💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠
پروگرام :
❄️ *سیاسی و سماجی تبصرہ*❄️
======== *میڈیا اور ہم* ========
حجت الاسلام
غلام محمد شاکری
=============================
*قسط :1*
*مقدمہ*
جس دور سے ہم گزر رہے ہیں میڈیا کا دور ہے اس وقت انسانی زندگی کے تمام معاملات، ضروریات،حمل و نقل، علاج و معالجہ اور تعلیم و تربیت غرض ہر کام، حتی یہاں تک کہ جنگ بھی میڈیا کے ذریعے سے انجام دیے جانے لگی ہے ۔ میڈیا کی اسی وسعت نے دنیا کو ایک گهر کے مانند ببنا دیا ہے اور ہر چیز کا معیار تبدیل ہوچکا ہے ۔
طاقتور وہی ہے جو زیادہ اور موثر میڈیا رکھتا ہو!
مہذب اور امن پسند لوگوں کے تعین بھی میڈیا ہی کرتا ہے میڈیا میں ایسی جادوئی طاقت ہے کہ مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا سکتا ہے یعنی ظلم کا معیار بلکل بدل گیا ہے۔ اسرائیل مظلوم ہے اور فلسطینی عوام غاصب، قابض اور ظالم!
آپ ذرا غور کریں کہ یہ ذرائع ابلاغ، ہتھیاروں اور بموں سے بهی زیادہ خطرناک ہے ہیں اور یہی میڈیا خاص طور سے مغربی دنیا کامیڈیا مسلسل ہماری ثقافت، تہذیب اور دین پر حملے کررہا ہے اور ہماری نئی نسل کو ذہنی اور اخلاقی طور پر قتل کررہا ہے مگر ستم یہ ہے اسے قاتل نہیں کہلاتا اور کسی قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا ۔
آج استعماری طاقتیں جو میڈیا پر قابض ہیں اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل اور مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے دوسری قوموں خصوصاً مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی اقدار میں بگاڑ پیدا کرنے کی پوری کوشش کررہی ہیں
ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمارے مسلمان نوجوان حتی پڑے لکھیے طبقے تک پر مغربی میڈیا کے اثرات اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ آج ہی پڑھا لکھا مسلمان طبقہ استعماری افکار اور ان کے میڈیا کے پراپگنڈہ پر کوئی اعتراض نہیں کرتا اور اگر کسی کو کسی چیز پر کوئی اعتراض ہیں تو اسلام اور اسلام کی تعلیمات پر ہے
کوئی یہ اعتراض نہیں کرتا کہ دنیا کے اس کونے سے اٹھ کر ہمارے خطے میں لشکر کشی کرکے ہمارے مال و دولت کو کیوں غارت کرکے لے جاتے ہیں؟ لیکن اس ظلم اور ناانصافی پر احتجاج کرنے کے جرم میں آج اسلامی ملکوں میں مرجعیت کی مشروعیت سے لیکر ان کی مقبولیت تک پر مغربی میڈیا کے ساتھ ساتھ مسلمان بهی ہزاروں قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ....
*جاری ہے*
.: Weblog Themes By Pichak :.
