| (1)
قال الامام المھدی علیہ السلام: انا یحیط علمنا با نبائکم ، ولا یعزب عنا شئی من اخبارکم (۱) ترجمہ ۔ حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں: تمھارے سارے حالات ھمارے علم میں ھیں اور تمھاری کوئی بات ھم سے پوشیدہ نھیں ھے ۔ (۲) قال الامام المھدی علیہ السلام: اکثر و الدعا بتعجیل الفرج فان ذالک فرجکم (۲) ترجمہ: حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں: تعجیل ظھور کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو ، اس لئے کہ یہ دعا تمھارے ھی لئے حل مشکلات کو باعث ھے ۔ (۳) قال الامام المھدی علیہ السلام: فا غلقوا ابواب السوال عما لا یعنیکم (۳) ترجمہ: حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں وہ چیز جوتم سے متعلق نھیں ھے� اس کے بارے میں سوال نہ کرو ۔ (۴) قال الامام المھدی علیہ السلام: انا خاتم الاوصیاء و بی یدفع اللہ البلاء عن اھلی و شیعتی (۴) ترجمہ: حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں: امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :� میں سلسلہ ٴ اوصیا ء کی آخری کڑی ھوں۔ خدا وند عالم میرے وسیلہ سے میرے اھل اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ھے ۔ (۵) قال الامام المھدی علیہ السلام: ان الارض لا تخلوا من حجة اما ظاھرا و ما مغمورا (۵) ترجمہ ۔ حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں زمین حجت خدا سے خالی نھیں ھے ، وہ حجت یاظاھر ھوتی ھے یا پوشیدہ ۔ (۶) قال الامام المھدی علیہ السلام: کلما غاب علم بدا علم ، و اذا افل نجم طلع نجم (۶) ترجمہ ۔ حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں: جب کسی علم پرپردہ پڑ جاتا ھے تو دوسرا علم ظاھر ھو جاتا ھے اور جب کوئی ستارہ غروب ھو جاتا ھے تو دوسرا اسکی جگہ طلوع ھو جاتا ھے ۔ (۷) قال الامام المھدی علیہ السلام: فا ما السجود علی اقبر فلا یجوز (۷) ترجمہ ۔ حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں: کسی کی قبر پر سجدہ جائز نھیں ھے ۔ (۸ قال الامام المھدی علیہ السلام: ارخص نفسک و اجعل مجلسک فی الدھلیز و اقض حوائج الناس (۸) ترجمہ: حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں : اپنے کو لوگوں کے حوالے کر دو اور اپنے بیٹھنے کی جگہ دھلیز قرار دو اور ولوگوں کی حاجتوں کو پورا کرو (۹) قال الامام المھدی علیہ السلام: انی امان لاھل الارض کما ان النجوم امان لاھل السماء (۹) ترجمہ: حضرت امام مھدیعلیہ السلام فرماتے ھیں : میں اھل زمین کے لئے اسی طرح سبب راحت و امان ھوں جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے باعث امان ھیں ۔ (۱۰) قال الامام المھدی علیہ السلام: سجدة الشکر من الزم السنن و اوجبھا (۱۰) ترجمہ: حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں : سجدہ ٴشکر واجب ترین مستحبات میں سے ھے ۔ حوالہ:
۱۔ بحار الانوار ج /۵۳ ص/۱۷۵
|
ترجمہ: افتخار علی جعفری
ابنا: منجی عالم بشریت کے ظہور پر عقیدہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو تمام ادیان عالم کے اندر پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کہ اہلسنت کی اکثریت بھی شیعوں کی طرح مہدویت کی معتقد ہے بعض لوگ اس سلسلے میں کچھ شبہات پیدا کرتے ہیں مثلا یہ کہ اہلسنت کی معتبر کتابوں جیسے صحیح بخاری میں مہدویت کے بارے میں کوئی حدیث بیان نہیں ہوئی ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایسے بہت سارے مسائل اور حقائق پائے جاتے ہیں جو صحیح بخاری میں ذکر نہیں ہوئے ہیں جبکہ دوسری معتبر کتابوں میں بیان ہوئے ہیں اور علمائے اہلسنت ان کتابوں کو بھی معتبر سمجھتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہی طے ہے کہ جو کچھ صحیح بخاری میں بیان نہیں ہوا اس کا کوئی اعتبار نہیں تو علمائے اہلسنت کو بقیہ کتابیں ترک کر دینا چاہیے جبکہ ایسا نہیں ہے، وہ صحیح بخاری کے علاوہ دیگر پانچ کتابوں کوبھی معتبر قرار دیتے ہیں۔
لہذا اگر صحیح بخاری میں مہدویت کے بارے میں حدیثیں بیان نہیں ہوئیں تو یہ بات عقیدہ مہدویت کو کمزور بنانے کی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے کہ دوسری صحیح اور معتبر کتابوں میں اس سلسلے میں کثرت سے روایات موجود ہیں۔
ابنا: کیا یہ بات کہ جو چیز صحیح بخاری میں بیان نہیں ہوئی وہ معتبر نہیں ہے اہل سنت کے علماء کے درمیان بھی رائج ہے؟
بخاری کے پاس حدیث کو کتاب ’’صحیح‘‘ میں نقل کرنے کا اپنا معیار تھا جو ان سے ہی مخصوص تھا اسے ’’ شرائط بخاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ بخاری میں حدیث ذکر نہ کرنے کی وجہ دو چیزیں تھیں:
اول: وہ حدیثیں جو بخاری کے معیار اور ان کے شرائط کے مطابق نہیں تھیں۔
دوم: وہ حدیثیں جو بخاری کے معیار اور شرائط کے مطابق صحیح تھی لیکن پھر بھی انہوں نے نقل نہیں کیا۔
اسی وجہ سے حاکم نیشاپوری جو اہلسنت کے بزرگ علماء میں سے ہیں اور بہت زیادہ احترام کے حامل ہیں نے ’’ المستدرک علی الصحیحین‘‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ انہوں نے المستدرک میں ان روایات کی جمع آوری کی ہے جو بخاری اور مسلم کے معیار کے مطابق صحیح تھیں لیکن انہوں نے اپنی کتابوں میں ذکر نہیں کیا۔
ابنا: مہدویت کے بارے میں کسی ایسی حدیث کو بیان کریں جو مستدرک میں ذکر ہوئی ہے۔
جی ہاں، حاکم نے ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ کی چوتھی جلد کے ۴۶۴ ویں صفحے پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ... ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق؛ ... إذا رأيتموه فبايعوه و لو حبواً علی الثلج فانه خليفة الله المهدي."
۔۔۔ اس کے بعد سیاہ علم مشرق کی طرف سے نمودار ہوں گے ۔۔۔ جب تم انہیں دیکھو تو ان کی بیعت کرو اگر چہ تمہیں سینہ کے بل برف پر چلنا پڑے اس لیے کہ وہ خلیفہ خدا مہدی ہیں۔
حاکم نیشاپوری اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ حدیث بخاری اور مسلم کے معیاروں کے مطابق صحیح ہے۔
یہ حدیث ایک نمونہ کے طورپر تھی جو مستدرک میں بیان ہوئی ہے ورنہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اس کتاب میں بہت ساری حدیثیں موجود ہیں۔
ابنا: ابن خلدون نے بھی مہدویت کے بارے میں شبہات پیدا کئے ہیں اور اس سلسلے میں موجود روایات کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے شبہہ کا آپ کیسے جواب دیں گے؟
۔ ابن خلدون نے اپنی کتاب ’’ مقدمہ‘‘ میں مسئلہ مہدویت کو بیان کر کے شبہات پیدا کئے ہیں کہ جو صرف شبہے ہیں ان پر کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں صرف اپنی دشمنی اور عناد کا اظہار کیا ہے لہذا علمائے اہل سنت نے ان کا جواب دے دیا ہے۔
ابنا: اہلسنت کی طرف سے دئے گئے جوابات میں کوئی ایک نمونہ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، مصر کی یونیورسٹی کے استاد شیخ علی منصور ناصف نے ’’ جامع الاصول من احادیث الرسول (ص)‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے کہ جو صحاح ستہ کا مجموعہ ہے۔ وہ اس کتاب کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۴۱ پر لکھتے ہیں: "و قد روی أحاديث المهدي جماعة من خيار الصحابة و أخرجها أكابر المحدثين كـ«ابي داود» و«الترمذي» و«ابن ماجة» و«الطبراني» و«أبي يعلی» و«البزاز» و«الإمام أحمد» و«الحاكم» رضي الله عنهم اجمعين و لقد اخطأ من ضعف احاديث المهدي كلها كـ«ابن خلدون» و غيره".
’’ بتحقیق مہدی سے متعلق احادیث کو بزرگ صحابہ نے روایت کیا ہے اور بڑے بڑے محدثین جیسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی، ابو یعلی، براز، امام احمد بن حنبل اور حاکم نے انہیں استخراج کیا ہے لہذا ابن خلدون جیسوں کی یہ خطا تھی جو انہوں نے ان احادیث کو ضعیف بنانے کی کوشش کی۔
بعض اہلسنت امام زمانہ (ع) کو امام حسن مجتبی(ع) کی نسل سے سمجھتے ہیں۔ کیا یہ شبہہ بھی قابل توجہ ہے؟
نہیں، بعض اہلسنت کی کتابوں میں یہ تحریف ملتی ہے لیکن یہ اس بات کو بیان کرنے والی روایات ان روایات کے مقابلہ میں بہت کم اور تحریف شدہ ہیں جو امام زمانہ (ع) کو امام حسین علیہ السلام کی نسل سے بیان کرتی ہیں جو حد تواتر میں ہیں۔
ابنا: اس شبہہ کی اصلی وجہ کیا ہے؟
اس طرح کی تحریفات بعض کتابوں کو چھپواتے وقت وجود میں لائی گئی ہیں جیسے کتاب ’’ فتوحات مکیہ‘‘ تالیف ابن عربی کے چھپے ہوئے نسخے میں امام زمانہ (ع) کے بارے میں گفتگو کو ناقص بیان کیا ہے اور اس طرح کی تحریف کی گئی ہے جبکہ اس کتاب کے اصلی یعنی خطی نسخے میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی اور بزرگ علمائے اہلسنت نے بھی اس اصلی نسخے سے پوری بات کو نقل کیا ہے۔
مثال کے طور پر عبد الوہاب بن احمد بن علی الحنفی شعرانی کہ جن کا سلسلہ نسب محمد حنفیہ سے ملتا ہے جو ایک فقیہ اور عارف شخص تھے اور ان کی بہت ساری تالیفات ہیں، ان کی ایک کتاب ہے الیواقیت و الجواھر‘‘ جو فتوحات مکیہ کا خلاصہ ہے۔ شعرانی کے پاس فتوحات مکیہ کا خطی نسخہ تھا اور انہوں نے امام زمانہ (ع) کے بارے میں اس کتاب سے نقل کیا ہے: " واعلمو انه لابد من خروج المهدي ـ علیه السلام ـ لکن لا یخرج حتی تمتلئ الأرض جوراً و ظلماً فیملؤها قسطاً و عدلاً، و لو لم یکن من الدنیا إلا یوم واحد طوّل الله تعالی ذلك الیوم حتی بلی ذلك الخلیفة و هو من عترة رسول الله صلی الله علیه و سلم من ولد فاطمة رضی الله عنها، جده الحسین بن علي بن ابي طالب و والده حسن العسکری ابن الإمام علی النقی (بالنون) ابن محمد التقی (بالتاء) ابن الإمام علي الرضا ابن الإمام موسی الکاظم ابن الإمام جعفر الصادق ابن الإمام محمد الباقر ابن الإمام زین العابدین ابن الإمام الحسین ابن الإمام علی بن ابی طالب رضی الله عنه".
’’ جان لیں یقینا مھدی(ع) ظہور کریں گے ۔ لیکن وہ اس وقت تک ظہور نہیں کریں گے جب تک زمین ظلم و جور سے بھر نہیں جاتی، پس وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور اگر دنیا کا ایک دن باقی بچا ہو تو خدا اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا تاکہ یہ خلیفہ خدا ظہور کرے اور وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی نسل سے ہوں گے، فاطمہ زہرا کی اولاد میں سے ہوں گے اور ان کے جد حسین بن علی بن ابی طالب اور ان کے والد امام حسن العسکری بن امام علی النقی بن امام محمد التقی بن امام موسی الکاظم بن امام جعفر الصادق بن محمد الباقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہوں گے‘‘۔
اس روایت میں انہوں نے کس قدر دقت کے ساتھ پورا شجرہ نسب آخر تک بیان کیا ہے۔
ابنا: کوئی اور مورد بھی ایسا ہے؟
جی ہاں، بعینہ یہی بات مصر کے عالم شیخ حسن العدوی الحمزاوی متوفیٰ ۱۱۳۳ ھ،ق نے کتاب مشارق الانوار کے صفحے ۱۸۷ میں فتوحات مکیہ سے نقل کیا ہے۔ لیکن توجہ رہے کہ کتاب مشارق الانوار جو مصر میں چھپی ہے وہ صحیح نہیں ہے( اس میں تحریف کی گئی ہے) یہ بات اس کتاب کے خطی نسخے میں موجود ہے۔

۔ جی پوچھیے۔
ابنا: کیا امام زمانہ(ع) جزیرہ خضرا یا جسے مثلث برمودا بھی کہا جاتا ہے وہاں پر زندگی گزار رہے ہیں؟
اس بات کی کوئی معتبر دلیل نہیں ہے۔
ابنا: کیا امام زمانہ (ع) کے سپاہی صرف ۳۱۳ افراد ہی ہوں گے؟
بعض روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ امام زمانہ (ع) کے ۳۱۳ مخصوص صحابی ہوں گے کہ جن میں سے ہر کوئی ایک خاص خصوصیت کا حامل ہو گا۔
ابنا: کیوں روایات میں امام زمانہ (ع) کے قیام کو امام حسین (ع) کے قیام سے تشبیہ دی گئی ہے اور آپ کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کو آگے بڑھانے والا کہا گیا ہے؟
اس لیے کہ ان دونوں قیام کا مقصد حق کی سربلندی ہے اور دونوں کا کام علم کی نشر و اشاعت اور جہالت کی نابودی ہے۔
ابنا: مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟
اگر امام امام زمانہ (ع) کے بارے میں ہمارا مطالعہ دقیق اور عمیق ہو گا تو ہم آسانی سے جھوٹے دعویداروں کو پہچان لیں گے۔ علاوہ بر ایں، خداوند عالم بھی جھوٹوں کو رسوا کرتا ہے۔
ابنا: عصر غیبت میں منتظرین (خاص طور پر جوانوں) کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟
عصر غیبت میں منتظرین کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے فرائض پر عمل کریں۔ خاص طور پر نوجوان جن کا باطن پاکیزہ ہو ہے اگر وہ اپنے فرائض پر عمل کریں گے تو یقینا نتیجہ خیز ہو گا۔
ابنا: آپ کے نہایت شکرگزار ہیں جو آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا۔ آخر میں اگر کوئی نصیحت کرنا چاہیں گے تو بیان کیجیے۔
میں اپنے جوانوں سے یہ کہوں گا کہ عصر غیبت میں ہمارے جوان علمائے حق سے دور نہ ہوں۔
اے ساکن غیبت! تیری غیبت دنیا کے ہر حصے میں تیری موجودگی کی علامت ہے تو وہ روشنی ہے جو درخشاں ہے اور تو وہ حقیقت ہے جو پردۂ مشیت میں رہ کر بھی اہل عشق و معرفت پر ہویدا ہے۔ اے گل نرگس ! تیرا نام گل،تیری خوشبو ایمان،تیری کنیت آفتاب،تیری صبح صبح اسلام،تیری شام شام غیبت اور تیرا ظہور عدل و انصاف ہے۔اے فرزند عسکری ! تیری دوری خدا کی دوری سے نزدیک،تیری قربت خدا کی قربت سے قریب،تیری روشنی آفتاب کی روشنی کی طرح ہماری دسترس میں اور تیری مہربانیاں باران رحمت کی طرح اپنی پھواروں سے ہمیشہ ہم کو تروتازہ رکھتی ہیں۔اے نور و جان محمد! تیرا وجود اپنے جدامجد کی طرح تمام خوبیوں کا سر چشمہ،تمام خوشبوؤں کا معدن اور تمام روشنیوں کا سراپا ہے۔اے ہم نام و ہم نشان رسول اسلام ! تیری جدائی عزیزترین معشوق کے فراق سے زیادہ شاق،تیرا انتظار طلوع آفتاب سے زیادہ اجلا اور امید افزا اور تیری آمد تمام بہاروں سے زیادہ پر بہار اور تمام ترانوں سے زیادہ طرب انگیز ہے۔یقینا" تیرے ظہور کا دن شب قدر سے زیادہ پر نور،بلند اور عظیم ہوگا۔شب قدر اگر ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو تیرا روز ظہور ہزار برسوں سے زیادہ منور ہوگا۔خدایا! مہدی موعود کے ظہور کا وہ نورانی دن دیکھنا کیا ہمارے نصیب میں بھی ہوگا ؟
ہمارا
سلام ہو تجھ پر اےمہر و محبت سے سر شار باران رحمت ہمارا سلام ہو تجھ پر
اے خوشبوئے حیات سے معطر شگوفہ ترین گل سر سبد ہستی۔ ہمارا سلام ہو تجھ پر
اے نور ازل سے منور بلند ترین ستارۂ آرزو۔ہمارا سلام ہو تجھ پر اے ساز وحدت
پر چھیڑے گئے حسین ترین نغمۂ انتظار۔سالہا سال اور برسہا برس سے ہم دنیا
کی تاریکیوں میں غرق ہیں اور ایمان و یقین کی نگاہیں بچھائے تیرے ظہور کی
چاپ کے منتظر ہیں۔ تیری غیبت کا یہ دور آدمیت و انسانیت کے قحط کا دور
ہے۔دنیا نان و نان و نمک کی بھوک اور نام و نمود کی تشنگی میں مبتلا ہے۔
دنیا والے تعیش و تجملات کی اشیاء کے عاشق ،مشینی رفتار سے پٹریاں بدلنے
والے افکار و نظریات کے گرویدہ ہیں،زندگیاں یکسانیت کی مریض اور شہوانیت کی
اسیر ہو چکی ہیں۔قدم روز بروز ناتواں،دل پتھر کی طرح سخت،آنکھیں آئینوں کی
طرح بے حس آرزوئیں یتیم،فریادیں بانجھ اور آوازیں گونگی ہوتی جا رہی ہیں۔
شب دن سے زیادہ بیدار اور محرومی ظلم و ستم سے زیادہ پائیدار ہو گئی
ہیں۔لمحے سانسوں پر بھاری، صدائیں نیم مردہ،آنکھیں خوف زدہ،دیواریں نا امن
اور گھر اجنبیوں کا اڈہ بن گیا ہے۔عراق خون میں لت پت ہے،افغانستان کی
ہڈیاں چٹخ رہی ہیں اور فسطین ملبوں میں دفن ہو جانا چاہتا ہے،اور ارد
گرد،کسی قبرستان کی مانند سناٹا چھایا ہوا ہے۔ایسے ماحول میں،تیرے ایران کی
فریادیں،نعرے اور جہادو استقامت کی آوازیں طاغوتی طاقتیں گلے میں ہی گھونٹ
دینا چاہتی ہیں۔کون محروموں،مظلوموں اور بے بس و لاچار دینداروں کو سہارا
دے۔تیرے سوا کون ہے،ہم کس کو آواز دیں، کیا اب بھی پردۂغیبت اٹھانے کی ساعت
نہیں آئی ہے۔ کیا اب بھی دنیا سے ظلم و ستم اور کشت و خونریزی کےخاتمے کا
وقت نہیں آیا ہے۔کیا اب بھی عدل و انصاف کی برقراری کے متعلق وعدۂ الہی کے
پورے ہونے کے خوشگوار لمحات نہیں آئے ہیں۔ حکومت محمدی (ص) کی برقراری اور
حکمت علوی (ع) کی پائیداری کے دن کب دیکھنے کو ملیں گے؟فرزند زہرا(س) !
تیری حکومت تمام انبیا ء(ع) کی مشقتوں کا خواب اور تیری ولایت تمام ائمہ(ع)
کی قربانیوں کے حساب کا دن ہے۔کیا کوئی ہاتھ ہے جو تیرے ظہور کا پرچم بلند
کر نے کی آرزو نہ رکھتا ہو،کیا کوئی آنکھ ہے جو تیرے ظہور کا زمانہ دیکھنے
کے لئے اشک فشاں نہ ہو،آیا کوئی دل ہے جس میں تیرے ظہور کے انتظار کی
دھڑکنیں نہ اٹھتی ہوں، آیا کوئی سر ہے جس میں تیرے ظہور کے مشاہدہ کا سودہ
نہ پایا جاتا ہو،آیا کوئی دن ہے جو تیرے شوق زیارت میں شام سے ہمکنار نہ
ہوتا ہو،آیا کوئی رات ہے جو تیرے شوق دیدار میں طلوع آفتاب کی منتظر نہ
رہتی ہو، آیا کوئی گلی ہے جہاں مہدی موعود کے (ع) انتظار کے قمقمے نہ جل
رہے ہوں اور آیا کوئی گھر ہے جہاں عسکری (ع) کے مولود کا جشن چراغاں نہ
برپا ہو؟ فرزند رسول (ص) امام محمد تقی علیہ السلام کی دختر گرامی،امام علی
نقی علیہ السلام کی بہن حکیمہ خاتون بیان کرتی ہیں "ایک دن اپنے بھتیجے
امام حسن عسکری کے گھر مہمان تھی،رخصت ہونے لگی تو امام علیہ السلام نے
فرمایا،پھوپھی! آج کی رات آپ یہیں میرے یہاں ٹھہریں، آج خدا کی آخری حجت کی
ولادت ہونے والی ہے۔میں نے حیرت کے ساتھ عرض کی: مگر نرجس خاتون کے یہاں
تو اس طرح کے آثار نظر نہیں آتے۔امام نے فرمایا : جی ہاں! خداوند عالم اپنی
حجت دنیا میں بھیجنے کے لئے وقت ضرورت اسی طرح کا اہتمام کرتا ہے۔حضرت
موسی (ع) کی ماں کے یہاں بھی آثار حمل نہیں تھے،فرعون کی تمام بندشوں کے با
وجود حضرت موسی (ع) دنیا میں آئے اور فرعونیوں کو خبر بھی نہ ہو سکی،خدا
نے دشمنان محمد و آل محمد علیہم السلام کےشر سے اپنی آخری حجت کی حفاظت کے
لئے یہ اہتمام کیا ہے۔جناب حکیمہ کہتی ہیں : میں امام کی فرمائش پر گھر میں
رک گئی اور بے چینی سے اس مبارک و مسعودگھڑی کا انتظار کرتی رہی، نماز شب
تمام کرچکی تھی لیکن ابھی تک حمل کے آثار ظاہر نہیں تھے۔دل میں اضطراب پیدا
ہوا تو امام علیہ السلام کی آواز آئی : پھو پھی پریشان نہ ہوں جو کچھ میں
نے کہا ہے اس کے ظہور کا وقت قریب آرہا ہے،تھوڑی دیر بعد،نرجس خاتون بھی
خواب سے بیدار ہوئیں وضو کیا،نماز شب ادا کی اور آکر بستر پر لیٹ گئیں کہنے
لگیں پھوپھی مجھے کچھ درد کا احساس ہو رہا ہے، میں مسئلہ کی طرف متوجہ ہو
گئی اور تسکین دیتے ہوئے کہا : بیٹی گھبرانے کی بات نہیں ہے خدا نے تم کو
اپنی آخری حجت کی ماں بننے کا شرف عطا کیا ہے۔امام حسن عسکری علیہ السلام
نے فرمایا : پھوپھی سورۂ "انا انزلنا ہ " کی تلاوت فرمائیے،میں نے سورۂ قدر
پڑھنا شروع کی محسوس ہوا بطن مادر میں بچہ میرے ساتھ تلاوت کر رہا ہے یکا
یک میرے اور نرجس کے درمیان نور کا ایک پردہ حائل ہو گیا ۔میں نے امام علیہ
السلام کو آواز دی،امام حسن عسکری (ع) نے پر سکون رہنے کی فرمائش کی۔پردہ
چھٹا تو میں نے دیکھا زمین پر ایک چاند سا بچہ بارگاہ الہی میں سجدہ ریز
ہے۔سجدے سے سر اٹھا کر بچے نے کلمۂ شہادتین زبان پر جاری کئے اور تمام ائمہ
(ع) کی امامت کی گواہی کے بعد کہا : خدایا،اپنے وعدہ کو پورا کر دے،اپنے
امر کی تکمیل فرما اور میرے ذریعے زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دے۔بچے
کے داہنے شانے پر " جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا،کانقش تھا
اور زبان پر یہ آیت تھی : ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض
۔۔۔"۔امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے جد امجد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کے حکم کے مطابق خدا کی آخری حجت کا نام بھی اپنے جدامجد کی طرح
محمد (ع) اور کنیت ابوالقاسم قرار دی۔اور یہ امام مہدی (ع) کی خصوصیات میں
سے ہے۔ہمارے پیش نظر ہے کہ اس مبارک و مسعود یوم ولادت کی مناسبت سے پورے
عالم اسلام میں سروروشادمانی کا ایک جشن برپا ہے،جگہ جگہ گھروں،سڑکوں اور
مسجدوں میں چراغانی کے اہتمام نے تاروں بھرے آسمان کو بھی اپنی رونق
آرائیوں سے شرمندہ کر رکھا ۔ مذہب اسلام کی مقدس کتابوں میں شب برات ایک
بڑی محترم برکت و سعادت والی رات ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے چشم
تصور میں جتنا مسرت آگیں چہرہ اس رات کا ہے،قدر کی رات کو بھی وہ قدر میسر
نہیں ہوپاتی۔شب برات کو احادیث میں لیلۃ البراءت،لیلۃ
السمک،لیلۃالرحمۃ،لیلۃ المبارکہ یعنی آتش جہنم سے آزادی دلانے والی رحمت و
برکت کی رات یا صحیح تلفظ کے ساتھ شب براءت اور عام زبان میں شب برات یا
شبھ رات بھی کہتے ۔معتبر حدیثوں میں ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) یہ پوری رات
بقیع کے قبرستان میں گزارتے اور نمازو دعا میں مشغول رہتے تھے اسی لئے اس
شب میں قبرستان جانا اور عبادت و دعا میں مشغول رہنا برکت و ثواب کا باعث
ہے۔چونکہ اسی شب میں امام مہدی (ع) کی ولادت بھی ہوئی ہے اس لئے یہ شب" نور
علی نور " ہو گئی ہے۔اہل ایمان کا جوش محبت اسی لئے دو آتشہ ہو جاتا
ہے۔علامہ زمخشری نے اس شب کی 5 خصوصیات بتائی ہیں۔1 روزی مقرر ہوتی ہے۔2
حیات تقسیم ہوتی ہے۔3 عبادت ثواب کثیر کی حامل ہے۔4 رحمت کا نزول ہوتا ہے۔5
اور یہی وہ رات ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کو شفاعت کا حق حاصل ہوا ہے اور
غالبا"اسی مناسبت سے لوگ اپنے لئے اور اپنے مرنے والوں کے لئے دعائے مغفرت
کرتے۔
صورت مبارک
امام مہدی (عج) کا چہرہ گندم گوں، بھنویں مثلِ کمان کھینچی ہوئیں، آنکھیں سیاہ اور جاذب نظر، پیشانی اونچی اور روشن، ہڈیوں کی ساخت استوار و محکم، عبادت اور شب زندہ داری کے وجہ سے رخسار زردی مائل اورکم گوشت، جسم کے جوڑوں میں استحکام اور تناسب، شکل دلربا، اور جالب نظر، بزرگی و ہیبت و حیا میں نظریں ڈوبی ہوئیں اورچہرے سے قائدانہ لیاقتیں جھلگتی ہوں گی، نظریں انقلاب آفرین، آپ کی صدای حق پرست عالمگیر اور آپ کا جوش ولولہ طوفان بدوش ہوگا۔
دینداری و بندگی
جس طرح کوئی عقاب اپنے پروں کو کھولے سرنہوڑائے آسمان سے نشیب کی طرح اترتا ہے، آپ (عج) اسی طرح خداوند متعال کی عظمت و جلالت کے سامنے فروتن اورمنکسّرہوں گے ۔ آپ (عج) سرا پا وجود، میں عظمت الہی جلوہ فگن اوراس کی بزرگی و عظمت متجلی ہوگی ۔ آپ (عج) عدالت کا پاک و پاکیزہ سرچشمہ ہوں گے کہ ذرہ برابر کسی کا حق ضایع نہ ہونے دیں گے۔خداوند حکیم آپ (عج) کے ہاتھوں دین اسلام کو عزت و عظمت سے نوازے گا آپ (عج) دنیا کی فنا پذیر چیزوں سے بے پرواہ ہوں گے اور خدا کے نہایت قریب ہونے کے باوجود بھی اس مقام پر مغرور نہ ہوں گے ۔
اخلاق و کردار
آپ(عج) مجد و بزرگی، سکون قلب اور وقار و عزت کے مالک ہوں گے لباس دبیز اور کھردار، آپ(عج) کی غذا اپنے جدا امجد علی بن ابی طالب (عج) کی طرح جو کی روٹی اور ضبط نفس علم و حلم اور برد باری میں تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہوں گے ۔آپ (عج) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے ہم نام،لقب مہدی، بقیتہ اللہ، منتظر اور سیرت و کردار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی مثال ہوں گے ۔ آپ (عج) کا وجود گرامی دنیا والوں کے لئے مشعل ہدایت اور پوری حیات نیکیوں اورخوبیوں کا سرچشمہ ہوگی۔ رفتار و عمل بوقتِ قیام حضرت علیہ السلام دوستی و یگانگت کی ایسی فضا ہوگی کہ لوگ بلا روک ٹوک اپنی ضروتوں کے مطابق پیسے و غیرہ ایک دوسرے کی جیب سے نکال لیا کریں گے ۔ آپ (عج) کے زمانے میں دلوں سے کینے صاف ہوجائیں گے اور روی زمین کا چپہ، چپہ امن اور آسایش کی سانس لے رہا ہوگا۔
سخاوت
آپ (عج) سخاوت میں بے نظیر، بلاتکلف لوگوں کو عطا کرنے والے ہوں گے لیکن اپنے کار گزاروں اور عاملینِ حکومت کی نسبت حق و انصاف کی خاطر نہایت سخت ہوں گے، کمزوروں بی کسوں، حاجتمندوں، اورمظلوموں کے لئے اس طرح رحمدل اور مہربان ہوں کے جیسے بنفس نفیس مسکینوں اور فقیروں کے دہن میں شِیر و عسل ڈالتے ہوں گے۔ آپ (عج) کی زندگی قناعت، زہد و پارسایی میں امیرالمومنین علی علیہ السلام کی حیات طیّبہ کا عملی نمونہ ہوگی۔
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا
ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ الدار نے ایک مضمون میں علاقے کے حکمرانوں کے
خلاف شروع ہونے والے احتجاجی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ
عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب لوگ جو اس وقت صدر یا بادشاہ کے زوال کے
خواہاں ہیں اور اسی حوالے سے نعرے لگا رہے ہیں کہ "قوم صدر کا زوال چاہتی
ہے" یا "قوم بادشاہ کا زوال چاہتی ہے"، نیا نعرہ لگانا شروع کریں گے کہ
"قوم امام مہدی کا ظہور چاہتی ہے"۔
کالم نگار «حسن الانصاری» اس مضمون
میں لکھتے ہیں: عالم اسلام میں مسلسل حادثات و واقعات کا سلسلہ جاری ہے،
عالم اسلام کو وار زون قرار دیا گیا ہے، برادرکشی اور ظالمانہ تشدد پسندی،
عرب اور مسلم عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ شدید سے شدید تر ہوگیا ہے اور بے
گناہ نوجوانوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے ایک بار پھر امت کے نجات دہندہ حضرت
حجت بن الحسن العسکری المہدی (عج) کی میلاد نے ناامیدوں کی امیدیں زندہ
کرلی ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا: جن لوگوں نے یہ بین الاقوامی ظالمانہ
پالیسیاں اپنا کر امّہ پر ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے، وہ بخوبی
جانتے ہیں کہ امام مہدی (عج) کا ظہور آج کی عالمی سیاست کا رکن رکین ہے
کیونکہ انتہاپسند یہودی ظہور کے بارے میں بڑی طاقتوں کو مسلسل خبردار کررہے
ہیں۔
انھوں نے لکھا: عالمی نجات دہندہ کا مسئلہ عالمگیر ہے اور آج ظہور
صرف شیعہ مسئلہ نہیں ہے لیکن شاید وہ فارمولا ابھی مکمل طور پر عملی جامہ
نہیں پہن سکا ہے اور عالمی سطح پر ظلم و جبر کی سطح اس حد نہیں پہنچی ہے جس
کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالی نے امت کو امام مہدی (عج) کی ظہور کی بشارت دی
ہے کیونکہ بعض عالمی عوامل اور اصول اور متغیرات (Terms & variables)
ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا ہے کہ دنیا کی آج کے
سیاستدان جو دنیا پر مسلط ہیں، ہماری امت کے خلاف منصوبہ بندیاں کررہے ہیں
لیکن اللہ کی مشیت ـ جس نے ابراہیم (ع) کو اور ان سے قبل نوح (ع) کو اور ان
کے بعد موسی (ع) کو اور سب کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ و سلم کو نجات دی اسی ـ کا وعدہ ہے کہ اس امت کو عالم ظلم و جبر سے
نجات ملنے والی ہے۔
حسن الانصاری نے کہا: گذشتہ عشرون میں دشمنان اسلام
نے علاقے کے ممالک نیز شمالی افریقی ممالک کو ان کے آداب و تمدن نیز
مفاہیم و معانی سے خالی کردیا اور اس کے بعد انہیں عقائد اور تہذیبوں کی
جنگوں میں دھکیل دیا حتی کہ سیاسی اور سماجی کشمکش کی باری بھی آگئی اور
ریشہ دوانیاں بدستور جاری ہیں اور مقصد یہ ہے کہ اسلام کی اصل روح پس پردہ
ہی رہے چنانچہ امت مسلمہ کے دشمنوں نے المناک منصوبوں اور لوائح عمل کی
بنیاد پر استبدادی نظاموں اور آمریتوں کی بنیاد رکھی حتی کہ عالم عرب کا
غضب آخر کار ظاہر ہوگیا اور وہ بھی ایسے زمانے میں کہ "عرب قوموں کے پاس
کھونے کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے اور کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل
کرنے کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا"۔
انھوں
نے آخر میں لکھا ہے: آج عرب اقوام نے اپنی استبدادی حکومتوں کے خلاف
انقلاب کا آغاز کیا ہے اور ان سب کا مشترکہ نعرہ ہے کہ "ملت نظام حکومت کی
سرنگونی چاہتی ہے"، "قوم صدر کی برطرفی کی خواہاں ہے"، ایسے حال میں کون اس
عالمی وحشیانہ لائحہ عمل کا راستہ روک سکتا ہے، اور عرب قومیں کب تک سڑکوں
پر آکر ظالموں کی سرنگونی کا مطالبہ کرسکیں گی اور کب تک عالمی طاغوت کے
مد مقابل استقامت کرسکیں گی؟ جب صبر کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے اور سیاسی
حکمرانوں سے ملتوں کی امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں اور عرب اور مسلم عوام کی
بات ایک اور امت کی امید زندہ ہوجاتی ہے وہ دن بھی آئے گا جب لوگ نعرہ
لگائیں گے کہ "امت اسلامی مہدی منتظَر (ع) کے ظہور کے خواہاں ہیں"۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ، ترتیب و اضافات: ف۔ح۔مہدوی
سفیانی کے بارے میں تفصیل کے ساتھ
روایات شریفہ وارد ہوئی ہیں اور اس شخص نے امام زمانہ (ع) کے ظہور سے قبل
یا آپ (عج) کے ظہور کے وقت ظاہر ہونے والے دیگر اشخاص سے زیادہ توجہ اپنی
جانب مبذول کرائی ہے اور اس کے بارے میں سمجھنے اور سمجھانے کی غرض سے بہت
زیادہ اہتمام ہوا ہے اور شاید اتنے زیادہ اہتمام کا سبب یہ ہو کہ جس زمانے
میں یہ شخص بازیگری دکھائے گا وہ زمانہ نہایت اہم اور قابل توجہ ہوگا اور
ہم بھی یہاں اس کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کریں گے۔
سفیانی ملعون کا خروج حتمی ہے
بڑی
تعداد میں روایات شریفہ میں تصریح ہوئی کہ سفیانی اور اس کا خروج اور اس
کی تحریک امور محتومہ میں سے ہے اور امر محتوم وہ ہے جس کو زائل کرنا یا اس
کا سد باب کرنا ممکن نہيں ہے اور وہ حتمی الوقوع ہے۔ اس شخص کے خروج کی
حتمیت اس فضیل بن یسار کی روایت سے ثابت ہے؛ جو نقل کرتے ہیں: «عن أبي جعفر عليه السلام قال: «إن من الأمور أمورا موقوفة وأمورا محتومة، وإن السفياني من المحتوم الذي لابد منه» (كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص313).
بے
شک امور میں سے بعض موقوفہ ہیں [یعنی خدا کی مرضی سے تغیر و تبدل پذیر ہیں
اور اس کی مرضی پر منحصر ہیں] اور بعض دیگر حتمی ہیں اور سفیانی حتمیات
میں سے ہے۔
وكذلك رواية حمران بن أعين
انه قال للإمام أبي جعفر الباقر صلوات الله وسلامه عليه: «إني لأرجو أن
يكون أجل السفياني من الموقوف فقال أبو جعفر عليه السلام: لا والله إنه لمن
المحتوم» (راجع كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص312 ــ 313).
اور
حمران کی روایت بھی ایسی ہی ہے جنہوں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض
کیا: مجھے امید ہے کہ سفیانی امور موقوفہ میں سے ہو تو امام علیہ السلام نے
فرمایا: نہیں، خدا کی قسم! یہ شخص محتومات میں سے ہے۔
اور بعض روایات
میں ہے کہ سفیانی کے خروج کی پیشین گوئی وعد الہی کے زمرے میں آتا ہے اور
اللہ تعالی وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا۔ اور بعض دیگر روایات میں تصریح ہوئی
ہے کہ قائم (عج) سفیانی کے بغیر نہیں ہونگے۔ جیسا کہ امام علی بن الحسین
زین العابدین علیہ السلام سے کی روایت دیکھئے:
عن
الإمام علي بن الحسين صلوات الله وسلامه عليه قال: «إن أمر القائم حتم من
الله، وأمر السفياني حتم من الله، ولا يكون قائم إلا بسفياني»
(راجع قرب الإسناد للحميري القمي: ص374. بحار الأنوار للمجلسي: ج52، ص182. مسند الإمام الرضا للشيخ عزيز الله عطاردي: ج1، ص217).
قائم
علیہ السلام کا امر اللہ کی جانب سے حتمی ہے اور سفیانی کا امر اللہ کی
جانب سے حتمی ہے اور قائم علیہ السلام کا حضور سفیانی کے بغیر نہیں ہوگا۔ سفیانی کا نسب، مقام خروج اور خصوصیاتروایات
شریفہ میں ہے کہ سفیانی اموی نسل اور معاویہ کے باپ، ہند جگرخوار کے شوہر
اور یزید پلید کے داد ابوسفیان کی اولاد سے ہوگا اور بعض روایات میں واضح
طور پر فرمایا گیا ہے کہ ہند جگر خوار اس کی دادی ہے۔ اور شام کی سرزمین
میں واقع "وادی الیابس" سے خروج کرے گا۔
جسمانی خصوصیات اور فیزیکی
حوالے سے بھی روایات نے بیان کیا ہے کہ وہ نہ بہت طویل القامت ہوگا اور نہ
ہی چھوٹے قد کا ہوگا بلکہ متوسط قد کا مالک ہوگا اور اس کا چہرہ شیطانی اور
بھوتوں جیسا ہوگا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بدشکل اور قبیح المنظر ہوگا۔
اور ممکن ہے کہ مذکورہ اوصاف کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وحشی پن اور
قساوت قلبی اور سنگدلی کے اثرات اس کے چہرے سے واضح ہونگے اور ہر دیکھنے
والا ان خصوصیات کو اس کے چہرے سے ہی بھانپ سکے گا اور اس کا مفہوم یہ بھی
ہوسکتا ہے کہ اس کو دیکھنے والا ہر شخص خوف و وحشت سے دوچار ہوجائے گا۔
اس
کے دیگر اوصاف میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا چہرہ معمول سے بڑآ ہوگا اور اس
کے چہرے پر چیچک کے اثرات ہونگے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خروج سے قبل
ہی چیچک کی بیماری میں مبتلا ہوجائے گا یا شاید یہ اثرات پیدائشی ہوں اور
خلقت میں نقص کا نتیجہ ہوں یا ولادت کے وقت یا اس کے بعد عارض ہوئے ہوں۔
سفیانی
کی ایک جسمانی خصوصیت کہ ہے کہ اس کی ایک آنکھ میں خلل ہے اور دیکھنے
والوں کو کانا لگتا ہے۔ اور امام ابی عبداللہ جعفر صادق علیہ السلام سے
مروی ہے کہ: «قال أبي صلوات الله وسلامه
عليه قال أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه: يخرج ابن آكلة الأكباد من
الوادي اليابس وهو رجل ربعة، وحش الوجه، ضخم الهامة، بوجهه أثر جدري إذا
رأيته حسبته أعور، اسمه عثمان وأبوه عنبسة، وهو من ولد أبي سفيان»۔ وعن
عثمان عن عمر بن يزيد قال: قال لي أبو عبد الله الصادق صلوات الله وسلامه
عليه: «إنك لو رأيت السفياني لرأيت أخبث الناس»
(راجع كمال الدين وتمام النعمة للشيخ الصدوق: ص651).
میرے
والد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ امام امیرالمؤمنین صلوات
اللہ و سلامہ علیہ نے فرمایا: ہند جگر خوار کا بیٹا وادی یابس سے خروج کرے
گا جو متوسط قد اور بڑے چہرے کا مالی ہے اور اس کے چہرے پر چیچک کا نشان
ہے، اسے دیکھوگے تو کانا سمجھوگے اس کا نام عثمان اور اس کے باپ کا نام
عنبسہ ہے اور وہ ابو سفیان کی اولاد سے ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے
فرمایا کہ بے شک جب تم سفیانی کو دیکھوگے تو گویا تم نے خبیث ترین شخص کو
دیکھا ہے۔ اس کا نام اور اس کی منحوس حکومت کی مدتبعض
روایات میں کہا گیا ہے کہ اس کا نام عثمان بن عنبسہ ہے جیسا کہ مندرجہ
بالا روایت میں بھی عرض ہوا لیکن ہم کچھ دوسری روایات میں دیکھتے ہیں کہ
امام علیہ السلام سے جب اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو امام (ع) اس کے
نام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور سائل کو ہدایت کرتے ہيں کہ اس شخص کی دیگر
اوصاف کو توجہ دے اور دوسرے معیارات کو مد نظر رکھے جو اس کی شخصیت کو
واضح کرتے ہيں اور ممکن ہے کہ امام علیہ السلام کی طرف سے سفیانی کے نام کی
عدم اہمیت کی وجہ یہ ہو کہ وہ شاید خروج کے بعد دوسرا نام اختیار کرے اور
اس نام کے پس پردہ اپنے اصل تشخص کو چھپانا چاہے چنانچہ اس کے نام پر توجہ
مرکوز کرنا بے فائدہ عمل ہے۔
پس اہم بات یہ ہے کہ ہم اس کی دیگر خصوصیات
کو جان لیں اور سمجھ لیں جن سے اس کی تشخیص ممکن ہوسکے گی۔ ان خصوصیات میں
سے ایک یہ ہے کہ سفیانی پانچ علاقوں پر حکومت کرے گا اور ان علاقوں کو
روایات میں "کور الخمس" کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے؛ اور یہ کہ اس کی حکومت
کی مدت آٹھ مہینے ہوگی اور اتنا ہی عرصہ سلطنت میں رہے گا اور حتی آٹھ
مہینوں سے ای دن بھی اس کی حکمرانی زیادہ نہ ہوگی۔ عن
عبد الله بن أبي منصور البجلي قال: سألت أبا عبد الله صلوات الله وسلامه
عليه عن اسم السفياني فقال: «وما تصنع باسمه، إذا ملك كور الشام الخمس
دمشق، وحمص، وفلسطين، و الأردن، وقنسرين فتوقعوا عند ذلك الفرج، قلت: يملك
تسعة أشهر؟ قال: لا ولكن يملك ثمانية أشهر لا يزيد يوما» (راجع كمال الدين وتمام النعمة للشيخ الصدوق:ص651 -652).
عبداللہ
بن ابی منصور البجلی سے روایت ہے: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سفیانی
کا نام پوچھا تو آپ (ع) نے فرمایا: تم اس کے نام کا کیا کروگے؟ بس جب وہ
شام کے پانچ علاقوں "دمشق، حمص، فلسطین، اردن اور فنسرین پر حکومت کرے گا
تو اس زمانے میں فَرَج اور فراخی کی توقع کرو۔
میں نے عرض کیا: کیا وہ نو مہینوں تک حکومت کرے گا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں! بلکہ آٹھ مہینے حکومت کرے گا اور اس مدت میں ایک دن کا بھی اضافہ نہ ہوگا۔
دوسری روایت کچھ تفصیل سے وارد ہوئی اور اس میں سفیانی کی مدت حکومت کچھ زیادہ بتائی گئی ہے:
عن
عيسى بن أعين عن أبي عبد الله الصادق صلوات الله وسلامه عليه أنه قال:
«... ومن أول خروجه إلى آخره خمسة عشر شهرا، ستة أشهر يقاتل فيها، فإذا ملك
الكور الخمس ملك تسعة أشهر ولم يزد عليها يوما»
(كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص310).
عیسی
بن اعین نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ "آپ" نے فرمایا: ...
اور سفیانی کے خروج سے اس کے زوال تک کا عرصہ پندرہ مہینوں پر محیط ہوگا جن
میں سے وہ چھ مہینوں تک مسلسل لڑتا رہے گا اور جب پانچ علاقوں پر مسلط
ہوکر حکمرانی کرنا شروع کرے گا اس کے ٹھیک نو مہینے بعد اس کی حکومت زوال
پذیر ہوگی اور اس پر ایک دن کا اضافہ بھی نہ ہوگا۔
اور ہاں ان دو روایات
میں تضاد نہیں پایا جاتا بلکہ پہلی روایت اس کی اصل حکومت کی مدت بیان
کرتی ہور جبکہ دوسری روایت اس آٹھ مہینوں کی بات کررہی ہے جب وہ حکومت کرے
گا اور ایک مہینہ وہ دور ہے جب اس کے زوال کے بعد اسی کے ہاتھوں پھیلے ہوئے
فتنے جاری رہیں گے۔ یہ حکومت دوسری حکومتوں کی مانند ہوگی اور اس کے
اثرات زوال کے بعد بھی قلیل یا حتی طویل مدت تک باقی رہیں گے۔ امید ہے کہ
امام محمد باقر علیہ السلام کی آنے والی حدیث اس مسئلے کو بہتر انداز سے
واضح کردے جو ان روایات کو جمع کرکے ان کی وضاحت کرتی ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: «... وإنما فتنته حمل امرأة تسعة أشهر ولا يجوزها إن شاء الله»۔
(سابقہ حوالہ ص312).
اور بے شک اس کا فتنہ عورت کے حمل کے برابر (9 مہینے) جاری رہے گا اور ان شاء اللہ اس مدت میں کوئی اضافہ نہ ہوگا۔
اس
ارشاد امامت میں "وإنما فتنته" میں اس بات کی واضح دلالت ہے کہ اس کی
حکومت 9 مہینوں کا یہ دور سفیانی حکومت اور اس کے بعد برے اثرات کی مدت کی
مجموعی مدت ہے۔ اور پھر امام علیہ السلام نے "لا يجوزها إن شاء الله"
فرما کر سفیانی کی حکومت کی مدت کو اللہ کی مشیت کے حوالے فرمایا ہے جو اس
بات کی دلیل ہے کہ 9 مہینے کی مدت بھی حتمی اور جزمی نہيں ہے چنانچہ ہو
سکتا ہے کہ اس کی حکومت کی مدت 9 مہینے کی مدت سے زیادہ طول پکڑے یا پھر یہ
مدت بھی کم ہوجائے۔ مدت حکومت میں یہ کمی یا زیادتی سفیانی کی تحریک کے
موضوعی اور معروضی حالات پر منحصر ہے اور "لوح محو و اثبات" (اور تقدیر الہی) کے ذریعے اس مدت کا صحیح اور دقیق تعین ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ"
(سورة الرعد، الآية: 39).
اﷲ
جس (لکھے ہوئے) کو چاہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور
اسی کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یا لوحِ محفوظ یا لوح محو و اثبات) ہے۔
چنانچہ
امام علیہ السلام نے خروج سفیانی کو حتمی الوقوع قرار دیا ہے لیکن اس کی
حکومت کو کمی یا زیادتی کا قابل قرار دیا ہے اور اس کمی یا زیادتی کو اللہ
کی مشیت سے متعلق قرار دیا ہے۔
سفیانی کا دین
روایات
سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص مسلمان نہيں ہے یا پھر مسلمان ہے لیکن اس کے
رجحانات صلیبی ہیں جو اسلام کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتے اور یہ بات حضرت
امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس ارشاد سے واضح ہوتی ہے جہاں آپ (ع) فرماتے
ہیں: قال أميرالمؤمنين صلوات الله وسلامه عليه: «وخروج السفياني براية خضراء وصليب من ذهب» (مختصر بصائر الدرجات للحسن بن سليمان الحلي: ص199).
"اور سفیانی کا خروج سبز جھنڈے اور سونے کی صلیب کے ہمراہ ہوگا۔
اور بشیر [یا بشر] بن غالب سے روایت ہے کہ: يقبل السفياني من بلاد الروم منتصرا في عنقه صليب وهو صاحب القوم۔ (كتاب الغيبة للشيخ الطوسي: ص463).
سفیانی بلاد روم سے صلیب گردن میں لٹکائے فاتحانہ انداز سے آگے بڑھے گا جبکہ اس کے ساتھ اس کا گروہ بھی ہوگا۔
چنانچہ
اگر ہم سفیانی کی مسلمانی کے قائل ہو بھی جائیں تو اس کا اسلام بالکل
ظاہری اور نمائشی ہوگا کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو اسلام کے احکام
کو تسلیم نہیں کرتے اور اللہ کے واجبات اور فروض ادا نہیں کرتے جس طرح کہ
امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: «السفياني... لم يعبد الله قط ولم ير مكة ولا المدينة قط» (بحار الأنوار للعلامة المجلسي: ج52، ص254).
سفیانی وہ ہے جس نے کبھی بھی اللہ کی بندگی نہیں کی اور اس نے کبھی بھی مکہ اور مدینہ کبھی بھی نہیں دیکھا۔
سفیانی امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پرنور سے چھ مہینے قبل خروج کرے گا
سفیانی کے نحوست آمیز خروج کا وقت روایات شریفہ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ سفیانی کا خروج رجب المرجب کے مہینے میں ہوگا۔
عن المعلى بن خنيس، عن أبي عبد الله الصادق صلوات الله وسلامه عليه قال: «إن أمر السفياني من الأمر المحتوم وخروجه في رجب»
(كمال الدين وتمام النعمة للشيخ الصدوق: ص650).
معلی بن خنیس نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ: بے شک سفیانی کا خروج حتمی ہے اور اس کا خروج رجب کے مہینے میں ہوگا۔
بعض دیگر روایات میں تاکید ہوئی ہے کہ سفیانی اسی سال کے دوران خروج کرے گا جب امام مہدی علیہ السلام بھی ظہور فرمائیں گے۔
محمد بن مسلم امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہيں کہ آپ (ع) نے فرمایا: «السفياني والقائم في سنة واحدة»۔ (كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: ص275).
سفیانی کا خروج اور امام قائم (ع) کا ظہور ایک ہی سال میں ہوگا۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا سفیانی کا خروج ماہ رجب میں ہوگا اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ماہ محرم الحرام میں ہوگا۔
ابوبصیر سے روایت کہ امام ابوجعفر محمد الباقر علیہ السلام نے فرمایا: «قال أبو جعفر صلوات الله وسلامه عليه: «يخرج القائم عليه السلام يوم السبت يوم عاشورا اليوم الذي قتل فيه الحسين عليه السلام»
(كمال الدين وتمام النعمة، الشيخ الصدوق: ص654).
قائم علیہ السلام سنیچر کے دن یوم عاشور کو ہوگا اسی دن جب امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا گیا تھا۔
اس قول شریف کا واضح مفہوم یہ ہے کہ سفیانی کے خروج اور امام (ع) کے ظہور میں چھ مہینوں کا فاصلہ ہوگا۔
سفیانی کی جنگیں اور شیعیان آل محمد (ص) سے اس کی دشمنی کی حدیں
سفیانی
ابتدائے امر میں پانچ علاقوں (الكور الخمس) پر تسلط پانے کے لئے خونریز
جنگوں میں مصروف ہوگا جن کی طرف پہلے کی اشارہ ہوچکا ہے۔ پس خروج سے ایک یا
دو مہینوں کی مدت تک اس کی توجہ اہل بیت صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین،
سے دوسروں پر مرکوز ہوگی اور تسلط پانے کے لئے بے شمار غیر شیعہ افراد کا
قتل عام کرے گا لیکن جب اس کی حکومت مستحکم ہوگی اور پانچ علاقوں پر اپنی
حاکمیت کو استحکام بخشے گا تو شیعیان آل محمد (ص) کو فنا اور نابود کرنے کی
نیت سے ان کی جانب متوجہ ہوجائے گا حتی کہ شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل کے
سوا اس کی سوچ کسی اور جانب نہیں ہٹے گی۔
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہيں: «و
كفي بالسفياني نقمة لكم من عدوكم، و هو من العلامات لكم مع أن الفاسق لوقد
خرج، لمكثتم شهرا أو شهرين بعد خروجه، لم يكن عليكم بأس حتي يقتل خلقا
كثيرا دونكم، فقال له بعض أصحابه: فكيف يصنع بالعيان إذا كان ذلك؟ قال:
يتغيب الرجل منكم عنه فإن حنقه و شرهه فإنما هو علي شيعتنا، و أما النساء،
فليس عليهن بأس إن شاء الله تعالي، قيل: فإلي أين يخرج الرجال و يهربون
منه/ من أراد منهم أن يخرج إلي المدينة أو إلي مكة أو إلي بعض البلدان، ثم
قال: ما تصعنون بالمدينة، و إنما يقصد جيش الفاسق إليها، ولكن عليكم بمكة
فأنها مجمعكم، و إنما فتنته، حمل امرأة تسعة أشهر، و لا يجوزها إن شاء
الله»۔
(كتاب الغيبة لمحمد بن إبراهيم النعماني: صص311و 203؛ السفياني، ص 122.)
سفياني
تمہارے دشمنوں کو آزار و اذیت دینے کے لئے کافی ہے اور تمہارے لئے نشانیوں
میں سے ہے اس کے باوجود کہ یہ فاسق بغاوت کرے گا لیکن تم ایک یا دو مہینے
اپنے مقام سے حرکت نہ کرو حتی کہ وہ غیر شیعہ افراد میں سے ایک بڑی آبادی
کا قتل عام کرے۔ (قرقیسیا کی جنگ کی طرف اشارہ)۔
بعض اصحاب نے کہا: ہم اس وقت اپنے بیوی بچوں کے لئے کیا چارہ کریں؟
فرمایا:
اپنے مَردوں کو سفیانی سے چھپا کر رکھو کیونکہ وہ شیعیان اہل بیت (ع) کے
ساتھ شدید عداوت رکھتا ہے لیکن آپ کی عورتوں کو انشاء اللہ کوئی تکلیف نہيں
پہنچے گی۔
پوچھا گیا: پس مرد اس کے ظلم سے کہاں بھاگیں؟
فرمایا: تم
مدینہ میں کرہی کیا سکتے ہو جبکہ اس فاسق کی افواج مدینہ پر بھی حملہ آور
ہونگے لیکن تم اس وقت مکہ کا رخ کرو کہ تمہارے اجتماع کا مقام مکہ ہے اور
اس کا فتنہ ایک عورت کی مدت حمل جتنا ہوگا اور انشاء اللہ اس سے زیادہ اس
کو فتنہ انگیزی کی فرصت نہیں دی جائے گی۔
اور یہ جو امام علیہ السلام
نے فرمایا ہے کہ «وكفى بالسفياني نقمة لكم من عدوكم» اور سفیانی تمہارے
دشمنوں کو سزا دینے کے لئے کافی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سفیانی اور اس کے
غیر شیعہ دشمنوں کے درمیان ایسی جنگیں واقع ہونگی جو اہل بیت (ع) کے
حبداروں کے فائدے میں ہونگی کیونکہ ان میں واقع ہونے والا ہر قسم کا مالی
اور جانی ضرر و زياں فائدہ مند ہوگا اور ان کا اختلاف حق اور اہل حق کے
خلاف ان کے اجتماع اور اتحاد سے بہتر ہے۔
اور یہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: «وهو من العلامات لكم»
یعنی یہ تمہارے لئے علامات اور نشانیوں میں سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس
کا خروج قرب ظہور کی علامت ہے اور اس کا خروج دیکھ کر تم جان لوگے کہ ظہور
پرنور نزدیک ہے۔ وعن
أبي عبد الله الصادق صلوات الله وسلامه عليه قال: « كأني بالسفياني قد طرح
رحله في رحبتكم بالكوفة فينادي مناديه: من جاء برأس شيعة علي فله ألف
درهم، فيثب الجار علي جاره و يقول هذا منهم فيضرب عنقه و يأخذ ألف درهم،
أما إمارتكم يومئذ لاتكون إلا لأولاد البغايا كأني أنظر إلي صاحب البرقع؟
قلت و من صاحب البرقع، قال: رجل منكم يقول بقولكم يلبس البرقع فيحوشكم
فيعرفكم و لا تعرفونه فيغمز بكم رجلاً أما أنه لايكون إلا ابن بغي. » (الغيبة للشيخ الطوسي: ص450- و ص 273؛ بشارة الاسلام، ص 124؛ ص 703؛ بيان الائمه، ج2، ص612.)
گویا
میں سفیانی کے ساتھ ہوں اور اس کے اعمال دیکھ رہا ہوں جس نے اپنا سامان
تمہارے میدانوں میں اتارا ہے اور اس کی طرف سے منادی ندا دے رہا ہے کہ جو
بھی شیعیان علی (ع) میں سے کسی ایک کا سر لائے گا اس کو پانچ ہزار درہم
انعام دیا جائے گا۔ پس پڑوسی پڑوسی پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ
"یہ شیعیان علی (ع) میں سے ہے" اور یوں اس کا سر قلم کرتا ہے [تاہم] اس کو
[پانچ ہزار کی بجائے] ایک ہزار درہم ادا کئے جاتے ہیں۔ اس زمانے میں تمہارا
اپنا حکمران بھی ان ہی حرامزادوں میں سے ہے۔ گویا میں اس چیچک زدہ چہرے
والے مرد کو دیکھ رہا ہوں۔
پوچھا گیا: وہ مرد کون ہے؟
امام (ع) نے
فرمایا: یہ وہ مرد ہے جو ایسے شخص کی حیثیت سے میدان میں اترے گا جو گویا
تم ہی میں سے ایک ہے اور تمہارا ہمکیش اور ہم عقیدہ ہے (عرب بھی ہے اور
مسلمان بھی) وہ تمہیں بخوبی جانتا اور پہچانتا ہے لیکن تم اس کو نہیں جانتے
ہو۔ یہاں تک کہ وہ تمہیں گھیرے میں لیتا اور ایک ایک کرکے گرفتار کرتا ہے
اور قتل کرتا ہے۔ اور خود ایک زنا زادہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔
خراسانی اور یمانی اسی سال اور اسی مہینے اور اسی دن خروج کریں گے
اور سفیانی خروج نہيں کرتا مگر یہ کہ دو دیگر افراد اسی وقت قیام نہيں کریں گے:
أولا: اليماني
وہ ارض یمن اور شہر صنعاء سے ہے۔ عبید بن زرارہ سے مروی ہے: «ذكر عند أبي عبد الله عليه السلام السفياني فقال: أنى يخرج ذلك ولما يخرج كاسر عينيه بصنعاء» (راجع كتاب الغيبة للشيخ النعماني: ص286، الباب 14، الحديث رقم 60).
امام
صادق علیہ السلام کی مجلس میں سفیانی کا ذکر آیا تو امام علیہ السلام نے
فرمایا: یہ کیسے ممکن ہے کہ سفیانی نے خروج کیا ہو جبکہ ابھی صنعاء سے اس
کی آنکھیں توڑ کر رکھنے والے نے خروج نہیں کیا؟ثانيا: الخراساني خراسانی کا تعلق ایران کے خراسان سے ہے چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہيں:
«خروج الثلاثة الخراساني والسفياني واليماني في سنة واحدة في شهر واحد في
يوم واحد وليس فيها راية بأهدى من راية اليماني يهدي إلى الحق» (المصدر السابق: ص446).
خراسانی،
سفیانی اور یمانی ایک ہی سال، ایک ہی مہینے اور ایک ہی دن میں خروج کریں
گے اور ان میں کوئی بھی پرچم بھی یمانی کے پرچم سے زیادہ ہدایت یافتہ نہیں
ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
وعن
الإمام الباقر صلوات الله وسلامه عليه قال: «خروج السفیانی و الیمانی و
الخراسانی فی سنة واحدة و فی شهر واحد فی یوم واحد و نظام کنظام الخرز یتبع
بعضه بعضا فیکون البأس من کل وجه ، ویل لمن ناواهم . و لیس فی الرایات
أهدى من رایة الیمانی هی رایة هدى لأنه یدعو إلى صاحبکم» (بحار الأنوار للعلامة المجلسي: ج52، ص232).
خروج
سفیانی و یمانی و خراسانی در یک سال و یک ماه و یک روز است که ترتیب آن ها
به سان رشته ای از مهره است که پی در پی واقع شده باشد. پریشانی و سختی از
هر سو سر بر می دارد. وای بر کسی که با آن ها به مخالفت برخیزد. در میان
درفش ها درفشی هدایت کننده تر از درفش یمانی یافت نمی شود؛ چرا که درفش حق
است و شما را به سوی صاحبتان هدایت می کند.
اور امام باقر علیہ السلام
نے فرمایا: سفیانی، یمانی اور خراسانی کا خروج ایک ہی سال، ایک ہی مہینے
اور ایک ہی دن ہوگا اور ان کے خروج کی ترتیب موتیوں کی مالا کی مانند ہوگی
جو ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہیں۔ پریشانیاں اور سختیاں ہر سمت سے سر اٹھاتی
ہيں ہائے ان لوگوں پر جو ان پرچموں کی مخالفت کے لئے اٹھے، ان پرچموں کے
درمیان کوئی بھی پرچم یمانی کے پرچم سے زیادہ ہدایت دہندہ نہیں ہے؛ کیونکہ
وہ حق کا پرچم ہے اور وہ تمہیں تمہارے صاحب کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔
ان
حدیثوں کے مطابق یمانی اور خراسانی کا خروج سفیانی کے خروج کے ساتھ ساتھ
ہے اور اس زمانے میں کوئی بھی پرچم یمانی اور خراسانی کے نام سے اٹھے گا تو
اس کے لئے سفیانی کا خروج ضروری ہے ورنہ ان کی تصدیق نہیں ہوسکے گی۔ سفیانی فتنے سے بچاؤ کی ترکیبیںسفیانی
دشمن اہل بیت (ع) ہے اور پیروان اہل بیت (ع) کے خون کا پیاسا ہے چنانچہ اس
سے بچاؤ کے لئے ائمہ معصومین علیہم السلام ہی کے فرامین کی تعمیل کو مطمع
نظر قرار دینا چاہئے۔
مثلا مذکورہ بالا روایات میں سے ایک روایت میں
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: سفیانی کے خروج سے ایک یا دو مہینوں تک
اپنی جگہ سے کہیں حرکت مت کرو جبکہ وہ غیر شیعہ افراد کے قتل میں مصروف
ہوگا۔
اپنے مردوں کو بچائے رکھو عورتوں اور بچوں تک اس کا ہاتھ نہیں پہنچـے گا
مکہ کی طرف ہجرت کرو کیونکہ مکہ تمہارے اجتماع کا مقام ہے [ہم جانتے ہيں کہ امام علیہ السلام کا ظہور بھی مکہ سے ہی ہوگا]۔
عورت کے حمل کی مدت کے بعد سفیانی کا زوال ہوگا اور آل محمد (ص) اور شیعیان آل محمد (ص) کو فراخی حاصل ہوگی۔
ایک یا دو مہینوں کی مدت میں وہ لوگ بھی سفیانی کو پہچان لیں کے اور اس کے کرتوتوں سے آگہی حاصل کرسکیں گے۔
یہ
وہی سفیانی ہے جو امام علیہ السلام کے ظہور سے قبل ظآہر ہوگا اور عراق و
حجاز تک حملے کرے گا اور ہزاروں یا شاید لاکھوں افراد کو قتل کرے گا لیکن
آخرکار اصحاب حضرت مہدی علیہ السلام کے ہاتھوں مارا جائے گا۔
و صلی اللہ علی محمد و آلہ الطیبین الطاہرین المعصومین۔
بقلم: ف۔ح۔مہدوی
بعض لوگ عریضے لکھتے ہيں لیکن ان
عریضوں میں بھی صرف اپنے مسائل کے حل کی التجا ہوتی ہے کہ اے امام زمانہ
(عج) ہمارے لئے اللہ کی بارگاہ میں دعا فرمانا تا کہ ہماری شادی ہوجائے،
ہمیں روزگار ملے، ہمیں اللہ تعالی فرزند عطا فرمائے، ہمارے گھریلو مسائل حل
ہوجائیں، ہمیں گھربار ملے یا شاید بعض لوگ ان عریضوں کے ذریعے ملک و ملت
کے مسائل حل ہونے کی دعا کریں جن شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں تا ہم ان عریضوں
میں امام زمانہ کے ظہور کی التحا کم ہی ہوتی ہے اور ان میں کم ہی ایسا مواد
ہوتا ہے جو امام زمانہ کی معرفت کی دلیل ہو۔
سب سے پہلا سوال انتظار ظہور یا اعتقاد ظہور؟انتظار
کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسہن ظہور کی قبولیت کے لئے تیار کرے بلکہ اس کے
لئے ظہور کے بارے میں سوچنا اور اس کی آرزو کرنا بھی ضروری ہے۔
مثال:
ہوسکتا ہے کہ ہم ایک مہمان کی پذیرائی اور آؤ بھگت کے لئے تیار ہوں اور
ہمارے پاس یہ مہم سر کرنے کے وسائل بھی ہوں لیکن ہم نے کسی کو دعوت نہ دی
ہو اور کسی مہمان کے آنے کی توقع ہی نہ رکھتے ہيں۔ ایسی صورت میں یہ کہنا
بےجا ہوگا کہ "ہم مہمان کے منتظر ہیں"۔ کیونکہ اس صورت میں ہم نہ تو مہمان
کے آنے کے منتظر ہیں اور نہ ہی اس کے نہ آنے سے فکرمند، مغموم اور پریشان
ہوتے ہیں۔
ہم ان چند سطروں ہی سے سمجھ سکتے ہیں کہ خودسازی اور تہذیب
نفس بھی اس وقت تک کامل نہیں ہے جب تک انتظار کا مسئلہ انسان کے لئے حل نہ
ہوا ہو یعنی تہذیب و تزکیہ کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس زمانے اور
اس عصر کا منتظر ہو جب پوری دنیا ظلم و ستم سے پاک ہوگی اور اس مقصد کا
حصول ممکن ہوگا جس کی طرف حرکت انسان کے پیدائشی فرائض ميں سے ہے۔
بالفاظ
دیگر: اصلاح نفس و تطہیر نفس صرف اس صورت میں عروج تک پہنچتی ہے کہ انسان
پوری دنیا کی تطہیر کے بارے میں سوچتا ہو، پوری دنیا کی تطہیر کے لئے
فکرمند ہو اور صرف اپنی ذات کی اصلاح ہی کے بارے میں نہ سوچے چنانچہ جو
اصلاح نفس کی کوشش کرتا ہے اس کو عالمی مصلح کے ظہور پر اعتقاد پر ہی اکتفا
نہیں کرنا چاہئے بلکہ عالمی منتظَر اور ان کے ظہور کا بھی انتظار کرنا
چاہئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ظہور پر عقیدہ رکھنے اور ظہور کا انتظار کرنے میں
بہت زيادہ فرق ہے کیونکہ نہ صرف تمام شیعیان آل محمد (ص) ہی ظہور کا عقیدہ
رکھتے ہیں بلکہ غیر شیعہ حتی کہ غیر مسلم مکاتب کی اکثریت بھی اس حقیقت پر
عقیدہ رکھتے ہیں لیکن اس کے منتظر نہيں ہیں بالفاظ دیگر وہ ایک حقیقتِ
منتظَر کے آنے کے معتقد ضرور ہیں لیکن اس حقیقت کے آنے کا انتظار نہیں
کررہے ہیں۔ وہ جو معتقد ہوں اور منتظر بھی ہوں اور انہيں امید بھی ہو آنے
کا بقیۃاللہ الاعظم علیہ السلام کے اور انتظار و امید کے مطابق عمل بھی
کرتے ہیں وہ حقیقی منتظر بھی ہیں اور تزکیہ نفس میں کامیاب ہونا بھی ان کے
مقدر میں مقرر ہے۔
انتظار کے بارے میں وارد ہونی والی روایات میں جہاں
انتظار کو بہترین عبادت قرار دیا گیا ہے اور منتظرین کی تعریف ہوئی ہے وہاں
اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ امید رکھیں، اس امر عظیم کے رونما ہونے
کو ممکن سمجھنا اور ظہور مولا کے ادراک کو بھی ضروری سمجھا گیا ہے کیونکہ
اگر امید اور انتظار نہ ہو اور انتظار زمان ظہور کے واقعات و فرائض سے بے
خبر ہو تو وہ منتظر کونکر ہوسکتا ہے؟ کیا اس نے ان روایات پر عمل کیا ہے جن
کے توسط سے ہمیں امید و آرزو کا درس دیا گیا ہے؟
(ماخوذ از صحیفہ مہدیہ)
منتظرین کے فرائض کیا ہیں؟امام
زمانہ (عج) کی عظمت کی وجہ سے ایک ہزار سال سے زائد کے اس عرصے میں ہر
گروہ اور ہر جماعت نے اپنی گروہی اور جماعتی افکار و آراء کے تناسب سے آپ
(عج) کی شخصیت، مقام و منزلت اور عالم وجود میں آپ (ع) کے مقام و منزلت کے
بارے میں الگ الگ رائے قائم کرتے ہیں۔
مثلا عرفان و سیروسلوک والے آپ
(ع) کے عرفانی اور خلیفۃاللہی اور ماوراءالطبیعی (Metaphysical) پہلو کو
موضوع بحث قرار دیتے ہیں اور آپ (عج) کی شخصیت کے دیگر پہلؤوں سے غفلت
برتتے ہیں۔
بعض اہل شریعت نے آپ (عج) کے وجود شریف کے طبیعی پہلو کو
لیا اور امام و پیشوا کے عنوان سے آپ (عج) کی امامت و رہبری پر بحث کرتے
ہوئے آپ (عج) کی غیبت کے زمانے میں عوام کے لئے کسی ذمہ داری کے قائل نہیں
ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف آپ (عج) کے لئے دعا کریں تا کہ وہ تشریف لائیں اور
خود ہی لوگوں کے معاملات و امور کی اصلاح کریں
کچھ لوگ آپ (عج) کے
ماوراء الطبیعی پہلو کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور آپ (عج) سے ملاقات کے لئے
بے چین رہتے ہیں تا کہ آپ (عج) سے اپنے ذاتی مسائل حل کروائیں۔
تاہم بعض
لوگ ایسے بھی ہیں جو ان تمام پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھتے ہیں اور انتظار
کے صحیح معنی کی طرف توجہ کرتے ہوئے غیبت کے زمانے میں منتظرین کے فرائض پر
بھی زور دیتے ہیں۔ اس رائے میں انسان کامل کی خلافت الہیہ بھی ان کے مد
نظر رہتی ہے اور ہاں اس رائے کے حامل افراد اہل شریعت کے اس نکتے کو بھی
نہيں بھولتے کہ لوگوں کو آپ (عج) کے ظہور کے لئے دعا کرنی چاہئے۔
امام خمینی رحمۃاللہ علیہ اس رائے کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں فرماتے ہيں:
"البتہ
جہاں تک دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینے کا تعلق ہے تو یہ کام ہم نہیں
کرسکتے، اگر ہم کرسکتے تو ضرور کرتے لیکن چونکہ ہم ایسا نہیں کرسکتے آپ
(عج) کو آنا چاہئے ... لیکن ہمیں اس کام کو فراہم کرنا چاہئے، اس کے اسباب
فراہم کریں اور اس کے اسباب فراہم کرکے ظہور کو قریب تر کردیں، ہمیں ایسا
کام کرنا چاہئے کہ امام علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے اسباب فراہم
ہوجائیں ...". (1)
"البتہ جہاں تک دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دینے کا
تعلق ہے تو یہ کام ہم نہیں کرسکتے، اگر ہم کرسکتے تو ضرور کرتے لیکن چونکہ
ہم ایسا نہیں کرسکتے آپ (عج) کو آنا چاہئے ... لیکن ہمیں اس کام کو فراہم
کرنا چاہئے، اس کے اسباب فراہم کریں اور اس کے اسباب فراہم کرکے ظہور کو
قریب تر کردیں، ہمیں ایسا کام کرنا چاہئے کہ امام علیہ السلام کی تشریف
آوری کے لئے اسباب فراہم ہوجائیں ...". (1)
آپ (رح) انتظار فَرَج کے
بارے میں فرماتے ہیں: انتظار فَرَج اسلام کی قوت و وطاقت کا انتظار ہے اور
ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اسلام کی قوت دنیا میں عملی صورت اپنائے اور ظہور
کے مقدمات ان شاء اللہ فراہم ہوں۔ (2)
شیعہ تفکر میں انتظار کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے بعض روایات کا سہارا لیتے ہیں تا کہ واضح ہوجائے کہ:
1. کیا انتظار کی ضرورت ہے؟
2۔ انتظار کی فضیلت کیا ہے؟
3۔ عصر غیبت میں منتظرین کے فرائض کیا ہیں؟
4۔ انتظار کے آثار و نتائج کیا ہیں؟
1۔ انتظار کی ضرورتشیعہ
تفکر میں موعود (عج) کا انتظار ایک مسلمہ اعتقادی اصول ہے اور بہت سی
روایات میں قائم آل محمد (عج) کے انتظار کے وجود پر تصریح ہوئی ہے مثال کے
طور پر:
1۔ محمد بن ابراہیم نعمانی نے کتاب الغیبۃ (غیبت نعمانی) میں
روایت کی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے ایک روز اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر
فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے عمل سے آگاہ نہ کروں کہ خداوند صاحب عزت و
جلال بندوں کے کسی بھی عمل کو اس کے بغیر قبول نہیں فرماتا؟
میں نے عرض کیا: کیوں نہيں میرے مولا؟
فرمایا:
گواہی دینا کہ "کوئی بھی اہل عبادت نہیں ہے سوائے خداوند متعال کے اور یہ
کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) خدا کے بندے اور رسول ہیں اور ان
چیزوں کا اقرار کرنا جن کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے اور ہماری ولایت کا
اقرار کرنا اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری ظاہر کرنا ـ بالخصوص ائمہ اطہار
علیہم السلام کے دشمنوں سے ـ اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اور
پرہیزگاری اور کوشش و مجاہدت و اطمینان اور قائم علیہ السلام کا انتظار۔
(3)
2۔ ثقة الاسلام کلینی اپنی کتاب الکافی میں روایت کرتے ہیں کہ ایک
روز ایک مرد امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے ہاتھ
میں ایک صفحہ تھا، حضرت باقر علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا:
یہ مکتوب ایک مُناظر (مناظرہ کرنے والے) کا ہے جو ایسے دین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے جس میں تمام اعمال مقبول ہیں۔
اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی رحمت ہو آپ پر، میں نے یہی چاہا ہے۔
پس
امام ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: گواہی دینا اس پر کہ خدا
ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و
سلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اقرار کرو اس پر جو اللہ کی طرف
سے آیا ہے اور ہمارے خاندان کی ولایت پر گواہی دینا اور ہمارے دشمنوں سے
برائت و بیزاری کا اظہار کرنا، اور ہماری اطاعت کرنا اور ہمارے سامنے
سرتسلیم خم کئے رکھنا، اور پرہیزگاری اور منکسرالمزاجی اور ہمارے قائم کا
انتظار کرنا، کیونکہ ہمارے لئے ایک حکومت ہے جو اللہ تعالی جب چاہے گا لے
کر آئے گا۔ (4)
3۔ شیخ صدوق کتاب "کمال الدین" میں "عبدالعظیم الحسنی" سے روایت کرتے ہیں:
میں
ایک دن اپنے آقا و مولا محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن
الحسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام (یعنی امام محمد تقی الجواد (ع)) کی
خدمت میں حاضر ہوا اور میں آپ (ع) سے حضرت قائم علیہ السلام کے بارے میں
پوچھنا چاہتا تھا کیا مہدی آپ (ع) خود ہیں یا آپ (ع) کے بعد آئیں گے؛ امام
(ع) نے اپنے کلام کا آغاز کیا اور مجھ سے فرمایا: اے ابالقاسم! بے شک مہدی
ہم میں سے ہیں اور وہ وہی مہدی ہیں جن کی غیبت میں انتظار کرنا واجب ہے۔ اس
حوالے سے روایات بہت زیادہ ہیں لیکن ہمارے اس مکتوب میں ان کا مفصل حوالہ
دینا ممکن نہیں ہے چنانچہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ انتظار کی فضیلت کیا ہے
اور کلام معصومین علیہم السلام میں انتظار کا مقام کیا ہے؟
2۔ انتظار کی فضیلت
اسلامی روایات میں منتظرین کے لئے جس مقام و منزلت کا ذکر ہوا ہے کبھی انسان کی حیرت کا باعث بنتی ہے کہ انتظار جیسا عمل ـ جو بظاہر سادہ ہے ـ اتنی فضلیتوں کا حامل کیونکر ہوسکتی ہے؟ تا ہم جب ہم فلسفۂ انتظار کی طرف توجہ دیتے ہیں اور منتظرین کے فرائض اور ذمہ داریوں کو مد نظر رکھتے ہیں تو ان توصیفات کا فلسفہ بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حدیث: انتظار برترین عبادت
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں: "انتظارِ فَرَج برترین اور بہترین عبادت ہے"۔ (6)
انتظارِ فَرَج بہترین جہاد
2۔ رسول اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ: "میری امت کا بہترین جہاد انتظارِ فَرَج ہے"۔ (7)
امیر المؤمنین (ع) کی حدیث: انتظار خوشآیند ترین عمل
3۔ علامہ محمدباقر مجلسی روایت کرتے ہيں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: فَرَج (فراخی اور بہتر صورت حال یا مصائب و مشکلات سے چھٹکارے) کے منتظر رہو بے شک خداوند عز و جل کے نزدیک برترین اور خوشآیند ترین عمل انتظارِ فَرَج ہے۔ (8)
رسول اللہ (ص) اور ائمہ معصومین (ع) کی حدیث: منتظر شہید کی مانند
4۔ شیخ صدوق کمال الدین میں روایت کرتے ہيں کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے آباء و اجداد طاہرین علیہم السلام کے حوالے سے فرمایا: ہماری حکومت کا منتظر شخص اس شہید کی مانند ہے جو راہ خدا میں اپنے خون میں تڑپتا ہے۔ (9)
منتظرین اولیاء الہی ہیں
5۔ اسی کتاب میں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:
خوش بحال ان کے جو ہمارے قائم کی غیبت میں ان کے ظہور کے منتظر ہيں اور ظہور کے بعد ان کے فرمانبردار ہيں، وہ اللہ کے اولیاء ہیں وہی جن کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ ہی وہ غم و حزن سے دوچار ہوتے ہیں۔ (10)
امام صادق (ع) کی حدیث: منتظر امام زمانہ (عج) کا ہم نشین6۔
علامہ مجلسی روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تم میں
سے جو شخص اس امر کا انتظار کرتے ہوئے مرتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو
امام علیہ السلام کے ساتھ ایک خیمے میں رہا ہو۔ اور کچھ لمحات خاموشی کے
بعد فرمایا: نہیں! بلکہ اس شخص کی مانند ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ و سلم کے رکاب میں شمشیرزنی کرچکا ہو اور پھر فرمایا: نہیں، اللہ کی
قسم! بلکہ اس شخص کی مانند ہے جس نے رسول اللہ (ص) کے رکاب میں جان کی بازی
لگا دی ہو اور شہادت پالی ہو۔ (11)
منتظرین کے لئے اتنی فضیلت کیوں؟اس لئے کہ:
1۔ انتظار امام معصوم کے ساتھ شیعیان آل محمد (ص) کا اتصال:
ولایت
اور امامت مکتب تشیع کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے اور ہر عصر میں امام
معصوم کی موجودگی کا عقیدہ اس مکتب کو دوسرے مکاتب سے ممتاز کردیتا ہے۔
شیعہ
مکتب میں ائمہ معصومین کی ولایت کو تسلیم کرنا اور امام و حجت عصر کے
سامنے سرتسلیم خم کرنا تمام فضائل کی چوٹی اور بندوں کے تمام اعمال و
عبادات کی قبولیت کی اساس ہے۔ ہمارے اس زمانے کے امام اور حجت خدا حضرت
امام مہدی امام زمانہ ہیں جو فیض الہی کا واسطہ اور عصر حاضر میں ہمارے
امام اور ہمارے مددگار ہیں۔
2۔ 2۔ انتظار انسانوں کی وقعت کا پیمانہ:
انسانوں کی خواہشیں اور آرزوئیں ان کے کمال اور بلندی کا معیار ہیں حتی بعض
لوگ کہتے ہیں: "بتاؤ کہ تمہاری خواہش کیا ہے تا کہ میں کہہ دوں کہ تم کون
ہو!"۔ بلند خواہشیں اور قابل قدر اور اہم آرزوئیں انسان کی روح اور شخصیت
کی بلندی کی دلیل ہیں اور یہ خواہشیں چھوٹی چھوٹی اور حقیر آرزؤں سے مختلف
ہیں جو انسان کی حقارت اور بے وقعتی اور بے ہمتی اور عدم نشوو نما کی دلیل
ہیں۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
انسان کی وقعت اس کی ہمت کے برابر ہے۔ (12)
اس
تمہید کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ منتظر اعلی ترین آرزؤوں کا حامل ہے
لہذا وہ فطری طور پر بہترین اور والاترین اقدار کا بھی حامل ہے۔
وضاحت:منتظر
انسان کی آرزو پوری دنیا میں دین خدا کی حاکمیت اور مذہب آل محمد (ص) کے
نفاذ اور پوری دنیا پر صالحین اور مستضعفین کی حکومت کے قیام کی خواہش سے
عبارت ہے اور اس کی آرزو ہے کہ مستکبرین اور ظالمین کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں
اور دنیا کے گوشے گوشے میں عدل و انصاف کی حکومت ہو اور تمام انسانوں کو
فلاح اور عدل و انصاف مل جائے۔
3۔ انتظار فرد اور معاشرے کے تحریک و تعمیر کا سببانتظار
ـ جیسا کہ اگلی سطور میں واضح کیا جائے گا ـ غیبت کے زمانے میں فرد اور
معاشرے کی تعمیر، تحرک (Dynamism) نیز اصلاح کا سبب بنتا ہے اور اگر منتظر
انسان اپنے مقررہ فرائض پر عمل کرے تو وہ ایک دیندار انسان کی علامت بن
جائے گا اور اعلی مقام و منزلت کا مالک بن جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر اگر انتظار
کی تمام شرطوں پر پورا اترے تو وہ اسی مقام و منزلت کو حاصل کرلے گا جو
دین اسلام ہم سے چاہتا ہے اور وہ کمال کی چوٹیوں کو سر کرلیتا ہے۔
3۔ منتظرین کی ذمہ داریاںروایات
اور احادیث کے ضمن میں، زمانہ غیبت میں شیعیان آل محمد (ص) اور منتظرین
امام زمانہ (عج) کے لئے متعدد فرائض بیان ہوئے ہیں اور حتی "مکیال المکارم
فی فوائد الدعاء للقائم" میں خاتم الاوصیاء حضرت بقیۃاللہ ارواحنا لہ
الفداء کے منتظرین کے لئے اسی (80) فرائض بیان کئے گئے ہیں۔ (13) لیکن ہم
یہاں بعض اہم فرائض بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
1۔ حجت خدا اور امام عصر علیہ السلام کی شناخت ہر
منتظر کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے امام کو پہچان لیں۔ یہ
موضوع اس قدر اہم ہے کہ شیعہ اور سنی منابع سے منقولہ روایت کے مطابق رسول
اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام نے فرمایا:
جو مرے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جاہلی موت مرا ہے۔ (14)
اسی حدیث نبوی کے تسلسل میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو
بغیر امام کے مرجائے اس کی موت جاہلی موت ہے اور جو شخص اپنے امام کو
پہچان کر مرے اس امر [یعنی آل محمد (ص) کی عالمی حکومت کے قیام] میں تعجیل
یا تاخیر سے اس کو کوئی نقصان نہيں پہنچے گا اور جو مرے گا ایسے حال میں کہ
اس نے اپنے امام کو پہچان لیا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو امام عصر علیہ
السلام کے خیمے میں آپ (عج) کا ہم نشین رہا ہو۔ (15)
غیبت کے زمانے
میں جن دعاؤں کی قرائت پر زور دیا گیا ہے ان کی طرف توجہ بھی ہمیں حجت خدا
کی شناخت کی اہمیت سے آگاہ کردیتی ہے۔ جیسا کہ ہم کتاب "کمال الدین" میں
شیخ صدوق سے منقولہ ایک دعا میں پڑھتے ہیں:
بار خدایا! تو مجھے اپنی معرفت عطا فرما کہ اگر میں تجھے نہ پہچانوں تو تیرے پیغمبر کو نہ پہچان سکوں گا۔
بارخدایا!
مجھے اپنے نبی کی معرفت عطا فرما کیونکہ اگر تو مجھے اپنے نبی کی شناخت
عطا نہ کرے گا تو میں تیری حجت کی معرفت سے بے بہرہ رہوں گا۔
بار الہا! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا فرما کیونکہ اگر تو مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ کرے گا تو میں اپنے دین سے گمراہ ہوجاؤں گا۔
خداوندا! مجھے جاہلیت کی موت نہ دے کیونکہ میرے دل کو منحرف نہ فرما بعد اس کے کہ تو نے مجھے ہدایت عطا فرمائی ... (16)
امام صادق علیہ السلام امام کی معرفت کی کم از کم حدود بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
امام
کی شناخت و معرفت کا نازل ترین مرتبہ یہ ہے کہ تم جان لو کہ امام پیغمبر
کے برابر ہے مگر نبوت کے درجے کے سوا؛ امام پیغمبر کا وارث ہے اور بے شک
امام کی اطاعت رسول اللہ کی اطاعات اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
کی اطاعات اللہ تعالی کا اطاعت ہے اور ہر مسئلے میں امام کے سامنے سراپا
تسلیم ہونا چاہئے اور اس کے کلام و فرمان پر عمل کرنا چاہئے ... (17)
جاری ہے
شناخت امام
عظمت مقام امامت، ايجاب مينمايد، كسي كه حائز آن ميشود از بالاترين صفات كمالي برخوردار باشد زيرا امامت، جايگاه راهبري، هدايت و نيابت رسول اللّه(ص) است. به همين دليل، دربارة كسي كه به اين مقام راه مييابد، ويژگيهاي ممتازي بيان شده است و لذا هر كس در پي كسب شناخت امام باشد، ناگزير از جستوجوي اين ويژگيهاست و هركس واجد آن باشد، امام خواهد بود و در غير اين صورت، نه.
در كتاب امام مهدي(ع)؛ ردّي بر مدعيان امامت آمده است:
«... پس ميان ايشان و برادران، پسرعموها و همة خويشاوندانشان تمايزي آشكار قرار داده شده كه به واسطة آن حجت [خدا] از احتجاجشدگان و امام از مأموم بازشناخته ميشود. از جمله اينكه آنان را در برابر گناهان عصمت بخشيده، از عيبها به دور، از آلودگيها پاك، و از شبهات عاري ساخته و ايشان را نگاهبانان علماش، امانتداران حكمتاش و جايگاه سرّش قرار داده و به وسيلة برهانها حمايتشان نموده است. در حالي كه اگر چنين نبود، همة مردم با هم يكسان بودند و هر كسي ميتوانست مدّعي امر خدا باشد»1.
اكنون، در ادامه متوني را كه ويژگيهاي جامع امامت را بيان كرده مرور ميكنيم و سرانجام به دو ويژگي ممتاز عصمت و علم خواهيم پرداخت.
صفات امام
حضرت اميرالمؤمنين، امام علي(ع) در روايتي ميفرمايند:
امامي كه شايستة مقام امامت باشد، نشانههايي دارد: از جمله اينكه، اول، ميداند كه معصوم از گناه كوچك و بزرگ آن بوده، نيازمند پرسش نشده، در پاسخگويي به خطا نرفته، سهو و فراموشي نداشته، و به چيزي از امور دنيا سرگرم نميشود. دوم، عالمترين انسانها نسبت به حلال و حرام، اجراي احكام، و امر و نهي خداوند و همة آنچه انسانها به خدا نياز دارند ميباشد، مردم نيازمند اويند و او از آنان بينياز. سوم، ميبايد كه شجاعترين انسانها باشد، زيرا او گروه (محور) مؤمنان است كه به سوي او بازميگردند، اگر از فرط خستگي و كندي شكست يابد، همة انسانها به سبب شكست او، متلاشي شوند. چهارم، ميبايد سخيترين انسانها باشد، هر چند همة اهل زمين بخل ورزند؛ چون اگر حرص و آز بر او مستولي شود، نسبت به اموال مسلمين كه تحت اختيار اوست آزمندانه عمل خواهد كرد. پنجم، عصمت از جملة گناهان، كه به وسيلة آن از پيروان كه غير معصوماند ممتاز شده، زيرا اگر معصوم نبود، از ورود به هلاكتگاههاي گناهان كشنده و شهوتها و لذات نفساني، كه مردم در آن واقع ميشوند، ايمن نبود»2.
در روايتي از حضرت امام رضا(ع) در پاسخ به اين سؤال كه:
از چه طريقي ادعاي امامت از كسي كه مدعي آن است، پذيرفته ميشود، فرمودند: «از طريق نصّ و نشانه». سؤال شد: نشانة امام چيست؟ فرمودند:
علم و مستجاب الدعوه بودن3.
حضرت امام صادق(ع) نيز فرمودند:
ده خصلت، از ويژگيهاي امام است: عصمت، نصوص، و اينكه عالمترين مردمان، پرهيزكارترينشان نسبت به خدا، آگاهترينشان نسبت به كتاب خدا، جانشين و وصيّ معروف و آشكار (امام پيشين)، و داراي معجزه و نشانه است. ديدهاش به خواب ميرود ولي قلبش نميخوابد، سايه ندارد و از پشت سرش مانند پيشِ رويش ميبيند4.
ترديدي نيست كه اين موارد و ديگر ويژگيها بر امامان دوازده گانه(ع) پس از رسولالله(ص) منطبق است.
رسول خدا(ص) در روايتي چنين فرمودند:
«خداوند عزوجل به ما، ده خصلت اختصاص داده كه آنها را به احدي قبل از ما عطا نفرموده بود و در احدي غير از ما وجود ندارد: حكم (فرمان الهي)، حلم، علم، نبوت، جوانمردي، شجاعت، ميانهروي، راستي، پاكي و پاككنندگي، و عفت فقط در ما وجود دارد. و ما كلمة پرهيزكاري، راه هدايت، والاترين نمونه، بزرگترين دليل، محكمترين دستآويز، و ريسمان نيرومنديم. ما كساني هستيم كه خداوند به مودت ما امر فرموده است.
فماذا بعد الحقّ إلاّ الضّلال فأنّي تصرفون؛5
و بعد از حقيقت، جز گمراهي چيست؟ پس چگونه (از حق) بازگردانده ميشويد؟»6
از امام اميرالمؤمنين(ع) نيز روايت شده كه فرمودند: «ما اهل بيت، درخت نبوت، جايگاه رسالت، مورد آمدو شد ملائكه، خانة رحمت و معدن علمايم»7.
در خطبة امام زينالعابدين(ع) در مجلس يزيد، آن حضرت فرمودند:
شش ويژگي به ما عطا شده و در هفت ويژگي از ديگران برتري يافتهايم: علم، حلم، جوانمردي، فصاحت، شجاعت، و محبت در قلبها به ما عطا شد. و برتري يافتيم به اينكه: پيامبر برگزيدة خدا حضرت محمد(ص) از ماست، صدّيق از ماست، طيّار از ماست، اسدالله و اسدالرسول از ماست، و سرور زنان جهانيان حضرت فاطمة بتول (سلام الله عليه) از ماست، و دو فرزند اين امت و دو سرور جوانان اهل بهشت از مايند8.
اين صفات كماليه در هر يك از امامان(ع) به يك ميزان قرار دارد، هر چند در بعضي از ايشان، چند صفت بارزتر از ساير آنهاست، و اين به دليل وجود اسباب و ظروف زماني و مكاني است.
از حضرت صادق(ع) روايت شده كه فرمودند: «ما در امر (امامت)، فهم، و حلال و حرام در يك مسير قرار داريم، اما رسول خدا و حضرت علي (عليهما السلام) از فضايل ممتازي برخوردارند»9.
علامه سيد محسن امين دربارة فضايل امامان(ع) مينويسد:
مناقبي كه ما براي هر يك از امامان(ع) بيان كرديم، با مناقب امام ديگر تفاوت دارد. البته معناي اين سخن آن نيست كه منقبتي كه ويژة يكي از امامان(ع) است در وصف امام ديگر صادق نباشد، زيرا هر يك از ايشان در همة مناقب و فضايل مشترك بوده، و نور و سرشت و احدي دارند و كاملترين اهل زمان خويش در همة صفات والا و برتراند. اما به دليل اينكه شرايط و مقتضيات زمان متفاوت است، ظهور آن ويژگيها نيز تفاوت ميكند. به عنوان مثال، ظهور صفت شجاعت در اميرالمؤمنين و فرزند آن حضرت، امام حسين(ع)، مانند ظهور آن در بقية ائمه(ع) نيست زيرا شجاعت امام علي(ع) از طريق جهاد به همراه رسول اعظم(ص) و نبرد با ناكثين، مارقين و قاسطين در ايام حكومتشان و شجاعت امام حسين(ع) در واقعة كربلا كه در آن به ايستادگي در برابر ظالمان امر نمود، ظهور يافت. ولي آثار شجاعت ساير ائمه(ع) به صورت آشكار بروز و ظهور نيافت زيرا ايشان مأمور به صبر و مدارا بودند و همگان بر اين امر متفقاند كه آنان شجاعترين مردم زمان خود بودهاند. همچنين آثار علم در حضرات باقر و صادق(ع) بيش از ساير امامان(ع)، به دليل از بين رفتن شرايط خفقان، ظهور يافت. زيرا اين دو امام همام، در پايان حكومت رو به اضمحلال اموي و ابتداي حكومت نوپاي عباسي ميزيستند و همگان متفقاند كه عالمترين افراد زمان خود بودند. لذا آثار كرم و سخاوت، كثرت صدقات و آزاد كردن بندگان در ايشان بارزتر از ساير امامان(ع) است، كه ممكن است دليل آن بسط يد ايندو امام يا فزوني تعداد نيازمندان در سرزمين ايشان باشد. علاوه بر اين عبادت اين امامان(ع) نيز بارزتر و آشكارتر از سايران بوده است، بنابر برخي از موجبات و متقضيات همچون، اندك بودن اطلاع مردم از حالات ديگر امامان، يا كوتاه بودن حيات دنيوي آنان و نظاير اين دلايل در حالي كه همگي عابدترين افراد دوران خود بودهاند.
يا اينكه آثار حلم و بردباري در بعضي از ايشان آشكارتر از ديگران بوده، به دليل فراواني ابتلاءات و انواع آزار و اذيتها نسبت به آنان كه موجب بروز حلم انسان حليم ميشود، در حالي كه همه ايشان حليمترين افراد زمان خود بودهاند. و همچنين ديگر مقتضيات و ويژگيها»10.
و جهانيان به وجود صفات كماليه در ائمه اطهار(ع) گواهي داده، و حتي دشمنانشان آن را تأييد كردهاند. « الفضل ما شهدت به الأعداء؛ فضيلت و برتري آن است كه مخالفان و دشمنان نيز به آن گواهي دهند». هرچند تلاشهاي فراواني از سوي دشمنانشان صورت گرفت تا به ويژگي ناشايستي در وجود ايشان دست يابند اما نتوانستند. به منظور آگاهي از شهادت دشمنان بر فضايل اهل بيت(ع) ميتوان به كتابهاي تاريخ و سيره مراجعه كرد كه مملو از آنهاست.
سيد حسين نجيب محمّد
مترجم: ابوذر ياسري
ماهنامه موعود شماره 86
پينوشتها:
1. كلمة الإمام المهدي(ع)، ص 231.
2. محمدي ري شهري، محمد، ميزان الحكمة.
3. عيون اخبار الرضا، ج 1، ص 216.
4. شيخ صدوق، الخصال، ص 428.
5. سورة يونس (10)، آية 32.
6. شيخ صدوق، همان.
7. همان، ص 167.
8. همان، ص 168.
9. كليني، اصول كافي، ج 1، ص 275.
10. امين، سيد محسن، اعيان الشيعه، زندگي امام صادق(ع).
شناخت امام
عظمت مقام امامت، ايجاب مينمايد، كسي كه حائز آن ميشود از بالاترين صفات كمالي برخوردار باشد زيرا امامت، جايگاه راهبري، هدايت و نيابت رسول اللّه(ص) است. به همين دليل، دربارة كسي كه به اين مقام راه مييابد، ويژگيهاي ممتازي بيان شده است و لذا هر كس در پي كسب شناخت امام باشد، ناگزير از جستوجوي اين ويژگيهاست و هركس واجد آن باشد، امام خواهد بود و در غير اين صورت، نه.
در كتاب امام مهدي(ع)؛ ردّي بر مدعيان امامت آمده است:
«... پس ميان ايشان و برادران، پسرعموها و همة خويشاوندانشان تمايزي آشكار قرار داده شده كه به واسطة آن حجت [خدا] از احتجاجشدگان و امام از مأموم بازشناخته ميشود. از جمله اينكه آنان را در برابر گناهان عصمت بخشيده، از عيبها به دور، از آلودگيها پاك، و از شبهات عاري ساخته و ايشان را نگاهبانان علماش، امانتداران حكمتاش و جايگاه سرّش قرار داده و به وسيلة برهانها حمايتشان نموده است. در حالي كه اگر چنين نبود، همة مردم با هم يكسان بودند و هر كسي ميتوانست مدّعي امر خدا باشد»1.
اكنون، در ادامه متوني را كه ويژگيهاي جامع امامت را بيان كرده مرور ميكنيم و سرانجام به دو ويژگي ممتاز عصمت و علم خواهيم پرداخت.
صفات امام
حضرت اميرالمؤمنين، امام علي(ع) در روايتي ميفرمايند:
امامي كه شايستة مقام امامت باشد، نشانههايي دارد: از جمله اينكه، اول، ميداند كه معصوم از گناه كوچك و بزرگ آن بوده، نيازمند پرسش نشده، در پاسخگويي به خطا نرفته، سهو و فراموشي نداشته، و به چيزي از امور دنيا سرگرم نميشود. دوم، عالمترين انسانها نسبت به حلال و حرام، اجراي احكام، و امر و نهي خداوند و همة آنچه انسانها به خدا نياز دارند ميباشد، مردم نيازمند اويند و او از آنان بينياز. سوم، ميبايد كه شجاعترين انسانها باشد، زيرا او گروه (محور) مؤمنان است كه به سوي او بازميگردند، اگر از فرط خستگي و كندي شكست يابد، همة انسانها به سبب شكست او، متلاشي شوند. چهارم، ميبايد سخيترين انسانها باشد، هر چند همة اهل زمين بخل ورزند؛ چون اگر حرص و آز بر او مستولي شود، نسبت به اموال مسلمين كه تحت اختيار اوست آزمندانه عمل خواهد كرد. پنجم، عصمت از جملة گناهان، كه به وسيلة آن از پيروان كه غير معصوماند ممتاز شده، زيرا اگر معصوم نبود، از ورود به هلاكتگاههاي گناهان كشنده و شهوتها و لذات نفساني، كه مردم در آن واقع ميشوند، ايمن نبود»2.
در روايتي از حضرت امام رضا(ع) در پاسخ به اين سؤال كه:
از چه طريقي ادعاي امامت از كسي كه مدعي آن است، پذيرفته ميشود، فرمودند: «از طريق نصّ و نشانه». سؤال شد: نشانة امام چيست؟ فرمودند:
علم و مستجاب الدعوه بودن3.
حضرت امام صادق(ع) نيز فرمودند:
ده خصلت، از ويژگيهاي امام است: عصمت، نصوص، و اينكه عالمترين مردمان، پرهيزكارترينشان نسبت به خدا، آگاهترينشان نسبت به كتاب خدا، جانشين و وصيّ معروف و آشكار (امام پيشين)، و داراي معجزه و نشانه است. ديدهاش به خواب ميرود ولي قلبش نميخوابد، سايه ندارد و از پشت سرش مانند پيشِ رويش ميبيند4.
ترديدي نيست كه اين موارد و ديگر ويژگيها بر امامان دوازده گانه(ع) پس از رسولالله(ص) منطبق است.
رسول خدا(ص) در روايتي چنين فرمودند:
«خداوند عزوجل به ما، ده خصلت اختصاص داده كه آنها را به احدي قبل از ما عطا نفرموده بود و در احدي غير از ما وجود ندارد: حكم (فرمان الهي)، حلم، علم، نبوت، جوانمردي، شجاعت، ميانهروي، راستي، پاكي و پاككنندگي، و عفت فقط در ما وجود دارد. و ما كلمة پرهيزكاري، راه هدايت، والاترين نمونه، بزرگترين دليل، محكمترين دستآويز، و ريسمان نيرومنديم. ما كساني هستيم كه خداوند به مودت ما امر فرموده است.
فماذا بعد الحقّ إلاّ الضّلال فأنّي تصرفون؛5
و بعد از حقيقت، جز گمراهي چيست؟ پس چگونه (از حق) بازگردانده ميشويد؟»6
از امام اميرالمؤمنين(ع) نيز روايت شده كه فرمودند: «ما اهل بيت، درخت نبوت، جايگاه رسالت، مورد آمدو شد ملائكه، خانة رحمت و معدن علمايم»7.
در خطبة امام زينالعابدين(ع) در مجلس يزيد، آن حضرت فرمودند:
شش ويژگي به ما عطا شده و در هفت ويژگي از ديگران برتري يافتهايم: علم، حلم، جوانمردي، فصاحت، شجاعت، و محبت در قلبها به ما عطا شد. و برتري يافتيم به اينكه: پيامبر برگزيدة خدا حضرت محمد(ص) از ماست، صدّيق از ماست، طيّار از ماست، اسدالله و اسدالرسول از ماست، و سرور زنان جهانيان حضرت فاطمة بتول (سلام الله عليه) از ماست، و دو فرزند اين امت و دو سرور جوانان اهل بهشت از مايند8.
اين صفات كماليه در هر يك از امامان(ع) به يك ميزان قرار دارد، هر چند در بعضي از ايشان، چند صفت بارزتر از ساير آنهاست، و اين به دليل وجود اسباب و ظروف زماني و مكاني است.
از حضرت صادق(ع) روايت شده كه فرمودند: «ما در امر (امامت)، فهم، و حلال و حرام در يك مسير قرار داريم، اما رسول خدا و حضرت علي (عليهما السلام) از فضايل ممتازي برخوردارند»9.
علامه سيد محسن امين دربارة فضايل امامان(ع) مينويسد:
مناقبي كه ما براي هر يك از امامان(ع) بيان كرديم، با مناقب امام ديگر تفاوت دارد. البته معناي اين سخن آن نيست كه منقبتي كه ويژة يكي از امامان(ع) است در وصف امام ديگر صادق نباشد، زيرا هر يك از ايشان در همة مناقب و فضايل مشترك بوده، و نور و سرشت و احدي دارند و كاملترين اهل زمان خويش در همة صفات والا و برتراند. اما به دليل اينكه شرايط و مقتضيات زمان متفاوت است، ظهور آن ويژگيها نيز تفاوت ميكند. به عنوان مثال، ظهور صفت شجاعت در اميرالمؤمنين و فرزند آن حضرت، امام حسين(ع)، مانند ظهور آن در بقية ائمه(ع) نيست زيرا شجاعت امام علي(ع) از طريق جهاد به همراه رسول اعظم(ص) و نبرد با ناكثين، مارقين و قاسطين در ايام حكومتشان و شجاعت امام حسين(ع) در واقعة كربلا كه در آن به ايستادگي در برابر ظالمان امر نمود، ظهور يافت. ولي آثار شجاعت ساير ائمه(ع) به صورت آشكار بروز و ظهور نيافت زيرا ايشان مأمور به صبر و مدارا بودند و همگان بر اين امر متفقاند كه آنان شجاعترين مردم زمان خود بودهاند. همچنين آثار علم در حضرات باقر و صادق(ع) بيش از ساير امامان(ع)، به دليل از بين رفتن شرايط خفقان، ظهور يافت. زيرا اين دو امام همام، در پايان حكومت رو به اضمحلال اموي و ابتداي حكومت نوپاي عباسي ميزيستند و همگان متفقاند كه عالمترين افراد زمان خود بودند. لذا آثار كرم و سخاوت، كثرت صدقات و آزاد كردن بندگان در ايشان بارزتر از ساير امامان(ع) است، كه ممكن است دليل آن بسط يد ايندو امام يا فزوني تعداد نيازمندان در سرزمين ايشان باشد. علاوه بر اين عبادت اين امامان(ع) نيز بارزتر و آشكارتر از سايران بوده است، بنابر برخي از موجبات و متقضيات همچون، اندك بودن اطلاع مردم از حالات ديگر امامان، يا كوتاه بودن حيات دنيوي آنان و نظاير اين دلايل در حالي كه همگي عابدترين افراد دوران خود بودهاند.
يا اينكه آثار حلم و بردباري در بعضي از ايشان آشكارتر از ديگران بوده، به دليل فراواني ابتلاءات و انواع آزار و اذيتها نسبت به آنان كه موجب بروز حلم انسان حليم ميشود، در حالي كه همه ايشان حليمترين افراد زمان خود بودهاند. و همچنين ديگر مقتضيات و ويژگيها»10.
و جهانيان به وجود صفات كماليه در ائمه اطهار(ع) گواهي داده، و حتي دشمنانشان آن را تأييد كردهاند. « الفضل ما شهدت به الأعداء؛ فضيلت و برتري آن است كه مخالفان و دشمنان نيز به آن گواهي دهند». هرچند تلاشهاي فراواني از سوي دشمنانشان صورت گرفت تا به ويژگي ناشايستي در وجود ايشان دست يابند اما نتوانستند. به منظور آگاهي از شهادت دشمنان بر فضايل اهل بيت(ع) ميتوان به كتابهاي تاريخ و سيره مراجعه كرد كه مملو از آنهاست.
سيد حسين نجيب محمّد
مترجم: ابوذر ياسري
ماهنامه موعود شماره 86
پينوشتها:
1. كلمة الإمام المهدي(ع)، ص 231.
2. محمدي ري شهري، محمد، ميزان الحكمة.
3. عيون اخبار الرضا، ج 1، ص 216.
4. شيخ صدوق، الخصال، ص 428.
5. سورة يونس (10)، آية 32.
6. شيخ صدوق، همان.
7. همان، ص 167.
8. همان، ص 168.
9. كليني، اصول كافي، ج 1، ص 275.
10. امين، سيد محسن، اعيان الشيعه، زندگي امام صادق(ع).
البته غیر مسلمانان و دشمنان اسلام هم اصلاً دین اسلام را قبول ندارند که بخواهند مهدویت را بپذیرند. بنابراین دشمنان اسلام، اصل مهدویت را زیر سوال برده و بخصوص نظر شیعه را در رابطه با طول عمر و جوانی حضرت، افسانه و خیال می پندارند. اما آیا این اعتقاد شیعیان در رابطه با طول عمر حضرت مهدی (عج) و جوانی ایشان خیالات است؟
بعد از ذکر نظر گروههای مختلف اعتقادی پیرامون طول عمر و جوانی حضرت مهدی (عج)، اکنون به بررسی علمی اعتقادات شیعه پیرامون طول عمر و جوانی حضرت مهدی (عج) می پردازیم.
همان گونه که ذکر شد، شیعیان اعتقاد دارند که حضرت مهدی (عج) پس از ولادت در سال 255 هجری قمری، از نظرها پنهان شده و به خواست خدا در غیبت به سر می برند و تا هنگامی که خداوند اراده کنند، از نظرها پنهان خواهند ماند و سپس در زمانی که خداوند صلاح بداند، حضرت بر مردم ظاهر خواهند شد. مطابق این عقیده، حضرت مهدی (عج) عمری طولانی دارند و هنگام ظهور جوان می باشند. در این زمینه، روایات بسیاری از قول ائمه ی اطهار (ع) نقل شده است. در زیر، یکی از آنها را ذکر می کنیم:
حضرت امام رضا(ع) در پاسخ به اباصلت هروی که از ایشان پرسید: نشانه های قائم شما هنگام ظهور چیست؟ می فرمایند: « نشانه اش این است که در سن پیری است، ولی منظرش جوان است؛ به گونه ای که بیننده می پندارد 40 ساله یا کمتر از آن است. نشانه ی دیگرش آن است که به گذشت شب و روز پیر نشود تا آنکه اجلش فرا رسد. »(3)
در روایت بالا، نکات عجیبی درباره ی حضرت مهدی (عج) ذکر شده است. طوری که حضرت امام رضا (ع) می فرمایند در عین حال که حضرت مهدی (عج) عمر طولانی دارند، از نظر جسمی و ظاهری جوان می باشند؛ به نحوی که با گذشت ایام نیز حضرت پیر نمی شوند. حال این پرسش مطرح است که چگونه ممکن است حضرت مهدی (عج) با بقیه ی انسان ها و حتی ائمه ی اطهار (ع) و پیامبر (ص) نیز تا این حد متفاوت باشند؟ آیا این عقیده درمورد حضرت مهدی (عج) صرفاً تخیلات و اوهام است (نعوذ بالله)، یا از نظر علمی امکان اثبات آن وجود دارد؟
تا به حال از سوی محققین و نویسندگان شیعه، شواهدی برای امکان اثبات طول عمر حضرت مهدی (عج) بیان شده است. مهمترین شواهدی که تا به حال از سوی محققین شیعه در رابطه با امکان اثبات طول عمر حضرت مهدی (عج) بیان شده اند. به قرار زیرند:
1 – مثال هایی از معمرین (سالخوردگان): بنابراین نظریه، از آنجا که به گواهی تاریخ، بعضی از انسان ها طول عمر زیادی داشته اند (از جمله حضرت نوح (ع)، حضرت آدم (ع)، بخت النصر و ...)، این امکان وجود دارد که حضرت مهدی (عج) نیز مانند آنان عمر طولانی داشته باشند.(4)
2 – مثال هایی از تلاش علم پزشکی برای افزایش طول عمر افراد: در این تئوری، بیان می شود که امروزه با توجه به تلاش های پزشکی در جهت افزایش طول عمر افراد، این امکان نیز وجود دارد که حضرت مهدی (عج) نیز به دلیل رعایت اصول پزشکی و دانستن قواعد افزایش طول عمر، عمر طولانی دارند.(5)
شواهدی که ملاحظه فرمودید گرچه تا حدی کمک کننده هستند، اما خود این شواهد دچار مشکلات خاصی می باشند؛ برای مثال درمورد بحث معمرین، گرچه این مثال ممکن است برای اهل سنت یا برای برخی از پیروان ادیان دیگر مانند مسیحیان کمابیش معنادار باشد، اما پاسخ مناسبی برای ادعاهای افراد لائیک و لامذهب نمی باشد؛ چرا که این افراد اصلاً حضرت نوح (ع) و غیره را آنگونه که ما می شناسیم و قبول داریم، قبول ندارند که بشود از حضرت نوح (ع) برای آنها مثال زد.
در مورد پیشرفت های علوم پزشکی و تلاش دانشمندان برای به ثمر رساندن نتایج تحقیقاتشان درباره ی افزایش طول عمر انسانها، باز هم این مشکل وجود دارد که هنوز تحقیقات دانشمندان به نتیجه ی مناسب و تاثیرگذاری نرسیده است و هنوز توانایی دانشمندان در ارتقای افزایش عمر انسانها، ناچیز بوده است.
دانشمندان امروز، تلاش خود را عمدتاً در زمینه ی تحقیق بر روی سلولهای سرطانی متمرکز کرده اند تا با بررسی دلیل افزایش طول عمر سلولهای سرطانی، بتوانند علت افزایش طول عمر این سلولها را دریابند و بعد از یافتن این علتها درصورت امکان آنها را به بقیه ی سلولهای بدن تعمیم دهند. برای مثال آنزیم تلومراز که یک پروتئین فعال سلولی می باشد و وظیفه اش اضافه کردن واحدهائی به نام تلومر در انتهای کروموزم ها است، یکی از موضوعات مورد علاقه ی دانشمندان است.(6)
توجه: عزیزانی که به زیست شناسی علاقه ندارند و یا اطلاعات کافی در این زمینه ندارند، مطالب بین *** و *** را می توانند نخوانند. (*** تلومرها واحدهایی هستند که در انتهای کروموزوم ها قرار دارند و به مثابه ساعت سلولی عمل می کنند. در سلولهای سالم و معمولی، با گذشت زمان و تقسیم سلولی، قطعه های تلومر از انتهای کروموزوم ها کنده شده و این کار تا زمانی ادامه می یابد که آخرین تلومر نیز کنده شده و دیگر تلومری در انتهای کروموزوم ها باقی نماند. با این اتفاق، سلولهای معمولی عمرشان خاتمه یافته و می میرند. اما در سلولهای سرطانی با افزایش فعالیت آنزیم تلومراز، هر وقت تلومری از انتهای کروموزوم کنده شود، پروتئین تلومراز، تلومرهای دیگری را به انتهای کروموزوم می افزاید و با این کار نمی گذارد سلولهای سرطانی بمیرند. ***)(7)
امروزه این امید وجود دارد که با تحقیق برروی تلومرازها و استفاده از آنها در سلولهای سالم بدن انسان، طول عمر افراد را افزایش دهند. البته تا رسیدن به نتایج این تحقیقات و بخصوص تا زمان عملی شدن نتایج آن ها، راه بسیار بسیار طولانی در پیش است؛ چه رسد به اینکه بتوان آن را بر روی انسان ها انجام داد. بنابراین ذکر مثال از پیشرفتهای علم پزشکی در رابطه با طول عمر امام زمان (عج) چندان کمک کننده نیست. نکته ی مهم دیگری که در رابطه با شواهدی که تا به حال از سوی محققین شیعه ذکر می شده اند وجود دارد، این است که مثال در مورد معمرین و مثال درباره ی پیشرفتهای پزشکی، گرچه ممکن است تا حدی افزایش طول عمر حضرت مهدی (عج) را توجیه کنند، اما لزوماً جوانی ایشان را با گذشت زمان توجیه نمی نمایند.
اما شاهد جدیدی که امروز برای اولین بار خدمت شما برادران و خواهران گرامی ارائه می گردد، مربوطه به علم فیزیک جدید است. قویاً به شما توصیه می نماییم که در همین ابتدا نگران نباشید و فکر نکنید که توضیحاتی که در ادامه می آیند، پیچیده و سخت هستند. بلکه ما تلاش نموده ایم تا آنجا که ممکن است، مسائل را به شکل خیلی ساده، به دور از فرمول ها و معادلات پیچیده ی فیزیک جدید ارایه کنیم. البته اگر احیاناً در بخش هایی از این مطالب به مشکل برخوردید و یا صحت آنها برایتان جای سئوال داشت، می توانید از یک کارشناس فیزیک یا مهندس برق یا عمران که از نظر اعتقادی نیز قابل اطمینان هستند، کمک بگیرید.
در این فرضیه ی جدیدی که خدمتتان ارایه می نمایم، تلاش می کنیم تا با استفاده از تئوری « نسبیت خاص انیشتین » (Special Relativity)، امکان اثبات عمر طولانی حضرت مهدی (عج) و جوانی ایشان را بررسی نماییم. باز هم تأکید می کنیم که از اسم تئوری نسبیت اینیشتین نترسید، چون مطالبی که در زیر می آیند به صورت بسیار ساده و قابل فهم بیان شده اند.
مطابق « تئوری نسبیت خاص انیشتین » که با شواهد تجربی نیز تأیید شده است، هنگامی که اجسام سرعت بسیار زیادی دارند، اتفاقات خاصی برایشان می افتد؛ به نحوی که فاصله ها برای اجسام کوتاهتر شده، جرم اجسام افزایش می یابد و حتی زمان برای اجسام سریع، کندتر می گذرد. به عبارت دیگر مطابق این قانون، کسی که در فضاپیمای بسیار بسیار سریع نشسته است، از دید ناظر روی زمین، ساعت همراه وی بسیار بسیار کندتر می گذرد و این کندتر گذشتن زمان واقعی است نه اینکه تنها یک تصور باشد.(8) گرچه ممکن است مطلب گفته شده عجیب به نظر برسد و با مطالبی که در فیزیک کلاسیک (که در دبیرستان خوانده ایم) بیان می شود، به ظاهر تضاد داشته باشد، اما باید گفت که تئوری نسبیت خاص انیشتین با تمام شگفت انگیزی و عجیب بودنش، واقعیت دارد و با شواهد تجربی اثبات شده است.
قسمتی از نظریه های نسبیت خاص انیشتین که ما در این مقاله به آن می پردازیم، بحث « نسبیت زمان » است و به بقیه قسمتهای آن نمی پردازیم. « نسبیت زمان » می گوید که اجسام و افرادی که با سرعت های بسیار بسیار بالا مثلاً نزدیک به سرعت نور طی مسیر می کنند، از دید ناظر زمینی، زمان برایشان بسیار کند می گذرد. به عبارت دیگر اگر دو شخص وجود داشته باشند که یکی برروی زمین ساکن نشسته باشد و شخص دیگر در فضاپیمایی با سرعت بسیار بالا نشسته باشد، ساعتی که در دست شخص فضانورد است، از دید ناظر زمینی کندتر از ساعت فردی که بر روی زمین بی حرکت نشسته است، می گذرد. البته خود شخص فضانورد این کند شدن زمان را احساس نمی نماید؛ اما هنگامی که با فرد زمینی مقایسه می گردد، این اختلاف گذشت زمان، خود را نشان می دهد.(9) برای مثال درحالی که مطابق ساعت فرد روی زمین 1 ساعت سپری گشته است، مطابق ساعت شخص فضانورد فقط 1 دقیقه سپری شده است. بنابراین شخص روی زمین 1 ساعت پیرتر شده است، اما شخص فضانورد فقط 1 دقیقه از عمرش گذشته است. به این ترتیب شخص فضانورد مذکور، در طی این مدت جوانتر از فرد روی زمین مانده است.
البته این مسئله تنها یک بحث داستانی و افسانه وار نیست؛ بلکه یک حقیقت علمی در فیزیک است که با فرمول های متعددی تحت بررسی قرار می گیرد.
توجه: عزیزانی که به فیزیک علاقه ندارند و یا اطلاعات کافی در این زمینه ندارند، مطالب بین *** و *** را می توانند نخوانند.
*** فرمول زیر که یکی از آسانترین فرمول های تئوری نسبت خاص انیشتن است، به بیان رابطه ی بین سرعت و زمان نسبیتی می پردازد:(10)


از فرمول مذکور چنین نتیجه می شود که اگر فردی در فضاپیمایی با سرعت بسیار زیاد نشسته باشد، زمان برای او بسیار آهسته تر از ساعت های روی زمین می گذرد و عمر او طولانی تر شده و جوان تر از انسان های روی زمین می ماند. برای قابل فهم تر شدن این مسئله، فرمول فوق را با ذکر مثال عددی بیان می کنیم:
فرض کنید که فردی بر روی یک صندلی در روی کره ی زمین و ساکن و بی حرکت نشسته است و شخص دیگری نیز در داخل فضاپیمایی با سرعت بسیار بسیار زیاد طی مسیر می کند. فرض می کنیم که فضاپیمای شخص دوم، سرعتی معادل C99999999/0 (C همان سرعت نور است) داشته باشد؛ زمان سپری شده در روی زمین و زمان سپری شده در فضاپیما، با یکدیگر تفاوت عمده ای خواهند داشت.
برای مثال فرض می کنیم که اگر در روز کره ی زمین، ساعت فرد نشسته برروی صندلی (t) گذشت 20 ساعت را نشان دهد، مطابق فرمول مذکور، ساعت فرد نشسته در فضاپیما تنها سپری شدن چند ثانیه را نشان خواهد داد. محاسبه ی فرمولی مثال فوق به قرار زیر است:
بدین ترتیب همانگونه که ملاحظه فرمودید، هنگامی که سرعت یک فضاپیمایی بسیار بسیار نزدیک به سرعت نور شود ،زمان به قدری کند می گذرد که درحالی که ساعت روی کره ی زمین گذشت 20 ساعت را نشان می دهد، ساعت درون فضاپیما از دید ناظر زمینی گذشت زمان چندانی را نشان نمی دهد (0 = t’). البته به دلیل اینکه ما در فرمول برای سهولت محاسبات، عدد C99999999/0 را به طور تقریبی برابر با C در نظر گرفتیم، صفر به دست آمده در نتیجه نهائی (0 = t’)، یک صفر واقعی نیست؛ بلکه نتیجه ی نهایی اصلی (00000001/0 =t’ ) می باشد.
بدین ترتیب می توان گفت که درحالی که بر روی زمین 20 ساعت سپری شده است، شخصی که در فضاپیما با سرعت بسیار بسیار زیاد درحال حرکت است، از دید ناظر زمینی تنها گذشت 1 ثانیه را تجربه می کند.
بنابراین شخص نشسته در فضاپیمای سریع السیر نسبت به شخصی که در زمین نشسته است، نزدیک به 1000 برابر جوانتر مانده است و گذشت زمان کمتری را سپری نموده است.
آلبرت اینیشتین برای اینکه فرمول خود را قابل فهم تر بکند، از مثالی تحت عنوان ساعت فوتونی (Photon Clock) استفاده کرد. قبل از توضیح بیشتر درمورد ساعت فوتونی، به تصویر زیر توجه فرمایید:(11)
ساعت فوتونی و توضیح کند شدن گذر زمان در سرعت های بسیار بسیار بالا.
ساعت فوتونی ساعتی است که از دو سطح آینه ای تشکیل شده است. طرز کار این ساعت این گونه است که هنگامی که یک ذره ی نور (فوتون) از سطح آینه ی اول به سطح آینه ی دوم برخورد کرده و دوباره به طرف آینه ی اول باز می گردد، این رفت و برگشت زمانی معادل 1 ثانیه را نشان می دهد. هنگامی که این ساعت (ساعت فوتونی) بی حرکت باشد (برای مثال در دست مردی نشسته برروی کره ی زمین)، ساعت فوتونی خیلی معمولی و مطابق توضیح داده شده، ثانیه ها را ثبت می کند (که ما این حالت را در شکل بالا با فلش سبز نشان داده ایم). اما هنگامی که ساعت فوتونی در یک فضاپیمای باسرعت بسیار بسیار بالا کار گذاشته شود، ذره ی نور یا (فوتونی) که درسطح آینه ی اول حرکت می کند و به سمت آینه ی دوم می رود باید مسافت بسیار بسیار طولانی را طی کند تا به سطح آینه ی مقابل برسد و بازهم باید مسافت بسیار بسیار طولانی را طی کند تا مجدداً از آینه ی دوم به سمت آینه ی اول برگردد (ما این حالت را در شکل فوق با فلش قرمز نشان داده ایم). در واقع در فضاپیما، ذره ی نور یا فوتون به محض اینکه از آینه ی اول جدا می شود تا به آینه ی دوم برسد، به جای اینکه همچون ساعت فوتونی روی زمین مسیر مستقیمی را تا آینه ی مقابل خود طی کند، مجبور می گردد تا مسیر بسیار طولانی تری را در فضا بپیماید تا به آینه ی روبرویش برسد؛ چرا که فضاپیمایی که حامل ساعت فوتونی مذکور است، در طی همان مدت بسیار کوتاه، هزاران کیلومتر در فضا طی مسیر کرده است و دیگر در سرجای اولش نیست. بنابراین ذره ی نور یا فوتون نیز مجبور است برای برخورد به آینه ی سطح مقابل، پا به پای فضاپیما در فضا طی مسیر کند تا به آینه ی سطح مقابل خود برسد. این مسئله سبب می شود تا فوتونی که به وسیله ی رفت و برگشت آن، ساعت فوتونی زمان را به ما نشان می دهد، دیرتر به سر جای اول خود برگردد و ثانیه ها را کندتر نشان دهد.
در واقع در فضاپیما، فوتون ساعت فوتونی برای نشان دادن سپری شدن زمان، مجبور به طی کردن مسیرهای بسیار طولانی است و به همین دلیل زمان را به ما کندتر نشان می دهد.
توجه : اینیشتین از مثال ساعت فوتونی برای قابل فهم تر کردن زمان نسبیتی استفاده کرد. اما این مسئله بدین معنا نیست که لزوماً دلیل کند گذشتن زمان در سرعت های بالا به دلیل اتفاقی است که برای ساعت فوتونی پدید می آید، بلکه کند گذشتن زمان در سرعت های بالا، احتمالاً مکانیسم های پیچیده تری دارد. اما به هرحال هرچه هست، زمان نسبیتی یک واقعیت علمی در فیزیک است که در آزمایش های تجربی نیز به اثبات رسیده است. ***
پارادوکس دوقلوها:(12) یک مثال خیلی ساده که دانشمندان فیزیک جدید از آن استفاده می کنند تا مسئله ی زمان نسبیتی را قابل فهم تر نمایند، مسئله ی پارادوکس دوقلوها است. در این مثال، بیان می شود که اگر 2 فرد دوقلوی کاملاً همسن تولد بیست سالگی خود را جشن بگیرند و بعد از این جشن، یکی از دوقلوها که فضانورد است، توسط یک سفینه فضائی با سرعت بسیار بسیار بالا به فضا اعزام شود، ولی برادر دوقلوی او در زمین بماند، بعد از گذشت چندین سال حوادث عجیبی رخ می دهد؛ به این ترتیب که آن قلی که فضانورد است به ساعت فضاپیمای خود می نگرد و می گوید من 10 سال دیگر برادرم را در روی زمین خواهم دید و هر دو تولد سی سالگیمان را جشن می گیریم. مطابق ساعت فضاپیما، 10 سال سپری می شود و قل فضانورد با خوشحالی به زمین برمی گردد. اما هنگام پیاده شدن از سفینه، بر روی زمین می بیند که یک پیرمرد 70 ساله با دسته گل به استقبالش می رود. فضا نورد تعجب می کند و می گوید: ای پیرمرد تو کیستی و چرا این قدر نزدیک فضاپیما شدی؟ نترسیدی که به تو صدمه وارد شود؟ اما پیرمرد پاسخ می دهد: من برادر دوقلوی تو هستم!!!


پارادوکس دوقلوها. نظریه ای شگفت انگیز اما واقعی در فیزیک جدید.
در این هنگام قل فضانورد که از تعجب خشکش زده است، به یاد قانون پارادوکس دوقلو های زمان نسبیتی می افتد و متوجه می شود به دلیل اینکه فضاپیمایی که با آن به فضا مسافرت کرده است، سرعت بسیار بسیار بالایی داشته است، ساعت درون فضاپیما بسیار کندتر از ساعت های روی زمین، گذشت زمان را نشان می داده است؛ یعنی گرچه برای قل فضانورد مطابق ساعت های فضاپیما تنها 10 سال سپری شده است، اما ساعت های روی کره ی زمین، 50 سال را سپری کرده اند.
بدین ترتیب قل فضانورد پی می برد که ساعت او در فضاپیما کندتر از ساعت های روی زمین گذشت زمان را نشان می داده است .
شواهد تجربی که درست بودن مسئله ی « زمان نسبیتی » را تائید می کند:
سالها بعد از اینکه اینیشتین قانون نسبیت خاص و مسئله ی زمان نسبیتی را معرفی نمود، دانشمندان به شواهد تجربی دست یافتند که به طرز بسیار دقیقی مسئله ی زمان نسبیتی را تائید می کردند؛ ما دراینجا به 3 نمونه از این شواهد اشاره می نمائیم:
1 – Mu مزون ها ذرات ناپایداری هستند که توسط برخورد تشعشعات کیهانی به لایه های فوقانی جو زمین ایجاد می شوند. این ذرات عمر بسیار بسیار کوتاهی دارند، به قدری کوتاه که حتی اگر سرعت این ذرات نزدیک به سرعت نور هم باشد، قاعدتاً نباید این ذرات به سطح زمین راه پیدا کنند؛ چراکه عمر آنها بسیار بسیار کوتاهتر از آن است که بتوان چنین انتظاری داشت؛ اما با کمال تعجب می بینیم که این ذرات به سطح زمین راه می یابند. دلیل این امر، این است که به دلیل سرعت بالای این ذرات، ساعت های درونی این ذرات نیز کندتر می گذرد. یعنی اگر فرض کنیم که تک تک این ذرات ساعتی به مچ بسته باشند، این ساعت ها بسیار کندتر از ساعت های روی زمین، گذشت زمان را نشان می دهند. در واقع همان اتفاق پارادوکس دوقلوها درمورد این ذرات نیز حادث می شود.(13)
2 – ساعت های ماهواره هایی که در سیستم مکان یابی جهانی (GPS) مورد استفاده قرار می گیرند، به میزان بسیار جزیی گذشت زمان را کندتر نشان می دهند که این کند شدن زمان در ساعتهای موجود در ماهواره های GPS، به دلیل سرعت بالای حرکت ماهواره ها به دور زمین می باشد.(14)
این کند شدن زمان در ساعتهای ماهواره ها گرچه بسیار بسیار جزئی است، اما در هر حال این میزان کم هم باید در محاسبات مد نظر قرارگیرد؛ چرا که این اختلاف جزیی ساعت درون ماهواره با ساعت روی زمین، ممکن است منجر به اشتباهات محاسباتی در نشان دادن محل اجسام روی کره ی زمین شود. یک مثال درباره ی اهمیت این مساله، اشتباهاتی بود که در « مسابقات جهانی روباتیک » پدید آمد و عامل آن عدم هماهنگی بین ساعت های روی زمین و ساعت های درون ماهواره های GPS بود.(15)
3 – شخصی به اسم Carol Alley که اهل ریچموند بود، اصرار بر این داشت که یک آزمایش کاملاً مستقیم درمورد اختلاف ساعتها در سرعتهای بالا انجام دهد و بدین ترتیب درستی نظریه ی پارادوکس دوقلوها را مورد امتحان قراردهد.
بدین ترتیب او 2 ساعت اتمی که ساعتهای بسیار دقیقی هستند و در هر چند میلیون سال تنها 1 ثانیه امکان اشتباه دارند، را برای انجام تحقیق برگزید.
او در این آزمایش، یکی از ساعتها را روی زمین باقی گذاشت و ساعت دیگر را با خود به درون هواپیمای حت سریع السیر برد و با این هواپیما چندین بار مسیرهای طولانی را طی کرد. سپس در اتمام آزمایش وقتی که هر 2 ساعت اتمی را در کنار یکدیگر قرار داد، ملاحظه کرد که ساعتی که همراه با او در سفر هوایی و درون جت سریع السیر بود، به میزان بسیار جزیی زمان را کندتر از ساعتی که برروی زمین بود، نشان می داد؛ در واقع ساعتی که درون هواپیمای سریع السیر بود، به دلیل سرعت بالای هواپیما، از ساعتی که روی زمین قرار داشت، اندکی جوانتر مانده بود.(16)
مثال های فوق بخش کوچکی از مثالهای تجربی پیرامون درستی نظریه ی « نسبیت خاص اینیشتین » و « پارادوکس دوقلوها » بود. هر چند آزمایش های تجربی دیگری نیز انجام شده اند و درستی این نظریه را اثبات کرده اند که ما در این مقاله به آنها نمی پردازیم.
چند مثال تجربی از درست بودن « نسبیت زمان » و « پارادوکس دوقلوها »
ذکر یک نکته ی بسیار مهم: علاوه بر نظریه ی « نسبیت خاص اینیشتین » که درمورد تغییرات زمان، طول و جرم در سرعتهای بالا بود، نظریه ی دیگری به نام تئوری « نسبیت عام اینیشتین » نیز وجود دارد که به تغییرات زمان، طول و جرم در مجاورت اجسام با جرم های بسیار بزرگ می پردازد. درنظریه ی نسبیت عام اینیشتین نیز بیان شده است که اجسام و افرادی که در مجاورت اجرام بسیار بزرگ مانند ستاره های غول پیکر و یا سیاه چاله های فضائی قرار دارند، زمان برایشان کندتر از افرادی که روی کره ی زمین زندگی می کنند، می گذرد.(17)
بدین ترتیب، مطابق این نظریه شخصی که در کنار یک ستاره ی غول پیکر زندگی می کند، زمانی که برایش سپری می شود، کندتر از زمانی که برادر دوقلویش در کره ی زمین تجربه می کند، می گذرد؛ در واقع با گذشت زمان، آن قلی که کنار ستاره ی غول پیکر زندگی می کند، جوانتر از برادرش در روی زمین خواهد ماند.
لازم به ذکر است که درستی نظریه ی نسبیت عام هم با آزمایشهای تجربی ثابت شده است؛ اما به هرحال این نظریه کمتر از نظریه ی نسبیت خاص مورد تأکید دانشمندان قرار دارد؛ به همین دلیل گرچه نظریه ی نسبیت عام نیز می تواند در بحث ما مورد استفاده قرارگیرد، اما به دلیل پیچیدگی این نظریه و اهمیت کمتر آن نسبت به نظریه ی نسبیت خاص، در این مقاله به آن استناد نمی نماییم.
جمع بندی بحث و ارتباط آن با مسئله ی طول عمر امام زمان (عج)
بعد از توضیح نسبتاً مفصل تئوری نسبیت خاص اینیشتین، اینک جمع بندی نهایی آن را که خلاصه بوده و می تواند مورد استفاده ی همه ی عزیزان خواننده ی وبلاگ قرار بگیرد، خدمتتان عرض می نماییم.
نتیجه نهائی که درباره ی زمان نسبیتی، پارادوکس دوقلوها و نظریه ی نسبیت خاص اینیشتین به دست می آید، این است که در همین دنیایی که ما زندگی می کنیم و در عالم واقعیت، زمان، طول و جرم یک امر نسبی هستند و ممکن است در شرایط مختلف، اندازه های متفاوتی داشته باشند؛ درمورد مسئله ی نسبی بودن زمان که مورد بحث این مقاله است نیز باید گفت که مطابق یافته های دقیق و شگفت انگیز فیزیک جدید، زمان یک امر نسبی می باشد و درآن واحد ممکن است افراد مختلف در طی یک مدت ظاهراً ثابت و یکسان، عملاً زمان های متفاوتی را تجربه کنند.
برای مثال مطابق این قواعد و قوانین فیزیک، اگر دو برادر دوقلو و کاملاً همسن وجود داشته باشند که یکی فضانورد و دیگری ساکن کره ی زمین باشد، ممکن است در طول زمان گذشت عمر این دو برادر با یکدیگر تفاوت پیدا کند؛ بدین ترتیب که اگر در هنگامی که هر دو نفر 20 ساله هستند، یکی از برادران با سفینه ی فضائی بسیار بسیار سریعی به سفر فضایی برود و مطابق ساعت درون سفینه بعد از 10 سال به زمین برگردد، پس از فرود آمدن سفینه برروی زمین و در حالی که برادر فضانورد فکر می کند که برادر دوقلویش در روی زمین هم مثل او 30 ساله گشته است، با تعجب می بینید که برادر دوقلویش 70 ساله است. چرا که به دلیل سرعت بسیار بسیار زیاد سفینه ی فضایی، ساعت های درون سفینه که در نظر فضانوردان به صورت معمولی زمان را نشان می داده اند، نسبت به ساعت های روی زمین، کندتر گذشت زمان را ثبت کرده اند؛ اما ساعتهای بر روی زمین که ثابت و بدون حرکت بوده اند، گذشت زمان را تندتر نشان داده اند.
البته باید ذکر کنیم که این مثال گرچه اغراق آمیز است و ما هنوز به چنین سفینه ای دست پیدا نکرده ایم، اما مطمئناً خواب و خیال نیست، چرا که علم فیزیک جدید و تئوری نسبیت خاص اینیشتین این مسئله را بیان کرده اند و صحت این مسئله نیز از طریق آزمایشهای تجربی تأیید گشته است؛ بنابراین مسئله گفته شده یک مسئله کاملاً علمی است نه خواب و خیال.
اما مسائل فوق، چه ارتباطی با بحث طول عمر حضرت مهدی (عج) دارند؟
همانگونه که در قسمتهای قبلی مقاله و بخصوص در بحث پارادوکس دوقلوها ملاحظه کردید، در همین دنیای امروز ما این امکان وجود دارد که برای دو فرد مختلف که در شرایط متفاوتی به سر می برند، گذشت زمان نیز متفاوت باشد؛ برای مثال اگر بر کسی 300 سال سپری شود، برای شخص دیگر همان مدت به اندازه 3 سال ادراک شود که این تفاوت ها به سرعت طی مسیر این افراد و ... بستگی دارد.
در مورد مسئله طول عمر امام زمان(عج) نیز، این مسئله در روایات بیان شده است که در حالیکه انسانهای کره زمین بیش از چند صد سال (تا به حال 1200 سال) از زمان آغاز غیبت حضرت (عج) را سپری کرده اند، حضرت مهدی (عج) در زمان ظهور نه تنها زنده اند، بلکه سن ایشان در حدود 40 سال می باشد. این مسئله نشان می دهد که مدت طولانی که برای بقیه انسان های کره زمین سپری شده است، برای حضرت مهدی (عج)، زمان اندکی بوده است و ایشان تنها زمان کمی از عمر مبارکشان سپری شده است. در واقع بین زمان سپری شده برای حضرت مهدی (عج) و زمان سپری شده برای بقیه انسان ها اختلاف پدید آمده است.
حال دشمنان پاسخ دهند که چگونه تئوری نسبیت خاص اینیشتین، پارادوکس دوقلو ها و غیره را که در آن بیان می شود امکان دارد در همین دنیا دو فرد مختلف و در یک مدت مشخص، زمان های متفاوتی را سپری کنند، می پذیرند، اما به اعتقاد شیعه درباره ی طول عمر حضرت مهدی (عج) و جوانی ایشان در هنگام ظهور، می خندند! مگر پارادوکس دوقلوها بیان نمی کند که زمان نسبی است؟
در واقع باید چنین گفت که روایات ما شیعیان در حدود 1300 تا 1400 سال پیش خبر از یک اصل مهم علمی داده اند که امروزه دانشمندان غربی به کشف آن افتخار می کنند؟!!! روایات ما همگی ذکر کرده اند که در حالی که برای اکثر انسانها چند صد سال سپری می شود، همان مدت برای حضرت مهدی (عج) که در غیبت به سر می برند، اما به هر حال در همین دنیا زندگی می کنند، زمان اندکی سپری می گردد و این یعنی همان مسئله ی نسبیت زمان. اما از برادران اهل سنت باید پرسید: شما که به قدرت خداوند متعال ایمان دارید، چگونه می توانید مسئله طول عمر حضرت مهدی (عج) را افسانه بپندارید؟ آیا (نعوذ بالله) دانشمندان غربی از خداوند متعال تواناترند که می توانند مسئله ی نسبیت زمان را مطرح کنند و حتی در آزمایش های تجربی خود آنرا مورد آزمایش قرار دهند، اما خداوند متعال قادر نیست حجت خود را در طول تاریخ زنده و جوان نگه دارد؟ آیا دانشمندان فیزیکدان اهل سنت که هر ساله درباره ی قوانین فیزیک جدید مطالعه می کنند، این قوانین را می پذیرند، اما سخن روایات را درباره ی عمر طولانی حضرت مهدی (عج) و جوان ماندن ایشان در طول تاریخ، افسانه و خیالات شیعه پنداشته و به دور از حقایق علمی می دانند؟ چگونه است که ما انسانهای عادی قادر به فهم این مسئله هستیم، اما نعوذ بالله خداوند متعال و پیامبر و ائمه (ع)، چیزی در این باره نمیدانند؟
اما دانشمندان غربی و متفکران اروپایی و آمریکایی در این رابطه چه جوابی دارند؟ چگونه آنها مسئله ی زمان نسبی را کشف کرده اند و به کشف آن مباهات نموده اند، اما نظر شیعه را درباره ی طول عمر حضرت مهدی (عج) و جوانی ایشان در زمان ظهور به سخره می گیرند؟ آیا تمسخر این عقیده به مفهوم زیر سئوال بردن کشفیات خود آن ها نیست؟ آنها حداقل احتمال نمی دهند که ممکن است علاوه بر قوانین ذکر شده، قوانین دیگری هم در طبیعت وجود داشته باشد که به واسطه ی آن بتوان مسئله جوان ماندن افراد را در طول زمان توضیح داد؟
اما دانشمندان شیعه چرا پاسخی به یاوه گویی های دشمنان اسلام نداده اند و چرا با برادران اهل تسنن از طریق علم مباحثه نکرده اند؟ قطعاً هنگامیکه ما انسانهای ضعیف و فنا پذیر قادر به کشف قوانینی هستیم که در آنها در می یابیم، امکان دارد که زمان بر افراد مختلف به صورت متفاوتی سپری شود، خداوند متعال که میلیاردها بار از ما تواناتر و داناتر است، قوانینی در طبیعت وضع کرده است که بر اثر آن ها، زمان بتواند برای افراد مختلف به صورت متفاوتی سیر کند. وای به حال کسانی که قدرت خدا را نادیده می گیرند و حتی قدرت او را از دانشمندان غربی که قادر به دستکاری زمان برای اجرام هستند، کمتر می پندارند.
ذکر یک نکته ی بسیار مهم : هدف ما از تدوین این مقاله، این نیست که بگوییم مکانیسم افزایش طول عمر حضرت مهدی (عج) و جوانی ایشان را در زمان ظهور، کشف کرده ایم؛ ما هرگز چنین جسارتی به خود راه نمی دهیم؛ چرا که درک این مسئله از توان ما انسانها خارج است. اما ما این مقاله را تدوین کرده ایم تا بگوییم در همین دنیای مادی که در آن زندگی می کنیم، قوانین شگفت انگیزی وجود دارند که می گویند افراد مختلف می توانند زمانهای متفاوتی را تجربه کنند و زمان ممکن است برای برخی از افراد در شرایط خاص بسیار کندتر از دیگران بگذرد؛ در واقع شبیه به همان اتفاقی که برای حضرت مهدی (عج) در طول زمان پدید آمد.
بدین ترتیب ما می گوییم درحالی که خود ما انسانهای ضعیف، قوانینی همچون تئوری نسبیت خاص انیشتن ، پارادوکس دوقلوها و غیره را کشف کرده ایم، چگونه ممکن است قدرت خدا را نادیده بگیریم.
در واقع با بیان این مقاله، قصد داریم که عنوان کنیم، ممکن است درطبیعت قوانین کشف شده همچون نسبیت زمان و نیز قوانین کشف نشده ی دیگری وجود داشته باشند که خداوند خود خلق نموده تا به وسیله ی آنها طول عمر حجتش را زیاد نموده و در هنگام ظهور او را جوان نگه دارد.
مقاله ای که خدمتتان ارائه شد، تلاش دارد تا به یاوه گویانی که سخنان ائمه ی شیعه را درباره ی طول عمر حضرت مهدی (عج) افسانه و خیالات می پندارند، یادآوری کند که سخنان خود آنان افسانه است نه اعتقاد شیعه؛ چرا که کشفیات علوم نوین همچون فیزیک جدید، درستی نظر شیعه را درباره ی طول عمر حضرت مهدی (عج) و جوانی ایشان در هنگام ظهور، تائید می کند.
در پایان مقاله باز هم تاکید می کنیم که ما ادعا نمی کنیم که مکانیسم طول عمر حضرت مهدی (عج) همان تئوری نسبیت خاص اینیشتین است؛ بلکه بیان می کنیم که قوانینی از این دست، در همین طبیعت پیرامون ما وجود دارند که با روایات شیعه درباره ی طول عمر امام زمان (عج) و جوانی ایشان در هنگام ظهور مطابقت دارد. بنابراین نظر شیعه در این رابطه، کاملاً منطقی و علمی است و دشمنان شیعه به یاوه گویی می پردازند.
در روايتهاي شيعه و سني مدت زمانهاي متفاوتي براي حكومت مهدوي ذكر شده كه كمترين آنها هفت سال و بيشترين آنها 309 سال (به مقدار توقف اصحاب كهف در غار) است. در اينجا ابتدا برخي از روايت مرتبط با اين موضوع را نقل ميكنيم و در ادامه به تحليل و بررسي وجه تفاوت مدت زمانهاي ذكر شده در روايات و در صورت امكان جمع بين آنها ميپردازيم.
1. مدت زمانهاي بيان شده در روايات
هفت سال، هشت سال، نه سال، ده سال، نوزده سال، بيست سال، چهل سال و 309 سال مدت زمانهايي هستند كه در روايات از آنها به عنوان مدت حكومت قائم(ع) ياد شده است. هر يك از دانشمندان اسلامي نيز يكي از اين زمانها را ترجيح داده و در كتابهاي خود آوردهاند. روايتهايي كه مستند مدتهاي ياد شده هستند از نظر تعداد و اعتبار يكسان نيستند، ولي در هر حال براي هر يك از آنها ميتوان روايت يا روايتهايي را نقل كرد.
الف) روايتهاي هفت و نه سال
در بسياري از رواياتي كه از طريق اهل سنت از پيامبر اعظم(ص) نقل شده، مدت زمان حكومت مهدي(ع) هفت يا نه سال ذكر شده است. در يكي از اين روايات چنين ميخوانيم:
«زمين از ظلم و جور پر ميشود، آنگاه مردي از خاندان من قيام ميكند، او هفت يا نه [سال] حكومت ميكند و زمين را از عدل و داد آكنده ميسازد».1
نكتة قابل توجه در مورد اين دسته از روايات آن است كه در بيشتر آنها پيامبر(ص) در پاسخ اين پرسش كه امام مهدي(ع) چند سال حكومت ميكند؟ به جاي سخن گفتن و بيان عددي مشخص، به وسيلة انگشتان دست، زمان حكومت آن حضرت را مشخص ميساختند. محدثان اهلسنت هم با توجه به اين عمل پيامبر مدت حكومت امام مهدي(ع) را هفت يا نه سال2 ذكر كردهاند؛ از اينرو اين احتمال وجود دارد كه مراد پيامبر از عددي كه با نشان دادن انگشتانشان بيان ميكردند، نه هفت سال بلكه هفت دوره زماني باشد.3
گفتني است علامة مجلسي هم برخي روايتهاي سني را كه در آنها مدت حكومت امام زمان(ع) هفت يا نه سال بيان شده است، نقل كردهاند كه روايت زير از آن جمله است:
«... پس خداوند مردي از عترت و خاندان مرا برميانگيزد و زمين را از عدل و داد پر ميكند، چنان كه از ظلم و جور پر شده بود. ساكنان آسمان و زمين از او خشنودند، آسمان چيزي از بارانش را نگه نميدارد و همه را پي در پي، فرو ميفرستد، زمين هيچ روئيدني را در خود نگه نميدارد و همه را خارج ميسازد. تا آنجا كه انتظار ميرود مردگان نيز زنده شوند، جهانيان هفت يا هشت، يا نه سال در اين وضع زندگي ميكنند».4
ب) روايتهاي نوزده سال
نعماني در آخرين باب كتاب خود، چهار روايت، در زمينة مدت زمان حكومت قائم(ع) نقل كرده كه در همة آنها از نوزده سال يا نوزده و چند ماه سخن به بيان آمده است.5
در يكي از اين روايات كه از امام صادق(ع) نقل شده است، چنين ميخوانيم:
«همانا قائم [بر او درود باد] نوزده سال و چند ماه حكومت خواهد كرد».6
در يكي از روايات اين باب، افزون بر نوزده سال از 309 سال هم به عنوان مدت حكومت امام مهدي(ع) ياد شده است، كه در ادامه دربارة آن سخن خواهيم گفت.
ج) روايتهاي چهل سال
برخي روايات، مدت حكومت امام مهدي(ع) را چهل سال ذكر كردهاند. از جمله در روايتي كه از پيامبر اكرم(ص) نقل شده، آمده است: «او چهل سال در روي زمين فرمانروايي ميكند».7
امام حسن مجتبي (ع) نيز از پدر بزرگوارش نقل ميكند كه فرمود:
«خداوند در آخرالزمان مردي را بر ميانگيزد... او زمين را از عدل، داد، برابري، نور و برهان پر ميكند... او [به مدت] چهل سال بر شرق و غرب عالم فرمانروايي ميكند. پس خوشا به حال كسي كه زمان او را درك كند و سخن او را بشنود».8
د) روايتهاي هفتاد سال
برخي روايات، ابتدا مدت حكومت قائم(ع) را هفت سال اعلام كردهاند، ولي در ادامه يادآور شدهاند كه هر يك سال از حكومت آن حضرت برابر با ده سال از سالهاي معمولي است.
عبدالكريم خثعمي ميگويد، به امام صادق(ع) عرض كردم: «قائم ـ بر او درود باد ـ چند سال حكومت ميكند» و آن حضرت فرمود: «هفت سال، روزها و شبها طولاني ميشوند تا آنجا كه هر سال از سالهاي او با ده سال از سالهاي شما برابري ميكند، و بدين گونه مدت حكومت او با هفتاد سال از سالهاي شما برابر ميشود».9
اين موضوع كه در عصر امام مهدي(ع)، سالها طولانيتر شده و هر سال با ده سال از سالهاي كنوني برابري ميكند در روايتهاي متعددي بيان شده است. از جمله در روايتي كه از امام ششم شيعيان(ع) نقل شده، آمده است: «خداوند در عهد او به چرخ گردون فرمان ميدهد كه آرامتر بگردد، تا آنجا كه در روزگار او يك روز برابر با ده روز از روزهاي شما، يك ماه برابر با ده ماه [از ماههاي شما] و هر سال برابر با ده سال از سالهاي شما ميشود».10
ه ) روايتهاي 309 سال
آخرين گروه از روايات، شامل رواياتي است كه مدت زمان حكومت امام مهدي(ع) را به تعداد سالهاي اقامت اصحاب كهف در غار، يعني 309 سال دانستهاند. در يكي ازاين روايات كه از امام محمدباقر(ع) نقل شده، چنين آمده است:
«قائم مدت 309 سال حكومت ميكند، به تعداد سالهايي كه اصحاب كهف در غار خود درنگ كردند. او زمين را از عدل و داد پر ميكند. چنان كه ستم و بيداد پر شده بود».11
نعماني در كتاب خود از جابربن يزيد جعفي نقل ميكند كه امام باقر(ع) ميفرمود:
«به خدا سوگند مردي از ما اهل بيت سيصد سال [و سيزده سال] به اضافة نه [سال] حكومت خواهد كرد، گويد: به آن حضرت عرض كردم: [و] اين كي خواهد شد؟ فرمود: پس از وفات قائم(ع). به آن حضرت گفتم: قائم (ع) چقدر در عالم خود برپاست تا از دنيا برود؟ فرمود: نوزده سال از روز قيامش تا روز مرگش».12
2. جمع بين روايات
با توجه به اختلافهايي كه در زمينة مدت حكومت امام عصر(ع) در روايات وجود دارد، عدهاي از عالمان و محدثان شيعه و سني به توجيه اين اختلافها و جمع ميان روايات پرداختهاند، كه در اينجا به برخي از آنها اشاره ميكنيم: علامه مجلسي(ره) در اين زمينه مينويسد:
«اخبار متفاوتي كه در زمينة مدت حكومت امام مهدي(ع) وارد شده است، برخي بر همة مدت فرمانروايي آن حضرت، برخي بر زمان استقرار دولت او، برخي بر سالها و ماههايي كه در نزد ما وجود دارد و برخي هم بر سالها و ماههاي طولاني زمان ايشان حمل ميشود».13
نويسنده كتاب «الشيعة و الرجعة» پس از نقل روايات مختلفي كه در زمينة مدت حكومت امام مهدي(ع) وارد شده است، مينويسد:
«اين اقوال در ظاهر متناقض هستند و به هيچيك از آنها نميتوان اعتماد كرد. بله، روايت هفت سال در احاديث سنيان و اخبار ما (شيعيان) تكرار شده است و چهبسا اين روايت بر ديگر روايات ترجيح داشته باشد؛ زيرا اين روايت مطابق با برخي اخبار ماست كه ميگويند مراد از هفت سال، هفتاد سال است و آن حضرت با قدرت خداي تعالي پس از ظهور، اين مدت زندگي ميكند. يعني هر يك سال [از مدت زندگي ايشان] برابر با ده سال از سالهاي ما خواهد بود. اين موضوع در اخبار ما كه ائمه حديث و حافظان علم دراية و حديث آنها را نقل كردهاند، تبيين شده است».14
سيد صدرالدين صدر(ره) دركتاب خود پس از اشاره به اختلاف روايات وارد شده در زمينة مدت حكومت امام مهدي(ع) به ويژه در رواياتي كه از طريق اهل سنت نقل شده است، ابتدا سخني را از اسعاف الراغبين (ص 155) در ترجيح روايات هفت سال ـ به شرح زير ـ نقل ميكند:
«بيشتر روايات بر اين موضوع اتفاق دارند كه مدت حكومت او هفت سال است و ترديد در زيادتر از اين مقدار تا تمام شدن نه سال است. در مورد روايت شش سال هم همين موضوع مطرح است. ابنحجر گفته است: آنچه احاديث بر آن اتفاق دارند اين است كه او بيترديد هفت سال حكومت ميكند. و از ابن الحسين ابري هم نقل شده است كه اخبار مستفيض و متواتر دلالت دارند كه او هفت سال حكومت ميكند».15
و در ادامه مينويسد:
«اين قول ظاهرتر و مشهورتر است و اين خود فضيلتي بزرگ براي مهدي است كه قيام او براي اصلاح ديني و دنيايي وعده داده شده، در اين مدت كوتاه رخ ميدهد. چنان كه قيام جد بزرگوار او
ـ درود و سلام خدا بر او و خاندانش باد ـ نيز در مدت هشت سال؛ يعني از سال دوم هجري به بعد، به ثمر نشست».16
ايشان در پايان بحث، ديدگاه خود را در زمينة جمع بين روايات اين گونه بيان ميكند:
«ممكن است گفته شود دليل اختلاف روايات اين است كه اساساً نميخواستهاند حقيقت را در مورد مدت زمان زندگي مهدي بيان كنند ـ چنانكه وقت ظهور او را نيز پوشيده نگه داشتهاند ـ تا شنونده خود هر يك از اقوال را كه مايل بود برگزيند و طولانيترين زمان را براي بقاي مهدي آرزو كند. اگر چه ترجيح
ـ چنانكه دانستي ـ با قول هفت سال است و همين هم اقواست».17
حضرت آيتالله مكارم شيرازي نيز در اين باره مينويسد: «گرچه دربارة مدت حكومت او احاديث مختلفي در منابع ا سلامي ديده ميشود كه از پنج يا هفت سال تا 309 سال (مقدار توقف اصحاب كهف در آن غار تاريخي) ذكر شده است كه در واقع ممكن است اشاره به مراحل و دورانهاي آن حكومت باشد (آغاز شكل گرفتن و پياده شدنش پنج يا هفت سال و دوران تكاملش چهل سال و دوران نهايياش بيش از سيصد سال! دقت كنيد)، ولي قطع نظر از روايات اسلامي، مسلم است كه اين آوازهها و مقدمات براي يك دوران كوتاه مدت نيست بلكه قطعاً براي مدتي است طولاني كه ارزش اين همه تحمل زحمت و تلاش و كوشش را داشته باشد».18
ابن حجر عسقلاني از علماي اهل سنت نيز دربارة جمع روايات مدت حكومت مهدي موعود، چنين مينويسد:
«در نشانههاي مهدي منتظر روايتهاي هفتسال بيشتر و مشهورتر هستند. بر فرض درستي همة روايتهاي [وارد شده در اين موضوع] ميتوان آنها را اينگونه جمع كرد: حكومت او از نظر ظهور در قدرت متفاوت است. پس چهل سال ـ به عنوان مثال ـ به اعتبار همة مدت حكومت اوست. هفت سال و مانند آن به اعتبار نهايت ظهور و قدرت حكومت او و بيست سال و مانند آن نيز به اعتبار حد ميانة [ظهور و مدّت حكومت او] است».19
با توجه به مطالب ياد شده شايد بتوان گفت كه دوران زمامداري امام مهدي(ع) به طور خاص، يا كلّ مدت استمرار حكومت عادلانهاي كه پس از ظهور تشكيل ميشود 309 سال است و ساير سالهايي كه در روايت ذكر شده است ـ بر فرض صحت روايات ـ ناظر به دورانهاي مختلف استقرار حكومت مهدوي از ظهور امام مهدي(ع) تا تشكيل حكومت است. توجه به نكات زير در تأييد اين برداشت مؤثر است:
1. استقرار حكومت عادلانه در سراسر زمين پس از قرنها حاكميت كفر و ظلم نيازمند مجاهدتي طولاني و گسترده است و قطعاً حضرت مهدي(ع) بايد سالها در جهان حضور داشته باشد تا بتواند به همة اهداف خود جامة عمل بپوشاند.
2. پذيرش اين مطلب كه مردم قرنها براي تحقق عدل مهدوي در انتظار باشند و سختيها و مشكلات بسياري را در اين راه تحمل كنند، ولي اين حكومت چند سالي بيشتر به طول نينجامد بسيار دور از ذهن است.
3. پس از ظهور امام مهدي(ع) عصر رجعت آغاز ميشود. پيشوايان معصوم(ع) يكي پس از ديگري به دنيا باز ميگردند و پس از وفات يا شهادت آن حضرت راه او را ادامه ميدهند.21
ماهنامه موعود شماره 97
پينوشتها:
1. احمدبن حنبل، المسند، ج 3، ص 28
2. اين احتمال وجود دارد كه كلمة «سبع = هفت» در نسخه برداريهايي كه از كتابهاي روايي صورت گرفته است، تصحيف و تبديل به «تسع = نه» شده باشد.
3. ر. ك: معجم احاديث الإمام المهدي(ع)، ج 2، ص 527.
4. بحارالآنوار، ج 51، ص 104، ح 39.
5. ر. ك: كتاب الغيبة، ص 331 ـ 332.
6. همان، ص 332، ح 4.
7. بشارت الاسلام، ص 255؛ الزام الناصب، ص 304.
8. بحارالآنوار، ج 52، ص 280، ج 6.
9. بحارالآنوار، ج 52، ص 337، ح 77.
10. همان، ص 333، ح 61؛ شيخ طوسي، كتاب الغيبة، ص 283.
11. بحارالآنوار، ج 52، ص 291، ح 34.
12. كتاب الغيبة، ص 331ـ332 ، ح 3.
13. بحارالآنوار، ج 52، ص 280.
14. محمدرضا طبسي نجفي، الشيعه و الرجعة، ج 1، ص 225.
15. سيد صدرالدين صدر، المهدي(ع)، ص 241.
16. همان، ص 242.
17. همان.
18. ناصر مكارم شيرازي، حكومت جهاني موعود(عج)، ص 281.
19. به نقل از: المهدي، ص 242.
20. ر. ك: بحارالانوار، ج 53، صص 139 ـ 144 (باب الرجعة).
21. بر اساس روايات: پس از ظهور امام مهدي(ع)، ابتدا امام حسين(ع) به عنوان نخستين رجعت كننده به دنيا برميگردد. پس از او اميرمؤمنان علي (ع) و پيامبر اكرم(ص) نيز به دنيا رجعت ميكنند و ساليان سال به زندگي خود ادامه ميدهند.
در قرآن، آیات بسیارى وجود دارد كه به شهادت روایات مستند و معتبر، درباره حضرت مهدى(علیه السلام) و قیام جهانى او نازل گردیده است.
در كتاب شریف «المحجّة فى ما نزل فى القائم الحجّة(علیه السلام)» كه توسط محدث بزرگوار، مرحوم سید هاشم بحرانى و با بهره گیرى از دهها جلد كتب تفسیر و حدیث، تألیف گردیده، مجموعاً (132) آیه از آیات كریمه قرآن ذكر شده كه در ذیل هر كدام یك یا چند روایت در تبیین كیفیت ارتباط آیه با آن حضرت(علیه السلام)، نقل شده است.
در اینجا به ذكر چند روایت در این مورد، بسنده مى كنیم:
1 ـ امام صادق (علیه السلام) در باره قول خداى عزّوجلّ: «هو الذى ارسل رسوله بالهدى و دین الحق لیظهره على الدّین كلّه و لو كره المشركون»(1) فرمود:
«به خدا سوگند! هنوز تأویل این آیه نازل نشده است و تا زمان قیام قائم (علیه السلام) نیز نازل نخواهد شد. پس زمانى كه قائم (علیه السلام)به پا خیزد، هیچ كافر و مشركى نمى ماند مگر آنكه خروج او را ناخوشایند مى شمارد.»(2)
2 ـ امام باقر (علیه السلام) در باره آیه شریفه «و قل جاء الحق و زهق الباطل إن الباطل كان زهوقاً» (3) فرمود:
«زمانى كه قائم(علیه السلام) قیام نماید، دولت باطل از بین خواهد رفت.»(4)
3 ـ امام صادق (علیه السلام) در بیان معناى آیه كریمه «و لقد كتبنا فى الزبور من بعدالذكر أن الأرض یرثها عبادى الصّالحون»(5) فرمود:
«تمام كتب آسمانى، ذكر خداست، و بندگان شایسته خدا كه وارثان زمین هستند، حضرت قائم(علیه السلام) و یاران او مى باشند.» (6)
4 ـ امام باقر (علیه السلام) در باره قول خداى عزّوجلّ: «الذین إن مكّنّاهم فى الأرض اقاموا الصلوة و آتوا الزكاة...»(7) فرمود:
«این آیه درحق آل محمد(صلى الله علیه وآله وسلم) است در حق حضرت مهدى(علیه السلام)و یاران او كه خداوند شرق و غرب زمین را تحت سلطه آنان قرار مى دهد و به وسیله آنان دین را پیروز گردانده و بدعتها و باطلها را مى میراند.»(8)
5 ـ امام سجاد(علیه السلام) زمانى كه این آیه شریفه را قرائت نمود: «وَعَد اللّه الّذین آمنوا منكم و عملوا الصالحات لیستخلفنَّهم فى الأرض كما استخلف الذین من قبلهم و لیمكّننّ لهم دینهم الّذى ارتضى لهم و لیبدِّلنّهم من بعد خوفهم أمناً یعبدوننى و لایشركون بى شیئاً» (9) فرمود:
«به خدا سوگند! آنان شیعیان ما اهلبیت هستند، خداوند ـ آن خلافت در زمین و اقتدار بخشیدن به دین را ـ به وسیله آنان و به دست مردى از ما، كه مهدى این امت است، تحقق خواهد داد و هم اوست كه پیامبر(صلى الله علیه وآله وسلم)در باره اش فرمود: اگر از عمر دنیا جز یك روز باقى نمانده باشد، خداوند همان روز را آنچنان طولانى خواهد كرد كه مردى از خاندان من كه همنام من است فرا برسد و زمین را آنچنان كه از ظلم و جور پر شده باشد، از عدل و داد آكنده سازد.»(10)
6 ـ امام صادق (علیه السلام) فرمود: «آیه «أمّن یجیب المظطرّ اذا دعاه و یكشف السّوء و یجعلكم خلفاء الأرض»(11) درباره قائم از آل محمد(صلى الله علیه وآله وسلم) نازل شده است. به خدا سوگند، او همان مضطرّ درمانده اى است كه چون در مقام ابراهیم دو ركعت نماز گزارد و فرج خویش از خدا بخواهد، خداوند دعایش را اجابت كند و بدیها را برطرف سازد و او را در زمین خلیفه قرار دهد.»(12)
پی نوشت:
ـ سوره توبه، آیه 33 اوست خدایى كه پیامبرش را با هدایت و دین حق فرو فرستاد تا آن را بر همه ادیان پیروز گرداند اگرچه ناخوشایند كافران باشد.
2ـ كمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق ، ج 2 ،ص 670.
3 ـ سوره اسراء، آیه 81 ، بگو حق آمد و باطل از بین رفت، همانا باطل نابود شدنى است.
4 ـ الروضة ، ص 287.
5ـ سوره انبیاء ، آیه 105،به راستى بعد از ذكر، در زبور نوشتیم كه بندگان صالح من وارثان زمین خواهند بود.
6ـ تفسیر على بن ابراهیم، ج 2، ص 77.
-7سوره حج، آیه 41، كسانى كه اگر آنان را در زمین قدرت بخشیم نماز به پا مى دارند و زكات مى دهند.
8ـ تأویل الآیات الظاهرة ، كتاب خطى.
9 ـ سوره نور، آیه 55 ،خدا به مؤمنان و شایستگان شما وعده داده كه آنان را در زمین همچون پیشینیان خلافت بخشد و دین مورد رضایت خود را براى آنان تمكین و اقتدار دهد و ترس آنان را به امنیّت تبدیل كند تا مرا بپرستند و شرك نورزند.
10 ـ تفسیر عیاشى، ج 3، ص 136.
11 ـ سوره نمل، آیه 62 ، جز خدا كیست كه دعاى درمانده واقعى را اجابت كند و بلاء را رفع نماید و شما را خلفاى زمین قرار دهد؟
12 ـ تفسیر قمى ـ ج 2 ص 129.
منبع: تبيان
قائم(ع) در ميان گروهي به شمار اهل بدر ـ سيصد و سيزده تن ـ از گردنه ذيطوي پايين ميآيند تا آنكه پشت خود را به حجرالاسود تكيه ميدهد و پرچم پيروز را به اهتزاز درميآورد.
اشاره:
پنهان زيستي امام مهدي(ع) نه تنها چگونگي زندگي آن حضرت را در هالهاي از اسرار فرو برده كه بسياري از موضوعات مربوط به حيات آن امام را نيز جزو امور پنهان نظام هستي قرار داده است.
يكي از مهمترين اين امور پنهان، محل زندگي آن حضرت در طول غيبت ايشان است. از اين رو بسياري علاقهمندند بدانند كه خورشيد پنهان در كدامين بخش از اين كره خاكي به گذران عمر ميپردازد و به بيان ديگر كدامين قسمت از زمين اين منزلت را دارد؟
در اين مقاله تلاش شده كه به اين پرسش پاسخ داده شود.
ميليونها انسان عاشق و شيفته صدها سال است كه در هر پگاه آدينه زبان به ندبه ميگشايند و اينگونه ميسرايند:
اي كاش ميدانستم در چه جايي منزل گرفتهاي و چه سرزمين و مكاني تو را دربر گرفته است! آيا در كوه رضوايي و يا جاي ديگري و يا در ذيطوي هستي؟ دشوار است بر من كه مردمان را ببينم و تو ديده نشوي.1
حال براي روشن شدن اين موضوع، پاي به گلستان كلام معصومين(ع) ميگشاييم و با سيري در كلام نوراني ايشان از آن انفاس قدسي براي حل اين معما استمداد ميطلبيم.
با يك نگاه كلي در اين بوستان پر طراوت به چهار دسته روايت در اين موضوع برميخوريم كه هر يك، محل زندگي آن حضرت را در دورهاي از حيات پر بركت ايشان به تصوير كشيده است. اگر چه در مورد برخي دورهها صراحت و روشني بيشتري وجود دارد و برخي از دورهها بنا بر عللي به اجمال و ابهام پاسخ داده شده است.
اين دورهها عبارتند از:
1. دوران زندگي با پدر بزرگوار خود امام حسن عسكري(ع) (255ـ260ق)
شكي نيست كه آن امام همام در شهر سامرا و در خانه پدرش امام حسن عسكري(ع) ديده به جهان گشود و تا پايان عمر شريف پدر خود در كنار آن حضرت ميزيست.
اين دوران بنا بر قول مشهور از نيمه شعبان سال 255ق آغاز و در هشتم ربيعالاول سال 260ق پايان يافت.
علاوه بر نقل موثق تاريخي، افراد فراواني از اين حادثه بزرگ پرده برداشتهاند:
شيخ صدوق(ره) در كتاب شريف كمال الدين و تمام النعمه ـ كه يكي از مهمترين كتابهاي نگاشته شده در موضوع مهدويت است ـ داستان ولادت حضرت مهدي(ع) را اينگونه نقل كرده است:
حكيمه، دختر امام جواد(ع) گويد: امام حسن عسكري(ع) مرا نزد خود فراخواند و فرمود: اي عمه! امشب افطار نزد ما باش كه شب نيمه شعبان است و خداي متعال امشب حجت خود را كه حجت او بر روي زمين است ظاهر سازد. گفتم: مادر او كيست؟ فرمود: نرجس. گفتم: فداي شما شوم اثري در او نيست. فرمود: همين است كه به تو ميگويم. آمدم و چون سلام كردم و نشستم نرجس آمد كفش مرا بردارد و گفت: اي بانوي من و بانوي خاندانم، حالتان چطور است؟ گفتم: تو بانوي من و بانوي خاندان من هستي. از كلام من ناخرسند شد و گفت: اي عمه جان! اين چه فرمايشي است؟ بدو گفتم: اي دخترجان! خداي متعال امشب به تو فرزندي عطا فرمايدكه در دنيا و آخرت آقاست...2 .
آنگاه به صورت مفصل داستان را ذكر كرده است. اين روايت از مهمترين روايات درباره ولادت حضرت مهدي(ع) است و دلالت بر ولادت حضرت مهدي(ع) در خانه امام عسكري(ع) در سامرا دارد.
«ضوء ابن علي» از مردي از اهل فارس كه نامش را برده نقل ميكند كه:
به سامرا آمدم و در خانه امام حسن عسكري(ع) ملازم شدم. حضرت مرا طلبيد، من وارد شدم و سلام كردم. فرمود: براي چه آمدهاي؟ عرض كردم: براي اشتياقي كه به خدمت شما داشتم. فرمود: پس دربان ما باش. من همراه خادمان، در خانه حضرت بودم، گاهي ميرفتم هر چه احتياج داشتند از بازار ميخريدم و زماني كه در خانه، مردها بودند، بدون اجازه وارد ميشدم.
روزي [بدون اجازه] بر حضرت وارد شدم و او در اتاق مردها بود. ناگاه در اتاق حركت و صدايي شنيدم، پس فرياد زد: بايست. حركت مكن! من جرأت درآمدن و بيرون رفتن نداشتم، پس كنيزكي كه چيز سر پوشيدهاي همراه داشت از نزد من گذشت. آنگاه مرا صدا زد كه درآي، من وارد شدم و كنيز را هم صدا زد. كنيز نزد حضرت بازگشت. حضرت به او فرمود: از آنچه همراه داري روپوش بردار. كنيز از روي كودكي سفيد و نيكوروي پرده برداشت و خود حضرت روي شكم كودك را باز كرد، ديدم مويي سبز كه به سياهي آميخته بود از زير گلو تا نافش روئيده است. پس فرمود: اين است صاحب شما و به كنيز امر فرمود كه او را ببرد.
پس من آن كودك را نديدم، تا امام حسن عسكري(ع) وفات كرد.3
نه تنها بستگان نزديك و خدمتگزاران بيت امامت، آن حضرت را در شهر سامرا و در خانه امام عسكري(ع) ديدهاند كه بسياري از ياران و خواص اصحاب امامت به شرف ديدار آن جمال چون آفتاب نائل آمدهاند و همگي حكايت از مدعاي زندگي امام مهدي(ع) در كنار پدر در شهر سامرا دارد.
«يعقوب بن منقوش» گويد:
بر امام حسن عسكري(ع) وارد شدم و او بر سكويي در سرا نشسته بود و سمت راست او اتاقي بود كه پردههاي آن آويخته بود. گفتم: اي آقاي من صاحبالامر كيست؟ فرمود: پرده را بردار. پرده را بالا زدم، پسر بچهاي به قامت پنج وجب بيرون آمد با پيشاني درخشان و رويي سپيد و چشماني دُرّافشان و دو كف ستبر و دو زانوي برگشته. خالي برگونه راستش و گيسواني بر سرش بود. آمد و بر زانوي پدرش ابو محمد نشست. آنگاه به من فرمود: اين صاحب شماست. سپس برخاست و امام بدو گفت: پسرم! تا وقت معلوم داخل شو و او داخل اتاق شد و من بدو نگريستم. پس به من فرمود: اي يعقوب! به داخل بيت برو و ببين آنجا كيست. من داخل شدم اما كسي را نديدم.4
همچنين «احمد بن اسحاق» گويد:
بر امام حسن عسكري(ع) وارد شدم و ميخواستم از جانشين پس از وي پرسش كنم. او آغاز سخن كرد و فرمود: اي احمد بن اسحاق خداي متعال از زمان آدم(ع) زمين را خالي از حجت نگذاشته است و تا روز قيامت نيز خالي از حجت نخواهد گذاشت. به واسطه اوست كه بلا را از اهل زمين دفع ميكند و به خاطر اوست كه باران ميفرستد و بركتهاي زمين را بيرون ميآورد.
گفتم: اي فرزند رسول خدا، امام و جانشين پس از شما كيست؟ حضرت شتابان برخاست و داخل خانه شد و سپس برگشت در حالي كه بر شانهاش كودكي سه ساله بود كه صورتش مانند ماه شب چهارده ميدرخشيد. فرمود: اي احمد بن اسحاق! اگر نزد خداي متعال و حجتهاي او گرامي نبودي اين فرزند را به تو نمينمودم. او همنام و همكنيه رسول خدا(ص) است. كسي است كه زمين را پر از عدل و داد ميكند؛ همچنان كه پر از ظلم و جور شده باشد.اي احمد بن اسحاق! مثل او در اين امت، مثل خضر و ذوالقرنين است. او غيبتي طولاني خواهد داشت كه هيچكس در آن نجات نمييابد، مگر كسي كه خداي متعال او را در اعتقاد به امامت ثابت بدارد و در دعا به تعجيل فرج موفق سازد.
احمد بن اسحاق گويد: گفتم: اي مولاي من! آيا نشانهاي هست كه قلبم بدان اطمينان يابد؟ آن كودك به زبان عربي فصيح به سخن درآمد و فرمود: أنا بقيّةالله في أرضه والمنتقم من أعدائه. اي احمد بن اسحاق! پس از مشاهده، جستوجوي نشان مكن. احمد بن اسحاق گويد: من شاد و خرم بيرون آمدم.5
بنا بر روايات فوق و دهها روايت ديگر ترديدي نخواهد ماند بر اينكه حضرت مهدي(ع) در طول حيات امام عسكري(ع) همراه ايشان و در شهر سامرا مسكن و مأواي داشتهاند و اگرچه در اين دوران نيز مخفيانه زندگي ميكردهاند ولي عده فراواني از نزديكان و شيعيان ايشان را ديدهاند.
2. دوران غيبت صغرا (260 تا 329ق.)
غيبت صغرا عبارت است از دوران پنهان زيستي كوتاه مدت حضرت مهدي(ع) كه طبق نظر مشهور با شهادت امام حسن عسكري(ع) (سال 260ق.) آغاز شده و با رحلت چهارمين نايب خاص آن بزرگوار (سال 329ق.) به پايان رسيده است كه مجموعاً 69 سال ميشود.
اگر چه بهروشني محل زندگي آن حضرت در اين دوران مشخص نيست ولي از روايات و قرائن به دست ميآيد كه اين مدت را حضرت عمدتاً در دو منطقه سپري كردهاند: يكي منطقه عراق و ديگر مدينه منوره كه البته روايات متعددي بر اين مطلب دلالت دارد.
از امام صادق(ع) در اين زمينه نقل شده است كه فرمود:
براي [حضرت] قائم(ع) دو غيبت است. يكي كوتاه و ديگري طولاني. در غيبت اول جز شيعيان مخصوص از جاي آن حضرت خبر ندارند و در غيبت ديگر جز دوستان مخصوصش از جاي او خبر ندارند.6
در دوران غيبت صغرا، از سفيران چهارگانه (نواب خاص) كسي نزديكتر به آن حضرت ذكر نشده است و ايشان هم تماماً در عراق و همواره با حضرت در ارتباط بودهاند و توقيعات فراواني از طرف حضرت به دست آنها شرف صدور يافته است. بنابراين ميتوان گفت بخشي از عمر آن حضرت در اين دوران در عراق سپري شده است.
دستهاي ديگر از روايات به صورت مطلق (بدون در نظر گرفتن صغرا و كبرا بودن غيبت) زندگي حضرت را در دوران غيبت در مدينه منوره ذكر كردهاند كه با توجه به روايات دسته نخست ميتوان گفت بخشي از عمر آن حضرت نيز در مدينه سپري شده است.
امام باقر(ع) در اينباره فرمود:
به ناگزير براي صاحب اين امر عزلت و گوشهگيري خواهد بود... و طيبه (مدينه) چه منزلگاه خوبي است. 7
همين روايت در كتاب شريف اصول كافي با اندك تفاوتي از امام صادق(ع) اين گونه روايت شده است:
به ناچار صاحبالامر غيبت كند و به ناچار در زمان غيبتش گوشهگيري كند، چه خوب منزلي است طيبه (مدينه). 8
همچنين ابوهاشم جعفري ميگويد:
به امام عسكري(ع) عرض كردم: بزرگواري شما مانع ميشود تا از شما پرسش نمايم، پس اجازه بفرماييد سؤالي بپرسم. حضرت فرمود: بپرس. عرض كردم: اي آقاي من! آيا فرزندي داريد؟ فرمود: بله. گفتم: اگر اتفاقي رخ داد كجا او را پيدا كنيم؟ پس فرمود: در مدينه.9
بنابراين جمع بين دو دسته روايات به اين صورت است كه آن حضرت در مدينه حضور داشتهاند؛ ولي به خاطر ارتباطي كه آن حضرت با نواب خاص داشتهاند بخشي از عمر خود را در عراق سپري نمودهاند.
3. دوران غيبت كبرا
اصطلاحاً غيبت كبرا به مدت زمان پنهان زيستي حضرت مهدي(ع) گفته ميشود كه با وفات آخرين نايب خاص در سال 329ق آغاز و همچنان ادامه دارد و تنها خداوند متعال است كه پايان آن را ميداند.
اين دوران ويژگيهايي دارد كه آن را از دوران غيبت صغرا كاملاً متمايز ميسازد كه از جمله آن ويژگيها كامل شدن غيبت آن حضرت است.به همان اندازه كه پنهان زيستي حضرت مهدي(ع) در اين دوران به كمال ميرسد و نيابت و سفارت همانند دوران غيبت صغرا وجود ندارد، محل زندگي آن حضرت نيز نامشخصتر ميشود و در اين دوران است كه هرگز بهطور قطع نميتوان مشخص نمود آن حضرت در كجا زندگي ميكند.البته روايات در اين باره به محلهاي مختلفي اشاره كردهاند كه برخي از آنها از اين قرارند:
الف) مدينه طيبه
همانطور كه قبلاً نيز اشاره شد برخي از روايات به صورت عام و بدون قيد زمان غيبت صغرا، مدينه را به عنوان جايگاه آن حضرت در دوران غيبت مورد اشاره قرار دادهاند.
ب) ناحيه ذيطوي
ناحيه ذيطوي در يك فرسخي مكه و داخل حرم قرار دارد و از آنجا خانههاي مكه ديده ميشود. برخي از روايات آن محل را به عنوان جايگاه حضرت مهدي(ع) در دوران غيبت معين كردهاند.
امام باقر(ع) در اين باره فرمود:
صاحب اين امر را در برخي از اين درّهها غيبتي است و با دست خود به ناحيه ذيطوي ـ كه نام كوهي است در اطراف مكه ـ اشاره نمود. 10
در برخي ديگر از روايات نيز ذكر شده كه حضرت مهدي(ع) قبل از ظهور در «ذيطوي» به سر ميبرد و آنگاه كه اراده الهي بر ظهور آن حضرت تعلق گيرد از آنجا وارد مسجدالحرام ميشود.
امام باقر(ع) در اين باره فرمودهاند:
ج) دشتها و بيابانها
از برخي روايات نيز استفاده ميشود كه آن حضرت در طول غيبت كبرا محل خاصي ندارد و همواره در سفر به سر ميبرد.
از امام باقر(ع) نقل شده است كه وقتي شباهتهاي حضرت مهدي(ع) به انبيا را بيان نمودند چنين فرمودند:
و اما شباهت حضرت مهدي(ع) به حضرت عيسي(ع) جهانگردي [و نداشتن مكاني خاص است].12
در توقيعي كه از حضرت مهدي(ع) به نام شيخ مفيد صادر شده است، نيز به نامعلوم بودن مكان حضرت مهدي(ع) اشاره شده است.
در آن نوشته چنين آمده است:
... با اينكه ما براساس فرمان خداوند و صلاح واقعي ما و شيعيان مؤمنمان تا زماني كه حكومت در دنيا در اختيار ستمگران است در نقطهاي دور و پنهان از ديدهها بهسر ميبريم... .13
همچنين در پارهاي از ملاقاتهاي معتبر كه در دوران غيبت كبرا نقل شده است، حضرت به اين نكته اشاره فرمودهاند.
«علي بن ابراهيم بن مهزيار» پس از نقل ملاقات خود با حضرت مهدي(ع) به نقل از ايشان چنين ميگويد: آن حضرت فرمود:
همانا پدرم ابو محمد با من عهد فرمودند كه در مجاورت قومي كه خداوند بر آنان غضب كرده است قرار نگيرم... و به من فرمود كه در كوهها ساكن نشوم مگر قسمتهاي سخت و پنهان آن و در شهرها ساكن نشوم مگر شهرهاي متروكه و بيآب و علف.14
اين نامعلوم بودن محل زندگي آن حضرت در دوران غيبت كبرا سبب شده تا عدهاي به گمانهزنيهايي بعضاً سست و واهي بپردازند و به طرح محلهايي كه اثبات آنها كاري بس مشكل است روي آورند.
افسانه جزيره خضرا يا مثلث برمودا و مانند آن حكايتهايي است كه در تاريخ پر فراز و فرود اين اعتقاد رخ نموده است.
4. دوران ظهور و حكومت مهدي(ع)
دوران ظهور كه درخشانترين فراز تاريخ و بهترين دوران حيات انساني است، ويژگيهاي فراواني دارد كه از جمله مهمترين آنها حاكميت آخرين معصوم و حجت الهي است. درباره محل زندگي حضرت مهدي(ع) و حكومت آن حضرت در عصر ظهور، روايات فراواني وجود دارد. عمدتاً در اين روايات، مسجد سهله را منزل آن حضرت و شهر كوفه را به عنوان پايگاه حكومتشان معرفي كردهاند.
مسجد سهله شرافت بسياري دارد؛ از جمله در روايات ذكر شده كه در اين مسجد، هزاران پيامبر به نماز ايستادهاند.
«صالح بن ابوالاسود» گويد: امام صادق(ع) سخن از مسجد سهله راند، آنگاه فرمود:
بهدرستي كه مسجد سهله منزل صاحب ماست آنگاه كه [پس از قيام] با اهل خود در آنجا فرود آيد.15
همچنين آن حضرت به ابابصير فرمود:
اي ابا محمد، گويا حضرت قائم را در مسجد سهله ميبينم كه با زن و فرزندانش در آن نازل ميشوند.
ابوبصير پرسيد: آيا مسجد سهله خانهاش خواهد بود؟ حضرت فرمود:
آري، اين مسجد، منزل ادريس است. خداوند هيچ پيامبري را برنينگيخت، مگر آنكه در اين مسجد نماز گزارد. هر كس در اين مسجد بماند مانند آن است كه در خيمه رسول خدا(ص) اقامت كرده است. هيچ مرد و زن مؤمني نيست، مگر آنكه دلش به سوي آن مسجد پرميكشد. روز و شبي نيست مگر آنكه فرشتگان به اين مسجد پناه ميبرند و در آن به عبادت خدا ميپردازند.
همانطور كه اشاره شد، كوفه نيز مركز حكومت مهدي(ع) قلمداد شده است.چگونگي زندگي در عصر ظهور به روشني مشخص نشده ولي به نظر ميرسد تفاوت بسياري با نحوه زندگي امروزي داشته باشد. تكامل علوم بشري، كمال عقلاني بشر، توسعه خارقالعاده امكانات و رفاه عمومي، امنيت فراگير بر كل كره زمين و... بهطور قطع، ويژگيهايي را براي زندگي در آن زمان ايجاد خواهد نمود كه امروز درك دقيق آن براي ماكاري بس مشكل است.
از امام باقر(ع) نقل شده كه در بخشي از يك روايت طولاني فرمود:
آنگاه [حضرت مهدي(ع)] به سوي كوفه ميرود پس آنجا را براي منزل برميگزيند و كوفه خانه او خواهد بود.17
خدامراد سليميان
ماهنامه موعود شماره 86
پينوشتها :
1 . سيدبن طاووس، الاقبال، ص298.
2 . شيخ صدوق، كمالالدين و تمام النعمه، ترجمه منصور پهلوان، ج2، ص143.
3 . محمدبن يعقوب كليني، اصول كافي، ترجمه سيد جواد مصطفوي، ج2، ص119.
4 . كمالالدين و تمام النعمه، ج2، ص164.
5 . همان، ج2، ص80.
6 . اصول كافي، ج2، ص141.
7 . شيخ طوسي، كتاب الغيبة، ص162.
8 . اصول كافي، ج2، ص140؛ ابن ابي زينب، غيبت نعماني، ص188.
9 . اصول كافي، ج2، ص118؛ شيخ مفيد، الارشاد، ج2، ص348؛ كتاب الغيبة، شيخ طوسي، ص232.
10. غيبت نعماني، ص181.
11. همان، ص315.
12. طبري، دلائل إلامامه، ص291.
13. علامه محمدباقر مجلسي، بحارالانوار، ج53، ص174.
14. كتاب الغيبة، شيخ طوسي، ص263.
15. شيخ طوسي، التهذيب، ج2، ص252.
16. بحارالانوار، ج52، ص317.
17. كتاب الغيبة، شيخ طوسي، ص475
در آغازين ايام روي کار آمدن عباسيان که چندان بر امور مسلط نشده بودند آزادي اندکي براي ائمه(ع) و شيعيان به وجود آمد. امام صادق(ع) از اين آزادي حداکثر بهره برداري را نمودند تا جايي که گاه از ايشان با عناويني نظير مجدّد و مؤسّس شيعه ياد ميشود.
به مرور ايام از حدود اين آزادي ـ به ويژه براي امامان(ع) ـ کاسته شد. خلفاي عباسي، اهل بيت(ع) را رقيب خويش در حکومت ميدانستند؛ به علاوه آنان يقين داشتند مردي از نسل ايشان روزي حکومت ظالمان و جائران را نابود مينمايد و بيترديد خود را مصداق بارز و مسلم ظالم و جائر ميديدند تمام تلاش خود را براي محدوديت و در موارد امکان، حذف ايشان به کار ميبردند. بر همين اساس اسارت طولاني مدت امام هفتم(ع) و يا حتي ولايتعهدي امام رضا(ع) تحليل ميشود. با نگاهي سريع و اجمالي به خوبي ميتوان سير نزولي سنّ شهادت ائمه(ع) و همچنين امامت ايشان را در دورة عباسي مشاهده کرد.
آخرين امامان ما(ع) در شرايطي با فاصلهاي نه چندان زياد از يکديگر شهيد ميشدند که تمام عمر خويش را به اجبار در منطقة نظاميان عباسي ساکن بودند. بارها و بارها علاوه بر نظارتهاي مستمر، به بهانههاي مختلف به منزل ايشان هجوم برده ميشد و همه چيز و همه کس را تفتيش ميکردند. اين ماجرا تا آنجا پيش رفته بود که اين خلفا در حالت مستي براي سرگرمي و عيش خويش دستور احضار ائمه(ع) را بر سر سفرة ناپاک خود صادر ميکردند و... به علاوه آنكه در جاهايي ميبينيم که خادم، کنيز، پزشک و يا حتي همسران امامان(ع) از اطرافيان و نفوذيان عباسيان بودند. متأسفانه بايد اذعان کنيم در تمام اين مدت هرگز شيعيان نتوانستند لياقت خود را براي درک حضور ائمه(ع) به اثبات برسانند و همواره، در نهايت انظلام و ستم پذيري با انواع حکام جور به راحتي کنار آمده، ميزيستند. اين کوتاهي شيعيان، مشکل تمام ائمه(ع) از اولين تا آخرين ايشان بوده است و تنها از يک مسئله نشأت ميگيرد كه عبارت از فقدان يا کمبود معرفت لازم نسبت به مقام و جايگاه امامت است.
در تاريخ ميتوان مواردي را يافت که اقداماتي از ناحية شيعيان انجام شده است. گاه مواردي در منابع تاريخي نقل شده که عدهاي خودسرانه جمعيتي را با خود همراه نموده و سرنوشت مرگ يا زندان را براي خويش رقم زدهاند. جالب اينجاست که نام بعضي از شيعيان را ميتوان در منابع تاريخي يافت که به ائمه(ع) اعتراض کردهاند چرا قيام نميکنيد؛ شما که اين همه شيعه و پيرو داريد! در بسياري از اين موارد گاه به طور مستقيم و گاه با زبان کنايه، داستان و تمثيل، ائمه(ع) به مخاطبان خويش فهماندهاند که شما نه نسبت به شرايط دورة خود اطلاع داريد و نه نسبت به ما معرفت.
جمع شدن ظلم و ستم نامحدود حکومت با قدرناشناسي شيعيان باعث شد كه امامان معصوم(ع) يکي پس از ديگري به شهادت برسند. همين امر موجب شد ضرورت و زمينه براي غيبت آخرين امام(ع) فراهم شود. در مشيت الهي بنا نبود بيش از دوازده امام رهبري پس از پيامبر خاتم(ص) را بر عهده گيرند. براي حفظ جان او يا بايد اين امام در موعد مقرر به دنيا آمده و پس از چند سال ظاهر ميشد همان گونه که باور پيروان برخي از اديان و مذاهب چنين است و يا اينکه زنده بماند ولي در پرده غيبت.
امام معصوم واسطة خلق و خالق است و تمام نعمتهاي الهي از طريق ايشان به مخلوقات در سراسر گيتي ميرسد. اگر تنها لحظهاي و نه بيش از آن عالم از حضور امام و حجت خدا بيبهره باشد زمين و هستي هرآنچه را در درون خود دارد ميبلعد و هستي به نيستي مبدل ميشود. بر اين اساس و با توجه به اين مباني نميتوان ديدگاه ولادت در آخرالزمان را ممكن داسنت و پذيرفت. به عبارت ديگر تنها راه ممکن براي باقي ماندن حجت الهي از طريق معمولي غيبت بود. حجت غايب، آخرين حجت بود و بايد تا آن وقت زنده ميماند که شيعيان در کنار ديگر مردم جهان به اين باور برسند که بيحضور او نميتوان حتي از نعمتهاي دنيا بهرهمند شد و لذت برد. طول عمر امام نتيجة اين ماجرا بود. طول عمري که تا کنون قريب به 1174 سال را در برگرفته و معلوم نيست تا کي ادامه يابد.
ائمه(ع) نيز بر اساس اطلاعي که از عالم غيب دارند و هم با استناد به بيانات و پيشگوييهايي همه معصومان پيش از خود تا پيامبر(ع) به يقين ميدانستند که ماجراي غيبت اتفاق خواهد افتاد و شدت اين غيبت از ديدگان و انظار به حدي خواهد بود که حتي پيروانشان اجازه نخواهند داشت نام امام خويش را بر زبان بياورند و در محافل از او ياد کنند. اگر ايشان شيعيان خود را براي قبول اين مسئله مهيا نميساختند بسيار طبيعي بود که ديده تنگ دنيايي آنان را به اين سمت سوق دهد که «چون نميبينم پس نيست» و «پيشينيان او بودهاند چون ما ايشان يا آنهايي که آنان را ديدهاند ديدهايم». براي پيشگيري از اين بحران در باورها دو دسته اقدامات در آخرين سالهاي حضور امامان(ع) در ميان مردم انجام شد: زمينهسازي عملي و نظري براي غيبت.
امامان آخرين(ع) ديدارهاي عمومي خود را بسيار محدود نموده و در بسياري اوقات تنها با وجود واسطهها (وکلا) و يا از پس پرده با شيعيان خود ارتباط برقرار ميکردند(زمينه سازي عملي). در کنار آن نيز روايات متعددي را براي تبيين سابقه، مفهوم، انواع، علل و ابعاد آن بيان مينمودند(زمينه سازي نظري).
همان طور که ماههاي ابتدايي پس از شهادت امام يازدهم(ع) به وضوح نشان داد، اکتفا کردن به زمينهسازي پاسخگوي نياز آن مقطع بحراني نبود.
هرچند نهم ربيع الاول يادآور روز شکوهمند آغاز امامت امام عصر(ع) است اما آنان که کمي از حوادث و ماجراهاي آن ايام را لابهلاي برگههاي تاريخ ديده باشند ميدانند که شيعيان با يکي از بحرانيترين مقاطع خود مواجه شدند.شيعيان اثني عشري که ديگر پس از امام رضا(ع)، انشعاب و فرقة جديدي را تجربه نکرده بودند به ناگاه به پانزده، يا به نقل برخي بيست دسته منشعب شدند.
آنانکه به روايات معصومان دوازدهگانه(ع) باور واقعي داشتند، ميدانستند که پس از شهادت امام يازدهم(ع) فرزند او با چه نام و نشاني به امامت ميرسد ولي تعداد اينان بسيار بسيار اندک بود و گروه بيشتر آنان تنها هنگامي به وجود امام آخرين باور ميآوردند که يا خود نظارهگر سيماي دلربايش ميشدند، يا از زبان کساني که صحبتشان براي آنها حجت بود، ميشنيدند كه آن حضرت(ع) را ديدهاند، يا حداقل کرامتي را ميديدند يا ميشنيدند که آرامش و باور قلبي را در جانهايشان به وجود آورد. از اين رو امام حسن عسكري(ع) اقدامات قابل توجهي را در زمان حيات خويش و نيز امام عصر ـ ارواحنا فداه ـ از اولين ساعات امامت انجام دادند.
امام عسکري(ع) در اولين گام، حکيمه خاتون(س) را که از بانوان بافضيلت و منزلت خاندان اهل بيت(ع) بود در شب ميلاد به منزل دعوت کردند تا شاهد ولادت باشد و براي تمام شنوندگان محرم دورة خود و خوانندگان و شنوندگان ديگر عصرها گزارش دهندة وقوع اين حادثة مهم و مبارک. سپس خبر تولد فرزند خويش را به بعضي از خواصّ شيعيان دادند. اين امر گاه از طريق نامه نگاري بود و گاه از اين طريق که مبلغي پول به دست شايستگان شيعه رسانده ميشد که با اين مبلغ براي پسر نورسم عقيقه کنيد و موضوع را به اطلاع خوديها برسانيد.
ماههاي بعد که امام عصر(ع) بر زمين قدم ميگذاشت فرصت مناسبي بود تا چهرة ايشان به شيعيان نمايانده شود. بعضي او را در کنار پدر بزرگوارش ميديدند و بعضي در نهايت ناباوري پاسخ سؤالات مشکل و شبهات پيچيده را به جاي امام عسکري(ع) از فرزند سه- چهارسالهشان ميگرفتند. بعضي نيز شاهد خبر دادن او از غيب ميشدند. تمام اين موارد تنها براي خواصّ شيعيان اتفاق افتاد و لازم بود که اعلامي عمومي و همگاني هم در اين باره اتفاق بيفتد.
نهم ربيع الاول سال 260 هجري سومين خاطرهاي را که در ذهنها زنده ميسازد، اولين حضور امام عصر(ع) در ميان تمام مردم و در برابر ديدگان هر محرم و نامحرمي بود.
جعفر، عموي آن حضرت، ميخواست از پنهان بودن برادرزاده نهايت استفاده را ببرد. گمان او بر اين بود که اين امام غايب نميتواند خود را براي نامحرمان و دشمنان عيان کند. نماز دفن برادر بهترين فرصت براي بهرهبرداري بود؛ همة شيعيان جمع بودند. دشمنان و فرستادگان حکومت نيز آمده بودند. برخي هم براي تماشا در کنار بقيه قرار گرفته بودند. همگي که ميدانستند باور شيعه بر اين است بر پيکر هر امام معصوم، تنها امام معصوم پس از او ميتواند نماز بخواند، ميخواستند بدانند اين امام تازه کيست؟ بسياري از دوستان و دشمنان شنيده بودند که امام دوازدهم فرزند امام يازدهم است اما تا آخرين لحظات عمر حسن بن علي(ع) خبر رسمي و موثقي درباره تولد اين امام تازه به گوششان نخورده بود. برخي از سر کنجکاوي، بعضي براي عرض ارادت و عدهاي هم براي ترور آمده بودند. وقتي جعفر قدم پيش نهاد تا نماز دفن را بياغازد بهت همه را گرفت؛ زيرا او برادر امام قبل بود نه فرزند او و اساساً از جنسي بود که هيچ تناسبي با جايگاه امامت نداشت. ميخوارة عياش بينماز را چه به امامت؟ ناگهان مردم در بهتشان مبهوت شدند و چون مجسمهاي برجاي ايستادند. کودک خردسالي از پشت پرده درآمد و آرام آرام تا جلوي جمعيت پيش رفت و عمو را کنار زد. بر جاي او ايستاد و بر او بانگ زد که «اي عمو براي نماز بر پيکر پدر تنها منم که شايستهام!» هر چند حاضران براي اولين بار بود که او را ميديدند ولي يکدل و همراه، در کنار هم، بياختيار به او اقتدا کردند و بر امام پيشين(ع) نماز گزاردند. و اين گونه بود که حجت بر همگان تمام شد و جمعيت يکپارچه امام عصر خويش را مشاهده نمود.
حکومتيها در آن لحظه در خود اين اختيار را نميديدند که گمشدهشان را دستگير کنند. بعدها هم هرچه گشتند، او را نيافتند و بازهم ناتواني خويش را در دستگيري او تجربه کردند.
صدوقها، کلينيها و ديگر علماي بنام و کوشاي شيعه در روزها، ماهها و سالهاي بعد آنقدر گفتند و نوشتند و تلاش کردند که تا پيش از پايان دوران غيبت صغري، بازهم شيعيان اثني عشري يکپارچه و يکدل شدند و فرقههاي پوچ جانبي به همان هيچآبادي رفتند که از آن آمده بودند.
محمود مطهرينيا
ماهنامه موعود شماره 85
زماني كه از ارتباط معنوي سخن ميگوييم، اصولاً اين نوع ارتباط، در مقابل ارتباط فيزيكي مطرح ميشود.
ارتباط معنوي از لحاظ رتبهاي، بسيار بالاتر از ارتباط فيزيكي است. اگر كسي به ارتباط معنوي برسد ولو حضرت را به ظاهر نبيند، ضرر نكرده است و اگر كسي به اين ارتباط معنوي نرسد ولو اينكه ايشان را ببيند، نفعي نبرده است.
اين ارتباط فيزيكي و ظاهري يا ديدن حضرت، اگرچه سعادت بزرگي است و دعاهايي هم، چون:
اللّهم أرني الطلعة الرشيدة
خداوندا آن چهرة ارجمند را به من بنمايان.
در اين زمينه داريم ولي هدف نيست و در روز قيامت هم ما را بازخواست نميكنند كه چرا حضرت را نديدي. ولي اگر ارتباط معنوي با حضرت نباشد، آن طرف بازخواست ميكنند. چون مقصود و هدف، همين ارتباط است. البتّه بايد توجه داشت هدف نهايي، قرب پروردگار است و قرب پروردگار بدون ارتباط معنوي كه همان ارتباط ولايي و معرفتي با امام زمان(ع) است، حاصل نميشود.
در ابتدا بايد مقدمهاي را ذكر كنم:
از فرهنگ اهل بيت(ع)، به دست ميآيد كه لطف خداوند متعال كه بر عالم نازل ميشود، محصول بلاهايي است كه بر سر انبيا و اوليا ميآيد يعني آنها زير بار سنگينترين بلاها ميروند و به بركت آن بلاها، چيزي از رحمت خداي متعال نصيب ما ميشود.
روايتي از وجود مقدس حضرت امام صادق(ع) است كه فرمودهاند: حضرت يوسف(ع) از نه سالگي، آن بلاها را تحمل نمود (ربوده شدن، افتادن درون چاه، بردگي، ماجراي زليخا، زندان و...) اما در اين بلاها صبر جميل كرد تا اينكه به واسطة او، امتي مورد رحمت خداي متعال قرار گرفت؛ به طوري كه وقتي بلاها و آزمايشها تمام شد، خشكسالي هم از بين مردم مصر رفت و حضرت يعقوب(ع) نيز كه در دوران غيبت غافل نبود و اشك ميريخت، به مقاماتي رسيد. البته بيشتر از همه خود يوسف(ع) مورد رحمت خداوند سبحان قرار گرفت. پس ميتوانيم از اين روايت، يك قاعدة كلي دربياوريم. رشدهايي كه مردم در طول دوران به دست آوردهاند، بر اساس همين قاعده است. يعني بلاهاي اوليا، سبب رشد مردم شده است. اگر از حضرت امير(ع) ميشنويد كه وقت نماز خواندن، تير از پايشان بيرون ميكشند يا اينكه هر شب هزار ركعت نماز ميخوانند، اينها بالاترين عبادات حضرت نيست. بالاترين عبادت ايشان، آن سختيها و بلاهايي است كه ميكشند و اين بلاها را صبورانه تحمل ميكنند و هيچ شكايتي هم نميكنند و بالاترين عبادت ايشان، آن ماجرايي است كه پس از رحلت پيامبر اكرم(ص) براي ايشان درست كردند كه در پشت در، آن طور با خانمشان رفتار كردند، در حالي كه خود حضرت هيچ كار نتوانستند بكنند. اگر پيامبر اكرم(ص) فرمود: «ضربة عليٍّ يوم الخندق أفضل من عبادة الثقلين؛ ضربة (شمشير) علي(ع) در روز جنگ خندق (و كشتن عمروبن عبدود) از همة عبادات جن و انس با فضيلتتر است» اينها بالاترين عبادت حضرت نيست. بالاترين عبادت ايشان، غصب خلافت و شهادت همسرشان است. در آن روز حضرت امير(ع) نه تنها ايستادند كه پشت در خانمشان را بزنند، بلكه اجازة شهادت حضرت را دادند و اين خيلي سنگين بود. خانم فاطمة زهرا(س) هيچ كاري را بدون اذن حضرت امير(ع) انجام نميدادند. حالا در اين وقت اگر ايشان در را باز ميكند، حتماً به اذن شوهرشان بوده است. چون اولاً وقتي مرد در خانه باشد، زن براي باز كردن در نميرود و ثانياً اين مورد، اصلاً يك مورد عادي نبود. هم حضرت زهرا(س) و هم حضرت امير(ع) ميدانستند چه كساني پشت در آمدهاند و ميدانستند كه اينها قصد اهانت دارند. «زمخشري» در كشاف نقل ميكند:
او آمد پشت در. سر و صدا راه انداخته بود و ميگفت به علي بگوييد بيايد بيرون وگرنه خانه را با اهلش به آتش ميكشم. گفتند در اين خانه فرزندان پيغمبر(ص) زندگي ميكنند، گفت: «و إن» يعني باشد، اگر چه فرزندان پيغمبر(ص) در آن باشند.
اينچنين كساني آمده بودند پشت در. مشخص بود اينچنين افرادي، قصد چنين كاري دارند. قضية يك ملاقات معمولي نبود. در اينچنين صحنهاي كه حضرت زهرا(س) ميخواهند دم در بروند، بدون اجازة شوهرشان كه نميروند. پس اجازه گرفتند، اجازة شهيد شدن را. چون حضرت امير(ع) ميدانستند چه اتفاقي ميافتد. اگر بگوييم نميدانستند، علم غيب حضرت زير سؤال ميرود و اگر ميدانستند، پس اين را هم ميدانستند كه اجازة شهادت حضرت زهرا(س) را صادر ميكنند و اين بود كه حضرت را پير كرد.
بزرگترين عبادت هر معصوم، مصيبتهايي است كه تحمل ميكنند. بزرگترين عبادت اباعبدالله(ع)، عاشوراي اوست. بزرگترين عبادت حضرت سجاد(ع) مصيبتهايي است كه بعد از عاشورا بر سر ايشان آمد. بزرگترين عبادت امام رضا(ع) هجرت اوست كه غريبانه مورد كنايه و طعنة علويان افراطي قرار گرفتند. به ايشان ميگفتند كه درباري شده، به دربار مأمون ميرود، ميخواهد وليّعهد بشود، امّا امام(ع) خود ميدانستند كه چه ميكنند. ايشان ميدانستند كه با هجرتشان، يك پايگاه براي اهل بيت(ع) درست ميكنند كه اگر چه آن زمان، زياد به كار نيايد، ولي در آخرالزمان به درد فرزندشان حضرت مهدي(ع) ميخورد. به دنبال امام رضا(ع) چهارهزار نفر از فرزندان و اقوام و خويشان، ايشان به ايران آمدند تا حضرت را ببينند. برخي از آنها در بعضي شهرها شهيد شدند و برخي به مرگ طبيعي از دنيا رفتند. هر كدام از اين امامزادهها، كانوني براي تشيّع و مكتب اهل بيت(ع) شدند. با ورود امام(ع) به ايران، بنيعباس از ايران خارج شدند، چون حضرت به آنها سفارش كردند كه پايتخت را به بغداد منتقل نمايند و وقتي آنها به بغداد رفتند، ايران به عنوان يك پايگاه بلامانع و بلامعارض براي تشيّع رشد كرد، اما در ابتدا علويان فهميدند و به خاطر همين مسئله، نيش و كنايه ميزدند. امام(ع) در چنين وضعيتي، نيش و كنايه را از دوستان، و ظلم و جفا را از دشمنان تحمل ميكردند. بزرگترين عبادت امام زمان(ع) نيز بلاهاي اوست. ما چه ميدانيم كه بلاهاي ايشان چيست و چقدر سخت است. يكي از بلاهاي سنگين ايشان، همين غيبت طولاني است. در بين روايات، روايتي است كه يكي از شاگردان حضرت امام صادق(ع) به نام سدير صيرفي ميگويد:
با جمعي از شاگردان امام(ع) رفتيم كه آقا را ببينم. وقتي كه وارد منزل شديم ديديم امام(ع)، فرش زير پايشان را كنار زدهاند و روي زمين نشستهاند و به شدت گريه ميكنند و ناله ميزنند.
سدير ميگويد:
عقل از سرمان پريد كه چرا آقا اينچنين ميكنند؟ چه مصيبتي وارد شده كه حضرت اينچنين ضجهّ ميزنند؟ ميگويد: گوش كرديم فهميديم كه حضرت در بين سخنانشان، چنين ميفرمايند: «سيّدي! غيبتك نفت رقادي وضيّعت عليّ مهادي...؛
آقاي من! غيبت شما خواب را از چشمان من ربوده و راحتي را از من گرفته...»
رفتيم و گفتيم آقا خبري شده است؟! آيا بلا و مصيبتي به خانه شما آمده كه اينچنين ناله ميكنيد؟ امام(ع) فرمودند: كتاب جفر را نگاه ميكردم (كتابي است نزد ائمه(ع) كه اخبار خاصي در آن نگاشته شده است...) چيزي كه اشك مرا جاري كرد، غيبت طولاني فرزندم است كه بلاي اوست و در آخرالزمان رخ خواهد داد.
شايد ما بفهميم كه اين چه بلايي است. ولي شما كافي است يك لحظه تصور كنيد. وقتي شما يك يا دو خبر ظالمانه در اين عالم ميشنويد، ديگر خواب نداريد. وقتي مثلاً در عراق ميبينيد با زن و بچههاي شيعه آنگونه رفتار ميكنند، وقتي اين صحنهها را ميبينيد، گاهي اوقات، شب خواب نداريد و ميگوييد اينها انسانند و اينها شيعه هستند. حال تصور كنيد... امام زمان(ع) كه ديگر حجاب ندارند، همة اين ظلمها را ميبينند و در عين حال، فعلاً به خاطر دوران غيبت، دست حضرت باز نيست. او چه ميكشد! وقتي ياران معاويه، به شهر انبار حمله كردند و خلخال از پاي يك زن يهودي بيرون كشيدند، حضرت فرمودند كه اگر در مصيبت اين ظلم و واقعه، يك مسلمان جان بدهد و بميرد، من ملامتش نميكنم. حال ببينيد امام زمان(ع) چه ميكشد كه زن يهودي كه نه، بلكه گاهي ناموس شيعه در خطر ميافتد. اينها بلاهاي امام زمان(ع) است. لذا شما در دعاي ندبه ميگوييد: «عزيز عليّ أن تحيط بك دوني البلوي» يعني براي من سخت است كه بلاها بر سر شما ريخته شود و من راحت باشم. پس امام زمان(ع) و امام هر زماني زير بار سنگينترين بلاها هستند و در اثر آن بلاكشي و عبادت خالصانه كه زير باران بلاها انجام ميدهند، خداوند سبحان رحمت را نازل ميكند و در واقع همه بر سر سفرة بلاكشي آن معصوم نشستهايم.
حالا اين غيبت كه بلاي حضرت است رخ داده و به خاطر اين بلا، رحمت پروردگار نازل ميشود. از جملة اين رحمتها، رشدهايي است كه براي عدهاي پيدا ميشود. يعني به خاطر آن غيبت، يك عده به رشدهايي ميرسند. البته فلسفة اصلي غيبت امام زمان(ع)، بعد از ظهور ايشان مشخص ميشود. همانطور كه فلسفة كارهاي حضرت خضر بعد از بيان ايشان براي حضرت موسي(ع) مشخص شد. ولي حكمتهاي غيبت را ميشود فهميد. يكي از حكمتهاي غيبت همين است كه عدهاي پس از غيبت به رشدهايي ميرسند. امام سجاد(ع) ميفرمايند:
إنّ اهل زمان غيبتة القائمين بإمامته و المنتظرين لظهوره أفضل من أهل كلّ زمان.
به حقيقت، مردم دوران غيبت امام مهدي(ع)، كه معتقد به امامت آن حضرت و منتظر ظهورش باشند، برترين مردم اهل همة زمانها هستند.
حتي از زمان حضور و ظهور امام(ع). چون دوران غيبت، دوراني است كه معرفت افراد بايد به حدي برسد كه بتوانند با امام ارتباط برقرار كنند ولو اينكه امامشان را نميبينند. لذا شيعيان آخرالزمان برترين مردم همة زمانها هستند. خوشا به حال اين افراد. در روايات داريم كه شيعه در زمان غيبت ميتواند خود را به حدي برساند كه ديگر حجاب غيبت براي او نباشد. يعني به حدي از ارتباط برساند كه فاصلة خودش تا ظهور را پيشاپيش طي ميكند: «كمن كان في عسكره» مثل كسي كه در لشكر امام است، مثل كسي كه در خيمة امام است، به شرط اينكه بداند چه بايد بكند تا به اين حدّ برسد. اين حتي براي شيعيان امام صادق(ع) و اميرالمؤمنين(ع) هم فراهم نبود، ولي براي شيعيان الآن فراهم است. همانطور كه گفتيم ارتباط با امام زمان(ع)، ارتباط معرفتي است، ارتباط والايي است كه از معرفتهاي درجه پايين شروع ميشود و بعد به معرفتهاي بسيار بالا ميرسد كه ميشود أفضل از كلّ زمان بشوند. خيلي از دوستان كلمة معرفت را اشتباه ميگيرند. همين كه ميگوييم معرفت؛ فكر ميكنند بايد بروند و مطالعاتشان را زياد كنند، يعني معرفت لغوي را معنا ميكنند و معرفت لغوي يعني شناخت، شناخت هم كه با كتاب و علم به دست ميآيد، پس ميگويد بايد برويم كتاب بخوانيم. و بعد، از آن طرف نگاه ميكند، ميبيند عدهاي كه از اين علم و كتاب خواندهاند، كساني نيستند كه با امام زمان(ع) رابطه داشته باشند، به خاطر همين، دچار تناقض ميشود. گرچه آن كار زمينهساز معرفت است، ولي خود معرفت «من صنع الله» است، يعني خداوند سبحان بايد بدهد. معرفت از سنخ باور است، از سنخ يقين است، از سنخ روشن شدن دل است، نه از جنس اطلاعات ذهني. اگر آن اطلاعات ذهني، دل را روشن كرد و باور و يقين را بالا برد، معرفت است وگرنه، معرفت نيست. معرفت از درجات پايين شروع ميشود. اولين درجة معرفت، همين درجة پاييني است كه ماها داريم. يعني باور و عقيده داريم كه امام زمان(ع) حيّ و زنده هستند. واجب الاطاعة هستند، ولي غايبند (عجبا خود را حاضر ميدانيم و امام زمانمان را غايب!) معرفت درجة پايين همين است. البته فكر نكنيد كه اين كم است. گرچه پايين است ولي خداوند سبحان را شكر كه اين را داريم. ولي نبايد به اين قانع باشيم.
درجة بالاتر اين است كه انسان ديگر او را غايب نميبيند، محضر امام زمان(ع) را درك ميكند، در اين درجه، حضور امام را درك ميكند. محضر امام را درك كردن، يعني اينكه تو او را نميبيني، ولي ميداني كه او تو را ميبيند و در محضر او هستي. در روايات داريم كه اگر شما خداوند سبحان را نميبينيد، محضر او را كه ميتوانيد درك كنيد. اگر تو او را نميبيني، او كه تو را ميبيند.
پس پلة دوم معرفت اين است كه انسان محضر امام(ع) را درك كند. ميداند امام(ع) عين الله است. امام اُذُن الله است. يكي از مراجع بزرگوار قم ميفرمود: صدايي كه از دهان شما خارج ميشود، قبل از اينكه به گوش خودتان برسد، اين صدا به گوش امام زمان(ع) ميرسد. يعني آنقدر ايشان نزديك هستند. در زيارت روز جمعه ميخوانيد: «السلام عليك يا عين الله» بنابراين، مرتبه بالاتر از اينكه انسان محضر او را درك كند، اين است كه انسان به اين باور برسد كه حضرت احاطه به همه چيز دارند و روح كلي عالم وجودند. چطور روح خودتان از تمام جسمتان خبر دارد، يعني يك سوزن به هر نقطه از بدن بزنيد، سريع ميفهميد، اولين كسي كه ميفهمد خودتان هستيد، روحتان است، معني ندارد كه سوزن به خودتان بزنيد و روحتان نفهمد. اگر بدن مال شماست، روح به همة بدنتان احاطه دارد، وجود مقدس امام زمان(ع) روح كلي عالم هستي هستند. اگر هر اتفاقي در اين عالم بيفتد، اول از همه او مطلع ميشود.
درجة بالاتر اين است كه حضور امام(ع) را درك كنيم. يعني بعد از اينكه درك كرديم كه ما او را نميبينيم، ولي او ما را ميبيند؛ الآن به اين مرحله ميرسيم كه وجود حضرت را همه جا حاضر ميبينيم و اين مرحله، معرفت بسيار بالايي است كه انسان ديگر غايب نيست. ميفهمد كه تا الآن اگر كسي هم غايب بود، امام زمان(ع) نبود. بلكه خود او بوده است. در زيارت سرداب مقدس داريم: «السلام عليك يا حجة الله التي لاتخفي» تا حالا فكر ميكرديم امام زمان(ع) مخفياند، غايبند، ولي درجات معرفتي تا آنجا ميرود كه ميفهميم كه نه، من غايب بودم، خيال ميكردم كه او غايب است وگرنه امام زمان(ع) حاضرترند:
السلام عليك يا حجةالله التي لاتخفي.
غايب نگشتهاي كه شوم طالب حضور
پنهان نبودهاي كه هويدا كنم تو را
واقعاً اينچنين است. اگر امام زمان(ع) غايب بود كه عالم غايب ميشد. در قضية «علي بن مهزيار» كه مرحوم بحراني نقل كرده و علامه مجلسي نيز در بحار آوردهاند، آمده است كه ايشان ميگويد: من درب خيمه را كنار زدم، وارد كه شدم، ديدم آقا نشستهاند. بعداً جزئيات سيما و اندام حضرت را نقل ميكند كه چه شكلي بودند؟ چطور نشسته بودند. بعد ميگويد من سلام عرض كردم، ايشان جواب سلام مرا به گرمي و مهرباني دادند، سپس فرمودند:
يا أباالحسن، قد كنّا نتوقFعك ليلاً و نهاراً فمن ابطأك عنّا
اي اباالحسن! شب و روز منتظرت بوديم، چرا دير كردي؟
به خدا قسم؛ گاهي جملاتي از امام زمان(ع) نقل شده كه وقتي انسان ميشنود، از شرم ذوب ميشود. امام(ع) به علي بن مهزياري كه 20 سال به مكه سفر كرد تا امام زمان(ع) را ببيند، چنين ميفرمايند. بعد علي بن مهزيار ميگويد كه آقا! من راهنما و كسي را نداشتم تا مرا بياورد خدمت شما. حضرت سرشان را پايين مياندازند و با دست مباركشان چند خط ميكشند و ميفرمايند: اينها بهانه است. من ميآيم. اگر شما دستتان بسته است، دست ما كه بسته نيست. من ميآيم ولي تو محجوب بودي و مشكل داشتي. حتي قبل از اينكه علي بن مهزيار به خدمت آقا برسد، راهنمايي كه او را به خيمة حضرت آورده، پرسيد علي بن مهزيار! دنبال چه كسي ميگردي؟ گفت امام المحجوب عن العالم. آن راهنما برگشت و گفت: امام تو محجوب نيست، بل حجبكم اعمالكم، خودتان خودتان را در حجاب كردهايد.
گفتم كه روي خوبت از ما چرا نهان است
گفتا تو خود حجابي ورنه رخم عيان است
وقتي كه انسان، امام را همه جا حاضر ديد، ميفهمد كه تا الآن من غايب بودهام و امام حاضر. خوشا به حال چشمي كه همه جا آقا را حاضر ميبينيد. شخصي است به نام «دكتر باقر» در قم. ايشان رئيس تيم پزشكي آيتالله گلپايگاني بودند. ايشان ميگويند كه آيتالله گلپايگاني آمدند پيش من و فرمودند كه من در ناحيه شكم احساس درد ميكنم، اگر ميشود مرا معاينه كنيد. دكتر باقر ميگويد ما ايشان را برديم بيمارستان و آزمايش كرديم و در معاينات بعدي متوجه شديم كه در غُدة اثني عشر ايشان، تومور سرطاني وجود دارد. به خود ايشان نگفتيم، به تهران منتقلشان كرديم تا متخصصين تهران نيز آزمايشاتي انجام بدهند و نظر آنها را هم بدانيم. آنها نيز به همين نتيجه رسيدند و گفتند بايد سريعاً به بيمارستاني در لندن منتقل شوند. دكتر باقر ميگويد من و حاج آقا و پسرشان سه نفري رفتيم لندن. در هواپيما كه بوديم، هر لحظه حال ايشان بدتر ميشد و به شدت درد ميكشيدند، طوري كه روي صندلي نميتوانستند بنشينند و حتي روي تختي كه آماده كرده بوديم نيز نميتوانستند دراز بكشند و مطلقاً هيچ چيزي نميتوانستند بخورند. تا اينكه رسيديم لندن، سريع ايشان را به بيمارستان منتقل كرديم. بعد از معاينات اوليه قرار شد صبح فردا، عمل شوند. من تا آخر شب در اتاق ايشان بودم. آخرين كسي كه از اتاق ايشان بيرون رفت، من بودم. حدود ساعت دوازده و نيم شب خيلي درد ميكشيدند. دكتر باقر ميگويد من رفتم و بلافاصله بعد از نماز صبح آمدم. وارد اتاق ايشان شدم، ديدم خيلي راحت نشستهاند، خيلي آرام. گفتم حالتان چطور است؟ گفتند: الحمدلله خيلي خوبم. خيلي خوب. ديدم رنگ آقا هم بهتر شده است. گفتم آقا چيزي ميخواهيد؟ چيزي نياز داريد؟ ايشان فرمودند كه آقاي دكتر خيلي احساس گرسنگي و ضعف ميكنم، اگر نان يا چيزي هست بياوريد. بعد هم به من فرمودند كه به دكترها بگويم هيچ نيازي به عمل جراحي نيست. من تعجب كردم. ما معاينه كرده بوديم و آن غدة سرطاني را ديده بوديم، به آقا گفتم چطور؟! فرمودند هيچ احتياجي به عمل نيست. گفتم آقا اگر مطلبي هست به من بگوييد. ايشان فقط يك جمله گفتند و ديگر هيچ. فرمودند آقا ولي عصر(ع) خودشان عنايت كردند و شفا دادهاند.
دكتر باقر گفت بغض گلويم را گرفت. از اتاق بيرون آمدم. منتظر بودم كه دكترها بيايند. اينها كه آمدند به ايشان گفتم خود آقا ميفرمايند ديگر احتياجي به عمل نيست. معاينه كردند و گفتند اصلاً از غده خبري نيست. آنها هم باورشان نميشد. من به هيچكس نگفتم چه اتفاقي افتاده. آمديم قم. به خانهام كه رفتم، گفتند جعفر آقاي مجتهدي زنگ زده و با شما كار داشتهاند. گفتند هر وقت كه شما آمديد، به خانة ايشان برويد. دكتر باقر ميگويد من رفتم پيش «جعفر آقاي مجتهدي». به محض اينكه مرا ديد و سلام و احوالپرسي كرد، گفت: آقاي دكتر! ميخواهم سؤالي بكنم. گفتم: بفرماييد. گفت وقتي شما به لندن رفتيد، مؤمنين زيادي آمدند و به ما التماس دعا گفتند و چون ايشان مرجع تقليد و بزرگ ما بودند، وظيفة ما بود كه براي ايشان دعا كنيم. ديشب سحر وقتي داشتم دعا ميكردم، صحنهاي از اتاق آقاي گلپايگاني در لندن ديدم كه ايشان روي تخت هستند؛ مثل يك عبد ضعيف و خاضع و وجود مقدس آقا ولي عصر(ع) كنار ايشان و ايشان خاضعانه از آقا درخواست ميكنند كه آقا عنايتي بفرماييد. حضرت فرمودند: خداي متعال شما را شفا داد. آقاي دكتر اين صحنه را من ديدم، آيا درست است؟ دكتر باقر گفت من گريهام گرفت، چون من به كسي نگفته بودم، اين حرف را هم حاج آقا فقط به من زده بودند. اما حالا ميبينم جعفرآقا، آن را ديده است. چيزهايي را كه من شنيده بودم، جعفر آقا در قم ديده بود. با گريه گفتم بله درست است، خود حاج آقا به من فرمود كه آقا شفايشان دادهاند.
اين چه چشمي است كه آقا را در عالم گم نكرده است؟ ميداند كجا هستند. خوشا به حال اين چشم كه غيبت و ظهور برايش معنا ندارد. همه جا براي او حاضر است و ديگر امام او غايب نيست. اين شخص نه محضر امام، بلكه حضور امام را درك ميكند. اين معرفتهاست كه نهايتاً انسان را به جايي ميرساند كه امام را حاضر ميبيند و ديگر امام(ع) براي او غايب نيستند. چه كنيم كه اين معرفت براي ما حاصل شود؟ چگونه اين پلهها را طي كنيم كه از غياب به محضر برسيم و از محضر امام(ع) به جايي برسيم كه حضور ايشان را درك كنيم؟
معرفت با «تسليم» به دست ميآيد. اين در روايات است. مطالعه و درس و كلاس و بحث خوب است، ولي اينها زمينهاند، ولي خود معرفت با تسليم به دست ميآيد. «لاتكونوا صالحين حتي تعرفون و لاتعرفون حتي تسلّموا» يعني به مقام صلاح نميتوانيد برسيد، مگر اينكه معرفت پيدا كنيد و معرفت پيدا نميكنيد تا اينكه تسليم شويد. تسليم يعني «من دلم ميخواهد» را كنار بگذاريد ببينيد او چه ميخواهد؟ تسليم يعني اينكه آقا شما از من چه ميخواهيد، نه اينكه من از شما ميخواهم؟ من ميخواهم نه، شما چه ميخواهيد؟ اگر در زندگيمان توانستيم اين كار را بكنيم كه در هر لحظه از زندگي توجه داشته باشيم كه اماممان از ما چه ميخواهند و آن را انجام بدهيم، دقيقاً همان تسليم است. يعني پذيرفتن ارادة امام. يعني من ارادة خود را تحت ارادة او قرار ميدهم. همان طوري كه امام زمان(ع) ارادة خود را تحت ارادة خداوند متعال قرار دادهاند. همان طوري كه ايشان از جانب خودشان چيزي نميخواهند: «و ماتشاؤون إلّا أن يشاءالله» من هم ارادة خود را فاني كنم در ارادة امام زمان(ع) اينكه كسي بتواند اين را بر خود حاكم كند و دلخواه خود را كنار بگذارد و خود را تحت ارادة امام(ع) قرار دهد، خيلي سخت است! براي همين است كه گفتهاند: «انّ امرنا صعب مستصعب» همانا امر ولايت ما صعب و مستصعب است و هر كسي زير بار آن نميرود. اگر كسي بتواند تسليم شود و نسبت به ولايت ايشان(ع) پذيرش داشته باشد و ولايت، سرپرستي، ارادة آنها را در جزئيات زندگي فردي و اجتماعي، بر خودش حاكم كند، به چنين كسي معرفت ميدهند. چون معرفت از طرف خداي متعال داده ميشود و نور معرفت بر قلب چنين فردي ميتابد.
ماهنامه موعود شماره 82
اشاره:
ابوجعفر محمّد بن علي بن حسين بن بابويه قمي مشهور به شيخ صدوق (م 1381 ق.) از فقها و محدّثان بزرگ شيعه است كه بسياري از علماي اماميه كلام او را به مانند نصّ منقول و خبر مأثور ميدانند. وي در «باب الامامة» از كتاب الهداية خود پس از بيان مباني امامّت و اصول اعتقاد شيعه در اين زمنيه، به موضوع معرفت امامان ميپردازد و در ذيل بابي با عنوان «باب شناخت اماماني كه پس از پيامبر خدا(ص) حجَّتهاي الهي بر مردم هستند» به تفصيل در اين زمينه سخن گفته است.
در قسمتهاي پيشين اين مقاله هشت مورد از ويژگيهاي امامان معصوم كه شيخ صدوق(ره) اعتقاد به آنها را در باب معرفت امام(ع) لازم دانسته است، بررسي كرديم و گفتيم كه هر مسلمان بايد معتقد باشد كه امامان دوازدهگانه، پيشوايان واجبالاطاعة، گواهان بر مردم، راههاي رسيدن به خدا، جايگاههاي علمالهي، مفسّران وحي، اركان توحيد، پيراستگان از هر گونه خطا و اشتباه هستند.
در اين قسمت از مقاله برخي ديگر از ويژگيهاي پيشوايان معصوم شيعه را بررسي ميكنيم.
9. صاحبان معجزات و نشانهها
شيخ صدوق(ره) در بيان نهمين ويژگي از ويژگيهاي امامان كه همه بايد بدان معتقد باشند، ميفرمايد:
واجب است معتقد باشد... آنها صاحب معجزات و نشانهها هستند.1
در روايتي كه از امام صادق(ع) نقل شده است، در مورد كمترين حدّ معرفت امام چنين آمده است:
كمترين حد معرفت امام آن است كه [بداني] او مساوي پيامبر است مگر در درجة نبوت.2
بر اين اساس ميتوان گفت، امامان معصوم(ع) همة ويژگيهاي پيامبر(ص) را دارا هستند كه از آن جمله است: ارائة نشانهها و معجزات براي اثبات حقّانيّت خود. چنانكه در شرح حال امامان دوازدهگانه(ع) آمده است، هر يك از آنها براي اثبات امامّت خود، افزون بر توسل به نصّ پيامبر اكرم(ص) يا امام پيش از خود، نشانهها و معجزاتي را آشكار ميساختند و بدين وسيله هم راه را بر مدّعيان دروغين امامّت ميبستند و هم به شيعيان خود اعتماد و اطمينان ميبخشيدند.3
در اينجا براي روشنتر شدن بحث به بخشهايي از ادعيه، زيارات و روايات نقل شده است از امامان معصوم(ع) كه در آنها به اين موضوع تصريح شده است، اشاره ميكنيم:
در يكي از زيارتهاي اميرمؤمنان علي(ع) كه از امام صادق(ع) نقل شده، خطاب به آن حضرت چنين آمده است:
سلام بر صاحب راهنماها و نشانههاي آشكار و معجزههاي چيره كننده. 4
در دعاي ندبه نيز خطاب به امام عصر(ع) ميخوانيم:
اي زادة نشانهها و معجزات! اي زادة دليلهاي آشكار! اي زادة برهانهاي روشن و خيره كننده!5
در كتاب بصائر الدرجات موارد متعددي از معجزات امامان معصوم(ع) نقل شده است كه از آن جمله ميتوان به اطاعت درخت نخل از امام باقر(ع) و امام صادق(ع) و فرو ريختن خرماي قرمز و زرد براي آن دو امام و يارانشان6؛ زنده شدن مرده و شفا يافتن كور مادرزاد و پيس به دست امام باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع)7 و... اشاره كرد.
در يكي از رواياتي كه در اين كتاب نقل شده است، «ابوبصير» چنين نقل ميكند:
بر اباعبدالله [امام جعفر صادق] (ع) و اباجعفر [امام محمّد باقر] (ع) وارد شدم و عرضه داشتم: «شما وارث رسول خدا(ص) هستيد؟» فرمود: «آري». گفتم: «رسول خدا همة علومي را كه انبيا داشتند به ارث برده بود؟»
فرمود: «آري» گفتم: «آيا شما ميتوانيد مردگان را زنده سازيد و كور مادرزاد و پيس را بهبود بخشيد؟» فرمود: «بله، به اذن خدا» سپس فرمود: «نزديك من بيا، اي ابامحمّد!» پس دست خدا را بر چشم و صورت من كشيد و من خورشيد، آسمان، زمين، خانهها و همة آنچه در اتاق بود را ديدم.
آنگاه فرمود: «آيا دوست ميداري اين گونه باشي و براي تو همان چيزي باشد كه ديگر مردم دارند و در روز قيامّت هم آنچه بر مردم ميآيد بر تو بيايد، يا اينكه ميخواهي به همان وضعي كه بودي برگردي و [در عوض] بهشت خالص از آن تو باشد؟»
گفتم: «به همان وضعي كه بودم برميگردم» پس دست خود را بر چشمم كشيد و به همان وضع پيشين باز گشتم.8
شيخ طوسي در كتاب الغيبة ماجرايي را نقل ميكند كه از آن به خوبي ميتوان به آشكار شدن معجزات و نشانهها از سوي امامان معصوم(ع) و هراس خلفاي جور از اين موضوع دست يافت. در اين حكايت كه محمّد بن خالد برقي آن را از محمّد بن غياث مهبلي نقل ميكند چنين آمده است:
هنگامي كه هارون الرشيد، ابا ابراهيم موسي [بن جعفر] را زنداني كرد و آن حضرت در زندان نشانهها و معجزاتي را آشكار ساخت، رشيد شگفتزده شد و از اين رو يحيي بن خالد برمكي را فراخواند و به او گفت: اي اباعلي! آيا تو هم اين عجايبي را كه ما به آن گرفتار شدهايم، ميبيني؟ آيا دربارة اين مرد تدبيري نميانديشي كه ما را از اندوه او رها سازد؟...9
10. مايههاي ثبات و پايداري جهان
در اعتقاد شيعه، وجود امامان ماية امنيت و آرامش اهل زمين است. شيخ صدوق در ادامة بيانات خود دربارة دهمين ويژگي امامان معصوم مينويسد:
واجب است معتقد باشد آنها ماية امنيت ساكنان زمين هستند، همچنانكه ستارگان ماية امنيت ساكنان آسمان هستند.10
در اين زمينه نيز چون ديگر موارد پيشين روايات فراواني رسيده است كه در اينجا به برخي از آنها اشاره ميكنيم:
در روايتي كه اميرمؤمنان علي(ع) از پيامبر اكرم(ص) نقل كرده است، چنين ميخوانيم:
ستارگان اماني براي اهل آسماناند، پس هنگامي كه ستارگان نابود شدند، اهل آسمان نيز نابود ميشوند و خاندان من اماني براي اهل زميناند، پس هنگامي كه خاندان من از بين بروند، اهل زمين نيز از بين ميروند.11
در كتاب بحارالانوار نيز در ضمن بابي با عنوان: «انّهم أمان لأهل الأرض في العذاب» بيش از شش روايت با همين مضمون نقل شده است.12
و سرانجام در توقيع شريفي كه از سوي امام عصر(ع) خطاب به اسحاقبن يعقوب صادر شده، چنين آمده است:
و من اماني براي ساكنان زمين هستم همچنان كه ستارگان اماني براي اهل آسمان هستند.13
براي روشن شدن مضمون اين روايات لازم است چند نكته را يادآور شويم:
1. بر اساس پارهاي روايات، موجودات جهان تنها به ساكنان كرة زمين محدود نميشود و در ساير كرات هم موجوداتي زندگي ميكنند. چنانكه در روايتي از اميرمؤمنان علي(ع) ميخوانيم:
اين ستارگاني كه در آسمان است، شهرهايي مانند شهرهاي زمين است. هر يك از اين شهرها با دو ستون نور به يكديگر مرتبط ميشوند كه طول هر ستون در آسمان به اندازة مسافتي است كه در 250 سال طي ميشود.14
2. همة كهكشانها و منظومههاي نامحدودي كه در آسمانها وجود دارد به وسيلة نيروهاي جاذبهاي كه ميان هستة مركزي آن كهكشان يا منظومه و كرات پيرامون آن وجود دارد، حفظ ميشوند، تا آنجا كه اگر لحظهاي اين نيروي جاذبه قطع شود همة كرات در هم ريخته و در اثر برخورد با هم نابود ميشوند. اين موضوعي است كه هم در علم جديد به تأييد رسيده و هم در بيش از هزار سال پيش از كشف نيروي جاذبه، توسط قرآن كريم تبيين شده است. آنجا كه ميفرمايد:
الله الذّي رفع السّموات بغير عمد ترونها.15
خدا [همان] كسي است كه آسمانها را بدون ستونهايي كه آنها را ببينيد بر افراشت.
با توجه به دو نكتة ياد شده ميتوان گفت: استمرار حيات و بقاي ساكنان همة كرات به استمرار حالت تعادل ميان ستارگان، سيارگان و ديگر اجرام آسماني كه توسط نيروي جاذبه ميان كرات برقرار ميشود، بستگي دارد و اگر زماني اين ستارگان از بين بروند به دليل از بين رفتن حالت تعادل، كرات ديگر از بين خواهند رفت. چنانكه اگر خورشيد به عنوان بزرگترين ستاره و منظومة شمسي، از بين برود، كرة زمين و ديگر كرات منظومة شمسي در اثر برخورد با يكديگر از بين ميروند و حيات ساكنان زمين به خطر ميافتد.16
3. خداي تعالي همچنان كه ستارگان را قطب و محور منظومه و كهكشانهاي عالم قرار داده و با وجود آنها حيات و بقاي سيّارهها و ديگر اجرام آسماني كه در منظومهها و كهكشانهاي بيشمار هستي قرار دارند، استمرار و دوام مييابد، اهل بيت عصمت و طهارت(ع) و به تعبير بهتر حجّتهاي الهي را قطب و محور كلّ هستي قرار داده و همة نعمتها، بركتها و فيضهاي مادي و معنوي خود را به واسطة وجود آنها كه خليفههاي خدا بر روي زمين هستند، نصيب بندگانش ميفرمايد.
اين موضوع از بسياري از روايات، ادعيه و زيارتهاي نقل شده از معصومين(ع) استفاده ميشود. كه در اينجا به برخي از آنها اشاره ميكنيم.
امام صادق(ع) به واسطة پدر بزرگوارش از جدّ گرامي خود، امام سجاد(ع) در اين زمينه چنين روايت ميكند:
ما كساني هستيم كه خداوند به وسيلة ما آسمان را از اينكه جز به اذن او، بر زمين فرو افتد، نگه ميدارد و به وسيلة ما زمين را از اينكه ساكنان پريشان سازد، حفظ ميكند، و به وسيله ما باران را فرو ميفرستد، رحمتش را جاري ميسازد، و بركات زمين را خارج ميكند.17
در روايت ديگري كه از امام حسن عسكري(ع) نقل شده است، در اين زمينه چنين ميخوانيم:
خداي تبارك و تعالي از زمان آدم تاكنون زمين را از حجّت خودش بر آفريدگان خالي نگذاشته است و تا روز قيامّت هم خالي نخواهد گذاشت، به واسطة اوست كه بلا را از اهل زمين دفع ميكند و به خاطر اوست كه باران را فرو ميفرستد و بركات زمين را بيرون ميآورد. 18
در بخشي از زيارت «جامعة كبيره» در اين باره چنين آمده است:
خداوند به وسيلة شما گشوده، به وسيلة شما پايان ميدهد. به وسيلة شما باران را نازل ميكند و آسمان را از اينكه جز به اذن او، بر زمين فرو افتد نگه ميدارد و به وسيلة شما اندوه را ميبرد و سختيها را بر طرف ميسازد.19
در قسمتي از دعاي «عديله» موضوع ارتباط هستي و بقاي حجّت حق، حضرت مهدي(ع) با بقا و هستي جهانيان، چنين بيان شده است:
به بقاي او دنيا باقي است و به بركت او مردم روزي داده ميشوند و به وجود او آسمان و زمين پابرجاست.20
4. همة آفريدگان براي استمرار حيات و بقايشان نيازمند فيض خداوندي هستند، به گونهاي كه اگر يك لحظه اين فيض قطع شود، هستي آنها به پايان ميرسد. از آنجا كه همة فيضهاي خداوندي به واسطة حجّتهاي الهي به مردم ميرسد و همة بلاها و سختيها به واسطة وجود آنها برطرف ميگردد، اين موضوع كه بدون وجود حجّتهاي الهي حيات و بقاي ساكنان كرة زمين به خطر ميافتد، كاملاً قابل تصور است.
افزون بر روايات ياد شده، دستهاي ديگر از روايات نيز وجود دارند كه در آنها با تعبيري ديگر بر پيوستگي بقا و حيات ساكنان كرة زمين با بقا و حيات اهل بيت عصمت و طهارت(ع) تأكيد شده است. كه در اينجا به برخي از آنها اشاره ميكنيم.
در يكي از اين روايات، امام باقر(ع) از پيامبر خدا(ص) نقل ميكند كه آن حضرت خطاب به اميرمؤمنان علي(ع) فرمود:
من و يازده تن از فرزندانم و تو اي علي! لنگرهاي زمين هستيم، خداوند به وسيلة ما زمين را استوار كرده كه ساكنانش را در دل خود فرو نبرد. هنگامي كه دوازده فرزندم از روي زمين بروند، زمين ساكنانش را در دل خود فرو ميبرد و به آنها مهلت داده نميشود.21
اين روايت با اندك تغييري در صدر آن در منابع فراواني از رسول گرامي اسلام(ص) روايت شده است.
آن حضرت در روايت ديگري ميفرمايد:
تا پايان [امامت] دوازده تن از قريش، اين دين پا برجاست. هنگامي كه آنها رخت بربندند، زمين ساكنانش را در كام خود فرو ميبرد.22
در روايتي كه از امام صادق(ع) نقل شده است، آن حضرت در پاسخ اين پرسش كه: «آيا زمين بدون امام باقي ميماند؟» ميفرمايد:
اگر زمين خالي از امام بماند فرو ميريزد.23
روايات بسياري با اين مضمون نقل شدهاند، كه به همين تعداد بسنده ميكنيم.24
11. وسيلههاي نجات و رستگاري امّت
شيخ صدوق(ره) يازدهمين ويژگي حجّتهاي الهي را اين گونه بيان ميكند:
واجب است معتقد باشد... مثَل آنها در اين امّت مانند «كشتي نوح» و «باب حطّه» است.25
در زمينة اين ويژگي امامان(ع) نيز روايات فراواني رسيده است كه در اينجا برخي از آنها را بررسي ميكنيم.
ابوذر غفاري نقل ميكند از پيامبر(ص) شنيدم كه ميفرمود:
همانا من دو چيز گرانبها را در ميان شما به يادگار گذاشتم: كتاب خدا و عترتم (خاندانم) و اين دو از يكديگر جدا نميشوند تا در كنار حوض [كوثر] بر من وارد شوند، آگاه باشيد كه مثَل آنها در ميان شما مانند كشتي نوح است كه هر كس بر آن سوار شود نجات مييابد و هر كس از آن دوري كند غرق ميشود.26
ابن عباس نيز نقل ميكند كه رسول خدا(ص) خطاب به امير مؤمنان(ع) فرمود:
... مثَل امامان از نسل تو [بعد از من] مثل كشتي نوح است كه هر كس بر آن سوار شود نجات مييابد و هر كس از آن كناره گيرد، غرق ميشود.27
روايات ديگري نيز به همين مضمون از امامان معصوم(ع) نقل شده است كه از ذكر آنها خودداري و به همين مقدار بسنده ميكنيم.28
با توجه به روايات ياد شده ميتوان گفت: چون حجّتهاي الهي تنها معيارهاي شناخت حق از باطل و معروف از منكرند، نجات و رستگاري نيز تنها در گرو پيروي و اطاعت از آنهاست و هر كس راهي جز راه آنها بپيمايد و سر در گرو اطاعت كسي جز آنان بگذارد، جز گمراهي بهرهاي نخواهد داشت.
قسمتي از زيارت «جامعة كبيره» كه از امام هادي(ع) نقل شده است، اين موضوع را به خوبي روشن ميسازد:
هر كه با شما دشمني ورزيد، نابود شد؛ هر كه شما را تكذيب كرد، نوميد گشت؛ هر كه از شما دوري گزيد، گمراه شد؛ هر كس به شما تمسك جست، پيروز شد؛ هر كه به شما پناه آورد، ايمني يافت؛ هر كه شما را تصديق كرد، به سلامت رسيد؛ هر كه با شما همراه شد، هدايت يافت؛ هر كس شما را پيروي كند، بهشت پناهگاه اوست و هر كس به مخالفت شما برخيزد، آتش جايگاه اوست.29
تاريخ اسلام نيز خود بهترين گواه بر اين موضوع است كه چگونه كساني كه از هدايتهاي امامان(ع) سر پيچيدند و حاضر به اطاعت آنها و پذيرش ولايتشان نشدند، به وادي گمراهي و سرگشتگي افتادند و سرانجام به ولايت طاغوت سر سپردند.
در مورد تشبيه دومي كه كلام شيخ صدوق به آن اشاره شده بود؛ يعني «باب حطّة» بايد گفت كه:
«باب» در لغت به معناي جاي داخل شدن، در، آنچه كه با آن در بسته شود از چوب يا هر چيز ديگر و دروازه است. « حطّة» نيز مصدر از «حطّ، يحطّ، حطّاً» به معناي بار را بر زمين نهادن و فرود آمدن از بلندي است، البته به مناي فرو ريختن گناه نيز آمده است.30
پيش از بررسي رواياتي كه در اين زمينه از پيامبر اسلام(ص) و امامان معصوم(ع) نقل شده، لازم به يادآوري است كه تعبير «باب حطّة» ريشهاي قرآني دارد. آنجا كه ميفرمايد:
و إذ قلنا ادخلوا هذه القرية فكلوا فيها حيث شئتم رغداً و ادخلوا الباب سجّداً و قولوا حطّة نغفر لكم خطاياكم و سنزيد المحسنين.31
و [نيز به ياد آريد] هنگامي كه گفتيم «بدين شهر در آييد و از هر كجاي آن خواستيد فراوان بخوريد و سجدهكنان از در [بزرگ] درآييد و بگوييد: [خداوندا] گناهان ما را بريز تا خطاهاي شما را ببخشايم و [پاداش] نيكوكاران را خواهيم افزود.
امين الاسلام طبرسي در ذيل آيه يادشده مينويسد:
همة مفسران اتفاق دارند كه مراد از «قريه» در اين آيات «بيتالمقدس» است و آية كريمة «ادخلوا الأرض المقدسة؛ به سرزمين مقدس داخل شويد» آن را تأييد ميكند [...] قتاده، حسن و بيشتر اهل علم ميگويند معناي «حطّة» آن است كه «خدايا گناه ما را فرو ريز و ما را بيامرز. اين امر به استغفار است».
ابن عباس ميگويد: آنها مأمور شدند كه بگويند: «اين امر حق است». عكرمه ميگويد: آنها مأمور شدند كه بگويند: «لاالهالاالله» كه خود اين كلمات، گناه آنان را ميريخت و چون همة اينها سبب ريختن ميشود، تعبير به «حطّة» شده است.32
در روايات فراواني، اهلبيت عصمت و طهارت(ع) به «باب حطّة» يا دري كه ورود به آن موجب ريختن گناهان ميشود، تشبيه شدهاند، كه در اينجا به برخي از آنها اشاره ميكنيم:
ابن عباس از رسول خدا(ص) نقل ميكند كه فرمود:
هر كس به دين من ايمان آورده، راه مرا پيموده و سنّت مرا پيروي ميكند، بايد به برتري امامان از خاندان من بر همة [افراد] امّتم باور داشته باشد. مثل آنها در اين امّت، مانند «باب حطّة» در بنياسرائيل است.33
امام علي(ع) نيز در همين زمينه ميفرمايد:
اين بني اسرائيل است كه براي آنها دري گشوده شد كه [ورود به آن] گناهانشان را فرو ميريخت و براي شما اي جماعت امّت محمّد! دري گشوده شده كه گناهانتان را فرو ميريزد، اين در اهل بيت محمّد ـ بر آنها درود باد ـ هستند كه شما به پيروي از هدايت آنها و تبعيّت از راه آنها سفارش شدهايد، تا بدين وسيله گناهان و خطاهاي شما بخشيده شود و [پاداش] نيكوكارانتان افزوده شود. دري كه گناهان شما را فرو ميريزد (باب حطّه) از دري كه گناهان آنها را فرو ميريخت برتر است؛ زيرا آن از چوب بود و ما سخنگويان، مؤمن، هدايتگر و برتر هستيم.34
در تفسير منسوب به امام حسن عسكري(ع) نيز در ذيل آية 58 سورة بقره آمده است:
اعتقاد ما به ولايت محمّد و علي[ص]، گناهان ما را فرو ميريزد و بديهاي ما را ناپديد ميكند.35
با توجه به اين ويژگي اهل بيت عصمت و طهارت است كه در بخشي از زيارت جامعة كبيره ميخوانيم:
و خداوند درود (صلوات) ما بر شما و آنچه را كه از ولايت شما مخصوص ما كرد، ماية نيكويي آفرينش [خلق و خوي] ما، پاكي جانهاي ما، پاكيزگي و پيراستگي [روح] ما و پوشانندة گناهان ما قرار دارد.36
12. سرسپردگان امر الهي
شيخ صدوق دوازدهمين ويژگي امامان معصوم را اين گونه بيان ميكند:
[واجب است كه معتقد باشد]... آنها بندگان ارجمند خدايند كه در سخن بر او پيشي نميگيرند و خود به دستور او كار ميكنند.37
كلام شيخ صدوق اشاره به آيهاي از آيات كلام خداي تعالي دارد، آنجا كه ميفرمايد:
و قالوا اتّخذ الرّحمن ولداً سبحانه بل عبادٌ مكرمون لا يسبقونه بالقول و هم بأمره يعملون.38
و گفتند: «[خداي] رحمان فرزندي اختيار كرده.» منزه است او. بلكه [فرشتگان] بندگاني ارجمندند، كه در سخن بر او پيشي نميگيرند، و خود به دستور او كار ميكنند.
امام علي(ع) در بخشي از روايت مفصّلي كه خطاب به ابوذر غفاري و سلمان فارسي ايراد شده است،39 ميفرمايد:
ما بندگان ارجمند خداييم، همانها كه در سخن بر او پيشي نميگيرند و خود به دستور او كار ميكنند.40
در قسمتي از زيارت جامعة كبيره نيز از امامان معصوم(ع) با همين تعبير ياد شده است.41
با توجه به اين ويژگي امامان معصوم(ع) ميتوان گفت: امامان معصوم(ع) از پيش خود نه چيزي ميگويند و نه كاري انجام ميدهند، بلكه آنها هر آنچه ميگويند و هر آنچه انجام ميدهند، همه به امر خداست. از اين رو آنها معيار تشخيص حق و باطل و بيانكنندة حلال و حرام الهياند و مردم با تسليم در برابر آنها ميتوانند به راحتي به راهي كه خشنودي خداوند در آن است، رهنمون شوند.
پينوشتها:
1. شيخ صدوق، الهداية، ص 35.
2. مجلسي، محمّد باقر، بحارالانوار، ج 36، ص 407، ح 16.
3. در بسياري از كتابهايي كه در زمينة تاريخ زندگاني و شرح حال ائمه(ع) نوشته شده است، بخشي به شرح كرامات و معجزات اين بزرگواران اختصاص يافته است كه از آن جمله ميتوان به كتابهاي زير اشاره كرد:
شيخ مفيد، الإرشاد في معرفة حجج الله علي العباد، ج 1، صص 305 ـ353؛ اخبار غيبي و كرامات امام علي(ع)، ج 2، صص 182ـ185؛ اخبار امام صادق(ع)، صص 221 ـ 230؛ كرامات و معجزات امام كاظم(ع)، صص 254 ـ 258؛ كرامات امام رضا(ع)، صص 281 ـ 294؛ كرامات امام جواد(ع)، صص 301 ـ 308؛ كرامات امام هادي(ع)؛ صص 321 ـ 335؛ كرامات امام حسن عسكري(ع)، صص 355 ـ 367؛ كرامات امام زمان(ع).
4. بحارالانوار، ج 100، ص 306، ح 23.
5. همان، ج 99، ص 108.
6. صفارقمي، بصائرالدرجات، صص 252 ـ 257، جزء پنجم، باب 13، ح 2، 5، 10 و 11.
7. همان، صص 272 ـ 269، جزء ششم، باب 3، ح 1، 3، 5، 7، صص 274 ـ 272 باب 4، ح 1، 2، 3، 5.
8. همان، ص 269، ح 1.
9. شيخ طوسي، كتاب الغيبة، صص 19 ـ 20.
10. الهداية، ص 36.
11. كمال الدين و تمام النعمه، ج 1، ص 205، ج 19. همچنين ر.ك: ح 17 و 18.
12. رك: بحارالانوار، ج 27، صص 308 ـ 310.
13. كمالالدين و تمام النعمة، ج 2، ص 485، ح 4؛ كتاب الغيبة، ص 177.
14. الطريحي، فخرالدين، مجمعالبحرين، ج 3، ص 162.
15. سورة رعد(13) آية 2. همچنين رك: سورة لقمان (32) آية 10.
16. براي مطالعة بيشتر در اين زمينه رك: مهديپور، علياكبر، او خواهد آمد، چاپ دوازدهم، قم: رسالت، 1384، صص 174 ـ 177.
17. كمالالدين و تمام النعمة، ج 1، باب 21، ص 207، ح 22.
18. همان، ج 2، باب 38، صص 384 ـ 385، ح 1.
19. من لايحضره الفقيه، ج 2، ص 374، بحارالانوار، ج 99، صص 131 ـ 132.
20. مفاتيحالجنان.
21. كتاب الغيبة (طوسي)، ص 92.
22. بحارالانوار، ج 36، ص 267.
23. الكافي، ج 1، ص 179، ح 10.
24. براي مطالعة بيشتر در اين زمينه: رك، همان، صص 178 ـ 179 باب «أنّ الأرض لا تخلو من حجّة»؛ كمال الدين و تمام النعمة، ج 1، صص 202 ـ 217، باب «العلة التي من أجلها يحتاج إلي الإمام عليهالسلام».
25. الهداية، صص 35 ـ 36.
26. كمالالدين و تمام النّعمة، ج 1، ص 239، ح 59.
27. همان، ص 241، ح 65.
28. ر.ك: كتاب الغيبة (نعماني)، ص 44، ح 2، عيون اخبار الرضا(ع)، ج 2، ص 26، ح 10.
29. من لا يحضره الفقيه، ج 2، ص 372؛ مفاتيحالجنان.
30. ر.ك: مجمعالبيان، ج 1، ص ؛ فرهنگ لاروس، ج 1، ص 842.
31.سورة بقره(2) آية 58.
32. مجمعالبيان، ج 1، ص .
33. شيخصدوق، الأمالي، ص 69، مجلس 17، ح 6.
34. بحارالانوار، ج 23، صص 122 ـ 123، ح 47.
35. ر.ك: البرهان في تفسير القرآن، ج 2، ص 227.
36. من لايحضره الفقيه، ج 2، ص 372؛ بحارالانوار، ج 99، ص 130.
37. الهداية، ص 37.
38. سورة انبياء (21)، آيات 26 و 27.
39. در آغاز اين روايت سلمان و ابوذر خطاب به اميرمؤمنان(ع) عرضه ميدارند: «اي اميرمؤمنان! ما آمدهايم تا دربارة معرفت شما بالنورانيه از شما بپرسيم.
و آن حضرت ميفرمايند: «معرفت من بالنورانيه معرفت خداي عزّ و جلّ است و معرفت خداي عزّ و جلّ معرفت من بالنورانيه است و اين همان دين خالص است» امام علي(ع) در ادامه روايت، به ويژگيهاي اين معرفت اشاره ميكند. (ر.ك: بحارالانوار، ج 26، صص1 ـ 8).
40. بحارالانوار، ج 26، ص 7.
41. ر.ك: من لا يحضره الفقيه، ج 2، ص 371.
ماهنامه موعود شماره 81
« ... در حرم حضرت اباعبدا... (ع) در بالاسر حضرت همه چیز حل شد و هر چه را می خواستم به من عنایت كردند، ... دیگر اتاق ما شد بالای سر ضریح حضرت و تا سی سال عزا خانه ابا عبدا... (ع) بود و اشخاصی كه به آن جا می آمدند، بی آنكه لازم باشد كسی ذكر مصیبت بكند، می گریستند.
بر اثر عنایات حضرت اباعبدا... (ع) كار به گونه ای بود كه خیلی از بزرگان مثل مرحوم حاج ملا آقا جان، مرحوم آیت ا... شیخ محمد تقی بافقی و مرحوم آیت ا... شاه آبادی، بدون این كه من به دنبال آنها بروم و از آن ها التماس و درخواست كنم، با علاقه خودشان به آنجا آمدند. به هر تقدیر همه عنایاتی كه به من شد از بركات امام حسین (ع) بود. از راه سایر ائمه هم می توان به مقصد رسید، ولی راه امام حسین (ع) خیلی سریع انسان را به نتیجه می رساند. چون كشتی امام حسین (ع) در آسمان های غیب خیلی سریع راه می رود، هر كس در سیر معنوی خود حركتش را از آن حضرت آغاز كند، خیلی زود به مقصد می رسد »
اینك بنگرید گوشه ای از بیانات قدسی آن رادمرد و الهی را درباره امام زمان (ع) و راهكار عملی ارتباط با آن حضرت:« اگر كامل شود و محبت به حد كمال برسد، طوری می شود كه حضرت در ظاهر ببیند یا نبیند، در یقین او اثر ندارد، بلكه در هر وقت با قلب خود او را مشاهده می كند. مثل پیامبر (ص) و اویس قرنی كه به ظاهر اصلاً یكدیگر را ندیدند، اما هرگز از هم جدا نبودند. كسی كه غیبت و حضور حضرت حجت برایش یكسان باشد، به حضرت راه پیدا می كند .»
منبع:
طیب، مصباح الهدی، صص 11ـ13، و نیزص 319.
اشاره:
تكاپوي انسان براي رسيدن به جامعهاي است كه همة شرايط كمال وي در آن فراهم باشد. انبيا و اولياي الهي هم اين مطلب را مطرح و در پي تحقق آن بودهاند اما آنچه تاكنون اتّفاق افتاده عدم وجود شرايط براي ايجاد يك نظام هماهنگ و جهاني الهي است. خداوند متعال در قرآن كريم وعده داده كه اين شرايط در آخرالزّمان به وجود خواهد آمد. پيامبر اكرم(ص) و ائمه اطهار(ع) نيز فرمودهاند كه زمينههاي تكامل انسان، در زمان حضرت مهدي(ع) ايجاد خواهد شد. در اين مقاله چگونگي شرايط و خصوصيات آن زمان از زبان ائمه اطهار، با تأكيد بر كلام امير مؤمنان(ع) مورد توجّه قرار گرفته است.
هدايت
خداي جهان خالقي حكيم است و هيچ موجودي را بيهوده و عبث نيافريده، چون خلق بيهدف نشانة ضعف و ناآگاهي است و اين ويژگيها نميتواند در خداوند وجود داشته باشند. او هر مخلوقي را براي هدفي حكيمانه آفريده و آن را به سوي هدفش هدايت ميكند.
وقتي به جهان و موجودات مينگريم آنها را يك مجموعة منظم و داراي نظام كه در مسيري معين رو به سوي هدفي خاص حركت ميكند ميبينيم. اين حركت حركتي به سوي كمال است، و همة موجودات به سوي كمال در حركتاند. اصولاً تمام حركتها در جهان نوعي حركت كمالي هستند بدين معني كه خداوند هر موجودي را كه آفريده، او را به كمال خاص خود رهنمون گشته است.1
در تعاليم كتاب آسماني و آموزههاي معصومين(ع) چنين روايت ميشود كه:
جهان منظم و داراي هدف بوده (هدايت عامه) انسان هم موجودي هدفمند و داراي هدف خاص و براي رسيدن به اين هدف (هدايت خاص انسان) هم عقل و اختيار (به عنوان ابزاري دروني) و پيامبران و كتب آسماني (به عنوان ابزاري بيروني لازم و ضروري ميباشند.
خداوند متعال كه آفرينندة انسان است، بهترين كس براي خبر دادن از آينده و دادن برنامه براي سعادت انسان است. پيامبران را براي ابلاغ اين اخبار و برنامهها به بشر، مبعوث نموده است.
علي(ع) دليل بعثت پيامبران را چنين بيان مينمايند:
خداوند پيامبران خود را مبعوث فرمود و هر چند گاه متناسب با خواستههاي انسانها، رسولان خود را پي در پي اعزام كرد تا وفاداري به پيمان فطرت را از آنان باز جويند و نعمتهاي فراموش شده را به يادآورند. و با ابلاغ احكام الهي حجت را بر آنها تمام نمايند و توانمندي پنهانشده عقلها را آشكار ساخته، نشانههاي قدرت خدا را معرفي نمايند.2
در ادامه خطبه مولا چنين ميفرمايند:
خداوند هرگز انسانها را بدون پيامبر، يا كتابي آسماني، يا برهاني قاطع و يا راهي استوار رها نساخته است. 3
بنابراين فلسفة ارسال رسل و انزال كتب، بيان و ترسيم راه الهي همراه با حجتها و برهانهاي قاطع و احكام روشن در هدايت انسان ميباشد.
امام(ع) دربارة دليل بعثت نبيّ اكرم و وجود ايشان، به تكميل دوران نبوّت اشاره نموده، ميفرمايند:
تا اينكه خداوند سبحان براي وفاي يه وعدة خود و كامل گردانيدن دوران نبوّت، حضرت محمد(ص) را مبعوث كرد. پيامبري كه از همة پيامبران پيمان پذيرش نبوّت او را گرفته بود و نشانههايش شهرت داشت تولدش بر همه مبارك بود.4
در كتب آسماني قبل از پيامبر اكرم(ص) تمامي مشخصات آن حضرت ذكر شده بود. چنانچه در قرآن آمده است:
كساني كه به آنان كتاب (آسماني) داديم (يهود و نصاري) محمد(ص) را همانند فرزندان خود ميشناسند.5
- ضرورت نصب امام
رسول گرامي اسلام(ص) در ميان شما مردم جانشيناني برگزيد كه تمام پيامبران گذشته براي امتهاي خود برگزيدند، زيرا آنها هرگز انسانها را سرگردان رها نكردند و بدون معرّفي راهي روشن و نشانههاي استوار، از ميان مردم نرفتند.6
همه پيامبران و حجّتهاي الهي آمدهاند تا اين شرايط براي انسان فراهم شود. هر چند ايشان نهايت سعي خود را نمودهاند امّا به دليل شرايط زماني و مكاني و دشمنان، هيچكدام از آنها نتوانستهاند اين شرايط را به نحو كامل فراهم نمايند. البّته در پرتو نور الهي پيامبران و امامان(ع) افراد شايستهاي در هر دوره به درجات عالي انساني و ايماني رسيدهاند كه بسيار محدود ميباشند، امّا همه آحاد جامعه نتوانستهاند از اين شرايط استفاده كنند و به كمال مطلوب برسند. زيرا اگر اينگونه نبود ميبايست در يك برهه از زمان هيچ فرد مشرك و ملحدي در جامعه وجود داشته باشد.
همه پيامبران انسانها را وعده به آمدن نبيّ اكرم(ص) دادهاند چنانكه در مطلب قبل آورديم مولا علي(ع) در مورد پيامبر گرامي اسلام فرمودند:
(خداوند) از همه پيامبران پيمان پذيرش نبوّت او را گرفته بود. 7
نبّي اكرم(ص) و ائمّه معصومين(ع) هم وعده به آمدن حضرت صاحبالامر(عج) دادهاند و وعده نمودهاند كه در زمان اين حجت الهي تمام شرايط براي رشد و كمال انساني فراهم ميگردد و همه انسانها در اين زمان به كمال ميرسند.
- اسباب كمال در حكومت مهدوي
1. مهمترين عامل و مهيا كنندة تمام شرايط، «منوّر شدن زمين به نور الهي» است و خداوند با عنايت ويژهاي كه به آن حضرت دارد، خود، شرايط ظهور و تحقق آرمانهايشان را فراهم ميسازد. در روايات از اين موضوع، تعبير به اشراق گرديده است از جمله مفضل بن عمر گويد از امام صادق(ع) شنيدم كه ميفرمودند:
همانا چون قائم(ع) قيام كند زمين به نور پروردگارش روشن ميشود8.
2. همچنانكه از اسم حضرت(مهدي) پيداست ايشان به همة امور، كاملاً هدايت شدهاند و هيچ امر مخفي بر ايشان پوشيده نيست. بنا به فرمايش امام صادق(ع) كه ميفرمايند:
زيرا او بر امري پوشيده هدايت ميشود.9
در نتيجه ديگران را نيز از جمله به امور مخفي و پوشيده هدايت ميكند.
3. ايشان صاحب حكومت عدلاند. حضرت صاحب عدل مطلق، فراگير، جهان شمول و بدون قيد هستند، امام زينالعابدين(ع) در اين باره ميفرمايند:
امام مهدي(ع) زمين را از قسط و عدل پر ميگرداند.10
بنابراين در آن نظام روحيّه التيام، خوگرفتن دلها به يكديگر بر جان و روح حاكم ميگردد. اينهمه دزدي، خيانت، جنايت و قانون گريزي كه در جوامع بشر ديده ميشود دليل عمدهاش وجود جور و ستم در قوانين حاكم بر كشورها و يا جور و ستم در مقام تطبيق و اجراي قوانين است.
مولا علي(ع) نتيجة رابطة عادلانه بين حاكم و مردم را چنين بيان مينمايند:
آنگاه كه مردم حقّ رهبري را ادا كرده و زمامدار حقّ مردم را بپردازد، حقّ در آن جامعه عزّت مييابد و راههاي دين پديدار و نشانههاي عدالت برقرار و سنّت پيامبر پايدار ميشود. پس روزگار اصلاح شده، مردم در تداوم حكومت اميدوار، و دشمن در آرزوهايش مأيوس ميگردد.11
آنچه مسلّم است اينكه فقط در زمان حضرت مهدي امام زمان(ع)، اين شرايط به وجود ميآيد، يعني هم والي حقّ رعيت و مردم را به كمال رعايت ميكند و هم مردم حقّ والي را. البته والياني چون مولا علي(ع) حقّ رعيّت را به تمامي و كمال آن ادا نمودهاند امّا طرف ديگر يعني مردم اين استعداد و آمادگي را نداشتند كه حقّ والي خود يعني مولا علي(ع) را رعايت نمايند. نه تنها ايشان را همراهي نكردند بلكه در بسياري از موارد در مقابل ايشان ايستادند و حتّي جنگها بر عليه ايشان به راه انداختند و نهايتاً حضرت را به شهادت رساندند.
قابل توجه اينكه زماني يك حاكم، يا هيئت حاكمة يك كشور ميتوانند عدالت را در جامعه گسترش دهند كه زمينة روحي پياده شدن عدل توسط مردم فراهم شده باشد. اگر عدل بودن دستوري ـ هرچه عادلانه و به حق ـ از سوي مردم درك نشود، هر چند حاكم يا حاكمان تلاش نمايند باز هم در مقام اجرا با مشكل روبرو ميشوند. براي مثال اگر بهترين قوانين راهنمايي و رانندگي در كشوري طرّاحي شده و خبرهترين افراد براي اجراي آن نظارت داشته باشند تا زماني كه مردم ضرورت آنرا درك نكنند، ارتكاب تخلفات توسط گروهي از آنان امري بديهي است. قبضهاي سنگين جريمه در ارتباط با رانندگي گواهي روشن بر اين مطلب است.
حال ببينيم در زمان حضرت صاحبالامر براي مردم چه اتّفاقي ميافتد و به زباني ديگر مردم زمان حكومت حضرت وليعصر(ع) چه خصوصيّتي خواهند داشت كه آمادگي پذيرش قوانين عادلانه حضرت را به كمال دارند:
اول، علم در زمان حضرت به كمال ميرسد يعني حضرت وليعصر(ع) پرده از تمامي علوم مقدور بشر برداشته، آن را به كمال در اختيار مردم قرار ميدهند. شاهد اين موضوع كلام گهربار حضرت امام صادق(ع) است كه ميفرمايند:
علم و دانش بيست و هفت حرف (بيست و هفت شاخه و شعبه) است تمام آنچه پيامبران الهي براي مردم آوردند دو حرف بيش نبود و مردم تاكنون جز آن دو حرف را نشناختهاند. اما هنگامي كه قائم ما قيام كند، بيست و پنج حرف (بيست و پنج شاخه و شعبه) ديگر را آشكار و در ميان مردم منتشر ميسازد و دو حرف ديگر را به آن ضميمه ميكند تا بيست و هفت حرف آن منتشر گردد.12
دوم، شعور و احساس مردم بسيار بالا ميرود به حدّي كه ميتوانند اين نظام عادلانه را تحمل و حتي خود، در اجراي آن نقش اساسي داشته باشند.
حضرت صادق(ع) ميفرمايند:
هنگامي كه قائم ما قيام كند خداوند آنچنان گوش و چشم شيعيان ما را تقويت ميكند كه ميان آنها و قائم (رهبر و پيشوايان) نامهرسان نخواهد بود. با آنها سخن ميگويد و سخنش را ميشنوند و او را ميبينند در حالي كه او در مكان خويش است (و آنها در نقاط ديگر جهان).13
سوم، به آنها حكمت داده ميشود كه مهمترين عامل در ايجاد شرايط اجراي عدالت در جامعه است، زيرا نشانگر درك بالاي مردم آن زمان و انجام امور بر اساس عقل و خرد است و كسي كه حكيم باشد كار خلاف عقل انجام نميدهد. امام باقر(ع) ميفرمايند:
در زمان حضرت صاحب، به خلق، تا آنجا حكمت داده ميشود كه زن در خانة خود حكم ميكند به كتاب خداوند و سنت رسول خدا.14
اما رهبري و اجراي عدالت حضرت مهدي(عج) چه خصوصيّاتي را داراست و چگونه ميتواند عدالت، فضايل، مكارم اخلاقي و در يك كلام تمام خوبيها را بر جهان حاكم نمايد.
اولاً: امام زمان(ع) بندگان خدا را براي خدا دوست دارد و براي او همه بندگان خدا يكسان و مساوي هستند، چه مرد و چه زن چه كوچك و چه بزرگ و هر نژاد و قوم كه باشند. البته اين سيرة همه اجداد طاهرين ايشان(ع) بوده است بر خلاف اكثر حاكمان كه مردم را براي خود و در جهت منافع خودشان ميخواهند. امام علي(ع) ميفرمايند:
مردم من شما را براي خدا ميخواهم و شما مرا براي خودتان.15
امام زمان(ع) نيز مردم را براي خدا ميخواهد و كسي كه مردم را براي خدا بخواهد تنها حكم خدا را بر ايشان جاري ميسازد.
ثانياً: دانش امام دانشي وسيع و گسترده است و احاطة كامل به همة ابعاد عدالت و فرودگاههاي آن دارد. اميرالمؤمنين(ع) در اينباره ميفرمايند:
زره دانش بر تن دارد و با تمامي آداب و معرفت كامل آن را فرا گرفته است.16
ثالثاً: حكم و قضاوت ايشان است كه زمينة اجراي عدالت را فراهم مينمايد. زيرا حضرت با علم الهي حكم نموده و براي حكم دادن نياز به بيّنه و دليل ندارد و خود، گناهكار و خاطي را با علم خدايي كاملاً ميشناسد. امام صادق(ع) فرمودند:
دنيا به پايان نخواهد رسيد تا اينكه مردي ازما اهل بيت خروج نمايد. در حالي كه با حكم و داوري مينمايد و از مردم بيّنه و دليل نميخواهد.
4. زمين تمام ذخاير و ثروتهاي خود را در اختيار حضرت قرار ميدهد و امام آنها را در بين مردم تقسيم مينمايند، مردم تا آنجا غني ميشوند كه هيچ فردي كه بتوان به او صدقه داد پيدا نميشود. امام صادق(ع) ميفرمايند:
در زمان ظهور (حضرت مهدي(ع)) زمين گنجهاي خود را آشكار سازد، بدان سان كه مردم در روزي زمين گنجها را ببينند و براي احسان كردن به كسي به وسيلة مال خود يا دادن زكات به او جست وجو كنند، ولي هيچ كس را نيابند كه احسان يا زكات را بپذيرد و مردم به واسطة آنچه خداوند بدانها روزي كرده همگي بي نياز و توانگر شوند.18
به همين دليل كسي نيازي نميبيند كه به حقوق ديگران تجاوز نمايد و هر كس هر چه بخواهد در اختيار دارد. البته رشد عقلي، علمي و ايماني انسانها اين امر را تقويت مينمايد. امام باقر(ع) وجود امنيت و برادري در آن زمان را بدينگونه بيان مينمايند:
به هنگام رستاخيز امام قائم(ع) آنچه هست دوستي و يگانگي است، تا آنجا كه هر كس هر چه نياز دارد از جيب ديگري برميدارد بدون هيچ ممانعتي.19
جمعبندي
از اين نوشتار اين نتيجه به دست ميآيد كه شرايط تحقق آرمانهاي انسان ـ چه به لحاظ مادّي و چه معنوي ـ تنها و تنها در زمان تشكيل حكومت حقّه حضرت مهدي(ع) ـ ارواحنا له الفداء ـ ايجاد ميگردد. از لحاظ مادي انسان اميد رفاه كامل در زندگي را دارد كه با توجه به تكامل علوم و بركت خداوند در زمين و فراواني ثروت، كاملترين شرايط رفاه مادّي انسان به وجود ميآيد. آباداني، فراواني نعمت، رشد و توسعة تكنولوژي، ظهور بركات زمين و توسعه امنيت از جمله نتايج تشكيل آن حكومت است. از لحاظ معنوي نيز تمام شرايط رشد معنوي انساني در آن روزگار محقق ميشود. تكامل عقول، اشراق نور الهي بر زمين و بر دل و جان بندگان خدا، نابودي كامل دشمنان انسانيّت و استقرار دين الهي شرايط را براي رشد معنوي همة حقطلبان فراهم ميآورد.
پينوشتها در دفتر مجله موجود است.
ماهنامه موعود شماره 84
| |||||||||
من در كنار حوض (كوثر) بر شما وارد ميشوم و تو اي علي ساقي آن، و حسن دفاعكنندة از آن، و حسين دستور دهنده، و علي بن حسين (كسي) كه به سوي آن قدم مينهد و محمد بن علي، ناشر رحمت حقّ، و جعفر بن محمد سبقتگيرنده، و موسي بن جعفر احصاكنندة تعداد دوستداران و دشمنان و سركوبكنندة منافقان، و علي بن موسي زيور و زينت مؤمنان، و محمد بن علي اهل بهشت را به درجاتشان ميرساند، و علي بن محمد براي شيعيانش خطبه خوانده حورالعين را به شيعيان تزويج ميكند، و حسن بن علي چراغ روشنياهل بهشت، و مهدي شفيع آنها در روز قيامت است. در آنجاست كه اذن داده نميشود مگر براي كسي كه خدا بخواهد و بپسندد.
در همان كتاب به نقل از سلمان آمده است كه:
نزد پيامبر اكرم(ص) رفتم، و حسين بن علي(ع) را در آغوش او ديدم كه چشمانش را ميبوسد و دهانش را ميبويد و ميگويد:
تو، سروري هستي كه پدر و برادر و فرزندان تو نيز سرورند، تو پيشوا و پسر پيشوا و برادر پيشوايي، و پدر پيشوايان نيز هستي، تو حجّت الهي و فرزند و برادر حجّت الهي هستي، فرزندان تو نيز حجّت الهي هستند كه نهمين آنها قائم آنان است.1
پينوشت:
1. عسكري: «خوارزمي» آن را در كتاب خود مقتل الحسين(ع) و «ابراهيم محمد حمويني شافعي» در آخر جزء دوم كتاب فرائد السمطين با اندك تفاوت در بعضي از عباراتش نقل كردهاند. و نيز در كتاب خود به نام المهدي الموعود عند الجمهور در باب دوازدهم از آن و در كتاب ينابيع المودة، تأليف شيخ سليمان حنفي، ص 487 نقل شده است.
ماهنامه موعود شماره 83
- اشاره:
دايرة المعارف بريتانيكا در سال1996 ميلادي به شكل لوح فشرده منتشر و در دسترس علاقهمندان آن قرار گرفت. دايرة المعارف بريتانيكا علاوه بر داشتن مقالاتي در زمينة علوم تجربي، داراي مقالاتي در زمينة علوم انساني و علوم مذهبي نيز ميباشد. تهيه كنندگان اين دايرة المعارف در مورد معرفي امام زمان(ع) مقالاتي را ارائه دادهاند. بررسي اين مقالات نشان ميدهد كه نويسندگان آنها اطلاع چنداني از موضوع مهدويّت در اسلام نداشتهاند و در بسياري از موارد، اطلاعات غلط و تحريف شدهاي دربارة وليعصر(ع) به استفاده كنندگان از اين دايرت المعارف ارائه دادهاند؛ آنگونه كه هر چند انسان خوشبين باشد، نميتواند برخي از نادرستيها را در اين مقاله ناديده انگارد و جاي اين پرسش باقي ميماند كه چرا نويسندگان دايرة المعارف، در اين زمينه به منابع و مآخذ معتبر و مستند شيعي و سنّي مراجعه نكردهاند. در حالي كه عالمان و پژوهندگان شيعه از صدر اسلام تا به امروز كتابهاي ارزشمندي در موضوع مهدويّت تدوين نمودهاند، و مقاله نويسان بريتانيكا ميتوانستند به راحتي با حوزههاي علمي تشيع و مراكز تحقيقاتي در ايران يا ساير نقاط جهان تماس برقرار نمايند و از آثار اصيل و منابع معتبر تشيع و تسنن بهره ببرند، و اطلاعات كاملي نسبت به امر مهدويّت به دست آورند.
اين مورد و ديگر موارد از اين دست، نشانگر آن است كه نه تنها بسياري از مستشرقان و اسلام شناسان غربي، بلكه مراكز مهمّ تحقيقي غرب نيز، در بررسي عقايد آئين تشيع و مكتب اهلبيت(ع) در پي آن نبودهاند كه آنچه را مينويسند، مستند به مراجع دست اوّل و مآخذ معتبر شيعه و سني باشد. از اينرو يك دانشپژوه و محقّق مسلمان، براي دريافت معارف ديني و حتي تاريخي خود، نميتواند به آثار تحقيقي و تجزيه و تحليل غربيان، به چشم وثاقت و اطمينان بنگرد و به آنها مراجعه نمايد، تا چه رسد كه آنها را مبناي نگرش و تحقيق خود قرار دهد. در اين نوشتار، به نقد دو مقاله تحت عناوين: «آخر الزمان در مذاهب اسلام و زرتشت» و «مهدي»، از دايرةالمعارف بريتانيكا پرداخته شده است. در اين جا به يادبود، چكيدهاي از بخش اوّل مقالة ياد شده آمده و خوانندگان گرامي براي مطالعه بيشتر ميتوانند به لوح فشردة ماهنامة موعود و اصل مقالات مراجعه كنند. ذكر اين نكته ضروري است كه پاسخ تمامي شبهات و اتهامات وارده در دو مقاله مذكور و ديگر موارد، در سخنان معصومين(ع) و آثار بزرگان و علماي تشيع و حتي برخي از علماي اهل سنت با بهترين شكل، موجود بوده و با مراجعه به آنها جاي هيچ گونه ترديد و ابهامي باقي نميماند. بنابراين در اين مقاله صرفاً به جمع آوري و نقل پارهاي از اين پاسخها اقدام شده است. اميد آنكه اين تلاش ناچيز، در كنار خدمات ارزشمند مرزداران عالم تشيع مورد لطف و عنايت حضرت بقيـة الله الاعظم، ارواحنافداه، قرار گيرد.
- پاسخ به شبهات
براي پاسخ ميگوييم: اسلام ديني است كه اساس تعليمات خود را برتذكرات فطري پايهگذاري كرده، از فطرت انسانها به عنوان گنجينة عظيمي از وديعههاي الهي بهره برده و آن را پشتوانة اصول معارفي و تربيتي خود قرار داده است. يكي از اصول غير قابل انكار فطري كه همواره در طول تاريخ بشري توسط اديان و مذاهب تكرار شده، موضوع فرارسيدن روز موعودي است كه عموم رسالتهاي آسماني با همه ابعادشان اجرا شوند و پس از رنجهاي طولاني و نگرانيهاي جانفرسا، انسانيت مسيري مطمئن و قرارگاهي مجهز براي تلاشهاي آرماني خود بيايد. شهيد صدر2 در اين زمينه ميگويد: «انتظار آيندهاي اين چنين، تنها در درون كساني كه با پذيرش اديان، جهان غيب را پذيرفتهاند راه نيافته، بلكه به ديگران نيز سرايت كرده است. تا آنجايي كه ميتوان انعكاس چنين باوري را در مكتبهايي كه جهتگيري اعتقادي شان، با سرسختي، وجود غيب و موجودات غيبي را نفي ميكند، مشاهده كرد. براي مثال، در ماترياليسم ديالكتيك كه تاريخ را بر اساس تضادها تفسير ميكند نيز روزي مطرح است كه تمامي تضادها از ميان ميرود و سازش و آشتي حكمفرما ميگردد.
بدينسان ميبينيم كه تجربة دروني كه بشريت در طول تاريخ در مورد اين احساس داشته، درميان ديگر تجربههاي روحي، از گستردگي و عموميت بيشتري برخوردار گرديده است.
دين اسلام نيز در عين حال كه به اين احساس روحي همگاني، استواري ميبخشد؛ با تأكيد بر اين عقيده كه زمين همانگونه كه از ظلم و بيداد پر شود؛ از عدالت و دادگري آكنده خواهد گشت، به اين احساس، ارزش عيني بخشيده و جهت فكري باورمندان به اين اعتقاد را، به سوي ايماني به آيندة روشن، متوجه ميسازد. نگاهي به ادبيات مذهبي در اديان الهي و حتي آيينهاي بشري نشان دهندة اعتقاد ديرينة انسانها به روز موعود است كه در آن عدالت، به دست مصلحي جهاني، در سرتاسر آفاق گسترده ميشود. تكرار اصل ظهور يك منجي و نياز به آن، دليلي بر فطري بودن اين احساس است.
اعتقاد به ظهور يك منجي موعود، نه فقط در دين مسيحيت بلكه در ديگر اديان الهي يا حتي آئينهاي بشري مورد بحث و تأكيد قرار گرفته است. به عبارت ديگر اين امر يك اعتقاد فطري است كه در طول تاريخ بشري توسط سفيران الهي پيوسته تذكر داده شده است.3 امّا ويژگي اسلام به عنوان آخرين دين الهي در اين است كه جزئيات اين امر را نيز مورد بحث قرار ميدهد و ريشههاي فطري بودن عقيده به مهدويّت را نيز بيان ميكند.
محمد بن يعقوب كليني (م 328 ق.) در «كافي» به اسناد خودش از حمران بن اعين، از ابوحمزه از امام باقر(ع) نقل ميكند كه فرمود: «خداوند از پيامبران ميثاق و پيمان گرفت و فرمود: آيا من پروردگار (مالك) شما نيستم؟ گفتند آري، سپس فرمود و اينكه اين محمد(ص) رسول من است و علي(ع) اميرالمؤمنين و جانشينان بعد از او وليّ امر من (و اولي به تصرف) و خزانه داران علم من هستند و همانا به وسيلة مهدي(ع) دين خود را ياري ميكنم و دولت خود را توسط او نمايان ميسازم، و با او از دشمنانم انتقام ميگيرم و به وسيلة او با گردن نهادن يا اكراه، پرستيده ميشوم. گفتند اي پروردگار ما، اقرار كرديم و گواه هستيم».4
اين روايت نشان ميدهد در عوالم قبل از اين عالم، هنگامي كه خداوند ميثاق توحيد را از پيامبران اخذ ميكرد، ميثاق ولايت چهارده معصوم را نيز از آنها اخذ كرد. اين اخذ ميثاق در روايتهاي متعدّدي در مورد تمام انسانها وارد شده است.5
نويسندة مقالات بريتانيكا در مورد مهدي(ع) ادّعا كرده است كه عقيده به مهدي در دورههاي اغتشاش و عدم امنيت مذهبي و تحولات سياسي اوايل اسلام (قرنهاي هفتم و هشتم ميلادي) رواج يافته است.
با توجه به آنچه در مورد فطري بودن اعتقاد به ظهور منجي گفته شد، رواج اعتقاد به مهدي، در دورههاي اغتشاش و عدم امنيت مذهبي و سياسي، نه تنها ترديدي در اصل مهدويّت ايجاد نميكند بلكه تاكيد ديگري بر فطري بودن آن است، زيرا امور فطري هنگامي ظهور و بروز پيدا ميكنند كه انسان با مشكلات و مصائب شديدي روبهرو ميگردد. در آن هنگام كه كشتي آسيب ديده در دل درياي طوفاني دچار امواج ميشود مسافران كشتي هر لحظه خود را در ورطة غرق شدن ميبينند، براساس فطرت، ناخودآگاه متوسل به يك نجاتدهنده ميشوند كه ميتواند آنها را نجات دهد و شروع به دعا براي نجات خود مينمايند. در صحنة اجتماعي نيز هرگاه امنيت و عدالت در جامعه دستخوش آسيب گردد همان يادآوري فطري باعث ميشود افراد جامعه به وجود منجي كه ميتواند امنيت و عدالت را برقرار كند، متوسل گردند و انتظار ظهور چنين شخصي را در دل بپرورانند.
البته در چنين مواقعي همواره افرادي وجود دارند كه بنابر دلايل مختلف مانند حسّ جاهطلبي، دخالت بيگانگان يا حتي انگيزة اصلاح اجتماعي، خود را به نام همان منجي موعود مينامند، و مقام وي را مدّعي ميشوند. در حقيقت هنگامي كالاي تقلبي رواج پيدا ميكند كه نوع اصيل آن نيز وجود داشته باشد. و اگر طلايي وجود نداشت كسي نيز به عرضه طلاي تقلبي اقدام نميكرد. بديهي است كه از نظر شيعيان تمامي ادّعا كنندگان ذكر شده در مقالات بريتانيكا غير واقعي و دروغين ميباشند، زيرا همگي آنها علاوه بر نداشتن علايم امامت، نتوانستند به صورت جهاني به گسترش عدالت اقدام نمايند.
نويسندة مقالة بريتانيكا مدّعي است كه قرآن، كتاب مقدّس اسلامي اشارهاي به او يعني مهدي(ع) ندارد و به هيچ حديث قابل اعتمادي، يعني گفته منسوب به محمد(ص) نيز در مورد مهدي نميتوان اشاره كرد!!
مراجعه به برخي آيات قرآن بطلان اين ادّعا را نشان ميدهد، كه از جمله ميتوان به آيات ذيل توجه نمود: به صراحت اين آيات دين اسلام به رغم خواستة كافران و مشركان بايد بر تمام اديان جهان چيره شود و اين هدف و ارادة خداي متعال است. بايد از مدّعيان پرسيد آيا تاكنون چنين اتفاقي در جهان افتاده است؟ و اسلام بر همة اديان غالب و چيره گشته يا هنوز بايد براي تحقق اين فرمودة خداي متعال در انتظار بود و چشم به راه آن كس كه رسول خدا(ص) به وي بشارت داده، كه اين كار به دست تواناي او انجام خواهد شد.
انسان در شگفت ميشود كه چگونه حقايق ناديده انگاشته شده و افرادي كه گويا از همان مصاديق بارز مخالفان در آيات فوق هستند به كتمان يكي از برجستهترين و بارزترين عقايد اسلامي كه توسط رسول خدا بيان شد، پرداختهاند. روايات منقول از رسول خدا(ص) در امر قيام مهدي(ع) از منابع سني و شيعي، افزون بر صدها حديث است كه در صدها كتاب و اثر آمده است.
قيام حجّت حق در آخرالزّمان تا آنجا قطعي است كه اهل سنّت از رسول خدا(ص) نقل كردهاند كه فرمود: «هر كس قيام مهدي را انكار كند همانا بر آنچه بر محمد نازل شده، كفر ورزيده است».
روايات انبوهي كه بسياري از آنها فوق حدّ تواتراند از طريق اهل سنت در قيام مهدي(ع) از سوي رسول خدا(ص) نقل شده كه از آن جمله است: «اگر از عمر جهان جز يك روز باقي نمانده باشد خداوند بزرگ آن روز را طولاني خواهد كرد تا اينكه برانگيزد در آن روز مردي را از فرزندانم كه نام او نام من است».10
«مهدي حق است و او از فرزندان فاطمه(س) است».
در مجلّدات اوّل و دوم از دورة پنج جلدي «معجم احاديث الامام المهدي» بيش از پانصد و چهل حديث به نقل از رسول خدا(ص) آمده است كه بيشتر آنها از طريق اهل سنت روايت شده است. منابع و مآخذ اين دو مجلد، 408 كتاب و رساله ميباشد كه حدود بيست اثر از آنها از شيعه و همگي مآخذ ديگر از اهل سنت است. در اين آثار انبوه ويژگيهاي فرواني از مهدي(ع) و قيام و نهضت جهاني او ترسيم شده است.
نكته مهمتر آنكه امر قيام مهدي در آخرالزمان تا آن پايه قطعي بوده كه اهل سنت آثار مستقل در موضوع مهدي و قيام او نگاشتهاند. از جمله در خلال «كتابنامة امام مهدي(ع)» نوشته علي اكبر مهديپور كه بيش از دو هزار اثر تأليف شده در باب مهدويّت را معرفي نموده، هفتاد نوشتة مستقل از اهل سنّت نيز شناسانده شده است. همچنين مؤلف اين اثر، در مقدمه خود مينويسد: «هم اكنون بيش از يكصد جلد كتاب مستقل، از علماي اهل سنت در دست داريم كه پيرامون آن موعود جهاني، نگارش يافته است».12
مرتضي دهقان، بهروز عليزاده
ماهنامه موعود شماره 100
پينوشتها:
1. orthodox.
2. امام مهدي حماسهاي از نور، صص 13-14.
3. ر.ك: همان.
4. تفسيرالبرهان، ج 2، ص 47، ذيل آيه 172، سوره اعراف.
5. براي مصادر فراوان ديگر، رك: مدرك ياد شده، صص 15-46، بحار الانوار، ج 25، صص 1-36.
6. سورة توبه (9)، آية 33.
7. سورة فتح (48)، آية 28.
8. سورة صف (61)، آية 8.
9. احقاق الحق، ج 13، ص 213، به نقل از ابنحجر عسقلاني در لسان الميزان، ج 5، ص 130، چاپ حيدرآباد.
10. معجم احاديث الامام المهدي، ج 1، صص 142-143، به نقل از يازده اثر از اهل سنت.
11. همان، ج 1، ص 136-141، به نقل از 50 كتاب از اهل سنت كه برخي از آنها، صحاح و مسندهاي ايشان است.
12. همان، ج 1، ص 9؛ ج 2، صص، 828-829.
13. براي خصوصيات چاپي آثار همانند ديگر ر.ك: همان، ج 2، صص 46-49.
| |||||||||
| |||||||||
| |||||||||
| |||||||||
سپس فرمودند: دیدن امام زمان، روحیفداه، مهم نیست، مهم این است كه او ما را ببیند. خیلیها هم علی علیهالسلام را دیدند اما دشمن او شدند. اگر كاری كردیم كه نظر آنها را جلب كنیم، آن ارزش دارد.
آیة الله امجد در مورد شیخ بهلول فرمودند:
ایشان یك انسان وارستهای است، توكل عجیبی دارد، او یك انسان عتیقه است، چرا كه عتیقهجات، معمولاً كمیاب و قیمتی هستند، او هم كمیاب است و هم قیمتی.
منبع : پایگاه اطلاع رسانی علامه بهلول
آيت الله العظمي صافي گلپايگاني به مناسبت دهة مباركة مهدويّت و جشن بزرگ ميلاد حضرت بقيّـ[ الله(عج) پيامي صادر كرد. با توجّه به نكات ارزنده و درسآموزي كه در اين پيام آمده است، در اين شمارة موعود، متن كامل اين پيام ارائه ميشود. در پيام اين مرجع تقليد آمده است:
بسم الله الرّحمن الرّحيم
«إنّ لله تعالي في أيّام دهرکم نفحاتٌ ألا فتعرّضوا لها؛ [همانا براي شما در روزگار حياتتان، از جانب خدا نسيمهاي رحمتي ميوزد، آگاه باشيد و خود را در معرض آن قرار دهيد].
السّلام علي المهدي الّذي وعد الله به الاُمم
تجديد عهد و تازه کردن پيمان و نوساختن ايمان اگرچه همواره مطلوب و بازسازي حال و روحية ولايي و شکرگزاري بر نعمت اسلام و مودّت و محبّت اهلبيت(ع)، هميشه و در هر زمان وظيفه و غنيمت است؛ ولي در روزهاي شريف و فرصتهاي مبارک، برکات ويژه و عنوان تعظيم شعائر و بزرگداشت و تجليل از دوستان و تذليل دشمنان دارد.
يکي از اين فرصتهاي عظيم و با برکت، ماه شعبان و عيد ولادت حضرت سيّد الشّهداء
ـ عليهالسّلام ـ و مخصوصاً دهة مهدويّت و نيمة شعبان و عيد ولادت حضرت صاحب الأمر و الزّمان بقيّـة الله في أرضه و خليفته في عباده مولانا المهدي المنتظر ـ عجّل الله تعالي فرجه الشّريف ـ است که اگر چه از اساس، اين روز الهي همواره روز جشن و سرور و اعلام وجود و حضور شيعيان و دوستان اهل بيت بوده و هست و بر جلوة جهاني و شکوه ملکوتي آن افزوده ميشود، اينک چند سالي است که به عنوان دهة مهدويّت، وسعت زماني و گستردگي برنامههاي آن در داخل و خارج از كشور بيشتر و پربارتر شده و با نشاط و شور و رونق و اخلاص کاملتر برگزار ميشود.
در واقع اين دهه، مدرسة همگاني و دانشگاه بزرگ ولايي ميشود که شعب حياتي فرهنگي، اخلاقي و تربيتي آن در جوامع، شيعه بلکه ساير جوامع فراگير شده و مرد و زن و پير و جوان و عالم و جاهل همه از برکات معرفت و هدايت آن بهرهمند ميشوند و چه آفاق جديدي که هر سال از آن ظاهر و ابواب علم و معرفت و بصيرت بيشتر که از آن به روي مردم گشوده ميشود. همة اقشار و طبقات، به ويژه جوانان مؤمن و پرشور در اين ميدان وسيع با اظهار وجود، عزّت و کرامت اسلام و قداست و معنويت و استعلاي فرهنگ مهدوي را گرامي ميدارند و فِرَق ضالّه را مأيوس ميسازند. هنيئاً لهم ذلک! بر همه، اين اظهار ايمان مبارک و فرخنده و خجسته باد.
در خاتمه به همة منتظران و دلباختگان حضرت ولي الله الأعظم ـ ارواحنا فداه ـ يادآور ميشوم که: عصر غيبت امام(عج)، عصر امتحان و عصر تمحيص و تخليص است؛ کساني در اين عصر در هويّت اسلامي و مذهبي ثابت ميمانند که در اين امتحانات و نمونهگيريها خود را نباخته و با استقامت و ثبات قدم، شخصيت اسلامي خويش را حفظ نمايند.
عزيزان من! دنيا، سراي غرور و فريب است؛ به هوش باشيد که جلوههاي رنگارنگ اين دنياي فاني شما را در گرداب گناه و معصيت و ظلم و عصيان که آخرت سوز است قرار ندهد. بر حسب بعض اخبار، امتحانات آنقدر شديد ميشود که بسا شخص صبح کند در حال ايمان و شب کند در حالي که از اسلام خارج شده و کافر باشد؛ مؤمنين بايد بسيار مواظب خود باشند.
عزيزان من! بدانيد تمامي اعمال شما و نيز حرفهايي که ميزنيد و نوشتههايي که مينويسيد و ميخوانيد و اظهار نظرهايي که ميکنيد در مرئيٰ و منظر آن حجّت بالغة الهي است؛ پس با عمل صالح و انجام وظايف شرعيه و دوري از معاصي، موجبات سُرور خاطر آن جان جانان و وليّ دوران را فراهم نماييد. اين کلام الهي در سورة عصر را مکرّر به ياد آوريد که: همه در خسارت و زياناند، مگر آنها که ايمان و عمل صالح دارند و يکديگر را به حق و صبر و شکيبايي سفارش مينمايند.
اميد آنکه خداوند متعال با دعاي حضرت بقيّـ[ الله ـ عجل الله تعالي فرجه ـ جامعة ما، خصوصاً جوانان عزيز را از خطرات آخرالزّمان حفظ فرمايد.
حقير، اين بزرگْ عيد سعيد را به عموم شيفتگان عدالت حقيقي و برادري جهاني اسلامي و نجات بشريت از شرّ استضعاف و استحقار، مخصوصاً منتظران ظهور آن وليّ دوران و قطب عالم امکان ـ ارواحنا لتراب مقدمه الفداء ـ تبريک عرض مينمايم و همگان را به ثبات و استقامت اسلامي و حفظ هويّت ديني در برابر گرايشهاي الحادي و مادّي و اتّحاد و اتّفاق و رعايت عدل و انصاف و قضاي حوائج بندگان خدا و ساير موجبات خشنودي آن حضرت توصيه مينمايم و به چند نكتة مهم اشاره ميكنم:
1. منتظران آن حضرت بايد با بصيرت كامل و با حفظ هويّت ديني در برابر گرايشهاي الحادي و مادّي، ثبات و استقامت داشته و با اتّحاد و برادري، دسيسهها و ترفندهاي دشمنانِ دين و مذهب را خنثي نموده و از آرمانهاي بلند ديني خود دفاع نمايند؛
2. منتظران آن حضرت بايد در قضاي حوائج بندگان و رفع مشكلات برادران و خواهران ديني خود كوشا باشند و نگذارند حتّي يك نفر از دوستداران آن حضرت در سختي و مضيقه باشد، اگر كسي ميخواهد آن وجود مقدّس از او خشنود باشند بايد شيعة آن حضرت را مسرور نمايد؛
3. بايد منتظران آن حضرت، جشن بزرگ ميلاد را در سراسر گيتي، با شكوه و معنويّت برگزار كنند و به دنيا اعلام دارند، روز نيمة شعبان يعني روز نجات بشر از ظلم و ستم و تاريكيها، روز نور و علم و دانش، رفاه و آسايش همة مردم جهان و در يك كلمه روز طلوع خورشيد عدالت و مهرباني، صفا و صميميّت و سعادت و خوشبختي.
مسلمانان بايد به هر وسيله كه ميتوانند با چراغاني و تشكيل مجالس شادي و جشن و سرور و چاپ كتابهاي ديني و مذهبي و اهداي جوايز به جوانان، خود را در اين جشن بزرگ، سهيم و از بركات آن استفاده نمايند و اين مجالس نوراني را از آلوده شدن به مناهي و ملاهي، منزّه و پاك نگه دارند.
به اميد آن روزي كه حاكميّت اسلام و قرآن و مكتب نوراني اهل البيت(ع) در سراسر جهان برقرار شود.
إنّهم يرونه بعيداً و نراه قريباً.
[اين جانب] به مناسبت ماه شعبان تبريك عرض ميكنم؛ ماه رسول الله(ص) و ماهي كه به وسيلة كرامت در برگرفته شده است؛ «حفّ بالكرامـ[».
چهار ـ بلكه پنج ـ مولود عزيز در اين ماه تولّد يافتهاند؛ سردار شهيدان و رئيس شهدا، حضرت ابي عبدالله(ع) و برادر شهيدش ابوالفضل العباس و [امام سجّاد(ع)] صاحب قرآن صاعد (بالا رونده) ـ پنجاه و چهار دعاي صحيفة سجاديه ـ كه انسان را متحوّل ميكند و جوان عزيزِ امام حسين(ع)، حضرت علي اكبر(ع) و نيمة شعبان، ميلاد مردي كه محقّق كنندة هدف قيام همة انبياست كه [همانا] برپا شدن عدل الهي در بين مردم بوده است كه هر ذي حقّي به حقّ خودش برسد. خداوند متعال فرموده است: «لقد أرسلنا رسلنا بالبيّنات و أنزلنا معهم الكتاب و الحكمـ[ ليقوم النّاس بالقسط؛1 ما رسولان خود را با دلايل روشن فرستاديم و با آنها كتاب (آسماني) و ميزان (شناسايي حق از باطل و قوانين عدل)) را نازل كرديم تا مردم به عدالت قيام كنند».
قبل از اينكه حكومت اسلامي تأسيس شود، حكم شاه و سلطان [ظالم]، هم طراز حكم خدا به جامعه تلقين ميشد. در قالب شعر تعليم ميدادند: «چه فرمان يزدان، چه فرمان شاه» و گفته ميشد:
واجب آمد براي ما شش حق
اوّلش حقّ واجب مطلق
بعد از آن حقّ مادر است و پدر
و آنِ استاد و شاه و پيغمبر
يعني باطل را لابه لاي حق جا داده بودند. امّا امروز، آنهايي كه سردمداران جهاناند، به كذب ادّعا دربارة حقوق بشر رسوا شدهاند. بچّهها هم خوب ميفهمند كه انگليس و آمريكا خبيثاند و چيزي جز ماديات و غارت كردن مردم به هر وسيلة ممكن نميفهمند. طبيعي است كه اين جوانان و مردم دست به سوي خدا بالا ميبرند كه آيا دنيا نجات دهندهاي دارد كه دنيا را از عدل و داد پر كند، همان طور كه از ظلم و بيداد لبريز گشته است؟
حضرت امام زمان(ع) در دنياي لبريز از ظلم، قيام ميكند. به علاوه اينكه [ظهور] ابزار لازم دارد. اگر امام زمان(ع) از كنار كعبه بانگ بر آورند كه «أنا بقيـ[ الله»، بايد چنان باشد كه همه آن ندا را به زبان خودشان بشنوند. امروز [اينطور است،] اگر در گوشهاي از گوشههاي جهان صدايي بلند شود، همه ميشنوند. پس هم ابزار بايد در اختيار قرار بگيرد و هم روحية مردم آمادة [پذيرش] باشد.
و همه ديدند كه [در عصر ما] مردي از گوشة خمين حركت كرد و شجاعت به خرج داد و [قلبها را] تكان داد. چنانچه شيفتهاش شدند، [چنانكه حتّي] بچّة سيزده ساله چيزي جز فداكاري نميفهميد؛ چنين روحيهاي بايد [در رهبري] باشد كه مردم را تكان بدهد. رعبش چنان بود كه موقعي كه صحبت ميكرد، سلمان رشدي [مرتد] در انگلستان تكان ميخورد. او نمونهاي از منتظران امام زمان(ع) بود كه وعدة الهي براي برپايي عدل موعود و جامعة عدالت محور جهاني است و هر وقت بيايد، يك ماه قبل از او، رعبش در دل دشمنان اسلام ميافتد.
٭ ٭ ٭
من ابتدا از اين موعودنامه و برادران عزيزي كه در اين وادي كار ميكنند و هر ماه مردم را به ياد امام مهدي(ع) مياندازند، خرسند و متشكر هستم. اين كار بايد به صورت شبانه روزي صورت بگيرد. ما بايد هر صبح به ياد امام عصر(ع) دعا بخوانيم: «خدايا، از همة مؤمنان در شرق و غرب عالم درود و صلوات به مولايم صاحبالزّمان(ع) برسان».2
امام زمان(ع)؛ همه كارة عالم
جملهاي را از يكي از تشرّفات كه در يكصدمين شمارة ماهنامة موعود نقل شده، بيان ميكنم: شخصي به حضور يكي از ياران حضرت مهدي(ع) تشرّفي پيدا ميكند و حاجاتي ميخواهد، آن فرد به وي ميگويد: اين دعا را بنويس: «يا محمّد يا عليّ يا فاطمـ[ يا صاحبالزّمان أدركني و لا تهلكني»؛ اين جمله به لحاظ ادبي اشكال دارد. چون خطاب به سه نفر است، بايد فعل آن جمع آورده شود: «أدركوني و لا تهلكوني» براي آن شخص نيز اين اشكال طرح ميشود كه چطور چنين چيزي ممكن است؟ آن فرد شريف كه دعا را نقل كرده، ميفرمايد: همين درست است [زيرا در حال حاضر اداره كنندة عالم فقط حضرت امام زمان(ع) هستند] و ديگر اسامي براي توسل به آن حضرت(ع) است. بعد آن شخص، اين عبارت را نزد كسي كه قبلاً طور ديگري نوشته بوده ـ مرحوم بيدآبادي ـ ميبرد و او نيز فوراً اصلاح ميكند. معناي اين جمله آن است كه كسي كه كار ميكند و فعّال است، حضرت بقيّـ[ الله ـ ارواحنا فده ـ است.
من ميخواهم بگويم كه امامان معصوم(ع) اين معنا را در دعاهاي متعدّدي به ما ياد داده بودند، امّا ما از آن غفلت كردهايم؛ در دعاي افتتاح، دعاي ندبه و... .
در دعاي افتتاح كه براي ماه مبارك رمضان است، راجع به [وصف] پيامبر خدا(ص) و يازده امام معصوم تنها يازده سطر بيان شده ولي براي امام عصر(ع) بيست و يك سطر آمده است. البته به طور مسلّم، پيغمبر(ص) و علي(ع) از نظر فضيلت بر حضرت مهدي(ع) مقدّماند، با اين وجود، دربارة همة اين معصومين(ع) يازده سطر و تقريباً دو برابر آن براي امام عصر(ع) بيان شده است.
در دعاي ندبه نيز، كه هر جمعه ميخوانيم، چهل و نه و نيم سطر به تمام انبيا، اوصيا، پيغمبر اكرم(ص) و آل پيامبر(ع) اختصاص دارد، كه بيست سطر آن ويژة اميرالمؤمنين(ع) است، امّا دربارة امام عصر(ع) شصت و دو و نيم سطر نقل شده است. يعني اينكه امروز همه كارة عالم امام زمان(ع) است؛ آنها عزيزاند، بعضيشان بر آن حضرت مقدّماند ولي امروز، كار به دست آن حضرت(ع) باشد، موقعي كه كار دست امام حسن(ع) است، امام حسين(ع) اظهارنظر نميكند؛ [امام حسين(ع) ميفرمايد:] من تابع تو هستم، وليّ دوران تويي، اگر صلح بكني صلح ميكنيم، بجنگي، ميجنگيم. موقعي كه يك ولي روي كار است، وليّ ديگر تابع او است و امروز نوبت وليّ عصر(ع) است؛ اگر به پيامبر(ص) و ساير معصومان(ع) توسل بجوييد آن را به وليّ عصر(ع) ارجاع ميدهند. پس اين مطلب [ذكر شده در تشرّف مذكور] را به ما ياد داده بودند، امّا غافل شده بوديم. اين [ويژگي] از نظر ماده و الفاظ بود.
به لحاظ معنايي و محتوايي نيز، اگر دقّت كنيم، مشاهده ميكنيم كه در پايان ادعية مذكور ميفرمايد: «اللّهمّ المم به شعثنا و اشعب به صدعنا و ارتق به فتقنا؛ بار خدايا به واسطة او پراكندگيمان را بر طرف كن و به واسطة او گسيختگيمان را دور كن و پريشانيمان را بدو پيوست كن» در پايان دعاي افتتاح همة امورمان را «به واسطة او» يعني به وسيلة وليّ عصر(ع) از خدا طلب ميكنيم. پس اين نكته را در هنگامي كه دعا ميخوانيم در نظر داشته باشيم:
«بار خدايا، ... كمي ما را بدو زياد كن و خواري ما را بدو عزّت بخش و نداري ما را بدو توانگري ده، بدهي ما را به وسيلة او بپرداز و فقر ما را بدو جبران كن و شكاف و تفرقة ما را بدو برطرف كن و سختي ما را بدو آسان كن و چهرههاي ما را بدو سفيد گردان و گرفتاران ما را بدو رها كن و خواستههاي ما را بدو روا كن و وعدههاي ما را بدو تحقّق بخش و دعاي ما را بدو مستجاب كن و خواهشهاي ما را به وسيلة او عطا كن و به وسيلة او ما را به آروزهاي دنيا و آخرت برسان و به وسيلة او، بيش از آنچه ما خواهانيم به ما بده، اي بهترين درخواست شدگان و گشاده دستترين عطا كنندگان، سينههاي ما را با ظهورش شفا بخش و به وسيلة او عقدة دلهاي ما را بر طرف كن و ما را بدو، بدان حقّي كه مورد اختلاف است، به اذن خود، راهنمايي كن كه به راستي، تو هر كه را بخواهي به راه راست هدايت ميفرمايي و به دست او ما را بر دشمنانت و دشمنانمان نصرت ده، اي معبود بر حق؛ آمين».
[پرسش اين است] ما كه نام همة معصومان(ع) را برده بوديم، چرا فقط برآمدن حاجاتمان را از آن حضرت ميخواهيم؟ [به همان دليل كه گفته شد] [نكتة سوم اينكه] دعاي ندبه را كه ميخوانيم، اوّل ميگوييم: «أين... أين...؛ كجاست... كجاست...» بعد ميگوييم: «بأبي أنت؛ جانم به فدايت» در دعاي افتتاح رنجهاي دروني جامعة خودمان را بيان ميكنيم، امّا دعاي ندبه، بيان رنجهاي بروني (جهاني) است. «كجاست آن كسي كه براي ريشه كن كردن ستمگران آماده شده است و كجاست آن ماية اميد براي از بين بردن ستم و تجاوز، كجاست آنكه ذخيره شده براي نو كردن فريضهها و سنّتها و... كجاست آن در هم شكنندة شوكت زورگويان، كجاست ويرانكنندة بناهاي شرك و دورويي،... كجاست نابود كنندة سركشان و متمرّدان». آن امام عدل(ع) است كه ريشة ظلم و بيداد را محو ميكند. در اين فراز از دعا، بيست و نه نوبت ميگوييم: «كجاست؟» و بيست و يك نوبت ميگوييم: «بأبي أنت و امّي؛ پدر و مادرم به فدايت باد» بعد از آن ميگوييم: «بنفسي أنت؛ جانم به قربانت» تو آن غايبي هستي كه در ميان ما زندگي ميكني.
امام زمان(ع) هدايتكنندة قلبها
بارها در سخنان امام خميني(ره) آمده است كه «به بركت امام زمان(ع) اين كار صورت گرفت»، آن حضرت(ع) پشتيبان مردم است، قلبها را ارشاد ميكند، متوجّه ميكند و به دل مياندازد كه اين كار را انجام بدهيد. او به لبها مياندازد و عدهاي را گرد ميآورد و آنان را محكم و تزلزل ناپذير ميسازد. من در اينجا ميخواهم دو نمونه از اين محكم كردن [قلب]ها را ذكر كنم: شاه ميخواست به ديدن آيتالله بروجردي(ره) برود. آقاي بروجردي گفته بودند، اينكه او بيايد و من در مقابل او برخيزم درست نيست؛ او مردي شرابخوار و مزدور اجنبي است. من در اندرون خانه ميايستم و بعد از آنكه آمد، بر او وارد ميشوم. شاه وارد شد و علمايي كه در آن مجلس بودند، طبق دأبي (روشي) كه داشتند، برميخاستند، امّا ديدند يك سيّد نشسته است؛ همه برخاسته بودند ولي آن يك سيّد نشسته بود. بعداً كه امام خميني(ره) به مرجعيّت رسيدند، شاه پرسيده بود، اين سيّد كيست؟ در جوابش گفته بودند: اين همان است كه آن روز برنخاست.
و نمونة ديگر اينكه، امام(ره) به شاه فرمان دادند كه مراعات دين را بكن، شاه پاسخ داده بود: از خدا ميخواهم شما ارشاد عوام بكنيد، امام خميني فوراً به او نوشتند: «چون گفتهاي ارشاد عوام بكنيد، به تو و دولتت ميگويم....» يعني تو و دولتت عاميتر از همه هستيد. اين قوّت رشد چشمگير در اين انسان بزرگ از كجا سرچشمه ميگيرد؟
ايشان در پاريس مصاحبهاي داشتند، فرمودند: فردا جمعه است يك ساعت مصاحبه را به تأخير بيندازيد. جمعه براي غسل جمعه و ناخن گرفتن و خواندن دعاي ندبه است. ميگوييم: هل إليك يا بن احمد سبيلٌ فتلقي، هل يتّصل يومنا منك بغده فنحظي».
يكي از حظوظ (لذّتهاي) زندگي بنده ديدن دو نفر بود؛ يكي ميرزا مهدي اصفهاني و ديگري امام خميني(ره). ميرزا مهدي اصفهاني حضرت مهدي(ع) را در مكاشفه ميبيند كه شال سبزي به كمر بسته و رويش نوشته است: «طلب المعارف من غير طريقنا اهلالبيت مساوقٌ لإنكارنا»؛ اگر پاية معارفتان را از غير مكتب ما قرار دهيد ما را انكار كردهايد. چنان از اين سخن تحت تأثير قرار ميگيرد كه همة مشهد را تكان ميدهد و ميگويد فلسفه و عرفان را بخوانيد ولي اينها پايه نيستند. پاية معارف اهل بيت(ع) از خود ايشان است.
من در طول عمرم، بزرگاني را درك كردم؛ يكي ميرزا جواد آقاي تهراني، از شاگردان ميرزا مهدي اصفهاني است. او به قدري والا بود كه من كسي را خودْ كشتهتر از او نديدم. وصيّت كرد كه برايش مراسم روز سوم و هفتم و چهلم و سالگرد نگيرند و برايش سنگ قبر نگذارند [الآن قبرش سيماني است] به ايشان گفتند، براي شما نزديكترين جاها را به قبر مطهّر حضرت رضا(ع) قرار ميدهيم. فرمود: «از قبر هارون به امام نزديكتر ميشود؟ من را هر جا باشد ـ ولو در بيابان ـ دفن كنيد». از اشخاص ضدّ انقلاب با ايشان تماس گرفتند و گفتند اينقدر دربارة امام خميني(ره) صحبت نكن تو را ميكشيم. گفته بود: من ساعت 7 صبح از كوچة مستشار به سمت مسجد حاج ملّا حيدر حركت ميكنم. آن موقع بياييد كه من به بهشت برسم و شما هم گرفتار نشويد، آن موقع خلوت است ميتوانيد فرار كنيد.
فرد ديگر، مرحوم آقاي لطيفينسب است كه سال گذشته فوت كرد و مدير هيئت امناي مسجد جمكران بود.3 در اوايل تحصيل در مدرسة حاج حسن با هم بوديم. آن موقع ما ماهي 25 تومان داشتيم كه ارزشمند بود. آقاي لطيفي30 تومان داشتند كه از تهران برايش ميفرستادند. يكي دو ماه نيامد و هر چه داشت فروخت و ديگر هيچ نداشت. هوا يخ بندان بود. با آب سحري ميخورد و با آب افطار ميكرد. سه روز، افطار و سحرياش با آب روز بود. روز سوم ميگويد خيلي بيحال شدم، خود را به سختي به اتاق رساندم تا شايد موقع نماز مغرب رمقي پيدا كنم و نماز بخوانم. ناگهان ديدم كليد برق را زدند. دو نفر وارد شدند [يك نفر ايشان حضرت صاحبالامر(ع) بودند] از او خواستند كه چاي درست كند. گفت: حتّي زغال هم ندارم. يكي از آن دو گفت: يك بسته زغال در پستو هست. مشتي چاي هم داد تا چاي درست كند. بعد به آن نفر همراه گفت: نان و كباب بگير و بياور. به من گفت: در گرفتاريها نماز جعفر طيّار بخوان. لازم نيست 300 بار تسبيحات اربعه را در خود نماز بخواني، بگذار بعد بخوان [بعد ديديم روايت هم به اين مضمون داريم]. اين پول را زير پتو بگذار و بدان كه ديگر فقر به سراغ تو نخواهد آمد. كباب آوردند و خوردند. آقاي لطيفي ميگفت: خجالت ميكشيدم به دهان حضرت(ع) نگاه كنم امّا ميديدم تناول ميكنند. مقداري كباب زياد آمد، فرمودند: اين را ببريد براي دوست ما ميرزا مهدي اصفهاني. (تا اين را گفت، من گفتم: منزلش كوچة حوض لقمان نبود؟ فرمودند: چرا.) بعد آقا رفتند و تا پارسال كه مرحوم لطيفي زنده بود، زندگي بسيار منظمي داشت. آن زمان در درس آيت الله ميلاني شركت ميكرد و گفتهاند به درجة اجتهاد هم رسيده بود. ايشان صبح كباب را به در منزل ميرزا مهدي اصفهاني ميبرد. ميرزا مهدي دم در ميآيد و ميپرسد: كباب كجاست؟ آقاي لطيفي ميگويد: كباب چي؟ گفتند: آقا خودشان اينجا بودند. مطالب خيلي روشن و تأييدات فراوان است.
بزرگان همه سرمست حضرت(ع) بودند. شيخ بهايي ميگويد:
مقصود من از كعبه و بتخانه تويي تو.
بابا طاهر ميگويد:
عزيزم كاسة چشمم سرايت
ميان هر دو چشمم جاي پايت
از آن ترسم كه ناگه پاگذاري
نشيند خار مژگانم به پايت
هر روز به يادش باشيد. دعاي عهد و صلوات (زيارت) صبح حضرت(ع) را بخوانيد. همه كارة ما ايشان است.
مجدداً از دست اندركاران مجلة موعود تشكر ميكنم كه هر ماه مردم را به ياد حضرت مياندازند. چند بار خود مسئولين مؤسسه براي جا و مكان مشكل داشتند، با اشارة حضرت مشكل حل شده است.4 حتماً دعاي ندبه را روزهاي جمعه بخوانيد. نميگويم حتماً 54 جمعه، امّا ترك نشود. «بنفسي أنت من مغيّبٍ لم يخل منّا، در دعاي ندبه عرضه ميداريم: بنفسي أنت من نازحٍ ما نزح عنّا»؛ دوري ولي دور نيستي و در ميان ما هستي. مرحوم آقا سيّد حسين كرمانشاهي، دهة محرم را در خانهاش روضه ميگرفت. روزي ناشناسي در بين جمعيت بود، كه گفتند اين با غيب سر و كار دارد. پرسيد: شما با غيب سر و كار داريد؟ ناشناس اوّل انكار كرد. خيلي كه اصرار كرد، گفت: في الجمله بيخبر نيستيم. گفت: بگو آيا روضة ما مورد نظر حضرت وليّ عصر(ع) هست يا نه؟ فردا آمد و گفت: بله مورد نظر است و يك روز هم خود حضرت(ع) به مجلس شما تشريف فرما ميشوند. كدام روز، نميدانم. امشب خبر ميگيرم. فردا خبر آورد كه روز تاسوعا دو ساعت از آفتاب گذشته، ايشان با 4 نفر ميآيند و تو چاي به ايشان تعارف ميكني، ايشان ميفرمايند: خودشان چايي آوردهاند مشغول كارت باش. تاسوعا خود را آماده كرد. با لباس مرتب و نظيف صبح به مجلس آمد، دو ساعت از آفتاب گذشته، ديد 4 نفر آمدند. همان جا نشستند. گفت: چايي بياورم؟ فرمودند: چايي آوردند مشغول كارتان باشيد. با اينكه منبريها در روز تاسوعا فقط از حضرت اباالفضل(ع) روضه ميخوانند، امّا آن روز، منبري فقط از حضرت صاحب الزّمان(ع) صحبت كرد. منبري دوم همين طور، منبري سوم نيز كه من او را ميشناختم و از دنيا رفته است، همين كه بر منبر نشست حمد و ثنا نخوانده گفت: اي گمگشته در بيابانها.... [حضرت و همراهانشان] بعد از ساعت مقرر از جلسه خارج شدند. [آقا] به مجلس ما ميآيند، به كارهاي ما سر ميزنند، اعمال ما را ميبينند و برايمان دعا ميكنند.
انشاءالله كه مجلس پر فيضتان ادامه داشته باشد و اين ماهنامه هم پرمايهتر شود كه خوب جديّت ميكنند؛ خداوند همه را تأييد بفرمايد.
ماهنامه موعود شماره 104
پينوشتها:
1. سورة حديد (57)، آية 25.
2 مفاتيح الجنان، زيارت امام زمان(ع)، بعد از نماز صبح.
3. دربارة آشنايي بيشتر با زندگاني مرحوم لطيفينسب، ويژهنامة نيمة شعبان ماهنامة موعود (سال 1387) را بخوانيد.
4. تفصيل اين مطلب در شمارة 100 مجله و با عنوان «داستان موعود» آمده است.
سخنراني دکتر محمّد رجبی در نشست ويژة چهاردهمين سال فعّاليت مؤسسة فرهنگي موعود
میخواهیم در مورد نکتة مهمّی که امروز به فصل مشترک گرایشهای بشری تبدیل شده، صحبت کنیم. دربارة شرایط ظهور گاهی یک تناقض ظاهری ملاحظه میشود و آن این است که از طرفی گفته میشود، منجی الهی زمانی ظهور میکند که جهان پر از ظلم و جور شده باشد و از سوی دیگر گفته میشود که زمان ظهور هنگامی است که تمام مردم، خواهان ظهور منجی باشند. بدیهی است که اگر تمام مردم خواهان ظهور منجی باشند روزگار، روزگار بسیار خوبی است که مردم تا این اندازه معرفتشان رشد کرده و این اندازه لیاقت پیدا کردهاند که منجی الهی را طلب کنند و خداوند بنابر قابلیّت مردم فرمان ظهور را به حضرت مهدی، ارواحنا فداه، صادر میکند. این موضوع در ظاهر تناقض دارد با اینکه گفته شده پیش از ظهور چنان جهان را فسق و فجور و ظلم گرفته باشد که بیسابقه باشد. امّا، در معنا تناقضی نیست.
در روایاتی هست که اگر عموم مردم يا حتّي افرادي در هر زمان واقعاً لیاقت پیدا کنند و از صمیم قلب، خواهان ظهور باشند حضرت(ع) ظهور خواهد فرمود. این، کلید حلّ چنين تناقض ظاهری است یعنی: ظلم و جور به معنای عامّ آن، نه فقط ظلم سیاسی یا اقتصادی، زيرا حجابهایی که ما را از معرفت حقیقی باز میدارند، حجابهايی که انسان را از کمال باز میدارند، اگر هر زمانی برطرف شوند، انسان آن زمان، لیاقت واقعي درخواست ظهور را خواهد داشت. هماکنون ظلم و جور همه جا را گرفته، صد سال پیش هم گرفته بود، پانصد سال پیش هم همینطور، در زمان خود حضرت هم همچنین، امّا آنچه کلید معمّاست این است که؛ آگاهی به این فراگیری ظلم و جور از آن زمان تا امروز حاصل نشده است. ما فکر میکنیم ظلم و جور فقط ظلم و جور سیاسی است، غافلیم از اینکه خود ما مصداق «ربّنا ظلمنا انفسنا» هستیم. ظلم را فقط درعامل بیرونی میبینیم. در عالم درونی خودمان نمیبینیم و همین، حجاب بزرگ، عامل غیبت امام(ع) است که ما از او محجوبیم. ما از ایشان غایبیم نه ایشان از ما. اگر به هر کس بگوییم ظلم چیست اشاره به بیرون میکند، به هیچ وجه اشاره به درون خود یا درون جامعه و گروه خویش نمیکند. همین بزرگترین ظلم است. بشر غربي در قرن 18 تصوّر ميكرد نه تنها به منجي احتياج ندارد بلكه خودش منجي كلّ عالم است. قرن 18 در اروپا قرنی بود که انسان خودش را خدا تلقی میکرد و طبعاً نیازی به منجی نداشت. این زمان اوج اومانیسم بود و انواع تئوریهای دموکراسی در اروپا مطرح میشد و بشر غفلتزده تصوّر میکرد که دائر مدار کائنات است و نیاز به هیچ قدرت برتری، حتّی خداوند ندارد و لذا خداوند هم در قرن 18 در فلسفههای مختلف مورد انکار قرار میگیرد.
در قرن 19 گامی به جلو گذاشته میشود و بشر متوجّه ضعف خود میشود. آن خوشبینی سادهلوحانه، متزلزل میشود و بشر به دنبال منجی بر میآید. منتها تصوّر بشر در قرن 19 این است که منجی هم از جنس خود اوست. ایدئولوژیهای مختلف در قرن 19 ادّعای نجاتبخشی میکنند و بسیاری از این ایدئولوژیها در اوایل قرن 20 به حکومت میرسند؛ ایدئولوژی مارکسیسم و فاشیسم و حتّی ایدئولوژی آنارشیسم در جاهایی طرفداران فراوان و بعضاً هم استقرار پیدا میکنند. نیمة دوم قرن 20، دورة پایان ایدئولوژیهاست. ایدئولوژی را بسیاری با دین اشتباه میکنند. دین یک چیز و ایدئولوژی چیز دیگری است. ایدئولوژی امری است که ساخته و پرداختة بشر است. به اشتباه زماني در ایران این تصور پیش آمد که دین هم ایدئولوژی است. فکر کردند که ایدئولوژی یعنی عقیده؛ بنابراین دین را هم یک نوع ایدئولوژی ميدانستند در حالي كه، ایدئولوژی محصول اندیشة بشری است. شما امروز در جهان با یک پدیدة غریب روبهرو هستید درحالی ما وارد قرن 21 شدیم كه هیچ ایسماي دیگر خریدار ندارد. چیز غریبی است. مارکسیسم، فاشیسم (که مدّتها دورة آنها گذشته بود و بعد هم به طور علنی از صحنه کنار رفتند) و حتّی ایسمهایی که جنبة ایدئولوژی نداشتند ولی نوعی گرایش فکری بودند، دیگر زمینهای ندارند. شما اگر با حوزههای فکری و فلسفی دانشگاههاي جهان روبهرو باشید، ميدانيد كه دیگر هیچ ایسمای خریدار ندارد. به جای ایسمها دو گرایش پیدا شده؛ یکی گرایش مجدّد به ادیان و ديگري گرایش به عرفانهای قلّابی (كاذب). یعنی بشر دوباره دلش هوای معنویّت دینی کرده است. بعضیها به ادیان رو میآورند و بعضیها هم که از ادیانی که در دور و برشان است چندان خیری ندیدهاند، به عرفان رو میآورند، منتها عرفانهایی که به آنها ارائه میشود عرفان درستی نیست. امّا این نکته مهم است که بشر در جستوجوی معنویّت برآمده و دقیقاً دارد به طرف تمنّاي يك منجي الهي سوق پیدا میکند. این عارفانی که کتابهای پرفروشی دارند؛ عرب، هندی، ترك و حتّی سرخپوست مکزیکی و... به عنوان پاسخگوی عطش روز افزون جوامع جهانی برای معنویّتی هستند که برای آنها نجات بخش باشد. شوخی نیست که وقتی گزیدهای از اشعار مولوی در آمریکا ترجمه میشود، ظرف 6 ماه یکی از 10 کتاب پرفروش آمریکا میشود. میدانید کتاب پرفروش در آنجا یعنی داستانهای پلیسی و جنایی و دیگر داستانهايي که جذابیّت دارد. حالا از 10 تا کتاب پرفروش از اين دست، یکی از آنها مولوی باشد، بسيار قابل توجّه است. در خود ایران دیوان مولوی چقدر فروش دارد؟ و افراد چقدر مولوی میخوانند؟ چه عطشی در آنجا پیدا شده که ظرف 6 ماه مثنوی یکی از 10 کتاب پرفروش شده است. من تقریباً 35 سال پیش که با یکی از افراد اهل معنا ـ به نام آقای پرویز زاهدی ـ که از هنرمندان و نمایشنامهنویسان برجستة ماست؛ و سناريوي سريال امیرکبیر را هم ايشان نوشتهاند، گفتوگويي داشتم. ایشان پيش از انقلاب به من گفت: دوستم، ـ آربی آوانسیان که او هم کارگردان تئاتر و ارمني بود ـ، به لندن رفت و از من خواست که هدیهای از او طلب کنم. گفتم: اگر به لندن میروی دوست دارم کتابی را بياوري که تب داغ بازار روشنفکری انگلیس بر آن متمرکز باشد. آقاي زاهدي کتاب را بعداً به من نشان داد. کتابي در قطع رقعي بود که یک قسمت آن عربی و قسمتی دیگر از آن ترجمة انگلیسی بود؛ گزیدة سخنان محیالدین بن عربی عارف مشهور اندلسي که به ابن عربی شهرت دارد. این کتاب مطرح در جریان روشنفکری انگلیس آن زمان يعني دهة 50 ما بود. این گرایشها امروز عمومیّت جهانی پیدا کرده و معنی آن، این است که دیگر ایسمها بشر را پاسخگو نیستند و بشر به دنبال معناست؛ آن هم معنایی از نوع عرفان و عرفاني از نوع عرفان اسلامي.
متأسّفانه جوامع اسلامی خودشان در این زمینه سرگرداناند. خیلی از جوامع اسلامی تازه از قرون وسطی آمدهاند و رسیدهاند به قرن 18 و دارند از لیبرالیسم و سکولاریسم و لائیسم طوری صحبت میکنند که انگار جدیداً ظهور کردهاند. در حالی که اینها در اروپا کفنها پوساندهاند. در اروپا بحثهایی که الآن مطرح است ـ و من در ایران اصلاً نشنیدهام ـ مباحثي راجع به پُست سکولاریسم و پست لیبرالیسم است. کسانی که دو قرن از وقایع و حقایق تاریخی عقباند، حق دارند طوری صحبت کنند که انگار بحث داغ و حرفهای روز جهان است، در حالی که زمانی در اروپا و آمريكا اگر کسی میگفت من مذهبی هستم، خجالت میکشید و به عنوان فردی عقبمانده شناخته میشد، ولي امروز هر کسی که هر نوع اعتقاد دینی داشته باشد به نوعی مورد توجّه و تشخّص در جمع قرار میگیرد. یکی از دوستان ما ـ البتّه خودم نيز بارها تجربه کردهام ـ میگفت: در یک جلسة مذاكرة بزرگ صنعتی از شرکت «زیمنس» و «آ.اِ.گِ» در آلمان بودم. گفت: از حضّار اجازه خواستم که براي يك ربع جلسه را ترک کنم، گفتند: برای چه؟ گفتم: وقت عبادتم است و باید نماز بخوانم. گفت: وقتی رفتم و آمدم، چنان نگاه جمع به من احترامآمیز بود که انگار گنج بزرگی دارم که آنها فاقد آن هستند. شما از تبلیغات سیاسی و جنجالهای رسانهای که آنجا رایج است و بین فرهیختگان آنها اثر ندارد، صرف نظر کنید. گرایش عمومی و گرایش اساسی فرهیختگان چیز دیگری است. یک خاخام انگلیسی در کتابی نوشته بود: گروه گروه، مردم به دین میگروند؛ پروتستانها کاتولیک میشوند، کاتولیکها مسلمان میشوند و یهودیها بودایی میشوند.
این گرایش به سمت دین، گرایشی است که نام آن را «منجیگرایی» میگذاریم. بشر به دنبال نجات است. حجابهای ایدئولوژیها و ایسمهای غربی برداشته شده ولی حجاب بزرگتری باقی مانده است و آن حجاب بزرگ، ادّعای مسلمانی ماست. ما حجاب بزرگی برای پنهان کردن حقیقت اسلام شدهايم. اسلام را چنين معرفي كردهايم: یعنی من و ما، و اين بزرگترین ظلم به اسلام است. اگر روزی به این ظلم آگاهی پیدا کنیم و از خدا بخواهیم که به ما کمک کند تا از این حجاب بگذریم آن زمان، زمان ظهور است؛ ظهور حقیقت اسلام که در چهرة مبارک ولی عصر(ع) جلوهگر است.
ذکری که مرحوم عارف بالله شیخ رجبعلی خیّاط معتقد بود که اگر کسی طيّ مدّتي، هر شب آن را به تعداد معيّني تکرار کند حتماً به رؤیت حضرت ولی عصر(ع) نایل میشود این بود: «ربّ أدخلنی مدخل صدقٍ و أخرجنی مخرج صدق و اجعلنی من لدنک سلطاناً نصیراً». در کتاب «کیمیای محبّت» آمده است که: یکی از علما ـ که مرحوم شده است ـ این را شنید و 40 شب در شهری دور از تهران آن را به جا آورد و بعد به مرحوم شیخ گفت که من امام(ع) را ندیدم. ایشان گفت: چرا، دیدید و نشناختید. گفت: چطور؟ گفتند: آن شخصی که در مسجد، بعد از نماز به شما گفت که انگشتر را به دست چپ کردهاید و مکروه است و شما جواب دادید «کلّ مکروهٍ جائزٌ» یعنی هر چه مکروه است میشود انجام داد، آن حضرت(ع) بود. ایشان دید نه تنها امام را زیارت کرده، بلکه جواب امام را داده و توصیة حضرت را هم نپذیرفته است. عجیب است که در قرآن مجيد دو ذکر را خداوند به پیامبر یاد میدهد که شبها آن را از خاطر نبرند. در سورة مبارکة اسراء (آيات 80 و 81)است که میفرماید: «و قل ربّ ادخلنی مدخل صدق و أخرجني مخرج صدقٍ واجعلني من لدنك سلطاناً نصيراً ٭ و قل جاء الحق و زهق الباطل إنّ الباطل کان زهوقاً»؛ وارد شدن از در صداقت به هر کاری و خارج شدن از همان در صداقت. در اين صورت است كه خداوند «سلطان نصير» يعني حجّت قاطع خود را به ما مينماياند، يعني حق ميآيد و باطل ميرود، زيرا با ظهور حق، باطل خود به خود رفتني است. امّا متأسّفانه مشکل بزرگ امروز ما کذب است که امّ المعاصی است. امشب چيزي میگوییم، فردا تکذیب میکنیم، پس فردا تکذیبمان را تکذیب میکنیم. این چه جور صداقتی است؟ دروغ میسازیم و میپردازیم و میگوییم و نشان میدهیم و... که از حضرت صادق(ع) پرسیدند: مؤمن ممکن است بلغزد و برخی گناهان را بکند؟ فرمودند: امکان دارد. بعد عرض کردند، مؤمن ممکن دروغ بگوید؟ فرمودند: مؤمن(ع) هرگز دروغ نمیگوید. حضرت موسی بن جعفر(ع) فرمودند: «طعم ایمان را نمیچشد کسی كه دروغ را حتّی برای شوخی به زبان بیاورد». اين در حالي است كه ما بسیاری از کارهایمان اصلاً بدون دروغ پیش نمیرود. این، چه حجاب و ظلمی است که متوجّه آن نیستیم؟ فکر میکنیم ظلم باید از بیرون بیاید و فراگير شود تا ما بگوییم حالا موقع ظهور است. در حالي كه نادانسته خودمان مظهر ظلم و جور و دروغ و نفاق هستيم. صدق، تنها در گفتار نيست، بلكه صدق نيّت و صدق رفتار هم داريم. بدتر از عدم صداقت، اين روحيّه است كه خودمان را نه تنها ستمكار بر خويشتن و ديگران ندانيم، كه مظهر كامل صداقت و عدالت محسوب كنيم و مصداق جهل مركّب شويم: «آن كس كه نداند و نداند كه نداند ...».
گرايش عمومي و تشنگي در جهان براي ظهور منجي، از سوي تمام كساني كه به ظلم خويش پي بردهاند، روزافزون است. دستهاي بسياري به آسمان بلند است.
در آلمان شنيدم: عدّهاي از آلمانیهايي که اسلام آوردهاند صوفی شدهاند و از سلسلة نقشبندیه هستند و محفل ذکری دارند. آنها هفتصد کیلومتر دورتر از برلين در شهر كلن بودند، با آنكه ادارة ما در برلین بود در مجلس آنها شرکت کردم، دیدم خانمهاي آنها همه با حجاب بسیار کامل یک طرف نشستهاند [بدحجابي محصول کشورهایی مثل ماست وگرنه آنجا يا بیحجاباند یا با حجاب، بدحجاب معنی ندارد] و مردها هم سمت دیگری نشستهاند. بعد از نماز مغرب دسته جمعي غذا خوردند و پس از نماز عشاء و تعقيبات آن شروع به ذکر کردند. چیز عجیبی که ديدم دعای آنها برای ظهور حضرت و برای سلامتی حضرت مهدي(ع) بود. حتّی دعایشان را به عربی قرائت میکردند «اللّهمّ أیّد و انصر سلطاننا یعنی سلطان الدّین و الدّنیا» بعد اسم حضرت را میبردند. عجیب بود. کسانی که حضور داشتند همه افراد دانشگاهی، شاعر و نویسنده بودند. چون مردم عوام که اصلاً نمیدانند دین اسلام چیست. طبعاً آنها که مطالعه و سواد دارند به این سمت کشیده میشوند. خیلی غصّه خوردم که ما شیعیان که ادّعا داریم، در آنجا سرگرم چه کارهایی هستیم و اینها خودشان از روی عطش خود گشتهاند و راهی پیدا کردهاند. خیلی خودخواهانه میگوییم: بیایید به طرف ما. کجا بیایند؟ اگر نشانی از عشق به مولا باشد دیگر اثری از کذب و هیچ نوع آلودگی و ظلمی نباید باشد. خیلی از افراد وقتی حضرت را ندا میکنند یا حتّی خدا را ندا میکنند واقعاً مناداي آنها خدا و امام عصر(ع) نیستند. خیلی از دعاها و نیایشهای ما اینگونه است. از خدا چیزی را طلب میکنیم در حالی که نگاهمان به جاهای دیگر هم هست. اگر متوجّه شویم که از جای دیگری ـ که آن هم متعلّق به خداست ـ حاصل میشود، خدا را فراموش میکنیم. کسی میخواست برای (برآورده شدن) حوائجش تا چهل شب به جمکران برود. شب سوم که حاجتش برآورده شد دیگر نرفت. مشخّص بود که او دنبال نیاز خودش است نه دنبال مهدی(ع). گفتم: چرا دیگر مشرف نمیشوی؟ گفت: قضيّه تمام شد، (مشكل) الحمدلله حل شد. در آیة 186 سورة بقره، خداوند این را از جانب خودش میگوید: «إذا سألک عبادی عنّی» بندگان من ای پیغمبر از تو راجع به من میپرسند «قل انّی قریبٌ» بگو من نزديکم. «اُجیب دعو\ الدّاع» اجابت میکنم دعای هر کسی را که دعا کند يا پاسخ میدهم به هر کسی که مرا فرا بخواند «إذا دعانِ» اگر (واقعاً) مرا فرا بخواند. نمایندة خدا، بقیّـ[الله(ع) هم همین را میگوید: «اگر مرا بخواهید». ولي ما خودمان را میخواهیم. اگر ما تشرّف پیدا کنیم به هر کجا به نام آن حضرت است، بدون اینکه چیزی طلبکار باشیم فقط به خاطر او و وصال و نیل به جوار او، این دیگر نشانة عشق و اوج معرفت است و آن وقت به قول مولوی:
هر که را جامه زعشقی چاک شد
او ز عیب و حرص کلّی پاک شد
در ما دیگر دروغ و ظلم و خدعه و نفاق نیست، زيرا نشانة عاشق، پاک بودن است. ما امیدواریم در پرتو هدایت الهی و توسّل جستن به این ذوات مقدس و ادعیة آسمانيشان و قرآن کریم (که آنها آمدهاند برای اعتلای کلمة آن به خصوص در ماه مبارکی که تعلّق به قرآن دارد) انشاءالله تعالی پاک شویم از ظلمی که تمام وجود فردی و جمعی ما را گرفته است به خصوص كه ظلم ما بیشتر است زيرا نام آن را اسلام و تشیّع ميگذاریم و ميخواهیم دیگران هم به طرف ما بیایند. این دیگر ظلمی است نه به خودمان بلکه به اسلام و امام عصر(ع).
نامههایی حضرت امام حسن عسکری(ع) به شیعیان نوشتهاند که در «تحفالعقول» آمده است، در یک جا حضرت خطاب به شیعیان میفرماید: به خدا من از همة اجدادم مظلومترم، [تعجّب است که ما امام حسن عسکری(ع) را بسيار كمتر از ساير ائمه(ع) میشناسیم. فقط این اندازه میدانیم که ایشان پدر حضرت حجّت(ع) بودند و شناختی ديگر نداریم. خوب این هم یک نوع ظلم دیگر است] به خاطر ظلمی که شما در حقّ من میکنید. شما آبروی ما را حفظ کنید. این رفتار و کرداری که شما دارید برای ما ننگآور است [شاید هم تا به حال (اين مطلب) در نشریة عزیز «موعود» آمده باشد]. معلوم میشود که ما این ظلم را به اوج رسانده بوديم که فرزند و جانشين ایشان غایب شدند. خیلی عجیب است كه نميدانيم حضرت علی و امام حسن و امام حسین(ع) هم غایب بودند. کدام یک از ائمّة ما ظهور داشتند؟ اگر حضرت علی(ع) ظهور داشت که نمیرفت تنها سر در چاه کند و نیمة شب با چاه درد دل کند. این چه ظهوری است؟ پس این ظلم و جور فراگير از همان زمان بوده است منتها همه مثل ما طلبکار بودند كه: نمازمان را خواندهایم، روزةمان را گرفتهایم، حجّمان را رفتهایم، خمسمان را دادهایم و دیگر چه کم داریم؟ حضرت زهرا(س) هم غایب بود. خود پیغمبر(ص) هم غایب بود. آن ظهور، ظهور تام نبود.
لذا کسانی که پیامبر اکرم(ص) را درک میکردند چند نفر بیشتر نبودند که میتوانستند با پیغمبر همکلام شوند. آن آيات الهي، «حاضر غايب» بودند.
هرگز حدیث حاضر غایب شنیدهای
من در میان جمع و دلم جای دیگر است
حضرت امام خمینی(ره) بارها این نکته را میفرمودند که من نمیدانم این غصّه را کجا ببرم که از ائمّة ما و از پیغمبر ما سؤالاتی که میکردند این اندازه سخیف و سطحی و ساده بوده است. اینها میتوانستند ابواب حکمت را باز کنند. حدّ اعلاي سؤالهایی که میکردند سؤالهای فقهی بود؛ در مورد نجاست و طهارت و حلّيّت و حرمت اشیاء میپرسیدند. کم بودند کسانی که مثل مفضل از توحید بپرسند، مثل کمیل سؤالات اساسی داشته باشند. پس غیبت، غیبت ماست نه غیبت ایشان و این غیاب و حجابی که چشمان روح ما را گرفته اگر زمانی به کلّی برطرف شود ظهور کلی رخ خواهد بود و اگر جزئی و فردی برطرف شود آن شخص حداقل موهبت دیدار را خواهد داشت.
امیدواریم انشاءالله خداوند ما را به خودمان آگاه کند تا به کمک ذوات مقدّسه و توسّل به سیرة پاک معصومین(ع) بتوانیم این حجابها را از خودمان يعني فرد و جامعهمان و جهانمان برداریم و ما هم عطش دیدار و لقاء پیدا کنیم و توفیق نیل به حقیقت دین و قرآن را که مظهر آن، ذات مقدّس امام عصر(عج) كسب كنيم.
ماهنامه موعود شماره 104
موعود از همان ابتدا، با تعيين مهمترين فعّاليتهايي كه در عصر حاضر براي گسترش و نهادينهسازي فرهنگ مهدويّت و انتظار، بايد صورت گيرد، طرحها و برنامههاي متنوّعي را در دستور كار خود قرار داد كه بحمدالله با عنايت امام عصر(ع)، امروز بسياري از آنها به ثمر نشسته و بسياري ديگر در آستانة باروري و شكوفايي است.
در چهاردهمين سال از فعاليت اين مؤسّسه، مهمترين حوزههايي را كه موعود طيّ سالهاي گذشته فعّاليت در آنها را تجربه نموده، در عصر حاضر نيز توجّه به آنها را ضروري ميداند، به اجمال بررسي ميكنيم. اميد كه اين فعاليتهاي ناچيز مقبول طبع صاحب و مولايمان قرار گيرد و به عنوان اداي بخش ناچيزي از حقوقي كه بر گردن ما دارند، از ما پذيرا شوند. إنشاءالله.
1. شناسايي و نقد بنيادين جنبههاي گوناگون فرهنگ و تمدن مغرب زمين به عنوان فرهنگ و مدنيّتي كه در تقابل جدّي با آرمان «حقيقت مدار»، «معنويتگرا» و «عدالت محور» مهدوي قرار دارد: از آنجا كه انسانهاي عصر غيبت، تنها زماني ميتوانند به ريسمان ولايت مهدوي چنگ زنند و به تمام معنا در سلك منتظران موعود قرار گيرند كه مباني و مصاديق كفر، شرك و نفاق زمان خويش را به درستي بشناسند و با تمام وجود از آن بيزاري جويند، موعود در همة سالهاي فعاليت خود، نقد جدّي مباني فرهنگ و تمدّن غرب را در دستور كار خود قرار داده و در اين زمينه فعاليّتهاي زير را به سامان رسانده است:
الف) كتابها: بخش قابل توجهي از 19 عنون كتابي كه با عنوان «مجموعه مطالعات فرهنگي» از سوي انتشارات «هلال» ـ وابسته به مؤسّسة فرهنگي موعود ـ منتشر شده، به موضوع ياد شده اختصاص يافته است. عناوين برخي كتابهايي كه در اين زمينه انتشار يافته، به شرح زير است:
ـ سير تفكر جديد در جهان و ايران؛
ـ تفكر، فرهنگ و ادب، تمدن؛
ـ تولد دوبارة حميد: مطالعات فرهنگي ويژة جوانان؛
ـ داستان ورزش غرب: سير تحوّل تاريخي، فرهنگي ورزش غرب؛
ـ درآمدي بر نقد مبادي علوم جديد.
ـ ...
ب) مقالهها:
1. غرب و الگوهاي فرهنگي (موعود، ش 12، بهمن و اسفند 1377)
2. شناخت و نقد جدّي مناسبات فرهنگي، سياسي و اقتصادي حاكم بر جوامع اسلامي كه به تقليد از الگوهاي توسعه غربي و تحت تأثير انديشههاي عصر مدرنيته در اين جوامع شكل گرفته است: براساس اين باور كه جوامع اسلامي، بدون شناخت جدي از وضع موجود خود نميتوانند به راهكارهاي مبتني بر آموزههاي ديني براي خروج از فتنههاي فراگير عصر غيبت دست يابند، مؤسّسة فرهنگي موعود در سالهاي اخير، به اين فعاليتها اقدام نموده است:
الف) كتابها:
ـ نقد مبادي علوم جديد؛
ـ تولد دوبارة حميد.
ب) مقالهها:
ـ انسان امروز، انسان غافل (موعود، پيششمارة 1، آبان 1375)
ـ انفجار اطلاعات (موعود، ش1، فروردين و ارديبهشت 1376)
ـ مجموعه مقالات غرب و آخرالزّمان
ـ ميزگرد فرهنگي (موعود، ش 8 و 9، خرداد تا شهريور 1377)؛
ـ غرب و الگوهاي فرهنگي (موعود، ش 10 و 11 آذر و دي 1377)؛
ـ اجتهاد در عصر توسعه (موعود، ش 9، مرداد و شهريور 1377):
گفتني است، اين رويكرد از جمله رويكردهاي اصلي مجله بوده و در همة سالهاي گذشته همواره مقالهها، گفتوگوهايي با اين موضوع در مجله عرضه شده است.
3. تلاش براي تدوين راهبرد سياسي، فرهنگي، اقتصادي، نظامي جوامع اسلامي در عصر غيبت تا رسيدن به عصر طلايي ظهور بر اساس انديشة مهدوي و فرهنگ انتظار: با توجه به اهميّت موضوع ياد شده و خلأ قابل توجّهي كه در اين زمينه وجود دارد، موعود تاكنون كتابها و مقالههاي متعدّدي را با هدف تبيين راهبرد جامعه و حكومت منتظر تدوين و منتشر كرده كه عناوين برخي از آنها به شرح زير است:
الف) كتابها:
ـ استراتژي انتظار (3 جلد)؛
ـ نظرية اختياري بودن ظهور.
ب) مقالهها:
مجموعه مقالات استراتژي انتظار (موعود ش 19ـ24، فروردين تا اسفند 1379)
ـ غرب و توسعه، ما و استراتژي انتظار (موعود، ش 8، خرداد و تير 1377)؛
ـ شرحي بر كتاب استراتژي انتظار (موعود، ش 34، آبان و آذر 1381 و ش 35، دي و بهمن 1381)؛
ـ ميزگرد فرهنگي با موضوع آيندة جهان (موعود، ش 8 و 9، خرداد و تير و مرداد و شهريور 1377)؛
ـ نظريهپردازي دربارة آيندة جهان و جهان آينده (موعود، ش 10، 11، آذر و دي، 1377)؛
ـ نقش امام عصر(ع) در هدايت اهواء و آراء (موعود، ش 5، آذر و دي 1376)
ـ انقلاب حضرت مهدي(ع) و دگرگوني روابط اجتماعي (موعود، ش 10، 1377)
و افزون بر كتابها و مقالههاي ياد شده، موعود تاكنون، همايشهاي متعدّدي را با مشاركت تشكلهاي دانشجويي براي تبيين موضوع «استراتژي انتظار» در دانشگاههاي كشور برگزار كرده است.
4. بازشناسي جنبههاي اعتقادي، تاريخي، فرهنگي و اجتماعي انديشة مهدوي و فرهنگ انتظار با بهرهگيري از منابع متقن و مستدل و استفاده از همه توان مراكز علمي حوزوي و دانشگاهي در زمينه مباحث كلامي، فلسفي، عرفاني، اخلاقي، علوم اجتماعي و سياسي:
اگرچه در ساليان گذشته كتابهاي فراواني در زمينة فرهنگ مهدويّت و انتظار نگارش يافته است، ولي بسياري از آنها در عصر حاضر پاسخگوي نيازهاي نسل جوان نيست؛ زيرا در اين عصر پرسشها و موضوعهاي متنوّعي در اين زمينه مطرح شده كه لازم است در آثار متعدّدي به آنها پرداخته شود. با توجه به اين نياز، مؤسّسة فرهنگي موعود با بهرهگيري از پژوهشگران حوزوي و دانشگاهي، تاكنون دهها كتاب و صدها مقاله موضوعات متنوّع و با رويكردهاي مختلف براي تبيين انديشة مهدويّت شيعي تدوين و منتشر كرده است كه در اينجا به عناوين برخي از آنها اشاره ميكنيم:
الف) كتابها:
ـ معرفت امام زمان(ع) و تكليف منتظران؛
ـ غيبت از ديدگاه امام صادق(ع)؛
ـ رهبري بر فراز قرون؛ پژوهشي دربارة امام مهدي(ع)؛
ـ تاريخ پس از ظهور؛
ـ رجعت؛
ـ تحفة امام مهدي(ع): مجموعه فرمايشات، توقيعات و ادعية حضرت صاحب الزّمان(ع)؛
ـ معجزات امام مهدي(ع)
ـ سير زمان تا صاحب الزّمان(ع)؛
ـ با دعاي ندبه در پگاه جمعه؛
ـ شش ماه پاياني: تقويم حوادث شش ماهة پيش از ظهور؛
ـ سفياني و نشانههاي ظهور.
ب) دائرة المعارف موعود آخرالزّمان؛
يكي از مهمترين اقدامهاي موعود براي بازشناسي جنبههاي مختلف فرهنگ مهدويّت، آغاز تدوين «دائر\ المعارف موعود آخرالزّمان» است. تدوين اين اثر از چند سال پيش آغاز و تاكنون هفت جلد از اين مجموعه، شامل «مأخذشناسي جامع مهدويّت»
ماهنامه موعود شماره 100
سبب غيبت امام زمان(ع) خود ما هستيم، زيرا دستمان به او نميرسد، وگرنه اگر در ميان ما بيايد و ظاهر و حاضر شود چه كسي او را ميكشد؟! آيا جنّيان آن حضرت را ميكشند، يا قاتل او انسان است؟! ما از پيش در طول تاريخ ائمه(ع) امتحان خود را پس دادهايم كه آيا از امام تحفّظ و اطاعت ميكنيم يا اينكه او را به قتل ميرسانيم؟! انحطاط و پستي انسان به حدّي است كه قوم حضرت صالح(ع) ناقة صالح را با اينكه وسيلة ارتزاق و نعمت آنها بود، پي كردند، چنانكه قرآن كريم دربارة آن ميفرمايد: «لها شربٌ و لكم شرب يوم معلوم،6 يعني، يك روز آب سهم شما باشد و روز ديگر سهم آن، آن ناقه، يك روز آب چاه را ميخورد و در عوض به آنها شير ميداد! بنابراين، همانگونه كه ممكن است عقلاً خزينه و انبار نعمت خود را نابود كنند، همچنان كه ناقة صالح را كشتند، امكان دارد كه ما انسانهاي عاقل(!) نيز امام زمان(ع) را كه تمام خيرات از او است و از ناقة صالح بالاتر و پرفيضتر است براي اغراض شخصية خود به قتل برسانيم!
لزوم احتياط در فتنههاي آخرالزّمان
سؤال: از حضرت رسول(ص) دربارة آخرالزّمان و فتنههاي آن نقل شد كه فرمودهاند: تشخيص تكليف در آن زمان مشكل است. پس چه بايد كرد؟
جواب: اگر به دست آوردن تكليف مشكل باشد، احتياط كردن كه مشكل نيست، بايد توقّف كرد و احتياط نمود. ريختن خون مردم، هتك اَعراض [آبروهاي] آنها و از بين بردن اموال و دين آنها شوخي نيست، براي ما اتمام حجّت شده است.
گويا به كلي از «عين الله الناظرة» غافل هستيم!
اهل بيت عصمت و طهارت(ع) بندگاني هستند كه علم و صوابشان مطرد (فراگير) است، يعني با داشتن مقام عصمت نه خطا ميكنند و نه خطيئه و امام زمان(ع) «عين الله النّاظرة و اُذنه السّامعة و لسانه النّاطق، و يده الباسطة؛ چشم بينا، گوش شنوا، زبان گويا و دست گشادة خداوند است و از اقوال، افعال، افكار و نيّات ما اطلاع دارد؛ مع ذلك گويا ما، ائمه(ع) و به خصوص امام زمان(ع) را حاضر و ناظر نميدانيم، بلكه گويا مانند عامّه، اصلاً زنده نميدانيم و به كلّي از آن حضرت غافل هستيم!
اشراف امام(ع) بر اعمال بندگان
گويا بنا بر اين است كه در عمل، خدا، ناديده گرفته شود، با اينكه در روايت «كافي» دارد كه: «در هر شهري عمودي از نور است كه امام(ع) اعمال بندگان را در آن ميبيند يا ملَكي براي او خبر ميآورد».1 همچنين «روح القدس» مؤيّد او با او است، غير از آن روحي كه هر سال يك بار در شب قدر بر او نازل ميشود.2 بنابراين، اگر مثلاً پردهاي هم دور عمل خود بكشيم، فايده ندارد و ديد امام(ع) نافذتر است و در برابر چشمان واقع بين او مانع و حائل ايجاد نميكند. همچنين در رؤيت امام(ع) مقابله و محاذات (همسويي) شرط نيست، بلكه هر جا كه نشسته، بر أرضين سفليٰ و سماوات سبع و ما فيهنّ و ما بينهنّ اشراف دارد. خداوند متعال ميفرمايد:
«و آتيناه الحكم صبيّاً؛3 در حال كودكي، حكم را به او عطا كرديم» و نيز ميفرمايد: «قال إنّي عبدالله آتاني الكتاب و جعلني نبيّاً؛4 گفت: من بندة خدايم، خداوند به من كتاب عطا كرده و مرا پيامبر قرار داده است. اگر مسئلة امام شناسي بالا رود، خداشناسي هم بالا ميرود؛ زيرا چه آيتي بالاتر از امام(ع)؟ امام آيينهاي است كه حقيقت تمام عالم را نشان ميدهد.
حديث ثقلين و اثبات غيبت امام زمان(ع)
«حديث ثقلين» از ادلّة اثبات غيبت امام زمان(ع) است، زيرا در آن حديث ميفرمايد: «إنّهما لن يفترقا،5 قرآن و عترت از هم جدا نميشوند»، يعني، چه حاضر باشند يا غايب، اگر كسي اين حديث را تحقيق و معناي آن را تحصيل كند، مسئلة غيبت خيلي براي او واضح خواهد بود؛ زيرا در غير اين صورت، «لزم الإنفكاك بين القرآن و العترة؛ لازمة آن جدايي بين قرآن و عترت خواهد بود».
ماهنامه موعود شماره 101
در روايات متعددي از امام مهدي(ع) به عنوان شبيهترين مردم به رسول مكرم خدا(ص) ياد شده است. از جمله در رواياتي كه از امام حسن عسكري نقل شده، ميخوانيم: «خدا را سپاس ميگويم كه مرا از دنيا نبرد تا آنكه جانشينم را به من نشان داد؛ همو كه از نظر صورت و سيرت شبيهترين مردم به رسول خدا(ص) است.» در كتابي كه با عنوان دو خاتم(ع) از سوي انتشارات موعود به چاپ رسيده، برخي از شباهتهاي خاتم رسولان(ص) و خاتم امامان(ع) برشمرده شده است كه در اينجا با چند مورد از آنها آشنا ميشويم.
خاتميت
حضرت محمد(ص) خاتم پيامبران و انبيا هستند. خداوند متعال در قرآن ميفرمايد:
ما كان محمّدٌ أبا أحدٍ من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النّبيّين و كان الله بكلّ شيءٍ عليماً.1
محمد پدر هيچ يك از مردان شما نيست ولي فرستاده خدا و خاتم پيامبران است و خدا همواره بر همه چيز داناست.
همان حضرت(ع) در خطبه روز غدير دربارة خاتميت حضرت مهدي(ع) ميفرمايند:
... آگاه باشيد خاتم امامان ما قائم مهدي است؛ بدانيد كه او برگزيده و مختار خداوند متعال است. آگاه باشيد كه او وارث [علم] همه علما2 و محيط بر تمام علوم است.3
هدايت به دستان دو خاتم(ع)
امام صادق(ع) فرمودند:
صاحبالامر سنتهايي از پيامبران به يادگار دارد. از موسيبن عمران، عيسي، يوسف و حضرت محمد(ص). سنت و يادگار او از موسي بن عمران ترسناك و چشمانتظار بودنش است. يادگارش از عيسي اين است كه هر آنچه كه دربارة او گفتند، درباره مهدي هم خواهند گفت. يادگارش از يوسف مخفي بودنش است كه خداوند ميان او و مردم حجاب و پرده قرار ميدهد كه [مردم] او را ميبينند و نميشناسند. و يادگارش از حضرت محمد اين است كه به هدايت او، هدايت ميكند و به سيرهاش رفتار ميكند.4
خاتمالاصياء(ع) شبيهترين فرد به خاتمالانبيا(ص)
امام حسن عسكري(ع) فرمودند:
سپاس پروردگاري را كه مرا از دنيا نبرد تا اينكه جانشينم را، به من نشان داد همو كه شبيهترين مردم از لحاظ روحيات و شمايل به رسول اكرم(ص) ميباشد؛ خداوند متعال از او در غيبتش محافظت ميكند و پس از آن ظاهرش مينمايد تا زمين را آكنده از عدالت و قسط كند، همانگونه كه مملو از جور و ظلم شده باشد.5
1. سورة احزاب (33)، آية 40.
2. منظور از علما، ائمه(ع) هستند.
3. طبرسي، الاحتجاج، ج1، ص63؛ ... الا ان خاتم أئمّتنا القائم المهدي؛ ... الا انه خيرة الله و مختاره؛ الا انه وارث كل عالم و المحيط به....
4. صدوق، كمالالدين، ج2، ص350؛ إن في صاحب الأمر سنن من الأنبياء؛ سنّة من موسي بن عمران و سنّة من عيسي و سنّة من يوسف و سنّة من محمد(ص). فأمّا سنته من موسي بن عمران فخائف يترقب. و امّا سنته من عيسي، فيقال فيه ما قيل في عيسي. و امّا سنته من يوسف فالستر يجعل الله بينه و بين الخلق حجاباً؛ يرونه و لايعرفونه. و امّا سنته من محمد فيهتدي بهداه و يسير بسيرته.
5. صدوق، همان، ج2، ص118 (باب 38، ح7)؛ مجلسي، بحارالانوار، ج51، ص161؛ الحمدلله الذي لم يخرجني من الدنيا حتّي أراني الخلف من بعدي أشبه الناس برسول الله خلقاً و خلقاً؛ يحفظه الله تبارك و تعالي في غيبته، ثم يظهره فيملأ الأرض عدلاً و قسطاً كما ملئت جوراً و ظلماً.
6. سورة توبه (9)، آية 128.
7. طبرسي، همان، ج2، ص278؛ إنّه أنهي إلي ارتياب جماعة منكم في الدين و ما دخلهم من الشكّ و الحيرة في ولاة أمرهم فغمنا ذلك لكم لالنا وساءنا فيكم لافينا لأنّ الله معنا فلافاقة بنا إلي غيره و الحقّ معنا فلن يوحشنا من قعد عنا.
8. علامات المهدي المنتظر(ع) في خطب الامام علي(ع) و رسائله و احاديثه، ص217 به نقل از امالي شجري،ج1، ص277؛ بعثت بين جاهليتين، لاخراهما شرّ من اولاهما.
9. مجلسي، همان، ج51، ص120؛ شرح نهجالبلاغه ابن ابيالحديد، ج7، ص58؛ شرح نهجالبلاغه ابن ميثم بحراني، ج3، ص6 بنابر نقل همان؛ يا قوم اعلموا علماً يقينا أنّ الذي يستقبل قائمنا من امر جاهليتكم و ذلك إنّ الاُمّة كلّها يومئذ جاهلية إلّا من رحمالله... .
امام موسي صدر
انديشه ظهور مهدي(ع) به شيعيان اختصاص ندارد، اين عقيده در کتب روايي همة مذاهب اسلامي يافت ميشود. صدها و هزارها روايت دلالت دارند و ثابت ميکنند که پيامبر اکرم(ص) فرمودند: «اگر حتي يک روز از جهان باقي مانده باشد، خداوند آن روز را طولاني ميگرداند، چندان که مردي از اهل بيت(ع) من، همنام و همکنية من، ظهور کند و زمين پر از ظلم و بيداد را از عدل و قسط پر کند». اين حديث در همة مذاهب اسلامي متواتر است. انتظار منجي، انتظار روح حق و انتظار يک حادثة عظيم در همة مذاهب و اديان وجود دارد. اين انديشه از حوزة فعاليتهاي ديني فراتر رفته، فعاليتهاي تکويني را نيز شامل ميشود. هرگاه به تلاش انسانها در حوزههاي گوناگون نظري افکنيم، مشاهده ميکنيم که در همة عرصهها، همچون علم، فلسفه، ادبيات و تجارب اجتماعي، نظامها و مقررات رو به کمال دارند و در همة مسائل زندگي به سوي اوضاع و احوال برتر پيش ميروند. گرچه آدمي گاهي ميلغزد، گاه اشتباه ميکند و منحرف ميگردد، امّا اين لغزشها، در حرکت اصلي زندگي بشر و در روند کلي آن، اموري جزئياند. انسان از ابتدا در حال تکامل، ترقي و تعالي بوده و به سوي بهتر شدن گام برداشته است. آدمي مطمئن است که شرايط برتر براي او امکانپذير است و از همين رو براي رسيدن به آن تلاش ميکند. اگر آنگونه که برخي اعتقاد دارند، بشر رو به سقوط و نابودي داشت يا جهان در حال پس رفت و حرکت قهقرايي بود و در امور مختلف به وضع نامطلوبتر راه ميپيمود، انسان با اميد و قدرت و ايمان، براي آينده تلاش نميکرد. زنجيرة مستحکم علم از حوزههاي مختلف علمي و نظامهاي اجتماعي ميجوشد. تلاشهايي که براي تجربهاندوزي در حوزههاي اجتماعي و نيز در نجوم، ابزار و وسايل و حمل و نقل به عمل ميآيد، همه و همه، آيندة بهتر را نويد ميدهند، آيندهاي که در آن همة افراد بشر توان و امکانات و شايستگي خود را براي رسيدن به زندگي سعادتمندانه به کار ميگيرند.
در حال حاضر، تنها بخشي از توان انسان يا به تعبير بهتر، بخش اندکي از توانايي بشر در راه زندگي به کار ميرود و بخش عمدة استعدادها و همچنين اغلب افراد همواره خارج از گود هستند و توان و شايستگي آنان براي زندگي و سعادت انساني، براي رسيدن به قلّه در تلاش است. امّا کدامين قله؟ کمال آن است که همة انسانها با تمام شايستگيها ـ نه فقط با توان مادي يا فکري ـ در جهت خير و صلاح بشريت تلاش کنند. شکي نيست که اين نظام، همانند يک آرزو، بر فکر و انديشة هر انسان تلاشگري سايه افکنده است. عقيدة شيعه به امام مهدي(ع) در حقيقت انتظار برانگيزاننده و بشارتدهندة اين آينده است، آيندهاي که آرزوي همه و آيندة همه است. من قصد ندارم در تفصيل و توضيح اين عقيده وارد شوم، بلکه به «بُعد تربيتي» آن خواهم پرداخت.
بايد بگويم که مفهوم انتظار نزد ما معني حقيقي خود را از دست داده و منحرف شده است. ما انسانها، به بهانة انتظار، از مسئوليتهاي خود شانه خالي ميکنيم و کار و تلاش را در انتظار ظهور صاحبالزمان(ع) رها کردهايم. اين انحراف در همة ارزشها اتفاق افتاده و براي بهرهمند نشدن از ارزشها ابزاري شده است. امّا حقيقت اين است که انديشة انتظار در حيات اين مذهب نقش مهمي داشته است؛ زيرا اميد، همان زندگي در آينده و راه آينده و وسيلة پيوند آدمي به آينده است. فردي که از آينده نااميد شده، گمان ميبرد که زندگي فايدهاي ندارد پس ميگويد ما را به حال خود واگذاريد. تاريخ به روشني گواهي ميدهد كه، بر ما و بر هر ملتي، دوران درازي از رنج و محنت گذشته است و اگر اميد به ظهور امام زمان(ع) و فرج الهي نبود، از ميان رفته بوديم، امّا اين سخن حضرت رسول اکرم(ص) که «اگر از دنيا تنها يک روز باقي مانده باشد آن روز به قدري طولاني ميشود تا مردي از اهلبيت(ع) من که نام او نام من و کنية او کنية من است، ظهور نمايد و دنياي پر از بيداد را از عدل و قسط پر کند»، به ما اميد ميبخشد و بقاي ما را تضمين ميکند؛ زيرا ما به سخن پيامبر(ص) اعتقاد داريم و در آن شک نميکنيم. اين اميد است که ما را حفظ کرده و زنده نگه داشته است و اميد است که ميان ما و آينده راهي باز کرده است و اميد، خود از اين عقيده سرچشمه ميگيرد.
اين تفکر اختصاص به ما ندارد. شما ميدانيد که پس از عروج حضرت مسيح(ع) ـ يا به اعتقاد مسيحيان، پس از شهادت و عروج روح آن حضرت ـ ستمي بر مسيحيان رفت که در تاريخ و تاريخ اديان مانندي ندارد. امّا اميد و اعتقادي که به اين بشارت آن حضرت داشتند که «روح حق خواهد آمد»، همان که به روح القدس و تجلي روح القدس تفسير ميشود، آنها را از نابودي نجات داد.
معني انتظار
انتظار عبارت است از اينکه آماده باشيم، شمشير و تفنگ در دست، تمرين کنيم و آموزش نظامي ببينيم. خود را آماده سازيم. مراقب و نگهبان بگماريم و رادارها را فعال کنيم تا زمان حملة ناگهاني دشمن را دريابيم. اين معني انتظار است. ما در انتظار حضرت مهدي(ع) هستيم. آن حضرت، پس از آنکه ظلم و جور جهان را فرا گرفت، چه خواهد کرد؟ او ميآيد و عدل و داد را در جهان حاکم ميکند. اين آرزو چقدر عظيم است و اين هدف چقدر بزرگ! مهدي(ع) تنها کسي است که جهان را پس از گسترش ستمکاري، از عدل و داد پر خواهد کرد. اين حادثة بزرگي است که هيچ چيز جز صاحب آن، بزرگتر از آن نخواهد بود. آيا اين حادثه تنها به دست حضرت مهدي(ع) روي ميدهد؟ طبيعتاً نه. ما بايد همکاري و همياري کنيم. ما ميخواهيم امام عصر(ع) به تمام و کمال در جهان ظهور کند. علم او، هنر او، قدرت و تربيت او ظهور کند. ما بايد آماده باشيم. زماني که از ما دعوت ميشود، چه بايد بکنيم؟ ما بايد آمادة ايفاي نقش خود باشيم. هنگامي که آن حضرت فرياد «اي مردم!» برميآورد، او را لبيک بگوييم. بايد آماده باشيم و از هر چه داريم دست بشوييم. در حال آماده باش و با آمادگي کامل به کمک او بشتابيم. اگر جز اين است، پس معني انتظار چيست؟ انتظار يعني آمادگي، بسيج شدن، آموزش و آمادگي روحي، رواني، فکري، معنوي و جسمي و نيز آمادگي تکنولوژيک و نظامي.
خداوند جز از راه اسباب و وسايل امور، را سامان نميدهد. کسي که در انتظار عزّت و شرف است، نميتواند انتظار يک پيروزي ناگهاني را داشته باشد و نبايد عزّت و شرف را بدون تلاش و رنج توقع کند.
حضرت علي(ع) در سخني فرمود: «آرزوها نشانههاي فريب خوردن انسانهاي کمعقل است». انسان بايد احمق و نادان باشد تا بدون رنج و تلاش، انتظار موفقيت را بکشد، تا عظمت و قدرت را بدون رنج طلب کند؛ اين ممکن نيست. آرزوها نشانههاي فريب خوردن انسانهاي احمق است. انتظار، يک محرک است. اجداد و گذشتگان نيکوکار ما ايستادگي خود را حفظ کردند. ما و آنها در شرايط دشواري که ما را مستحق زندگي ساخت زندگي کرديم. فقير و ثروتمند، همه، در صفي واحد همچون ديواري سربي، در پيشگاه خدا ايستادند و ايستاديم؛ در حالي که هيچ چيز بر ديگري برتري نداشت. امام جماعت نماز را برگزار ميکند، نميتواند از مأموم دور باشد يا در جايي بالاتر از او بايستد. اگر محل قرار گرفتن امام به اندازة يک وجب بالاتر از مکان نمازگزاران باشد نماز جماعت باطل است. امام حتماً بايد همراه با مردم باشد و وقت و زندگي خود را با آنها بگذراند. او نبايد بالاتر از آنها قرار گيرد و نميتواند خود را از آنها برتر بداند و ميان امام و مردم فاصله و دوري جايز نيست. آيا ميتوان از اين مطلب حکمي اجتماعي انتزاع کرد؟ حتي اگر در نماز فرادا كه يك عبادت فردي است، بينديشيم، در خواهيم يافت که در آن احکام اجتماعي زيادي يافت ميشود. در اين نماز مقيد بودن به زمان لازم است.
«إنّ الصلوة کانت علي المؤمنين کتابا موقوتاً؛1 نماز در حقيقت در زمانهاي معيني واجب شده است».
در نماز رعايت حقوق مردم نيز ديده ميشود، چنانکه نماز در مکان غصبي باطل است. در شرايط نماز، مسئوليت اجتماعي و برخي امور مطلق نيز ديده ميشود. هيچيک از احکام اسلامي يا ديني نسبت به مسائل اجتماعي بياعتنا نيست. بنابراين، اين به مسائل دنيا نيز اهتمام و توجه دارد.
«و خلف من بعدهم خلف أضاعوا الصّلاة و اتّبعوا الشّهوات؛2 سپس کساني جانشين اينان شدند که نماز را ضايع گذاشتند و پيرو شهوات گرديدند».
اگر ما بخواهيم با اميال، اختلافات، تصلب و مسخ شدن و شبنشينيها زندگي کنيم، مستحق حيات نيستيم و محکوم به مرگيم يا لااقل بايد گفت، لايق زندگي شرافتمندانه نخواهيم بود. آيا ممکن است کسي در دل ايمان داشته باشد امّا ايمان خود را در اعمال جسماني متبلور نسازد؟ اين ممکن نيست. يعني ممکن نيست کسي بگويد که من در دل ايمان دارم امّا در خارج کاري نکند که دلالت بر ايمان او داشته باشد.
«ثمّ کان عاقبة الذين أساؤا السوائ أن کذّبوا بآيات الله و کانوا بها يستهزؤون؛3 سپس عاقبت آن کساني که مرتکب کارهاي بد شدند ناگوارتر بود. زيرا، آنان آيات خدا را دروغ انگاشتهاند و آنها را به مسخره گرفتهاند».
کسي که بخواهد ايمان خود را حفظ کند، بايد ايمانش را در اعمال و رفتارش متبلور سازد؛ زيرا بشر يک شيء واحد است؛ دو چيز نيست که جسم و روح هر کدام جدا باشد. جسم بدون روح کاري نميکند؛ اين ممکن نيست.
عمل خارجي، ظهور عمل روحي است و عکس اين نيز صادق است. اگر ايمان خود را به کار نبنديم به وظيفة خويش عمل نکردهايم. مسئله اين است که ما مؤمن بوديم. سپس اين ايمان رفته رفته ضعيف شد و تنها ظاهر و نقشي از آن باقي ماند. ما در اسم و ظاهر مؤمنيم، امّا حقيقت اين است که اگر از ايمان ما حرکت و حيات ظاهر شود، ميتوانيم خود را مؤمن بخوانيم. ايمان زنده، ايماني است که انسان را به حرکت وا دارد، او را منع کند، به پيش راند و امر و نهي کند. ايمان، اصل و منبع اميد است. نوميدي مرگ است و جمود. آيا يأس کفر است؟ بله. نوميدي به معني بياعتقادي به حق است. امّا ايمان به خدا، خدايي که حق و عدالت و علم است و صاحب اسماء حسني و امثال عليا است، مستلزم اين است که ايمان داشته باشيم به اينکه جهان هم جهان حق و عدل و دانش و زيبايي است. چرا؟ به اين دليل که اين جهان مخلوق خدا است. پس ايمان به خداي حق يعني:
«و ما خلقنا السّموات و الأرض و ما بينهما لاعبين ما خلقناهما إلّا بالحقّ؛4 ما آسمانها و زمين و آنچه را ميان آنهاست به بازيچه نيافريدهايم، آنها را به حق آفريدهايم».
ايمان به خداي دانا، يعني: زمين بر اساس علم بنا شده است و با ناداني نميتوان در اين زمين حرکت کرد، مگر همانند حرکت نابينا و غريق. ايمان به خداي عادل، يعني: زمين براساس عدل بنا شده است. بنابراين، ما به خدا ايمان داريم و خود را به حق ميدانيم. معني اين سخن آن است که آينده از آن ماست. چرا؟ زيرا هستي بر اساس حق استوار است. حق گسترش مييابد، زيرا حق از دل هستي و زندگي سرچشمه ميگيرد. اين آيات نيز بر همين دلالت دارد:
«و لقد کتبنا في الزّبور من بعد الذکر أنّ الأرض يرثها عبادي الصّالحون؛5 و ما در زبور ـ پس از تورات ـ نوشتهايم که اين زمين را بندگان صالح من به ميراث خواهند برد».
منظور اين است که اين حکم در کتابهاي آسماني قديمي و تا امروز نوشته شده است. امّا ناصالح، در اين هستي، جسمي غريب است، او بيگانه است، همانند ورود چيز غير خوراکي در بدن يا ورود سنگي در آن، که نه تنها سودي ندارد، بلکه باقي ماندن آن در بدن موجب آزار و درد و بيماري است. بدن اين شيء را تحمل نميکند و به طور مستمر و مداوم با آن مبارزه ميکند تا بالاخره آن را دفع کند. اين معني جسم بيگانه است، يعني جسم نامتناسب با بدن. هستي نيز همينگونه است. باطل در هستي ـ که مخلوق خداي حق و عدل و عالم است ـ بيگانه است. همچنين جاهل، ظالم و ملحد در اين هستي بيگانهاند. در زمين خدا، مجالي براي جاهل و مکاني براي ظالم وجود ندارد. در سرزمين خدا جايي براي منحرف و هرج و مرج طلب نيست. اينها ميآيند و ميروند.
« وعد الله الذين آمنوا منکم و عموا الصّالحات ليستخلفنّهم في الأرض کما استخلف الذين من قبلهم و ليمکننّ لهم دينهم الّذي ارتضي لهم و ليبدلنّهم من بعد خوفهم أمناً يعبدونني لايشرکون بي شيئاً؛6 خدا به کساني از شما که ايمان آوردهاند و کارهاي شايسته کردهاند، وعده داد که در روي زمين جانشين ديگرانشان کند، همچنان که مردمي را که پيش از آنها بودند، جانشين ديگران کرد و دينشان را ـ که خود برايشان پسنديده بود ـ استوار سازد و وحشتشان را به ايمني بدل کند. مرا ميپرستند و هيچ چيز را با من شريک نميکنند».
«و نريد أن نمنّ علي الذين استضعفوا في الأرض و نجعلهم ائمّةً و نجعلهم الوارثين؛7 ما بر آنيم که بر مستضعفان بر روي زمين نعمت دهيم و آنان را پيشوايان سازيم و وارثان گردانيم».
اين است حرکت به طور کلي. بنابراين، آينده از آن حق است، اگر ما واقعاً بر حق باشيم و به آن ايمان داشته باشيم. اين ايمان مستلزم ايمان به پيروزي است. پس ايمان به خدا مستلزم اميد است و نوميدي کفر به شمار ميرود.
انتظار و آمادگي
ما امروز بسيار نيازمند اميد و انتظاريم، زيرا رنجها و مشکلات بر آنند که اين دو گوهر گرانبها را از ما بگيرند. تصور کنيد که بسياري از مردم از اميد به آينده بريده باشند. چه اتفاقي ميافتد؟ اين جماعت بايد بدانند که نااميدي کفر است. پس مؤمن نااميد نميشود. شرايط هرگونه که باشد مهم نيست. يهوديان، قبل از حضرت موسي(ع) چقدر ذلت کشيدند، چند صد سال خواري را تحمل کردند از همه جا رانده شدند، باز هم تحمل و ايستادگي کردند، هر کس، هر انساني و هر ملتي تلاش کند به هدف ميرسد. بنابراين، هيچ دليلي ندارد که ما در مقابل دشمن اميد خود را از دست بدهيم، هر چند که همة کشورهاي بزرگ جهان پشتيبان دشمن باشند. در جنگ بدر، مشرکان دو نماد را به دست گرفتند. گروهي نمادي يا بتي به نماد هبل را بلند کردند و شعر معروف «اعل هبل» را فرياد ميزدند يعني «سرافراز و بلند باد هبل». مسلمانان به فرمان پيامبر اکرم(ص) پاسخ دادند: «الله أعلي و أجلّ» يعني «خداوند بلندمرتبهتر و بزرگتر است». گروه دوم مشرکان، بت ديگري يعني عزّي را بلند کردند و گفتند: «هذه عزّي ولا عزّي لکم» يعني: «اين عزّي است و شما عزّي نداريد» و مسلمانان پاسخ ميدادند: «الله مولانا و لا مولي لکم»؛ يعني «خدا مولاي ما است و شما مولا نداريد». آنها هبل و عزّي داشتند و ما الله داشتيم.
«و ما قدروا الله حقّ قدرهم والأرض جميعاً قبضته يوم القيامة و السّماوات مطويّاتٌ بيمينه؛8 خدا را نشناختند آنچنان که شايان شناخت اوست و در روز قيامت، زمين يکسره در قبضته اوست و آسمانها، در هم پيچيده، در يد قدرت او».
اميد به خداوند بزرگ است. ما هرگز اميد را از دست نخواهيم داد؛ هرگز. پيش از اين، شرايط بسيار دشوارتر امروز بر ما گذشت و ما هرگز نوميد نشديم. ما امروز نيازمند اميد، انتظار آمادگي هستيم. محال است خداوند انتظار را به معني فرافکني و شانه خالي کردن از ما بپذيرد.
«و لينصرنّ الله من ينصره إنّ الله لقويٌّ عزيزٌ؛9 و خدا هر کس را که يارياش کند، ياري ميکند و خدا توانا و پيروز است».
خداوند چه کسي را ياري ميکند؟
«الذين إن مکنّاهم في الأرض أقاموا الصلوة و آتوا الزکاة و امروا بالمعروف و نهوا عن المنکر؛10همان کساني که اگر در زمين مکانتشان دهيم نماز ميگذارند و نماز ميدهند و امر به معروف و نهي از منکر ميکنند».
٭ منبع: اديان در خدمت انسان از مجموعة در قلمرو انديشة امام موسي صدر، ترجمة سيد عطاءالله افتخاري.
1. سورة نساء (4)، آية 103.
2. سورة مريم (19)، آية 59.
3. سورة روم (30)، آية 10.
4. سورة دخان (44)، آيات 38 و 39.
5. سورة انبياء (21)، آية 105.
6. سورة نور (24)، آية 55.
7. سورة قصص (28)، آية 5.
8. سورة زمر (39)، آية 67.
9. سورة حج (22)، آية 40.
اشاره:
به نظر ميرسد در حال حاضر، فرهنگ مهدوي در جامعة ما با آسيبهاي مختلفي روبروست که ميتوان آنها را در ذيل دو عنوان کلّي دستهبندي کرد:
1. عوامزدگي و سطحينگري؛
2. روشنفکرزدگي و تأويلگرايي.
تفکر دوم که بيشتر با موضوع اين نوشتار مرتبط است، جهان پيرامون خود را از منظر مدرنيسم مينگرد و سعي در تجزيه و تحليل حقايق آن بر مبناي علوم تجربي و انساني غربي دارد. از همين روست که در اين انديشه، برداشتها از قيام و انقلاب مهدوي(ع)، صبغة روشنفکرانه يافته، با شاخصههاي دموکراسي ليبرال ارزيابي ميگردد.
در اين انديشه تلاش ميشود که روايات مربوط به ظهور و حوادث پس از آن، به گونهاي تأويل و توجيه شود که با چارچوبهاي به ظاهر علمي ارائه شده در دوران مدرن تعارض و تهافتي پيدا نکند!1 هر يک از دو انديشة فوق آثار و پيامدهاي مخرّبي براي انديشة مهدوي و فرهنگ انتظار داشته و لطمات جبرانناپذيري بر کارکردها و آثار آن وارد ميسازد. با این مقدمه به بررسی کتابی میپردازیم که چندی پیش با عنوان «چکیده اندیشهها»(آشنایی با دیدگاه های آیت الله صانعی) از سوی «مؤسسة ثقلین» به چاپ رسیده و در آن مطالب قابل تأمّلی در زمینة «ارتباط مهدویت و دموکراسی» مطرح شده است.
1. مهدويت و دموکراسي
در صفحة 63 اين رساله تحت عنوان «مهدويت و دموکراسي» ميخوانيم:
«امروز کساني طرفدار مهدويت و منتظر ظهور مصلح به حساب ميآيند که در جهت برقراري صلح جهاني تلاش و کوشش نمايند و مروّج واقعي دموکراسي و حقوق بشر باشند و حرکتشان در مسير علم و دانش باشد».
در اين جملات نويسنده به طور واضح، انتظار فرج را به ترويج دموکراسي و حقوق بشر تأويل ميبرد!
براي اينکه خواننده گمان نکند از دموکراسي و حقوق بشر چيزي غير از همين مقولات شايع در زمان ما ـ که همة محصول غرب مدرن ميباشند ـ منظور است چند جملة ديگر از اين رساله کوچک را در اينباره ميآوريم:
«من براساس مذهب شيعه معتقدم اصل بر کرامت و بزرگواري انسان استوار است و روزي سرشار از عدالت براي بشريت فرا خواهد رسيد که ستمگران از جوامع طرد ميشوند يا به خود ميآيند و افکار مخالف آزادي و عدالت انساني از بين خواهد رفت. روند تحوّلات جهاني بهخصوص پس از جنگ جهاني دوم و تدوين منشور حقوق بشر و حقوق ملل نيز نشانههايي از همين مدّعاست».2
«همة انسانها منتظر يک مصلح حقيقي هستند که جهان را سرشار از صلح و عدالت ميکند. امروز بشريت به طرف زمينهسازي ظهور مصلح در حرکت است و شايد مهمترين نشانه آن هم، نفرت انسانها از جنگ و خشونت و طرفداري از حقوق بشر، عدالت و صلح باشد».3
اينجا نيز به طور واضح طرفداري از اعلامية حقوق بشر، زمينهسازي ظهور مصلح معرفي شده است!
ايشان همين سازمانهاي بينالمللي و مجامع به ظاهر طرفدار حقوق بشر را مقدمة آمدن منجي ميخواند:
«يکي از نشانههاي ظهور منجي، نفرت بشريت از جنگ و خونريزي است. در آن عصر علاقه به صلح و گفتوگو و کنار گذاشتن اختلافات و تشکيل سازمانها و مجامع مختلف در سطح جهان اوج ميگيرد».4
«امروز بشر به جاي خشونت، منشور حقوق بشر را تدوين کرده است و عليه جنايتکاران جنگي دادگاه تشکيل ميدهد و اينها همه گوياي اين است که حرکت بشريت به سمت رعايت حق و عدالت است».5
2. همآغوشي مباني اين نظريه با مباني حقوق بشر
اعلاميهاي که مجمع عمومي سازمان ملل متحد در 10 دسامبر 1947 م. به نام «اعلامية جهاني حقوق بشر» تصويب کرد، اساسش همان «اعلامية حقوق بشر»ي است که در مقدمة قانون اساسي 1791 فرانسه گنجانده شده است و قصهاي دور و دراز دارد. اساس اين اعلاميه مبتني بر نظرية «حق طبيعي» است که آن نيز خود مبتني بر «فردباوري» (individualism) ميباشد. بدون درک اينها روح و جوهر حقوق بشر فهميده نميشود.
«حقوق طبيعي» مقابل «حقوق موضوعي» و قانوني است و منظور از آن، حقوقي است که طبيعت و ذات آدمي قبل از هر مدنيّتي اقتضاي آن را دارد. اصل اوّل اعلامية مذکور ميگويد: «تمام افراد بشر آزاد به دنيا ميآيند و از لحاظ حيثيت و حقوق با هم برابرند». اساسيترين حقوق طبيعي، حقّ زندگي، برابري، امنيت و آزادي است. (اصل سوم حقوق بشر).
«جان لاک» فيلسوف ليبرال انگليسي پيشرو طرح نظرية حقوق طبيعي در عصر جديد است. او حقوق طبيعي را ناشي از خدا نميداند بلکه آن را اصلي ميداند که به بداهت عقلي دريافته ميشود.6
پس بشر مدرن اين حقوق پايه را با عقل خودبنياد کشف و وضع کردند نه براساس حرفهاي خدا و اديان، لذا به زودي در مقابل اينها قد علم کرد. نظرية حقوق طبيعي، خود، ريشه در «فردباوري» دارد. فردباوري نظريهاي سياسي و اخلاقي است که کامروايي فرد را غايت عمل اجتماعي و زندگي ميشمارد و پاية آن بر اين فرض استوار است که سودجويي فرد به خودي خود به سود کلّي جامعه ميانجامد. فردباوري را به معناي رهايي فرد از قيد وظايف اجتماعي و نفسپرستي آزادانه هم گرفتهاند، امّا محافظهکاران قرن بيستم آن را در برابر «جامعهباوري» (سوسياليسم) نهادند و عنواني براي دفاع از حقوق و آزاديهاي اساسي فرد ساختند که به نظر ايشان سوسياليسم نابودکنندة آنها بود.
اين اصالت دادن به فرد و غايت کردن کامروايي او در عمل اجتماعي در عصر جديد به صورت يک جنبش فکري همراه با جنبش «دين پيدايي» (رفورماسيون) در سدة شانزدهم در اروپا بروز کرد. همين جنبش بود که در اروپا امکان آزادي فرد در رابطه با خدا را فراهم کرد.7
نظرية حق طبيعي با آن خاستگاه، موجب تحولاتي نيز شد. از جملة آنها يکي همين رفورماسيون بود. غير از اين حق طبيعي خوشايند طبقة ميانة رو به رشد واقع و توجيهي براي سرمايهداري (کاپيتاليسم) شد. چون اصل بودن فرد و کاميابي او در مقابل آرمانها و عقايد پيشساختة جامعه (مثل رفع نظام طبقاتي و...) اين امکان را ميدهد که او هرچه بيشتر سرمايه اندوزد. از اين رو حقوق طبيعي هم در انقلابهاي آمريکا و هم در انقلاب فرانسه نمود يافت و در بيانيهها و اعلاميههاي آن منعکس شد. همينها بعداً به موازات رشد و جهانشمولي نظام سرمايهداري اساس اعلامية جهاني حقوق بشر گرديد. دموکراسي نيز از شکم همين حقوق طبيعي متولد شد. در قرن 17 فحواي حقوق طبيعي ظاهر شد که: حکومت بايد بر پاية خواست و خرسندي مردم [بخوانيد طبقة سرمايهدار] باشد. چنانکه بعداً همين در اصل 21 اعلامية حقوق بشر کنوني هم انعکاس يافت. هواداران اين نظر بدان رسيدند که جامعة سياسي خود حاصل يک قرارداد است.8 هرچه افراد آزاد بخواهند همان بايد بشود. پس دموکراسي صورت سياسي فردباوري است. از اين پس «عدالت» نيز چيزي جز خواست و رضايت فرد تصور نميشد. بلکه اساساً عدالت را تجلّي شرايط قرارداد اجتماعي شمردند. تاکنون ارسطوئيان يا متکلّمان مسيحي مثل آکوئيناس عدالت را يک واقعيت عيني منفک از اميال افراد ميدانستند که دولتها موظف بودند افراد را به آن سو هدايت کنند تا با نزديک شدن به آن، فرد و جامعه تکامل يابد. لذا حقوق افراد از تکليفشان نسبت به اين مهم انتزاع ميشد در حالي که در دنياي مدرن عدالت خواست و رضايت افراد معنا ميشد و به نسبيت آن حکم ميگرديد. لذا برعکس نظر متکلمان مسيحي، تکاليف را مأخوذ از حقوق افراد ميگرفتند. يعني در جوامع مدرن افراد تا جايي که برخوردار از حقوق تصور شوند در برابر جامعه موظّفند. ماده اوّل از اصل 29 اعلامية حقوق بشر به صراحت ميگويد: «هرکس در مقابل آن جامعهاي وظيفه دارد که رشد آزاد و کامل شخصيّت او را ميسر سازد».
لذا خوانندة فکور نبايد عدالت در کلمات اينان را به همان معناي عدالت اسلامي يا فلسفي شناخته شده حمل نمايد که مقصود آن، ارسال رسل و انزال کتب بوده است.
حتي اگر اين تاريخ را سر و ته بخوانيم نتيجه همين ميشود. بدينگونه که وقتي بشر پس از تجربة قرون وسطايياش، اختلافات مذهبي، برداشتهاي متفاوت از يک دين و جنگ بين اديان را مشاهده کرد فاش فهميد حتي اگر بخواهد نميتواند قانون زندگي اجتماعي را از دين اخذ کند، چون که به نظر او پراختلاف آمده و درگيرياش حل ناشدني مينمود. پس به عقل خودبنياد (همان بداهت جانلاک) روي آورد تا قوانيني به ظاهر غيرعقيدتي و غير ايدئولوژيک بنا نهد که قابل تعميم به متديّنان هر دين و هم بيدينان باشد، به شرط اينکه متديّنان از حرفهاي دين خويش در حوزة اجتماع و سياست دست بردارند يا مطابق همان محصول مدرن ـ که در منشور حقوق بشر نمود مييافت ـ احکام دينشان را تفسير و تأويل برند.
تدوين و تنظيم چنين قانون مافوق هر ديني، نيازمند يک محور بود که لاجرم نميتوانست خداي يک دين، انسان مؤمن به ديني خاص يا... باشد، بلکه انسان فارغ از هر دين، جنسيت، نژاد و مليتي بايد محور قرار ميگرفت (همان فردباوري) او را محق به حقوقي طبيعي کردند که بر همة تکاليف و تعاريف ديگر ـ حتي تکاليف و تعاريف مورد اتّفاق اديان ـ حاکم بود. لذا قابل جهاني شدن و از بين برندة اختلافات و... ميگرديد.
با کمال تأسف در آثار نويسندة اين کتاب، همين تقرير را مييابيم؛ براي نمونه:
«براي از بين بردن اختلاف در سطح جهان نيازمد يک کار فرهنگي از طرف دانشمندان مذاهب مختلف هستيم. ما معتقديم همانطور که اسلام براي انسانها شخصيت قائل است، مذاهب ديگر نيز چنين ديدگاهي دارند. اگر علما و دانشمندان مذاهب ديگر ميخواهند جلوي اختلافات را بگيرند و مانع اقدامات تروريستي بشوند، بايد اعلام کنند که همة انسانها با هم برابر هستند».9
يعني اينکه همان محور اساسي در عصر مدرن(!)ـ تساوي مطلق حقوقي انسانها با هم ـ ملاک و معيار مافوق هر برداشت و حلّال اختلافات ديني است! در حالي که در گفتمان قرآن پذيرش «کلمة توحيد» محور براي حلّ اين اختلاف معرفي شده است:
«بگو اي صاحبان کتاب آسماني بياييد در عمل به سخني که ميان ما و شما يکسان است گرد آييم و آن اينکه جز خداي يکتا را نپرستيم و چيزي را شريک او قرار ندهيم و برخي از ما برخي ديگر را به جاي خدا صاحب اختيار خود نگيرند. پس اگر از اين دعوت روي برتافتند بگوييد: گواه باشيد که ما مسلمانان تسليم خداييم».10
ايشان با محور قرار دادن حقّ طبيعي انسان براي حلّ اختلافات مذهبي، طبيعي است نتيجه بگيرند:
«هرچه بيشتر در زمينة مساوات حقوقي بشر تفکر کنيم و بينديشيم به اديان و بشريت خدمت کردهايم».11
و بر اين اساس چون منشور حقوق بشر را به دنبال اين مقصد ميداند آن را ستايش نمايد:
«تدوين منشور ملل متحد ـ آنهم بعد از جنگ ويرانگر دوم جهاني ـ و به تبع آن تشکيل سازمانهاي مدافع حقوق بشر نظير سازمان عفو بينالملل، سازمان حقوق بشر، دادگاه محاکمة جنايتکاران جنگي همه در راستاي اتحاد و هماهنگي تمام بشريت است».12
حالا ديگر غرابتي ندارد وقتي از ايشان بخوانيم؛ «مروّجان واقعي دموکراسي و حقوق بشر طرفدار مهدويت و منتظر مصلح به حساب ميآيند».(!)
و در جاي ديگر اين کتابچه، شهادت شهيدان را نيز بدين منظور تأويل ببرد. آنجا که ميگويد: «شهيد، احياي آزادي تحقق عدالت و برابري و تثبيت حقوق بشر را در سرلوحة افکار خود ميپروراند».(!)13
3. فساد ديگر نظريه: پذيرش پايان تاريخ
اگر کسي مروّجان دموکراسي و حقوق بشر را طرفدار مهدويت و منتظر ظهور مصلح بداند اوّلين لازمة آن پذيرش نظرية پايان تاريخ بودن غرب است. چنين شخصي، دموکراسي ليبرال را مدينه فاضلة انساني و بهشت زميني آدميان دانسته است! براي روشن شدن مطلب به چهار برهان پايان تاريخ که از سوي تئوريپردازان غربي مطرح شده اشاره ميکنيم. وجه مشترک هر يک از اين تقريرات چهارگانه يک کلام است که: دموکراسي ليبرال و ارزشهاي منعکس شده در اعلامية حقوق بشر، فرجام موعود زمين است که بايد جوامع عقبمانده در آن هضم شوند.
3ـ1. برهان فوکوياما: او نويسندة معروف و معاصر آمريکايي است که تئورياش به نام «آخرالزّمان» مشهور ميباشد. استدلال او مبتني بر تلقّي هگلي از چيزي به اسم «جريان حقيقي تاريخ» است. تاريخ در اين تلقي، خود داراي کمال است و اين کمال هم معنوي است و هم مادي. هنگامي به آخرالزمان ميرسد که کمال معنوي و ذاتي هر دو حاصل شوند. به عقيدة هگل کمال معنوي در سال 1806 اتفاق افتاد. زماني که ناپلئون شکست خورد امّا کمال مادي تاريخ به تأخير افتاد، لذا ميبايست هيتلر و نازيسم پيدا شود و شکست بخورد. مارکسيست پيدا شود و شکست بخورد تا دموکراسي ليبرال از بين همه موفق به درآيد و بر قلة جهانگشايي و حکومت جهاني فائق آيد.
«آلن دوبوار» نظرية فوکوياما را بنياد ايدئولوژي آمريکايي ميخواند و ميگويد: «باور به اينکه آمريکا در سياست رمز و راز خوشبختي را کشف کرده است. باور به اينکه اين فرمول سياسي (دموکراسي ليبرال) قابل تعميم به سراسر کرة زمين است».
روشن است که نظريه «مهدويت و دموکراسي» چقدر بر پايان تاريخ آمريکايي منطبق آست؟!
3ـ2. برهان مک لوهان: اساس نظر وي بر اين مطلب استوار است که انقلاب در اطلاعات، افراد کرة زمين را مثل اهالي يک دهکده کرده است. پس مرزها درنورديده شده، فرهنگها يک کاسه گشته و عناصر کليدي ساختار اجتماعي (اقتصاد، سياست و فرهنگ) به سوي يکساني ميروند و اين امر طبيعتاً اقتضاي يک حکومت جهاني واحد را دارد. از سوي ديگر با توجه به سرچشمة اين انقلاب يعني تحول در عمليات با اطلاعات که غرب است تفکر ليبراليسم و ارزشهاي مدرن (مثل حقوق بشر، دموکراسي و...) بيش از هر فکر ديگر فرصت بسط و عرضه پيدا ميکند. به نظر او اگر واقعبينانه نگاه کنيم بايد منتظر باشيم که فرهنگها و تفکرات مختلف سياسي به نحو طبيعي در داخل فرهنگي غالب حل شوند و آن فرهنگ غالب همان دموکراسي ليبرال است.
آيا روند تحولات جهاني، بهخصوص پس از تدوين منشور حقوق بشر را نشانة از بين رفتن افکار مخالف آزادي و در نتيجه رسيدن روز سرشار از عدالت براي بشريت دانستن، پذيرفتن پايان تاريخ به قرائت مکلوهان نيست؟!
3ـ3. برهان آلوين تافلر: او مدلي خاص را براي تحول در ذات، ماهيت و سرچشمة قدرت ارائه ميدهد. وي معتقد است که در قرن 19 و نيمة اوّل قرن 20 توان نظامي معيار قدرت سياسي در صحنة جهاني بوده است. سپس به تدريج سرچشمه قدرت به توان اقتصادي تغيير يافته که وضعيت امروز است و اين تحول جوهري در قدرت ادامه دارد. تحول بعدي تغيير سرچشمة قدرت از ثروت به دانش است. با توجه به اينها مسلماً غرب در آينده محور عمدة قدرت خواهد بود، زيرا تمرکز دانش و اطلاعات و عمليات با آن در غرب است. ديگر اينکه به نظر او دموکراسي با همة اشکالات عملي که تاکنون بروز داده، بهترين راه و رسم زندگي اجتماعي است. لذا بايد غرب سعي کند؛ با استفاده از همة امکانات ارزشهاي ليبرال را جهانشمول کند؛ در اين صورت دنياي فردا يعني دنياي اطلاعات محور، داراي نظم خواهد بود.
البته ناگفته پيداست که در اين نظم نوين، غرب کدخداي دهکده و بقيه رعيت اويند. چنانکه تافلر خود ميگويد فاصلة آنان که صاحب دانش و آگاهي هستند با کساني که از آن برخوردار نيستند روز به روز بيشتر ميشود و عملکرد اين فاصله غيرقابل پر کردن ميباشد.
آيا به اسم «در مسير علم و دانش حرکت کردن» و تئوريزه کردن ارزشهاي ليبرال و حتي مارک مقدس زمينهسازي ظهور بدانها زدن، جز کمک به کدخدايي ابرقدرتها، جهانيسازي آمريکايي و زبوني شيعيان محمد(ص) نتيجهاي دارد؟!
3ـ4. برهان ساموئل هانتينگتون: او نظر خود را در مورد غرب با مرور بر دورانهاي مختلف تطبيق ميدهد؛ از زماني که سازمانهاي بينالمللي به وجود آمدند يعني حدود يک قرن و نيم پيش (معاهده وستفالي) تا حدود انقلاب فرانسه، دنياي غرب گرفتار جنگهاي شاهان و شاهزادگاني بود که هر يک براي اغراض خاص به اين درگيريها مبادرت ميورزيدند. به تدريج ماهيت کشورها حول محور «ملت» شکل گرفت و از آن به بعد در دنياي غرب جنگ شاهان به جنگ بين ملتها تبديل شد. اين وضعيت با انقلاب روسيه پس از جنگ جهاني اوّل کاملاً تغيير کرد و درگيريهاي غرب مرزهاي ايدئولوژيک پيدا کرد. در آغاز، درگيري بين دموکراسي ليبرال، فاشيسم و کمونيسم بود و پس از جنگ جهاني دوم منحصراً به صورت درگيري و رقابت بين دو ابرقدرت آمريکا و شوروي. حال پس از اضمحلال شوروي وضعيت عوض شده است. لذا غرب به سوي يکپارچگي بيشتر ميرود و در صحنة جهاني عوامل غربي با عوامل غيرغربي مقابل هستند. البته حکومتها (کشور ـ ملت) بازيگران اصلي صحنة جهاني باقي ميمانند، لکن تقابل و درگيري عمده بين ملتها و گروهها و فرهنگهاي مختلف خواهد بود. يعني برخورد تمدنها و سياست جهاني را تحتالشعاع قرار ميدهد. خطوط گسل بين تمدني خطوط نبرد آينده است. درگيري بين تمدنها آخرين مرحله از تطور و درگيريها در جهان مدرن است که البته از بين هشت تمدن موجود (غربي، کنفوسيوسي، ژاپني، اسلامي، هندو، ارتدوکس، اسلاوي، آمريکاي لاتين، آفريقايي) سرانجام تمدنهاي اسلامي و کنفوسيوسي در کنار هم، روياروي تمدن غرب قرار ميگيرند. گرچه پيروزي با تمدن غرب با ارزشهاي مدرن (حقوق بشر، دموکراسي و...) خواهد بود.
بدين ترتيب مشاهده ميشود که نظرية نويسنده دربارة مهدويت و دموکراسي مستلزم پذيرفتن همين تقديرها يا حداکثر قرائت پنجمي براي تئوريزه کردن خاتم بودن دموکراسي و حقوق بشر ميباشد.
لازمة نظرية ايشان اين است که جوامع مستکبر جهان در انتظار منجي از مؤمنان و مسلمانان جلودارترند و فاصلة آنها تا مدينة مهدوي کمتر است! در حالي که براساس حديث شيخ مفيد(ره) در کتاب «اختصاص» از امام صادق(ع): «شيعيان در دولت قائم رؤساي روي زمين و حکمران آن ميباشند».14 شيعهاي که تابع پارادايم غرب مدرن گردد، ديگر چه امتيازي بر خود صاحبان اين پارادايم دارد تا در آينده، از رؤساي زمين گردد و اصلاً شيعه اهلبيت(ع) نام گيرد؟!
بنا به توصية ايشان ما هم بايد براي زمينهسازي ظهور به دنبال فراگير کردن حقوق بشر و جهانشمول نمودن دموکراسي باشيم و در واقع جهانيسازي غرب را پاس داشته، معاونت نماييم. بر اين اساس اين نظريه اساساً ظهور منجي را بيمعنا ميکند!!!
چون، يا موعود امم ميآيد تا طرحي نو دراندازد و بشر را از اين سيطرة جهاني الحاد و شرک ـ که در همين منشور جلوهگر است ـ نجات دهد که در اين صورت حرف صاحب نظريه غلط درميآيد!
يا ميآيد که همان چيزي را بگويد و جلو ببرد که در طيّ اين قرون، غرب صدا زده و مافوق هر مرام، عقيده و ديني خواسته و راه جهاني شدنش را هموار کرده است؛ که در اين صورت آن حضرت چگونه نجاتدهنده خواهد بود، وقتي مطابق و موافق وضع موجود ظهور ميکند! و تازه پيش از او انتلکتهاي مدرن اين زحمت را کشيدهاند و در کنار امپراطور رسانهاي، سازمانهاي سيا و پنتاگون نيز براي صدور دموکراسي به مملکت محمد(ص) آتش تهيه لازم را ريختهاند! آيا اين نظريه شمايل تنها منجي بشريت را ـ نعوذ بالله ـ چيزي از جنس جانلاک، هابز، پوپر يا سوپرمنهاي آمريکايي نميکند که مسئول شايع کردن حقوق بشر و دموکراسي در دنيايند؟!
ميماند يک احتمال که خداي نکرده بر اين باور باشيم که آن حضرت براساس همين منشورهاي جهاني و در بستر دموکراسي، آنچه را غرب سرمايهداري وعده داده و نکرده است، اجرا نمايد! که در اين صورت آن ذخيرة خدا و باقي ماندة انبيا و اوليا را به جاي اجراي قرآن و سنت به مجري اهوا و آراي بشر مدرن فرو کاستهايم، در حالي که هر صبح ميخوانيم: «واجعله اللّهم ... مجدّداً لما عطّل من أحکام کتابك و مشيّداً لما ورد من أعلام دينك و سنن نبيك(ص)».15
4. تناقض آشکار با روايات آخرالزمان
کافي است مروري اجمالي بر اخبار ظهور و روايات مربوط به سنت و سيرت امام مهدي(ع) بشود تا به آساني بر سطحي بودن و بطلان اين نظريه صحّه گذارده شود. در اينجا به خاطر اختصار صرفاً به يک دسته از اين اخبار که مشي و سيرة آن حضرت را همان مشي و سيرت جدّش معرفي ميکند، اشاره مينماييم:
براي نمونه: پيامبر(ص) دربارهاش فرموده است: «دين را همانگونه که من در اوّل زمان اقامه کردم او در آخرالزمان اقامه ميکند». حضرت صادق(ع) نيز به مفضل بن عمر فرمود: «هر وقت قائم ما ظهور کند، مانند پيغمبر(ص) زندگي ميکند و به روش اميرالمؤمنين(ع) رفتار مينمايد».»17
آيا ايشان ميتواند ادعا کند که سيرة اميرالمؤمنين(ع) منطبق بر آموزههاي مدرن و اصول اعلاميه حقوق بشر است؟! از اشتراک لفظي بايد به خدا پناه برد که در جملات بسياري از بزرگان از دموکراسي علي(ع)، حقوق بشر اسلامي و... سخن رفته است. همين نويسنده دراينباره دارند: «پنج سال حکومت آن حضرت [علي(ع)] بزرگترين آزادي و دموکراسي واقعي را به ما ارزاني داشت».18
امّا اعلامية حقوق بشر ـ که ايشان خود را از روحانياني معرفي ميکند که مجدّانه موافق آن است19ـ داراي سي اصل معلوم و واضح است. براي مثال در اصل 18 آن حقّ ارتداد به رسميت شمرده شده است. آيا در حکومت علي(ع) نسبت به مرتدّان حد اجرا نميشد و آن حضرت بدان قائل نبود؟!
اينکه ايشان در مواضع جديدشان به تعطيلي حدود در زمان غيبت فتوا دهند ممکن است اين تعارض را موقتاً به نفع اعلامية حقوق بشر پينهدوزي کند امّا لابد توجه دارند که وصف امام عصر(ع) در روايات ما، «تجديدکنندة احکام الهي تعطيل شده در زمان غيبت است».20 و امثال اين فتوا غير از مناقشات فقهي، موضوع برخورد آن امام غايب خواهد بود. يعني به چيزي مايل شدهايم که حضرت پس از ظهورش آن را برمياندازد.
البته گويندگان و نويسندگان ديگري به صراحت ميگويند که: «در آيات قرآن کريم و احاديث منسوب به پيامبر(ص) و ائمة هدي(ع) مواردي معارض حقوق بشر يافت ميشود».21 مثلاً واقعاً با کدام منطق تفسيري ميتوان آية 33 سورة مائده را با اصل پنجم حقوق بشر جمع کرد؟!
اينجا يک سؤال اساسي رخ مينماياند؛ به راستي چرا پيامبر اعظم(ص) و اميرمؤمنان(ع) زودتر از غرب مدرن، حقوق بشر و دموکراسي را احيا و جهانگير نکردند؟!
برخي اينها را چيزهاي مرغوب و نيکويي ميدانند که بشر عصر سنت لايق دريافت آنها نبوده است و درک آن، بلوغ فکري بيشتري ميطلبيده است. آيا واقعاً چنين است؟! چرا دوران مدرن با حکومت علوي و جامعة نبوي شروع نشد؟! براي پيشينهسازي حقوق بشر از جمله به کتيبهاي گلي به زبان آکدي و خطّ ميخي ـ که در سال 1879 در نينواي عراق کشف شد و هماکنون در موزة بريتانياست ـ تمسک ميکنند. کورش 538 سال پيش از ميلاد مسيح در بيانية خود از جمله آورده: «منشأ قدرت، خواست و ارادة مردم است». پس چنين چيزي در عهد پيامبر(ص) يا حکومت علي(ع) هم ـ که از قضا در همين سامان هم بوده است ـ ميتوانست احيا و تکميل گردد و زودتر از انقلاب فرانسه و قرن 20 اعلاميه جهاني شود، امّا چرا نشد؟! چرا خداوند تنفيذ نکرد اصليترين مصدر قدرت يعني خلافت و امامت به دست شورا و سقيفه بيفتد و آن را به شکل الهي و آسماني جعل کرد؟!
دموکراسي نيز در يونان باستان شناخته شده بود. در دولت شهرها، مجالس سنا و... برپا بوده است. چگونه چيزي که چند قرن قبل از ميلاد مسيح ـ عليرغم مخالفت حکيمان ـ اجرا ميشده در چند قرن پس از ميلاد در عهد رسولالله(ص) قابل اجرا نباشد؟!
غير از اين است که دين خاتم از کنار اين روش زندگي اجتماعي با اعراض گذشته است و روشي نو را بنيان نهاده است؟! واقعاً در کدام متد اجتهادي مقبول ميتوان «مشورت» و «بيعت» را با استانداردهاي دموکراسي ليبرال و اعلاميه حقوق بشر يکي دانست؟!
اينکه به گفتة نويسنده، «مشروعيت اعمال حاکميت و حکومت قانوني در زمان غيبت منوط به رأي مردم است»22 سخني است که جداگانه بايد بدان پرداخت امّا اينکه طوري دربارة مهدويت نظر دهيم که از لوازمش اين باشد که حتي حکومت مهدوي(ع) هم، منطبق بر همين استانداردهاي مدرن منعکس در اعلامية حقوق بشر و دموکراسي ليبرال است جفايي نابخشودني است. فرق اساسي حقوق بشر غربي با قوانين اسلام اين است که در قوانين اسلام، خداوند محور است و انسانها در قبال او مکلف و از جانب او داراي حق، امّا حقوق طبيعي غرب اساساً بر اصل انسانمحوري بنيان نهاده شده است، به طوري که حتي تکاليف الهي نيز در چهارچوب حقوق او سنجيده ميشود. حتي اگر در تأويلهاي منفعلانه و مضطرّانة برخي در زمانة غيبت جوامع اسلامي ناچار به رعايت اين حقوق باشند که در واقع چيزي جز استضعاف از سوي مستکبران نيست امّا هرگز نبايد سيماي ظهور را نيز همينگونه تصوير کنند و دورة عزّت و سرافرازي را به رنگ دورة استضعاف و نداشتن حليت و سبيل عليه مناسبات غلط حاکم تفسير و تبيين نمايند. بر اين مدعا دو روايت ذيل کفايت ميکند:
الف) نعماني در کتاب «غيبت» خويش از عبدالله بن عطّار نقل ميکند که از امام باقر(ع) پرسيدم: «مهدي(ع) با چه روشي در ميان مردم حکومت ميکند؟ فرمود: «آنچه را از ما قبل ظهورش مانده، منهدم ميکند، همانگونه که رسولالله کرد و اسلام را از نو شروع مينمايد».23
پس حکومت مهدي(ع) استمرار اين بناي غلط برآمده از غرب نيست بلکه در جنگ حتمي با آن است.
ب) حديث دوم، پاسخي درخور، به صاحب نظريه است. شيخ طوسي در کتاب «تهذيب» از علاءبن محمد نقل ميکند که از امام باقر(ع) پرسيدم: قائم چگونه در ميان مردم رفتار ميکند؟ فرمود: «به روش پيغمبر(ص) عمل مينمايد، تا آنکه اسلام را آشکار سازد». عرض کردم: روش پيغمبر چگونه بود؟ فرمود: «پيغمبر آثار کفر جاهليت را از ميان برد و با مردم به عدالت رفتار کرد. قائم(ع) نيز هر موقع قيام کند هرگونه عمل نامشروع و بدعتي را که هنگام صلح و سازش با بيگانگان اسلام در ميان مسلمانان مرسوم گشته از ميان ميبرد و مردم را به عدالت گستري رهبري مينمايد».24
در اين حديث، امام باقر(ع) چنين تأويلاتي را پيشبيني فرموده و به روشني هويدا نموده که در زمان صلح و سازش با کفار، بدعتهايي ـ از جمله همين ارزشها و باورها ـ در ميان مسلمانان شايع ميشود که قائم اهلبيت(ع) اينها را برمياندازد. به جدّ بايد مراقب بود تا اگر در صف منتظران آن حضرت که راغبان دولت کريمه و زمينهسازان عزّت اسلام و ذلت نفاق و اهلش هستند، قرار نگرفتيم، لااقل انتظار را به ضدّش تفسير نکنيم و جوانان شيعه را تحت عنوان انتظار موعود(ع) به راه و طريق دشمنان امام دعوت ننماييم.
محسن قنبريان
ماهنامه موعود شماره 109
پينوشتها:
1. شفيعي سروستاني، ابراهيم، معرفت امام زمان(ع) و تکليف منتظران، صص 369ـ372.
2. چکیدة اندیشهها، ص 40.
3. همان، ص 60.
4. همان، ص 61.
5. همان، ص 92.
6. آشوري، داريوش، دانشنامة سياسي، ص 139.
7. همان، ص 244.
8. همان، ص 140.
9. چکيدة انديشهها، ص 67.
10. سورة آل عمران (3)، آية 64.
11. چکيدة انديشهها، صص 29-30.
12. همان، ص 90.
13. همان، ص 45.
دربارة همخواني آراي نويسنده با مباني حقوق بشر، حقوق طبيعي، عدالت مدرن، قوانين عقيدتي استناداتي بيشتر از آنچه ذکر شد در دست است. براي مشاهدة آن ديدگاهها به همين کتاب رجوع نماييد.
14. مهدي موعود، ترجمة جلد 13 بحارالانوار، ترجمة علي دواني، ص1133.
15. امام صادق(ع)، دعاي عهد.
16. مهدي موعود، ص 1050.
17. همان، ص 1121.
18. چکيدة انديشهها، ص 57.
19. همان، ص 91.
20. دعاي عهد.
21. کديور، محسن، مجلة آفتاب، ش 21، ص 107.
22. چکيدة انديشهها، ص 80.
23. مهدي موعود، ص 1123.
24. همان، ص 1137.
غيبت امام زمان همواره مسئلهاي مهم، معتبر و اصيل بوده است، به گونهاي كه همة معصومان(ع) از نبي مكرم اسلام(ص) تا امام عسكري(ع) بارها به وجود مبارك ايشان و ويژگيهايشان اشاره فرمودهاند روايات مجامع روايي شيعه و غير شيعه در اينباره نه از حد استفاضه بلكه از تواتر متعارف نيز فزونتر است.
محمّدبن عثمان عَمْري1 ميگويد: «از پدرم شنيدم كه در خدمت امام حسن عسكري(ع) بودم كه پدرم پرسيد: اين سخن حق است كه پيامبر فرمودهاند: من مات و لم يعرف امام زمانه مات ميتةً جاهليةً»؟ فرمود: «آري، اين سخن درست است و هيچ ترديدي در آن نيست». همانطور كه شكي در روز بودن اين روز روشن نيست: سپس پدرم عرض كرد: پس از اينكه شما رحلت كرديد، امام بعد از شما كيست؟ امام عسكري(ع) به نام مبارك حضرت ولي عصر(ع) اشاره كردو آنگاه فرمود: او غيبتي طولاني دارد كه در آن عدّهاي سرگردان، گروهي هلاك و دستهاي دچار ترديد ميشوند.2
بر اين اساس، غيبت ولي عصر(ع) براي بسياري دشوار ميآيد و شكوك و شبهات اذهان بسياري را مسموم ميكند و عدّهاي ميگويند كه چگونه ميشود انساني بيش از هزار سال زنده بماند و گروهي سخن ميرانند كه از كجا معلوم است كه بيايد و كسان ديگر شبهادت ديگري، سادهتر يا پيچيدهتر را در اذهان ميپرورند و آن را ميپراكنند.
از سويي ديگر، زمان ظهور وجود مبارك بقيّـ[الله الاعظم(ع) معلوم نيست ـ گر چه ما بايد همواره منتظر ظهور خجسته حضرتشان باشيم ـ و امكان دارد خداي نخواسته غيبت ايشان طولاني شود و ترديدها، شكوك و شبههها نيز افزايش يابد! چه كنيم تا به اين ترديدها در ابعاد فردي يا اجتماعي مبتلا نشويم؟ درباره مسائل و مباحت ديني، به ويژه چالشهاي فراروي حكومت اسلامي نظير مبحث ولايت فقيه، به دام قرائتهاي مختلف گرفتار نياييم؟ در باتلاق شبهات فرو نرويم و با شناخت اصيل امام و امامت مشكلات موجود در اين زمان را باز شناخته و بگشاييم؟
شناخت وليّ خدا و امام عصر(ع) تنها راه نجات و رستگاري است كه با درخواست از ذات اقدس خداوند و مجاهدة علمي و عملي شدني است.
وعدة نجات از جهالت و رهايي از ظلمت گمراهي، دل انسانهاي بصير را از ديرباز به خود مشغول داشته است، به همين سبب بعضي شاگردان خاص اهل بيت(ع) براي يافتن طريق هدايت سؤالاتي دربارة معرفت آخرين حجّت الهي در محضر ايشان مطرح كردهاند، چنانكه جناب «زراره» ميگويد: «از امام صادق(ع) شنيدم كه فرمود: قائم ما پيش از قيام خود، غيبتي طولاني خواهد داشت. عرض كردم: چرا؟ فرمود: اگر ظاهر باشد او را ميكشند؛ سپس فرمود: اي زراره! اوست كه انتظارش را ميكشند و مردم در ولادتش شك ميكنند؛ برخي ميگويند پدرش از دنيا رفته و فرزندي از خود به جاي نگذارده است؛ بعضي ميگويند در شكم مادرش است؛ گروهي گويند غايب است؛ دستهاي گويند به دنيا نيامده و عدّهاي ديگر گويند دو سال قبل از وفات پدرش به دنيا آمد! همان، موعود منتظر است؛ ولي خداي والا ميخواهد تا شيعيان را بيازمايد و در اين آزمايش دشوار، باطلگرايان دچار ترديد ميشوند».
زراره (كه گويا از چنين فضاي پر شبههاي هراسناك گرديد، و به فكر چاره افتاده) گويد: به امام صادق(ع) عرض كردم: فدايتان شوم! اگر من در آن زمان بودم چه كنم؟ آن حضرت فرمود: اگر آن زمان را ادارك كردي، پيوسته دل به اين دعا مشغول دار: «اللّهم عرّفني نفسك، فأنّك إن لم تعرفني نفسك لم أعرف نبيّك، اللّهم عرّفني رسولك، فإنّك إن لم تعرّفني رسولك لم أعرف حجّتك. اللّهم عرّفني حجّتك، فإنّك إن لم تعرّفني حجّتك ضللت عن ديني».3
دعا تنها مجموعهاي از الفاظ براي خواندن و درخواست كردن نيست، بلكه معارف عميق و درسهاي ارزشمندي در دعاي معصومان(ع) نهفته است كه فهم آنها و تأمّل در آموزههايشان ارزشمند علمي و عملي به بار ميآورد، چنانكه زراره در پي آن است با اين درس گرانقدر مشكل خويش را بگشايد.
براي شناخت مقام والاي امامت و شخصيّت منحصر به فرد امام عصر(ع) راههاي فراواني هست؛ بررسي دعاها و زيارتهايي كه از خود امام عصر(ع) رسيده است و يا فرموده امامان ديگر(ع) در بارة آن حضرت از بهترين اين راههاست.
همانگونه كه تأمّل در عبارات «نهجالبلاغه»، سخنان سيّد الشهدا(ع) از آغاز تا پايان حادثه كربلا، معارف بلند «صحيفة سجّاديه» گوياي برنامههاي امام علي، امام حسين و امام سجّاد(ع) اند و از ايجاد حوزههاي علمي و برگزاري مناظرات علمي برنامه صادقين(ع) استنباط ميگردد، از ادعية مأثور يا مرتبط با امام عصر(ع) برنامههاي ايشان فهميده ميشود؛ زيرا وقتي امامي دعا ميكند، علاوه بر مقتضيات دعا، ويژگيهاي امامت و وظيفة امام در برابر امّت و چگونگي پيوند امام با امّت و تأثير ملكي و ملكوتي امام را تشريح ميكند.
بر اين پايه، كسي كه ميخواهد وجود مبارك وليّعصر(ع) را بشناسد، بهتر است زيارتها و دعاهاي مرتبط با آن حضرت را به دقت بررسي كند، تا به حريم معرفت آن امام همام بار يابد.
از سوي ديگر، شناخت امام زمان(ع) مراتبي دارد كه تأثير گذاري آنها در زدودن غبار جاهليّت و پاك كردن گرد تحجّر و ارتجاع يكسان نيست؛ زيرا آثار هر مرتبه از معرفت در تبيين انتظار حقيقي و صحيح، با مرتبه ديگر متفاوت است؛ مثلاً شناخت شناسنامهاي امام عصر(ع) و دانستن تاريخ ولادت و زمان غيبت صغرا و كبرا و امثال آن، هرگز همانند معرفت معناي حقيقي امامت و شناخت حقيقت ولايت و انطباق انحصاري آن شخصيّت حقوقي در فلان شخص حقيقي نخواهد بود؛ همانطور كه براهين حدوث، نظم، امكان ماهوي، امكان فقري و نظاير آنها براي شناخت خدا راهگشاست؛ امّا آنكه خدا را با الوهيّت ميشناسد، بهترين راه معرفت خداوند را پيموده و خدا شناس خوبي شده است؛ و نظير اينكه هر چند شناخت رسول از راه معجزه [كافي است، ولي] مربته بالاي معرفت را تأمين نميكند؛ امّا آن كه رسول را با علم به رسالت ميشناسد، از معرفت آن حضرت به سبب معجزه بينياز ميشود؛ چرا كه وقتي معني الوهيت و رسالت فهميده شد، خداوند و رسول شناخته ميشوند.
در روايت كليني و صدوق است كه ولي امر با اين خصوصيّات شناخته ميشود: «اعرفوا الله بالله و الرسول بالرسالة و أولي بالامر بالمعروف و العدل و الاحسان؛ خدا را با خدا، رسول را با رسالت و اوليالامر را با امر كردن به معروف و عدل و احسان بشناسيد».4 امّا اين نقل كافي نيست، زيرا هرگز با صرف امر به معروف و عدل و احسان نميتوان ولي امر را شناخت، چون آمران به معروف و... بسيارند، به همين دليل در نقل ديگري فرمود: «... بالمعروف و العدل و الاحسان؛ ... با معروف و عدل و احسان».5 نه «بالأمر بالمعروف؛ امر كردن به معروف»، زيرا امام با معروف، عدل و احسان شناخته ميشود نه با امر به آنها، آن كه ولي خداست و ولايت امر را بر عهده دارد به دستور دادن به معروف، عدل و احسان بسنده نميكند بلكه سنّت او معروف و سيرتش عدل و سريرة او احسان است.
اگر كسي معروف شناس باشد، حقيقت آن را در وليّامر در مييابد. همانطور كه شناسندة عدل و احسان، عدل و احسان را در سنّت و سريرة و سيرة امام مشاهده ميكند و در مييابد كه او صاحب مقام ولايت است.
از بررسي روايات و مطالعه حكايتهاي نيكبختاني كه توفيق زيارت آن امام را يافتهاند، برميآيد كه قامت و رخسار نازنين امام عصر(ع) در كمال زيبايي و اعتدال بوده و سيماي مباركش، دلربا و خيرهكننده است.
همين قامت رعنا و رخسار دلربا موجب شده است هزاران عاشق دلسوخته در آغاز هر صبح بازاري و التماس از خداي خود چنين بخواهند:
«خداوندا! آن چهره زيبا و جمال دلآرا را به من بنماي و چشمان مرا با يك نظر به او روشنايي بخش».2
از آنجا كه آشنايي بيشتر با صفات و خصال يوسف زهرا، حضرت مهدي(ع)راهي براي شناخت مدعيان دروغين به شمار ميآيد و افزون بر اين ميتواند موجب انس و ارتباط شيعيان با آن عزيز غايب از نظر باشد، با بهرهگيري از كلمات معصومان(ع) و حكايتهاي نقل شده از تشرّف يافتگان، به بررسي اين موضوع ميپردازيم. باشد تا به مصداق «وصف العيش نصف العيش»، ما هم از آن جمال دلآرا بهرهمند شويم.روايات فراواني در توصيف جمال دلآراي آخرين حجت خدا، حضرت مهدي(ع)وارد شده است كه در مجموع آنها را به دو بخش ميتوان تقسيم كرد:
الف) رواياتي كه به توصيف كلي سيرت و صورت آن حضرت، بسنده و از ايشان به عنوان شبيهترين مردم به رسول خدا(ص) ياد كردهاند كه از آن جمله به روايات زير ميتوان اشاره كرد:
1. از جابر بن عبدالله انصاري نقل شده است كه پيامبر گرامي اسلام(ص) فرمود:
«مهدي از فرزندان من است. اسم او، اسم من و كنيه او، كنيه من است. او از نظر خَلق و خُلق، شبيهترين مردم به من است».3
2. احمد بن اسحاق بن سعد قمي ميگويد: از امام حسن عسكري(ع) شنيدم كه ميفرمود:«سپاس از آن خدايي است كه مرا از دنيا نبرد تا آنكه جانشين مرا به من نشان داد. او از نظر آفرينش و اخلاق، شبيهترين مردم به رسول خدا(ص) است».4
با توجه به اين روايات، همه خصال و صفاتي را كه در قرآن و روايات به پيامبر گرامي اسلام نسبت داده شده است، به وجود مقدس امام مهدي(ع) نيز ميتوان نسبت داد. رواياتي كه به توصيف ويژگيهاي ظاهري پيامبر اكرم(ص) پرداختهاند، فراوانند. در اينجا به يكي از آنها اشاره ميكنيم. در روايتي كه از امام محمد باقر(ع) نقل شده، ويژگيهاي ظاهري پيامبر خاتم چنين توصيف شده است:
«رخسار پيامبر خدا، سپيد آميخته به سرخي و چشمانش سياه و درشت و ابروانش به هم پيوسته و كف دست و پايش پر گوشت و درشت بود؛ بدان سان كه گويي طلا بر انگشتانش ريخته باشد. استخوان دو شانهاش بزرگ بود. چون به كسي روي ميكرد، به خاطر مهرباني شديدي كه داشت، با همه بدن به جانب او توجه ميكرد. يك رشته موي از گودي گلو تا نافش روييده بود، انگار كه ميانه صفحه نقره خالص، خطي كشيده شده باشد. گردن و شانههايش مانند گلابپاش سيمين بود. بيني كشيدهاي داشت كه هنگام آشاميدن آب نزديك بود به آب برسد. هنگام راه رفتن محكم قدم برميداشت كه گويا به سرازيري فرود ميآيد. باري، نه قبل و نه پس از پيامبر خدا كسي مثل او ديده نشده است».5
ب) رواياتي كه خصال و سيماي امام مهدي(ع) را به تفصيل بيان كرده و ويژگيهاي آن حضرت را يك به يك برشمردهاند. برخي از رواياتي كه در اين زمينه وارد شده، به شرح زير است:
1. پيامبر گرامي اسلام، امام مهدي را شبيه خود معرفي كرده، در توصيف او ميفرمايد:«پدر و مادرم به فداي او كه همنام من، شبيه من و شبيه موسي زاده عمران است. بر [بدن] او نوارهايي [جامههايي] از نور است كه از شعاع قدس روشنايي مييابد».6
2. آن حضرت در روايت ديگري در توصيف چهره فرزندش، امام مهدي(ع)ميفرمايد:«مهدي از فرزندان من است. چهره او مانند ماه درخشنده است».7
3. پيامبر اعظم(ص) در روايتي، پيشاني و بيني امام مهدي(ع) را اينگونه توصيف ميكند:«مهدي از من است، پيشاني گشاده و بيني كشيده دارد».8
4. در روايت ديگري كه از پيامبر خاتم(ص) نقل شده، رنگ چهره و اندام امام مهدي(ع) چنين توصيف شده است:«مهدي مردي از فرزندان من است رنگ [چهره] او رنگ عربي و اندام او اندام اسرائيلي است بر گونه راست او خالي است كه همانند ستاره درخشان است».9
5. با توجه به همه ويژگيهاي ياد شده است كه پيامبر اسلام در وصف امام مهدي(ع) ميفرمايد:«مهدي، طاووس اهل بهشت است».10
6. امام باقر(ع) از پدرش و جدش روايت ميكند كه روزي امام علي(ع)در حالي كه بالاي منبر بود، فرمود:«از فرزندان من در آخرالزمان، مردي ظهور ميكند كه رنگ [صورتش ]سفيد متمايل به سرخي و سينهاش فراخ و رانهايش ستبر و شانههايش قوي است و در پشتش دو خال است، يكي، به رنگ پوستش و ديگري، مشابه خال پيامبر اكرم ـ درود خدا بر او و خاندانش باد ـ».11
7. امام رضا(ع) نيز در بيان صفات و ويژگيهاي امام عصر(ع)ميفرمايد:«قائم كسي است كه در سن پيرمردان و با چهره جوانان قيام كند و نيرومند باشد تا بدانجا كه اگر دستش را به سوي بزرگترين درخت روي زمين دراز كند، آن را از جاي بركند و اگر بين كوهها فرياد برآورد، صخرههاي آن فروپاشد».12
8. حضرت رضا(ع) در روايت ديگري، در پاسخ اباصلت هروي كه از ايشان پرسيد:
«نشانههاي قائم شما هنگام ظهور چيست؟» ميفرمايد:«نشانهاش اين است كه در سن پيري است، ولي منظرش جوان است، به گونهاي كه بيننده ميپندارد چهل ساله يا كمتر از آن است. نشانه ديگرش آن است كه به گذشت شب و روز پير نشود تا آنكه اَجَلش فرا رسد».13
9. ابراهيم بن مهزيار نيز كه به شرف ملاقات امام مهدي(ع) رسيده است، در بيان خصال آن امام ميگويد: «او جواني نورس و نوراني و سپيد پيشاني بود با ابرواني گشاده و گونهها و بيني كشيده و قامتي بلند و نيكو چون شاخه سرو. گويا پيشانياش ستارهاي درخشان بود و برگونه راستش، خالي بود كه مانند مشك و عنبر بر صفحهاي نقرهاي ميدرخشيد. بر سرش، گيسواني پرپشت و سياه و افشان بود كه روي گوشش را پوشانده بود. سيمايي داشت كه هيچ چشمي برازندهتر و زيباتر و با طمأنينهتر و باحياتر از آن نديده است».14
10. علي بن ابراهيم بن مهزيار اهوازي كه بيست مرتبه به شوق ديدار امام مهدي(ع) به حج مشرف شد و سرانجام نيز به توفيق ديدار آن حضرت دست يافت، در گزارش ديدار خود چهره و قامت دلرباي امام را اينگونه توصيف ميكند:«[رخسار] او [در لطافت] مانند [گلهاي] بابونه [و در رنگ، مانند ]ارغوان بود كه بر آن شبنم نشسته و [شدت سرخياش را] هوا شكسته است. او در اين حال، همچون شاخه درخت «بان»15 يا ساقه ريحان [خوشبو ]بود. نرمخو، بخشنده، پرهيزكار و پيراسته بود. او ميانه بالا بود، نه بسيار بلند قد و نه بسيار كوتاه قد. صورتي گرد، سينهاي فراخ، پيشاني سفيد و ابرواني به هم پيوسته داشت. بر گونه راست او خالي بود؛ چون دانه مشك كه بر قطعه عنبر ساييده باشد.16
گفتني است بيشتر مشخصاتي كه براي سيماي ظاهري امام مهدي(ع) ذكر شده، به طور مشترك، در روايات شيعي و سني آمده است و از اين جنبه اشتراك نظر زيادي ميان فرق اسلامي وجود دارد.
.: Weblog Themes By Pichak :.


