🔰 *ثقافتوں  کے سنگم میں بے لگام این جی اوز* 🔰
*🖋📚تحریر :*
*ارشاد حسین مطہری*
   💠 *اشاریہ*
جو خطہ آج کل بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے  پرانی تاریخ میں پولولو، پلو، بلور، بلتی اور تبت خورد جیسے مختلف ناموں سے موسوم ہوتا رہا ہے شاید یہ مختلف نام بلتستان میں رائج مختلف ادوار میں مختلف مذاہب اور حکمرانوں کی وجہ سے پڑهے ہوں۔ 
💠 *بلتی تهذیب کا نقطہ عروج*
بلتستان قدیم زمانے سے اب تک  مختلف  معاشرتی، تہذیبی اور مذہبی تغیرات  اور تبدیلیوں کا خطہ رہا ہے۔ باہر سے مختلف قوموں،طائفوں اور مہم جووں کی آمد و رفت،  خاص طور سے ایران، کشمیر،ہندوستان،کاشغر اور ختن اقوام کی یہاں مسکن گزینی تاریخ میں ثبت و ضبط ہے۔ بلتستان کی زرخیز ثقافت نے ہر  نووارد مہمان  کومسکن و ماوا عطاکر کے اس کی خوب تواضع کی ۔ کون انکار کرسکتا ہے کہ اشاعت اسلام کے سلسلے میں ایران سے آئے ہوئے مبلغین نے بلتی تهذیب پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ چنانچہ محمد حسن حسرت کا کہنا ہے کہ بلتستان کی ثقافت کئی قدیم تمدنوں کے سنگم سے بنی ہے اور یہی منفرد تهذیب و تمدن اور آداب و شائستگی بلتی معاشرہ کو ممتاز مقام بخشی ہے جہاں ایک طرف 400 قبل از مسیح بلتستان چین کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے نظام چوتوس، اصول تقویم، نظام آبپاشی اور کاشت کاری کے قدیم طریقے بلتی تهذیب کا حصہ بنے اسی طرح بلتستان کے مختلف دروں سے کاشغر،یارقند کے ساتھ تعلقات کی بناء پر ماضی میں یہاں تهذیب و تمدن کے کئی گوشوں میں اضافہ ہوتا رہا 
دوسری طرف بلتستان کے حکمرانوں کا ہندوستان کے مغل درباروں کے ساتھ تعلقات نے یہاں کی تهذیب و ثقافت کو مزید جلا بخش دی۔ فنون لطیفہ، تعمیرات اور صنعت و حرفت کے میدان میں  ترقی ہوئی ۔ جب اس خطے میں اسلام نے اپنے آغوش تمدنی کو فراح دلی کے ساتھ باز کیا تو بلتستان میں تهذیب و تمدن کے نئے دور کا آغاز ہوا،  جس تمدن کی بنیاد فکر و اندیشہ پر استوار ہے اس تمدن کی بنیاد اس لیے پڑی کہ لوگوں کو گمراہی اور خرافات سے نجات دلائے جیسا کہ پروردگار عالم  اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ  ( ص) کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے : 
《وَ يَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَ اْلأَغْلالَ الَّتِي كانَتْ عَلَيْهِمْ》 (اعراف: 157) 
 اور(رسول کا کام یہ ہے  کہ) ان (لوگوں )پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے) طوق اتارتے ہیں، 
"إِصْر" کے معنی حبس اور قید کرنا ہے .اسی طرح وہ وزنی کام جس سے انسان کوئی فعالیت دیکھانے سے روکے«اصر» کہا جاتا ہے.( لغت نامہ دهخدا، ج 7، ص 2750 
پیغبر اکرم نے معاذ ابن جبل کو یمن کی طرف اسلام کا آفاقی پیغام  پہنچانے کے لیے بھیجتے  وقت فرمایا: 《و أَمِتْ أَمْرَ الْجاهِلِيَّةِ إِلّا ما سَنَّهُ الْإِسْلامُ وَ أَظْهِرْ أَمْرَ الْإِسْلامِ كُلَّهُ صَغِيرَهُ وَ كَبِيرَهُ.》( تحف العقول، ص 26)
اے معاذ!جاهليت کے آثار (انحرافی افكار او رعقايد ) کو مٹا دو اور اسلامی چھوٹی بڑی سنتوں ( جو عقل کی طرف دعوت تھی کو ) زنده کرو.
💠 *اسلامی تمدن کے نمونے*
اسلام سے پہلے عرب کے دو قبیلے اوس اور خزرج کے درمیان 120 سال سے آپس میں جنگ تھی ایک دن قبیلہ خزرج  کا سربراہ  اسعد بن زرارہ  قریش مکہ سے مدد لینے کے لیے مکہ آیا۔جب وہ مکے میں   بیت اللہ کی زیارت کے دوران پیغمبر اکرم کو دیکھا جو قبیلہ بنی ہاشم کے کچھہ جوانوں کی جھرمٹ میں حجر اسماعیل کے قریب  بیٹھے لوگوں کو یکتا پرستی کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ اسعد پیغمبر  خدا  کے نزدیک گیا اور سلام کرنے کے بعد پیغمبر (ص) اور اس کے نئے دین کے اهداف کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : میرے مبعوث به رسالت ہونے کے  اہداف یہ ہیں: 
1: شرک اور بت پرستی کو مٹانے آیا ہوں ۔  قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا 
2: والدین  کے ساتھ احسان کرنا ہے    وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
3: مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنا جرم ہے۔
4:  علانیہ اور پوشیدہ بے حیائی اور برے کاموں سے  تمیں دور رکھوں۔  وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ
5:  ناحق خون بہانا حرام ہے۔  وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ
6: یتیم کے مال میں خیانت کرنا ممنوع ہے وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ
7: میرے آئین میں ناپ تول  میں انصاف ہونا چاہیے۔ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ
8:  ہم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتے۔ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
9: جب بات کرو تو عدل کے ساتھ۔ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ
10: اللہ سے کیا ہوا عہد پورا کرنے کی ہدایت ہے۔  وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا(سورہ انعام 151-152)
پیغمبر اکرم نے اپنے نوپا تمدن کے منشور 10 بند میں پیش کیا تو اسعد نے فورا اسلام قبول کیا اس لیے کہ اس زمانے میں جو ثقافت رائج تھی اس میں انصاف ناپید، خیانت عام، شرک و بت پرستی کا دور دورہ تھا  اور انسانی اقدار کا نام تک بھی نہیں تھا 
💠 *سوچنے کی بات*
میرے بلتستان کے  جوان اور نو جوانوں سے سوال ہے کہ  پیغمبر (ص)  نے جن گمراہیوں ، انحرافات اور کجرویوں کی اصلاح کے لیے  جو فلاح و بہبود پر مبنی منشور عرب  کے تمدن اور تهذیب سے خالی معاشرہ میں  پیش فرمایا کیا ہمارے ترقی یافتہ معاشرہ میں یہ سب انحرافات اور کجرویاں موجود نہیں؟!
عرب جاہلی معاشرے میں لڑکیوں کو ایک بار زندہ درگور کرتے تھے  مگر یہی سلسلہ آج بھی جاری نہیں؟!  اپنی ماوں بہنوں کو سر عام بے حجاب نامحرموں کے  درمیان نچانے اور رقص سرود کی محفلوں کی زینت و زین بنانا کیا ان کی انسانیت کو زندہ درگور کرنا نہیں؟!
کیا ہمارے خرید فروش میں ناپ تول میں انصاف کیا جاتا ہے؟ کیا ہماری عدالتوں اور انصاف کے کٹہروں میں انصاف کی رعایت ہوتی ہے ؟ !
کیا محکموں میں انصاف فراہم ہوتا ہے؟!
کیا یتیموں اور بے نوا لوگوں کے ساتھ ہمدری ہوتی ہے؟! 
کیا بے حیائی، برے اور فحاشی جدید طرز پر عام نہیں؟! 
کیا اسلام کے نام پر قتل نہیں ہوتا ہے اور بےگناہ انسانوں کا  خون نہیں بہایا جاتا؟!
کیا ہمارے معاشرے میں کئے ہوئے وعدوں کو  پورے کیا جاتا ہے ؟!
ہم نے چند بے حیائی  پر مبنی  کاموں کو ثقافت کا نام دے رکھا ہے اور  سب اس پر خوش ہیں۔  ستم بالائے ستم یہ ہے  کہ آج بلتستان بھر میں بلتی ثقافت کے نام سے جتنے فیسٹولز منعقد ہوتے ہیں ان کا  اہتمام کرنے والے غیر مقامی افراد یا تنظمیں ہیں جن کو ناچ گانے کے سوا کچھ علم ہی نہیں۔  اور افسوس  کا مقام یہ ہے مقامی افراد بے حیائی سے مملو  ان فیسٹولز اور نمائشگاہوں سے خوب محظوظ  ہوتے ہیں اس غیر اخلاقی اور ثقافتی حرکت پر بجائے روکنے کے ان کے ساتھ دیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ 
بلتستان میں این جی اوز
 بلتستان میں دیندار طبقہ  اور علماء کرام این جی اوز کے بارے میں مثبت سوچ نہیں رکھتے  ہیں اور ان کو ہمیشہ سے اسلام مخالف ایک نیٹ ورک سمجھتے  آئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ این جی اوز کا   کام معاشرے کے نوجوان نسل خصوصا مستورات کو خراب کرنا ہے حتی بلتستان کے بعض علاقوں میں ان کے خلاف باقاعدہ فتوی جاری ہوتا ہے اور علما نے ان کے ساتھ  سخت مزاحمت  کی  ہے۔ بلتستان میں این جی اوز خاص طور سے AKRSP کے خلاف پہلی بار 90 کے عشرہ میں مولانا جان علی شاہ کاظمی نے اسکردو میں ان کے خلاف ایک  زبردست تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں بهت ساروں نے این جی اوز کی نوکریاں  چھوڑدیں اور مولانا نے نوکری چھوڑنے والوں کو یہ نوید سنائی کہ ان افراد کے لیے  متبادلہ طریقہ کار کا  انتظام کیا جائے گا جس کے تحت  انہوں نے  گنگوپی نہر کے برابر فوقانی منزل پر پاک فاونڈیشن کے نام سے ایک سماجی تنظم کے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا اور مولانا بلتستان سے جانے کے بعد پھر وہاں کا رخ نہیں کیا۔ لہذا این جی اوز کی کچھ  کارکردگیوں کو دیکھتے  ہوئے مجموعی طور  پر اسے منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے بارے میں ماہر امور ایں جی اوز  اور صدر انجمن " اتم" پاکستان  غلام محمد شاکری نے کہتے ہیں  کہ : 《  ایں جی اوز کی بطور مجموع نفی یا اس کا دفاع کرنا درست نہیں اس لیے کہ  بلتستان میں ہونے والی سماجی، تعلیمی اور حتی زرعی ترقی میں این جی اوز کا بڑا رول رہا ہے  》لہذ ان تنظیموں کے بارے میں یہ جانا ضروری ہے کہ کون کون سے این جی اوز خدمت خلق انجام دیتے ہیں اور کون کونسے این جی اوز پس  پردہ اپنے  مذموم اہداف رکھتے ہیں؟ جب تک ان میں تفریق نہیں کی جائے گی ان کے خلاف مزاحمت کرنا ممکن ہے ہمارے لیے نقصان دہ ہو۔ 
💠 *این جی اوز کی خدمات*
 بلتستان، علمی، فلاحی، زرعی،  صحت اور سیاحت کے لحاظ سے  آج جس مقام پر کھڑا ہے اس میں این جی اوز کا مرکزی کردار رہا ہے۔ این جی اوز کا وجود نہ ہوتا  تو یقینا اتنی ترقی ممکن نہ تھی۔ کیونکہ بهت سارے ترقیاتی کام این جی اوز کی مدد سے سرانجام پائے ہیں۔ جن میں چند امور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 
💠 *1: فلاحی*
 🔵 *الف : آبادکاری*
 بلتستان میں اکثر بنجر زمین کو دور دراز جگہوں سے نہریں یا پائپ لائن کے ذریعہ آباد کرنے میں این جی اوز خاص کر  AKRSP کی نمایان خدمات ہیں۔ اسی طرح تعلیمی میدان  میں بھی بهت سارے این جی اوز نے خدمات انجام دی ہیں اور اب تک جاری ہے۔  خصوصا سائٹ ایریازمیں تعلیم عام کرنے اور لوگوں کو تعلیم کی طرف متوجہ کرنے میں این جی اوز کا  بنیادی کردار رہا ہے۔
🔵 *ب :سیلاب کی روک تھام*
بلتستان میں مختلف مقامات ہمیشیہ سیلاب کے زد میں رہتے ہیں۔ بڑے پیمانے کے سیلاب سے بہت زیادہ  نقصانات ہوتے ہیں۔ این جی اوز نے بلتستان میں قدم رکھنے کے بعد نالوں کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو روکنے کے لیے مختلف جگہوں پر خطیر رقم کی لاگت سے بند تعمیر کرائے گئے گرچہ اس وقت لوگ اپنی مددآپ کے تحت یہ کام انجام دیتے ہیں لیکن ابتدا میں سیلاب سے مقابلہ کرنے کے لیے تاروں جال بناکر بند بنانے کا طریقہ AKRSP اور دیگر این جی اوز نے  پیش پیش کیا ہے۔ 
🔵 *ج: شجر کاری*
بلتستان میں شجری کاری کا مہم کوئی نئی بات نہیں لوگ قدیمی اور سنتی طریقہ سے شجری کیا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں کچھ سوکھ جاتے تھے  اورکچھ کامیاب ہوتے تھے۔ لیکن این جی اورز کی مدد سے جدید طرزسے جب سے یہ کام شروع کیا ہے نہ صرف  درختوں کے بیچ خراب ہوتے ہیں بلکہ درخت کامیابی سے پھلتا پھولتا اور جلدی ثمر آور ہوجاتے ہیں۔
💠 *2 : تعلیمی*
بلتستان میں این جی اوز کی سرگرمیاں نوے کے عشرے میں زیادہ نظر آتی ہیں۔ این جی اوز  کی  بلتستان میں تعلیمی کارکردگی کے بارے میں بلتستان کے مشہور تاریخ دان اور تاریخ نویس   محمد یوسف حسین آبادی کا کہنا ہے کہ " 1992 کے بعد بلتستان میں پبلک اسکولوں کے قیام کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا " این جی اوز کی تعلیمی کارکردگی اس کے بعد سے روز بہ روز بڑھتی  گئی جوآج تک جاری ہے۔
💠 *بلتستان میں این جی اوز کا منفی رول*
گرچہ بعض این جی اوز کی قابل تحسیں خدمات ہیں اور خدمت کے سوا ان کا کوئی اور ہدف نہیں ہے لیکن بعض دیگر این جی اوز  کی  کارکردگی مشکوک ہے۔اپ سوال یہ ہے ہم کس طرح پہچانے شفاف خدمت کرنے والے ادارہ کونسا ہے اور  مذموم اغراض  کی بنا پر  کام کرنے والے ادارے کونسے ہیں؟  ان کی پہچان کے لیے ایں جی اوز کے امور کے ماہریں کا کہنا ہے کہ بطور کلی ہم ان کی کارکردگی سے اچھے اور برے کی پہچان کر سکتے ہیں۔ لیکن عموما مقامی اور ہمارے خطہ  ایشیاء کی  سطح کی اکثر میں تنظمیں بے غرض ہیں۔ لیکن یورپی ممالک اور ان کے تعاون سے چلنے والے اداروں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ 
📚 *کچھ تجاویز:*
این جی اوز  کی منفی اور اسلامی ثقافت سے متصادم کارکردگیوں کو روکنے  کے لیے  درجہ ذیل تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔  
1: آپ  بہترین پالیسی اور پروگرام ان کے مقابلہ میں پیش کرکے ان کے دائر کار کو کم  سے کم کرسکتے ہیں۔ 
2 : آپ مقامی این جی اوز بنائیں جو ان غیر مقامی این جی اوز کے ساتھ تمام ترقیاتی کاموں میں معاہدہ کریں اور خدمت اور پروگرام آپ کی کی طرف سے  ہو  اور ان کے کاموں نگرانی کرتے رہیں۔
اللہ ہم سب کو دشمنوں کی سازش سمجھنے کی توفیق دے (آمین)



تاريخ : شنبه چهارم دی ۱۴۰۰ | 14:23 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرار داد

ہم المصطفی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی قم میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا اور خاص طو ر سے گلگت بلتستان کے طلبا،  مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بہترویں یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر مسلمانان عالم اور خاص طور پر اہل وطن کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

ہم اسلامی جمہوریہ ایران میں مقیم پاکستانی شہری آج یوم آزادی کے موقع پر ایک مرتبہ پھر  وطن عزیز سے تجدید عہد کا اعلان کرتے ہیں اور بارگاہ  رب العزت میں دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو تا ابد شاد و آباد  رکھے ۔  ہم پاکستانی طلاب  اس عظیم الشان اجتماع کے  توسط  سے وطن  عزیز کی اسلامی جمہوریہ ایران میں سفارت اور اس میں تعینات تمام اہلکاروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں  جنہوں نے جشن آزادی ہمارے ساتھ منایا۔ اس موقع پر ہم شرکائے جلسہ تمام پاکستانی طلاب کی نمائندگی میں  متفقہ طور پرمندرجہ ذیل بیانیہ کو  سفیر محترمہ کے وساطت سے حکومت پاکستان کے گوش گزار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے ان مطالبات  کو حکومت کی جانب سے سنجیدہ ردعمل ملے گا۔

ایک: ہم وطن عزیز میں حالیہ انتخابات کے انعقاد کو جمہوریت کی بقا کے لئے سنگ میل سمجھتے ہوئے  تمام ہم وطنوں کو اس کامیابی پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور برسر اقتدار آنے والی نئی حکومت سے امید کرتے ہیں کہ مساوات، عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی کو اپنا نصب العین بنائے گی اور  تمام اقوام و مسالک کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئےعوامی امنگوں کے مطابق ملک کے تمام شعبہ ہاے زندگی میں  بلا تفریق ترقی اور خوشحالی قائم کرئے گی۔

دو:  برسر اقتدا ر آنے والی نئی حکومت  ریاست کے باسیوں کے لئے بلاتفریق ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

تین: نئی حکومت عوام کے بنیادی مسائل    پر   خصوصی توجہ دے  جن میں تعلیم  و صحت عامہ کی مساوی  سہولیات  ، غربت کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور امن و امان  سر فہرست ہیں۔

چار: ہم وطن عزیز میں ہر قسم کی منافرت اور تفرقہ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکام سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقائیت، لسانیت،  قومیت  اور مذہب   کے نام پر پائی جانے والی نفرتوں کے  انسداد کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور وطن عزیز میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ  اور علامہ محمد اقبال  کے وژن کے مطابق حقیقی معنوں میں باہمی روادار ی اور  پرا من بقائے باہمی کی فضا قائم کی جائے۔

پانچ:  ہم پاکستانی طلاب شدت پسندی اور دہشت گردی کے روک تھام کے لئے ریاست کی جانب سے اٹھائے گئے ہر اصولی اور منصفانہ اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان  کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

چھے: مسئلہ کشمیر  کے سلسلے میں  حکومت پاکستان کے ہر اصولی موقف کی حمایت کرتے ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ۷۰ سال  سے ہر قسم کے حقوق سے محروم گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین بھی کیا جائے۔

سات: کچھ عرصہ پہلے گلگت بلتستان میں لاگو کردہ اصلاحی پیکیج گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو ہم غیر آئینی اور بنیادی شہری حقوق کے منافی اقدام قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کے آرڈرز نافذ کرنے کے بجائے جی بی کے  غیورعوام کو ان کے بنیادی اور آئینی حقوق اور عوامی نمایندوں کو وسیع اختیارات دئے جائیں۔

آٹھ: گلگت بلتستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا اکنامک زون اور اس کا گیٹ وے اور انٹری پوائنٹ ہونے کے ناطے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس میگا پراجیکٹ سے ملنے والے ثمرات کو یہاں کے عوام تک بہم پہنچاننے کی راہیں ہموار کی جائے۔

نو: گلگت بلتستان میں فورتھ شیڈول‘‘ اور ’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کو سیاسی بنیادوں پر تعلیم کے فروغ  اور عوامی حقوق کیلئے جد و جہد کرنے والے  صف اول کے ممتاز علما،  سوشل ایکٹیوسٹ  سٹوڈینٹس  اور قانون دان شخصیات کے خلاف استعمال کو غیر منصفانہ اور ان دونوں  قانون کا استحصال  سمجھتے ہیں لہذا  جی بی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دونوں قوانین میں نامزد  بے گناہ اشخاص کے ناموں کو فی الفور خارج کیا جائے۔

دس: ہم طلاب قم حال ہی میں دیامر میں سکول جلانے اور  پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کے واقعے کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور جی بی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علم دشمن اور پر امن سیاحتی علاقے میں  بد امنی پھیلانے  والے عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

گیارہ: ملک عزیز پاکستان سے سال بھراور بالاخص  محسن انسانیت  نواسہ رسول  حضرت امام حسین علیہ السلام کے  چہلم  کے موقع پر ھزاروں کی تعداد میں زائرین زمینی سفر میں موجود لاحق خطرات کے باوجود طویل اورجان فرسا سفر  برداشت کرتے ہوئے بلوچستان کے راستے میر جاوہ بارڈرسے ایران داخل ہوتے ہیں اس سلسلے میں زائرین کے لئے سکیورٹی اور رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ویلفیئر کمپلیکس کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔

بارہ: ملک عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دیرینہ دینی، تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی، اور اقتصادی تعلقات اور قریبی ترین ہمسایہ ہونے کے ناطے  تمام تر شعبوں میں مستحکم روابط، امت مسلمہ کو درپیش چلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے مشترکہ دفاعی پالیسی    بنانے  اور   پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے  پر  سنجیدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

آخر میں ایک دفعہ پھر تمام مہمانان گرامی  اور  شرکای  جلسہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ملک عزیز پاکستان کی سالمیت ،  ترقی اور تمام بحرانوں سےنجات کی امید  کے ساتھ  نئی حکومت   کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ خدا آپ سب کا حامی و ناصر۔

 

اسلام زندہ باد                 پاکستان پایندہ باد

سید احمد رضوی صدر جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان



تاريخ : جمعه بیست و ششم مرداد ۱۳۹۷ | 3:27 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

پاکستان کے شمال میں اسلام آباد سے 793 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اسکردو سیاحوں اور کوہ پیماﺅں کی جنت کہلاتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی 8000 میٹر بلند 14 چوٹیوں میں سے 4 اسکردو کے نواح میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ 7000 میٹر بلند پہاڑوں میں تقریباً 100 اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معتدل موسم میں دنیا بھر سے کوہ پیما، ٹریکرز اور سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے۔     کیسے پہنچیں؟ اسکردو کیلئے اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز پی آئی اے کی پروازیں چلتی ہیں۔ پھر راولپنڈی کے پیرودھائی بس اسٹینڈ سے بھی کئی اداروں کی کوچز مختلف اوقات میں روزانہ اسکردو جاتی ہیں سیٹ پہلے سے بک کرالی جائے تو بہتر رہتا ہے۔  بذریعہ ہوائی جہاز 40 منٹ اور کوچ کے ذریعے 24 گھنٹے میں اسکردو پہنچتے ہیں۔ یہ سفر طویل ضرور ہے مگر راستے کا ایڈونچر شاہراہ قراقرم اور شاہراہ اسکردو کے نظارے آپ کو بور نہیں ہونے دیتے۔ اسکردو میں رہائشی ہوٹلوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔     اسکردو کے قرب و جوار میں تین خوبصورت جھیلیں صد پارہ، کچورا (شنگریلا) اور اپر کچورا موجود ہیں ان جھیلوں کی سیر کیلئے اسکردو سے جیپ مل جاتی ہے۔ اسکردو سے 32 کلو میٹر کے فاصلے پر کچورا جھیل ہے ۔جسے شنگریلا کے نام سے عالمی شہرت حاصل ہے۔  اس چھوٹی سی جھیل کے اطراف رہائشی کاٹیجز اور تبتی طرز کا شنگریلا ہوٹل ہے جھیل کا پانی شفاف ہے اس میں ٹراﺅٹ مچھلیاں تیرتی نظر آتی ہیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا چڑیا گھر بھی ہے اور کشتی رانی و گھڑ سواری کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔  شنگریلا سے اوپر کی جانب شہتوت سیب اور خوبانی کے درختوں اور ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں کے درمیان سے ایک راستہ اپرکچورا جھیل کی طرف جاتا ہے یہ چڑھائی والا راستہ نصف کے قریب بذریعہ جیپ اور نصف پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔ پہاڑوں کے درمیان اور درختوں میں گھری یہ جھیل بھی قابل دید ہے۔ یہاں بھی کشتی رانی کی سہولت موجود ہے۔ رہائش کیلئے کیمپ سائٹ اور کرائے پر کیمپ مل جاتے ہیں۔  اسکردو سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خوبصورت جھیل صد پارہ کے نام سے موجود ہے۔ جھیل کا پانی یخ بستہ ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے بلند سطح مرتفع دیوسائی کی بلندی پر پگھلنے والی برف کا پانی ہے جھیل میں ٹراﺅٹ اور دیگر مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ اس جھیل پر ایک بڑا ڈیم زیر تعمیر ہے۔ دیوسائی جانے کیلئے اسکردو سے جیپ بک کرنی پڑتی ہے۔     اسکردو شہر کے وسط میں ایک بلند پہاڑی پر قدیم قلعہ موجود ہے جس کا نام کھرپوچو ہے یہ قلعہ سترھویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعہ تک پہنچنے کا راستہ کافی دشوار ہے ایک پتلی اور پتھریلی پگڈنڈی جس پر چڑھنے کے لئے بعض مقامات پر راک کلائمبر بننا پڑتا ہے مگر اس کے باوجود یہ قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بلندی سے اسکردو شہر کا نظارہ انتہائی خوبصورت لگتا ہے۔  اسکردو کے اطراف میں دیکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن دو وادیاں خاص طور پر مشہور ہیں۔ شگر اور خپلو۔ شگر اسکردو سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اسکردو سے یہاں تک کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ شگر کو K-2 کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔ اس لئے کہ یہیں سے ایک راستہ K-2 کی طرف نکلتا ہے۔  خپلو، اسکردو سے 103 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ خپلو سے ایک راستہ سیاچن گلیشئر کی طرف نکلتا ہے۔ یہاں ایک تاریخی مسجد چقچن سیاحوں کی خاص مرکزِ نگاہ ہوتی ہے۔ لکڑی کے ستونوں پر دیدہ زیب نقش و نگار دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔  خپلو سے ایک راستہ ہوشے وادی کی طرف جاتا ہے جو مشہ برم اور گندو گورولا کی چوٹیوں کی وجہ سے سیاحوں کی دلچسپی کا محور ہے۔ خپلو میں رہائشی ہوٹل موجود ہیں اور اسکردو سے ٹرانسپورٹ بھی آسانی سے دستیاب ہے۔



تاريخ : سه شنبه سوم مرداد ۱۳۹۶ | 13:21 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

 

زندگی نامه

اینجانب محمود حسین حیدری فرزند شیخ غلامعلی حیدری النجفی پاکستانی در روستایی به نام (پاری) منطقه کهرمنگ در ایالت شمال پاکستان (گلگت و بلتستان) در خانواده ای روحانی و در قبیله ای معروف و معزر به نام (قبیله حیدری) در سال 1/8/1966 م، متولد شدم، در دو سالگی مادرم را از دست دادم و در زیر سایه دایی و مادربزرگ مادری ام زندگی می کردم که در ده سالگی مادربزرگ ام را نیز از دست دادم. و اما زندگی نامه علمی اینجانب بدین شرح است. در هفت سالگی در مدرسه باب العلوم رضویه پاری (مدظله) که اولین مدرسه و حوزه رسمی دینی در منطقه بلتستان بود که توسط والدم شیخ علام علی حیدری  همدرس حوزوی و دوستشان حجةالاسلام شیخ غلام علی (ره)حافظی مرحوم تأسیس شده تا امروز کماکان در تربیت شاگردان و ترویج مکتب اهل بیت (ع) نقش موثری را ایفا می کند. رسماً درس حوزوی را آغاز کردم و تا 13 سالگی درسهای مقدماتی را نزد اساتید گران قدر، شیخ غلام علی حافظی نجفی مرحوم و شیخ محمدرضا فاضلی و والدم شیخ غلام علی حیدری نجفی (دام عزهما)، به اتمام رساندم و هم زمان با دروس حوزوی در امتحانات دولتی هم شرکت می کردم ولی چونکه والد محترم از شرکت در دروس مدرسه دولتی منع می کردند چون ایشان خواندن درس در مدارس دولتی و دروس کلاسیک را حرام می دانستند و می دانند، بدین ترتیب وقتی دوره راهنمایی شروع شد ایشان به سختی مانع شرکت در امتحانات مدارس دولتی شدند در نتیجه این جانب هم لجاجت و ضد کرده در سال 1980 م درس حوزوی را نیز ترک نمودم و مشغول کارهای کشاورزی شدم.
بعد از سه سال دوباره مخفیانه برای شرکت در امتحان اول راهنمایی خودم را آماده می کردم، باز هم والد محترم متوجه شده، تهدید به (عاق) کردند. من هم جوان شده بودم و هم ضدی و لجوج، از ایالت خودم فرار نموده به شهر کراچی رفتم، و بدون اجازه والد محترم دوباره درس کلاسیک را از سرگرفتم و تا اتمام دوره دبیرستان به ایالت خود برنگشتم، بعداً که برگشتم والد محترم دیدند که من مصر به گذراندن دوره های کلاسیک و مروجه هستم، ظاهراً مانع ادامه تحصیل نشد ولی به من توصیه کرد که اگر حتی یک لفظ از زبان انگلیسی را بخوانم و یا یاد بگیرم (عاق خواهند کرد.) من هم دچار سردرگمی شدم که چه کار بکنم؟ زیرا از یک سوی برای گرفتن مدرک رسمی خواندن انگلیسی ضرورت بود و از سوی دیگر از ترس عاق شدن از طرف پدرم بیمناک بودم، ولی تصمیم گرفتم که تحصیل را ادامه بدهم لذا یک راه میانه ای را در پیش گرفتم یعنی زبان انگلیسی را در حد ضرورت و حد پاس کردن امتحان می خواندم. در هر حال در سال 1989م در رشته معارف اسلامی مدرک (کارشناسی) را گرفتم. و در دانشگاه کراچی پاکستان، مشغول دوره کارشناسی ارشد در همان رشته را ادامه دادم. و همزمان در یک دوره غیر حضوری در برنامه درسی (وفاق المدارس الشیعه باکستان) تحت اشراف دانشگاه پنجاب پاکستان شرکت نموده در سال 1991م مدرک (سلطان الافاضل) که معادل کارشناسی ارشد، در رشته ادبیات عرب محسوب می شود را گرفتم.
و در سال تحصیلی 1993/1994م دوره کارشناسی ارشد در رشته معارف اسلامی در دانشگاه کراچی را به اتمام رساندم، و از پایان نامه تحت عنوان مقام علمی امام صادق (ع) دفاع نمودم، و آنجا قانون دانشگاه این طور است که بعد از شش ماه نتیجه نهایی را اعلام می کنند. و بعد از اتمام دوره به ایالت خود و پیش خانواده ام رفتم، الان یکماه نگذشته بود پدرم تقاضای آمدنم به حوزه علمیه قم را نمودند. در حالی که خودم قصد داشتم، دوره کارشناسی را تکمیل و بعد در دوره دکتری در رشته معارف اسلامی در دانشگاه کراچی ادامه تحصیل بدهم، و با دو تا اساتید که از شیعه بودند  مشورت و هماهنگی نیز کرده بودم. بهر حال من نمی خواستم بعد از یازده سال تحصیل دوباره درس حوزوی را بخوانم ولی این بار والد محترم با جدیت تمام، تهدید کرد اگر عازم حوزه علمیه قم نشوم (عاق) خواهند کرد بنابراین ناچار شدم و در ظرف 20 روز گذرنامه را آماده کردم و ویزا گرفته عازم قم مقدس شدم و در اوایل سال 1373ش وارد قم مقدس شدم. نکته قابل توجه این که به قم که رسیدم متوجه شدم که بیش از پنج سال می گذرد که از طلاب خارجی در حوزه علمیه امتحان ورودی نمی گیرند، در این میان اتفاقا یک دوره ی خصوصی را برای طلاب پاکستان، استاد مصباح یزدی در موسسه باقرالعلوم (ع)، که بعداً موسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی (قدس ره) نام گرفت، شروع کردند و جالب اینکه شرط اساسی برای شرکت در آن دوره مدرک دیپلم رسمی بود و من مدرک لیسانس را همراه داشتم در این دوره پذیرفته شدم.بعد از سه چهار ماه از طرف مرکز جهانی اعلام شد که استثناءً در سال 1373ش از طلاب خارجی غیر رسمی امتحان ورودی می گیرند.
من هم در پایه اول ثبت نام و در امتحان ورودی شرکت کردم بعد از سه ماه نتیجه امتحان که اعلام شد نام اینجانب نیز در لیست پذیرفته شدگان نوشته شده بود بدین ترتیب با هماهنگی مدیران موسسه باقرالعلوم(ع) قرار شد ما در همان موسسه قبلی ادامه تحصیل بدهیم و فقط نمرات در مرکز جهانی ثبت شود ولی بعد از مدتی همین برنامه را مرکز جهانی از دست استاد مصباح یزدی (دام عزه) گرفتند و در خود مرکز جهانی تحت نام (دوره ویژه) ادامه دادند، و بعد از مدتی بخاطر مصالحی نام این دوره را بنام دوره (شیخ طوسی) تبدیل نمودند و بعد از مدتی دوره ویژه یا طوسی را منحل کرده در دوره عمومی نظام مقاطع مرکز جهانی ادغام نمودند. بدین ترتیب من نیز طبق برنامه نظام مقاطع عمومی مرکز جهانی در رشته فقه و اصول سطح سوم را به اتمام رساندم و در تاریخ 10/2/1383ش از پایان نامه سطح سوم تحت عنوان (تبیین مبانی فقهی – حقوقی قصاص) دفاع نمودم و با نمره 5/18 پایان نامه پذیرفته شد. لازم به ذکر است همزمان نوشتن پایان نامه یعنی از اواخر سال 1382 صبحها در درس خارج فقه حضرت آیةالله مکارم شیرازی دام عزه و در درس خارج اعول آیةالله وحید خراسانی مد ظله شرکت می نمودم که تا الان ادامه دارد. همچنین در سال 1382 در آزمون ورودی در رشته تخصصی (امامت و مهدویت) تحت اشراف حوزه مدیریت عالی حوزه علمیه، شرکت کردم و در امتحان کتبی و شفاهی پذیرفته شدم. بدین ترتیب اینجانب تا الان چهار دوره کارشناسی ارشد را یعنی دو تا در پاکستان و دو تا در ایران یعنی در رشته تخصصی فقه و اصول و امامت و مهدویت، شرکت و به اتمام رسانده ام و تقریباً بیست روز از تکمیل فرم حاضر در آزمون دکتری در رشته (فقه و اصول) تحت اشراف مرکز جهانی علوم اسلامی شرکت نموده منتظر نتیجه امتحانی هستم. لازم به ذکر است که اینجانب همراه تحصیل در کارهای تحقیقی و فرهنگی نیز شرکت داشته و دارم و بیست و یک مقاله در فارسی وارد و تا الان از طرف نهادهای فرهنگی و علمی مختلف به چاپ رسیده است که تفصیلش در صفحات بعدی مراجعه خواهید نمود. و در حال حاضر با بخش سایت اردو زبان مرکز تخصصی مهدویت همکاری علمی دارم و همچنین عضو گروه بخش نویسندگان (دایرة المعارف احادیث مهدویت) نیز بودم و هستم، بعلاوه از نویسندگان دائمی (جشنواره شیخ طوسی مرکز جهانی) و اداره (با من) طلاب کشمیر، و انجمن فرهنگی طلاب اردو زبان حوزه علمیه قم بوده و هستم. والسلام علیکم



تاريخ : پنجشنبه بیست و پنجم آذر ۱۳۹۵ | 12:34 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

 

Opium Addiction Destroying Families

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر دور میں تعلیم بڑی اہمیت کا حامل رہی ہیں اور دور جدیدیت میں بھی اس کی اہمیت سے کوئی فرد انکار نہیں کرسکتا ۔چونکہ تعلیم کے بغیر سماجی ارتقاء ناممکن ہے ۔ گویا تعلیم ایک ایسی رہنمائی کا نام ہے جو انسان کو بہتر سمت دیکھاتی ہے ۔ لہذا تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض قرار پائی ہے ۔چنانچہ یہ ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو ان کا تعلیمی حق فراہم کریں ۔ چونکہ تعلیمی سرگرمی کا بنیادی مقصد اور غرض و غائیت طلبہ کی شخصیت کی موثر نشوونما ہی متعین ہوتی ہیں اور وہ اس ملک اور قوم کی آئندہ تعمیر و ترقی کا آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ لہذا انہیں اپنے تعلیمی فرائض کی بجاآوری اور ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنی چاہئے ۔

تاہم اس متنوع دور میں بھی خطہ گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات بہت سے تعلیمی ذرائع سے محروم ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ علاقہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے ۔چونکہ یہ علاقہ ایک متنازعہ علاقہ رہا ہے اور پنسٹھ سال گزرنے کے باوجود بھی اس کو وہ خود مختاری نہیں دی گئی جو دی جانی تھی۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ آزادی گلگت بلتستان اور آزادی پاکستان کی الگ الگ تواریخ ہیں اورزیادہ ترروایات کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کے بعد آزاد ہوا تھا۔ جنہوں نے بعدازاں پاکستان سے الحاق ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن حکومت نے اس علاقے پر کوئی خیر خواہ توجہ نہیں دی ۔ اس خطے کو بھی جموں کشمیر کے ساتھ شامل کردیا گیا اور متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا بلاشبہ دور افتادہ ہونے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کامحل وقوع بھی خاصا دشوارگزار ہے۔یہ خطہ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں تک ہر قسم کے فضائی ،زمینی اور برقی رابطے محدود ہیں اور نہ ہونے کے برابر ہے یہاں کے سڑکیں دشوارگزار ہونے کے ساتھ مختلف حادثات سے پُر ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں ہر قسم کے سہولیات پہنچانے میں دقت ہوتی ہے اوروقتی طور پر وہاں پر تمام سہولیات پہنچانے بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔ مزید براں یہ راستہ حال ہی میں دہشت گردوں سے محفوظ نہیں ہیں۔گرچہ گلگت بلتستان ایک دو افتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے بھی حکومتی عدم توجہ کا شکار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں سرکاری تعلیمی اداروں کی بھی کمی ہے جبکہ موجودہ حکومت کے نمائندے بھی اس مد میں اپنے کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہے ہیں اور حقیقتاًان کے کارنامے صرف سرکاری دورے تک ہی محدود ہے جبکہ عملی طور پرکچھ نہیں ہو رہا ہے۔ اس طرح یہاں ہر قسم کے سہولیات کی کمی ہے جن میں بہت سے دوسرے معاشرتی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیمی سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔تعلیمی سہولیات میں تعلیمی ادارے کی عمارت، ماہرین اساتذہ، اور دوسرے عناصر شامل ہیں جبکہ اس خطے میں ہر قسم کے سرکاریٍ و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی ہے ۔ جن میں اسکول ، کالجز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بھی کمی ہے اور پورے گلگت بلتستان یعنی سات بڑے بڑے اضلات کے درمیان صرف ایک جامعہ قائم کیا گیا ہے اور وہاں بھی اعلی ماہرین کی کمی کی وجہ سے چند ہی شعبہ جات میں تعلیم دی جارہی ہے ۔خصوصاً سانئس اور ریاضی کے معلمین کی بہت ہی کمی ہے جن کی وجہ سے بہت سے طلبہ ان مضامین میں کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں۔ ایسے بہت سے وجوہات ہے جن کے بنا پر تعلیم کے حصول کے لیے یہاں کی طلبہ و طالبات کو ملک کے دوسرے شہروں کی جانب رُخ کرنا پڑتا ہے جہاں وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے اورساتھ ہی ساتھ اپنی معاشی و اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطرمختلف نوکریاں اورکام کرکے تعلیمی عمل کو مذید تقویت اور استحکام بخشتے ہیں۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ملک کے کونے کونے میں موجود مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔جبکہ تعلیمی معاملات میں انہیں بہت سے دشواریوں سے گزرنے پڑتے ہیں ۔بہت سے طلبہ و طالبات کے والدین کی آمدنی اتنی زیادہ نہیں ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے اور انہیں اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھا سکے جبکہ علاقے میں تعلیمی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ تعلیمی راہنمائی کی کمی ہے ۔یعنی ثانوی تعلیم مکمل کرکے اعلیٰ ثانوی تعلیم میں قدم رکتھے ہوئے عموماً ایک طالبعلم کے سوچ میں یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کیاکرنے جا رہا ہے ۔اور اسی حالت میں وہ جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کے لیے قدم رکھتا ہے۔ جب وہ یہاں سے فارغ ہوکر نکلتا ہے تو پچھتا رہا ہوتا ہے کہ کچھ اور کیا ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے والدین زیادہ ترناخواندہ ہیں مگر معلم بھی ان کے مستقبل کے تعین میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا کرنے سے قاصر رہتاہے۔ طلبہ کو صرف اور صرف کتابیں کیڑے بننے پر زور دیا جاتا ہے۔جس کے بنا پر کثیر تعدادمیں تعلیم کی حصول کے لئے گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کو دیگر دوسرے شہروں کی جانب رخ کرنا پڑتا ہے اورجہاں وہ چھوٹے موٹے روزگار کرنے کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھتے ہیں۔ گوکہ شہروں میں ان کے ذاتی مکانات نہیں ہوتے ہیں اورجہاں پرہاسٹل وغیرہ کی سہولیات موجود ہے ۔بظاہروہاں کے اخراجات بھی آسمانوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں اس لیے ایک متعلم کو اتنے زیادہ اخراجات برداشت کرنے میں دقت ہوتی ہے ۔ جس کے کرن شہروں میں انہیں کرایوں مکانوں میں بالخصوص لڑکوں کو گروہ شکل یعنی اپنے چند ہمراہوں سمیت رہیں کر ان جیسے مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے لیکن بد قسمتی سے کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی انہیں کرائے کے مکانات دینے سے بھی قاصر رکھا جاتا ہے گرچہ انہیں کرائے کے مکان دیئے جاتے ہیں بلاشبہ جو کسی کھنڈر سے کم نہیں ہوتے ہیں یعنی انہیں ایسے مکانات مل جاتے ہیں جو انسانی زندگی کے بنیادی ضروریات مثلاً صاف پانی کی دستیانی ،صاف ستھرا ماحول ، تحفظ زندگی کے لیے بہتر اقدامات ، قدرتی گیس کی فراہمی ، پکے مکانات جیسے اہم ذرائع سے خالی ہوتے ہیں ۔لہذا خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں شہروں میں کسی اچھے فلیٹ یا کالونی میں مکان ملے تاہم اُنہیں بھی جھک جھک کر زندگی گزارنے پڑتے ہیں اور یقیناجو ان کے تعلیمی عمل میں مذید بیگارڈپیدا کرنے کا باعث بنتا ہے ۔اپنے ساتھیوں کے مابین رہ کر اپنے مطالعہ جاری رکھنے والے طلباء کو نہایت حقارت نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور انہیں زبردستی فیملی سمیت رہنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ بعض دفعہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتاہے ۔ بلاشبہ حصول تعلیم کا زمانہ طلبہ کے لیے نظریاتی و آئینی پختگی کا زمانہ ہوتا ہے اور وہیں سے وہ صیح اور غلط راستوں کاتعین کرکے اپنے مقاصد حیات کے حصول کی جانب کوشاں ہوتا ہے ۔ تاہم بد قسمتی سے گلگت بلتستان کے طلبہ کو بہتر سہولیات ملنے کے بجائے اس دور میں گونا گوں مصائبوں سے گزرنا پڑرہا ہے ۔ لہذا مندرجہ بالا تذکرہ اور بیانات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں حکومت گلگت بلتستان کے سربراہوں کو یہ پیغام دینا چاہونگا کہ وہ ان مسائلوں پر نظر ثانی کریں ۔اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں مقیم طلبہ و طالبات کو بہتر سے بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں اپنے کردار ادا کریں ۔

عباس علی نورؔ گوجالی

abbas.ajnabi@gmail.com



تاريخ : پنجشنبه بیست و پنجم آذر ۱۳۹۵ | 12:28 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

«چوگان» بازی سنتی و محبوب مردم گیلگت و بلتستان+تصاویر

خبرگزاری فارس: «چوگان» بازی سنتی و محبوب مردم گیلگت و بلتستان+تصاویر

«چوگان» یکی از بازی‌های سنتی و مورد علاقه مردم محلی گیلگت و بلتستان در پاکستان است که از ایران به این منطقه راه پیدا کرده و گردشگران زیادی را برای دیدن مهارت سوارکاری و بازی چوگان مردم محلی به این منطقه می‌کشاند.

به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس، چوگان در گیلگت و بلتستان یکی از بازی‌های سنتی و مورد علاقه مردم محلی محسوب می‌شود و گردشگران زیادی را برای دیدن مهارت سوارکاری و بازی چوگان مردم محلی به این منطقه می‌کشاند.

در واقع چوگان بازی مورد علاقه حاکمان منطقه گیلگت و بلتستان بود که بین مردم محلی رواج پیدا کرد.

هر ساله تیم‌های مختلف محلی با یکدیگر مسابقه می‌دهند که به جشن چوگان معروف است و بیشتر مردم برای تماشایی این مسابقات راهی منطقه چترال می‌شوند.

تیم‌های گیلگت و بلتستان و منطقه چترال بهترین بازیکنان چوگان را در اختیار دارند و مسابقه بین این دو تیم بسیار هیجان انگیز است.

مسابقات سراسری چوگان در ماه جولایی برگزار می‌شود و بعد از برنده شدن یکی از تیم‌های چترال یا گیلگت و بلتستان مردم جشن می‌گیرند.

بازی چوگان حدود 600 سال قبل از میلاد مسیح در ایران رواج داشت و از این کشور به گیلگت و بلتستان راه پیدا کرد.

منطقه گیلگت و بلتستان اولین منطقه‌ای بود که بعد از ایران بازی چوگان در آن رواج داشت.

حاکمان و مردم محلی گیلگت و بلتستان به سرعت بازی چوگان را از ایرانیان فرا گرفتند و در سراسر شبه‌قاره رواج دادند.

«ظهیر الدین بابر» پادشاه معروف سلسله مغول هندوستان علاقه بسیاری به بازی چوگان داشت و یکی از بازیکنان ماهر این بازی بود.

بازی چوگان بعد از گسترش سرزمین‌های اسلامی بین حاکمان مسلمان نیز رواج پیدا کرد و «هارون الرشید» خلیفه عباسی از علاقه‌مندان به بازی چوگان بود.

در حال حاضر سوارکاران و بازیکنان چوگان در منطقه گیگلت بلتستان یکی از ماهرترین بازیکنان این بازی در جهان هستند.

در عکس‌های زیر تصاویر مسابقات سراسری چوگان در منطقه گیلگت و بلتستان و چترال را مشاهده می‌کنید.



تاريخ : یکشنبه هفتم شهریور ۱۳۹۵ | 3:0 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

ملف:YakRace.jpg



تاريخ : چهارشنبه بیست و سوم تیر ۱۳۹۵ | 17:27 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

ملف:Aquilegia alpina1JUSA.jpg



تاريخ : چهارشنبه بیست و سوم تیر ۱۳۹۵ | 17:25 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

ملف:Quercus ilex.002 - Monfrague.JPG



تاريخ : چهارشنبه بیست و سوم تیر ۱۳۹۵ | 17:24 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
 

ملف:Vándorsólyom.JPG



تاريخ : چهارشنبه بیست و سوم تیر ۱۳۹۵ | 17:22 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

گلگت بلتستان کا محل وقوع (گہرے رنگ میں)

 
متناسقات: 35.35°N 75.9°Eمتناسقات: 35.35°N 75.9°E
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ Flag of Gilgit Baltistan.svg گلگت بلتستان
قیام 1 جولائی 1970
دارالحکومت گلگت
سب سے بڑا شہر گلگت
حکومت
 • قسم پاکستان کا پانچواں صوبہ
 • ادارہ قانون ساز اسمبلی
 • گورنر میر غضنفر علی[1]
 • وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان[2]
رقبہ
 • کل 72,971 کلو میٹر2 (28,174 مربع میل)
آبادی (2008; تخمینہ)
 • کل 1,800,000
 • کثافت 25/کلو میٹر2 (64/مربع میل)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
آیزو 3166 رمز PK-NA
زبانیں
اسمبلی نشستیں 33[3]
اضلاع 9
شہر 9
ویب سائٹ gilgitbaltistan.gov.pk

 



تاريخ : چهارشنبه بیست و سوم تیر ۱۳۹۵ | 17:16 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

گلگت و بلتستان اب نو اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے چار بلتستان میں، تین گلگت اور دو ہنزہ۔نگر کے اضلاع ہیں۔ اس سے پہلے ہنزہ۔نگر کو بھی گلگت ڈویژن میں شمار کیا جاتا تھا جسے اب علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

ڈویژناضلاعرقبہ (مربع کلومیٹر)آبادی (1998ء)مرکز
بلتستان ضلع گانچھے 9,400 165,366 خپلو
  ضلع سکردو 8,000 214,848 سکردو
  شگر 8,500 109,000 شگر
  کھرمنگ 5,500 188,000 طولطی
گلگت ضلع استور 8,657 71,666 گوری کوٹ/عید گاہ
  ضلع دیامر 10,936 131,925 چلاس
  ضلع غذر 9,635 120,218 گاہکوچ
  ضلع گلگت 39,300 383,324 گلگت
  ضلع ہنزہ۔نگر 20,057 112,450 علی آباد
گلگت و بلتستان۔ مجموعاً 9 اضلاع 119,9851,496,797گلگت
نئے ضلع ہنزہ۔نگر کا رقبہ اور آبادی ابھی گلگت کے ساتھ شامل ہے کیونکہ درست شمار دستیاب نہیں:
گلگت و بلتستان کے کل رقبہ کا درست شمار دستیاب نہیں اور مختلف جگہ مختلف رقبے ملتے ہیں اس لیے یہاں صرف تمام رقبوں کا درست مجموعہ دیا گیا ہے۔
Gilgit-wa-baltistan.png

 



تاريخ : چهارشنبه بیست و سوم تیر ۱۳۹۵ | 17:12 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

 

پاکستان کے شمالی علاقے میں ایک معروف خطہ بنامِ گلگت بلتستان ہے جس کو پہلے شمالی علاقہ جات کہا جا تا تھا اور ابھی حال ہی میں اس خطے کو گلگت بلتستان کا نام دیا گیا ہے ، یہ علاقہ خاص اہمیت کا حامل ہے، کچھ عرصہ پہلے وہاں حکومت نے کچھ سیاسی اصلاحات انجام دیں ہیں جس کے نتیجے میں وہاں انتخابات بھی برپا ہوئے ہیں ۔ ان انتخابات کے نتیجے میں ایک لوکل حکومتی سیٹ اپ بھی وجود میں آیا ہے ،ان انتخابات نے اندرون ملک و بیرون ملک سے مختلف طبقات کی توجہ اس علاقے کی طرف مبذول کردی ہے ، ضروری ہے کہ شمالی علاقہ جات کے ان تازہ حالات کا جا ئزہ لیا جائے جو خصوصاً گلگت بلتستان کے حوالے سے وقوع پذیر ہوئے ہیں اوریہاں کے مسائل کا تجزیہ کیا جائے تاکہ وہاں کے عوام اور خصوصاً وہ حضرات جو گلگت بلتستان کے مسائل سے دلچسپی رکھتے ہیں وہاں کی صورتحال کا صحیح اندازہ کر سکیں ۔
 
ان انتخابات کے نتیجے میں وہاں جوتبدیلی آئی ہے تمام اہل نظر اس سے آگاہ ہیں، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ نہیں دیا گیا لیکن ایک صوبائی نظام وہاں پر وجود میں آگیا ہے یعنی الیکشن کے نتیجے میں وہاں ایک مقامی حکومت وجود میں آئی ہے ۔


گلگت بلتستان کی خصوصی اہمیت

چونکہ گلگت بلتستان کا علاقہ کئی حوالوں سے خاص اہمیت کا حامل ہے، اس لئے اس روئیداد کا تذکرہ اور اس کا جائزہ لینا کئی حوالوں سے ضروری ہے ۔ یہ علاقہ محروم علاقوں میں شمار ہوتا ہے اس علاقے کی تاریخ کے مطابق پاکستان کی آزادی کے بعد سے وہاں کے مقامی لوگوں نے خود جدوجہد کر کے اس علاقے کو وہاں کے حاکموں سے آزاد کراکے اس کا الحاق پاکستان سے کیا ۔ اس کے بارے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دور ائے پائی جاتیں ہیں۔ بھارت کے نزدیک یہ کشمیر کا حصہ ہے اور جس طرح کشمیر متنازعہ علاقہ ہے ،اسی طرح سے وہ اس کو بھی متنازعہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان نے بھی آزادی کے بعد اس کواپنی سرزمین کارسمی درجہ نہیں دیا اور ایک ایجنسی کے طور پر وفاقی حکومت کے ذریعے اس کو کنٹرول کیا جا تا رہا، یہی امر اس کی محرومیت کا باعث بنا ہے، یہ علاقہ بہت ساری خصوصیات کا حامل ہے ، ایک طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ علاقہ پاکستان کی رگِ حیات ہے۔ پاکستان میں بہنے والے بڑے دریا اسی علاقے سے آرہے ہیں ۔سوق الجیشی لحاظ سے بھی یہ علاقہ خاص اہمیت کا حامل ہے لیکن پاکستانی حکمرانوں نے ہرگزاس کی طرف توجہ نہیں کی ۔اب اس علاقے کو کشمیر سے جدا کر کے کسی حد تک ایک الگ حیثیت دے دی گئی ہے اگرچہ ابھی بھی اس کی واضح صوبائی حیثیت کا تعین نہیں کیا گیا تاکہ واضح ہو سکے کہ اس علاقے کا مستقبل کیا ہوگا ۔لیکن بہرکیف اپنی جگہ پر ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے بالآ خرعلاقے کے عوام کو ایک لوکل سیاسی نظام مل گیا ۔

اس علاقے کی اہم خصوصیات یہ ہیں کہ ایک تویہ پاکستانی دریائوں، جہلم اور سندھ کا منبع ہے یہاںپر سب دریاوہاں سے بہہ کر آرہے ہیں، اس علاقے کے پہاڑبہت سی خصوصیات اور نعمتوں سے مالا مال ہیں، اسی طرح پھل و باغات کی بھی وہاں کثرت ہے۔ یہاں کے لوگ بہت محنتی اور جفا کش ہیں، سوق الجیشی لحاظ سے یہ علاقہ چین اور بھارت دونوں سے پاکستان کو ملاتا ہے۔ پاکستان کی آب و ہوا کے نظام میں ہمالیہ کا ایک بہت ہی اہم رول ہے۔ پاکستان شاید ان منفرد ممالک میں سے ہے کہ جہاںاس کے ایک طرف سمندر ہے اوردوسری طرف گلیشئر ہے ۔ گلیشئر سے ساراسال یہ علاقہ ڈھکا رہتا ہے ۔
 

مذہب، کلچر اور تہذیب کے محافظ

ان جغرافیائی خصوصیات کے علاوہ وہاں ایک خاص کلچر اور تہذیب ہے، جو پاکستان کے دوسرے علاقوں سے ممتا ز اور مختلف ہے ۔ اس کلچر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی بنیاد مذہب اور دین پر ہے۔ بلتستان کی اکثریت شیعہ مسلمانوںپر مشتمل ہے۔ جبکہ گلگت میں آبادی کا تناسب ملا جلا ہے، یعنی کچھ علاقوں میں شیعہ مسلمان آباد ہیں اور کچھ علاقوں میں اہل سنت آباد ہیں ۔
 
ایمان ، عقیدہ اور مذہب سے وابستگی اس علاقے کی خصوصیت ہے ، یعنی اگر ہم پاکستان میںمذہبی رجحان کا جا ئزہ لیں تو جتنا مذہبی رجحان بلتستان کے علاقے میں ہے اتنا کسی اور علاقے میں موجود نہیں ہے۔ تمام تر پسماندگی اور محرومیت کے باوجود ان لوگوں کا مذہب اور دین سے بہت گہرا لگائو ہے۔ قدیم زمانے سے اس علاقے کے لوگ علمِ دین کے حصول کے لئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی آتے رہے ہیں۔یہاں کے افرادنے ملک سے باہر جیسے قم، نجف اور دیگر حوزاتِ علمیہ میں تحصیل علم کے لئے ہجرت کی ہے۔علماء کی ایک بہت بڑی تعداد اس علاقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اس علاقے کی زرخیری اور ان کے مذہبی رجحان کی عکاس ہے بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پورے پاکستان اور چاروں صوبوں کے علماء اور طلباء کو ملاکراعداد و شماراکٹھے کئے جائیںتو یہاں کے علماء وطلباء کی ہمیں اکثریت ملے گی جو کہ اس خطے کی مذہب کے ساتھ لگائو کی غماز ہے ۔
 
بلتستان کے عام لوگ بھی بہت سی خصوصیات کے حامل ہیں، سادگی ، سادہ زیستی ، صداقت اور ایمان یہ ان لوگوں کی اہم ترین خصوصیات ہیں اگرچہ دوسری جگہوں پربھی ہمیں یہ خصوصیات نظر آتی ہیں لیکن گلگت بلتستان میں اس کاتناسب زیادہ ہے ان کی یہ خصوصیات اس علاقے کابہت بڑا سرمایہ ہے ۔ وہاں کے عوام اور خاص لوگ سب ہی ان خصوصیات کے حامل ہیںحکماء اور اہل سیاست ایک مدینہ فاضلہ کی خصوصیات کاجو ذکر فرماتے ہیں، ہمیں وہ خصائص اس علاقے میں نظر آتے ہیں ۔


گلگت بلتستان کی پسماندگی

١۔ تعلیم سے محرومیت

ایک طرف سے جب ہم دیکھتے ہیں توجو علاقہ مدت سے محرومیت کا شکار رہا ہے لیکن محرومیت کے با وجود بھی اس علاقے کے اندر فراوان نعمتیں موجود ہیں ۔ ان مادی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوںکے معنوی اوصاف بھی بہت ہی برجستہ و نمایاں ہیں ۔ پسماندگی نے اس علاقے کو بہت نقصان پہنچایا ہے ، پسماندگی کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ یہاں سب سے زیادہ کمزور رہاہے ۔ تعلیم کے شعبہ کواس علاقہ میں پسماندہ رکھا گیا ہے لہٰذا وہاں سے لوگوں کوتعلیم کے حصول کیلئے ہجرت کرنا پڑتی ہے، کیونکہ تعلیمی مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں، یہاں کالج یا یونیورسٹی کی سطح کا کوئی ادارہ نہیںتھا فقط کچھ ابتدائی سکول تھے، ان تمام کمزوریوں کے باوجودہم اس معاشرے کو دینی معاشرہ کہہ سکتے ہیں ۔یہاں کے دینی مدارس بھی مضبوط یا وسیع نہیں تھے اس کی وجہ بھی مالی پسماندگی تھی لہٰذایہاں تعلیم کے شعبے کو مالی پسماندگی نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ۔
 
٢۔ معاشی زبوںحالی

یہاں پسماندگی کی دوسری وجہ معیشت ہے یہ ایک کوہستانی علاقہ ہے یہاں پرمعدنیات ، قیمتی پتھراور فراوان منابع موجود ہیں،اس کے علاوہ پھلوں کے باغات بھی موجود ہیں جنھیں خشک کر کے عظیم صنعت قائم کی جا سکتی تھی ۔ لیکن مالی پسماندگی اور حکومتی پالیسیوں نے اس علاقے کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا معیشت کے لحاظ سے بھی وہ لوگ بہت ہی کسمپرسی کا شکار رہے ہیں۔

٣۔ مہاجرت

یہاں کا معیار زندگی بہت نیچے ہے جس کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ وہاں سے لوگ کثیر تعداد میں دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرگئے کیونکہ وہاں پر انھیں اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا تھا ، ایسا طبقہ جو معاشرے کے اندر ریڑھ کی ہڈی رکھتا ہے ،اُس نے پاکستان کے دوسرے علاقوں کارخ کیا اور جہاں جہاں انھیں مناسب لگا بڑے شہروں میں اپنی معیشت تعلیم اور بچوں کی خاطر زندگی اختیار کر لی ۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ علاقہ ایلیٹ طبقے سے خالی ہوتا گیا، یہاں ایسے بااستعداد لوگ تھے ،جوکہ وہاں کی زندگی میں کچھ رول ادا کر سکتے تھے لیکن پسماندگی اور دیگر محرومیوں کی وجہ سے وہ علاقہ چھوڑنے پرمجبور ہوتے گئے ۔


پاکستان کا سیاحتی مرکز

اس علاقے کی ایک اہم خصوصیت پاکستان کا واحد سیاحتی مرکزہونا ہے ، ویسے تو پاکستان میں بہت سی جگہوں پر سیاحتی کشش موجود ہے، لیکن شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مراکز ایک منفرد حیثیت کے حامل ہیں ۔ خدا وند تعالیٰ نے ان علاقوں میں اپنی قدرت کا جومظاہرہ کیا ہے وہ پاکستان کی دیگر علاقوں میں کم تر ہے ۔گلگت بلتستاں سیاحتی مرکز ہونے کے باوجود محروم ترین علاقہ ہے ۔ وہاں پر حکومت یا پرائیویٹ شعبے میں سے کسی نے بھی سرمایہ کاری نہیں کی ہے ۔ یہ علاقہ اکثر مذہبی قیادت کے تحت رہا ہے یعنی یہاںسیاسی قیادت سے زیادہ مذہبی قیادت کا غلبہ رہا ہے، چونکہ یہاں کے لوگوں کا رجحان مذہبی ہے اوریہ لوگ مذہب سے شدید وابستگی رکھتے ہیں ۔یہاں کے عوام اپنی نجی زندگی میں بھی مذہب کو مد نظر رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی اور عائلی زندگی میں بھی مذہب کو اپنا راہنما ما نتے ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے یہاں کے عوام کی قیادت و مرکزیت مذہبی لوگوں یعنی علماء کے ہاتھ میں رہی ہے۔ یہاں کے علماء ہمیشہ سے موئثر ترین کردار ادا کر تے رہے ہیں۔ یہ اس علاقے کا ایک اجمالی خاکہ ہے جو اس علاقے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ لہٰذا کسی مبالغے کے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں ،کہ یہ سیاحتی،جغرافیائی، مذہبی اور تہذیبی لحاظ کے علاوہ منفرد خصوصیات کا حامل ہے، لیکن ان خوبیوں کے با وجودیہ گوناگوں مسائل کا بھی شکار ہے ۔


انتخابات کے بعد میں پیش آنے والی صورتحال
 
اس علاقے کی تعمیروترقی کیلئے نعرے توبہت لگائے گئے ہیں لیکن عملی میدان میںیہاں کچھ بھی نہیں کیاگیابہت سی سیاسی پارٹیاں اور گروہ اپنے مفادات کے پیش نظراس علاقے کے متعلق اظہار نظر کرتے آئے ہیں لیکن ایک بڑی اہم تبدیلی 2009ء میںدیکھنے میں آئی ہے، اور وہ یہ کہ حکومت نے باقاعدہ طور پرایک اعلان کے تحت اس علاقے کو ایک رسمیت دی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی واضح رسمیت نہیں ہے۔ یعنی علاقے کو باقاعدہ صوبے کا عنوان نہیں دیاگیا۔ بہرکیف وہاں پر انتخابات ہوئے اور ایک لوکل انتظامیہ وجود میں آئی ہے جس کے کوئی واضح قانونی و آئینی اختیارات نہیں ہیں لیکن امید ہے کہ اس کے بارے میں مزید پیش رفت ہوگی ۔

انتخابات اور انتخابات کے بعد پیش آنے والی صورتحال کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔یہاں سے اس علاقے اور لوگوںکی تقدیرمعین ہوگی، کہ انھیں خود کدھر جانا ہے اور انھوں نے خود کیا انتخاب کرنا ہے ؟ دراصل یہ انتخابات صرف انتخابات نہیں تھے کہ یہاں کے لوگوں نے اپنے چندنمائندے لوکل پارلیمنٹ کے لئے انتخاب کئے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک قومی پارلیمنٹ تک ان کی رسائی نہیں ہوئی، لیکن مقامی پارلیمان تک ان کی رسائی ہوگئی ہے۔ فقط اس انتخابات کا مقصد یہ نہیں تھا ایک پارلیمان کے انتخا ب کا انہیں موقع دیا گیاہے بلکہ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب لوگوں نے اپنے مستقبل کا راستہ خود انتخاب کرنا ہے ،اب اور بہت سے انتخاب بھی ان کے پیش نظر ہوناچاہئیں۔ ہماری اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ نکتہ اٹھائیں اور یہاں کے عوام کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں، بظاہر یہ انتخابات بہت سادہ ہیں لیکن ان انتخابات کے پیچھے بہت سی چیزوں کا انتخاب پوشیدہ ہے۔ یہاں اب انتخاب کا راستہ کھل گیا ہے اب لوگوں نے یہاں اپنے لئے بہت کچھ انتخاب کرنا ہے، اور آئندہ جو پیش آئے گا وہ لوگوں کا اپنا انتخاب شدہ راستہ ہوگا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں پر حکمت و بصیرت سے کام لیا جائے۔

مقامی قیادت ، سیاسی اورمذہبی راہنما اور عوام الناس کے علاوہ لوگوں کے مختلف طبقات اس وقت انتہائی تدبر کا ثبوت دیں اور اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں اور سمجھیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے ؟ اور کیا ہونا چاہیے ؟ یہاں کے لوگوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کس کا انتخاب کر رہے ہیں اور انھیں کس طرف لے جایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سادگی ، حماقت اورپارٹی بازی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے اس سے پہلے وہاں کے عوام کی سادگی اتنی نقصان دہ نہ ہوجتنی اب ہوگی۔ اگر الیکشن کے بعدکے مسائل سے نپٹنے کیلئے عقل سے کام نہ لیا گیا، تو بعد کے حالات عوام کیلئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں ۔


آزادی، حقوق اور الیکشن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت
 
ان انتخابات میں عوام کو آزادی دینے کا نعرہ لگایاگیاہے اوران کے حقوق کی بھی بات کی گئی ہے۔یہ بہت اچھا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں ان لوگوں کو سیاسی اور مدنی حقوق مل رہے ہیں، مدتوں سے اس علاقے کے لوگوں کو آزادی اور حقوق کی تمنا تھی لیکن یہ یاد رہے کہ حقوق اور آزادی جیسی نعمتوں کی آڑ میں اور بہت سی چیزیں بھی معاشرے میں داخل کر دی جا تی ہیں۔

جہاں بھی آزادی کے دروازے بند ہوں، پسماندگی ہو ، محرومیت ہو، ظلم و ستم ہو او رجب لوگوں کی جدوجہد سے جبرو غلامی کا زمانہ ختم ہو تو اس آزادی اور حقوق کے نعروں کے ساتھ بہت ساری اور چیزیں بھی ان دروازں سے داخل ہوجاتی ہیں۔ اس وقت ان چیزوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ داخل ہوگئی ہیں۔ اس شور شرابے اور غل غپاڑے میں بہت سی نقصان دہ چیزیں بھی معاشرے میں نفوذ کر جا تی ہیں، جیسے آج کل ہمارے ملک کی فضا پر دہشت گردی کا سایہ چھایا ہوا ہے۔یہاں پر جیسے ہی مسجد میں نمازی جاتے ہیں تو نمازیوں کے ساتھ دہشت گرد بھی گھس جاتے ہیں، یا اگر کسی مجلس میں عزادار جاتے ہیں تو ان کے ساتھ دہشت گرد بھی جا کر شریک ہوجاتے ہیں۔ ان کے لئے ڈیٹیکٹرلگائے جاتے ہیں ، آج ہم دیکھتے ہیں نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں اور ریلیوں میں اور جلسے جلوسوں میں حفاظتی دروازے لگے ہوتے ہیں اور وہاں سے لوگوں کو گزارا جاتا ہے، یہ ایک ابتدائی حفاظتی انتظام ہے لیکن خوب ہے، یہ کام ہونا چاہئے یعنی لوگوں کو ڈیٹیکٹر سے گزارا جائے تاکہ پتہ چلے کہ کون اندر جا رہا ہے؟ آیا نمازی جا رہا ہے ؟ یا دہشت گرد جا رہا ہے ، آیا مجلس میں ایک عزادار جا رہا ہے یا دہشت گرد جا رہا ہے۔ جہاںبھی سُستی ہوتی ہے وہاں عزاداری کے لبادے میں دہشت گرد داخل ہوتے ہیں اور جہاں کوتاہی ہوئی ہے وہاں نمازیوں کے لبادے میں مسجدوں میں دہشت گرد داخل ہوئے ہیں اور انھوں نے تباہی مچائی ہے۔ گلگت بلتستان کے اندر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں یہاں آزادی اور حقوق کادا خلہ ممکن ہوا ہے۔ لیکن یہاں کوئی سکینریا کوئی ڈیٹیکٹرنہیں لگا ، جو یہ چیک کر ے کہ آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ کون سی ناروا چیزیں داخل ہو رہی ہیں۔ جو دہشت گردوں سے زیادہ نقصان دہ ہیں ، ان کی طرف توجہ بہت ضروری ہے، یہ عوام کی بصیرت کے امتحان کا موقع ہے جیسے ہرقوم پر اﷲ کی طرف سے مختلف قسم کے امتحانات آتے ہیں محرومیت بھی ایک امتحان ہے اور محرومیت کی راہ میں جدوجہد بھی امتحان کی ایک شکل ہے ۔


اقدار کی حفاظت کی ضرورت

اس وقت اس علاقے کے لوگوں کی بصیرت کا امتحان ہو رہا ہے ، پہلے شاید ان کے صبر کا امتحان تھا لیکن اس وقت ان کی بصیرت کا امتحان ہو رہا ہے۔ یہاں کے عوام کس قدر فراست اورتدبرسے کام لیتے ہیں ،یہ بات آنے والے دنوں میں عیاں ہو گی، اگر یہ آنکھیں بند کر کے ان نعروں کے دھوکے میں آگئے تو ممکن ہے مستقبل میں ان کا بہت بڑا نقصان ہو اور اگر یہاںپر انہوں نے بصیرت سے کام لیا توپھر ان کیلئے حالات سے استفادہ ممکن ہو جائے گا۔ درحقیقت اس وقت گلگت بلتستان کے عوام ایک دو راہے پر کھڑے ہوئے ہیں ، ان کیلئے ایک راہ حل یہ ہے کہ موجودہ پیش آنے والی فرصت سے فائدہ اٹھائیں، ان کیلئے دوسرا راستہ یہ ہے کہ جو موقع ہاتھ آیا ہے اس میں یہ دوسروں کیلئے استعمال ہوجائیں، یعنی اس فرصت میں ان کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے اور جو متاع محرومیت کے زمانے میںان کے پاس تھی وہ بھی ان سے کی لوٹ لی جائے، زیادہ واضح الفاظ میں عرض خدمت ہے کہ ان کے پاس ان کا بہترین اثاثہ ان کا دین ہے انہیں چاہیے کہ اپنی محرومیوں کے بدلے میں دین کو ضائع نہ ہو نے دیں ،یہاں کی عوام جس چیز کی تمنائی ہے جیسے آزادی ، حقوق ، رفاح و فلاح یہ ساری چیزیں ان کو مل سکتی ہیں، لیکن اگربے بصیرتی کا مظاہرہ کیا تو جو متاع ان کے پاس ہے وہ بھی لٹ جائے گی، محرومیت کے زمانے میں بہت قیمتی متاع ان کے پاس تھی، اس علاقے کے لوگوں کی قیمتی متاع ان لوگوں کا دین ، مذہب ، صداقت ، ایمان ، اقدار ، ویلیوزہیں۔یہ اس علاقے کا قیمتی متاع ہے۔ جو آج اس فاسد و منکرات سے بھری ہوئی دنیا میں ہمیں بہت کم ایسے پاکیزہ معاشرے نظر آتے ہیں۔ خصوصاً بلتستان کہ وہاں یہ چیزیں بہت نمایاں ہیں ، ان کی یہ متاع لٹ سکتی ہے اگر بصیرت سے کام لیا تو اپنی اس قیمتی متاع کو بھی بچالیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان فرصتوں سے فائدہ اٹھاکر اپنی محرومیوں کو بھی دور کرلیں گے ۔ پس یہاں پر عوام اورخواص کی بصیرت کی ضرورت ہے ۔
 
اہم اتفاق یہ رونما ہوا ہے کہ بالآخر ایک سیاسی پارٹی نے یہاں انتخابات کا انعقاد کرایا۔ اس سے پہلے اس علاقے کو فوج کے ذریعے سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور یہاں کے وسائل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایاجا رہا تھا، لیکن پہلی دفعہ ایک سیاسی جماعت کی حکومت نے اس علاقے کو سیاسی ترقی دینے کا عزم کیا۔ پیپلز پارٹی کا یہ ایک جرات مندانہ اقدام تھا ،جو کہ سراہنے کے قابل ہے۔ اس پارٹی کے اچھے کاموں کو اگر گنا جا ئے تویہ ایک ہی ہے۔ لیکن اس آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ وہ چیزیں بھی یہاں داخل ہوگئی ہیں جنھیں داخل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ان کے دخول سے وہاں کے عوام اور علاقے کے معنوی اور مادی سرمایے کے لئے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ وہ سیاسی پارٹیاں ، سیاسی احزا ب جو وہا ں پر جانے کو اپنا وقت تلف کرنا سمجھتے تھے لیکن اب انھیں یہاں باقاعدہ ایک سیاسی میدان مل گیا ہے۔
 

پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی خصوصیت

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے ذریعے سے قوم کو کبھی کوئی خیر نصیب نہیں ہوئی، پاکستان کے اندر اگر ہم سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں کہ پاکستان کے لئے انھوں نے کیا کیا ؟ تو ہمیں سوائے خیانت ، دھوکہ ، لوٹ مار، غارت گری اور اس قسم کے مسائل کے علاوہ ان پارٹیوں کے کارناموں میں کوئی اور چیز نظر نہیں آتی ۔ اب جو نہی گلگت بلتستان میں ان سیاسی پارٹیوں کیلئے دروازے کھلے ہیں، ان کا اثر ورسوخ بھی یہاں بڑھ گیا ہے، وہ اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایسا زرخیز میدان ان کیلئے کشادہ ہو جا ئے گا ۔
 
سیاسی پارٹیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو فقط اقتدار سے سروکار ہوتا ہے، ان پارٹیوں کا ایک جیسا منشور ہوتا ہے، یہ کئی ناموں سے بنی ہوئی ہیں ، دائیں بازو کی ہوں بائیں بازوکی ،مختلف دینی جماعتیں ہوں یا غیر دینی ان سب کا ایک ہی منشورہے وہ یہ ہے کہ ہر قیمت پر اقتدار میں آنا ہے۔ اس کے لئے انہیں جوبھی قیمت ادا کرنا پڑے وہ ادا کرنے کوتیار ہیں۔ اس کے لئے مذہبی جماعتوں کی تاریخ بھی دیکھ لیں اور دیگرسیکولر جماعتوں کی تاریخ پربھی نظر کریں ، اقتدار میں آنے کے لئے کہیں بھی ساز باز کرنی ہو تو کر لیتے ہیں ، کہیں خیانت کرنی ہوتو بھی کر لیتے ہیں ، کہیں انھیں بہت بڑے ظلم و جنایت میں شریک ہونا ہو تو اس پر آمادہ ہو جا تے ہیں اوراگر ملک بیچنا پڑے تواس کابھی سودا کر دیتے ہیں، ملک دشمن عناصر کو اگر ملک کے اندر آنے کا موقع دینا پڑے تویہ گریز نہیں کرتے ہیں، پس ان کا ایک ہی منشور ہے باقی ان کے آپس کے اختلافات وہ سب جزوی ہیں ۔


سیاسی جماعتوں کی مداخلت کے شمالی علاقہ جا ت پر اثرات
 
سب سے بڑی آلودگی اس معاشرے کو یہ در پیش ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہوتیں ، اگر مخلص ہوتیں تو جہاں پہلے ان کا اقتدار قائم ہوچکا ہے وہاں ان علاقوں میں کچھ نہ کچھ کر سکتیں ،مثلاً پا کستان کے دیگر خطوں میں ان کی کارکردگی دیکھ لیں کہ انہوں نے کیا گل کھلایا ہے اگر ان صوبوں میں ان کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ تو پھر امید کی جا سکتی ہے کہ یہ وہاں بھی جاکر کچھ کریں گے۔ اور اگر باقی ملک میں ان کی کارکردگی سب کو معلوم ہے کہ کیا کیا ہے تو پھران سے یہی توقع ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی وہی عمل انجام دیں گے ۔
 
یہ بات مسلّمات میں سے ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈر صرف عوام کو تقسیم کرنے کے لئے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں باقی بہت ساری چیزوں میں باہم شریک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ روزمرہ کے مشاہدات میں ہمیں نظر آتا ہے، جہاں مل بیٹھنا ہویہ آپس میں مل بیٹھتے ہیں، لیکن عوام کو تقسیم کر دیتے ہیں۔

١۔آپس میں تقسیم ہونا

ان کے آنے کا ایک بڑا ضرر یہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کے عوام جو پہلے ایک رشتے میں پروئے ہوئے تھے اب سیاسی وابستگیوں کے اندر تقسیم ہوجائیں گے ، لہٰذا سیاسی جماعتوں کی طرف سے پہلا نقصان
یہ ہوگا کہ لوگ آپس میں تقسیم ہوجائیں گے ۔
 
٢۔ مذھبی اقدار کاختم ہوجانا

دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ وہ معاشرہ جس کی اہمیت اور جس کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ دینی معاشرہ تھا اب آہستہ آہستہ یہ جماعتیں اس معاشرے کو سیکولرازم کی طرف لے کر چلی جائیں گی۔ سیکولر معاشرے سے مراد یعنی بددین معاشرہ ، یعنی وہ معاشرہ جس میں دین بہت بری شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب متاعِ دین اور مذہب سے لگائو چھن جا ئے تو مذہبی اقدار valuesبھی ختم ہوجاتیں ہیں۔

٣۔ شناخت کاچھن جانا

سیاسی جماعتوں کی با ہمی رقابت کے نقصانات یہ ہیں کہ ان جماعتوں کی رقابت کے نتیجے میں اس علاقے کے کلچر یا لوگوں کی شناخت چھن جاتی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان اور شمالی علاقہ جات کے عوام اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں، ان کی مخصوص اور معین شناخت ہے جو انھیں باقی ملک سے منفرد رکھے ہوئے ہے، ان کی یہ شناخت پائمال ہونے کا شدید خطرہ ہے اور اس کا نمونہ افغانستان میں موجود ہے، افغانستان کے معاشرے کی اپنی ایک قدیم شناخت تھی ، اس معاشرے کی اس شناخت کو ختم کرنے کے لئے یہ وہاں پر اس وقت آزادی اور حقوق کے نام پر داخل ہوئے ان کے ساتھ ساتھ نیٹو بھی داخل ہوگئی اور سیاسی جماعتوںکے الیکشن کے بعد اب وہاں پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے افغانی کلچر بھی مسخ ہو رہا ہے ، افغانی روایات بھی مسخ ہو رہی ہیں اور افغانیوں کادین سے لگائو اور دین سے جو تعلق تھا وہ بھی ان سے چھینا جا رہا ہے۔ ہمیں ان باتوں کی اتنی خبر نہیں ہے لیکن جو لوگ افغانی معاشرے سے آگاہ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان میں جو عمل شروع ہوا ہے تقریباً اس عمل کے مشابہ ہے جو افغانستان میں شروع ہو اتھا، یعنی جیسے وہاں پر آزادی دلائی جا رہی ہے، جمہوریت قائم کی جارہی ہے۔ اسی طرح یہ عمل گلگت بلتستان میں شروع کیا گیا ہے یہ سیاسی جماعتیں بھی ان نعروں کے ساتھ ساتھ داخل ہو رہی ہیں، ظاہر ہے کہ جب معاشرہ سیکولر ڈگر پر چل پڑتا ہے تو سیکولر ازم تنہا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے اور نظریے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو دین اور اقدارکے متعلق لا ابالی بناتے ہیں۔ ایسا ماحول جہاں پیدا ہو، وہاں ویلیوز ختم ہوجاتی ہیں ۔



تاريخ : چهارشنبه شانزدهم تیر ۱۳۹۵ | 19:47 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

دیوسائی نیشنل پارک سطح سمندر سے 13،500 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ پارک 3000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ نومبر سے مئی تک پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ بہار کے موسم میں پارک پھولوں اور کئی اقسام کی تتلیوں کے ساتھ ایک منفرد نظارہ پیش کرتا ہے۔


دیوسائی

دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع ۔۔۔ نایاب بھورے ریچھوں کا مسکن پاکستان کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے شمالی علاقہ جات اپنی خوبصور تی اور رعنائی میں لاثانی ہیں۔ یہاں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور وسیع ترین گلیشئیر کے علاوہ دنیا کا بلند ترین اور وسیع ترین سطح مرتفع دیوسائی بھی موجود ہے۔ دیوسائی کی خاص بات یہاں پائے جانے والے نایاب بھورے ریچھ ہیں اس نوع کے ریچھ دنیا میں میں کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ یہاں بھی یہ معدومیت کا شکار ہیں۔ دیوسائی سطح سمندر سے اوسطاً 13500َفٹ بلند ہے اس بلند ترین چوٹی شتونگ ہے جو 16000فٹ بلند ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3000 مربع کلو میٹر ہے۔ سال کے آٹھ تا نو مہینے دیوسائی مکمل طور پر برف میں ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں تیس فٹ تک برف پڑتی ہے اس دوران پاک فوج کے ہیلی کاپٹر تک اس کے اوپر سے نہیں گذرتے۔یہی برف جب پگھلتی ہے توتو دریائے سندھ کے کل پانی کا 5فی صد حصہ ہوتی ہے۔ ان پانیوں کو محفوظ کرنے کے لئے صد پارہ جھیل پر ایک بند زیر تعمیر ہے۔

بلتستان میں بولی جانے والی شینا زبان میں دیوسائی کا مطلب دیو کی سرزمین ہے ، کیوں کہ ایک روایت کے مطابق دیوسایہ نامی ایک دیو کا یہ مسکن ہے اسی نسبت سے اسے دیوسائی کہتے ہیں ۔ جبکہ بلتی زبان میں اسے یہاں کثیر تعداد میں موجود پھولوں کی وجہ سے بھئیر سر یعنی پھولوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔

دیوسائی پہنچنے کے دو راستے ہیں ایک راستہ اسکردو سے ہے اور دوسرا استور سے۔ اسکردو سے دیوسائی 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جیپ کے ذریعے دو گھنٹے میں صد پارہ جھیل اور صد پارہ گاؤں کے راستے دیوسائی پہنچا جا سکتا ہے۔ اسکردو جانے کے لئے اسلا م آباد سے روزانہ جہاز جاتا ہے جو محض 40منٹ میں اسکردو پہنچا دیتا ہے مگر فلائیٹ موسم کے مرہون منت ہوتی ہے جو کم ہی مائل بہ کرم ہوتا ہے۔ اسی لئے سیاح عموماً زمینی راستے سے اسکردو جانا پسند کرتے ہیںیہ راستہ دنیا کے آٹھویں عجوبے 774 کلو میٹر طویل شاہراہ قراقرم پرراولپنڈی سے ایبٹ آباد، مانسہرہ، بشام، چلاس سے ہوتا ہوا بونجی کے مقام پر شاہراہ اسکردو سے جا ملتا ہے یہ راستہ تقریباً 24 گھنٹے میں طے ہوتا ہے مگر راستے کی خوبصورتی تھکن کا احساس نہیں ہونے دےتی۔ دوسرے رستے سے دیوسائی پہنچنے کے لئے راولپنڈی کے پیر ودہائی اڈے سے استور جانے والی کوچ میں سوار ہوجائیں یہ کوچ تالیچی کے مقام سے شاہراہ قراقرم چھوڑ کر استور روڈ پر آجاتی ہے اور مزید 45 کلو میٹر کے بعد استور آجاتا ہے۔یہ سفر تقریباً ۲۲ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ استور سطح سمندر سے 3200میٹر بلند ایک تاریخی شہر ہے۔ تقسیم سے پہلے قافلے سری نگر سے گلگت جانے کے لئے اسی شہر سے گذرتے تھے۔ یہاں رہائش کے لئے مناسب ہوٹل اور ایک مختصر سا بازار بھی ہے جہاں بنیادی ضرورت کی چیزیں مل جاتی ہیں۔رات قیام کے بعد آگے کا سفر جیپ میں طے ہوگا جو استور میں بآسانی دستیاب ہیں۔جیپ استور سے نکلتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ دیوسائی کی بلندیوں سے آنے والا دریا ہوتا ہے۔یہ دریا مختلف مقامات پر اپنا رنگ تبدیل کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پکورہ گاؤں کے مقام پر یہ شفاف چمکتا ہوا نظر آتا ہے پھر اس کا رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔ مزید آگے گدئی کا گاؤں ہے جہاں سے ایک رستہ بوبن کی طرف جاتا نظر آتا ہے جو ایک خوبصورت سیا حتی مقام ہے۔ دو گھنٹے کے سفر کے بعد چلم چوکی آتی ہے ۔ یہ ایک مختصر سا گاؤں ہے جہاں کچھ دکانیں اور ایک ہوٹل ہے یہاں زیادہ تر فوجی جوان نظر آتے ہیں کیوں کہ یہیں سے ایک رستہ کارگل کی طرف نکلتا ہے۔ مزید پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ہمالین وائلڈ لائف کی چیک پوسٹ آتی ہے یہاں سے دیوسائی کے حدود شروع ہوتی ہیں۔ چیک پوسٹ پر20 روپے فی کس کے حساب سے فیس دےنی پڑتی ہے جو کہ دیوسائی میں جانوروں کے بقا کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ دیوسائی کو1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا جس کی رو سے یہاں شکار پر مکمل پابندی ہے تاکہ یہاں پائے جانے والے جانوروں خصوصاً بھورے ریچھ کا تحفظ کیا جا سکے۔اس وقت دیوسائی میں محض 30 ریچھ موجود ہیں کبھی یہاں سیکڑوں کی تعداد میں ریچھ گھوما کرتے تھے مگر انسانی لالچ نے اس خوبصورت اور پاکستان کے سب سے بڑے ہمہ خور جانور ( گوشت و سبزی خور) کا شکار کرکے معدومیت سے دوچار کردیا۔ یہ ریچھ سال کے چھہ مہینے سردیوں میں نومبر تا اپریل غاروں میں سوتا رہتا ہے اس دوران اس کے جسم کی چربی پگھل کر اسے توانائی فراہم کرتی ہے۔ جب برفیں پگھلتی ہیں تو یہ اپنے غار سے نکلتا ہے۔ ریچھ کے علاوہ یہاں مارموٹ (خرگوش کی ایک نسل) تبتی بھیڑیا ،لال لومڑی، ہمالین آئی بیکس، اڑیال اور برفانی چیتے کے علاوہ ہجرتی پرندے جن میں گولڈن ایگل، داڑھی والا عقاب اور فیلکن قابل ذکر ہیں پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہاں تقریباً 150 اقسام کے قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں، جن میں سے محض 10تا15 مقامی لوگ مختلف بیماریوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

چیک پوسٹ سے آگے دیوسائی کا اصل حسن آشکار ہو تا ہے۔سرسبز ڈھلوان اور اور ان کے پس منظر میں، چرتے ہوئے خوبصورت یاک اور لمبے بال والے بکرے بہت خوبصورت نظر آتے ہیں۔دیوسائی کے وسیع میدان پر ایک نظر ڈالیں تو طرح طرح کے رنگین پھول اور ان میں اکثر مقام پر اپنے پچھلی ٹانگوں پر کھڑے اور بازوؤں کو سینے پر باندھے مارموٹ آپ کا استقبال کرتے محسوس ہوتے ہیں مگر جیسے ہی جیپ ان کے نزدیک پہنچتی ہے یہ اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں۔ دیوسائی چاروں طرف سے چھوٹی چھوٹی برف پوش پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے جب ان پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو ان کی چمک سے یہ پہاڑ سونے کے نظر آتے ہیں، مگر یہ پہاڑیاں ہرگز چھوٹی نہیں ہیں ان کی بلندی سترہ اٹھارہ ہزار فٹ تک ہے لیکن 12 ہزار فٹ کی بلندی سے یہ محض چھوٹی پہاڑیاں محسوس ہوتی ہیں۔ پورے دیوسائی میں بلندی کے باعث ایک بھی درخت نہیں ہے اس لئے پرندے اپنا گھونسلہ زمین پر ہی بناتے ہیں ۔ کچھ ہی دیر میں دیوسائی کا بلند ترین مقام چھچھور پاس آتا ہے چھچھور پاس کی بلندی سے نیچے نظر دوڑائیں تو گھانس کا ایک وسیع میدان نظر آئے گا جس کے بیچوں بیچ ا یک خوبصورت دریا بل کھاتا ہوا گذر رہا ہے اور میدان کے آخر میں سرسبز ڈھلوان اور ڈھلوان کے بعد برف پوش چوٹیاں۔ اس خوبصورت منظر اور میدان کی وسعت شہری سیاح منہ کھولے حیرت سے دیکھتا ہے یہ منظر اس کے لئے قدرت کا ایک تحفہ ہے۔ یہ ایک بہترین کیمپ سائٹ بھی ہے۔ یہاں سے سفر اترائی کا ہے ، اترائی کے دوران ہی دور کچھ نیلاہٹ نظر آتی ہے یہ دیوسائی کی واحد جھیل شیوسرہے، 12677 فٹ بلند یہ جھیل دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں ایک ہے۔اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی سطح ہمیشہ یکساں رہتی ہے اس مین پانی نا کہیں سے داخل ہوتا ہے نا خارج اس لئے مقامی لوگ اسے اندھی جھیل کہتے ہیں۔ اس جھیل میں ٹراؤٹ اور سنو کارپ مچھلی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ اس کا ساحل ایک کیمپ سائٹ ہے۔ اسکردو کے باسی چھٹی والے دن بڑی تعداد میں یہاں پکنک منانے آتے ہیں۔ جھیل کا پانی یخ بستہ اور اس قدرشفاف ہے کہ اس کے نیچے موجود رنگ برنگے پتھر اور ٹراؤٹ صاف نظر آتے ہیں اورخوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ جھیل کا پانی جب کناروں سے ٹکراتا ہے توجلترنگ کی آواز پیدا کرتا ہے۔ اس آواز اور منظر سے سیاح مسحور ہوجاتا ہے اور اس کا دل اس منظر کو چھوڑ کر آگے جانے سے انکار کردیتا ہے مگر وہ سیاح ہی نہیں جو کسی ایک مقام پر ٹہر جائے ۔ اسلام آباد سے گلگت جانے والی فلائٹ سے بھی یہ جھیل نظر آتی ہے ۔مسافروں اور پائلٹ کے مطابق بعض ذاویوں سے یہ جھیل اپنی شفافیت کی وجہ سے بالکل خالی نظر آتی ہے۔ شیوسر جھیل سے کچھ فاصلے پر جیپ کالا پانی نامی دریا کو عبور کرتی ہے۔ دریا کے تہہ میں موجود کالے پتھروں کی وجہ سے یہ دریاکالا پانی کہلاتا ہے۔یہاں جیپ میں موجود لوگ دعا کرتے ہیں کہ دریا عبور کرتے ہوئے جیپ بند نا ہوجائے ورنہ اس یخ بستہ پانی میں اتر کر جیپ کو دھکا لگانے کے تصور سے ہی خون رگوں میں منجمد ہونا شرو ع ہوجاتا ہے۔عموماً کچھ جدوجہد کے بعد ڈرائیور کی مہارت اور اللہ کی مدد سے جیپ دریا سے نکل جاتی ہے۔ہماری اگلی منزل بڑا پانی ہے جو دیوسائی کا سب سے بڑا دریا ہے۔یہی اس کے نام کی وجہ بھی ہے۔ یہاں دیوسائی کا واحد پل بھی ہے۔یہ پل لوہے کے تاروں اور لکڑی کے تختوں سے بنا ہوا ہے۔ ہر سال برف باری کے دوران یہ پل ٹوٹ جاتا ہے جسے دوبارہ بنایا جاتا ہے۔پل عبور کرتے ہی ایک بورڈ نظر آتا ہے ہمالین وائیلڈلائف پراجیکٹ۔۔ دیوسائی نیشنل پارک۔۔ ممنوعہ علاقہ۔۔ یہاں بھورے ریچھوں پر تحقیق ہورہی ہے ساتھ ہی ان کے کیمپ لگے ہیں، یہاں وائلڈ لائف کے نمائندوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور دیوسائی میں موجود جنگلی حیاتیات خصوصاً بھورے ریچھوں کے متعلق کافی معلومات حاصل ہوئیں۔ ان لوگوں نے سیاحوں کے لئے یہاں ایک ٹوائلٹ بھی بنایا ہے ساتھ ہی ایک چشمے کا ٹھنڈا پانی بہتا ہے، ان ہی سہولیات کی وجہ سے سب سے زیادہ کیمپنگ اسی مقام پر ہوتی ہے۔دیوسائی میں کیمپنگ کے حوالے سے یہ بات یاد رکھیں کہ یہاںکچھ میسر نہیں ہے مکمل تیاری کے ساتھ جائیں۔ ٹن پیک کھانے اور کچا راشن لے کر جائیں، کھانا پکانے کے لئے لکڑی یا چولہا مع ایندھن اور رہنے کے لئے مضبوط واٹر پروف خیمے لے کر جائیں۔ رات کو روشنی کے لئے لالٹین اور ٹارچ مع اضافی بیٹریاں رکھیں۔ یہاں کافی مقدار میں اور کافی صحت مند مچھر بھی پائے جاتے ہیں اس لئے مچھر کو بھگا نے والی کوئی دوا استعمال کریں۔ یہاں کا موسم گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے، ابھی سخت ترین دھوپ چہرے جھلسا رہی ہوگی تو اگلے لمحے بارش یا پھر برف باری بھی ہوسکتی ہے۔ جی ہاں یہاں گرمیوں میں بھی برف باری ہوتی ہے۔رات بہت سرد ہوتی ہے اس لئے گرم لباس لے کر جائیں ۔رات کو بادل کیمپ میں آجاتے ہیں اور اسے گیلا کرتے ہیں ۔ رات کا منظر نہایت حسین ہوتا ہے کیونکہ آسما ن رات کو تاروں کے وجود میں گم ہوتا ہے۔ دن بھر یہاں قریبی گاؤں کے بکروال اپنی بکریاں اور یاک چراتے نظر آتے ہیں ۔صدیوں سے جہلم کے گجر ہر سال جب دیوسائی کے برف پگھلتے ہیں تو مظفرآباد کیل اور منی مرگ کے راستے یہاں اپنے مویشی لے کر آتے ہیں۔ یہاں اتنے رنگ کے اور اتنی تعداد میں پھول ہیں کہ آپ سارا دن ان کو دیکھنے میں گزار سکتے ہیں ۔ اگر آپ کو مچھلی کے شکار کا شوق ہے اور آپ کے پاس ڈور کانٹے بھی ہیں تو ٹراؤٹ کے شکار کے یہاں کافی مواقع ہیں۔ اگر آپ ریچھوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمالین وائیلڈ لائف والوں کی خدمات حاصل کریں۔ غرض دو دن گذارنے کے لئے یہاں کافی مواد موجود ہے۔یہاں سے آگے سفر جاری رکھیں تو محض آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد شتونگ کیمپ سائٹ آئے گی جو کہ شتونگ نالے کہ ساتھ ہے ۔ یہاں بھی جیپ دو دریاؤں سے بمشکل گذرتی ہے۔ یہان قیام و طعام کے لئے مقامی لوگوں نے کیمپ لگا رکھے ہیں، یہاں سے مزید صرف پندرہ منٹ کے بعد دیوسائی کا آخری کونا یعنی المالک مار پاس آتا ہے یہاں بھی سیاحوں کے قیام و طعام کے لئے کیمپ موجود ہے اور ساتھ ہی وائلڈ لائف چیک پوسٹ بھی ہے۔اسی مقام سے ایک ذیلی ٹریک برجی لا ٹاپ تک جاتا ہے۔ برجی لا کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے قراقرم سلسلے کی چھ چوٹیاں K-2 ، براڈ پیک، گشیبرم 1 ، گشیبرم 2، گشیبرم4 اور مشہ برم نظر آتی ہیں ۔ ایک مقام پر اتنی بلندچوٹیاں دنیا میں اور کہیں نہیں پائے جاتیں یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے۔یہاں سے سفر اترائی کا شروع ہوتا ہے اور مزید ایک گھنٹے کے سفر کے بعد جھیل صد پارہ سے گذرتے ہوئے اسکردو کا شہر آجاتا ہے۔جہاں زندگی کی چہل پہل اور بازاروں کی رونق دیکھ کر دیوسائی کی بلندیوں سے آیا ہوا سیاح اپنے آپ کو اجنبی اجنبی سا محسوس کرتا ہے ۔ اس کی نظریں بار بار صد پارہ جھیل سے پرے بلندیوں کی طرف اٹھتی ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ کیا وہ واقعی وہیں تھا دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع میں بھورے ریچھوں کے درمیان،مسحور کردینے والی خوشبوؤں اور دل موہ لینے والے رنگ برنگے پھولوں کی جھرمٹ میں۔ کیا وہ واقعی وہاں تھا یا یہ سب محض ایک خواب تھا۔



تاريخ : چهارشنبه شانزدهم تیر ۱۳۹۵ | 19:44 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 



تاريخ : چهارشنبه شانزدهم تیر ۱۳۹۵ | 19:41 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

 

خبرگزاری فارس: مسجد جامع گیلگت و بلتستان شاهکار معماری ایرانی در پاکستان+تصاویر

مسجد جامع بلتستان شاهکار معماری ایرانی-اسلامی ورودی‌های متعدد و پرشماری دارد که به روی هر در آیات قرآن به طرز زیبایی نوشته شده است.

به گزارش خبرنگار خبرگزاری فارس در اسلام آباد، مسجد جامع گیلگت و بلتستان که یکی از بزرگترین مساجد پاکستان است که نزدیک شهر اسکردو از توابع گیلگت و بلتستان واقع شده است.

این مسجد از 15 درب تشکیل شده که به روی هر درب آیات قرآن به طرز زیبایی نوشته شده و انسان را به یاد مساجد قدیمی در اصفهان و مشهد می‌اندازد.

مسجد جامع گیگلت و بلتستان را در کشور پاکستان به‌عنوان شاهکار معماری ایرانی می‌شناسند.



تاريخ : چهارشنبه شانزدهم تیر ۱۳۹۵ | 19:33 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
محققين مي گويند بلتستان داراي قدمت بسيار زيادي ميباشد و داراي تمدن بسيار خوبي بوده است. آقاي خالد كشميري در اين باره مي نويسد: فرهنگ وتمدن بلتستان از گلگت واطراف آن بهتر بوده واين برتري تاكنون هم ادامه دارد. سيد عباس كاظمي نيز مي نويسد: بلتستان نمونه جامعه اي خوب وپيشرفته و داراي فرهنگ و تمدن غني است. بلتستان به خاطر دارا بودن تمدن غني خود در تاريخ كشورهاي مختلف با نام هاي گوناگوني شناخته مي شده. همانطور كه دربخش قبل گذشت اهالي تبت اين منطقه را ننگ گون مي گفتند. اهالي چين اين منطقه را پولولو مي ناميدند. آريايي‌ها و مغولها آنرا تبت خورد مي‌گفتند. مردم سنكيانگ با نام بالتي اين منطقه را مي‌شناختند، نام بالتي در اصل كلمه‌اي يوناني است، بيروني آنرا تبت اسلامي نوشته است. مسافران اروپايي اين منطقه را تبت صغير مي گفتند، برخي اين منطقه را بهشت كوچك وبرخي ديگر آنرا بام عالم نام نهادند. درباره فرهنگ و تمدن قديم بلتستان منابع قديمي در دسترس نيست ولي آثار باستاني مانند قبرستان ها و ديگر شواهد ما را راهنمائي مي كند. در زمان كيسر دربلتستان نظام اشتراكي رائج بود. مردم بلتستان زندگي اجتماعي خوبي داشتند. در هر منطقه يك نظام اجتماعي رائج بود. و در هر محله عبادت خانه و يك محل خاص بنام هلچنگره بود كه در آن مردم در اوقات فراغت جمع مي شدند. و تنازعات و اختلافات خود را در اين محل حل و فصل مي كردند. مردم دركارها به يك ديگر كمك مي كردند.و كارها را با هم انجام مي دادند. بخاطر كمبود آب در منطقه براي آبياري به زمين ها يك نظام خاص داشتند و هيچ وقت دعوايي پيش نمي آمد. خانه‌هاي قديمي در بلتستان عموما داراي سقف‌هاي كوتاه بود كه علتش سرماي شديد در اين منطقه است. نشيمنهاي زمستاني و تابستاني خانه‌ها جدا بود. عموما در خانه‌ها حمام وجود نداشت و در كنار چشمه‌ها و رودخانه‌ها حمام‌هاي عمومي مي ساختند. مراسم‌ مختلف در فصل‌هاي مختلف برگزار مي شد . از جملة آنها نوروز ستروب لا، اونگ دق، برق بب، نورپهب و كهاستون معروف است. موسيقي و ترانه‌هاي محلي هم در اين منطقه زياد است. در مراسم‌ گوناگون اين موسيقي ها مي سرودند و غزل‌هايي به زبان بلتي هم مي سرودند. در بين آنها ميندوق هلتنمو معروف است. مردم بلتستان نوروز نخستين روز سال شمسي را مانند ايرانيها جشن مي گيرند، در گذشته عيد نوروز رونق بيشتري داشت و بزرگترين جشن ملي بشمار مي رفت ولي در حال حاضر از اهميت آن تا حدي كاشته شده است با وجود آن در اين روز مراسم‌هاي زيادي برگزار مي شود، به بچه‌ها عيدي داده مي‌شود. در ورزشگاه مركزي شهر كه در زبان محلي شغرن گفته مي‌شود مردم جمع مي‌شوند و مسابقه چوگان (پولو)، فوتبال، واليبال تيراندازي، هاكي و بازي‌هاي محلي ديگر برگزار مي‌شود. مردم در اين روز لباس نو مي پوشند. در بلتستان در شب‌هاي زمستان گفتن داستان‌هاي قديمي رائج است. و براي اي كار مردم دور هم جمع مي‌شوند و از كسي كه داستان مي گويد به خانه دعوت مي كنند و از او پذيرائي مي كند و او داستان مي گويد. در اين داستان‌ها داستان هله‌فو(خداي كوچك) كيسر خيلي معروف است. اين داستان 12 يلداخ (باب) دارد.

تاريخ : سه شنبه شانزدهم اسفند ۱۳۹۰ | 4:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
بعداز تسخير بلتستان وزير زوآورسينگ براي حمله به تبت برنامه ريزي نمود. و حاكمان بلتستان نيز در اين حمله به او كمك كردند. از بلتستان و لداخ يك لشكر پنج هزار نفره آماده شد، وي با لشكر خود در سال 1841‌م به تبت حمله كرد و تمام تبت را فتح نمود. بعد از هفت ماه تبتي‌ها با يك لشكر عظيم به لشكر دوگره حمله كردند. جنگ سختي درگرفت. و بيشتر سپاهيان لشكر دوگره كشته شدند. در اين جنگ وزير زوآورسينگ نيز كشته شد. بعد از كشته شدن او لشكرش از هم پاشيد و بازماندگان لشكر فرار كردند. تبتي‌ها آنها را تعقيب نمودند و بسياري را كشتند. از شش هزار نفر فقط يك هزار نفر زنده ماندند. و بالاخره 700 نفر آنها نيز اسير شدند. و فقط 300 نفر توانستند فرار كنند. و آنها نيز بخاطر سرما مريض شدند. شكست لشكر دوگره در تبت موجب تقويت روحية لداخي‌ها و بلتي‌ها شد. اگرچه راجه احمد شاه به دست تبتي‌ها اسير شد. ولي بخاطر هدف مشترك باهم دوست شدند و او آزاد شد. همچنين براي آزادي لداخ و بلتستان برنامه ريزي كردند. و يول سترونگ كريم براي آماده سازي مبارزه به بلتستان اعزام شد. يول سترونگ كريم در بلتستان همراه راجه حيدر خان و كاظم بيگ رئيس سكردو با حكومت دوگره مبارزه را شروع كردند. و حاكمان محلي نيز با آنها همكاري كردند. چنانچه راجه حيدر خان حريف خودش سليمان خان حاكم شگر و محمد شاه پسر احمد شاه را دستگير نموده و زنداني كرد. بهگوان سينگ والي دوگره و لشكر او نيز در شگر زنداني شدند. و بلتستان از دست دوگره آزاد شد. وقتي اين خبر به گلاب سينگ حاكم جمون رسيد او ديوان هري سينگ را با يك لشكر به لداخ فرستاد. و وزير لكهپت حاكم كشتوار را براي باز پس گيري بلتستان با يك لشكر بزرگ فرستاد. در سكردو راجه حيدر خان براي مقابله با وزير لكهپت آماده شده و راه‌هاي ورود به بلتستان را بسته بود. راجه علي شير خان حاكم كهرمنگ كه در حمله اول دوگره به بلتستان نيز به وزير زورآور سينگ كمك كرده بود‌. دوباره براي ارائة خدمات به دوگره عازم كرگل شده و به لشكر وزير لكهپت ملحق شد. او آنها را راهنمائي ‌كرد و چون راجه حيدر خان راه‌هاي اصلي را بسته بود. علي شير خان لشكر دوگره را از راه شنگهو‌شگر(گلتري) بعد از عبور از رودخانة دراس به ديوسائي آورد. و از راه درة حسين آباد وارد سكردو شد. تا ورود لشكر وزير لكهپت به سكردو هيچ كس از حمله سيكها خبر نداشت. بخاطر ورود ناگهاني لشكر دوگره به سكردو راجه حيدر خان داخل قلعه كهرفوچو متحصن شد و درب قلعه را بست و لشكر دوگره قلعه را محاصره كردند. بعد از چند روز علي شير خان و محمد شاه با نگهبانان درب قلعه سازش كردند و در تاريكي شب وارد قلعه شده و همه را به قتل رساندند. راجه حيدر خان به همراه چند نفر در تاريكي شب فرار كرده و به شگر رفت، سپس به طرف يارقند فرار نمود، وقتي به درة تهلي رسيد راجه دولت علي خان حاكم خپلو توسط افراد خود، حيدر خان و همراهانش را دستگير كرده نزد وزير لكهپت آورد. او همه مبارزين را به قتل رساند و حيدر خان را به همراه خودش به جمون برد. و قلعه كهرفوچو را آتش زد. چون كه اين قلعه دوبار براي آنها مشكل ساز شده بود. و مي توانست دوباره مشكل پيدا كند، در اين آتش سوزي به جز مسجد تمام بخشهاي قلعه سوخت. طبق گفته محققين در اين آتش سوزي كاخ هفت طبقة حاكمان سكردو نيز سوخت. و كتابهاي گرانبها و اشياي قيمتي فراوان ديگري نيز از بين رفت. در سال 1947‌م پس از تقسيم شبه قاره مردم گلگت و بلتستان كه سالهاي مديد طعم تلخ استبداد خانوادة دوگره را چشيده بودند به چاره انديشي براي نجات از ستمگريهاي آنها پرداختند چون تمام مردم اين منطقه مسلمان بودند. ولي هنگام تقسيم، مسئولين دوگره كه هندو بودند تحت يك سازش سلاحها حتي كاردهاي آشپزي را از مردم جمع آوري نمودند. در تاريخ 13‌‌ اكتبر1947‌م گلگت بعد از جتگي سخت ميان مبارزين مسلمان و ارتش دوگره آزاد شد. وقتي اين خبر به بلتستان رسيد مبارزين بلتستان با مبارزين گلگت رابطه برقرار نمودند. گلگتي‌ها در ژانويه 1948‌م به طرف بلتستان حركت كردند. مردم روندو با مبارزه ارتش دوگره را از منطقه خود بيرون كردند. در اين شرايط هر روز بر تعداد ارتش دوگره در سكردو اضافه مي‌شد. و لشكر به لشكر ارتش هاي دوگره بطرف سكرود مي آورد. در 11‌فوريه 1948‌م مجاهدين به پايگاه ارتش دوگره در سكردو حمله كرده و آنرا به محاصره درآوردند. براي كمك به ارتش دوگره به فرماندهي سرتيپ فقير سينگ يك لشكر بزرگ به بلتستان فرستاده شد. وقتي اين خبر به مبارزان رسيد در خارج شهر سكردو در كنار يك تنگه كه از آن فقط يك نفر مي توانست رد شود؛ جمع شدند و منتظر آنها ماندند. وقتي آنها به اين محل رسيدند مبارزان از سه طرف به آنها حمله كردند در نتيجه تعدادي زيادي كشته شدند و فقير سينگ و تعدادي از افراد لشكرش توانستند فرار كنند. در اين جنگ غنائم زيادي از جمله سلاح‌هاي پيشرفته ارتش دوگره بدست مبارزان افتاد كه در جنگ بعدي در شهر سكردو از آنها استفاده نمودند چون مبارزين سلاحهاي خيلي قديمي داشتند و لشكر دوگره به سلاح‌هاي پيشرفته مسلح بودند، اين سلاح‌ها قدرت مبارزين را بيشتر كرد. بعد از آن لشكري از راه كهرمنگ به فرماندهي سرهنگ كرنل كرپال سينگ با سلاحهاي جديد به سكردو فرستاده شد. مجاهدين از اين خبر اطلاع پيدا كردند و براي جلوگيري از اين اقدام دسته‌اي از مجاهدين را به سوي پركوته فرستادند كه در اين منطقه با ارتش دوگره حدود چهل روز به نبرد پرداختند. در اين جنگ با وجودي كه تعداد ارتش دوگروه 1200 نفر بود و مجهز به سلاح هاي جديد بودند و در مقابل مجاهدين فقط 250 نفر بودند و از سلاح هاي قديمي استفاده مي كردند مجاهدين موفق شدند عده‌ي زيادي از سپاه كرپال سينگ را از بين ببرند و بقيه فرار كردند. در اين جنگ نيز مجاهدين سلاح‌هاي زيادي به دست آوردند. در سكردو مجاهدين هر روز محاصره را بر دوگره‌ها تنگ‌تر كردند و چون ارتش دوگره نتوانست به كمك محاصره شدگان بيايد توسط هواپيما در شهر سكردو مواضع مبارزين را بمباران كردند. و بالآخره ارتش محصور دوگره به رهبري سرهنگ تهاپا مجبور به تسليم شد. آخرين نبرد بين ارتش دوگره و مبارزين آزادي بخش در منطقه پل كهرمنگ در گرفت، در اين جنگ مبارزين رودخانة سند در تهنگ و غندوس مستقر بودند به سوي لشكر دوگره در آنطرف رودخانه آتش گشودند، تعدادي زيادي از دوگره‌ها كشته شد و بعضي‌ها از راه كوه‌ها فرار كردند، بدين ترتيب به سلطة دوگره‌ها در بلتستان خاتمه يافت و در تاريخ 14‌ اگوست 1948‌م بعد از يكسال از آزادي پاكستان بلتستان آزاد شد. بعد از آزادي بلتستان مجاهدين به طرف كشمير حركت كردند و تا كرگل و لداخ رسيدند و ارتش دوگره را شكست دادند كه در اول ژانويه 1949‌م آتش بس بين پاكستان و هندوستان اعلام شد كه در نتيجه آن كشمير بين هند و پاكستان تقسيم شد. و مردم بلتستان خودشان را به پاكستان ملحق نمودند ولي متاسفانه تاكنون از حقوق اساسي شهروندي در اين كشور برخوردار نيستند. كه در آخر فصل به آن مي پردازيم. اگر فداكاري و شجاعت مجاهدين را بنويسم خودش يك كتاب مستقل مي شود كه اينجا جايش نيست. در آن زمان از طرف پاكستان نيز كمك زيادي نشد. چون درميان پاكستان و بلتستان جاده نداشت. و از طريق هوائي نيز بعلت وجود كوه‌هاي مرتفع و شرايط جوي نمي‌توانستند كمكي بكنند. مردم منطقه با سلاح هاي قديمي توانستند در مقابل ارتش تربيت يافته و سلاح‌هاي جديد مقاومت كنند و ارتش دوگره را از منطقه اخراج بكنند.

تاريخ : سه شنبه شانزدهم اسفند ۱۳۹۰ | 4:53 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
حكومت دوگره در بلتستان از سال 1840‌م تا 1948‌م حدود 108‌ سال طول كشيد. در اين 108‌ سال چهار حاكم سيك‌ مهاراجه گلاب‌ سينگ، رنبير سينگ، پرتاب سينگ و هري سينگ حكمراني كردند. بعد از فتح بلتستان اولين والي دوگره در بلتستان بهگوان سينگ بود. بعد از او افراد مختلفي حكومت منطقه را به دست گرفتند. آنها حاكمان محلي را تضعيف نمودند. و ماليات را خودشان از مردم مستقيما جمع آوري مي كردند. سيكها در زمان حكومتشان در بلتستان كارهاي عمراني و امور رفاهي بسياري انجام دادند. از جمله ساختن مسافر خانه ها و آبادكردن باغات و آوردن درختان ميوه از كشمير. مولوي حشمت الله خان نيز از جمله واليان دوگره در بلتستان بود. او در زمان تصدي حكومت خود تاريخ جمون را نوشت. و تاريخ بلتستان را جمع آوري كرد و اين كتاب اولين كتاب دربارة تاريخ بلتستان بود. طبق نوشته تاريخ بلتستان در زمان حكومت حاكمان محلي ماليات نقدا دريافت نمي شد و فقط به صورت جنس پذيرفته مي شد ولي در زمان دوگره ماليات نقدي هم دريافت ميشد. در اين زمان در آمد مردم فقط از طريق كشاورزي بود و همه افراد خانه به كار مشغول بودند ولي باز هم براي تامين هزينه‌هاي زندگي كافي نبود، لذا ماليات حكام محلي براي مردم سرسام آور بود و بعد از نقدي شدن ماليات مشكلات مردم افزايش يافت. به همين دليل هزاران نفر از اين منطقه به مناطق مختلف شبه قاره از جمله شمله، مسوري، كشمير، و ساير مناطق هندوستان، و حتي يارقند و كاشغر مهاجرت كردند كه بسياري از آنان تاكنون در اين مناطق زندگي ميكنند.

تاريخ : سه شنبه شانزدهم اسفند ۱۳۹۰ | 4:46 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
چنانچه قبلا گذشت سيك‌ها در پنجاب حكومت مستقلي تأسيس نموده بودند و مناطق كشمير تا ملتان را تحت تسلط خود در آورده بودند. در سال 1823‌م گلاب‌سينگ حاكم جمون شد. و او مي دانست كه حكومت سيك‌ها در پنجاب دوام نمي آورد، به همين خاطر او درجمون و كشمير حكومت مستقل خانوادة دوگره را بنيان گذاري نمود. او مناطق اطراف كشمير تا حوالي تبت را فتح نمود . و در سال 1835‌م به لداخ حمله كرد و لداخ را نيز جزء قلمرو دولت خود قرار دارد. در سال 1837‌م مردم لداخ از وي سرپيچي نمودند لذا وزير زورآورسينگ دوباره به لداخ حمله كرد. در دوران حمله لداخ چنانچه گذشت پسر احمد شاه مقپون محمد شاه از سكردو فرار كرده و پيش وزير زورآورسينگ آمده بود. و از طرف ديگر حاكم كهرمنگ راجه علي شير خان از دست احمد شاه ناراحت بود بطور مخفيانه با زورآورسينگ روابط برقرار نموده و او را براي حمله به بلتستان دعوت نمود و در ازاي آن قول داد تا در حمله بلتستان به او كمك كند. راجه احمد شاه پسرش را از لداخ دستگير كرده به سكردو آورد. از اين كار او وزير زورآورسينگ و گلاب‌سينگ ناراحت شدند. و اين يك بهانه براي حمله به بلتستان شد. و آمادگي براي حمله به بلتستان شروع شد. وقتي خبر حمله به احمد شاه رسيد او براي دفاع يك لشكر از خپلو به رهبري يول سترونگ كريم به طرف چهوربت فرستاد و يك لشكر بزرگ را از سكردو به رهبري دو برادر وزير غلام حسن و وزير غلام حسين بروپا به مرزهاي كهرمنگ فرستاد تا جلوي حمله دوگره ها را در مرز بگيرد. وزير زوآورسينگ از ليه به هنو رسيد. و يك لشكر ديگر از لداخ جمع كرد و به فرماندهي مدين شاه به طرف چهوربت فرستاد. و خود با لشكر خودش به طرف كهرمنگ حركت كرد. در منطقة تهموخون كهرمنگ جنگ سختي ميان دو طرف درگرفت. در مرحله اول لشكر دوگره از بلتي ها شكست خورد ولي به خاطر كمك راجه علي شير خان (حاكم كهرمنگ) به لشكر دوگره آنها توانستند وزير غلام حسن را به قتل برسانند. حاكم كهرمنگ حدودا‍ يك هزار نفر را بظاهر براي كمك به احمد شاه فرستاد. ولي به آنها گفته بود وقتي جنگ شروع شود از لشكر بلتي جدا شوند. و به زورآورسينگ كمك كنند و اين امر به اطلاع زورآور سينگ رسيده بود. زورآور سينگ به لشكر خودش گفت كه افراد علي شير خان درميان لشكر بلتي‌ها علائم مخصوصي دارند لذا آنها را نكشند، چنانچه وقت جنگ لشكر كهرمنگ از لشكر بلتي‌ها جدا شد. اين امر يك ضربة شديدي به لشكر سكردو وارد كرد. و آنها جنگ برده را باختند و فرار كردند. لشكر وزير زورآورسينگ نيز در تعقيب آنها به طرف سكردو حركت كرد. وقتي آنها به گول رسيدند راجگان خپلو كريس و طولتي نيز با لشكر خودشان پيش وزير زورآورسينگ آمد و اطاعت او را قبول كرد. و به همراه او بطرف سكردو حركت كرد. وقتي وزير زورآورسينگ به سكردو رسيد فرمانرواي سكردو راجه احمد شاه مقپون در قلعه كهرفوچو محصور شده بود. طبق نوشتة كننگهم و فرنيكي قلعه كهرفوچو تا دوازده روز محصور بود و بعد از آن بعلت كمي آب حاكم سكردو نتوانست مقاومت كند و مجبور به تسليم شد. ولي حشمت الله خان مدت محاصره را پانزده روز گفته و مي‌نوسيد: بعد از پانزده روز محاصره هيچ اثري از شكست ديده نشد. وزير زورآور سينگ و علي شير خان و مدين شاه براي چاره جويي به فكر افتادند. و علي شير خان به راجه احمد شاه قول داد كه اگر تسليم شود هيچ آزاري به او نخواهد رسيد فقط او به وزير سلام بكند. او نيز به علي شير خان اعتماد نمود و از قلعه خارج شده براي سلام به خدمت وزير زورآورسينگ رفت. سپاهيان او را دستگير نمودند و وزير زورآورسنگ سكردو را فتح نمود. تمام حاكمان بلتستان به جز حاكم روندو تحت فرمان وزير زورآورسينگ قرار گرفته بودند. وزير زورآورسينگ مدين شاه را با تعدادي از لشكريانش به استور فرستاد و بعد از بيست روز محاصره قلعه استور فتح شد. وزير راجه احمد شاه را اسير نموده و به همراه خودش به جمون برد. و پسرش محمد شاه را به حكومت سكردو نشاند. در ژانوبه 1840‌م بلتستان بطور كامل تحت تسلط دولت دوگره جمون در آمد.

تاريخ : سه شنبه شانزدهم اسفند ۱۳۹۰ | 4:45 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
از قرن دهم تا قرن دوازدهم ميلادي بلتستان گاهي بصورت مستقل و گاهي تحت تسلط تركستان اداره مي‌شد. و گاهي تحت تسلط كشمير بود. همانطور كه قبلا ذكر شد بعد از كشته شدن پادشاه تبت و مستقل شدن مناطق مختلف در هر منطقه حكومت مستقل روي كار آمد. در بلتستان نيز فرمانروايان مختلف حكومت مي‌كردند. در اواخر قرن دوازدهم ميلادي در سكردو خانوادة شكر گيالپو، در شگر خانوادة اماچا، در خپلو خانوادة يبگو، در روندو خانوادة لونچهي، در پوريگ خانوادة گاشو و در كهرمنگ خانوادة انتهوك حكومت مي‌كردند. در اواخر قرن دهم يا يازدهم ميلادي در بلتستان يك سيل بزرگ آمد. بخاطر گرماي زياد برف‌كوه‌ها آب شد و سيل خروشاني منطقه را فرا گرفت. اكثر مناطق از بين رفتند و بعد از اين خرابي بزرگ مردم جمع شدند و دوباره زمين‌ها را آباد كردند. در اين زمان شكري رگيالفو حاكم سكردو بود. وي فرزند پسر نداشت و فقط يك دختر داشت كه اسمش شكري بود. و وارث حكومت سكردو بود. و بين چهار وزير براي حكومت نزاع بود . طبق روايات محلي در اين زمان يك جوان بنام ابراهيم از كشمير به سكردو آمد. زمان او طبق نوشته آقاي حسين آبادي قريب به 1190‌م تا 1220‌م است. اين جوان خيلي فهيم و زرنگ بود و شهرت او در شهر سكردو پخش شد. وزراء دربار مصالحت نمودند و شكري را به ازدواج ابراهيم درآوردند و او پادشاه اين مملكت شد. و بنام مقپون مشهور شد. مقپه در زبان بلتي به داماد مي گويند. بعضي مي گويند كه اين كلمه مقپه بعد‌ها به مقپون تبديل شد و شهرت پيدا كرد؛ ولي بعضي اين كلمه را به معني سالار قوم گفته‌اند. دربارة ابراهيم در فصل دوم بطور مفصل بحث خواهد شد. بعد از ابراهيم شاه از سال 1220‌م تا1400م از خانوادة او 9 نفر در سكردو حكومت نمودند. در سال1237م سلطان سكندر پادشاه كشمير به بلتستان حمله كرد و آن را تحت تسلط خود درآورد. در اين سالها جنگ‌هاي سختي با حاكم كاشغر در اين منطقه در گرفت. در سال 1490‌م مقپون بوخا به حاكميت سكردو رسيد. و تا سال 1515‌م در سكردو حكومت كرد. درباره مقپون بوخا حشمت الله خان مي‌نويسد : بوخا پسر بهرام در زمان شيرخواري پدرش را از دست داد. حاكم كهربوكهر از اين فرصت استفاده كرده و به سكردو حمله كرد. و حكومت سكردو را بدست گرفت. و تمام مرد‌هاي خانوادة مقپون را كشتند. بوخا كه كوچك بود پدر خوانده‌اش بنام ملاتم‌ زيرپا او را به كفالت خودش درآورد. حاكم كهربوكهر مي‌خواست او را نيز بكشد ولي وزير او بنام گچا كه زماني خدمت پدر بوخا بود به پادشاه گفت كه او يك بچه كر است و نمي‌ تواند هيچ كاري بر خلاف انجام دهد. و او را از اين كار منصرف كرد. بوخا به سن 18 سالگي رسيد و در خانه پدر خوانده‌اش چوپاني مي‌كرد. يك روز او روي سنگي كه بنام بردوسنياس معروف بود در نزديكي خانه‌اش خوابيده بود و مادر خوانده‌اش براي او غذا آورد. او ديد كه ماري بر بالاي سر بوخا سايه كرده است و بوخا خوابيده است. او ترسيد و سر و صدا راه انداخت. از صداي او مار غائب شد و بوخا از خواب بيدار شد. بوخا از مادرش شكايت كرد كه من يك خواب خوب مي ديدم كه يك لشكر بزرگ مرا با لباس‌هاي فاخر و زيبا بر روي يك تخت بزرگ مي برد. مادرش اين واقعه را به پدرش گفت. او گفت اين پسر يك روز حتما به حكومت مي‌رسد. او مي‌دانست كه بوخا وارث اصلي سكردو است. و براي اين كار با بزرگان دربار سكردو از جمله وزير گچا صحبت كرد و تمام وقت خودش را در اين كار صرف نمود و تمام طرفداران بهرام را جمع نمود. يك روز وزير گچا پادشاه را به بهانه شكار از شهر بيرون برد و او را به قتل رساند و بوخا را به تخت نشاند. و بر روي سنگ بردوسنياس تاج پادشاهي را بر سرش نهاد. و اين رسم تا زمان راجه احمد شاه آخرين حاكم مقپون در اين منطقه رائج بود. طبق گفته بعضي مورخان در عصر همين پادشاه مقپون قلعه معروف كهرفوچو ساخته شد و پايتخت حكومت سكردو به اين قلعه منتقل شد. بعد از او پسرش شيرشاه در سال 1515‌م جانشين او شد. در زمان او حاكم يارقند، سعيد خان به بلتستان حمله كرد. ميرزا حيدر گوركاني مي‌نويسد : خان در اواخر ميزان به بالتي آمد. از رؤساي بالتي بهرام جو طوق اطاعت را در گردن انقياد گرفته به سعادت پاي بوس سرير خلافت مصير مبادرت نموده ديگر تمام جويان بالتي تمرد و طغيان كه شيمه كفره و عدوان بود پيش گرفتند. به قلاوزي بهرام چو اول مرتبه قلعه شگار كه دارالملك تمام بالتي است در حمله اول فتح كردند و رجال ايشان علف خسام خون آشام لشكر سعادت انجام شد. و نساء و صغاير ايشان مع اموال غنيمت روزگار فرخنده آثار عساكر منصوره گشت. ديگر هر جا كه در آن كوهستان دستي رسيدي تقصيري نرفتي و هر جا كه قلاع و دره محكم بود كه دست حوادث از گريبان آن كوتاه بود بماند. بهرام چو كه ميرزا حيدر آن را ذكر كرده حاكم خپلو راي بهرام است. بعد از شيرشاه پسرش علي خان در سال 1540‌م به حكومت سكردو رسيد. در زمان علي خان، ميرزا حيدر به اجازه همايون پادشاه تيموري در هندوستان به كشمير حمله كرد و حكومت نازك شاه را بركنار كرد و خودش در كشمير حكومت كرد. و در سال 1548‌م به بلتستان و لداخ نيز حمله كرد و تحت تسلط خود در آورد. ملا قاسم را در بلتستان و ملا باقي را در لداخ والي قرار داد. طبق نوشته آقاي حسين آبادي در اين زمان پسر (مير دانيال شهيد) مير شمس الدين عراقي در سكردو بود. ميرزا حيدر او را به اجبار به كشمير برد و يك سال در كشمير زنداني نمود و در سال 957‌هجري طبق فتواي قاضي عبدالغفور و قاضي ابراهيم او را شهيد كردند. و بعد از اين واقعة تلخ در تمام مناطق شورش و سرپيچي شروع شد و مردم بلتستان والي ميرزا حيدر ملا قاسم را به قتل رساند. وقتي ملا باقي در لداخ اين خبر را شنيد فرار كرد و به دربار ميرزا حيدر رسيد. و در سال 958‌هجري خود ميرزا حيدر كشته شد. در سال 1588‌م غازي مير به حكومت رسيد. و از زمان او اوج قدرت حكومت سكردو شروع مي‌شود. و فرزندش علي شير خان انچن و نوه‌هايش آن را به اوج كمال رساندند. در زمان غازي مير مناطق روندو و كهرمنگ به قلمرو حكومت سكر دو اضافه شد. قبل از آن كهرمنگ تحت تسلط لداخ بود. بعد از غازي مير پسرش علي شير خان انچن به حكومت رسيد. در تاريخ آغاز حكومت او بين محققين اختلاف است. حشمت الله خان شروع حكومت او را 1595‌م نوشته است. آقاي حسين آبادي مي نويسد : طبق شواهد زمان علي شير خان معلوم مي‌شود كه او قبل از 1589‌م به حكومت رسيده بود. علي شير خان مشهور‌ترين و قدرت‌مندترين پادشاه بلتستان بود. او به لقب انچن معروف بود يعني اعظم و قوي. او در زمان پدر خود كهرمنگ، چكتن و پشكم را فتح نموده و اين مناطق را به حكومت سكردو ملحق نمود. در زمان حكومت وي تمام مناطق بلتستان از لداخ تا چترال در اختيار وي بود. او در ترويج اسلام نقش زيادي داشته است. درباره خدمات او به اسلام در فصل دوم بطور مفصل بحث خواهد شد. در سال 1586‌م اكبر بزرگ پادشاه تيموري هند به كشمير حمله كرد و با فتح كشمير، مرزهاي بلتستان با مرز حكومت تيموريان متصل شد. در سال 1589‌م از طرف حكومت دهلي شخصي بنام ايوب بيگ بعنوان سفير در بار تيموري به دربار علي شير خان انچن فرستاده شد. اين اولين سفير دربار تيموري به بلتستان بود. در نتيجه همين روابط دختر علي شير خان انچن با شاهزاده سليم ( جهانگير ) ازدواج نمود. چنانچه در سال 1000‌هجري از طرف حكومت دهلي حاجي ميرزا بيگ كابلي و ملا طالب اصفهاني به سكردو آمدند و دختر علي شير خان انچن را به همراه هدايا به دهلي برد. در سال 1000 هجري علي شيرخان انچن لداخ را تسخير نمود و پادشاه لداخ جميانگ نمگيل و عده‌اي از لشكريان او را درسكردو زنداني نمود و علي شير خان انچن با دختر جميانگ نمگيل ازدواج كرد. حملة علي شيرخان انچن را مولوي ذكاءالله درتاريخ هندوستان از ابوالفضل مورخ دربارتيموري نقل نموده است. درسال 1006 هجري پادشاه هندوستان اكبر اعظم به كشميرآمد و از والي كشميرخواست به بلتستان حمله كند و آنجا را تحت تسلط خود در آورد. اما به دليل دوري راه وكمبود آذوقه والي كشمير نتوانست اين كار را انجام دهد. به همين خاطر رأي پادشاه عوض شد و سه نفر ( ملا طالب اصفهاني و محمد علي كشميري و علي هولك ) را با اسب وخلعت وهداياي فراوان به دربار علي شير خان انچن فرستاد؛ و به آنها امر كرد كه در دوران اقامت خود در بلتستان از اوضاع اقتصادي و جمعيت و راهها و.... اطلاعاتي كسب كنند. چنانچه ملا طالب اصفهاني در مدت اقامت خود در سكردو گزارشي مفصل ترتيب داده و در آن درباره آداب و رسوم و مذهب و اقتصاد و حاكم و لشكريانش اطلاعات بسياري جمع آوري نمود. طبق نقل آقاي حسين آبادي : ابوالفضل مطالب اكبرنامه را از گزارش ملا طالب اصفهاني گرفته است؛ و اين گزارش در حال حاضر مفقود است. و نيز مي نويسد كه بعد از ملا طالب اصفهاني حاجي ميرزا بيگ كابلي هم مقاله اي را به تفصيل نوشته است. بعد از اين زمان روابط علي شير خان انچن با حكومت هند تيره شد. طبق نقل مولوي ذكاءالله از ابوالفضل و بدايوني در سال 1012 هجري علي شيرخان انچن به مرزهاي كشمير حمله كرد. مولوي ذكاءالله در ادامه مي‌نويسد وقتي كه علي‌راي( علي شير خان انچن) تبت بزرگ را فتح نمود واموال زيادي نصيبش شد؛ حرص و طمع مال و كشور گشايي او بيشتر شد و در سال 1014 هجري به مناطق مرزي كشمير حمله كرد. پادشاه هندوستان به حاكم لاهور قليج خان دستور داد كه لشكري قوي براي كمك به حاكم كشمير محمد قلي بفرستد. قليج خان 3500 نفر را به سركردگي سيف الله خان براي كمك فرستاد ولي علي رأي بدون اين كه بجنگد فرار كرد و لشكر هند تا جايي كه اسب ها مي توانستند بروند آنها را تعقيب نمودند. مولوي ذكاءالله در تاريخ هندوستان نوشته است كه حملة علي شيرخان بعد از فتح لداخ بوده و به علت فتح لداخ مصمم به فتوحات بيشتر بوده است و اين در حالي است كه فاصلة زماني بين حمله به لداخ و حمله به كشمير در حدود 12 سال بوده است. اصل ماجرا اين است كه در آن زمان حبيب چك واحمد چك در كشمير بر عليه حاكم قيام نموده وبه بلتستان فرار كرده بودند. بنا به نوشته آقاي حسين آبادي چون آن دو با علي شيرخان هم مسلك(شيعه) بوده اند علي شير خان آن دو را پناه داده بود. به هين سبب روابط بين علي شير خان انچن و حكومت هند تيره شد. حاكم كشمير محمد قلي خان تلاش مي‌كرد كه به بلتستان حمله كند ولي علي شير خان انچن او را در مرز كشمير شكست داده بود، لذا وپادشاه به والي لاهور حكم داده بود كه به والي كشمير كمك كند. پادشاه اكبر مي‌خواست بلتستان را فتح نمايد ولي نتوانست و قبل از نيل مرام خود درگذشت. و بعد از او جهانگير از سال 1609‌م تا 1620‌م واليان متعددي را در كشمير تعيين نمود و از آنها تعهد گرفت كه در ظرف دو سال بلتستان را فتح نمايند. ولي هيچ كدام آنها نتوانست بلتستان را فتح نمايد. بعد از اين حمله علي شير خان به طرف گلگت و چلاس لشكر كشي نمود و چترال را فتح نمود. فرنيكي در اين باره مي‌نويسد : بعد از فتح چترال علي شير خان درختي در چترال كاشت و يك سنگ بزرگ را سوراخ نموده و در آن درخت گذاشت. اين درخت تا سال 1915‌م در چترال بوده است. آن سنگ در داخل درخت فرو رفته بود. علي شير خان انچن يك سلطنت بزرگ را تأسيس نموده كه مرزهاي آن در شمال به كوه‌هاي قراقرم و تركستان، در جنوب به زوجي له، در شرق به پورانگ و در غرب به چترال متصل مي‌شد. اين سلطنت تا هند و ايران شهرت يافته بود و طبق نوشته آقاي حسين آبادي در تاريخ نوشته در ايران در دربار شاه عباس صفوي از فرنگستان روس كاشغر تبت ( بلتستان ) و هندوستان سفراء مي آمدند و اظهار دوستي مي نمودند. در دربار علي شير خان انچن با وجودي كه در نزديكي حكومت عظيم پادشاهان تيموري هند بود خطبه بنام پادشاه ايراني شاه عباس صفوي خوانده مي‌شد. شهيد ثالث قاضي نورالله شوشتري كه قاضي القضات دربار پادشاه اكبر بوده و در زمان جهانگير نيز مدتي بر اين منصب بود و در سال 1019‌هجري به شهادت رسيد. معاصر علي شير خان انچن بوده است. شيهد در كتاب خودش مي‌نويسد : تبت نام دو ولايت است قريب بكشمير يكي را تبت كبير گويند و ساكنان آنجا همگي كافرند و ديگري را تبت صغير ميگويند و در سنه الف مير علي راي كه الحال حاكم تبت است بتوفيق الهي تبت كبير را تسخير نموده و رؤساي كفر را بقتل رسانيد و بتخانهاي آنجا را درهم شكسته و اموال و خزاين بسيار بدست آورد و اهالي آنجا از زماني كه مير شمس مذكور بدانجا رسيد مسلمان شده‌اند.............. و با اينكه در جوار پادشاه عظيم الشان هندوستان واقعند خطبه بنام نامي پادشاه عاليجاه ايمان كلاه ايران سرير صفويه موسويه انارالله برهانهم الجليه ميخوانند بعد از علي شير خان پسر او احمد خان به حكومت رسيد. بعد از او برادرش عبدال خان به حكومت رسيد. او حاكم قدرتمندي بود اما او با برادرش آدم خان براي سلطنت نزاع داشت. آدم خان به دهلي فرار كرد. عبدال خان به لداخ حمله كرد و آن منطقه را تحت تسلط خود در آورد. و بسياري را كشت و بت خانه ها را خراب كرد به همين سبب لقب غازي بت شكن به خود داد. او فرمانروايي ستمگر و مستبد بود چنانچه افرادي زيادي را كشت. به همين خاطر در بلتستان به او آدم خور مي‌گويند. آقاي حسين آبادي مي‌نويسد كه او يك سگ داشت وقتي اين سگ مرد او زنان محل را جمع نمود و به آنها حكم داد كه براي اين سگ گريه كنند. از ترس او آنها شروع به گريه كردند ولي از چشم هيچكس اشك نمي ريخت. يك زن در اين وقت گفت : در مرگ تو دردي در دل نيست، پس چشم‌ها اشك نمي ريزد اي سگ عبدال خان. اين جمله الان هم در زبان بلتي ضرب المثل است. در سال 1637‌م آدم خان با لشكر حكومت هندوستان به رهبري ظفر خان به بلتستان حمله كرد عبدال خان و خانواده او را دستگير نموده و به هندوستان بردند. و حكومت به آدم خان رسيد. بعد از او پسرش مراد خان به حكومت رسيد و خودش را لقب شاه داد. و به شاه مراد معروف شد. شاه مراد بعد از علي شير خان انچن قدرتمندترين حاكم مقپون در بلتستان بود. او توانست قلمرو سلطنت مقپون را تا لداخ و چترال گسترش دهد. بعد از او شير شاه ثاني به حكومت رسيد. بعد از او محمد رفيع خان در سال 1681‌م به حكومت رسيد. از زمان او زوال حكومت مقپون شروع مي‌شود و در زمان او حاكم خپلو راجه حاتم خان به كمك حاكم لداخ گيالپو به سكردو حمله كرد. محمد رفيع خان نتوانست مقاومت كند. و در قلعه كهرفوچو محاصره شد. و لشكر حاتم خان تمام شهر سكردو را غارت نمود و طبق نوشته آقاي حشمت الله خان به نشانه فتح سكردو درب بزرگ قلعه سكردو بنام سنگي ستاغو (در شير) و چيزهاي ديگر را به خپلو برد. ولي آقاي حسين آبادي اين نظر را رد مي‌كند و مي‌گويد كه بردن درب قلعه سكردو در زمان رفيع خان درست نيست چرا كه اگر اين درست بود بعدا در زمان احمد شاه حاكم سكردو كه خپلو در تسلط سكردو بود آنها در را به سكردو بر مي‌گرداندند. او مي گويد: اين در در زمان حمله وزير دوگره زور آور سينگ به سكردو به تاراج برده شده است. در هر دو صورت اين در در حال حاضر در قلعه خپلو مي‌باشد ولي طبق روايات محلي بعدا كه درميان خانواده مقپون و يبگو روابط خانوادگي برقرار شد از روي اين در نام حاكم سكردو پاك شده است كه روي آن نوشته شده بود. بعد از محمد رفيع خان پسرش سلطان مراد در سال 1712‌م به جانشيني پدر به تخت نشت. وي بدست حاكم شگر راجه اعظم خان در رودخانه غرق شد و سكردو تحت تسلط شگر قرار گرفت كه تا سال 1727‌م در سلطه راجه اعظم خان بود كه بدست زنش كه خواهر سلطان مراد كشته شد. بعد از كشته شدن او محمد ظفر خان پسر سلطان مراد حكومت را به دست گرفت. از زمان وي جنگ‌هاي داخلي بلتستان شروع شد. او چند بار با حاكم خپلو جنگيد. و به شگر نيز حمله كرد و آن را تحت تسلط خودش درآورد. و بعد از فتح شگر به خپلو حمله كرد ولي حاكم خپلو به كمك حاكم لداخ وي را شكست داد. از سال 1765‌م تا 1800‌م علي شير خان ثاني حاكم سكردو بود. او پسر محمد ظفر خان بود. در عهد همين حاكم شاعر معروف فارسي‌گو سيد ابو الحسن تحسين رضوي درگذشت. او به همراه پدرش از كشمير به بلتستان آمده بود. و اصليتش ايراني بود. مجموعه اشعارش بنام ديوان تحسين است. نسخه قلمي آن در كتابخانه برات خپلو مي‌باشد. بعد از درگذشت علي شير خان پسر بزرگش احمد شاه در سال 1800‌م حكومت سكردو را بدست گرفت. او در دوران حاكميت خود به خپلو حمله كرد. و آنرا تحت تسلط خود در آورد. و يول سترونگ كريم را والي مقرر نمود و خودش به همراه اسيران به سكرود برگشت. ولي عهد احمد شاه پسرش شاه مراد بود. او در جواني درگذشت. احمد شاه پسر كوچك خود محمد علي خان را بخاطر جانبداري مادرش دولت خاتون خواهر حيدر‌ خان حاكم شگر ولي عهد خودش قرار داد و پسر بزرگش محمد شاه را از ولي عهدي محروم كرد. و او را از قلعه بيرون نموده و در يك خانه‌اي در اطراف سكردو جاي داد. محمد شاه از اين كار ناراحت شد. و به كمك علي شير خان كه از طرف احمد شاه حاكم كهرمنگ بود؛ به طرف كشمير فرار كرد. از طرفي ديگر در شبه قاره هند بعد از زوال حكومت تيموريان در شبه قاره هند سيك ها در لاهور به قدرت رسيدند. و سردار رنجيت سينگ اختيار حكومت را در دست گرفت. و در مدت مختصري ملتان، هزاره و اتك را نيز در قلمرو خود درآورد. او در سال 1819‌م كشمير را فتح نمود. در حمله كشمير دو برادر گلاب سينگ و دهيان سينگ خدمات زيادي را انجام داده بودند. براي همين پدرشان بنام كشور سينگ را حاكم كشمير قرار داد. حكومت سيك‌ها در جمون و كشمير به دست گلاب سينگ رسيد. او توانست تا سال 1837‌م لداخ، زانسكر، كرگل، سورو و دراس را به سلطنت خودش ملحق نمايد. در اين زمان پسر احمد شاه (محمد شاه) از سكردو به طرف كشمير فرار نموده و به گلاب سينگ پناه برده بود. از سوي ديگر حاكم كهرمنگ علي شير خان نيز از دست احمد شاه ناراحت بود چنانچه آنها محرمانه با سيك‌ها روابط برقرار نموده و آنها را براي حمله به بلتستان دعوت نمودند. احمد شاه پنجاه نفر را براي دستگيري محمد شاه فرستاد؛ كه آن وقت در لداخ بسر مي‌برد. و محمد شاه را در لداخ دستگير نموده به سكردو آورد و زنداني نمود. اين كار احمد شاه سيك‌ها را ناراحت كرد كه فرصت را غنيمت شمرده و به بلتستان حمله كردند. بدين ترتبب حكومت مقپون به پايان رسيد.

تاريخ : سه شنبه شانزدهم اسفند ۱۳۹۰ | 4:44 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
طبق روايات محلي و آثار موجود معلوم مي‌شود كه در تبت قبل از پنج هزار سال پيش مردمي از نژاد مغول زندگي مي‌كردند. نياتري‌تسان‌پو درسال 237 پيش از ميلاد مسيح در منطقه يارلانگ حكومتي يوجود آورد. اين شخص سر سلسله خانوادة تبو بوده است. سي‌ ‌و ‌سومين پادشاه اين خانواده بنام سوانگ تسان گمپو در سن سيزده سالگي به تخت پادشاهي نشست. او در سال 633‌م لهاسه را پايتخت خود قرار داد. بعد از اين زمان تاريخ تبت بصورت مدون شروع شد. در اين زمان در تبت دين بون رائج بود. مذهب بودايي در قرن پنجم در تبت شروع شده بود ولي به موفقيت چنداني دست نيافته بود. پادشاه سوانگ ‌تسان مذهب بودايي را قبول كرد و براي گسترش و ترويج آن سعي فراواني نمود. او حكم ترجمه كتاب‌هاي بودايي را به زبان تبتي نمود. ولي پيروان دين بون‌ در مقابل آن پافشاري نمودند. و اين اختلاف و جنگ مذهبي سال‌ها طول كشيد. در سال 634‌م حاكم تبت به منطقه زانگ‌ زونگ حمله نمود و در سال 721‌م به بلتستان حمله كرد و آن را تسخير كرد. حاكم بلتستان به پولولو كوچك فرار كرد. و در سال 722‌م سوانگ تسان گمپو حاكم تبت به پولولوي كوچك نيز حمله كرد. حاكم پولولوي كوچك از چين كمك خواست، طبق نوشته آقاي حسين آبادي اين نامه در تاريخ چين محفوظ است. حاكم چين براي كمك به پولولوي كوچك 4‌ هزار نفر را فرستاد و مناطق تحت تسلط تبت را آزاد نمود. در همين زمان زائر كره‌اي هوئي چاؤ در سال 727‌م از هندوستان به كشور خودش بازگشت و درباره سفر خود كتابي نوشت و در آن وقائع سفر هندوستان را جمع آوري نمود. آقاي حسين آبادي در كتاب خود از او نقل مي‌كند : در شمال كشمير به مسافت پانزده روز منطقة پولولوي بزرگ ( بلتستان ) زانگ‌ زونگ و سوپوز واقع است. اين سه مناطق زير تسلط حكومت تبت است. لباس و رسومات آنها كاملا متفاوت است. و مردم اين منطقه بودايي هستند. هوئي در ادامه مي نويسد كه در شمال غرب كشمير در مسافت 7 روز منطقه پولولوي كوچك واقع است. اين منطقه زير تسلط چين است. و حاكم پولولوي بزرگ بخاطر حمله تبت به پولولوي كوچك فرار كرده بود. درسال 737‌م پادشاه تبت كريلدي گسوگ‌ برتسان به منطقه پولولوي كوچك حمله كرد و آن را تحت تسلط خودش در آورد. حاكم چين براي كمك پولولوي كوچك آمد ولي شكست خورد. در تاريخ تبت لفظ پولولو نيامده است بلكه در تبت منطقه بلتستان را بلتي و منطقه گلگت و اطراف آن را كه چيني‌ها پولولوي كوچك مي‌گفتند بروشال مي‌گفتند. چيني‌ها مي‌خواستند از طريق دره زوجي ‌ به طرف كشمير جاده بسازند. در همين زمان يبغو حاكم تخارستان ‌ به حاكم چين پيشنهاد داد كه براي اين كار هيئتي را براي گفتگو به پولولوي بزرگ بفرستد. حاكم چين اين پيشنهاد را قبول كرد ولي قبل از اينكه اين كار عملي شود در سال 751‌م در درياي تلاس در برابر عرب‌ها شكست خورد. بعد از اين شكست مناطق زيادي از چين جدا شد. در تاريخ چين آمده است كه در سال 740‌م 22 اين منطقه زير تسلط تبت رفت. در سال 753م ژنرال چيني كاؤ‌هيان‌چي به منطقه پولولوي بزرگ حمله كرد و پايتخت آن هوسالو را به تصرف در آورد. طبق تحقيق محققين چيني هوسالو تلفظ چيني خپلو يا كهپلو است. از اين معلوم مي‌شود كه در آن زمان خپلو پايتخت بلتستان بوده است. و شايد بعد از فتح پولولوي بزرگ حاكم تخارستان يبغو را بعنوان والي در پولولوي بزرگ به خپلو فرستاده باشند و او با قابليت خودش توانسته باشند كه بعد از زمان تسلط چين در اين منطقه حكومت مستقلي تأسيس كرده باشد و از همين جا حكومت حاكمان خپلو خانواده يبگو در خپلو شروع شده باشد. كه امروزه نيز اين خانواده در خپلو زندگي مي‌كنند. البته حكومت‌شان بعد از آزادي بلتستان به پايان رسيده است. از مدارك تبتي نيز اين نكته تاييد مي‌شود كه سرزمين‌هاي بلتي و بروشال زماني از تسلط تبت خارج شده بودند. چنانچه حاكم تبت كهري‌ سرونگ لدي‌ برتسان در دور حكومت خود(797-755‌م) به بلتي و بروشال حمله كرده و اين سرزمين‌ها را تسخير نمود. در زماني كه حاكم تبت پولولوي كوچك را فتح نموده بود تا مرز پامير پيش رفت و در همين زمان فتوحات اعراب هم به مرز پولولوي كوچك رسيده بود و عرب ها پولولو را معرب نموده و بلور ناميدند. شاهد اين مطلب اين است كه مامون عباسي (833-813‌م) 199‌هجري كابل را تسخيركرد و در سال 200‌هجري تخت شاه كابل را به مكه فرستاد. در كتبه تخت برادر فضل بن سهل وزير مامون حسن ابن سهل عبارت‌هايي را نوشت. اين عبارت را مؤلف كتاب تاريخ مكه محمد بن عبدالله الازرقي در كتاب خودش نقل نموده است. « وسير الامام اكرمه الله الرايات الخضر علي يد ذي الرياستين الي القشمير و في ناحيـة التبت. ما سير‌ها فاظهره الله سبحانه علي بوخان و راور بلاد بلور صاحب جبل خاقان و جبل التبت و بعث الي العراق مع فرسان التبت..........» در اين عبارت لفظ بلور ذكر شده است. در تاريخ اولين بار لفظ بلور از همين كتاب بدست مي‌آيد. در عبارت الازرقي مراد از بلور پولولوي كوچك است چرا كه جنگ بين اعراب و چين در مرز غرب بود. دكتر تيمار در اين باره مي‌گويد: طبق روايات محلي چترال اين امر تاييد مي‌شود كه در اين زمان چترال تحت تسلط پولولوي كوچك بوده است. تبت به قدرت كامل رسيده بود. از كهم در شرق تا چترال در غرب زير تسلط تبت بود. ولي در قرن هفتم درميان پيروان دين بون‌ و بودايي‌ها نزاع سختي در گرفته بود به همين خاطر حكومت تبت زيان زيادي ديد و مناطق زيادي از تبت جدا شد از جمله لداخ و بلتستان. در ابتداي قرن نهم در زمان حكومت كهري تسوگ لدي برتسان اين نزاع به اوج خود رسيد، او حامي دين بودايي بود و معبد بودايي زيادي تاسيس نمود. به خاطر حمايت از مذهب بودايي او در سال 838 م بدست پيروان بون كشته شد. بعد از او برادرش لنگ‌درما به تخت حكومت رسيد. او قبلا راهب بود و مخالف بودايي بود. او در زمان حكومت خود بودايي ها را از تبت راند و دستور داد تا تمام معابد آنها را خراب كردند و مجسمه‌هاي بودايي را در رودهانه انداختند و راهبان را كشتند و بالاخره خودش بدست يك بودايي بنام لهالونگ پلدور كشته شد. بعد از او ميان پسران او به خاطر حكومت نزاع شد. بخاطر اين نزاع در كشور هرج و مرج واقع شد. و در نتيجه حكومت مركزي تبت به پايان رسيد. و ساير مناطق آزاد گشت. و در هر منطقه يك حكومت مستقل قائم شد. در همين زمان بلتستان و بروشال نيز از تبت جدا شدند.

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:59 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
1- دورة قديم : سلطنت پولولو دربارة تاريخ بلتستان محققين بعد از تحقيق در اشعار، غزليات و داستان‌هاي قديم نظريه هايي مختلف ارائه داده‌اند. به گفته بعضي محققين بخاطر موقعيت خاص خود از چهار هزار سال قبل از ميلاد مسيح در اين منطقه مردم زندگي مي كردند. و بخاطر كوه‌هاي بلند و راه‌هاي سخت و دشوار از حمله اقوام مختلف در امان بوده است. در آن زمان بلتستان به همراه لداخ و تبت يك منطقه وسيعي را تشكيل مي‌داد و تمام كارها بصورت مشترك انجام مي‌شد؛ به اين دور ابتدائي كوهله توس مي گويند. بعد از اين دوره زمان كيسر شروع مي‌شود كه حكومت سلطنتي قوي و بزرگ بود. و امروزه در بلتستان بعنوان يك افسانه در آمده‌ است و داستانهاي او را مردم با اشتياق فراوان گوش مي‌كنند. در سفرنامه‌هاي چيني و ديگر كتب چيني‌ درباره تاريخ قديم بلتستان اطلاعات فراواني به دست مي‌آيد. طبق اطلاعات در قرن پنجم ميلادي در بلتستان و اطراف آن يك حكومت قوي و بزرگ وجود داشت و نام آن سلطنت پولولو بود فاهيان اولين زائر چيني است كه در سال 403‌ ميلادي براي زيارت به منطقه داريل (تالي لو) سفر كرده است او در سفرنامه خود مي‌نويسد : در شرق اين منطقه (داريل) بعد از عبور از كوه‌هاي بلند و مناطق مختلف به سرزمين پولولو مي‌رسيم. فاهيان در كتاب خود نوشته است كه تالي لو پايتخت اودهيانه بوده است( كه نام قديم سوات است) طبق نوشته آقاي حسين آبادي همين امر را كننگهم سرآرل ستاين و بعضي ديگر از محققين تاييد مي كنند كه تالي‌لو همان داريل است. بعد از آن در سال 626‌ ميلادي دومين زائر چيني هوان تسانگ ‌‌ به اين منطقه رسيد. او هم در سفرنامة خود منطقة پولولو را با اين اوصاف ذكر كرده است. او مي‌نويسد: مساحت سلطنت پولولو 4000 لي است. اين مطقه درميان كوه‌هاي بلند پر از برف واقع است. در اين منطقه طلا و نقره پيدا مي‌شود و گندم و عدس كاشته مي شود. بخاطر مقدار زيادي ذخائر طلا در اين منطقه طلا فراوان است. و هواي اين منطقه هميشه سرد است. در تاريخ چين منطقة پولولو به پولولوي بزرگ و پولولوي كوچك تقسيم مي‌شد. طبق نوشتة محققين، به بلتستان پولولو بزرگ و به گلگت نگر و هنزه پولولو كوچك مي‌گفتند. در اطلس چيني در زمان حكومت خانواده تانگ 618‌م- 907‌م بلتستان را پولولو و اطراف آن (گلگت و نواحي آن) را پولولوي كوچك ذكر كرده است. و طبق اسناد رسمي حكومت چين در سال 696‌م سفير پولولو بزرگ در دربار چين آمده بود. اين حكومت پولولو تا سال 722‌م ادامه داشت و در اين سال با حمله حاكم تبت اين حكومت خاتمه يافت.

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
1- دورة قديم : سلطنت پولولو دربارة تاريخ بلتستان محققين بعد از تحقيق در اشعار، غزليات و داستان‌هاي قديم نظريه هايي مختلف ارائه داده‌اند. به گفته بعضي محققين بخاطر موقعيت خاص خود از چهار هزار سال قبل از ميلاد مسيح در اين منطقه مردم زندگي مي كردند. و بخاطر كوه‌هاي بلند و راه‌هاي سخت و دشوار از حمله اقوام مختلف در امان بوده است. در آن زمان بلتستان به همراه لداخ و تبت يك منطقه وسيعي را تشكيل مي‌داد و تمام كارها بصورت مشترك انجام مي‌شد؛ به اين دور ابتدائي كوهله توس مي گويند. بعد از اين دوره زمان كيسر شروع مي‌شود كه حكومت سلطنتي قوي و بزرگ بود. و امروزه در بلتستان بعنوان يك افسانه در آمده‌ است و داستانهاي او را مردم با اشتياق فراوان گوش مي‌كنند. در سفرنامه‌هاي چيني و ديگر كتب چيني‌ درباره تاريخ قديم بلتستان اطلاعات فراواني به دست مي‌آيد. طبق اطلاعات در قرن پنجم ميلادي در بلتستان و اطراف آن يك حكومت قوي و بزرگ وجود داشت و نام آن سلطنت پولولو بود فاهيان اولين زائر چيني است كه در سال 403‌ ميلادي براي زيارت به منطقه داريل (تالي لو) سفر كرده است او در سفرنامه خود مي‌نويسد : در شرق اين منطقه (داريل) بعد از عبور از كوه‌هاي بلند و مناطق مختلف به سرزمين پولولو مي‌رسيم. فاهيان در كتاب خود نوشته است كه تالي لو پايتخت اودهيانه بوده است( كه نام قديم سوات است) طبق نوشته آقاي حسين آبادي همين امر را كننگهم سرآرل ستاين و بعضي ديگر از محققين تاييد مي كنند كه تالي‌لو همان داريل است. بعد از آن در سال 626‌ ميلادي دومين زائر چيني هوان تسانگ ‌‌ به اين منطقه رسيد. او هم در سفرنامة خود منطقة پولولو را با اين اوصاف ذكر كرده است. او مي‌نويسد: مساحت سلطنت پولولو 4000 لي است. اين مطقه درميان كوه‌هاي بلند پر از برف واقع است. در اين منطقه طلا و نقره پيدا مي‌شود و گندم و عدس كاشته مي شود. بخاطر مقدار زيادي ذخائر طلا در اين منطقه طلا فراوان است. و هواي اين منطقه هميشه سرد است. در تاريخ چين منطقة پولولو به پولولوي بزرگ و پولولوي كوچك تقسيم مي‌شد. طبق نوشتة محققين، به بلتستان پولولو بزرگ و به گلگت نگر و هنزه پولولو كوچك مي‌گفتند. در اطلس چيني در زمان حكومت خانواده تانگ 618‌م- 907‌م بلتستان را پولولو و اطراف آن (گلگت و نواحي آن) را پولولوي كوچك ذكر كرده است. و طبق اسناد رسمي حكومت چين در سال 696‌م سفير پولولو بزرگ در دربار چين آمده بود. اين حكومت پولولو تا سال 722‌م ادامه داشت و در اين سال با حمله حاكم تبت اين حكومت خاتمه يافت.

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:49 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
سازمان هاي غير دولتي 1- بنياد آغا خان 2- بنياد معرفي 3- امان كلينك 4- رحمان كلينك 5- ثواب

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:39 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
سازمان هاي غير دولتي 1- بنياد آغا خان 2- بنياد معرفي 3- امان كلينك 4- رحمان كلينك 5- ثواب

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:33 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
در بلتستان احزاب مختلف مشغول فعا ليت هستند. بين آنها احزاب زير به صورت گسترده فعال هستند: 1- حزب مسلم ليگ شاخه قائد اعظم( حزب حاكم پاكستان) در شوراي قانونگذاري مناطق شمالي نيز اين حزب اكثريت است. 2- حزب مردم به رياست خانم بي نظير بوتو 3- نهضت جعفريه. كه از سوي دولت منحل شده است و با نام تحريك نهضت اسلامي مشغول فعاليت است. 4- جماعت اسلامي 5- حزب مسلم ليگ ( گروه نواز شريف) 6- حزب مردم ميهن دوست 7- سازمان دانشجويان اماميه 8- سازمان دانشجويان جعفري 9- جمعيت اسلامي دانشجويان( شاخه دانشجويان جماعت اسلامي) 10- فدراسيون دانشجويان بلتستان

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:32 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
بلتستان از نظر اداري زير نظر مستقيم حكومت مركزي پاكستان اداره مي شود. وزير امور كشمير و مناطق شمالي مستقيما اداره مناطق شمال را به عهده دارد. مناطق شمالي پاكستان به شهرستان‌هاي گيلگيت، بلتستان، گانگچهي، غذر، استور و ديامير تقسيم ميشود. فرمانداران اين مناطق از طرف دولت محلي مناطق شماي منصوب مي شوند. اين شهرستان ها به بخشهاي متعدد و بخشها به دهستانها تقسيم مي شوند، در شهرها شوراي شهر داير است، در شهرستانها شوراي شهرستان و در دهستانها شوراي اتحاديه امور محلي را بررسي مي كنند، در سطح كل مناطق شمالي شوراي قانونگذاري مناطق شمالي براي پروژه‌هاي عمراني بزرگ بودجه فراهم مي كند و به امور عمراني و اجتماعي رسيدگي مي كند، رئيس اين شورا دستيار وزير امور كشمير و مناطق شمالي است. شهر گيلگيت مركز دولت محلي مناطق شمالي است

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:31 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
روزنامه ها و هفته نامه ها 1-هفت روزه شمال 2- بار شمال 3- سياچن 4- قراقرم 5- صدائي جرس 6- هماري آواز 7- سياچن خپلو 8- شمال 9- طلوع قراقرم 10- جمهور ماهنامه‌ها 1- سه ماهي بلتستان 2- سد پاره 3- كاروان خپلو 4- بلتي يل 5- مسائل حل كرو 6- ظلم كي چكي 7- بلتستان 8- سكرچن 9- النصرت 10- بلورستان 11- قراقرم كالج ميگزين 12- نوائي صوفيه 13- يل 14- تبيان نوربخشيه 15- بلتستان كي جديد جنگ 16- ايك حقيقت ايك جائزه

تاريخ : سه شنبه نهم اسفند ۱۳۹۰ | 2:30 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

تحریر: سید قمر عباس الحسینی حسین آبادی

 

1۔ میر سید علی همداني

میر سید علی همداني با ورود یک گروه از سادات ، واسلاف پیامبر اسلام(ص) از ایران آمدند و مردم بلتستان را گرویدن اسلام تشویق کردند ۔ برجسته ترین این سادات میر سید علی همداني بود۔

میر سید علی همداني كه لقب شاه همدان و علی ثانی و امیر کبیر در مناطق  کشمیر و بلتستان شهرت دارد در روز دو شنبه 12 رجب 714 هجري در همدان متولد شد ۔پدرش سید شب الدین بن میر سید محمد حسین و مادرش فاطمه نام داشت۔ نسب میر سید علی همداني با شانزاده واسطه حضرت امیرا لمومنین علی عليه السلام از طریق امام حسین عليه السلام می رسد ۔ ایشان بیش از هفتاد جلد کتاب و جزوه در رشته تحریر در آورده است۔ از جمله آن می توان  کتابی ‘‘شرح فصوص الحکم’’ ،‘‘ذخیرۃ الملوک و‘‘مودۃ القربی’’وغیره اشاره کرد۔[1]میر سید علی همداني نخستین بار از دّره زوجی له منطقه بلتستان وارد شد۔سفر اول وی در سال 783 هجري بوده است در آن زمان در سکردو مقپون غوطه چو سنگي حاکم بود۔  به تبلیغ میر سید علی همداني حاکم و رعایای سکردو اسلام قبول کردند۔ و وی در مقام كهری دونگ اولین مسجد را بنانمودند وبعد در گمبه سکردو یک مسجد جامع را احداث کرد و در آن نماز جمعه و جماعت اقامه نمود۔[2]

آری میر سید علی همداني کسانی را كه در بلتستان و کشمیر سالها بت پرست بوده اند ۔ آئین اسلام و مذهب حقه شيعه اثنا عشری راهنمائی نمود بخاطر این کار بزرگ وی حکیم الامت شاعر بزرگ پاکستان علامه اقبال درباره ایشان می گوید

سید السادات سالار عجم           دست او معمار تقدیر امم

مرشد  آن کشور  مینو نظیر       میر ودرویش و سلاطین را مشیر

جمله را آن شاه دریا آستین       داد علم وصنعت وتهذيب ودین

آفرید آن  مرد ایران  صغیر      با  هنرهای   غریب  و   دلپذیر

یک نگاه او گشاید صد گره        خیز و تیرش را بدل راهي  بده[3]

مذهب میر سید علی همداني

مورخان اهل سنت نظر شان بر این است كه میر سید علی همداني سنی و  فرقه شافعی تعلق داشتند ۔اما مورخان شيعه دو گروه اند بعضی همچون قاضی  نورالله شوشتری او را شيعه و بعضی در این باره ساکت ماندند۔[4]

اما دلائل و قرآینی وجود دارد كه او شيعه اثنی عشری بوده است۔

1۔ در منابع قدیمی اهل تشیع وی شيعه اماميه معرفی شده است ۔ مانند قاضی نور الله شوشتری كه در قرن دهم هجري زندگی می کرد او را یکی از شخصیت برجسته ی شیعی معرفی می کند[5]

2۔ اگر کتابهاي او بویژه  ‘‘مودۃ القربی ’’  كه در فضائل ذوات خمسه و اهل بیت و طهارت است و ‘‘اربعین فی فضائل امیرالمومنین و السبعین فی فضائل امیرالمومینین’’را نگاه کنیم شکی باقی نمی ماند كه او شيعه بوده است۔

3۔ دکتر محمد معین در کتاب حافظ شیرین سخن، دکتر ذبیح الله صفاء در کتاب تاریخ ادبیات ایران و آغا بزرگ تهراني در کتاب الذريعه میر سید علی همداني را شيعه امامی معرفی کرده است۔[6]

4۔ بعضی از دانشمندان منطقه بلتستان مانند حجة الاسلام والمسلمین سید علی الموسوی، جناب یوسف حسین آبادی، جناب حسن حسرت  هم ایشان را شيعه امامی معرفی کردند۔[7]

5۔ مصنف اختر درخشان درباره مذهب وی می گوید ‘‘ وقتی ما نگاه  به سنگ مرقد سید شرف الدین و کتابی میر سید علی همداني همچون مودۃ القربی می کنیم شک و ابهامي باقی نمی ماند كه او پیرو  مذهب شيعه امامی بوده است[8]

6۔کتاب دعاوی كه به میر سید علی همداني منسوب است تمام اعمال، وظائف و دعاهای روز مرّه كه نقل شده است طبق اعمال و دعاها و وظائف شيعه امامی است۔ مثلا در آذان علی ولی الله ،حی علی خیر العمل وجود دارد۔[9]

7۔ تمام مورخان چه شيعه و چه سنی نوشته اند كه بار سوم او با هفتصد 700 علمای سادات از ایران برگشتند ۔ این 700 علمای سادات می توانند قرینه بر شيعه بودن او باشند ۔

2۔ سید محمد نور بخش

متکلم ،صوفی ،عارف وشاعر معروف سید محمد نور بخش از ذرّيه حضرت امام موسی کاظم عليه السلام بود و با دوازده واسطه نسبش امام موسی کاظم عليه السلام می رسد ۔پدر سید محمد كه محمد بن عبدالله نام دارد عربی الاصل است و در قطیف دنیا آمده و جدش درلحصا دنیا آمده است۔ لذا سید محمد در بعضی از اشعارش سید محمد لحصوی و در بعضی سید محمد نور بخش استفاده می کرد۔

پدر سید محمد نور بخش بقصد زیارت حضرت علی بن موسی مشهد آمد و در شهر قائن سکونت اختیار کرد و در همانجا ازدواج نمود۔ سید محمد نیز درهمین شهر در سال 795  دنیا آمد۔[10]

مولف مجالس المومنین دربارہ او می نویسد:

‘‘نسب شریفش به هفده واسطه به حضرت امام موسی کاظم می رسید مولد پدرش محمد بن عبدالله قطیف ومولد جدش لحصاست ولهذا در بعضی غزلها لحصوی تخلص می نماید و در بعضی نور بخش ۔پدران ایشان هميشه اختصاص  داشته اند به آنكه در ميانه ایشان شخصی از اهل حال بودہ یا سالک و پدرش ترک وطن کردہ طریق تجرد و انقطاع پیش گرفت وبه عزم زیارت امام الانس والجن علی بن موسی الرضا به خراسان توجه فرمودہ وبعد از ادراک شرف آستان بوسی آن روضه متبركه در قصبه قاین توطن و تاهل اختیار نمود و حضرت میر در شهور سنة خمس و تسعین و سبعمائة در قاین متولد شدہ اند و در سن هفت سالگی قرآن را حفظ نمودہ به اندک فرصتی در جمیع علوم متبحر گشتند’’[11]

وی در قلیل مدت در جمیع علوم مهارت خاصی پیدا کرد و بعد از آن او در جمیع مریدان خواجه اسحاق ختلانی در آمد وخواجه اسحاق ختلانی نائب و خليفه میر سید علی بود و لقب نور بخش را نیز خواجه اسحاق ختلانی سید محمد داده است[12]

خواجه اسحاق ختلانی آخرین خرقه پوش و مرید سید علی همداني بود كه آن را بدست خود  سید محمد نور بخش پوشانید و او را مسند خلافت و ارشاد و سیر و سلوک نشانید و از این طریق سید محمد نور بخش خود پیرو و رهبر صوفيه و اهل طریقت شد و از آن بعد فرقه صوفيه نوربخشيه وجود آمد۔ از او آثار ارزندہ به نظم و نثر باقی ماندہ است از جمله : سلسلة الاولیاي یا شجرہ مشایخ،صحيفة اولیاء،رساله الانوار،نجم الهدي،کشف الحقيقه فی بیان عوالم الکثرہ والواحدہ ،ارادت و معاش السالکین ، انسان نامه ، الفقه الاحوط،منظومه تفسیر سوره حشر،دیوان شعر۔

نوربخش دروس فقه و اصول را در محضر علامه حلي كه از اعاظم علماي اماميه بوده است و فراگرفت۔ در رساله اي كه به او منسوب است عقائد شيعي خويش را به وضوح بيان كرده كه ترجمه سطوري آزاد را در اينجا مي آوريم:

‘‘انجام فريضه جهاد اعم از جهاد اکبر و جهاد اصغر نیاز به حضور امام مذکر،بالغ ،آزاد،عاقل،مسلمان عادل،عالم،شجاع،سخی،تقی،قرشی بلكه هاشمی بلكه علوی و حتی فاطمی دارد در جهاد اصغر این مقدار ویژیگی ها برای امام کافی است۔ اما در جهاد اکبر علاوہ بر صفات مزبور باید ولی کامل بودہ در مقام ولایت حالات هفتگانه و انوار گوناگون غیبی و مکاشفات و مشاهدات و۔۔۔را دارا باشد۔’’

وی در همان ساله هنگامي كه به بحث نکاح موقت می رسد اینطور نظرش را بیان می کند:

‘‘نکاح متعه كه از آن به عنوان عقد موقت تعبیر می شود در دین اسلام صحیح وجایز و شایع بودہ کسی در رواج آن در زمان حضرت پیامبرخدشه نکردہ است وتایید پیامبر قابل عمل است و هيچ تغییر در آن حادث نشدہ است کسی كه تغییر حکم و عدم جواز آن را به دلیل اجماع  ادعا می کند در خطا هست چون بسیاری بزرگان امت آن را تایید کردہ اند و اجماع در صورتی انعقاد می یابد و قابل ادعاست كه کسی مخالف وجود نداشته باشد ۔وقتی حاکم مقتدر دستوری بدهد و دیگران از ترس سکوت کردہ جرات مخالفت نداشته باشند چون در صورت اعتراض و مخالفت جان وناموس شان در خطر است این امر را اجماعی نمی گویند پس اجماعی در اینجا وجود ندارد و من وظيفه دارم تا پردہ های بدعت را از دین وشریعت محمدی برداشته وآنچه حضرت خود آوردہ و در زمانش معمول بودہ زندہ کنم’’[13]

مذهب سید محمد نور بخش

در شيعه بودن سید محمد نوربخش هيچ شکی  نیست دلائل و قرآینی بر این وجود دارد۔

1۔تشیع در خانواده ایشان از نظر وراثت انتقال يافته است چونكه نسبت ایشان  هفده واسطه  به حضرت امام موسی بن جعفر عليه السلام می رسد۔

2۔دوم اینكه جدش سید عبد الله دعوت شیعیان احساء به آن منطقه مهاجرت کرده بودند ۔ محلی كه در آن سید محمد نوربخش زندگی می کردند همه شيعه بودند۔پدرش سید محمد برای زیارت امام رضا عليه السلام خراسان سفر کرده و بعد از مشرف شدن زیارت در قائن مقیم شده است و با دختری از خانواده ای سر شناس از شیعیان قائن ازدواج نموده است و از همان خانم سید محمد به دنیا آمد۔[14]

3۔تشیع در نسبت روحانی ایشان نیز روشن است كه سلسله مشایخ او اولاً امام هشتم عليه السلام می رسد۔ و مشایخ او تا زمان شهيد نجم الدین کبری در تقيه بوده وبعد از او  خصوص علاو الدوله سمنانی و میر سید علی همداني و خواجه اسحاق ختلانی در نوشته ی خود علناً شيعه بودن خودشان را بیان نموده اند۔ قاضی نورالله می نویسد كه مخفی نماند كه جناب خواجه اسحاق ختلانی كه در اصل سید نیز بوده هميشه مذهب شيعه اماميه را ترویج می کرد ۔[15]

4۔سید محمد نوربخش درباره نهضت خویش می نویسد:‘‘نسبت من قریشی و هاشمی و علوی و فاطمی و حسینی و کاظمی است و علوم شريفه جعفری پیرو آدم الاولیا حضرت علی عليه السلام هستم’’۔[16]

5۔در دائرۃ المعارف اسلاميه اردو نوشته است كه بلتی ها را در قرن هشتم هجری برابر با قرن چهاردهم میلادی سید علی همداني و بعد از او خليفه او سید محمد نور بخش مسلمان نمود او بلحاظ مذهب شيعه بوده است[17]۔

3۔ میر شمس الدین عراقی

میر شمس الدین عراقی با 50 الی 60 نفر از مریدان و شاگردان بسوی اسکردو حرکت کرد۔ [18]

میرنجم الدین ثاقب می نویسد:

بعهد    حکومت   مقپون    بوخا       زهجرت دو تا یک الف وعین ومیم

 تبت رسید میر شمس الدین العراق  همی کرد   تعلیم   و  تبلیغ   عظیم

میر شمس الدین عراقی در اسکردو فعالیت تبلیغی و دینی خود را شروع کرد و توانست جمعیت زیادی را تشیع هدايت کند بویژه پس آنكه می گویند راجه (پادشاه) آنجا  مرض صعب العلاج مبتلا بود۔ خدا وند از دست میر شمس الدین عراقی او را شفا  بخشید كه موجب اسلام و تشیع بیش از بیش مردم سکردو بلتستان از جمله راجه آن منطقه شد۔[19]

میر شمس الدین عراقی با دیدن چنین وضعیتی مناسب برای تبلیغ شاگردان و مریدان خود دستور تخریب بت خانه های منطقه را داد[20] و امر کرد كه جای بتخانه ها مسجد بسازند تبلیغ آنان باعث شد كه مردم از رسم و رسومات هندو و بودائی دست کشید ند و آئین اسلام را پذیرفتند [21]

مردم بلتستان و حاکم آنان ازمیر شمس الدین عراقی تقاضا کردند كه برای تبلیغ و قرآن آموزی بعضی از شاگردان خود را در آنجا مستقر سازد ۔ میر شمس الدین عراقی این تقاضا را قبول کرد و بعضی از شاگردان از جمله ملک حیدر را در همانجا برای تبلیغ مامور کرد۔[22]

میر شمس الدین عراقی وقتی كه دید كه بزرگترین مانع پیشرفت اسلام همین بت خانه ها هستند چون هندو علاوه بر فعالیت غیر اسلامی در آن عليه مسلمانان نیز توطئه می کنند لذا تصمیم برای تخریب آن گرفت۔ لذا بت خانه های زیادی را ویران کرد تا اینكه ‘‘مکسر الاصنام’’ یعنی ‘‘بت شکن’’ لقب گرفت ۔

مذهب میر شمس الدین عراقی

دلائل شيعه بودن وی زیادی وجود دارند ما اینجا اختصاراً  بعضی را مطرح می کنیم

1-  سید عباسی کریسی در کتاب ‘‘کاشف الحق’’ ،روشن علی هندی در ‘‘مقدمه تنویر سراج’’، عبد الرشید انصاری در کتاب ‘‘بلتستان كي مذهبی حالات ’’شیخ اکرام در کتاب ‘‘آب کوثر’’ و محمد اعظم در کتاب ‘‘واقعات کشمیر’’ میر شمس الدین عراقی را شيعه اماميه معرفی کرده است۔[23]

2-  بر سر كتبه ي قبر وی اسامی ائمه دوازده گانه طبق شیعیان نوشته شده است ۔

3-  دلیل دیگری این است كه اگر او نوربخشيه بوده است پس شیعیان  کشمیر و بلتستان کی و توسط چه کسی  مذهب اماميه پیوستند ؟ چون بعد از وی عالم  این بزرگی این مناطق نیامده است كه مذهب تشیع را این اندازه گسترش داده باشد ۔

4-  اگراو نوربخشيه بوده اکثریت فعالیت را ایشان درکشمیر انجام داده است در حالیكه در زمان فعلی حتی یک نفر از نور بخشيه در کشمیر (وادی) وجود ندارد [24]۔

5-   اگر او نوربخشيه بوده حدّ اقل از ذرّيه اش کسی بر نور بخشيه بطور طبیعی باقی می ماند و یا حتی در شجره نسب شان آن اشاره می شد در حالیكه حتی یک نفر از نسل وی نور بخشيه نیست و نه در شجره نامه آنان آن اشاره شده است[25]

6-  محمد دین فوق در تاریخ کشمیر می نویسد؛ سید محمد كه لقبش میر شمس الدین عراقی است در دربار میرزا حسین والی خراسان یک منصب دار بود كه از طرف ایشان  کشمیر آمد و ایشان شيعه بود و می خواست در این مناطق(کشمیر وبلتستان) تبلیغ مذهب شيعه اماميه نماید۔[26]

4۔ سید حسین رضوی قمی

سید حسین رضوی قمی فرزند سید محمد قمی بوده وی در سال 821 هجري قمری از طریق پاکستان کنونی وارد کشمیر شد ۔ ایشان حدود پنجاه سال ترویج اسلام و نشر مذهب اهل بیت عليهم السلام در کشمیر، تبت ،بلتستان، کرگل و لداخ مشغول بود۔[27]

سید حسین رضوی قمی علاوه بر علم و اخلاق ،کرامات زیادی را در مناطق مذکور نشان داد۔ او در هشتم شعبان المعظم 871 هجري قمری در کشمیر دار فانی را وداع گفت و در همان جا خاک سپرده شد۔ سلسله سادات رضوی از دودمان سید حسین رضوی قمی در طول تاریخ ،علمای بزرگ را جامعه تحویل داد كه  تبلیغ و ترویج دین اسلام و مذهب اهل بیت عليهم السلام در کشمیر ،بلتستان و در دیگر مناطق جهان پرداختند۔

5 ۔ میر دانیال

میر دانیال فرزند میر شمس الدین عراقی مدتی در سکردو بود وقتی میرزا حیدر دوغلات در کشمیرحکومت رسید در سال 956 هجري میرزا حیدر سکردو آمد و آز آنجا میر سید دانیال را اسیرکرد و ایشان را برای یکسال زندانی نمود سپس قول میرزا حیدر جرم اینكه کلمه شهادت منافی شرع است در تاریخ 4 صفر 957 حکم قاضیان درباری او را شهادت رساند۔[28]

6۔ برادران طوسی: (شاه ناصر طوسی و سید علی طوسی)

طبق روایات محلی این دو برادر در سال 1550 تا 1590 میلادی از شهر طوس ایران اشاره غیبی امام علی بن موسی الرضا عليه السلام به این منطقه آمدند۔ این دو سید بزرگوار از نسل امام رضا عليه السلام بودند۔ از این معلوم می شود كه در شيعه بودند۔ این دو برادر هيچ شکی وجود ندارد۔ برادران طوسی در زمان راجه یبگو سکیم از یارقند راه سلتورو منطقه خپلو رسید و در منطقه تهغس سکونت اختیار کردندو در تبلیغ مذهب اهل بیت اطهار عليهم السلام  مشغول شدند۔[29]

میر نجم الدین ثاقب درباره ورود این دو برادر می نویسد

ازان  بعد  بزرگی  از  کاشغر                  سال دوتا و  یک  طا  وجیم

بیاید  ز  راه   سلتورو   همی            برای   اشاعت  دین   کریم

همی  کرد  تاکید بر  امر دین        بتعمیر مسجد بد شوق عظیم

 کننده   بنای    جامع    شگر            همی شاه ناصراسمش کریم

  تحت حکومت چو دبله خان              نمود  جلو  رسم  شاه قدیم

آنان در منطقه تهغس یک مسجد بنا نمودندو طرف شگر رفتند و آنجا یک مسجد بزرگ را ساختند و مردم را احکام ومعارف اسلام رهنمائي کردند۔سید ناصر طوسی در محله چهوترن شگر اقامت گزید و او در کوهی كه در بالای محله بود، عبادت می کردند بعد از مدتی در همان کوه غایب شد۔ اما سید علی طوسی از شگر سکردو آمد و در این منطقه مشغول تبلیغ شد و در منطقه کواردو اقامت نمود او در کواردو یک مسجد بزرگ بنا نمود تاحال این مسجد موجود است او درسال 1081 هجری در همین منطقه از دنیا رفت و کنار مسجد دفن شد ۔ آلان قبر مبارک این سید بزرگ زیارت گاه مردم بلتستان است ۔[30]

5 ۔ آثار علمی وفرهنگی بلتستان

بزرگترین آثاری كه این علماء در منطقه بلتستان بجا گذاشتند، اسلام ناب محمدی بود كه عبارتست از همان تعلیمات ومعارف ظاهری و باطنی اهل بیت عظمت وطهارت علیهم السلام از آن زمان تا امروز این آثار باقی هستند۔بحمدالله امروز اکثرمردم بلتستان محب اهل بیت عظمت و ولایت هستند و پیروان مکتب اهل بیت هستند۔ بعضی از علماء مکتب اهل بیت را در بلتستان ترویج دادند ۔بعضی دیگر تداوم بخشیدند اما اهداف همه ترویج مکتب اهل بیت در بلتستان بود ودر این راه خداوند متعال آنان را موفق کردند۔این علما و مبلغین همه مذهب شیعی داشتند ومذهب شیعه را در منطقه گسترش دادند ولی بعداً بعلت بعضی افراد مغرض شیعه را تقسیم نمودند۔هر چندبرخی نویسندگان معاصر نوربخشی این حقیقت را نمی خواهند قبول کند و این مطلب را ردّ می کند و می گویند كه مذهب شیعه بعد از ورود اهل سنت بلتستان توسط شیخ جواد ناصرالاسلام رواج یافته است۔درحالی كه تشیع از قرن چهاردهم در بلتستان ریشه داشت بعنوان دلیل ما چند مورد را ذکر می نمائیم ۔

صاحب کتاب المنجد در کتاب اعلام خودش درباره بلتستان می نویسد: کورة جبلیة واقعة علی حدود الهند الشمالیه الغربیة جبال ومثالج من اعظم جبال ومثالج العالم وسکان شیعیون [31]

قاضی نور الله شوشتری می نویسد: تبت نام دو ولایت است قریب  کشمیر یکی بنام تبت صغیر و دومی بنام تبت کبیر درسنه الف میر علی رای كه الحال حاکم تبت است۔ وهمگی از حاکم و سپاهی و رعیت شیعه امامیه با اخلاص اند۔[32]

در قرن 14 تا 17 میلادی علمای كه در بلتستان برای تبلیغ و نشر علوم آل محمد آمدند اکثراً صاحب کتاب بودند ودر بلتستان کتابهای زیادی را تالیف و تصنیف کردند مردم این منطقه از این کتاب نسخه برداری نموده ودست بدست تقسیم شده اند دربلتستان آثار علمی گذشتگان تا حال موجود است۔

6۔شعرای شیعیان بلتستان

دورِمتقدمینِ شاعریِ بلتستان تا 1840ء به اوج رسيده بود اما به دست دوگره ها خاتمه یافت۔ شاعر معروف این دور میر نجم الدین ثاقب در زبان فارسی کتاب تاریخی منظوم بنام ‘‘شغر نامه’’ نوشتند در حالیكه ایشان قبل از 1748 میلادی دومین منظوم کتاب بنام ‘‘فصل الخطاب’’ تکمیل کردہ بودند۔

 سید ابوالعلی تحسین متوفی(1776ء)نیز در همين زمان دیوانی بنام سفينة التحسین در زبان فارسی نوشته اند ۔ علاوہ از این دو شعرا مذکور میر سید علی رضوی متخلص سید،سید فاضل متخلص  فضلی ،شیخ کاشف الغطاء،شیخ محمد رضا تهراني بودہ نیز شعرای معروف در این منطقه بودند۔

7۔آثار تاریخی بلتستان از قرون 14 تا 17

1.  خانقاه گمبه سکردو این خانقاه بدست میرسید علی همداني ساخته شد این خانقاه در منطقه گمبه سکردو كه از مرکز سکردو 12 کیلومتر دور است واقع است در حال حاضر این خانقاه بازسازی شده است۔

2.  جامع مسجد حسین آباد این مسجد نیز یکی از قدیمی ترین مساجد است چند سال قبل این مسجد با سعی و تلاش مردم منطقه باز سازی شده است ۔

3.  مسجدچقچن در سال783 هجری ساخته شده است۔این مسجد در منطقه خپلو واقع است این مسجد در مراحل مختلف ساخته شد و تکمیل رسیده است زیرا در سال 783 هجری میر سید علی همداني بنیان نهادند و قسمتی از آن را ساخت تا اینكه در سال 911 هجری سید شمس الدین عراقی این ساختمان را تکمیل کرد لذا از آغاز تا تکمیل 129 سال وقفه ایجاد شد۔

4.  مسجد امیر پهروا توسط میر سید علی همداني در منطقه خپلو ساخته شد و در سال 786 هجری این مسجد  تکمیل رسید۔این از نظر زیبایی ،زیبا ترین مسجد  شمار می آید۔

5.  جامع مسجد برقچهن در سال 797 در منطقه خپلو توسط میر سید علی همداني ساخته شده است۔سقف این مسجد ستون ندارد۔

6.  مسجد كهری دونگ شگراین مسجد دارای دو طبقه است كه طبقه اول مخصوص نماز خواندن در زمستان و طبقه دوم مخصوص نماز در تابستان است و هر دو طبقه بدون ستون ساخته شده است۔

7.  مسجد امبورک توسط میر سید علی همداني ساخته شد و بنام مسجد امبورک معروف شد۔بالای درب این مسجد کلمات زیر نوشته است

انت یا الله لا اله الله محمد رسول الله اللهم صلی علی محمد وآل محمد۔

در محراب این کلمات ثبت است

یافتاح یا الله یا رحمن یاملک یا قدوس نصر من الله وفتح قریب وبشر المومنین۔

8.  مسجد چهه برونجی در منطقه شگر واقع است دربالای درب مسجد این کلمات نوشته است لا اله الا الله محمد رسول الله

9.  مسجد موی مبارک در منطقه كهرمنگ بیما واقع است این مسجد طبق روایات مردم منطقه خیلی مستجاب الدعوه است در مسجد صندوقچه ای آویزان است و در آن موی مبارکی كه منسوب به پیامبر اکرم (ص) نگهداری می شود می گویند كه این موی مبارک را یک درویش  به حاکم كهرمنگ علی شیر خان انچن هدیه نموده است[33]۔

10.              خانقاه خپلو را میر سید محمد بنانمود در مرکز خپلو این خانقاه واقع است در سمت راست درب ورودی احادیث ذیل کنده شده است۔

ü     علی    حبه      جنة        قسیم النار والجنة

وصی المصطفی حقا‍        امام الانس والجنة

ü     لولاک لما خلقت الافلاک ولو لا علی لماخلقتک۔

ü     حب علی ابن ابی طالب حسنة لا یضر السیه وبغضه سیه لا ینفع حسنه۔

ü     ان لی الجنة نهرا من لبن لعلی وحسین و حسن صلوٰة الله علیهم

برسر درب این خانقاه اشعار های فارسی ذیل کنده شده است۔

اوصاف علی به گفتگو ممکن نیست     گنجایش بحر در سبو ممکن نیست

           من  ذات  علی   بواجبی    نشناسم       لیکن دانم كه ذات او ممکن نیست

11.    مسجد بانپی نیز یکی از آثار علماء شیعه امامیه است كه در منطقه خپلو ساخته شد۔

12.    خانقاه تهغس را سید علی طوسی و سید ناصر طوسی در سال 1012 هجری بنانهاده است۔

13.    خانقاه کواردو و خانقاه کریس نیز آثار تاریخی شیعیان بلتستان است۔

علاوه از این آستانه میر سید محمد، آستانه میر عارف و میر اسحاق، آستانه سید علی طوسی، آستانه میر مختار ،میرسید جلال الدین و سید محمد شاه، آستانه محمود طوسی و سید حیدر طوسی هم از آثار شیعیان منطقه است۔

 

 



[1]- سهروردي، غلام حسین ، تاریخ بلتستان ص 171-

[2]- حسین آبادی ،یوسف ، بلتستان پر ایک نظر،سکردو شبیر آفست پرنتر،جولائی 1984، ص 46-

[3] - جاوید نامه، ص185-

[4] - موسوی،سید باقر، اختر درخشان، ص 87-

[5] - شوشتری، نور الله ،مجالس المومنین، ج 2 ص 118-

[6] -سهروردي، غلام حسین ،تاریخ بلتستان،ص60-

[7]- مصاحبه از آینان گرفته بودم-

[8] -موسوی، سید باقر، اختر درخشان ص77-

[9] -همداني،سید علی ، دعوات صوفيه  اماميه ، فرقه سید خورشید عالم ، ص   62- 63 -

[10]- شوشتری، قاضی نورالله، مجالس المومنین،ج 2 ص 143-

[11]- شوشتری، قاضی نورالله، مجالس المومنین،ج 2 ص 143،147،148-

[12]- مجهول المولف ،بهارستان شاھی، تنظیم دکتر اکبر حیدری، ص 38-

[13]۔ شوشتری، قاضی نورالله، مجالس المومنین،ج 2 ص148-

.[14] انساب خاندانهای نوربخش،ص 13، شوشتری، قاضی نورالله، مجالس المومنین ، ص143-

[15]۔ شوشتری، قاضی نورالله، مجالس المومنین ،ج2،ص 147-

[16] -مشتاق علی،ص 27-

[17] -دائرۃ المعارف اسلاميه اردو،دانشگاہ پنجاب ،لاهور،ج4،ص 755-

[18] -کشمیری، محمد علی ،تحفة الاحباب ،مترجم ،آخوند زادہ ،محمد رضا ،ص 405-

[19] -کاظمی، سید انیس، میر شمس الدین عراقی بت شکن ص 12-

[20] -کشمیری، محمد علی ،تحفة الاحباب ،مترجم ،آخوند زادہ ،محمد رضا ،ص406-

[21] -بیشترین جمعیت بلتستان تا هنوز شيعه اماميه هستند

[22]- کشمیری، محمد علی ،تحفة الاحباب ،مترجم ،آخوند زادہ ،محمد رضا ،ص410-

[23]- سهروردي، غلام حسین ،تاریخ بلتستان،ص86-

[24] -متو، غلام محمد تاریخ تشیع در کشمیر ،ص 79-

[25] -متو، غلام محمد تاریخ تشیع در کشمیر ،ص 79-

[26] -محمد ،دین فوق، تاریخ کشمیر ،ج2،ص12-

[27]- رضوی ،سید اعجاز حسین ، تاثیرات انقلاب اسلامی ایران در کشمیر ،ص 75-

[28]- کاشمیری ، حیدری ، دکتر اکبر ،تاریخ کشمیر بهارستان شاھی، ص122-

[29]- مولوی ،حشمت الله خان ، تاریخ جمون، ص592 ، لاهور،چاپ 1968-

[30] ۔ کاشمیری ، حیدری ، دکتر اکبر ،تاریخ کشمیر بهارستان شاهي ،چاپ 1614، ص 115-  حسین آبادی، یو سف، تاریخ بلتستان ،فروری 2003،ص25-

-[31] المنجد،اعلام ،ص 87-

[32]- شوشتری، قاضی نورالله، مجالس المومنین،ج1،ص 118-

[33]- مولوی، حشمت الله خان،تاریخ جمون،، لكهنو،بی تا،ص



تاريخ : جمعه سیزدهم آبان ۱۳۹۰ | 18:6 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |