سوال : کیا ان لوگوں کو عادل سمجھا جاسکتا ہے جنہوں نے خدا اور رسول کی طرف فریب کی نسبت دی ہے ؟


جواب : جنگ احزاب ، اسلام کی مشہور جنگوں میں سے ایک ہے ، مشرکین اور یہود ،اسلام کو شکست دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ہوگئے اور انھوں نے دس ہزار مسلح افراد کے ساتھ مدینہ کا محاصرہ کرلیا ، مسلمانوں نے دشمنوں کے حملہ کو روکنے کے لیے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر ایک خندق کھودکر تیار کی ، ان کا یہ محاصرہ تقر یباً ایک ماہ تک برقرار رہا ، اس جنگ میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے اصحاب سخت امتحان میں مبتلا ہوگئے ، اور اس کٹھن مشکل اور متزلزل ماحول میںمومن اور متزلزل افراد کی شناخت بھی ہوگئی ، اصحاب رسول اس وقت دو گروہ میں تقسیم ہوگے :
ایک مومینن کا گروہ تھا جن کا شعار(نعرہ) یہ تھا”
قالُوا ہذا ما وَعَدَنَا اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ صَدَقَ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ “یہ وہی بات ہے جس کا خدا اور رسول نے وعدہ کیا تھا اور خدا و رسول کا وعدہ بالکل سچا ہے (۱) ۔
دوسرا گروہ منافقین کا تھا جن کا شعار یہ تھا کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے جھوٹا وعدہ کیا ہے
” ما وَعَدَنَا اللَّہُ وَ رَسُولُہُ إِلاَّ غُرُورا“۔ خدا و رسول نے ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے، (۲) ۔
وہ موٴمینن جن کا ایمان کمزور تھا وہ یہ خیال کرتے تھے کہ خدا اور رسول نے ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے ، کیا ان کو عادل وپاک کہا جا سکتا ہے ؟ البتہ وہ منا فق نہیں تھے ، چونکہ وہ مسلمان ہو نے کا اظہار کرتے تھے ، لیکن دل سے کا فرتھے، کیونکہ آیت میں دلوں کے بیمار ہو نے والوں کو منا فقین پر عطف کیا ہے ۔
اگر کوئی جنگ احزاب سے مربوط آیات کا دقت ّکے ساتھ مطالعہ کرے تو اس کو معلوم ہو جا یئگا کہ بعض صحابہ نے خندق کھودنے میں کس حد تک مقاومت کی ہے ، ان میں سے بعض لوگ، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے اس بہانے سے اجازت طلب لیتے تھے کہ ان کے گھر محفوظ نہیں ہیں ، لہذا ہم مدینہ وآپس جا ناچاہتے ہیں ، جب کہ خدا وند عالم فرماتا ہے کہ ان کے گھر محفوظ تھے ، بلکہ وہ اس جنگ سے فرار کر نا چاہتے تھے کیونکہ انھوں نے خدا سے عہد کیا ہوا تھا کہ وہ فرار نہیں کرینگے کیونکہ عہد خدا کے متعلق سوال کیا جائے گا (۳) ۔ ( ۴) ۔

___________________
۱۔ سوٴرہ احزاب، آیت ۲۲ ۔
۲۔ سوٴرہ احزاب، آیت ۱۲ ۔
۳۔ سوٴرہ احزاب، آیت ۱۳ ( وَ ما ہِیَ بِعَوْرَةٍ إِنْ یُریدُونَ إِلاَّ فِراراً )
۴۔ سیمای عقائد شیعہ ، ص ۳۲۸۔



تاريخ : پنجشنبه سی ام دی ۱۳۸۹ | 13:39 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |