رمضان المبارک

شيخ صدوق(عليہ الرحمہ) نے معتبر سند کيساتھ امام علي رضا (ع)سے اور حضرت نے اپنے آباء طاہرين (ع) کے واسطے سے اميرالمومنين (ع) سے روايت کي ہے کہ آپ نے فرمايا: ايک روز رسول اللہ نے ہميں خطبہ ديتے ہوئے ارشاد فرمايا کہ اے لوگو! تمہاري طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہينہ آرہا ہے- جس ميں گناہ معاف ہوتے ہيں- يہ مہينہ خدا کے ہاں سارے مہينوں سے افضل و بہتر ہے- جس کے دن دوسرے مہينوں کے دنوں سے بہتر، جس کي راتيں دوسرے مہينوں کي راتوں سے بہتر اور جس کي گھڑياں دوسرے مہينوں کي گھڑيوں سے بہتر ہيں- يہي وہ مہينہ ہے جس ميں حق تعاليٰ نے تمہيں اپني مہمان نوازي ميں بلايا ہے اور اس مہينے ميں خدا نے تمہيں بزرگي والے لوگوں ميں قرار ديا ہے کہ اس ميں سانس لينا تمہاري تسبيح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے- اس ميں تمہارے اعمال قبول کيے جاتے اور دعائيں منظور کي جاتي ہيں-پس تم اچھي نيت اور بري باتوں سے دلوں کے پاک کرنے کے ساتھ اس ماہ ميں خدا ئے تعاليٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے روزے رکھنے اور اس ميں تلاوتِ قرآن کرنے کي توفيق عطا کرے کيونکہ جو شخص اس بڑائي والے مہينے ميں خدا کي طرف سے بخشش سے محروم رہ گيا وہ بدبخت اور بدانجام ہوگا اس مہينے کي بھوک پياس ميں قيامت والي بھوک پياس کا تصور کرو، اپنے فقيروں اور مسکينوں کو صدقہ دو، بوڑھوں کي تعظيم کرو، چھوٹوں پر رحم کرواور رشتہ داروں کے ساتھ نرمي و مہرباني کرو اپني زبانوں کو ان باتوں سے بچاۆ کہ جو نہ کہني چاہئيں، جن چيزوں کا ديکھنا حلال نہيں ان سے اپني نگاہوں کو بچائے رکھو، جن چيزوں کا سننا تمہارے ليے روا نہيں ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو، دوسرے لوگوں کے يتيم بچوں پر رحم کرو تا کہ تمہارے بعد لوگ تمہارے يتيم بچوں پر رحم کريں ،اپنے گناہوں سے توبہ کرو، خدا کي طرف رخ کرو، نمازوں کے بعد اپنے ہاتھ دعا کے ليے اٹھاۆ کہ يہ بہترين اوقات ہيں جن ميں حق تعاليٰ اپنے بندوں کي طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جو بندے اس وقت اس سے مناجات کرتے ہيں وہ انکو جواب ديتا ہے اور جو بندے اسے پکارتے ہيں ان کي پکار پر لبيک کہتا ہے اے لوگو! اس ميں شک نہيں کہ تمہاري جانيں گروي پڑي ہيں- تم خدا سے مغفرت طلب کرکے ان کو چھڑانے کي کوشش کرو- تمہاري کمريں گناہوں کے بوجھ سے دبي ہوئي ہيں تم زيادہ سجدے کرکے ان کا بوجھ ہلکا کرو کيونکہ خدا نے اپني عزت و عظمت کي قسم کھارکھي ہے کہ ا س مہينے ميں نمازيں پڑھنے اور سجدے کرنے والوں کو عذاب نہ دے اور قيامت ميں ان کو جہنم کي آگ کا خوف نہ دلائے اے لوگو! جو شخص اس ماہ ميں کسي مۆمن کا روزہ افطار کرائے تو اسے گناہوں کي بخشش اور ايک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا-آنحضرت کے اصحاب ميں سے بعض نے عرض کي يا رسول اللہ! ہم سب تو اس عمل کي توفيق نہيں رکھتے تب آپ نے فرمايا کہ تم افطار ميںآ دھي کھجور يا ايک گھونٹ شربت دے کر بھي خود کو آتشِ جہنم سے بچا سکتے ہو- کيونکہ حق تعاليٰ اس کو بھي پورا اجر دے گا جو اس سے کچھ زيادہ دينے کي توفيق نہ رکھتا ہو- اے لوگو! جو شخص اس مہينے ميں اپنے اخلاق درست کرے تو حق تعاليٰ قيامت ميں اس کو پل صراط پر سے با آساني گزاردے گا- جب کہ لوگوں کے پاğ پھسل رہے ہوں گے- جو شخص اس مہينے ميں اپنے غلام اور لونڈي سے تھوڑي خدمت لے تو قيامت ميں خدا اس کا حساب سہولت کے ساتھ لے گا اور جو شخص اس مہينے ميں کسي يتيم کو عزت اور مہرباني کي نظر سے ديکھے تو قيامت ميں خدا اس کو احترام کي نگاہ سے ديکھے گا- جوشخص اس مہينے ميں اپنے رشتہ داروں سے نيکي اور اچھائي کا برتاۆ کرے تو حق تعاليٰ قيامت ميں اس کو اپني رحمت کے ساتھ ملائے رکھے گا اور جو کوئي اپنے قريبي عزيزوں سے بدسلوکي کرے تو خدا روز قيامت اسے اپنے سايہ رحمت سے محروم رکھے گا- جوشخص اس مہينے ميں سنتي نمازيں بجا لائے تو خدا ئے تعاليٰ قيامت کے دن اسے دوزخ سے برائت نامہ عطا کرے گا- اور جو شخص اس ماہ ميں اپني واجب نمازيں ادا کرے توحق تعاليٰ اس کے اعمال کا پلڑا بھاري کردے گا- جبکہ دوسرے لوگوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے- جو شخص اس مہينے ميں قرآن پاک کي ايک آيت پڑھے تو خداوند کريم اس کے ليے کسي اور مہينے ميں ختم قرآن کا ثواب لکھے گا، اے لوگو! بے شک اس ماہ ميں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہيں- پس اللہ تعاليٰ سے دعا کرو کہ وہ انہيں تم پر بند نہ کرے- دوزخ کے دروازے اس مہينے ميں بند ہيں- پس خدائے تعاليٰ سے سوال کرو کہ وہ انہيں تم پر نہ کھولے اور شيطانوں کو اس مہينے ميں زنجيروں ميں جکڑ ديا جاتا ہے- پس خدا سے سوال کرو کہ وہ انہيں تم پر مسلط نہ ہونے دے الخ -شيخ صدوق (عليہ الرحمہ)نے روايت کي ہے کہ جب ماہِ رمضان داخل ہوتا تو رسول اللہ تمام غلاموں کو آزاد فرماديتے اسيروں کو رہا کرديتے اور ہر سوالي کو عطا فرماتے تھے-

تحریر:  صبيحه سجاد رضوي کلکتوي

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان



تاريخ : پنجشنبه یازدهم خرداد ۱۳۹۶ | 18:41 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

روزہ کيا ہے اور يہ کسي کے لئے ہے ؟

ماه خدا

اَيُّھٰاالنّٰاسُ اِنَّہُ قَدْاَقْبَلَ اِلَيْکُمْ شَھْرُاللّٰہِ بِالْبَرَکَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ،شَھْر ھُوَعِنْدَاللّٰہِ اَفْضَلُ الشُّھُورِ،وَاَيَّامُہُ اَفْضَلُ الاَيَّامِ وَ لَيٰاليِہِ اَفْضَلُ اللَّيٰاليِ وَسَاعٰاتُہُ اَفْضَلُ السّٰاعٰاتِ-وَ ھُوَ شَھْردُعيِتُمْ فِيْہِ اِليٰ ضِيٰافَةِ اللّٰہِ - يعني!''اے لوگو! آگاہ ہو جا ۆ کہ ماہ خدا (ماہ مبارک رمضان ) تم سے قريب ہے جو اپنے ہمراہ برکت و رحمت و مغفرت ليے آرہا ہے - يہ وہ مہينہ ہے جو خدا کے نزديک تمام مہينوں سے اعليٰ و افضل ہے اس کے دن تمام دنوں سے افضل ہيں ،اس کي راتيں تمام مہينوں کي راتوں سے برتر ہيں اور اس کے لمحات و ساعات تمام مہينوں کے لمحات و ساعات سے بہتر ہيں-يہ وہ مہينہ ہے جس ميں تم اللہ کي مہما ن نوازي ميں مدعو کيے گئے ہو-

واضح ہے کہ جو اللہ کا مہمان بن جائے وہ يقيناً! بہرہ مند و فيضياب ہوتا ہے -لہذا خدا وند عالم نے يہ ارشاد فرمايا :اے صاحبان ِ ايمان تمہارے اوپر روزے اسي طرح لکھ دئے گئے ہيں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے تاکہ اس طرح تم متقي و پرہيزگار بن جاۆ- (سورہء بقرہ 183) خالقِ اکبر نے روزے کي صورت ميں صاحبان ايمان کو اپني بارگاہ اہديت ميں آنے کي دعوت دي ہے تا کہ وہ اس سے بہرہ مند و فيضياب ہو سکيں -کيونکہ روزہ تقرب پروردگار کا وسيلہ ہے ، روزہ اسلام کا بنيادي رکن ہے ، روزہ جہاد اکبر ہے ، روزہ بدن کي زکوٰة ہے ، روزہ امير و غيرب کے فرق کو مٹا ديتا ہے ، روزہ ہر مشکل ميں مۆمن کا مددگار ہو تا ہے ،روزہ سے شيطان روسياہ ہوتا ہے ، روزہ بدن کي معنوي پاکيزگي کا موجب ہے ، روزہ جسماني صحت کا موجب ہے ، روزہ قبوليت اعمال کا وسيلہ ہے ،روزہ سينے کے وسواس کو دور کرتا ہے ، روزہ انسان کي خواہشات کي زنجيروں کو توڑ ديتا ہے ، روزہ برکات خدا وندي و رحمت الہي کے نازل ہونے کا سبب ہے ، روزہ عذاب جہنم اور ديگر خطرات کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، روزہ انسان کے دائمي و ابدي دشمن ''نفس امارہ ''کو شکست ديتا ہے، روزہ شہوات نفساني و خواہشات کے کمزور کرنے کا موجب ہے ، روزہ صرف اللہ ہي کے لئے اور وہي اس کي جزا دے گا ، روزہ منعم حقيقي کے انعامات و احسانات کا شکريہ ہے ، روزہ رکھنے سے حافظہ ميں اضافہ ہوتا ہے ، روزہ داروں کي دعائيں مستجاب ہو تيں ، روزہ دار خدا وند عالم مہمان ہو تا ہے ، روزہ دار کے منہ سے نکلنے والي بومشک سے زيادہ پاکيزہ ہو تي ہے -

روزے دار وں پر فرشتے درود و سلام بھيجتے ہيں ، فرشتے روزہ داروں کے لئے دعا کرتے ہيں ، روزہ داروں کے چہروں سے ملائکہ اپنا بدن مس کرتے ہيں ، روزہ داروں کا سانس لينا تسبيح خدا شمار ہوتا ہے ، روزہ داروں کو اس کے عمل کي جزا کئي گناہ کر کے دي جاتي ہے ، روزے سے انسان کے اندر تقوي اور پرہيزگاري کا ملکہ پيدا ہوتا ہے -

روزے سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کي ادائيگي کا جذبہ پيدا ہوتا ہے ، روزے سے انسان کے افعال حرکات ميں نظم و ضبط پيدا ہوتا ہے ، خدا وند عالم نے بہشت کا ايک دروازہ روزہ داروں سے مخصوص کر رکھا ہے -

معاذ بن جبل کہتے ہيں کہ: جنگ تبوک ميں اتني شدت کي گرمي تھي کہ لوگ سايہ کو تلاش کر رہے تھے ميں رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ و سلم کے نزديک تھا آنحضرت (ص)  کے قريب آيا اور عرض کيا: يا رسول اللہ (ص) !مجھے ايسے کام کي رہنمائي کرديں جو مجھے جہنم سے نکال کر جنت کي طرف لے جائے !

آنحضرت (ص) نے فرمايا : بڑا اچھا سوال کيا ہے .. . اگر تم يہ چاہتے ہي ہو تو سنو اے معاذ!بس خدا وند عالم کي عبادت و پرستش کرو، اس کے مقابلہ ميں کسي غير کو اس کا شريک و ہمتا قرار نہ دو ، نماز کا قيام کرو، زکوٰة ِواجب کي ادائيگي کرو اور ماہ مبارک رمضان کا روزہ رکھو- اب اگر چاہو تو تمہيں ابواب ِخير کي بھي خبر دے دوں !؟ ميں نے عرض کيا: ہاں : يا رسول اللہ! فرمائيں، آنحضرت (ص) نے فرمايا: روزہ جہنم کي آگ سے بچنے کي سِپر ہے ، صدقہ معصيت پر پردہ پوشي کرتا ہے ، اور ياد الہي ميں شب بيداري کرنا موجب رضايت پروردگار ہے -

روزے کا منکر اور جان بوجھ کر بغير کسي عذر کے روزے نہ رکھنے والا اس شخص کي طرح ہے جو خدا ، رسول (ص) اور ائمہ اطہار عليہم السلام کے حکم کا منکر ہو اور ان کي معرفت نہ رکھتا ہو لہذا ايسا منکرِ احکام الہي اور مغضوب خدا ہے، جو شخص اس ماہ مبارک سے فيض ياب نہيں ہوتا وہ شقي ترين انسان ہے اسے مسلمان کہنا اور مولائے کائنات حضرت علي بن ابي طالب عليہ السلام کے شيعوں کي طرف منسوب کرنا جہالت اور جرم عظيم ہے اس لئے کہ حضرت امام رضا عليہ السلام فرماتے ہيں : ہمارے شيعہ وہ ہيں جو ہمارے (ہر ) حکم کو تسليم کريں اور ہمارے دشمنوں سے عداوت رکھيں پس جو لوگ ايسے نہ ہوں وہ ہمارے شيعہ نہيں ہيں -

اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ صِيٰامِي فِيْہِ صِيٰامَ الصَّائِمِيْنَ وَ قِيٰامِي فِيْہِ قِيٰامَ الْقٰائِمِيْنَ وَ نَبِّھْنِي فِيْہِ عَنْ نَوْمَةِ الْغٰافِلِيْنَ وَھَبْ لِي جُرْمِي فِيْہِ يٰااِلٰہَ الْعٰالِمِيْنَ وَاعْفُ عَنِّي يٰاعٰافِياً عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ- خدايا! ميرا روزہ اس ميں روزہ داروں کے روزہ کي طرح قراردے اور ميري نماز، نمازگذاروں کي طرح قرار دے اور مجھ کو ہوشيارکر دے غافلوں کي نيند سے اور ميرے گناہ کو بخش دے اے عالمين کے معبود ! اور مجھ کو معاف کردے اے گنہ گاروں کے معاف کرنے والے !

تحریر:  مولانا سيد سرور عباس نقوي

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان



تاريخ : پنجشنبه یازدهم خرداد ۱۳۹۶ | 18:39 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

رمضان المبارک

روزہ مادي اور معنوي، جسماني اور روحاني لحاظ سے بہت سارے فوائد کا حامل ہے- روزہ معدہ کو مختلف بيماريوں سے سالم اورمحفوظ رکھنے ميں فوق العادہ تاثير رکھتا ہے- روزہ جسم اور روح دونوں کو پاکيزہ کرتا ہے -

پيغمبر اکرم (ص) اور روزہ

پيغمبر اکرم (ص) نے فرمايا: المعدۃ بيت کل داء- والحمئۃ راس کل دواء-

معدہ ہر مرض کا مرکز ہے اور پرہيزاور (ہر نامناسب غذا کھانے سے ) اجتناب ہر شفا کي اساس اور اصل ہے-

اور نيز آپ نے فرمايا:صوموا تصحوا، و سافروا تستغنوا-

روزہ رکھو تا کہ صحت ياب رہو اور سفر کرو تاکہ مالدار ہو جاؤ- اس ليے سفر اور تجارتي مال کو ايک جگہ سے دوسري جگہ ليجانا اور ايک ملک سے دوسرے ملک ميں ليجانا، انسان کي اقتصادي حالت کو بہتر بناتا ہے اور اس کي مالي ضرورتوں کو پورا کرتا ہے-

حضرت رسول خدا (ص) نے فرمايا: لکل شي ء زکاۃ و زکاۃ الابدان الصيام

ہر چيز کے ليے ايک زکات ہے اور جسم کي زکات روزہ ہے-

حضرت علي (ع) اور روزہ

امام علي عليہ السلام نہج البلاغہ کے ايک خطبہ ميں ارشاد فرماتے ہيں: و مجاهدة الصيام في الايام المفروضات ، تسكينا لاطرافهم و تخشيعا لابصارهم ، و تذليلا لنفوسهم و تخفيفا لقلوبهم ، و اذهابا للخيلاء عنهم و لما في ذلك من تعفير عتاق الوجوه بالتراب تواضعا و التصاق كرائم الجوارح بالارض تصاغرا و لحوق البطون بالمتون من الصيام تذللا.

جن ايام ميں روزہ واجب ہے ان ميں سختي کو تحمل کر کے روزہ رکھنے سے بدن کے اعضاء کو آرام و سکون ملتا ہے- اور اس کي آنکھيں خاشع ہو جاتي ہيں اور نفس رام ہو جاتا ہے اور دل ہلکاہو جاتا ہے اور ان عبادتوں کے ذريعے خود پسندي ختم ہو جاتي ہے اور تواضع کے ساتھ اپنا چہرہ خاک پر رکھنے اور سجدے کي جگہوں کو زمين پر رکھنے سے غرور ٹوٹتا ہے- اور روزہ رکھنے سے شکم کمر سے لگ جاتے ہيں-

1: روزہ اخلاص کے ليے امتحان ہے-

حضرت علي (ع) دوسري جگہ ارشاد فرماتے ہيں: و الصيام ابتلاء الاخلاص الخلق

روزہ لوگوں کے اخلاص کو پرکھنے کے ليے رکھا گيا ہے-

روزہ کے واجب ہونے کي ايک دليل يہ ہے کہ لوگوں کے اخلاص کا امتحان ليا جائے- چونکہ واقعي معني ميں عمل کے اندر اخلاص روزہ سے ہي پيدا ہوتا ہے-

2: روزہ عذاب الٰہي کے مقابلہ ميں ڈھال ہے-

امام علي (ع) نھج البلاغہ ميں فرماتے ہيں: صوم شھت رمضان فانہ جنۃ من العقاب

روزہ کے واجب ہونے کي ايک وجہ يہ ہے کہ روزہ عذاب الٰہي کے مقابلے ميں ڈھال ہے اور گناہوں کي بخشش کا سبب بنتا ہے-

امام رضا (ع) اور روزہ

جب امام رضا (ع) سے روزہ کے فلسفہ کے بارے ميں پوچھا تو آپ نے فرمايا: بتحقيق لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم ديا گيا ہے تا کہ بھوک اور پياس کي سختي کا مزہ چکھيں- اور اس کے بعد روزہ قيامت کي بھوک اور پياس کا احساس کريں- جيسا کہ پيغمبر اکرم (ص) نے خطبہ شعبانيہ ميں فرمايا: واذکروا بجوعکم و عطشکم جوع يوم القيامۃ و عطشہ- اپنے روزہ کي بھوک اور پياس کے ذريعے قيامت کي بھوک و پياس کو ياد کرو- يہ ياد دہاني انسان کو قيامت کے ليے آمادہ اور رضائے خدا کو حاصل کرنے کے ليے مزيد جد و جہد کرنے پر تيار کرتي ہے-

امام رضا (ع) دوسري جگہ ارشاد فرماتے ہيں- روزہ رکھنے کا سبب بھوک اور پياس کي سختي کو درک کرنا ہے تا کہ انسان متواضع، متضرع اور صابر ہو جائے- اور اسي طرح سے روزہ کے ذريعے انسان ميں انکساري اور شہوات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے-

ہاں، روزہ سب سے افضل عبادت ہے- شريعت ا سلامي اور احکام خدا وندي نے شہوات کو حد اعتدال ميں رکھنے کے ليے روزہ کو وسيلہ قرار ديا ہے اور نفس کو پاکيزہ بنانے اور بري صفات اور رذيلہ خصلتوں کو دور کرنے کے ليے روزہ کو واجب کيا ہے- البتہ روزہ رکھنے سے مراد صرف کھانے پينے کو ترک کرنا نہيں ہے- بلکہ روزہ يعني " کف النفس" نفس کو بچانا- جيسا کہ رسول خدا (ص) نے فرمايا: روزہ ہر انسان کے ليے سپر اور ڈھال ہے اس ليے روزہ دار کو چاہيے کہ بري بات منہ سے نہ نکالے اور بيہودہ کام انجام نہ دے-

پس روزہ انسان کو انحرافات، لغزشوں اور شيطان کے فريبوں سے نجات دلاتاہے- اور اگر روزہ دار ان مراتب تک نہ پہنچ سکے تو گويا اس نے صرف بھوک اور پيا س کوبرداشت کيا ہے اور يہ روزہ کا سب سے نچلا درجہ ہے- 

بشکریہ : اہل البيت پورٹل



تاريخ : پنجشنبه یازدهم خرداد ۱۳۹۶ | 18:38 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

قرآن کي روشني ميں ماہ رمضان  کي فضيلت

قرآن کی روشنی میں ماہ رمضان  کی فضیلت

ماہ رمضان برکتوں  والا مہينہ ہے -  اس ماہ کي عظمت کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسي پاک مہينے ميں   ہوا  اور يہ وہ کتاب ہے جو قيامت تک کے انسانوں کے ليۓ ہدايت کا ذريعہ ہے -

رمضان کے مہينہ کي فضيلت کي وجہ اس مہينہ ميں قرآن کا نازل ہونا ہے { شھر رمضان الذي انزل فيہ القرآن ھديً للنّاس } سورہ بقرہ/ 185

اسي وجہ سے قرآن اور ماہ مبارک رمضان ميں ايک خاص رابطہ پايا جاتا ہے- جيسے موسم بھار (بسنت) ميں انسان کا مزاج شاداب رہتا ہے اور گل و گياہ سر سبز و شاداب رہتے ہيں- اسي طرح قرآن بھي دلوں کيلۓ موسم بھار کے مانند ہے کہ جس کے پڑھنے حفظ کرنے اور اسکے مطلب کو سمجھنے ميں انسان کا دل ہميشہ ايک خاص شادابي کا احساس کرتا ہے-

جيسا کہ امام علي (ع) فرماتے ہيں:{ تعلموا کتاب اللہ تبارک و تعالي فانہ احسن الحديث و ابلغ الموعظہ و تفقھوا فيہ فانہ ربيع القلوب)

کتاب خداوند کو پڑھو کيونکہ اس کا کلام بہت لطيف و خوبصورت ہے اور اس کي نصيحت کامل ہے اور اسے سمجھو کيونکہ وہ دلوں کيلۓ بہار ہے- اسي بناء پر قرآن اور رمضان کے مہينہ کا رابطہ آپس ميں بہت گہرا ہے -

قرآن کو پڑھنے اور اسميں غور و فکر کر نے کے بعد انسان اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ حيات طيبہ تک پہنچ جاۓ اور شب قدر کو درک کر سکے-

رسول اکرم (ص) خطبہ شعبانيہ ميں فرماتے ہيں : رمضان کے مہينہ ميں قرآن کي ايک آيت کي تلاوت کا ثواب اس ثواب کے برابر ہے جو دوسرے مہينوں ميں قرآن ختم کرنے سے حاصل ہوتا ہے-

يا اءيّھا الّذين آمنوا کتب عليکم الصّيام کما کتب علي الّذين من قبلکم لعلّکم تتّقون .

ترجمہ:اے صاحبان ايمان تمہارے اوپر روزے اسي طرح لکھ ديئے گئے ہيں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شايد تم اس طرح متّقي بن جاۆ. 

رمضان کا مہينہ ايک مبارک اور باعظمت مہينہ هے يہ وہ مہينہ هے جس ميں مسلسل رحمت پروردگار نازل هوتي رہتي هے اس مہينہ ميں پروردگار نے اپنے بندوں کو يہ وعدہ ديا هے کہ وہ ان کي دعا کو قبول کرے گا .  يہي وہ مہينہ هے جس ميں انسان دنيا و آخرت کي نيکياں حاصل کرتے هوئے کمال کي منزل تک پہنچ سکتا هے.اور پچاس سال کا معنوي سفر ايک دن يا ايک گھنٹہ ميں طے کر سکتا هے. اپني اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کي ايک فرصت هے جو خدا وند متعال نے انسان کو دي هے . خوش نصيب ہيں وہ لوگ جنہيںايک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصيب هوا اور يہ خود ايک طرح سے توفيق الھي هے تا کہ انسان خدا کي بارگاہ ميں آکراپنے گناهوں کي بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ايسے لوگ ہيںجو  پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے ليکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کي طرف منتقل هو چکے ہيں . (جاری ہے)

http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=177153



تاريخ : پنجشنبه یازدهم خرداد ۱۳۹۶ | 18:36 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |