سوال : اصحاب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے حدیث غدیر کے بعض راویوں کے نام بیان کریں؟
جواب: علامہ امینی (رحمة اللہ علیہ)کتاب الغدیر(۱) میں بزرگ صحابہ کے ۱۱۰ نام لکھنے کے بعد حدیث غدیر کو نقل کرتے ہوئے فرمایا(۲): اس وقت کی فضاء اقتضاء کرتی ہے کہ اس حدیث کے روایوں کی تعدا اس سے کئی گنا زیادہ ہونا چاہئے ۔کیونکہ جن راویوں نے اس حدیث کو سنا اور حفظ کیا ہے ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور فطرتا انہوں نے سفر سے واپس آنے کے بعد اس حدیث کودوسروں سے بھی بیان کیا ہوگا کیونکہ ہر مسافر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ واپس آنے کے بعد عجیب وغریب واقعات کو نقل کرتا ہے،ہم اختصار کی وجہ سے یہاں پر صرف ۲۵ ، افراد کے نام یہاں پر ذکر کریں گے(۳) ۔
۱۔ ابوہریرہ دوسی، ۷۸ سال زندہ رہے ، متوفی ۵۷۔۵۹ ہجری (۴) ۔
۲۔ اسماء بنت عمیس خثعمیہ۔ابن عقدہ نے ”کتاب الولایة“(۵) میں روایت کی ہے ۔
۳۔ پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شریک حیات ام سلمہ(۶) ۔
۴۔ ام ہانی بنت ابوطالب(۷) ۔
۵۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خادم ابوحمزہ انس بن مالک انصاری خزرجی (متوفی ۹۳ ھ)(۸) ۔
۶۔ جابر بن عبداللہ انصاری کا چورانوے سال کی عمر میں مدینہ میں انتقال ہوامتوفی ۷۳، ۷۴، ۷۸(۹) ۔
۷۔ ابوذر جندب بن جنادہ غفاری، متوفی ۳۱(۱۰) ۔
۸۔ حسان بن ثابت۔آپ کی سوانح حیات اور اشعار کو ملاحظہ کرنے کیلئے پہلی صدی میں غدیر کے شعراء کے باب میں مراجعہ کریں (۱۱) ۔
۹۔ سبط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) امام حسن مجتبی (علیہ السلام) ۔ ابن عقدہ نے ”کتاب الولایة“(۱۲) میں امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کی حدیث کو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے اور ”جعابی“ نے ”النخب“ میں نقل کیا ہے ۔ ”خوارزمی“ نے ان کو بھی حدیث غدیر کے راویوں میں شمار کیا ہے(۱۳) ۔
۱۰۔ سبط پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ،سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام) (۱۴) ۔
۱۱۔ زبیر بن عوام قریشی (۳۶ھ) ۔ان کا شمار عشرہ مبشرہ (۱۵)کے مشہور دس افراد میں ہوتا ہے ”ابن مغازلی “ نے بھی ان سب کو حدیث غدیر کے راویوں میں شمار کیا ہے(۱۶) ۔ اور ”جزری“شافعی نے ”اسنی المطالب“ میں ان کو حدیث غدیر کے راویوں میں شمار کیا ہے (۱۷) ۔
۱۲۔ ابواسحاق سعد بن ابی وقاص، متوفی ۵۴، ۵۵، ۵۶، ۵۸ ھ(۱۸) ۔
۱۳۔ ابوعبداللہ سلمان فارسی، آپ تقریبا ۳۰۰ سال زندہ رہے، متوفی ۳۶، ۳۷ھ (۱۹) ۔
۱۴۔ ابن عقدہ نے ”حدیث الولایة“ (۲۰) میں ان سے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے ۔
۱۵۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے چچا ،عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم، متوفی ۳۲ (۲۱) ۔
۱۶۔ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب ہاشمی ، متوفی ۸۰ ھ۔ ابن عقدہ نے حدیث غدیر کو ان سے نقل کیا ہے ،انہوں نے اسی حدیث سے معاویہ کے خلاف استدلال پیش کیا(۲۲) ۔
۱۷۔ عبداللہ بن عباس، متوفی ۶۸ھ (۲۳) ۔
۱۸۔ ابوعبدالرحمن عبداللہ بن عمر بن خطاب عدوی، متوفی (۷۲، ۷۳)(۲۴) ۔
۱۹۔ ابوعبدالرحمن عبداللہ بن مسعود ہذلی،متوفی ۳۲، ۳۳(۲۵) ۔
۲۰۔ عثمان بن عفان،متوفی ۳۵ھ۔ ان کا شمار عشرہ مبشرہ (۱۵)کے مشہور دس افراد میں ہوتا ہے ”ابن مغازلی “ نے بھی ان سب کو حدیث غدیر کے راویوں میں شمار کیا ہے ۔
۲۱۔ امیر المومنین علی بن ابی طالب صلوات اللہ علیہ(۲۷) ۔غدیر میں آپ کا شعر مشہور ہے اور ثقہ راویوں نے اس کو نقل کیا ہے ۔پہلی صدی کے شعراء میں یہ شعر اور اس کے راویوں کو بیان کیا ہے (۲۸) ۔ اسی طرح ”شوری“ اور ”جمل“ میں آپ نے حدیث غدیر سے استدلال کیا ہے اور ”رحبہ“ میں حدیث غدیر کی قسم دینے کے سلسلہ میں بیان کریں گے(۲۹) ۔
۲۲۔ عمربن خطاب متوفی ۲۳ھ۔ (۳۰) ۔
۲۳۔ عمرو عاص (۳۱) ۔اس کا شمار غدیر کے شعراء میں ہوتا ہے جس کا ذکر پہلی صدی کے شعراء میں بیان ہوگا(۳۲) ۔ ہمدان کے ”برد“نامی شخص نے حدیث سے اس کے خلاف استدلال کیا اور آخر کار عمروعاص نے اس حدیث کا اعتراف کیا ہے (۳۳) ۔
۲۴۔ صدیقہ طاہرہ بنت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)(۳۴) ۔
۲۵۔ فاطمہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب۔ ابن عقدہ (۳۵ ) اور منصور رازی نے کتاب الغدیر میں اس سے اس حدیث کو نقل کیا ہے (۳۶) ۔

۱۔ مراجعہ کریں:
۲۔ [در الغدیر 1/144].
۳۔ مندرجہ ذیل اسماء ، حروف تہجی کی ترتیب سے ذکر ہوئے ہیں ۔
۴۔ مراجعہ کریں : تهذیب الکمال [20/484، شماره 4089]; تهذیب التهذیب 7: 337 [7/296]; مناقب خوارزمى: 130 [ص 156، ح 184]; الدرّ المنثور 2: 259 [3/19]; تاریخ مدینة دمشق [12/234]; تاریخ الخلفاء: 114 [ص 158]; کنز العمّال 6: 154 [11/609، ح 32950; و 13/157، ح36486].
5 ـ [کتاب الولایة/152].
6 ـ جواهر العقدین [ورقه 174]; ینابیع المودّة: 40 [1/38، باب 4].
7 ـ جواهر العقدین [ورقه 174]; ینابیع المودّة: 40 [1/38، باب 4].
8 ـ المعارف: 291 [ص 580]; مقتل الإمام الحسین(علیه السلام)، خوارزمى [1/48]; تاریخ الخلفاء: 114 [ص 158]; کنز العمّال 6: 154 و 403 [11/609، ح 32950; و 13/157، ح 36486].
9 ـ الاستیعاب، ابن عبد البرّ 2: 473 [قسم سوم/1099، شماره 1855]; کنز العمّال 6: 398 [13/137، ح 36430 و 36433].
10 ـ فرائد السمطین: باب 58 [1/315، ح 250]; مقتل الإمام الحسین(علیه السلام)، خطیب خوارزمى [1/48].
11 ـ نگاه کن: ص 148 ـ 160 از همین کتاب.
12 ـ [کتاب الولایة/150].
۱۳۔ [ذهبى نے کتاب الغدیر میں، ح 121، وصالحانى، و شهاب الدین إیجى در توضیح الدلائل میں/ ق 197/ ب، ان کو ان صحابه میں شمار کیا هے جنهوں نے حدیث غدیر کو نقل کیا هے].
14 ـ مقتل الإمام الحسین(علیه السلام)، خوارزمى [1/48].
۱۵۔ عثمان کے زمانہ میں ایک حدیث کو جعل کی گیا ہے جس کی نسبت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف دی گئی ہے ،اس حدیث میں ۱۰ لوگوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ”عشرہ مبشرہ“ کے نام سے مشہور ہوگئی، یہ دس افراد مندرجہ ذیل ہیں : حضرت علی (علیہ السلام)، ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمن بن عوف، ابوعبیدة بن جراح و سعید بن زید بن عمرو ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بہشت میں علی (علیہ السلام) اور ان کے دشمن ایک ساتھ جمع ہوگئے ہیں، مراجعہ کریں : سنن ترمذى 5/311، ح 3830 و 3831 و 3832; سنن أبی داود 2/401، ح 4648; مسند احمد 1: 193، و چاپ دیگر: 1/316، ح 1678; و همین کتاب/951 ـ 959.
تقی الدین مقریزی نے کتاب الخطط المقریزیة، ج ۲، ص ۳۳۲ پر ادعا کیا ہے کہ یہ لوگ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حیات میں فتوی دیتے تھے ،مراجعہ کریں : حصر الاجتهاد، آقا بزرگ طهرانى: 71].
16 ـ مناقب علیّ بن أبی طالب(علیه السلام) [ص 27، ح 39].
17 ـ أسنى المطالب: 3[ص 48].
18 ـ خصائص أمیرالمؤمنین، حافظ نسائى: 3 [ص 28، ح 9]; والسنن الکبرى [5/107، ح 8397].
19 ـ فرائد السمطین: باب 58 [1/315، ح 250].
20 ـ [کتاب الولایة/152].
21 ـ أسنى المطالب: 3 [ص 48].
22 ـ نگاه کن: کتاب سُلَیم بن قیس [2/834، ح 42].
23 ـ خصائص أمیر المؤمنین، حافظ نسائى: 7 [ص 47، ح 24]; و السنن الکبرى [5/112، ح 8405].
24 ـ جامع الأحادیث [7/369، ح 23003]; تاریخ الخلفاء: 114 [ص 158]; کنز العمّال 6: 154 [11/609، ح 32950].
25 ـ الدرّ المنثور 2: 298 [3/117]; فتح القدیر [2/60]; روح المعانی 2: 348 [6/193].
26 ـ مناقب علىّ بن أبی طالب(علیه السلام): 27، ح 39.
27 ـ مسند أحمد 1: 152 [1/246، ح 1313].
28 ـ[نگاه کن: 145 ـ 147].
29 ـ [نگاه کن: همین کتاب ص 56 ـ 59].
30 ـ مناقب علىّ بن أبی طالب(علیه السلام) [ص 22، ح 31]; الریاض النضرة، محبّ الدین طبرى 2: 161 [3/113 ـ 114; و 4/204].
31 ـ الإمامة والسیاسة، ابن قتیبه: 93 [1/97]; مناقب خوارزمى: 126 [ص 199، ح 240].
32 ـ نگاه کن: ص 165 ـ 178 از این کتاب.
33 ـ نگاه کن: الإمامة والسیاسة، ابن قتیبه: 93 [1/97].
34 ـ أسنى المطالب [ص 50]; مودّة القربى، علىّ بن شهاب الدین همدانی: مودّت پنجم.
35 ـ [کتاب الولایة/153].
36- گزیده اى جامع از الغدیر، ص 47.

 



تاريخ : پنجشنبه دوم تیر ۱۳۹۰ | 2:49 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |