سوال : پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد قرآن کریم کا جمع ہونا ، عقل سے سازگار ہے؟
جواب : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم) اور مسلمان ،قرآن کریم کی جس عظمت اور اہمیت کے قائل ہیں اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ جو روایتیں کہتی ہیں کہ قرآن کریم ، پیغمبرا کرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد جمع ہوا ہے، غلط ہیں،اس کے علاوہ
قرآن کریم ،مسلمانوں کے پاس سب سے گرانقدر چیز ہے ، لہذا انہوں نے اس کو
محفوظ کرنے میں بہت زیادہ کوشش کی ہے کیونکہ یہی نبوت کی بنیاد ہے ، کیا
یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جیسی
شخصیت اس کو جمع کرنے اور لکھنے کو اہمیت نہ دیں؟ یا دوسرے کام کرنے لگ
جائیں اور اس کے سوروں اور آیتوں کو منظم و مرتب کرنے سے غافل ہوجائیں؟
قرآن کریم آپ کا زندہ جاوید معجزہ ہے اور اس کے ذریعہ سے تمام زمانوں میں
سب کو چیلنج کیا جاسکتا ہے ،اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم (صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر لازم تھا کہ اس کی حفاظت کی کوشش کریں، کیونکہ
انسان کا ذہن اور حافظہ جس قدر بھی قوی ہو لیکن پھر بھی اس پر اعتماد نہیں
کیا جاسکتا ۔
قرآن کریم آہستہ آہستہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر نازل
ہوتا تھا اور آنحضرت (ص) نے ”کاتبان وحی“ کے نام سے ایک گروہ معین کررکھا
تھا جو اس کو نازل ہوتے ہی لکھتے تھے ۔ ابوعبداللہ زنجانی نے کتاب ”تاریخ
القرآن“ میں اس متعلق لکھا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
کے پاس کچھ لکھنے والے تھے جو وحی کو معین خط یعنی نسخ میں لکھتے تھے اور
یہ ۴۳/افراد تھے ان میں سب سے زیادہ زید بن ثابت اور علی بن ابی طالب
(علیہ السلام) نے قرآن کو لکھا، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ قرآن کریم
کو لکھنے کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ۔
اس کے بعد عمر بن خطاب کے مسلمان ہونے کے واقعہ کو لکھتے ہیں کہ کس طرح
انہوں نے اپنی بہن کے گھر سورہ حدید(سبح اللہ) اور سورہ طہ کے ایک حصہ کو
مشاہدہ کیا ، اس کے بعد لکھتے ہیں : ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ
مسلمان ، قرآن کریم کو لکھنے کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے اور پورا قرآن ،
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع ہوگیا تھا (۱) ۔
روایات میں بیان ہوا ہے کہ قرآن مجید کے بعض سورے یا کسی سورہ کا ایک حصہ
تمام مسلمانوں کے پاس موجود تھا ، عبادہ بن صامت کہتے ہیں : جو بھی مہاجر
آتا تھا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کو کسی ایک مسلمان کے
حوالہ کردیتے تھے تاکہ وہ اس کو قرآن سکھائے ۔ کلیب کی روایت میں بیان ہوا
ہے : میں علی (علیہ السلام) کے ساتھ تھا کہ مسجد میں بلند آواز سے قرآن
پڑھنے کی آواز بلند ہوئی تو حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا: ان کو
مبارک ہو!
ایک گروہ قرآن کریم کو بلند آوازسے پڑھتا تھا ،حکم ہواکہ قرآن کریم کو آرام اور آہستہ سے پڑھو ۔
ان دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ، قرآن کریم کی قرائت کو
اہمیت دیتے تھے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ قرآن کریم ، ابوبکر کے زمانہ تک
جمع نہ ہوا ہو؟
نتیجہ یہ ہے کہ خلفاء کے زمانہ تک قرآن کریم کا جمع نہ ہونا ایسا خیال ہے
جو قرآن، سنت اور عقل کے مخالف ہے اور قرآن کریم کے جمع کرنے کو ابوبکر سے
نسبت نہیں دی جاسکتی ۔ عثمان کے زمانہ میں جو قرآن کا جمع ہونا کہا جاتا
ہے وہ بھی مسلمانوں کے درمیان ایک قرائت کو جمع کرنا تھا ۔
اہل سنت کے بزرگ علماء نے اس حقیقت کو قبول کیا ہے ،حارث محاسبی کہتے ہیں
: مشہور یہ ہے کہ عثمان نے قرآن کو جمع کیا ہے جب کہ یہ صحیح نہیں ہے،
کیونکہ عثمان نے لوگوں کو ایک قرائت پر جمع کیا اس لئے کہ اس وقت بہت سی
قرائتیں مرسوم تھیں ۔
لیکن یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے قرآن کریم کو
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد جمع کیا ہے تو اس
کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے قرآن کریم کو شال نزول کے مطابق اور منسوخ کو
ناسخ پر مقدم کیا ہے ۔اس کو علامہ مجلسی نے ”بحارالانوار میں اور صاحب
کتاب تاریخ القرآن نے قبول کیا ہے ۔ اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا تو
امام علی (علیہ السلام) چند روز میں کس طرح قرآن کو جمع کرتے؟(۲) ۔
۱۔ تاریخ القرآن، ص ۴۳، فصل۶۔
۲۔ سیمای عقاید شیعہ، ص ۱۸۱۔
.: Weblog Themes By Pichak :.
