‌منان‌ و صالحان‌ مي‌فرمايد: انّك لاتهدي‌ مَن ‏ احببت‌ ولكن‌ اللّه‌ يهدي‌ مَن ‏ يشاء و هو اعلم‌ بالمهتدين56؛ تو، كساني‌ را كه‌ دوست‌داري‌ هدايت‌ شوند، هدايت‌ نمي‌كني، لكن‌ خداوند هر كس‌ را كه‌ بخواهد هدايت‌ مي‌كند، و او به‌ هدايت‌جويان‌ داناتر است.
‌نيز مي‌فرمايد: (ليس‌ عليك‌ هُداهم‌ ولكنّ اللّه‌ يهدي‌ مَن ‏ يشاء)57.
‌تفاوت‌ دو نوع‌ هدايت‌ ويژه‌ي‌ مزبور، در اين‌ است‌ كه‌ هدايت‌ ويژه‌ي‌ پيامبران‌ و برگزيدگان‌ با (معصومان) آفرينش‌ آنان‌ همراه‌ است؛ يعني؛ ذات‌ و جوهر روح‌ آنان‌ از چنان‌ صفا و طهارت‌ تكويني‌ برخوردار است‌ كه‌ نور هدايت‌ از نخستين‌ لحظه‌هاي‌ خلقت‌ در نهاد آنان‌ پرتوافكن‌ مي‌شود و آنان‌ از مصونيّت‌ و طهارت‌ تكويني‌ و موهبتي‌ بهره‌مندند، ولي‌ مؤ‌منان‌ و صالحان، از چنين‌ هدايت‌ تكويني‌ برخوردار نيستند، امّا پس‌ از طيّ مقدمات‌ و مراحلي، شايستگي‌ دريافت‌ آن‌ را پيدا مي‌كنند و خداوند، آن‌ را به‌ آنان‌ اعطا مي‌كند‌ والذين‌ جاهدوا فينا لنهدينهم‌ سبلنا وان‌ اللّه‌ لمع‌ المحسنين58؛ آنان‌ را كه‌ در راه‌ ما (با نفس‌ خود) جهاد كردند، به‌ راه‌هاي‌ خويش‌ هدايت‌ مي‌كنيم‌ و خداوند با نيكوكاران‌ است.
‌در جاي‌ ديگر فرموده‌ است: يهدي‌ به‌ الله‌ من‌ اتبع‌ رضوانه‌ سبل‌ السلام‌ ويخرجهم‌ من‌ الظلمات‌ الي‌ النور باذنه‌ ويهديهم‌ الي‌ صراط‌ مستقيم59؛ خداوند، به‌ واسطه‌ي قرآن‌ و پيامبر، كساني‌ را كه‌ رضايت‌ او را برگزينند به‌ راه‌هاي‌ امنيّت‌ و سعادت‌ هدايت‌ مي‌كند و با اذن‌ خاص‌ خود، آنان‌ را از ظلمت‌ها به‌ نور بيرون‌ مي‌برد و به‌ صراط‌ مستقيم‌ هدايت‌ مي‌كند.

امامت‌ و هدايت‌ ويژه‌
‌قرآن‌ كريم، آن‌ گاه‌ كه‌ از امامت‌ سخن‌ گفته‌ است، از هدايت‌ ويژه‌اي‌ ياد كرده‌ است. هدايتي‌ كه‌ با امر الهي‌ تحقق‌ مي‌يابد!
وجعلناهم‌ ائمه` يهدون‌ بأمرنا60؛ آنان‌ (ابراهيم‌ و اسحاق‌ و يعقوب) را اماماني‌ قرار داديم‌ كه‌ مردم‌ را به‌ امر ما هدايت‌ كنند.
وجعلنا منهم‌ ائمه` يهدون‌ باءمرنا61 از بني‌اسرائيل، اماماني‌ را قرار داديم‌ تا مردم را به‌ امر ما هدايت‌ كنند.
‌قرآن، در باره‌ي‌ امر الهي‌ فرموده‌ است: انّما امره‌ اذا اراد شيئا ان ‏ يقول‌ له‌ كن‌ فيكون، فسبحان‌ الذي‌ بيده‌ ملكوت‌ كلّ‌ شيء62؛ امر خداوند، چنان‌ است‌ كه‌ هر گاه‌ آفرينش‌ چيزي‌ را اراده‌ كند، به‌ آن‌ مي‌گويد: <باش>، پس‌ موجود مي‌شود. پس‌ منزه‌ است‌ كسي‌ كه‌ ملكوت‌ هر چيزي‌ به‌ دست‌ او است.
‌روشن‌ است‌ كه‌ مقصود از كلمه‌ي‌ <امر> در اين‌ آيه، امر لفظي‌ با واژه‌ <كُن> و مانند آن‌ نيست، بلكه‌ مراد از آن، شأن‌ خداوند در آفرينش‌ موجودات است‌ كه‌ هر گاه‌ اراده‌ي‌ حتمي‌ او به‌ آفرينش‌ چيزي‌ تعلّق‌ پيدا كند، به‌ محض‌ اين‌ كه‌ افاضه‌ و ايجاد از جانب‌ او تحقّق‌ يابد، آن‌ شيء، موجود خواهد شد؛ يعني، فاعليّت‌ خداوند، مطلق‌ و تام‌ است‌ و مشروط‌ به‌ چيزي‌ جز ذات‌ و صفات‌ ذاتي‌ او نيست‌. بدين‌ جهت‌، استبعاد منكران‌ معاد در باره‌ي‌ زنده‌ شدن‌ دوباره‌ي‌ اجزاي‌ متلاشي‌ شدن‌ بدن‌ مردگان، وجهي‌ ندارد؛ زيرا، ملكوت‌ همه‌ چيز، در قبضه‌ي قدرت‌ خداوند قرار دارد.
مقصود از ملكوت، اصل‌ و نهاد و نهان‌ هر است؛ يعني، اشيا، داراي‌ جنبه‌اي‌ ملكي‌ و ظاهري‌اند كه‌ با چشم‌ ظاهري‌ و ديگر ابزارهاي درك حسّي، قابل‌ مشاهده‌ و ادراك‌اند، و داراي‌ جنبه‌اي‌ ملكوتي‌ و باطني‌اند كه‌ از طريق‌ حواس‌ نمي‌توان‌ آن‌ را درك‌ كرده‌ بلكه‌ با ديدگان‌ عقل، و بالاتر از آن، با ديدگان‌ قلب، مي‌توان‌ آن‌ را شناخت، و شناخت‌ راستين‌ آن، در گروِ آن‌ است‌ كه‌ حجاب‌هاي‌ وَه ‏م‌ و خيال‌ و غريزه‌ و شهوت، كنار زده‌ شود، و آن، جز با عنايت‌ ويژه‌اي‌ از جانب‌ خداوند، ممكن‌ نخواهد بود.
‌آن‌ كس‌ كه‌ ملكوت‌ اشيا را به‌ خوبي‌ درك‌ كند، از اصحاب‌ يقين‌ خواهد بود. در باره‌ي‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) مي‌فرمايد: وكذالك نري‌ ابراهيم‌ ملكوت‌ السماوات‌ والارض‌ وليكون‌ من‌ الموقنين63
‌قرآن‌ كريم‌ در جاي‌ ديگر در باره‌ي‌ امر الهي‌ مي‌فرمايد: وما امرنا الاّ واحده` كلمح‌ بالبصر64؛ امر ما، يكي‌ بيش‌ نيست، و (آن‌ هم) چونان‌ اشاره‌ي‌ چشم‌ است؛ يعني‌ در، امر الهي‌ كه‌ تحقّق‌ هر چيز به‌ آن‌ بستگي‌ دارد و آن، عبارت‌ است‌ از امر تكويني‌ ايجادي‌ كه‌ هستي‌ هر چيزي‌ را به‌ آن‌ اعطا مي‌كند تعدّد و تكثّر و تغييّر و تدريج‌ راه‌ ندارد، و اين، در حالي‌ است‌ كه‌ موجودات‌ مكاني‌ و زماني، در بستر تدريج‌ و تغيير، تحقّق‌ مي‌يابند. اين‌ آيه‌ نيز به‌ گونه‌اي، جنبه‌ي‌ باطني‌ و ملكوت‌ اشيا را كه‌ همان‌ عالم‌ امر است‌ بيان‌ مي‌كند در مقابل‌ جنبه‌ي‌ ظاهري‌ موجودات‌ كه‌ عالم‌ ملك‌ نام‌ دارد.
‌با توّجه‌ به‌ نكات‌ ياد شده، مي‌توان‌ هدايت‌كنندگي‌ امام‌ به‌ امر خداوند را به‌ درستي‌ تصوير كرد. امام، با استناد به‌ امر ملكوتي‌ خداوند كه‌ به‌ اذن‌ پروردگار بدان‌ دست‌ يافته‌ است، در ذهن‌ و روح‌ انسان‌هاي‌ مستعد هدايت، تصرّف‌ مي‌كند و آنان‌ را به‌ كمال‌ مطلوب‌ مي‌رساند. اين‌ هدايت، در ارائه‌ي‌ طريق‌ و نشان‌ دادن‌ راه، يعني‌ بيان‌ معارف‌ و احكام‌ الهي‌ به‌ بشر خلاصه‌ نمي‌شود. البته‌ آن‌ كس‌ كه‌ از مقام‌ امامت‌ برخوردار است، طبعاً، در حوزه‌ي‌ شناخت‌ معارف‌ و احكام‌ دين‌ نيز سرامد ديگران‌ است‌ و راي‌ و نظر او، معيار حق‌ و باطل‌ به‌ شمار مي‌رود، امّا آن‌ چه‌ در آيات‌ ياد شده، در باره‌ي‌ امامت‌ مورد نظر است، هدايتي‌ فراتر از ارائه‌ي‌ طريق‌ است؛ يعني، هدايتي‌ است‌ تكويني‌ كه‌ به‌ امر و اذن‌ تكويني‌ و خاص‌ خداوند انجام‌ مي‌گيرد. پيامبراني‌ كه‌ در اين‌ آيات‌ از آنان‌ ياد شده‌ است، بلكه‌ عموم‌ پيامبران‌ و رسولان‌ الهي، علاوه‌ بر مقام‌ نبوّت‌ و رسالت، كه‌ به‌ دريافت‌ معارف‌ و احكام‌ الهي‌ و ابلاغ‌ آن‌ها به‌ بشر مربوط‌ مي‌شود و نقش‌ هدايت‌كنندگي‌ تشريعي‌ را دارد، از مقام‌ امامت‌ و هدايت‌كنندگي‌ تكويني‌ و خاصّ نيز بهره‌مند بوده‌اند. رسيدن‌ به‌ اين‌ مقام، در گرو امتحانات‌ خاص‌ و معرفت‌ و شناختي‌ ويژه‌ بوده‌ است‌. درباره‌ي‌ حضرت‌ ابراهيم(عليه‌السّلام) مي‌فرمايد: واذ ابتلي‌ ابراهيم‌ ربّه‌ بكلمات‌ فأتمّهنّ قال‌ انّي‌ جاعلك الناس‌ اماما65
‌نيز مي‌فرمايد:وكذالك نري‌ ابراهيم‌ ملكوت‌ السماوات‌ والارض‌ وليكون‌ من‌ الموقنين66
‌از دو آيه‌ي‌ ياد شده، به‌ روشني‌ به‌ دست‌ مي‌آيد كه‌ ابراهيم‌ خليل‌ (عليه‌السلام) آن‌ گاه‌ به‌ مقام‌ والاي‌ امامت‌ رسيد كه‌ از يك‌ سوي‌ مورد امتحانهاي‌ ويژه‌ي‌ الهي‌ قرار گرفت‌ و از همگي‌ سربلند بيرون‌ آمد، و از سوي‌ ديگر، خداوند، ملكوت‌ آسمان‌ها و زمين‌ را به‌ او نشان‌ داد و او به‌ مقام‌ يقين‌ نايل‌ گرديد.
‌بنابراين، جمله‌ي‌ يهدون‌ بأمرنا در آيات‌ امامت، به‌ روشني‌ بر اين‌ حقيقت‌ دلالت‌ مي‌كند كه‌ هدايتِ هدايت‌ يافتگان، از طريق‌ ولايت‌ و تصرّف‌ تكويني‌ امام‌ و به‌ اذان‌ و امر ملكوتي‌ خداوند تحقق‌ مي‌پذيرد.67

اشكال‌
‌در ادامه‌ي‌ آيه‌ي‌ هفتاد و سوم‌ از سوره‌ي‌ انبيا، پس‌ از آن‌ كه‌ از مقام‌ امامت‌ ابراهيم‌ و اسحاق‌ و يعقوب(عليهم‌السّلام) سخن‌ گفته‌ شده، فرموده‌ است: و اوحَينا اليهم‌ فعل‌ الخيرات‌ واقام‌ الصلاه` و ايتاء الزكاه` وكانوا لنا عابدين؛ به‌ آنان‌ انجام‌ دادن‌ خيرات‌ و برپا داشتن‌ نماز و دادن‌ زكات‌ را وحي‌ كرديم، و آنان‌ ما را عبادت‌ مي‌كردند.
‌بر اين‌ اساس، امامت‌ مورد نظر در اين‌ آيه، كه‌ با هدايت‌ ويژه‌ و ولايت‌ تكويني‌ براَعمال‌ و نفوس‌ هدايت‌ يافتگان‌ ملازمه‌ دارد، به‌ عموم‌ يا برخي‌ از پيامبران‌ اختصاص‌ دارد و شامل‌ ديگران‌ نمي‌شود. از اين‌ روي، بر ديدگاه‌ شيعه‌ در باره‌ي‌ امامت‌ دلالت‌ نمي‌كند.

پاسخ‌
‌مقصود از وحي، با توجّه‌ به‌ صدر و ذيل‌ آيه، وحي‌ تشريعي‌ نيست، بلكه‌ مقصود، وحي‌ تسديدي‌ است؛ يعني، روح‌ القدس، پيوسته‌ پيامبران‌ الهي‌ را مدد مي‌رساند و علاوه‌ بر اين‌ كه‌ معارف‌ و احكام‌ الهي‌ را از جانب‌ خداوند به‌ آنان‌ وحي‌ مي‌كند، به‌ اذن‌ پروردگار، آنان‌ را مورد تأييد ويژه‌ قرار مي‌دهد و در نتيجه، آنان، علاوه‌ بر اين‌ كه‌ در مقام‌ علم‌ و معرفت‌ معصوم‌اند، در مقام‌ عمل‌ نيز از صفت‌ عصمت‌ برخوردارند، و اوامر و نواهي‌ الهي‌ را به‌ صورت‌ كامل‌ اجرا مي‌كنند.
‌گواه‌ بر اين‌ مطلب‌ اين‌ است‌ كه، هر گاه‌ مصدر به‌ معمول‌اش‌ (مفعول) اضافه‌ شد، نشانه‌ي‌ اين‌ است‌ كه‌ آن‌ معمول، در عالم‌ خارج، تحقّق‌ يافته‌ است‌ و اگر مقصود اين‌ باشد كه‌ انجام‌ دادن‌ آن، مطلوب‌ است‌ و بايد بعداً انجام‌ شود، مصدر، به‌ معمول‌ خود اضافه‌ نمي‌شود. بلكه‌ به‌ جاي‌ مصدر، فعل‌ مضارع‌ همراه‌ با كلمه‌ي‌ <ان ‏> آورده‌ مي‌شود كه‌ آن‌ را تأويل‌ به‌ مصدر ‌برد. مثلاً هر گاه‌ گفته‌ شود:يُعجِبُني‌ احسانك وفعل الخير؛ احسان‌ و فعل‌ نيك‌ تو، مرا به‌ شگفت‌ مي‌آورد، مفاد اين‌ جمله، اين‌ است‌ كه‌ احسان‌ و كار نيكي‌ كه‌ انجام‌ گرفته‌ است، چنين‌ اثري‌ دارد، ولي‌ هر گاه‌ گفته‌ شود: يُعجِبُني‌ ان‌ تُحسِنَ‌ وتفعل‌ الخير، مفاد آن، اين‌ است‌ كه‌ احسان‌ و كار نيك‌ انجام‌ نگرفته‌ است، و گوينده‌ تحقّق‌ آن‌ را مي‌پسندد و مي‌طلبد. چنان‌ كه‌ خداوند فرموده‌ است. اَن ‏ تصوموا خيرلكم68.
‌بر اين‌ اساس، در آياتي‌ كه‌ وحي‌ تشريعي‌ مقصود است، به‌ جاي‌ مصدر، فعل‌ با كلمه‌ي <ان‌ مصدريه> به‌ كار رفته‌ است. مانند: امرت‌ انِ اعبد الله69 و ان‌ لاتعبدوا الاّ ايّاه70 و ان‌ اقيموا الصلاه`71.
در آيه‌ي‌ مورد بحث‌ نيز عبارت‌ چنين‌ است: واوحينا اليهم‌ فعل‌ الخيرات. <فعل> كه‌ مصدر است، به‌ <الخيرات> كه‌ معمول‌ آن‌ است، اضافه‌ شده‌ است. در اين‌ آيه‌ گفته‌ نشده‌ است: و اوحينا اليهم‌ ان‌ افعلوا الخيرات پس‌ بنابر قاعده‌ي‌ مزبور، مفاد آيه، اين‌ است‌ كه‌ فعل‌ خيرات، از پيامبران‌ صادر شده‌ و آنان، عملاً، اقامه‌ي‌ نماز و ايتاء كرده‌اند، و اين‌ كار با وحي‌ تسديدي‌ الهي‌ تحقّق‌ يافته‌ است.72
‌آن‌ چه‌ به‌ پيامبران‌ الهي‌ اختصاص‌ داشته‌ است، وحي‌ تشريعي‌ است، نه‌ وحي‌ تسديدي؛ زيرا، دليلي‌ از عقل‌ و وحي‌ بر اين‌ كه‌ چنين‌ وحي‌اي‌ مخصوص‌ پيامبران‌ بوده‌ است، در دست‌ نيست، بلكه‌ دلائل‌ عقلي‌ و نقلي‌ مي‌گويند : امامت‌ به‌ عنوان‌ وساطت‌ هدايت‌ باطني‌ الهي، امري‌ است‌ كه‌ به‌ مقتضاي‌ حكمت‌ الهي‌ كه‌ نظام‌ هستي‌ را بر پايه‌ي‌ اسباب‌ و وسايط‌ مناسب‌ تقدير كرده‌ است، لازم‌ و ضروري‌ است‌ و آن‌ كسي‌ كه‌ داراي‌ مقام‌ امامت‌ است، از تسديد و تأييد ويژه‌ي‌ خداوند برخوردار است، و اين‌ تسديد و تأييد ويژه‌ي‌ الهي‌ نيز به‌ واسطه‌ي‌ فرشته‌اي‌ كه‌ از عالم‌ امر است، تحقق‌ مي‌يابد: و كذالك اوحينا اليك روحاً من‌ امرنا73؛ اين‌ گونه، روحي‌ را كه‌ از عالم‌ امر ما است‌ به‌ تو وحي‌ كرديم؛ يعني، آن‌ را با تو همراه‌ ساختيم.
‌در احاديثي‌ از اهل‌ بيت(عليهم‌السّلام) آمده‌ كه‌ مقصود از آن، فرشته‌اي‌ است‌ برتر از جبرئيل‌ و ميكاييل. آن‌ فرشته، پيوسته‌ پيامبر(صلّي‌اللّهُ عليه‌وآله‌وسلّم) را تأييد و تسديد مي‌كرد، و پس‌ از وي‌ با ائمه‌ي‌ معصوم(عليهم‌السّلام) است.
‌كليني، به‌ سند صحيح‌ از ابي‌ بصير روايت‌ كرده‌ كه‌ گفت: <از امام‌ صادق(عليه‌السّلام) از آيه‌ي‌ و كذالك اوحينا اليك‌ روحا من‌ امرنا) پرسيدم.>. امام‌ فرمود: خلق‌ من‌ خلق‌ الله‌ عزّوجلّ اعظم‌ من‌ جبرئيل‌ و ميكائيل كان‌ مع‌ رسول‌ الله‌ يخبره‌ و يسدّده‌ وهو مع‌ الائمه` بعده74
‌در حديث‌ ديگري، امام(عليه‌السّلام) تصريح‌ كرده‌ است‌ كه‌ آن‌ روح، از عالم‌ ملكوت‌ بوده‌ است: وهو من‌ الملكوت75.

امامت‌ و هدايت‌ بي‌واسطه‌
‌هر گاه‌ امام، واسطه‌ي‌ هدايت‌ ديگر افراد بشر است، و هدايت‌ الهي، چه‌ به‌ معناي‌ ارائه‌ي‌ طريق‌ و چه‌ به‌ معناي‌ ايصال‌ به‌ مطلوب، از طريق‌ هاديان‌ الهي‌ (پيامبران‌ و امامان) تحقّق‌ مي‌پذيرد، در اين‌ صورت، آنان، خود، بدون‌ واسطه، از هدايت‌ الهي‌ بهره‌مندند.
‌اين، مطلبي‌ است‌ كه‌ علاوه‌ بر اين‌ كه‌ مقتضاي‌ حكم‌ عقل‌ است، در آيات‌ قرآن‌ نيز مورد تأكيد واقع‌ شده‌ است: افمن‌ يهدي‌ الي‌ الحقّ احقّ ان‌ يُتّبع‌ امّن‌ لايهدّي‌ الا ان‌ يهدي‌ فمالكم‌ كيف‌ تحكمون76؛ آيا كسي‌ كه‌ به‌ حق‌ هدايت‌ مي‌كند، سزاوارتر است‌ كه‌ از او پيروي‌ شود يا كسي‌ كه‌ تا از سوي‌ ديگران‌ هدايت‌ نشود، از هدايت‌ بهره‌اي‌ ندارد؟ چه‌ گونه‌ داوري‌ مي‌كنيد؟
‌مفاد اين‌ آيه، اين‌ است‌ كه‌ تنها، كساني‌ شايستگي‌ آن‌ را دارند كه‌ عهده‌دار هدايت‌ ديگران‌ گردند كه‌ خود بدون‌ آن‌ كه‌ به‌ هدايت‌شدن‌ از سوي‌ كسي‌ نياز داشته‌ باشند، هدايت‌ شده‌اند؛ يعني‌ از هدايت‌ بي‌واسطه‌ي‌ الهي‌ برخوردارند، و آن‌ كسي‌ كه‌ از چنين‌ هدايتي‌ برخوردار نيست، خواه‌ گمراه‌ باشد يا هدايت‌ يافته‌ به‌ واسطه‌ي‌ ديگري،‌ شايستگي‌ اين‌ را كه‌ عهده‌دار امر هدايت‌ گردد، ندارد.
‌مطلب‌ مزبور، بيش‌ از آن‌ كه‌ مربوط‌ به‌ هدايت‌ به‌ معناي‌ ارائه‌ي‌ طريق‌ باشد با هدايت‌ به‌ معناي‌ ايصال‌ به‌ مطلوب، مناسبت‌ دارد؛ چرا كه‌ براي‌ ارائه‌ي‌ طريق‌ آن‌چه‌ لازم‌ است، دارا بودن‌ هدايت‌ است، خواه‌ بي‌واسطه‌ باشد يا با واسطه، امّا در هدايت‌ باطني، بايد فرد هدايت‌كننده، از مقام‌ بالايي‌ بهره‌مند باشد كه‌ بتواند واسطه‌ي‌ هدايت‌ و ولايت‌ تكويني‌ خداوند شود.77

نور خداوند در قلوب‌ مؤ‌منان‌
‌در احاديثي‌ كه‌ از ائمه‌ي‌ معصوم(عليهم‌السلام) روايت‌ شده‌ است، از امامت‌ به‌ عنوان‌ نوري‌ تعبير شده‌ است‌ كه‌ در قلوب‌ مؤ‌منان‌ تابش‌ مي‌كند و پرتو آن، بسي‌ تاب‌ناك‌تر از نور خورشيد است.‌محدّث‌ كليني، به‌ سند صحيح‌ از ابي‌ خالد كابلي‌ روايت‌ كرده‌ كه‌ گفت: <از امام‌ باقر(عليه‌السّلام) در باره‌ي‌ آيه‌ي‌ فامنوا باللّه‌ ورسوله‌ والنور الذي‌ انزلنا78 پرسيدم.>. امام‌ فرمود: <اي‌ ابا خالد! مقصود از نور، امامان‌ آل‌ محمد تا روز قيامت‌ است‌ سوگند به‌ خدا! آنان، نوري‌ هستند كه‌ خداوند نازل‌ كرده‌ است. آنان، نور خداوند در آسمان‌ها و زمين‌اند سوگند به‌ خدا! اي‌ ابا خالد! نور امام‌ در دل‌هاي‌ مؤ‌منان، روشني‌ بخشي‌تر از نور خورشيد در روز است. به‌ خدا سوگند! امامان، دل‌هاي‌ مؤمنان‌ را نوراني‌ مي‌سازند. خداوند، نور آنان‌ را از هر كس‌ كه‌ بخواهد، باز مي‌گيرد، و در نتيجه، دل‌هاي‌ آنان‌ تاريك‌ مي‌شود. به‌ خدا سوگند! اي‌ ابا خالد! كسي‌ ما را دوست‌ نمي‌دارد و ولايت‌ ما را بر نمي‌گزيند، مگر اين‌ كه‌ خداوند، قلب‌ او را پاكيزه‌ سازد، و خداوند قلب‌ كسي‌ را پاكيزه‌ نمي‌سازد، مگر اين‌ كه‌ تسليم‌ امر ما باشد. هر گاه‌ چنين‌ باشد، خداوند، او را از حساب‌ سخت‌ و فزع‌ بزرگ‌ در روز قيامت‌ در امان‌ مي‌دارد.>79

گستره‌ و ژرفاي‌ امامت‌
‌از بحث‌هاي‌ گذشته، مي‌توان‌ به‌ گسترده‌ و ژرفاي‌ امامت‌ پي‌ برد. امامت‌ را نبايد صرفاً تدبير سياسي‌ جامعه‌ي‌ اسلامي‌ در چهارچوب‌ احكام‌ الهي‌ خلاصه‌ كرد، همان‌ گونه‌ كه‌ تنها در رهبري‌ ديني‌ در سطح‌ بيان‌ معارف‌ و احكام‌ الهي‌ و هدايت‌ تشريعي‌ نيز خلاصه‌ نمي‌شود. امامت، ظاهري‌ بس‌ گسترده‌ و باطني‌ ژرف‌ دارد. امامت‌ ظاهري‌ ريشه‌ در ولايت‌ و هدايت‌ دروني‌ و تكويني‌دارد. آن‌ كس‌ كه‌ واسطه‌ي‌ هدايت‌ الهي‌ در رساندن‌ هدايت‌ جويان‌ به‌ كمال‌ مطلوب‌ است، همو، پيش‌ و بيش، از ديگران‌ اين‌ شايستگي‌ را دارد كه‌ در قلمرو هدايت‌ تشريعي‌ راهنماي‌ مردم‌ باشد و گفتار و كردارش، مقياس‌ و معيار حق‌ و باطل‌ به‌ شمار آيد، اسوه‌ و الگوي‌ اخلاق‌ و تربيت‌ باشد، و بالاخره‌ سررشته‌ي‌ تدبير نظام‌ سياسي‌ و اجتماعي‌ را در دست‌ بگيرد. بدين‌ جهت، اگر قرآن‌كريم، بر بُعد عرفاني‌ و باطني‌ امامت‌ تأكيد ورزيده‌ و بر هدايت‌ باطني‌ و نهاني‌ پاي‌ فشرده‌ است، نه‌ بدان‌ معنا است‌ كه‌ امامت، شأن‌ ديگري‌ جز آن ندارد، و رهبري‌ فكري‌ و ديني‌ و اخلاقي‌ و سياسي‌ جامعه‌ از شئون‌ و اهداف‌ امامت‌ نيست، بلكه‌ بدين‌ معنا است‌ كه‌ بدون‌ آن‌ كه‌ فردي‌ از چنان‌ مقام‌ و منزلت‌ والا‌يي برخوردار باشد، نخواهد توانست‌ در ديگر قلمروهاي‌ مربوط‌ به‌ هدايت‌ و رهبري‌ جامعه‌ي‌ بشري، به‌ گونه‌اي‌ بايسته‌ و ايده‌آل‌ نقش‌ آفرين‌ باشد.
‌آن‌ كس‌ كه‌ منصب خلافت‌ الهي‌ بر زمين‌ را دارد، مي‌تواند منصب‌ خلافت‌ نبوي‌ و پيشوايي‌ امت‌ را بر عهده‌ بگيرد.
‌آن‌ كسي‌ كه‌ در هدايت‌ تكويني‌ و باطني، واسطه‌ي‌ افاضه‌ي‌ لطف‌ و رحمت‌ الهي‌ به‌ هدايت‌جويان‌ است، مي‌تواند در هدايت‌ تشريعي‌ و رهبري‌ ديني‌ و اخلاقي، واسطه‌ي‌ هدايت‌ الهي‌ براي‌ جامعه‌ي‌ بشري‌ ‌باشد.
‌آن‌ كسي‌ كه‌ در شناخت‌ انسان و جهان‌ به‌ مقام‌ <علّم‌ آدم‌ الاسماء> رسيده‌ است‌ خواهد توانست‌ رهبري‌ عادلانه‌ بشريتّ را عهده‌دار شود و هر چيز و هر كس‌ را در جاي‌ مناسب‌ آن‌ بگذارد.
‌آن‌ كسي‌ كه‌ در جهاد با نفس‌ امّاره‌ - كه‌ جهاد اكبر است‌ - به‌ پيروزي‌ كامل‌ رسيده است‌ و از مقام‌ عصمت‌ برخوردار است، شايستگي‌ رهبري‌ جهاد اصغر را به‌ وجه‌ احسن‌ خواهد داشت‌ و سرانجام‌ بايد گفت:
افمن‌ يهدي‌ الي‌ الحقّ احقّ ان،‌ يُتّبعَ امّن‌ لايهدّي‌ الاّ اَن ‏ يُهدي فَمالكُم‌ كيف‌ تحكمون80

------------------
پي‌نوشت‌ها:
1. بقره: 124.
2. توبه: 12.
3. هود: 17؛ احقاف: 12.
4. يس: 12.
5. الميزان، ج‌ 17، ص‌ 67.
6. بقره: 29.
7. بقره: 22.
8 . يونس: 67.
9. بقره‌ / 21.
10. بقره‌ / 22.
11. الدر المنثور، ج‌ 5، ص‌ 217.
12. اصول‌ كافي، ج‌ 1، كتاب‌ الحجه`، باب‌ ان‌ الحجه` لاتقوم‌ للّه‌ اًلاّ بامام. در اين‌ باب، سيزده‌ حديث‌ كه‌ اين‌ مطلب‌ را مي‌رساند، نقل‌ شده‌ است.
13. مفاتيح‌ الجنان، دعاي‌ عديله.
14. بقره: 30.
15. بقره: 31 - 32.
16. بقره: 33.
17. انعام: 75.
18. ص: 26.
19. بقره: 213.
20. انعام: 87 - 88.
21. انعام: 89.
22. بقره‌ / 124.
23. سجده: 24.
24. انبيا: 72 - 73.
25. زخرف: 26 - 28.
26. در تفسير البرهان، يازده‌ حديث‌ كه‌ مضمون‌ فوق‌ در آن‌ها بيان‌ شده، روايت‌ شده‌ است. ر.ك: البرهان‌ في تفسير القرآن، ج‌ 4، ص‌ 138 - 140. نيز ر.ك: الميزان، ج‌ 18، ص‌ 106.
27. اسراء، 71 - 72. جهت‌ آگاهي‌ از تفسير اين‌ دو آيه، به‌ تفسير الميزان، ج‌ 13، ص‌ 165 - 170 رجوع‌ شد.
28. بقره: 124.
29. جهت‌ آگاهي‌ از احاديث‌ ياد شده‌ به‌ كتاب‌ الحجه` از اصول‌ كافي، ج‌ 1، رجوع‌ شود. نيز مضامين‌ ياد شده، در حكمت‌ 147 نهج‌البلاغه‌ بيان‌ شده‌ است.
30. بقره: 124.
31. اصول‌ كافي، ج‌ 1، كتاب‌ الحجه`، باب‌ طبقات‌ الانبياء، حديث‌ 2.
32. مريم: 42.
33. هود: 69.
34. نساء: 125.
35. تفسير الميزان، ج‌ 1، ص‌ 277 - 278.
36. الاِمام: المؤ‌تمّ به‌ انسانّا كأن‌ يقتدي‌ بقوله‌ او فعله، او كتاباً او غير ذالك: المفردات‌ في‌ غريب‌ القرآن، ص‌ 24، كلمه‌ي‌ ام.
الامام: كلّ مَن‌ اقتدي‌ به‌ و قُدّم‌ في الامور، النبي(صلّي‌اللّهُ عليه‌وآله‌وسلّم) اِمام‌ الائمّه`، والخليفه` امام‌ الرعيه`، والقرآن‌ امام‌ المسلمين‌ معجم‌ المقاييس‌ في‌ اللّغه`، ص‌ 48، كلمه` ام.
37. بقره: 253.
38. اسراء: 55.
39. انعام: 86.
40. الميزان، ج‌ 7، ص‌ 244.
41. مجمع‌ البيان، ج‌ 1، ص‌ 27.
42. المفردات‌ في‌ غريب‌ القرآن، ص‌ 538، كلمه‌ي‌ <هدي>.
43. حمد: 6.
44. بقره: 213.
45. اسراء: 9.
46. جرجاني، التعريفات، ص‌ 112.
47. هدي‌ الرجل: استرشد (المنجد).
48. طه: 50.
49. اعلي: 3.
50. شمس: 7 - 8.
51. اسراء: 94.
52. اسراء: 2.
53. بقره: 185.
54. رعد: 7.
55. انعام: 87 - 88.
56. قصص: 56.
57. بقره: 272.
58. عنكبوت: 69.
59. مائده: 16.
60. انبيا: 73.
61. مسجده: 24.
62. يس: 83.
63. انعام: 75.
64. قمر: 5.
65. بقره: 124.
66. انعام: 75.
67. الميزان، ج‌ 1، ص‌ 272 - 273، و ج‌ 14، ص‌ 304.
68. بقره: 184.
69. رعد: 36.
70. يوسف: 40.
71. انعام: 72.
72. الميزان، ج‌ 10، ص‌ 305.
73. شورا: 52.
74. اصول‌ كافي، ج‌ 1، كتاب‌ الحجه`، باب‌ الروح‌ التي‌ يسدّد اللّه‌ بها الائمه`(عليه‌السّلام) حديث‌ 1.
75. همان، ح‌ 2.
76. فاطر: 35.
77. ر.ك: الميزان، ج‌ 10، ص‌ 58.
78. اصول‌ كافي، ج‌ 1، كتاب‌ الحجه`.
79. اصول‌ كافي، ج‌ 1، كتاب‌ الحجه`، ص‌ 150، باب‌ ان‌ الائمه`(ع) نوراللّه‌ عزّوجلّ.
80. فاطر: 35.



[مجله شماره 7 : - اعتقادي]


تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 13:11 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
رسالت قرآن کریم

بهترین معرّف برای شرح اوصاف قرآن کریم همانا خود قرآن مجید است و اگر در سخنان عترت طاهره ـ علیهم السلام ـ توصیف قرآن مشاهده می‌شود باز به استناد خود قرآن حکیم است، لیکن بهره‌برداری از آن به عهده همتای وی یعنی ثقل اصغر می‌باشد که به نوبه خود، قرآن ناطق‌اند، و در هیچ مرحله از مراحل کمال هستی از قرآن جدا نبوده و قرآن نیز در هیچ مقام از مقام‌های وجودی از آنان جدا نخواهد بود، و اگر کمالی در قرآن باشد که عترت طاهره ـ علیهم السلام ـ فاقد آن باشد، یا کمالی در عترت طاهره ـ علیهم السلام ـ باشد که قرآن حاوی آن نباشد، اشکال جدایی این دو وزنه‌ی وزین از هم لازم می آید که روایت متواتر نبی اکرم ـ صلّی الله علیه و آله ـ آن را برای همیشه مردود می‌داند.
آنچه فعلا موردنظر است، رسالت‌ قرآن کریم می‌باشد، یعنی پیام چیزی که انسان کامل با دریافت آن به سِمَت والای رسالت منصوب می‌گردد، چون رسالت هر پیامبری به گرفتن وحی تشریعی او است که متن پیام و گوهر رسالت خواهد بود، و شناخت رسالت هر پیامبری در گرو معرفت وحی تشریعی او می‌باشد، چه اینکه نزول هر پیامی به اندازه‌ی ظرفیت هستی آن انسان متعالی خواهد بود، و از رهگذر تفاوت انبیاء با هم: «فَضّلنا بَعضَ النبیّین عَلی بَعض[1]ٍ» و امتیاز آنان از هم: «تلک الرُّسل فضَّلنا بعضهم علی بعض»[2] می‌توان به تفاوت پیام‌ها از هم پی برد، زیرا پیام‌ها گر چه هدف مشترکی دارند لیکن در سعه و ضیق معارف از هم جدا بوده و در انیق و عمیق بودن، همتای هم نیستند.
بنابراین کامل ترین انسانها،جامع ترین پیامها را می‌گیرد و در اثر کلّیت و دوام رسالت خویش مُهر نبوت را به همراه دارد و این نشانه‌ی خاتمیّت را هماره بر دوش می‌کشد و شانه‌ی او زیر بار مسئولیت ختم رسالت و مهر نبوّت، سنگینی توانفرسای آخرین پیام به جوامع بشری را در طول تاریخ احساس می‌فرماید: «اِنّا سَنُلقی عَلَیکَ قَولًا ثَقیلًا[3]»، زیرا رسالت او نه تنها نسبت به حال و آینده است، بلکه باید درباره‌ی ره آورد همه‌ی پیام‌آوران گذشته میزان استوار باشد و آن هم نه در حدّ تصدیق محض بلکه در مرز سرپرستی و نگهبانی و مدیریت و حفاظت همه جانبه، تا آنچه بجا مانده است از آسیب سانحه تحریف و گزند گزافه‌گویان محفوظ بماند، و آنچه از خاطره‌ها رخت بربست یا نابجا تفسیر شده است درست بیان گردد، تا سلسله‌ی پیام‌ها به رهبری قافله سالار آنها یعنی قرآن کریم محفوظ بماند. چه اینکه سلسله‌ی پیامبران با رهنمود سالارشان محفوظ‌اند: «وَ اَنزَلنا اِلَیکَ الکِتابَ بِالحقَّ مُصدِّقاً لِما بَینَ یَدَیهِ مِنَ الکِتابِ وَ مُهَیمِناً عَلَیهِ»[4]
انگیزة نهایی هر پیامی به اندازه‌ی درجه‌ی وجودی مبدء فاعلی آن یعنی پیام فرستنده و به مقدار هستی مبدء صوری آن، یعنی محتوی پیام و عصاره‌ی مضمون آن و به سِعَه مبدء قابلی آن، یعنی روح مجرد انسان کامل که پذیرای آن است خواهد بود. گر چه تمام پیامهای آسمانی از عظمت مبادی چهارگانه یاد شده برخوردارند لیکن بعد از تحلیل نهایی روشن خواهد شد که هیچ پیامی همتای آخرین پیام الهی نمی‌باشد و امتیاز این پیام نهایی برین، بر تمام پیام‌های گذشته در تمام مبادی چهارگانه همچنان محفوظ است.
اما از لحاظ مبدء فاعلی گر چه خدای سبحان مبدء آغازین همه‌ی رسالت‌ها است لیکن در هر پیامی خداوند، با نام خاص از اسمای حسنای الهی ظهور می‌کند و چون آن اسماء یکسان نیستند، در نتیجه مبدا فاعلی پیام‌ها، نیز در همه موارد متساوی هم نخواهند بود، زیرا رسالتی که از اسم عظیم نشأت می‌گیرد، همتای پیامی که از اسم اعظم صادر می‌شود نمی‌باشد، چون اسم عظیم همسان اسم اعظم نیست. اما از لحاظ مبدء صوری یعنی محتوی پیام، همانطوری که هم اکنون اشاره شد، مضمون دستوری که از اسم اعظم نازل می‌شود برتر از محتوی دستوری است که از اسم غیر اعظم نشأت می‌گیرد.
اما از لحاظ مبدء قابلی یعنی روح مجرّد انسان کامل که قرارگاه وحی الهی است، پیامی که کامل‌ترین انسان‌ها دریافت می‌نماید کامل‌تر از هر گونه پیامی است که دیگری آن را دریافت می‌نماید، یعنی همان اسلام ناب که دین خدایی است: «انَّ الدّینَ عِندَ اللهِ الاِسلامُ»[5]. و همه‌ی پیام‌آوران الهی همان را دریافت کرده و به امت‌ها ابلاغ نموده‌اند: تفاوت مراتب آن در بطون و عمق و نیز تعالی درجات آن در صعود قابل تردید نیست.
اما از لحاظ مبدء‌ غائی یعنی انگیزه‌ی نهایی و هدف وجودی آن، چون بمقدار مبادی گذشته است و آنها در اوج کمال‌اند پس مبدء غائی آخرین پیام نیز در بلندای کمال بوده و مقامی از آن برتر میسّر صالحان سالک نخواهد بود، و گرنه آخرین دستور نمی‌شد، زیرا سنّت تبدیل‌ناپذیر حقّ بر اینست که هر استعدادی را به فعلیت برساند و به محروم ماندن هیچ جامعه‌ی شایسته رضا ندهد.
از این رهگذر می توان به راز تعبیر دعای بیست و هفتم ماه رجب که سالروز بعثت خاتم انبیاء الهی است پی برد: «اللّهم إنّی اسئلک بالتجلّی الاعظم...»[6] زیرا گر چه متکلّم در کلام خود تجلّی می‌کند چنانکه در نهج البلاغه آمده است: «فتجلّی لهم سبحانه فی کتابه من غیر ان یکونوا رأوه»[7]، لیکن تمام تجلّی‌ها همتای هم نیستند و کامل‌ترین آنها همانست که بر قلب مطهّر کامل‌ترین فرستاده‌ها نازل شده است: «نَزَلَ بِهِ الرّوحُ الاَمینُ عَلی قَلبِکَ لِتَکُونَ مِنَ المُنذِرینَ»[8].
نکته‌ای که تذکر آن در این پیشگفتار سودمند است، اینست که گر چه مؤمنان موظّف‌اند به همه‌ی پیامبران ایمان بیاورند و هیچ فرقی بین آنان نگذارند: «لا نُفرِّقٌ بَین اَحَدٍ مِن رُسُله[9].» «وَ الّذینَ آمَنُوا بِالله وَ رُسُلهِ وَ لَمْ یُفرِّقُوا بینَ اَحَدٍ مِنْهُمْ اُولئِکَ سَوفَ یُؤتیهِم اُجُورَهُم وَ کَانَ اللهَ غَفُوراً رَحیماً»[10].
لیکن این فرق نگذاشتن، ناظر به اصل رسالت و متن نبوّت می‌باشد نه راجع به درجه آن، و گرنه همانطوری که باید به اصل سِمَت آنها مؤمن بود لازم است به درجه‌ی خاصّ هر کدام نیز ایمان آورد تا اولوالعزم از غیر اولوالعزم جدا شوند، و در نتیجه خاتم ـ صلّی الله علیه و آله ـ از غیر آن امتیاز پیدا کند و سرانجام افضل از غیر افضل واضح شود، و بدینوسیله مزیّت پیام خاتم ـ صلّی الله علیه و آله ـ نسبت به پیام‌های دیگران آشکار گردد، و مسئولیت صیانت و اطاعت و عمومی بودن و عمیق بودن آن هویدا شود.
بررسی هدف قرآن از تحقیق پیرامون اهداف سائر کتابهای آسمانی جدا نیست، زیرا همه‌ی آنها برای تعلیم و تزکیه‌ی انسان نازل شده‌اند و موضوع پیام آنها رهبری بشر است، و حقیقت بشر؛ نه همانند برخی از فرشتگان عالم غیب مجرّد تام است و نه همتای پدیده‌های طبیعی نظیر گیاه، مادّی صرف است، و نه مجموع مجرّد و مادّی است که کثرت آن حقیقی و وحدت آن اعتباری باشد، بلکه یک واحد حقیقی و گسترده است که دارای شئون فراوان می‌باشد، و همه‌ی آن شئون ادراکی و تحریکی را خودش اداره می‌نماید و در نهان گوهر روح وی، فطرت توحیدی تبدل ناپذیر ذخیره شده و دامنه‌ی هستی او به طبیعت سیّال بسته است.
چون منطقه‌ی تربیت وحی آسمانی حقیقت انسان است و واقعیت بشر همین است که اجمالاً اشاره شد، لذا دین خدای سبحان که همان اسلام ناب است نه چیز دیگر، در هر عصر به صورت وحی تشریعی و کتاب آسمانی ظهور کرده است، و خطوط کلی آن که راجع به فطرت زوال‌ناپذیر است به نام دین ترسیم شده و هیچ تفاوتی بین ره آورد پیامبران در این زمینه نیست: «انّ الدّینَ عندَ الله الاسلامُ» و اگر فرقی بین آنها مشاهده می‌شود راجع به دقیق و دقیق‌تر بودن و ناظر به تفاوت طولی معارف آنها است، و خطوط جزئی آن که راجع به تأمین نیازهای بخش سیّال انسانیّت است در طول زمان‌ها شاهد تحوّل‌های مختصری بوده است که از آن به عنوان شِرعَة و منهاج یاد می‌شود،... «لکلٍّ جَعَلنا شِرعَةً وِ مِنهاجاً»[11].
چون دین برای تهذیب بخش ثابت انسانیت است، هیچ زوالی در او راه پیدا نمی‌کند، زیرا فطرت انسانی که موضوع پرورش دین است دگرگون نخواهد شد. «لا تَبدیلَ لِخَلقِ الله»[12]، و از این رهگذر رابطه‌ی ره‌آورد پیامبران نسبت به یکدیگر فقط تصدیق است و هیچ تعبیری که نشانه‌ی نسخ و ابطال و ازاله‌ی دین قبلی باشد در کلمات پیامبر بعدی یافت نمی‌شود، و چون شریعت برای تزکیه‌ی بخش متغیّر انسانیت است زوال‌پذیر می‌باشد، چه اینکه در قلمرو یک شریعت نیز گاهی نسخ الهی رخنه می کند، گر چه روح نسخ در این‌گونه از موارد به تخصیص زمانی بر می‌گردد، از این جهت سرّ تعبیر از پیوند قرآن با کتاب‌های آسمانی و تحریف نشده‌ی پیام‌آوران سلف به: «مصدّقًّا لِما بَینَ یَدَیه» معلوم خواهد شد، یعنی هر جا سخن از دین و خطوط کلی آنست عنوان تصدیق مطرح است نه نسخ و مانند آن، و هر جا سخن از نسخ به میان می‌آید، باید مدار آن را فقط در محدوده‌ی خطوط جزئی بنام منهاج و شِرعَة جستجو کرد.
با تحلیل فرق بین دین و شریعت، و تحقیق قلمرو هر کدام از تصدیق و نسخ و اثبات وحدت دین و تعدد اجمالی شرائع، هم راز تمایز منطقه‌ی تصدیق از محور محو و نسخ ظاهر می‌شود، و هم لزوم توجه به اهداف انبیاء گذشته و اغراض کتاب‌های آسمانی سلف، در تبیین هدف نبی اکرم ـ صلّی الله علیه و آله ـ و غرض قرآن کریم واضح می‌گردد، و هم سرّ خاتمیّت ره آورد حضرت محمد بن عبدالله(ص) آشکار خواهد شد، زیرا در صورتی که خدای سبحان به حدّ نهایی رشد بشر آگاهی کامل دارد: «اَلا یَعلَم مَن خَلَقَ وَ هُوَ اللّطیف الخَبیر»[13] قوانین کلی و قواعد اصولی که هر کدام مبنای فروع فراوانی می‌باشد نازل می‌کند، و راه اجتهاد را تعلیم می‌دهد و پیمودن آن را بر صاحبان قدرت استنباط واجب می‌کند، تا با آگاهی کامل از حدود موضوع و شرط و جزء آن حکم الهی از متون منابع آشکار شود و بدون هجوم اشتباهات زمانی و مکانی درک گردد، و همانطوری که برای تعلیم اندیش‌مندان آخر الزمان، سوره‌ی توحید و اوائل سوره‌ی حدید را نازل نموده است تا فرزانگان آینده‌ی دور، هم از فیض زلال زمزمه‌ی وحی بهره‌مند شوند، برای تفهیم نیازمندانِ مسائل فقهی، نیز اصول جامع می‌فرستد، تا استنباط‌گران طول تاریخ از بی‌نیاز و قوی کتاب و عترت بی‌بهره نمانند و نظام اجتماعی همچنان در پرتو احکام اسلامی اداره شود.
با عنایت به این پیشگفتار کوتاه، وارد اصل بحث شده و رسالت قرآن کریم که محور اصلی سخن است در طی چند فصل تبیین می‌شود.


[1] . سورة اسراء، آیة 55؛ بعضی از پیامبران را بر بعضی دیگر برتری دادیم.
[2] . سورة بقره، آیة 253؛ بعضی از آن پیامبران را بر بعضی دیگر برتری دادیم.
[3] . سوره مزمل، آیة 5؛ چرا که ما بزودی سخنی سنگین به تو القا خواهیم کرد.
[4] . سورة مائده، آیة 48؛ و این کتاب (قرآن) را به حق بر تو نازل کردیم، در حالی که کتب پیشین را تصدیق می‌کند، و حافظ و نگهبان آنهاست.
[5] . سورة آل عمران، آیة 19؛ دین در نزد خدا، اسلام (و تسلیم بودن در برابر حق) است.
[6] . مفاتیح الجنان، دعای شب مبعث؛ پروردگارا از تو درخواست می‌کنم بحق بزرگ‌ترین تجلّی تو.
[7] . خطبة 147؛ خداوند پاک و منزّه خود را در کتاب خویش بدون این که وی را ببینند به وسیله‌ی آیاتی از قدرتش ارائه داده.
[8] . سورة شعر، آیات 173 ـ 174؛ روح الامین آن را نازل کرده است، بر قلب (پاک) تو، تا از انذارکنندگان باشی.
[9] . سورة بقره، آیة 285؛ ما در میان هیچ یک از پیامبران او، فرق نمی‌گذاریم (و به همه ایمان داریم).
[10] . سورة نساء، آیة 152؛ (ولی) کسانی که به خدا و رسولان او ایمان آورده، و میان احدی از آنها فرق نمی‌گذارند، پاداششان را خواهد داد؛ خداوند، آمرزنده و مهربان است.
[11] . سورة مائده، آیة 48؛ ما برای هر کدام از شما، آیین و طریقة روشنی قرار دادیم.
[12] . سورة روم، آیة 30.
[13] . سورة ملک، آیة 14.

رسالت قرآن ـ آیت الله جوادی آملی


تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 13:6 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |