
شيخ صدوق(عليہ الرحمہ) نے معتبر سند کيساتھ امام علي رضا (ع)سے اور حضرت نے اپنے آباء طاہرين (ع) کے واسطے سے اميرالمومنين (ع) سے روايت کي ہے کہ آپ نے فرمايا: ايک روز رسول اللہ نے ہميں خطبہ ديتے ہوئے ارشاد فرمايا کہ اے لوگو! تمہاري طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہينہ آرہا ہے- جس ميں گناہ معاف ہوتے ہيں- يہ مہينہ خدا کے ہاں سارے مہينوں سے افضل و بہتر ہے- جس کے دن دوسرے مہينوں کے دنوں سے بہتر، جس کي راتيں دوسرے مہينوں کي راتوں سے بہتر اور جس کي گھڑياں دوسرے مہينوں کي گھڑيوں سے بہتر ہيں- يہي وہ مہينہ ہے جس ميں حق تعاليٰ نے تمہيں اپني مہمان نوازي ميں بلايا ہے اور اس مہينے ميں خدا نے تمہيں بزرگي والے لوگوں ميں قرار ديا ہے کہ اس ميں سانس لينا تمہاري تسبيح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے- اس ميں تمہارے اعمال قبول کيے جاتے اور دعائيں منظور کي جاتي ہيں-پس تم اچھي نيت اور بري باتوں سے دلوں کے پاک کرنے کے ساتھ اس ماہ ميں خدا ئے تعاليٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے روزے رکھنے اور اس ميں تلاوتِ قرآن کرنے کي توفيق عطا کرے کيونکہ جو شخص اس بڑائي والے مہينے ميں خدا کي طرف سے بخشش سے محروم رہ گيا وہ بدبخت اور بدانجام ہوگا اس مہينے کي بھوک پياس ميں قيامت والي بھوک پياس کا تصور کرو، اپنے فقيروں اور مسکينوں کو صدقہ دو، بوڑھوں کي تعظيم کرو، چھوٹوں پر رحم کرواور رشتہ داروں کے ساتھ نرمي و مہرباني کرو اپني زبانوں کو ان باتوں سے بچاۆ کہ جو نہ کہني چاہئيں، جن چيزوں کا ديکھنا حلال نہيں ان سے اپني نگاہوں کو بچائے رکھو، جن چيزوں کا سننا تمہارے ليے روا نہيں ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو، دوسرے لوگوں کے يتيم بچوں پر رحم کرو تا کہ تمہارے بعد لوگ تمہارے يتيم بچوں پر رحم کريں ،اپنے گناہوں سے توبہ کرو، خدا کي طرف رخ کرو، نمازوں کے بعد اپنے ہاتھ دعا کے ليے اٹھاۆ کہ يہ بہترين اوقات ہيں جن ميں حق تعاليٰ اپنے بندوں کي طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جو بندے اس وقت اس سے مناجات کرتے ہيں وہ انکو جواب ديتا ہے اور جو بندے اسے پکارتے ہيں ان کي پکار پر لبيک کہتا ہے اے لوگو! اس ميں شک نہيں کہ تمہاري جانيں گروي پڑي ہيں- تم خدا سے مغفرت طلب کرکے ان کو چھڑانے کي کوشش کرو- تمہاري کمريں گناہوں کے بوجھ سے دبي ہوئي ہيں تم زيادہ سجدے کرکے ان کا بوجھ ہلکا کرو کيونکہ خدا نے اپني عزت و عظمت کي قسم کھارکھي ہے کہ ا س مہينے ميں نمازيں پڑھنے اور سجدے کرنے والوں کو عذاب نہ دے اور قيامت ميں ان کو جہنم کي آگ کا خوف نہ دلائے اے لوگو! جو شخص اس ماہ ميں کسي مۆمن کا روزہ افطار کرائے تو اسے گناہوں کي بخشش اور ايک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا-آنحضرت کے اصحاب ميں سے بعض نے عرض کي يا رسول اللہ! ہم سب تو اس عمل کي توفيق نہيں رکھتے تب آپ نے فرمايا کہ تم افطار ميںآ دھي کھجور يا ايک گھونٹ شربت دے کر بھي خود کو آتشِ جہنم سے بچا سکتے ہو- کيونکہ حق تعاليٰ اس کو بھي پورا اجر دے گا جو اس سے کچھ زيادہ دينے کي توفيق نہ رکھتا ہو- اے لوگو! جو شخص اس مہينے ميں اپنے اخلاق درست کرے تو حق تعاليٰ قيامت ميں اس کو پل صراط پر سے با آساني گزاردے گا- جب کہ لوگوں کے پاğ پھسل رہے ہوں گے- جو شخص اس مہينے ميں اپنے غلام اور لونڈي سے تھوڑي خدمت لے تو قيامت ميں خدا اس کا حساب سہولت کے ساتھ لے گا اور جو شخص اس مہينے ميں کسي يتيم کو عزت اور مہرباني کي نظر سے ديکھے تو قيامت ميں خدا اس کو احترام کي نگاہ سے ديکھے گا- جوشخص اس مہينے ميں اپنے رشتہ داروں سے نيکي اور اچھائي کا برتاۆ کرے تو حق تعاليٰ قيامت ميں اس کو اپني رحمت کے ساتھ ملائے رکھے گا اور جو کوئي اپنے قريبي عزيزوں سے بدسلوکي کرے تو خدا روز قيامت اسے اپنے سايہ رحمت سے محروم رکھے گا- جوشخص اس مہينے ميں سنتي نمازيں بجا لائے تو خدا ئے تعاليٰ قيامت کے دن اسے دوزخ سے برائت نامہ عطا کرے گا- اور جو شخص اس ماہ ميں اپني واجب نمازيں ادا کرے توحق تعاليٰ اس کے اعمال کا پلڑا بھاري کردے گا- جبکہ دوسرے لوگوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے- جو شخص اس مہينے ميں قرآن پاک کي ايک آيت پڑھے تو خداوند کريم اس کے ليے کسي اور مہينے ميں ختم قرآن کا ثواب لکھے گا، اے لوگو! بے شک اس ماہ ميں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہيں- پس اللہ تعاليٰ سے دعا کرو کہ وہ انہيں تم پر بند نہ کرے- دوزخ کے دروازے اس مہينے ميں بند ہيں- پس خدائے تعاليٰ سے سوال کرو کہ وہ انہيں تم پر نہ کھولے اور شيطانوں کو اس مہينے ميں زنجيروں ميں جکڑ ديا جاتا ہے- پس خدا سے سوال کرو کہ وہ انہيں تم پر مسلط نہ ہونے دے الخ -شيخ صدوق (عليہ الرحمہ)نے روايت کي ہے کہ جب ماہِ رمضان داخل ہوتا تو رسول اللہ تمام غلاموں کو آزاد فرماديتے اسيروں کو رہا کرديتے اور ہر سوالي کو عطا فرماتے تھے-
تحریر: صبيحه سجاد رضوي کلکتوي
پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان
روزہ کيا ہے اور يہ کسي کے لئے ہے ؟

اَيُّھٰاالنّٰاسُ اِنَّہُ قَدْاَقْبَلَ اِلَيْکُمْ شَھْرُاللّٰہِ بِالْبَرَکَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ،شَھْر ھُوَعِنْدَاللّٰہِ اَفْضَلُ الشُّھُورِ،وَاَيَّامُہُ اَفْضَلُ الاَيَّامِ وَ لَيٰاليِہِ اَفْضَلُ اللَّيٰاليِ وَسَاعٰاتُہُ اَفْضَلُ السّٰاعٰاتِ-وَ ھُوَ شَھْردُعيِتُمْ فِيْہِ اِليٰ ضِيٰافَةِ اللّٰہِ - يعني!''اے لوگو! آگاہ ہو جا ۆ کہ ماہ خدا (ماہ مبارک رمضان ) تم سے قريب ہے جو اپنے ہمراہ برکت و رحمت و مغفرت ليے آرہا ہے - يہ وہ مہينہ ہے جو خدا کے نزديک تمام مہينوں سے اعليٰ و افضل ہے اس کے دن تمام دنوں سے افضل ہيں ،اس کي راتيں تمام مہينوں کي راتوں سے برتر ہيں اور اس کے لمحات و ساعات تمام مہينوں کے لمحات و ساعات سے بہتر ہيں-يہ وہ مہينہ ہے جس ميں تم اللہ کي مہما ن نوازي ميں مدعو کيے گئے ہو-
واضح ہے کہ جو اللہ کا مہمان بن جائے وہ يقيناً! بہرہ مند و فيضياب ہوتا ہے -لہذا خدا وند عالم نے يہ ارشاد فرمايا :اے صاحبان ِ ايمان تمہارے اوپر روزے اسي طرح لکھ دئے گئے ہيں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے تاکہ اس طرح تم متقي و پرہيزگار بن جاۆ- (سورہء بقرہ 183) خالقِ اکبر نے روزے کي صورت ميں صاحبان ايمان کو اپني بارگاہ اہديت ميں آنے کي دعوت دي ہے تا کہ وہ اس سے بہرہ مند و فيضياب ہو سکيں -کيونکہ روزہ تقرب پروردگار کا وسيلہ ہے ، روزہ اسلام کا بنيادي رکن ہے ، روزہ جہاد اکبر ہے ، روزہ بدن کي زکوٰة ہے ، روزہ امير و غيرب کے فرق کو مٹا ديتا ہے ، روزہ ہر مشکل ميں مۆمن کا مددگار ہو تا ہے ،روزہ سے شيطان روسياہ ہوتا ہے ، روزہ بدن کي معنوي پاکيزگي کا موجب ہے ، روزہ جسماني صحت کا موجب ہے ، روزہ قبوليت اعمال کا وسيلہ ہے ،روزہ سينے کے وسواس کو دور کرتا ہے ، روزہ انسان کي خواہشات کي زنجيروں کو توڑ ديتا ہے ، روزہ برکات خدا وندي و رحمت الہي کے نازل ہونے کا سبب ہے ، روزہ عذاب جہنم اور ديگر خطرات کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، روزہ انسان کے دائمي و ابدي دشمن ''نفس امارہ ''کو شکست ديتا ہے، روزہ شہوات نفساني و خواہشات کے کمزور کرنے کا موجب ہے ، روزہ صرف اللہ ہي کے لئے اور وہي اس کي جزا دے گا ، روزہ منعم حقيقي کے انعامات و احسانات کا شکريہ ہے ، روزہ رکھنے سے حافظہ ميں اضافہ ہوتا ہے ، روزہ داروں کي دعائيں مستجاب ہو تيں ، روزہ دار خدا وند عالم مہمان ہو تا ہے ، روزہ دار کے منہ سے نکلنے والي بومشک سے زيادہ پاکيزہ ہو تي ہے -
روزے دار وں پر فرشتے درود و سلام بھيجتے ہيں ، فرشتے روزہ داروں کے لئے دعا کرتے ہيں ، روزہ داروں کے چہروں سے ملائکہ اپنا بدن مس کرتے ہيں ، روزہ داروں کا سانس لينا تسبيح خدا شمار ہوتا ہے ، روزہ داروں کو اس کے عمل کي جزا کئي گناہ کر کے دي جاتي ہے ، روزے سے انسان کے اندر تقوي اور پرہيزگاري کا ملکہ پيدا ہوتا ہے -
روزے سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کي ادائيگي کا جذبہ پيدا ہوتا ہے ، روزے سے انسان کے افعال حرکات ميں نظم و ضبط پيدا ہوتا ہے ، خدا وند عالم نے بہشت کا ايک دروازہ روزہ داروں سے مخصوص کر رکھا ہے -
معاذ بن جبل کہتے ہيں کہ: جنگ تبوک ميں اتني شدت کي گرمي تھي کہ لوگ سايہ کو تلاش کر رہے تھے ميں رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ و سلم کے نزديک تھا آنحضرت (ص) کے قريب آيا اور عرض کيا: يا رسول اللہ (ص) !مجھے ايسے کام کي رہنمائي کرديں جو مجھے جہنم سے نکال کر جنت کي طرف لے جائے !
آنحضرت (ص) نے فرمايا : بڑا اچھا سوال کيا ہے .. . اگر تم يہ چاہتے ہي ہو تو سنو اے معاذ!بس خدا وند عالم کي عبادت و پرستش کرو، اس کے مقابلہ ميں کسي غير کو اس کا شريک و ہمتا قرار نہ دو ، نماز کا قيام کرو، زکوٰة ِواجب کي ادائيگي کرو اور ماہ مبارک رمضان کا روزہ رکھو- اب اگر چاہو تو تمہيں ابواب ِخير کي بھي خبر دے دوں !؟ ميں نے عرض کيا: ہاں : يا رسول اللہ! فرمائيں، آنحضرت (ص) نے فرمايا: روزہ جہنم کي آگ سے بچنے کي سِپر ہے ، صدقہ معصيت پر پردہ پوشي کرتا ہے ، اور ياد الہي ميں شب بيداري کرنا موجب رضايت پروردگار ہے -
روزے کا منکر اور جان بوجھ کر بغير کسي عذر کے روزے نہ رکھنے والا اس شخص کي طرح ہے جو خدا ، رسول (ص) اور ائمہ اطہار عليہم السلام کے حکم کا منکر ہو اور ان کي معرفت نہ رکھتا ہو لہذا ايسا منکرِ احکام الہي اور مغضوب خدا ہے، جو شخص اس ماہ مبارک سے فيض ياب نہيں ہوتا وہ شقي ترين انسان ہے اسے مسلمان کہنا اور مولائے کائنات حضرت علي بن ابي طالب عليہ السلام کے شيعوں کي طرف منسوب کرنا جہالت اور جرم عظيم ہے اس لئے کہ حضرت امام رضا عليہ السلام فرماتے ہيں : ہمارے شيعہ وہ ہيں جو ہمارے (ہر ) حکم کو تسليم کريں اور ہمارے دشمنوں سے عداوت رکھيں پس جو لوگ ايسے نہ ہوں وہ ہمارے شيعہ نہيں ہيں -
اَلْلّٰہُمَّ اجْعَلْ صِيٰامِي فِيْہِ صِيٰامَ الصَّائِمِيْنَ وَ قِيٰامِي فِيْہِ قِيٰامَ الْقٰائِمِيْنَ وَ نَبِّھْنِي فِيْہِ عَنْ نَوْمَةِ الْغٰافِلِيْنَ وَھَبْ لِي جُرْمِي فِيْہِ يٰااِلٰہَ الْعٰالِمِيْنَ وَاعْفُ عَنِّي يٰاعٰافِياً عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ- خدايا! ميرا روزہ اس ميں روزہ داروں کے روزہ کي طرح قراردے اور ميري نماز، نمازگذاروں کي طرح قرار دے اور مجھ کو ہوشيارکر دے غافلوں کي نيند سے اور ميرے گناہ کو بخش دے اے عالمين کے معبود ! اور مجھ کو معاف کردے اے گنہ گاروں کے معاف کرنے والے !
تحریر: مولانا سيد سرور عباس نقوي
پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان
روزہ مادي اور معنوي، جسماني اور روحاني لحاظ سے بہت سارے فوائد کا حامل ہے- روزہ معدہ کو مختلف بيماريوں سے سالم اورمحفوظ رکھنے ميں فوق العادہ تاثير رکھتا ہے- روزہ جسم اور روح دونوں کو پاکيزہ کرتا ہے -
پيغمبر اکرم (ص) اور روزہ
پيغمبر اکرم (ص) نے فرمايا: المعدۃ بيت کل داء- والحمئۃ راس کل دواء-
معدہ ہر مرض کا مرکز ہے اور پرہيزاور (ہر نامناسب غذا کھانے سے ) اجتناب ہر شفا کي اساس اور اصل ہے-
اور نيز آپ نے فرمايا:صوموا تصحوا، و سافروا تستغنوا-
روزہ رکھو تا کہ صحت ياب رہو اور سفر کرو تاکہ مالدار ہو جاؤ- اس ليے سفر اور تجارتي مال کو ايک جگہ سے دوسري جگہ ليجانا اور ايک ملک سے دوسرے ملک ميں ليجانا، انسان کي اقتصادي حالت کو بہتر بناتا ہے اور اس کي مالي ضرورتوں کو پورا کرتا ہے-
حضرت رسول خدا (ص) نے فرمايا: لکل شي ء زکاۃ و زکاۃ الابدان الصيام
ہر چيز کے ليے ايک زکات ہے اور جسم کي زکات روزہ ہے-
حضرت علي (ع) اور روزہ
امام علي عليہ السلام نہج البلاغہ کے ايک خطبہ ميں ارشاد فرماتے ہيں: و مجاهدة الصيام في الايام المفروضات ، تسكينا لاطرافهم و تخشيعا لابصارهم ، و تذليلا لنفوسهم و تخفيفا لقلوبهم ، و اذهابا للخيلاء عنهم و لما في ذلك من تعفير عتاق الوجوه بالتراب تواضعا و التصاق كرائم الجوارح بالارض تصاغرا و لحوق البطون بالمتون من الصيام تذللا.
جن ايام ميں روزہ واجب ہے ان ميں سختي کو تحمل کر کے روزہ رکھنے سے بدن کے اعضاء کو آرام و سکون ملتا ہے- اور اس کي آنکھيں خاشع ہو جاتي ہيں اور نفس رام ہو جاتا ہے اور دل ہلکاہو جاتا ہے اور ان عبادتوں کے ذريعے خود پسندي ختم ہو جاتي ہے اور تواضع کے ساتھ اپنا چہرہ خاک پر رکھنے اور سجدے کي جگہوں کو زمين پر رکھنے سے غرور ٹوٹتا ہے- اور روزہ رکھنے سے شکم کمر سے لگ جاتے ہيں-
1: روزہ اخلاص کے ليے امتحان ہے-
حضرت علي (ع) دوسري جگہ ارشاد فرماتے ہيں: و الصيام ابتلاء الاخلاص الخلق
روزہ لوگوں کے اخلاص کو پرکھنے کے ليے رکھا گيا ہے-
روزہ کے واجب ہونے کي ايک دليل يہ ہے کہ لوگوں کے اخلاص کا امتحان ليا جائے- چونکہ واقعي معني ميں عمل کے اندر اخلاص روزہ سے ہي پيدا ہوتا ہے-
2: روزہ عذاب الٰہي کے مقابلہ ميں ڈھال ہے-
امام علي (ع) نھج البلاغہ ميں فرماتے ہيں: صوم شھت رمضان فانہ جنۃ من العقاب
روزہ کے واجب ہونے کي ايک وجہ يہ ہے کہ روزہ عذاب الٰہي کے مقابلے ميں ڈھال ہے اور گناہوں کي بخشش کا سبب بنتا ہے-
امام رضا (ع) اور روزہ
جب امام رضا (ع) سے روزہ کے فلسفہ کے بارے ميں پوچھا تو آپ نے فرمايا: بتحقيق لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم ديا گيا ہے تا کہ بھوک اور پياس کي سختي کا مزہ چکھيں- اور اس کے بعد روزہ قيامت کي بھوک اور پياس کا احساس کريں- جيسا کہ پيغمبر اکرم (ص) نے خطبہ شعبانيہ ميں فرمايا: واذکروا بجوعکم و عطشکم جوع يوم القيامۃ و عطشہ- اپنے روزہ کي بھوک اور پياس کے ذريعے قيامت کي بھوک و پياس کو ياد کرو- يہ ياد دہاني انسان کو قيامت کے ليے آمادہ اور رضائے خدا کو حاصل کرنے کے ليے مزيد جد و جہد کرنے پر تيار کرتي ہے-
امام رضا (ع) دوسري جگہ ارشاد فرماتے ہيں- روزہ رکھنے کا سبب بھوک اور پياس کي سختي کو درک کرنا ہے تا کہ انسان متواضع، متضرع اور صابر ہو جائے- اور اسي طرح سے روزہ کے ذريعے انسان ميں انکساري اور شہوات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے-
ہاں، روزہ سب سے افضل عبادت ہے- شريعت ا سلامي اور احکام خدا وندي نے شہوات کو حد اعتدال ميں رکھنے کے ليے روزہ کو وسيلہ قرار ديا ہے اور نفس کو پاکيزہ بنانے اور بري صفات اور رذيلہ خصلتوں کو دور کرنے کے ليے روزہ کو واجب کيا ہے- البتہ روزہ رکھنے سے مراد صرف کھانے پينے کو ترک کرنا نہيں ہے- بلکہ روزہ يعني " کف النفس" نفس کو بچانا- جيسا کہ رسول خدا (ص) نے فرمايا: روزہ ہر انسان کے ليے سپر اور ڈھال ہے اس ليے روزہ دار کو چاہيے کہ بري بات منہ سے نہ نکالے اور بيہودہ کام انجام نہ دے-
پس روزہ انسان کو انحرافات، لغزشوں اور شيطان کے فريبوں سے نجات دلاتاہے- اور اگر روزہ دار ان مراتب تک نہ پہنچ سکے تو گويا اس نے صرف بھوک اور پيا س کوبرداشت کيا ہے اور يہ روزہ کا سب سے نچلا درجہ ہے-
بشکریہ : اہل البيت پورٹل
قرآن کي روشني ميں ماہ رمضان کي فضيلت

ماہ رمضان برکتوں والا مہينہ ہے - اس ماہ کي عظمت کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسي پاک مہينے ميں ہوا اور يہ وہ کتاب ہے جو قيامت تک کے انسانوں کے ليۓ ہدايت کا ذريعہ ہے -
رمضان کے مہينہ کي فضيلت کي وجہ اس مہينہ ميں قرآن کا نازل ہونا ہے { شھر رمضان الذي انزل فيہ القرآن ھديً للنّاس } سورہ بقرہ/ 185
اسي وجہ سے قرآن اور ماہ مبارک رمضان ميں ايک خاص رابطہ پايا جاتا ہے- جيسے موسم بھار (بسنت) ميں انسان کا مزاج شاداب رہتا ہے اور گل و گياہ سر سبز و شاداب رہتے ہيں- اسي طرح قرآن بھي دلوں کيلۓ موسم بھار کے مانند ہے کہ جس کے پڑھنے حفظ کرنے اور اسکے مطلب کو سمجھنے ميں انسان کا دل ہميشہ ايک خاص شادابي کا احساس کرتا ہے-
جيسا کہ امام علي (ع) فرماتے ہيں:{ تعلموا کتاب اللہ تبارک و تعالي فانہ احسن الحديث و ابلغ الموعظہ و تفقھوا فيہ فانہ ربيع القلوب)
کتاب خداوند کو پڑھو کيونکہ اس کا کلام بہت لطيف و خوبصورت ہے اور اس کي نصيحت کامل ہے اور اسے سمجھو کيونکہ وہ دلوں کيلۓ بہار ہے- اسي بناء پر قرآن اور رمضان کے مہينہ کا رابطہ آپس ميں بہت گہرا ہے -
قرآن کو پڑھنے اور اسميں غور و فکر کر نے کے بعد انسان اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ حيات طيبہ تک پہنچ جاۓ اور شب قدر کو درک کر سکے-
رسول اکرم (ص) خطبہ شعبانيہ ميں فرماتے ہيں : رمضان کے مہينہ ميں قرآن کي ايک آيت کي تلاوت کا ثواب اس ثواب کے برابر ہے جو دوسرے مہينوں ميں قرآن ختم کرنے سے حاصل ہوتا ہے-
يا اءيّھا الّذين آمنوا کتب عليکم الصّيام کما کتب علي الّذين من قبلکم لعلّکم تتّقون .
ترجمہ:اے صاحبان ايمان تمہارے اوپر روزے اسي طرح لکھ ديئے گئے ہيں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شايد تم اس طرح متّقي بن جاۆ.
رمضان کا مہينہ ايک مبارک اور باعظمت مہينہ هے يہ وہ مہينہ هے جس ميں مسلسل رحمت پروردگار نازل هوتي رہتي هے اس مہينہ ميں پروردگار نے اپنے بندوں کو يہ وعدہ ديا هے کہ وہ ان کي دعا کو قبول کرے گا . يہي وہ مہينہ هے جس ميں انسان دنيا و آخرت کي نيکياں حاصل کرتے هوئے کمال کي منزل تک پہنچ سکتا هے.اور پچاس سال کا معنوي سفر ايک دن يا ايک گھنٹہ ميں طے کر سکتا هے. اپني اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کي ايک فرصت هے جو خدا وند متعال نے انسان کو دي هے . خوش نصيب ہيں وہ لوگ جنہيںايک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصيب هوا اور يہ خود ايک طرح سے توفيق الھي هے تا کہ انسان خدا کي بارگاہ ميں آکراپنے گناهوں کي بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ايسے لوگ ہيںجو پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے ليکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کي طرف منتقل هو چکے ہيں . (جاری ہے)
http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=177153
اللہ کا مہینہ
- قال رسول الله صلى الله عليه وآله: شَعبانُ شَهري، و شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ اللهِ(1)؛
شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔
- قال
رسول الله صلى الله عليه وآله: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ اللهِ، و شَهرُ
شَعبانَ شَهري؛ شَعبانُ المُطَهِّرُ، و رَمَضانُ المُكَفِّرُ (2)؛
رمضان کا مہینہ اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے۔ شعبان پاک کرنے والا اور رمضان گناہوں کو ڈھانپنے والا ہے۔
- قال رسول الله صلى الله عليه وآله: رَمَضانُ شَهرُ اللهِ، و هُوَ رَبيعُ الفُقَراءِ (3)؛
رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ فقیروں کی بہار ہے۔
- الإمام عليّ عليهالسلام: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ اللهِ، و شَعبانُ شَهرُ رَسولِ الله صلىاللهعليهوآله، و رَجَبٌ شَهري(4)؛
رمضان اللہ کا مہینہ ہے شعبان پیغمبر کا اور رجب میرا مہینہ ہے۔
ضیافت الہی کا مہینہ
- قال
رسول الله صلى الله عليه وآله ـ في وَصفِ شَهرِ رَمَضانَ ـ : هُوَ
شَهرٌ دُعيتُم فيهِ إلى ضِيافَةِ اللهِ، و جُعِلتُم فيهِ مِن أهلِ كَرامَةِ
اللهِ، أنفاسُكُم فيهِ تَسبيحٌ، و نَومُكُم فيهِ عِبادَةٌ، ...(5)
پیغمبر
اکرم (ص) نے ماہ رمضان کی تعریف میں فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں
ضیافت الہی پر دعوت دی گئی ہے اس میں تمہاری سانسیں تسبیح اور تمہاری
نیندیں عبادت ہیں۔ اس میں تمہارا عمل مقبول ہے اور تمہاری دعائیں مستجاب۔
- قال
رسول الله صلى الله عليه وآله: إذا كانَ يَومُ القِيامَةِ يُنادِي
المُنادي: أينَ أضيافُ اللّهِ؟ فَيُؤتى بِالصّائِمينَ ... فَيُحمَلونَ
عَلى نُجُبٍ مِن نورٍ، و عَلى رُؤوسِهِم تاجُ الكَرامَةِ، و يُذهَبُ بِهِم
إلَى الجَنَّةِ (6)؛ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: جب قیامت ہو گی
تو ایک منادی ندا دے گا: کہاں ہیں اللہ کے مہمان؟ پس روزے داروں کو لایا
جائے گا ۔۔۔ انہیں بہترین سواریوں پر سوار کیا جائے گا اور ان کے سروں پر
تاج سجایا جائے گا اور انہیں بہشت میں لے جایا جائے گا۔
- قال
الامام عليّ عليهالسلام ـ مِن خُطبَتِهِ في أوَّلِ يَومٍ مِن شَهرِ
رَمَضانَ ـ : أيُّهَا الصّائِمُ، تَدَبَّر أمرَكَ؛ فَإِنَّكَ في شَهرِكَ
هذا ضَيفُ رَبِّكَ، اُنظُر كَيفَ تَكونُ في لَيلِكَ و نَهارِكَ؟ و كَيفَ
تَحفَظُ جَوارِحَكَ عَن مَعاصي رَبِّكَ؟ اُنظُر ألاّ تَكونَ بِاللَّيلِ
نائِما و بِالنَّهارِ غافِلاً؛ ... (7)؛
امام علی علیہ السلام نے
ماہ رمضان کے پہلے دن خطبے میں فرمایا: اے روزہ دارو! اپنے امور میں تدبر
کرو، کہ تم اس مہینہ میں اللہ کے مہمان ہو دیکھو کہ تمہاری راتیں اور دن
کیسے ہیں؟ اور کیسے تم اپنے اعضاء و جوارح کو اپنے پروردگار کی معصیت سے
محفوظ رکھتے ہو؟ دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم رات کو سو جاو اور دن میں اس کی
یاد سے غافل رہو۔ پس یہ مہینہ گزر جائے گا اور گناہوں کا بوجھ تمہاری
گردنوں پر باقی رہ جائے گا۔ اور جب روزے دار اپنی جزا حاصل کریں گے تو تم
سزا پانے والوں میں سے ہو گے۔ اور جب انہیں انکا مولا انعام سے نوازے گا تو
تم محروم ہو جاو گے اور جب انہیں خدا کی ہمسائگی نصیب ہو گی تو تمہیں دور
بھگا دیا جائےگا۔
- قال الإمام الباقر
عليهالسلام: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ رَمَضانَ، وَالصّائِمونَ فيهِ أضيافُ
اللّهِ و أهلُ كَرامَتِهِ، مَن دَخَلَ عَلَيهِ شَهرُ رَمَضانَ فَصامَ
نَهارَهُ و قامَ وِردا مِن لَيلِهِ وَاجتَنَبَ ما حَرَّمَ اللهُ عَلَيهِ،
دَخَلَ الجَنَّةَ بِغَيرِ حِسابٍ (8) ؛
ماہ رمضان، ماہ رمضان،
اس میں روزہ دار اللہ کے مہمان اور اس کے کرم کے سزاوار ہیں۔ جس شخص پر ماہ
رمضان وارد ہو اور وہ روزہ رکھے اور رات کے ایک حصے میں اللہ کی عبادت
کرے نماز پڑھے اور جو کچھ اللہ نے اس پر حرام کیا ہےاس سے پرہیز کرے بغیر
حساب کے جنت میں داخل ہو گا۔
تمام مہینوں کا سردار
- قال رسول الله صلى الله عليه وآله: شَهرُ رَمَضانَ سَيِّدُ الشُّهورِ (9)؛
ماہ رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے۔
- قال
الإمام الرضا عليهالسلام: إذا كانَ يَومُ القِيامَةِ زُفَّتِ الشُّهورُ
إلَى الحَشرِ يَقدُمُها شَهرُ رَمَضانَ عَلَيهِ مِن كُلِّ زينَةٍ حَسَنَةٍ،
فَهُوَ بَينَ الشُّهورِ يَومَئِذٍ كَالقَمَرِ بَينَ الكَواكِبِ، فَيَقولُ
أهلُ الجَمعِ بَعضُهُم لِبَعضٍ: وَدِدنا لَو عَرَفنا هذِهِ الصُّوَرَ!
...(10)
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا
تو تمام مہینوں کو محشر میں لایا جائے گا اس حال میں کہ ماہ رمضان زیورات
سے آراستہ سب سے آگے ہو گا۔ اس دن ماہ رمضان بقیہ مہینوں میں ایسے ہو گا
جیسے چاند باقی ستاروں کے درمیان ہے۔ پس محشر میں لوگ ایک دوسرے سے کہیں
گے: ہم ان چہروں کو پہچاننا چاہتے تھے۔
خدا کی جانب سے ایک منادی ندا دے
گا : اے مخلوق خدا! یہ مہینوں کے چہرے ہیں کہ جو اس وقت سے اللہ کی بارگاہ
میں موجود تھے جب سے زمین و آسمان خلق ہوئے کہ ان کی تعداد بارہ ہے اور
انکا سردار ماہ رمضان ہے۔ میں نے اسے ظاہر کیا ہے تاکہ اس کی برتری کو دیگر
مہینوں پر دکھلا سکوں تاکہ وہ مردوں اور عورتوں میں سے جو میرے بندے ہیں
انکی شفاعت کرے اور میں اس کی شفاعت قبول کروں ۔
شب قدر ماہ رمضان میں ہے
- قال
رسول الله صلى الله عليه وآله: قَد جاءَكُم شَهرُ رَمَضانَ؛ شَهرٌ
مُبارَكٌ ... فيهِ لَيلَةُ القَدرِ خَيرٌ مِن ألفِ شَهرٍ، مَن حُرِمَها
فَقَد حُرِمَ(11)؛
ماہ رمضان تمہارے پاس آ چکا ہے جو برکتوں
والا مہینہ ہے۔۔۔ کہ جس میں شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ محروم وہ
شخص ہے جو اس رات محروم رہ جائے۔
- سُئِلَ رَسولُ اللهِ صلى الله عليه وآله عَن لَيلَةِ القَدرِ، فَقالَ: «هِيَ في كُلِّ رَمَضانَ»(12) ؛
پیغمبر خدا (ص) سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: شب قدر ہر رمضان میں پائی جاتی ہے۔
- مسند
ابن حنبل عن أبي مرثد: سَأَلتُ أباذَرٍّ قُلتُ: كُنتَ سَأَلتَ رَسولَ الله
صلى الله عليه وآله عَن لَيلَةِ القَدرِ؟ قالَ: أنَا كُنتُ أسأَلَ
النّاسِ عَنها يعني أشدّ الناس مسألةً عنها. قالَ: قُلتُ: يا رَسولَ اللهِ،
أخبِرني عَن لَيلَةِ القَدرِ أ في رَمَضانَ هِيَ أو في غَيرِهِ؟ قالَ:
«بَل هِيَ في رَمَضانَ.»
قالَ: قُلتُ:
تَكونُ مَعَ الأَنبِياءِ ما كانوا فَإِذا قُبِضوا رُفِعَت، أم هِيَ إلى
يَومِ القِيامَةِ؟ قالَ: «بَل هِيَ إلى يَومِ القِيامَةِ.»(13)
میں نے ابوذر سے پوچھا: کیا آپ نے رسول خدا(ص) سے شب قدر کےبارے میں معلوم کیا ہے؟
کہا: میں سب سے زیادہ اس کے سلسلے میں پوچھتا رہا ہوں۔
(
جناب ابوذر نے کہا) میں نے رسول خدا(ص) سے پوچھا: اے رسول خدا(ص)! مجھےشب
قدر کےبارےمیں آگاہ کریں کہ کیا شب قدر رمضان میں ہے یا کسی اور مہینےمیں؟
فرمایا: ماہ رمضان میں۔
میں نے کہا: کیا جب تک پیغمبر زندہ ہیں تب تک ہے یا انکی رحلت کے بعد بھی شب قدر قیامت تک ماہ رمضان میں رہے گی؟
فرمایا: شب قدر قیامت تک باقی رہے گی۔
حوالہ جات
1- فضائل
الأشهر الثلاثة: 44/20، الأمالي للصدوق:71/38 ، تحف العقول: 419 ،
الإقبال: 3 / 293، روضة الواعظين:441، دعائم الإسلام: 1/283، بحارالأنوار:
97/68/4 .
2- كنز العمّال: 8 / 466 / 23685 نقلاً عن ابن عساكر و ج 12 / 323 / 35216 نقلاً عن الديلمي وكلاهما عن عائشة .
3- ثواب
الأعمال: 84 / 5، النوادر للأشعري: 17/2 ، فضائل الأشهر الثلاثة: 58/37،
الجعفريّات: 58، النوادر للراوندي: 134/ ، بحارالأنوار: 97/75/26.
4- المقنعة: 373، مسارّ الشيعة: 56، مصباح المتهجّد: 797 .
5- فضائل
الأشهر الثلاثة: 77/61، الأمالي للصدوق: 84/4، عيون أخبار الرضا
عليهالسلام:1/295/53، الإقبال:1/26، بحارالأنوار: 96/356/25.
6- مستدرك الوسائل: 4/22/4079 نقلاً عن تفسير أبي الفتوح الرازي.
7- فضائل الأشهر الثلاثة: 108 / 101 .
8- فضائل الأشهر الثلاثة: 123/130.
9- شرح
الأخبار : 1/ 223 / 207، الفضائل: 125، بحارالأنوار:40/54/89؛ فضائل
الأوقات للبيهقي: 89/205، شُعَب الإيمان:3/314/3637 و ص 355/3755 ، كنز
العمّال: 8/482/23734 .
10- فضائل الأشهر الثلاثة: 110/102 عن عبدالله بن عامر عن أبيه.
11- تهذيب
الأحكام: 4/152/422، الأمالي للمفيد: 112/2 و301 /1 ، الأمالي للطوسي: 74 /
108و ص 149/ 246 ، بحارالأنوار: 97/17/34؛ سنن النسائي: 4/129، مسند ابن
حنبل: 3/8/7151 و ص 412/9502.
12- سنن أبي داود: 2/54/1387، السنن الكبرى: 4/506/8526 .
13- مسند ابن حنبل: 8/117/ 21555، المستدرك على الصحيحين:1/603/1596و ج2/578/3960، السنن الكبرى: 4/505/ 8525 .
بقلم: افتخار علی جعفری
رمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنیلفظ رمضان مادہ’’ رَمَضَ‘‘ سے ہے۔ رمض کے معنی سورج کا شدت کے ساتھ ریت پر چمکنا کے ہیں۔(۱) ’’ ارض رمضا‘‘ اس زمین کو کہا جاتا ہے جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: «افرأیتم جزع احرکم من الشوکة تعبه و الرمضاء تحرقه...؛ کیا تم لوگوں نے اس وقت اپنی کمزوری اور بے تابی کا احساس کیا ہے جب تم ایسی زمین پر چل رہے ہو کہ جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو؟ پس کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جب آگ کے دو شعلوں کے درمیان ہو گے؟(۲) کہا جاتا ہے کہ رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے(۳)
رمضان اصطلاح میں قمری مہینوں میں کا نواں مہینہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
«شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن».(۴) اس مہینہ کو رمضان کا نام کیوں دیا گیا اس کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے: چونکہ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا اس وقت یہ مہینہ شدید گرمی کے عالم میں واقع ہوا تھا(۵)۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا: رمضان، گناہوں کو جلا دینے والا مہینہ ہے خداوند عالم اس مہینے میں اپنے بندوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے اس وجہ سے اس مہینہ کا نام رمضان رکھا گیا‘‘۔(۶)
رمضان تنہا وہ مہینہ ہے جس کا نام قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے۔
اسلام کے تمام احکام اور دستورات بتدریج اور دھیرے دھیرے نازل ہوئے ہیں۔ اس بنا پر ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال دو شعبان کو نازل ہوا۔(۷)
روزوں کے واجب ہونے کی دلیل خود قرآن کریم کی آیت ہے: «یا ایها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام؛ اے صاحبان ایمان تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں پس تم میں سے جو حضر(وطن) میں ہے وہ روزے رکھے(۸)۔
روزے گزشتہ امتوں پر بھی واجب تھے۔ قرآن کریم نے صراحت سے اس بات کو بیان کیا ہے: کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم؛ تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں جیسا کہ تم میں سے پہلی امتوں پر فرض کئے تھے‘‘۔(۹)
موجودہ توریت اور انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصارا کے درمیان بھی روزے پائے جاتے تھے۔
بعض قومیں اس وقت روزہ رکھا کرتی تھی جن ان پر کوئی مصیبت یا بلا نازل ہوتی تھی۔ جیسا کہ کتاب قاموس میں آیا ہے:
روزہ گزشتہ تمام قوموں اور ملتوں میں پایا جاتا تھا وہ قومیں غیر متوقع غم و اندوہ کے نازل ہوتے وقت روزہ رکھتی تھیں۔
توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب موسی نے چالیس دن روزے رکھے۔ جیساکہ توریت میں ہے: جب میں طور سینا پر پہنچا کہ خدا سے صحیفے حاصل کروں تو میں چالیس دن اس پہاڑ پر رہا نہ کھانا کھایا نہ پانی پیا۔(۱۰)
مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: روزے کا عبادت ہونا ایک ایسا امر ہے جو انسانی فطرت کے ساتھ سازگار ہے اور وہ قومیں جو ادیان آسمانی کے تابع نہیں تھیں جیسے مصر، یونان اور روم کی قدیم امتیں یا ہندوستان کے بت پرست وہ لوگ بھی اپنے اپنے عقائد کے مطابق روزہ رکھتے تھے اور ابھی بھی رکھتے ہیں۔ (۱۱)
حوالہ جات
1. مجمع البحرین،ج2، ص 223، واژه رمض.
2. بحارالانوار،ج8، ص 306.
3. مفردات راغب، واژه رمض.
4. بقره (2) آیه 185.
5. مجمع البحرین، ج2، ص 223 ، واژه رمض.
6. مستدرک الوسائل، ج7، ص 487 و 546.
7. محمد ابراهیم آیتی، تاریخ اسلام، ص 298.
8. بقره (2) آیه 183 تا 185.
9 . وہی حوالہ.
10 . تفسیر نمونه، ج1، ص 633، بنقل از قاموس کتاب مقدس ، ص 28 ؛ تورات، سفر تثنیه،فصل 9 ، شماره 9.
11. تفسیر المیزان، ج2، ص 7.
سیدہ خدیجہ (س) 65 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دست مبارک سے انہیں حجون میں واقع قبرستان ابوطالب (علیہ السلام) میں سپرد خاک کیا. حضرت خدیجہ (س) حضرت ابوطالب (ع) کی وفات کے کچھ ہی دن بعد انتقال کرگئیں چنانچہ اسلام کے ان دو محافظین کی وفات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہایت محزون ہوئے اور سنہ دس بعد از بعثت کو عام الحزن (یعنی حزن و غم کا سال) کا نام دیا. بے شک ابوطالب (ع) اسلام اور نبی اسلام کے لئے عظیم سہارا تھے اور حضرت خدیجہ (س) اسلام کے لئے اپنی پوری ہستی لٹانے کی بدولت اسلام کی بے مثال خاتون اور حضرت رسول (ص) کی عظیم زوجہ تھیں اور ان کی دولت خرچ کرکے اسلام کو رونق ملی تھی چنانچہ حق یہی تھا کہ ان دو بزرگوں کی وفات کے سال کو عام الحزن کا نام دیا جاتا. ان دو بزرگوں کی وفات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ گئے؛ ایک طرف سے آپ (ص) کے مربی اور سرپرست حضرت ابوطالب (ع) دنیا سے اٹھ گئے تھے اور دوسری طرف سے آپ (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) کی والدہ ماجدہ انتقال کرگئی تھیں اور اپنی بے مثال شریک حیات کو کھوگئے تھے. (1) اس کے بعد مشرکین مکہ کی جسارتوں میں اضافہ ہوا اور رسول اللہ (ع) کو وحی ہوئی کہ اب مکہ آپ کے لئے مناسب جگہ نہیں ہیے اور اب آپ کو مکہ چھوڑ دینا چاہئے.

رسول اللہ (ص): خدا کی قسم! اس (خدا) نے مجھے خدیجہ کا نعم البدل نہیں دیا
عائشہ
نے کہا: پيامبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم گھر سے نہیں نکلتے تھے مگر یہ
کہ حضرت خدیجہ (س) کو یاد کرلیا کرتے تھے اور ان کو نیکی کے ساتھ یاد کرتے
اور ان کی مدح و ثناء بیان کرتے؛ ایک روز مجھے زنانہ غیرت نے آہی لیا اور
میں نے کہا: «وہ ایک بڑھیا کے سوا کچھ بھی نہ تھیں اور خدا نے اس سے بہتر
خاتون (یعنی عائشہ) آپ کو عطا کی ہے!». چنانچہ رسول اللہ (ص) غضبناک ہوئے
یہاں تک کہ شدت غضب سے آپ (ص) کے ماتھے کے اوپر کے بال ہل رہے تھے اور اسی
حالت میں آپ (ص) نے فرمایا: نہیں! خدا کی قسم! ان سے بہتر مجھے خدا نے ان
کے عوض کے طور پر عطا نہیں کیا ہے؛ وہ مجھ پر ایمان لائیں جبکہ لوگ کافر
تھے اور انہوں نے میری تصدیق کی جبکہ لوگ مجھے جھٹلارہے تھے اور اپنے اموال
میرے مقصد کے لئے قربان کردئیے جبکہ لوگوں نے مجھے میرے اپنے اموال سے
محروم کیا اور خدا نے مجھے ان سے فرزند عطا کئے جبکہ دوسری زوجات سے مجھے
خدا نے اولاد کے حوالے سے محروم رکھا "ان ہی کے بطن سے خدا نے مجھی فاطمہ
زہراء – مصداق سورہ کوثر – عطا فرمائی» (2)
مأخذ:
1- اسد الغابه، مسار الشيعه، مفيد - نقل از رمضان در تاريخ.
2- اسد الغابه مسار الشيعه مفيد - نقل از رمضان در تاريخ.
.............
حضرت خدیجہ سلام اللہ کے وصال کی مناسبت سے فارسی شاعری
اشک نبی(ص)
نیست زنی در سخا به پای خدیجه
چشم فلک خیره بر وفای خدیجه
بنت «خُوَیلِد» که چرخ پیر عقیم است
تا که بزاید زنی به جای خدیجه
نقل محافل بود سخاوت حاتم
حاتم طایی بود گدای خدیجه
رفعت طبع و صفای باطن وی را
کس نشناسد مگر خدای خدیجه
یک زن و اینقدر جانفشانی و ایثار!
چشمِ خِرَد مات بر عطای خدیجه
مؤمنه اول است در صف اسلام
گشته خدا راضی از رضای خدیجه
بـین ز کــجا تـا کـجا رسیـد مقامش
اشکِ نبی ریـخت در عـزای خدیجـه
یار محمد (ص)
همت سر تسلیم به دیوار تو سوده
پیش از تو زنی لب به شهادت نگشوده
تو در دل سختی به پیمبر گرویدی
هر بار بلا را به سر و دوش کشیدی
آن روز که پیغمبر اسلام شبان بود
در سینه او سِرّ خداوند نهان بود
پیش از همه پیغمبریاش بر توعیانبود
ایمان تو پروانه آن شمع جهان بود
حـق بر همهْ زنهای جهان سروریاتداد
با خواجه عالم شرف همسریات داد
تنها نشدی همسر و دلدار محمد(ص)
در سختترین روز شدی یار محمد(ص)
.: Weblog Themes By Pichak :.

