بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرار داد

ہم المصطفی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی قم میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا اور خاص طو ر سے گلگت بلتستان کے طلبا،  مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بہترویں یوم آزادی کے پرمسرت موقع پر مسلمانان عالم اور خاص طور پر اہل وطن کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

ہم اسلامی جمہوریہ ایران میں مقیم پاکستانی شہری آج یوم آزادی کے موقع پر ایک مرتبہ پھر  وطن عزیز سے تجدید عہد کا اعلان کرتے ہیں اور بارگاہ  رب العزت میں دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو تا ابد شاد و آباد  رکھے ۔  ہم پاکستانی طلاب  اس عظیم الشان اجتماع کے  توسط  سے وطن  عزیز کی اسلامی جمہوریہ ایران میں سفارت اور اس میں تعینات تمام اہلکاروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں  جنہوں نے جشن آزادی ہمارے ساتھ منایا۔ اس موقع پر ہم شرکائے جلسہ تمام پاکستانی طلاب کی نمائندگی میں  متفقہ طور پرمندرجہ ذیل بیانیہ کو  سفیر محترمہ کے وساطت سے حکومت پاکستان کے گوش گزار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے ان مطالبات  کو حکومت کی جانب سے سنجیدہ ردعمل ملے گا۔

ایک: ہم وطن عزیز میں حالیہ انتخابات کے انعقاد کو جمہوریت کی بقا کے لئے سنگ میل سمجھتے ہوئے  تمام ہم وطنوں کو اس کامیابی پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور برسر اقتدار آنے والی نئی حکومت سے امید کرتے ہیں کہ مساوات، عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی کو اپنا نصب العین بنائے گی اور  تمام اقوام و مسالک کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئےعوامی امنگوں کے مطابق ملک کے تمام شعبہ ہاے زندگی میں  بلا تفریق ترقی اور خوشحالی قائم کرئے گی۔

دو:  برسر اقتدا ر آنے والی نئی حکومت  ریاست کے باسیوں کے لئے بلاتفریق ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

تین: نئی حکومت عوام کے بنیادی مسائل    پر   خصوصی توجہ دے  جن میں تعلیم  و صحت عامہ کی مساوی  سہولیات  ، غربت کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور امن و امان  سر فہرست ہیں۔

چار: ہم وطن عزیز میں ہر قسم کی منافرت اور تفرقہ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکام سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقائیت، لسانیت،  قومیت  اور مذہب   کے نام پر پائی جانے والی نفرتوں کے  انسداد کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور وطن عزیز میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ  اور علامہ محمد اقبال  کے وژن کے مطابق حقیقی معنوں میں باہمی روادار ی اور  پرا من بقائے باہمی کی فضا قائم کی جائے۔

پانچ:  ہم پاکستانی طلاب شدت پسندی اور دہشت گردی کے روک تھام کے لئے ریاست کی جانب سے اٹھائے گئے ہر اصولی اور منصفانہ اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان  کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

چھے: مسئلہ کشمیر  کے سلسلے میں  حکومت پاکستان کے ہر اصولی موقف کی حمایت کرتے ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ۷۰ سال  سے ہر قسم کے حقوق سے محروم گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین بھی کیا جائے۔

سات: کچھ عرصہ پہلے گلگت بلتستان میں لاگو کردہ اصلاحی پیکیج گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو ہم غیر آئینی اور بنیادی شہری حقوق کے منافی اقدام قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کے آرڈرز نافذ کرنے کے بجائے جی بی کے  غیورعوام کو ان کے بنیادی اور آئینی حقوق اور عوامی نمایندوں کو وسیع اختیارات دئے جائیں۔

آٹھ: گلگت بلتستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا اکنامک زون اور اس کا گیٹ وے اور انٹری پوائنٹ ہونے کے ناطے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس میگا پراجیکٹ سے ملنے والے ثمرات کو یہاں کے عوام تک بہم پہنچاننے کی راہیں ہموار کی جائے۔

نو: گلگت بلتستان میں فورتھ شیڈول‘‘ اور ’’ نیشنل ایکشن پلان‘‘ کو سیاسی بنیادوں پر تعلیم کے فروغ  اور عوامی حقوق کیلئے جد و جہد کرنے والے  صف اول کے ممتاز علما،  سوشل ایکٹیوسٹ  سٹوڈینٹس  اور قانون دان شخصیات کے خلاف استعمال کو غیر منصفانہ اور ان دونوں  قانون کا استحصال  سمجھتے ہیں لہذا  جی بی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دونوں قوانین میں نامزد  بے گناہ اشخاص کے ناموں کو فی الفور خارج کیا جائے۔

دس: ہم طلاب قم حال ہی میں دیامر میں سکول جلانے اور  پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کے واقعے کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور جی بی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علم دشمن اور پر امن سیاحتی علاقے میں  بد امنی پھیلانے  والے عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

گیارہ: ملک عزیز پاکستان سے سال بھراور بالاخص  محسن انسانیت  نواسہ رسول  حضرت امام حسین علیہ السلام کے  چہلم  کے موقع پر ھزاروں کی تعداد میں زائرین زمینی سفر میں موجود لاحق خطرات کے باوجود طویل اورجان فرسا سفر  برداشت کرتے ہوئے بلوچستان کے راستے میر جاوہ بارڈرسے ایران داخل ہوتے ہیں اس سلسلے میں زائرین کے لئے سکیورٹی اور رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ویلفیئر کمپلیکس کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے۔

بارہ: ملک عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دیرینہ دینی، تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی، اور اقتصادی تعلقات اور قریبی ترین ہمسایہ ہونے کے ناطے  تمام تر شعبوں میں مستحکم روابط، امت مسلمہ کو درپیش چلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے مشترکہ دفاعی پالیسی    بنانے  اور   پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے  پر  سنجیدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

آخر میں ایک دفعہ پھر تمام مہمانان گرامی  اور  شرکای  جلسہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ملک عزیز پاکستان کی سالمیت ،  ترقی اور تمام بحرانوں سےنجات کی امید  کے ساتھ  نئی حکومت   کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ خدا آپ سب کا حامی و ناصر۔

 

اسلام زندہ باد                 پاکستان پایندہ باد

سید احمد رضوی صدر جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان



تاريخ : جمعه بیست و ششم مرداد ۱۳۹۷ | 3:27 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

2000px-Flag_of_Pakistan.svg

asifاگست کے ان مبارک اور خوشی بھرے لمحات میں اس دعاکے بعد کہ خدا ہماری پاک دھرتی کو خوشیوں کا گہوارہ بنائے، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان چودہ اگست کو قائم ہوا تھا؟اس سوال کے تعاقب میں جو شواہد مجھے دستیاب ہوئے وہ میں اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔
1 ۔ہمارے نظام تعزیر کی اہم ترین کتاب کا نام ’تعزیرات پاکستان‘ ہے۔اس کی دفعہ (a) 123کے مطابق پاکستان 15اگست کو قائم ہواتھا۔
2۔Indian Independance Act 1947 وہ قانون ہے جس کی روشنی میں بر صغیر کی تقسیم ہوئی۔اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ 15اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آئے گا۔
3۔حضرت قائد اعظم سے زیادہ معتبر گواہی کس کی ہو سکتی ہے۔حضرت قائد اعظم کا اپنا بیان ہے : ’’ 15اگست آزاد پاکستان کا جنم دن ہے‘‘۔اور یہ بیان 15اگست 1947کو شائع ہونے والے اخبارات کے صفحات پر موجود ہے۔(کسی کو چاہییں تو یہ اخبارات مجھ سے لے کر دیکھ سکتا ہے)۔پاکستان آرکائیوز میں بھی سارا ریکارڈ موجود ہے۔
4۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان 14اور15اگست کی درمیانی رات کو اس وقت کیا گیا جب کیلنڈر پر پندرہ شروع ہو چکا تھا۔1997میں جب آزادی کے پچاس سال کا جشن منایا گیاتو ایک جعلی ٹیپ تیار کی گئی جس میں ایک جعلی اعلان سنایا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ یہ اعلان 13اور14اگست 1947کی درمیانی رات کا ہے۔یقین نہ آئے تو ریڈیو پاکستان کا ریکارڈ جا کر دیکھ لیجئے۔حقیقت واضح ہو جائے گی۔
5۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان 14اگست 1947کو27رمضان کوجمعہ الوداع کے دن قائم ہوا۔اس وقت 1947کا نوائے وقت،ڈان،پاکستان ٹائمز سمیت درجنوں اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں اور ان کی پیشانی پر چھپی تاریخ کے مطابق 14اگست کو 26رمضان المبارک تھااور جمعرات کا دن تھا۔27رمضان اور جمعہ الوداع 15اگست کے دن تھا۔گویا پاکستان 14کو نہیں 15اگست کو قائم ہوا۔
6۔اسٹینلے والپرٹ معروف محقق ہیں۔خود حکومت پاکستان نے ان سے کہہ کر قائد اعظم پر کتاب لکھوائی۔’جناح آف پاکستان‘ نامی یہ کتاب قائد اعظم پر لکھی گئی معتبر کتابوں میں سے ایک ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان15اگست کو قائم ہوا۔
7۔اسٹینلے والپرٹ ہی کی ایک اور کتاب ہے جس کا نام ہے “A New History Of India”,۔اس کے صفحہ 349پر وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو بنا۔
8۔خود پاکستان کے سابق وزیر اعلی چودھری محمد علی کی گواہی بھی یہی ہے۔اپنی کتاب “Emergence Of Pakistan”جس کا اردو ترجمہ’ظہور پاکستان‘ کے نام سے مارکیٹ میں موجود ہے، کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
9۔وکٹوریہ شیفلڈ کی کتاب ہے’”Kashmir In The Crossfire”۔اس کے صفحہ 132پر وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان 15اگست 1947کو معرض وجود میں آیا۔
10۔کے کے عزیز کی کتاب ہے “Briton and Muslim India”۔اس کے صفحہ 183پر لکھا ہے کہ پاکستان 15 اگست کو وجود میں آیا۔
11۔عائشہ جلال اور سجاتا پوش کی مشترکہ کتاب”Modern South Asia”کے صفحہ 188اور210پر قیام پاکستان کی جو تاریخ درج کی گئی ہے وہ 15 اگست 1947ہے۔
12۔ایس ایم برکی اور سلیم الدین قریشی کی کتاب “The British Raj in India”کے صفحہ 609,622,642اور518پر لکھا ہے کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
13۔پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسایٹی آف پاکستان نے جناب لیاقت علی خان کی تقاریر کا ایک مجموعہ 1975میں شائع کیا۔اس میں لیاقت علی خان کی کچھ تقاریر کے اقتباسات پڑھیے۔اس کتاب کے صفحہ 117پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر درج ہے جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں قومی پرچم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کی۔وہ کہتے ہیں؛’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 15اگست کو جب پاکستان قائم ہو تو اس کا اپنا قومی پرچم ہی نہ ہو‘‘۔
14۔اس کے صفحہ 115پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے اس وقت کی جب وہ اسمبلی میں پرچم پیش کر رہے تھے اور قوم کو دکھا رہے تھے کہ یہ اس کا قومی پرچم ہے۔انہوں نے کہا:’’یہ پرچم پاکستان کا پر چم ہے۔یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے۔یہ اس ریاست کا پرچم ہے جس نے 15اگست کو معرض وجود میں آنا ہے‘‘۔
15۔بابائے قوم نے قوم کو آزادی کی مبارک 15اگست کو دی تھی۔لیاقت علی خان نے بھی قوم سے پہلا خطاب 15اگست کو کیا ۔صفحہ 185پر یہ خطاب بھی موجود ہے۔وہ کہتے ہیں؛’’کل جب 14اگست کا سورج غروب ہوا تھا تو پاکستان نام کی کوئی چیز بین الاقوامی سطح پر موجود نہ تھی مگر آج 15اگست سے ہم ایک حقیقت ہیں‘‘۔
16۔پاکستان ٹائمز، نوائے وقت ،دان سمیت 1947کے کئی اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں۔سب کے مطابق پاکستان 15اگست کو وجود میں آیا تھا۔10اگست 1947کے نوائے وقت میں مسلم لیگی قیادت کی جانب سے قوم سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ 15اگست کو قیام پاکستان کے موقع پر چراغاں کریں ، نوافل پڑھیں اور غریبوں کا کھانا کھلائیں۔13اگست1947کے نوائے وقت میں شائع ہوا کہ سردار شوکت حیات اور ممتاز دولتانہ نے قوم سے اپیل کہ ہے کہ 15اگست کوقیام پاکستان کے موقع پر چراغاں نہ کریں بلکہ صرف نوافل ادا کیے جائیں۔
17۔چودہ اگست کے پاکستان ٹائمز کی نمایاں سرخی تھی’’Independance Tomorrow‘‘۔اور 15اگست 1947کے پاکستان ٹائمز کا اداریہ ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے’’ آج پندرہ اگست ہے۔آج طلوع آفتاب نے جہاں دنیا کو ایک نیا دن دیا ہے وہیں ہمارے لوگوں کو ان کی کھوئی ہوئی آزادی بھی لوٹا دی ہے۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس اداریے کو عنوان ہی “August 15″تھا۔برطانوی ترانے “God Save the King”پر 15اگست کو پابندی عائد کر دی گئی۔چودہ اگست رات گئے تک چونکہ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا اس لئے یہ ترانہ بجتا رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ یوم آزادی 15اگست کی بجائے14اگست کیوں کیا گیا؟کس نے کیا؟ کب کیا؟یاد رہے کہ جب قیام پاکستان کے ایک سال بعد حکومت نے نامعلوم وجوہات کہ بنیاد پر 15کو 14کر دیا تو بابائے قوم اس وقت شدید بیماری کے عالم میں معاملات سے لاتعلق ہو چکے تھے۔
سابق وزیر اعظم محمد علی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایسا نجومیوں کے کہنے پر کیا گیا کیونکہ نجومیؤں نے لیاقت علی خان کو بتایا کہ 15اگست منحوس دن ہے۔
ایک عذر یہ تراشا جاتا ہے کہ وائسرائے نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کو اقتدار 14اگست ہی کو سونپ دیا تھا جب کہ بھارت کو 15کوسونپا گیا۔اس لیے ہم بھارت سے ایک دن پہلے دن مناتے ہیں۔یہ بات بھی درست نہیں ہے۔15اگست 1947کے اخبارات میرے سامنے پڑے ہیں۔ان میں ساری رپورٹنگ موجود ہے۔وائسرائے نے 14اگست کو کراچی میں کہا تھا:’’آج میں آپ سے وائسرائے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں ۔کل کا دن طلوع ہوتے ہی ایک ریاست پاکستان کی زمام کار آپ کے ہاتھوں میں ہو گی‘‘
ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ جشن جس روز چاہے منائیں کیونکہ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے کہ ہم نے یہ آزادی کی خوشی کس دن منانی ہے مگر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ پاکستان بنا ہی 14کو تھا۔ہم تاریخ نہیں بدل سکتے۔یہ جرم ہے۔اب تو میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ابھی کل کی تاریخ بدل دی گئی ہے اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔تو باقی کی تاریخ جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہے کس حد تک درست ہے۔مثال کے طور پر حضرت اورنگ زیب عالمگیر جنہوں نے نہ کوئی نماز چھوڑی نہ کوئی بھائی چھوڑا کیا واقعی اتنے نیک اور متقی تھے کہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے؟



تاريخ : یکشنبه بیست و یکم مرداد ۱۳۹۷ | 23:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اسلام آباد : پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ تمام پاکستانی  یوم آزادی پورے جوش وجذبے سے منائیں، انشاءاللہ نئے پاکستان میں قائداعظم کے خواب کو تعبیر ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وقم سے اپیل کی ہے کہ اس بار پوری قوم 14 اگست کو خصوصی طور نہایت اہتمام اور بھرپور جوش و جذبے سے منائے، ہم نئے پاکستان کےقیام کی منزل کی جانب گامزن ہیں، انشاءاللہ نئے پاکستان میں قائداعظم کے خواب کو تعبیر ملے گی۔

    I want all Pakistanis to celebrate 14th August, our Independence Day, with full fervour – especially as we are now moving towards Naya Pakistan & reclaiming Jinnah's vision InshaAllah.

    — Imran Khan (@ImranKhanPTI) August 10, 2018

ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی جو ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں، ان کیلئے خوشخبری ہے کہ ان کے حق رائے دہی کیلئے تحریک انصاف کی جدوجہد کامیاب ہوئی، سپریم کورٹ نے ہمارا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو عملدرآمد کیلئے اقدامات اٹھانے کے احکامات دے دیئے ہیں۔

    Good news for our national asset, the Overseas Pakistanis – PTI's struggle for their voting rights' implementation has been won as SC has decided this must be done and directed ECP to ensure the same through electronic means.

    — Imran Khan (@ImranKhanPTI) August 10, 2018

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ہر سال 14 اگست یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن اب کی بار ہم 14 اگست کو یوم آزادی نہیں منا سکتے کیونکہ ہماری رائے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ 14 اگست کو یوم جدوجہد آزادی کے طور پر منائیں گے۔

واضح رہے کہ ملک کو مدینہ جیسی ریاست اور سادگی اختیار کرنے کا وعدہ پورا کرنے کے لیے پرعزم عمران خان ایک ہفتے بعد وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔

خیال رہے کہ جشن آزادی کی تیاریاں زورشور سے جاری ہیں شہری اپنی اپنی پسند کی چیزیں خریدنے میں مصروف ہیں۔



تاريخ : یکشنبه بیست و یکم مرداد ۱۳۹۷ | 23:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

یوم آزادی پاکستان یا یوم استقلال ہر سال 14 اگست کو پاکستان میں آزادی کے دن کی نسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947ء میں انگلستان سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے پاکستانی عوام اس روز اپنا قومی پرچم فضا میں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ملک بھر کی اہم سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے۔اسلام آباد جو پاکستان کا دارالحکومت ہے، اس کو خاص طور پر سجایا جاتا ہے، اس کے مناظر کسی جشن کا سماں پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہیں ایک قومی حیثیت کی حامل تقریب میں صدر پاکستان اور وزیرآعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کی طرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ ان تقاریب کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے بلندی کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یوم اسقلال کے روز ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پہ براہ راست صدر اور وزیراعظم پاکستان کی تقاریر کو نشر کیا جاتا ہے اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ ہم سب نے مل کراس وطن عزیز کو ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کی بلند سطح پہ لیجانا ہے۔

سرکاری طور پر یوم آزادی انتہائی شاندار طریقے سے مناتے ہوئے اعلیٰ عہدہ دار اپنی حکومت کی کامیابیوں اور بہترین حکمت عملیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے عوام سے یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر بھی اس وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کے قول "ایمان، اتحاد اور تنظیم" کی پاسداری کریں گے۔

تقاریب
14 اگست کو پاکستان میں سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری ونیم سرکاری عمارات میں چراغاں ہوتا ہے اور سبز ہلالی پرچم لہرایاجاتا ہے۔ اسی طرح تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے او ر ساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ پاکستان کی تمام شہروں میں ناظم قومی پرچم بلند کرتے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں نجی اداروں کے سربراہان پرچم کشائی کی تقاریب میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں بھی پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رنگارنگ تقاریب، تقاریر اور مذاکروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کا جوش و خروش توقابل دید ہوتا ہے جہاں مختلف تقاریب کے علاوہ دوپہر اور رات کے کھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور بعد ازاں سیروتفریح سے بھی لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ رہائشی علاقوں، ثقافتی اداروں اور معاشرتی انجمنوں کے زیر راہتمام تفریحی پروگرام تو انتہائی شاندار طریقے سے منائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں مقبرہء قائد اعظم پر سرکاری طور پر گارڈ کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے۔ اسی طرح واہگہ باڈر پر بھی ثقافتی تقاریب میں احترامی محافظوں کی تبدیلی کا عمل وقوع پزیر ہوتا ہے جبکہ غلطی سے واہگہ سرحد پار کرنے والے قیدیوں کی دوطرفہ رہائی بھی ہوتی ہے۔



تاريخ : یکشنبه بیست و یکم مرداد ۱۳۹۷ | 23:51 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |