اگست کے ان مبارک اور خوشی بھرے لمحات میں اس دعاکے بعد کہ خدا ہماری پاک دھرتی کو خوشیوں کا گہوارہ بنائے، سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان چودہ اگست کو قائم ہوا تھا؟اس سوال کے تعاقب میں جو شواہد مجھے دستیاب ہوئے وہ میں اپنے قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔
1 ۔ہمارے نظام تعزیر کی اہم ترین کتاب کا نام ’تعزیرات پاکستان‘ ہے۔اس کی دفعہ (a) 123کے مطابق پاکستان 15اگست کو قائم ہواتھا۔
2۔Indian Independance Act 1947 وہ قانون ہے جس کی روشنی میں بر صغیر کی تقسیم ہوئی۔اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ 15اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آئے گا۔
3۔حضرت قائد اعظم سے زیادہ معتبر گواہی کس کی ہو سکتی ہے۔حضرت قائد اعظم کا اپنا بیان ہے : ’’ 15اگست آزاد پاکستان کا جنم دن ہے‘‘۔اور یہ بیان 15اگست 1947کو شائع ہونے والے اخبارات کے صفحات پر موجود ہے۔(کسی کو چاہییں تو یہ اخبارات مجھ سے لے کر دیکھ سکتا ہے)۔پاکستان آرکائیوز میں بھی سارا ریکارڈ موجود ہے۔
4۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریڈیو سے پاکستان کے قیام کا اعلان 14اور15اگست کی درمیانی رات کو اس وقت کیا گیا جب کیلنڈر پر پندرہ شروع ہو چکا تھا۔1997میں جب آزادی کے پچاس سال کا جشن منایا گیاتو ایک جعلی ٹیپ تیار کی گئی جس میں ایک جعلی اعلان سنایا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ یہ اعلان 13اور14اگست 1947کی درمیانی رات کا ہے۔یقین نہ آئے تو ریڈیو پاکستان کا ریکارڈ جا کر دیکھ لیجئے۔حقیقت واضح ہو جائے گی۔
5۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان 14اگست 1947کو27رمضان کوجمعہ الوداع کے دن قائم ہوا۔اس وقت 1947کا نوائے وقت،ڈان،پاکستان ٹائمز سمیت درجنوں اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں اور ان کی پیشانی پر چھپی تاریخ کے مطابق 14اگست کو 26رمضان المبارک تھااور جمعرات کا دن تھا۔27رمضان اور جمعہ الوداع 15اگست کے دن تھا۔گویا پاکستان 14کو نہیں 15اگست کو قائم ہوا۔
6۔اسٹینلے والپرٹ معروف محقق ہیں۔خود حکومت پاکستان نے ان سے کہہ کر قائد اعظم پر کتاب لکھوائی۔’جناح آف پاکستان‘ نامی یہ کتاب قائد اعظم پر لکھی گئی معتبر کتابوں میں سے ایک ہے۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان15اگست کو قائم ہوا۔
7۔اسٹینلے والپرٹ ہی کی ایک اور کتاب ہے جس کا نام ہے “A New History Of India”,۔اس کے صفحہ 349پر وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو بنا۔
8۔خود پاکستان کے سابق وزیر اعلی چودھری محمد علی کی گواہی بھی یہی ہے۔اپنی کتاب “Emergence Of Pakistan”جس کا اردو ترجمہ’ظہور پاکستان‘ کے نام سے مارکیٹ میں موجود ہے، کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
9۔وکٹوریہ شیفلڈ کی کتاب ہے’”Kashmir In The Crossfire”۔اس کے صفحہ 132پر وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان 15اگست 1947کو معرض وجود میں آیا۔
10۔کے کے عزیز کی کتاب ہے “Briton and Muslim India”۔اس کے صفحہ 183پر لکھا ہے کہ پاکستان 15 اگست کو وجود میں آیا۔
11۔عائشہ جلال اور سجاتا پوش کی مشترکہ کتاب”Modern South Asia”کے صفحہ 188اور210پر قیام پاکستان کی جو تاریخ درج کی گئی ہے وہ 15 اگست 1947ہے۔
12۔ایس ایم برکی اور سلیم الدین قریشی کی کتاب “The British Raj in India”کے صفحہ 609,622,642اور518پر لکھا ہے کہ پاکستان 15اگست کو معرض وجود میں آیا۔
13۔پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسایٹی آف پاکستان نے جناب لیاقت علی خان کی تقاریر کا ایک مجموعہ 1975میں شائع کیا۔اس میں لیاقت علی خان کی کچھ تقاریر کے اقتباسات پڑھیے۔اس کتاب کے صفحہ 117پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر درج ہے جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں قومی پرچم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کی۔وہ کہتے ہیں؛’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 15اگست کو جب پاکستان قائم ہو تو اس کا اپنا قومی پرچم ہی نہ ہو‘‘۔
14۔اس کے صفحہ 115پر لیاقت علی خان کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے اس وقت کی جب وہ اسمبلی میں پرچم پیش کر رہے تھے اور قوم کو دکھا رہے تھے کہ یہ اس کا قومی پرچم ہے۔انہوں نے کہا:’’یہ پرچم پاکستان کا پر چم ہے۔یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے۔یہ اس ریاست کا پرچم ہے جس نے 15اگست کو معرض وجود میں آنا ہے‘‘۔
15۔بابائے قوم نے قوم کو آزادی کی مبارک 15اگست کو دی تھی۔لیاقت علی خان نے بھی قوم سے پہلا خطاب 15اگست کو کیا ۔صفحہ 185پر یہ خطاب بھی موجود ہے۔وہ کہتے ہیں؛’’کل جب 14اگست کا سورج غروب ہوا تھا تو پاکستان نام کی کوئی چیز بین الاقوامی سطح پر موجود نہ تھی مگر آج 15اگست سے ہم ایک حقیقت ہیں‘‘۔
16۔پاکستان ٹائمز، نوائے وقت ،دان سمیت 1947کے کئی اخبارات میرے سامنے رکھے ہیں۔سب کے مطابق پاکستان 15اگست کو وجود میں آیا تھا۔10اگست 1947کے نوائے وقت میں مسلم لیگی قیادت کی جانب سے قوم سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ 15اگست کو قیام پاکستان کے موقع پر چراغاں کریں ، نوافل پڑھیں اور غریبوں کا کھانا کھلائیں۔13اگست1947کے نوائے وقت میں شائع ہوا کہ سردار شوکت حیات اور ممتاز دولتانہ نے قوم سے اپیل کہ ہے کہ 15اگست کوقیام پاکستان کے موقع پر چراغاں نہ کریں بلکہ صرف نوافل ادا کیے جائیں۔
17۔چودہ اگست کے پاکستان ٹائمز کی نمایاں سرخی تھی’’Independance Tomorrow‘‘۔اور 15اگست 1947کے پاکستان ٹائمز کا اداریہ ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے’’ آج پندرہ اگست ہے۔آج طلوع آفتاب نے جہاں دنیا کو ایک نیا دن دیا ہے وہیں ہمارے لوگوں کو ان کی کھوئی ہوئی آزادی بھی لوٹا دی ہے۔‘‘ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس اداریے کو عنوان ہی “August 15″تھا۔برطانوی ترانے “God Save the King”پر 15اگست کو پابندی عائد کر دی گئی۔چودہ اگست رات گئے تک چونکہ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا اس لئے یہ ترانہ بجتا رہا۔
اب سوال یہ ہے کہ یوم آزادی 15اگست کی بجائے14اگست کیوں کیا گیا؟کس نے کیا؟ کب کیا؟یاد رہے کہ جب قیام پاکستان کے ایک سال بعد حکومت نے نامعلوم وجوہات کہ بنیاد پر 15کو 14کر دیا تو بابائے قوم اس وقت شدید بیماری کے عالم میں معاملات سے لاتعلق ہو چکے تھے۔
سابق وزیر اعظم محمد علی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایسا نجومیوں کے کہنے پر کیا گیا کیونکہ نجومیؤں نے لیاقت علی خان کو بتایا کہ 15اگست منحوس دن ہے۔
ایک عذر یہ تراشا جاتا ہے کہ وائسرائے نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کو اقتدار 14اگست ہی کو سونپ دیا تھا جب کہ بھارت کو 15کوسونپا گیا۔اس لیے ہم بھارت سے ایک دن پہلے دن مناتے ہیں۔یہ بات بھی درست نہیں ہے۔15اگست 1947کے اخبارات میرے سامنے پڑے ہیں۔ان میں ساری رپورٹنگ موجود ہے۔وائسرائے نے 14اگست کو کراچی میں کہا تھا:’’آج میں آپ سے وائسرائے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں ۔کل کا دن طلوع ہوتے ہی ایک ریاست پاکستان کی زمام کار آپ کے ہاتھوں میں ہو گی‘‘
ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ جشن جس روز چاہے منائیں کیونکہ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے کہ ہم نے یہ آزادی کی خوشی کس دن منانی ہے مگر ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ پاکستان بنا ہی 14کو تھا۔ہم تاریخ نہیں بدل سکتے۔یہ جرم ہے۔اب تو میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ابھی کل کی تاریخ بدل دی گئی ہے اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔تو باقی کی تاریخ جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہے کس حد تک درست ہے۔مثال کے طور پر حضرت اورنگ زیب عالمگیر جنہوں نے نہ کوئی نماز چھوڑی نہ کوئی بھائی چھوڑا کیا واقعی اتنے نیک اور متقی تھے کہ ٹوپیاں سی کر گزارا کرتے تھے؟
۲۰۱۱ کے آخر میں بعض علماء کے بیان کے مطابق اس وقت پاکستان میں مدارس کی تعداد 524 اور مدارس کے طلاب کی تعداد19000 کے قریب ہے ۔ نیز جامعۃ المنتظر کے تحت نظر چلنے والے مدارس کی تعداد38، جامعہ اہل بیت کے تحت 17 ،مخزن العلوم کے تحت 30 ہیں اور محمدیہ ٹرسٹ بلتستان کی تگ و دو سے تقریبا 23 مدارس کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ۔
صدر ضیاء الحق کے دور حکومت میں مدارس کی تعلیمات کو تعلیمی اداروں میں قبول کیا جانے لگا جس کے تحت پاکستان کی دوسرے مکاتب فکر کی مانند وفاق المدارس الشیعہ کے نام سے ادارہ بنایا گیا جس کا ترتیب دیا ہوا سلیبس مدارس رائج ہوا اور طلبہ کو ان کے درجے مطابق اسناد دی جانے لگیں جس کی آخری ڈگری "سلطان الافاضل " کہلاتی ہے ۔
دیگر علمی فعالیتیں:
دینی مدارس کے علاوہ قوم کو دینی احکامات اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کروانے کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی یا دینیات سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جو عام طور پر مدارس دینی سے ہی وابستہ ہوتے ہیں جبکہ کچھ مخصوص افراد کے تحت نظر کام کرتے ہیں۔ ۔مدارس ہوں یا دینیات سینٹرز یہ تمام ادارے اپنے اخراجات مخیر حضرات کی مدد پورا کرتے ہوئے اپنی فعالیت جاری رکھتے ہیں۔جامعہ اہل البیت کی نگرانی میں تقريباً 60 پرائمری اسکول،50 مساجد کام کر رہی ہیں ۔ محمدیہ ٹرسٹ کے تحت 45 مساجد، 25امام بارگاہیں، 154 تبلیغی سینٹرز اور ايک يتيم خانہ کام کر رہے ہیں۔تنظیم المکاتب کے تحت 1200 دینی سینٹر اور مدارسِ مولانا غلام رضا سریوال کے نام سے حیدر آباد اور اسکے گردو نواح کے مختلف علاقوں میں ترویج دین میں مشغول ہیں۔اسی طرح تعلیمی اداروں میں طلباء کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے آئی ایس او (ISO)، اصغریہ سٹوڈنٹس اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (JSO) اور غیر تعلیمی اداروں میں آئی او (IO) وغیرہ تنظیمیں موجود ہیں ۔گذشتہ چند سالوں سے تربیت کے حوالے سے چند روزہ ورکشاپوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مختلف عناوین سے پروگرام تشکیل دئے جاتے ہیں .
مهمترین
ارزش و حیاتی ترین منفعت کشورها در نظام بین الملل غیرمتمرکز و خودیار،
مقوله امنیت ملی است. در این راستا وجود پتانسیل بالای منازعات فرقه ای در
محیط امنیتی جمهوری اسلامی ایران از مهم ترین موءلفه هایی است که می
تواند تهدیدهایی را برای نهادینه سازی وحدت و انسجام ملی در بازه های
زمانی سند چشم انداز به وجود آورد. به همین منظور یکی از ملزومات زیربنایی
مدیریت نرم افزاری امنیت خارجی کشور؛ شناسایی، رصد و طبقه بندی موزائیکی
تهدیدهای نرمی است که از جانب هر کدام از پانزده کشور همسایه می تواند
بنیان های اقتدار ملی را با چالش هایی مواجه کند. از طرفی امنیت
مفهومی ذهنی، نسبی و مقوله ای چند وجهی است که رابطه ای متقابل و دو سویه
را با «توسعه پایدار»1 دارد. به طوری که هر میزان جمهوری اسلامی ایران
شناخت دقیق تری از چالش های امنیتی کشور داشته باشد به همان میزان تحقق
اولویت های کلان اسناد بالادستی نظام با هزینه کمتری محقق خواهد شد. در
این راستا وجود خشونت های فرقه ای در لایه های پیرامونی جمهوری اسلامی
ایران بویژه در پاکستان
به عنوان یکی از کانون های چالش محور امنیت پایدار در برنامه پنجم توسعه
محسوب می شود. به همین منظور بایسته است متولیان امر نقشه راه منسجم و
راهبردی را برای مهار آسیب های احتمالی مورد توجه قرار دهند. مهمترین
تدابیری که ظرفیت بازدارندگی ساختارهای دفاعی، امنیتی، اطلاعاتی و
انتظامی جمهوری اسلامی ایران در قبال آسیب های احتمالی ناشی از گسترش سایش
های فرقه ای در پاکستان را افزایش می دهد عبارتند از: 1- آسیب شناسی ناپایداری های فرقه ای در پاکستان و تأثیر آن بر امنیت استان های مرزی شرق کشور پاکستان
از کشورهایی است که از موزاییک های قومی فرقه ای برخوردار بوده و یک کشور
چند زبانی است بطوری که نزدیک به 60 زبان در آن محاوره می شود. یکی از
مهمترین شاخص های جغرافیای انسانی جمهوری اسلامی ایران نیز وجود موزائیک
های قومی فرقه ای است که در استان های مرزی محسوس تر است و هر گونه گسترش
خشونت های فرقه ای در کشورهای همسایه براساس قانون مجاورت می تواند به
شهرهای مرزی جمهوری اسلامی ایران نیز تسری یافته و ضرایب انتظامی امنیتی
استان های مرزی را با چالش های جدی مواجه کند. به عبارتی یکی از کانون های
تهدید نرم افزاری امنیت ملی در برنامه پنجم، افزایش اصطکاک و تداوم تنش
های فرقه ای در پاکستان
و احتمال تسری ناامنی به استان های مرزی است که می تواند به عنوان یکی از
ابزار مداخله جویانه قدرت های فرامنطقه ای مستقر در منطقه با رویکرد
بحران سازی، امنیت زدایی، امتیازگیری و ایجاد تنش های چند بعدی در داخل
جمهوری اسلامی ایران به کار گرفته شود. به همین دلیل به عنوان یک موضوع
چالش زا در ساختار انتظامی امنیتی اسناد بالا دستی نظام مطرح است و بایستی
متولیان امر با حداکثر انسجام فکری (هدف محوری) و رویه(برنامه محوری) بسته
سیاستی منسجمی را برای مدیریت پیشگیرانه تهدیدات فرقه ای در افق ایران
1404 ترسیم کنند که با توجه به فرابخشی بودن امنیت موفقیت آن بستگی به
میزان تعامل، هم اندیشی و پویایی ساختارهای مرتبط دارد. 2- آسیب شناسی افراط گرایی فرقه ای در پاکستان
و تأثیر آن بر شکل گیری سازمان های تروریستی فرقه گرا تحقق حد اکثری
سیاست های دفاعی ایران 1404 و توسعه ضرایب امنیتی به ویژه در استان های
مرزی، مستلزم شناسایی گروه های مسلحانه فرقه ای در محیط امنیت داخلی و
خارجی و در گام بعدی هم افزایی ظرفیت ساختارها و زیرساخت های امنیتی برای
مقابله با تهدیدهای احتمالی است. به همین منظور متولیان امر شایسته است با
رویکرد آینده پژوهی و تبیین نظام جامع امنیت ملی، ضمن آسیب شناسی شطرنجی
چینش سازمان های تروریستی فرقه گرا در محیط امنیت خارجی، راهبرد منسجمی را
برای مقابله با آسیب های احتمالی تبیین کنند. خشونت های فرقه ای با
توجه به فقر نسبی در استان های مرزی شرق کشور می تواند پتانسیل پذیرش برخی
عقاید انحرافی، فرقه های ضاله یا عضویت آنان در برخی شاخک های تروریستی
مانند جندالشیطان را فراهم کنند که ضرورت دارد متولیان امر در سیاست های
دفاعی امنیتی لایحه برنامه پنجم، تدابیر و اقدام های بازدارنده لازم را
مورد توجه قرار دهند. مجاورت سرزمینی جمهوری اسلامی ایران با چهار ایالت پنجاب، سرحد، سند و بلوچستان پاکستان
که از کانون های استقرار گروه های تروریستی و منازعات مسلحانه فرقه ای
است از موءلفه های تهدیدزای ثبات امنیت مرزهای شرق کشور است. در این راستا
یکی از اهداف انعقاد توافق نامه جامع امنیتی میان تهران و اسلام آباد،
بسترسازی برای اتخاذ نقشه راه مشترک و حداکثر هم افزایی بهینه ظرفیت دو
کشور برای مدیریت پیش رویدادی تهدیدات تروریستی فرقه گرا در سرحدات و نوار
مرزی دو کشور است. 3- تبیین سیاست قومی فرقه ای منسجم در ساختار
مدیریت پیش گیرانه بحران های انتظامی امنیتی اجتناب از سیاست های جزیره ای
در حوزه های قومی فرقه ای و تبیین یک منشور پایدار نقش مهمی را در مهار
تهدیدهای نرم افزاری ایفا می کند. از طرفی در جمهوری اسلامی ایران،
پراکندگی فضایی جغرافیایی اقلیت ها به گونه ای است که اقلیت ها به صورت
نواری در حاشیه و در مناطق مرزی کشور با کشورهای همسایه حضور دارند که این
امر می تواند هزینه های انتظام بخشی فرماندهی مرزبانی ناجا برای انسداد و
نظارت موءثر بر مرزها را با چالش هایی مواجه کند. به همین منظور بایسته
است متولیان امر در ساختار امنیتی برنامه پنجم با حداکثر ثبات فکری رویه
ای بسته سیاستی منسجمی را در حوزه های قومی فرقه ای تبیین نمایند. 4-
تبیین سند جامع مدیریت دانش پیش گیری از تهدیدات فرقه ای یکی از ملزومات
مدیریت نرم افزاری امنیت، نهادینه سازی پژوهش قانونگذاری و آینده پژوهی
عملیاتی در ساختار انتظامی امنیتی کشور براساس چهار پارامتر نیازسنجی،
زمان سنجی، امکان سنجی و اولویت سنجی است. در این راستا مدیریت هدفمند
برگزاری همایش های منطقه ای با موضوع خشونت های فرقه ای، تقویت هم اندیشی و
تعامل مثلث حوزه، دانشگاه و ساختارهای حاکمیتی، لحاظ کردن مطالعات قومی
فرقه ای در نقشه جامع علمی کشور و ایجاد یا تقویت میز مخصوص مطالعات فرقه
ای در وزارتخانه های کشور، امور خارجه، شورایعالی امنیت ملی و سپاه
پاسداران نقش مهمی را در مدیریت پیشگیرانه تهدیدات نرم افزاری ناشی از
منازعات فرقه ای به ویژه در شرق جمهوری اسلامی ایران ایفا می کند. 5- آسیب شناسی ناپایداری فرقه ای در پاکستان و تأثیر آن بر ضرایب امنیتی کشور قانون
اساسی، برنامه های پنج ساله توسعه و سند چشم انداز از مهمترین اسناد بالا
دستی نظام حقوقی کشور محسوب می شوند و تمام ساختارهای نظام بایسته است
برنامه های کلان خود را براساس دستیابی به اهداف تعریف شده در سند چشم
انداز متمرکز کنند. در این راستا یکی از موءلفه هایی که بایستی مورد توجه
مدیران استراتژیک نظام قرار گیرد، واکاوی دورنمای منازعات فرقه ای پاکستان
و تأثیر آن بر امنیت منطقه ای جمهوری اسلامی ایران است. زیرا منظور از
منطقه در سند چشم انداز آسیای جنوب غربی است و بالتبع دورنمای مختصات
امنیتی سیاسی پاکستان تأثیر مستقیمی را بر این حوزه جغرافیایی دارد. از
طرفی یکی از مهمترین توجیه های قدرت های فرا منطقه ای برای استقرار در
محیط پیرامونی شرق کشور، مبارزه با خشونت های فرقه ای است، به طوری که
انگلیس اعلام کرده برای شکل گیری سازمان امنیتی جدیدی در پاکستان برای مهار تنش های فرقه ای در پاکستان با اسلام آباد همکاری می کند. به عبارتی اصطکاک های فرقه ای در پاکستان
و افغانستان به یکی از ریشه های نرم افزاری پیاده سازی امنیت وارداتی و
نیابتی در شرق کشور تبدیل شده و این خود یکی دیگر از دلایلی است که ضرورت
آسیب شناسی دورنمای تنش های فرقه ای در پاکستان را دوچندان می کند. 6-
تقویت اشراف اطلاعاتی در استان های مرزی یکی از ملزومات مقابله موءثر با
فرقه های الحادی و امکان سنجی سناریوهای مختلف شبکه های جاسوسی مخالفان
نظام از این گروه ها، توسعه زیربنایی اشراف اطلاعاتی در سرحدات و نواحی
مرزی است. 7- آسیب شناسی رشد خزنده گروه های وهابی در لایه های
پیرامونی جمهوری اسلامی ایران یکی از تهدیدهای امنیت خارجی ایران در برنامه
پنجم؛ رشد تفکرات وهابی و سلفی گری در عمق استراتژیک خارجی جمهوری اسلامی
ایران است که می توان به وضوح آنها را در افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان، عربستان و امارات مشاهده کرد. سرمایه گذاری وهابیون امارات و عربستان بر مدارس مذهبی اهل سنت پاکستان
و ترویج تفکرات وهابیت می تواند در آینده زمینه ایجاد و افزایش سازمان
های مسلحانه فرقه ای را فراهم کند که با توجه به پارادوکس عقیدتی سیاسی
آنان با حکومت شیعی جمهوری اسلامی ایران می تواند زمینه وقوع برخی تهدیدهای
امنیت ملی را فراهم کند. 8- آسیب شناسی گسترش افراط گرایی فرقه ای و
تأثیر آن بر شکل گیری گرایش های تجزیه طلبانه یکی از آسیب های گسترش
خزنده سازمان های تروریستی فرقه ای، بسترسازی برای شکل گیری تمایلات تجزیه
طلبانه در منطقه است. به عنوان مثال ایالت های کشمیر و بلوچستان پاکستان
دارای تمایلات واگرایانه و گریز از مرکز می باشند. از طرفی یکی از ابزار
تبلیغاتی گروهک های تروریستی مانند جندالشیطان شکل گیری بلوچستان بزرگ است
که این خود یکی دیگر از دلایل اهمیت بررسی منازعات فرقه ای منطقه از
رویکرد امنیت ملی است. 9- تضعیف خشونت های فرقه ای در قالب مقابله
منطقه ای با جرائم سازمان یافته یکی از منابع درآمدی سازماندهی اقدام های
تروریستی گروه های افراط گرایی فرقه افغانستان و پاکستان؛
برنامه ریزی جرائم سازمان یافته بویژه قاچاق اسلحه، کالا و مواد مخدر است
و هر میزان منابع درآمدزای این گروه های قطع یا کاهش یابد بالتبع بر سطح و
دامنه اقدامات سازمان های تروریستی فرقه ای نیز تأثیر می گذارد. با توجه به قرار گرفتن مثلث طلایی کشت و قاچاق مواد مخدر در حاشیه سرزمینی ایران، پاکستان
و افغانستان، هر گونه انعقاد توافق نامه جامع امنیتی میان تهران و اسلام
آباد می تواند در کاهش تهدیدهای ناشی از تروریسم، قاچاق مواد مخدر و قاچاق
انسان موءثر باشد. 10- آسیب شناسی گسترش منازعات فرقه ای و تأثیر آن بر الگوی امنیتی بومی پایدار یکی از آسیب های جدی گسترش خشونت های فرقه ای در پاکستان،
تأثیر آن بر روند همگرایی منطقه ای و اسلامی است که به عنوان یکی از
اهداف راهبردی اسناد بالادستی برنامه پنجم و سند چشم انداز مطرح است. از
طرفی همواره یکی از دلایل ایالات متحده برای توجیه حضور نظامی اطلاعاتی و
تزریق امنیت وارداتی و نیابتی در شرق کشور، مقابله با ریشه های افراط
گرایی فرقه است. به عبارتی یکی از ملزومات توسعه دفاع ملی برای شکل گیری
نظام امنیت بومی و پایدار؛ رصد و آسیب شناسی منازعات فرقه ای منطقه ای و
تأثیر آن بر ترتیبات منطقه ای دفاعی امنیتی است. 11- تبیین سیاست
قومی فرقه ای منسجم در ساختار انتظامی امنیتی برنامه پنجم توسعه یکی از
ملزومات نهادینه سازی بند 45-4 سیاست های کلی برنامه پنجم مبنی بر ارتقای
امنیت پایدار مناطق مرزی و کنترل موثر مرزها، توجه به مدیریت پیشگیرانه
منازعات فرقه ای در اسناد بالا دستی نظام است. در کشورهایی مانند
جمهوری اسلامی ایران که با سیستم حکومتی بسیط (متمرکز) اداره می شوند،
عمدتاً با حرکت از مرکز کشور به سمت حواشی، با دو روند معکوس کاهش نظارت
حکومت مرکزی از یکسو و افزایش محرومیت و توسعه نیافتگی از سوی دیگر مواجه
هستیم. این امر وقتی اهمیت پیدا می کند که در حواشی کشور اقلیت های قومی،
مذهبی و زبانی سکونت داشته باشند. از نظر الگوی استقرار گروه های قومی نیز گروه قومی بلوچ در جنوب شرقی ایران با نیمه دیگر هسته بلوچ نشین در پاکستان پیوستگی فضایی پیدا می کند. گر چه این قوم در آن سوی مرز فاقد دولت مستقل است، ولی بلوچستان پاکستان در چارچوب ساختار سیاسی فدرال آن کشور تا سطح یک ایالت ارتقا یافته است. یکی از آسیب های گسترش تهدیدات فرقه ای در پاکستان
و احتمال تسری آن به استان های مرزی شرق کشور، نبود بسته سیاستی قومی
فرقه ای منسجم در ساختار انتظامی، دفاعی و حقوق امنیت ملی هر دو کشور
جمهوری اسلامی ایران و پاکستان
است که باعث اتخاذ سیاست های جزیره ای و عدم بهره وری بهینه از ظرفیت های
مشترک راهبردی دوجانبه برای مدیریت پیش گیرانه و دسته جمعی با خشونت های
فرقه ای می شود. در این راستا حمایت های تقنینی، نظارتی و اجرایی از
توسعه کار گروه های مطالعاتی قومی فرقه ای نقش مهمی را در مهار تهدیدات
امنیتی ناشی از گسترش اصطکاک های فرقه ای ایفا می کند. از طرفی توجه
مدیران استراتژیک حوزه های علمیه به ویژه حوزه علمیه قم به دورنمای تنش
های فرقه ای و لحاظ کردن تدابیر بازدارنده در سند چشم انداز حوزه می تواند
به عنوان یکی از تدابیر زیربنایی برای پیشگیری از آسیب های عقیدتی، وا
گرایانه فرقه ای یا تقویت انسجام ملی ایفا کند. به عبارتی حوزه های علمیه
به عنوان یکی از ارکان معماری مهندسی فرهنگی کشور، بایسته است در تعامل
مستمر و پویا با شبکه کانون نخبگان حوزه و دانشگاه نقشه راه راهبردی و قابل
پیاده سازی را در ساختار مدیریت نرم افزاری سند چشم انداز حوزه ترسیم
کند. شکل دیگر تأثیر اقلیت ها بر کارکردهای امنیتی و ارتباطی مرز،
به وجود اشتراکات قومی، مذهبی و زبانی بین اقلیت ها در دو سوی مرز بر می
گردد. 12- ریشه یابی دلایل خشونت های فرقه ای پاکستان از رویکرد امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران مهمترین دلایل شکل گیری خشونت های فرقه ای در پاکستان عبارتند از: * وجود فقر اقتصادی و فرهنگی یکی از ریشه های گسترش تنش های فرقه ای و پرورش گروه های تروریستی؛ فقر اقتصادی و نبود چارچوب مهندسی فرهنگی پایدار در پاکستان است. به عنوان مثال اکثر شبه نظامیان طالبان بیشتر در مناطق مرزی پاکستان با افغانستان که اکثراً توسعه نیافته اند، مستقرند. * حاکمیت نسبی دولت پاکستان بر مناطق قبیله ای ایالت های مرزی یکی از ریشه های وقوع ناامنی های فرقه ای در پاکستان، حاکمیت نسبی دولت مرکزی بر مناطق قبیله ای به ویژه در ایالت های مرزی سرحد، «وزیرستان شمالی و جنوبی»2 و بلوچستان است. * نفوذ رهبران طالبان و سازمان القاعده در «مناطق قبیله ای»3 حاکمیت نسبی دولت مرکزی در ایالت های شمالی مانند وزیرستان جنوبی، ایالت سرحد، بلوچستان و «دره سوات»،4 * کوهستانی بودن مناطق قبایلی پاکستان * ناکارآمدی عملیات نیروهای پاکستان برای دستگیری رهبران سازمان القاعده مانند «بیت الله محسود» (مهمترین مظنون ترور بی نظیر بوتو) * تضادهای سیاسی امنیتی پاکستان برای مهار خشونت های فرقه ای یکی از ریشه های افزایش منازعات فرقه ای در پاکستان، نبود عزم سیاسی قاطع در میان رجال سیاسی پاکستان
و اتخاذ پارادوکس امنیتی در قبال خشونت های فرقه است به طوری که اسلام
آباد همواره یکی از راه های موازنه قوا با جمهوری اسلامی ایران و تضمین
عمق استراتژیک خود در افغانستان را حمایت خزنده از شبه نظامیان طالبان
تعریف کرده است. 13- ارزیابی دورنمای نقش و جایگاه طالبان در ساختار امنیت منطقه ای یکی
از ملزومات مهندسی مطلوب امنیت خارجی؛ بررسی جایگاه طالبان در ساختار
امنیتی منطقه است. شبه نظامیان طالبان مبارزه با ایالات متحده و جمهوری
اسلامی ایران را به عنوان یکی از اهداف راهبردی خود تعریف کرده اند که بنا
بر مقتضیات زمان، شدت و حدت آن تغییر می کند. از طرفی وهابیون برخی
کشورهای عرب منطقه با نفوذ در میان شبه نظامیان طالبان در جهت برقراری
موازنه قوا با جمهوری اسلامی ایران برنامه ریزی می کنند که با توجه به
گسترش شیعه هراسی در مدیریت تهاجم تبلیغاتی ایالات متحده بر اهمیت این
مقوله نیز افزوده شده است. در نتیجه مقابله با تهدیدهای ناشی از افزایش
نفوذ طالبان در پاکستان بایستی به عنوان یکی از اولویت های امنیت خارجی برنامه پنجم از رویکرد مهندسی امنیتی منازعات فرقه ای پیگیری شود. 14- آسیب شناسی گسترش مدارس مذهبی وابسته به وهابیون و تأثیر آن بر جریان های فرقه ای ضد شیعه در منطقه یکی
از شاخص های مختصات امنیتی عمق استراتژیک خارجی جمهوری اسلامی ایران،
گسترش تفکرات الحادی و سلفی و ارتباط آن با شکل گیری برخی تحرکات ایذایی
در ساختار امنیت ملی برنامه پنجم است، بطوریکه برخی کشورهای عرب منطقه با
حمایت های مالی از برخی مدارس اهل سنت که با تمرکز بر گسترش آموزه های
الحادی وهابیت بنیان گذاشته شده اند، متأثر از فضای جنگ تبلیغاتی شیعه
هراسی در جهت ایجاد موازنه استراتژیک با جمهوری اسلامی ایران گام برمی
دارند که نقش مهمی را در گسترش حملات تروریستی علیه شیعیان ایفا می کند. 15- حداکثر بهره گیری از ظرفیت های دیپلماسی فرهنگی یکی
از ملزومات اقتدار افزایی؛ مدیریت نرم افزاری تنش های فرقه ای عقیدتی و
بهره گیری بهینه از ظرفیت های هویت ایرانی اسلامی است. به عنوان مثال برخی
مناطق پاکستان
مانند بلوچستان جزو حوزه تمدن ایرانی محسوب می شوند و تقویت دیپلماسی
فرهنگی در این حوزه جغرافیایی می تواند گستره نفوذ نرم ایران را افزایش
داده و به مانعی برای رخنه آموزه های فرقه ضاله وهابیت تبدیل شود. 16- آسیب شناسی سیاست های دوگانه پاکستان در قبال جریان های افراط گرای فرقه ای ارتش پاکستان
به منظور حفظ اقتدار ملی گاهی از سازمان های مسلحانه فرقه ای نیز حمایت
می کند که از مصادیق آن می تواند به حمایت های «سازمان های اطلاعات پاکستان»5
از شبه نظامیان طالبان یا نفوذ آنان در میان شبکه اطلاعاتی القاعده اشاره
کرد، به طوری که این موضوع به یکی از حوزه های تنش زا میان کابل و اسلام
آباد مبدل شده است. رفتار پاکستان
در قبال سازمان القاعده و شبه نظامیان طالبان براساس پارادوکس امنیتی است
به طوری که از یک طرف رمزی بن الشیبه، شیخ محمد را در سال 2003، محمد
نعیم نورخان را در سال 2004، ابوالفرج اللیبی را در سال 2005 و ابو زبیده
را در سال 2007 به ایالات متحده تحویل می دهد ولی از طرف دیگر به حمایت
های اطلاعاتی نظامی از شبه نظامیان طالبان ادامه می دهد. 17- ریشه یابی شکل گیری تفکرات الحادی در محیط امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران یکی
از تهدیدات نرم فراروی جمهوری اسلامی ایران، شکل گیری و گسترش فرقه های
ضاله در محیط امنیت داخلی و خارجی است که مهار آن مستلزم جریان شناسی و
ریشه یابی شکل گیری فرقه های ضاله و تبیین بسته سیاستی منسجم برای مقابله
موءثر با جریانات انحرافی در حوزه دین و زدودن خرافات و موهومات است، به
طوری که در بند چهار سیاست های کلی برنامه پنجم نیز بر لزوم اجرای آن تأکید
شده است. 18- تهیه جدول ریسک گروه های تروریستی فرقه گرا از رویکرد امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران تهیه
جدول ریسک و اطلس موقعیت جغرافیایی گروهک های تروریستی وابسته به تفکرات
وهابی و سلفی گری، یکی از گام های ضروری تبیین الگوی بومی پایدار برای
مهار خشونت های فرقه ای است. زیرا بررسی برخی تحرکات ایذایی علیه جمهوری
اسلامی ایران مبین این است که سرشاخک های برخی اقدام های تروریستی از درون
برخی کشورهای همسایه اداره می شود که زمینه های رشد تفکرات وهابیت در آنها
مهیا شده است. از طرفی یکی از راهبردهای مخالفان نظام جمهوری
اسلامی ایران، حمایت های خزنده از برخی سازمان های تروریستی نزدیک به گروه
های وهابی و سلفی با رویکرد وادارسازی جمهوری اسلامی ایران به تغییر
رفتار در حوزه های راهبردی است، بطوریکه حمایت ابزاری امریکا از سازمان
های تروریستی مخالف جمهوری اسلامی ایران براساس «راهبرد امنیتی قورباغه»
قابل تعریف است. در این راهبرد امریکا و تروئیکای اتحادیه اروپا با
توجه به وجود اکثر سازمان های تروریستی فرقه ای (نزدیک به تفکرات وهابیون)
در محیط پیرامونی جمهوری اسلامی ایران و برخورداری اکثر استان های مرزی
از موزائیک های قومی فرقه ای، برنامه های مدونی را برای ناامن سازی محیط
پیرامونی جمهوری اسلامی ایران سازماندهی می کند. در مطالعات
امنیتی، استناد این راهبرد به قورباغه (حیوان دوزیست) به این دلیل است که
اگر در حلقه های محاط ایران آتش تنش زیاد باشد، کانون تصمیم گیری نیز دچار
استحاله و تغییر رفتار می شود که در قالب راهبرد «تنش از بیرون، تغییر از
درون» قابل تعریف است که به وضوح می توان آن را در برخی تحرکات ایذایی
گروهک های تروریستی مانند جندالشیطان و پژاک مشاهده کرد. همچنین یکی از
روش های پیاده سازی نظریه دولت ورشکسته، ایجاد و گسترش منازعات فرقه ای با
رویکرد هزینه افزایی امور انتظامی خرد و کلان کشور است. نظریه دولت
ناکام ارتباط نزدیکی با نظریه بحران های پنج گانه لوسین پای دارد زیرا
حامیان این نظریه معتقدند ناکارآمدسازی دولت از طریق آفندهای نرم افزاری،
می تواند مقدمه شکل گیری بحران های مشارکت، هویت، توزیع، مشروعیت و نفوذ
را فراهم کند. در نتیجه بایسته است متولیان امر از رویکرد امنیت ملی مهم
ترین سازمان های تروریستی واقع در محیط امنیتی جمهوری اسلامی ایران که به
نحوی زیربنای عقیدتی آنان را آموزه های وهابیت و سلفی گری تشکیل می دهند. یکی
از پیش نیازهای توسعه امنیتی برنامه پنجم؛ بررسی موزائیکی آسیب هایی است
که از جانب هر کدام از کشورهای همسایه می تواند ایجاد شود. به همین منظور
با بهره گیری از روش مهندسی امنیتی موزائیکی بایسته است نوع، دامنه و شیوه
مبارزه با هر کدام از تهدیدها مشخص شود. به عنوان مثال نمی توان در برابر
هر دو کشور پاکستان و کویت از سیاست های امنیتی یکسان بهره گرفت زیرا جنس، نوع و دامنه تهدید هر کدام از آنها با یکدیگر متفاوت است. در
این راستا یکی از شاخص های مهندسی مطلوب امنیت خارجی در منطقه جنوب غربی
آسیا شناسایی، طبقه بندی، ماهیت شناسی و مقابله موءثر با آسیب های احتمالی
است که از قبل خشونت های فرقه ای و گسترش نفوذ خزنده عقاید وهابیت و سلفی
گری می تواند چارچوب های امنیت ملی را با تهدیدهایی مواجه کند. به همین
منظور بایسته است متولیان امر در تبیین سیاست های امنیتی کلان برنامه
پنجم، تدابیر و اقدام های بازدارنده مناسب برای مهار سناریوهای تهدیدزا را
مورد کنکاش و آسیب شناسی قرار داده و خلأهای تقنینی، نظارتی و اجرایی آن
را در لایحه قانون برنامه پنجم مرتفع کنند. قومیت گرایی،6 فرقه گرایی،7 بی ثباتی اقتصادی و افراط گرایی مذهبی8 از شاخص های مختصات امنیتی پاکستان هستند که می توانند بر محیط امنیتی جمهوری اسلامی ایران نیز تأثیر گذارند. افزایش منازعات فرقه ای در پاکستان
همسو با تمایلات جدایی طلبانه در سه ایالت جامو، کشمیر و بلوچستان،
راهبرد اجرایی اوباما برای تقویت حضور اطلاعاتی نظامی در مرزهای شرق کشور،
ساخت بزرگترین پایگاه اطلاعاتی منطقه ای آمریکا در گذرگاه خیبر و احتمال
استقرار سامانه های جاسوسی در این مرکز، نبود نظارت کافی بر مدارس مذهبی پاکستان
و رشد تفکرات وهابی و سلفی گری در این مدارس، افزایش کشتار شیعیان به
ویژه در دیره اسماعیل خان و پاراچنار، نبود نظارت موءثر دولت مرکزی پاکستان بر مناطق مرزی، فقدان توسعه زیرساخت های امنیتی اقتصادی در استان های مرزی همجوار ایران و پاکستان، تأثیرپذیری دولت حاکمه پاکستان
از سیاست های آمریکا، پارادوکس امنیتی سیاسی اسلام آباد در برابر طالبان،
حمایت های مالی کلان برخی کشورهای عرب منطقه از گسترش وهابیت، تضعیف
زیرساخت های همگرایی اقتصادی مانند احداث خط لوله صلح به دلیل نبود امنیت
لازم و کافی، تمرکز شورای فرماندهی سازمان القاعده و شورشیان پشتون در
مناطق قبیله ای پاکستان،9 لزوم احتمال سنجی رخنه افراط گرایان فرقه ای در ساختارهای استراتژیک پاکستان
به ویژه صنایع هسته ای، لزوم هم افزایی و ایجاد ساختارهای نظامی امنیتی
منطقه ای برای مقابله با رشد تروریسم فرقه ای در مناطق قبیله ای به ویژه
در استان های مرزی وزیرستان جنوبی، بلوچستان و سرحد،10 مجاورت سرزمینی
بلوچستان پاکستان
با بلوچستان ایران و احتمال شکل گیری تمایلات تجزیه طلبانه در میان مدت،
وجود برخی تحرکات سازمان یافته تروریستی مانند اقدام های گروهک جندالشیطان
(عبدالمالک ریگی)، فقر نسبی منطقه به ویژه در سرحدات، افزایش سازمان های
تروریستی مانند لشگر طیبه و سپاه صحابه (که به صراحت هدف خود را مقابله با
نفوذ تفکرات شیعی جمهوری اسلامی ایران اعلام کرده اند)، عدم توانایی و
فقر اقتصادی پاکستان
برای مدیریت تنش های چند جانبه و فقدان توسعه متناسب زیرساخت های امنیت
مرزی با حجم تهدیدها از مهمترین موءلفه هایی هستند که ضرورت آسیب شناسی
دورنمای مختصات منازعات فرقه ای پاکستان و تأثیر آن بر ساختار امنیت ملی و سیاست های انتظام بخشی برنامه پنجم را دو چندان می کند. 1 - Sustainable Development 2 - North South Waziristan 3 - Tribal Regions 4 - Swat Valley 5 - Inter- Service Intelligence ISI) ) 6 - Ethnicity 7 - Sectarianism 8 - Religious extremism 9
بنا به گزارش نهادهای اطلاعاتی آمریکا، هم اکنون ملامحمدعمر (رهبر معنوی
طالبان)، اسامه بن لادن (رهبر شورای شریعت سازمان القاعده)، ایمن
الظواهری (قائم مقام رهبر القاعده) و گلبدین حکمتیار در مناطق قبیله ای
شمال پاکستان مخفی شده اند. 10 - Pakistan Borders Clear Present Danger ، Associated Press ، 30 March ، 2008 CIAمقدمه
الزامات امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران در قبال خشونت های فرقه ای پاکستان
نتیجه گیری
پی نوشت ها:
درآغازتاسیس کشور پاکستان
با دشواری های ویژه ای برای بهره برداری از سرزمین خود روبرو شد، زیرا رشد
اقتصادی سرزمین هایی که نصیب این کشور شده بود از رشد اقتصادی سرزمین های
زیر نفوذ حکومت هندوستان کمتر بود. پاکستان نزدیک به 20 درصد جمعیت شبه قاره را در اختیار داشت، در حالی که تنها حدود 10 درصد مجموع تاسیسات صنعتی در سرزمین های زیر نفوذ پاکستان قرار گرفته بود، به همین ترتیب پاکستان از نظر ذخایر معدنی و منابع نیرو نسبت به هندوستان ضعیف تر بود.
1 - کشاورزی: نظام کشاورزی پاکستان
بر پایه دو بخش دولتی و خصوصی است. بخش دولتی به طور مستقیم و غیرمستقیم
در اداره اقتصاد کشور دخالت دارد. توسعه اقتصادی این کشور با تنگناها و
کمبودهای زیادی مانند مساله بازپرداخت وام های متعدد روبرو است.(26)
اقتصاد پاکستان
کشاورزی است که حدود 33 درصد تولید ناخالص ملی آن را تشکیل می دهد. این
کشور با بهره گیری از عواملی مانند رودهای بزرگ، جنس خاک و میزان رطوبت یکی
از نواحی مهم کشاورزی در آسیای موسمی است. نزدیک به 30 درصد کل اراضی پاکستان
قابل کشت می باشد، بجز نواحی شمالی و غربی این کشور که کوهستانی است بقیه
نواحی آن قابل کشاورزی است. یکی از وسیعترین شبکه های آبیاری جهان که به
وسیله رود سند و شعبه های پنجگانه آن تشکیل شده است و نزدیک به 4/19 میلیون
هکتار از اراضی را آبیاری می کند در این کشور واقع شده است.(27)
از
نظر توزیع اشتغال، نسبت جمعیت فعال به کل کشور در مناطق روستایی حدود 2/3
درصد بیشتر از مناطق شهری است. همان طوری که در بحث جمعیت و تحولات آن
اشاره شد، در سال های اخیر کشور پاکستان
با کاهش تدریجی میزان اشتغال در بخش کشاورزی و به نفع بخش خدمات روبرو
بوده است، با توجه به این که عرصه خدمات عمدة در شهرها تمرکز یافته اشت،
لذا می توان پدیده مهاجرت را در شهرها بخوبی مطالعه کرد. همچنین میزان
سرمایه گذاری صنایع در روستاها حدود 1/16 درصد نسبت به شهرها اختلاف دارد.
به دلیل اهمیت نقش بخش کشاورزی در اقتصاد پاکستان،
دولت حمایت های بسیاری از این بخش به عمل می آورد، همچون تضمین قیمت
محصولات کشاورزی، اعطای وام به کشاورزان و توزیع بذر و کود با نرخ اندک.
بانک کشاورزی پاکستان در این موارد بسیار فعال است.
آب و زمین از عوامل بسیار مهم و مؤثر در کشاورزی پاکستان
است. قریب به 77 درصد اراضی این کشور توسط سیستم های آبیاری موجود کشت می
شوند. از مجموع 3/19 میلیون هکتار اراضی کشور، حدود 5/4 میلیون هکتار به
صورت دیم و بقیه به صورت آبی کشت می شود.(28) سیستم آبیاری پاکستان
یکی از مهتمرین سیستم های آبیاری در جنوب آسیا است. با بهره گیری از 6600
کیلومتر کانال، تعداد زیادی از قنوات، و مهار آب های سطحی، اراضی وسیعی
آبیاری می شود. آب های سطحی توسط سدها و بندها مهار می شود و سپس از راه
کانال ها به زمین های کشاورزی هدایت می گردد.
زمین یکی از بهترین منابع طبیعی پاکستان
است. از نظر توزیع جغرافیایی، مزارع کم وسعت بیشترین بخش زمین های زراعی
این کشور را تشکیل می دهند. بیش از 8/4 میلیون واحد ملک و مزرعه در پاکستان
هر کدام حداکثر 2 هکتار وسعت دارند. تنها 2 درصد این مزارع بیش از 20
هکتار وسعت داشته اند. تعداد مزارع باوسعت 60 هکتار بسیار اندک است. به طور
کلی نظام مالکیت در این کشور، چهار نوع است:
1) مالکیت مطلق املاک و مستغلات زمینداری (Zamindari)؛
2) مالکیت فردی، خرده مالکی با املاک نسبة کوچک؛
3) رعیت واری (Ryatwari) یا اجاره داری املاک دولتی براساس قراردادهای مقطوع؛
4) تملک اراضی که دولت بلاعوض واگذار می کند - جاگیرداری (Jagirdari) .
فرآورده های مهم کشاورزی پاکستان
1-
گندم: از عصر حجر غلات غذای اصلی انسان بوده است و از محصولات مهم کشاورزی
محسوب می شده است. گندم در ادامه حیات اقتصادی و سیاسی کشورها بسیار مؤثر
است و لذا جنبه راهبردی دارد. اساسا غذای اصلی مردم جهان یکی از چهار غله
گندم، جو، برنج و ذرت می باشد. گندم در بین غلات به علت دارا بودن پروتئین
برای پخت نان مناسب تر است. این محصول از 14 درصد آب،67 درصد مواد نشاسته
ای، 8/12 درصد پروتئین، 4/1 درصد چربی و 2 درصد مواد معدنی تشکیل شده
است.(29) مواد ازته گندم، گلوتن نام دارد. کشورهای پاکستان، چین و هند از مراکز مهم تولید گندم آسیا می باشند. بخش قابل توجهی از اراضی پاکستان
با سی سال تلاش و احداث آبراهه های متعدد و با استفاده از کودهای شیمیایی و
بذرهای اصلاح شده، به کشت گندم اختصاص یافته است. در سال های اخیر با
افزایش مقدار تولید گندم، مقداری به خارج نیز صادر می گردد. پاکستان از جمله ده کشور مهم تولیدکننده گندم دنیا است.
2
- برنج: برنج یکی از غذاهای اصلی مردم جهان بویژه در مناطق پرجمعیت است.
پروتئین آن حدود7 درصد است ولی از نظر هضم، غذایی مناسب است. در آسیا برنج
کشت شده از گونه Orlyzalsaliva است در حالی که برنج آفریقا بیشتر از گونه
O. Claberrima می باشد. این دو گونه گرچه تفاوت های مرفولوژیکی اندکی با
یکدیگر دارند ولی با تحقیقات انجام شده، هیبرید حاصل بین آنها از درجه
عقیمی بالایی برخوردار است. تاکنون بیست گونه برنج در دنیا شناخته شده است.
پاکستان بعد از اندونزی و بنگلادش بیشترین مقدار تولید برنج را در میان کشورهای اسلامی قاره آسیا دارد. جدول زیر رتبه کشور پاکستان را در زمینه تولید جهانی برنج نشان می دهد.(30)
3 - نیشکر: روند تولید این محصول در پاکستان نوسان بسیار دارد ولی در مجموع رشدی برابر3 درصد را نشان می دهد. پاکستان
بعد از بنگلادش و مصر مقام سوم را در میان کشورهای اسلامی داشته است. و در
میان ده کشور بزرگ تولیدکننده نیشکر با6/3 درصد تولید جهانی مقام ششم را
دارد.(31)
بجز گندم، برنج و نیشکر کشت محصولاتی مانند ذرت، پنبه و جو نیز در پاکستان اهمیت دارد. از نظر کشت ذرت در میان کشورهای اسلامی در مرتبه پنجم و پس از کشورهای اندونزی، ترکیه، مصر و نیجریه قرار دارد.
2 - دامپروری: در پاکستان
دامپروری چندان گسترش نیافته است. بجز عوامل طبیعی مانند خشکی هوا و کمی
وسعت مراتع باید به تغذیه نامناسب دامها، انحطاط ژنتیکی دامها و ضعف
بازاریابی نیز اشاره کرد. پرورش گوسفند عمدة در ایالت شمال غربی، گاو بیشتر
در نواحی سند و پنجاب و شتر در ایالت بلوچستان رواج دارد. محصولات دامی پاکستان بویژه تولید پشم برای صنایع نساجی این کشور اهمیت ویژه دارد. (32)
3 - معادن: به طول کلی پاکستان
از نظر مواد معدنی چندان غنی نیست و بخش معدن سهم ناچیزی را در توسعه
صنعتی این کشور دارد. کانی های صنعتی این کشور نمی تواند تمام نیازهای مواد
اولیه صنعتی را فراهم کند و بیشتر در اختیار بخش خصوصی است. مواد سوختنی
مانند نفت، گاز و زغال سنگ حدود 5/2 درصد تولید ناخالص داخلی را تامین می
کند. کرومیت در ناحیه ژوب و سنگ آهن در ناحیه کالاباغ استخراج می شود.
اورانیوم در غازی خان در مولتان و مس در سیندوک کشف شده است.(33)
در سال 1984 م، 2/34 درصد انرژی مصرفی پاکستان
گاز طبیعی،9/18 درصد نیروی برق، 5/39 درصد نفت و 4/7 درصد باقیمانده را
زغال سنگ تشکیل می داده است. در حال حاضر شرکت های خارجی از جمله شرکت نفت و
گاز اوکسیدنتال ( Oxidentaloilgas) مشغول حفاری و پی جویی های فراوان برای
استخراج نفت می باشد و امید وجود ذخایر عظیم نفت در جنوب کراچی و دلتای
رود سند، وجود دارد. هم اکنون کمبود نفت مصرفی این کشور از حوضه خلیج فارس
بویژه عربستان تامین می شود. ذخایر گاز طبیعی در پاکستان
قابل توجه است و از یازده حوضه استخراج می شود. گاز مصرفی توسط لوله از
ناحیه سویی (Sui) تا کراچی و مولتان انتقال می یابد. سایر معادن این کشور
عبارتند از سنگ آهک، سنگ گچ و خاک نسوز.
4 - صنایع: پاکستان
در زمینه فعالیت های صنعتی، تلاش های قابل توجهی از نظر تجارب فنی و
سرمایه گذاری انجام داده است. صنایع این کشور از فناوری خارجی بهره می گیرد
و دولت نیز از راه های مختلف به توسعه صنعتی کشور کمک می کند. در سال
1985م بخش صنعت 4/17 درصد تولید ناخالص داخلی پاکستان را تشکیل می داده است.(34) تعداد شاغلان بخش صنعت تقریبا یک چهارم شاغلان بخش کشاورزی است و پاکستان
در سال های اخیر گام های بلندی در جهت توسعه صنعتی برداشته است. صنعت
نساجی بیشترین تعداد شاغلان این کشور را به خود اختصاص داده است.
اقتصاد صنعتی پاکستان
در دو بخش خصوصی و گسترده و بخش دولتی، کوچک ولی رو به رشد متمرکز است.
دولت کنترل بسیاری از صنایع پایه از قبیل ذوب آهن، فولادسازی، صنایع سنگین،
شیمیایی، پتروشیمی، تراکتورسازی و تجهیزات برق را در اختیار دارد.
بیشتر صنایع دولتی پاکستان
با مشکلاتی مانند عدم کارآیی، فرسودگی تجهیزات، و تورم دستمزدها روبرو
هستند و تعداد زیادی از مؤسسات صنعتی این کشور با ظرفیت کمتر از 50 درصد
کار می کنند و در نتیجه برگشت سرمایه آنها بسیار اندک است. از سال 1978م
سرمایه داران بخش خصوصی بیشتر در صنایعی مانند تولید روغن نباتی، سیمان
سازی و فرآورده های شیمیایی که قبلا در تملک دولت بود، سرمایه گذاری کرده
اند.
صنایع کوچک در پاکستان
از کارآیی نسبتا بالایی برخوردار هستند. لذا بانک جهانی به این کشور
پیشنهاد کرده است که برای توسعه و گسترش صنایع کوچک تلاش کند. بخش قابل
توجهی از صادرات این کشور را کالاهای ورزشی تشکیل می دهد که در کارخانه های
سیالکوت پنجاب تولید می شود. صنایع سنتی و دستی مانند ورشوکاری، زری دوزی،
گلابتون دوزی، قلاب دوزی، سوزن کاری و فرش بافی تقریبا 80 درصد کل تولیدات
را شامل می شود که بیشتر در پنجاب، لاهور و پیشاور متمرکز می باشند.
از سال 1978 م دولت پاکستان
دو منطقه آزاد تجاری - صنعتی در کراچی و لاهور اعلام کرده است که نزدیک به
چهل کشور خارجی اقدام به سرمایه گذاری در این مناطق کرده اند. دولت برای
جذب سرمایه های خارجی و بازگشت سرمایه تسهیلاتی قایل شده است. بهره برداری
از نخستین کارخانه فولادسازی پاکستان از سال 1983م و به کمک کشور شوروی سابق شروع شد.
3 - شبکه راه ها: یکی از جدی ترین مسائل پاکستان
شبکه راه های ارتباطی این کشور می باشد که تا حال مشکلات زیادی را در
ترابری و ارتباطات به وجود آورده است. طول شبکه راه آهن این کشور حدود 3000
کیلومتر است. فاصله بخشی از ریل های آن از استانداردهای بین المللی بیشتر
است. شبکه راه آهن سراسری این کشور به هفت قسمت تقسیم می شود. کراچی،
لاهور، مولتان، کویته، پیشاور، راولپندی و سکر محل های انشعاب خطوط راه آهن
پاکستان
می باشد. طول آبراه های داخلی این کشور 1850 کیلومتر است، بزرگترین بندر آن
کراچی و دومین بندر که از سال 1980 م در ساحل دریای مکران مورد بهره
برداری قرار گرفت، محمدبن قاسم نام دارد. شرکت کشتیرانی ملی پاکستان
در زمینه بهره برداری از راه های آبی فعال است. توجه و تجهیز بنادر و
گسترش تاسیسات بندری همزمان با توسعه شبکه راه ها باید مورد توجه قرار
گیرد. راه های زمینی این کشور اهمیت خاصی دارد. بزرگراه 800 کیلومتری قره
قوم که ایالت سین کیانگ را از طریق کوهستان های بلند و دره هنزه کشمیر به
اسلام آباد می پیوندد، از جمله بزرگراه های مهم این کشور می باشد.(35)
4 - تجارت: واردات پاکستان
عبارتند از ماشین آلات، ادوات برقی، آهن، فولاد، انواع دارو، کود شیمیایی و
روغن های صنعتی. مهمترین کالاهای صادراتی آن، پنبه، برنج، بافته های نخی،
انواع لباس، پوست، چرم، الیاف مصنوعی و کالاهای ورزشی است. واردات و صادرات
پاکستان
بیشتر با کشورهای ژاپن، آمریکا، عربستان، انگلیس، آلمان، کویت، فرانسه و
مالزی صورت می گیرد. بازار مشترک اروپا مهمترین شریک بازرگانی پاکستان
است که نزدیک به یک چهارم صادرات این کشور و23 درصد واردات آن را تامین می
کند. موازنه بازرگانی این کشور با بازار مشترک همواره منفی است.
فرجام
با توجه به آنچه گفته شد، پاکستان دارای نیروهای بالقوه طبیعی و اقتصادی مناسبی برای توسعه بخش کشاورزی است. این عوامل عبارتند از:
1 - وجود رود سند که حدود نیمی از طول رود در پاکستان جاری است و نقش بسزایی در توسعه اقتصادی کشور دارد.
2 - مناسب بودن آب و هوا، خاک، مقدار باران و سایر شرایط طبیعی لازم برای کشت محصولات در بخش های وسیعی از کشور.
3
- وجود جلگه های حاصلخیز سند و پنجاب، و رودهای پرآب که باعث شده است
کشتزارها در دره سند بسیار فشرده باشند و مهمترین محصولات کشاورزی پاکستان از این دره تامین شود.
4 - احداث کانال های متعدد آبرسانی که باعث شده است اراضی وسیعی به زیر کشت درآیند.
پاکستان
به کمک عوامل طبیعی و اقتصادی مساعد که توانسته است یکی از سه قطب عمده
تولید غلات در آسیا باشد. تولید فرآورده های کشاورزی این کشور به آهستگی رو
به افزایش است. از نظر کشاورزی، پاکستان
به دلیل دسترسی به جلگه های پیوسته و وسیع، رودهای پرآب همیشگی و نوع خاک
آن دارای امتیازهای خاصی است مشروط بر این که شیوه های مناسب زراعی به طور
گسترده مورد استفاده قرار گیرد لذا پاکستان
در برنامه های رشد اقتصادی سعی فراوانی برای جبران کمبودهای طبیعی خود از
جمله منابع انرژی و بهبود وضع کشاورزی برای جوابگویی به نیاز جمعیت رو به
تزاید و بالا بردن سطح معیشت مردم از طریق توجه به بخش کشاورزی و صنعت
دارد.
در میان محصولات کشاورزی تولید نیشکر و گندم نسبت به جمعیت فزونی
دارد. بالا بودن میزان تولید این دو محصول به خاطر کوشش هایی است که این
کشور در زمینه احداث کانال های آبیاری، به کارگیری اصول به زراعی و وسایل
کشاورزی ماشینی جدید و توسعه زمین های زیرکشت انجام داده است که بدون تردید
آینده ای امیدبخش دارد.
پی نوشت:
26- بررسی مسایل کشوره،ا پاکستان، ص 110.
27- مجله زیتون، شماره 86، ص 20.
28- سیمای اقتصادی جهان، ص 147.
29- همان، ص 153-152.
30- جهان اسلام، ج 2، ص 211.
31- جغرافیای کامل جهان، ص 174.
32- جهان اسلام، ج 2، ص 215-214.
33- ماکساکوفسکی، جغرافیای اقتصادی جهان، ترجمه پویا زند، صادق [و دیگران]، نشر دنیای نو،1363، ص 314.
( اسرار خودی و رموز بیخودی )
(نویسنده: سعید معزالدین)
اقبال و فلسفه خودآگاهی
( اسرار خودی و رموز بیخودی )
سخن از سخنگوی پرآوازه و سخنوری است که او را ستاره بلند شرق نامیده اند.(1)
سخن از عاشق دلباخته ای است که خود را شناخت (خودآگاهی) و به بیخودی (رهایی از نفس و وصال معشوق) رسید و دیگران را نیز به خود آگاهی فراخواند. و در اوج عشق و ایثار و دلباختگی، اندیشه ها و آرمان های والای خویش را با وزن های شعر برخاسته از شعور و موسیقی و آهنگ کلام و حرکت و هیجان و شور زندگی درگستره حیات ادب و هنر و سیاست و فرهنگ و دیانت گسترانید.
سخن از روح جستجوگری است که با سوزوگداز درپی یافتن راه رهایی و رستگاری امت است.(2)
سخن از مردی است که عشق و ادب و عرفان و فلسفه و تخصص را به گونه ای باهم آمیخت که از او انسانی چند بعدی ساخت، آن سان که انطباق گفتار و کردارش ( قول و عمل) همگان را به شعر و سخن و اندیشه اش متوجه کرد.
فلسفه خودی
اقبال با باور به شریعت پاک و ایمان عقلانی و عرفانی ناب که گواه یقین عمیق او به حاکمیت مطلق خدا بود، ذهن پویای خویش را به دست یابی از اسرار و رموز خلقت سپرد. او اصل تضاد درونی اشیاء و کمال طلبی جهان هستی را در شعر عرفانی اسلام، در ارمغان حجاز، در پیام مشرق، در اسرار خودی و رموز بی خودی مطرح کرد و مسلمانان را به استواری و استحکام خودی منطبق بر توحید فراخواند تا جهان بینی و نگرشی نو بر مبنای اصالت اسلام و انسان بنیان نهاد و فلسفه خودی خود را اعلام کرد. فلسفه خودی که ریشه آن در خداست :
خودی را از وجود حق وجودی خـودی را از نمود حـق نمودی
نمـی دانـم که این تابنده گوهر کجــا بــودی اگر دریـا نبودی(3)
او به انسانها این اندیشه را یاد آوری می کرد که به خودی و ارزش آن آگاهی داشته باشند و آن را در راه صحیح به کار گیرند. چرا که از هستی والاتر و از حرمت و احترام ویژه برخوردارند:
برتر از گردون مقام آدم است اصل تهذیب احترام آدم است(4)
آثار خودی
خودی یا خودآگاهی، استقلال نفس و غنای درونی را پدید می آورد. با شناخت درون و استعدادهای نهفته و پرورش آن می توان دنیای دیگری آفرید که توانایی جبران همه کاستی ها و نارسایی های روح و روان آدمی را داشته باشد و استعدادهای ذاتی و خدادادی را رشد و تعالی دهد.
خودآگاهی، سرآمد صفات انسانی است . و پیکر هستی متأثر از خودی است و آنچه انسان مشاهده می کند، چه شهود عینی و چه شهود غیبی از اسرار خودی است:
پیکرهستی ز آثار خودی است هر چه می بینی ز اسرار خودی است(5)
گوهر هستی
صدف جسم آدمی این قابلیت را دارد که حتی با دریافت قطره ای از دریای خودی، مرواریدی را پرورش دهد که گوهر هستی است :
قطره چون حرف خودی از برکند هستی بی مایه را گوهر کند(6)
حیات جهان و خودگدازی
حیات جهان از خودی است و زندگی بدون خودی معنی و استواری و پایداری ندارد:
چون حیات عالم از زور خودی است پس بقدر استواری زندگی است(7)
اقبال خودگدازی را به شمع تشبیه می کند و می گوید :
شمع هم خود را به خود زنجیر کرد خـــویش را از ذره هـــا تعمیر کرد
خـودگدازی پیشه کرد از خود رمید همچو اشک آخر زچشم خود چکید(8)
رابطه عشق و خودی
خودی از عشق و محبت، پایداری و استواری می پذیرد :
نقطه نوری که نام او خودی است زیر خاک ما شرار زندگی است
از محبت می شــود پـــــاینده تر زنده تر سو زنده تر تــابنده تر(9)
اما باید عشق را آموخت و محبوب را طلب کرد. با چشم دور اندیش نوح نگریست و با قلب ثابت و صابر ایوب، شیوه شکیبایی و صبر را درپیش گرفت:
عاشقی آموز و محبوبی طلب چشم نوحی قلب ایوبی طلب(10)
آنگاه انسانها را به نگریستن درون خویش (معشوق نهان) دعوت می کند و می گوید اگر چشم بصیرت داری بیا تا این معشوق نهانی را به توبنمایانم :
هست معشوقی نهان اندر دلت چشم اگر داری بیا بنمایمت(11)
و سرانجام به توصیف این گونه عاشقان می پردازد و توانایی و سرسبزی و زیبایی و ملکوتی شدن انسان خاکی را به برکت عشق معرفی می کند :
عاشقان او زخوبان خــوبتر خوشتر و زیباتر و محبوب تر
دل ز عشق او توانا می شود خـاک همدوش ثریا می شود(12)
خودی و تربیت آن در متون اسلامی
نفس انسانی در متون اسلامی به صورت ویژه مورد توجه قرار گرفته است.قرآن کریم انسان را به درون و نفس خویش متوجه می کند و به تفکر و نگرش عمیق تشویق می نماید:
و فی انفسکم افلا تبصرون.(13)
خودآگاهی، خداشناسی را به ارمغان می آورد، همچنان که رسول اکرم(ص) فرموده است :
من عرف نفسه فقد عرف ربه(14)
کسی که نتوانسته و نمی تواند خود را بشناسد، از درک سایر پدیده ها و خالق پدیده ها نیز عاجز و ناتوان است. پس برترین شناخت، خود شناسی است.
حضرت علی(ع) می فرماید :
افضل المعرفه معرفه الانسان لنفسه.(15)
و در احادیث مشابه آمده است :
- بزرگترین نادانی ها برای بشر، خودناشناسی است.(16)
- بهترین خردمندی و تعقل، فکر و اندیشه درباره خودشناسی است.(17)
- کسی که خود را شناخت با چراغ عقل راه سعادت خویش را می یابد و آن کس که از خود غافل و بی خبر بود به گمراهی می رود.(18)
- کسی کــه خود را شناخت به آخرین نتیجه عـــلم و دانش و شناخت و مـعرفت نــایل شده است.(19)
اما تنها شناخت خودی کافی نیست.بلکه باید خودی یا نفس انسانی تربیت شود و در شعاع مراحل و درجات کمال قرارگیرد.
برای تربیت و رشد و تعالی نفس به مرشد و مراد و مربی و پیشوا نیاز است و برای آغاز راه،آنچه انسان را بدین کار وامی دارد عشق است.
عشق، محرک همیشگی نفس برای پیمودن راه پایان ناپذیرکمال است. اما این تکامل تا بدان جا ادامه می یابد که از مرتبه ملک(فرشته) نیز برتر و افزون است.
اگر یک ســرمــوی بــرتـر پرم فـــروغ تجـلــی بسـوزد پـــرم(20)
کدام عشق
عشق مقدس و برانگیزاننده در نگرش و اندیشه اقبال عشقی است که سر بر آستان ربوبی می ساید و در شعاع تابناک وحی و الهام الهی قرار دارد و اساس هستی بر آن استوار است و دوعالم را زیر نگین خویش می گیرد. چنین عشقی، عاشق را از هر دو جهان کفایت می کند :
عشق را از تیغ و خنجر بـاک نیسـت اصل عشق از آب و باد و خاک نیست
عشق هم خاکستر و هم اخـگر است کـار او از دیـن و دانش بـرتـر اسـت
عشق سلطان اسـت و بـرهــان مبین هـر دو عـالـم عـشق را زیــرنـگیــن
عشق مورو مرغ و آدم را بـس است عشق تنـها هر دو عالم را بـس اسـت(21)
این عشق بر عقل حسابگر فضلیت و برتری دارد.در این عشق بیم و شک راه ندارد.این عشق به انسان عزم و یقین می بخشد:
عقل را سرمایه از بیم و شک است عشق را عزم و یقین لا ینفک است(22)
رابطه اختیار، خودی و بیخودی
از دیدگاه اقبال انسان خودآگاه عاشق، مختاراست. او می تواند آزادانه بیندیشد،چشم انداز آینده را ترسیم کند،طرحی نو در اندازد(23) و دیدگاه خویش را بیان کند.چنین انسانی بر نفس خویش چیره گشته و با برخورداری از تحول روحی و روانی به بی نیازی رسیده است.
کسی که فقیر درگاه الهی شود(24) و در خدا ذوب گردد همه چیز را بدست می آورد و از همه چیز و همه کس بی نیاز می شود. چرا که او خلیفه الله است(25) و برخوردارازصفات الهی.(26)
این بنده خاکی خودآگاه عاشق، مخاطب کلام اقبال است که :
ای بنده خاکی، تو زمانی، تو زمینی صهبای یقین درکش و از دیرگمان خیز
از خواب گران خواب گران خواب گران خیز
از خواب گران خیز(27)
پس انسان خودآگاه کسی است که نفس خویش را شناخته و آن را تربیت کرده و در مسیر کمال قرار داده تا به تدریج به رموز بی خودی دست یابد. یعنی از خود، بیخود شود.
چنین انسانی به جمع می پیوندد و به ایثار و فداکاری برای آرمان والا و منافع جمع، نایل می شود:
فرد را ربط جماعت رحمت است جوهر او را کمال از ملت است(28)
جایگاه و هویت جامعه اسلامی
جامعه اسلامی باید هویت خویش را باز یابد و به اسلام به عنوان حبل المتین الهی چنگ زند که راه فلاح و صلاح و عزت و شرف مسلمانان در گرو تحقق اسلام است:
مسلمان گر چه بی خیل سپاهی است ضمیر او ضمیر پادشاهی است
اگر او را مــــقــامش بـــاز بخــشند جمـال او جلال پادشاهی است(29)
اما مسلمان خودآگاه که اکنون هویت خویش را بازیافته نباید خود را در مرزهای جغرافیایی محدود کند.
می نگنجد مسلم اندر مرز و بوم در دل او یاوه گردد شام و روم(30 )
مرز و بوم مسلمان، اسلام است و اسلام یعنی همه هستی، همه سرزمین ها، همه عصرها و همه نسل ها :
قلب ما از هند و روم و شام نیست مرز و بوم او به جز اسلام نیست(31)
اتحاد و خودی
اقبال فلسفه خودی را در دو مقوله فردی و اجتماعی مطرح می کند. اما این دو را از یکدیگر جدا نمی سازد. همان گونه که فرد با تربیت نفس خویش به خود آگاهی می رسد و می تواند درجات و مراتب کمال را طی کند، جامعه بشری و به ویژه جامعه اسلامی نیز می تواند با بازشناسی خود، استعدادهای نهفته را کشف و آن را تربیت کند و به منزلت و هویت واقعی خویش دست یابد، یکی شود و با اتحاد و همدلی، به نیرومندی برسد:
قـوم را انـدیـشه هـا بـایـد یـکی در ضـمـیرش مـدعـا بـایـد یـکـی
قوت دین در مقام وحدت است وحدت ار مشهود گردد ملت است(32 )
اقبال معتقد است، انسان مختار است و سرنوشت خویش را خود ترسیم می کند(33) برای ساختن آینده باید تلاش کند و از نیروهای درونی و فردی خویش و جامعه اسلامی بهره جوید، و از همین خاک، جهانی نو بنا نماید :
زندگی در صدف خویش گهر ساختن است
در دل شـعـله فـرورفـتن و نگداخـتن است
مـذهب زنـده دلان خـواب پـریشانی نیست
از همین خـاک جـهان دگری ساختن است(34)
آخرین نکته و نتیجه بحث
فلسفه خودی اقبال بدون باور به اختیار، بی معنی و بی ثمر است. زیرا انسان و جامعه انسانی اگر مختار باشد می تواند بیندیشد، بنگرد، انتخاب کند و سرنوشت آینده خویش را ترسیم نماید. در غیر این صورت باید خود را به تند باد حوادث بسپارد و تفرقه و ذلت و تباهی را جبری و مقدر خویش فرض نماید.
خداوند انسان را مختار و عاشق و کمال خواه آفریده است. انسان نه مجبور مطلق است و نه مختار مطلق.(35 ) اما درجه و میزان اختیار او به حدی است که می تواند سعادت دنیا و آخرت را کسب نماید. و هیچ عذری برای فرد و جامعه اسلامی در پیمودن راه فلاح و رستگاری و پیشرفت و عزت و سربلندی و استقلال فرهنگی، سیاسی و اقتصادی پذیرفته نیست.
در این باره به فرازی از کتاب افکار اقبال نگارش دکتر جاوید اقبال اشاره می کنم: «…مطابق اصول جامع فلسفه و اخلاقیات، انسان باید صاحب اختیار باشد، در غیر این صورت خیر و شر، جزا و سزا، نیکی و بدی از بین می رود. چون اگر انسان مسؤول اعمال خویش نباشد، دیگر فرقی با حیوان نخواهد داشت.
در این مرحله پرسشی پدید می آید که چرا اقبال تصمیم می گیرد نظر خود را در این باره بیان کند؟
خودی اقبال پیام آور است. اگر مطابق معمول تصور«جبر» را قبول کند، تو گویی اثبات«خودی» خاتمه می پذیرد و به جای آن نفی «خودی» صورت حال پیدا می کند…»(36)
در پایان این توصیه اقبال را به خود و شما یاد آور می شوم:
جهد کن در بیخودی خود را بیاب زودتر و الله اعلم بالصواب(37)
اگر خود را بیابی، هیچگاه تقدیر خویش را در دست هیچ کس نخواهی داد :
بـــرون از سیـنه کـش تکبـیر خــود را به خـاک خـویـش زن اکسیر خـود را
خودی را گیر و محکم گیر و خوش زی مـــده در دست کس تقدیر خــود را(38)
منابع و مآخذ
1- رهبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت الله خامنه ای در پیام ویژه به مناسبت برپایی کنگره بین المللی علامه اقبال (دانشگاه تهران 1986 ) به اقبال لقب ستاره بلند شرقدادند.
2- فطرت شاعر سراپا جستجو است خــــالق و پـــروردگار آرزوست
شـــاعر انـــدیشه مـــلت چو دل مـــلتی بی شاعــــری انبـــار گل
ســـوز مستی نقشبند عالمی است شـــاعری بی سوز و مستی ماتمی
3- کلیات اقبال ( فارسی)
4- کلیات اقبال (فارسی)
5- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 11 (اسرار و رموز)
6- کلیات اقبال (فارسی)
7- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 12 (اسرار و رموز)
8- کلیات اقبال (فارسی)
9- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 14 (اسرار و رموز)
10- کلیات اقبال (فارسی)
11- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 15
12- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 15
13- قرآن کریم سوره ذاریات(51) آیه 21
14- کتب روایی فریقین
15- کتاب غرر الحکم و دررالکلم (بخشی از سخنان حضرت علی –ع) صفحه 179
16- حضرت علی (ع) غرر الحکم صفحه 179
17- حضرت علی (ع) غرر الحکم صفحه 199
18- حضرت علی (ع) غرر الحکم صفحه 698
19- حضرت علی (ع) غرر الحکم صفحه 706
20- مثنوی معنوی مولوی
21- کلیات اقبال (فارسی)
22- کلیات اقبال ( فارسی) ص 109 ( اسرار و رموز )
23- بیا تا گل بـرافشانیـم و می در ساغـر اندازیـم
فلک را سقف بشکافیم و طرحی نو دراندازیم - حافظ
24- یاایهاالناس انتم الفقراء الی الله سوره فاطر آیه 15
25- انی جاعل فی الارض خلیفه. سوره بقره آیه 30
تاخـدای کـعبه بـنوازد تورا
شرح «انی جاعل»سازد تورا (اقبال)
26- والله هو الغنی الحمید سوره فاطر آیه 15
27- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 141 (زبور عجم)
28- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 58 (اسرار و رموز)
29- کلیات اقبال (فارسی)صفحه 91 (ارمغان حجاز)
30- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 77 (اسرار و رموز)
31- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 76 (اسرار و رموز)
32- کلیات اقبال (فارسی)
33- ان الله لا یغیرما بقوم حتی یغیروا ما بأنفسهم. سوره رعد آیه 11
34- کلیات اقبال (فارسی) صفحه 136 (زبور عجم)
35- لا جبرو لا تفویض بل امر بین الأمرین (امام صادق) (ع)
36- افکار اقبال(تشریحات جاوید) 163، دکتر جاوید اقبال، ترجمه شهین مقدم صفیاری ، آکادمی اقبال ، پاکستان
37- کلیات اقبال (فارسی)
38- کلیات اقبال (فارسی) 947 (ناشر دکتر جاوید) ارمغان حجاز، 66.
مشروح این مقاله توسط سعید معزالدین به زبان اردو و فارسی در همایش بزرگداشت علامه اقبال در پاکستان ، اسلام آباد ( دانشگاه اقبال) و همایش انسان از دیدگاه اقبال در لاهور ( تالار اجتماعات آکادمی اقبال )ایراد شده است.
.: Weblog Themes By Pichak :.

