حدیث(۱)
قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا : ” ما یصنع الصائم بصیامہ اذا لم یصن لسانہ و سمعہ و بصرہ و جوارحہ “
حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں:” اگر روزہ دار حالت روزہ میں اپنی زبان ، اپنے کان و آنکہ اور دیگر اعضاء کی حفاظت نہ کرے تو اس کا روزہ اس کے لئے فائدہ مند نھیں ھے “۔

حدیث(۲)

قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا :” یا ابا الحسن انی لا مستحیی من الٰھی ان اکلف نفسک ما لا تقدر علیہ “

حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :” اے علی مجھے خدا سے شرم آتی ھے کہ آپ سے ایسی چیز کی فرمائش کروں جو آپ کی قدرت سے باھر ھے “۔

حدیث(۳)

قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا :” الزم عجلھا فان الجنة تحت اقدامھا “

حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :” ماں کے پیروں سے لپٹے رھو اس لئے کہ جنت انھیں کے پیروں کے نیچے ھے “۔

حدیث(۴)

قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا :” خیر للنسا ان لا یرین الرجال و لا یراھن الرجال “

حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :” عورتوں کے لئے خیر و صلاح اس میں ھے کہ نہ تو وہ نا محرم مردوں کو دیکھیں اور نہ نامحرم مرد ان کو دیکھیں “۔

حدیث(۵)

قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا :”حبب الٰھی من دنیاکم ثلاث : تلاوة کتاب اللہ و المنظر فی وجہ رسول اللہ
و الانفاق فی سبیل اللہ “

حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :” میرے نزدیک تمھاری اس دنیا میں تین چیزیں محبوب ھیں: تلاوت قرآن مجید ، زیارت چھرہ رسول خدا ، اور راہ خدا میں انفاق “۔

حدیث(۶)

قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا :” من اصعد الی اللہ خالص عبادتہ اھبط اللہ عزو جل الیہ افضل مصلحتہ “

حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :” ھر وہ شخص جو اپنے خالصانہ عمل کو خداوند عالم کی بارگاہ میں پیش کرتا ھے خدا بھی اپنی بھترین مصلحت اس کے حق میں قرار دیتا ھے “۔

حدیث(۷)قالت فاطمہ سلام اللہ علیھا :” فی المائدة اثنتا عشرة خصلة یجب علی کل مسلم ان یعرفھا اربع فیھا فرض و اربع فیھا سُنَّة و اربع فیھا تاٴدیب:فامّا الفرض فالمعرفة و الرضا والتسمیة و الشکر ،فاما السنةفالوضو ء قبل الطعام و الجلوس علی الجانب الایسر و الاکل بثلاث اصابع و لعق الاصابع، فامّا التاٴدیب فاکل بما یلیک و تصغیر اللقمہ و المضغ الشدید وقلة النظر فی وجوہ الناس“

حضرت فاطمہ زھرا (ع) فرماتی ھیں :
”آداب دسترخوان میں بارہ چیزیں لازم ھیں ،جن کا علم ھر مسلمان کو ھونا چاھئے۔ ان میں سے چار چیزیں واجب ،چار مستحب اور چار رعایت ِادب کے لئے ھیں۔ وہ چار چیزیں جو لازم ھیں وہ یہ ھیں: معرفت ، خوشنودی، شکر اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا ۔ وہ چار چیزیں جو مستحب ھیں وہ یہ ھیں : کھانے سے پھلے وضو کرنا ،بائیں جانب بیٹھنا ،تین انگلیوں سے کھانا اور کھانے کو انگلیوں سے ملانا۔ اور وہ چار چیزیں جو رعایت ِ ادب میں شامل ھیں وہ یہ ھیں: جو بھی سامنے آئے اسے کھانا ، لقمہ چھوٹا ھونا، خوب چبا کر کھانا اور لوگوں کے چھرہ پر زیادہ نگاہ نہ کرنا “۔

حوالہ :
۱۔تحف العقول ص ۹۵۸
۲۔ تحف العقول ص ۹۵۸
۳۔تحف العقول ص ۹۵۸
۴۔ تحف العقول ص ۹۶۰
۵۔ تحف العقول ص۹۶۰
۶۔تحف العقول ص۹۶۰
7۔ تحف العقول ص



تاريخ : دوشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۹۲ | 13:16 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
سیدہ عالم نے اپنے والد ماجد کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری کو جام شہادت نوش کیا؛ جنازہ رات کو اٹھا،امیرالمؤمنین (ع) نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا. صرف بنی ہاشم اور سلمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کیا. 

 حضرت فاطمہ کی شہادت جو افسانہ نہیں ہے

حضرت فاطمہ کی شہادت افسانہ نہیں ہے

تحریر: آيةاللہ العظمی مكارم شيرازي (حفظہ اللہ)


اس مقالے میں درج ذیل امور پر روشنی ڈالی گئی ہے:
1ـ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر میں

2ـ قرآن و سنت میں سیدہ سلام اللہ علیہا کے گھر کا احترام.

3ـ والد ماجد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد آپ سلام اللہ علیہا کے گھر کی بے حرمتی.

یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ اس مقالے کے تمام مطالب اہل سنت کے معروف منابع و مآخذ سے نقل ہوئے ہیں.

اول) حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا کی عصمت؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر میں
دختر پیمبر (صلى اللہ عليہ وآلہ) نہایت اونچے مرتبے پر فائز تھیں اور آپ سلام اللہ علیہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات آپ سلام اللہ علیہا کی عصمت اور گناہ و پلیدی سے پاکیزگی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں.
فرماتے ہیں: «فاطمة بضعة منّي فمن أغضبها أغضبني».(1)
فاطمہ میرے جسم و جان کا ٹکڑا ہے جس نے انہیں غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ہے».
بغیر کہے سنے بھی ظاہر ہے کہ رسول خدا(صلى اللہ عليہ وآلہ) کا غضب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اذیت و رنج کا سبب ہے اور ایسے شخص کی سزا قرآن مجید میں یوں بیان ہوئی ہے:
وَ الّذين يُؤْذُونَ رَسُول اللّه لَهُم عَذابٌ أَليم (التوبه/61 )
وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اذیت پہنچائیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے».
آپ سلام اللہ علیہا کی عصمت کے لئے اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ حدیث شریف میں آپ کی رضا رسول خدا کی رضا کا باعث اور آپ کی ناراضگی خدا کی ناراضگی بتائی گئی ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: « فاطمةُ انّ اللّه يغضبُ لِغضبك و يَرضى لرضاك»(2)
بیٹی فاطمہ! خدا آپ کے غضب پر غضبناک ہوتا ہے اور آپ کی خوشنودی پر خوشنود ہوتا ہے.
اسی عالی مرتبے کی بدولت آپ سلام اللہ علیہا عالمین کی خواتین کی سردار ہیں؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ سلام اللہ علیہا کے حق میں ارشاد فرمایا ہے: «يا فاطمة! ألا ترضين أن تكونَ سيدةَ نساء العالمين، و سيدةَ نساءِ هذه الأُمّة و سيدة نساء المؤمنين.(3)
بیٹی فاطمہ! کیا آپ راضی نہ ہونگی کہ خدا نے اتنی بڑی کرامت و عظمت آپ کو عطا فرمائے کہ آپ دنیا کی خواتین کی سردار اور اس امت کی خواتین کی سردار اور با ایمان خواتین کی سردار ہوں.

دوئم) قرآن و سنت میں آنحضرت سلام اللہ علیہا کے گھر کا احترام
محدثین کہتے ہیں کہ جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی کہ :
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
نورخدا ان گھروں میں ہے کہ خدا نے اجازت دی ہے کہ ان کی قدر و منزلت بلند و رفیع ہو اور اس (خدا) کا نام ان گھروں میں یاد کیا جائے اور (وہ) ان گھروں میں شب و روز خدا کی عبادت کرتے ہیں( (4
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسجد میں اس آيت کی تلاوت فرمائے. ایک شخص اٹھا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! ان نہایت اہم گھروں سے مقصود کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:انبیاء کے گھر!
اس موقع پر ابوبکر اٹھے اور علی و فاطمہ (سلام اللہ علیہما) کے گھر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا: کیا یہ گھر بھی ان ہی گھروں میں سے ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہاں اور یہ ان گھروں میں "اہم ترین" ہے.(5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسلسل 9 مہینوں تک اپنی بیٹی کے گھر کے دروازے پر آتے رہے اور آپ سلام اللہ علیہا اور آپ کے خاوند (ع) کو سلام کرتے رہے اور اور دروازے ہی پر اس آیت کی تلاوت کرتے رہے:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (احزاب33) (6)
خدا نے فقط ارادہ فرمایا کہ رجس و آلودگی کو تم خاندان (اہل بیت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے دور کردے اور تمہیں پاک و مطہر کردے جیسا کہ پاک ہونے کا حق ہے.
وہ گھر جو نور خدا کا مرکزہ ہے اور خدا نے حکم دیا ہے کہ اس گھر کی تعظیم و تکریم کی جائے یقینا نہایت اعلی درجے پر فائز ہے اور اس کا احترام بھی نہایت اعلی پائے کا ہے.
بے شک جس گھر میں اصحاب کساء ہوں گے اور خداوند متعال عظمت و جلالت کے ساتھ اس کا نام لے تمام مسلمانوں کے لئے محترم ہونا چاہئے.
اب دیکھنا یہ ہے کہ رسول اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد اس گھر کے احترام کا کس حد تک لحاظ رکھا گیا؟ کس طرح بعض لوگوں نے اس گھر کا احترام توڑ کر رکھ دیا؟ اور پھر کس طرح انہوں نے صراحت کے ساتھ اس کا اعتراف بھی کیا؟ یہ حرمت شکن کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا؟

سوئم) آپ سلام اللہ علیہا کے گھر کی بے حرمتی
افسوس کا مقام ہے کہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتنی ساری سفارشات کے باوجود بعض لوگوں نے اس گھر کی حرمت کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ اس کی توہین و بے حرمتی کا ارتکاب بھی کیا اور یہ مسئلہ ہالکل عیاں و آشکار اور ناقابل انکار ہے.
ہم اس سلسلے میں اہل سنت کے منابع و مصادر سے بعض نصوص نقل کرنا چاہیں گے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سیدہ (س﴾ کے گھر کی بے حرمتی اور بعد کے واقعات «افسانہ نہیں بلکہ مسلمہ تاریخی حقائق ہیں»!! اور اگرچہ خلفاء کے دور میں خاندان رسالت کے فضائل و مناقب پر شدید سینسر لاگو تھا لیکن چونکہ «ہر شیۓ کی حقیقت وصداقت اس کی نگہبان ہے» لہذا یہ تاریخی حقیقت زندہ صورت میں تاریخ و حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہوگئی ہے اور ہم منابع و مآخذ نقل کرتے ہوئے معاصر مصنفین و مؤلفین تک ، ان کی تاریخی ترتیب کو اسلام کی پہلی صدی سے مد نظر رکھیں گے:

1. ابن ابى شيبہ اور ان کی کتاب «المصنَّف»
ابوبكر ابن ابى شيبہ (159-235) المصنَّف کی مؤلف ہیں. وہ صحیح سند کی توسط سی نقل کرتی ہیں کہ:
انّه حين بويع لأبي بكر بعد رسول اللّه (صلى الله عليه وآله) كان علي و الزبير يدخلان على فاطمة بنت رسول اللّه، فيشاورونها و يرتجعون في أمرهم.
فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة، فقال: يا بنت رسول اللّه (صلى الله عليه وآله) و اللّه ما أحد أحبَّ إلينا من أبيك و ما من أحد أحب إلينا بعد أبيك منك، و أيم اللّه ما ذاك بمانعي إن اجتمع هؤلاء النفر عندك أن امرتهم أن يحرق عليهم البيت.
قال: فلما خرج عمر جاؤوها، فقالت: تعلمون انّ عمر قد جاءَني، و قد حلف باللّه لئن عدتم ليُحرقنّ عليكم البيت، و أيم اللّه لَيمضين لما حلف عليه. (6)
ترجمہ: جب لوگوں نے ابوبکر کے ساتھ بیعت کی، علی اور زبیر حضرت سیدہ کے گھر میں مشورے کیا کرتے تھے۔ اس بات کی اطلاع عمر کو ہوئی تو وہ سیدہ کے گھر آئے اور کہا: اے دختر رسول خدا! ہمارے لئے محبوبترین فرد آپ کے والد ہیں اور آپ کے والد کے بعد آپ ہیں لیکن خدا کی قسم یہ محبت اس بات کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ اگر یہ افراد آپ کے گھر میں اکٹھے ہوجائیں تو میں حکم دوں کہ گھر کو ان کے ساتھ جلا ڈالیں.
یہ کہہ کر باہر چلے گئے، جب على(علیہ السلام﴾ اور زبیر گھر لوٹ آئے تو دختر رسول (ص﴾ نے على(عليہ السلام) اور زبیر سے کہا: عمر میرے پاس آئے اور قسم کھائی کہ اگر آپ لوگوں کا یہ اجتماع دہرایا گیا تو گھر کو تمہارے ساتھ نذر آتش کردیں گے؛ خدا کی قسم اس نے جو قسم کھائی ہے اس پر عمل کریں گے!
ہم نے پہلے ہی اشارہ کیا کہ یہ روایت المصنف میں صحیح سند کے ذریعے سے نقل ہوئی ہے.
2. بلاذرى اور كتاب «انساب الاشراف»
مشہور و معروف مؤلف اور عظیم تاریخ کے مالک احمد بن يحيى جابر بغدادى بلاذرى (متوفى 270) نے یہ تاریخی واقعہ اپنی کتاب انساب الاشراف میں یوں نقل کیا ہے.
انّ أبابكر أرسل إلى علىّ يريد البيعة فلم يبايع، فجاء عمر و معه فتيلة! فتلقته فاطمة على الباب.
فقالت فاطمة: يابن الخطاب، أتراك محرقاً علىّ بابي؟ قال: نعم، و ذلك أقوى فيما جاء به أبوك...(7).
ابوبكر نے علی (علیہ السلام﴾ کو بیعت کے لئے بلایا تو علی (علیہ السلام) نے بیعت سے انکار کیا. اس کے بعد عمر فتيلہ Tinder اٹھا کر آیا اور گھر کے سامنے ہی سیدہ (س﴾ کے روبرو ہوئے. سیدہ نے فرمایا: یابن الخطاب! میں دیکھ رہی ہوں کہ تم میرا گھر جلانے کے لئے آئے ہو؟! عمر نے کہا: ہاں! میرا یہ عمل اسی چیز کی مدد کے لئے ہے جس کے لئے آپ کے والد مبعوث ہوئے تھے!!
3. ابن قتيبہ اور كتاب «الإمامة و السياسة»
مشہور مورّخ عبداللّہ بن مسلم بن قتيبہ دينوري (212-276) بزرگ ادیب اور تاریخ اسلامی کے محنت کش اہل قلم ہیں. «تأويل مختلف الحديث»، «ادب الكاتب» وغیرہ ان کی تالیفات ہیں... (8). وہ اپنی کتاب «الإمامة و السياسة» میں لکھتے ہیں:
انّ أبابكر رضي اللّه عنه تفقد قوماً تخلّقوا عن بيعته عند علي كرم اللّه وجهه فبعث إليهم عمر فجاء فناداهم و هم في دار علي، فأبوا أن يخرجوا فدعا بالحطب و قال: والّذي نفس عمر بيده لتخرجن أو لاحرقنها على من فيها، فقيل له: يا أبا حفص انّ فيها فاطمة فقال، و إن!!(9)
ابوبکر نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا جنہوں نے بیعت سے انکار کیا تھا اور عمر کو ان کے پاس بھیجا. عمر علی علیہ السلام کے گھر کے پاس آیا اور سب کو آواز دی اور کہا: سب باہر آجاؤ اور انہوں نے علی و فاطمہ (علیہما السلام﴾ کے گھر سے نکلنے سے اجتناب کیا اس موقع پر عمر نے لکڑیاں منگوائیں اور کہا: اس خدا کی قسم جس کے ہاتھوں میں عمر کی جان ہے کہ باہر آجاؤ ورنہ میں اس گھر کو آگ لگاؤں گا. ایک آدمی نے عمر سے کہا: اى اباحفص! اس گھر میں فاطمہ ہے؛ عمر نے کہا چاہے فاطمہ بھی ہو میں گھر کو آگ لگادوں گا!!
ابن قتيبہ نے اس داستان کو پرسوز و گداز انداز میں جاری رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ:
ثمّ قام عمر فمشى معه جماعة حتى أتوا فاطمة فدقّوا الباب فلمّا سمعت أصواتهم نادت بأعلى صوتها يا أبتاه رسول اللّه ماذا لقينا بعدك من ابن الخطاب، و ابن أبي قحافة فلما سمع القوم صوتها و بكائها انصرفوا. و بقي عمر و معه قوم فأخرجوا علياً فمضوا به إلى أبي بكر فقالوا له بايع، فقال: إن أنا لم أفعل فمه؟ فقالوا: إذاً و اللّه الّذى لا إله إلاّ هو نضرب عنقك...!(10)
عمر ایک گروہ کے ہمراہ سیدہ (س﴾ کے گھر پہنچا. ان لوگوں نے دستک دی جب سیدہ (س﴾ نے دستک کی صدا سنی تو بآواز بلند فرمایا: یا رسول اللہ (ص﴾ آپ کے بعد خطاب اور ابی قحافہ کی بیٹوں کی جانب سے ہم پر کیا مصیبتیں آپڑیں! عمر کے ہمراہ آنے والوں نے جب سیدہ کی گریہ وبکاء کی آواز سنی تو اکثر افراد لوٹ کر چلے گئے مگر عمر چند افرا کے ہمراہ کھڑا رہا اور علی علیہ السلام کو گھر سے باہر لے آئے اور ابوبکر کے پاس لے گئے اور کہا: بیعت کرو! علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر بیعت نہ کروں تو کیا کروگے؟ عمر نے کہااس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی خدا نہیں؛تمہارا سر قلم کریں گے!...
مسلّماً تاریخ کا یہ حصہ شیخین سے محبت کرنے والے افراد کے لئے بہت ہی بھاری ہے لہذا ان میں سے کئی افراد نے مفروضوں کی بنیاد پر دعوی کیا ہے کہ گویا یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں ہے جبکہ فن تاریخ کے استاد ابن ابی الحدید کو یقین ہے کہ مذکورہ کتاب ابن قتیبہ کی ہے اور ابن ابی الحدید نے اس کتاب سے متعدد بار اقتباسات لئے ہیں اور اس کے مضامین سے استناد کیا ہے. افسوس کا مقام ہے کہ یہ کتاب نئی طباعتوں میں تحریف کا شکار ہوئی ہے اور اس کے بعض مطالب و مضامین کو حذف کیا گیا ہے جبکہ وہی مضامین ابن ابی الحدید کی کتابوں میں الامامہ و السیاسہ کے حوالے سے نقل ہوئے ہیں اور موجود ہیں.
«زركلى» اپنی کتاب الاعلام میں اس کتاب کو ابن قتیبہ کی کاوش سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں: بعض علماء اس کتاب کو ابن قتیبہ سے نسبت دینے کے حوالے سے مختلف آراء کی قائل ہیں۔ بالفاظ دیگر زرکلی کا کہنا ہے کہ: مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ابن قتیبہ کی ہے مگر دوسرے لوگ اس سلسلے میں شک و تردد کا شکار ہیں. جیسا کہ «الياس سركيس»(11) اس کتاب کو ابن قتیبہ کی تالیف سمجھتے ہیں.
4. طبرى اور اس کی تاریخ:
محمّد بن جرير طبرى (متوفى 310) اپنی تاریخ میں بیت وحی کی بے حرمتی کی روایت یوں بیان کرتے ہیں:
أتى عمر بن الخطاب منزل علي و فيه طلحة و الزبير و رجال من المهاجرين، فقال و اللّه لاحرقن عليكم أو لتخرجنّ إلى البيعة، فخرج عليه الزّبير مصلتاً بالسيف فعثر فسقط السيف من يده، فوثبوا عليه فأخذوه.(12)
عمر بن خطاب على کے گھر پر آئے جہاں مہاجرین کا ایک گروہ موجود تھا. عمر نے ان کی طرف رخ کرکے کہا: خدا کی قسم گھر کو آگ لگادوں گا مگر یہ کہ بیعت کے لئے باہر آجاؤ. زبیر تلوار سونت کر باہر آئے مگر اچانک ان کا پاؤں پھسلا اور گر پڑے تو دوسروں نے انہیں پکڑلیا اور تلوار ان کے ہاتھ سے چھین لی...
تاریخ کے اس حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیعت اخذ کرنے کا سلسلہ دہونس دھمکی اور زبردستی پر استوار تھا اب قارئین کرام خود فیصلہ کریں کہ اس طرح کی بیعت کی کیا قدر و قیمت ہوسکتی ہے؟
5. ابن عبد ربہ اور «عقد الفريد»
کتاب «عقدالفرید» کے مؤلف شہاب الدين احمد المعروف «ابن عبد ربہ اندلسى» متوفى (463 ھـ) نے اپنی کتاب میں تاریخ سقیفہ کے سلسلے میں مفصل بحث کی ہے اور «وہ لوگ جنہوں نے ابوبکر کی بیعت سے اجتناب کیا» کے عنوان کے تحت تحریر کیا ہے کہ:
فأمّا علي و العباس و الزبير فقعدوا في بيت فاطمة حتى بعثت إليهم أبوبكر، عمر بن الخطاب ليُخرجهم من بيت فاطمة و قال له: إن أبوا فقاتِلهم، فاقبل بقبس من نار أن يُضرم عليهم الدار، فلقيته فاطمة فقال: يا ابن الخطاب أجئت لتحرق دارنا؟! قال: نعم، أو تدخلوا فيما دخلت فيه الأُمّة!:(13)
على، عباس اور زبیر فاطمہ کے گھر میں بیٹھے تھے کہ ابوبکر نے عمر کو بھیجا اور کہا کہ انہیں وہاں سے نکال باہر کرو اور اگر باہر نہ آئیں تو ان کے ساتھ لڑو! اسی وقت عمر آگ لے کر سیدہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے تا کہ گھر کو نذر آتش کریں، اسی وقت سیدہ (س﴾ سامنے آئیں. دختر رسول (ص﴾ نے فرمایا: اے فرزند خطاب کیا تم ہمارا گھر جلانے کے لئے آئے ہو؟ کہنے لگے: ہاں! مگر یہ کہ جس چیز میں امت وارد ہوئی ہے تم بھی وارد ہوجاؤ!
یہاں تک بیت فاطمہ (س﴾ کے ہتک حرمت کے ارادے کا باب ختم ہوتا ہے اور اب دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے جس میں انہوں نے اس مذموم اور ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہنایا!
یہ گمان ہرگز پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ ان لوگوں کا مقصد صرف خوف و ہراس اور دھونس دھمکی تک محدود تھا تا کہ على(عليہ السلام) اور آپ (ع﴾ کے معتقدین بیعت پر مجبور ہوجائیں، اور یہ کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنانا چاہتے تھے.
اس مقالے کے آئندہ سطور میں بیان ہوگا کہ انہوں نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کر ہی لیا!
حملہ انجام پايا!
یہاں ان لوگوں کی باتوں کا سلسلہ مکمل ہوا جنہوں نے صرف خلیفہ اور اس کے اصحاب کی بدنیتی کی طرف اشارہ کیا تھا. یہ وہ مورخین و مؤلفین تھے جو اس سانحے کی روداد مکمل نہ کرسکے یا کسی وجہ سے اسے مکمل نہ کرنا چاہا، جبکہ بعض دوسروں نے اس سانحے – یعنی بیت فاطمہ (س﴾ پر حملے اور اس گھر کی بے حرمتی – کی روداد کی طرف اشارہ کیا ہے اور کسی حد تک حقیقت کے چہرے سے نقاب کھینچ ڈالی ہے. یہاں ہم گھر پر حملے اور اس گھر کی بے حرمتی کی رواداد کے مستندات کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ( اس حصے میں بھی مستندات کو غالبا تاریخی ترتیب سے ذکر کیا گیا ہے).
6. ابو عبيد اور كتاب «الاموال»
ابو عبيد قاسم بن سلام (متوفى 224) اپنی کتاب «الأموال» میں جو اسلامی فقہاء کے ہاں مورد اعتماد و وثوق ہے، سے نقل کرتے ہیں:
عبدالرّحمن بن عوف کہتے ہیں: ابوبکر بیمار ہوئے تو میں عیادت کے لئے ان کے سرہانے پہنچا. ہمارے درمیان طویل گفتگو ہوئی اور آخر میں انہوں نے مجھ سے کہا: کاش وہ تین افعال جو میں نے سرانجام دئے مجھ سے سرزد نہ ہوتے، کاش میں تین چیزوں کے بارے میں نبی اکرم (ص﴾ سے سوال کرتا.
وہ تین چیزیں جو میں نے سرانجام دیں اور اب آرزو کرتا ہوں کہ کاش یہ چیزیں مجھ سے سرزد نہ ہوتیں؛ یہ ہیں:
1. «وددت انّي لم أكشف بيت فاطمة و تركته و ان اغلق على الحرب».(14) كاش میں نے فاطمہ کا گھر نہ کھلوایا ہوتا خواہ وہ جنگ کی نیت سے ہی بند کیا جا چکا ہوتا.
ابو عبید جب روایت کے اس حصے پر پہنچتے ہیں تو: لم أكشف بيت فاطمة و تركته = فاطمہ کا گھر نہ کھلواتا...کی بجائے لکھتا ہے: كذا و كذا. اور لکھتے ہیں: میں اس بات کو ذکر کرنے کا شوق ہرگز نہیں رکھتا!.
لیکن اگرچہ «ابو عبيد» نے تعصب یا کسی اور بنا پر حقیقت کو نقل کرنے سے گریز کیا ہے مگر کتاب الاموال پر تحقیق کرنے والے حضرات نے اس کے حاشیوں پر لکھا ہے کہ حذف شدہ جملے «میزان الاعتدال» میں اسی شکل میں بیان ہوئے ہیں جیسا کہ یہاں بیان ہوئے، اس کے علاوہ «طبرانى» اپنی کتاب «المعجم» میں، «ابن عبدربہ»، «عقد الفريد» میں اور دیگر افراد نے حذف شدہ جملے بیان کئے ہیں.(غور فرمائیں).
7. طبرانى اور معجم الكبير
ذہبی میزان الاعتدال میں ابوالقاسم سليمان بن احمد طبرانى (260-360) کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: وہ معتبر شخص ہیں (15). طبرانی «المعجم الكبير» میں ابوبکر اور ان کے خطبات اور وفات کے بارے میں لکھتے ہیں:
ابوبكر نے وفات کے وقت چند امور کی تمنا کی اور کہا: كاش میں تیں کام سرانجام نہ دیتا اور تین چیزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کرتا.
ابوبکر ان تین افعال کے بارے میں – جو انہوں نے سرانجام دیئے اور تمنا کی کہ کاش انہیں انجام نہ دیتے – کہتے ہیں: أمّا الثلاث اللائي وددت أني لم أفعلهنّ، فوددت انّي لم أكن أكشف بيت فاطمة و تركته.(16) وہ تین چیزیں جو میری آرزو ہے کہ کاش مجھ سے سرزد نہ ہوتیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کاش میں فاطمہ کے گھر کی بے حرمتی نہ کرتا اور اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا!
ان عبارات و تعبیرات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ عمر کی دھمکی عملی صورت اختیار کرگئی.
8. ابن عبد ربہ اور «عقد الفريد»
كتاب «العقد الفريد» کے مؤلّف ابن عبد ربہ الاندلسى (متوفى 463 هـ) نے عبدالرحمن بن عوف سے نقل کیا ہے کہ:
ابوبکر بیمار ہوئے تو میں ان پر وارد ہوا. انہوں نے کہا: کاش میں تین چیزوں کا ارتکاب نہ کرتا اور ان تین چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ: وودت انّي لم أكشف بيت فاطمة عن شي و إن كانوا اغلقوه على الحرب.(17) كاش میں فاطمہ کا گھر کا دروازہ نہ کھلواتا، خواه جنگ کی نوبت هی کیون نه آتی».
نیز وہ عبارات بھی نقل ہونگی اور ان شخصیات کے نام بھی ذکر ہونگے جنہوں نے خلیفہ کا یہ قول نقل کیا ہے.
9. نَظّام اور كتاب «الوافي بالوفيات»
نظم و نثر میں حسن کلام کی بنا پر نَظّام کے نام سے مشہور ہونے والے ابراہيم بن سيار معتزلى (160-231) اپنی متعدد کتابوں میں فاطمہ کے گھر پر حضرات کے حاضر ہونے کے بعد پیش آنے والا واقعہ نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:
انّ عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى ألقت المحسن من بطنہا.(18) عمر نی «بیعت لینے» کی نیت سے فاطمہ زہرا (س﴾ کی پیٹ پر ضرب لگائے اور فاطمہ کے بطن میں جو محسن نامی بچہ تھا وہ سقط ہوگیا!! (توجہ فرمائیں).
10. مبرد اور كتاب «الكامل»
معروف اديب و مؤلف اور اہم تألیفات کے مالک محمّد بن يزيد بن عبدالأكبر بغدادى (210-285) اپنی کتاب «الکامل» میں خلیفہ کی آخری تمنا کے بارے میں عبدالرحمن بن عوف سے نقل کرتے ہیں کہ ابوبکر نے کہا:
وددت انّي لم أكن كشفت عن بيت فاطمة و تركته ولو أغلق على الحرب.(19)
آرزو کرتا ہوں کہ کاش بيت فاطمہ کی بے حرمتی نہ کرتا اور اس کا دروازہ نہ کھلواتا چاہے وہ دروازہ جنگ کی نیت سے ہی بند کیوں نہ ہوتا».
11. مسعودى و «مروج الذہب»
مسعودى (متوفى 325) مروج الذہب میں لکھتے ہیں:
ابوبکر جب حالت احتضار (جان کنی کی حالت﴾ میں وارد ہوئے تو کہنے لگے: کاش میں تین اعمال کا ارتکاب نہ کرتا اور ان تین اعمال میں سے ایک یہ ہے:
فوددت انّي لم أكن فتشت بيت فاطمة و ذكر في ذلك كلاماً كثيراً!(20)
میری تمنا تھی کہ کاش خانہ زہرا کی بے حرمتی نہ کرتا اور اس سلسلے میں انہوں نے بہت ساری باتیں بیان کیں»!!
گو کہ مسعودى اہل بیت (ع﴾ کی محبت کے حوالے سے نسبتا اچھی شہرت رکھتے ہیں مگر یہاں پہنچ کر وہ بھی مکمل بات بتانے سے گریز کرتے ہیں اور کنائے کے ساتھ گذرجاتے ہیں [اور وہ بات جو خلیفہ نے بیان کی ہے ادہوری رہ جاتی ہے] البتّہ خدا حقيقت سے واقف ہے اور بندگان خدا کو بھی اجمالی علم حاصل ہے!
12. ابن أبى دارم اور كتاب «ميزان الاعتدال»
محدث كوفى «احمد بن محمّد» المعروف «ابن ابى دارم»، (متوفى357)، - جن کے بارے میں محمّد بن أحمد بن حماد كوفى کا بیان ہے کہ: «كان مستقيم الأمر، عامة دهره»: وہ اپنی پوری عمر میں راہ راست پر چلنے والے تھے اور اپنے زمانے کی نامی گرامی شخصیت تھے.
وہ اس مقام و مرتبے کے مالک ہوتے ہوئے، نقل کرتے ہیں کہ یہ حدیث ان کے سامنے نقل کی گئی کہ:
انّ عمر رفس فاطمة حتى أسقطت بمحسن. (21)
عمر نے فاطمہ کو لات ماری اور جو محسن نامی فرزند ان کے بطن میں تھا وہ سقط ہوگیا»! (توجہ فرمائیں)
13. عبدالفتاح عبدالمقصود اور كتاب «الإمام علي»
عبدالمقصود «بیت الوحی» پر حملے کی روداد اپنی کتاب کی دو مقامات پر بیان کرتے ہیں لیکن ہم ایک ہی روایت نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:
لکھتے ہیں کہ عمر نے گھر کے سامنے کھڑے ہوکر کہا:
«و الّذي نفس عمر بيده، ليَخرجنَّ أو لأحرقنّها على من فيها...»! قالت له طائفة خافت اللّه، و رعت الرسول في عقبه: «يا أبا حفص، إنّ فيها فاطمة...»! فصاح لايبالي: «و إن...»! و اقترب و قرع الباب، ثمّ ضربه و اقتحمه... و بدا له عليّ... و رنّ حينذاك صوت الزهراء عند مدخل الدار... فان هى الا طنين استغاثة...(22)
ترجمہ: اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے کہ گھر سے باہر آجاؤ ورنہ اس گھر کو اس کے ساکنین کے ساتھ ہی آگ لگادوں گا. کچھ لوگ جو خدا کا خوف رکھنے اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد آپ (ص﴾ کے خاندان کی رعایت حال کرنے والے تھے، نے کہا: «اباحفص، فاطمہ اس گھر میں ہیں ». لیکن وہ بے پروائی کے عالم میں چلّائے: "وَ اِن" تب بھی (یعنی حتیٰ اگرفاطمہ بھی گھر میں ہوں تب بھی گھر کو آگ لگا دوں گا) پس قریب تر گئے اور دروازے پر دستک دی اور پھر دروازے پر مکھوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کردی اور گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی[دوازہ ٹوت گیا تھا اور سیدہ دروازے کی پشت پر زخمی ہوگئی تھیں]... اس دوران علی (ع﴾ ظاہر ہوئے اسی اثناء میں سیدہ (س﴾ کی صدا گھر کے دروازے کے پاس سے سنائی دی اور وہ سیدہ کی فریاد اور استغاثی کے سوا کوئی اور صدا نہ تھی...!».
* * *
اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے «مقاتل ابن عطيّة» کی کتاب «الامامة و السياسة» کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں (گو کہ ابھی ان کہی باتیں بہت ہیں!)
لکھتے ہیں:
ان ابابكر بعد ما اخذ البيعة لنفسه من الناس بالارهاب و السيف و القوّة ارسل عمر، و قنفذاً و جماعة الى دار علىّ و فاطمه(عليه السلام) و جمع عمر الحطب على دار فاطمه و احرق باب الدار!...(23)
ترجمہ: جب ابوبکر نے اپنے لئے خوف و ہراس پھیلا کر بزور شمشیر لوگوں سے اپنے لئے بیعت لی عمر نے قنفذ اور بعض دیگر افراد کو علی اور فاطمہ سلام اللہ علیہما کی گھر روانہ کیا اور خود لکڑیاں اکٹھی کرکے گھر کے دروازے کو آگ لگادی...
اس روایت کے ذیل میں بعض دیگر تعبیرات و عبارات ہیں جن کے ذکر سی قلم عاجز ہے.
* * *
نتيجہ: یہاں ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان ہی کی کتابوں سے منقولہ روشن روایات کو پڑھ اور سن کر کیا پھر بھی لکھنا چاہیں گے کہ:
« فاطمہ سلام اللہ علیہا کا افسانہ شہادت...!»؟
انصاف كہاں ہے؟!
یقینا جو شخص روشن اور واضح منابع و مأخذ پر مبنی اس مختصر بحث کا مطالعہ کرے گا بخوبی جان لے گا کہ رسول اللہ (ص﴾ کی رحلت کے بعد کیا آشوب بپا ہوا تھا اور خلافت و اقتدار کے حصول کے لئے لوگوں نے کیا کیا کارنامے سرانجام دیئے اور یہ تعصب سے دور آزاداندیش انسانوں پر اتمام حجت الہیہ ہے، کیوں کہ ہم نے یہاں اپنی جانب سے کچھ بھی (بعنوان تبصرہ و تجزیہ﴾ نہیں لکھا اور جو بھی لکھا ان منابع و مآخذ سے نقل کرکے لکھا جو ان کے نزدیک قابل قبول ہیں.

حوالہ جات
1. فتح البارى فی شرح صحيح بخارى: 7/84 نيز بخارى نے یہ روایت باب علامات النبوة ، جلد 6، ص 491 میں، اور باب مغازى جلد 8، ص 110 کے آخر میں بھی درج کی ہے.
2. مستدرك الحاكم: 3/154; مجمع الزوائد: 9/203 یاد رہے کہ حاكم نیسابوری مستدرك الصحیحین میں ایسی حدیثیں نقل کرتے ہیں جو بخاری اور مسلم کے قواعد کے مطابق صحیح ہوں.
3. مستدرك حاكم: 3/156.
4. سورة النور کی آیت 35 میں ارشاد ہے کہ : اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونِةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ
خداوند متعال آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور نور خداوندی کی مثال اس چراغدان کی مثال ہے جس میں روشنی بخشنے والا چراغ ہو اور وہ چراغ ایک حباب کے اندر قرار پایا ہو ایک روشن اور شفاف حباب چمکتے ہوئے روشن ستارے کی مانند، یہ چراغ اس روغن سے روشن ہوتا ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے حاصل ہوا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ ہے غربی (یہ روغن اتنا خالص اور صاف ہے کہ﴾ کہ قریب ہے کہ آگ لگے بغیر شعلہ ور ہوجائے ایک نور ہے دوسرے نور کی بلندی کے اوپر اور خدا جسے چاہے نور کی جانب ہدایت دیتا ہے اور خدا انساوں کے لئے مثالیں لاتا ہے اور خداوند ہر چیز پر عالم و دانا ہے.
اب سوال یہ ہے کہ یہ نور ہے کہاں؟ چنانچہ خداوند متعال اسی سورت کی آیت 36 میں ارشاد فرماتا ہے:
ِفي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
نورخدا ان گھروں میں ہے کہ خداوند متعال نے رخصت و اجازت دی ہے کہ ان کی قدر و منزلت بلند و رفیع ہو اور ان میں خدا کے کا نام لیا جائے اور اس کے مکین شب و روز خداوند قدوس کی تسبیح کرتے ہیں.
آیت 37 میں ان گھروں کے مکینوں کا تعارف کراتے ہوئے اللہ جل و علي ارشاد فرماتا ہے:
رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ
(اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گی.
5. در المنثور: 6/606.
6. المصنف ابن ابى شيبه: 8/572، كتاب المغازى.
7. انساب الأشراف: 1/586 مطبوعہ دار المعارف، قاہره.
8. الاعلام زركلى: 4/137.
9. الامامة و السياسة: 12، مطبوعہ مكتبة تجارية كبرى، مصر.
10. الامامة و السياسة، ص 13.
11. معجم المطبوعات العربية: 1/212.
12. تاريخ طبرى: 2/443، مطبوعہ بيروت.
13. عقد الفريد: 4/93، مطبوعہ مكتبة ہلال.
14. الأموال: پاورقى 4، مطبوعہ نشر كليات ازهرية، الأموال، 144، مطبوعہ بيروت، عقد الفريد ابن عبد ربه : 4/93.
15. ميزان الاعتدال: 2/195.
16. معجم كبير طبرانى: 1/62، حديث 34، تحقيق حمدي عبدالمجيد سلفي.
17. عقد الفريد: 4/93، مطبوعہ مكتبة الهلال.
18. الوافي بالوفيات: 6/17، شمارہ 2444; ملل و نحل الشهرستانى: 1/57، مطبوعہ دار المعرفة، بيروت. اور نظام کے حالات زندگی کے لئے کتاب «بحوث في الملل و النحل»: 3/248-255 کو رجوع کیا جائے.
19. شرح نہج البلاغہ: 2/46 و 47، مطبوعہ مصر.
20. مروج الذہب: 2/301، مطبوعہ دار اندلس، بيروت.
21. ميزان الاعتدال: 3/459.
22. عبدالفتاح عبدالمقصود، علي بن ابى طالب: 4/276-277.
23. كتاب الامامة و الخلافة، ص 160 و 161، تأليف مقاتل بن عطيّة جس پر قاہرہ کے جامعہ عین الشمس کے استاد داكتر حامد داؤد نے مقدمہ لکھا ہے، مطبوعہ بيروت، مؤسّسة البلاغ.



تاريخ : دوشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۹۲ | 13:16 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
دانشنامه حضرت فاطمه زهرا سلام الله علیها
چکیده
فاطمه زهرا علیهاالسلام در دوران غربت اسلام به دنیا آمد و از همان اوان کودکی در کانون اصلی مبارزه، با طعم سختی‏ها و مشکلات آشنا شد. هیچ‏کس مانند او شاهد زحمت‏های طاقت‏فرسا و شبانه‏روزی رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله نبود. او در خلوت‏های پیامبر، درد دل‏های پدر را به گوش جان می‏شنود و همانند مادری دل‏سوز سر حضرت را بر دامن می‏گرفت و آرام‏بخش دلش می‏گشت تا آن‏جا که پدرش به وی لقب «ام‏ابیها» داد. در این مقاله، به زندگی آن بزرگوار می‏پردازیم.

فاطمه علیهاالسلام، مادر پدر، همسر علی علیه‏السلام
حضرت زهرا علیهاالسلام نزدیک‏ترین نسبت را با رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله داشت. او یگانه دختر رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله بود که نسل پاک نبوی از طریق او ادامه یافت. احترام شگفت‏انگیز پیامبر به دخترش، از شخصیت ممتاز او حکایت داشت و سفارش‏های مکرر رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله به مؤمنان درباره حفظ حرمت او و احترام ویژه به آن بانوی والامقام، منزلت عالی او را برای همگان روشن ساخته بود.
حضرت زهرا علیهاالسلام، همسر امیرمؤمنان علی علیه‏السلام بود که دومین شخصیت ممتاز جهان اسلام به شمار می‏رفت. شناخت صدیقه طاهره از امیرمؤمنان، عمیق‏ترین شناخت‏ها بود. دیگران فقط شعاعی از صفات نیک علی را دیده بودند، ولی او با تمام وجود از اخلاص علی علیه‏السلام و سوز دل او آگاه بود.

جلوه‏ای از وجود زهرا علیهاالسلام در آیینه قرآن
بدون تردید، مطلوب‏ترین سخن درباره حضرت زهرا علیهاالسلام، کلام پروردگار جهانیان است. قرآن کریم، فاطمه علیهاالسلام را کوثر محمد صلی‏الله‏علیه‏و‏آله می‏داند. کوثر معنایی گسترده دارد؛ یعنی خیر فراوان، ولی بسیاری از بزرگان علمای شیعه و اهل سنت، یکی از روشن‏ترین مصداق‏های آن را وجود مقدس فاطمه زهرا علیهاالسلام دانسته‏اند.
در شأن نزول سوره کوثر آمده است که مشرکان، پیامبر اسلام را به بی‏نسلی متهم کردند. قرآن با رد سخن آنها می‏گوید: «ما به تو کوثر دادیم.» از این تعبیر استفاده می‏شود که این خیر فراوان، همان فاطمه‏زهرا علیهاالسلام است که نسل رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله از راه همین دختر گرامی در جهان انتشار یافت. مفسران یادآور شده‏اند اینکه این سوره خبر می‏دهد پیامبر اعظم صلی‏الله‏علیه‏و‏آله، بی‏فرزند نخواهد بود و نسل و دودمان او فراوان خواهد شد، یکی از جنبه‏های اعجاز قرآن است.

فاطمه، اسوه عالم
آنچه فاطمه علیهاالسلام را نمونه کرده، کامل بودن او در همه جنبه‏های نیک بشری است. اسوه‏های الهی همواره از دیگر افراد بشر در کمالات انسانی پیش‏قدم هستند. ما هر چه بکوشیم، نمی‏توانیم به افق فضیلت‏های آنان برسیم، ولی باید در مسیر آن بزرگواران حرکت کنیم. شاید به همین دلیل است که حضرت مهدی علیه‏السلام در آخرالزمان، فاطمه علیهاالسلام را اسوه و الگوی خود می‏خواند؛ زیرا رفتار و گفتار فاطمه علیهاالسلام، به نیازها و مسائل جامعه امام‏زمان علیه‏السلام پاسخ می‏دهد.

لالایی بیداری
فاطمه زهرا علیهاالسلام زمانی که با فرزند خود، حسن مجتبی علیه‏السلام نجوای مادرانه داشت، اشعار زیبایی می‏سرود. ایشان در شعری به فرزندش می‏فرماید: «حسن جان! مانند پدرت علی باش و ریسمان را از گردن حق بردار و خدای صاحب نعمت و احسان کننده را بپرست و با افراد بدخواه و کینه‏توز دوستی مکن».
حضرت فاطمه علیهاالسلام در آغاز سخن خود با فرزندش به یک نکته مهم تربیتی اشاره دارد. ایشان حضرت علی علیه‏السلام را که بهترین و کامل‏ترین الگو برای انسان است، به فرزندش می‏شناساند و می‏فرماید از او سرمشق بگیر. در بخش دیگری از این شعر، حضرت به مهم‏ترین مسئولیت اجتماعی انسان اشاره می‏کند و فرزندش را به حق‏طلبی و احیای حقوق دیگران فرا می‏خواند.

اهمیت تسبیح حضرت زهرا علیهاالسلام
تسبیح حضرت زهرا علیهاالسلام که پیامبر اعظم صلی‏الله‏علیه‏و‏آله آن را به یگانه دختر خود آموزش داده است، جایگاه و اهمیت خاصی دارد. امام باقر علیه‏السلام فرمود: «خداوند در میان حمدها به چیزی بافضیلت‏تر از تسبیح فاطمه علیهاالسلام عبادت نشده است.» امام صادق علیه‏السلام نیز فرمود: «سوگند به خدا، اگر چیزی بافضیلت‏تر از تسبیح حضرت زهرا علیهاالسلام بود، رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله آن را به فاطمه می‏آموخت».

اهتمام فاطمه علیهاالسلام به احادیث نبوی
حضرت فاطمه علیهاالسلام در پاسخ کسی که حدیثی از پیامبر اعظم صلی‏الله‏علیه‏و‏آله درخواست کرده بود، فرمود: پدرم می‏فرماید: «کسی که همسایه از آزارش در امان نباشد، از مؤمنان نیست. هر کس به خدا و روز قیامت ایمان دارد، همسایه‏اش را آزار نمی‏دهد. هر کس به خدا و روز قیامت ایمان دارد، باید حرف خوب بگوید و گرنه ساکت باشد. خدای متعالی افراد خیرخواه، بردبار و باعفت را دوست دارد و شخص بد زبان، سست و لج‏باز را دشمن می‏دارد».

پرواز به سوی سفر ابدی
حضرت فاطمه علیهاالسلام هنگام رحلت، به امام علی علیه‏السلام وصیت کرد مرا تنها نگذار و بر بالینم بنشین و سوره یاسین تلاوت کن. چون این سوره به پایان رسد، عمر من نیز پایان خواهد یافت. امام علی علیه‏السلام در حالی که می‏گریست، به تلاوت قرآن پرداخت. وقتی سوره یاسین به پایان رسید، نفس‏های فاطمه علیهاالسلام سنگین شد. در این حال دوبار چشمانش را گشود و دوبار سلام داد: «سلام بر تو ای جبرئیل! سلام بر شما ای فرشتگان. ای پروردگار! به‏سوی تو می‏آیم.» آن‏گاه روحش به آسمان‏ها پرواز کرد.
مردم مدینه، عزادار ریحانه پیامبر اعظم صلی‏الله‏علیه‏و‏آله شدند و منتظر بودند بر جنازه او به نماز بایستند، ولی ابوذر خطاب به آنان گفت: «به خانه‏هایتان بازگردید که جنازه گل رخشنده پیامبر گرامی پس از این به خاک سپرده می‏شود» و آنان با شنیدن این سخن پراکنده شدند.

پیام‏های فاطمی
فاطمه علیهاالسلام و قرآن
فاطمه علیهاالسلام عصاره همه ارزش‏هاست و آنچه خوبان همه دارند، او به تنهایی دارد. حضرت زهرا علیهاالسلام می‏فرماید: «از دنیای شما سه چیز را دوست دارم: تلاوت کتاب خدا، نظر به چهره رسول خدا صلی‏الله‏علیه‏و‏آله و بخشش در راه خدا».

فاطمه علیهاالسلام و خداشناسی
روزی پیامبر اعظم صلی‏الله‏علیه‏و‏آله از فاطمه علیهاالسلام پرسید: «از خدا چه درخواستی داری؟ هم‏اکنون فرشته وحی در کنار من است و از سوی خداوند پیام آورده است که هر حاجتی داری، برآورده می‏شود.» فاطمه علیهاالسلام درپاسخ فرمود: «لذت خدمت او مرا از تمنا بازداشته است. جز به دیدار جمال والای خدا نیازی ندارم».

اخلاص در عبادت
حضرت فاطمه علیهاالسلام می‏فرماید: «هر کس عبادت خالصش را برای خدا به بالا بفرستد، خداوند بهترین بهره‏ها را به سوی او فرو می‏فرستد».

صفات شیعیان
حضرت فاطمه علیهاالسلام فرمود: «اگر به آنچه به شما امر می‏کنیم، عمل می‏کنی و از آنچه بر حذرتان می‏داریم، دوری می‏کنی، از شیعیان مایی؛ و گرنه نیستی».

معرفی کتاب
جلوه‏های رفتاری حضرت زهرا علیهاالسلام، عذرا انصاری، دفتر تبلیغات اسلامی، قم
این کتاب در هشت بخش تنظیم شده که چهار بخش آن درباره سیره اخلاقی و رفتاری حضرت زهرا علیهاالسلام و بخش پنجم، هفتم و هشتم به ترتیب، سوگ‏نامه پدر، ولادت آفتاب وگزارشی از جشن ازدواج نام دارد.
یادی از محبوبه پروردگار، سعید آل الرسول، مؤسسه الزهرا وابسته به بنیاد بعثت، تهران، 1378.
این کتاب زندگی مختصر فاطمه زهرا علیهاالسلام برگرفته از منتهی الآمال محدث قمی با عنوان‏های زیر است: ولادت فاطمه، اسامی فاطمه، ازدواج فاطمه، فرزندان فاطمه، اخلاق فاطمه، ویژگی‏های فاطمه، مظلومیت فاطمه، شهادت فاطمه، زیارت فاطمه.
فاطمه در آیینه کتاب، اسماعیل انصاری، دفتر نشر الهادی، 1374.
کتاب فاطمه در آیینه کتاب، جامع‏ترین کتاب‏شناسی مربوط به حضرت زهرا علیهاالسلام است که 735 اثر را به زبان‏های فارسی، عربی، اردو، انگلیسی، گجراتی، ترکی آذری و استانبولی، فرانسوی، آلمانی، روسی، اسپانیایی، ایتالیایی و زبان‏های افریقایی معرفی کرده است. این کتاب فهرست‏های تفکیکی زبان، چاپ، خط، اعلام، اماکن و منابع دارد. در ابتدای کتاب، انگیزه تألیف، هدف تألیف، روش کار مؤلف و اطلاعاتی دیگر در 42 صفحه بیان شده است.
کتاب‏نامه حضرت فاطمه زهرا علیهاالسلام، ناصرالدین انصاری قمی، مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم.
کتاب‏نامه حضرت فاطمه زهرا علیهاالسلام، 470 کتاب به زبان‏های فارسی، عربی، اردو، انگلیسی، ترکی، گجراتی و فرانسوی را معرفی و کتاب‏های خطی و چاپی را جداگانه فهرست کرده است. این کتاب دارای فهرست‏های منابع، مؤلفان، مترجمان، مصححان و مقدمه‏نویسان است.

دیگر آثار فاطمی
درباره ریحانه پیامبر، افزون بر آثار پژوهشی، کتاب‏های دیگری در حوزه‏های داستان، شعر و... به چاپ رسیده است که به برخی از آنها اشاره می‏کنیم.
داستان: رمان بهشت ارغوان، نوشته سید ابوالقاسم حسینی (ژرفا) از کتاب و کانت صدیقه اثر کمال السید ترجمه شده است.
کتاب‏های ام ابیها نوشته رضا شیرازی و سرگذشت راست نیز از جمله کتاب هایی است که در حوزه داستان کوتاه نگاشته شده است.
نثر ادبی: در زمینه نثر ادبی نیز می‏توان به کتاب‏های فاطمه، فاطمه است اثر دکتر علی شریعتی؛ بانوی اول صدیقه کبری، فاطمه زهرا علیهاالسلام نوشته جواد نعیمی و بانوی آب اثر بهمن صالحی اشاره کرد.
شعر: کتاب‏های فراوانی در قالب شعر درباره ریحانه پیامبر چاپ شده است. آیینه عصمت، نوشته محمود شاهرخی و مشفق کاشانی؛ گلبن عفاف از محمود اکبرزاده و مناقب فاطمی در شعر، گردآوری احمد احمدی بیرجندی از جمله این کتاب‏هاست.

معرفی نرم‏افزار
عترت 3 (حضرت زهرا علیهاالسلام )
نرم‏افزار عترت 3، به زبان فارسی از سوی مؤسسه تحقیقاتی امام رضا علیه‏السلام تولید شده است. این نرم‏افزار دارای مطالب زیر است: زندگی‏نامه حضرت زهرا علیهاالسلام، بیش از بیست داستان به همراه اجرای نمایشی، زیارت‏نامه و دعاهای منسوب به صدیقه طاهره علیهاالسلام، اشعار منتخب در مدح حضرت زهرا علیهاالسلام، پرسش و پاسخ درباره حضرت زهرا علیهاالسلام، کتاب‏شناسی مربوط به زندگی حضرت زهرا علیهاالسلام، متن کامل کتاب‏های مربوط به ریحانه‏النبی صلی‏الله‏علیه‏و‏آله و چندین داستان مصوّر آموزنده، سرگرمی و بازی.

یاس کبود
نرم‏افزار یاس کبود، حاوی ترجمه سیره و مقاتل معتبر درباره حضرت زهرا علیهاالسلام است و با عنوان جامع المقاتل حضرت فاطمه الزهرا علیهاالسلام تولید شده است. این نرم‏افزار از سوی مؤسسه گنجینه معرفت و به زبان فارسی تولید شده و دارای مطالب ذیل است:
متن کتاب‏های منتهی‏الآمال شیخ عباس قمی، کتاب احراق بیت فاطمه فی الکتب المعتبره عند اهل السنه اثر شیخ‏حسین غیب غلامی، بحارالانوار، جلد 43 به زبان عربی و فارسی، ترجمه کتاب الفدک فی التاریخ شهید آیت‏الله صدر، ترجمه کتاب بهجه قلب الرسول اثر حجت الاسلام احمد رحمانی همدانی، ترجمه کتاب نفحات اللاهوت فی لعن الجبت و الطاغوت نوشته محقق کرکی، زندگی فاطمه الزهرا علیهاالسلام اثر علامه امینی و ترجمه بیت‏الاحزان شیخ‏عباس قمی.
همچنین این نرم‏افزار از 130 قطعه شعر، شصت سخنرانی درباره حضرت زهرا علیهاالسلام از شهید مطهری، آیت‏الله وحید خراسانی، استاد جعفری سبحانی، مرحوم کافی و...، دو فیلم 160 دقیقه‏ای شامل عزاداری حضرت‏زهرا علیهاالسلام، صدها تصویر گرافیکی و... برخوردار است.

این پایگاه از سوی مرکز جهانی اطلاع رسانی آل‏البیت اداره می‏شود و زبان‏های فارسی، عربی و انگلیسی، زبان‏های اصلی پایگاه است. نگرشی بر جایگاه زن، اسامی و القاب و کنیه، فرزندان، شهادت مظلومانه، حضرت زهرا علیهاالسلام در کلام اندیشمندان، خلقت حضرت زهرا علیهاالسلام، دوران کودکی، جلوه‏های رفتاری و اخلاقی، خطبه‏ها و سخنان، ادعیه و اعمال، فدک، فضایل و کتاب‏شناسی، مطالب ارائه شده در این پایگاه است.



تاريخ : شنبه هجدهم اردیبهشت ۱۳۸۹ | 20:56 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهْراءُ(عليها السلام) :

1- موقعيت اهل بيت در نزد خدا
« وَاحْمَدُوا الَّذى لِعَظمَتِهِ وَ نُورِهِ يَبْتَغى مَنْ فِى السَّمواتِ وَ الاَْرْضِ إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ، وَ نَحْنُ وَسيلَتُهُ فى خَلْقِهِ، وَ نَحْنُ خاصَّتُهُ وَ مَحَلُّ قُدْسِهِ، وَ نَحْنُ حُجَّتُهُ فى غَيْبِهِ، وَ نَحْنُ وَرَثَةُ أَنـْبِيائِهِ.»
خدايى را حمد و سپاس گوييد كه به خاطر عظمت و نورش، هر كه در آسمانها و زمين است به سوى او وسيله مىجويد، و ما وسيله او در ميان مخلوقاتش و خاصّان درگاه و جايگاه قدس او و حجّت غيبى و وارث پيامبرانش هستيم.
2- حرمت مست كننده ها
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): يا حَبيبَةَ أَبيها كُلُّ مُسْكِر حَرامٌ، و كُلُّ مُسْكِر خَمْرٌ.
پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به من فرمود:اى دوستِ پدر! هر مست كننده اى حرام است، و هر مست كننده اى خمر است.
3- بهترين زنان كيستند؟
قالَتْ فاطِمَةُ(عليها السلام) فى وَصْفِ ما هُوَ خَيْرٌ لِلنِّساءِ: خَيْرٌ لَهُنَّ أَنْ لايَرينَ الرِّجالَ، وَ لا يَرَوْ نَهُنَّ.
حضرت در وصف اين كه بهترين چيز براى زنان چيست، فرموده اند: اين كه زنان، مردان را نبينند، و مردان هم زنان را نبينند.
4- نتيجه عبادت خالص
عَنْ فاطِمَةَالزَّهْراءِ(عليها السلام) :« مَنْ أَصْعَدَ إِلَىاللّهِ خالِصَ عِبادَتِهِ أَهْبَطَ اللّهُ إِلَيْهِ أَفْضَلَ مَصْلَحَتِهِ.»
هر كه عبادت خالصش را به سوى خدا بالا فرستد، خداوند متعال برترين بهره و سودش را به سوى او پايين فرستد.
5- فاطمه در مقام شكوه از دو خليفه
«قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهْراءُ(عليها السلام) لِلاَْوَّلَيْنِ:أَرَأَيْتُكُما إِنْ حَدَّثْتُكُما عَنْ رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): تَعْرِفانِهِ وَ تَفْعَلانِ بِهِ؟ قالا نَعَمْ. فَقالَتْ: نَشَدْتُكُمَا اللّهُ أَلَمْ تَسْمَعا رَسُولَ اللّهِ يَقُولُ:«رِضا فاطِمَةَ مِنْ رِضاىَ، وَ سَخَطُ فاطِمَةَ مِنْ سَخَطى، فَمَنْ أَحَبَّ فاطِمَةَ إِبْنَتى فَقَدْ أَحَبَّنى، وَ مَنْ أَرْضى فاطِمَةَ فَقَدْ أَرْضانى، وَ مَنْ أَسْخَطَ فاطِمَةَ فَقَدْ أَسْخَطَنى»؟ قالا نَعَمْ، سَمِعْناهُ مِنْ رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)، فَقالَتْ: فَإِنّى أُشْهِدُ اللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ أَنَّكُما أَسْخَطْتُمانى وَ ما أَرْضَيْتُمانى وَ لَئِنْ لَقيتُ النَّبِىَّ لاََشْكُوَنَّكُما إِلَيْهِ.»
حضرت زهرا(عليها السلام) خطاب به خليفه اوّل و دوّم فرمود:آيا اگر حديثى را از پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) نقل كنم به آن عمل خواهيد كرد؟ گفتند: آرى.
فرمودند: شما را به خدا آيا نشنيده ايد كه پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)فرموده اند:«خشنودى فاطمه خشنودى من، و خشم فاطمه خشم من است، هر كه دخترم فاطمه را دوست بدارد مرا دوست داشته، و هر كه فاطمه را خشنود سازد مرا خشنود ساخته، و هر كه فاطمه را خشمگين نمايد مرا خشمگين نمود هاست»؟ گفتند: آرى، چنين حديثى را از پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) شنيدهايم.
فرمود: من هم خدا و فرشتگان را گواه مىگيرم كه شما دو نفر مرا خشمگين نموديد و خشنودم نساختيد، و چون پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) را ملاقات نمايم حتماً از شما به او شكايت خواهم نمود.
6- بدترين امّت
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)، شِرارُ أُمَّتى الَّذينَ غَذُّوا بِالنَّعِيم، الَّذينَ يَأكُلُونَ أَلْوانَ الطَّعامِ، وَ يَلْبَسُونَ أَلوانَ الثِّيابِ وَ يَتَشَدَّقُونَ فِى الْكَلامِ.
بدترين امّت من كسانى هستند كه: از انواع نعمتها تغذيه مىكنند و خوراكى هاى رنگارنگ مىخورند، و لباسهاى گوناگون مىپوشند، و هر چه بخواهند مىگويند.
7- نزديكترين اوقات زن به خدا
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: سَأَلَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)أَصْحابَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ ماهِىَ؟ قالُوا: عَوْرَةٌ، قالَ: فَمَتى تَكُونُ أَدْنى مِنْ رَبِّها؟ فَلَمْ يَدْرُوا.
فَلَمّا سَمِعَتْ فاطِمَةُ(عليها السلام) ذلِكَ قالَتْ: أَدْنى ما تَكُونُ مِنْ رَبِّها أَنْ تَلْزَمَ قَعْرَ بَيْتِها.
فَقالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِنَّ فاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنّى.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) از اصحابش پرسيد: زن چيست؟ گفتند: زن ناموس است.
فرمود: زن چه موقع به خدايش نزديكتر است؟ اصحاب نتوانستند جواب گويند.
چون اين سخن به گوش فاطمه(عليها السلام)رسيد، فرمود: نزديكترين اوقات زن به خداى خود هنگامى است كه در كُنج خانه خود باشد.
پس از اين جواب، پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم)فرمود: حقّا كه فاطمه پاره تن من است.
8- نتيجه صلوات بر زهرا(عليها السلام)
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) يا فاطِمَةُ مَنْ صَلّى عَلَيْكِ غَفَرَ اللّهُ لَهُ وَ أَلْحَقَهُ بى حَيْثُ كُنْتُ مِنَ الْجَنَّةِ.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به من گفت: اى فاطمه! هر كه بر تو صلوات فرستد، خداوند او را بيامرزد و به من، در هر جاى بهشت باشم، ملحق گرداند.
9- على(عليه السلام)، رهبر و پيشوا
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: إِنَّ النَّبِىَّ(عليها السلام) قالَ:«مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِىٌّ وَلِيُّهُ، وَ مَنْ كُنْتُ إِمامَهُ فَعَلِىٌّ إِمامُهُ».
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود:هر كه من سرپرست اويم، پس على سرپرست اوست و هر كه را من رهبر اويم، پس على رهبر اوست.
10- حجاب فاطمه
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: يا رَسُولَ اللّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ يَرانى فَأَنَا أَراهُ، وَ هُوَ يَشُمُّ الرّيحَ.
فَقالَ النَّبِىُّ(صلى الله عليه وآله): أَشْهَدُ أَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنّى.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله) همراه با مرد نابينايى به خانه فاطمه(عليها السلام) آمد، بلافاصله فاطمه(عليها السلام)خود را كام پوشاند.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله) فرمود: چرا خود را پوشاندى با اين كه او تو را نمىبيند؟ فاطمه(عليها السلام) فرمود: اى پيامبر خدا! اگر او مرا نمىبيند، من كه او را مىبينم و او بوى مرا حس مىكند! پيامبر اكرم فرمود: گواهى مىدهم كه تو پاره دل منى.
11- دستور العملى جامع
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) وَ قَدْ إِفْتَرَشْتُ فِراشى لِلنَّوْمِ، فقالَ: يا فاطِمَةُ لا تَنامى إلاّ وَ قَدْ عَمِلْتِ أَرْبَعَةً:خَتَمْتِ القُرآنَ، وَ جَعَلْتِ الاَْنـْبِياءَ شُفَعائَكِ، وَ أَرْضَيْتِ الْمُؤْمِنينَ عَنْ نَفْسِكِ، وَ حَجَجْتِ وَ اعْتَمَرْتِ، قالَ هذا وَ أَخَذَ فِى الصَّلوةِ، فَصَبَرْتُ حَتّى أَتَمَّ صَلاتَهُ، قُلتُ: يا رَسُولَاللّهِ أَمَرْتَ بِأَرْبَعَة لا أَقْدِرُ عَلَيْها فى هذَا الْحالِ! فَتَبَسَّمَ(صلى الله عليه وآله وسلم) وَ قال:إِذا قَرَأْتِ قُل هُوَ اللّهُ أَحَدٌ ثَلاثَ مَرّات فَكَأنَّكِ خَتَمْتِ القُرْآنَ، وَ إِذا صَلَّيْتِ عَلَىَّ وَ عَلَى الاَْنـْبِياءِ قَبْلى كُنّا شُفَعاءَكِ يَوْمَ الْقِيمَةِ، وَ إِذا اسْتَغْفَرْتِ لِلْمُؤْمِنينَ رَضُوا كُلُّهُمْ عَنْكِ، وَ إِذا قُلْتِ: سُبْحانَ اللّهِ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ وَ لا إِلَهَ إِلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ أَكْبَرُ، فَقَدْ حَجَجْتِ وَ اعْتَمَرْتِ.
در وقتى كه بستر خواب را گسترده بودم، رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) بر من وارد شد، فرمود:اى فاطمه! نخواب مگر آن كه چهار كار را انجام دهى: قرآن را ختم كنى، و پيامبران را شفيعت گردانى، و مؤمنين را از خود راضى كنى، و حجّ و عمره اى را به جا آورى.
اين را فرمود و شروع به خواندن نماز كرد، صبر كردم تا نمازش تمام شد، گفتم: يا رسول اللّه! به چهار چيز مرا امر فرمودى در حالى كه بر آنها قادر نيستم! آن حضرت تبسّمى كرد و فرمود:چون قل هو اللّه را سه بار بخوانى مثل اين است كه قرآن را ختم كردهاى، و چون بر من و پيامبران پيش از من صلوات فرستى، شفاعت كنندگان تو در روز قيامت خواهيم بود، و چون براى مؤمنين استغفار كنى، آنان همه از تو راضى خواهند شد، و چون بگويى: سُبحانَ اللّه وَ الحَمدُ للّه وَ لا اِلهَ اِلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ اكبرُ، حجّ و عمره اى را انجام دادهاى.
12- رضايت شوهر
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): وَيْلٌ لاِمْرَأَة أَغْضَبَتْ زَوْجَها وَ طُوبى لاِمْرَأَة رَضِىَ عَنْها زَوْجُها.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: واى به حال زنى كه شوهرش را خشمگين سازد، و خوشا به حال زنى كه شوهرش از او خشنود باشد.
13- ثواب انگشتر عقيق
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): مَنْ تَخَتَّمَ بِالْعَقيقِ لَمْ يَزَلْ يَرى خَيْرًا.
كسى كه انگشتر عقيق به دست كند، هميشه خير مىبيند.
14- على(عليه السلام)، بهترين داور
قالَتْ فاطِمَةُالزَّهراءُ(عليها السلام) عَنْ أَبيها(صلى الله عليه وآله وسلم) قالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْمَلائِكَةِ تَشاجَرُوا فى شَىْء فَسَأَلُوا حَكَمًا مِنَ الاْدَمِيّينَ، فَأَوْحَى اللّهُ تَعالى إلَيْهِمْ أَنْ تَخَيَّرُوا، فَاخْتارُوا عَلِىَّ بْنَ أَبيطالب.
گروهى از فرشتگان درباره چيزى با يكديگر مشاجره نمودند، حاكم و داورى را از بنىآدم تقاضا كردند، خداوند متعال به آنها وحى فرمود كه خودتان انتخاب كنيد و آنان على ابن ابيطالب(عليه السلام) را برگزيدند.
15- زنان دوزخى
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّه(صلى الله عليه وآله وسلم) ... يا بِنْتى أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِشَعْرِها فَإِنَّها كانَتْ لا تُغَطّى شَعْرَها مِنَ الرِّجالِ، وَ أَمـَّا الْمُعَلَّقَةُ بِلِسانِها فَإِنَّها كانَتْ تُؤْذى زَوْجَها،... وَ أَمَّا الَّتى كانَ رَأْسُها رَأْسَ خِنْزير، وَ بَدَنُها بَدَنَ الْحِمارِ فَإِنَّها كانَتْ نَمّامَةً كَذّابَةً.
وَ أَمَّا الَّتى كانَتْ عَلى صُورَةِ الكَلْبِ فَإِنَّها كانَتْ قينَةً نَوّاحَةً حاسِدَةً.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) (درباره مشاهدات خود از عذاب دوزخيان در شب معراج) فرمود: دخترم! امّا زنى كه به مويش آويخته شده بود ، كسى بود كه مويش را از مردان نمىپوشانيد، و آن كه به زبانش آويزان بود، زنى بود كه شوهرش را آزار مىداد... و آن كه سرش سرِ خوك و بدنش بدنِ الاغ بود، زنى بود كه سخنچين و دروغگو بود، و آن كه صورتش به شكل سگ بود، زنى بود كه آواز مىخواند و نوحه سرايى مىكرد و حسد مىورزيد.
16- شرايط روزه دار
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: ما يَصْنَعُ الصّائِمُ بِصِيام إِذا لَمْ يَصُنْ لِسانَهُ وَ سَمْعَهُ وَ بَصَرَهُ وَ جَوارِحَهُ.
روزه دار چون زبانش و گوشش و چشمش و اعضايش را [از حرام ]نگه ندارد، روزه دار نيست.
17- داناترين و نخستين مسلمان
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): زَوْجُكِ أَعْلَمُ النّاسِ عِلْمًا، وَ أَوَّلُهُمْ سِلْمًا، وَ أَفْضَلُهُمْ حِلْمًا.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به من فرمودند: شوهر تو در دانش، داناترين مردم و نخستين مرد مسلمان و در بردبارى، برترين مردم است.
18- كمك به ذرارى پيامبر
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّه(صلى الله عليه وآله وسلم): أَيُّما رَجُل صَنَعَ إِلى رَجُل مِنْ وُلْدى صَنيعَةً فَلَمْ يُكافِئْهُ عَلَيْها، فَأَنَا الْمُكافِئُ لَهُ عَلَيْها.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: هر كسى براى فردى از فرزندان من كارى انجام دهد و بر آن كار پاداشى نگيرد، من پاداش دهنده او خواهم بود.
19- على و شيعيان
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: إِنَّ أَبى(صلى الله عليه وآله وسلم) نَظَرَ إِلى عَلِىٍّ(عليه السلام) وَ قالَ: هذا وَ شيعَتُهُ فِى الْجَنَّةِ.
پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به على(عليه السلام) نگريست و فرمود: اين شخص و پيروانش در بهشت اند.
20- شيعه على در قيامت
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: إِنَّ رَسُولَاللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) قالَ لِعَلِىٍّ(عليه السلام) : يا أَبَاالْحَسَنِ أَما إِنَّكَ وَ شيعَتُكَ فِى الْجَنَّةِ.
پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به على(عليه السلام) فرمود: اى اباالحسن! آگاه باش كه تو و پيروانت در بهشت هستيد.
21- قرآن و عترت در آخرين سخن پيامبر
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: سَمِعْتُ أَبى رَسُولَ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) فى مَرَضِهِ الَّتى قُبِضَ فيهِ يَقُولُ ـ و قَدِ امْتَلاََتِ الْحُجْرَةُ مِنْ أَصْحابِهِ ـ أَيُّهَا النّاسُ يُوشِكُ أَنْ أُقْبَضَ قَبْضًا يَسيرًا، وَ قَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمُ الْقَوْلَ مَعْذِرَةً إِلَيْكُمْ، أَلا إِنّى مُخَلِّفٌ فيكُم كِتابَ رَبّى عَزَّوَجَلَّ وَ عِتْرَتى أَهْلَ بَيْتى.
ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِىٍّ فقالَ: هذا عَلِىٌّ مَع الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِىٍّ لا يَفْتَرِقانِ حَتّى يَرِدا عَلَىَّ الْحَوْضَ، فَأَسْئَلُكُمْ مَا تَخْلُفُونى فيهِما.
از پدرم رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) در هنگام مرضى كه به سبب آن از دنيا رفت ـ و در حالى كه خانه، مملوّ از اصحاب بود ـ شنيدم كه فرمود:اى مردم! نزديك است كه به آسانى از ميان شما رخت بربندم، و به تحقيق سخنى كه عذر را بر شما تمام كند پيش فرستادم.
بدانيد كه من در ميان شما، كتاب پروردگارم و عترتم، اهل بيتم را بر جاى مىگذارم.
آن گاه دست على را گرفت و فرمود : اين على با قرآن است و قرآن با على است، از هم جدا نمىشوند تا هر دو در كنار حوض كوثر بر من وارد شوند.
من در قيامت از شما از آنچه درباره اين دو پس از من انجام دهيد، خواهم پرسيد.
22- شستن دستها
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)، لا يَلُومَنَّ إِلاّ نَفْسَهُ مَنْ باتَ وَ فى يَدِهِ غَمَرٌ.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: سرزنش نكند جز خود را، كسى كه شب كند، در حالى كه دستش چرب و بدبو باشد.
23- نتيجه گشاده رويى
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: أَلْبِشْرُ فى وَجْهِ الْمُؤْمِنِ يُوجِبُ لِصاحِبِهِ الْجَنَّةَ.
گشاده رويى در چهره مؤمن براى صاحبش، بهشت را سبب مىشود.
24- رنج خانه دارى
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: يا رَسُولَ اللّهِ لَقَدْ مَجَلَتْ يَداىَ مِنَ الرَّحى، أَطْحَنُ مَرَّةً، وَ أَعْجَنُ مَرَّةً.
اى رسول خدا! دو دستم از سنگ آسيا پينه بسته، يك بار آرد مىكنم و يك بار خمير مىسازم.
25- زيان بخل
« عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لي رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِيّاكِ وَ الْبُخْلَ، فَإِنَّهُ عاهَةٌ لا تَكُونُ فى كَريم. إِيّاكِ وَ الْبُخْلَ فَإِنَّهُ شَجَرَةٌ فِى النّارِ، وَ أَغْصانُها فِى الدُّنْيا، فَمَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْن مِنْ أَغْصانِها أَدْخَلَهُ النّارَ.»
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: از بخل ورزيدن بپرهيز، زيرا كه بخل آفتى است كه در شخص بزرگوار نيست.
از بخل بپرهيز، زيرا كه آن درختىاست در آتش دوزخ كه شاخه هايش در دنياست، هر كه به شاخه اى از شاخه هايش درآويزد، داخل جهنّمش گردانَد.
26- نتيجه سخاوت
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): وَ عَلَيْكِ بِالسَّخاءِ، فَإِنَّ السَّخاءَ شَجَرَةٌ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، أَغْصانُها مُتَدَلِيَّةٌ إِلَى الاَْرْضِ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْها غُصْنًا قادَهُ ذلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ.»
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) به من گفت: بر تو باد سخاوت ورزيدن، زيرا كه سخاوت درختى از درختان بهشت است كه شاخه هايش به زمين آويخته است، هر كه شاخه اى از آن را بگيرد، او را به سوى بهشت مىكشاند.
27- نتيجه سلام و تحيّت بر رسول خدا و دخترش زهرا
« عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لي أَبى وَ هُوَ ذاحَىٍّ: مَنْ سَلَّمَ عَلَىَّ وَ عَلَيْكِ ثَلاثَةَ أَيّام فَلَهُ الْجَنَّةُ.»
پدرم در زمان حياتش به من فرمود:هر كه بر من و تو تا سه روز تحيّت و سلام بفرستد، بهشت بر او واجب گردد.
28- خنده اسرار آميز
«لَمّا مَرِضَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) دَعَا ابْنَتَهُ فاطِمَةَ فَسارَّها، فَبَكَتْ، ثُمَّ سارَّها فَضَحِكَتْ، فَسَأَلْتُها عَنْ ذلِكَ، فَقالَتْ: أَمّا حَينَ بَكَيْتُ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنى أَنَّهُ مَيِّتٌ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنى أَنّى أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكْتُ.»
هنگامى كه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) مريض شد، دخترش فاطمه را نزد خود خواند و در گوش او سخن گفت.
فاطمه(عليها السلام) گريه كرد، مجدّداً رسول خدا با او نجوا كرد، فاطمه(عليها السلام) خنديد.
عايشه گويد: در اين باره از حضرت زهرا(عليها السلام) پرسيدم، فرمود: چون پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) مرگش را به من خبر داد، گريستم، پس از گريه ام به من خبر داد كه نخستين كسى كه او را ملاقات كند من هستم، در نتيجه خنديدم.
29- پيامبر، پدر فرزندان زهرا
«عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ النَّبِىُّ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِنَّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِّيَّةَ كُلِّ بَنى أُمٍّ عَصَبَةً يَنْتَمُونَ إِلَيْها إِلاّ وُلْدَ فاطِمَةَ(عليها السلام)فَأَنـَا وَليُّهُمْ وَ أَنـَا عَصَبَتُهُمْ.»
فاطمه(عليها السلام) از پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) نقل كرده كه فرمود:همانا خداوند عَزَّ وَ جَلَّ ذرّيّه هر يك از فرزندان مادرى را سبب ارتباط و خويشاوندى قرار داده كه به وسيله آن ذرّيّه به او منسوب مىشوند، مگر فرزندان فاطمه(عليها السلام)كه من سرپرست و خويشاوند آنها هستم [و به من منسوب مىشوند].
30- خوشبخت واقعى
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): هذا جَبْرَئيلُ(عليه السلام)يُخْبِرُنى: إِنَّ السَّعيدَ، كُلَّ السَّعيدِ، حَقَّ السَّعيدِ، مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فى حَياتى وَ بَعْدَ وَفاتى.»
فاطمه(عليها السلام) از پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) نقل كرده كه فرمود: اين جبرئيل(عليه السلام)است كه مرا خبر مىدهد: همانا خوشبخت، تمام خوشبخت و خوشبخت واقعى، كسى است كه على را، در زندگىام و پس از مرگم، دوست داشته باشد.
31- پيامبر در جمع اهل بيت
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: دَخَلْتُ عَلى رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) فَبَسَطَ ثَوْبًا وَ قالَ لي: إِجْلِسي عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْحَسَنُ فَقالَ لَهُ: إِجْلِسْ مَعَها، ثُمَّ دَخَلَ الحُسَيْنُ فَقالَ لَهُ: إِجْلِسْ مَعَهُما، ثُمَّ دَخَلَ عَلِىٌّ(عليه السلام) فَقالَ لَهُ: إِجْلِسْ مَعَهُمْ، ثُمَّ أَخَذَ بِمَجامِعِ الثَّوْبِ فَضَمَّهُ عَلَيْنا ثُمَّ قالَ: أَلّلهُمَّ هُمْ مِنّى وَ أَنَا مِنْهُمْ أَلّلهُمَّ ارْضِ عَنْهُمْ كَما أَنّى عَنْهُمْ راض.»
بر رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) وارد شدم، جامه اى را گستراند و فرمود: بنشين، در اين وقت حسن(عليه السلام) آمد، فرمود: نزد مادرت بنشين، بعداً حسين(عليه السلام)آمد. فرمود: با اينها بنشين. پس على(عليه السلام)آمد. فرمود: تو نيز با اينان بنشين، آن گاه اطراف جامه را گرفت و روى ما انداخت. فرمود: خدايا! اينها از من اند و من از اينهايم، خدايا! از اينان راضى باش، همان طور كه من از اينها راضىام.
32- دعاى پيامبر در وقت ورود و خروج از مسجد
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: كانَ النَّبِىُّ إِذا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَقُول: «بِسْمِ اللّهِ، أَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ اغْفِرْ ذُنُوبى وَ افْتَحْ لى أَبْوابَ رَحْمَتِكَ».
وَ إِذا خـَرَجَ يَقـُولُ: «بِسْـم اللّـهِ، أَللّهُمَّ صَـلِّ عَلى مُحَمَّد وَاغْفِرْ ذُنُوبى وَ افْتَحْ لى أَبْوابَ فَضْلِكَ».
فاطمه(عليها السلام) فرموده است: پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) چون داخل مسجد مىشد مىفرمود: «به نام خدا، خدايا بر محمّد درود فرست و گناهانم را بيامرز و درهاى رحمتت را برايم باز كن!» و چون خارج مىشد مىفرمود: «به نام خدا، خدايا بر محمّد درود بفرست و گناهانم را بيامرز و درهاى بخششت را برايم باز كن!»
33- سحر خيزى
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: مَرَّ بى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) وَ أَنـَا مُضْطَجَعَةٌ مُتَصَبَّحَةٌ فَحَرَّكَنى بِرِجْلِهِ وَ قالَ يا بُنَيَّةُ قُومى فَاشْهَدى رِزْقَ رَبِّكِ وَ لا تَكُونى مِنَ الْغافِلينَ، فَإِنَّ اللّهَ يُقَسِّمُ أَرْزاقَ النّاسِ ما بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلى طُلُوعِ الشَّمْسِ.»
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) بر من گذشت، در حالى كه در خواب صبحگاهى بودم، مرا با پايش تكان داد و فرمود: دخترم! برخيز شاهد رزق و روزى پروردگارت باش و از غافلان مباش، زيرا كه خداوند روزى هاى مردم را بين طلوع فجر تا طلوع آفتاب تقسيم مىكند.
34- مريض در پناه خدا
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ النَّبِىُّ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِذا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْحَى اللّهُ إِلى مَلائِكَتِهِ أَنِ ارْفَعُوا عَنْ عَبْدِىَ الْقَلَمَ مادامَ فى وَثاقى، فَإِنّى أَنـَا حَبَسْتُهُ حَتّى أَقْبَضَهُ أَوْ أُخَلِّىَ سَبيلَهُ. كانَ أَبى يَقُولُ: أَوْحَى اللّهُ إِلى مَلائِكَتِهِ أُكْتُبُوا لِعَبْدى أَجْرَ ما كانَ يَعْمَلُ فى صِحَّتِهِ.»
فاطمه(عليها السلام) فرموده است: پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: چون بنده خدا بيمار گردد، خداوند به فرشتگانش وحى مىكند: قلم تكليف را از بنده ام ـ تا وقتى كه در عهد و پيمان من است ـ برداريد، زيرا خودم او را بازداشت نموده تا جانش را بگيرم يا آزادش گذارم. پدرم مىفرمود: خداوند به فرشتگانش وحى فرستاد كه براى بنده بيمارم پاداش كارهايى را كه در وقت سلامتش انجام مىداد، بنويسيد.
35- نرمخويى در مقابل ديگران و احترام به زنان
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ (صلى الله عليه وآله وسلم): خِيارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَناكِبَهُ وَ أَكْرَمُهُمْ لِنِسائِهِمْ.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرموده است: بهترين شما نرمخوترين شما به اطرافيان و بزرگوارترين شما به زنان است.
36- پاداش آزادى بردگان
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كانَ لَهُ بِكُلِّ عُضْو مِنْها فَكاكُ عُضْو مِنَ النّارِ.»
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود :هر كه بنده مؤمنى را آزاد كند، به اِزاى هر عضوى از آن بنده، عضوى از او از آتش جهنّم آزاد گردد.
37- زمان استجابت دعا
«عَنْ أَبيها رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) قالَتْ: قالَ: إِنَّ فِى الْجُمُعَةِ لَساعَةً لا يُوافِقُها عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللّهَ تَعالى فيها خَيْرًا إِلاّ أَعْطاهُ إِيّاهُ، إِذا تَدَلّى نِصْفُ الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ.»
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود : در روز جمعه ساعتى است كه بنده مسلمان در آن وقت چيزى از خدا نخواهد مگر آن كه خداوند به او عطا گرداند، و آن وقتى است كه نيمه خورشيد به سوى مغرب نزديك گردد.
38- سستى در نماز
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: سَأَلْتُ أَبى رَسُولَ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) لِمَنْ تَهاوَنَ بِصَلاتِهِ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ.
قال(صلى الله عليه وآله وسلم): مَنْ تَهاوَنَ بِصَلاتِهِ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ إِبْتَلاهُ اللّهُ بِخَمْسَ عَشَرَةَ خَصْلَةً:يَرْفَعُ اللّهُ الْبَرَكَةَ مِنْ عُمْرِهِ، وَ يَرْفَعُ اللّهُ الْبَرَكَةَ مِنْ رِزْقِهِ، وَ يَمْحُوا اللّهُ عَزَّوَجَلَّ سيماءَ الصّالِحينَ مِنْ وَجْهِهِ، وَكُلُّ عَمَل يَعْمَلُهُ لا يُوجَرُ عَلَيْهِ، وَ لا يَرْتَفِعُ دُعاؤُهُ إِلىَ السَّماءِ، وَ لَيْسَ لَهُ حَظٌّ فى دُعاءِ الصّالِحينَ، وَ أَنّهُ يَمُوتُ ذَليلاً، وَ يَمُوتُ جائِعًا، وَ يَمُوتُ عَطْشانًا، فَلَوْ سُقِىَ مِنْ أَنْهارِ الدُّنْيا لَمْ يُرْوَ عَطَشُهُ، وَ يُوَكِّلُ اللّهُ مَلَكًا يَزْعَجُهُ فى قَبْرِهِ، وَ يَضيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ وَ تَكُونُ الظُّلْمَةُ فى قَبْرِهِ، وَ يُوَكِّلُ اللّهُ بِهِ مَلَكًا يَسْحَبُهُ عَلى وَجْهِهِ، وَ الْخَلائِقُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَ يُحاسَبُ حِسابًا شَديدًا، وَ لا يَنْظُرُ اللّهُ إِلَيْهِ وَ لا يُزَكّيهِ وَ لَهُ عَذابٌ أَليمٌ.»
از پدرم رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)درباره مردان و زنانى كه در نمازشان سستى و سهل انگارى مىكنند، پرسيدم.
آن حضرت فرمودند: هر زن و مردى كه در امر نماز، سستى و سهل انگارى داشته باشد، خداوند او را به پانزده بلا مبتلا مىگرداند:1ـ خداوند، بركت را از عمرش مىگيرد،2ـ خداوند، بركت را از رزق و روزىاش مىگيرد،3ـ خداوند، سيماى صالحين را از چهره اش محو مىكند،4ـ هر كارى كه بكند بدون پاداش خواهد ماند،5ـ دعايش مستجاب نخواهد شد،6ـ برايش بهره اى از دعاى صالحين نخواهد بود،7ـ ذليل خواهد مُرد،8ـ گرسنه جان خواهد داد،9ـ تشنه كام خواهد مرد، به طورى كه اگر با همه نهرهاى دنيا آبش دهند، تشنگىاش برطرف نخواهد شد،10ـ خداوند، فرشته اى را برمىگزيند تا او را در قبرش ناآرام سازد،11ـ قبرش را تنگ گرداند،12ـ قبرش تاريك باشد،13ـ خداوند فرشته اى را برمىگزيند تا او را به صورتش به زمين كشد، در حالى كه خلايق به او بنگرند،14ـ به سختى مورد محاسبه قرار گيرد،15ـ و خداوند به او ننگرد و او را پاكيزه نگرداند و او را عذابى دردناك باشد.
39- شكست ظالم
« عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّه(صلى الله عليه وآله وسلم): مَا الْتَقى جُنْدانِ ظالِمانِ إِلاّ تَخَلَّى اللّهُ مِنْهُما، فَلَمْ يُبالِ أَيُّهُما غَلَبَ، وَ مَا الْتَقى جُنْدانِ ظالِمانِ إِلاّ كانَتِ الدّائِرَةُ عَلى أَعْتاهُما.»
فاطمه(عليها السلام) فرمود: پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرموده است: دو سپاه ستمگر به هم نرسند، مگر آن كه خداوند آن دو را به حال خود واگذارد، و باكى نداشته باشد كه كدام يك پيروز گردد.
و دو سپاه ستمگر به هم نرسند، مگر آن كه هزيمت و شكست از آنِ سپاه ظالمتر باشد.
40- بخشى از خطبه زهرا(عليها السلام)
قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهراءُ(عليها السلام) فى خُطْبَتِهَا المَعْرُوفَةُ:حضرت زهرا(عليها السلام) در آن سخنرانى معروفش در مسجد فرمود:
ـ جَعَلَ اللّهُ الاِْيمانَ تَطْهيرًا لَكُمْ مِنَ الشِّرْكِ : خداوند ايمان را براى تطهير شما از شرك قرار داد،
ـ وَ الصَّلاةَ تَنْزيهًا لَكُمْ مِنَ الْكِبْرِ: و نماز را براى پاك شدن شما از تكبّر،
ـ وَ الزَّكاةَ تَزْكِيَةً لِلنَّفْسِ وَ نِماءً فِى الرِّزْقِ: و زكات را براى پاك كردن جان و افزونى رزقتان،
ـ وَ الصِّيامَ تَثْبيتًا لِلاِْخْلاصِ : و روزه را براى تثبيت اخلاص،
ـ وَ الْحَجَّ تَشْييدًا لِلدّينِ : و حجّ را براى قوّت بخشيدن دين،
ـ وَ الْعَدْلَ تَنْسيفاً لِلْقُلُوبِ : و عدل را براى پيراستن دلها،
ـ وَ إِطاعَتَنا نِظامًا لِلْمِلَّةِ : و اطاعت ما را براى نظم يافتن ملّت،
ـ وَ إِمامَتَنا أَمانًا لِلْفُرْقَةِ :و امامت ما را براى در امان ماندن از تفرقه،
ـ وَ الْجِهادَ عِزًّا لِلاِْسْلامِ :و جهاد را براى عزّت اسلام،
ـ وَ الصَّبْرَ مَعُونَةً عَلىَ اسْتيجابِ الاَْجْرِ :و صبر را براى كمك در استحقاق مزد،
ـ وَ الاَْمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلَحَةً لِلْعامَّةِ :و امر به معروف را براى مصلحت و منافع همگانى،
ـ وَ بِرَّ الْوالِدَيْنِ وِقايَةً مِنَ السُّخْطِ :و نيكى كردن به پدر و مادر را سپر نگهدارى از خشم،
ـ وَ صِلَةَ الاَْرْحامِ مَنْماةً لِلْعَدَدِ : و صلهارحام را وسيله ازدياد نفرات،
ـ وَ الْقِصاصَ حَقْنًا لِلدِّماءِ : و قصاص را وسيله حفظ خونها،
ـ وَ الْوَفاءَ بِالنَّذْرِ تَعْريضًا لِلْمَغْفِرَةِ : و وفاى به نذر را براى در معرض مغفرت قرار گرفتن،
ـ وَ تَوْفِيَةَ الْمَكاييلِ وَ الْمَوازينِ تَغْييرًا لِلْبَخْسِ : و به اندازه دادن ترازو و پيمانه را براى تغيير خوى كمفروشى،
ـ وَ النَّهْىَ عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ تَنْزيهًا عَنِ الرِّجْسِ : و نهى از شرابخوارى را براى پاكيزگى از پليدى،
ـ وَ اجْتِنابَ الْقَذْفِ حِجابًا عَنِ اللَّعْنَةِ : و دورى از تهمت را براى محفوظ ماندن از لعنت،
ـ وَ تَرْكُ السَّرِقَةِ إِيجابًا لِلْعِفَّةِ : و ترك سرقت را براى الزام به پاكدامنى،
ـ وَ حَرَّمَ الشِّرْكَ إِخْلاصًا لَهُ بِالرُّبُوبِيَّةِ : و شرك را حرام كرد براى اخلاص به پروردگارى او،
ـ فَاتَّقُوا اللّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَ لا تَمُوتُنَّ إِلاّ وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُون بنابراين، از خدا آن گونه كه شايسته است بترسيد و نميريد، مگر آن كه مسلمان باشيد،
ـ وَ أَطيعُوا اللّهَ فيما أَمَرَكُمْ بِهِ وَ نَهاكُمْ عَنْهُ و خدا را در آنچه به آن امر كرده و آنچه از آن بازتان داشته است اطاعت كنيد،
ـ فَإِنَّهُ إِنَّما يَخْشَى اللّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ زيرا كه «از بندگانش، فقط آگاهان، از خدا مىترسند.» (سوره فاطر آيه 28)

تاريخ : پنجشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۸۹ | 19:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
حضرت فاطمه زهرا(عليها السلام)، دختر گرامى پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) و خديجه كبرى، چهارمين دختر پيامبر اسلام(صلى الله عليه وآله وسلم) است.
القاب حضرتش: زهرا، صدّيقه، طاهره، مباركة، زكيّه، راضيه، مرضيّه، محدثَّه و بتول مىباشد.
بيشتر مورّخان شيعه و سنّى، ولادت با سعادت آن حضرت را در بيستم جمادىالثّانى سال پنجم بعثت در مكّه مكرّمه مىدانند.
برخى سال سوم و برخى سال دوم بعثت را ذكر كرده اند.
يك مورّخ و محدّث سنّى، ولادت آن بانو را در سال اوّل بعثت دانسته است.
بديهى است روشن ساختن زاد روز يا سالروز درگذشت شخصيّت هاى بزرگ تاريخ هرچند كه از نظر تاريخى و تحقيقى باارزش و قابل بحث است، امّا از نظر تحليل شخصيّت چندان مهم به نظر نمىرسد.
آنچه مهّم و سرنوشت ساز است نقش آنان در سرنوشت انسان و تاريخ مىباشد.
پرورش زهرا(عليها السلام) در كنار پدرش رسول خدا و در خانه نبوّت بود; خانه اى كه محلّ نزول وحى و آيه هاى قرآن است.
آنجا كه نخستين گروه از مسلمانان به يكتايى خدا ايمان آوردند و بر ايمان خويش استوار ماندند.
آن سالها در سراسر عربستان و همه جهان، اين تنها خانه اى بود كه چنين بانگى از آن برمىخاست: اللّه اكبر.
و زهرا تنها دختر خردسال مكّه بود كه چنين جنب و جوشى را در كنار خود مىديد.
او در خانه تنها بود و دوران خردسالى را به تنهايى مىگذراند.
دو خواهرش رقيّه و كلثوم چند سال از او بزرگتر بودند.
شايد راز اين تنهايى هم يكى اين بوده است كه بايد از دوران كودكى همه توجّه وى به رياضت هاى جسمانى و آموزشهاى روحانى معطوف گردد.
حضرت زهرا(عليها السلام) بعد از ازدواج با اميرالمؤمنين على(عليه السلام)، به عنوان بانويى نمونه بر تارك قرون و اعصار درخشيد.
دختر پيامبر همچنان كه در زندگى زناشويى نمونه بود، در اطاعت پروردگار نيز نمونه بود.
هنگامى كه از كارهاى خانه فراغت مىيافت به عبادت مىپرداخت، به نماز، دعا، تضرّع به درگاه خدا و دعا براى ديگران.
امام صادق(عليه السلام) از اجداد خويش از حسن بن على(عليه السلام) روايت كرده است كه : مادرم شبه هاى جمعه را تا بامداد در محراب عبادت مىايستاد و چون دست به دعا برمىداشت مردان و زنان باايمان را دعا مىكرد، امّا درباره خود چيزى نمىگفت.
روزى بدو گفتم: مادر! چرا براى خود نيز مانند ديگران دعاى خير نمىكنى؟ گفت: فرزندم! همسايه مقدّم است.
تسبيح هايى كه به نام تسبيحات فاطمه(عليها السلام) شهرت يافته و در كتابهاى معتبر شيعه و سنّى و ديگر اسناد، روايت شده نزد همه معروف است.
فاطمه(عليها السلام) تا وقتى كه رسول خدا از دنيا نرفته بود، سختى ها و تلخى ها زندگى را با ديدن سيماى تابناك پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) بر خود هموار مىنمود، ملاقات پدر تمام رنجها را از خاطرش مىزدود و به او آرامش و قدرت مىبخشيد.
امّا مرگ پدر، مظلوم شدن شوهر، از دست رفتن حقّ، و بالاتر از همه دگرگونيهايى كه پس از رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) ـ به فاصله اى اندك ـ در سنّت مسلمانى پديد آمد، روح و سپس جسم دختر پيغمبر را سخت آزرده ساخت.
چنان كه تاريخ نشان مىدهد، او پيش از مرگ پدرش بيمارى جسمى نداشته است.
داستان آنان را كه به در خانه او آمدند و مىخواستند خانه را با هر كس كه درون آن است آتش زنند شنيده ايد.
خود اين پيشامد، به تنهايى براى آزردن او بس است، چه رسد كه رويدادهاى ديگر هم بدان افزوده شود.
دختر پيغمبر، نالان در بستر افتاد.
زنان مهاجر و انصار نزد او گرد آمدند.
آن بانوى دو جهان، خطبه اى بليغ در جمع آن زنان بيان فرمود كه با نقل بخشى كوتاه از آن، گوشه اى از دردِ دين و سوز و گداز مكتبى زهرا(عليها السلام) و شِكْوه او از مردم فرصت طلب و غاصبان ولايت را درمىيابيد.
از درد سخن گفتن و از درد شنيدن با مردم بىدرد ندانى كه چه دردى است!«به خدا سوگند، اگر پاى در ميان مىنهادند، و على را بر كارى كه پيغمبر به عهده او نهاد، مىگذاردند، آسان آسان ايشان را به راه راست مىبُرد، و حقّ هر يك را بدو مىسپرد... شگفتا! روزگار چه بوالعجب ها در پس پرده دارد و چه بازيچه ها يكى پس از ديگرى برون مىآرد.
راستى مردان شما چرا چنين كردند؟ و چه عذرى آوردند؟ دوست نمايانى غدّار، در حقّ دوستان ستمكار و سرانجام به كيفر ستمكارى خويش گرفتار.
سر را گذاشته و به دُم چسبيدند! پى عامى رفتند و از عالم نپرسيدند! نفرين بر مردمى نادان كه تبهكارند و تبهكارى خود را نيكوكارى مىپندارند!»سرانجام، دختر پيغمبر، دنيا را به دنيا طلبان گذاشت و به لقاى پروردگارش شتافت.
فاطمه را شبانه دفن كردند و على(عليه السلام) او را به خاك سپرد و رخصت نداد تا ابوبكر بر جنازه او حاضر شود، و او اين گونه مظلوم و شهيد از دنيا رفت.
در تاريخ شهادت آن بانوى بزرگ نيز محدّثان اقوال گوناگونى دارند كه مشهورتر از همه، سيزده جمادى الاولى سال يازده هجرى و ديگرى سوم جمادى الثّانى همان سال است.

دانش اندوزى فاطمه(عليها السلام)

فاطمه(عليها السلام) از همان آغاز، دانش را از سرچشمه وحى فرا گرفت.
آنچه را از اسرار و دانش ها، پدر براى او باز مىگفت، على(عليه السلام) مىنوشت و فاطمه آنها را گرد مىآورد كه كتابى به نام مصحف فاطمه شد.

آموزش ديگران

فاطمه زهرا(عليها السلام) با بيان احكام و معارف اسلام، زنان را به وظايفشان آشنا مىساخت.
فضّه خدمتگزار فاطمه(عليها السلام)، كه از شاگردان و پرورش يافتگان مكتب اوست در مدّت بيست سال جز با آيات قرآن سخنى نگفت و هر گاه قصد بيان مطلبى را داشت با آيه اى متناسب از قرآن، منظور خويش را بيان مىكرد.
فاطمه(عليها السلام) نه تنها از فراگرفتن دانش خسته نمىشد، بلكه در ياد دادن مسائل دين به ديگران از حوصله و پشتكار فراوانى برخوردار بود.
روزى زنى نزد او آمد و گفت: مادرى پير دارم كه در مورد نماز خود اشتباهى كرده و مرا فرستاده تا از شما مسأله اى بپرسم.
زهرا(عليها السلام) سؤال او را پاسخ فرمود.
زن براى بار دوم و سوم آمد و مسأله پرسيد و پاسخ شنيد، اين كار تا ده بار تكرار شد و هر بار آن بانوى بزرگوار، سؤال وى را پاسخ فرمود.
زن از رفت و آمدهاى پى در پى شرمگين شد و گفت: ديگر شما را به زحمت نمىاندازم.
فاطمه(عليها السلام) فرمود: باز هم بيا و سؤالهايت را بپرس، تو هر قدر سؤال كنى من ناراحت نمىشوم، زيرا از پدرم رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)شنيدم كه فرمود: روز قيامت علماى پيرو ما محشور مىشوند و به آنها به اندازه دانششان خلعت هاى گرانبها عطا مىگردد و اندازه پاداش به نسبت ميزان تلاشى است كه براى ارشاد و هدايت بندگان خدا نمودهاند.

عبادت فاطمه(عليها السلام)

حضرت زهرا(عليها السلام) بخشى از شب را به عبادت مشغول مىشد.
آن قدر نمازهاى شب او طولانى مىشد و بر روى پاهايش مىايستاد كه پايش ورم مىكرد.
حسن بصرى متوفّاى 110 هجرى گويد: هيچ كس در ميان امّت از نظر زهد و عبادت و پارسايى از فاطمه(عليها السلام)والاتر نبود.

گردن بند با بركت

روزى پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) در مسجد نشسته بود و اصحاب به دورش حلقه زده بودند.
پير مردى با لباسهاى ژوليده و حالتى رقّت بار از راه رسيد، ضعف و پيرى توان را از او ربوده بود، پيامبر به سويش رفت و جوياى حالش شد.
آن مرد پاسخ داد: اى رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)، فقيرى پريشان حالم، گرسنه ام مرا طعام ده، برهنه هستم مرا بپوشان، بينوايم گرهى از كارم بگشا.
پيامبر فرمود: اكنون چيزى ندارم ولى «راهنماى خير چون انجام دهنده آن است.» سپس او را به منزل فاطمه(عليها السلام) راهنمايى كرد.
پيرمرد فاصله كوتاه مسجد و خانه فاطمه(عليها السلام) را طى كرد و دردش را براى او گفت.
زهرا(عليها السلام) فرمود: ما نيز اكنون در خانه چيزى نداريم، سپس گردن بندى را كه دختر حمزةبن عبدالمطّلب به او هديه كرده بود از گردن باز كرد و به پيرمرد فقير داد و فرمود: اين را بفروش ان شاءالله به خواسته ات برسى.
مرد بينوا گردن بند را گرفت و به مسجد آمد.
پيامبر همچنان در ميان اصحاب نشسته بود.
عرض كرد: اى پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)، فاطمه(عليها السلام) اين گردن بند را به من احسان نمود تا آن را بفروشم و به مصرف نيازمندىام برسانم.
پيامبر گريست.
عمّار ياسر عرض كرد: يا رسول الله! آيا اجازه مىدهى من اين گردن بند را بخرم؟ پيامبر فرمود: هر كس خريدارش باشد خدا او را عذاب ننمايد.
عمّار ياسر از اعرابى پرسيد: گردن بند را چند مىفروشى؟ مرد بينوا گفت: به غذايى از نان و گوشت كه سيرم كند، لباسى كه تنم را بپوشاند و يك دينار خرجى راه كه مرا به خانه ام برساند.
عمّار پاسخ داد: من اين گردن بند را به بيست دينار طلا و غذا و لباسى و مركبى از تو خريدم.
عمّار مرد را به خانه برد و او را سير كرد، لباسى را به او پوشاند، او را بر مركبى سوار كرد و بيست دينار طلا هم به او داد، آن گاه گردن بند را با مُشك خوشبو ساخت و در پارچه اى پيچيد و به غلام خود گفت: اين را به رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)تقديم كن، خودت را هم به او بخشيدم.
پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) نيز غلام و گردن بند را به فاطمه بخشيد.
غلام نزد فاطمه آمد.
آن حضرت گردن بند را گرفت و به غلام فرمود: من تو را در راه خدا آزاد كردم.
غلام خنديد.
فاطمه(عليها السلام) راز خنده اش را پرسيد.
پاسخ داد: اى دختر پيامبر! بركت اين گردن بند مرا به خنده آورد كه گرسنه اى را سير كرد، برهنه اى را پوشاند، فقيرى را غنى نمود، پياده اى را سوار نمود، بنده اى را آزاد كرد و عاقبت هم به سوى صاحب خود برگشت.

نقش فاطمه(عليها السلام) در نبردهاى صدر اسلام

در طول 10 سال حكومت پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) در مدينه 27 يا 28 غزوه و 35 تا 90 سريّه در تاريخ ذكر شده است.
غزوه كه جمع آن غزوات است به جنگ هايى گفته مىشود كه شخص پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)، فرماندهى مستقيم آن را به عهده داشت و پا به پاى سربازان اسلام در معركه جنگ حاضر و ناظرِ نبردها و مانورهاى نظامى بود.
سريّه كه جمع آن سرايا است به جنگ هايى گفته مىشود كه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) بى آن كه خود در آن شركت كند، گروهى را به فرماندهى شخصى به جبهه ها و مرزهاى كشور اسلامى، براى نبرد يا دفاع احتمالى، اعزام مىكرد.
گاهى برخى از اين مأموريت هاى رزمى به خاطر فاصله زياد جبهه ها از مدينه، حدود دو يا سه ماه به طول مىانجاميد.
به تحقيق مىتوان گفت على(عليه السلام)در طول زندگى مشتركش با حضرت زهرا(عليها السلام) بيشتر اوقاتش را در ميدانهاى جهاد يا مأموريّت هاى تبليغى گذراند و در غياب او همسر وفادارش فاطمه(عليها السلام)وظيفه اداره خانه و تربيت فرزندان را به عهده داشت و اين كار را به نحوى شايسته انجام مىداد تا همسر رزمنده اش با خاطرى آسوده، وظيفه مقدّس جهاد را به انجام برساند.
در اين مدّت، فاطمه(عليها السلام) به يارى خانواده هاى رزمندگان و شهيدان مىشتافت و با آنها اظهار همدردى مىكرد و گاهى هم، ضمن تشويق زنان امدادگر و آشنا ساختن آنان به وظايف خطيرشان، به مداواى جراحت محارم خويش مىپرداخت.
در جنگ اُحد، فاطمه(عليها السلام) همراه زنان به اُحد (در شش كيلومترى مدينه) رفت.
در اين نبرد، رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به شدّت زخمى شد و على(عليه السلام) نيز جراحاتى برداشت.
فاطمه(عليها السلام)خون را از چهره پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) مىشست و على(صلى الله عليه وآله وسلم) با سپر خود آب مىريخت.
هنگامى كه فاطمه(عليها السلام) مشاهده كرد كه خون بند نمىآيد، قطعه حصيرى را سوزانيد و خاكستر آن را بر زخم پاشيد تا خون بند آمد.
آن روز پيامبر و على، شمشيرهاى خود را به فاطمه دادند تا آنها را بشويد.
در نبرد احد، حمزه سيّدالشهدا، عموى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) به شهادت رسيد.
پس از نبرد، «صفيّه» خواهر حمزه به اتّفاق فاطمه(عليها السلام) كنار پيكر مثله شده قرار گرفت و شروع به گريستن كرد، فاطمه(عليها السلام) نيز مىگريست و پيامبر هم با او گريه مىكرد و خطاب به حمزه مىفرمود: هيچ مصيبتى مثل مصيبت تو به من نرسيده است.
آن گاه خطاب به صفيّه و فاطمه فرمود: مژده باد كه هم اكنون جبرئيل به من خبر داد كه در آسمانهاى هفتگانه، حمزه شير خدا و شير رسول خداست.
پس از نبرد اُحد، فاطمه زهرا(عليها السلام) تا زنده بود، هر دو سه روز يك بار به زيارت شهداى احد مىرفت.
در نبرد خندق، فاطمه زهرا(عليها السلام) نانى را براى رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) برد، پيامبر پرسيد: اين چيست؟ فاطمه(عليها السلام) پاسخ داد: نان پختم، دلم آرام نگرفت تا اين كه برايتان آوردم.
پيامبر فرمود: اين اوّلين غذايى است كه پس از سه روز در دهان مىگذارم.
در نبرد موته، جعفربن ابيطالب به شهادت رسيد و پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) به خانه وى رفت و همسر و فرزندانش را دلدارى داد و از آنجا به خانه فاطمه(عليها السلام)رفت.
فاطمه مىگريست.
پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: بر مثل جعفر بايد گريه كنندگان بگريند.
سپس رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)فرمود: براى خانواده جعفر غذايى تهيّه كنيد، زيرا امروز آنها خود را فراموش كرده اند.
فاطمه زهرا(عليها السلام) در فتح مكّه نيز حضور داشت.
«امّ هانى»، خواهر على(عليه السلام)گويد: در روز فتح مكّه دو نفر از خويشان مشرك شوهرم را پناه دادم و هنوز آنها در خانه ام بودند كه ناگهان برادرم على(عليه السلام)، در حالى كه سواره و زرهپوش بود، پيدا شد و به طرف آن دو تن شمشير كشيد.
ميان او و ايشان ايستادم و گفتم: اگر بخواهى آن دو را بكشى، بايد مرا هم پيش از آنها بكشى! على(عليه السلام) بيرون رفت، در حالى كه چيزى نمانده بود آنها را بكشد.
من خود را به خيمه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) در بطحا رساندم و آن حضرت را پيدا نكردم، ولى فاطمه را ديدم و ماجرا را برايش گفتم.
ديدم فاطمه از همسر خود قاطعتر است.
او با تعجّب گفت: تو هم بايد مشركان را پناه دهى؟ در اين هنگام رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) رسيد و از حضرتش براى آن دو امان طلبيدم.
پيامبر به آنان امان داد، سپس به فاطمه فرمود كه براى او آب فراهم كند تا شستشو نمايد.
هنگامى كه هند، همسر ابوسفيان، و ديگر زنان مشركين براى اعلام پذيرش اسلام و بيعت به حضور پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) رسيدند، فاطمه(عليها السلام)، همسر پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) و گروهى از زنان عبدالمطّلب حضور داشتند.
در ماه رمضان سال دهم هجرى، على(عليه السلام) از سوى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) براى يك مأموريّت مهّم رزمى، تبليغى و به فرماندهى سيصد سواره نظام به يمن، كه در قلمرو حاكميّت پيامبر بود، اعزام شد.
مأموريّت با موفقيّت كامل انجام گرفت و عدّه زيادى نيز به اسلام گرويدند.
على(عليه السلام) طىّ نامه اى گزارش كار خود را از يمن براى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)فرستاد.
پيامبر در پاسخ على(عليه السلام) امر فرمود كه براى انجام مراسم حجّ، به موقع خود را به مكّه رسانَد، و پيك با اين پيام به سوى على(عليه السلام) باز گشت.
پيامبر در ماه ذيقعده آن سال به مردم مدينه و قبايل مجاور اعلام كرد كه قصد دارد حجّ را به جاى آورد و بدين ترتيب، عدّه زيادى براى سفر حجّ مهيّا شدند.
آن حضرت در روز 25 ذيقعده سال دهم هجرى قمرى از مدينه حركت نمود و در ذوالحليفه احرام بست.
همه همسران پيامبر نيز در اين سفر همراه شدند، آنها به هودج ها سوار بودند، فاطمه(عليها السلام) نيز با آنان بود و در اين سفر عبادى، مناسك حجّ را به دستور پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)انجام مىداد.
على(عليه السلام) پس از گذشت سه ماه از مأموريت، در ايّام حجّ به مكّه رسيد و در آنجا همسرش فاطمه زهرا(عليها السلام) را ديد.
پس از مراسم با شكوه حجّةالوداع، رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)، هنگام بازگشت به مدينه در غديرخم، در يك اجتماع صدهزار نفرى، على(عليه السلام) را به فرمان خداوند به امامت و جانشينى خود منصوب نمود.
با توجّه به حضور فاطمه زهرا(عليها السلام) در حجّةالوداع با اطمينان مىتوان گفت كه آن حضرت در مراسم با شكوه غديرخم حضور داشته است.

زهرا و آخرين لحظات زندگانى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)

بيمارى رسول خدا در روزهاى آخر عمرش شدّت يافت.
فاطمه(عليها السلام) در كنار بستر پيامبر، چهره نورانى و ملكوتى پدر را مىنگريست كه از شدّت تب عرق مىريخت.
فاطمه در حالى كه به پدر نگاه مىكرد به گريه افتاد، پيامبر نتوانست ناآرامى دخترش را تحمّل كند، در گوش او سخنى گفت كه فاطمه آرام شد و لبخند زد.
لبخند زهرا(عليها السلام) در آن حال شگفت آور بود.
از او سؤال كردند كه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)چه رازى را به او فرمود؟ پاسخ داد: تا پدرم زنده است رازش را فاش نمىكنم.
پس از رحلت پيامبراكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) راز آشكار شد.
فاطمه گفت: پدرم به من فرمود: تو نخستين كس از اهل بيت من هستى كه به من ملحق مىشوى، و از اين رو شاد شدم.
در ميان سخنان اندكى كه از دختر گرامى رسول خدا در مجامع روايى فريقين نقل شده، چهل حديث را، كه هر يك درسى از فضيلت و فهم دين و حيا و دعوت به توحيد است، برگزيدم، تا دل هاى حقجويان و جويندگان معارف خاندان نبوى و علوى بدان روشنى يابد و با الهام از اين كلمات نورانى، چراغ حكمت و هدايت ولايت شبستان فاطمى را به هنگام تحيّر و ضلالت، در پيش پاى خود برافروخته و فروزان بينند.

تاريخ : پنجشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۸۹ | 19:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

عبادت فاطمه(عليها السلام)

حضرت زهرا(عليها السلام) بخشى از شب را به عبادت مشغول مىشد.
آن قدر نمازهاى شب او طولانى مىشد و بر روى پاهايش مىايستاد كه پايش ورم مىكرد.
حسن بصرى متوفّاى 110 هجرى گويد: هيچ كس در ميان امّت از نظر زهد و عبادت و پارسايى از فاطمه(عليها السلام)والاتر نبود.

گردن بند با بركت

روزى پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) در مسجد نشسته بود و اصحاب به دورش حلقه زده بودند.
پير مردى با لباسهاى ژوليده و حالتى رقّت بار از راه رسيد، ضعف و پيرى توان را از او ربوده بود، پيامبر به سويش رفت و جوياى حالش شد.
آن مرد پاسخ داد: اى رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)، فقيرى پريشان حالم، گرسنه ام مرا طعام ده، برهنه هستم مرا بپوشان، بينوايم گرهى از كارم بگشا.
پيامبر فرمود: اكنون چيزى ندارم ولى «راهنماى خير چون انجام دهنده آن است.» سپس او را به منزل فاطمه(عليها السلام) راهنمايى كرد.
پيرمرد فاصله كوتاه مسجد و خانه فاطمه(عليها السلام) را طى كرد و دردش را براى او گفت.
زهرا(عليها السلام) فرمود: ما نيز اكنون در خانه چيزى نداريم، سپس گردن بندى را كه دختر حمزةبن عبدالمطّلب به او هديه كرده بود از گردن باز كرد و به پيرمرد فقير داد و فرمود: اين را بفروش ان شاءالله به خواسته ات برسى.
مرد بينوا گردن بند را گرفت و به مسجد آمد.
پيامبر همچنان در ميان اصحاب نشسته بود.
عرض كرد: اى پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)، فاطمه(عليها السلام) اين گردن بند را به من احسان نمود تا آن را بفروشم و به مصرف نيازمندىام برسانم.
پيامبر گريست.
عمّار ياسر عرض كرد: يا رسول الله! آيا اجازه مىدهى من اين گردن بند را بخرم؟ پيامبر فرمود: هر كس خريدارش باشد خدا او را عذاب ننمايد.
عمّار ياسر از اعرابى پرسيد: گردن بند را چند مىفروشى؟ مرد بينوا گفت: به غذايى از نان و گوشت كه سيرم كند، لباسى كه تنم را بپوشاند و يك دينار خرجى راه كه مرا به خانه ام برساند.
عمّار پاسخ داد: من اين گردن بند را به بيست دينار طلا و غذا و لباسى و مركبى از تو خريدم.
عمّار مرد را به خانه برد و او را سير كرد، لباسى را به او پوشاند، او را بر مركبى سوار كرد و بيست دينار طلا هم به او داد، آن گاه گردن بند را با مُشك خوشبو ساخت و در پارچه اى پيچيد و به غلام خود گفت: اين را به رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)تقديم كن، خودت را هم به او بخشيدم.
پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) نيز غلام و گردن بند را به فاطمه بخشيد.
غلام نزد فاطمه آمد.
آن حضرت گردن بند را گرفت و به غلام فرمود: من تو را در راه خدا آزاد كردم.
غلام خنديد.
فاطمه(عليها السلام) راز خنده اش را پرسيد.
پاسخ داد: اى دختر پيامبر! بركت اين گردن بند مرا به خنده آورد كه گرسنه اى را سير كرد، برهنه اى را پوشاند، فقيرى را غنى نمود، پياده اى را سوار نمود، بنده اى را آزاد كرد و عاقبت هم به سوى صاحب خود برگشت.

نقش فاطمه(عليها السلام) در نبردهاى صدر اسلام

در طول 10 سال حكومت پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) در مدينه 27 يا 28 غزوه و 35 تا 90 سريّه در تاريخ ذكر شده است.
غزوه كه جمع آن غزوات است به جنگ هايى گفته مىشود كه شخص پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)، فرماندهى مستقيم آن را به عهده داشت و پا به پاى سربازان اسلام در معركه جنگ حاضر و ناظرِ نبردها و مانورهاى نظامى بود.
سريّه كه جمع آن سرايا است به جنگ هايى گفته مىشود كه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) بى آن كه خود در آن شركت كند، گروهى را به فرماندهى شخصى به جبهه ها و مرزهاى كشور اسلامى، براى نبرد يا دفاع احتمالى، اعزام مىكرد.
گاهى برخى از اين مأموريت هاى رزمى به خاطر فاصله زياد جبهه ها از مدينه، حدود دو يا سه ماه به طول مىانجاميد.
به تحقيق مىتوان گفت على(عليه السلام)در طول زندگى مشتركش با حضرت زهرا(عليها السلام) بيشتر اوقاتش را در ميدانهاى جهاد يا مأموريّت هاى تبليغى گذراند و در غياب او همسر وفادارش فاطمه(عليها السلام)وظيفه اداره خانه و تربيت فرزندان را به عهده داشت و اين كار را به نحوى شايسته انجام مىداد تا همسر رزمنده اش با خاطرى آسوده، وظيفه مقدّس جهاد را به انجام برساند.
در اين مدّت، فاطمه(عليها السلام) به يارى خانواده هاى رزمندگان و شهيدان مىشتافت و با آنها اظهار همدردى مىكرد و گاهى هم، ضمن تشويق زنان امدادگر و آشنا ساختن آنان به وظايف خطيرشان، به مداواى جراحت محارم خويش مىپرداخت.
در جنگ اُحد، فاطمه(عليها السلام) همراه زنان به اُحد (در شش كيلومترى مدينه) رفت.
در اين نبرد، رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به شدّت زخمى شد و على(عليه السلام) نيز جراحاتى برداشت.
فاطمه(عليها السلام)خون را از چهره پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) مىشست و على(صلى الله عليه وآله وسلم) با سپر خود آب مىريخت.
هنگامى كه فاطمه(عليها السلام) مشاهده كرد كه خون بند نمىآيد، قطعه حصيرى را سوزانيد و خاكستر آن را بر زخم پاشيد تا خون بند آمد.
آن روز پيامبر و على، شمشيرهاى خود را به فاطمه دادند تا آنها را بشويد.
در نبرد احد، حمزه سيّدالشهدا، عموى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) به شهادت رسيد.
پس از نبرد، «صفيّه» خواهر حمزه به اتّفاق فاطمه(عليها السلام) كنار پيكر مثله شده قرار گرفت و شروع به گريستن كرد، فاطمه(عليها السلام) نيز مىگريست و پيامبر هم با او گريه مىكرد و خطاب به حمزه مىفرمود: هيچ مصيبتى مثل مصيبت تو به من نرسيده است.
آن گاه خطاب به صفيّه و فاطمه فرمود: مژده باد كه هم اكنون جبرئيل به من خبر داد كه در آسمانهاى هفتگانه، حمزه شير خدا و شير رسول خداست.
پس از نبرد اُحد، فاطمه زهرا(عليها السلام) تا زنده بود، هر دو سه روز يك بار به زيارت شهداى احد مىرفت.
در نبرد خندق، فاطمه زهرا(عليها السلام) نانى را براى رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) برد، پيامبر پرسيد: اين چيست؟ فاطمه(عليها السلام) پاسخ داد: نان پختم، دلم آرام نگرفت تا اين كه برايتان آوردم.
پيامبر فرمود: اين اوّلين غذايى است كه پس از سه روز در دهان مىگذارم.
در نبرد موته، جعفربن ابيطالب به شهادت رسيد و پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) به خانه وى رفت و همسر و فرزندانش را دلدارى داد و از آنجا به خانه فاطمه(عليها السلام)رفت.
فاطمه مىگريست.
پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: بر مثل جعفر بايد گريه كنندگان بگريند.
سپس رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)فرمود: براى خانواده جعفر غذايى تهيّه كنيد، زيرا امروز آنها خود را فراموش كرده اند.
فاطمه زهرا(عليها السلام) در فتح مكّه نيز حضور داشت.
«امّ هانى»، خواهر على(عليه السلام)گويد: در روز فتح مكّه دو نفر از خويشان مشرك شوهرم را پناه دادم و هنوز آنها در خانه ام بودند كه ناگهان برادرم على(عليه السلام)، در حالى كه سواره و زرهپوش بود، پيدا شد و به طرف آن دو تن شمشير كشيد.
ميان او و ايشان ايستادم و گفتم: اگر بخواهى آن دو را بكشى، بايد مرا هم پيش از آنها بكشى! على(عليه السلام) بيرون رفت، در حالى كه چيزى نمانده بود آنها را بكشد.
من خود را به خيمه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) در بطحا رساندم و آن حضرت را پيدا نكردم، ولى فاطمه را ديدم و ماجرا را برايش گفتم.
ديدم فاطمه از همسر خود قاطعتر است.
او با تعجّب گفت: تو هم بايد مشركان را پناه دهى؟ در اين هنگام رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) رسيد و از حضرتش براى آن دو امان طلبيدم.
پيامبر به آنان امان داد، سپس به فاطمه فرمود كه براى او آب فراهم كند تا شستشو نمايد.
هنگامى كه هند، همسر ابوسفيان، و ديگر زنان مشركين براى اعلام پذيرش اسلام و بيعت به حضور پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) رسيدند، فاطمه(عليها السلام)، همسر پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) و گروهى از زنان عبدالمطّلب حضور داشتند.
در ماه رمضان سال دهم هجرى، على(عليه السلام) از سوى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) براى يك مأموريّت مهّم رزمى، تبليغى و به فرماندهى سيصد سواره نظام به يمن، كه در قلمرو حاكميّت پيامبر بود، اعزام شد.
مأموريّت با موفقيّت كامل انجام گرفت و عدّه زيادى نيز به اسلام گرويدند.
على(عليه السلام) طىّ نامه اى گزارش كار خود را از يمن براى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)فرستاد.
پيامبر در پاسخ على(عليه السلام) امر فرمود كه براى انجام مراسم حجّ، به موقع خود را به مكّه رسانَد، و پيك با اين پيام به سوى على(عليه السلام) باز گشت.
پيامبر در ماه ذيقعده آن سال به مردم مدينه و قبايل مجاور اعلام كرد كه قصد دارد حجّ را به جاى آورد و بدين ترتيب، عدّه زيادى براى سفر حجّ مهيّا شدند.
آن حضرت در روز 25 ذيقعده سال دهم هجرى قمرى از مدينه حركت نمود و در ذوالحليفه احرام بست.
همه همسران پيامبر نيز در اين سفر همراه شدند، آنها به هودج ها سوار بودند، فاطمه(عليها السلام) نيز با آنان بود و در اين سفر عبادى، مناسك حجّ را به دستور پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)انجام مىداد.
على(عليه السلام) پس از گذشت سه ماه از مأموريت، در ايّام حجّ به مكّه رسيد و در آنجا همسرش فاطمه زهرا(عليها السلام) را ديد.
پس از مراسم با شكوه حجّةالوداع، رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)، هنگام بازگشت به مدينه در غديرخم، در يك اجتماع صدهزار نفرى، على(عليه السلام) را به فرمان خداوند به امامت و جانشينى خود منصوب نمود.
با توجّه به حضور فاطمه زهرا(عليها السلام) در حجّةالوداع با اطمينان مىتوان گفت كه آن حضرت در مراسم با شكوه غديرخم حضور داشته است.

زهرا و آخرين لحظات زندگانى پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)

بيمارى رسول خدا در روزهاى آخر عمرش شدّت يافت.
فاطمه(عليها السلام) در كنار بستر پيامبر، چهره نورانى و ملكوتى پدر را مىنگريست كه از شدّت تب عرق مىريخت.
فاطمه در حالى كه به پدر نگاه مىكرد به گريه افتاد، پيامبر نتوانست ناآرامى دخترش را تحمّل كند، در گوش او سخنى گفت كه فاطمه آرام شد و لبخند زد.
لبخند زهرا(عليها السلام) در آن حال شگفت آور بود.
از او سؤال كردند كه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)چه رازى را به او فرمود؟ پاسخ داد: تا پدرم زنده است رازش را فاش نمىكنم.
پس از رحلت پيامبراكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) راز آشكار شد.
فاطمه گفت: پدرم به من فرمود: تو نخستين كس از اهل بيت من هستى كه به من ملحق مىشوى، و از اين رو شاد شدم.
در ميان سخنان اندكى كه از دختر گرامى رسول خدا در مجامع روايى فريقين نقل شده، چهل حديث را، كه هر يك درسى از فضيلت و فهم دين و حيا و دعوت به توحيد است، برگزيدم، تا دل هاى حقجويان و جويندگان معارف خاندان نبوى و علوى بدان روشنى يابد و با الهام از اين كلمات نورانى، چراغ حكمت و هدايت ولايت شبستان فاطمى را به هنگام تحيّر و ضلالت، در پيش پاى خود برافروخته و فروزان بينند.

چهل حديث

قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهْراءُ(عليها السلام) :

1- موقعيت اهل بيت در نزد خدا
« وَاحْمَدُوا الَّذى لِعَظمَتِهِ وَ نُورِهِ يَبْتَغى مَنْ فِى السَّمواتِ وَ الاَْرْضِ إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ، وَ نَحْنُ وَسيلَتُهُ فى خَلْقِهِ، وَ نَحْنُ خاصَّتُهُ وَ مَحَلُّ قُدْسِهِ، وَ نَحْنُ حُجَّتُهُ فى غَيْبِهِ، وَ نَحْنُ وَرَثَةُ أَنـْبِيائِهِ.»
خدايى را حمد و سپاس گوييد كه به خاطر عظمت و نورش، هر كه در آسمانها و زمين است به سوى او وسيله مىجويد، و ما وسيله او در ميان مخلوقاتش و خاصّان درگاه و جايگاه قدس او و حجّت غيبى و وارث پيامبرانش هستيم.
2- حرمت مست كننده ها
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): يا حَبيبَةَ أَبيها كُلُّ مُسْكِر حَرامٌ، و كُلُّ مُسْكِر خَمْرٌ.
پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به من فرمود:اى دوستِ پدر! هر مست كننده اى حرام است، و هر مست كننده اى خمر است.
3- بهترين زنان كيستند؟
قالَتْ فاطِمَةُ(عليها السلام) فى وَصْفِ ما هُوَ خَيْرٌ لِلنِّساءِ: خَيْرٌ لَهُنَّ أَنْ لايَرينَ الرِّجالَ، وَ لا يَرَوْ نَهُنَّ.
حضرت در وصف اين كه بهترين چيز براى زنان چيست، فرموده اند: اين كه زنان، مردان را نبينند، و مردان هم زنان را نبينند.
4- نتيجه عبادت خالص
عَنْ فاطِمَةَالزَّهْراءِ(عليها السلام) :« مَنْ أَصْعَدَ إِلَىاللّهِ خالِصَ عِبادَتِهِ أَهْبَطَ اللّهُ إِلَيْهِ أَفْضَلَ مَصْلَحَتِهِ.»
هر كه عبادت خالصش را به سوى خدا بالا فرستد، خداوند متعال برترين بهره و سودش را به سوى او پايين فرستد.
5- فاطمه در مقام شكوه از دو خليفه
«قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهْراءُ(عليها السلام) لِلاَْوَّلَيْنِ:أَرَأَيْتُكُما إِنْ حَدَّثْتُكُما عَنْ رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): تَعْرِفانِهِ وَ تَفْعَلانِ بِهِ؟ قالا نَعَمْ. فَقالَتْ: نَشَدْتُكُمَا اللّهُ أَلَمْ تَسْمَعا رَسُولَ اللّهِ يَقُولُ:«رِضا فاطِمَةَ مِنْ رِضاىَ، وَ سَخَطُ فاطِمَةَ مِنْ سَخَطى، فَمَنْ أَحَبَّ فاطِمَةَ إِبْنَتى فَقَدْ أَحَبَّنى، وَ مَنْ أَرْضى فاطِمَةَ فَقَدْ أَرْضانى، وَ مَنْ أَسْخَطَ فاطِمَةَ فَقَدْ أَسْخَطَنى»؟ قالا نَعَمْ، سَمِعْناهُ مِنْ رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)، فَقالَتْ: فَإِنّى أُشْهِدُ اللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ أَنَّكُما أَسْخَطْتُمانى وَ ما أَرْضَيْتُمانى وَ لَئِنْ لَقيتُ النَّبِىَّ لاََشْكُوَنَّكُما إِلَيْهِ.»
حضرت زهرا(عليها السلام) خطاب به خليفه اوّل و دوّم فرمود:آيا اگر حديثى را از پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) نقل كنم به آن عمل خواهيد كرد؟ گفتند: آرى.
فرمودند: شما را به خدا آيا نشنيده ايد كه پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم)فرموده اند:«خشنودى فاطمه خشنودى من، و خشم فاطمه خشم من است، هر كه دخترم فاطمه را دوست بدارد مرا دوست داشته، و هر كه فاطمه را خشنود سازد مرا خشنود ساخته، و هر كه فاطمه را خشمگين نمايد مرا خشمگين نمود هاست»؟ گفتند: آرى، چنين حديثى را از پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) شنيدهايم.
فرمود: من هم خدا و فرشتگان را گواه مىگيرم كه شما دو نفر مرا خشمگين نموديد و خشنودم نساختيد، و چون پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) را ملاقات نمايم حتماً از شما به او شكايت خواهم نمود.
6- بدترين امّت
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)، شِرارُ أُمَّتى الَّذينَ غَذُّوا بِالنَّعِيم، الَّذينَ يَأكُلُونَ أَلْوانَ الطَّعامِ، وَ يَلْبَسُونَ أَلوانَ الثِّيابِ وَ يَتَشَدَّقُونَ فِى الْكَلامِ.
بدترين امّت من كسانى هستند كه: از انواع نعمتها تغذيه مىكنند و خوراكى هاى رنگارنگ مىخورند، و لباسهاى گوناگون مىپوشند، و هر چه بخواهند مىگويند.
7- نزديكترين اوقات زن به خدا
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: سَأَلَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)أَصْحابَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ ماهِىَ؟ قالُوا: عَوْرَةٌ، قالَ: فَمَتى تَكُونُ أَدْنى مِنْ رَبِّها؟ فَلَمْ يَدْرُوا.
فَلَمّا سَمِعَتْ فاطِمَةُ(عليها السلام) ذلِكَ قالَتْ: أَدْنى ما تَكُونُ مِنْ رَبِّها أَنْ تَلْزَمَ قَعْرَ بَيْتِها.
فَقالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِنَّ فاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنّى.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) از اصحابش پرسيد: زن چيست؟ گفتند: زن ناموس است.
فرمود: زن چه موقع به خدايش نزديكتر است؟ اصحاب نتوانستند جواب گويند.
چون اين سخن به گوش فاطمه(عليها السلام)رسيد، فرمود: نزديكترين اوقات زن به خداى خود هنگامى است كه در كُنج خانه خود باشد.
پس از اين جواب، پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم)فرمود: حقّا كه فاطمه پاره تن من است.
8- نتيجه صلوات بر زهرا(عليها السلام)
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) يا فاطِمَةُ مَنْ صَلّى عَلَيْكِ غَفَرَ اللّهُ لَهُ وَ أَلْحَقَهُ بى حَيْثُ كُنْتُ مِنَ الْجَنَّةِ.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به من گفت: اى فاطمه! هر كه بر تو صلوات فرستد، خداوند او را بيامرزد و به من، در هر جاى بهشت باشم، ملحق گرداند.
9- على(عليه السلام)، رهبر و پيشوا
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: إِنَّ النَّبِىَّ(عليها السلام) قالَ:«مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِىٌّ وَلِيُّهُ، وَ مَنْ كُنْتُ إِمامَهُ فَعَلِىٌّ إِمامُهُ».
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود:هر كه من سرپرست اويم، پس على سرپرست اوست و هر كه را من رهبر اويم، پس على رهبر اوست.
10- حجاب فاطمه
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: يا رَسُولَ اللّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ يَرانى فَأَنَا أَراهُ، وَ هُوَ يَشُمُّ الرّيحَ.
فَقالَ النَّبِىُّ(صلى الله عليه وآله): أَشْهَدُ أَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنّى.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله) همراه با مرد نابينايى به خانه فاطمه(عليها السلام) آمد، بلافاصله فاطمه(عليها السلام)خود را كام پوشاند.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله) فرمود: چرا خود را پوشاندى با اين كه او تو را نمىبيند؟ فاطمه(عليها السلام) فرمود: اى پيامبر خدا! اگر او مرا نمىبيند، من كه او را مىبينم و او بوى مرا حس مىكند! پيامبر اكرم فرمود: گواهى مىدهم كه تو پاره دل منى.
11- دستور العملى جامع
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) وَ قَدْ إِفْتَرَشْتُ فِراشى لِلنَّوْمِ، فقالَ: يا فاطِمَةُ لا تَنامى إلاّ وَ قَدْ عَمِلْتِ أَرْبَعَةً:خَتَمْتِ القُرآنَ، وَ جَعَلْتِ الاَْنـْبِياءَ شُفَعائَكِ، وَ أَرْضَيْتِ الْمُؤْمِنينَ عَنْ نَفْسِكِ، وَ حَجَجْتِ وَ اعْتَمَرْتِ، قالَ هذا وَ أَخَذَ فِى الصَّلوةِ، فَصَبَرْتُ حَتّى أَتَمَّ صَلاتَهُ، قُلتُ: يا رَسُولَاللّهِ أَمَرْتَ بِأَرْبَعَة لا أَقْدِرُ عَلَيْها فى هذَا الْحالِ! فَتَبَسَّمَ(صلى الله عليه وآله وسلم) وَ قال:إِذا قَرَأْتِ قُل هُوَ اللّهُ أَحَدٌ ثَلاثَ مَرّات فَكَأنَّكِ خَتَمْتِ القُرْآنَ، وَ إِذا صَلَّيْتِ عَلَىَّ وَ عَلَى الاَْنـْبِياءِ قَبْلى كُنّا شُفَعاءَكِ يَوْمَ الْقِيمَةِ، وَ إِذا اسْتَغْفَرْتِ لِلْمُؤْمِنينَ رَضُوا كُلُّهُمْ عَنْكِ، وَ إِذا قُلْتِ: سُبْحانَ اللّهِ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ وَ لا إِلَهَ إِلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ أَكْبَرُ، فَقَدْ حَجَجْتِ وَ اعْتَمَرْتِ.
در وقتى كه بستر خواب را گسترده بودم، رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) بر من وارد شد، فرمود:اى فاطمه! نخواب مگر آن كه چهار كار را انجام دهى: قرآن را ختم كنى، و پيامبران را شفيعت گردانى، و مؤمنين را از خود راضى كنى، و حجّ و عمره اى را به جا آورى.
اين را فرمود و شروع به خواندن نماز كرد، صبر كردم تا نمازش تمام شد، گفتم: يا رسول اللّه! به چهار چيز مرا امر فرمودى در حالى كه بر آنها قادر نيستم! آن حضرت تبسّمى كرد و فرمود:چون قل هو اللّه را سه بار بخوانى مثل اين است كه قرآن را ختم كردهاى، و چون بر من و پيامبران پيش از من صلوات فرستى، شفاعت كنندگان تو در روز قيامت خواهيم بود، و چون براى مؤمنين استغفار كنى، آنان همه از تو راضى خواهند شد، و چون بگويى: سُبحانَ اللّه وَ الحَمدُ للّه وَ لا اِلهَ اِلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ اكبرُ، حجّ و عمره اى را انجام دادهاى.
12- رضايت شوهر
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): وَيْلٌ لاِمْرَأَة أَغْضَبَتْ زَوْجَها وَ طُوبى لاِمْرَأَة رَضِىَ عَنْها زَوْجُها.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: واى به حال زنى كه شوهرش را خشمگين سازد، و خوشا به حال زنى كه شوهرش از او خشنود باشد.
13- ثواب انگشتر عقيق
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): مَنْ تَخَتَّمَ بِالْعَقيقِ لَمْ يَزَلْ يَرى خَيْرًا.
كسى كه انگشتر عقيق به دست كند، هميشه خير مىبيند.
14- على(عليه السلام)، بهترين داور
قالَتْ فاطِمَةُالزَّهراءُ(عليها السلام) عَنْ أَبيها(صلى الله عليه وآله وسلم) قالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْمَلائِكَةِ تَشاجَرُوا فى شَىْء فَسَأَلُوا حَكَمًا مِنَ الاْدَمِيّينَ، فَأَوْحَى اللّهُ تَعالى إلَيْهِمْ أَنْ تَخَيَّرُوا، فَاخْتارُوا عَلِىَّ بْنَ أَبيطالب.
گروهى از فرشتگان درباره چيزى با يكديگر مشاجره نمودند، حاكم و داورى را از بنىآدم تقاضا كردند، خداوند متعال به آنها وحى فرمود كه خودتان انتخاب كنيد و آنان على ابن ابيطالب(عليه السلام) را برگزيدند.
15- زنان دوزخى
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّه(صلى الله عليه وآله وسلم) ... يا بِنْتى أَمَّا الْمُعَلَّقَةُ بِشَعْرِها فَإِنَّها كانَتْ لا تُغَطّى شَعْرَها مِنَ الرِّجالِ، وَ أَمـَّا الْمُعَلَّقَةُ بِلِسانِها فَإِنَّها كانَتْ تُؤْذى زَوْجَها،... وَ أَمَّا الَّتى كانَ رَأْسُها رَأْسَ خِنْزير، وَ بَدَنُها بَدَنَ الْحِمارِ فَإِنَّها كانَتْ نَمّامَةً كَذّابَةً.
وَ أَمَّا الَّتى كانَتْ عَلى صُورَةِ الكَلْبِ فَإِنَّها كانَتْ قينَةً نَوّاحَةً حاسِدَةً.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) (درباره مشاهدات خود از عذاب دوزخيان در شب معراج) فرمود: دخترم! امّا زنى كه به مويش آويخته شده بود ، كسى بود كه مويش را از مردان نمىپوشانيد، و آن كه به زبانش آويزان بود، زنى بود كه شوهرش را آزار مىداد... و آن كه سرش سرِ خوك و بدنش بدنِ الاغ بود، زنى بود كه سخنچين و دروغگو بود، و آن كه صورتش به شكل سگ بود، زنى بود كه آواز مىخواند و نوحه سرايى مىكرد و حسد مىورزيد.
16- شرايط روزه دار
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: ما يَصْنَعُ الصّائِمُ بِصِيام إِذا لَمْ يَصُنْ لِسانَهُ وَ سَمْعَهُ وَ بَصَرَهُ وَ جَوارِحَهُ.
روزه دار چون زبانش و گوشش و چشمش و اعضايش را [از حرام ]نگه ندارد، روزه دار نيست.
17- داناترين و نخستين مسلمان
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): زَوْجُكِ أَعْلَمُ النّاسِ عِلْمًا، وَ أَوَّلُهُمْ سِلْمًا، وَ أَفْضَلُهُمْ حِلْمًا.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به من فرمودند: شوهر تو در دانش، داناترين مردم و نخستين مرد مسلمان و در بردبارى، برترين مردم است.
18- كمك به ذرارى پيامبر
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّه(صلى الله عليه وآله وسلم): أَيُّما رَجُل صَنَعَ إِلى رَجُل مِنْ وُلْدى صَنيعَةً فَلَمْ يُكافِئْهُ عَلَيْها، فَأَنَا الْمُكافِئُ لَهُ عَلَيْها.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: هر كسى براى فردى از فرزندان من كارى انجام دهد و بر آن كار پاداشى نگيرد، من پاداش دهنده او خواهم بود.
19- على و شيعيان
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: إِنَّ أَبى(صلى الله عليه وآله وسلم) نَظَرَ إِلى عَلِىٍّ(عليه السلام) وَ قالَ: هذا وَ شيعَتُهُ فِى الْجَنَّةِ.
پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به على(عليه السلام) نگريست و فرمود: اين شخص و پيروانش در بهشت اند.
20- شيعه على در قيامت
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: إِنَّ رَسُولَاللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) قالَ لِعَلِىٍّ(عليه السلام) : يا أَبَاالْحَسَنِ أَما إِنَّكَ وَ شيعَتُكَ فِى الْجَنَّةِ.
پيامبر خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) به على(عليه السلام) فرمود: اى اباالحسن! آگاه باش كه تو و پيروانت در بهشت هستيد.
21- قرآن و عترت در آخرين سخن پيامبر
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: سَمِعْتُ أَبى رَسُولَ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) فى مَرَضِهِ الَّتى قُبِضَ فيهِ يَقُولُ ـ و قَدِ امْتَلاََتِ الْحُجْرَةُ مِنْ أَصْحابِهِ ـ أَيُّهَا النّاسُ يُوشِكُ أَنْ أُقْبَضَ قَبْضًا يَسيرًا، وَ قَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمُ الْقَوْلَ مَعْذِرَةً إِلَيْكُمْ، أَلا إِنّى مُخَلِّفٌ فيكُم كِتابَ رَبّى عَزَّوَجَلَّ وَ عِتْرَتى أَهْلَ بَيْتى.
ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِىٍّ فقالَ: هذا عَلِىٌّ مَع الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِىٍّ لا يَفْتَرِقانِ حَتّى يَرِدا عَلَىَّ الْحَوْضَ، فَأَسْئَلُكُمْ مَا تَخْلُفُونى فيهِما.
از پدرم رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) در هنگام مرضى كه به سبب آن از دنيا رفت ـ و در حالى كه خانه، مملوّ از اصحاب بود ـ شنيدم كه فرمود:اى مردم! نزديك است كه به آسانى از ميان شما رخت بربندم، و به تحقيق سخنى كه عذر را بر شما تمام كند پيش فرستادم.
بدانيد كه من در ميان شما، كتاب پروردگارم و عترتم، اهل بيتم را بر جاى مىگذارم.
آن گاه دست على را گرفت و فرمود : اين على با قرآن است و قرآن با على است، از هم جدا نمىشوند تا هر دو در كنار حوض كوثر بر من وارد شوند.
من در قيامت از شما از آنچه درباره اين دو پس از من انجام دهيد، خواهم پرسيد.
22- شستن دستها
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم)، لا يَلُومَنَّ إِلاّ نَفْسَهُ مَنْ باتَ وَ فى يَدِهِ غَمَرٌ.
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: سرزنش نكند جز خود را، كسى كه شب كند، در حالى كه دستش چرب و بدبو باشد.
23- نتيجه گشاده رويى
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: أَلْبِشْرُ فى وَجْهِ الْمُؤْمِنِ يُوجِبُ لِصاحِبِهِ الْجَنَّةَ.
گشاده رويى در چهره مؤمن براى صاحبش، بهشت را سبب مىشود.
24- رنج خانه دارى
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: يا رَسُولَ اللّهِ لَقَدْ مَجَلَتْ يَداىَ مِنَ الرَّحى، أَطْحَنُ مَرَّةً، وَ أَعْجَنُ مَرَّةً.
اى رسول خدا! دو دستم از سنگ آسيا پينه بسته، يك بار آرد مىكنم و يك بار خمير مىسازم.
25- زيان بخل
« عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لي رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِيّاكِ وَ الْبُخْلَ، فَإِنَّهُ عاهَةٌ لا تَكُونُ فى كَريم. إِيّاكِ وَ الْبُخْلَ فَإِنَّهُ شَجَرَةٌ فِى النّارِ، وَ أَغْصانُها فِى الدُّنْيا، فَمَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْن مِنْ أَغْصانِها أَدْخَلَهُ النّارَ.»
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: از بخل ورزيدن بپرهيز، زيرا كه بخل آفتى است كه در شخص بزرگوار نيست.
از بخل بپرهيز، زيرا كه آن درختىاست در آتش دوزخ كه شاخه هايش در دنياست، هر كه به شاخه اى از شاخه هايش درآويزد، داخل جهنّمش گردانَد.
26- نتيجه سخاوت
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): وَ عَلَيْكِ بِالسَّخاءِ، فَإِنَّ السَّخاءَ شَجَرَةٌ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، أَغْصانُها مُتَدَلِيَّةٌ إِلَى الاَْرْضِ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْها غُصْنًا قادَهُ ذلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ.»
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) به من گفت: بر تو باد سخاوت ورزيدن، زيرا كه سخاوت درختى از درختان بهشت است كه شاخه هايش به زمين آويخته است، هر كه شاخه اى از آن را بگيرد، او را به سوى بهشت مىكشاند.
27- نتيجه سلام و تحيّت بر رسول خدا و دخترش زهرا
« عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ لي أَبى وَ هُوَ ذاحَىٍّ: مَنْ سَلَّمَ عَلَىَّ وَ عَلَيْكِ ثَلاثَةَ أَيّام فَلَهُ الْجَنَّةُ.»
پدرم در زمان حياتش به من فرمود:هر كه بر من و تو تا سه روز تحيّت و سلام بفرستد، بهشت بر او واجب گردد.
28- خنده اسرار آميز
«لَمّا مَرِضَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) دَعَا ابْنَتَهُ فاطِمَةَ فَسارَّها، فَبَكَتْ، ثُمَّ سارَّها فَضَحِكَتْ، فَسَأَلْتُها عَنْ ذلِكَ، فَقالَتْ: أَمّا حَينَ بَكَيْتُ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنى أَنَّهُ مَيِّتٌ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنى أَنّى أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكْتُ.»
هنگامى كه رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) مريض شد، دخترش فاطمه را نزد خود خواند و در گوش او سخن گفت.
فاطمه(عليها السلام) گريه كرد، مجدّداً رسول خدا با او نجوا كرد، فاطمه(عليها السلام) خنديد.
عايشه گويد: در اين باره از حضرت زهرا(عليها السلام) پرسيدم، فرمود: چون پيامبر(صلى الله عليه وآله وسلم) مرگش را به من خبر داد، گريستم، پس از گريه ام به من خبر داد كه نخستين كسى كه او را ملاقات كند من هستم، در نتيجه خنديدم.
29- پيامبر، پدر فرزندان زهرا
«عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ(عليها السلام) قالَتْ: قالَ النَّبِىُّ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِنَّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِّيَّةَ كُلِّ بَنى أُمٍّ عَصَبَةً يَنْتَمُونَ إِلَيْها إِلاّ وُلْدَ فاطِمَةَ(عليها السلام)فَأَنـَا وَليُّهُمْ وَ أَنـَا عَصَبَتُهُمْ.»
فاطمه(عليها السلام) از پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) نقل كرده كه فرمود:همانا خداوند عَزَّ وَ جَلَّ ذرّيّه هر يك از فرزندان مادرى را سبب ارتباط و خويشاوندى قرار داده كه به وسيله آن ذرّيّه به او منسوب مىشوند، مگر فرزندان فاطمه(عليها السلام)كه من سرپرست و خويشاوند آنها هستم [و به من منسوب مىشوند].
30- خوشبخت واقعى
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): هذا جَبْرَئيلُ(عليه السلام)يُخْبِرُنى: إِنَّ السَّعيدَ، كُلَّ السَّعيدِ، حَقَّ السَّعيدِ، مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فى حَياتى وَ بَعْدَ وَفاتى.»
فاطمه(عليها السلام) از پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) نقل كرده كه فرمود: اين جبرئيل(عليه السلام)است كه مرا خبر مىدهد: همانا خوشبخت، تمام خوشبخت و خوشبخت واقعى، كسى است كه على را، در زندگىام و پس از مرگم، دوست داشته باشد.
31- پيامبر در جمع اهل بيت
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: دَخَلْتُ عَلى رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) فَبَسَطَ ثَوْبًا وَ قالَ لي: إِجْلِسي عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْحَسَنُ فَقالَ لَهُ: إِجْلِسْ مَعَها، ثُمَّ دَخَلَ الحُسَيْنُ فَقالَ لَهُ: إِجْلِسْ مَعَهُما، ثُمَّ دَخَلَ عَلِىٌّ(عليه السلام) فَقالَ لَهُ: إِجْلِسْ مَعَهُمْ، ثُمَّ أَخَذَ بِمَجامِعِ الثَّوْبِ فَضَمَّهُ عَلَيْنا ثُمَّ قالَ: أَلّلهُمَّ هُمْ مِنّى وَ أَنَا مِنْهُمْ أَلّلهُمَّ ارْضِ عَنْهُمْ كَما أَنّى عَنْهُمْ راض.»
بر رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) وارد شدم، جامه اى را گستراند و فرمود: بنشين، در اين وقت حسن(عليه السلام) آمد، فرمود: نزد مادرت بنشين، بعداً حسين(عليه السلام)آمد. فرمود: با اينها بنشين. پس على(عليه السلام)آمد. فرمود: تو نيز با اينان بنشين، آن گاه اطراف جامه را گرفت و روى ما انداخت. فرمود: خدايا! اينها از من اند و من از اينهايم، خدايا! از اينان راضى باش، همان طور كه من از اينها راضىام.
32- دعاى پيامبر در وقت ورود و خروج از مسجد
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: كانَ النَّبِىُّ إِذا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَقُول: «بِسْمِ اللّهِ، أَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَ اغْفِرْ ذُنُوبى وَ افْتَحْ لى أَبْوابَ رَحْمَتِكَ».
وَ إِذا خـَرَجَ يَقـُولُ: «بِسْـم اللّـهِ، أَللّهُمَّ صَـلِّ عَلى مُحَمَّد وَاغْفِرْ ذُنُوبى وَ افْتَحْ لى أَبْوابَ فَضْلِكَ».
فاطمه(عليها السلام) فرموده است: پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) چون داخل مسجد مىشد مىفرمود: «به نام خدا، خدايا بر محمّد درود فرست و گناهانم را بيامرز و درهاى رحمتت را برايم باز كن!» و چون خارج مىشد مىفرمود: «به نام خدا، خدايا بر محمّد درود بفرست و گناهانم را بيامرز و درهاى بخششت را برايم باز كن!»
33- سحر خيزى
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: مَرَّ بى رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) وَ أَنـَا مُضْطَجَعَةٌ مُتَصَبَّحَةٌ فَحَرَّكَنى بِرِجْلِهِ وَ قالَ يا بُنَيَّةُ قُومى فَاشْهَدى رِزْقَ رَبِّكِ وَ لا تَكُونى مِنَ الْغافِلينَ، فَإِنَّ اللّهَ يُقَسِّمُ أَرْزاقَ النّاسِ ما بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلى طُلُوعِ الشَّمْسِ.»
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) بر من گذشت، در حالى كه در خواب صبحگاهى بودم، مرا با پايش تكان داد و فرمود: دخترم! برخيز شاهد رزق و روزى پروردگارت باش و از غافلان مباش، زيرا كه خداوند روزى هاى مردم را بين طلوع فجر تا طلوع آفتاب تقسيم مىكند.
34- مريض در پناه خدا
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ النَّبِىُّ(صلى الله عليه وآله وسلم): إِذا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْحَى اللّهُ إِلى مَلائِكَتِهِ أَنِ ارْفَعُوا عَنْ عَبْدِىَ الْقَلَمَ مادامَ فى وَثاقى، فَإِنّى أَنـَا حَبَسْتُهُ حَتّى أَقْبَضَهُ أَوْ أُخَلِّىَ سَبيلَهُ. كانَ أَبى يَقُولُ: أَوْحَى اللّهُ إِلى مَلائِكَتِهِ أُكْتُبُوا لِعَبْدى أَجْرَ ما كانَ يَعْمَلُ فى صِحَّتِهِ.»
فاطمه(عليها السلام) فرموده است: پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود: چون بنده خدا بيمار گردد، خداوند به فرشتگانش وحى مىكند: قلم تكليف را از بنده ام ـ تا وقتى كه در عهد و پيمان من است ـ برداريد، زيرا خودم او را بازداشت نموده تا جانش را بگيرم يا آزادش گذارم. پدرم مىفرمود: خداوند به فرشتگانش وحى فرستاد كه براى بنده بيمارم پاداش كارهايى را كه در وقت سلامتش انجام مىداد، بنويسيد.
35- نرمخويى در مقابل ديگران و احترام به زنان
عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ (صلى الله عليه وآله وسلم): خِيارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَناكِبَهُ وَ أَكْرَمُهُمْ لِنِسائِهِمْ.
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرموده است: بهترين شما نرمخوترين شما به اطرافيان و بزرگوارترين شما به زنان است.
36- پاداش آزادى بردگان
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم): مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كانَ لَهُ بِكُلِّ عُضْو مِنْها فَكاكُ عُضْو مِنَ النّارِ.»
پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود :هر كه بنده مؤمنى را آزاد كند، به اِزاى هر عضوى از آن بنده، عضوى از او از آتش جهنّم آزاد گردد.
37- زمان استجابت دعا
«عَنْ أَبيها رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) قالَتْ: قالَ: إِنَّ فِى الْجُمُعَةِ لَساعَةً لا يُوافِقُها عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللّهَ تَعالى فيها خَيْرًا إِلاّ أَعْطاهُ إِيّاهُ، إِذا تَدَلّى نِصْفُ الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ.»
رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم) فرمود : در روز جمعه ساعتى است كه بنده مسلمان در آن وقت چيزى از خدا نخواهد مگر آن كه خداوند به او عطا گرداند، و آن وقتى است كه نيمه خورشيد به سوى مغرب نزديك گردد.
38- سستى در نماز
«عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: سَأَلْتُ أَبى رَسُولَ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) لِمَنْ تَهاوَنَ بِصَلاتِهِ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ.
قال(صلى الله عليه وآله وسلم): مَنْ تَهاوَنَ بِصَلاتِهِ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ إِبْتَلاهُ اللّهُ بِخَمْسَ عَشَرَةَ خَصْلَةً:يَرْفَعُ اللّهُ الْبَرَكَةَ مِنْ عُمْرِهِ، وَ يَرْفَعُ اللّهُ الْبَرَكَةَ مِنْ رِزْقِهِ، وَ يَمْحُوا اللّهُ عَزَّوَجَلَّ سيماءَ الصّالِحينَ مِنْ وَجْهِهِ، وَكُلُّ عَمَل يَعْمَلُهُ لا يُوجَرُ عَلَيْهِ، وَ لا يَرْتَفِعُ دُعاؤُهُ إِلىَ السَّماءِ، وَ لَيْسَ لَهُ حَظٌّ فى دُعاءِ الصّالِحينَ، وَ أَنّهُ يَمُوتُ ذَليلاً، وَ يَمُوتُ جائِعًا، وَ يَمُوتُ عَطْشانًا، فَلَوْ سُقِىَ مِنْ أَنْهارِ الدُّنْيا لَمْ يُرْوَ عَطَشُهُ، وَ يُوَكِّلُ اللّهُ مَلَكًا يَزْعَجُهُ فى قَبْرِهِ، وَ يَضيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ وَ تَكُونُ الظُّلْمَةُ فى قَبْرِهِ، وَ يُوَكِّلُ اللّهُ بِهِ مَلَكًا يَسْحَبُهُ عَلى وَجْهِهِ، وَ الْخَلائِقُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَ يُحاسَبُ حِسابًا شَديدًا، وَ لا يَنْظُرُ اللّهُ إِلَيْهِ وَ لا يُزَكّيهِ وَ لَهُ عَذابٌ أَليمٌ.»
از پدرم رسول خدا(صلى الله عليه وآله وسلم)درباره مردان و زنانى كه در نمازشان سستى و سهل انگارى مىكنند، پرسيدم.
آن حضرت فرمودند: هر زن و مردى كه در امر نماز، سستى و سهل انگارى داشته باشد، خداوند او را به پانزده بلا مبتلا مىگرداند:1ـ خداوند، بركت را از عمرش مىگيرد،2ـ خداوند، بركت را از رزق و روزىاش مىگيرد،3ـ خداوند، سيماى صالحين را از چهره اش محو مىكند،4ـ هر كارى كه بكند بدون پاداش خواهد ماند،5ـ دعايش مستجاب نخواهد شد،6ـ برايش بهره اى از دعاى صالحين نخواهد بود،7ـ ذليل خواهد مُرد،8ـ گرسنه جان خواهد داد،9ـ تشنه كام خواهد مرد، به طورى كه اگر با همه نهرهاى دنيا آبش دهند، تشنگىاش برطرف نخواهد شد،10ـ خداوند، فرشته اى را برمىگزيند تا او را در قبرش ناآرام سازد،11ـ قبرش را تنگ گرداند،12ـ قبرش تاريك باشد،13ـ خداوند فرشته اى را برمىگزيند تا او را به صورتش به زمين كشد، در حالى كه خلايق به او بنگرند،14ـ به سختى مورد محاسبه قرار گيرد،15ـ و خداوند به او ننگرد و او را پاكيزه نگرداند و او را عذابى دردناك باشد.
39- شكست ظالم
« عَنْها(عليها السلام) قالَتْ: قالَ رَسُولُ اللّه(صلى الله عليه وآله وسلم): مَا الْتَقى جُنْدانِ ظالِمانِ إِلاّ تَخَلَّى اللّهُ مِنْهُما، فَلَمْ يُبالِ أَيُّهُما غَلَبَ، وَ مَا الْتَقى جُنْدانِ ظالِمانِ إِلاّ كانَتِ الدّائِرَةُ عَلى أَعْتاهُما.»
فاطمه(عليها السلام) فرمود: پيامبر اكرم(صلى الله عليه وآله وسلم) فرموده است: دو سپاه ستمگر به هم نرسند، مگر آن كه خداوند آن دو را به حال خود واگذارد، و باكى نداشته باشد كه كدام يك پيروز گردد.
و دو سپاه ستمگر به هم نرسند، مگر آن كه هزيمت و شكست از آنِ سپاه ظالمتر باشد.
40- بخشى از خطبه زهرا(عليها السلام)
قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهراءُ(عليها السلام) فى خُطْبَتِهَا المَعْرُوفَةُ:حضرت زهرا(عليها السلام) در آن سخنرانى معروفش در مسجد فرمود:
ـ جَعَلَ اللّهُ الاِْيمانَ تَطْهيرًا لَكُمْ مِنَ الشِّرْكِ : خداوند ايمان را براى تطهير شما از شرك قرار داد،
ـ وَ الصَّلاةَ تَنْزيهًا لَكُمْ مِنَ الْكِبْرِ: و نماز را براى پاك شدن شما از تكبّر،
ـ وَ الزَّكاةَ تَزْكِيَةً لِلنَّفْسِ وَ نِماءً فِى الرِّزْقِ: و زكات را براى پاك كردن جان و افزونى رزقتان،
ـ وَ الصِّيامَ تَثْبيتًا لِلاِْخْلاصِ : و روزه را براى تثبيت اخلاص،
ـ وَ الْحَجَّ تَشْييدًا لِلدّينِ : و حجّ را براى قوّت بخشيدن دين،
ـ وَ الْعَدْلَ تَنْسيفاً لِلْقُلُوبِ : و عدل را براى پيراستن دلها،
ـ وَ إِطاعَتَنا نِظامًا لِلْمِلَّةِ : و اطاعت ما را براى نظم يافتن ملّت،
ـ وَ إِمامَتَنا أَمانًا لِلْفُرْقَةِ :و امامت ما را براى در امان ماندن از تفرقه،
ـ وَ الْجِهادَ عِزًّا لِلاِْسْلامِ :و جهاد را براى عزّت اسلام،
ـ وَ الصَّبْرَ مَعُونَةً عَلىَ اسْتيجابِ الاَْجْرِ :و صبر را براى كمك در استحقاق مزد،
ـ وَ الاَْمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلَحَةً لِلْعامَّةِ :و امر به معروف را براى مصلحت و منافع همگانى،
ـ وَ بِرَّ الْوالِدَيْنِ وِقايَةً مِنَ السُّخْطِ :و نيكى كردن به پدر و مادر را سپر نگهدارى از خشم،
ـ وَ صِلَةَ الاَْرْحامِ مَنْماةً لِلْعَدَدِ : و صلهارحام را وسيله ازدياد نفرات،
ـ وَ الْقِصاصَ حَقْنًا لِلدِّماءِ : و قصاص را وسيله حفظ خونها،
ـ وَ الْوَفاءَ بِالنَّذْرِ تَعْريضًا لِلْمَغْفِرَةِ : و وفاى به نذر را براى در معرض مغفرت قرار گرفتن،
ـ وَ تَوْفِيَةَ الْمَكاييلِ وَ الْمَوازينِ تَغْييرًا لِلْبَخْسِ : و به اندازه دادن ترازو و پيمانه را براى تغيير خوى كمفروشى،
ـ وَ النَّهْىَ عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ تَنْزيهًا عَنِ الرِّجْسِ : و نهى از شرابخوارى را براى پاكيزگى از پليدى،
ـ وَ اجْتِنابَ الْقَذْفِ حِجابًا عَنِ اللَّعْنَةِ : و دورى از تهمت را براى محفوظ ماندن از لعنت،
ـ وَ تَرْكُ السَّرِقَةِ إِيجابًا لِلْعِفَّةِ : و ترك سرقت را براى الزام به پاكدامنى،
ـ وَ حَرَّمَ الشِّرْكَ إِخْلاصًا لَهُ بِالرُّبُوبِيَّةِ : و شرك را حرام كرد براى اخلاص به پروردگارى او،
ـ فَاتَّقُوا اللّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَ لا تَمُوتُنَّ إِلاّ وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُون بنابراين، از خدا آن گونه كه شايسته است بترسيد و نميريد، مگر آن كه مسلمان باشيد،
ـ وَ أَطيعُوا اللّهَ فيما أَمَرَكُمْ بِهِ وَ نَهاكُمْ عَنْهُ و خدا را در آنچه به آن امر كرده و آنچه از آن بازتان داشته است اطاعت كنيد،
ـ فَإِنَّهُ إِنَّما يَخْشَى اللّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ زيرا كه «از بندگانش، فقط آگاهان، از خدا مىترسند.» (سوره فاطر آيه 28)


تاريخ : پنجشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۸۹ | 19:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
لحظاتی هست که در آنها زندگی به ظاهر بی اهمیت و در همان زمان سرشار از  هزارن معنا می نماید.

قلب ماهمه جا هست  در ساحل دور می نشینیم و از آب های ژرف می نوشیم می فهمیم که آب نیز تشنه است و او نیز ما را می نوشدودر آن دم با کیهان یگانه می شویم.

بارها گفته ام:خداوند پشت هزاران پرده نور است

اینک می گویم:با گذر از یکی از این پرده ها جهان پایان می پذیرد و خداوند نزدیک تر می شود.



تاريخ : پنجشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۸۹ | 19:47 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

عشقم تو را به دنیا نمی دهم

دنیا کم است بلکه به محبتی نمی دهم

دهها هزار یوسف اگر بخشدم خدا

تاری زموی یوسف زهرا نمی دهم

گر لحظه ای میسرشود دیدن رخت آقاجان

آن لحظه را به عمر دو دنیا نمی دهم



تاريخ : پنجشنبه بیست و ششم فروردین ۱۳۸۹ | 19:47 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
سأله حجاب در سيره حضرت زهرا (س)

 

حجاب از ديدگاه حضرت زهرا(س):

روزي مرد نابينايي با كسب اجازه به محضر حضرت زهرا(س) آمد. حضرت از او فاصله گرفت و خود را پوشانيد، پيامبر اكرم(ص) كه در آن جا حضور داشت از حضرت زهرا(س) پرسيد: «با اين كه اين مرد نابيناست و تو را نمي‏بيند، چرا خود را پوشاندي»؟ حضرت زهرا(س) در پاسخ فرمود: «اگر او مرا نمي‏بيند، من كه او را مي‏بينم، وانگهي او بو را استشمام مي‏كند». حضرت زهرا(س) فرموده اند: برترين كار براي زنان اين است كه آنها مردان نامحرم را نبينند، و مردان نامحرم آنها را نبينند.
 
نيز روايت شده: روزي جابر بن عبدالله انصاري همراه رسول خدا(ص) به سوي خانه فاطمه(س) رهسپار شدند. وقتي كه به در خانه رسيدند، پيامبر(ص) اجازه ورود طلبيد. فاطمه(س) اجازه داد، پيامبر(ص) فرمود: شخصي همراه من است، آيا اجازه هست با او وارد خانه شويم؟ فاطمه(س) عرض كرد: «اي رسول خدا «قِناع» (يعني مقنعه و روسري) ندارم.» پيامبر(ص) فرمود: اي فاطمه! زيادي لباس بلند روپوش خود را بگير و سرت را با آن بپوشان».
 
 حضرت زهرا(س) در عين آن كه حجاب كامل را رعايت مي‏كرد، حجاب را پرده‏نشيني و انزواي زنان نمي‏دانست، بلكه شواهد بسياري وجود دارد كه آن حضرت حجاب را هرگز دست و پاگير و مانع تلاش‏هاي اجتماعي و سياسي نمي‏دانست. از اين رو، در عرصه‏هاي مختلف اجتماعي و سياسي شركت فعّال داشت، به عنوان نمونه:
چگونگي خطبه خواندن حضرت زهرا(س) در مسجدالنّبي
يكي از امور مهمّي كه در زندگي حضرت زهرا(س) همواره مي‏درخشد، خطبه غرّاي او در مسجدالنّبي پس از رحلت پيامبر(ص) در ازدحام مردم است، كه او با اين خطبه غاصبان و خطاكاران را به محاكمه كشيد و آنان را قاطعانه محكوم كرد، و از حريم ولايت و رهبري اميرمؤمنان علي(ع) به دفاع برخاست.

 

چگونگي حركت حضرت زهرا(س) از خانه‏اش (كه مجاور مسجد بود) به مسجد، در رابطه با مراعات حفظ حريم حجاب به قدري دقيق و ظريف است، كه جدّا سزاوار است همگان در اين مورد با نظر دقيق بنگرند، و نكته‏ها را دريابند، و سپس خطبه غرّاي او را در آن اجتماع و جوّ حاكم مورد بررسي قرار دهند.

 

به راستي كه منظره خطبه خواندن حضرت زهرا(س) تابلو گويا و بسيار روشن درباره حفظ حريم حجاب، و در عين حال شركت كامل در صحنه براي سخنراني و دفاع از حريم حق است و اين همان راه اعتدال است كه اسلام در همه جا به آن سفارش نموده است.

ما در اين جا چگونگي حركت آن حضرت براي القاي خطبه را شرح مي‏دهيم، تا مسأله مهم حجاب را از مكتب زهراي اطهر(س) بياموزيم، و هم باور كنيم كه زن مي‏تواند در عين حفظ حريم حجاب، از پرده‏نشيني خارج گردد، و به عنوان نيمي از جامعه انساني، رسالت خود را به انجام رساند.

 

شرح اين چگونگي، نيز مي‏تواند جواب دندان‏شكني به آن افرادي باشد كه حجاب اسلامي را كمرنگ گرفته، و خطبه خواندن حضرت زهرا(س) در مسجد را به عنوان شاهد عقيده ناصحيح خود مي‏آورند، غافل از آن كه شش دليل و شاهد محكم در مقدّمه خطبه وجود دارد، كه هر كدام نشان دهنده اهميّت حجاب از نظر حضرت زهرا(س) است. اينك شرح مطلب:


عبدالله بن حسن (نوه امام حسن مجتبي عليه السلام) از پدران خود نقل مي‏كند، هنگامي كه مسأله غصب فدك رخ داد، و اين خبر به حضرت زهرا(س) رسيد، در اين هنگام حضرت زهرا(س) تصميم گرفت به مسجد برود و در آن جا به عنوان حمايت از حق، سخنراني كند، چگونگي حركت حضرت زهرا(س) در متن عبارت چنين آمده:


حضرت زهرا(س) روسري خود را بر سرش پيچيد و عباي خود را (كه روپوشي وسيع بود) به سر نمود، و ميان گروهي از ياران و زنان خويشاوندش (به سوي مسجد) حركت كرد، آن حضرت هنگام راه رفتن (بر اثر شتاب يا بلندي لباس) به قسمت پايين لباسش پا مي‏گذاشت (در نهايت پوشيدگي راه مي‏رفت) شيوه راه رفتن او (در متانت و وقار) هم چون شيوه راه رفتن رسول خدا(ص) بود،

تا اين كه بر ابوبكر وارد شد، ابوبكر در ميان ازدحام مسلمانان قرار گرفته بود، در اين هنگام ميان آن حضرت و مردم، پرده‏اي نصب شد، حضرت زهرا(س) نشست، سپس ناله جانسوزي نمود كه بر اثر آن، صداي همه حاضران به گريه بلند شد، به گونه‏اي كه گويي از صداي گريه، مسجد به لرزه درآمد، سپس حضرت زهرا(س) اندكي سكوت كرد، تا مردم آرام شدند، و جوش و خروششان بر اثر گريه، فرونشست، آن گاه خطبه را شروع كرد». (احتجاج طبرسي)
تجزيه و تحليل عبارت فوق
در اين عبارت، در رابطه با حفظ حريم حجاب و عفاف در عين شركت در يك صحنه پرشور سياسي و اجتماعي، شش نكته است كه هر كدام از جهتي بيانگر اهميّت و عظمت مقام حجاب در سيره حضرت زهرا(س) است، كه به اختصار بدان اشاره مي‏شود:
1ـ آن حضرت روسري خود را كه به طور كامل سر و گردن و سينه‏اش را مي‏پوشانيد، بر سر گرفت، تعبير واژه (پيچيد) حاكي است كه روسري به طور كامل و چسبان به سر و گردن گرفته شده بود، نه به طور سبك و وارفته كه با اندكي تكان دادن از سر رد شود و موي سر آشكار گردد؛
2ـ حضرت زهرا(س) علاوه بر آن روسري، لباس روي لباس‏هايش مانند عبا را بر سر و تن خود پوشانده بود
3 ـ لباسي كه بر تنش بود به قدري بلند بود كه در راه رفتن، گاهي قسمت پايين لباس زير پاي حضرت زهرا(س) قرار مي‏گرفت
4ـ آن حضرت همانند رسول خدا(ص) با متانت و وقار حركت مي‏كرد، يعني هيچ گونه حركات نامناسب و دور از نزاكت در حركت او ديده نمي‏شد؛
5 ـ علاوه بر اين ها در مسجد پرده‏اي به احترام او نصب كردند، و آن حضرت در پشت آن پرده خطبه خواند.
6ـ دوستان و زنان خويشانش، اطرافش را گرفته بودند.
به اين ترتيب نتيجه مي‏گيريم، حضرت زهرا(س) در عين آن كه در همايش پرشكوه و پرجنجال شركت نمود، همه نمادهاي حريم حجاب و عفاف را رعايت نموده است.



تاريخ : پنجشنبه بیست و نهم بهمن ۱۳۸۸ | 20:8 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

پوشیدن مانتو، شلوار و مقنعه برای زن بهتر نیست؟

هدف از حجاب و پوشش حفظ حرمت، عفت و وقار زن مسلمان و نگهداری او از آزار و اذیت آزمندان بیماردل است چنان که خداوند در قرآن کریم میفرماید: "یا اَیُّها النَّبی قُلْ لاَِزْواجِکَ وَ بَناتِکَ وَ نِسأِ المُؤمِنینَ یُدْنین عَلَیْهِنَّ مِن جَلابیبِهنَّ ذلکَ أدنی أنْ یُعرَفْنَ فَلایُؤَذیْنَ"{1} «ای پیامبر، به همسران و دختران خود و زنان مؤمنان بگو که خویشتن را به چادر بپوشند که این کار برای آن است که (به عفت و حریت) شناخته شوند تا از تعرض و جسارت (هوس‏رانان) آزار نکشند.» در آیه دیگر هدف از پوشش را پرهیز از تبرج و جلوه‏گری خانمها معرفی فرموده است، زیرا خودآرایی و جلوه‏گری زنان موجب فساد و تباهی جامعه میشود. "وَ لاتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الجاهِلیَِّْ الأولی"{2} «مانند دوران جاهلیت پیشین خودآرایی و آرایش نکنید.» درباره همسران پیامبر(ص) دستور داده است که هرگاه از همسران پیامبر متاعی را درخواست میکنید از پس پرده طلب نمایید زیرا حجاب برای آن است که دلهای شما و آنان پاکیزه بماند و این بهتر است/ "فَاسْئَلُوهُنَّ مِنْ وَرأِ حِجابٍ ذلِکُمْ أطْهَرُ لِقُلُوبِکُم وَ قُلُوبِهِنَّ"{3} از این آیات به دست میآید که هدف از حجاب پاکی دلها، جامعه و مصونیت زن و جلوگیری از کامیابی رایگان مرد از هر زنی است/ سخن در این است که برای رسیدن به این اهداف و ارزشهای مقدس از چه نوع پوششی استفاده شود.

گوهر ناب، حجاب و عفاف،پوشش زن

منابع:

[1].- احزاب، آیه 59

 [2].- همان، آیه (س)

 [3].- همان، آیه (س)5  موضوع: اسلام و مشکلات ازدواج




تاريخ : پنجشنبه بیست و نهم بهمن ۱۳۸۸ | 20:8 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

حدیث (?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
من اصعد الی الله خالص عبادته اهبط الله عزوجل الیه افضل مصلحته
 کسی که عبادت های خالصانه خود را به سوی خدا فرستد، پروردگار بزرگ برترین مصلحت را به سویش فرو خواهد فرستاد.

(بحار الانوار ، ج 70، ص 249 )


--------------------------------------------------------------------------------

حدیث (?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
 ان السعید، کل السعید، حق السعید من أحب علیا فی حیاته و بعد موته
همانا سعادتمند(به معنای) کامل و حقیقی کسی است که امام علی(ع) را در دوران زندگی و پس از مرگش دوست داشته باشد.

(مجمع‌ الزوائد علامه‌ هیثمى‌ ، ج‌ 9 ، ص‌ 132)


--------------------------------------------------------------------------------

حدیث (?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
نحن وسیلته فی خلقه و نحن خاصته و محل قدسه و نحن حجته فی غیبه و نحن ورثه أنبیائه
ما اهل بیت رسول خدا(ص) وسیله ارتباط خدا با مخلوقاتیم ما برگزیدگان خداییم و جایگاه پاکی ها، ما دلیل های روشن خداییم و وارث پیامران الهی

(شرح‌ نهج‌ البلاغه‌ لابن‌ ابی‌ الحدید ، ج‌ 16 ، ص‌ 211)


--------------------------------------------------------------------------------

حدیث (?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
قاریءُ الحدید، و اذا وقعت، و الرحمن، یدعی فی السموات و الارض، ساکن الفردوس
تلاوت کننده سوره حدید و واقعه و الرحمن در آسمانها و زمین اهل بهشت خوانده می شوند  

(کنزالعمال ، ج‌ 1 ، ص582)


--------------------------------------------------------------------------------

حدیث (?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
خیارکم الینکم مناکبة و اکرمهم لنسائهم
بهترین شما کسی است که در برخورد با مردم نرم تر و مهربان تر باشد و ارزشمندترین مردم کسانی هستند که با همسرانشان مهربان و بخشنده اند.

(دلال الامامه و کنزالعمال ، ج‌ 7، ص225)


--------------------------------------------------------------------------------

حدیث (?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
حبب الی من دنیاکم ثلاث: تلاوة کتاب الله و انظر فی وجه رسول و الانفاق فی سبیل الله
از دنیای شما سه چیز محبوب من است: 1-تلاوت قرآن 2-نگاه به چهره رسول خدا 3-انفاق در راه خدا

(وقایع الایام خیابانی، جلد صیام، ص295)


--------------------------------------------------------------------------------

حدیث ( ?) حضرت زهرا سلام الله علیها فرمودند:
فجعل الله...اطاعتنا نظاما للملة و امامتنا أمانا للفرقة
خدا اطاعت و پیروی از ما اهل بیت را سبب برقراری نظم اجتماعی در امت اسلامی و امامت و رهبری ما را عامل وحدت و درامان ماندن از تفرقه ها قرار داده است.

(بحار الانوار، ج 43، ص 158)

تاريخ : پنجشنبه بیست و نهم بهمن ۱۳۸۸ | 20:3 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

زندگينامه چهارده معصوم عليهم السلام ص‏37

 

آية الله مظاهرى

اسم آن خانم، فاطمه است و براى آن بزرگوار هشت لقب ذكر كرده‏اند: صديقه، راضيه، مرضيه، زهرا، بتول، عذرا، مباركه و طاهره (1) . از بعضى روايات استفاده مى‏شود كه زكيه و محدثه از القاب آن خانم است و كنيه او ام ابيها است. (2)

عمر آن بزرگوار تقريبا هجده سال است. در روز جمعه بيستم جمادى الثانى سال دوم بعثت‏به دنيا آمد (3) و سال يازدهم از هجرت، سوم جمادى الثانى (4) به دست گردانندگان سقيفه بنى ساعده شهيد شد.

شخصيت‏حضرت زهرا را با اين بحث كوتاه نمى‏توان معرفى كرد و آنچه در اينجا آورده مى‏شود، قطره‏اى از درياى فضيلت آن صديقه شهيده است.

شخصيت اسلامى از دو راه يافت مى‏شود: از راه نسب و از راه حسب و فضايل نفسانى. شخصيت نسبى كه اسلام آن را پذيرفته است، تحت تاثير عوامل مختلفى است: قانون وراثت، تغذيه از راه مشروع، تاثير محيط، تاثير همسر و رفيق، اولاد صالح و غيره در تشكيل چنين شخصيتى نقش دارند. زهرا سلام الله عليها از نظر قانون وراثت، پدرى چون رسول گرامى دارد كه به گفته سعدى همه مراتب انسانيت را به كمالاتش پيموده است. همه تاريكى‏ها به جمالش روشن شده است و همه صفات او در انتهاى خوبى است:

بلغ العلى بكماله كشف الدجى بجماله حسنت جميع خصاله صلوا عليه و آله

مادرى چون خديجه دارد كه بايد گفت اسلام مرهون زحمات آن بزرگوار است. مادرى كه سه سال، مسلمانان محصور در شعب ابى طالب را اداره كرد و همه اموال خود را در اين راه خرج كرد. مادرى كه چندين سال در مكه با آن مصيبتهاى كمر شكن ساخت، و دوش بدوش رسول اكرم، اسلام را يارى فرمود و در اين راه سنگها به بدن مباركش فرود آمد، بى حرمتيها به او وارد شد، شماتتها در اين راه ديد و هرچه اين اتفاقات بيشتر مى‏شد، صبر و استقامت او زيادتر مى‏گشت.

و اما از نظر قانون تاثير غذا: مورخين نوشته‏اند كه وقتى اراده حق تعالى به خلقت زهرا سلام الله عليها تعلق گرفت، پيامبر گرامى مامور شد كه چهل شبانه روز در كوه حرا به رياضت دينى پردازد. (5)

حضرت خديجه در خانه خود، از مردم گوشه گرفته و به عبادت مشغول بود و پيامبر گرامى در كوه حرا، پس از آن مدت فرمان آمد كه پيامبر به خانه بازگردد. از عالم ملكوت براى آنان غذا آوردند. سپس نور زهرا به حضرت خديجه منتقل شد.

از نظر تاثير محيط، زهرا علاوه بر آنكه در دامن مادرى فداكار، با گذشت و با استقامت، و در دامن پدرى چون پيامبر گرامى پرورش يافت، محيط زندگى او محيط پر تلاطمى بود. مكه با آن مصيبتها و حوادث ناگوار، محيط پرورش او بود. در شعب ابى طالب با آن حوادثى زندگى كرد كه اميرالمومنين در نهج البلاغه آنجا را براى معاويه چنين توصيف مى‏كند: «شما ما را سه سال در ميان آفتاب زندانى كرديد، به طورى كه بچه‏هاى ما از گرسنگى و تشنگى مردند، بزرگان ما پوست گذاردند، صداى آه و ناله زنها و بچه‏ها بلند بود...» روشن است‏بچه‏اى كه در اين چنين محيطى پرورش يابد; مخصوصا اگر مربى‏اى چون پيامبر گرامى داشته باشد، استقامت او، صبر او و سعه صدر او زياد خواهد بود:

ناز پرورده تنعم نبرد راه به دوست عاشقى شيوه رندان بلاكش باشد

زهرا سلام الله عليها از نظر همسر و مصاحب، و از نظر اولاد صالح نيز، فوق العاده است. شوهرى چون اميرالمومنين دارد كه بيش از سيصد آيه از قرآن شريف درباره او نازل شده. (6)

شوهرى كه از نظر تاريخ، قطعى است كه اسلام مرهون او است. شوهرى كه به اقرار خود اهل تسنن، عمر بيش از هفتاد مرتبه در مواقع مختلفه گفته: لولا على لهلك عمر. (7)

فرزندانى چون حسن، حسين، زينب و كلثوم دارد كه اگر نبودند، قطعا اسلام نبود و به گفته امام حسين و على الاسلام السلام (8) زهرا از نظر فرزند، ام الائمه است، سر مستودع است، مادر عصاره عالم خلقت، حضرت بقية الله عجل الله تعالى فرجه الشريف است.

و اما از نظر فضايل انسانيت، چه مى‏توان گفت در حق كسى كه پيامبر گرامى (ص) كرارا درباره‏اش فرموده است: ان الله اصطفيك و طهرك و اصطفيك على نساء العالمين. (9)

همانا خداوند تو را برگزيده و پاكيزه و معصوم گردانيده و تو را بر همه زنها رجحان داده است.

اگر براى فضيلت زهرا چيزى جز سوره كوثر نبود، زهرا را بس بود كه بگويد نزد خداوند افضل و برتر از عالميانم.

انا اعطيناك الكوثر فصل لربك و انحر ان شانئك هو الابتر. (10)

همانا كوثر را بر تو ارزانى داشتيم، پس براى پروردگارت نماز گزار و قربانى كن، به درستى كه بدخواه تو دنباله بريده است.

زهرا از نظر ايمان، راضيه و مرضيه است:

«يا ايتها النفس المطمئنة ارجعى الى ربك راضية مرضية فادخلى فى عبادى و ادخلى جنتي‏». (11)

«اى نفس مطمئنه! - كه به مقام شهود رسيده‏اى - بيا به سوى پروردگارت خشنود شده، و داخل در زمره بندگان من شو و داخل شو در بهشت من.» ما بايد بدانيم كه القاب چهارده معصوم، كنيه‏هاى آنان و اسماء آنان بى سبب نيست. همه آنها سر دارد. معنى ندارد زهرا، صديقه; زكيه; طاهره; محدثه و ... نباشد و به اين‏گونه لقبها متصف شود. اگر جبرئيل نيايد و با او محادثه نكند و به او محدثه بگويند، دروغ است: تعالى الله عما يقول غير العارفين فى حقهم، و معنى ندارد كسى محدثه باشد و ايمانش به مرتبه شهود نرسيده باشد.

زهرا از نظر علم داراى مصحف است.

از نظر روايات، كتابهايى نزد ائمه طاهرين است كه از جمله آن كتابها مصحف فاطمه سلام الله عليها است.

اين كتاب را ائمه به آن افتخار مى‏كرده‏اند و مى‏گفتند: علم ما كان و يكون و ما هو كائن در آن است; و به خط اميرالمؤمنين و املاى حضرت زهرا سلام الله عليهما مى‏باشد. (12)

زهرا از نظر زهد

شبى كه زهرا به خانه اميرالمومنين مى‏رفت، اميرالمومنين فرش خانه‏اش را از شن تهيه كرد و رسول اكرم جهازيه‏اى براى زهرا سلام الله عليها تهيه فرمود كه همه آن جهازيه شصت و سه درهم مى‏شد.

جهازيه عبارت بود از:

1- عبا 2- مقنعه 3- پيراهن 4- حصير 5- پرده 6- لحاف 7- دستك 8- بالش 9- آفتابه 10- آب خورى 11- كوزه 12- كاسه 13- آسياى دستى 14- مشك آب 15- حوله 16- پوست گوسفند.

پيامبر گرامى چون جهازيه را ديد از چشمهاى مباركش اشك جارى شد و فرمود: «خدايا اين جهازيه را كه غالب آن از گل است مبارك كن!» (13) زهرا به خانه شوهر مى‏رود و در وسط راه پيراهنى را كه از جمله جهازيه او است، به فقير مى‏دهد و با همان پيراهن كهنه‏اى كه داشت‏به خانه اميرالمؤمنين رهسپار مى‏شود. (14)

شب عروسى پايان گرفت و صبح، پيامبر گرامى به ديدن زهرا آمد و هديه آورد. هديه پيامبر گرامى اين بود: على فاطمة خدمت ما دون الباب و على على خدمت ما خلفه.

كارهاى داخل خانه براى فاطمه است و كارهاى خارج از خانه براى على.

زهرا از اين هديه، ازاين تقسيم كار به قدرى خشنود شد كه فرمود:

ما يعلم الا الله ما داخلنى من السرور (15)

جز خداوند كسى نمى‏داند كه از اين تقسيم كار چقدر خشنودم.

عبادت زهرا

در روايات آمده است كه زهرا به قدرى روى پا ايستاد و عبادت كرد كه پاهاى او متورم شد (16) امام حسن عليه السلام مى‏گويد، مادرم از اول شب تا صبح عبادت مى‏كرد و هرگاه از نماز فارغ مى‏شد، به ديگران دعا مى‏كرد. از او پرسيدم كه چرا به ما دعا نكرديد؟ فرمود: عزيز من اول ديگران، سپس ما - الجار ثم الدار. - (17)

تسبيح حضرت زهرا سلام الله عليها بسيار با فضيلت است. امام صادق عليه السلام فرموده:

«تسبيح جده‏ام زهرا سلام الله عليها نزد من از هزار ركعت نماز بهتر است‏» . (18)

مى‏گويند: زهرا براى كمك، خادمه‏اى لازم داشت و گرفتن خادم و خادمه در آن زمان رايج و بلكه لازم بود. چون زهرا سلام الله عليها بر رسول الله وارد شد قبل از آنكه در اين مورد چيزى بگويد، پيامبر فرمود: زهرا جان مى‏خواهى چيزى به تو ياد دهم كه بهتر از دنيا و آنچه در آن است‏باشد؟ و تسبيح مشهور را به او ياد داد.

زهرا سلام الله عليها با خوشحالى تمام به خانه بازگشت و به اميرالمومنين عرض كرد با دعايى كه از پدرم صلوات الله عليه گرفته‏ام، خير دنيا نصيب من شده است.

سخاوت و ايثار زهرا

مفسرين شيعه و سنى اتفاق دارند كه روزى زهرا سلام الله عليها با اطرافيانش روزه بودند. در هنگام افطار فقيرى رسيد و از آنها چيزى خواست. زهرا، شوهرش، بچه‏هايش و خادمه‏اش افطار خود را به آن گدا دادند. زهرا براى افطار روز بعد نانى تهيه كرد. يتيمى آمد، زهرا نان را به يتيم داد در مرتبه سوم نانى تهيه نمود اسيرى آمد و افطار خود را به او داد و بالاخره هر سه شب را بدون افطار صبح كرد و آيه شريفه نازل شد «و يطعمون الطعام على حبه مسكينا و يتيما و اسيرا. انما نطعمكم لوجه الله لا نريد منكم جزاءا و لا شكورا!» (19) «و اطعام كردند طعامى را كه دوست داشتند به مسكين و يتيم و اسير جز اين نيست كه اين كار را فقط براى خدا مى‏كنيم و از شما جز او سپاسى نمى‏خواهيم‏» . (20)

در خاتمه به تفسير كنيه و اسم ايشان مى‏پردازيم.

براى القاب زهرا، تفسيرها، تاويلها و گفتگوها چندان است كه در اين نوشته مجال بازگو كردن همه آن نيست فقط به طور فشرده به تفسير كنيه و اسم ايشان مى‏پردازيم.

زهرا را ام ابيها گفته‏اند و اين كنيه را كه افتخارى بر آن حضرت است، پيامبر گرامى به ايشان داده است. (21)

ام ابيها به معناى «مادر پدرش‏» ; يعنى زهرا مادر پدر خويش است. اين كنيه معانى مختلفى دارد اما بهترين معنى همان است كه پيامبر (ص) به اين كنيه داد يعنى: «زهرا علت غايى جهان هستى است.» و اگر كسى ادعا كند كه واسطه فيض عالم هستى نيز هست، ادعاى او بدون دليل به گزاف نيست.

واما فاطمه، فاطمه را فاطمه گفته‏اند و اين تسميه اسرارى دارد و همه آن اسرار از روايات بهره‏مند است:

1- سميت فاطمة فاطمة لانها فطمت من الشر (22)

فاطمه، فاطمه ناميده شده است; چرا كه از شر بريده و جدا است.

اين جمله اشاره به عصمت زهرا سلام الله عليها است; زيرا مسلما معصومه است و آيه «انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت و يطهركم تطهيرا» (23) درباره او است. (24)

2- سميت فاطمة لانها فطمت عن الطمث. (25)

فاطمه را فاطمه گويد زيرا بريده است از خونى كه زنها مى‏بينند. اين تفسير اشاره به طهارت ظاهرى زهرا سلام الله عليها است; زيرا از نظر روايات، چنانچه زهرا مطهره بود از نظر معنى، طاهره بود از خون حيض، نفاس و استحاضه.

3- سميت فاطمة فاطمة لانها فطمت عن الخلق فاطمه را فاطمه گفتند، براى اينكه بريده شده بود از خلق.

اين تفسير اشاره به مقام فنا و لقاى زهراى مرضيه است. كسى كه در دل او هيچ كس جز خدا نبود دل او فقط مشغول به خدا است.

4- سميت فاطمة فاطمة لان الخلق فطموا عن كنه معرفتها.

فاطمه، فاطمه نام گرفت; زيرا مردم از معرفت او بريده شده‏اند و قدرت بر شناخت‏حقيقت او ندارند و اين تفسير اشاره به همان مقامى دارد كه به واسطه آن مقام ام ابيها ناميده شده است.

5- سميت فاطمة فاطمة لانها فطمت هى و شيعتها عن النار. (26)

فاطمه را فاطمه گفتند; چون شيعيان خود را از آتش مى‏رهاند و نجات مى‏دهد. اين تفسير اشاره به شفاعت اوست.

6- سميت فاطمة فاطمة لان اعدائها فطموا عن حبها

فاطمه را فاطمه گفتند، چون دشمنان او بريده مى‏شوند ازمحبت او، و روشن است كه كسى كه محبت اهل بيت را ندارد به رو در آتش انداخته مى‏شود.

در حق فاطمه چه توان گفت كه پيامبر گرامى صلى الله عليه و اله و سلم چون بر زهرا سلام الله عليها وارد مى‏شد يا زهرا سلام الله عليها بر او وارد مى‏شد، چهره زهرا سلام الله عليها و دست زهرا سلام الله عليها را مى‏بوسيد و او را استقبال مى‏كرد و به جاى خود مى‏نشانيد. (27)

و مى‏فرمود: من بوى بهشت را از سينه زهرا استشمام مى‏كنم، ولى همين زهرا سلام الله عليها به قدرى براى ديگران متواضع است كه وقتى اميرالمؤمنين عليه السلام از او اجاره مى‏خواهد كه كسانى بر خانه زهرا سلام الله عليها وارد شوند، زهرا با آنكه ازاين ملاقات سخت‏بيزار است; (28) اما چون على عليه السلام مى‏خواهد آن بانوى متواضع درمقابل شوهر مى‏گويد: خانه، خانه تو و من هم كنيز تو هستم. (29)

زنى مى‏آيد و از زهرا سلام الله عليها مساله‏اى سوال مى‏كند اما چون بيمارى فراموشى دارد، ده بار برمى‏گردد و مساله را سوال مى‏كند در بار دهم از زهرا سلام الله عليها عذر خواهى مى‏كند و زهرا در جواب مى‏فرمايد: «در هر بار، پروردگار عالم به من پاداشهاى زيادى عنايت مى‏كند پس تكرار سوال تو عذر ندارد» . (30)

زهرا سلام الله عليها وقتى پدر بزرگوارش فضه خادمه را به او داد به دستور پدر كارهاى خانه را قسمت كرد: يك روز زهرا سلام الله عليها كارها را انجام مى‏داد و روز ديگر نوبت فضه بود. (31)

نبايد فراموش شود و بانوان بايد بدانند كه زهرا سلام الله عليها و همه اهل بيت عليهم السلام سرمشق زندگى ما هستند، همه بايد از پيامبر گرامى و خاندان او سرمشق بگيرند.

قرآن چنين دستور مى‏دهد:

لقد كان لكم فى رسول الله اسوة حسنة لمن كان يرجوا الله و اليوم الاخر... (32)

به تحقيق كه رسول خدا سرمشق است‏براى كسانى كه اميد به خدا و روز جزا دارند.

ما اگر سعادت دو جهان را بخواهيم بايد پيرو رسول اكرم و اهل بيت گرامى او باشيم. بانوان اسلامى وقتى به سعادت مى‏رسند كه در عفت، ايثار، فداكارى، مردم دارى، شوهر دارى، خانه دارى وتربيت اولاد، پيرو زهرا سلام الله عليها باشند.

صاحب وسايل الشيعه در جلد دوم وسايل قضيه‏اى از زهرا سلام الله عليها نقل مى‏كند كه همه مخصوصا بانوان اسلامى بايد به آن توجه داشته باشند.

مضمون همه روايات چنين است: «فضه خادمه در روزهاى آخر عمر زهرا، سلام الله عليها او را مهموم و مغموم يافت. علت را پرسيد زهرا گفت: «چون جنازه مرا بلند مى‏كنند حجم بدن من نمايان است و نامحرم حجم بدن مرا مى‏بيند.» فضه مى‏گويد شكل عمارى را براى زهرا رسم كردم و گفتم: در عجم رسم است افراد باشخصيت را در عمارى مى‏گذارند. زهرا شاد شد، تبسم نمود و وصيت كرد كه جنازه او را در عمارى بگذارند.

همه مى‏دانيم كه وصيت مؤكد كرد كه اميرالمؤمنين عليه السلام او را شب غسل دهد و كفن و دفن كند و كسى را هم خبر نكند. (33)

پى‏نوشت‏ها:

1- مناقب ج 3، ص 133 و 133- بحار الانوار ج 43 ص 16

2- مناقب ج 3، ص 133 و 133- بحار الانوار ج 43 ص 16

3- شيخ مفيد (ره) در حدائق الرياض، مصباح كفعمى (ره) 4- دلائل الامة طبرى شيعى از امام صادق عليه السلام نقل كرده است.

5- بحار الانوار ج 6- بيت الاحزان محدث قمى (ره)، ص 5

6- خطيب بغدادى در تاريخ خود ج 6 ص 221 و ابن حجر در صواعق ص 76، شبلنجى در نورالابصار ص 73 از ابن عسكر از ابن عباس: در كتاب خداى تعالى براى هيچ فردى، آنقدر كه در فضيلت على عليه السلام نازل شده، آيه نازل نشده است.

7- سنن بيهقى ج 7 ص 442، رياض النضره ج 2 ص 196

8- مقتل خوارزمى ج 1 ص 184- لهوف ص 20

9- مناقب ابن شهر آشوب ج 3- امالى صدوق سوره كوثر.

10- سوره كوثر.

11- فجر آيات 27 تا 30.

12- اصول كافى ج 1 بصائر الدرجات.

13- امالى شيخ طوسى / 5 ج 1، ص 39

14- صفورى شافعى در نزهة المجالس ج 2 ص 226.

15- قرب الاسناد - منتهى الامال ج 1.

16- بحار ج 43 ص 84- منتهى الامال ص 161.

17- كشف الغمه ج 2 س 25 و 26- بحار ج 43 ص 81 و 82.

18- وسائل الشيعه ج 4 باب 9 ص 1024.

19- سوره دهر/ (انسان) آيه 7 و 8.

20- امالى صدوق ص 212- 216- تفسير كشاف تاليف جار الله زمخشرى.

21- مقاتل الطالبين، كشف الغمه

22- مناقب ابن شهر آشوب ج 3 ص 230.

23- احزاب/43.

24- سيوطى در المنثور ج 5 ص 198 زمخشرى در كشاف ج 1 س 193 و . . .

25- مناقب ابن شهر آشوب ج 3 ص 330.

26- بحار الانوار ج 10.

27- الامامة و السياسة ج 1 ص 14 علل الشرايع صدوق /5.

28- ترمذى و ابن عبد ربه در عقد الفريد ج 2 ص 3 مناقب ابن شهر آشوب ج 3.

29- علل الشرايع.

30- بحار الانوار كتاب العلم.

31- بحار ج 43 ص 28- بيت الاحزان ص 20.

32- احزاب آيه‏21.

33- روضه الواعظين.



تاريخ : پنجشنبه بیست و نهم بهمن ۱۳۸۸ | 20:1 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
در سال دهم بعثت، اندکي پس از نجات از «شعب» [4]  مادر گرامي خويش را که رنجهاي ده سال مبارزه و تحمل و بويژه فشار سختيهاي محاصره اقتصادي رنجورش ساخته بود از دست داد؛ فاطمه (عليهاالسلام) بي‏مادر شد و اين هر چند سخت رنج‏آور و مصيبت‏بار بود اما بيش از پيش او را در کنار پدر و در دامان تربيت پيامبر (ص) قرار داد... در هشت سالگي، اندکي پس از هجرت پيامبر، همراه سير بانوان خاندان پيامبر (ص) و با همراهي علي عليه‏السلام از مکه به مدينه آمد [5]  و باز در کنار پدر قرار گرفت، در مشکلات مختلف زندگي پيامبر در مدينه، همواره فاطمه (عليهاالسلام) با او بود؛ در جنگ احد پس از آنکه مسلمين مجبور به عقب‏نشيني و پناه گرفتن در کوه شدند فاطمه (عليهاالسلام) سراسيمه از مدينه به اردوگاه پيامبر آمد و همراه امير مؤمنان علي عليه‏السلام به مداواي زخمهاي پيامبر (ص) پرداخت [6] .فاطمه (عليهاالسلام) با اسلام بزرگ شد. با اسلام و قرآن همراه بود، در هواي وحي و نبوت تنفس مي‏کرد و مي‏باليد، زندگيش از زندگي پيامبر (ص) جدا نمي‏شد، حتي با وجود ازدواج و فرزندداري خانه‏اش متصل به خانه پيامبر بود، و پيامبر (ص) بيش از هر جاي ديگر به خانه فاطمه رفت و آمد داشت؛ هر بامداد پيامبر (ص) پيش از رفتن به مسجد به ديدافاطمه مي‏رفت [7]  و خدمتکار پيامبر (ص) مي‏گويد: آن گرامي چون مي‏خواست به سفري برود با آخرين کسي که وداع مي‏کرد فاطمه بود، و چون باز مي‏گشت پيش از ديدار هر کس نزد فاطمه مي‏رفت [8] ... و سرانجام در آخرين ساعات زندگي پيامبر (ص) نيز فاطمه بر بالين او بود و مي‏گريست و پيامبر عزيز او را دلداري مي‏داد که پيش از ديگران به پدر خواهد پيوست. [9] .


 



تاريخ : سه شنبه بیست و سوم تیر ۱۳۸۸ | 23:58 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
نامش: فاطمه.
کنيه‏اش: امّ‏الحسن، امّ‏الحسين، امّ‏المحسن، امّ‏الائمة، و ام‏ابيها است. [1] .
برخي از مشهورترين القابش: زهرا، بتول، صديقه کبري، مبارکه، عذراء، طاهره، و سيّدة النساء است [پدرش: رسول اکرم محمد بن عبداللَّه پيامبر عظيم‏الشأن اسلام صلّي اللَّه عليه و آله.
مادرش: خديجه کبري. اوّلی همسر پيامبر (ص) و اوّلين زني که به او ايمان آوردتولدش: در مکّه در سال پنجم بعث. [3] .
شهادتش: در مدينه در سال يازدهم هجرت، دو ماه و نيم پس از وفات پيامبر (ص) [4]  به جهت هجوم مأموران به منزل او و ضربات آنان و در اثر شکستگي پهلو و سقط جنين.
مدفنش: به جهات سياسي و بنا به وصيت خودش شب هنگام و مخفيانه توسط امير مؤمنان علي عليه‏السلام دفن شد [5]  و تا به امروز محل دقيق قبر مطهّر زهرا (عليهاالسلام) معلوم نشده است.
فرزندانش: امام حسن مجتبي (ع)، امام حسين سيدالشهدا (ع)، زينب کبري، ام‏کلثوم و محسن که سقط شد. [6] .روز جمعه بيستم ماه جمادي الثاني، پنج سال پس از بعثت پيامبر (ص) [1]  در بن آسمان حجاز، در دامنه کوههاي سنگي مکه، در چشم‏انداز کعبه، در منزل وحي، در عرصه‏اي که دهان خداجوي پيامبر (ص) با تلاوت قرآن بر آن نور مي‏پاشيد، در خانه‏اي که فرشتگان آن را خوب مي‏شناختند و در آن رفت و آمد داشتند، آنجا که زمزمه نماز پيامبر در صبح و شام و آواي ملکوتي تلاوت پيامبر در دل شب، زمينش را به آسمان پيوند مي‏زد، در خانه اميد يتيمان، در خانه دستگيري از مستمندان، در خانه پناه اسيران، در خانه پيامبر (ص) و خديجه؛ دختري چشم به جهان گشود...
دختر پيامبر (ص)، نوباوه رسالت، پيکره عصمت، بشريت در يک زن، همسنگ و همسر خلافت خدا در زمين، بانوي بانوان جهان
فاطمه (عليهاالسلام) به دنيا آمد.
خانه رسول خدا (ص) با تولد فاطمه (عليهاالسلام) بيش از پيش کانون مهر و عطوفت شد، در غوغاي رنجهاي عظيم پيامبر عزيز که در آن هنگام در مکه با آن دست به گريبان بود، فاطمه کوچک چون نسيمي آرامش‏بخش گونه‏هاي خسته پدر و مادر دردمند را هر صبح و شام نوازش مي‏داد و رنج روزهاي پرمشقت رسالت را تسکين مي‏بخشيد... چه شورانگيز است دختري چنان ارجمند باشد که سيد کاينات رسول اکرم صلّي الله عليه و آله بدو تسکين يابد و درباره او بفرمايد... «روح من است، بوي بهشت را از او استشمام مي‏کنم» [2]  و اين درباره فاطمه (عليهاالسلام) شگفت نيست. چرا که او از زمره بزرگواراني است که خداي جهان سزاوار ايشان در کتاب آسماني خويش مي‏فرمايد: «اِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْْهيراً» [3] . خداي متعال اراده فرموده است که شما اهل‏بيت پيامبر از هر گونه پليدي پاک و برکنار باشيد. [4] .
فاطمه (عليهاالسلام) خلاصه وجود پيامبر عظيم اسلام است. زندگي سراسر نور فاطمه (عليهاالسلام) شايان هر گونه تقدير آسماني است، و او برگزيده‏اي از ميان بانوان در پيشگاه خداست که با قداست خويش ارجمندي زن را
اثبات مي‏کند، وجود فاطمه (عليهاالسلام) به تنهايي برترين گواه آنست که زن نيز مي‏تواند در اوج معنويتهايي که راد مردان آسماني به آن نائل آمده‏اند سير و پرواز کند.پدر گرامي فاطمه (عليهاالسلام) بي‏نياز از توصيف است. پدري که خداي جهان او را صاحب «خلق عظيم» [1] . معرفي کرده و به نص کتاب الهي: «ما يَنْطِقُ عَنِ الْْهَوي اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُوْحي- از هواي خويش سخن نمي‏گويد و آنچه بفرمايد وحي الهي است» [2] .. فاطمه (عليهاالسلام) سراسر حيات پرنور خويش را در شعاع وحي و در سايه انسان‏ساز چنين پدري گذراند؛ تقريباً دو ساله بود که همراه پدر در محاصره اقتصادي کفار قريش قرار گرفت و سه سال در «شعب ابيطالب» [3]  همراه پدر و مادر و ساير مسلمانان در تحمل سخت‏ترين شرايط گرسنگي و سختي شرکت داشت.




تاريخ : سه شنبه بیست و سوم تیر ۱۳۸۸ | 23:52 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |