پاکستان کے شمالی علاقے میں ایک معروف خطہ بنامِ گلگت بلتستان ہے جس کو پہلے شمالی علاقہ جات کہا جا تا تھا اور ابھی حال ہی میں اس خطے کو گلگت بلتستان کا نام دیا گیا ہے ، یہ علاقہ خاص اہمیت کا حامل ہے، کچھ عرصہ پہلے وہاں حکومت نے کچھ سیاسی اصلاحات انجام دیں ہیں جس کے نتیجے میں وہاں انتخابات بھی برپا ہوئے ہیں ۔ ان انتخابات کے نتیجے میں ایک لوکل حکومتی سیٹ اپ بھی وجود میں آیا ہے ،ان انتخابات نے اندرون ملک و بیرون ملک سے مختلف طبقات کی توجہ اس علاقے کی طرف مبذول کردی ہے ، ضروری ہے کہ شمالی علاقہ جات کے ان تازہ حالات کا جا ئزہ لیا جائے جو خصوصاً گلگت بلتستان کے حوالے سے وقوع پذیر ہوئے ہیں اوریہاں کے مسائل کا تجزیہ کیا جائے تاکہ وہاں کے عوام اور خصوصاً وہ حضرات جو گلگت بلتستان کے مسائل سے دلچسپی رکھتے ہیں وہاں کی صورتحال کا صحیح اندازہ کر سکیں ۔
ان انتخابات کے نتیجے میں وہاں جوتبدیلی آئی ہے تمام اہل نظر اس سے آگاہ ہیں، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ نہیں دیا گیا لیکن ایک صوبائی نظام وہاں پر وجود میں آگیا ہے یعنی الیکشن کے نتیجے میں وہاں ایک مقامی حکومت وجود میں آئی ہے ۔
گلگت بلتستان کی خصوصی اہمیت
چونکہ گلگت بلتستان کا علاقہ کئی حوالوں سے خاص اہمیت کا حامل ہے، اس لئے اس روئیداد کا تذکرہ اور اس کا جائزہ لینا کئی حوالوں سے ضروری ہے ۔ یہ علاقہ محروم علاقوں میں شمار ہوتا ہے اس علاقے کی تاریخ کے مطابق پاکستان کی آزادی کے بعد سے وہاں کے مقامی لوگوں نے خود جدوجہد کر کے اس علاقے کو وہاں کے حاکموں سے آزاد کراکے اس کا الحاق پاکستان سے کیا ۔ اس کے بارے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دور ائے پائی جاتیں ہیں۔ بھارت کے نزدیک یہ کشمیر کا حصہ ہے اور جس طرح کشمیر متنازعہ علاقہ ہے ،اسی طرح سے وہ اس کو بھی متنازعہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان نے بھی آزادی کے بعد اس کواپنی سرزمین کارسمی درجہ نہیں دیا اور ایک ایجنسی کے طور پر وفاقی حکومت کے ذریعے اس کو کنٹرول کیا جا تا رہا، یہی امر اس کی محرومیت کا باعث بنا ہے، یہ علاقہ بہت ساری خصوصیات کا حامل ہے ، ایک طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ علاقہ پاکستان کی رگِ حیات ہے۔ پاکستان میں بہنے والے بڑے دریا اسی علاقے سے آرہے ہیں ۔سوق الجیشی لحاظ سے بھی یہ علاقہ خاص اہمیت کا حامل ہے لیکن پاکستانی حکمرانوں نے ہرگزاس کی طرف توجہ نہیں کی ۔اب اس علاقے کو کشمیر سے جدا کر کے کسی حد تک ایک الگ حیثیت دے دی گئی ہے اگرچہ ابھی بھی اس کی واضح صوبائی حیثیت کا تعین نہیں کیا گیا تاکہ واضح ہو سکے کہ اس علاقے کا مستقبل کیا ہوگا ۔لیکن بہرکیف اپنی جگہ پر ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے بالآ خرعلاقے کے عوام کو ایک لوکل سیاسی نظام مل گیا ۔
اس علاقے کی اہم خصوصیات یہ ہیں کہ ایک تویہ پاکستانی دریائوں، جہلم اور سندھ کا منبع ہے یہاںپر سب دریاوہاں سے بہہ کر آرہے ہیں، اس علاقے کے پہاڑبہت سی خصوصیات اور نعمتوں سے مالا مال ہیں، اسی طرح پھل و باغات کی بھی وہاں کثرت ہے۔ یہاں کے لوگ بہت محنتی اور جفا کش ہیں، سوق الجیشی لحاظ سے یہ علاقہ چین اور بھارت دونوں سے پاکستان کو ملاتا ہے۔ پاکستان کی آب و ہوا کے نظام میں ہمالیہ کا ایک بہت ہی اہم رول ہے۔ پاکستان شاید ان منفرد ممالک میں سے ہے کہ جہاںاس کے ایک طرف سمندر ہے اوردوسری طرف گلیشئر ہے ۔ گلیشئر سے ساراسال یہ علاقہ ڈھکا رہتا ہے ۔
مذہب، کلچر اور تہذیب کے محافظ
ان جغرافیائی خصوصیات کے علاوہ وہاں ایک خاص کلچر اور تہذیب ہے، جو پاکستان کے دوسرے علاقوں سے ممتا ز اور مختلف ہے ۔ اس کلچر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کی بنیاد مذہب اور دین پر ہے۔ بلتستان کی اکثریت شیعہ مسلمانوںپر مشتمل ہے۔ جبکہ گلگت میں آبادی کا تناسب ملا جلا ہے، یعنی کچھ علاقوں میں شیعہ مسلمان آباد ہیں اور کچھ علاقوں میں اہل سنت آباد ہیں ۔
ایمان ، عقیدہ اور مذہب سے وابستگی اس علاقے کی خصوصیت ہے ، یعنی اگر ہم پاکستان میںمذہبی رجحان کا جا ئزہ لیں تو جتنا مذہبی رجحان بلتستان کے علاقے میں ہے اتنا کسی اور علاقے میں موجود نہیں ہے۔ تمام تر پسماندگی اور محرومیت کے باوجود ان لوگوں کا مذہب اور دین سے بہت گہرا لگائو ہے۔ قدیم زمانے سے اس علاقے کے لوگ علمِ دین کے حصول کے لئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی آتے رہے ہیں۔یہاں کے افرادنے ملک سے باہر جیسے قم، نجف اور دیگر حوزاتِ علمیہ میں تحصیل علم کے لئے ہجرت کی ہے۔علماء کی ایک بہت بڑی تعداد اس علاقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اس علاقے کی زرخیری اور ان کے مذہبی رجحان کی عکاس ہے بلامبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پورے پاکستان اور چاروں صوبوں کے علماء اور طلباء کو ملاکراعداد و شماراکٹھے کئے جائیںتو یہاں کے علماء وطلباء کی ہمیں اکثریت ملے گی جو کہ اس خطے کی مذہب کے ساتھ لگائو کی غماز ہے ۔
بلتستان کے عام لوگ بھی بہت سی خصوصیات کے حامل ہیں، سادگی ، سادہ زیستی ، صداقت اور ایمان یہ ان لوگوں کی اہم ترین خصوصیات ہیں اگرچہ دوسری جگہوں پربھی ہمیں یہ خصوصیات نظر آتی ہیں لیکن گلگت بلتستان میں اس کاتناسب زیادہ ہے ان کی یہ خصوصیات اس علاقے کابہت بڑا سرمایہ ہے ۔ وہاں کے عوام اور خاص لوگ سب ہی ان خصوصیات کے حامل ہیںحکماء اور اہل سیاست ایک مدینہ فاضلہ کی خصوصیات کاجو ذکر فرماتے ہیں، ہمیں وہ خصائص اس علاقے میں نظر آتے ہیں ۔
گلگت بلتستان کی پسماندگی
١۔ تعلیم سے محرومیت
ایک طرف سے جب ہم دیکھتے ہیں توجو علاقہ مدت سے محرومیت کا شکار رہا ہے لیکن محرومیت کے با وجود بھی اس علاقے کے اندر فراوان نعمتیں موجود ہیں ۔ ان مادی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوںکے معنوی اوصاف بھی بہت ہی برجستہ و نمایاں ہیں ۔ پسماندگی نے اس علاقے کو بہت نقصان پہنچایا ہے ، پسماندگی کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ یہاں سب سے زیادہ کمزور رہاہے ۔ تعلیم کے شعبہ کواس علاقہ میں پسماندہ رکھا گیا ہے لہٰذا وہاں سے لوگوں کوتعلیم کے حصول کیلئے ہجرت کرنا پڑتی ہے، کیونکہ تعلیمی مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں، یہاں کالج یا یونیورسٹی کی سطح کا کوئی ادارہ نہیںتھا فقط کچھ ابتدائی سکول تھے، ان تمام کمزوریوں کے باوجودہم اس معاشرے کو دینی معاشرہ کہہ سکتے ہیں ۔یہاں کے دینی مدارس بھی مضبوط یا وسیع نہیں تھے اس کی وجہ بھی مالی پسماندگی تھی لہٰذایہاں تعلیم کے شعبے کو مالی پسماندگی نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ۔
٢۔ معاشی زبوںحالی
یہاں پسماندگی کی دوسری وجہ معیشت ہے یہ ایک کوہستانی علاقہ ہے یہاں پرمعدنیات ، قیمتی پتھراور فراوان منابع موجود ہیں،اس کے علاوہ پھلوں کے باغات بھی موجود ہیں جنھیں خشک کر کے عظیم صنعت قائم کی جا سکتی تھی ۔ لیکن مالی پسماندگی اور حکومتی پالیسیوں نے اس علاقے کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا معیشت کے لحاظ سے بھی وہ لوگ بہت ہی کسمپرسی کا شکار رہے ہیں۔
٣۔ مہاجرت
یہاں کا معیار زندگی بہت نیچے ہے جس کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ وہاں سے لوگ کثیر تعداد میں دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرگئے کیونکہ وہاں پر انھیں اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا تھا ، ایسا طبقہ جو معاشرے کے اندر ریڑھ کی ہڈی رکھتا ہے ،اُس نے پاکستان کے دوسرے علاقوں کارخ کیا اور جہاں جہاں انھیں مناسب لگا بڑے شہروں میں اپنی معیشت تعلیم اور بچوں کی خاطر زندگی اختیار کر لی ۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ علاقہ ایلیٹ طبقے سے خالی ہوتا گیا، یہاں ایسے بااستعداد لوگ تھے ،جوکہ وہاں کی زندگی میں کچھ رول ادا کر سکتے تھے لیکن پسماندگی اور دیگر محرومیوں کی وجہ سے وہ علاقہ چھوڑنے پرمجبور ہوتے گئے ۔
پاکستان کا سیاحتی مرکز
اس علاقے کی ایک اہم خصوصیت پاکستان کا واحد سیاحتی مرکزہونا ہے ، ویسے تو پاکستان میں بہت سی جگہوں پر سیاحتی کشش موجود ہے، لیکن شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مراکز ایک منفرد حیثیت کے حامل ہیں ۔ خدا وند تعالیٰ نے ان علاقوں میں اپنی قدرت کا جومظاہرہ کیا ہے وہ پاکستان کی دیگر علاقوں میں کم تر ہے ۔گلگت بلتستاں سیاحتی مرکز ہونے کے باوجود محروم ترین علاقہ ہے ۔ وہاں پر حکومت یا پرائیویٹ شعبے میں سے کسی نے بھی سرمایہ کاری نہیں کی ہے ۔ یہ علاقہ اکثر مذہبی قیادت کے تحت رہا ہے یعنی یہاںسیاسی قیادت سے زیادہ مذہبی قیادت کا غلبہ رہا ہے، چونکہ یہاں کے لوگوں کا رجحان مذہبی ہے اوریہ لوگ مذہب سے شدید وابستگی رکھتے ہیں ۔یہاں کے عوام اپنی نجی زندگی میں بھی مذہب کو مد نظر رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی اور عائلی زندگی میں بھی مذہب کو اپنا راہنما ما نتے ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے یہاں کے عوام کی قیادت و مرکزیت مذہبی لوگوں یعنی علماء کے ہاتھ میں رہی ہے۔ یہاں کے علماء ہمیشہ سے موئثر ترین کردار ادا کر تے رہے ہیں۔ یہ اس علاقے کا ایک اجمالی خاکہ ہے جو اس علاقے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ لہٰذا کسی مبالغے کے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں ،کہ یہ سیاحتی،جغرافیائی، مذہبی اور تہذیبی لحاظ کے علاوہ منفرد خصوصیات کا حامل ہے، لیکن ان خوبیوں کے با وجودیہ گوناگوں مسائل کا بھی شکار ہے ۔
انتخابات کے بعد میں پیش آنے والی صورتحال
اس علاقے کی تعمیروترقی کیلئے نعرے توبہت لگائے گئے ہیں لیکن عملی میدان میںیہاں کچھ بھی نہیں کیاگیابہت سی سیاسی پارٹیاں اور گروہ اپنے مفادات کے پیش نظراس علاقے کے متعلق اظہار نظر کرتے آئے ہیں لیکن ایک بڑی اہم تبدیلی 2009ء میںدیکھنے میں آئی ہے، اور وہ یہ کہ حکومت نے باقاعدہ طور پرایک اعلان کے تحت اس علاقے کو ایک رسمیت دی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی واضح رسمیت نہیں ہے۔ یعنی علاقے کو باقاعدہ صوبے کا عنوان نہیں دیاگیا۔ بہرکیف وہاں پر انتخابات ہوئے اور ایک لوکل انتظامیہ وجود میں آئی ہے جس کے کوئی واضح قانونی و آئینی اختیارات نہیں ہیں لیکن امید ہے کہ اس کے بارے میں مزید پیش رفت ہوگی ۔
انتخابات اور انتخابات کے بعد پیش آنے والی صورتحال کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔یہاں سے اس علاقے اور لوگوںکی تقدیرمعین ہوگی، کہ انھیں خود کدھر جانا ہے اور انھوں نے خود کیا انتخاب کرنا ہے ؟ دراصل یہ انتخابات صرف انتخابات نہیں تھے کہ یہاں کے لوگوں نے اپنے چندنمائندے لوکل پارلیمنٹ کے لئے انتخاب کئے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک قومی پارلیمنٹ تک ان کی رسائی نہیں ہوئی، لیکن مقامی پارلیمان تک ان کی رسائی ہوگئی ہے۔ فقط اس انتخابات کا مقصد یہ نہیں تھا ایک پارلیمان کے انتخا ب کا انہیں موقع دیا گیاہے بلکہ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب لوگوں نے اپنے مستقبل کا راستہ خود انتخاب کرنا ہے ،اب اور بہت سے انتخاب بھی ان کے پیش نظر ہوناچاہئیں۔ ہماری اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ نکتہ اٹھائیں اور یہاں کے عوام کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں، بظاہر یہ انتخابات بہت سادہ ہیں لیکن ان انتخابات کے پیچھے بہت سی چیزوں کا انتخاب پوشیدہ ہے۔ یہاں اب انتخاب کا راستہ کھل گیا ہے اب لوگوں نے یہاں اپنے لئے بہت کچھ انتخاب کرنا ہے، اور آئندہ جو پیش آئے گا وہ لوگوں کا اپنا انتخاب شدہ راستہ ہوگا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں پر حکمت و بصیرت سے کام لیا جائے۔
مقامی قیادت ، سیاسی اورمذہبی راہنما اور عوام الناس کے علاوہ لوگوں کے مختلف طبقات اس وقت انتہائی تدبر کا ثبوت دیں اور اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں اور سمجھیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے ؟ اور کیا ہونا چاہیے ؟ یہاں کے لوگوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کس کا انتخاب کر رہے ہیں اور انھیں کس طرف لے جایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر سادگی ، حماقت اورپارٹی بازی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے اس سے پہلے وہاں کے عوام کی سادگی اتنی نقصان دہ نہ ہوجتنی اب ہوگی۔ اگر الیکشن کے بعدکے مسائل سے نپٹنے کیلئے عقل سے کام نہ لیا گیا، تو بعد کے حالات عوام کیلئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں ۔
آزادی، حقوق اور الیکشن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت
ان انتخابات میں عوام کو آزادی دینے کا نعرہ لگایاگیاہے اوران کے حقوق کی بھی بات کی گئی ہے۔یہ بہت اچھا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں ان لوگوں کو سیاسی اور مدنی حقوق مل رہے ہیں، مدتوں سے اس علاقے کے لوگوں کو آزادی اور حقوق کی تمنا تھی لیکن یہ یاد رہے کہ حقوق اور آزادی جیسی نعمتوں کی آڑ میں اور بہت سی چیزیں بھی معاشرے میں داخل کر دی جا تی ہیں۔
جہاں بھی آزادی کے دروازے بند ہوں، پسماندگی ہو ، محرومیت ہو، ظلم و ستم ہو او رجب لوگوں کی جدوجہد سے جبرو غلامی کا زمانہ ختم ہو تو اس آزادی اور حقوق کے نعروں کے ساتھ بہت ساری اور چیزیں بھی ان دروازں سے داخل ہوجاتی ہیں۔ اس وقت ان چیزوں کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ داخل ہوگئی ہیں۔ اس شور شرابے اور غل غپاڑے میں بہت سی نقصان دہ چیزیں بھی معاشرے میں نفوذ کر جا تی ہیں، جیسے آج کل ہمارے ملک کی فضا پر دہشت گردی کا سایہ چھایا ہوا ہے۔یہاں پر جیسے ہی مسجد میں نمازی جاتے ہیں تو نمازیوں کے ساتھ دہشت گرد بھی گھس جاتے ہیں، یا اگر کسی مجلس میں عزادار جاتے ہیں تو ان کے ساتھ دہشت گرد بھی جا کر شریک ہوجاتے ہیں۔ ان کے لئے ڈیٹیکٹرلگائے جاتے ہیں ، آج ہم دیکھتے ہیں نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں اور ریلیوں میں اور جلسے جلوسوں میں حفاظتی دروازے لگے ہوتے ہیں اور وہاں سے لوگوں کو گزارا جاتا ہے، یہ ایک ابتدائی حفاظتی انتظام ہے لیکن خوب ہے، یہ کام ہونا چاہئے یعنی لوگوں کو ڈیٹیکٹر سے گزارا جائے تاکہ پتہ چلے کہ کون اندر جا رہا ہے؟ آیا نمازی جا رہا ہے ؟ یا دہشت گرد جا رہا ہے ، آیا مجلس میں ایک عزادار جا رہا ہے یا دہشت گرد جا رہا ہے۔ جہاںبھی سُستی ہوتی ہے وہاں عزاداری کے لبادے میں دہشت گرد داخل ہوتے ہیں اور جہاں کوتاہی ہوئی ہے وہاں نمازیوں کے لبادے میں مسجدوں میں دہشت گرد داخل ہوئے ہیں اور انھوں نے تباہی مچائی ہے۔ گلگت بلتستان کے اندر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں یہاں آزادی اور حقوق کادا خلہ ممکن ہوا ہے۔ لیکن یہاں کوئی سکینریا کوئی ڈیٹیکٹرنہیں لگا ، جو یہ چیک کر ے کہ آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ کون سی ناروا چیزیں داخل ہو رہی ہیں۔ جو دہشت گردوں سے زیادہ نقصان دہ ہیں ، ان کی طرف توجہ بہت ضروری ہے، یہ عوام کی بصیرت کے امتحان کا موقع ہے جیسے ہرقوم پر اﷲ کی طرف سے مختلف قسم کے امتحانات آتے ہیں محرومیت بھی ایک امتحان ہے اور محرومیت کی راہ میں جدوجہد بھی امتحان کی ایک شکل ہے ۔
اقدار کی حفاظت کی ضرورت
اس وقت اس علاقے کے لوگوں کی بصیرت کا امتحان ہو رہا ہے ، پہلے شاید ان کے صبر کا امتحان تھا لیکن اس وقت ان کی بصیرت کا امتحان ہو رہا ہے۔ یہاں کے عوام کس قدر فراست اورتدبرسے کام لیتے ہیں ،یہ بات آنے والے دنوں میں عیاں ہو گی، اگر یہ آنکھیں بند کر کے ان نعروں کے دھوکے میں آگئے تو ممکن ہے مستقبل میں ان کا بہت بڑا نقصان ہو اور اگر یہاںپر انہوں نے بصیرت سے کام لیا توپھر ان کیلئے حالات سے استفادہ ممکن ہو جائے گا۔ درحقیقت اس وقت گلگت بلتستان کے عوام ایک دو راہے پر کھڑے ہوئے ہیں ، ان کیلئے ایک راہ حل یہ ہے کہ موجودہ پیش آنے والی فرصت سے فائدہ اٹھائیں، ان کیلئے دوسرا راستہ یہ ہے کہ جو موقع ہاتھ آیا ہے اس میں یہ دوسروں کیلئے استعمال ہوجائیں، یعنی اس فرصت میں ان کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے اور جو متاع محرومیت کے زمانے میںان کے پاس تھی وہ بھی ان سے کی لوٹ لی جائے، زیادہ واضح الفاظ میں عرض خدمت ہے کہ ان کے پاس ان کا بہترین اثاثہ ان کا دین ہے انہیں چاہیے کہ اپنی محرومیوں کے بدلے میں دین کو ضائع نہ ہو نے دیں ،یہاں کی عوام جس چیز کی تمنائی ہے جیسے آزادی ، حقوق ، رفاح و فلاح یہ ساری چیزیں ان کو مل سکتی ہیں، لیکن اگربے بصیرتی کا مظاہرہ کیا تو جو متاع ان کے پاس ہے وہ بھی لٹ جائے گی، محرومیت کے زمانے میں بہت قیمتی متاع ان کے پاس تھی، اس علاقے کے لوگوں کی قیمتی متاع ان لوگوں کا دین ، مذہب ، صداقت ، ایمان ، اقدار ، ویلیوزہیں۔یہ اس علاقے کا قیمتی متاع ہے۔ جو آج اس فاسد و منکرات سے بھری ہوئی دنیا میں ہمیں بہت کم ایسے پاکیزہ معاشرے نظر آتے ہیں۔ خصوصاً بلتستان کہ وہاں یہ چیزیں بہت نمایاں ہیں ، ان کی یہ متاع لٹ سکتی ہے اگر بصیرت سے کام لیا تو اپنی اس قیمتی متاع کو بھی بچالیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان فرصتوں سے فائدہ اٹھاکر اپنی محرومیوں کو بھی دور کرلیں گے ۔ پس یہاں پر عوام اورخواص کی بصیرت کی ضرورت ہے ۔
اہم اتفاق یہ رونما ہوا ہے کہ بالآخر ایک سیاسی پارٹی نے یہاں انتخابات کا انعقاد کرایا۔ اس سے پہلے اس علاقے کو فوج کے ذریعے سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور یہاں کے وسائل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایاجا رہا تھا، لیکن پہلی دفعہ ایک سیاسی جماعت کی حکومت نے اس علاقے کو سیاسی ترقی دینے کا عزم کیا۔ پیپلز پارٹی کا یہ ایک جرات مندانہ اقدام تھا ،جو کہ سراہنے کے قابل ہے۔ اس پارٹی کے اچھے کاموں کو اگر گنا جا ئے تویہ ایک ہی ہے۔ لیکن اس آزادی اور حقوق کے ساتھ ساتھ وہ چیزیں بھی یہاں داخل ہوگئی ہیں جنھیں داخل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ان کے دخول سے وہاں کے عوام اور علاقے کے معنوی اور مادی سرمایے کے لئے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ وہ سیاسی پارٹیاں ، سیاسی احزا ب جو وہا ں پر جانے کو اپنا وقت تلف کرنا سمجھتے تھے لیکن اب انھیں یہاں باقاعدہ ایک سیاسی میدان مل گیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی خصوصیت
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے ذریعے سے قوم کو کبھی کوئی خیر نصیب نہیں ہوئی، پاکستان کے اندر اگر ہم سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں کہ پاکستان کے لئے انھوں نے کیا کیا ؟ تو ہمیں سوائے خیانت ، دھوکہ ، لوٹ مار، غارت گری اور اس قسم کے مسائل کے علاوہ ان پارٹیوں کے کارناموں میں کوئی اور چیز نظر نہیں آتی ۔ اب جو نہی گلگت بلتستان میں ان سیاسی پارٹیوں کیلئے دروازے کھلے ہیں، ان کا اثر ورسوخ بھی یہاں بڑھ گیا ہے، وہ اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایسا زرخیز میدان ان کیلئے کشادہ ہو جا ئے گا ۔
سیاسی پارٹیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو فقط اقتدار سے سروکار ہوتا ہے، ان پارٹیوں کا ایک جیسا منشور ہوتا ہے، یہ کئی ناموں سے بنی ہوئی ہیں ، دائیں بازو کی ہوں بائیں بازوکی ،مختلف دینی جماعتیں ہوں یا غیر دینی ان سب کا ایک ہی منشورہے وہ یہ ہے کہ ہر قیمت پر اقتدار میں آنا ہے۔ اس کے لئے انہیں جوبھی قیمت ادا کرنا پڑے وہ ادا کرنے کوتیار ہیں۔ اس کے لئے مذہبی جماعتوں کی تاریخ بھی دیکھ لیں اور دیگرسیکولر جماعتوں کی تاریخ پربھی نظر کریں ، اقتدار میں آنے کے لئے کہیں بھی ساز باز کرنی ہو تو کر لیتے ہیں ، کہیں خیانت کرنی ہوتو بھی کر لیتے ہیں ، کہیں انھیں بہت بڑے ظلم و جنایت میں شریک ہونا ہو تو اس پر آمادہ ہو جا تے ہیں اوراگر ملک بیچنا پڑے تواس کابھی سودا کر دیتے ہیں، ملک دشمن عناصر کو اگر ملک کے اندر آنے کا موقع دینا پڑے تویہ گریز نہیں کرتے ہیں، پس ان کا ایک ہی منشور ہے باقی ان کے آپس کے اختلافات وہ سب جزوی ہیں ۔
سیاسی جماعتوں کی مداخلت کے شمالی علاقہ جا ت پر اثرات
سب سے بڑی آلودگی اس معاشرے کو یہ در پیش ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہوتیں ، اگر مخلص ہوتیں تو جہاں پہلے ان کا اقتدار قائم ہوچکا ہے وہاں ان علاقوں میں کچھ نہ کچھ کر سکتیں ،مثلاً پا کستان کے دیگر خطوں میں ان کی کارکردگی دیکھ لیں کہ انہوں نے کیا گل کھلایا ہے اگر ان صوبوں میں ان کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔ تو پھر امید کی جا سکتی ہے کہ یہ وہاں بھی جاکر کچھ کریں گے۔ اور اگر باقی ملک میں ان کی کارکردگی سب کو معلوم ہے کہ کیا کیا ہے تو پھران سے یہی توقع ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی وہی عمل انجام دیں گے ۔
یہ بات مسلّمات میں سے ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈر صرف عوام کو تقسیم کرنے کے لئے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں باقی بہت ساری چیزوں میں باہم شریک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ روزمرہ کے مشاہدات میں ہمیں نظر آتا ہے، جہاں مل بیٹھنا ہویہ آپس میں مل بیٹھتے ہیں، لیکن عوام کو تقسیم کر دیتے ہیں۔
١۔آپس میں تقسیم ہونا
ان کے آنے کا ایک بڑا ضرر یہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کے عوام جو پہلے ایک رشتے میں پروئے ہوئے تھے اب سیاسی وابستگیوں کے اندر تقسیم ہوجائیں گے ، لہٰذا سیاسی جماعتوں کی طرف سے پہلا نقصان
یہ ہوگا کہ لوگ آپس میں تقسیم ہوجائیں گے ۔
٢۔ مذھبی اقدار کاختم ہوجانا
دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ وہ معاشرہ جس کی اہمیت اور جس کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ دینی معاشرہ تھا اب آہستہ آہستہ یہ جماعتیں اس معاشرے کو سیکولرازم کی طرف لے کر چلی جائیں گی۔ سیکولر معاشرے سے مراد یعنی بددین معاشرہ ، یعنی وہ معاشرہ جس میں دین بہت بری شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب متاعِ دین اور مذہب سے لگائو چھن جا ئے تو مذہبی اقدار valuesبھی ختم ہوجاتیں ہیں۔
٣۔ شناخت کاچھن جانا
سیاسی جماعتوں کی با ہمی رقابت کے نقصانات یہ ہیں کہ ان جماعتوں کی رقابت کے نتیجے میں اس علاقے کے کلچر یا لوگوں کی شناخت چھن جاتی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان اور شمالی علاقہ جات کے عوام اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں، ان کی مخصوص اور معین شناخت ہے جو انھیں باقی ملک سے منفرد رکھے ہوئے ہے، ان کی یہ شناخت پائمال ہونے کا شدید خطرہ ہے اور اس کا نمونہ افغانستان میں موجود ہے، افغانستان کے معاشرے کی اپنی ایک قدیم شناخت تھی ، اس معاشرے کی اس شناخت کو ختم کرنے کے لئے یہ وہاں پر اس وقت آزادی اور حقوق کے نام پر داخل ہوئے ان کے ساتھ ساتھ نیٹو بھی داخل ہوگئی اور سیاسی جماعتوںکے الیکشن کے بعد اب وہاں پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے افغانی کلچر بھی مسخ ہو رہا ہے ، افغانی روایات بھی مسخ ہو رہی ہیں اور افغانیوں کادین سے لگائو اور دین سے جو تعلق تھا وہ بھی ان سے چھینا جا رہا ہے۔ ہمیں ان باتوں کی اتنی خبر نہیں ہے لیکن جو لوگ افغانی معاشرے سے آگاہ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان میں جو عمل شروع ہوا ہے تقریباً اس عمل کے مشابہ ہے جو افغانستان میں شروع ہو اتھا، یعنی جیسے وہاں پر آزادی دلائی جا رہی ہے، جمہوریت قائم کی جارہی ہے۔ اسی طرح یہ عمل گلگت بلتستان میں شروع کیا گیا ہے یہ سیاسی جماعتیں بھی ان نعروں کے ساتھ ساتھ داخل ہو رہی ہیں، ظاہر ہے کہ جب معاشرہ سیکولر ڈگر پر چل پڑتا ہے تو سیکولر ازم تنہا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے اور نظریے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو دین اور اقدارکے متعلق لا ابالی بناتے ہیں۔ ایسا ماحول جہاں پیدا ہو، وہاں ویلیوز ختم ہوجاتی ہیں ۔
.: Weblog Themes By Pichak :.
