جشن‌های مردمی در پاکستان در سالگرد تصویب قطعنامه استقلال

جشن‌های مردمی در پاکستان در سالگرد تصویب قطعنامه استقلال

اسلام‌آباد - ایرنا - برخلاف سال گذشته که شیوع گسترده کرونا باعث شد تا جشن‌های روز ملی پاکستان به کام مردم این کشور تلخ شود، امسال این مراسم با حضور اقشار مختلف جامعه پاکستان برای بزرگداشت هشتاد و یکمین سالروز تصویب قطعنامه تشکیل مستقل این کشور اسلامی برگزار شد.

به گزارش ایرنا از منابع رسمی پاکستان، قرار بود مانند هر سال رژه مشترک نیروهای مسلح پاکستان امروز (سه‌شنبه) در منطقه اختصاصی خود در شهر «اسلام آباد» برگزار شود اما شرایط جوی و بارندگی مداوم ارتش این کشور را مجبور به لغو این برنامه کرد و قرار شد این برنامه دو روز دیگر برگزار شود.

مردم پاکستان همه ساله روز سوم فروردین (۲۳ مارس) را به عنوان سالروز تصویب قطعنامه تشکیل این کشور مسلمان به صورت گسترده جشن می گیرند.

رئیس جمهوری، رئیس مجلس شورای اسلامی، وزیر امور خارجه، دفاع و دبیر شورای عالی امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران نیز طی پیام‌هایی به همتایان پاکستانی خود روز ملی پاکستان را به دولت و مردم این کشور تبریک گفتند.

امروز هشتادمین و یکمین سالگرد تصویب قطعنامه تشکیل این کشور مسلمان در ۲۳ مارس ۱۹۴۰ میلادی (چهارم فروردین ۱۳۱۹) است که در این کشور به «یوم پاکستان» نامگذاری شد و از ساعاتی پیش جشن های این مناسبت با حضور تمام اقشار جامعه این کشور در سطح دولتی و نظامی مطابق پروتکل‌های شدید بهداشتی آغاز شد.

آخرین مراسم رژه نیروهای مسلح پاکستان در سال ۲۰۰۸ برگزار شده بود که پس از آن به دلیل تهدیدهای امنیتی به مدت هفت سال متوقف ماند اما ژنرال «راحیل شریف» فرمانده وقت ارتش پاکستان در فروردین ۱۳۹۴ تصمیم گرفت تا بزرگداشت مراسم یوم پاکستان از سرگرفته شود.

براساس این گزارش، تلویزیون دولتی و شبکه های خبری پاکستان ویژه برنامه های متعددی درباره روز جمهوری از جمله ایثار انقلابیون این کشور از جمله افکار و اهداف «محمدعلی جناح» بنیانگذار پاکستان پخش کردند.

جمهوری اسلامی پاکستان پس از سال‌ها تلاش و با انجام آزمایش موفقیت آمیز هسته ای، به عنوان هفتمین قدرت اتمی جهان و نخستین کشور اسلامی دارای قدرت هسته ای در جهان شناخته شد.

«عارف علوی» رئیس جمهوری و «عمران‌خان» نخست وزیر پاکستان طی پیام‌هایی به مناسبت روز ملی این کشور، یاد محمد علی جناح معروف به «قائداعظم» را گرامی داشته و به همه افرادی که برای تاسیس این کشور مستقل اسلامی در شبه قاره هند فداکاری کردند، ادای احترام کردند.

رهبران سیاسی، نظامی و مذهبی پاکستان همچنین بر تداوم حمایت های سیاسی، معنوی، دیپلماتیک و اخلاقی پاکستان از مردم کشمیر تاکید کردند.

برخی از رهبران جهان از جمله جمهوری اسلامی ایران به عنوان کشور دوست، همسایه و بردار پاکستان فرار رسیدن روز ملی این کشور را به دولت و مردم مسلمان تبریک گفت.

رییس جمهوری ایران در پیام‌هایی جداگانه فرارسیدن روز ملی پاکستان را به عارف علوی رئیس جمهوری و عمران‌خان نخست وزیر این کشور تبریک گفت و اظهار امیدواری کرد که تلاش‌های مشترک مسئولان دو کشور سبب گردد تا گام‌های قابل توجهی در جهت ارتقاء روابط دوجانبه در تمامی ابعاد برداشته شود.

حسن روحانی در این پیام ها، از خداوند متعال، سلامتی و موفقیت رئیس جمهور و نخست وزیر پاکستان و بهروزی مردم شریف جمهوری اسلامی پاکستان را مسألت کرده است.

رییس جمهوری اسلامی ایران طی یک پیامی دیگر در پی ابتلای عمران خان نخست وزیر پاکستان به بیماری کووید-۱۹ برای او آرزوی سلامت و بهبودی کرد.



تاريخ : سه شنبه سوم فروردین ۱۴۰۰ | 21:57 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اسلام آباد : پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ تمام پاکستانی  یوم آزادی پورے جوش وجذبے سے منائیں، انشاءاللہ نئے پاکستان میں قائداعظم کے خواب کو تعبیر ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وقم سے اپیل کی ہے کہ اس بار پوری قوم 14 اگست کو خصوصی طور نہایت اہتمام اور بھرپور جوش و جذبے سے منائے، ہم نئے پاکستان کےقیام کی منزل کی جانب گامزن ہیں، انشاءاللہ نئے پاکستان میں قائداعظم کے خواب کو تعبیر ملے گی۔

    I want all Pakistanis to celebrate 14th August, our Independence Day, with full fervour – especially as we are now moving towards Naya Pakistan & reclaiming Jinnah's vision InshaAllah.

    — Imran Khan (@ImranKhanPTI) August 10, 2018

ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی جو ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں، ان کیلئے خوشخبری ہے کہ ان کے حق رائے دہی کیلئے تحریک انصاف کی جدوجہد کامیاب ہوئی، سپریم کورٹ نے ہمارا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو عملدرآمد کیلئے اقدامات اٹھانے کے احکامات دے دیئے ہیں۔

    Good news for our national asset, the Overseas Pakistanis – PTI's struggle for their voting rights' implementation has been won as SC has decided this must be done and directed ECP to ensure the same through electronic means.

    — Imran Khan (@ImranKhanPTI) August 10, 2018

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ہر سال 14 اگست یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن اب کی بار ہم 14 اگست کو یوم آزادی نہیں منا سکتے کیونکہ ہماری رائے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ 14 اگست کو یوم جدوجہد آزادی کے طور پر منائیں گے۔

واضح رہے کہ ملک کو مدینہ جیسی ریاست اور سادگی اختیار کرنے کا وعدہ پورا کرنے کے لیے پرعزم عمران خان ایک ہفتے بعد وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔

خیال رہے کہ جشن آزادی کی تیاریاں زورشور سے جاری ہیں شہری اپنی اپنی پسند کی چیزیں خریدنے میں مصروف ہیں۔



تاريخ : یکشنبه بیست و یکم مرداد ۱۳۹۷ | 23:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

یوم آزادی پاکستان یا یوم استقلال ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں آزادی کے دن کی نسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947ء میں انگلستان سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے پاکستانی عوام اس روز اپنا قومی پرچم فضا میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ملک بھر کی اہم سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے۔اسلام آباد جو پاکستان کا دارالحکومت ہے، اس کو خاص طور پر سجایا جاتا ہے، اس کے مناظر کسی جشن کا سماں پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہیں ایک قومی حیثیت کی حامل تقریب میں صدر پاکستان اور وزیرآعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کی طرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ ان تقاریب کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے بلندی کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یوم اسقلال کے روز ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پہ براہ راست صدر اور وزیراعظم پاکستان کی تقاریر کو نشر کیا جاتا ہے اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ ہم سب نے مل کراس وطن عزیز کو ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کی بلند سطح پہ لیجانا ہے۔

سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلیٰ عہدہ دار اپنی حکومت کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کے قول "ایمان، اتحاد اور تنظیم" کی پاسداری کریں گے۔

تقاریب
14 اگست کو پاکستان میں سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری ونیم سرکاری عمارات میں چراغاں ہوتا ہے اور سبز ہلالی پرچم لہرایاجاتا ہے۔ اسی طرح تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے او ر ساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ پاکستان کی تمام شہروں میں ناظم قومی پرچم بلند کرتے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں نجی اداروں کے سربراہان پرچم کشائی کی تقاریب میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رنگارنگ تقاریب، تقاریر اور مذاکروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کا جوش و خروش توقابل دید ہوتا ہے جہاں مختلف تقاریب کے علاوہ دوپہر اور رات کے کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعد ازاں سیروتفریح سے بھی لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ رہائشی علاقوں، ثقافتی اداروں اور معاشرتی انجمنوں کے زیر راہتمام تفریحی پروگرام تو انتہائی شاندار طریقے سے منائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں مقبرہء قائد اعظم پر سرکاری طور پر گارڈ کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے۔ اسی طرح واہگہ باڈر پر بھی ثقافتی تقاریب میں احترامی محافظوں کی تبدیلی کا عمل وقوع پزیر ہوتا ہے جبکہ غلطی سے واہگہ سرحد پار کرنے والے قیدیوں کی دوطرفہ رہائی بھی ہوتی ہے۔



تاريخ : یکشنبه بیست و یکم مرداد ۱۳۹۷ | 23:51 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

خبرگزاری فارس: به گزارش یک روزنامه پاکستانی، اسلام‌آباد و تهران ماه آینده میلادی یک توافقنامه اعطای وام به ارزش 250 میلیون دلار را برای تکمیل خط لوله گاز ایران در داخل خاک پاکستان به امضا می‌رسانند.

خبرگزاری فارس: توافق اسلام‌آباد و تهران برای احداث خط لوله گاز صلح در خاک پاکستان

به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس در اسلام‌‌آباد، پایگاه خبری «تریبون» پاکستان با اعلام این خبر به نقل از یک منبع آگاه نوشت: توافقات برای اعطای وام 250 میلیون دلاری از سوی ایران برای تکمیل این پروژه در خاک پاکستان نهایی شده است و توافقنامه نهایی پس از عید و همزمان با سفر یک هیئت ایرانی به اسلام‌آباد به امضای 2 طرف خواهد رسید.

این توافقنامه در شرایطی امضا می‌شود که آمریکا انجام هر نوع معامله تجاری بزرگ با ایران را ممنوع و به شرکت‌های خارجی درمورد مشارکت در این پروژه هشدار داده است.

همچنین قرار است ایران وام دیگری به مبلغ 250 میلیون دلار را از طریق بانک‌های تجاری این کشور به این پروژه اختصاص دهد و از این طرح حمایت تجهیزاتی کند.

گفته می‌شود که ایران در مجموع 500 میلیون دلار در این پروژه سرمایه‌گذاری می‌کند و مبلغ باقیمانده مورد نیاز برای تکمیل طرح نیز توسط پاکستان و از طریق درآمدهای مالیاتی تأمین می‌شود.

چندی پیش، مقامات پاکستانی از ایران برای مشارکت در این خط لوله دعوت به عمل آورده بودند.

این در حالی است که شرکت آلمانی ILF کار طراحی مهندسی این خط لوله را به اتمام رسانده و طبق برآوردهای اولیه انجام شده، هزینه تکمیل این پروژه بین 1.2 تا 1.5 میلیارد دلار تخمین زده شده است.

بر همین اساس، پاکستان باید یک خط لوله 780 کیلومتری با هزینه تقریبی یک میلیارد و 500 میلیون دلار در خاک این کشور احداث کند.

پیش از این، روسیه و چین برای سرمایه‌گذاری در این پروژه ابراز تمایل کرده بودند اما به نظر می‌رسد که به خاطر به توافق نرسیدن با دولت پاکستان و نیز اعمال فشار از سوی آمریکا نتوانستند در این طرح مشارکت کنند.

به گفته مقامات ایرانی، انتظار می‌رود که این خط لوله نیمه اول سال آینده به نقطه صفر مرزی برسد.

طبق بیانیه «شرکت ملی نفت و گاز ایران»، کار احداث خط لوله هفتم 56 اینچی از ایرانشهر واقع در جنوب شرق ایران تا مرز پاکستان و زاهدان تقریباٌ به اتمام رسیده است.

در صورت اجرایی شدن این پروژه، ایران روزانه 750 میلیون فوت مکعب گاز به پاکستان صادر می‌کند که این میزان ممکن است در آینده به 1 میلیارد فوت مکعب در روز افزایش یابد.



تاريخ : یکشنبه بیست و هشتم آبان ۱۳۹۱ | 21:3 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

خبرگزاری فارس: مراسم خاکسپاری نیروهای پلیس، بارندگی در شهر «لاهور» و ساخت و فروش لوازم تزئین حیوانات قربانی عیدقربان از جمله تصاویر خبری این هفته پاکستان می‌باشند.

خبرگزاری فارس: روایت تصویری از پاکستان در هفته‌ای که گذشت

به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس در اسلام‌آباد، سفر هیئت عالیرتبه چینی به پاکستان و امضای قراردادهای مختلف تجاری و نظامی با این کشور و همچنین شرکت وزیر امور خارجه و رئیس جمهور پاکستان در اجلاس «اکو» در باکو پایتخت آذربایجان، از جمله تحولات مهم این هفته پاکستان است.

«آصف علی زرداری» رئیس جمهور پاکستان در اجلاس باکو با محمود احمدی نژاد همتای ایرانی خود ملاقات و بر اجرای هر چه سریعتر خط لوله گاز «صلح» و نیز مواضع مشترک پاکستان و ایران در زمینه حضور آمریکا و ناتو در افغانستان تأکید کرد.

«راجا پرویز اشرف» نخست وزیر پاکستان نیز  برای شرکت در «اجلاس گفتگوی همکاری‌های آسیایی» با سفر به کویت با امیر کویت ملاقات کرد.

گزیده‌ای از تصاویر خبری پاکستان در هفته گذشته به خوانندگان تقدیم می‌شود:

نخستین عکس انتشار یافته از «ملالی یوسفزی» پس از بهبودی

 

امضای قراردادهای 2 جانبه بین چین و پاکستان

 

شرکت رئیس جمهور و وزیر امور خارجه پاکستان در اجلاس اکو در باکو پایتخت آذربایجان

 

دیدار نخست وزیر پاکستان با امیر کویت

 

مراسم خاکسپاری نیروهای پلیس که در حمله شبه نظامیان به پست ایست و بازرسی شهر پیشاور کشته شدند

 

ساخت و فروش لوازم تزئین حیوانات قربانی برای عید قربان در بازار «پیشاور»

 

تزئین حیوانات برای قربانی کردن در عید قربان

 

بارندگی در لاهور



تاريخ : یکشنبه بیست و هشتم آبان ۱۳۹۱ | 21:0 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
نسخه چاپيارسال به دوستان
تصاویری از پاکستان در هفته‌ای که گذشت

خبرگزاری فارس: برگزاری مسابقات کبدی در شهر لاهور با حضور تیم ایران، پیامد حمله پهپادهای آمریکایی و روش مردم پاکستان برای نگهداری از گوشت‌های قربانی از جمله تصاویر خبری هفته گذشته پاکستان هستند.

خبرگزاری فارس: تصاویری از پاکستان در هفته‌ای که گذشت

به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس در اسلام‌آباد، وزیر کشور پاکستان و وزرای خارجه انگلیس و امارات روز دوشنبه (8 آبان) به دیدار ملاله یوسف‌زی، دختر پاکستانی که توسط طالبان مجروح شده، رفتند.

وی حدود 20 روز پیش برای درمان به بیمارستانی در شهر «بیرمنگام» انگلیس منتقل شد.

  دیدار وزاری کشورهای مختلف از ملاله یوسف‌زی

 

اولین عکس ملاله یوسف‌زی بعد از به هوش آمدن به همراه پدر و برادرانش.

پس از این حمله، قرار بود «ضیاءالدین یوسف‌زی»، پدر ملاله درخواست پناهندگی خود را به دولت انگلیس ارائه دهد اما دولت پاکستان ضیاءالدین را در سفارت این کشور در لندن استخدام کرد تا وی بتواند مدتی در کنار خانواده‌اش در انگلیس اقامت داشته باشد.

 

 

برگزاری مسابقات سرکل کبدی در لاهور پاکستان.

این مسابقات که با حضور شش تیم ایران ، هند، سریلانکا، افغانستان، پاکستان و نپال در شهر لاهور برگزار شده است فردا (دوشنبه) با برگزاری دیدارهای رده بندی و پایانی به پایان می‌رسد.

 

یک گل فروشی در شهر «راولپندی» که به خاطر ایام عید قربان و غدیر مشتریان زیادی را جذب کرده است.

 

مردم پاکستان بیش از بقیه حیوانات علاقه به تماشای فیل دارند. به همین علت ازدحام جمعیت در محل نگهداری این حیوان به قدری زیاد است که مسئولین باغ وحش را مجبور به کار گذاشتن نرده و ایجاد فاصله بیشتر فیل با مردم کرده است.

 

تاب های سیار در پاکستان که در عید ها و ایام جشن برای بازی کودکان در نقاط مختلف شهر قرار داده می‌شوند.

 

آویزان کردن گوشت قربانی برای سالم ماندن و مصرف در ایام سال.

در پاکستان به علت کمبود برق و نبودن یخچال به طور معمول از این شیوه برای نگهداری گوشت استفاده می شود.

 

دختر بچه ای که بر اثر حمله پهپادهای آمریکایی زخمی شده و در بیمارستانی در «پیشاور» بستری است.

 

عملیات انتحاری در شمال غرب پاکستان


تاريخ : یکشنبه بیست و هشتم آبان ۱۳۹۱ | 21:0 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
نسخه چاپيارسال به دوستان
تصاویری از پاکستان در هفته‌ای که گذشت

خبرگزاری فارس: حمله طالبان به مدارس دخترانه، اولین تصاویر منتشر شده از غیرنظامیان زخمی شده در حملات پهپادهای آمریکایی و کریکت بازی ارتشیان، از جمله تصاویر خبری هفته گذشته پاکستان می‌باشند.

خبرگزاری فارس: تصاویری از پاکستان در هفته‌ای که گذشت

به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس در اسلام‌آباد، هفته گذشته وزیر خارجه پاکستان در سفر به مصر با رئیس جمهور منتخب این کشور دیدار و گفت‌وگو کرد.

همچنین در این هفته، نمایشگاه  بین‌المللی تجهیزات دفاعی پاکستان در سال 2012 در شهر کراچی پاکستان برگزار شد.

دیدار «حنا ربانی» وزیر خارجه پاکستان با « محمد مرسی» رئیس جمهور منتخب مصر

 

فرمانده ارتش پاکستان با تزئین مزار شهدای کشمیر یاد و خاطره آنان را گرامی می‌دارد

 

 

کریکت‌بازی نیروهای ارتش پاکستان

 

دیدار مقامات ایالت «پنجاب» هند با ایالت پنجاب پاکستان

 

 

رئیس جمهور پاکستان در حال جایزه دادن به دانش آموزان ممتاز مقاطع ابتدایی

 

 

 

رودخانه «شیوک» پاکستان و بومیانی که تنها راه عبورشان از این رودخانه پرآب استفاده از این قایق‌های چوبی است

 

حمله طالبان به مدارس دخترانه در پاکستان

 

برگزاری «روز ملاله» در پاکستان

ملاله یوسفزی دختر نوجوان پاکستانی، از فعالان حقوق بشر و از مخالفان طالبان است که چندی پیش به دست این گروه ترور و به‌شدت زخمی شد.

 

اولین تصاویر منتشر شده از غیرنظامیان آسیب دیده در حملات پهپادهای آمریکایی به مناطق قبایلی پاکستان

 

اولین تصاویر منتشر شده از غیرنظامیان آسیب دیده در حملات پهپادهای آمریکایی به مناطق قبایلی پاکستان

 

نمایشگاه بین‌المللی تجهیزات دفاعی پاکستان

 

نمایشگاه بین‌المللی تجهیزات دفاعی پاکستان

 

تولید شکر خام از نیشکر با همکاری تمام اعضای یک خانواده روستایی در پاکستان


تاريخ : یکشنبه بیست و هشتم آبان ۱۳۹۱ | 20:59 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

وضعیت عمومی پاکستان

جمهوری اسلامی پاکستان در جنوب آسیا قرار گرفته و وسعت آن 943/803 کیلومتر مربع است. (در این رقم، مناطق گلگت و بتستان به وسعت 520/72 کیلومتر مربع و کشمیر آزاد به مساحت 639/11 کیلومتر مربع، جوناگری و مناوادر در نظر گرفته نشده اند.)(1) پاکستان از غرب با ایران و از شمال با افغانستان و از شمال شرق با چین و از شرق با هند هم مرز است و از جنوب به دریای عمان و آب های آزاد راه دارد.

این کشور از لحاظ جمعیت، دومین کشور اسلامی به شمار می رود. بنابر سرشماری سال 1377 ه/ 1998 م میزان جمعیت آن 571/579/130 نفر بوده است.(2) پاکستان در گذشته جزو سرزمین هند بود و در سال 1947 تحت رهبری قائد اعظم محمدعلی جناح از هند جدا

گردید و به صورت یک کشور مستقل درآمد و پس از استقلال، به پاکستان غربی و شرقی تقسیم شد. اما وحدت سیاسی این دو بخش چندان دوام پیدا نکرد و در سال 1971 بخش شرقی آن از بخش غربی استقلال یافت و کشور بنگلادش به وجود آمد.

پاکستان دارای نظام فدرالی و جمهوری اسلامی است. قوانین اسلامی در محاکم قضایی آن تا حدی اجرا می شوند. در دهه 80 میلادی رئیس جمهور ضیاء الحق (1977 1988) کوشید تا گام های بیشتری در جهت اسلامی کردن کشور بردارد، اما پس از او این تلاش ها دوباره متوقف شدند. پاکستان دارای چهار ایالت است: پنجاب، سند، بلوچستان و سرحد، اما در تقسیمات اداری آن، دو ناحیه دیگر نیز وجود دارند که خارج از محدوده ایالات چهارگانه می باشند: یکی نواحی شمالی که گلگت و بتستان را در برمی گیرد؛ دوم اسلام آباد پایتخت آن کشور. تقسیمات اداری معمولاً بر مبنای توزیع و ترکیب گروه های قومی صورت گرفته است. پنج گروه قومی عمده در این کشور وجود دارند: پنجابی، سندی، بلوچ، پتان / پشتون، گلگتی و بلتی.

زبان رسمی کشور «اردو» است. هرچند اردو اصالتا گویندگان بسیار کمی در این کشور دارد، اما از این که در دوران قبل از استقلال پاکستان، زبان رسمی مسلمانان به شمار می آمد، پس از استقلال به عنوان زبان رسمی پاکستان انتخاب شد. زبان انگلیسی نیز در ادارات رایج است. اسناد اداری عمدتا به زبان انگلیسی و یا اردو انگلیسی تنظیم یافته اند و در دانشگاه ها به عنوان زبان علمی، اهمیت بیشتری نسبت به زبان اردو دارد. غیر از اردو، که زبان ملّی کشور است، زبان پنجابی، سندی، بلوچی، پشتو، فارسی، بلتی، گلگتی و تبتی نیز در این کشور رایج است.

ادیان و مذاهب

در پاکستان، ادیان و مذاهب متعددی وجود دارند، اما اکثریت قاطع مردم آن را مسلمانان تشکیل می دهند. طبق سرشماری سال 1981 م / 1360 ه.، 68/96 درصد مسلمان، 55/1 درصد مسیحی و 51/1 درصد هندو و بقیه بودایی، سیک، زرتشتی و از دیگر ادیان می باشند.(3) در میان مسلمانان آن، اهل سنّت، که اکثرا حنفی مذهب هستند، اکثریت دارند. مسلمانان اهل سنّت به سه گرایش مختلف تقسیم شده اند: «دیوبندی» که منسوب به پیروان مدرسه دیوبند هستند که در سال 1283 ق در قصبه ای به همین نام در ایالت اُتار پرادش هند به وسیله مولانا محمد قاسم ناناتوی تأسیس شد.(4) «بریلوی» که منسوب به پیروان احمد رضا خان بریلوی اند که مدرسه ای در شهر بریلی هند بنا کرد و در مقام مخالفت با مکتب دیوبندی برآمد. بریلوی ها معمولاً صوفی مسلک و معتقد به تقدّس اولیا و رهبران مذهبی هستند و زیارت قبور اولیا و شفاعت و یاری طلبیدن از ارواح آنان را در حل مشکلات و برآوردن حاجات خود مؤثر می دانند.(5) گرایش سوم، گرایش اهل حدیث است که گروهی به شدت سنّتی و محافظه کار، شبیه گروه اخباری در میان شیعیان، می باشند. اهل حدیث پاکستان روابط نزدیکی با وهّابیان عربستان دارند و مذهبیان عربستان کمک های زیادی در تأسیس مدارس و تأمین هزینه های آموزشی این گروه کرده اند.

پس از اهل سنّت، دومین گروه مذهبی عمده را شیعیان تشکیل می دهند. شیعیان پاکستان به دو گروه دوازده امامی و اسماعیلیه تقسیم می شوند. اکثریت قاطع شیعیان جزو گروه اول هستند، اما تعدادی از فرقه اسماعیلیه نیز در کراچی، گلگت، ملتان و سند زندگی می کنند.

پیشینه تشیّع در پاکستان

بر اساس برخی شواهد تاریخی، تشیّع در نیمه اول قرن یکم هجری به سرزمین شبه قاره هند راه پیدا کرده است. در دوران حکومت حضرت علی علیه السلام نیروهای عرب از مرزهای سند عبور کردند. بخشی از مردم «جات» ارادتی عمیق به حضرت پیدا کردند، به طوری که به غلو و الوهیت کشیده شدند.(6)

«شنسب جد غوریان که فاتح شمال هند بود به دست حضرت علی بن ابی طالب اسلام آورد و با امام پیمان وفاداری بست و از ایشان مقررات و دستورالعمل هایی را گرفت. در مراسم تاج گذاری حاکم جدید، میثاقی که توسط حضرت علی بن ابی طالب علیه السلام نوشته شده بود، به زمامدار جدید تحویل داده شد و او نیز متعهد شد که به شرایط و مفاد آن عمل کند. آنان مریدان حضرت علی بودند و عشق آن حضرت و اهل بیت پیامبر عمیقا در عقایدشان ریشه دوانده بود.»(7)

محمد قاسم فرشته، مورّخ معروف هندی، نیز در کتاب خود می نویسد که شنسب و قبیله او همیشه بر دوستی و طرف داری خاندان اهل بیت باقی ماندند.(8) سلسله «شنسبانی» در جریان قیام ابومسلم، که منجر به سقوط اموی ها گردید، از قیام ابومسلم حمایت کرد.

مردم سند پس از تشرّف به اسلام، روابط خود را با اهل بیت پیامبر صلی الله علیه و آله حفظ کردند. به گفته ابن قتیبه، یکی از همسران امام سجّاد علیه السلام به نام حمیدان از اهالی سند بود و زید شهید نیز از فرزندان همسر سندی امام سجّاد علیه السلام بوده است. در عصر امام صادق علیه السلام نیز افراد زبده ای از ناحیه سند نزد امام صادق علیه السلام مشغول فراگیری علوم اسلامی بودند که از آن میان می توان به ابان سندی، خلاد سندی و فرج سندی اشاره نمود.

در زمان منصور، خلیفه دوم عباسی، عمرو بن حفص به فرمان داری سند منصوب شد. او یکی از طرفداران جدّی حضرت علی علیه السلام بود و از قیام محمّد «نفس زکیّه» حمایت کرد و برای عبدالله اشتر، فرزند محمّد، که در بصره مشغول جمع آوری سلاح و تجهیزات بود، پول هایی فرستاد تا اسب و شمشیر تهیه کند. پس از جریان شهادت محمّد نفس زکیه، عبدالله اشتر، فرزند وی، به عمرو بن حفص در سند پناهنده شد و عمرو او را نزد یکی از راجه های هندی فرستاد تا از ایشان نگه داری نماید. عبدالله ده سال در سرزمین راجه هندی به تبلیغ آیین تشیّع پرداخت.(9)

در قرن سوم و چهارم هجری، تشیّع اسماعیلی در هند گسترش یافت. در سال 270 ق / 883 م هیثم از طرف ابن جوثب منصور الیمان، داعی اسماعیلی مذهب یمنی، برای تبلیغ به سند فرستاده شد و او این مذهب را در ناحیه سند گسترش داد. در سال 373 ق العزیز، خلیفه فاطمیان، سپاهی به فرمان دهی ابن شیبان به سمت ملتان اعزام کرد. او ملتان را تسخیر نمود و به نام خلیفه فاطمی خطبه خواند، اما در سال های 399 و 400 در پی لشکرکشی سلطان محمود غزنوی به هند، حکومت طرفدار خلیفه فاطمی سرنگون و تعدادی از طرفداران این فرقه به قتل رسیدند. هجوم غزنوی هادرکل نتوانست به حکومت و اقتدار اسماعیلیه در سند پایان بخشد.

اسماعیلی ها پس از اندک زمانی دوباره به سازمان دهی خود پرداخته، سلسله حکومت مستقل «سومره» را در سند به وجود آوردند که تا چهار قرن استمرار یافت.(10)

شیعیان به تدریج در سده های بعد، قدرت بیشتری کسب کردند. آن ها در نواحی گوناگون هند، به ویژه شمال آن، حکومت های مستقلی تأسیس نمودند. سلسله حکومت های شیعی«اوده»،«بیجاپور» و «عادل شاهان» در هند معروفند.

پس از سلطه استعمار انگلیس بر شبه قاره هند در قرن هجدهم، قدرت مسلمانان، به ویژه شیعیان، رو به زوال نهاد. در واقع، دوران سلطه دو قرنه استعمار بر هند، دوران انتقال قدرت از مسلمانان به هندوها بود که تا امروز نیز این وضعیت در سرزمین هند ادامه دارد. اما در پاکستان، که در سال 1947 استقلال خود را از هند و انگلیس به دست آورد، قدرت دوباره در دست مسلمانان قرار گرفت، اما شیعیان به دلیل در اقلّیت بودن نتوانسته اند نقش سرنوشت سازی در صحنه سیاسی پاکستان ایفا نمایند.

جمعیت شیعه

شیعه در پاکستان دومین گروه مذهبی را از لحاظ جمعیت تشکیل می دهد، اما آمار دقیقی از میزان جمعیت آن وجود ندارد. محققان و کارشناسان مسائل پاکستان ارقام بسیار متفاوتی ذکر کرده اند که از 10 تا 25 درصد را در برمی گیرد. در دائرة المعارف مسیحی جهان در سال 1980، جمعیت شیعیان 5/14 درصد ذکر شده است.(11) دانشنامه جهان اسلام میزان جمعیت شیعیان این کشور را بین 15 تا 20 درصد تخمین زده است.(12) نویسنده دائرة المعارف تشیّع در سال 1373 جمعیت شیعه را 6/20 درصد ذکر کرده که در مجموع 000/885/16 نفر از کل جمعیت 83 میلیونی آن کشور را در دو دهه قبل تشکیل می داده اند.(13) فرانسوا توال جمعیت شیعی پاکستان را 000/000/30 نفر تخمین می زند.(14)

در پاکستان، ارائه آمار دقیق از پیروان مذاهب اسلامی بسیار مشکل است؛ زیرا برخی پیروان مذاهب اسلامی به دلایل مذهبی و یا سیاسی، هویّت مذهبی خود را پنهان نگه می دارند، چنان که عده ای از شیعیان روستایی ایالت سرحد، که در مناطق سنّی نشین هم مرز با افغانستان واقع شده اند و همچنین برخی روستانشینان شیعه مذهب بلوچستان و سند همیشه در تقیّه زندگی می کنند و شیعه بودن خود را مخفی نگه می دارند.

توزیع جمعیت

بر خلاف بسیاری از کشورهای اسلامی که شیعیان در آن ها از نوعی تمرکز جغرافیایی برخوردارند، در پاکستان چنین چیزی به چشم نمی خورد. شیعیان این کشور در تمام شهرها و شهرستان ها پراکنده اند و این پراکندگی در سطح روستاها نیز به چشم می خورد. مهم ترین شهرهایی که شیعیان در آن ها سکونت دارند، عبارتند از: کراچی، لاهور، ملتان، راولپندی، اسلام آباد، جنگ، سیالکوت، حیدرآباد، پیشاور، پاراچنار، کوهات، اسکردو و کوئته.

پنجاب پر جمعیت ترین ایالت این کشور، بیشترین جمعیت شیعه را در خود جای داده است. در لاهور، مرکز پنجاب، قریب نیم میلیون شیعه در سال های آخر دهه 60 شمسی زندگی می کردند(15) که امروز با توجه به رشد زاد و ولد در آن کشور و همچنین مهاجرت روستاییان به آنجا، ممکن است این تعداد به دو برابر افزایش یافته باشد. شیعیان لاهور عمدتا در محلّه «موچی دروازه» و «بازار حکیمان» ساکن هستند و عده ای نیز به طور متفرقه در سایر نقاط شهر سکونت گزیده اند.

لاهور یک شهر مهم تاریخی و فرهنگی است که نزد شیعیان نیز همین موقعیت را دارا می باشد. در این شهر، گروه ها و انجمن های مذهبی و فرهنگی زیادی مستقرند که برخی در محدوده لاهور و پنجاب مشغول فعالیت می باشند و برخی دیگر در سراسر پاکستان فعالیت می کنند. مهم ترین انجمن ها و گروه های شیعی مستقر در آنجا عبارتند از: «اداره تحفّظ حقوق شیعه»، «کنفرانس سراسری شیعیان پاکستان»، «وفاق علمای شیعه پاکستان» که این سه گروه در سطح کل شیعیان پاکستان فعالیت دارند «انجمن رضاکاران حسینی»، «حمایت اهل البیت»، انجمن اقامه نماز به نام «معین الصلاة»، انجمن حمایت از امور اموات به نام «معین الاموات» و مؤسسات فرهنگی دیگر مانند «امامیه مشن» و «معارف اسلام».(16)

یکی دیگر از شهرهای مهم پنجاب، «ملتان» است که در جنوب غرب لاهور واقع شده است. ملتان شهری بسیار قدیمی است و مرکز برخورد تمدن های بودا، هندوئیسم و اسلام شناخته شده. اسلام در قرن اول هجری، به وسیله محمد بن قاسم در این سرزمین راه یافت و به مرور زمان، تشیّع نیز در آنجا نفوذ کرد. امروز بیش از 30% جمعیت این شهر را شیعیان تشکیل می دهند.(17) آن ها در نواحی جلال پور پیراله، سالار وطن سادات، جک حیدرآباد، قتال پور، خانیوال، دهاری، میلسی، لودهران و تنکسی زندگی می کنند. گفته می شود که قدیمی ترین حسینیه جهان نیز در همین شهر تأسیس گردیده است که تاریخ آن به عصر همایونازسلاطین مغول برمی گردد.

در کراچی مرکز ایالت سند، نیز جمیعت زیادی از شیعیان زندگی می کنند. پس از تقسیم شبه قاره هند، تعداد زیادی از شیعیان هند به این شهر مهاجرت کردند که امروز به نام «خوجه ها» یاد می شوند. خوجه ها قوم ثروتمند و تحصیل کرده ای هستند که در ادارات دولتی نیز نفوذ قابل توجهی دارند. قدیمی ترین محله شیعه نشین کراچی محله «کرادر» است، اما پس از مهاجرت شیعیان هندی به این شهر، محلّه های ناظم آباد، لیاقت آباد، حیدرآباد، بحش، محمودآباد، بهادرآباد، محلّه محمدعلی، محلّه سادات، سعودآباد، شارع دریغ، ملیر، حسین آباد، محمدآباد، ولانی و بنکلور نیز بر آن افزوده شدند.(18) امروز تعدادی از شیعیان فارسی زبان قوم هزاره نیز در محلّه «حسین گوت» این شهر زندگی می کنند که ا کثرا از کوئته به آنجا مهاجرت کرده اند.

شهر مهم دیگری که تعداد قابل توجهی جمعیت شیعه را در خود جای داده، شهر «کوئته»، مرکز ایالت بلوچستان، است. شیعیان این شهر عمدتا در جنوب شهر (علمدار رود و مری آباد) و شمال غرب آن (بروری و کرانی) تمرکز یافته اند. آن ها از لحاظ قومی، به قومیت های هزاره، قندهاری، پنجابی، گلگتی، بلتی و تبتی تقسیم می شوند، اما اکثریت عمده آن ها را مردم هزاره تشکیل می دهند. هزاره ها به زبان فارسی تکلّم می کنند و از نظر فرهنگی و آداب و رسوم اجتماعی، تفاوت های محسوسی با سایر اقوام دارند. آنان نسبت به باورهای مذهبی، سنّت های اجتماعی خود و حجاب زنان حساسیت فوق العاده ای نشان می دهند. مراسم دینی، به ویژه ایّام محرّم و صفر، با جوش و حرارت زاید الوصفی از سوی آنان برگزار می شود.

یکی از مراسم دینی مهم آنان، برگزاری مراسم نماز جمعه است که به نوبت، به امامت حجج اسلام یعقوبعلی توسّلی و شیخ مهدی نجفی در مسجد جامع شیعیان واقع در مرکز شهر برگزار می شود. در سیزدهم شهریور ماه سال 1382 ش یک حمله تروریستی وحشتناک از سوی افراد وابسته به «لشکر جنگوی» علیه نمازگزاران در حین ادای نماز صورت گرفت که در اثر آن 51 تن از نمازگزاران کشته وبیش از70نفرزخمی شدند.

در آخرین نقطه های شمال شرقی پاکستان، سرزمین کوهستانی گلگت و بتستان واقع شده که دست کم از قرن هشتم هجری به این طرف، مسکن ثابت شیعیان بوده است. گسترش شیعه به این ناحیه دور دست کوهستانی، به داستان مهاجرت میرسید علی همدانی (714 786 ه) با جمعی از یارانش از ایران در دوران سلطه تیمور لنگ برمی گردد. نواحی گلگت و بتستان در پی تلاش های سیدمیر علی همدانی به آیین شیعه رو آوردند که امروز یکی از پایگاه های مستحکم شیعه در پاکستان به شمار می روند. به گفته یکی از نویسندگان، «ناحیه گلگت دارای پانصد تا ششصد هزار نفر جمعیت، و ناحیه بتستان نیز دارای پانصدهزار نفر جمعیت است. تقریبا عموم سکنه آن مسلمانند و در بتستان، اکثریت قریب به اتفاق با شیعیان است. در گلگت نیز قبلاً اکثریت با پیروان مذهب شیعه بوده است که کوششی مصروف گشته است تا با اسکان وهّابی ها و افاغنه سنّی مذهب، شیعیان آن را از اکثریت بیندازند.»(19)

در ایالت سرحد نیز شیعیان حضور چشم گیری دارند. گرچه در خود شهر پیشاور، مرکز این ایالت، تعداد شیعیان چندان چشمگیر نیست، اما در برخی مناطق دیگر این ایالت، به ویژه پاراچنار و کوهات، شیعیان حضور نسبتا وسیعی دارند. در پاراچنار، نزدیک به نیمی از جمعیت شهر را شیعیان تشکیل می دهند.(20) رهبر پیشین شیعیان پاکستان شهید عارف حسین حسینی نیز از همین ناحیه بود. او با فعالیت های اجتماعی، علمی و فرهنگی خود، نقش مهی در رشد فرهنگ شیعی در پاراچنار ایفا کرد. شیعیان پاراچنار به دلیل موقعیت خاص جغرافیایی و سیاسی آن، که در جوار مرز با افغانستان و مناطق قبایل آزاد واقع شده است، همیشه در معرض تهدید و درگیری های مذهبی قرار دارند. مردم این نواحی اکثرا مسلّح می باشند و پس از آغاز جنگ و جهاد در افغانستان، انواع سلاح های سبک و نیمه سنگین به این مناطق سرازیر شده اند که در درگیری های قومی و مذهبی، مورد استفاده قرار می گیرند. در مناطق قبایلی این ایالت، که دولت بر آن ها کنترل ندارد، هر نوع سلاح و مهمّات جنگی خرید و فروش می شود. در کوهات نیز، که در 40 کیلومتری شهر پیشاور واقع شده است، تعداد قابل توجهی شیعه زندگی می کنند. یکی از قبایل مهم شیعه مذهب این شهر، «بنگش» می باشد که در اعتقادات مذهبی خود، بسیار متعصّب و سرسخت است.

روحانیت و اجتماع

جامعه پاکستان در کل، یک جامعه سنّتی و مذهبی است که مردم آن برای ارزش ها و سنّت های دینی اهمیت فراوانی قایلند. دین و مذهب عنصر اصلی شکل دهنده هویّت مردم به شمار می آید. اسلام تنها عنصر مشترک قومیت های گوناگون کشور است که به جامعه چند قومی و چند زبانی کشور روح وحدت و یگانگی می دمد. زمانی که پاکستان به عنوان یک کشور مستقل شکل گرفت، اسلام به عنوان نماد اصلی وحدت در برابر ملت هندو مطرح شد و هم اکنون نیز این نماد مورد احترام دولت و ملت می باشد.

در جامعه مذهبی پاکستان، روحانیان از موقعیت اجتماعی خوبی برخوردارند. روحانیان نه تنها اداره امور مذهبی را در اختیار دارند، بلکه در اداره امور اجتماعی و سیاسی نیز نقش فعّالی ایفا می کنند. در برخی مناطقی که شیعیان تمرکز دارند مانند بلتستان روحانیان در ایفای نقش قضاوت نیز فعّال هستند. به گفته نویسنده کتاب سیمای پاکستان، «در مسائل سیاسی، اجتماعی و قضایی، روحانیت [در بلتستان [نقش ویژه ای دارد: محاکم آن ها محاکم شرعی و دارای شرع است. چنانچه محکمه دولتی دیگری هم باشد، مردم ترجیح می دهند مشکلات حقوقی و قضایی خود را نزد رهبران دینی حل و فصل کنند. ناحیه بلتستان دارای حاکم شرع (رئیس دیوان عالی ایالت) است، گرچه اداره آن شورایی است. رئیس آن شیخ غلام محمّد است.»(21)

روحانیان اداره امور مدارس و مساجد را نیز در اختیار دارند. در مساجد، نماز جماعت برپا می شود. هر مسجدی دارای یک هیئت امنا می باشد، اما روحانیان نیز در اداره برخی از آن ها نقش اساسی دارند. مهم ترین وظیفه روحانیان محلّه ها تشکیل کلاس های قرآن و احکام است. مردم فرزندان خود را نیمه وقت نزد علمای محل برای آشنایی با احکام اسلامی می فرستند و این یکی از مهم ترین مجاری ارتباطی روحانیان با مردم است.

همچنین روحانیان در مراسم شادی و غم مردم شرکت دارند. در مراسم عقد، پس از خواندن عقد توسط روحانی، ازدواج زوجین به صورت رسمی نزد روحانیان ثبت می شود. حکومت پاکستان این اجازه را به علمای شیعه داده است که در احوالات شخصیه، بر مبنای فقه خود عمل کنند. از این رو، علما برای ثبت ازدواج ها از فرم های رسمی دولتی و مهر رسمی خودشان استفاده می کنند و اسناد آن ها نزد محاکم دولتی کاملاً اعتبار دارد.

در برخی شهرها، روحانیان برای ارائه خدمات رفاهی به اقشار آسیب پذیر جامعه مؤسسات و مراکز خیریه تشکیل داده اند؛ چنان که در کراچی و کوئته و لاهور مواردی از آن را می توان مشاهده کرد. در کوئته، «شهدا ویلفر» از طرف حجة الاسلام محمدجمعه اسلامی و جمعی از افراد خیّر دیگر برای کمک به خانواده شهدا تأسیس شده است. همچنین ایشان یک مرکز کمک به ایتام و خانواده های فقیر را نیز سرپرستی می کند که به مستمندان کمک های نقدی و جنسی ارائه می دهد.

در پاکستان، روحانیت یک سازمان مذهبی فراگیری دارد که مرکز آن در لاهور است. «وفاق علمای شیعه پاکستان» بزرگ ترین سازمان مذهبی روحانیان است که ریاست آن را حافظ ریاض حسین، سرپرست مدرسه «جامعة المنتظر» لاهور به عهده دارد. «وفاق علما» در پنجاب از نفوذ ویژه ای برخوردار است و در تمام مدارس مهم این ایالت دارای شعبه می باشد و در خارج از پنجاب نیز شعبه هایی دارد. «وفاق»سالانه یک نشست عمومی در سطح پاکستان برگزار می کند که در آن، گزارشی از فعالیت های یک ساله ارائه می دهد و برنامه ریزی برای سال بعد انجام می گیرد. فعالیت این سازمان معمولاً فرهنگی و تبلیغی است، اما گاهی در فعالیت های سیاسی نیز دخالت می کند.

در پاکستان، مدارس دینی زیادی وجود دارند. با توجه به این که جمعیت شیعه در تمام شهرها پراکنده اند، مدارس دینی آنان نیز این پراکندگی را حفظ کرده اند؛ مهم ترین آن ها عبارتند از: «جامعة المنتظر» در لاهور، «جامعة اهل البیت» در اسلام آباد، «مدرسه آیت الله حکیم» در راولپندی، مدرسه «مشارع العلوم» در حیدرآباد، مدرسه «امام صادق» و «دارالعلم جعفری» در کوئته، مدرسه «جعفریه» در پاراچنار، و مدرسه «باب العلوم» در راولپندی.

اعیاد و مناسبت ها

اعیاد رسمی مسلمانان پاکستان عید فطر و قربان است. در این اعیاد، دست کم سه روز تعطیل عمومی اعلام می شود. مردم با پوشیدن لباس های نو، رفتن نزد بزرگان و دوستان و نزدیکان، پذیرایی با انواع شیرینی ها و برگزاری بازارهای موقّت، آن ها را گرامی می دارند. روبرت لانگ آمریکایی، که در سال های 1960 و 1961 در دانشگاه پنجاب سمت استادی داشت، مشاهدات خود را در این باره چنین می نویسد: «به همان اندازه که مسیحیان در عید قیامت مسیح احساس سرور می کنند، مسلمانان در عید فطر خرسند و خوشحال هستند. فطر روز شادی و سرور عمومی است. مردان و پسران برای نماز فطر به مسجد می روند. صحن مسجد از ده ها هزار نمازگزار موج می زند... پس از نماز و مجلس موعظه، انبوه جمعیت، که در صورت استطاعت مالی لباس های نو بر تن دارند، در خیابان ها به راه می افتند. بعضی از زنان صورت خود را با برقع سیاه یا کم رنگ معمولی پوشانده اند، ولی دختران با گیسوهای بافته و آویخته از پشت سر، لباس های فاخر روشن، اطلس صورتی یا آبی مزیّن به نقره یا طلا بر تن می کنند. همه جا سلام است و "عید شما مبارک". همه رفتار دوستانه دارند. بازار فروش شیرینی و نقل و مربّاجات گرم است و فروشندگان سوغاتی ها را به غریبه ها قالب می کنند. اقوام به دیدار یکدیگر می روند یا برای هم هدیه می فرستند ...»(23)

همچنین ایشان درباره عید قربان می گوید: «در جریان آخرین ماه از سال اسلامی (هجری) عید قربان فرا می رسد. این عید بزرگی است به یادکرد ماجرای اجابت حضرت ابراهیم به قربانی نمودن فرزندش. معمولاً به این مناسبت، گوسفند سر بریده می شود، نماز خوانده می شود وسپس با گوشت قربانی زعفران پلو می پزند. کشاورزان فرادست گاو قربانی می کنند. ... خانواده های فرادست روستایی برای عید قربان به قدر کافی غذا می پزند، طوری که به همه برسد. گوشت قربانی را به سه قسمت تقسیم می کنند. یک قسمت برای اهل خانه، یک قسمت برای اقوام و نزدیکان و قسمت دیگر برای فقرا ...»(24)

شیعیان علاوه بر عید فطر و قربان، تولّد حضرت پیامبر اکرم صلی الله علیه و آله و امام علی علیه السلام را نیز با برگزاری مراسم جشن و سخنرانی گرامی می دارند. در برخی مناطق، «نوروز» نیز جشن گرفته می شود؛ مانند کوئته و بلتستان، اما این جشن تنها مربوط به اولین روز از ماه فروردین است و این روز، تعطیل رسمی نیست.

مهم ترین و باشکوه ترین مراسم شیعیان پاکستان، مراسم عزاداری دهه محرّم و اربعین شهادت امام حسین علیه السلام است. عزاداری دهه محرّم قداست و احترام فوق العاده ای نزد شیعیان دارد. محرّم از نظر شیعیان این کشور صرفا یک تجلیل ساده از نهضت امام حسین علیه السلام نیست، بلکه نمادی از شکوه و اقتدار شیعیان به شمار می رود. این تنها فرصتی است که شیعیان در آن ضمن راه اندازی راهپیمایی های گسترده در سطح شهر، قدرت خود را به طور همه جانبه به نمایش می گذارند و سخنرانان و خطیبان به تبلیغ از مکتب تشیّع در اثبات حقّانیت شیعه می پردازند. به اعتقاد آن ها، مراسم محرّم تأثیر بسزایی در گسترش شیعه در شبه قاره هند داشته است و هر سال تعدادی تحت تأثیر معنویت عزاداران حسینی قرار گرفته و یا از طریق شرکت در مجالس سخنرانی و آگاه شدن از حقایق تاریخی، به شیعه گرایش پیدا می کنند.

یکی از مسائل قابل توجه در ارتباط با ایّام محرّم در این کشور، احترام عزاداری امام حسین علیه السلام نزد سنّیان این کشور است. اکثریت قاطع سنّیان این کشور نسبت به عزاداری دهه محرّم احساسی مثبت دارند و تنها عده اندکی تحت تأثیر افکار افراطی، با مراسم شیعیان مخالفت ورزیده و با تهدید و اعمال خشونت، کوشیده اند با آن مبارزه کنند. در تقویم دولت، روز دهم محرّم (عاشورا) تعطیل رسمی اعلام شده و رادیو و تلویزیون دولتی اخبار عزاداری را به خوبی پوشش می دهد و به خطبای مشهور فرصت می دهند تا در شب یازدهم از رادیو و تلویزیون سخنرانی نموده، ذکر مصیبت بخوانند. دولت پاکستان تاکنون به سیاست «تکثّرگرایی مذهبی» و آزادی های مذهبی به نحو شایسته ای احترام گذاشته و در روز عاشورا، با بسیج ده ها هزار نیروی پلیس و ارتش، امنیت مراسم را تأمین کرده است.

شیعه و سیاست

نظام سیاسی کشور و دولت پاکستان یک نظام باز است که تبعیضات مذهبی کم تر در آن اعمال می شوند. شیعیان گرچه در میان اکثریت سنّی، اقلّیت به شمار می روند، اما از نظر سیاسی، از موقعیت خوبی برخوردار بوده اند. گفته می شود که قائد اعظم محمدعلی جناح، بنیانگذار پاکستان، شیعه بوده و همچنین اسکندر میرزا، رئیس جمهور بین سال های 1955 تا 1958 م، نیز شیعه مذهب بوده است. هرچند در چند دهه اخیر تمام رؤسای جمهور و نخست وزیران این کشور از میان سنّیان انتخاب شده اند، اما شیعیان در سطوح پایین تری در تمام نهادهای دولتی حضور دارند. امروز افسران و ژنرال های زیادی از شیعیان در ارتش مشغول خدمتند و در مجلس سنا و ملّی نیز شیعیان کم و بیش حضور دارند که از آن میان می توان به سناتور حجة الاسلام سیدمحمدجواد هادی روحانی، شیعه مذهب اهل پاراچنار، در حکومت نواز شریف (قبل از 1999) اشاره نمود.

شیعیان تا اوایل دهه 80 میلادی فاقد یک حزب سیاسی مستقل بودند. حضور آن ها در سیاست از طریق عضویت در احزاب «مسلم لیگ» و «مردم» و یا به صورت آزاد تأمین می شد، اما در سال 1979 شیعیان حزب «نهضت اجرای فقه جعفری» را در شهر «بکر» تأسیس کردند. مفتی جعفر حسین روحانی، انقلابی خوش نام کشور، ریاست این حزب را به عهده گرفت. او اولین حرکت سیاسی خود را در ژوییه 1980 با راه اندازی راهپیمایی بزرگی در اسلام آباد با پیروزی به پایان برد.(25) پس از او شهید عارف حسین حسینی، که در دهم فوریه 1984 به رهبری حزب برگزیده شده بود، روند مشارکت فعّال تر شیعیان در سیاست را تسریع بخشید. او در کنگره حزبی سال 1987 در لاهور، با ایجاد اصلاحات جدّی در «نهضت اجرای فقه جعفریه» آن را به سطح یک حزب رسمی سیاسی ارتقا داد.(26)

شهید حسینی در پنجم اوت 1988 بر اثر یک اقدام تروریستی در پیشاور به شهادت رسید و پس از او حجة الاسلام والمسلمین ساجد علی نقوی معاون اول او به جانشینی او تعیین گردید.

در دوران رهبری ساجد علی نقوی، فعالیت «تحریک جعفریه»(27) در صحنه سیاسی همچنان ادامه پیدا کرد. شیعیان تحت رهبری «تحریک» در انتخابات حضور پیدا می کنند و به کاندیداهای حزب رأی می دهند، «تحریک» تاکنون در صحنه مبارزات انتخاباتی چندان موفق نبوده، ولی ائتلاف آن با احزاب سیاسی و یا اسلامی دیگر توانسته است دست کم آن را از انزوا و مرگ سیاسی نجات دهد.

پس از حادثه 11 سپتامبر امریکا و بسیج جامعه جهانی برای مبارزه با احزاب تندرو اسلامی، گروه های تندرو اسلامی در پاکستان غیر قانونی اعلام شدند که این حکم شامل «تحریک جعفریه» نیز گردید. بنابراین، شیعیان پاکستان اکنون فاقد یک حزب قانونی فعّال در صحنه سیاسی هستند، اما تشکیلات «تحریک» و رهبری آن به فعالیت های زیر زمینی خود ادامه می دهد. «تحریک» در انتخابات سال 2002 به ائتلاف احزاب اسلامی تحت عنوان «مجلس متحده عمل» پیوست که ائتلاف مزبور در انتخابات موفقیت شایانی به دست آورد و 44% آراء را از آن خود کرد.(28) هم اکنون سید ساجد علی نقوی مقام معاونت ریاست «مجلس متحده عمل» را داراست.

تهدیدات و آسیب ها

جامعه شیعی پاکستان با برخی تهدیدها و آسیب ها روبه روست که تاکنون صدمات فراوانی از ناحیه آن ها متوجه شیعیان گردیده. بزرگ ترین تهدید و خطر، تهدید تروریسم فرقه ای است که توسط «سپاه صحابه» و «لشکر جنگوی» هدایت می شود. افراطیون مذهبی اهل سنّت از سال 1985 به این طرف، به صورت سازمان یافته و فعّال مبارزه با شیعیان را آغاز کرده اند. تاکنون چهره های سیاسی، مذهبی و اجتماعی زیادی قربانی این ترور گردیده اند که از آن جمله، می توان به ترور رهبر فقید شیعیان علاّمه عارف حسین حسینی (پنجم اوت 1988) و دبیر کل نهضت جعفریه، انور علی آخوندزاده (23 نوامبر 2000 / 3 آذر 1379) و ده ها عضو فعّال دیگر «تحریک» اشاره نمود. تنها در سال 1382 ده ها تن از شیعیان قربانی تروریسم شدند که فقط در دو حادثه مهم آن، که در کوئته اتفاق افتادند، به ترتیب 12 تن (در تاریخ 18/3/1382) و 51 تن (در مراسم نماز جمعه روز 13/4/1382) از شیعیان کشته و ده ها نفر نیز زخمی گردیدند.

خطر تروریسم مذهبی با این که یکی از خطرات بسیار جدّی کشور پاکستان است، اما دولت این کشور تاکنون نتوانسته بر این بحران غلبه کند. «لشکر جنگوی»، گروه تندرو دیوبندی مذهب، نقش اصلی را در این ترورها به عهده دارد. گرچه دولت پرویز مشرّف در دو سال اخیر فشارهایی بر «سپاه صحابه» و «لشکر جنگوی» اعمال کرده و سرکردگان «لشکر جنگوی»، اکرم لاهوری و ریاض بسرا، را به بهانه هایی به قتل رسانده (24 اردیبهشت 1381 / 14 می 2002)، اما این فشارها تاکنون نتوانسته است تأثیری جدّی بر رفتار تندروان بگذارد. در اوایل مهرماه سال 1382، اعظم طارق، سرکرده «سپاه صحابه» و چهره جنجالی تندروان مذهبی، که حزب او قریب دو دهه حوادث خشونت های مذهبی را رهبری می کرد، مورد حمله افراد ناشناس قرار گرفت و به قتل رسید. هنوز هیچکس نمی تواند به درستی پیش بینی کند که مناقشات مذهبی چه وقت در این کشور فروکش می کنند؟

نتیجه گیری

پاکستان در کل، شرایط مناسبی برای شهروندان خود در عرصه های اجتماعی، فرهنگی و سیاسی فراهم کرده است. علی رغم آن که تعصّب مذهبی در میان توده های عوام به شدت ادامه دارد، اما ساختار سیاسی در مجموع کمتر از آن متأثر شده است. هرچند نفوذ برخی تندروان مذهبی در ساختار دولت، زمینه خشونت های فرقه ای را به نحوی فراهم ساخته و در مواردی مانع اجرای قانون نسبت به مجرمان گردیده، اما بدنه اصلی دولت بر مشی غیرمذهبی خود ادامه داده و بی طرفی را در ارائه خدمات و استخدام افراد تا حد زیادی رعایت نموده است. شیعیان پاکستان می توانند از شرایط موجود به خوبی استفاده نمایند، اما پراکندگی جمعیتی آنان مانع از حضور قدرتمندانه آنان در عرصه انتخابات و مشارکت سازمان یافته در دولت می گردد. در عرصه های فرهنگی، آن ها از شرایط بسیار خوبی برخوردارند، اما سنّت گرایی بیشتر رهبران مذهبی و توده های جامعه مانع از تحولات جدّی در آینده ای نزدیک خواهد شد.

پی نوشت ها

1. دانشنامه جهان اسلام، تهران، بنیاد دائرة المعارف اسلامی، چاپ اول، 1375، ج 5، ذیل واژه «پاکستان».

2. همان، ص 445.

3. همان، ص 194.

4. قاسم صافی، سفرنامه پاکستان، تهران، کلمه، 1366، ص 192.

5. همان، ص 194.

6. سیدعباس اطهر رضوی، شیعه در هند، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ج 1، 1376، ص 229.

7. همان، ص 230 به نقل از: طبقات ناصری، کلکته، 1846، ص 29.

8. محمدقاسم فرشته، تاریخ فرشته، ج 1، ص 312.

9. سیدعباس اطهر رضوی، پیشین، ص 232233.

10. علی حسین رضوی، تاریخ شیعیان علی، کراچی، امامیه اکیدمی، 1992، ص 366.

11. دائرة المعارف تشیّع، تهران، مؤسسه دائرة المعارف تشیّع، 1371، ج 4، ص 398

12. دانشنامه جهان اسلام، 1379، ج 5، ص 446.

13. دائرة المعارف تشیّع، ج 4، ص 398.

14. فرانسوا، توال، ژئوپولیتیک شیعه، ترجمه قاسم آقا، تهران، آمن، 1379، ص 145.

15. همان، ج 3، ص 624.

16. حسن الامین، دائرة المعارف الاسلامیة الشیعه، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، ج 10، ص 54.

17. همان، ص 306.

18. همان، ص 305.

19. محمدکاظم محمدی، سیمای پاکستان، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، 1368، ص 32.

20. دانشنامه جهان اسلام، ج 5، 1379، ص 367.

21. محمدکاظم محمدی، پیشین، ص 34.

22. همان، ص 34.

23. روبرت لانگ، سرزمین و مردم پاکستان، ترجمه داود حاتمی، شرکت انتشارات علمی فرهنگی، 1372، ص 200.

24. همان، ص 201202.

25. محمد اکرم عارفی، جنبش اسلامی پاکستان، قم، بوستان کتاب، 1382، ص 121.

26. همان، ص 122.

27. «نهضت اجرای فقه جعفری» یا «تحریک نفاز فقه جعفری» که به صورت مخفف «تحریک جعفریه» گفته می شود.

27. روزنامه جمهوری اسلامی، دوشنبه، 22 مهر 1381، ص آخر.

 



تاريخ : یکشنبه بیست و هشتم آبان ۱۳۹۱ | 18:19 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

زنده یاد علامه اقبال لاهوری

 ملّتی را رفت چون آیین ز دست

 مثل خاک اجزای او از هم شکست


باطن دین نبی این است و بس

 هستی مسلم ز آیین است و بس

گل زآیین بسته شد گلدسته شد

 برگ گل شد چون زآیین بسته شد

زیر گردون سرّ تمکین تو چیست؟

 تو همی دانی که آیین تو چیست؟

آن کتاب زنده قرآن حکیم

 حکمت او لایزال است و قدیم

نسخه اسرار تکوین حیات

 بی‌ثبات از قوّتش گیرد ثبات

حامل او رحمة للعالمین

نوع انسان را پیام آخرین

رهزنان از حفظ او رهبر شدند

 از کتابی صاحب دفتر شدند

تا دلش از گرمی قرآن تپید

 موج بی‌تابش چو گوهر آرمید

گر تو می‌خواهی مسلمان زیستن

 نیست ممکن جز به قرآن زیستن

از تلاوت بر تو حق دارد کتاب

 تو ازو کامی که می‌خواهی بیاب



تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 21:43 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

روزنامه:پاکستان- سی 42:29/10/2011

افتتاح کتابخانه الکترونیکی آمریکا توسط سرکنسول آمریکا در لاهور

خانم نینا ماریا وایت سرکنسول آمریکا" کتابخانه الکترونیکی آمریکا" را در شهر لاهور افتتاح نمودو سرکنسول آمریکا در خصوص این کتابخانه گفت: کتابخانه الکترونیکی آمریکا بیانگر آزادی اطلاع رسانی آمریکا می باشد،کتابخانه مذکور عموم مردم لاهور را به 20 پایگاه داده های تخصصی آمریکا متصل خواهد ساخت وهمچنین این کتابخانه  برای شهروندان لاهور بزرگترین  منبع اطلاع رسانی وبانک اطلاعاتی واقع خواهد شد.

 روزنامه : جنگ:28/10/2011

حقیقت تلخ پاکستان، در سال جاری 1600 نفر خودکشی کردند.

کامران خان تحلیلگر شبکه تلویزیونی جیو گفت: این یک حقیقت تلخ است که در طی 9 ماه سال 2011 م تعداد 2400 نفر به علت بیکاری و فقر دست به خودکشی زده و از بین آنها 1600 نفر جان خود را از دست دادند.

تحلیل گر شبکه تلویزیونی جیو افزود طبق آمار هم اکنون روزانه 5 نفر به علت فقر و بیکاری خودکشی می کنند . طبق گزارش سازمان ملل هم اکنون 51 % ملت پاکستان به گونه های مختلف با فقر و تنگدستی دست و پنجه نرم می کنند.

روزنامه: سی 42 :27/10/2011

دانشگاه بانوان لاهور مسابقه کلام علامه اقبال لاهوری را برگزار نمود

 دانشگاه بانوان لاهور روز چهارشنبه مورخ 26/10/2011 مسابقه " کلام علامه اقبال لاهوری " را  با حضور  اقبال صلاح الدین نوه علامه اقبال لاهوری،دکتر صبیحه منصور رئیس دانشگاه بانوان لاهور، دکتر آفتاب اصغر رئیس کرسی فردوسی شناسی دانشگاه پنجاب،دکتر فخرالدین نوری  رئیس بخش زبان و ادبیات اردو دانشگاه پنجاب  را در تالار مرکزی دانشگاه  بانوان برگزار نمود و در این مسابقه دانشجویان ازدانشگاه و دانشکدههای مختلف شهر لاهور از جمله دانشگاه بانوان لاهور، دانشگاه جی سی، دانشکده های گروه پنجاب،دانشکده دولتی چونا مندی، دانشکده اسلامیه کینت، دانشکده دولتی گلشن راوی،دانشکده دولتی شاد باغ، دانشکده اسلامیه کوپر رود و... شرکت نمودند.

روزنامه: سی 42 :28/10/2011

کنفرانس قرآن درمانی در دانشگاه پنجاب برگزار شد

سازمان مردم نهاد " اومنگ" در موسسه فرهنگی و جامعه شناسی دانشگاه پنجاب " کنفرانس قرآن درمانی (Quran Therapy ) " را برگزار نمود.دکتر عالیه سخنگوی سازمان مردم نهاد " اومنگ" طی سخنان خویش گفت: در قرآن کریم برای  همه نوع بیماری شفا هست و چنانچه شخصی پریشان حال باشد با تلاوت کردن  سوره الرحمان شفا می یابد.

 روزنامه: پاکستان :26/10/2011

کنفرانس تصوف در پاکستان در دانشگاه پنجاب برگزار شد

بخش زبان فرانسه دانشگاه پنجاب روز سه شنبه مورخ 25/10/2011 کنفرانس " تصوف در پاکستان" را برگزار نمود. در این کنفرانس  پروفسور دکتر مایکل  بووین  محقق مرکز مطالعات آسیای جنوبی پاریس، دکتر صالحه نذیر رئیس بخش فرانسه،اساتید بخش و تعداد کثیری از دانشجویان حضور داشتند.

روزنامه: پاکستان-جنگ، اکسپرس:24/10/2011

درگذشت خانم نصرت بوتو  بانوی نخست سابق پاکستان در دبی 

 خانم نصرت بوتو همسر ذوالفقار علی بوتو، نخست‌وزیر اسبق پاکستان و مادر بی‌نظیر بوتو رئیس جمهور اسبق پاکستان و مادر زن آصف علی زرداری رئیس جمهور کنونی پاکستان روز یکشنبه مورخ 23/10/2011 در 82 سالگی در دبی دار فانی را وداع گفت. نصرت بوتو در ۲۳ مارس ۱۹۲۹ در شهر اصفهان ایران به دنیا آمد. پدرش از تجار متمول ایران بود. همچنین گفته می‌شود مادربزرگش از کردهای ایرانی بوده است. خانواده خانم بوتو در ۱۹۴۷ سال استقلال پاکستان، به کراچی مهاجرت کردند نصرت بوتو سپس به عضویت گارد ملی زنان پاکستان درآمد و آموزش نظامی دید. در سال ۱۹۴۹ با همسر آینده‌اش ذوالفقار علی بوتو آشنا شد و دو سال بعد ازدواج کردند

زندگی نصرت بوتو،  انعکاسی از تلاطم های سیاسی در پاکستان بود. همسرش، ذوالفقار علی بوتو، حزب مردم پاکستان را پایه گذاری کرد و از سال ۱۹۷۳ تا ۱۹۷۹ نخست وزیر پاکستان بود. نصرت بوتو، پس از آنکه شوهرش در سال ۱۹۷۹ اعدام شد، رهبری حزب را بر عهده گرفت  و دو باره به عضویت پارلمان پاکستان درآمده بود. او  تا دهه 1980 مسئولیت حزب مردم پاکستان را به عهده داشت. نصرت بوتو سال های آخرعمر خود را در دبی گذراند و روز یکشنبه در آنجا درگذشت. جسد وی برای خاکسپاری در آرامگاه خانوادگی بوتو به پاکستان بازگردانده می شود.

روزنامه : اکسپرس و جنگ :17/10/2011

طی 2 سال اخیر 000/600/28 نفر پاکستانی به آمار افراد بی بضاعت  در پاکستان افزوده شدند

خبرگزاری ان ان ای (NNE)  : از آنجائیکه اکنون  آمارجمعیت پاکستان به192 میلیون می رسد هم اکنون  در پاکستان هفتاد و سه میلیون و نهصد هزار نفر(000/900/73) زیر خط فقر زندگی می کنند. طبق سازمان آمار در طی دو سال 2008 م الی 2011  تعداد 000/600/28 نفر پاکستانی به آمارافراد بی بضاعت  در پاکستان افزوده شدند در صورتیکه قبل از 25 مارس سال 2008 آمار کل افراد بی بضاعت در پاکستان 000/800/47 ( چهل و هفت میلیون و هشتصد هزار نفر) بوده است لذا می توان گفت هم اکنون 2/41 % افراد در پاکستان زیر خط فقر زندگی می کنند. بر اساس گزارش سازمان آمار هم اکنون پاکستان دارای 40 میلیون دانشجو و دانش آموز بوده و 66 % جمعیت پاکستان را جوانان تشکیل می دهند .

 روزنامه : پاکستان:17/10/2011

علمای دین بایستی در حفظ ساحت مقدس رسول اکرم (ص) نقش خود را به نحو احسن ایفا نمایند.

 علامه شعیب الرحمان سخنگوی  نهضت پاسبان جهانی ختم نبوت  به منظور حفاظت از ساحت مقدس رسول اکرم (ص) مولانا سیف الدین سیف  نماینده حزب جمعیت علمای اسلام،مولانا شفیع محمد چارنکاتی نماینده حزب جمعیت علمای پاکستان، لیاقت بلوچ دبیر کل جماعت اسلامی ،حافظ زبیر احمد نماینده حزب جمعیت اهل حدیث، علامه ممتاز اعوان نماینده نهضت پاسبان جهانی ختم نبوت، مولانا عبد الخبیرآزاد خطیب مسجد پادشاهی لاهور، پیر سیف الله خالد نماینده حزب جمعیت اهل سنت، حافظ طاهر محمود اضرفی مشاور اسبق سروزیر ایالت پنجاب را در دارالعلوم حنفیه لاهور دعوت نمود و گفت علمای دین بایستی در حفظ ساحت مقدس رسول اکرم (ص) نقش خود را به نحو احسن ایفا نمایند.علمای دین طی بیانه  مشترک خویش گفتند همه ی علما در حفظ ساخت مقدس رسول اکرم (ص) وظایف خود را به نحو احسن انجام خواهند داد

روزنامه:اکسپرس:19/10/2011

نهضت " بیدار شو پاکستان" آغاز خواهد شد

 اتحاد شورای اتحاد اهل سنت نهضت " بیدار شو پاکستان" را با زودی آغاز خواهد کرد. صاحبزداه فضل کریم رئیس اتحاد شورای اهل سنت  طی گفتگو با خبرگزاری اکسپرس گفت: اتحاد شورای اهل سنت در نظر دارد به منظور بیداری ملت پاکستان نهضت بیداری از شهر های کراچی،آزاد کشمیر و میانوالی آغاز نماید

روزنامه: پاکستان ؛16/11/2011

مجلس ملی پاکستان لایحه مجازات ازدواج اجباری زنان را تصویب کرد

مجلس ملی پاکستان لایحه حمایت حقوق بانوان مجازات ازدواج اجباری زنان را تصویب نمود.طبق گزارشات ، مجلس ملی  پاکستان لایحه مجازات را برای آن دسته از افرادی را که یک زن را وادرا می کنند تا با قرآن کریم ازدواج کرده یا برای حل اختلافات ناشی از یک قتل که سنتی قبیله ای با نام وانی است، ازدواج کند، تصویب نموده است. بر اساس این لایحه  مجلس پاکستان، حداکثر 10 سال زندان و پرداخت جریمه 1 میلیون روپیه ای (11,500 دلاری) و لغو قبول وثیقه را برای مرتکبین این جرم تصویب نموده است.ازدواج با قرآن  در حقیقت حقه ای است تا ارث خانواده را غارت کرده و به دیگران داده نشود. شایان ذکر است قانون وانی حقوق قانونی عروس در مورد املاک را از بین می برند. لازم به ذکر است دنیا عزیز، نماینده مجلس عضو مسلم لیگ قاعد، این لایحه را ارائه کرده است که مجلس نیز به اتفاق آراء آن را پذیرفت.

روزنامه: اکسپرس: 15/11/2011

حزب جمعیت اهل حدیث "پیشنهاد امنیت" را برای دولت های ایالت پنجاب و پاکستان ارسال نمود

 حزب جمعیت اهل حدیث به منظور برقرار امنیت در محرم الحرام " پیشنهاد امنیت" را برای دولت های ایالت پنجاب و پاکستان ارسال نمود و گفت چنانچه دولت به این " فرمول ( پیشنهاد) امنیت عمل نماید در طول ماه محرم الحرام در هیچ نقطه ای از کشور هیچ گونه ناامنی و حوادث ناگواری رخ نخواهد داد.حزب جمعیت اهل حدیث  این پیشنهاد را با مشاورت دیگرعلمای اهل حدیث از جمله مولانا مفتی عبید الله مسئول حزب جمعیت اهل حدیث،علامه ابتسام الهی ظهیر،مولانا مفتی عبدالشکور کاظم،پروفسور ثناءالله بهتی،مولانا محمدارشدحقانی،مولانا محمد ابراهیم افغانی،مولانا حافظ محمد انور ساجد،عبدالله سلفی،مولانا مفتی نصر الله عزیز،مولانا عبدالواحد سلفی، مولانا عبدالقیوم ظهیر،حافظ محمد علی یزدانی، علامه حافظ محمد عیسی قصوری،مولانا اسد الله سبحانی، مولانا نصر الله جالب و... تهیه نموده است.

حزب جمعیت اهل حدیث در این فرمول به دولت پیشنهاداتی به شرح ذیل  داده است :

1-     دولت برای فرقه های بریلوی،دیو بندی،اهل حدیث و تشیع سیاست  های یکسانی را برگزیند.

2-     همه ی فرقه ها تجمعات مذهبی را در عبادتگاههای خود برگزار نمایند.

3-     قانون ممنوعیت بلند گو بر همه ی فرقه ها نفاذ گردد ( طبق قانون پاکستان مساجد و فرقه های  مذهبی نمی توانند از بلند گو استفاده کنند زیرا طبق برخی از علما ، مساجد با استفاده از بلندگو باعث دل آزاری دیگر فرقه ها شده و این دل آزاری منجر به زد و خورد های مذهبی می شود).

4-     دولت با فرقه هایی که بر خلاف قرآن و سنت هستند تبلیغ می کنند، برخورد نموده و آنها را ممنوع الفعالیت ( فاقد اعتبار قانونی ) اعلام نماید.

5-     دولت با کسانی که  علیه اهل بیت (ع) خلفای راشدین و امهات المومنین  گفتگو کرده و یا نوشته هایی بر خلاف آنها چاپ و منتشر کنند، مطابق با قانون برخورد نماید.

6-      " کسی نباید مذهب خود را ترک نموده و برای دیگر مذاهب توطئه چینی کند" زیرا این عمل باعث تفرقه و فرقه گرایی می شود لذا دولت باید سعی نماید در ماه محرم ملت را بر اساس قرآن و سنت به سوی وحدت و اتحاد فرا خواند.

شایان ذکر است حافظ خالد شهزاد فاروقی طی گفتگو با رسانه ها گفت حزب جمعیت اهل حدیث  به دور از هرگونه  منافع شخصی و حزبی ، بر اساس قرآن وسنت خواستار حکومت اسلامی در کشور می باشد.

روزنامه: اکسپرس :15/11/2011

فیلم های کوتاه ایران و پاکستان در لاهور به نمایش گذاشته خواهد شد

 بنیاد تاریخ، هنر و معماری پاکستان (Trust for History, Art and Architecture of Pakistan) کنفرانس هشت روزه با عنوان "تصویر پاکستان" (Portrait of Pakistan) را  روز پنج شنبه مورخ 10/11/2011 در تالار هنری الحمرا آغاز نمود. طبق گزارشات، بنیاد تاریخ، هنر و معماری پاکستان در نظر دارد روز سه شنبه مورخ 15/11/2011 فیلم های کوتاه ایران و پاکستان را به مدت دو روز در تالار الحمرا  برای بازدید کنندگان به نمایش بگذارد علاوه بر این بنیاد مذکور در تاریخ های 17 و 18 نوامبر2011محفل شعر را با حضور شعرای برجسته لاهور برگزار خواهد نمود.

روزنامه : جنگ:14/11/2011

موج تحول و دگرگونی در پاکستان آغاز  شده است

 حزب جماعت اسلامی به منظور محکوم نمودن فساد،بیکاری،افزایش فتل و غارتگری در جامعه، روز 25 دسامبر در منطقه اچهره لاهور تجمع خواهد کرد. امبر العظیم رئیس حزب جماعت اسلامی در لاهور طی کنفرانس مطبوعاتی گفت:موج تحول و بیداری درجهان آغاز شده است و هم اکنون در مصر ،تیونس،الجزایر و لیبا شروع انقلاباتی رخ داده است حال با توجه به افزایش فساد،بیکاری،افزایش فتل و غارتگری در پاکستان جماعت اسلامی 25 دسامبر در منطقه اچهره لاهور تجمع نموده و آن را به" میدان تحریر" مصر تبدیل خواهد نمود.

روزنامه: سی 42، جنگ:14/11/2011

برگزاری کنفرانس " حفاظت از عزاداری" توسط مجلس وحدت مسلمین

مجلس وحدت مسلمین ایالت پنجاب به منظور ترویج و حافظت از " عزاداری" روز یکشنبه مورخ 13/11/2011 با حضور علامه راجه ناصر عباس جعفری، الحاج حیدر علی میرزا رئیس کمیته عزاداری ایالت پنجاب، علامه عبدالخالق اسدی دبیر کل کمیته عزاداری ایالت پنجاب ،علامه ابوذر مهدوی و جمع کثیری ازعزاداران و هیئت های عزاداری رسمی ایالت پنجاب، کنفرانس یک روزه " خفاظت از عزاداری" را در حسینیه " گلشن زهرا" وحدت رود لاهور برگزار نمود. سخنرانان طی سخنرانیهای خویش گفتند: عزاداری حضرت امام حسین جز ایمان می باشد  و در این راستا عزاداران امام حسین هیچ گونه ممنوعیت را قبول نخواهند کرد. آنها نیز از دولت خواستند: دولت به منظور حفاظت  و امنیت هئیت های عزاداری، تدابیر امنیتی را بگونه ای اتخاذ کنند که برای دسته های عزادار مشکلات ایجاد نشود و مردم به راحتی بتوانند در این عزاداری شرکت نمایند و از آنجائیکه هئیت های عزاداری شب هنگام مراسم عزاداری را برگزار می کنند دولت از قطع نمودن برق خودداری نماید.

روزنامه: اکسپرس:13/11/2011

 بنیاد نظریه پاکستان مراسم گرامیداشت علامه اقبال لاهوری را در تالار مجتمع هنری الحمرا برگزار نمود.

بنیاد نظریه پاکستان به مناسبت به مناسبت " یکصد و سی و چهار و مین سالروز ولادت علامه اقبال لاهوری" روز شنبه مورخ 12/11/2011 مراسم گرامی داشت علامه اقبال لاهوری را با حضور سید غوث علی شاه سر وزیر اسبق ایالت سند،  مجید نظامی مسئول بنیاد نظریه پاکستان وسردبیر روزنامه نوای وقت ،ضیاء شاهد سردبیر روزنامه خبرین ،قاضی حسین احمد رئیس اسبق حزب جماعت اسلامی ، شیخ رشید رئیس حزب مسلم لیگ مردمی، دکتر ناصره جاوید رئیس اسبق دادگستری ، اندیشمند برجسته و عروس علامه اقبال لاهوری و... را در تالار محتمع هنری الحمرا لاهور برگزار نمود.

قاضی حسین احمد رئیس اسبق حزب جماعت اسلامی طی سخنان خویش گفت:ما برای پیشرفت بایستی بر تعلیمات علامه اقبال لاهوری عمل نموده و تکیه نمودن بر اغیار را ترک نماییم. شیخ رشید احمد رئیس حزب مسلم لیگ مردمی طی سخنان خویش گفت: اکنون ملت بایستی با عمل به تعلیمات علامه اقبال لاهوری،  در پیشرفت پاکستان نقش خود را ایفا نمایند. دکتر ناصره جاوید طی سخنان خویش گفت : به مرور زمان مردم  تعلیمات علامه اقبال لاهوری و اهداف اساسی استقلال پاکستان را به فراموشی سپرده اند  لذا اکنون ما در بحران ها گرفتار شده ایم.  در پایان سخنرانان از دولت خواستند دولت پاکستان به منظور گسترش تعلیمات علامه اقبال لاهوری ، " افکار علامه اقبال لاهوری" را در سیلابس درسی کلیه مقاطع آموزشی شامل نماید و در این راستا قطعنامه ای را به امضاء رسانیدند.

روزنامه: اکسپرس:13 /11/2011

امروز اتحاد حزب های دینی امری بسیار ضروری می باشد

 مولانا محمد امجد خان معاون اطلاع رسانی جمعیت علمای اسلام طی ملاقات با مولانا زبیر احمد ظهیر معاون اطلاع رسانی جمعیت اهل حدیث ضمن تاکید بر اتحاد حزب های مذهبی گفت  امروز اتحاد  احزاب  دینی امری بسیار ضروری می باشد زیرا پاکستان در بحرانها گرفتار شده است  و فقط اتحاد احزاب دینی می تواند آن را از این بحرانها نجات دهد. سپس هر دو حزب به منظور گسترش اتحاد و حدت  آمادگی خود را جهت هرگونه همکاری اعلام نمودند.

روزنامه: اکسپرس، پاکستان:5/11/2011

قرآن مجید و پیام علامه اقبال لاهوری حلال مشکلات امروزی جامعه پاکستان

مجلس مرکزی ایوان اقبال به مناسبت " یکصد و سی و چهار و مین سالروز ولادت علامه اقبال لاهوری" روز جمعه مورخ 4/11/2011   مراسم گرامی داشت  علامه اقبال لاهوری را با عنوان" روز اقبال " با حضور  خورشید محمود قصوری وزیر اسبق امور خارجه پاکستان،محمد حسین بنی اسدی سرکنسول، عباس فاموری وابسته فرهنگی و رئیس خانه فرهنگ جمهوری اسلامی ایران-لاهور،قاضی حسین احمد رئیس اسبق حزب جماعت اسلامی ،عارف نظامی دبیر کل  مجلس مرکزی ایوان اقبال ، عطا الحق قاسمی رئیس هئیت مدیره شورای هنری لاهور و... را در تالار مرکز آکادمی اقبال پاکستان برگزار نمود. قاضی حسین احمد طی سخنان خود گفت:راز بقای مسلمان در سیره حضرت رسول اکرم نهفته است ولی ابن بدشناسی مسلمانان است که ما امروزه نه تنها به قرآن غور و فکر نمی کنیم بلکه تعلیمات علامه اقبال لاهوری که یکی از  بزرگترین فیلسوف مسلمانان در جهان است را به فراموشی سپرده ایم.در صورتیکه قرآن مجید و پیام علامه اقبال لاهوری حلال کلیه مشکلات امروزی جامعه پاکستان می باشد. عارف نظامی طی سخنان خویش فسلفه علامه اقبال لاهوری را فلسفه انقلابی خواند. عطا الحق قاسمی در خصوص تعلیمات علامه اقبال لاهوری گفت: تعلیمات علامه اقبال لاهوری همانند دریایی پر از گوهرهای گرانبها است و  هر کس می تواند مطابق با درک و فهم خود ار تعلیمات آن فیلسوف گرانقدر بهره جوید.

روزنامه: پاکستان:5/11/2011

15 طلبه افغانی در شهر" دسکه" ایالت پنجاب دستگیر شدند.

  از آنجائیکه در بسیاری از  حوزه های دینیپاکستان فعالیت های غیر دینی و مشکوک مشاهده شده است پلیس شهر دسکه ایالت پنجاب طی علمیات بازرسی مدارس دینی ، تعداد 15 طلبه افغانی را که به صورت غیرقانونی در حوزه علمیه " مدرسه عربیه تعلیم القرآن " مشغول به کسب تعلیم بودند را دستگیر نمود. طبق گزارشات بر اساس قوانین دولت پاکستان کلیه طلبه های خارجی فلقط با مجوز وزارت کشور می توانند در حوزه های دینی پاکستان درس بخوانند ولی برخی از مدارس دینی برخلاف قانون دولت پاکستان عمل نموده و طلبه های خارجی را به صورت غیر مجاز پذیرش می نمایند و دولت پاکستان در نظر دارد با حوزه های دینی متخلف برابر با قانوان برخورد نماید.

روزنامه اکسپرس

  • بخشنامه دولت: کارمندان  دولت اجازه  شرکت در برنامه های تلویزیونی بخش خصوصی و نوشتن مقاله برای روزنامه ها را ندارند. با متخلفین برخورد قانونی خواهد شد.

 روزنامه آج کل :07/  08 /1390

  •  روزنامه آج کل در مقاله ای با عنوان " وال استریت را اشغال کنید" به قلم ساجد حسین با اشاره به پیشگویی حضرت امام خمینی (ره) که طی نامه ای خطاب به گورباچف انحلال نظام کمونیستی شوروی سابق را اعلام کردند و جهانیان شاهد بوقوع پیوستن آن پیشگویی بزرگ بودند که در مدت کوتاهی این نظام از بین رفت، می افزاید اکنون امام سیدعلی خامنه ای  جانشین امام خمینی(ره) درباره متلاشی شدن نظام سرمایه داری پیشگویی نموده اند که این جنبش سر آغاز شکست و انحلال نظام سرمایه داری است.

روزنامه جنگ: یکشنبه 1/8/90

  • مجله هنرجدید با نام " صحبت " توسط دانشکده ملی هنرهای زیبا به سردبیری  خانم نازش عطاء الرحمن و آقای سروش عرفانی به چاپ رسید. در شماره دوم این  مجله  شاهنامه  فردوسی با توجه به اوضاع کشورهای پاکستان  و افغانستان  بررسی شده و پادشاهان شاهنامه  به حاکمان کنونی تشبیه شده اند . ضحاک به  بمب گذارانی  که مغزشان شست وشو داده  شده است تشبیه گردیده است. رستم زمان طالبان بوده، ولی خان ازحزب عوام ملی به اسفند یار شباهت دارد.

وزنامه نوای وقت: شنبه 30/7/90

  • هیلاری کیلینتون وزیر امور خارجه آمریکا در کنفرانسی مشترک با همتای پاکستانی خود در اسلام آباد گفت: آمریکا با پروژه خط لوله گاز ایران و پاکستان مخالف است. وی افزود ایران همسایه و کشوری خطرناک و داری اوضاع داخلی بی ثبات است.

 روزنامه نوای وقت :شنبه 30/7/90

  • علامه راجا ناصر جعفری دبیرکل مجلس وحدت مسلمین سفر هیلاری کیلینتون وزیر امور خارجه آمریکا به پاکستان را توطئه و ترفند جدید آمریکا برای گرفتارکردن پاکستان در دامی جدید دانست." زمامداران با پند گرفتن از رفتار گذشته آمریکا از دوستی با آن خوداری نمایند".

روزنامه اساس:یکشنبه 1/8/90.

  • عبدالغفور حیدری رهبر جناح مخالف در مجلس سنا گفت: هدف از سفر کیلینتون اعمال فشار علیه پاکستان برای ادامه حضور در جنگ علیه تروریسم است. هر گاه کسی از مسئولین آمریکا به پاکستان می آید، مصیبتی دیگر برای این کشور به وجود می آید. تا امریکا در منطقه حضور دارد مشکلات مضاعف خواهد شد . اگر آقای محمود احمدی نژاد رئیس جمهور ایران به دلیل سفر کیلینتون برنامه بازدید خود را از پاکستان  به تعویق انداخته وزارت امور خارجه پاکستان بایستی درباره آن پاسخگو باشد.

روزنامه پاکستان ؛ پنجشنبه 12/08/90

  • مسابقه سخنرانی بین دانش آموزان دبیرستانهای راولپندی و اسلام آباد با موضوع فلسفه اقبال برگزارشد .

روزنامه دان؛ پنجشنبه 12/08/90

  • کار تکمیل  فرهنگ اردو که" لغت اردو"  نامگذاری شده و در سال 1958م آغاز  گشته بود هنوز به تکمیل  نرسیده است . سال گذشته 22 جلد لغت نامه انتشار یافته بود اما به دلیل بازنشته شدن سردبیر شورای فرهنگ زبان اردو  پیشرفتی در تکمیل لغت نامه حاصل نگردیده است .

روزنامه جنگ؛ پنجشنبه 12/08/90

  • ثناء الله فاروقی رئیس ایالتی سازمان اهل سنت و الجماعه بلوچستان با صدور بیانیه ای معاویه را صحابه  بزرگ و جلیل القدر پیامبر اسلام (ص) دانسته و چاپ مطالب اهانت آمیز علیه وی در یک نشریه را قویا محکوم نمود و از حکومت ایالتی بلوچستان خواست تا سردبیر نشریه را بازداشت و به جرم اهانت به صحابه پیامبر اسلام  محاکمه و نشریه مذبور را تحریم نماید، در غیر این صورت حکومت با جنبش اعتراضی مواجه می شود.

روزنامه نوای وقت؛ چهارشنبه 25/8/90

  • دکتر فتح محمد ملک در سیمنار "مسایل  روز و تعلیمات اقبال و مولوی " گفت: مولوی  و اقبال نعمات بزرگ الهی برای امت اسلامی بودند. هر دو زنده و جاویدند. اگر ماخواهان انقلابیم، باید تمام دانشجویان خود را با اندیشه مولوی و اقبال آشنا سازیم.

روزنامه نوای وقت ؛ چهارشنبه 25/8/90

  • قانون مربوط به بانوان  به تصویب  رسید که طبق  آن در آینده ازدواج  اجباری دختران  و عقد آنها  به عنوان  کفاره  در ازای جنایات مردها ،  ممنوع  شد و در صورت سرپیچی عاملین برای هفت  سال زندانی  خواهند شد.

روزنامه اوصاف؛ سه شنبه 24/8/90

  • رئیس فقه جعفریه  جناح  حامد علی موسوی  اعلام کرد هفته ولایت از 18 ذی الحجه تا 20 نوامبر برگزار می گردد. آغاز  اجتماع تبلیغی  سالیانه رای وند در حوالی  شهر لاهور  از 16 نوامبر (ناگفته نماند که در این اجتماع بسیاری از علمای  افراطی  اهل سنت شرکت نموده  و معمولاٌ به تفرقه  مذهبی می افزایند )

روزنامه دان؛  یکشنبه 22/8/90

  • ورود بیش از 2200 سیک مذهبان از هند و دیگر کشورهای خارجی برای شرکت در543 مین سالروز تولد "باباگرو نانک " بنیانگزار مذهب سیک در زادگاه وی در شهرستان حسن ابدال در صد کیلومتری غرب  اسلام آباد. تعداد زیادی از سیک مذهبان مقیم زاهدان ایران هم برای شرکت در این آیین مذهبی خودرا به پاکستان می رسانند.

روزنامه نیوز؛ چهارشنبه 25/8/1390

  • کارشناسان امنیتی پاکستان در گزارشی افشا ساختند جنبش طالبان پاکستان به دهها گروهک کوچک تقسیم شده و فرماندهی منسجمی که از سوی بیت الله محسود تاسیس شده بود از هم پاشیده است. تعداد گروهکهای مزبور 50 الی 60 گروه می باشد که هر یک دارای رهبری جداگانه می باشد.

روزنامه های نیشن و دان ؛  چهارشنبه 25/8/1390

  • به گزارش یک شبکه تلویزیونی عرب، حکیم الله محسود رئیس طالبان پاکستان هشدار داده که جنگجویان وی قصد انجام حملات بیشتری علیه مقامات دولتی و نظامی پاکستان را دارند. وی طی پیام عید قربان که روی وب سایت جنبش منحله طالبان پاکستان به زبانهای انگلیسی، اردو، پشتو و عربی انتشار یافته ادعا نمود که وی مردان جنگی خود را از بعضی مناطق خارج ساخته و آنها برای انجام حملاتی برای بازپس گیری مناطق از دست رفته در نواحی سوات، مالاکند و مناطق عشایری پاکستان برنامه ریزی می کنند.
  • پاکستان و چین مانور دو هفته ای مبارزه علیه تروریسم با نام مستعار YOUYI-IV  را در حوالی شهر "جهلم" (پنجاب) آغاز کردند. نیروهای ویژه دو کشور در چهارمین مانور از نوع خود که نخستین مانور در سال 2004 آغاز شده بود شرکت دارند.



تاريخ : یکشنبه بیست و هفتم آذر ۱۳۹۰ | 21:41 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |