💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠 *خصوص اشاعت*
=== *کرونا وائرس اور ہماری حکمت عملی* ==
ڈاکٹر ارشاد حسین مطہری
💠💠💠💠💠💠💠💠💠 https://www.facebook.com/groups/821904421556306/permalink
*Whatsapp Group1*
https://chat.whatsapp.com/JcfFva9BO3A2gaQMEefCc5
جیسا کہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ایک وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہر کوئی اس وائرس کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتا ہے ؛ اس سے نہ صرف انسانی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ،بلکہ دنیا کے اقتصاد کو بھی بری طرح سے متاثر کردیا ہے. ایسی اجتماعی پریشانیوں میں کچھ مفاد پرست عناصر حالات کی سنگینی سے سوء استفاده کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؛ دنیا کی چند حقیر ضروریات کی تکمیل کی خاطر دوسروں کے جان مال اور ایمان سے کھیلتے ہیں. اس نفسانفسی اور پریشان کن حالات میں انسان جائے تو کہاں جائے ؟ اپنے دکھ اور درد کو کس کے پاس بیان کرے ؟ طبیب اور حکیم واقعی کون ہے اور جعلی کون ؟ کس کے در پر دستک دے؟ اس لئے کہ ہر کوئی حکیم اور طبیب بنا ہوا ہے، ہر کوئی ہاتھوں میں ہزاروں نسخے لیے بیٹھاہے اور ہر شخص کو اپنی طرف دعوت دیتاہے اور لوگوں کو فریب دیکر لاکھوں روپے بٹورنےکے علاوہ غلط نسخے دیکر، بیمار
شفا پانے کے بجائے مزید بیماری کا شکار ہوجاتاہے .
دوسرے ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی یہ وائرس بڑھتا جارہا ہے
لہذا حکومت اور عوام کا اس سلسلے میں پریشان ہونا ایک ضروری امر ہے اور اس مہلک بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر حکومت کو بھی اور عوام کو بھی کرنی چاہیے ؛ لیکن اب تک کی اطلاع کے مطابق سرکار کی پوری توجہ تفتان باڈر پر لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے یہ وائرس صرف ایران سے ہی آنا ہے اور کہیں سے نہیں ، یہ وائرس چین سے پھیلا ہے وہاں کے باڈر بند کرنا تو دور کی بات اس پر کوئی گفتگو ہی نہیں کرتے اور دنیا کے اکثر ممالک سے فضائی رابطے برقرار ہیں حتی ان ممالک سے بھی جن میں یہ وائرس پھیلا ہے ان کے بارے میں کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی کوئی بات نہیں کی جارہی ہے صرف اور صرف تفتان باڈر پر کیوں توجہات مرکوز ہیں؟ اور مقامات مقدسہ سے زیارت کرکے آنے والے زائرین پر صرف سختیاں کیوں ہیں؟ یہ وائرس صرف ایران اور عراق میں پهیلا ہے اور کہیں نہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ اس وائرس کو مذہب کے خلاف ایک جنگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے طالبان، القاعدہ اور داعش کی طرح ،کرونا کو بھی مذہب کے خلاف استعمال کیا جانے لگا ہے لہذا اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ وائرس امریکہ کی ایجاد کردہ ہے اور اگر ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ یہ وائرس بنائے گئے ہیں تو یہ سوال خود بخود ذہن میں آتا ہے کہ یہ وائرس کس مقصد اور ہدف کے لئے بنائے گئے ہیں
*Whatsapp Group2*
https://chat.whatsapp.com/LZ33NNBQfRb9gYvWDzqMKb
*Whatsapp Group3*
https://chat.whatsapp.com/BjWyjLfqFroAQ4uCLgFjX2
محترم قارئین
ہمیں فی الحال اس کے پس پردہ
حقائق کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس وقت جس چیز کی سب سے اہم ضرورت ہے وہ اس بیماری کی روک تھام اور مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہیں تاکہ جتنی جلدی ہوسکے اس وبا سے نجات حاصل کریں
اس کے لیے چند بنیادی باتوں کی طرف توجہ رکھنا ضروری ہے :
1 قابل اعتماد ڈاکٹروں کی ہدایات پر ضرور توجہ دیں اور ان کے تجویز کردہ نسخوں پر جہاں تک ممکن ہوسکے عمل کریں اس لیے کہ یہی دین کا پیغام بھی ہے روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوئے تو لوگوں نے بیماری کی تشخیص دینے کے بعد آپ کو دوائی پیش کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہہ کر دوائی کھانے سے انکار کیا، کہ جب تک خدا مجھے سلامتی نہ دے، میں علاج نہیں کراوں گا لہٰذا بیماری نے طول پکڑ لیا اس وقت خدا کی طرف سے وحی ہوئی؛ میری عزت و جلالت کی قسم ! اس وقت تک تجھے شفا نہیں دونگا جب تک آپ دوائی استعمال نہیں کرتے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوائی استعمال کی جس سے آپ ٹھیک ہوگئے لیکن ان کا دل مغموم رہا خدا کی طرف سے وحی آئی اے موسیٰ کیا تم یہ چاہتا ہے کہ جو اعتماد تیرا مجھ پر ہے اس کے ذریعے میں اپنی حکمت کو نابود کردوں؟ میرے سوا کس نے دوائی کے اندر شفا رکھی ہے؟
2 اس سلسلے میں حکومت خاص طور سے محکمہ صحت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات
کا خاص خیال رکھا جائے اور محکمہ صحت کے دستورات پر مکمل پابند رہیں . جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے اس وقت تک اس قسم کے اجتماعی مسائل کا حل ناممکن ہے .
3 سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ خدا سے ارتباط کو نہ بھولیں دعا، مناجات اور دیگر عبادتوں کے ذریعے سے اپنے ارتباط کو پروردگار عالم سے ہر حال میں برقرار رکھیں اس لیے کہ جیسا کہ مولا علی علیہ السلام دعائے کمیل میں ارشاد فرماتے ہیں " یا مَنْ اِسْمُهُ دَوآءٌ وَ ذِکرُهُ شِفآءٌ " شفا دینے والی ذات وہی ہے.
اور تعجب ہے جو شخص اللہ پر ایمان رکھتاہو اور اہل البیت علیہم السلام سے اظہار عقیدت کرے اور زندگی کی دشواریوں میں ان کی طرف رجوع کرنے کے بجائے غیروں کے در پر سجدہ ریز رہے
صحیفہ سجادیہ جیسا عظیم دعاؤں کامجموعہ؛ جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں ہے، سے کتنے ہم آشنا ہیں
دعا کمیل میں حضرت علی علیہ السلام کس طرح خدا سے راز و نیاز کرتے ہیں
آئیں دامن اہلبیت سے تمسک کریں یہی حلال مشکلات ہیں اور یہی خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بھی
*اتم گروپ کے قارئین*
کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹر ناہید نفیسی صاحبہ جو میڈیکل کی دنیا میں جانی پہچانی شخصیت ہے ان کی ایک عمر تحقیقات کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس کا اردو ترجمہ " روحانی علاج " زیر اہتمام الهدی اسلامی تحقیقاتی مرکز شایع کرچکا ہے اس کا ایک بار ضرور مطالعہ فرمائیں موجودہ صورتحال میں زیادہ مفید ہو
*الهدی اسلامی تحقیقاتی مرکز ( اتم ) پاکستان*
.: Weblog Themes By Pichak :.
