جواب : جنگ اُحد میں حالات مسلمانوں کے
خلاف ہوگئے ، کیو نکہ انھوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)کے قول کی مخالفت کی اور مال غنیمت لوٹنے کے لیے انھوں نے اس در ہّ کو
خالی چھوڑ دیا جس کی وجہ سے ان کو شکت سے دو چار ہونا پڑا ، یہ واقعہ تفصیل
کے ساتھ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میںمیں ذکر ہوا ہے ۔ ان لوگوں نے میدان
جنگ میں رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو تنہا چھوڑ دیا ، فقط
چند صحابہ تھے جو رسول اسلام کے ہمراہ رہ گئے تھے ، ہر چند پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ان کو میدان میں وآپس آنے اور مدد کرنے
کے لیے بلایا لیکن وہ اس مشکل ترین مرحلہ میں رسول کو چھوڑ کر پہاڑ کی
چوٹیوں پر چلے گئے تاکہ دشمن کے حملہ سے محفوظ رہیں ، قرآن کریم نے ان کے
اس بھاگنے کو بیان کیا ہے ارشاد ہو ا : ” إِذْ تُصْعِدُونَ وَ لا تَلْوُونَ عَلی اٴَحَدٍ وَ
الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ فی اٴُخْراکُمْ فَاٴَثابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ
لِکَیْلا تَحْزَنُوا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا ما اٴَصابَکُمْ وَ اللَّہُ
خَبیرٌ بِما تَعْمَلُون“(۱) ۔ اس وقت کو یاد کرو جب تم بلندی پر جارہے تھے اور مڑ
کر کسی کو دیکھتے بھی نہ تھے، جب کہ رسول پیچھے کھڑے تمہیں آواز دے رہے
تھے جس کے نتیجہ میں خدا نے تمہیں غم کے بدلے غم دیا تاکہ نہ اس پر رنجیدہ
ہو جو چیز ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس مصیبت پر جو نازل ہوگئی ہے اور اللہ
تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ) (۱) ۔
یہ آیت ان لوگوں سے مخاطب ہے جو رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو
اُحد کے میدان میں چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ یہ آیت مشر کین کے خوف سے میدان
جنگ سے فرار کرنے کی توصیف بیان کرتی ہے ۔ اس وقت کسی نے بھی رسول کی
آوازکی طرف توجہ نہیں کی ،جبکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان
کو پکارتے رہے ( ائے لوگو ں وآپس آجاو میں اللہ کا پیغمبرہوں ، لیکن اس
حالت میں کسی فرار کرنے والے نے آپ کی بات کا جواب نہیں دیا ۔
آیت ان کے تفرقہ اور فرار کو بیان کررہی ہے ، ان میں سے بعض پیغمبر اکرم
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے نزدیک تھے اور بعض دورتھے ، لیکن کسی نے
بھی رسول اسلام کی آواز پر لبیک نہیں کہا اور رسول اسلام (صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم )کو مشرکوں کے درمیان چھوڑ کر چلے گئے اور اس بات کی طرف بالکل
توجہ نہیں کی کہ کہیں رسول قتل یا زخمی نہ ہوجائیں ۔
البتہ ایک گروہ تھا جوآنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حفاظت کررہا
تھا اورشمنوں کے شرکو دفع کررہا تھا ، ان لوگوں کو خدا وندعالم نے قرآن
کریم میں”
سَیَجْزِی اللَّہُ الشَّاکِرینَ“کی تعبیر سے یاد کیا ہے (۲) ۔اس کے بعد خدا وند عالم نے
جنگ سے بھاگنے اور جھاد سے فرار کرنے والوں کو لغزش سے یاد کیا ہے ، کہ جس
میں شیطان نے فتنہ برپا کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں
ارشاد فرمایا ہے” إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطانُ بِبَعْضِ ما
کَسَبُوا “( ۳ ) ۔ یہ
وہی ہیں جنہیں شیطان نے ان کے کئے دھرے کی بناء پر بہکا دیاہے اور خدا نے
ان کو معاف کردیا کہ وہ غفور اور حلیم ہے ) ۔
اور یہ بھاگنے والے لوگ منا فق نہیں تھے کیونکہ منافق کو کبھی معاف نہیں
کیا جا سکتا ، جبکہ خدا نے ان کو معاف کر دیا تھا اور یہ عادل اصحاب میں
سے تھے (۴) ۔
۱۔ سوٴرہ آل عمران : ۱۵۳ ،
۲۔ سورہ آل عمران: ۱۴۴
۳۔ سوٴرہ آل عمران : ۱۵۵
۴۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۲۷
.: Weblog Themes By Pichak :.
