سوال : اذان کے قانون کے متعلق شیعوں کا کیا عقیدہ ہے؟
جواب : شیعہ امامیہ کے یہاں اہل بیت
(علیہم السلام )سے اذان وا قامت کے سلسلہ میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی
ہیں جن کے مطابق وہ اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اذان واقامت دین کا متن
اور اسلام کا شعار ہے ، اور خدا وند عالم نے اس کو قلب پیغبر اسلام پر
نازل کیا ہے وہ خدا جس نے نماز کو واجب قرار دیا ہے اسی نے اذان کو بھی
واجب قرار دیا ہے ، دونوں کا مبداء ایک ہی ہے یعنی دونوں اللہ کی طرف سے
نازل ہوئے ہیں ، اور کسی بھی انسان کی چاہے وہ خواب غفلت میں ہو یا بیداری
کی حالت میں تشر یع اذان میں مشارکت نہیں ہے ، اذان کی تمام فصلوں میں
”اللہ اکبر“ سے لیکر ”لاالہ االّااللہ “ تک، خداوند عالم کی کی نشانیاںاور
اس کی بزرگی اور اخلاص نظر آتا ہے ۔اورانسان کو اس کی فہم سے زیادہ بلند
تعلیمات کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ اگر تشریع اذان انسان کے ہاتھوں میں ہوتی
اور وہ اس میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کرتے اور ایک جملہ کو دوسرے کے ساتھ
ترکیب دیتے تو وہ اس طرح واضح ہوجاتا جس طرح ریت میں دُرّ،یا گوہر
نظرآجاتا ہے ۔
اسی وجہ سے ائمہ اہل البیت (علیہم السلام) کا اتفاق ہے کہ اذان کو بنانے
والا خدا وند عالم ہے ، جبرائیل (علیہ السلام) اس کو زمین پر لیکر آئے
تھے اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) کو یاد کرایا تھا اورپیغمبر
اسلام نے بلال کو حفظ کرایا تھا ، اذان کی تشریع میں کوئی بھی شامل نہیں
ہے ، اماموں کے نزدیک یہ مسلم امور میں شمار ہوتا ہے لہذا اس کے متعلق ہم
یہاں پر بعض روایات ذکر کرتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کی یہ اذان
اللہ کی طرف سے ہے :
۱۔ کلینی نے صحیح سند کے ساتھ امام باقر (علیہ السلام)سے روایت کی ہے کہ
آپ نے فرمایا : جس وقت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو شب معراج
آسمان پر لے جایا گیا اور آپ کی سواری بیت المعمورپر پہونچی تونماز کا
وقت ہوا جبرایئل نے اذان واقامت کہی پیغمبر اسلام آگے کھڑے ہوئے فرشتہ
اور دیگر انبیا ء آپ کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہو گئے ۔
۲ ۔ کلینی نے صحیح سند کے ساتھ امام صادق علیہ اسلام روایت کی ہے کہ آپ
نے فرمایا: جس وقت جبرائیل اذان لیکر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اسوقت آپ کا سر مبارک علی (علیہ السلام)
کے زانو پر تھا جبرایئل نے اذان واقامت کہی جب پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ) بیدار ہوئے تو علی (علیہ السلام)نے فرمایا یا رسول اللہ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم )آپ نے کچھ سنا تو رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ) نے فرمایا کہ ہاں میں نے سنا ہے (۱) اس کے بعد آپ نے فرمایا:
یاعلی کیا تم نے حفظ کر لیا ؟ تو آپ نے فرمایا جی ہاں میں نے حفظ کرلیا
اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ بلال کو بلاو آپ نے بلال کو بلایا اور پیغمبر
اسلام نے بلال کو اذان واقامت کی تعلیم دی ۔
۳۔ نیز عمر بن اذنیہ ،امام صادق (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیںکہ آپ نے
فرمایا : کیا تم ان لوگوں سے بھی روایت نقل کرتے ہو ، میں نے کہا میں آپ
پر فدا ہوجاوٴں کس چیز کے متعلق ؟ آپ نے فرمایا : اذان کے سلسلہ میں ،
میں نے جواب دیا یہ کہتے ہیں : اذان کواُبی بن کعب نے خواب میں دیکھا ہے
تو آپ نے فرمایا یہ جھوٹ بولتے ہیں خدا کا دین اس سے بلند و بالاتر ہے جو
خواب میں دیکھا جا ئے ۔ اس کے بعد کہتا ہے کہ سدیر صیر فی نے امام سے عرض
کیا: میں آپ پر قربان ہوجا وٴں آپ اس کے متعلق کچھ بیان فرمایئے تو امام
صادق (علیہ السلام) نے فرمایا : جس وقت اللہ تعالی نے اپنے رسول (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم )کو ساتویں آسمان کی بلندی کا عروج بخشا ..الخ (۲) ۔
۴۔ شیعہ فقہا ء میں سے شہید نے اپنی کتاب ذکری ٰ میں جن کا شمارچوتھی صدی
میں ہوتا ہے ابن ابی عقیل سے نقل کیا ہے اور وہ امام صادق (علیہ السلام)
سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ہر اس شخص پرلعنت کی ہے جو یہ کہتا ہے کہ پیغمبر
اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے اذان کو عبداللہ بن زید سے لیا ہے اس
کے بعد آپ نے فرمایا : تمہارے رسول پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے
لیکن پھر بھی تم گمان کرتے ہو کہ رسول اسلام نے اذان کو عبداللہ بن زید سے
لیا ہے (۳) ۔ اذان کے سلسلہ میں فقط شیعوں ہی نے آئمہ اہل بیت( علیہم
السلام) سے روایات کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ حاکم اور دیگر لوگوں نے بھی ان
سے روایات کو نقل کیا ہے،ہم یہاں پراہل سنتّ سے چند روایات نقل کرتے ہیں :
۵۔ حاکم نے سفیان اللیل سے نقل کیا ہے : جس وقت حسن بن علی (علیہ السلام)
کا واقعہ پیش آیا اور ہم مدینہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دوران
گفتگو اذان کا تذکرہ ہونے لگا ، بعض لوگ کہنے لگے کہ اذان کی ابتداء ایک
خواب سے ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے ، امام (علیہ السلام) نے فرمایا
: اذان کا مرتبہ اس کہیں بلند وبالاہے ، جبرایئل نے آسمان پر اذان کے
کلمات کو دودو مرتبہ پڑھا ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
)نے اس کو یاد کیا ہے اور اقامت کے کلمات کو ایک بار پڑھا ہے اور رسول
اسلام کو تعلیم دیا ہے (۴) ۔
۶۔ ہارون بن سعید نے شہید زید بن علی بن الحسین (علیہم السلام ) سے اور
انھوں نے اپنے پدربزگوار علی (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ رسول خدا
(صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) نے شب معراج اذان کو سیکھا تھا اور ان پر نماز
واجب ہوئی تھی (۵) (۶) ۔
۱۔ علی ((علیہ السلام) ) خود اس حدیث کے بیان کرنے
والے ہیں اور آپ نے فرشتہ کے کلام کو سنا بھی ہے ۔ رجوع کریں : صحیح
بخاری اور اس کی شرح ارشادالساری :ج۶ ص۹۹ ، اور اس کے علاوہ دیگر موارد کہ
جو پیغمبر نہیں تھے اور انھوں نے فرشتہ کے کلام کو سنا ہے ، یا از طرف غیب
ان سے بات کی گئی ہے ۔
۲۔ کافی : ج۳، ص ۳۰۲باب آغاز اذان ، حد یث ۱، و۲، باب النوادر ، ص ۴۸۲،
حد یث ۱، عنقر یب ذکر آیگا کہ چار لوگوں نے اذان سننے کا دعویٰ کیا ہے
۳۔ وسائل الشیعہ : ج۴، ص ۶۱۲ ، باب اول ابواب اذان واقامت میں سے ، حدیث ۳،
۴۔ مستدرک حاکم :ج۳ ، ص۱۷۱، کتاب معرفة الصحابہ ،
۵۔ کنز العمال : ج۶ ص ۲۷۷، شمارہ۳۹۸،
۶۔ سیمای عقاید شیعہ ، ص ۳۷۶،
.: Weblog Themes By Pichak :.
