==== *خصوصی اشاعت* =====
*الہی اورغیرالہی ادیان میں*
*مہدویت اور انتظار کا عقیدہ*
*تحریر✍️ : محمدعلی شریفی*
دنیا جس بحران سے دوچار ہے اس بحران سے نکالنے کیلئے ایک صالح اور بے عیب نظام کی ضرورت ہے اس لئے کہ انسانوں کے بنائے گئے تمام نظام موجودہ صورتحال سے نمٹنے سے عاجز اور ناتواں ہیں پوری دُنیا نے دیکھ لیا کہ دنیا کی تمام طاقتیں اپنی پوری کوششوں کے باوجود اس بحران سے نکالنے میں ناکام رہی ہیں اور ان حکومتوں کی صورتحال زیادہ خراب ہے جو دنیا کو چلانے کا خواب دیکھ رہےہیں جب یہ حکمران ایک ملک کو بحران سے نکالنے میں ناکام رہے تو اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کیا اس بیماری کی اصل علت مذہب ہے اس حالت سے مایوس انسانوں کو تب نجات ملے گی جب الله کے دکھائے ہوے ہادی کی اطاعت کریں گے۔
اس ہادی برحق پر عقیدہ کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ تمام ادیان کا مشترک عقیدہ ہے جس کو کبھی مسیح ، کبھی مہدی اورکبھی کسی اور نام سے یاد کیا جاتا ہے
عالمی اور جہانی مصلح کے انتظار کا تفکر، روشن مستقبل کی امید ہے یہ امید ہمیشہ سے انسان کی الہی فطرت میں موجود تھی ادیان الہی اور بشری مکاتب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے مختلف مکاتب کے پیروکار ایک آسمانی موعود کہ جس کے بارے میں دینی متون میں تذکرہ ملتا ہے اور وعدہ دیا گیا ہے، عقیدہ رکھتے ہیں۔
🔖ہندووں کے عقیدے کے مطابق
حکومت جہانی اورشخص موعود کا عقیدہ ایک عالمی نظریہ ہے، تمام آسمانی ادیان یہاں تک کہ لادینی مکاتب فکر بھی اس عقیدے میں مشترک نظر آتے ہیں لیکن اس شخصیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس کے ظہور سے پہلےاور بعد کے حوادث کے بارے میں اوراس انقلاب کا بانی اور منجی عالم بشریت کون ہوگا ؟مختلف نظریئے پائے جاتے ہیں
*یہاں چند ادیان کا تذکرہ کرتے ہیں*
اب ہم اختصارکےساتھ آسمانی کتابوں سے چند نمونے ان آیات کے پیش کرتے ہیں جو آخری زمانے میں عالمی حکومت زمین کےپاک اور صالح افراد کے ہاتھوں میں ہوگی اور دنیا والے خواہ جس مکتب سے بھی ہوں ، اس منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے لمحہ بہ لمحہ انتظار کررہے ہیں
*دین مسیح میں مہدویت کا تصور :*
عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ جس ہستی کے ہم سب منتظر ہیں وہ جناب عیسی مسیحؑ ہیں ۔ یہودیوں کےہاتھوں قتل ہونے کے بعد ﷲ تعالی نے انہیں دوبارہ زندگی دی اور آسمان پر لے گیا تاکہ آخری زمانہ میں انہیں دوبارہ زمین پر بھیج دیا جائے اور ان کے ذریعے ہی وعدہ الہی پورا ہو
*انجیل اور مہدویت کا تصور۔۔۔ :*
انجیل کی بہت سی جگہوں پر اس عقیدہ کا تذکر ملتا ہے جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے :
اور عنقریب جنگوں اور اسکی افواہوں کو سنیں تو کبھی ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے بے صبری کا مظاہرہ کریں، اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ، لیکن وہ دن تاریخ کا اختتامی زمانہ نہیں۔ ؛
🔰دوسری جگہ آیاہے ،، اپنی کمر کو باندھ لو اور اپنے چراغوں کو روشن رکھو اور رات میں اس طرح رہو جیسے کوئی اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے،،۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ افراد جن کا مالک آنے کے بعد ان کو جاگتا ہوا پائے...؛
،،مہدی اور عیسیٰ دجال اور شیطان کو قتل کریں گے؛؛
*زبور میں تذکرہ ۔۔۔۔:*
زبور کے نظریہ مہدویت کو قرآن میں بھی بیان کیاہےسورہ انبیاء آیت نمبر 105 میں اللہ تعالی کاارشاد ہوتاہے !!اورہم نےذکر(تورات ) کےبعد زبورمیں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کےوارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے،،
آخری زمانےمیں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئےگا اس کے سر پر بادل سایہ فگن ہوگا۔
" آخری زمانے میں تمام دُنیا توحید کی ماننے والی ہو جائے گی جو آخری زمانے میں آئے گا اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہوگا،،
،،ان کے ظہور کے بعد ساری دُنیا کے دُکھ مٹا دیئے جائیں گے،
ظالموں اور منافقوں کو ختم کر دیا جائے گا ، یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا ،،نرجس خاتون،،کا بیٹا ہو گا
*دین زرتشتی کے ہاں مہدویت کا تصور*
زرتشتیوں کا عقیدہ ہے: ایک مرد سرزمین نازیان سے جو ہاشم کی ذریت سے ہوگا خروج کرےگا۔ اپنے جد کے دین اور فراوان لشکر کے ساتھ قیام کرئےگا۔،
زمینوں کو آباد کرےگا اور اس کو عدل سے بھردے گا ۔ ایک اور جگہ رسول خدا(ص) کی نبوت کی بشارت کے بعد آیا ہے : وہ پیامبر جو خورشید عالم اور شاہ زمان سے معروف ہیں اس کی بیٹی کی نسل سے ایک مرد خلافت پر پہنچے گا ، دنیا میں یزدان کی حکم سے حکومت کرےگا،
وہ اس پیامبر کا آخری خلیفہ ہے درمیان عالم یعنی مکہ میں، اس کی حکومت تا روز قیامت قائم رہےگی آئین زرتشت اپنی تمام تر تحریفات کے باوجود ، مسئلہ مہدویت کے بارے میں مکمل بحث کی ہے ۔
*دین یہود میں منجی کا تصور :*
یہودیوں کا نظریہ ہے کہ وہ شخص جناب إسحاق کی نسل سے ہوگا ابھی پیدا نہیں ہوا بعد میں آئےگا؛ چنانچہ توریت کا یہودی مفسر حنان إیل ،سفر تکوین نمبر17إصحاح نمبر 20 کے ذیل میں لکھتا ہے : اس آیت کی پیشن گوئی سے ہزاروں سال گزر گئے یہاں تک عرب حضرت إسماعیلؑ کی نسل سے ایک عظیم امت کی شکل میں پورے عالم پر غالب آیا ہے کہ جس کے جناب إسماعیلؑ مدّتوں سے منتظر تھے
لیکن ذریہ اسحاقؑ میں ہمارے گناہوں کی وجہ سے وعدہ الہی اب تک پورا نہیں ہوا ہے پھر بھی ہمیں اس حتمی وعدے کے پورے ہونے میں نااُمید نہیں ہونا چاہئیے
*یہودیوں کا عصر حاضر میں مسیحا کا انتظار ۔۔۔*۔۔
سوسال پہلے یہودی مفکرین نے کہا ہماری قوم نے صدیاں مسیحا کا انتظارکیا خواریاں اور ذلتیں برداشت کیں اب ہمارے صبرکا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اب ہم خود سے قیام شروع کریں اوراس انتظار کی گھڑی کو ختم
کردیں اور فلسطین ،،جوکہ پہلے یہودیوں کامرکزتھا ،،کو لینے کیلئے اقدام کریں
یہ جماعت بعد میں صہیونیست سے معروف ہوئی ان کو اکثر یہودیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا چونکہ ان کے دینی عقیدے کے مطابق صرف مسیحا ایسے کام کیلئے قدم اٹھا سکتا ہے
لیکن صہیونستیوں نے صبر؛ حوصلہ اور تبلیغات کے ذریعے بہت سے یہودیوں کو قانع کیا اور دنیاکےمختلف ممالک سےلاکر فلسطین میں لاکربسانے میں کامیاب ہوئے۔اور غاصب صیہونی اسرائیل حکومت تشکیل دی بہت سے یہودی اب بھی اپنے دینی عقیدے پر قائم ہیں اور مسیحا کے انتظار میں ہیں اوراسرائیلی ریاست کے مخالف ہیں
*ہندو مذہب میں منجی کا تصور*
"آخری زمانے میں زمین ایک ایسے مرد کے ہاتھوں میں آئے گی کہ خدا جس کو دوست رکھتا ہے وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہوگا اُس کا نام "مبار ک و نیک"ہے۔
کتاب ،،اوپانیشاد،،میں بیان ہوا ہے کہ آخری زمانے میں مظہر وشنود سفید گھوڑے پر سوار ہاتھوں میں برہنہ تلوار لئے ظہور کرے گا دم دار ستارے کی مانند چمکے گا مجرموں کو ہلاک کرے گا ایک نئی زندگی پیدا کرے گا طہارت و پاکیزگی کو پلٹائے گا
ہندؤں نے اپنی کتاب مقدس "وید" میں لکھا کہ "دنیا کی خرابی کے بعد آخری زمانہ میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو خلائق کا پیشوا ہوگا۔ اس کا نام "منصور" ہوگا ۔ وہ ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں کرکے اپنے دین پر لے آئے گا اور مومن و کافر میں سے ہر ایک کو پہچانتا ہوگا
*دین اسلام میں تفکرمہدویت ۔۔:*
تمام مسلمانون کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آپ (ع) کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح بیان ہوا ہے۔۔حضرت اسماعیل(ع) کی نسل سے خاتم النبیین(ص) اورآپ کی نسل سے فاطمہ زہرا(س) اورآپ سے امام حسین(ع) اوران کی نسل سے مہدی موعود ہیں۔
مسلمان بالخصوص مذہب تشیع میں انتظار یعنی امام زمانہ (عج) کی امامت و ولایت پر، اس کے ظہور پر مضبوط ایمان رکھنا اور ساتھ ہی افراد صالح کے ہاتھوں عالمی حکومت کے آغاز پر عقیدہ رکھنا ہے
اسی لئے مسلمان قرآن کے واضح وعدوں پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ الہی قانون کے مطابق دنیا خدا کے وعدوں اور قانوں کے مطابق چل رہی ہے ۔ اگرچہ دنیا کے چند روز ظالموں کے فائدہ میں جارہے ہیں لیکن ایک دن عالمی حکومت ، صالح اور حق پرست افراد کے ہاتھوں میں آئے گی اور خدائی قانون کے مطابق پوری دنیا میں عدل و انصاف برقرار ہوگا
مسلمانوں کےدوسرے فرقوں اور مکتب اہل بیت میں اتنافرق ہے کہ اہل تشیع کی نظر میں اس ہستی کی ولادت 15 شعبان255ہجری کوسامراء میں ہوئی اوراب تک خداکے حکم سے پردہ غیبت میں ہیں
لیکن دوسرے مذاہب کے نظریئے
کےمطابق بعدمیں پیداہونگے وہی اس دنیاکوعدل و انصاف سے بھر دیں گے
نظریہ مہدویت کےسب قائل ہیں
*قرآن اور نظریہ مہدویت ۔:*
قرآن کی بہت سی آیات میں موضوع مہدویت اور عالمی حکومت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے بعض محققین نے 265 آیات میں اس موضوع،، نظریہ مہدویت ،،سے متعلق گفتگو ہونےکا دعوا کیا ہے ان میں سے چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں سورہ توبہ آیت نمبر 32،33 ، سورہ نور آیت نمبر 55 ، سورہ غافر آیت نمبر51 ، سورہ انبیاء آیت نمبر 105،قصص5،6 سورہ ھود آیت نمبر 86وسورہ حج آیت نمبر 41
🔺ان آیات قرآنی سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دن کی منتظر ہے جس دن پوری دنیا کی حکومت ، پاک و صالح انسانوں کے ہاتھوں آئے گی اور جس دن کا مسلمان شدت سے انتظار کررہے ہیں وہی امام مھدی (عج) کے قیام کا دن ہے
🌼🌼🌼🌼🤲🏼🌼🌼🌼🌼
*اللھم عجل لولیک الفرج*
💞💓
*اتم پاکستان*
💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠 *خصوص اشاعت*
=== *کرونا وائرس اور ہماری حکمت عملی* ==
ڈاکٹر ارشاد حسین مطہری
💠💠💠💠💠💠💠💠💠 https://www.facebook.com/groups/821904421556306/permalink
*Whatsapp Group1*
https://chat.whatsapp.com/JcfFva9BO3A2gaQMEefCc5
جیسا کہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ایک وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہر کوئی اس وائرس کی وجہ سے پریشان دکھائی دیتا ہے ؛ اس سے نہ صرف انسانی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ،بلکہ دنیا کے اقتصاد کو بھی بری طرح سے متاثر کردیا ہے. ایسی اجتماعی پریشانیوں میں کچھ مفاد پرست عناصر حالات کی سنگینی سے سوء استفاده کرنے کی کوشش کرتے ہیں ؛ دنیا کی چند حقیر ضروریات کی تکمیل کی خاطر دوسروں کے جان مال اور ایمان سے کھیلتے ہیں. اس نفسانفسی اور پریشان کن حالات میں انسان جائے تو کہاں جائے ؟ اپنے دکھ اور درد کو کس کے پاس بیان کرے ؟ طبیب اور حکیم واقعی کون ہے اور جعلی کون ؟ کس کے در پر دستک دے؟ اس لئے کہ ہر کوئی حکیم اور طبیب بنا ہوا ہے، ہر کوئی ہاتھوں میں ہزاروں نسخے لیے بیٹھاہے اور ہر شخص کو اپنی طرف دعوت دیتاہے اور لوگوں کو فریب دیکر لاکھوں روپے بٹورنےکے علاوہ غلط نسخے دیکر، بیمار
شفا پانے کے بجائے مزید بیماری کا شکار ہوجاتاہے .
دوسرے ممالک کی طرح وطن عزیز پاکستان میں بھی یہ وائرس بڑھتا جارہا ہے
لہذا حکومت اور عوام کا اس سلسلے میں پریشان ہونا ایک ضروری امر ہے اور اس مہلک بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر حکومت کو بھی اور عوام کو بھی کرنی چاہیے ؛ لیکن اب تک کی اطلاع کے مطابق سرکار کی پوری توجہ تفتان باڈر پر لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے یہ وائرس صرف ایران سے ہی آنا ہے اور کہیں سے نہیں ، یہ وائرس چین سے پھیلا ہے وہاں کے باڈر بند کرنا تو دور کی بات اس پر کوئی گفتگو ہی نہیں کرتے اور دنیا کے اکثر ممالک سے فضائی رابطے برقرار ہیں حتی ان ممالک سے بھی جن میں یہ وائرس پھیلا ہے ان کے بارے میں کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی کوئی بات نہیں کی جارہی ہے صرف اور صرف تفتان باڈر پر کیوں توجہات مرکوز ہیں؟ اور مقامات مقدسہ سے زیارت کرکے آنے والے زائرین پر صرف سختیاں کیوں ہیں؟ یہ وائرس صرف ایران اور عراق میں پهیلا ہے اور کہیں نہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ اس وائرس کو مذہب کے خلاف ایک جنگ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے طالبان، القاعدہ اور داعش کی طرح ،کرونا کو بھی مذہب کے خلاف استعمال کیا جانے لگا ہے لہذا اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ وائرس امریکہ کی ایجاد کردہ ہے اور اگر ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ یہ وائرس بنائے گئے ہیں تو یہ سوال خود بخود ذہن میں آتا ہے کہ یہ وائرس کس مقصد اور ہدف کے لئے بنائے گئے ہیں
*Whatsapp Group2*
https://chat.whatsapp.com/LZ33NNBQfRb9gYvWDzqMKb
*Whatsapp Group3*
https://chat.whatsapp.com/BjWyjLfqFroAQ4uCLgFjX2
محترم قارئین
ہمیں فی الحال اس کے پس پردہ
حقائق کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس وقت جس چیز کی سب سے اہم ضرورت ہے وہ اس بیماری کی روک تھام اور مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہیں تاکہ جتنی جلدی ہوسکے اس وبا سے نجات حاصل کریں
اس کے لیے چند بنیادی باتوں کی طرف توجہ رکھنا ضروری ہے :
1 قابل اعتماد ڈاکٹروں کی ہدایات پر ضرور توجہ دیں اور ان کے تجویز کردہ نسخوں پر جہاں تک ممکن ہوسکے عمل کریں اس لیے کہ یہی دین کا پیغام بھی ہے روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوئے تو لوگوں نے بیماری کی تشخیص دینے کے بعد آپ کو دوائی پیش کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہہ کر دوائی کھانے سے انکار کیا، کہ جب تک خدا مجھے سلامتی نہ دے، میں علاج نہیں کراوں گا لہٰذا بیماری نے طول پکڑ لیا اس وقت خدا کی طرف سے وحی ہوئی؛ میری عزت و جلالت کی قسم ! اس وقت تک تجھے شفا نہیں دونگا جب تک آپ دوائی استعمال نہیں کرتے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوائی استعمال کی جس سے آپ ٹھیک ہوگئے لیکن ان کا دل مغموم رہا خدا کی طرف سے وحی آئی اے موسیٰ کیا تم یہ چاہتا ہے کہ جو اعتماد تیرا مجھ پر ہے اس کے ذریعے میں اپنی حکمت کو نابود کردوں؟ میرے سوا کس نے دوائی کے اندر شفا رکھی ہے؟
2 اس سلسلے میں حکومت خاص طور سے محکمہ صحت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات
کا خاص خیال رکھا جائے اور محکمہ صحت کے دستورات پر مکمل پابند رہیں . جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے اس وقت تک اس قسم کے اجتماعی مسائل کا حل ناممکن ہے .
3 سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ خدا سے ارتباط کو نہ بھولیں دعا، مناجات اور دیگر عبادتوں کے ذریعے سے اپنے ارتباط کو پروردگار عالم سے ہر حال میں برقرار رکھیں اس لیے کہ جیسا کہ مولا علی علیہ السلام دعائے کمیل میں ارشاد فرماتے ہیں " یا مَنْ اِسْمُهُ دَوآءٌ وَ ذِکرُهُ شِفآءٌ " شفا دینے والی ذات وہی ہے.
اور تعجب ہے جو شخص اللہ پر ایمان رکھتاہو اور اہل البیت علیہم السلام سے اظہار عقیدت کرے اور زندگی کی دشواریوں میں ان کی طرف رجوع کرنے کے بجائے غیروں کے در پر سجدہ ریز رہے
صحیفہ سجادیہ جیسا عظیم دعاؤں کامجموعہ؛ جس کی نظیر کائنات میں موجود نہیں ہے، سے کتنے ہم آشنا ہیں
دعا کمیل میں حضرت علی علیہ السلام کس طرح خدا سے راز و نیاز کرتے ہیں
آئیں دامن اہلبیت سے تمسک کریں یہی حلال مشکلات ہیں اور یہی خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بھی
*اتم گروپ کے قارئین*
کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹر ناہید نفیسی صاحبہ جو میڈیکل کی دنیا میں جانی پہچانی شخصیت ہے ان کی ایک عمر تحقیقات کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس کا اردو ترجمہ " روحانی علاج " زیر اہتمام الهدی اسلامی تحقیقاتی مرکز شایع کرچکا ہے اس کا ایک بار ضرور مطالعہ فرمائیں موجودہ صورتحال میں زیادہ مفید ہو
*الهدی اسلامی تحقیقاتی مرکز ( اتم ) پاکستان*
.: Weblog Themes By Pichak :.
