یہ بات قرآن مجید میں انبیاء کے حوالے سے کئی بار ذکرہوئی ہے۔(1)
قابل توجہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ہمیشہ اپنی نمازوں میں سورہ حمد میں ایک مہم
اسلامی شعار کے طور پر اس آیہ کریمہ کی تکرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں
ایاک نعبد و ایاک نستعین ۔ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے استعانت و مدد
طلب کرتے ہیں۔
واضح ہے کہ آئمہ اللہ تعالی کے اذن سے انبیاء اور فرشتوں کے شفاعت کرنے کا عقیدہ
جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا اللہ کے اذن سے ہے ، عبادت کے معنی میں نہیں ہے۔
اسی طرح انبیاء سے متوسل ہونا، اس معنی میں کہ وہ پروردگار عالم سے ان کی مشکلات کے
حل کے لئے توسل کریں، یہ بات نہ پرستش و عبادت میں شمار ہوتی ہے اور نہ ہی توحید
افعالی و توحید عبادت سے منافات رکھتی ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل نبوت کی بحث میں آئے
گی۔ انشاء اللہ۔
(1)سورہ اعراف آیہ ۵۹،۶۵،۷۳،۸۵ و۔۔۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ ملائکہ وجود رکھتے، ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو خاص امرکے لئے
مقرر کیا گیاہے، بعض کو ابلاغ و حی پرمامور کیا گیا تھا۔(۱)
ایک گروہ کو انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور کیاگیاہے۔(۲)
ایک گر وہ قبض روح پر مامور ہے۔(۳)
ایک گروہ کو مومنین حقیقی کی مدد پر مامور کیا گیاہے۔(۴)
ایک گروہ کو جنگوں میں مومنین کی مدد کے لیے مامور کیا گیا ہے۔(۵)
ایک گروہ کا کام باغی اور سرکش قوموں پر عذاب نازل کرناہے ۔ (۶) (سورہ ھود آیہ ۷۷
) اس کے علاوہ کائنات کے دوسرے امور ان کے حوالے کے کیے ہیں۔
چونکہ یہ سارے امور اللہ کے اذن اور حکم اور اس کی نصرت و استعانت سے ملائکہ کے
سپرد کے گیے ہیں لہذا اصل توحید افعالی اور توحید ربوبیت سے نہ صرف یہ کہ اس سے
کوئی منافات نہیں ہے بلکہ اس پر تاکید بھی ہے۔
اس سے یہ بات بھی روشن اور واضح ہوجاتی ہے کہ چونکہ شفاعت انبیاء و ائمہ و ملائکہ،
اللہ کے اذن اور حکم سے ہے لہذا عین توحید ہے ۔مامن شفیع الا من بعد اذنہ ۔۔ کوئی
بھی شفاعت کرنے والا خدا کے اذن کے بغیر شفاعت نہیں کرسکتا۔(۷)
اس مسئلہ اور مسئلہ توسل کے بارے میں تفصیلی بحث انشاء اللہ نبوت انبیاء کے باب میں
آئے گی ۔
(۱)سورہ بقرہ آیہ۹۷۔
(۲)سورہ انفطار آیہ۱۰۔
(۳)سورہ اعراف آیہ۳۷۔
(۴)سورہ فصلت آیہ ۳۰۔
(۵)سورہ اْحزاب آیہ ۹
(۷)سورہ یونس آیہ۳
ترجمہ: پیدا یشی اندھوں اور برص جیسے نا قابل علاج مریضوں کو میرے اذن سے شفا دیتے
تھے اور مردوں کو میرے حکم سے زندہ کیا کرتے تھے۔(1)
اور حضرت سلیمان کے ایک وزیر کے بارے میں ارشاد ہوتاہے:
قال الذی عندہ علم من الکتاب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما رآہ مستقرا
عندہ قال ھذا من فضل ربی۔
ترجمہ: وہ جس کے پاس کتاب آسمانی کا علم تھا، کہا: میں آپ کے پلک چھپکنے سے پہلے
اسے (ملکہ سبا کے تخت کو) آپ کے پاس لا سکتا یہوں اور جب حضرت سلیمان نے اسے اپنے
سامنے مستقر دیکھا تو کہا: یہ میرے اللہ کے فضل (ارادہ ) فضل سے ہے۔ (2)
لہذا اللہ کے حکم سے حضرت عیسی علیہ السلام ناقابل علاج مریضوں کو شفا دیتے اور
مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت دینا، جیسا کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان
ہواہے، عین توحید ہے۔
(1) سورہ مائدہ آیہ ۱۱۰
(2) سورہ نحل آیہ
عبادت ،خداوند عالم سے مخصوص ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، یہ شاخ ،توحید کی
سب سے اہم شاخ میں شمار ہوتی ہے اور انبیاء الہی سب سے زیادہ اس پر تاکید کرتے ہیں:
وما امرواالا لیعبدوااللہ مخلصین لہ الدین حنفاء۔۔۔و ذلک الدین القیمہ
انھیں (انبیاء) اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور
اپنے دین کو اس کے لیے خالص کریں اور شرک سے باز آئیں، یہ ہے اللہ کا محکم اور
پایدار دین۔(6)
اخلاق و عرفان کے کمال کی منزلیں طے کرنے کے لیے اس سے بھی عمیق توحید کی ضرورت
ہوتی ہے، اس راہ میں توحید اس منزل تک پہیچ جاتی ہے جہان انسان صرف اللہ تعالی سے
لو لگاتاہے اور ہر مرحلہ پر صرف اسی کو طلب کرتاہے اور اس کے سوا کسی کی فکر اسے
مشغول نہیں کرتی اور کوئی بھی شی اسے خدا سے دور کرکے خود میں مشغول نہیں کرتی:
کلما شغلک عن اللہ فھو ضمک۔ ہر چیز جو تجھے خود سے مشغول کردے اور خداوند سے دور
کرے ، وہ تیرابت ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی شاخیں صرف ان چار تک محدود و منحصر نہیں ہیں بلکہ توحید
مالکیت (تمام اشیاء کا مالک خداوند عالم ہے)
اللہ ما فی السماوات و ما فی الارض)
(7)
و توحید حاکمیت (قانون بنانے کا حق صرف اللہ تعالی کوہے)
من لم یحکم بما انزل اللہ
فاولئک ہم الکافرون) (8)
یہ سب توحید کی شاخیں ہی۔ں
(۱) سورہ زمر آیہ ۶۲
(2) سورہ زمر آیہ ۶۲
(۳) سورہ انسان آیہ ۳
(۴) سورہ نجم آیہ ۳۹
(5)اصول کافی جلد ۱،صفحہ ۱۶۰ (باب الجبر والقدر والامر بین الامرین)
(6) سورہ بینہ آیہ ۵
(7)سورہ بقرہ آیہ ۲۸۴
(8) سورہ مائدہ آیہ ۴۴
الف : توحید ذاتی
یعنی یہ کہ خداوند عالم کی ذات پاک ہے اور وہ اکیلا ہے اور کوئی اس کا شریک و نظیرنہیں ہے۔
ب: توحیدصفاتی
یعنی یہ کہ صفات علم و قدرت و ازلی و ابدی سب اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اور یہ صفات اس کی عین ذات ہیں ۔مخلوقات کی طرح نہیں ہے کہ ان کی ساری صفات ایک دوسرے سے الگ اور ان کی ذات سے جدا ہیں ۔البتہ خداوند عالم کی ذات و صفات کا ایک ہونا ایک ایسی بحث ہے جس کے لئے ظرافت اور دقت لازمی ہے۔
ج: توحید افعالی:
یعنی یہ کہ ہر فعل و حرکت جو اس دنیا میں انجام پاتاہے وہ سب پروردگار عالم کی مشیت و ارادہ سے وجود میں آتاہے:
لہ مقالید السموات و الارض ، آسمان و زمین کی چابھیاں اس کے پاس ہیں ۔ ( یعنی اس کے دست قدرت میں ہیں)(۲)
بے شک (لا موثر فی الوجود الا اللہ)اللہ تعالی کے سوا کوئی اس جہان ہستی میں موثر نہیں ہے۔
اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے کام انجام دینے میں مجبور ہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اپنے ارادے اور فیصلے میں آزاد ہیں ( انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا و اما کفورا) ہم نے اسے (انسان) کو ہدایت کردی (اور اسے راستے دکھا دئیے) چاہے وہ شکر گزار بن جائے(اور قبول کرے) یا انکار کردے (اور طغیان کرے)(۳)
( و ان لیس للانسان الا ما سعی) انسان جو کچھ حاصل کرتاہے اپنی سعی و کوشش سے حاصل کرتاہے۔(۴)
یہ آیہ کریمہ صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ انسان آزاد و خود مختار ہے لیکن چونکہ ارادہ کی آزادی اور کام انجام دینے کی قدرت اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہے لہذا ہمارے کا م اسی سے نسبت رکھتے ہیں مگر اس سے انجام پانے کام کی ذمہ داری ہم سے ختم نہیں ہوتی۔ اس پر توجہ ہونے چاہئے۔
البتہ اس نے ارادہ کیاہے کہ ہم اپنے اعمال کو آزادی، ارادہ اور اختیار کے ساتھ انجام دیں تا کہ اس کے ذریعہ سے وہ ہمیں آزما سکے اورہمیں کمال کی منزلوں تک پہچا ئے اس لئے صرف ارادے کی آزادی اور اختیار کے ساتھ خداوند عالم کی عبادت اور اطاعت ہی انسان کو کمال تک سکتی ہیں۔ اور مجبوری میں انجام دیئے جالے افعال اور زبردستی کے اعمال نہ کسی انسان کے لیے خوبی کا سبب ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی برائی کی علامت، اگر ہم اپنے افعال کے انجام دینے میں مجبور ہوتے تو نہ انبیاء کی بعثت کا کوئی مفہوم ہوتانہ ہی آسمانی کتابوں کے نازل ہونے کا کوئی مقصد، اور نہ ہی دینی فریقوں اور تعلیم و تربیت کا کوئی فایدہ ہوتا اور جزا و سزا بھی بے معنی و مفہوم ہوجاتے، یہ وہ تعلیمات ہیں جنہیں ہم نے ائمہ اھل بیت علیہم السلام کے مکتب سے حاصل کیاہے، فرماتے ہیں: نہ جبر مطلق صحیح ہے اور نہ تفویض و آزادی مطلق بلکہ ان کے در میان کا راستہ انتخاب کرنا صحیح ہے: ( لا جبر و لا تفویض و لکن امر بین الامرین)(
اسی دلیل کی بنیاد پر قرآن مجید توحید الھی سے انحراف اور شرک کی طرف میلان کو ہرگز نا بخشے جا نے و الا گناہ قرار دیتاہے۔
ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذالک لمن یشاء و من یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما۔
ترجمہ: خداوند عالم (ہرگز) شرک کونہیں بخشے گا اور اس سے کم کو جسے چا ہتاہے (لایق سمجھتاہے) بخش دیتا ، اور جو بھی اللہ کے لیے شریک قرار دیتاہے وہ عظیم گناہ کا ارتکاب کرتاہے۔(1)
و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لنکونن من الخاسرین۔
ترجمہ: آپ پر اور آپ سے پہلے تمام انبیاء پر وحی ہو ئی ہے کہ مشرک بن گئے تو سارے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔(2)
(1) سورہ نساء آیہ ۴۸
(2)سورہ زمر آیہ ۶۵
خداوند عالم کی رویت کا عقیدہ رکھنا، ایک طرح کا شرک ہے:
ترجمہ: آنکھیںاسے نہیں دیکھتی مگر وہ ہماری آنکھوں کو دیکھتاہے بے شک وہ بخشنے
والا اور جاننے والاہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب موسی کی قوم نے بہانہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے
دیکھنا چاہتے ہیں: لن نومن لک حتی نری اللہ جہرة ۔ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لا
ئیں گے مگر یہ کہ خداوند عالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (1)
حضرت موسی (علیہ السلام ) انھیں کوہ طور پرلے گئے اور خداوند عالم سے بنی اسرائیل
کی خواہش کا اظہار کیا اور خداوند عالم کی طرف سے یہ جواب آیا :
لن ترانی ولکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترانی فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ
دکا و خر موسی صعقا فلما افاق قال سبحانک تبت الیک و انا اول المومنین۔
ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے، ہاںکوہ طور کی طرف نگاہ کرو اگر وہ اپنی جگہ پرثابت
رہاتو مجھے دیکھ سکتے ہو اور چونکہ جیسے ہی پروردگار نے کوہ طور پر جلوہ دکھا یاوہ
خاک میں تبدیل ہوگیا اور موسی بے ہو ش ہوکر زمین پرگر پڑے، جب ہوش آیا، عرض کیا:
پروردگارا تو منزہ ہے اس بات سے کہ آنکھوں سے دکھائی دے میں تیری بارگاہ میں توبہ
کرتا ہوں اور مومنین میں سے پہلاہوں۔(2)
اس بات سے ثابت ہوتاسے کہ ہرگز خداوند عالم کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ بعض آیات و روایات میں جو خداوند عالم کو آنکھوں سے دیکھنے کا
ذکر ہواہے۔ اس سے مراد ، دل اور باطن کی آنکھوں سے دیکھناہے اس لیے کہ آیات
قرآن ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں:
القرآن یفسر بہ بعضہ
بعضا) (3)
ان الکتاب یصدق بعضہ بعضا۔۔۔(نہج البلاغہ خطبہ ۱۸، ایک دوسری جگ ہ پر ارشاد فرماتے
ہیں: و ینطق بعضہ ببعض و یشھد بعضہ علی بعض۔ خطبہ ۱۰۳)
مولائے کائنات حضرت علی (ع) سے کسی نے دریافت کیا: ( یا امیر المومنین ہل رایت ربک)
اے امیر المومنین کیا آپ نے خداوند عالم کو دیکھاہے؟ آپنے فرمایا: (ا اعبد مالا
اری) کیا میں کسی ایسے کی عبادت کروں جسے میں نے دیکھا نہ ہو؟! پھر فرمایا: ( لا
تدرکہ العیون بمشاہدة العیان، و لکن تدرکہ القلوب بحقایق الایمان۔ آنکھیں ہرگز اسے
دیکھ نہیں سکتیں، ہاں دل کی آنکھیں اسے ایمان کی طاقت سے دیکھ سکتی ہیں۔ (4)
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم کی ذات میں مخلوقات کی صفات کا قائل ہونا، جیسے اس
کے لئے مکان، جہت، جسم، مشاہدہ اور رویت کا قائل ہونا، اس کی معرفت سے دور ہونے
اورشرک میں پڑنے کا سبب ہے، بے شک وہ تمام ممکنات و مخلوقات ان کی صفات سے بالا اور
منزہ ہے اور کوئی بھی شی ہرگز اس کی طرح نہیں ہو سکتی۔
(1) سورہ بقرہ آیہ ۵۵
(2) سورہ اعراف آیہ ۱۴۳
(3) یہ مشہور جملہ ہے جو ابن عباس سے نقل ہوا ہے، مگر یہ معنا نہج البلاغہ میں حضرت امیر علیہ السلام سے دوسری صورت میں بیان ہوا ہے:
(4) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۹
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور تمام کمالات سے آراستہ ہے، اس کی ذات، کمال مطلق اور مطلق کمال ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ اس کائنات میں جتنا بھی حسن اور کمال پایا جاتاہے اس کا مبدا و منبع پروردگار عالم کی ذات با برکت ہے۔
ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحان اللہ عما یشرکون۔ ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی یسبح لہ ما فی السماوات والارض و ھو العزیز الحکیم۔
ترجمہ: وہ اللہ وہ ہے، جس کے سوا کوئی عبادت کے لایق نہیں ہے۔ وہ بادشاہ، پاکیزہ صفات، بے عیب، امان دینے والا ، نگرانی کرنے والا صاحب عزت، زبردست اور کبریائی کا مالک ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے پاک وپاکیزہ ہے جو مشرکین کیا کرتے ہیں۔ وہ ایسا خدا ہے جو پیدا کرنے والا ، ایجاد کرنے والااور صورتیں بنانے والا ہے، اس کے لیے بہترین نام ہیںزمین و آسمان کا ہر ذرہ اسی کے لیے محو تسبیح ہے اور وہ صاحب عزت و حکمت ہے۔(3)
یہ اس کی صفات جمال و جلال کے کچھ نمونہ ہیں۔
۳ ۔ خداوند عالم کی ذات پاک و لا محدود ہے:
ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کا وجود، تمام جہات سے لا متناہی ہے، علم و قدرت اورحیات ابدی و ازلی ہونے کے لحاظ سے، یہی دلیل ہے کہ اسے زمان و مکان میں قیدنہیں کیاجاسکتا اس لیے کہ زمان و مکان میں مقید محدود ہوتاہے، اس کے با وجود ، وہ ہر جگہ اور ہر زمانہ میں موجود ہے، اس لیے کہ وہ ہر زمان و مکان سے بالا اور مبرا ہے۔
یقینا وہ ہم سے بے حد قریب ہے وہ باطن میں موجود ہے ، وہ ہر جگہ موجود ہے اس کے با وجود کہ وہ بے مکان ہے :
وھوا الذی فی السماء الہ و فی الارض الہ و ھوالحکیم العلیم
ترجمہ: وہ اللہ وہ ہے جو آسمان و زمین معبود ہے اور وہ حکیم و علیم ہے۔(4)
و ھو معکم اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر۔
وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کا دیکھنے والا ہے۔(5)
یقینا وہ ہم سے خود ہماری بہ نسبت زیادہ قریب ہے، وہ ہمارے باطن میں موجود ہے، وہ سب جگہ حاضر و ناظر ہے جبکہ وہ مکان نہیں رکھتا۔
و نحن اقرب الیہ من حبل الورید
ترجمہ: اور ہم اس سے شہ رگ حیات سے زیادہ نزدیک ہیں۔(6)
ھو الاول والآخر والظاہر والباطن و ھوبکل شی علیم
وہ ہے ابتدا و آخر، ظاہر و باطن اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔(7)
اور جو قرآن مجید میںذکر ہواہے : ذوالعرش المجید (وہ صاحب عرش و صاحب مجد و عظمت ہے۔)(8)
(عرش اس آیہ کریمہ میں بلند شاہی تخت کے معنا میں نہیں ہے) قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پرذکر ہواہے:
الرحمن علی العرش استوی ۔ (خداوند عالم کا ٹھکانا عرش ہے۔)(9)
اس آیہ کریمہ کے یہ معنا ہرگزنہیںہیں کہ وہ ایک مکان میں ہے بلکہ اس کے معنا یہ ہیں کہ خداوند عالم کی حاکمیت تمام عالم مادہ اور جہان ماوراء طبیعت میں قائم ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اگر اس کے کسی خاص مکان کو تسلیم کرلیں تو گویا ہم نے اسے محدود کردیا ہے اور صفات مخلوقات کو اس کے لئے ثابت کردیا ہے اور اسے دوسری تمام اشیاء کی طرح مان لیا ہے جبکہ لیس کمثلہ شی ۔ کوئی بھی شی اس جیسی نہیں ہوسکتی ۔ (10)
ولم یکن کفوا احد ۔اسکی نظیر ملنا محال ہے اس کے لئے نہ کوئی شبییہ ہے نہ کوئی نظیر ۔(11)
--------------------------------------------------------------------------------
(1) سورہ ذاریات آیہ ۲۰،۲۱
(2) سورہ آل عمران آیہ ۱۹۰، ۱۹۱
(3) سورہ حشر آیہ ۲۳،۲۴
(4) سورہ زخرف آیہ ۴۸
(5) سورہ حدید آیہ ۴
(6) سورہ ق آیہ ۶۱
(7) سورہ حدیدآیہ ۳
(8) سورہ بروج آیہ۵۱
(9) سورہ بقرہ آیہ ۲۵۵، قرآن مجید کی بعض آیتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی کرسی تمام آسمان و زمین سے بڑی ہے لہذا یہ عرش تمام عالم مادہ سے بڑا ہے۔ و سع کرسیہ السموات والارض۔
(10) سورہ شوری آیہ ۱۱
(11) سورہ توحید آیہ ۴
۱ ۔ وجود قادرمطلق
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم تمام عالمین کا خالق ہے، اور اس کی عظمت، علم و قدرت کے آثار ،تمام مخلوقات و موجودات جہان میں آشکار و ہویدا ہیں، ہیاں تک کہ ہمارے باطن میں، تمام جانداروں اور گیاہوں میں، آسمان کے ستاروں اور تمام عوالم بلکہ تمام ذروں میں ظاہر ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ جتنا زیادہ اس دنیا اور اس کے اسرار و رموز میں غور وخوض کیاجائے، خداوند عالم کی ذات کی عظمت، اس کے علم و قدرت کی وسعت سے آگاہی میں اضافہ ہو تا جاتا ہے۔ علم و دانش کی ترقی سے اس کے علم و حکمت کے نئے دروا ہوتے ہیں اور ہماری فکر و نظر کی جہتوں میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔اور یہ تفکر و تدبر اس کی ذات سے عشق کے زیادہ ہونے کا سبب بنتاہے اور ہر لحظہ ہمیں اس سے قریب اور نزدیک کرتا ہے اور ہم اس کے نورو جلال و جمال میں محو ہوتے رہتے ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہواہے: و فی الارض آیات للموقنین ۔و فی انفسکم افلا تبصرون ۔
ترجمہ: اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں، اور خود تمہارے اندر بھی، کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو۔(1)
ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا وند عالم کو ہرگز آ نکھوںسے نہیں دیکھا جاسکتا، اس لیے کہ آنکھوں سے دکھ جانے کے معنا یہ ہیں کہ وہ جسم ہے، مکان رکھتا ہے، رنگ و شکل و جہت رکھتاہے جب کہ یہ سب مخلوقات کی صفات ہیں اور خداوند عالم بالا و منزہ ہے اس بات سے کہ مخلوقات کے صفات اس کے اندر پائے جائیں۔
خداوند عالم کی رویت کا عقیدہ رکھنا، ایک طرح کا شرک ہے:
لا تدرکہ الابصار و ھو یدرک الابصار و ھو اللطیف الخبیر۔
ترجمہ: آنکھیںاسے نہیں دیکھتی مگر وہ ہماری آنکھوں کو دیکھتاہے بے شک وہ بخشنے والا اور جاننے والاہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب موسی کی قوم نے بہانہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں: لن نومن لک حتی نری اللہ جہرة ۔ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لا ئیں گے مگر یہ کہ خداوند عالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (1)
حضرت موسی (علیہ السلام ) انھیں کوہ طور پرلے گئے اور خداوند عالم سے بنی اسرائیل کی خواہش کا اظہار کیا اور خداوند عالم کی طرف سے یہ جواب آیا :
لن ترانی ولکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترانی فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا و خر موسی صعقا فلما افاق قال سبحانک تبت الیک و انا اول المومنین۔
ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے، ہاںکوہ طور کی طرف نگاہ کرو اگر وہ اپنی جگہ پرثابت رہاتو مجھے دیکھ سکتے ہو اور چونکہ جیسے ہی پروردگار نے کوہ طور پر جلوہ دکھا یاوہ خاک میں تبدیل ہوگیا اور موسی بے ہو ش ہوکر زمین پرگر پڑے، جب ہوش آیا، عرض کیا: پروردگارا تو منزہ ہے اس بات سے کہ آنکھوں سے دکھائی دے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور مومنین میں سے پہلاہوں۔(2)
اس بات سے ثابت ہوتاسے کہ ہرگز خداوند عالم کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ بعض آیات و روایات میں جو خداوند عالم کو آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہواہے۔ اس سے مراد ، دل اور باطن کی آنکھوں سے دیکھناہے اس لیے کہ آیات قرآن ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں:
القرآن یفسر بہ بعضہ بعضا) (3)
ان الکتاب یصدق بعضہ بعضا۔۔۔(نہج البلاغہ خطبہ ۱۸، ایک دوسری جگ ہ پر ارشاد فرماتے ہیں: و ینطق بعضہ ببعض و یشھد بعضہ علی بعض۔ خطبہ ۱۰۳)
مولائے کائنات حضرت علی (ع) سے کسی نے دریافت کیا: ( یا امیر المومنین ہل رایت ربک) اے امیر المومنین کیا آپ نے خداوند عالم کو دیکھاہے؟ آپنے فرمایا: (ا اعبد مالا اری) کیا میں کسی ایسے کی عبادت کروں جسے میں نے دیکھا نہ ہو؟! پھر فرمایا: ( لا تدرکہ العیون بمشاہدة العیان، و لکن تدرکہ القلوب بحقایق الایمان۔ آنکھیں ہرگز اسے دیکھ نہیں سکتیں، ہاں دل کی آنکھیں اسے ایمان کی طاقت سے دیکھ سکتی ہیں۔ (4)
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم کی ذات میں مخلوقات کی صفات کا قائل ہونا، جیسے اس کے لئے مکان، جہت، جسم، مشاہدہ اور رویت کا قائل ہونا، اس کی معرفت سے دور ہونے اورشرک میں پڑنے کا سبب ہے، بے شک وہ تمام ممکنات و مخلوقات ان کی صفات سے بالا اور منزہ ہے اور کوئی بھی شی ہرگز اس کی طرح نہیں ہو سکتی۔
(1) سورہ بقرہ آیہ ۵۵
(2) سورہ اعراف آیہ ۱۴۳
(3) یہ مشہور جملہ ہے جو ابن عباس سے نقل ہوا ہے، مگر یہ معنا نہج البلاغہ میں حضرت امیر علیہ السلام سے دوسری صورت میں بیان ہوا ہے:
(4) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۹
۵ ۔ توحید ، تمام اسلامی تعلیمات کی روح ہے۔
ہمارا عقیدہ کہ معرفت خداوند عالم کے باب میں سب سے اہم مسئلہ معرفت توحید (اللہ کو ایک اوریکتا ماننا) ہے۔ توحید صرف اصول دین کا ہی ایک حصہ نہیں ہے بلکہ وہ تمام اسلامی عقاید کی اصل و روح ہے اور نہایت واضح الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتاہے کہ تمام اسلامی اصول و فروع توحید میں مجسم ہوتے ہیں۔ ہر مقام پر گفتگو توحید و یکتا پرستی سے ہوتی ہے۔ وحدت ذات پاک اور توحید صفات و افعال خدا، ایک دوسری تفسیر کے مطابق دعوت تمام انبیاء کاا یک ہونا، دین و آیین الھی کا ایک ہونا، سمت قبلہ اور آسمانی کتاب کا ایک ہونا، انسان کے بارے میں اللہ کے احکام و قوانین کا ایک ہونا، مسلمانوں کا ایک صف میں منظم ہونا ، اور قیامت کے روز سب کا ایک ساتھ جمع ہونا۔
اسی دلیل کی بنیاد پر قرآن مجید توحید الھی سے انحراف اور شرک کی طرف میلان کو ہرگز نا بخشے جا نے و الا گناہ قرار دیتاہے۔
ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذالک لمن یشاء و من یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما۔
ترجمہ: خداوند عالم (ہرگز) شرک کونہیں بخشے گا اور اس سے کم کو جسے چا ہتاہے (لایق سمجھتاہے) بخش دیتا ، اور جو بھی اللہ کے لیے شریک قرار دیتاہے وہ عظیم گناہ کا ارتکاب کرتاہے۔(1)
و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لنکونن من الخاسرین۔
ترجمہ: آپ پر اور آپ سے پہلے تمام انبیاء پر وحی ہو ئی ہے کہ مشرک بن گئے تو سارے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔(2)
(1) سورہ نساء آیہ ۴۸
(2)سورہ زمر آیہ ۶۵
۶۔ توحید کی شاخیں:
ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی بہت سی شاخیں ہیں، جن میں سے مندرجہ ذیل چار سب سے زیادہ اہم ہیں:
الف : توحید ذاتی
یعنی یہ کہ خداوند عالم کی ذات پاک ہے اور وہ اکیلا ہے اور کوئی اس کا شریک و نظیرنہیں ہے۔
ب: توحیدصفاتی
یعنی یہ کہ صفات علم و قدرت و ازلی و ابدی سب اس کی ذات میں جمع ہیں۔ اور یہ صفات اس کی عین ذات ہیں ۔مخلوقات کی طرح نہیں ہے کہ ان کی ساری صفات ایک دوسرے سے الگ اور ان کی ذات سے جدا ہیں ۔البتہ خداوند عالم کی ذات و صفات کا ایک ہونا ایک ایسی بحث ہے جس کے لئے ظرافت اور دقت لازمی ہے۔
ج: توحید افعالی:
یعنی یہ کہ ہر فعل و حرکت جو اس دنیا میں انجام پاتاہے وہ سب پروردگار عالم کی مشیت و ارادہ سے وجود میں آتاہے:
اللہ خالق کل شی و ہو علی کل شی وکیل۔ خداوند عالم تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا اور ان پر حافظ و ناظر ہے۔(۱)
لہ مقالید السموات و الارض ، آسمان و زمین کی چابھیاں اس کے پاس ہیں ۔ ( یعنی اس کے دست قدرت میں ہیں)(۲)
بے شک (لا موثر فی الوجود الا اللہ)اللہ تعالی کے سوا کوئی اس جہان ہستی میں موثر نہیں ہے۔
اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے کام انجام دینے میں مجبور ہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اپنے ارادے اور فیصلے میں آزاد ہیں ( انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا و اما کفورا) ہم نے اسے (انسان) کو ہدایت کردی (اور اسے راستے دکھا دئیے) چاہے وہ شکر گزار بن جائے(اور قبول کرے) یا انکار کردے (اور طغیان کرے)(۳)
( و ان لیس للانسان الا ما سعی) انسان جو کچھ حاصل کرتاہے اپنی سعی و کوشش سے حاصل کرتاہے۔(۴)
یہ آیہ کریمہ صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ انسان آزاد و خود مختار ہے لیکن چونکہ ارادہ کی آزادی اور کام انجام دینے کی قدرت اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہے لہذا ہمارے کا م اسی سے نسبت رکھتے ہیں مگر اس سے انجام پانے کام کی ذمہ داری ہم سے ختم نہیں ہوتی۔ اس پر توجہ ہونے چاہئے۔
البتہ اس نے ارادہ کیاہے کہ ہم اپنے اعمال کو آزادی، ارادہ اور اختیار کے ساتھ انجام دیں تا کہ اس کے ذریعہ سے وہ ہمیں آزما سکے اورہمیں کمال کی منزلوں تک پہچا ئے اس لئے صرف ارادے کی آزادی اور اختیار کے ساتھ خداوند عالم کی عبادت اور اطاعت ہی انسان کو کمال تک سکتی ہیں۔ اور مجبوری میں انجام دیئے جالے افعال اور زبردستی کے اعمال نہ کسی انسان کے لیے خوبی کا سبب ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی برائی کی علامت، اگر ہم اپنے افعال کے انجام دینے میں مجبور ہوتے تو نہ انبیاء کی بعثت کا کوئی مفہوم ہوتانہ ہی آسمانی کتابوں کے نازل ہونے کا کوئی مقصد، اور نہ ہی دینی فریقوں اور تعلیم و تربیت کا کوئی فایدہ ہوتا اور جزا و سزا بھی بے معنی و مفہوم ہوجاتے، یہ وہ تعلیمات ہیں جنہیں ہم نے ائمہ اھل بیت علیہم السلام کے مکتب سے حاصل کیاہے، فرماتے ہیں: نہ جبر مطلق صحیح ہے اور نہ تفویض و آزادی مطلق بلکہ ان کے در میان کا راستہ انتخاب کرنا صحیح ہے: ( لا جبر و لا تفویض و لکن امر بین الامرین)(۵)
د ۔ توحید عبادت
عبادت ،خداوند عالم سے مخصوص ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، یہ شاخ ،توحید کی سب سے اہم شاخ میں شمار ہوتی ہے اور انبیاء الہی سب سے زیادہ اس پر تاکید کرتے ہیں:
وما امرواالا لیعبدوااللہ مخلصین لہ الدین حنفاء۔۔۔و ذلک الدین القیمہ
انھیں (انبیاء) اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اپنے دین کو اس کے لیے خالص کریں اور شرک سے باز آئیں، یہ ہے اللہ کا محکم اور پایدار دین۔(6)
اخلاق و عرفان کے کمال کی منزلیں طے کرنے کے لیے اس سے بھی عمیق توحید کی ضرورت ہوتی ہے، اس راہ میں توحید اس منزل تک پہیچ جاتی ہے جہان انسان صرف اللہ تعالی سے لو لگاتاہے اور ہر مرحلہ پر صرف اسی کو طلب کرتاہے اور اس کے سوا کسی کی فکر اسے مشغول نہیں کرتی اور کوئی بھی شی اسے خدا سے دور کرکے خود میں مشغول نہیں کرتی:
کلما شغلک عن اللہ فھو ضمک۔ ہر چیز جو تجھے خود سے مشغول کردے اور خداوند سے دور کرے ، وہ تیرابت ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی شاخیں صرف ان چار تک محدود و منحصر نہیں ہیں بلکہ توحید مالکیت (تمام اشیاء کا مالک خداوند عالم ہے) اللہ ما فی السماوات و ما فی الارض) (7)
و توحید حاکمیت (قانون بنانے کا حق صرف اللہ تعالی کوہے) من لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکافرون) (8)
یہ سب توحید کی شاخیں ہی۔ں
(۱) سورہ زمر آیہ ۶۲
(2) سورہ زمر آیہ ۶۲
(۳) سورہ انسان آیہ ۳
(۴) سورہ نجم آیہ ۳۹
(5)اصول کافی جلد ۱،صفحہ ۱۶۰ (باب الجبر والقدر والامر بین الامرین)
(6) سورہ بینہ آیہ ۵
(7)سورہ بقرہ آیہ ۲۸۴
(8) سورہ مائدہ آیہ ۴۴
۷۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید افعالی کی اصل و بنیاد اس حقیقت کی تاکید کرتی ہے کہ وہ عظیم معجزات و کرامات، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ظاہر ہوئے ہیں، سب اللہ کے اذن سے تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے ارشاد ہواہے: ( و تبری الاکمہ و الابرص باذنی و اذ تخرج الموتی باذنی ۔
ترجمہ: پیدا یشی اندھوں اور برص جیسے نا قابل علاج مریضوں کو میرے اذن سے شفا دیتے تھے اور مردوں کو میرے حکم سے زندہ کیا کرتے تھے۔(1)
اور حضرت سلیمان کے ایک وزیر کے بارے میں ارشاد ہوتاہے:
قال الذی عندہ علم من الکتاب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک فلما رآہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی۔
ترجمہ: وہ جس کے پاس کتاب آسمانی کا علم تھا، کہا: میں آپ کے پلک چھپکنے سے پہلے اسے (ملکہ سبا کے تخت کو) آپ کے پاس لا سکتا یہوں اور جب حضرت سلیمان نے اسے اپنے سامنے مستقر دیکھا تو کہا: یہ میرے اللہ کے فضل (ارادہ ) فضل سے ہے۔ (2)
لہذا اللہ کے حکم سے حضرت عیسی علیہ السلام ناقابل علاج مریضوں کو شفا دیتے اور مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت دینا، جیسا کہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان ہواہے، عین توحید ہے۔
(1) سورہ مائدہ آیہ ۱۱۰
(2) سورہ نحل آیہ ۴۰
۸۔ اللہ کے فرشتے
ہمارا عقیدہ ہے کہ ملائکہ وجود رکھتے، ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو خاص امرکے لئے مقرر کیا گیاہے، بعض کو ابلاغ و حی پرمامور کیا گیا تھا۔(۱)
ایک گروہ کو انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور کیاگیاہے۔(۲)
ایک گر وہ قبض روح پر مامور ہے۔(۳)
ایک گروہ کو مومنین حقیقی کی مدد پر مامور کیا گیاہے۔(۴)
ایک گروہ کو جنگوں میں مومنین کی مدد کے لیے مامور کیا گیا ہے۔(۵)
ایک گروہ کا کام باغی اور سرکش قوموں پر عذاب نازل کرناہے ۔ (۶) (سورہ ھود آیہ ۷۷ ) اس کے علاوہ کائنات کے دوسرے امور ان کے حوالے کے کیے ہیں۔
چونکہ یہ سارے امور اللہ کے اذن اور حکم اور اس کی نصرت و استعانت سے ملائکہ کے سپرد کے گیے ہیں لہذا اصل توحید افعالی اور توحید ربوبیت سے نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی منافات نہیں ہے بلکہ اس پر تاکید بھی ہے۔
اس سے یہ بات بھی روشن اور واضح ہوجاتی ہے کہ چونکہ شفاعت انبیاء و ائمہ و ملائکہ، اللہ کے اذن اور حکم سے ہے لہذا عین توحید ہے ۔مامن شفیع الا من بعد اذنہ ۔۔ کوئی بھی شفاعت کرنے والا خدا کے اذن کے بغیر شفاعت نہیں کرسکتا۔(۷)
اس مسئلہ اور مسئلہ توسل کے بارے میں تفصیلی بحث انشاء اللہ نبوت انبیاء کے باب میں آئے گی ۔
(۱)سورہ بقرہ آیہ۹۷۔
(۲)سورہ انفطار آیہ۱۰۔
(۳)سورہ اعراف آیہ۳۷۔
(۴)سورہ فصلت آیہ ۳۰۔
(۵)سورہ اْحزاب آیہ ۹
(۷)سورہ یونس آیہ۳
۹ ۔ عبادت خداوند عالم سے مخصوص ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ عبادت خداوند عالم کی ذات اقدس سے مخصوص ہے۔ (جیسا کہ توحید عبادت کی بحث میں اشارہ ہوا ہے) لہذا جو بھی غیر خدا کی پرستش کرے گا وہ مشرک ہے، تمام انبیاء کی دعوت اسی مسئلہ پر متمرکز ہے۔
اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ۔ خداوند عالم کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
یہ بات قرآن مجید میں انبیاء کے حوالے سے کئی بار ذکرہوئی ہے۔(1)
قابل توجہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ہمیشہ اپنی نمازوں میں سورہ حمد میں ایک مہم اسلامی شعار کے طور پر اس آیہ کریمہ کی تکرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں
ایاک نعبد و ایاک نستعین ۔ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے استعانت و مدد طلب کرتے ہیں۔
واضح ہے کہ آئمہ اللہ تعالی کے اذن سے انبیاء اور فرشتوں کے شفاعت کرنے کا عقیدہ جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا اللہ کے اذن سے ہے ، عبادت کے معنی میں نہیں ہے۔
اسی طرح انبیاء سے متوسل ہونا، اس معنی میں کہ وہ پروردگار عالم سے ان کی مشکلات کے حل کے لئے توسل کریں، یہ بات نہ پرستش و عبادت میں شمار ہوتی ہے اور نہ ہی توحید افعالی و توحید عبادت سے منافات رکھتی ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل نبوت کی بحث میں آئے گی۔ انشاء اللہ۔
(1)سورہ اعراف آیہ ۵۹،۶۵،۷۳،۸۵ و۔۔۔
۱۰۔ پروردگار عالم کی حقیقت سب کے لیے پوشیدہ ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ با وجود اس کے کہ خداوند عالم کے وجود کے آثار تمام کائنات پر آشکار و ہویدا ہیں، اس کی حقیقت ذات کسی پر روشن نہیں ہے۔ اور کوئی بھی اس کے حقیقت وجود تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا، اس لیے کہ اس کی ذات تمام جہات سے لا محدود ہے اور انسان ہر لحاظ سے محدود ہے۔ اور محدود کے لیے نامحدود کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے: الا انہ بکل شی محیط لا محدود۔ بے شک وہ تمام شی پر احاطہ و قدرت رکھتاہے۔(۱)
و اللہ من ورائھم محیط۔ پروردگار عالم تمام اشیاء پر محیط ہے۔(۲)
حکیم تو اپنی عقل پرناز کرتاہے۔ تیری فکر اس راہ کو طی نہیں کرسکتی
اس کی ذات تک خرد پہنچ سکتی ہے۔ اگر خس دریا کی تہہ میں پہنچ جائے تو
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مشہور و معروف حدیث میں ارشاد ہواہے: ما عبد ناک حق عبادتک و ما عرفناک حق معرفتک ۔ ہم تیری عبادت کرسکے اورمعرفت کا کما حقہ حق ادا نہیں کرسکے۔(۳)
واضح رہے کہ اس کہ معنا یہ نہیں ہیں کہ چونکہ ہم اس کے بارے میں علم تفصیلی نہیں رکھتے لہذا علم و معرفت اجمالی بھی حاصل نہ کریں اور صرف معرفت الہی کی باب میں ذکر ہونے والے ان الفاظ پر قناعت کریں جو ہمارے لیے واضح نہیں ہیں۔ یہ وہی نظریہ تعطیل معرفت ہے جسے ہم قبول نہیںکرتے ،اور جس کا عقیدہ نہیں رکھتے۔اس لیے کہ قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابیں سب کی سب اللہ کی معرفت اور شناخت کے لیے نازل کی گئی ہیں۔
اس موضوع کے بارے میں ٹھیروں مثالیں دی جاسکتی ہیں جیسے ہم حقیقت روح کے بارے میں نہیں جانتے کہ کیاہے؟
لیکن اس کے بارے میں اجمالی علم ہمیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ روح وجود رکھتی ہے اور ہم اس کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث مین ارشاد ہوا ہے: کلما میتر تموہ باوھامکم فی اذن معانیہ مخلوق وضوع مثلکم مردود الیکم ۔ ہر وہ چیز جسے انسان فکر و نظرسے اس کے واقعی معنا تک تصور کرسکے وہ آپ کی مخلوق و مصنوع ہوجاتی ہے اور خود اس انسان کے مانند ہے اور وہ تمہاری طرف ہی پلٹنی ہے۔ (اور یقینا خداوند عالم اس سے مبرا و منزہ ہے) (۴)
حضرت امیر المومنین کی ایک حدیث میں معرفت الہی کی دقیق راہ کو نہایت بلیغ و حسین پیرایہ میں بیان کیا گیاہے ارشاد فرماتے ہیں: لم یطلع اللہ سبحانہ العقول علی تحدید صفتہ، و لم یحجبھا امواج معرفتہ۔ خداوند عالم نے عقلوں کو اپنی صفات کی حد سے آگاہ نہیں کیا ہے اور (جبکہ) اسی کے با وجود انھیں ضروری ا شناخت و معرفت سے محروم اور محجوب نہیں کیاہے۔(5)
(۱) سورہ فصلت آیہ۵۴
(۲)سورہ بروج آیہ ۲۰
(۳) بحار الانوار جلد ۶۸ صفحہ ۲۳
(۴)بحار الانوار جلد ۶۶ صفحہ ۲۹۳
(5) غرر الحکم
۱۱ ۔ نہ تعطیل صحیح ہے نہ تشبیہ۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ جس طرح سے (تعطیل) یعنی خداوند عالم اور اسکی صفات کی شناخت و معرفت کا حاصل کرلینا صحیح نہیں ہے، اسی طرح سے تشبیہ کے عقیدہ کا قائل ہونا بھی غلط اور شرک آلود ہے، یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس ذات پاک کو بالکل نہیں پہنچان سکتے، اس کی معرفت حاصل کرنے کا ہما رے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ، جیسا کہ اسے مخلوقات سے تشبیہ نہیں سکتے۔ ایک راہ افراط پر منتہی ہوئی ہے تو دوسری تفریط پر ،اس نکتہ پر توجہ ہوئی چاہیے۔
بخش دوم
نبوت انبیاء الہی
فلسفہ بعثت انبیاء
۱۲ ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے انسانوں کی ہدایت اور انھیں کمال و سعادت ابدی تک پہنچانے کے لیے انبیاء و مرسلین کو مبعوث کیاہے، کیونکہ اگر خداوند عالم انھیں نہ بھیجتا تو انسان کے کا مقصد حاصل نہ ہوتا اور وہ گمراہی کے گرداب میں غوطہ ور رہتے اور مقصد خلقت کے برعکس نتیجہ نکلتا:
رسلا مبشرین ومنذرین لئلایکون للناس علی اللہ حجة بعد الرسل و کان اللہ عزیزا حکیما۔
ترجمہ: انبیاء (کو بھیجا) بو حنت بچی دینے جو بشارت اور جہنم سے ڈرانے والے تھے تا کہ لوگوں پر سے حجت تمام ہوجائے ( تا کہ انبیاء لوگوں کو راہ سعادت و کمال دکھائیں اور سب کے لیے اتمام حجت کا سبب ہو) اور یقینا خداوند قدرت اور حکمت والاہے۔(1)
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء میں پانچ حضرات اولو العزم اور صاحب شریعت ہیں، جن کے پاس آسمانی کتاب اور نئی شریعت تھی، ان میں سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام ہیں پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام ، اس کے بعد حضرت موسی و حضرت عیسی (ع) اور ان میں آخری حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔
و اذ اخذنا من النبیین میثاقھم و منک و من نوح و ابراھیم و موسی و عیسی بن مریم و اخذنا منھم میثاقا غلیظا۔
اس وقت کو یاو کریں جب ہم نے انبیاء سے عمد لیا اور (اسی طرح) آپ ہے نوح و ابراہیم و موسی و عیسی ہے اور ہم نے ان سب سے محکم عمد لیا ( کہ کا رسالت کی تبلیغ اور آسماین کتاب کی تعلیمات کے لیے سعی کریں)(2)
فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل۔
صبر و استقامت سے کام لو جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر و استقامت سے کام لیا ۔ (3)
ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام،خاتم الانبیاء اور اللہ کے آخری رسول میں اور ان کی شریعت دنیا کے تمام لوگوں کے لیے ہے اور دنیا کے ختم ہونے تک باقی رہے گی۔ یعنی اسلامی معارف و احکام و تعلیمات میں ایسی جامعیت پائی جاتی ہے کہ انسانوں کی تمام مادی و معنوی ضروریات کو پورا سکے۔ اور نبی اسلام کی بعد جو بھی نبوت و رسالت کا دعوی کرے وہ باطل و بے بنیاد ہے۔
ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین و کان اللہ بکل شی علیما۔ (4)
محمد (ص) تم میں سے کسی بھی فرد کی منی بوے باپ نہیں ہیں، وہ اللہ کے رسول اور خاتم المرسلین رہیں اور یقینا خداوند پرستی ہے تم میں سے کسی بھی مرد آگاہ ہے۔ ( و جو کچھ نبی اکرم (ص) کے ضروری تھا، خداوند عالم نے ان کے اختیار میں قرار دیا)
(1) سورہ نساء آیہ ۱۶۵
(2)سورہ احزاب آیہ ۷
(3)سورہ احقاف آیہ ۳۵
(4) سورہ احزاب آیہ۴۰
۱۳ ۔ ادیان آسمانی کے ماننے والوں کے ساتھ زندگی گزارنا۔
اس کے با وجود کہ ہم اسلام کو اس دور میںخداوندعالم کے حقیقی دین کے طور مانتے میں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ دیگر آسمانی ادیان کے پیرو کاروں کے ساتھ (صلح و دوستی و محبت کے ساتھ) زندگی گزارنا حقیقی چاہیے، چاہے وہ اسلامی ممالک میں رہتے ہوں یا غیر اسلامی ممالک میں، سوائے ان میں سے ایسے لوگوں کہ جو اسلام و مسلمین سے جنگ کرنا چاہتے ہوں۔
لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیارکم ان تبرد ہم و تقسطوا الیہم ان اللہ یحب المقسطین
ترجمہ: خداوند عالم تمیں نیکی کرنے اور ایسے لوگوں سے عدالت کی رعایت کرنے سے، جنھوں نے دین کی خاطر تم سے جنگ نہیں کی اور تمیں تمہارے گھر اور وطن سے دور نہیں کیا، منع نہیں کرتا، اس لیے کہ خداوند عالم انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتاہے۔(1)
ہمارا عقیدہ ہے کہ سلجھی ہوئی باتوں کے ذریعہ ہم حقیقت اور تعلیمات اسلام کو دینا کے تمام انسانوں کے سامنے بیان اور آشکار کرسکتے ہیں، یقینا اسلام میں اس قدر قوی جاذبیت و کشش پائی جاتی ہے کہ اگر اسے اچھی طرح سے بیان کردیا جائے تو وہ بہت بڑی تعداد کو اپنی طرف جذب کرسکتاہے، خاص طور پر آج دینا میں اسلام کا پیغام سننے کے لیے لوگوں کے قلوب آمادہ ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام کو جبر و زبردستی کے ساتھ لوگوں پر تحمیل نہیں کرنا چاہیے ( لا اکر اہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی) دین کے قبول کرنے میں کوئی زبر دستی نہیں ہے اس لیے کہ صحیح اور غلط راستے آشکار ہوچکے ہیں۔ (2)
ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام کے جامع اصول و قوانین پر عمل کرکے مسلمان دوسروں کے لیے اسلام کو پیش کرسکتے ہیں۔ لہذا کسی اجبار و تحمیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
(1)سورہ ممتحنہ آیہ ۸
(2)سورہ بقرہ آیہ ۲۵۶
۱۴ ۔ انبیاء کا عمر کے ہر حصہ میں معصوم ہونا۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء الہی معصوم عن الخطا ہیں، عمر کے ہر حصہ میں ( چاہے نبوت سے پہلے کی عمر ہو یا بعد کی) وہ خطا و غلطی و گناہ سے اللہ کی تائید و توفیق سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ گناہ یا خطاء کے مرتکب ہوں تو مقام نبوت پرسے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجائے گا اور لوگ انہیں اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ بنانے سے مطمئن نہیں رہیں گے اور انھیں اپنی زندگی کے تمام امور میں اپنا راہنما و آئیذیل نہیں بنا سکیں گے۔
اسی دلیل کے تحت ہمارا عقیدہ ہے کہ اگربعض آیات قرآنی کے ظاہر سے بعض نبیوںکی طرف گناہ کی نسبت دی گئی ہے وہ ترک اول کے طور پر ہیں (یعنی یہ کہ انھوں نے نیک کاموں میں کم درجہ کا کو منتخب کرلیا حالانکہ بھتر یہ ہوتا کہ وہ عالی درجہ کام کا انتخاب کرتے۔ یا دوسری تعبیر کے مطابق جیسے (حسنات الابرار سیئات المقربین) اچھوں کی نیکیاں (کبھی) مقرب لوگوں کے لیے گناہ کا درجہ اختیار کرلیتی ۔ (۱)
(۱) مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں اس جملہ کی نسبت آئمہ علیہم السلا م طرف دی ہے،حالانکہ انھوں نے کسی معصوم کا نام نہیں لیا ہے۔(بحار الانوار جلد ۲۵ صفحہ ۲۰۵)
اس لیے کہ ہر انسان سے عمل کی توقع اس کے مقام و مرتبہ کے صاحب سے کی جاتی ہے ۔
۱۵ ۔ وہ سب اللہ کے مطیع بندے ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا سب سے بڑا افتخار یہ تھا کہ وہ اس کے مطیع و فرمانبردار بندے تھے، یہی دلیل ہے کہ ہم ہر روز اپنی نمازوں میں پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں اس جملہ کی تکرار کرتے ہیں : و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ، میں گواہی دیتاہوں کہ محمد (ص) اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ کسی بھی نبی نے اللہ ہونے کا دعوی نہیں کیاہے اور لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ہے ۔ ما کان بشر ان یوتیہ اللہ الکتاب و الحکم و النبوہ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ۔
ترجمہ: کسی بھی انسان کے لیے بھتر نہیں ہے کہ خداوند اے آسمانی کتاب اور حکم و نبوت دے اور پھر وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کے علاوہ میری عیادت کرو۔(1)
یہاں تک کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی ہرگز لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی اور ہمیشہ خود کو اللہ کی مخلوق ، بندہ اور رسول ہونے کا اعلان کیا:
لن یستنکف المسیح ان یکون عبدا اللہ و لا الملائکہ المقربون۔ ہرگز عیسی (ع) کواس بات سے انکار نہیں تھا کہ وہ اللہ کے بندہ ہیں اور نہ ہی مقرب فرشتوں نے کبھی اس بات کی تائید کی کہ وہ اللہ کے بندے نہیں ہیں۔(2)
عیسائیت کی موجودہ تاریخ بھی گواہی دیتی ہے کہ مسئلہ تثلیث (تین خدا کا عقیدہ رکھنا) یہلی صدی عیسوی میں اس کا وجود نہیں تھا بلکہ یہ عقیدہ بعد میں پیدا ہوا ہے۔
(1)سورہ آل عمران آیہ ۷۹
(2)سورہ نساء آیہ ۱۷۲
۱۶ ۔ معجزات و علم غیب
انبیاء کا بندہ ہونا اس بات سے منافات نہیں رکھتا کہ وہ اذن و فرمان خداوند سے غیب کی ماضی، حال اور مستقبل کی باتوں سے آگاہ نہ ہوں ۔
عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتفی من رسول ۔
ترجمہ: پروردگار عالم غیب کا جاننے والا ہے و کسی کو اپنے غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جنھیں اس نے منتخب کیاہے۔(1)
ہمیں معلوم ہے کہ حضرت عیسی کی معجزوں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ لوگوں کو غیب کی خبر دیتے تھے:
و انبئکم بما تاکلون و ما تدخرون فی بیوتکم۔ میں تمہیں ان چیزوں کے بارے میں، جو تم کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو، خبر دیتاہوں۔(2)
پیغمبر اسلام (ص) بھی تعلیم الھی کے وسیلہ سے بہت سی پوشیدہ باتوں کو بیان فرمایا کرتے تھے:
ذلک من ابناء الغیب توحید الیک یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ پر وحی کرتے ہیں۔
لہذا اس بات میں کوئی منافات نہیں ہے کہ انبیاء الھی وحی کے ذریعہ اللہ کی اجازت سے لوگوں کو غیب کی خبریں دیں اور قرآن مجید کی جن آیات میں نبی اکرم(ص) سے غیب کے علم کی نفی کی گئی ہے: جیسے و لا اعلم الغیب و لا اقول لکم انی ملک۔ مجھے غیب کا علم نہیں ہے اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میں ملک ہوں۔(3)
اس سے مراد علم ذاتی و استقلالی ہے وہ علم نہیں ،جو تعلیم الھی کے ذریعہ حاصل ہوتاہے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض آیات ،دیگر بعض کی تفسیر کرتی ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء الھی غیر معمولی کاموں اور اہم معجزات کو اللہ کے اذن سے انجام دیا کرتے تھے اور اس طرح کے کام انجام دینے کا عقیدہ رکھنا ،جو اللہ کے اذن سے ہو، نہ شرک ہے اور نہ ہی مقام عبودیت سے کوئی منافات رکھتاہے۔ حضرت عیسی (ع) قرآن مجید کی صراحت کی مطابق مردوں کو اللہ کے اذن سے زندہ کردیا کرتے تھے، ناقابل علاج بیماروں کو اللہ کے حکم شفاء عطا کیا کرتے تھے: و ابری الاکمہ والابرص و احی الموتی باذن اللہ۔(4)
(1) سورہ جن آیہ ۲۶، ۲۷
(2) سورہ آل عمران آیہ ۴۹
(3)سورہ انعام آیہ ۵۰
(4) سورہ آل عمران آیہ ۴۹
۱۷۔ مقام شفاعت انبیاء
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء الھی اور ان میں سب سے افضل و برتر پیغمبر اسلام (ﷺ) مقام شفاعت رکھتے ہیں اور گناہ گاروں کے خاص گروہوں کے لیے خداوند عالم سے شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت بھی اذن و اجازہ پروردگار کے ساتھ ہوگی:
ما من شفیع الا من ہو اذنہ۔ کوئی بھی شفاعت نہیں کرسکتا مگر وہ جسے اللہ اذن دے گا۔(1)
من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ کون ہے جو اللہ شفاعت کرے مگر یہ کہ اس کے اذن سے۔(2)
اور اگر قرآن مجید کی بعض آیات کریمہ میں بطور مطلق شفاعت کی نفی کی گئی ہے اور ارشاد ہو رہاہے:
من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلة
انفاق کرو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس دن نہ بیع ہوگی (تا کہ کوئی اینے لیے سعادت و نجات کو خرید کے) نہ دوستی (اور معمولی رفاقت کا کوئی فایدہ نہیں ہوگا) اور نہ شفاعت ۔ (3)
ہمارا عقیدہ ہے کہ مسئلہ شفاعت، انسانوں کی تربیت اور گناہگاروں کو راہ راست پر پلٹانے اور انھیں پاکی و تقوی کی طرف تشویق دلانے ،ان کے دل میںامید زندہ کرنے کے لیے نہایت اہم وسیلہ ہے۔ اس لیے کہ ایسا نہیں ہے مسئلہ شفاعت بغیر کسی حساب و کتاب کے ہو بلکہ یہ صرف ایسے افراد اور لوگوں کے لیے ہے جن میں اس کی شایستگی و اہلیت پائی جاتی ہوگی یعنی ان کے گناہ اس حد تک نہ ہوں کہ ان کا رابطہ شفاعت کرنے والے حضرات سے بالکل ٹوٹ گیاہو۔ مسئلہ شفاعت گناہگاروں میں خوف پیدا کرانے کہ لیے ہے کہ انسان اپنے پیچھے بازگشت کے ایک راستہ کو کھلا رکھے اور شفاعت کی لیاقت و استعداد کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔
(1) سورہ یونس آیہ ۳
(2) سورہ سورہ بقرہ آیہ ۲۵۵
(3) یہاں شفاعت سے مراد استقلالی اور بغیر اذن والی شفاعت ہے یا ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جن میں شفاعت کی قابلیت ہوگی۔ اس لیے کہ قرآن مجید کی بعض آیات دیگر بعض کی تفسیر کرتی ہیں۔
۱۸ ۔ مسئلہ توسل
ہمارا عقیدہ ہے کہ توسل کا مسئلہ بھی شفاعت کی طرح ہے۔ یہ مسئلہ مادی و معنوی مشکل میں بھنسے ہوئے لوگوں کو امید اور اجازت دیتاہے کہ اولیاء الھی کے دامن کا سہارا لیں تا کہ اللہ تعالی کے اذن سے وہ ان کی مشکلات کو حل کرا دیں۔ یعنی یہ کہ ایک طرف تو وہ خود اللہ کی بارگاہ میں حضور پیدا کریں اور دوسری طرف اولیاء الھی کو اپنا وسیلہ قرار دیں:
و لو انھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروا اللہ و استغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔
اگر وہ لوگ خود پر ظلم کرنے اور گناہ کے مرتکب ہونے کے بعد، آپ کے پاس آتے اور اللہ سے طلب بخشش کرتے اور رسول خدا (ص) بھی ان کے لیے طلب غفران کرتے تو خداوند عالم کو معاف کرنے والا اور مھربان پاتے۔(۱)
حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کی داستان میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ وہ سب اپنے والہ سے متوسل ہوئے اور سب نے کہا:
یا ابانا استغفر لنا انا کنا خاطئین۔ اے پدر، ہمارے لیے خداوند سے طلب مغفرت کریں، اس لیے کہ ہم نے خطا کی تھی، بوڑھے باپ (یعقوب نبی) نے ان کے اس درخواست کو قبول کیا اور ان سے مدد کا وعدہ کیا اور کہا: سوف استغفر لکم ربی۔ عنقریب میں تم سب کے لیے بارگاہ خداوندی میں طلب مغفرت کروں گا۔(۲)
یہ آیات اس بات کی گواہ ہیں کہ توسل گذشتہ امتوں میں بھی تھا اور آج بھی باقی ہے۔
ہاں اس عقلی حدسے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور اولیاء خدا کو مستقل اور اذن خداوند سے بے نیاز نہیں سمجھنا چاہیے اس لیے کہ ایسا کرنا مشرک و کفر سبب بن جائے گا۔
اور ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ توسل، اولیاء الھی کی عبادت کی میں تبدیل ہوجائے، ایسا کرنا بھی کفر و شرک ہے ۔ اس لیے کہ وہ ذاتا اور بغیر اذن الھی سود و زیان نہیں پہچا سکتے۔
قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا الا ماشاء اللہ۔ کہہ دیجیے کہ میں (حتی) کہ خود کو بھی فایدہ و نقصان نہیں پہچا سکتا مگر یہ کہ خدا ایسا چاہے۔(۳)
غالبا تمام اسلامی فرقوں کی عوام توسل کے مسئلے میں افراط و تفریط سے کام لیتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ہدایت و راہنمایی کرنی چاہیے۔
(۱)سورہ نساء آیہ ۶۴
(۲) سورہ یوسف آیہ ۹۷،۹۸
(۳)سورہ اعراف آیہ ۱۸۸
۱۹ ۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مقصد ایک ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کا ہدف مشترک تھا اور وہ انسانی معاشرہ میں ایمان، خدا و قیامت ، دین کی صحیح تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصولوں کی تقویت سے انسانوں کو سعادت تک پہچانا ہے۔ یہی دلیل ہے کہ تمام انبیاء محترم ہیں، قرآن مجید نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے:
لا نفرج بین احد من رسلہ: ہمارے نزدیک انبیاء الھی کے در میان کوئی فرق نہیں ہے۔(1)
اگر چہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ بشریت اعلی تعلیمات کے لیے بتدریج آمادہ ہوتی گئی اور ان تعلیمات کے عمق میں اضافی ہوتا گیا اور سلسلہ یہاں تک آگے بڑھا کہ آخری اور کامل ترین دین ا،سلام تک آگیا اور خداوند عالم کی طرف سے یہ حکم صادر ہوگیا کہ
الیوم الکمات لکم دینکم و التمت علیکم نعمتی و رفیت لکم الاسلام دینا۔ آج میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا اور اسلام کو دین جاوید کے طور پر قبول کرلیا۔
(1)سورہ بقرہ آیہ ۲۸۵
۲۰ ۔ گذشتہ انبیاء کی خبریں
ہمارا عقیدہ ہے کہ بہت سے نبیوں نے اپنے بعد آنے والے پیغمبروں کی بشارت دی، جیسے حضرت موسی (ع) حضرت عیسی (ع) جنھوں پیغمبر اسلام (ص) کے بارے واضح نشانیوں کی ساتھ خبردی، جو آج بھی ان کی بعض کتابوں میں مندرج ہے:
الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورات والانجیل۔۔۔اولئک ھم المفلحون۔
جو لوگ اللہ کے امی (دنیا میں درس نہ پڑھنے والے اگر عالم و آگاہ) رسول کی پیروی کرتے ہیں، و ہی نبی جس کے صفات کو وہ تورات و انجیل جوان کے یاس ہے امین ہوتے ہیںایسے لوگ ہی کامیاب و کامران ہیں۔(1)
اس بات کی دلیل ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام( ص) کی بعثت سے پہلے یہود کا ایک گروہ مدینہ آیا اور وہ بڑی نے صبری اور بے تابی سے آپ بعثت کا انتظار کر رہے تھے، اس لیے کہ انھوں نے اپنی کتابوں میں پڑھا تھا کہ اس کا ظہور اسی سرزمین سے ہوگا۔ اگرچہ آپ کے مبعوث بہ رسالت ہونے کے بعد ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض اپنے فایدوں کی وجہ سے مخالفت پر اترآئے۔
(1)سورہ اعراف آیہ ۱۵۷
۲۱ ۔ انبیاء الھی انسانی زندگی کے تمام پہلو کی اصلاح چاہتے تھے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ آسمانی ادیان جو اللہ کے رسولوں کو دیئے گیے بہ خاص طور پردین اسلام ، وہ صرف انسان کی فردی ا،نفرادی زندگی یا معنوی و اخلاقی مسائل تک منحصر نہیں تھے بلکہ وہ انسان کی معاشرتی زندگی کے تمام پہلووں اور گوشوں پر محیط تھے۔ یہاں تک کہ بہت سے علوم ،جو انسان کی روزمرہ زندگی کے لیے ضروری اور ناگزیر تھے، لوگ آپ سے ان کی تعلیم حاصل کرتے تھے، جس میں بعض کی طرف قرآن مجید میں بھی اشارہ کیا گیاہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء الھی کے منجملہ مہمترین اہداف میںسے ایک ہدف، سماج اور معاشرہ میں نظام عدل و انصاف قائم کرنا تھا:
و لقد ارسلنا رسلنا بالبینات و انزلنا معہم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط۔
ترجمہ: ہم نے اپنے رسولوں کے روشن دلایل کے ساتھ بھیجا ان کے ساتھ آسمانی کتاب اور میزان (حق کو باطل کی بھجان اور عادلانہ قوانین کو نازل کیا تا کہ (دیناکے) لوگ عدل و انصاف قائم کریں۔(1)
(1)سورہ حدید آیہ ۲۵
۲۲ قومی و نسلی امتیاز کی نفی
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء الھی مخصوصا پیغمبر اسلام (ص) کسی طرح کے قومی و نسلی امتیاز کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی نظر میں دنیاکی ساری نسلیں ، زبانیں ، قومیں اور ملتیں یکسان تھیں۔ قرآن مجید تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتاہے:
یا ایھا الذین آمنوا انا خلقنا کم من ذکر و انثی و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔
اے لوگوں ہم نے تمیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمییں خاندان اور قبیلوں میں قراردیا تا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو (یہ کوئی امتیاز کا معیار نہیں ہے) ہم اللہ کے نزدیک تم سب سے زیادہ محترم سباسے زیادہ تقوی لوگ ہیں۔(۱)
پیغمبر اسلام (ص) کی ایک نہایت معروف حدیث میں اس طرح سے ذکر ہواہے کہ سرزمین منی پر (حج کے موسم میں ) آپ اس حالت میں کہ شتر پرسوار تھے،
لوگوں کی طرف رخ کیا اور یہ حدیث ارشاد فرمائی:
یا ایھا الناس ، الا ان ربکم واحد و ان اباکم واحد، الا لا فضل لعربی علی عجمی، ولا لعجمی علی عربی، ولا لاسود علی احمر، ولا الاحمر ولی اسود، الا بالتقوی۔
اے لوگوں ، جان لو کہ تمہارے پروردگار ایک ہے ، تمہارا باپ ایک ہے، نہ عرب کو عجم پر برتری ہے ، نہ عجم کو عرب دلی نہ سیاہ پوست کو گندمی رنگ والے پر برتری ہے، نہ گندمی رنگ والے کو سیاہ پوست والوں پر، اس برتری کا معیار صرف تقوی ہے۔ کیا میں نے ثم تک پیغام پہچادیا؟ سب نے کیا: ہاں۔ پھر فرمایا ابن بات کو حاضرین غائبین تک پہنچائیں۔(۲)
(۱) سورہ حجرات آیہ ۱۳
(۲) تفسیر قرطبی ، جلد ۹ صفحہ ۶۱۶۲
۲۳۔ اسلام اور انسانی سرشت
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم پر ایمان ، توحید اور انبیاء کی تعلیمات کے اصول اجمالی اور فطری طور پر تمام انسانوں کی سرشت میں موجود ہیں، انبیاء الھی نے ان پر ثمر تخموں کی آبیاری آب وحی سے کی ہے اور شرک و گمراھی کی جھاڑیوں کو انسان سے دور کیاہے:
فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔
یہ (پروردگار کا خالص دین) ایسی فطرت ہے جس پر خداوند عالم نے تمام انسانوں کو خلق کیاہے اور خلقت الھی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے (امہ پہ فطرت تمام انسانوں میں ثابت ہے) یہ استوار دین ہے مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔(1)
یہی دلیل ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ دین، انسانوں کے در میان رہا اور مورخین کے قول کے مطابق بے دینی و لا دینی ایک امر نادرست اور استثنایی ہے یہاں تک کہ بہت سے ایسے نامور مکتب جو ایک دراز مدت تک سختیوں اور پرو پینگنڈوں کے باعث ضد دین رہے ہیں، مگر انہیں جیسے ہی آزادی حاصل ہوئی، دینداری کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
ہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بہت سی گذشتہ قوموںکا ثقافتی پچھڑا پن سبب بتنا کہ ان کے عقاید اور دینی آداب خرافات اور بدعتوں کی نذر ہوجائیں اور اس مقام پر ، انبیاء الھی کا کام ایسی بدعتوں اور خرافات سے مقابلہ کر آئینہ فطرت انسان سے غبار باطل کو صاف کرنا ہوتا تھا۔
(1) سورہ روم آیہ ۳۰
بخش سوم۔ قرآن اور کتب آسمانی
۲۴ ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے متعدد آسمانی کتابوںکو نازل کیا۔ جیسے صحف ابراہیم (ع) و نوح( ع) توریت و انجیل اور ان سب سے جامع قرآن مجید ہے، اگر یہ کتابیں نازل نہ ہوتیں تو انسان معرفت خدا اور عبادت پروردگار میں خطا کا شکار ہوجاتا اور تقوی و اخلاق و تربیت کے اصولوں اور انسانی سماج کے قوانین سے بے بھرہ رہ جانا۔
یہ آسمانی کتابیں باران رحمت کی طرح صفحہ دل بر نازل ہوئیں اور تقوی و اخلاق و معرفت ت خدا و علم و حکمت کے بذر کو انسانی سرشت میں کاشت کرنے کے بعد انھیں پرورش دے کر ثمرہ تک پہچایا۔
آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون کل آمن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ۔
ترجمہ: اے پیغمبر، جو کچھ اللہ کی طرف سے ان پر نازل ہوا، سب پر ایمان لائے اور تمام مومنین (بھی) خدا و ملائکہ اور تمام آسمانی کتب اور ان کے لانے والوں پر ایمان لائے۔(۱)
اگرچہ صد افسوس کہ زمانہ گزرنے اور جاہلوں اور نا اھلوں کی دخالت کی وجہ سے بہت سی آسمانی کتا تحریف کا شکار ہوگئیں اور ان میں باطل افکار مخلوط ہوگیے، مگر قرآن مجید بعض دلائل کی وجہ سے جن کا ذکر بعد میں آئے گا، تحریف سے محفوظ رہا اور آفتاب کی طرح ہر زمانہ اور صدی میں نور ا فشانی کرنا رہا اور قلوب کو منور کرتا رہا۔
قد جائکم من اللہ نور و کتاب مبین یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام۔
خداوند عالم کی طرف سے نور اور کتاب مبین تمہارے پاس بھیجے گیے۔ پروردگار عالم اس کی برکت سے، ایسے لوگوں کو ،جو خوشی سے اس کی پیروی کرتے ہیں، راہ سلامت ( و سعادت ) کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔
(۱)سورہ بقرہ آیہ ۲۸۵
۲۵ قرآن مجید، پیغمبر اسلام(ص) کاسب سے بڑا معجزہ ۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، پیغمبر اسلام (ص)کے مہمترین معجزوں میں ہے، صرف فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ شیرینی بیان اور معانی کے بلیغ ہونے کے لحاظ سے بھی، ان کے علاوہ دوسرے مختلف جہات کے اعتبار سے بھی قرآن مجید اعجاز ی حیثیت رکھتاہے۔ جس کی شرح و تفصیل عقاید و کلام کی کتابوں میں موجود ہے۔
اسی دلیل کے سبب ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی قرآن کی مانند حتی اس کے ایک سورہ کی مثال نہیں لاسکتا ۔قرآن نے بارھا شک و تردید کرنے والوں کو دعوت مقابلہ دی مگر کسی میں اس کی نظیر لانے کی جرات پیدا نہ ہوسکی:
قل لئن اجتمعت الانس والجن ولی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لا یاتون بمثلہ و لو کان بعضھم لبعض ظھیرا۔
اے بنی کہہ دیجئیے کہ اگر انسان و جنات مل کر اس قرآن کا جواب لانا چاہیں تو بھی اس کا جواب نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے شریک بن جائیں۔(1)
و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین۔
جو کچھ ہم نے اپنے بندہ (محمد) پر نازل کیاہے اگر اس میں شک و تردید ہے تو (کم از کم) اس جیسا ایک سورہ لے آؤ اور اللہ کے سوا اس کام کے لیے اپنے گواہوں کو دعوت دو اگر تم سچے ہو۔(۲)
اور ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید، زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ کہ کہنہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اعجازی نکات اور زیادہ آشکار اور اس کی عظمت دنیا والوں پر روشن ہوتی جاتی ہے۔
امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:
ان اللہ تبارک و تعالی لم یجعلہ لزمان دوزمان و لناس دون ناس فھو فی کل زمان جدید و عند کل قوم غض الی یوم القیامة۔
خداوند متعال نے قرآن مجید کو ایک خاص زمانہ یا گروہ کے لیے قرار نہیں دیاہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ہر زمانہ میں تازہ اور ہر گروہ کے نزدیک قیامت تک کے لیے با طراوت رہے گا۔ (3)
(1) سورہ اسراء آیہ ۸۸
(۲)سورہ بقرہ آیہ ۲۳
(۲)سورہ بقرہ آیہ
خداشناسی و توحید
۱ ۔ وجود قادرمطلق
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم تمام عالمین کا خالق ہے، اور اس کی عظمت، علم و قدرت کے آثار ،تمام مخلوقات و موجودات جہان میں آشکار و ہویدا ہیں، ہیاں تک کہ ہمارے باطن میں، تمام جانداروں اور گیاہوں میں، آسمان کے ستاروں اور تمام عوالم بلکہ تمام ذروں میں ظاہر ہیں۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ جتنا زیادہ اس دنیا اور اس کے اسرار و رموز میں غور وخوض کیاجائے، خداوند عالم کی ذات کی عظمت، اس کے علم و قدرت کی وسعت سے آگاہی میں اضافہ ہو تا جاتا ہے۔ علم و دانش کی ترقی سے اس کے علم و حکمت کے نئے دروا ہوتے ہیں اور ہماری فکر و نظر کی جہتوں میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔اور یہ تفکر و تدبر اس کی ذات سے عشق کے زیادہ ہونے کا سبب بنتاہے اور ہر لحظہ ہمیں اس سے قریب اور نزدیک کرتا ہے اور ہم اس کے نورو جلال و جمال میں محو ہوتے رہتے ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہواہے: و فی الارض آیات للموقنین ۔و فی انفسکم افلا تبصرون ۔
ترجمہ: اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں، اور خود تمہارے اندر بھی، کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو۔(1)
ان فی خلق السماوات والارض واختلاف اللیل والنھارلآیات لاولی الالباب۔الذین یذکرون اللہ قیاما و قعودا و علی جنوبھم و یتفکرون فی خلق السماوات والارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا۔
ترجمہ: بے شک زمین و آسمان کی خلقت لیل ونھار کی آمد ورفت میں صاحبان عقل کے لیے قدرت خدا کی نشانیاں ہیں۔ جو لوگ اٹھتے بیٹھتے، لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیںاور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور د فکر کرتے ہیںکہ خدایا تونے یہ سب بےکار پیدا نہیں کیا ہے تو پاک و بے نیاز ہے، ہمیں عذاب خدا سے محفوظ فرما۔(2)
(1) سورہ ذاریات آیہ ۲۰،۲۱
(2) سورہ آل عمران آیہ ۱۹۰، ۱۹۱
ہمارا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور تمام کمالات سے آراستہ ہے، اس کی ذات، کمال مطلق اور مطلق کمال ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ اس کائنات میں جتنا بھی حسن اور کمال پایا جاتاہے اس کا مبدا و منبع پروردگار عالم کی ذات با برکت ہے۔
ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحان اللہ عما یشرکون۔ ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی یسبح لہ ما فی السماوات والارض و ھو العزیز الحکیم۔
ترجمہ: وہ اللہ وہ ہے، جس کے سوا کوئی عبادت کے لایق نہیں ہے۔ وہ بادشاہ، پاکیزہ صفات، بے عیب، امان دینے والا ، نگرانی کرنے والا صاحب عزت، زبردست اور کبریائی کا مالک ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے پاک وپاکیزہ ہے جو مشرکین کیا کرتے ہیں۔ وہ ایسا خدا ہے جو پیدا کرنے والا ، ایجاد کرنے والااور صورتیں بنانے والا ہے، اس کے لیے بہترین نام ہیںزمین و آسمان کا ہر ذرہ اسی کے لیے محو تسبیح ہے اور وہ صاحب عزت و حکمت ہے۔(1)
یہ اس کی صفات جمال و جلال کے کچھ نمونہ ہیں۔
۳ ۔ خداوند عالم کی ذات پاک و لا محدود ہے:
ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کا وجود، تمام جہات سے لا متناہی ہے، علم و قدرت اورحیات ابدی و ازلی ہونے کے لحاظ سے، یہی دلیل ہے کہ اسے زمان و مکان میں قیدنہیں کیاجاسکتا اس لیے کہ زمان و مکان میں مقید محدود ہوتاہے، اس کے با وجود ، وہ ہر جگہ اور ہر زمانہ میں موجود ہے، اس لیے کہ وہ ہر زمان و مکان سے بالا اور مبرا ہے۔
یقینا وہ ہم سے بے حد قریب ہے وہ باطن میں موجود ہے ، وہ ہر جگہ موجود ہے اس کے با وجود کہ وہ بے مکان ہے :
وھوا الذی فی السماء الہ و فی الارض الہ و ھوالحکیم العلیم
ترجمہ: وہ اللہ وہ ہے جو آسمان و زمین معبود ہے اور وہ حکیم و علیم ہے۔(2)
و ھو معکم اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر۔
وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کا دیکھنے والا ہے۔(3)
یقینا وہ ہم سے خود ہماری بہ نسبت زیادہ قریب ہے، وہ ہمارے باطن میں موجود ہے، وہ سب جگہ حاضر و ناظر ہے جبکہ وہ مکان نہیں رکھتا۔
و نحن اقرب الیہ من حبل الورید
ترجمہ: اور ہم اس سے شہ رگ حیات سے زیادہ نزدیک ہیں۔(4)
ھو الاول والآخر والظاہر والباطن و ھوبکل شی علیم
وہ ہے ابتدا و آخر، ظاہر و باطن اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔(5)
اور جو قرآن مجید میںذکر ہواہے : ذوالعرش المجید (وہ صاحب عرش و صاحب مجد و عظمت ہے۔)(6)
(عرش اس آیہ کریمہ میں بلند شاہی تخت کے معنا میں نہیں ہے) قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پرذکر ہواہے:
الرحمن علی العرش استوی ۔ (خداوند عالم کا ٹھکانا عرش ہے۔)(7)
اس آیہ کریمہ کے یہ معنا ہرگزنہیںہیں کہ وہ ایک مکان میں ہے بلکہ اس کے معنا یہ ہیں کہ خداوند عالم کی حاکمیت تمام عالم مادہ اور جہان ماوراء طبیعت میں قائم ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اگر اس کے کسی خاص مکان کو تسلیم کرلیں تو گویا ہم نے اسے محدود کردیا ہے اور صفات مخلوقات کو اس کے لئے ثابت کردیا ہے اور اسے دوسری تمام اشیاء کی طرح مان لیا ہے جبکہ لیس کمثلہ شی ۔ کوئی بھی شی اس جیسی نہیں ہوسکتی ۔ (8)
ولم یکن کفوا احد ۔اسکی نظیر ملنا محال ہے اس کے لئے نہ کوئی شبییہ ہے نہ کوئی نظیر ۔(9)
(1) سورہ حشر آیہ ۲۳،۲۴
(2) سورہ زخرف آیہ ۴۸
(3) سورہ حدید آیہ ۴
(4) سورہ ق آیہ ۶۱
(5) سورہ حدیدآیہ ۳
(6) سورہ بروج آیہ۵۱
(7) سورہ بقرہ آیہ ۲۵۵، قرآن مجید کی بعض آیتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی کرسی تمام آسمان و زمین سے بڑی ہے لہذا یہ عرش تمام عالم مادہ سے بڑا ہے۔ و سع کرسیہ السموات والارض۔
(8) سورہ شوری آیہ ۱۱
(9) سورہ توحید آیہ ۴
.: Weblog Themes By Pichak :.
