یک دوست نے سوال کیا تھا کہ "داڑھی مونڈھنا حرام کیوں ہے" جس کا جواب درج ذیل ہے۔
جواب:
داڑھی
مونڈھنا حرام اس لئے ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے امیرالمؤمنین علیہ
السلام سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: حلق اللحية من المثلة و من مثل فعليه لعنة اللَّه
(مستدرك، ج 1، ص 59، از كتاب جعفريات)۔
ترجمہ:
داڑھی مونڈھنا مُثلہ (یعنی چہرے کو بگاڑنے، ناک، کان اور ہونٹ کو قطع
کرنے) کے زمرے میں آتا ہے اور خدا کی لعنت ہے اس پر جو مُثلہ کا ارتکاب
کرے۔
اس روایت میں داڑھی مونڈھنا مثلہ کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی پاداش اللہ کی لعنت اور غضب ہے۔
یادرہے
کہ پاکستان ميں طالبان کہلوانے والے وہابی دہشت گرد شیعہ افراد کے ساتھ
یہی سلوک کرتے ہیں اور نہتے شیعہ مسافروں کر پکڑ کر ان کا مثلہ کرتے اور ان
کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے ہیں اور ان کا عمل مُثلہ کا عینی مصداق ہے اور
رسول اللہ فرماتے ہیں کہ مثلہ کرنے والے پر اللہ کی لعنت اور نیز رسول
اللہ (ص) فرماتے ہیں کہ داڑھی مونڈھنا بھی مُثلہ کے زمرے میں آتا ہے۔
مراجع:مراجع
تقلید اور علماء نے بھی داڑھی مونڈھنا حرام قرار دیا ہے یا کم ازکم فرمایا
ہے کہ "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں
کی جاسکتی۔
سورس: (محمد رضا طبسى، تراش ريش از نظر اسلام)
مسلمانوں کا قطعی رویہ
رسول
اللہ (ص) کے دور سے اب تک دیندار لوگ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں اور جو
داڑھی مونڈھتا ہے اس کی مذمت کرتے آئے ہیں اور اس کو فاسق سمجھتے ہیں اور
اسلامی عدالت میں بھی گواہی دینے کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے کیونکہ داڑھی
مونڈھنے والے شخص کو فاسق سمجھا جاتا ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں
سمجھی جاتی۔ یعنی عادل ہونے کی ایک شرط داڑھی رکھنا ہے اور گواہی کے لئے
عدالت شرط ہے۔
(آيت اللَّه العظمی سید ابوالقاسم خوئى، مصباح الفقاهة، ج 1، ص 264)
نتیجہ: "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں کی جاسکتی
راجع
کرام امام خامنہ ای اور صافی گلپائیگانی نے مساجد سے اذان و دعاوں کے
پروگرام نشر کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دئے ہیں۔
مساجد، امام
بارگاہوں اور تبلیغی مراکز کے پڑوسیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ لوڈ اسپیکر
کی آواز کا ہے۔ بعض اوقات ان مراکز کے اڑوس پڑوس میں رہنے والوں میں کوئی
مریض ہوتا ہے اور کسی کو کانوں کی مشکل ہوتی ہے اور وہ اونچی آواز کو
برداشت نہیں کر پاتا ایسے میں جب مذہبی مراکز سے لوڈ اسپیکر کی آواز گونجتی
ہے تو کیا ان افراد کے لیے اس آواز کو برداشت کرنا ضروری ہے اور کیا وہ اس
کے خلاف زبان اعتراض نہیں کھول سکتے چونکہ وہ مسجد یا امام بارگاہ کے لوڈ
اسپیکر سے آ رہی ہے؟
مراجع عظام حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور حضرت آیت
اللہ صافی گلپائگانی سے اس بارے میں سوالات پوچھے گئے اور انہوں نے شرعی
نقطہ نظر سے ان کے جوابات دئے ہیں جو ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں:
سوالات اور جوابات کا متن
سوال:
کیا مسجد کے لوڈ اسپیکر سے صبح کی اذان سے پہلے قرآن کی تلاوت اور اذان کے
بعد دعا کا نشر کرنا جائز ہے جبکہ مساجد کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کی
اذیت کا باعث ہو؟ اس بات کی طرف توجہ کے ساتھ کہ کبھی کبھی یہ پروگرام آدھا
گھنٹہ بھی کھیچ جاتا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کا جواب
صبح
کے وقت لوگوں کو وقت نماز سے آگاہ کرنے کے لیے مسجد کے لوڈ اسپیکر سے رائج
طریقے کے مطابق اذان کا نشر کرنا کوئی اشکال نہیں رکھتا۔ لیکن اذان کے
علاوہ تلاوت قرآن، دعا یا دیگر پروگراموں کا مسجد کے لوڈ اسپیکر سے نشر
کرنا اگر پڑوسیوں کی اذیت کا باعث بنے تو شرعی اشکال رکھتا ہے۔
سوال: ماہ مبارک رمضان میں سحر کے مخصوص پروگراموں کا مسجد کے لوڈ اسپیکر سے نشر کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟
حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کا جواب
ان
جگہوں پر جہاں لوگوں کی اکثریت سحر کے وقت جاگ رہی ہوتی ہے اور تلاوت قرآن
اور دعا و مناجات وغیرہ میں مشغول ہوتی ہے کوئی اشکال نہیں رکھتا لیکن اگر
مسجد کے پڑوسیوں کی اذیت کا باعث بنے تو جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال
بسمہ تعالی
بخدمت حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی(دامت برکاتہ)
سلام علیکم و رحمۃ ا۔۔۔
اذان،
دعا و مناجات اور تلاوت قرآن وغیرہ کا مساجد کے لوڈ اسپیکروں سے نشر کرنا
دین مقدس اسلام میں کیا حکم رکھتا ہے جبکہ اس سے پڑوسیوں کو اذیت ہوتی ہو؟
حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی کا جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علیکم السلام و رحمۃ اللہ
میں
مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مراکز میں پروگرام منعقد کرنے والوں
کو نصیحت کرتا ہوں کہ اذان کے علاوہ جو شعائر الہی میں سے ہے دوسرے
پروگراموں کو لوڈ اسپیکر سے نشر نہ کیا کریں تاکہ لوگوں کو اذیت نہ ہو اور
بہانہ تلاش کرنے والے ان تمام پروگراموں پر اعتراض نہ کریں۔ خاص طور پر
بیمار اور سن رسیدہ پڑوسیوں کے حال کی رعایت ضرور کریں۔
اور میں ان
لوگوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں جو مساجد کے پروگراموں اور مذہبی مراسم کی
شکایت کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جن کے بارے میں خداوند
متعال فرماتا ہے: «وَ إذا ذُکِرَ اللهُ وَحْدَهُ إشْمَئَزَّتْ قُلُوبُ
الذینَ لایُؤْمِنُونَ بِالآخرةِ و إذا ذُکِر الَّذینَ مِنْ دُونِه إذا هُمْ
یَسْتَبْشِرُونَ»؛ یعنی اگر لوڈ اسپیکر سے اذان، تلاوت قرآن، موعظہ اور
ذکر اہلبیت(ع) نشر ہو تو ان کے دل ناراض ہو جاتے ہیں لیکن اگر موسیقی یا
گانے وغیرہ نشر ہوں تو خوش ہوتے ہیں۔
کوشش کریں ان لوگوں میں سے ہوں
جیسے حضرت ابراہیم(علی نبیّنا و آله و علیه السلام) بعض روایات کی بنا پر
جب انہوں نے «سبّوح قدّوس ربُّ الملائکةِ والرُّوح» کے ذکر کی آواز سنی تو
کہنے والے سے کہا کہ ایک بار پھر اس ذکر کے تلاوت کرے تاکہ اپنی بکریوں میں
سے کچھ اسے دیں ذکر کرنے والے نے اس قدر اس ذکر کی تکرار کی یہاں تک کہ
حضرت ابراہیم نے اپنی تمام بکریاں اسے دے دیں اور آخر کار اس سے کہا کہ خود
انہیں بھی اپنی ملکیت میں رکھ لے لیکن اس ذکر کی تکرار کرتا رہے۔
خداوند عالم سب کو دینی وظائف انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
لطف اللہ صافی
۱۸ ذی العقدہ ۱۴۳۴
آپ سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات
س: کیا مجبوری کی حالت میں غیر مسلمان عورت سے مصافحہ کرنا بغیر لذت کے جائز ہے؟
ج: ہاتھ میں کپڑا رکھ کر یا دستانے لگا کر مصافحہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
س: کیا گیلے ہاتھ سے کافر یا اہل کتاب کے ساتھ مصافحہ کرنا درست ہے؟
ج: گیلے ہاتھ سے کافر کے ساتھ مصافحہ کرنے سے ہاتھ نجس ہو جائے گا لیکن اہل کتاب سے نہیں اور نماز کے لیے ہاتھ دھونا ہو گا۔
س: اگر نامحرم کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دینے سے ناراضگی اور فیملی سے قطع تعلق جیسے مسائل پیدا ہوتے ہوں یا والدین کا ہاتھ ملانے پر اصرار ہو تو کیا حکم ہے؟
ج: نامحرم سے ہاتھ ملانا جائز نہیں ہے صرف دستانے پہن کر ہاتھ ملانا جائز ہے۔
س: میری بیٹی ڈاکٹر ہے اور نامحرموں کے ساتھ ہاتھ لگانے پر مجبور ہے اس سلسلے میں کیا حکم ہے؟
ج: ضرورت کے علاوہ نامحرم کو مس کرنا جائز نہیں ہے۔
س: کیا کافر عورتوں سے ہاتھ ملانا حرام ہے۔
ج: بالکل حرام ہے۔
س: مغربی ممالک میں ہاتھ ملانا سلام کرنے کے عنوان سے رائج ہے اور کبھی کبھی کسی سے ہاتھ نہ ملانا اسکول، کارخانے یا کسی دوسرے ادارے سے نکال دیے جانے کا باعث بنتا ہے کیا ایک مسلمان مرد و عورت ایسے حالات میں استثنائی طور پر نامحرم سے ہاتھ ملا سکتے ہیں؟
ج: اگر دستانے پہن کر یا اس طرح کی کوئی چیز ہاتھ پر لگا کر اس مشکل سے نجات پانا ممکن نہ ہو تو ایسے مقام پر جہاں ہاتھ نہ ملانا کسی معقول نقصان کا باعث بنے، مسلمان مرد یا عورت کا نامحرم کے ساتھ ہاتھ ملانا جائز ہے۔
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شب قدر کے بارے میں اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی سے پوچھے گئے چند سوالوں کے جوابات ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔
۱: کیوں شب قدر کو ’’شب قدر‘‘ کہا جاتا ہے؟
جواب: شب قدر کو شب قدر کہنے کے سلسلے میں بہت سارے اقوال بیان ہوئے ہیں لیکن ہم یہاں پر تفسیر نمونہ سے چند اقوال نقل کرتے ہیں:
الف: شب قدر کو اس لیے ’’قدر‘‘ کہا گیا ہے چونکہ اس رات بندوں کے آئندہ سال تک کے امور مقدر کئے جاتے ہیں۔ اس بات کی دلیل سورہ دخان کی یہ آیت ہے: إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةٍ مُبارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيها يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ: " ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم بیشک عذاب سے ڈرانے والے ہیں، اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔(سورہ دخان، ۲،۳)
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ امر حکیم سے مراد سال بھر کے مقدرات کا فیصلہ ہے کہ انسان کے رزق اور صحت و مرض، راحت و تکلیف سب کا فیصلہ اسی شب قدر میں ہو جاتا ہے اور یہ رب العالمین اپنے علم کی بنا پر کرتا ہے کہ بندہ ایسے اعمال انجام دینے والا ہے۔ ورنہ سب کا وجود انسانی اعمال کے زیر اثر ہوتا ہے اور خدا بلا سبب کسی کو مبتلائے زحمت و تکالیف نہیں کرتا ہے۔
یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ بھی ہم آہنگی رکھتا ہے چنانچہ روایات میں وارد ہوا ہے: شب قدر وہ شب ہے جس میں انسانوں کے ایک سال کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ب: بعض نے کہا ہے کہ شب قدر کو اس لیے شب قدر کہتے ہیں چونکہ یہ قدر و منزلت کی رات ہے۔ جیسا کہ سورہ حج کی ۷۴ ویں آیت میں ہے: ما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ" ان لوگوں نے خدا کی واقعی قدر نہیں پہچانی۔
ج: بعض نے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کو اس کی قدر و منزلت کے ساتھ رسول گرانقدر پر صاحب قدر فرشتے کے ذریعے اس رات نازل کیا گیا اس لیے اسے شب قدر کہا جاتا ہے۔
د: چونکہ یہ ایسی رات ہےجس میں جو بھی احیاء اور شب بیداری کرے گا صاحب قدر و منزلت ہو گا۔
ھ: چونکہ شب قدر میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ زمین تنگ پڑ جاتی ہے اس لیے کہ تقدیر کے ایک معنی تنگ ہو جانے کے ہیں: جیسا کہ سورہ طلاق کی ساتویں آیت میں ہے:’’ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ‘‘ اور جس کے رزق میں تنگی ہو۔
ان اقوال کو بیان کرنے کے بعد آیت اللہ مکارم شیرازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ پہلا قول لیلۃ القدر کے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔( تفسیرنمونہ، ج۲۷، ص ۱۸۷۔۱۸۸)
۲: شب قدر دقیق طور پر کون سی رات ہے؟
جواب: یہ بات یقینی ہے کہ شب قدر ماہ مبارک کی شبوں میں سے ایک شب ہے اور یہ بات قرآن کریم سے قابل اثبات ہے۔ قرآن کریم میں ایک مقام پر ارشاد ہے: "شَهْرُ رَمَضانَ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى وَ الْفُرْقانِ ... (بقره 185)" اس آیت کی بنا ہر ماہ رمضان، نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ دوسری جگہ پر ارشاد ہے: "إِنَّا أَنْزَلْناهُ في لَيْلَةِ الْقَدْرِ" (قدر 1) شب قدر، شب نزول قرآن ہے۔ ان آیتوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہے۔ لیکن ماہ رمضان کی کون سے رات شب قدر ہے؟ اس سوال کا جواب قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا ہے۔ اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں تین راتوں کو شبہائے قدر کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ ماہ رمضان کی ۱۹، ۲۱ اور ۲۳ ویں رات۔ البتہ ۲۱ ویں اور ۲۳ویں پر زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ علامہ طباطبائی نے بھی ۲۳ ویں شب کو شب قدر ہونے کا قوی احتمال دیا ہے۔ لیکن اس کے مخفی ہونے کا کیا راز ہے اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔( رجوع کریں، المیزان، ج۲۰، ص۳۳۳)
۳: اگر شب قدر کو انسان کی زندگی کے آئندہ ایک سال تک کے امور مقدر ہو جاتے ہیں تو ایسے میں ہم ایک سال تک بے اختیار ہو جائیں گے چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے انہی امور کو انجام دینا ہو گا۔
جواب: انسان جب تک اس دنیا میں ہے مکلف ہے اور تکلیف کے معنی یہ ہے کہ وہ اختیار رکھتا ہے اور خیر و شر میں سے کسی ایک کو اپنے اختیار سے انتخاب کر سکتا ہے۔ شب قدر میں ہر انسان کی تقدیر اس کے ارادے اور اختیار سے معین ہوتی ہے اس تقدیر کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے بعد مجبور ہو جائے گا جبکہ ہر انسان اپنے اعمال اور کردار کے مقابلے میں مسئول ہے یعنی ان کے بارے میں اس سے پرس و جو کی جائے گی اسے ثواب و عقاب دیا جائے گا واضح ہے کہ اگر انسان مجبور ہو گا تو ثواب و عقاب بے معنی ہو جاتا ہے۔ اور نتیجۃ جنت و جہنم کا بھی کوئی مفہوم نہیں رہ جاتا۔
شب قدر میں ہر انسان کے گزشتہ اعمال و کردار سے اس کی سرنوشت معین ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ طے ہو جاتا ہے کہ آئندہ سال تک وہ کن امور کے ذریعے مورد امتحان واقع ہو گا۔ اور وہ اہنے ارادے اور اختیار سے کن امور کو انجام دے گا لہذا انسان کی سرنوشت اور تقدیر اس کے اعمال اور کردار سے وابستہ ہے اور یہ انسان ہے کہ جو اپنے ارادے اور اچھے یا برے انتخاب سے اپنی تقدیر کو شب قدر میں معین کرتا ہے۔
۴: کیا وہ سرنوشت اور تقدیر جو شب قدر معین ہوتی ہے قابل تغییر ہے؟
جواب: بالکل، تقدیر قابل تغییر ہے، بطور کلی یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیک کردار اور نیک اعمال جیسے توبہ، استغفار، دعا، نماز، صدقہ اور صلہ رحم وغیرہ انسان کی تقدیر بدلنے میں مثبت اثر رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح برا کردار اور ناشائستہ رفتار جیسے گناہ، جھوٹ، تہمت، بخل، قطع رحم وغیرہ منفی اثر رکھتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں تقدیر کے بدلنے کو ’’بداء‘‘ کہا جاتا ہے۔
۵: کیا کوئی انسان اگر شب قدر بخشا نہ جائے یا ماہ رمضان میں اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اس کے بعد پورا سال اس کی بخشش نہیں ہو گی؟
جواب: یہ بات بعض روایات میں وارد ہوئی ہے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ إِلَى قَابِلٍ إِلَّا أَنْ يَشْهَدَ عَرَفَةَ." (الکافی، ج ، ص 66.) جو شخص ماہ رمضان میں بخشا نہ جائے وہ آئندہ سال تک بخشا نہیں جائے گا مگر یہ کہ روز عرفہ کو درک کرے اور اس دن توبہ کر لے۔
بظاہر امام علیہ السلام کی مراد درج ذیل نکات پر تاکید ہے:
الف: ماہ رمضان کی فضیلت، اس مہینے میں توبہ کی قبولیت کے لیے شرائط کا فراہم ہونا اور گناہوں کا آسانی سے بخشا جانا۔
ب: ماہ رمضان کے بعد روز عرفہ کی اہمیت کو درک کرنا اور اس دن مغفرت الہی کے حصول کے لیے زمینہ فراہم ہونا۔
ج: دیگر اوقات میں توبہ کا سختی سے قبول ہونا چونکہ دیگر اوقات میں توبہ کے لیے شرائط معمولا مہیا نہیں ہو پاتے۔
در نتیجہ، مذکورہ روایت کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ ماہ رمضان اور روز عرفہ کے علاوہ کبھی بھی انسان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ دیگر اوقات میں واقعی توبہ کا تحقق پانا مشکل ہے اس لیے کہ دیگر اوقات میں معنوی فضا کے شرائط مہیا نہیں ہو پاتے۔ لہذا ہر گز ناامید نہیں ہونا چاہیے، چونکہ خدا مہربان، تواب، غفار الذنوب اور سریع الرضا ہے وہ جب چاہے اپنے بندے کی توبہ قبول کر سکتا ہے اس کے گناہ معاف کر سکتا ہے۔
ترجمہ: جعفری
اسلام میں عید نوروز کا کیا مقام ہے اور ائمہ اطہار (ع) نے کیوں اس عید کی تائید کی ہے؟ اس سوال کے جواب میں آیت اللہ العظمی مظاہری نے بیان کیا:
عید کی قسمیں
ہم ایرانیوں کی عیدوں کی تین قسمیں ہیں: پہلی: اسلامی عیدیں، جو تمام مسلمان مناتے ہیں جسے عید فطر، عید قربان کہ ان دو عیدوں میں نماز عید بھی وارد ہوئی ہے۔ اور اس نماز کے قنوت میں بھی اس دن کے عید ہونے کا تذکرہ ہوا ہے۔ اسی طریقہ سے عید میلاد پیغمبر(ص)، عید مبعث۔
دوسری قسم، مذہبی عیدیں ہیں جو بہت ساری ہیں جیسا کہ مذہب شیعہ کے اندر بھی پائی جاتی ہیں عید غدیر، پندہ شعبان، عید زہرا، وغیرہ
تیسری قسم، ملی اور قومی عید ہے جیسے ہم ایرانیوں کی عید نوروز ہے یعنی یہ عید ایرانیوں کی عید ہے۔
عید نوروز اسلام کی نظر میں
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ طاہرین(ع) نے نہ صرف اس عید کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی تائید کی ہے۔ مرحوم محدث قمی نے مفاتیح الجنان میں امام صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ (ع) نے معلی بن خنیس سے فرمایا: جب عید نوروز ہو تو غسل کرنا، نیا لباس پہننا، مہندی لگانا، حمام جانا، اچھی خوشبو استعمال کرنا۔ اس کے بعد فرمایا: مستحب ہے عید نوروز کے دن روزہ رکھنا، اور نماز ظہر و عصر کے بعد چار رکعت نماز ادا کرنا دو دو رکعتیں کر کے، جس کی پہلی رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ انا انزلنا، دوسری رکعت میں دس مرتبہ قل یا ایھا الکافرون، تیسری رکعت میں دس مرتبہ قل ھو اللہ احد اور چوتھی رکعت میں دس مرتبہ سورہ فلق اور دس مرتبہ سورہ ناس کی تلاوت کرنا۔ اس کے بعد ایک دعا نقل کرتے ہیں جو نماز کا حصہ نہیں ہے جسے سجدہ اور سجدہ کے علاوہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔(۱)
اس دعا میں ایک جملہ ہے جس میں فرماتے ہیں «فَضَّلْتَهُ وَ كَرَّمْتَهُ» یعنی خدایا تو نے اس عید کو فضیلت دی اور تو نے اسے بزرگی عطا کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ معصومین (ع) نے اس عید کی قومی عید ہونے کے عنوان سے تائید کی ہے۔
شاید ائمہ معصومین (ع) کی تائید کوئی اور دلیل رکھتی ہو۔ بعض روایات میں ملتا ہے کہ عید غدیر یعنی جس دن علی علیہ السلام کو رسول پاک نے مولا بنایا یہی وہ دن عید نوروز کا دن تھا۔ مجھے نہیں معلوم یہ بات درست ہے یا نہیں۔ علم نجوم اور علم اعداد سے کچھ اور فضیلتیں بھی اس دن کے لیے بیان کی گئی ہیں مجھے نہیں معلوم وہ کس حد تک درست ہیں۔ البتہ جو چیز میرے لیے یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اس دن کی کچھ خصوصیات ہیں جو اسلام میں مورد تائید واقع ہوئی ہیں۔
پہلی خصوصیت
عید نوروز پر نظافت اور صفائی ستھرائی ہے۔ لوگ نئے لباس پہنتے ہیں، حمام جاتے ہیں، گھروں کو صاف کرتے ہیں، اسلام کہتا ہے: النظافةُ مِنَ الْايمان ، نظافت ایمان کی نشانی ہے۔ اس روایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص نظافت کی رعایت نہیں کرتا واقعی مسلمان نہیں ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
(يا بَني ادَمَ خُذُوا زينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ)[2]
اے اولاد آدم ہر مسجد میں داخل ہوتے وقت اپنے آپ کو مزین کرو۔
جب مسجد میں جانا چاہو، کسی اجتماع میں جانا چاہو، تو پاکیزہ ہو کر جاو، اپنے دانتوں کو مسواک کرو، نیا لباس پہنو، عطر لگاو، اگر جوراب یا لباس بدبو دے رہا ہے تو اسے تبدیل کر کے جاو، پاک و پاکیزہ ہو کر مجمع میں داخل ہو۔ حتی پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
«لَوْ لا اَنْ اَشُقَّ عَلي اُمَتّي لَاَمَرْتُهُمْ بِالسِّواكِ مَعَ كلِّ صَلاةٍ»[3]
اگر مجھے اپنی امت پر سختی کا خوف نہ ہوتا تو میں ہر نماز سے پہلے مسواک کو واجب قرار دے دیتا۔
اسلام کو یہ پسند نہیں ہے کہ لباس گران قیمت ہو۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ لباس پاکیزہ ہو صاف ستھرا ہو۔
سفید لباس پہننے پر اسلام کی تاکید
اسلام میں جو سفید لباس پہننے کی تاکید ہوئی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سفید لباس پر میل صاف دکھائی دیتی ہے اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ اسے دھوئے۔ لیکن اگر کسی مسلمان کے کپڑے میلے کچیلے ہیں، جوتے اور جورابیں بدبودار ہیں، اگر وہ مسلمان ظاہری طور پر صاف ستھرا نہیں ہے تو اس کا اسلام کامل نہیں ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ جب انسان کسی مجمع میں داخل ہو تو صاف ستھرا ہو۔ روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ جب گھر سے باہر نکلتے تھے تو اپنے لباس کو مرتب کرتے تھے عمامہ کو مرتب کرتے تھے شیشہ دیکھتے تھے اگر شیشہ نہیں ہوتا تھا تو پانی والے برتن میں نگاہ کرتے تھے تاکہ کہیں آپ کا عمامہ ٹیڑا نہ ہو۔ (۴)
یہ جو عید نوروز کے موقع پر گھروں میں ہر چیز کو رد و بدل کیا جاتا ہے ادھر ادھر کیا جاتا ہے جسے ’’خانہ تکانی‘‘ کہتے ہیں یہ اچھی چیز ہے روایات میں ہے کہ گھر میں کوڑا کا جمع ہونا، مکڑے کا جالا پایا جانا گھر میں فقر لاتا ہے۔ اور خدا کی رحمت اس گھر سے دور ہو جاتی ہے۔ ملائکہ چلے جاتے ہیں اور شیاطین آجاتے ہیں۔ روایات میں گھر کو صاف رکھنے کی بہت تاکید ہوئی ہے۔
خواتین کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شوہر کے گھر آنے سے پہلے اپنے آپ اور گھر کو مرتب کریں۔ جو لباس شوہر کو پسند ہے وہ پہنیں، بچوں کو صاف رکھیں، گھر کو صاف رکھیں، اگر کھانے کا وقت ہے تو دسترخوان لگائیں۔۔۔ وگرنہ شوہر داری کے اعتبار سے ناکام ہیں۔ اور اگر کوئی خاتون شوہر داری میں کامیاب نہیں ہے شوہر داری کے وظیفہ کے اچھے طریقہ سے انجام نہیں دے پا رہی ہے معلوم نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گی۔
اور اسی طرح مرد کی بھی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بھی گھر میں اپنے آپ کو صاف رکھے۔
عورت کا اصلی کام خانہ داری اور بچہ داری ہے اس کے بعد سماج میں کوئی دوسری مشغولیت انجام دے سکتی ہے اگر ان دو ذمہ داریوں کو چھوڑ کر کوئی تیسری ذمہ داری اٹھا لیتی ہے تو وہ گناہگار ہے۔
اس وجہ سے اسلام عید نوروز کی تائید کرتا ہے چونکہ اس عید میں صفائی ستھرائی کے کام زیادہ انجام پاتے ہیں۔
دوسری خصوصیت
مہمان داری اور مہمان نوازی۔ مہمان بلانے اور مہمانی پر جانے کو اسلام دوست رکھتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
«المؤمِنُ يألَفُ و يُؤلَفُ و لا خَيْرَ في مَنْ لا يَألَفْ وَلا يُؤلَف»[5]
یعنی مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ مانوس ہو ان کے ساتھ رفت و آمد رکھے اور دوسرے بھی اس کے ساتھ مانوس ہوں۔ یعنی وہ بھی لوگوں کو دوست رکھے اور لوگ بھی اسے دوست رکھیں۔ اس کے بعد فرمایا: اگر کوئی گوشہ نشینی اختیار کر لے دوسروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دے تو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔
منفی تقویٰ کو اسلام پسند نہیں کرتا، منفی تقوی کا مطلب یہ ہے کہ انسان گوشہ نشین ہو کر، دوسروں سے دور ہو کر تقویٰ اختیار کرے، چونکہ اکیلا ہو جائے گا نہ کسی کی غیبت کرے گا، نہ کسی پر تہمت لگائے گا نہ کسی سے جھوٹ بولے گا نہ کسی نامحرم کو دیکھے گا۔۔۔۔ اگر چہ یہ اچھی چیز ہے لیکن اسلام اسے دوست نہیں رکھتا۔ اسلام سماج کے درمیان رہ کر ان صفات کو دیکھنا چاہتا ہے۔
اسلام مثبت تقوی کا مطالبہ کرتا ہے یعنی آپ سماج کے اندر رہیں اور غیبت نہ کریں، لوگوں کے بیچ میں رہیں اور کسی پر تہمت نہ لگائیں، جھوٹ نہ بولیں نامحرموں کو نہ دیکھیں۔
لہذا اس حوالے سے بھی عید نوروز اسلام کی مورد تائید قرار پاتی ہے۔
حوالہ جات
[1]. مفاتيح، اعمال عيد نوروز (فصل يازدهم).
[2]. سوره ی اعراف، آيه ی 31.
[3]. بحارالانوار، جلد 73، صفحه ی 126 و فروع كافي، جلد 3، صفحه ی 22.
[4]. بحارالانوار، جلد 16، صفحه ی 249
[5]. كنزالعمال، جلد 1، صفحه ی 142، حديث شماره ی 679.
جب یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کوئی بھی فعل بغیر علت کے نہیں ہوتا تو پھر اس دنیا کے خالق کی معرفت اور اس کو پہچاننے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی علت اور سبب ہونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسی کے لئے تین بنیادی وجہیں اور علتیں بیان کی ہیں،جن پر قرآن کریم نے واضح طور پر روشنی ڈالی ہے:
١۔ عقلی علت ۔
٢۔ فطری علت ۔
٣۔ عاطفی علت ۔
عقلی علت :
انسان کمال کا عاشق ہوتا ہے، اور یہ عشق تمام انسانوں میں ہمیشہ پایا جاتا ہے، انسان جس چیز میں اپنا کمال دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،البتہ یہ بات علیحدہ ہے کہ بعض لوگ خیالی اور بیہودہ چیزوں ہی کو کمال اور حقیقت تصور کربیٹھتے ہیں۔
کبھی اس چیز کو ''منافع حاصل کرنے اور نقصان سے روکنے والی طاقت'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انسان اسی طاقت کی بنا پر اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ جس چیز میں اس کا فائدہ یا نقصان ہو اس پر خاص توجہ دے۔
انسان کی اس طاقت کو ''غریزہ'' کا نام دینا بہت مشکل ہے کیونکہ معمولاً غریزہ اس اندرونی رجحان کو کہا جاتا ہے جو انسان اور دیگر جانداروں کی زندگی میں بغیر غور و فکر کے اثر انداز ہوتا ہے اسی وجہ سے حیوانات کے یہاں بھی غریزہ پایا جاتا ہے۔
لہٰذا بہتر ہے کہ اس طاقت کو ''عالی رجحانات''کے نام سے یاد کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس کا تذکرہ بھی کیاہے۔
بہر حال انسان کمال دوست ہوتا ہے اور ہر مادی و معنوی نفع کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر طرح کے ضررو نقصان سے پرہیز کرتا ہے چنانچہ اگر انسان کو نفع یا نقصان کا احتمال بھی ہو تو اس چیز پر توجہ دیتا ہے اور جس قدر یہ احتمال قوی تر ہوجاتا ہے اسی اعتبار سے اس کی توجہ بھی بڑھتی جاتی ہے، لہٰذایہ ناممکن ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی چیز کو اہم و موثر مانے لیکن اس سلسلہ میں تحقیق و کوشش نہ کرے۔
خدا پر ایمان اور مذہب کا مسئلہ بھی انھیں مسائل میں سے ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انسان کی زندگی سے ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی سعادت اور خوشبختی یا شقاوت اور بدبختی کا تعلق ہوتا ہے، اور اسی کے ذریعہ انسان سعادت مند ہوتا ہے یا بدبخت ہوجاتا ہے،اور ان دونوں میں ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بعض علمامثال بیان کرتے ہیں: فرض کیجئے ہم کسی کو ایک ایسی جگہ دیکھیں جہاں سے دوراستے نکلتے ہوں ، اور وہ کہے کہ یہاں پر رکنا بہت خطرناک ہے اور (ایک راستہ کی طرف اشارہ کرکے )کہے کہ یہ راستہ بھی یقینی طور پر خطرناک ہے لیکن دوسرا راستہ ''راہ نجات'' ہے اور پھر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کچھ شواہد و قرائن بیان کرے، تو ایسے موقع پر گزرنے والا مسافر اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس سلسلہ میںتحقیق و جستجو کرے ،ایسے موقع پر بے توجہی کرنا عقل کے برخلاف ہے۔(1)
جیسا کہ ''دفعِ ضررِمحتمل ''(احتمالی نقصان سے بچنا) ایک مشہور و معروف قاعدہ ہے جس کی بنیاد عقل ہے، قرآن کریم نے پیغمبر اکرم ۖ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
( قُلْ َرََیْتُمْ ِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اﷲِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہِ مَنْ َضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ )(2)
''آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہیں یہ خیال ہے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا''۔
البتہ یہ بات ان لوگوں کے سلسلہ میں ہے جن کے یہاں کوئی دلیل و منطق قبول نہیں کی جاتی ، در حقیقت وہ آخری بات جو متعصب، مغرور اور ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے : اگر تم لوگ قرآن، توحید اور وجود خدا کی حقانیت کو سوفی صد نہیں مانتے تو یہ بات بھی مسلم ہے کہ اس کے بر خلاف بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ قرآنی دعوت اور قیامت واقعیت رکھتے ہوں تو اس موقع پر تم لوگ سوچ سکتے ہو کہ دین خدا سے گمراہی اور شدید مخالفت کی وجہ سے تمہاری زندگی کس قدر تاریکی اور اندھیرے میں ہوگی۔
اس بات کو ائمہ علیہم السلام نے ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے آخری بات کے عنوان سے کی ہے،جیسا کہ اصول کافی میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے ملحد و منکر خدا ''ابن ابی العوجائ'' سے متعدد مرتبہ بحث و گفتگو فرمائی ہے،اور اس گفتگو کاآخری سلسلہ حج کے موسم میں ہوئی ملاقات پر تمام ہواجب امام علیہ السلام کے بعض اصحاب نے آپ سے کہا: کیا ''ابن ابی العوجائ'' مسلمان ہوگیا ہے؟!تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا دل کہیں زیادہ اندھا ہے یہ ہرگز مسلمان نہیں ہوگا، لیکن جس وقت اس کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کہا: اے میرے مولا و آقا!
امام علیہ السلام نے فرمایا: ''ماجائَ بِکَ لیٰ ہذَا المَوضِع'' (تو یہاں کیا کررہا ہے؟)
تو اس نے عرض کی: ''عادة الجسد، و سنة البلد، و لننظر ما الناس فیہ من الجنون و الحلق و رمی الحجارة!'' (کیونکہ بدن کو عادت ہوگئی ہے اور ماحول اس طرح کا بن گیا ہے ، اس کے علاوہ لوگوں کا دیوانہ پن، ان کا سرمنڈانا اور رمی ِجمرہ دیکھنے کے لئے آگیا ہوں!!)
امام علیہ السلام نے فرمایا: أَنْتَ بعدُ علیٰ عتوک و ضلالک یا عبدَ الکریم! (اے عبد الکریم!تو ابھی بھی اپنے ضلالت و گمراہی پر باقی ہے (3)
اس نے امام علیہ السلام سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کہا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ''لا جدال فی الحج''(حج، جنگ و جدال کی جگہ نہیں ہے) اورامام علیہ السلام نے اس کے ہاتھ سے اپنی عبا کو کھینچتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: ''ان یکن الامر کما تقول۔ ولیس کما تقول۔ نجونا ونجوت ۔ وان یکن الامر کما نقول ۔وھو کمانقول۔نجونا وھلکت''!:
''اگر حقیقت ایسے ہی ہے جیسے تو کہتا ہے کہ (خدا اورقیامت کا کوئی وجود نہیں ہے) جب کہ ہرگز ایسا نہیں ہے، تو ہم بھی اہل نجات ہیں اور تو بھی، لیکن اگر ہمارا عقیدہ ہے ،جب کہ حق بھی یہی ہے تو ہم اہل نجات ہیں اور تو ہلاک ہوجائے گا''۔
''ابن ابی العوجائ'' نے اپنے ساتھی کی طرف رخ کیا اور کہا: ''وجدت فی قلبی حزازة فردونی،فردوہ فمات'' (میں اپنے دل میں درد کا احساس کررہا ہوں، مجھے واپس لے چلو، چنانچہ جیسے ہی اس کو لے کر چلے تو تھوڑی ہی دیر بعدوہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ (4)(5)
٢۔جذبۂ محبت:
اشارہ:
ایک مشہور و معروف ضرب المثل ہے کہ ''انسان احسان کا غلام ہوتا ہے'' (الانسان عبید الاحسان)
یہی مطلب تھوڑے سے فرق کے ساتھ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
''النسان عبد الحسان''(6)
''انسان، احسان کا غلام ہے''۔
نیزامام علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
''بالحسان تملک القلوب''(7)
''احسان کے ذریعہ انسان کے قلوب کو مسخر کیا جاتا ہے ''۔
نیز ایک دوسری حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے:
''وافضِلْ علیٰ من شئت تکن أمیرہ''(8)
''ہر شخص کے ساتھ احسان کرو تاکہ اس کے حاکم بن جاؤ''
ان تمام مطالب کا سرچشمہ حدیث ِپیغمبر اکرم ۖ ہے کہ آپ نے فرمایا:
''نَّ اﷲَ جَعَلَ قُلُوب عبادِہِ علیٰ حُبَّ مَنْ أحسَنَ لیھا ،و بغض من أساء لیھا''(9)
''خداوندعالم نے اپنے بندوں کے دلوں کو اس شخص کی محبت کیلئے جھکادیا ہے جو ان پر احسان کرتا ہے اور ان کے دلوں میں اس شخص کی طرف سے عداوت ڈال دی ہے جو ان سے بدسلوکی کرتا ہے''۔
مختصر یہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ احسان کرے یا اس کی کوئی خدمت کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تو وہ شخص بھی اس سے محبت کرتا ہے، اور نعمت عطا کرنے والے اور احسان کرنے والے سے مانوس ہوجاتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کو مکمل طریقہ سے پہچانے، اور اس کا شکریہ ادا کرے، اور یہ بات بھی طے ہے کہ نعمت اور احسان جتنے اہم ہوتے ہیں ''منعم'' ]یعنی نعمت دینے والے[ کی نسبت اس کی محبت اور اس کی پہچان بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے علمائے علم کلام (عقائد) قدیم الایام سے مذہب کی تحقیق کے سلسلہ میں ''شکرِ منعم'' (نعمت عطا کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کو ) معرفت خدا کی علتوں میں سے ایک علت شمار کرتے ہیں۔
لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ''شکر منعم''کا مسئلہ عقلی حکم سے پہلے ایک عاطفی مسئلہ ہے، اس مختصر سے اشارہ کو عرب کے مشہور و معروف شاعر ''ابو الفتح بستی'' کے شعر پر ختم کرتے ہیں:
احسن لی النَّاس تَستعبد قلوبَھُم
فطالما استعبد النسان حسان
''لوگوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان کے دل پر حکومت کرسکو ، بے شک انسان احسان کا غلام ہوتا ہے''۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: '' ایک روز رسول اکرم ۖ عائشہ کے حجرے میں تھے تو عائشہ نے سوال کیا کہ آپ اس قدر کیوں خود کو (عبادت کے لئے) زحمت میں ڈالتے ہیں؟ جبکہ خداوندعالم نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ کے الزاموں کو معاف کردیا ہے''(10)
آنحضرت ۖ نے فرمایا: ''لاّٰ اکون عبداً شکوراً'' (11) (کیا مجھے اس کا شکر گزار بندہ نہیں ہونا چاہئے؟)
٣۔ فطری لگائو:
اشارہ:
جس وقت فطرت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو اس سے مراد اندرونی ادراک و احساس ہوتا ہے جس کے اوپر کسی عقلی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
جس وقت ہم ایک دلکش منظر ، یا خوبصورت باغ اور چمن دیکھتے ہیں اور ہمارے دل میں اس خوبصورت منظر کے پیش نظر کشش محسوس ہوتی ہے تو اندر سے ہمارا احساس آواز دیتا ہے کہ اس کشش اور لگائو کا نام عشق یا خوبصورتی رکھ دیا جائے، جبکہ یہاں کسی بھی طرح کے استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
جی ہاں! خوبصورتی کا احساس کرنے والی یہ طاقت ،انسان کی بلند پرواز روح کے خواہشات اور رجحانات میں سے ہے، مذہب کے سلسلہ میں یہ کشش خصوصاً معرفت خدا کا مسئلہ بھی ایک اندورنی اور ذاتی احساس ہے، بلکہ انسان کے اندر سب سے بڑی طاقت کا نام ہے۔
اسی وجہ سے ہم کسی قوم و ملت کو نہیں دیکھتے (نہ آج اور نہ ماضی میں ) کہ ان کے یہاں مذہبی عقائد نہ پائے جاتے ہوں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمیق احساس ہر انسان کے یہاں پایا جاتا ہے۔
قرآن مجید نے عظیم الشان انبیاء کے قیام کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس نکتہ پر توجہ دی ہے کہ رسالت کی ذمہ داری شرک و بت پرستی کا خاتمہ تھا (نہ کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا، کیونکہ یہ موضوع تو ہر انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے)
یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انبیاء علیہم السلام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ''خدا پرستی کا درخت'' لوگوں کے دلوں میں لگائیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں موجود اس درخت کی آبیاری کریںاور اس کے پاس سے بے کار گھاس اور کانٹوں کو ہٹادیں جن کی وجہ سے کبھی یہ درخت بالکل خشک ہوسکتا ہے یہاں تک کہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔
''الاَّ تعبد وا لاَّ اﷲ'' یا ''الَّا تعبدوا لاَّ یاہُ'' (خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرو) اس جملہ میں بتوں کی پوجا سے روکا جارہا ہے نہ یہ کہ وجود خدا کو ثابت کیا جارہا ہے، اور یہ جملہ بہت سے انبیاء کی گفتگو میں بیان ہوا ، منجملہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ کی تبلیغ میں (12)جناب نوح علیہ السلام کی تبلیغ میں(13) جناب یوسف علیہ السلام کی تبلیغ میں(14) اور جناب ہود علیہ السلام کی تبلیغ میں بیان ہوا ہے۔(15)
اس کے علاوہ ہمارے دل و جان میں دوسرے فطری احساسات بھی پائے جاتے ہیں جیسے علم و دانش ؛ جن کے بارے میں بہت زیادہ شوق و رغبت ہوتی ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا کے عجیب و غریب نظام کو تو دیکھیں لیکن اس نظام کے پیدا کرنے والے کی معرفت و شناخت کے سلسلہ میں کوئی شوق ورغبت نہ ہو؟
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دانشور چیونٹیوں کی شناخت کے بارے میں بیس سال تک ریسرچ کرے اور دوسرا دسیوں سال پرندوں یا درختوں، یا دریائی مچھلیوں کے بارے میں تحقیق کرے ، لیکن اس کے دل میں علم کا شوق نہ پایا جاتا ہو؟ کیا یہ لوگ اس وسیع و عریض دنیا کے سرچشمہ کی تلاش نہیں کریں گے؟!
جی ہاں! یہ تمام چیزیں ہمیں ''معرفت خدا''کی دعوت دیتی ہیں، ہماری عقل کو اس بات کی طرف بلاتی ہیں، ہماری عاطفی طاقت کو اس طرف جذب کرتی ہیں اور ہماری فطرت کو اس راستہ کی طرف لگاتی ہیں۔(16)
حوالہ جات
(1) تفسیر پیام قرآن ،جلد ٢، ص٢٤.
(2)سورہ فصلت آیت٥٢.
(3) ''عبد الکریم '' کا اصلی نام ''ابن ابی العوجائ'' تھا،کیونکہ وہ منکر خدا تھا لہٰذا امام نے خاص طور سے اس کواس نام سے پکارا تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے.
(4) کافی، جلد اول، صفحہ ٦١، (کتاب التوحید باب حدوث العالم)
(5) تفسیر نمونہ ج٢٠، صفحہ ٣٢٥.
(6) غررالحکم.
(7) وہی حوالہ
(8) بحار الانوار ، جلد ٧٧، صفحہ ٤٢١ ( آخوندی)
(9) تحف العقول ص٣٧ (بخش کلمات پیامبر ۖ)
(10) سورۂ فتح کی پہلی آیت کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفسیر کی وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ٢٢، کے صفحہ ١٨ پر موجود ہے.
(11) اصول کافی ،جلد ٢،باب الشکر حدیث٦.
(12) سورۂ ہود، آیت٢.
(13) سورۂ ہود، آیت٢٦.
(14) سورۂ یوسف، آیت٤٠.
(15) سورۂ احقاف ، آیت٢١.
(16) تفسیر پیام قرآن ، جلد ٢، صفحہ ٣٤.
خداوندعالم کی ذات پاک کا نامحدود ہونا اور ہماری عقل ، علم اور دانش کا محدود ہونا ہی اس مسئلہ کا اصلی نکتہ ہے۔
خداوندعالم
کا وجود ہر لحاظ سے لامتناہی ہے، اس کی ذات ،اس کے علم و قدرت اور دوسرے
صفات کی طرح نامحدود اورختم نہ ہونے والا ہے، دوسری طرف ہم اور جو چیزیں ہم
سے متعلق ہیں چاہے علم ہو یا قدرت، زندگی ہو یا ہمارے اختیار میں موجود
دوسرے امور سب کے سب محدود ہیں۔
لہٰذا ہم اپنی تمام تر محدودیت کے ساتھ
کس طرح خدا وندعالم کے لامحدود وجود اور نا محدود صفات کو درک کرسکتے ہیں؟
ہمارا محدود علم اس لامحدود وجود کی خبر کس طرح دے سکتا ہے؟۔
جی ہاں!
اگر ہم دور سے کسی چیز کو دیکھیں اگرچہ وہ ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو لیکن
پھر بھی اس کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کیا جاسکتا ہے، لیکن خداوندعالم کی
ذات اور صفات کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے یعنی تفصیلی طور پر اس کی
ذات کا علم نہیں ہوسکتا۔
اس کے علاوہ ایک لامحدود وجود کسی بھی لحاظ سے
اپنا مثل و مانند نہیں رکھتا، وہ محض اکیلا ہے کوئی دوسرا اس کی طرح نہیں
ہے، کیونکہ اگر کوئی دوسرا اس کی مانند ہوتا تودونوں محدود ہوجاتے۔
اب
ہم کس طرح اس وجود کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کریں جس کا کوئی مثل و نظیر
نہیں ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سبھی ممکنات کے دائرے میں شامل ہے،
اور اس کے صفات خداوندعالم سے مکمل طورپرفرق رکھتے ہیں(١)
ہم یہ بھی
نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اصل وجود سے آگاہ نہیں ہیں، اس کے علم، قدرت، ارادہ
اور اس کی حیات سے بے خبر ہیں، بلکہ ہم ان تمام امور کے سلسلہ میں ایک
اجمالی معرفت رکھتے ہیں، جن کی گہرائی اور باطن سے بے خبر ہیں، بڑے بڑے
علمااور دانشوروں کے عقلی گھوڑے (بغیر کسی استثنا کے)اس مقام پر لنگڑاتے
ہوئے نظر آتے ہیں، یا شاعر کے بقول:
بہ عقل نازی حکیم تاکی؟ بہ فکرت این رہ نمی شود طی!
بہ کنہ ذاتش خرد برد پی اگر رسد خس و بہ قعر دریا!(٢)
''اے حکیم و دانا و فلسفی تو اپنی عقل پر کب تک ناز کرے گا، تو عقل کے ذریعہ اس راہ کو طے نہیں کرسکتا۔
اس کی کنہِ ذات تک عقل نہیں پہنچ سکتی ہیں جس طرح خس و خاشاک سمندر کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل ہوئی ہے:
''ذا انتہیٰ الکلام لیٰ اﷲ فامسکوا''(۳)
'' جس وقت بات خدا تک پہنچ جائے تو اس وقت خاموش ہوجائو''
یعنی
حقیقت خدا کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ اس کے سلسلہ میں عقلیں حیران
رہ جاتی ہیں اور کسی مقام پر نہیں پہنچ سکتیں، اس کی لامحدود ذات کے بارے
میں محدود عقلوں کے ذریعہ سوچنا ناممکن ہے، کیونکہ جو چیز بھی عقل و فکر کے
دائرہ میں آجائے وہ محدود ہوتی ہے اور خداوندعالم کا محدود ہونا محال
ہے۔(۴)
یا واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ جس وقت ہم اس دنیا کی عجیب و
غریب چیزوں اور ان کی ظرافت و عظمت کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں یا خود
اپنے اوپر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو اجمالی طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان
تمام چیزوں کا کوئی پیدا کرنے والا ہے، جبکہ یہ وہی علمِ اجمالی ہے جس پر
انسان خدا کی معرفت اور اس کی شناخت کے آخری مرحلہ میں پہنچتا ہے، (لیکن
انسان جس قدر اسرار کائنات سے آگاہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی عظمت واضح ہوتی
جاتی ہے تو اس کی وہ اجمالی معرفت قوی تر ہوتی جاتی ہے) لیکن جب ہم خود
اپنے سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ اور کس طرح ہے؟ اور اس کی ذاتِ پاک
کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہیں تو حیرت و پریشانی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا،
یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی شناخت کا راستہ مکمل
طور پر کھلا ہوا ہے حالانکہ مکمل طور پر بند بھی ہے۔
اس مسئلہ کو ایک
مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ بات ہم اچھی طرح
جانتے ہیں کہ قوتِ جاذبہ کا وجود ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی چیز
کو چھوڑتے ہیں تو وہ گرجاتی ہے اور زمین کی طرف آتی ہے ، اور اگر یہ قوتِ
جاذبہ نہ ہوتی تو روئے زمین پر بسنے والے کسی موجود کو چین و سکون نہ
ملتا،لیکن اس قوۂ جاذبہ کے بارے میں علم ہونا کوئی ایسی بات نہیں جو
دانشوروں سے مخصوص ہو ، بلکہ چھوٹے بچے بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں
البتہ قوتِ جاذبہ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا دکھائی نہ دینے والی لہریں ہیں ، یا
نامعلوم ذرات یا دوسری کوئی طاقت؟ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے ۔
اور تعجب کی
بات یہ ہے کہ یہ قوتِ جاذبہ ،مادی دنیا میں معلوم شدہ چیز کے برخلاف،
ظاہراً کسی چیز کو دوسری جگہ پہنچانے میں کسی زمانہ اور وقت کی محتاج نہیں
ہے، نور کے برخلاف جو کہ مادی دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے ، لیکن
کبھی اس نور کوایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے لاکھوں سال درکار ہوتے
ہیں، جبکہ قوتِ جاذبہ اسے دنیا کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ میں لمحہ بھر میں
منتقل کردیتی ہے، یا کم سے کم ہم نے جو سرعت و رفتار سنی ہے اس سے کہیں
زیادہ اس کی رفتار ہوتی ہے۔
یہ کونسی طاقت ہے جس کے آثار ایسے(عجیب و
غریب) ہیں؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ کوئی شخص بھی اس کا واضح جواب نہیں دیتا،
جب اس ''قوتِ جاذبہ '' (جو ایک مخلوق ہے) کے بارے میں ہمارا علم صرف
اجمالی پہلو رکھتا ہے اور اس کے بارے میں تفصیلی علم نہیں ہے، تو پھر کس
طرح اس ذات اقدس کی کُنہ (حقیقت) سے باخبر ہوسکتے ہیں جو اس دنیا اور
ماورائے طبیعت کا خالق ہے جس کا وجود لامتناہی ہے، لیکن بہر حال ہم اس کو
ہر جگہ پر حاضر و ناظر مانتے ہیں اور کسی بھی ایسی جگہ کا تصور نہیں کرتے
جہاں اس کا وجود نہ ہو۔
با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را (۵)
'' تولاکھوں جلووں کے ساتھ جلوہ افروز ہے تاکہ میں لاکھوں آنکھوں کے ذریعہ تیرا دیدار کروں''۔
حوالہ جات
(١)
اگر آپ حضرات تعجب نہ کریں تو ہم ''لامتناہی'' (لامحدود) مفہوم کا تصور ہی
نہیں کرسکتے ،لہٰذا کس طرح لفظ ''لامتناہی'' کو استعمال کیا جاتا ہے؟ اور
اس کے سلسلہ میں خبر دی جاتی ہے اور اس کے احکام کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے
، تو کیا بغیر تصور کے تصدیق ممکن ہے؟
جواب : لفظ ''لامتناہی'' دو
لفظوں سے مل کر بنا ہے ''لا'' جو کہ عدم اور نہ کے معنی میں ہے اور
''متناہی'' جو کہ محدود کے معنی میں ہے، یعنی ان دونوں کو الگ الگ تصور کیا
جاسکتا ہے، (نہ ، محدود) اس کے بعد دونوں کو مرکب کردیا گیا، اور اس کے
ذریعہ ایسے وجودکی طرف اشارہ کیا گیاہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اور اس
پر (صرف) علم اجمالی حاصل ہوتا ہے . (غور کیجئے)
(٢) پیام قرآن ، جلد ٤، ص٣٣.
(۳) تفسیر ''علی بن ابراہیم '' نور الثقلین ، جلد ٥، صفحہ ١٧٠ کی نقل کے مطابق.
(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ٢٢، صفحہ ٥٥٨.
(۵) پیام امام (شرح نہج البلاغہ)، جلد اول، صفحہ ٩١
خدا پرستوں پر مادیوں کا ایک بیہودہ اعتراض یہ
ہوتا ہے کہ ''انسان کس طرح ایک ایسی چیز پر ایمان لے آئے جس کو اس نے اپنی
آنکھ سے نہ دیکھا ہو یا اپنے حواس سے درک نہ کیا ہو، تم کہتے ہو کہ خدا کا
نہ جسم ہے اور نہ اس کے رہنے کے لئے کوئی جگہ، نہ زمان درکار ہے اور نہ
کوئی رنگ و بووغیرہ تو ایسے وجود کو کس طرح درک کیا جاسکتا ہے اور کس ذریعہ
سے پہچانا جاسکتا ہے؟ لہٰذا ہم تو صرف اسی چیز پر ایمان لاسکتے ہیں کہ جس
کو اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکیں اور جس چیز کو ہماری عقل درک نہ کرسکے تو
اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے''۔
جواب :اس اعتراض کے جواب میں مختلف پہلوئوں سے بحث کی جاسکتی ہے:
١۔ معرفت خدا کے سلسلہ میں مادیوں کی مخالفت کے اسباب :
ان
کا علمی غرور اور ان کا تمام حقائق پر سائنس کو فوقیت دینا ، اور اسی طرح
ہر چیز کو سمجھنے اور پرکھنے کا معیار صرف تجربہ اور مشاہدہ قرار دینا ہے،
نیز اس بات کا قائل ہونا کہ طبیعی اور مادی چیزوں کے ذریعہ ہی کسی چیز کو
درک کیا جاسکتا ہے، (یہ سخت بھول ہے۔)
کیونکہ ہم اس مقام پر ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ سائنس کے سمجھنے اور پرکھنے کی کوئی حد ہے یا نہیں؟!
واضح ہے کہ اس سوال کا جواب مثبت ہے کیونکہ سائنس کے حدود دوسری موجودات کی طرح محدود ہیں ۔
تو پھر کس طرح لامحدود موجود کو طبیعی چیزوں کے ذریعہ درک کیا جاسکتا ہے؟۔
لہٰذا
بنیادی طور پر خداوندعالم، اور موجودات ِماورائے طبیعت ،سائنس کی رسائی سے
باہر ہیں، اورجو چیزیں ماورائے طبیعت ہوں ان کو سائنس کے آلات کے ذریعہ
درک نہیں کیا جاسکتا، ''ماورائے طبیعت ''سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس کے
ذریعہ ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں سے ہر
شعبہ کے لئے ایک الگ میزان و مقیاس ہوتا ہے جس سے دوسرے شعبہ میں کام نہیں
لیا جاسکتا، نجوم شناسی، فضا شناسی اور جراثیم شناسی میں ریسرچ کے اسباب
ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔
کبھی بھی ایک مادی ماہر اس بات کی
اجازت نہیں دے گا کہ ایک منجم سے کہا جائے کہ فلاں جرثومہ کو ستارہ شناسی
وسائل کے ذریعہ ثابت کرو، اسی طرح ایک جراثیم شناس ماہر سے اس بات کی امید
نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے آلات کے ذریعہ ستاروں کے بارے میں خبر دے ،
کیونکہ ہر شخص اپنے علم کے لحاظ سے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرسکتا ہے،
اور اپنے دائرے سے باہر نکل کر کسی چیز کے بارے میں ''مثبت'' یا ''منفی''
نظریہ نہیں دے سکتا۔
لہٰذا ہم کس طرح سائنس کو اس بات کا حق دے سکتے ہیں
کہ وہ اپنے دائرے سے باہر بحث و گفتگو کرے ، حالانکہ اس کے دائرے کی حد
عالم طبیعت اور اس کے آثار و خواص ہیں؟!
ایک مادی ماہر کو یہ حق ہے کہ
وہ یہ کہے کہ میں ''ماورائے طبیعت'' کے سلسلہ میں خاموش ہوں، کیونکہ یہ
میرے دائرے سے باہر کی بات ہے، نہ یہ کہ وہ ماورائے طبیعت کا انکار کرڈالے،
یہ حق اس کو نہیں دیا جاسکتا۔
جیسا کہ اصولِ فلسفۂ حسی کا بانی ''
اگسٹ کانٹ'' اپنی کتاب ' امور حسیہ کے بارے میں گفتگو'' میں کہتا
ہے:''چونکہ ہم موجودات کے آغاز و انجام سے بے خبر ہیں لہٰذا اپنے زمانہ سے
پہلے یا اپنے زمانہ کے بعد آنے والی موجودات کا انکار نہیں کرسکتے، جس طرح
سے ان کو ثابت بھی نہیں کرسکتے،(غور کیجئے گا)
خلاصہ یہ کہ حسی فلسفہ ،
جہل مطلق کے ذریعہ کسی بھی طرح کا نظریہ نہیں دیتا، لہٰذا حسی فلسفہ کے
فرعی علوم کو بھی موجوات کے آغاز اور انجام کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں
کرنا چاہئے ، یعنی ہم خدا کے علم و حکمت ، اوراس کے وجود کا انکار نہ کریں
اور اس کے بارے میں نفی و اثبات کے سلسلہ میں بے طرف رہیں ،(نہ انکار کریں
اور نہ اثبات) ''
ہمارے کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ''ماورائے طبیعت''
دنیا کو سائنس کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاسکتا، اصولی طور پر وہ خدا جس کو
مادی اسباب کے ذریعہ ثابت کیا جائے خدا نہیں ہوسکتا۔
دنیا بھر کے خدا
پرستوں کے عقائد کی بنیاد یہ ہے کہ خدا ،مادہ اور مادہ کی خاصیت سے پاک و
منزہ ہے، اور اسے کسی بھی مادی وسیلہ سے درک نہیں کیا جاسکتا۔
لہٰذا یہ
نہیں سوچنا چاہئے کہ اس دنیا کو خلق کرنے والے کو آسمان کی گہرائیوں میں
میکروسکوپ (Microscope) یا ٹلسکوپ کے ذریعہ تلاش کیا جاسکتا ہے، یہ خیال
بیہودہ اور بیجا ہے۔
٢۔ اس کی نشانیاں
دنیا کی ہر چیز کی
پہچان کے لئے کچھ آثار اور نشانیاں ہوتی ہیں ، لہٰذا اس کی نشانیوں کے
ذریعہ ہی اس کو پہچانا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ آنکھوں اور دوسرے حواس کے
ذریعہ جن چیزوں کو درک کرتے ہیں در حقیقت ان کو بھی آثار اور نشانیوں کے
ذریعہ ہی پہچانتے ہیں، (غور کیجئے )
کیونکہ کوئی بھی چیز ہمارے فکر و خیال میں داخل نہیں ہوسکتی اور ہمارا مغز کسی بھی چیز کے لئے ظرف واقع نہیں ہوسکتا۔
مثال
کے طور پر: اگر آپ آنکھوں کے ذریعہ کسی جسم کو تشخیص دینا چاہیں اور اس
کے وجود کو درک کرنا چاہیں تو شروع میں اس چیز کی طرف دیکھیں گے اس کے بعد
نور کی شعائیں اس پر پڑتی ہیں اور آنکھ کی پتلی میں نورانی لہریں ''شبکیہ''
نامی آنکھ کے پردہ پر منعکس ہوتی ہیں تو بینائی اعصاب نور کو حاصل کرکے
مغز تک پہنچاتے ہیں اور پھر انسان اس کو سمجھ لیتا ہے۔
اور اگر لمس کے
ذریعہ(یعنی چھوکر) کسی چیز کو درک کریں تو کھال کے نیچے کے اعصاب انسان کے
مغز تک اطلاع پہنچاتے ہیں اور انسان اس کو درک کرتا ہے، لہٰذا کسی جسم کو
درک کرنا اس کے اثر (رنگ، آواز اور لمس وغیرہ ) کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور
کبھی بھی وہ جسم ہمارے مغز میں قرار نہیں پاتا، اور اگر اس کا کوئی رنگ نہ
ہو اور اعصاب کے ذریعہ اس کا ادراک نہ کیا جاسکتا ہو تو ہم اس چیز کو بالکل
نہیں پہچان سکتے۔
مزید یہ کہ کسی چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا ایک
نشانی کا ہونا کافی ہے، مثلاً اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہوکہ دس ہزار سال
پہلے زمین کے فلاں حصہ میں ایک آبادی تھی اور اس کے حالات اس طرح تھے، تو
صرف وہاں سے ایک مٹی کا کوزہ یا زنگ زدہ اسلحہ برآمد ہونا کافی ہے، اور اسی
ایک چیز پر ریسرچ کے ذریعہ ان کی زندگی کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل
ہوجائیں گی۔
اس بات کے پیش نظر ہر موجود چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی
اس کو اثر یا نشانی کے ذریعہ ہی پہچانا جاتا ہے اور یہ کہ ہر چیز کی پہچان
کے لئے ایک اثر یا نشانی کا ہونا کافی ہے، تو کیا پوری دنیا میں عجیب و
غریب اور اسرار آمیز چیزوں کو دیکھنا خدا کی شناخت اور اس کی معرفت کے لئے
کافی نہیں ہے؟!
آپ کسی چیز کو پہچاننے کے لئے ایک اثر پر کفایت کرلیتے
ہیں اور ایک مٹی کے کوزہ کے ذریعہ چند ہزار سال پہلے زندگی بسر کرنے والوں
کے بعض حالات کا پتہ لگاسکتے ہیں، جبکہ خدا کی شناخت کے لئے ہمارے پاس
لاتعداد آثار، لاتعداد موجودات اور بے انتہا نشانیاں موجود ہیں کیا اتنے
آثار کافی نہیں ہیں؟! دنیا کے کسی بھی گوشہ پر نظر ڈالیں خدا کی قدرت اور
اس کے علم کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں، پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے
اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور اپنے کانوں سے نہیں سنا، تجربہ اور ٹلسکوپ
کے ذریعہ نہیں دیکھ سکے، توکیا ہر چیز کو صرف آنکھوں سے دیکھا جاتاہے؟!
٣۔ دیکھنے اور نہ دیکھنے والی چیزیں:
خوش
قسمتی سے آج سائنس نے ترقی کر کے بہت سی ایسی چیزیں بناڈالی ہیں کہ ان کے
وجود سے مادیت اور اس کے نتیجہ میں مادی اور الحادی نظریہ کی تردید ہوجاتی
ہے، قدیم زمانہ میں تو ایک دانشور یہ کہہ سکتا تھا کہ جس چیز کو انسانی
حواس درک نہیں کرسکتے اس کوقبول نہیں کیا جاسکتا، لیکن آج سائنس کی ترقی سے
یہ بات ثابت ہوچکی ہے: اس دنیا میں دیکھی جانے والی اور درک ہونے والی
چیزوں سے زیادہ وہ چیزیں ہیں جن کو دیکھا اوردرک نہیں کیا جاسکتا، عالم
طبیعت میں اس قدر موجودات ہیں کہ انھیں حواس میں سے کسی کے بھی ذریعہ درک
نہیں کیا جاسکتا، اور ان کے مقابلہ میں درک ہونے والی چیزیں صفر شمار ہوتی
ہیں!
نمونہ کے طور پر چند چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
١۔ علم
فیزکس کہتا ہے کہ رنگوں کی سات قسموں سے زیادہ نہیں ہیں جن میں سے پہلا
سرخ اور آخری جامنی ہے، لیکن ان کے ماوراء ہزاروں رنگ پائے جاتے ہیں جن کو
ہم درک نہیں کرسکتے، اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ بعض حیوانات ان بعض رنگوں
کو دیکھتے ہیں۔
اس کی وجہ بھی واضح اور روشن ہے ، کیونکہ نور کی لہروں
کے ذریعہ رنگ پیدا ہوتے ہیں، یعنی آفتاب کا نور دوسرے رنگوں سے مرکب ہوکر
سفید رنگ کو تشکیل دیتا ہے اور جب جسم پر پڑتا ہے تو وہ جسم مختلف رنگوں کو
ہضم کرلیتا ہے اور بعض کو واپس کرتا ہے جن کو واپس کرتا ہے وہ وہی رنگ
ہوتا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، لہٰذا اندھیرے میں جسم کا کوئی رنگ نہیں
ہوتا، دوسری طرف نور کی موجوں کی لہروں کی شدت اور ضعف کی وجہ سے رنگوں میں
اختلاف پیدا ہوتا ہے اور رنگ بدلتے رہتے ہیں، یعنی اگر نور کی لہروں کی
شدت فی سیکنڈ٤٥٨ ہزار ملیارڈ تک پہنچ جائے تو سرخ رنگ بنتا ہے اور ٧٢٧ ہزار
ملیارڈ لہروں کے ساتھ جامنی رنگ دکھائی دیتا ہے ، اس سے زیادہ لہروں یا کم
لہروں میں بہت سے رنگ ہوتے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے ۔
٢۔ آواز کی
موجیں ١٦مرتبہ فی سیکنڈ سے لے کر ٢٠٠٠٠ مرتبہ فی سیکنڈ تک ہمارے لئے قابل
فہم ہیں اگر اس سے کم یا زیادہ ہوجائے تو ہم اس آواز کو نہیں سن سکتے۔
٣۔
امواجِ نور کی جن لہروں کو ہم درک کرسکتے ہیں انھیں٤٥٨ ہزار ملیارڈ فی
سیکنڈ سے ٧٢٧ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ تک کی حدود میں ہونا چاہئے اس سے کم یا
زیادہ چاہے فضا میں کتنی ہی موجیں موجود ہوں ہم ان کو درک نہیں کرسکتے۔
٤۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے جانداروں (وائرس اور بیکٹریز) کی
تعداد انسان کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں، اور بغیر کسی دوربین کے دیکھے
نہیں جاسکتے ، اور شاید اس کے علاوہ بہت سے ایسے چھوٹے جاندار پائے جاتے
ہیں جن کو سائنس کی بڑی بڑی دوربینوں کے ذریعہ ابھی تک نہ دیکھا گیا ہو۔
٥۔
ایک ایٹم اور اس کی مخصوص باڈی اور الکٹرون کی گردش نیز پروٹن کے ذریعہ
ایک ایسی عظیم طاقت ہوتی ہے جو کسی بھی حس کے ذریعہ قابل درک نہیں ہے،
حالانکہ دنیاکی ہر چیز ایٹم سے بنتی ہے، اور ہوا میں بمشکل دکھائی دینے
والے ایک ذرہ غبار میں لاکھوں ایٹم پائے جاتے ہیں۔
گزشتہ دانشوروں نے جو
کچھ ایٹم کے بارے میں نظریہ پیش کیا تھا وہ صرف تھیوری کی حد تک تھا لیکن
کسی نے بھی ان کی باتوں کو نہیں جھٹلایا۔(١)
لہٰذا
اگر کوئی چیز غیر محسوس ہے تو یہ اس کے نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے، آپ
دیکھئے دنیا میں ایسی بہت سی چیزیں بھری پڑی ہیں جو غیر محسوس ہیں جن کو
ہمارے حواس درک نہیں کرسکتے!
جیسا کہ ایٹم کے کشف سے پہلے یا ذرہ بینی
(چھوٹی چھوٹی چیزوں) کے کشف سے پہلے کسی کو اس بات کا حق نہیں تھا کہ ان کا
انکار کرے، اور ممکن ہے کہ بہت سی چیزیں ہمارے لحاظ سے مخفی ہوں اور ابھی
تک سائنس نے ان کو کشف نہ کیا ہو بلکہ بعد میں کشف ہوں تو ایسی صورت میں
ہماری عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان شرائط (علم کا محدود ہونا اور
مختلف چیزوں کے درک سے عاجز ہونے) کے تحت ہم ان چیزوں کے بارے میں نظریہ
پیش کریں کہ وہ چیزیں ہیں یا نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ہمارے حواس اور
دوسرے وسائل کا دائرہ محدود ہے لہٰذا ان کے ذریعہ ہم عالَم کو بھی محدود
مانیں۔(۲)
انھیں چیزوں میں سے ہوا
بھی ہے جوہمہ وقت ہمارے چاروں طرف موجود رہتی ہے اوراس قدر وزنی ہے کہ ہر
انسان ١٦ ہزار کلوگرام کے برابر اس کو برداشت کرسکتا ہے، اور ہمیشہ عجیب و
غریب دبائو میں رہتا ہے البتہ چونکہ یہ دبائو (اس کے اندرونی دبائو کی وجہ
سے) ختم ہوتا رہتا ہے لہٰذا اس دبائو کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جبکہ
کوئی بھی انسان یہ تصور نہیں کرتا کہ ہوا اس قدر وزنی ہے، ''گلیلیو'' اور
''پاسکال'' سے پہلے کسی کو ہوا کے وزن کا علم نہیں تھا، اور اب جبکہ سائنس
نے اس کے وزن کی صحت کی گواہی دے دی پھر بھی ہم اس کا احساس نہیں کرتے.
انھیں
غیر محسوس چیزوں میں سے ''اٹر'' ہے کہ بہت سے دانشوروں نے ریسرچ کے بعد اس
کااعتراف کیا ہے، اور ان کے نظریہ کے مطابق یہ شئے تمام جگہوں پر موجود ہے
اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے، بلکہ بعض دانشور تو اس کو تمام چیزوں کی
اصل مانتے ہیں، اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ ''اٹر'' ایک بے وزن
اوربے رنگ چیز ہے اور اس کی کوئی بو بھی نہیں ہوتی... جو تمام ستاروں اور
تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے اور تمام چیزوں کے اندر نفوذ کئے ہوئے ہے،
لیکن ہم اسے درک کرنے سے قاصر ہیں.
البتہ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ
دعویٰ کرناچاہتے ہیں کہ جس طرح سے الکٹرون ، پروٹون یا دوسرے رنگ سائنس نے
کشف کئے ہیں تو سائنس مزید ترقی کرکے بعض مجہول چیزوں کو کشف کرلے گی، اور
ممکن ہے کہ ایک روز ایسا آئے کہ اپنے ساز و سامان کے ذریعہ ''عالم ماورائے
طبیعت'' کو بھی کشف کرلے!
جی نہیں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے جیسا
کہ ہم نے کہا کہ ''ماورائے طبیعت'' اور ''ماورائے مادہ '' کو مادی وسائل کے
ذریعہ نہیں سمجھا جاسکتا، اور یہ کام مادی اسباب و سازو سامان کے بس کی
بات نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح بعض چیزوں
کے کشف ہونے سے پہلے ان کے بارے میں انکار کرنا جائز نہیں تھا اور ہمیں اس
بات کا حق نہیں تھا کہ یہ کہتے ہوئے انکار کریں کہ فلاں چیز کوچونکہ ہم
نہیں دیکھتے؛ جن چیزوں کو دنیاوی سازو سامان کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا ،
یاوہ سائنس کے ذریعہ ثابت نہیں ہیں لہٰذا ان کا کوئی وجود نہیں ہے، اسی
طرح سے ''ماورائے طبیعت'' کے بارے میں یہ نظریہ نہیں دے سکتے کہ اس کا کوئی
وجود نہیں ہے، لہٰذا اس غلط راستہ کو چھوڑنا ہوگا اور خدا پرستوں کے دلائل
کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اس کے بعد اپنی رائے کے اظہار کا حق ہوگا اس لئے
کہ اس صورت میں واقعی طور پر اس کا نتیجہ مثبت ہوگا(۳)
حوالہ جات
(١)
منجملہ ان چیزوں کے جو محسوس نہیں ہوتی لیکن کسی بھی دانشور نے ان کا
انکار نہیں کیا ہے زمین کی حرکت ہے یعنی کرۂ زمین گھومتا ہے، اور یہ وہی
''مدو جزر''(پھیلنا اورسکڑنا ) ہے جو اس زمین پر رونما ہوتا ہے، اور اس کا
اثر یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پائوں تلے کی زمین دن میں دو بار ٣٠ سینٹی میٹر
اوپر آتی ہے ، جس کو نہ کبھی ہم نے دیکھا، اور نہ کبھی اس کااحساس کیا، یہ
زمین دن میں دو بار ٣٠cmاوپر آتی ہے.
(۲) مذکورہ بالا مطلب کی تصدیق کے لئے ''کامیل فلامارین'' کی کتاب ''اسرار موت'' سے ایک اقتباس آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر تے ہیں:
''لوگ
جہالت ونادانی کی وادی میں زندگی بسر کررہے ہیں اور انسان یہ نہیں جانتا
کہ اس کی یہ جسمانی ترکیب اس کو حقائق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتی ہے، اور
اس کویہ حواس خمسہ ،کسی بھی چیز میں دھوکہ دے سکتے ہیں، صرف انسان کی عقل و
فکر اور علمی غور و فکر ہی حقائق کی طرف رہنمائی کرسکتی ہیں''! اس کے بعد
ان چیزوں کو بیان کرنا شروع کرتا ہے جن کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے،
اوراس کے بعد مؤلف کتاب ایک ایک کرکے بیان کرتا ہے اور پھر ہر ایک حس کی
محدودیت کو ثابت کرتا ہے یہاں تک کہ کہتا ہے:''لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری
عقل اور سائنس کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ بہت سی حرکات ، ذرات، ہوا ، طاقتیں
اور دیگر چیزیں ایسی ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے، اور ان حواس میں سے کسی ایک
سے بھی ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے اطراف
میں بہت سی ایسی چیزیں ہوں جن کا ہم احساس نہیں کرتے ، بہت سے ایسے جاندار
ہوں جن کو ہم نہیں دیکھتے، جن کا احساس نہیں کرتے، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ
''ہیں'' بلکہ ہم یہ کہیں : ''ممکن ہے کہ ہوں'' کیونکہ گزشتہ باتوں کا نتیجہ
یہی ہے کہ ہمارے حواس تمام موجودات کو ہمارے لئے کشف کرنے کی صلاحیت نہیں
رکھتے کہ بلکہ یہی حواس بعض اوقات تو ہمیں فریب دیتے ہیں ،اور بہت سی چیزوں
کو حقیقت کے بر خلاف دکھاتے ہیں، لہٰذا ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ
تمام موجودات کی حقیقت صرف وہی ہے جس کو ہم اپنے حواس کے ذریعہ درک کرلیں،
بلکہ ہمیں اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ
بہت سی موجودات ہوں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، جیسا کہ ''جراثیم'' کے کشف
سے پہلے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ''لاکھوں جراثیم'' ہر چیزکے
چاروں طرف موجود ہوں گے، اور ان جراثیم کے لئے ہر جاندار کی زندگی ایک
میدان کی صورت رکھتی ہوگی.
نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے یہ ظاہری حواس اس بات
کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ موجودات کی حقیقت اور ان کی واقعیت کا صحیح پتہ
لگاسکیں، مکمل طور پر حقائق کو بیان کرنے والی شئے ہماری عقل اور فکر ہوتی
ہے'' (نقل از علی اطلال المذہب المادی، تالیف فرید وجدی ، جلد ٤)
(۳) آفریدگار جہان، آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کی بحثوں کا مجموعہ، صفحہ ٢٤٨.
سوال؛ اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء کے حوالے سے جواب دیتے ہیں:
بریلوی جواب:
سوال نمبر 910:
کیا یا علی مدد اور المدد یا غوث الاعظم کہنا جائز ہے؟ مہربانی فرما کر شرعی دلیل کے ساتھ سمجھا دیں۔
جواب:
انبیا کرام خصوصاً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپکی امت کے اولیاء کرام کے لیے مجازاً یہ الفاظ استعمال کرنا جائز ہے۔
سیدنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ اپنے چچا
سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی عزوہ احد میں شہادت پر اس قدر روئے کہ
انہیں ساری زندگی اتنی شدت سے روتے نہیں دیکھا گیا۔ پھر حضرت حمزہ رضی اللہ
عنہ کو مخاطب کر کے فرمانے لگے :
يا حمزة يا عم رسول الله اسد الله واسد رسوله يا حمزة يا فاعل الخيرات! يا حمزة ياکاشف الکربات يا ذاب عن وجه رسول الله.
(المواهب اللدينه، 1 : 212)
آپ
نے دیکھا کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام اپنے وفات شدہ چچا سے فرما رہے ہیں
یا کاشف الکربات (اے تکالیف کو دور کرنے والے)۔ اگر اس میں ذرہ برابر بھی
شبہ شرک ہوتا تو آپ اس طرح نہ کرتے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے پیارے اور مقرب
بندے قابل توسل ہیں۔
لہذا یہ جائز ہے لیکن خیال رہے کہ حقیقی مستعان فقط صرف اللہ ہی ہے اور اولیاء کرام فقط وسیلہ ہے۔
مزید تفصیل کے لیے آپ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت کا مطالعہ فرمائیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان
تاریخ اشاعت: 2011-04-20
فتوی آنلائن
استغاثہ و استمداد /نداء یار سول اللہ
کیا علی علیہ السلام کو مشکل کشا (مشکل حل کرنے والے) کہنا درست ہے؟
دیوبندی جواب:
فتوی: 1925=1547/1430/ھ
امیرالموٴمنین
خلفیة الرابع سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ مشکل سے مشکل مقدمات اور
پیچیدہ معاملات میں فیصلہ فرماکر بہت آسانی سے حل فرمادیا کرتے تھے، اسی
لیے حضرت رضی اللہ عنہ کو حلّال المعضلات کے لقب سے ملقب کیا جاتا تھا، جس
کا ترجمہ بزبان فارسی مشکل کشا ہے، اس معنی کے لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ
عنہ اور دیگر اکابر امت پر اس لفظ کا اطلاق درست ہے، شرعاً یا عقلاً اس میں
کچھ استبعاد یا مانع نہیں ہے.
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
(مفتی
صاحب نے یہاں تک تصدیق کی ہے اور ہم بھی یہیں تک صارفین و قارئین کی خدمت
میں پیش کرتے ہیں اگر آپ ان کا مزید فتوی دیکھنا چاہتے ہیں جہاں مفتی صاحب
نے ذاتی تبصرہ لکھا ہے تو یه لیجئے لنک)
شیعہ جواب:
کیا یا علی مدد اور یا علی ادرکنی کہنا جائز ہے؟
جواب:
حجت اللہ اور ولی اللہ سے مدد مانگنا اور ان سے استغاثہ کرنا جائز ہے جس کی سب سے اہم دلیل دعائے فَرَج ہے۔
شیخ
عباس قمی المعروف "محدث قمی" رحمة اللہ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ اور زندہ
جاوید کتاب دعاء "مفاتیح الجنان" (جنت کی کنجیاں) میں تحریر فرمایا ہے کہ
حضرت امام زمانہ ولی العصر بقیةاللہ الاعظم سلام اللہ علیہ و علی آبائہ
الطیبین الطاہرین، نے ایک شخص کو اس دعا کی تعلیم دی جو اسیر تھا اور وہ
اسیری سے رہا ہو گیا۔ یہ دعاء کفعمی کی کتاب بلدالامین سے نقل ہوئی ہے۔
شیعہ کے نزدیک یہ یا محمد (ص) اور یا علی (ع) کہنا بعنوان وسیلہ الی اللہ،
جائز ہے۔
دعائے فَرَج:
الهی عظم البلاء و برح الخفاء وانکشف الغطاء و
انقطع الرجاء وضاقت الارض و منعت السماء و انت المستعان و الیک المشتکی و
علیک المعول فی الشدة و الرخا اللهم صل علی محمد و آل محمد اولی الامر
الذین فرحت علینا طاعتهم و عرفتنا بذلک منزلتهم ففرج عنا بحقهم فرجا عاجلا
فریبا کلمح البصر او هو اقرب یا محمد یا علی یا علی یا محمد اکفیانی فانکما
کافیان و انصرانی فانکما ناصران یا مولانا یا صاحب الزمان الغوث الغوث
ادرکنی ادرکنی الساعه الساعه الساعه العجل العجل العجل یا ارحم الراحمین
بحق محمد و اله الطاهرین۔
۔۔۔۔۔۔
دعائے توسل میں بھی واضح طور پر
چودہ معصومین علیہم السلام کو وسیلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کی آبرو
اور عظمت کے صدقے ہم اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہیں اور اگر وہ مدد کرسکتے
ہیں تو اس کی وجہ بھی اذن الہی ہے اور اگر ہم اہل بیت (ع) کو معاذاللہ خدا
کے مساوی قرار دیں اور کہیں کہ اللہ کے اذن کے سوا وہ خود ہی سب کچھ کرنے
پر قادر ہیں تو یہ شرک کے زمرے میں آئے گا۔ لیکن اگر ہم یا رسول اللہ (ص)
یا علی (ع) یا ۔۔۔ کو اس عنوان سے ورد زبان بنائے رکھیں کہ وہ اللہ کی
بارگاہ میں صاحبان عزت و عظمت ہیں اور اللہ تعالی ان کی دعا رد نہیں کرتا
تو یہ عین عبادت اور عین توحید ہے اور شیعہ مکتب کا عقیدہ یہی ہے کہ لامؤثر
فی الوجود الا اللہ اور اگر اللہ کے سوا کسی اور میں کچھ کرنے کی کوئی
صلاحیت ہے تو وہ اسی لئے ہے کہ انہیں یہ سب کچھ اللہ تعالی نے عنایت فرمایا
ہے۔ منشأِ وجود صرف اللہ ہے جس کے بارے میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے
بے شمار ارشادات موجود ہیں۔
کسی طلاق یافتہ خاتون سے، عدت گذرنے کے بعد، عقد متعہ ہو جاتا ہے
اور کچھ عرصہ کے بعد خاندان کے بزرگوں کے ذریعہ یہ بات طے پاتی ہے کہ اس
کی شادی دوبارہ پہلے شوہر سے کی جائے وہ خاتون ، دوسرے (متعی) شوہر کے پاس
جاتی ہے اور اس سے چارہ جوئی اور متعہ کی باقی مدّت کو بخش دینے کا مطالبہ
کرتی ہے وہ اس کی باقی مدّت بخش دیتا ہے، اور دوبارہ اس خاتون سے عقد متعہ
کرلیتا ہے، اور دخول سے پہلے ہی، عقد متعہ کو فسخ کردیتا ہے ، اور اس کے
فوراً بعد خاتون کی شادی پہلے شوہر سے ہوجاتی ہے، اس استدلال کے ساتھ کہ یہ
دوسرا فسخ، دخول سے پہلے ہے اور جس کے دخول نہ ہوا ہو اس کی عدّت نہیں
ہوتی ہے، کیا یہ بات صحیح ہے ؟
جواب:۔پہلے عقد متعہ کی عدّت اس طرح کے کاموں سے، ساقط نہیں ہوگی
اور جب تک عدّت ، ختم نہیں ہوگی اسکی دوبارہ شادی صحیح نہیں ہوگی، اور
بغیر عدّت رکھے، اس خاتون کی کسی بھی شخص کے ساتھ شادی نہیں ہوسکتی .
اگر طلاق رجعی میں رجوع کرنے کے بجائے متعہ کرلے اورعدت کے ختم
ہونے پر متعہ کا وقت بھی ختم ہوجائے تو کیا یہ مطلقہ رجعیہ ،دوسرے مرد سے
شادی کرسکتی ہے؟ یا عدت کی ضرورت ہے؟ اگر متعہ کے دوران دخول نہ ہوا ہو
توکیا پھر بھی عدت ضروری ہے؟
متعہ کی عدت کو بھی پورا کرے، اس کے بعد دوسرے مرد سے شادی کرے
لیکن اگر متعہ کے دوران دخول نہ ہو تو متعہ کی عدت کی ضرورت نہیں ہے ۔
ایسے نوٹ یا سکے جو لوگوں کے درمیان رد وبدل ہوتے رہتے ہیں کیا ان پر گیلا ہاتھ لگنے سے ہاتھ نجس ہوجائے گا؟
جواب: جب تک نجاست کا یقین حاصل نہ ہو جائے پاک ہے۔
اگر زندہ چوہا کھانے کے اندر گرجائے اور زندہ ہی باہر آجائے کیا وہ کھانا پاک ہے؟
جواب: پاک توہے لیکن آلودہ ہے اور بہتر ہے کہ اس کھانے سے پرہیز کیا جائے۔
اگر فرش کا ایک چھوٹا سا حصہ نجس ہوجائے لیکن فرش کے جابجا ہونے
کی وجہ سے معلوم نہ ہو کہ کس جگہ سے نجس ہوا ہے ، پھر ایک بھیگا ہوا کپڑا
تین چوتھائی فرش کے اوپر پھیر دیا جائے ، لیکن اچھی طرح معلوم نہ ہوسکے کہ
نجس کے اوپر کپڑا لگا ہے یا نہیں ؟ اس صورت میں کیا جس حصہ پر یہ بھیگا ہوا
کپڑا پھیرا گیا ہے وہ نجس ہے؟
سوال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر پورے فرش پر کپڑا نہیں پھیرا ہے تونجس نہیں ہے ۔
نجس خمیر کو کیسے پاک کیا جا سکتا ہے؟
جواب: بظاہر اس کے پاک ہونے کا کوئی قابل توجہ طریقہ نہیں ہے۔
اگر خشک شدہ خون فرش کے اوپرگر جائے اوریہ معلوم نہ ہو کہ کس جگہ
گرا ہے پھر پورے فرش کے اوپر چند مرتبہ جھاڑو لگا دی جائے تو کیا فرش پاک
ہوجائے گا؟
مذکورہ سوال کو فرض کرتے ہوئے پاک ہوجائے گا۔
اگر خشک شدہ خون فرش کے اوپرگر جائے اوریہ معلوم نہ ہو کہ کس جگہ
گرا ہے پھر پورے فرش کے اوپر چند مرتبہ جھاڑو لگا دی جائے تو کیا فرش پاک
ہوجائے گا؟
مذکورہ سوال کو فرض کرتے ہوئے پاک ہوجائے گا۔ .: Weblog Themes By Pichak :.
