علامہ ناصر عباس جعفری نے کوئٹہ کے اس دلخراش واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشگردی کی بدترین مثال قرار دیا اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے ملک میں امن بحال کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، اس لئے کوئٹہ کو پاک مسلم فوج نہ کہ پاک مسلکی فوج کے حوالے کیا جائے اور جنرل کیانی کو فی الفور استعفٰی دینا چاہیے۔ انہوں نے گورنر راج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب استقامت اور مقاومت کے ذریعے بلوچستان کی حکومت کو گرایا جاسکتا ہے تو ان کے بڑوں کو بھی گرایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ملک میں شہداء کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے عمائدین مقاومت، استقامت اور شہداء کے خون سے عہد وفا نبھاتے ہوئے میدان میں حاضر رہ کر پورے ملک کے مسلمان بھائیوں کو اس عظیم مصیبت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر مظلوموں کی فریاد پر لبیک کہنے کا موقع دیں۔
دیگر ذرائع کے مطابق کیرانی روڈ دھماکے کا مقدمہ بروری تھانے میں درج کر لیا گیا۔ ہزارہ برادری کے شہداء کی میتوں کے ساتھ دھرنے کو سولہ گھنٹے ہوگئے۔ سانحہ کیرانی روڈ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کا کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کل شام سے دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطالبات میں کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنا، عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا اور دہشت گردوں کے سرپرستوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کرنا شامل ہیں۔ کراچی میں ایم اے جناح روڈ، نمائش چورنگی، انچولی، عائشہ منزل، رضویہ سوسائٹی، یونیورسٹی روڈ اور شارع فیصل کے علاوہ ملیر اسٹار گیٹ کے قریب احتجاجی دھرنے دیئے جا رہے ہیں۔
سانحہ کوئٹہ پر آج پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی سوگ منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، اور دہشت گردی سے متاثر افراد اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ادھر لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
ہمارے شہداء کا لہو کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں کہ آئے روز ہمارے جوانوں، بچوں، ماؤں اور بہنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور ہم کسی وڈیرے کی ہاں میں ہاں اور نا میں نا کرتے رہیں اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں اور کل پھر ہمارے ہی علاقے میں ہماری 100 لاشیں گرا دی جائیں۔
خدا کے لئے!!! آج گھروں کو نہیں جانا چاہے کوئی کچھ بھی کہے، جب تک اپنے مطالبات کا عملی نفاذ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتے گھروں کو نہیں جانا خدا کے لئے!!!
آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے کوئٹہ میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ آپ نے ماضی میں اپنے پاکستان کے دوروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام اور علمای دین کی قدردانی کی اور انکے ایمان اور صبر کی تعریف کی۔
مرجع عالیقدر شیعیان جہان اسلام نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان وحدت اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے تاکید کی کہ مسلمانوں کو ہر قسم کے تفرقہ اور فرقہ واریت سے پرہیز کرنا چاہئے۔ آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئٹہ کے شیعہ شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔
آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات کرنے والے پاکستانی طلاب نے بھی پاکستان کی مظلوم شیعہ قوم کی حمایت میں انکے موقف کو سراہا اور آپ کا شکریہ ادا کیا۔ وفد میں شریک طلاب نے مرجع عالیقدر شیعیان جہان کے پیغام کو شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے دل پر مرہم قرار دیا۔
ابنا: کوئٹہ کے علاقے کرانی روڈ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 84 ہوگئی ہے۔ آج 8 سالہ زخمی بچہ بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔ جاں بحق ہونے والوں کی میتیں ہزارہ ٹائون منتقل کر دیں گئیں۔ صوبے میں آج سرکاری سوگ اور قومی پرچم سرنگوں ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے 19 افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔ شہر میں شٹر ڈائون ہڑتال۔ پولیس کے مطابق گذشتہ روز کرانی روڈ کے علاقے علی آباد میں واٹر ٹیکنر کے ذریعے کئے جانے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 83 افراد کی میتیں ضروری کارروائی کے بعد بی ایم سی ہسپتال اور سی ایم ایچ سے ہزارہ ٹائون کے مختلف امام بار گاہوں میں منتقل کر دیں گئیں ہیں۔ ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کی کال پر کوئٹہ میں شٹر ڈائون ہڑتال کی جا رہی ہے اور تین سے 7 یوم کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ پشتونخواء ملی عوامی پارٹی، تاجران ایکشن کیمٹی نے شٹر ڈائون ہڑتال کی ہے۔
دیگر ذرائع کے مطابق گذشتہ روز کوئٹہ کے نواحی علاقہ کرانی روڈ، جہاں شام کے وقت لوگ روز مرہ کی خریداری میں مصروف تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور شہر کے وسطی علاقے میں بھی سنی گئی۔ دھماکے سے متعدد دکانوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا اور ایک دو منزلہ عمارت زمین بوس بھی ہوگئی۔ ملبے تلے بھی متعدد افراد دب گئے، جنہیں ریسکیو کرنے کیلئے آپریشن کیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور جاں بحق اور زخمیوں کو سی ایم ایچ، بولان میڈیکل کمپلیکس اور سول اسپتال منتقل کیا۔ بولان میڈیکل کمپلیکس اور سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ زخمیوں میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور میڈیا کے نمائندوں سمیت کسی کو بھی جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز وزیر خان ناصر کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا۔ سی سی پی او کوئٹہ کے مطابق دھماکہ خیز مواد ٹریکٹر ٹرالی میں موجود ٹینکر میں چھپایا گیا تھا۔ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔
ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے نام ایک پیغام میں کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ اور پاکستان کے عوام اور حکومت سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس قسم کے دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان کے مفادات اور پاکستانی قوم کے خلاف اغیار کی تفرقہ آمیز پالیسی کی پیروی قرار دیا۔
کوئٹہ
کے علاقے کیرانی میں کل ہونے والے زور دار دھماکے میں شھداء کی تعداد میں
مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک 109افراد شھیداور 200کے قریب زخمی ہوئےجن
میں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔
کل کے دلخراش واقعہ میں شھید ہونے والوں میں50 سے زائد خواتین،لڑکیاں اور چھوٹے بچے بھی ھیں۔ کوئٹہ کے شعیہ مسلمان آج ایسے میں 109 شھداء کے پاک و مطھرجسدوں کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ھیں کہ جب آج سے چالیس روز قبل کوئٹہ کے علمدار روڈ کے سانحہ میں شھید ہونے والے 120 شعیہ مسلمانوں کا چہلم منایا جا رہا ہے۔
کل کے اس دھشتگردانہ واقعہ کی اس ملک کی سیاسی اور مذھبی جماعتوں نے مزمت کی جبکہ مجلس وحدت مسلمین،تحفظ عزاداری کونسل، اور بلوچستان شیعہ کانفرنس نےواقعہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے سات روز تک عام سوگ منانے اور آج شٹر ڈاون ہڑتال کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ صوبہ بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں کی جانب سے یوم سوگ کے اعلان پر آج ان دونوں صوبوں میں قومی پرچم سر نگوں ہے
واضح رہے کہ کوئٹہ کے علاقے کیرانی بازار میں کل شام زور دار دھماکا ہوا جس میں اب تک 109افرادشھید ہوچکے ہیں جبکہ شھید ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دھماکے میں 200کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دھماکے میں کئی گاڑیوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے سے 4 مارکیٹیں مکمل طور پر تباہ اور ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ ملبے کے نیچے مزید افراد کے دب جانے کا خدشہ ہے اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز تقریباً پورے شہر میں سنی گئی
دھماکے میں ایک ہزار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جو ٹریکٹر ٹرالی پر پانی کی ٹنکی میں رکھا گیا تھا
کوئٹہ میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد شعیہ مسلمانوں کے خلاف یہ سب سے بڑی دھشتگردانہ کاروائی ہے۔
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح 29 بہمن کی مناسبت سے تبریز کے عوام کے مختلف طبقات کے ساتھ ملاقات میں اہم ملکی اور غیر ملکی مسائل کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ کی طرف سےایران کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش مکر و فریب پر مبنی ہے امریکہ ایک طرف ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کررہا ہے جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی پیش کش کررہا ہے جو امریکہ کی دوگانہ اور منافقانہ پالیسی اور اس کے مکر وفریب کا مظہر ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو مکر وفریب پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے فرمایا: امریکہ کے قول و فعل میں نمایاں تضاد پایا جاتا ہے اورامریکہ کےساتھ رابطہ میں ہماری مشکلات نہ صرف حل نہیں ہوں گی بلکہ ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور ہماری ترقی و پیشرفت کند ہوجائے گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایٹمی ہتھیاروں پر ہمارا کوئی اعتقاد اور یقین نہیں ہے اس لئے ہم ایٹمی ہتھیاروں کی ساخت کی تلاش میں نہیں بلکہ دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کے محو کرنے کے خواہاں ہیں اور اگر ہم ایٹمی ہتھیار بنانا چاہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی لیکن ہمارا ایٹمی ہتھیاروں پر کوئی اعتقاد اوریقین نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں ایسے ہتھیار بنانے کی کوئی ضرورت ہے۔
.....

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ حزب اللہ کے جنرل
سیکریٹری سید حسن نصراللہ نے آج منگل ۱۶ فروری کو ’’ رہبران شہداء‘‘ کے
حوالے سے منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم ان شہداء سے الہام
حاصل کرتے ہیں، ان کی وصیتوں پر عمل کرتے ہیں اور پائیداری اور استقامت کا
ثبوت دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ ان رہبران شہداء نے ہمیشہ استقامت دکھائی
اور دشمن کے مقابلہ میں مقاومت کرنے کا درس دیا۔
انہوں نے کہا: شہید
راغب حرب، شہید عباس موسوی، شہید عماد مغنیہ وہ رہبران شہداء ہیں جنہوں نے
استقامت، پائیداری اور مقاومت سے کام لیا اور دشمن کے مقابلہ میں پہاڑ بن
کر کھڑے رہے۔
حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا: ان رہبران شہداء کے
مدرسہ میں صرف استقامت اور پائیداری کا درس ملتا ہے انہوں نے اپنے دشمن کو
خوب پہچانا اسرائیل اور صہیونیسٹ کے خطرے کو خوب درک کیا۔ اور اس خطرہ کا
مقابلہ صرف مقاومت سے ہے۔ اسی وجہ سے شہید امام موسی صدر جیسے رہبران شہداء
نے ،مقاومت اور استقامت کی بنیاد ڈالی، انہوں نے اپنی جوانی، اپنی ساری
زندگی اسی راہ میں صرف کر دی اور آخر کار اسی راہ میں جان بھی دے دی اور
ہمیں سیکھا دیا کہ اسی راستے پر چلیں اس راستے کی نسبت وفادری کا ثبوت دیں۔
سید
حسن نصر اللہ نے مزید کہا: ۳۰ سال سے ہم ایک پہاڑ کے مانند کھڑے ہیں اور
دشمن کے وار کا بخوبی منہ توڑ جواب دے رہے ہیں یہ کوئی خواب نہیں ہے جو ہم
دیکھ رہے ہیں حقیقت ہے۔ ۳۰ سال سے لبنان کی استقامت پوری دنیا کے سامنے
واضح و آشکار ہے۔ استقامت کے نتیجہ میں مسلسل کامیابیاں ہمارے قدم چوم رہی
ہیں اور یاد رکھیے آخری کامیابی کا راستہ بہت لمبا ہے۔
استقامت فلسطینی قوم کا شعار
حزب
اللہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا: اگر آج ہم فلسطین پر نگاہ کرتے ہیں تو ہمیں
معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز نے فلسطین کو آج تک فلسطین بچا کر رکھا ہے وہ
فلسطینوں کے مقاوت ہے اگر اسرائیل کو رسمیت دینے والی امریکہ کی ۱۹۸۲ میں
پلاننگ کامیاب ہو جاتی تو بغیر کسی شک و شبہ کے آج فلسطین کے چپے چپے پر
قبضہ ہو گیا ہوتا اور فلسطین کا نام و نشان مٹ گیا ہوتا۔
استقامت نے ’’اسرائیل بزرگ‘‘ کے منصوبہ کو نابود کیا اور امیدوں کو زندہ کیا۔
سید
حسن نصر اللہ نے تاکید کی: استقامت نے ’’اسرائیل بزرگ‘‘ کے منصوبہ کو خاک
میں ملایا اور امیدوں کو زندہ کیا۔ فلسطین اور لبنان مقاومت کے میدان میں
دل و جان کی طرح آپس میں متحد ہیں لبنان فلسطین کی حمایت کرتا ہے تا کہ وہ
اپنی استقامت سے اپنے حقوق اور اپنی زمین کو واپس لے سکے۔ جب لبنانی
اسرائیل کے مقابلہ میں اٹھے اور اپنے محکم عزم و ارادہ سے شہید ہوئے اور
اپنے عزم و ارادہ سے انہوں نے تاریخ کو رقم کر دیا اور ان کی یہی چیز سبب
بنی کہ غزہ میں بھی مقاومت کی لہر شروع ہو اور وہاں بھی انہیں کامیابی نصیب
ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ ملت فلسطین اپنے راستے کو جاری رکھیں اور ہم بھی
اپنی حمایت کو جاری رکھیں گے۔
بحرین کے پر امن انقلاب کی حمایت کرتے ہیں
حزب
اللہ کے جنرل سیکریٹری نے بحرین کی انقلابی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے
کہا: ہم بحرین کی پرامن انقلابی تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور بحرین کے عوام
کو داد دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس ملک میں حکومتی عہدہ دار آپسی
گفتگو سے کسی مثبت نتیجے تک پہنچیں۔
لبنان کی مقاومت میں ایران اور شام کے کردار کو سراہا
انہوں
نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں ’’ لبنان کی تعمیر نو ادارہ کے سربراہ‘‘
حسن شاطری کی شہادت کی مناسبت سے ان کے لواحقین کو تسلیت عرض کرتے ہوئے
کہا: ہم ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو لبنان اور فلسطین کی ترقی
میں سہیم رہے ہیں خاص کر کے اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کا شکریہ ادا
کرتے ہیں، اور حسن شاطری کی شہادت کی مناسبت سے تسلیت عرض کرتے ہیں۔
حزب
اللہ پر بعض تہمتوں کہ حزب اللہ کے افراد نے بلغارستان میں صہیونی کشتی پر
حملہ کیا کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ پر تہمت لگا کر بعض عربی
چینل یہ شوشہ پھیلا رہے ہیں کہ اب اسرائیل کا لبنان پر حملہ قطعی ہے اور
انہوں نے ایک بڑی جنگ کی پیشن گوئی کی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ یہ
عربی چینل خود ہی اس خبر کے مخترع ہیں اسرائیل نے ابھی تک ایسا کچھ کہا
نہیں۔ یہ خود عربی میڈیا ہے جو اسرائیل کو لبنان پر حملہ کے لیے اکسا رہا
ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مجھے ان اتہامات کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا
ہے اس لیے کہ ہم مسئلہ کو پرامن طریقہ سے حل کر رہے ہیں۔ بعض نے بہت جلدی
اس تہمت کو قبول کر لیا اور ہمارے خلاف فتوے صادر کرنے لگے اور ہمیں
ٹروریسٹوں کی لیسٹ میں شامل کرنے لگے۔
انہوں نے مزید واضح کیا: ان کا
بدترین اقدام تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ اسرائیل اس تہمت کے
نتیجے میں لبنان پر حملہ کرے گا۔ ہمیں اس بات پر افسوس ہے کہ یہ لوگ خود
لبنان میں رہ کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ میں یہاں واضح کر دوں کہ پہلی بات تو
یہ ہے کہ اسرائیل کو حملہ کے لیے کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہے وہ تحقیق کا
منتظر نہیں رہتا۔ ۱۹۸۲ میں اسرائیل نے لندن میں اسرائیلی سفیر کے ٹرور ہونے
پر ایک فلسطینی گروہ کو متہم کیا تھا اور اس کے بعد وہ کسی تحقیقات کا
منتظر نہیں رہا۔
لبنان کے ساتھ جنگ اسرائیل کے لیے مزاق نہیں ہے
حسن
نصر اللہ نے کہا: اسرائیل جب بھی چاہے کوئی سا بہانہ بھی بنا سکتا ہے لیکن
آج حالات بدل گئے ہیں اب کئی بار اسرائیل نے حزب اللہ کو متہم کیا ہے لیکن
جنگ کرنے کی جرئت نہ کر سکا۔
انہوں نے تاکید کی: اسرائیل بہت دقیق حساب
و کتاب رکھتا ہے وہ ہر ٹکراو میں اپنی یقینی کامیابی کی فکر کرتا ہے وہ
معمولی تہمتوں پر جنگ نہیں کرے گا۔ ہمیں اسرائیل کو اتنا ہلکا نہیں سمجھنا
چاہیے۔
انہوں نے کہا: دوسری بات جو مجھے عرض کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم
لبنانیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ سن ۲۰۰۰ کے بعد جو پوزیشن پیدا ہوئی ہے
وہ یہ ہے کہ اسرائیل جب لبنان پر حملہ کی سوچتا ہے تو اسے ہزاروں باتوں کو
مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ گزشتہ تجربہ کو، اسرائیل کے سابقہ فوجی سرداروں کے
مشورے، فضائی، دریائی اور زمینی ٹارگٹوں کو اس طرح کے کئی موضوعات کو۔
ہر گز اسرائیل کے ظلم کے سامنے خاموش نہیں ہوں گے
نصر
اللہ نے کہا: جو باتیں میں نے اسرائیل کے بارے میں کہی ہیں وہ سب صحیح ہیں
لیکن میں پورے اطمینان سے اسرائیل کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر اسرائیل ایک
بار پھر لبنان کی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کرے تو ہم ہر گز خاموش نہیں
بیٹھیں گے۔
اسرائیل کی تنصیبات کو نابود کرنے کے لیے چند توپوں کی ضرورت ہے۔
جناب
حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو دھمکاتے ہوئے کہا: اسرائیل کے ایئر پورٹس،
بندرگاہیں، اور بجلی کے پروجیکٹس سارے ہماری دسترس میں ہیں۔ انہیں صرف چند
توپوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم اسرائیل کو اندھیرے میں غرق کر دیں۔ بجلی کے
پروجیکٹ جنہیں دوبارہ بحال کرنے میں ۶ مہینے ہوں گے۔ کیا اسے برداشت کریں
گے؟۔ وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ میں اس سے پہلے کہتا رہا ہوں وہ کر کے دکھاتا
رہا ہوں اسی وجہ سے وہ دن رات لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا: ہم اپنے
عزیز شہدا کے پاک خون سے کہتے ہیں کہ آپ کے فرزند اور شاگرد قوی عزم اور
محکم ارادہ کے ساتھ آپ کی وصیتوں پر عمل پیرا ہیں۔
مهمترین
ارزش و حیاتی ترین منفعت کشورها در نظام بین الملل غیرمتمرکز و خودیار،
مقوله امنیت ملی است. در این راستا وجود پتانسیل بالای منازعات فرقه ای در
محیط امنیتی جمهوری اسلامی ایران از مهم ترین موءلفه هایی است که می
تواند تهدیدهایی را برای نهادینه سازی وحدت و انسجام ملی در بازه های
زمانی سند چشم انداز به وجود آورد. به همین منظور یکی از ملزومات زیربنایی
مدیریت نرم افزاری امنیت خارجی کشور؛ شناسایی، رصد و طبقه بندی موزائیکی
تهدیدهای نرمی است که از جانب هر کدام از پانزده کشور همسایه می تواند
بنیان های اقتدار ملی را با چالش هایی مواجه کند. از طرفی امنیت
مفهومی ذهنی، نسبی و مقوله ای چند وجهی است که رابطه ای متقابل و دو سویه
را با «توسعه پایدار»1 دارد. به طوری که هر میزان جمهوری اسلامی ایران
شناخت دقیق تری از چالش های امنیتی کشور داشته باشد به همان میزان تحقق
اولویت های کلان اسناد بالادستی نظام با هزینه کمتری محقق خواهد شد. در
این راستا وجود خشونت های فرقه ای در لایه های پیرامونی جمهوری اسلامی
ایران بویژه در پاکستان
به عنوان یکی از کانون های چالش محور امنیت پایدار در برنامه پنجم توسعه
محسوب می شود. به همین منظور بایسته است متولیان امر نقشه راه منسجم و
راهبردی را برای مهار آسیب های احتمالی مورد توجه قرار دهند. مهمترین
تدابیری که ظرفیت بازدارندگی ساختارهای دفاعی، امنیتی، اطلاعاتی و
انتظامی جمهوری اسلامی ایران در قبال آسیب های احتمالی ناشی از گسترش سایش
های فرقه ای در پاکستان را افزایش می دهد عبارتند از: 1- آسیب شناسی ناپایداری های فرقه ای در پاکستان و تأثیر آن بر امنیت استان های مرزی شرق کشور پاکستان
از کشورهایی است که از موزاییک های قومی فرقه ای برخوردار بوده و یک کشور
چند زبانی است بطوری که نزدیک به 60 زبان در آن محاوره می شود. یکی از
مهمترین شاخص های جغرافیای انسانی جمهوری اسلامی ایران نیز وجود موزائیک
های قومی فرقه ای است که در استان های مرزی محسوس تر است و هر گونه گسترش
خشونت های فرقه ای در کشورهای همسایه براساس قانون مجاورت می تواند به
شهرهای مرزی جمهوری اسلامی ایران نیز تسری یافته و ضرایب انتظامی امنیتی
استان های مرزی را با چالش های جدی مواجه کند. به عبارتی یکی از کانون های
تهدید نرم افزاری امنیت ملی در برنامه پنجم، افزایش اصطکاک و تداوم تنش
های فرقه ای در پاکستان
و احتمال تسری ناامنی به استان های مرزی است که می تواند به عنوان یکی از
ابزار مداخله جویانه قدرت های فرامنطقه ای مستقر در منطقه با رویکرد
بحران سازی، امنیت زدایی، امتیازگیری و ایجاد تنش های چند بعدی در داخل
جمهوری اسلامی ایران به کار گرفته شود. به همین دلیل به عنوان یک موضوع
چالش زا در ساختار انتظامی امنیتی اسناد بالا دستی نظام مطرح است و بایستی
متولیان امر با حداکثر انسجام فکری (هدف محوری) و رویه(برنامه محوری) بسته
سیاستی منسجمی را برای مدیریت پیشگیرانه تهدیدات فرقه ای در افق ایران
1404 ترسیم کنند که با توجه به فرابخشی بودن امنیت موفقیت آن بستگی به
میزان تعامل، هم اندیشی و پویایی ساختارهای مرتبط دارد. 2- آسیب شناسی افراط گرایی فرقه ای در پاکستان
و تأثیر آن بر شکل گیری سازمان های تروریستی فرقه گرا تحقق حد اکثری
سیاست های دفاعی ایران 1404 و توسعه ضرایب امنیتی به ویژه در استان های
مرزی، مستلزم شناسایی گروه های مسلحانه فرقه ای در محیط امنیت داخلی و
خارجی و در گام بعدی هم افزایی ظرفیت ساختارها و زیرساخت های امنیتی برای
مقابله با تهدیدهای احتمالی است. به همین منظور متولیان امر شایسته است با
رویکرد آینده پژوهی و تبیین نظام جامع امنیت ملی، ضمن آسیب شناسی شطرنجی
چینش سازمان های تروریستی فرقه گرا در محیط امنیت خارجی، راهبرد منسجمی را
برای مقابله با آسیب های احتمالی تبیین کنند. خشونت های فرقه ای با
توجه به فقر نسبی در استان های مرزی شرق کشور می تواند پتانسیل پذیرش برخی
عقاید انحرافی، فرقه های ضاله یا عضویت آنان در برخی شاخک های تروریستی
مانند جندالشیطان را فراهم کنند که ضرورت دارد متولیان امر در سیاست های
دفاعی امنیتی لایحه برنامه پنجم، تدابیر و اقدام های بازدارنده لازم را
مورد توجه قرار دهند. مجاورت سرزمینی جمهوری اسلامی ایران با چهار ایالت پنجاب، سرحد، سند و بلوچستان پاکستان
که از کانون های استقرار گروه های تروریستی و منازعات مسلحانه فرقه ای
است از موءلفه های تهدیدزای ثبات امنیت مرزهای شرق کشور است. در این راستا
یکی از اهداف انعقاد توافق نامه جامع امنیتی میان تهران و اسلام آباد،
بسترسازی برای اتخاذ نقشه راه مشترک و حداکثر هم افزایی بهینه ظرفیت دو
کشور برای مدیریت پیش رویدادی تهدیدات تروریستی فرقه گرا در سرحدات و نوار
مرزی دو کشور است. 3- تبیین سیاست قومی فرقه ای منسجم در ساختار
مدیریت پیش گیرانه بحران های انتظامی امنیتی اجتناب از سیاست های جزیره ای
در حوزه های قومی فرقه ای و تبیین یک منشور پایدار نقش مهمی را در مهار
تهدیدهای نرم افزاری ایفا می کند. از طرفی در جمهوری اسلامی ایران،
پراکندگی فضایی جغرافیایی اقلیت ها به گونه ای است که اقلیت ها به صورت
نواری در حاشیه و در مناطق مرزی کشور با کشورهای همسایه حضور دارند که این
امر می تواند هزینه های انتظام بخشی فرماندهی مرزبانی ناجا برای انسداد و
نظارت موءثر بر مرزها را با چالش هایی مواجه کند. به همین منظور بایسته
است متولیان امر در ساختار امنیتی برنامه پنجم با حداکثر ثبات فکری رویه
ای بسته سیاستی منسجمی را در حوزه های قومی فرقه ای تبیین نمایند. 4-
تبیین سند جامع مدیریت دانش پیش گیری از تهدیدات فرقه ای یکی از ملزومات
مدیریت نرم افزاری امنیت، نهادینه سازی پژوهش قانونگذاری و آینده پژوهی
عملیاتی در ساختار انتظامی امنیتی کشور براساس چهار پارامتر نیازسنجی،
زمان سنجی، امکان سنجی و اولویت سنجی است. در این راستا مدیریت هدفمند
برگزاری همایش های منطقه ای با موضوع خشونت های فرقه ای، تقویت هم اندیشی و
تعامل مثلث حوزه، دانشگاه و ساختارهای حاکمیتی، لحاظ کردن مطالعات قومی
فرقه ای در نقشه جامع علمی کشور و ایجاد یا تقویت میز مخصوص مطالعات فرقه
ای در وزارتخانه های کشور، امور خارجه، شورایعالی امنیت ملی و سپاه
پاسداران نقش مهمی را در مدیریت پیشگیرانه تهدیدات نرم افزاری ناشی از
منازعات فرقه ای به ویژه در شرق جمهوری اسلامی ایران ایفا می کند. 5- آسیب شناسی ناپایداری فرقه ای در پاکستان و تأثیر آن بر ضرایب امنیتی کشور قانون
اساسی، برنامه های پنج ساله توسعه و سند چشم انداز از مهمترین اسناد بالا
دستی نظام حقوقی کشور محسوب می شوند و تمام ساختارهای نظام بایسته است
برنامه های کلان خود را براساس دستیابی به اهداف تعریف شده در سند چشم
انداز متمرکز کنند. در این راستا یکی از موءلفه هایی که بایستی مورد توجه
مدیران استراتژیک نظام قرار گیرد، واکاوی دورنمای منازعات فرقه ای پاکستان
و تأثیر آن بر امنیت منطقه ای جمهوری اسلامی ایران است. زیرا منظور از
منطقه در سند چشم انداز آسیای جنوب غربی است و بالتبع دورنمای مختصات
امنیتی سیاسی پاکستان تأثیر مستقیمی را بر این حوزه جغرافیایی دارد. از
طرفی یکی از مهمترین توجیه های قدرت های فرا منطقه ای برای استقرار در
محیط پیرامونی شرق کشور، مبارزه با خشونت های فرقه ای است، به طوری که
انگلیس اعلام کرده برای شکل گیری سازمان امنیتی جدیدی در پاکستان برای مهار تنش های فرقه ای در پاکستان با اسلام آباد همکاری می کند. به عبارتی اصطکاک های فرقه ای در پاکستان
و افغانستان به یکی از ریشه های نرم افزاری پیاده سازی امنیت وارداتی و
نیابتی در شرق کشور تبدیل شده و این خود یکی دیگر از دلایلی است که ضرورت
آسیب شناسی دورنمای تنش های فرقه ای در پاکستان را دوچندان می کند. 6-
تقویت اشراف اطلاعاتی در استان های مرزی یکی از ملزومات مقابله موءثر با
فرقه های الحادی و امکان سنجی سناریوهای مختلف شبکه های جاسوسی مخالفان
نظام از این گروه ها، توسعه زیربنایی اشراف اطلاعاتی در سرحدات و نواحی
مرزی است. 7- آسیب شناسی رشد خزنده گروه های وهابی در لایه های
پیرامونی جمهوری اسلامی ایران یکی از تهدیدهای امنیت خارجی ایران در برنامه
پنجم؛ رشد تفکرات وهابی و سلفی گری در عمق استراتژیک خارجی جمهوری اسلامی
ایران است که می توان به وضوح آنها را در افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان، عربستان و امارات مشاهده کرد. سرمایه گذاری وهابیون امارات و عربستان بر مدارس مذهبی اهل سنت پاکستان
و ترویج تفکرات وهابیت می تواند در آینده زمینه ایجاد و افزایش سازمان
های مسلحانه فرقه ای را فراهم کند که با توجه به پارادوکس عقیدتی سیاسی
آنان با حکومت شیعی جمهوری اسلامی ایران می تواند زمینه وقوع برخی تهدیدهای
امنیت ملی را فراهم کند. 8- آسیب شناسی گسترش افراط گرایی فرقه ای و
تأثیر آن بر شکل گیری گرایش های تجزیه طلبانه یکی از آسیب های گسترش
خزنده سازمان های تروریستی فرقه ای، بسترسازی برای شکل گیری تمایلات تجزیه
طلبانه در منطقه است. به عنوان مثال ایالت های کشمیر و بلوچستان پاکستان
دارای تمایلات واگرایانه و گریز از مرکز می باشند. از طرفی یکی از ابزار
تبلیغاتی گروهک های تروریستی مانند جندالشیطان شکل گیری بلوچستان بزرگ است
که این خود یکی دیگر از دلایل اهمیت بررسی منازعات فرقه ای منطقه از
رویکرد امنیت ملی است. 9- تضعیف خشونت های فرقه ای در قالب مقابله
منطقه ای با جرائم سازمان یافته یکی از منابع درآمدی سازماندهی اقدام های
تروریستی گروه های افراط گرایی فرقه افغانستان و پاکستان؛
برنامه ریزی جرائم سازمان یافته بویژه قاچاق اسلحه، کالا و مواد مخدر است
و هر میزان منابع درآمدزای این گروه های قطع یا کاهش یابد بالتبع بر سطح و
دامنه اقدامات سازمان های تروریستی فرقه ای نیز تأثیر می گذارد. با توجه به قرار گرفتن مثلث طلایی کشت و قاچاق مواد مخدر در حاشیه سرزمینی ایران، پاکستان
و افغانستان، هر گونه انعقاد توافق نامه جامع امنیتی میان تهران و اسلام
آباد می تواند در کاهش تهدیدهای ناشی از تروریسم، قاچاق مواد مخدر و قاچاق
انسان موءثر باشد. 10- آسیب شناسی گسترش منازعات فرقه ای و تأثیر آن بر الگوی امنیتی بومی پایدار یکی از آسیب های جدی گسترش خشونت های فرقه ای در پاکستان،
تأثیر آن بر روند همگرایی منطقه ای و اسلامی است که به عنوان یکی از
اهداف راهبردی اسناد بالادستی برنامه پنجم و سند چشم انداز مطرح است. از
طرفی همواره یکی از دلایل ایالات متحده برای توجیه حضور نظامی اطلاعاتی و
تزریق امنیت وارداتی و نیابتی در شرق کشور، مقابله با ریشه های افراط
گرایی فرقه است. به عبارتی یکی از ملزومات توسعه دفاع ملی برای شکل گیری
نظام امنیت بومی و پایدار؛ رصد و آسیب شناسی منازعات فرقه ای منطقه ای و
تأثیر آن بر ترتیبات منطقه ای دفاعی امنیتی است. 11- تبیین سیاست
قومی فرقه ای منسجم در ساختار انتظامی امنیتی برنامه پنجم توسعه یکی از
ملزومات نهادینه سازی بند 45-4 سیاست های کلی برنامه پنجم مبنی بر ارتقای
امنیت پایدار مناطق مرزی و کنترل موثر مرزها، توجه به مدیریت پیشگیرانه
منازعات فرقه ای در اسناد بالا دستی نظام است. در کشورهایی مانند
جمهوری اسلامی ایران که با سیستم حکومتی بسیط (متمرکز) اداره می شوند،
عمدتاً با حرکت از مرکز کشور به سمت حواشی، با دو روند معکوس کاهش نظارت
حکومت مرکزی از یکسو و افزایش محرومیت و توسعه نیافتگی از سوی دیگر مواجه
هستیم. این امر وقتی اهمیت پیدا می کند که در حواشی کشور اقلیت های قومی،
مذهبی و زبانی سکونت داشته باشند. از نظر الگوی استقرار گروه های قومی نیز گروه قومی بلوچ در جنوب شرقی ایران با نیمه دیگر هسته بلوچ نشین در پاکستان پیوستگی فضایی پیدا می کند. گر چه این قوم در آن سوی مرز فاقد دولت مستقل است، ولی بلوچستان پاکستان در چارچوب ساختار سیاسی فدرال آن کشور تا سطح یک ایالت ارتقا یافته است. یکی از آسیب های گسترش تهدیدات فرقه ای در پاکستان
و احتمال تسری آن به استان های مرزی شرق کشور، نبود بسته سیاستی قومی
فرقه ای منسجم در ساختار انتظامی، دفاعی و حقوق امنیت ملی هر دو کشور
جمهوری اسلامی ایران و پاکستان
است که باعث اتخاذ سیاست های جزیره ای و عدم بهره وری بهینه از ظرفیت های
مشترک راهبردی دوجانبه برای مدیریت پیش گیرانه و دسته جمعی با خشونت های
فرقه ای می شود. در این راستا حمایت های تقنینی، نظارتی و اجرایی از
توسعه کار گروه های مطالعاتی قومی فرقه ای نقش مهمی را در مهار تهدیدات
امنیتی ناشی از گسترش اصطکاک های فرقه ای ایفا می کند. از طرفی توجه
مدیران استراتژیک حوزه های علمیه به ویژه حوزه علمیه قم به دورنمای تنش
های فرقه ای و لحاظ کردن تدابیر بازدارنده در سند چشم انداز حوزه می تواند
به عنوان یکی از تدابیر زیربنایی برای پیشگیری از آسیب های عقیدتی، وا
گرایانه فرقه ای یا تقویت انسجام ملی ایفا کند. به عبارتی حوزه های علمیه
به عنوان یکی از ارکان معماری مهندسی فرهنگی کشور، بایسته است در تعامل
مستمر و پویا با شبکه کانون نخبگان حوزه و دانشگاه نقشه راه راهبردی و قابل
پیاده سازی را در ساختار مدیریت نرم افزاری سند چشم انداز حوزه ترسیم
کند. شکل دیگر تأثیر اقلیت ها بر کارکردهای امنیتی و ارتباطی مرز،
به وجود اشتراکات قومی، مذهبی و زبانی بین اقلیت ها در دو سوی مرز بر می
گردد. 12- ریشه یابی دلایل خشونت های فرقه ای پاکستان از رویکرد امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران مهمترین دلایل شکل گیری خشونت های فرقه ای در پاکستان عبارتند از: * وجود فقر اقتصادی و فرهنگی یکی از ریشه های گسترش تنش های فرقه ای و پرورش گروه های تروریستی؛ فقر اقتصادی و نبود چارچوب مهندسی فرهنگی پایدار در پاکستان است. به عنوان مثال اکثر شبه نظامیان طالبان بیشتر در مناطق مرزی پاکستان با افغانستان که اکثراً توسعه نیافته اند، مستقرند. * حاکمیت نسبی دولت پاکستان بر مناطق قبیله ای ایالت های مرزی یکی از ریشه های وقوع ناامنی های فرقه ای در پاکستان، حاکمیت نسبی دولت مرکزی بر مناطق قبیله ای به ویژه در ایالت های مرزی سرحد، «وزیرستان شمالی و جنوبی»2 و بلوچستان است. * نفوذ رهبران طالبان و سازمان القاعده در «مناطق قبیله ای»3 حاکمیت نسبی دولت مرکزی در ایالت های شمالی مانند وزیرستان جنوبی، ایالت سرحد، بلوچستان و «دره سوات»،4 * کوهستانی بودن مناطق قبایلی پاکستان * ناکارآمدی عملیات نیروهای پاکستان برای دستگیری رهبران سازمان القاعده مانند «بیت الله محسود» (مهمترین مظنون ترور بی نظیر بوتو) * تضادهای سیاسی امنیتی پاکستان برای مهار خشونت های فرقه ای یکی از ریشه های افزایش منازعات فرقه ای در پاکستان، نبود عزم سیاسی قاطع در میان رجال سیاسی پاکستان
و اتخاذ پارادوکس امنیتی در قبال خشونت های فرقه است به طوری که اسلام
آباد همواره یکی از راه های موازنه قوا با جمهوری اسلامی ایران و تضمین
عمق استراتژیک خود در افغانستان را حمایت خزنده از شبه نظامیان طالبان
تعریف کرده است. 13- ارزیابی دورنمای نقش و جایگاه طالبان در ساختار امنیت منطقه ای یکی
از ملزومات مهندسی مطلوب امنیت خارجی؛ بررسی جایگاه طالبان در ساختار
امنیتی منطقه است. شبه نظامیان طالبان مبارزه با ایالات متحده و جمهوری
اسلامی ایران را به عنوان یکی از اهداف راهبردی خود تعریف کرده اند که بنا
بر مقتضیات زمان، شدت و حدت آن تغییر می کند. از طرفی وهابیون برخی
کشورهای عرب منطقه با نفوذ در میان شبه نظامیان طالبان در جهت برقراری
موازنه قوا با جمهوری اسلامی ایران برنامه ریزی می کنند که با توجه به
گسترش شیعه هراسی در مدیریت تهاجم تبلیغاتی ایالات متحده بر اهمیت این
مقوله نیز افزوده شده است. در نتیجه مقابله با تهدیدهای ناشی از افزایش
نفوذ طالبان در پاکستان بایستی به عنوان یکی از اولویت های امنیت خارجی برنامه پنجم از رویکرد مهندسی امنیتی منازعات فرقه ای پیگیری شود. 14- آسیب شناسی گسترش مدارس مذهبی وابسته به وهابیون و تأثیر آن بر جریان های فرقه ای ضد شیعه در منطقه یکی
از شاخص های مختصات امنیتی عمق استراتژیک خارجی جمهوری اسلامی ایران،
گسترش تفکرات الحادی و سلفی و ارتباط آن با شکل گیری برخی تحرکات ایذایی
در ساختار امنیت ملی برنامه پنجم است، بطوریکه برخی کشورهای عرب منطقه با
حمایت های مالی از برخی مدارس اهل سنت که با تمرکز بر گسترش آموزه های
الحادی وهابیت بنیان گذاشته شده اند، متأثر از فضای جنگ تبلیغاتی شیعه
هراسی در جهت ایجاد موازنه استراتژیک با جمهوری اسلامی ایران گام برمی
دارند که نقش مهمی را در گسترش حملات تروریستی علیه شیعیان ایفا می کند. 15- حداکثر بهره گیری از ظرفیت های دیپلماسی فرهنگی یکی
از ملزومات اقتدار افزایی؛ مدیریت نرم افزاری تنش های فرقه ای عقیدتی و
بهره گیری بهینه از ظرفیت های هویت ایرانی اسلامی است. به عنوان مثال برخی
مناطق پاکستان
مانند بلوچستان جزو حوزه تمدن ایرانی محسوب می شوند و تقویت دیپلماسی
فرهنگی در این حوزه جغرافیایی می تواند گستره نفوذ نرم ایران را افزایش
داده و به مانعی برای رخنه آموزه های فرقه ضاله وهابیت تبدیل شود. 16- آسیب شناسی سیاست های دوگانه پاکستان در قبال جریان های افراط گرای فرقه ای ارتش پاکستان
به منظور حفظ اقتدار ملی گاهی از سازمان های مسلحانه فرقه ای نیز حمایت
می کند که از مصادیق آن می تواند به حمایت های «سازمان های اطلاعات پاکستان»5
از شبه نظامیان طالبان یا نفوذ آنان در میان شبکه اطلاعاتی القاعده اشاره
کرد، به طوری که این موضوع به یکی از حوزه های تنش زا میان کابل و اسلام
آباد مبدل شده است. رفتار پاکستان
در قبال سازمان القاعده و شبه نظامیان طالبان براساس پارادوکس امنیتی است
به طوری که از یک طرف رمزی بن الشیبه، شیخ محمد را در سال 2003، محمد
نعیم نورخان را در سال 2004، ابوالفرج اللیبی را در سال 2005 و ابو زبیده
را در سال 2007 به ایالات متحده تحویل می دهد ولی از طرف دیگر به حمایت
های اطلاعاتی نظامی از شبه نظامیان طالبان ادامه می دهد. 17- ریشه یابی شکل گیری تفکرات الحادی در محیط امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران یکی
از تهدیدات نرم فراروی جمهوری اسلامی ایران، شکل گیری و گسترش فرقه های
ضاله در محیط امنیت داخلی و خارجی است که مهار آن مستلزم جریان شناسی و
ریشه یابی شکل گیری فرقه های ضاله و تبیین بسته سیاستی منسجم برای مقابله
موءثر با جریانات انحرافی در حوزه دین و زدودن خرافات و موهومات است، به
طوری که در بند چهار سیاست های کلی برنامه پنجم نیز بر لزوم اجرای آن تأکید
شده است. 18- تهیه جدول ریسک گروه های تروریستی فرقه گرا از رویکرد امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران تهیه
جدول ریسک و اطلس موقعیت جغرافیایی گروهک های تروریستی وابسته به تفکرات
وهابی و سلفی گری، یکی از گام های ضروری تبیین الگوی بومی پایدار برای
مهار خشونت های فرقه ای است. زیرا بررسی برخی تحرکات ایذایی علیه جمهوری
اسلامی ایران مبین این است که سرشاخک های برخی اقدام های تروریستی از درون
برخی کشورهای همسایه اداره می شود که زمینه های رشد تفکرات وهابیت در آنها
مهیا شده است. از طرفی یکی از راهبردهای مخالفان نظام جمهوری
اسلامی ایران، حمایت های خزنده از برخی سازمان های تروریستی نزدیک به گروه
های وهابی و سلفی با رویکرد وادارسازی جمهوری اسلامی ایران به تغییر
رفتار در حوزه های راهبردی است، بطوریکه حمایت ابزاری امریکا از سازمان
های تروریستی مخالف جمهوری اسلامی ایران براساس «راهبرد امنیتی قورباغه»
قابل تعریف است. در این راهبرد امریکا و تروئیکای اتحادیه اروپا با
توجه به وجود اکثر سازمان های تروریستی فرقه ای (نزدیک به تفکرات وهابیون)
در محیط پیرامونی جمهوری اسلامی ایران و برخورداری اکثر استان های مرزی
از موزائیک های قومی فرقه ای، برنامه های مدونی را برای ناامن سازی محیط
پیرامونی جمهوری اسلامی ایران سازماندهی می کند. در مطالعات
امنیتی، استناد این راهبرد به قورباغه (حیوان دوزیست) به این دلیل است که
اگر در حلقه های محاط ایران آتش تنش زیاد باشد، کانون تصمیم گیری نیز دچار
استحاله و تغییر رفتار می شود که در قالب راهبرد «تنش از بیرون، تغییر از
درون» قابل تعریف است که به وضوح می توان آن را در برخی تحرکات ایذایی
گروهک های تروریستی مانند جندالشیطان و پژاک مشاهده کرد. همچنین یکی از
روش های پیاده سازی نظریه دولت ورشکسته، ایجاد و گسترش منازعات فرقه ای با
رویکرد هزینه افزایی امور انتظامی خرد و کلان کشور است. نظریه دولت
ناکام ارتباط نزدیکی با نظریه بحران های پنج گانه لوسین پای دارد زیرا
حامیان این نظریه معتقدند ناکارآمدسازی دولت از طریق آفندهای نرم افزاری،
می تواند مقدمه شکل گیری بحران های مشارکت، هویت، توزیع، مشروعیت و نفوذ
را فراهم کند. در نتیجه بایسته است متولیان امر از رویکرد امنیت ملی مهم
ترین سازمان های تروریستی واقع در محیط امنیتی جمهوری اسلامی ایران که به
نحوی زیربنای عقیدتی آنان را آموزه های وهابیت و سلفی گری تشکیل می دهند. یکی
از پیش نیازهای توسعه امنیتی برنامه پنجم؛ بررسی موزائیکی آسیب هایی است
که از جانب هر کدام از کشورهای همسایه می تواند ایجاد شود. به همین منظور
با بهره گیری از روش مهندسی امنیتی موزائیکی بایسته است نوع، دامنه و شیوه
مبارزه با هر کدام از تهدیدها مشخص شود. به عنوان مثال نمی توان در برابر
هر دو کشور پاکستان و کویت از سیاست های امنیتی یکسان بهره گرفت زیرا جنس، نوع و دامنه تهدید هر کدام از آنها با یکدیگر متفاوت است. در
این راستا یکی از شاخص های مهندسی مطلوب امنیت خارجی در منطقه جنوب غربی
آسیا شناسایی، طبقه بندی، ماهیت شناسی و مقابله موءثر با آسیب های احتمالی
است که از قبل خشونت های فرقه ای و گسترش نفوذ خزنده عقاید وهابیت و سلفی
گری می تواند چارچوب های امنیت ملی را با تهدیدهایی مواجه کند. به همین
منظور بایسته است متولیان امر در تبیین سیاست های امنیتی کلان برنامه
پنجم، تدابیر و اقدام های بازدارنده مناسب برای مهار سناریوهای تهدیدزا را
مورد کنکاش و آسیب شناسی قرار داده و خلأهای تقنینی، نظارتی و اجرایی آن
را در لایحه قانون برنامه پنجم مرتفع کنند. قومیت گرایی،6 فرقه گرایی،7 بی ثباتی اقتصادی و افراط گرایی مذهبی8 از شاخص های مختصات امنیتی پاکستان هستند که می توانند بر محیط امنیتی جمهوری اسلامی ایران نیز تأثیر گذارند. افزایش منازعات فرقه ای در پاکستان
همسو با تمایلات جدایی طلبانه در سه ایالت جامو، کشمیر و بلوچستان،
راهبرد اجرایی اوباما برای تقویت حضور اطلاعاتی نظامی در مرزهای شرق کشور،
ساخت بزرگترین پایگاه اطلاعاتی منطقه ای آمریکا در گذرگاه خیبر و احتمال
استقرار سامانه های جاسوسی در این مرکز، نبود نظارت کافی بر مدارس مذهبی پاکستان
و رشد تفکرات وهابی و سلفی گری در این مدارس، افزایش کشتار شیعیان به
ویژه در دیره اسماعیل خان و پاراچنار، نبود نظارت موءثر دولت مرکزی پاکستان بر مناطق مرزی، فقدان توسعه زیرساخت های امنیتی اقتصادی در استان های مرزی همجوار ایران و پاکستان، تأثیرپذیری دولت حاکمه پاکستان
از سیاست های آمریکا، پارادوکس امنیتی سیاسی اسلام آباد در برابر طالبان،
حمایت های مالی کلان برخی کشورهای عرب منطقه از گسترش وهابیت، تضعیف
زیرساخت های همگرایی اقتصادی مانند احداث خط لوله صلح به دلیل نبود امنیت
لازم و کافی، تمرکز شورای فرماندهی سازمان القاعده و شورشیان پشتون در
مناطق قبیله ای پاکستان،9 لزوم احتمال سنجی رخنه افراط گرایان فرقه ای در ساختارهای استراتژیک پاکستان
به ویژه صنایع هسته ای، لزوم هم افزایی و ایجاد ساختارهای نظامی امنیتی
منطقه ای برای مقابله با رشد تروریسم فرقه ای در مناطق قبیله ای به ویژه
در استان های مرزی وزیرستان جنوبی، بلوچستان و سرحد،10 مجاورت سرزمینی
بلوچستان پاکستان
با بلوچستان ایران و احتمال شکل گیری تمایلات تجزیه طلبانه در میان مدت،
وجود برخی تحرکات سازمان یافته تروریستی مانند اقدام های گروهک جندالشیطان
(عبدالمالک ریگی)، فقر نسبی منطقه به ویژه در سرحدات، افزایش سازمان های
تروریستی مانند لشگر طیبه و سپاه صحابه (که به صراحت هدف خود را مقابله با
نفوذ تفکرات شیعی جمهوری اسلامی ایران اعلام کرده اند)، عدم توانایی و
فقر اقتصادی پاکستان
برای مدیریت تنش های چند جانبه و فقدان توسعه متناسب زیرساخت های امنیت
مرزی با حجم تهدیدها از مهمترین موءلفه هایی هستند که ضرورت آسیب شناسی
دورنمای مختصات منازعات فرقه ای پاکستان و تأثیر آن بر ساختار امنیت ملی و سیاست های انتظام بخشی برنامه پنجم را دو چندان می کند. 1 - Sustainable Development 2 - North South Waziristan 3 - Tribal Regions 4 - Swat Valley 5 - Inter- Service Intelligence ISI) ) 6 - Ethnicity 7 - Sectarianism 8 - Religious extremism 9
بنا به گزارش نهادهای اطلاعاتی آمریکا، هم اکنون ملامحمدعمر (رهبر معنوی
طالبان)، اسامه بن لادن (رهبر شورای شریعت سازمان القاعده)، ایمن
الظواهری (قائم مقام رهبر القاعده) و گلبدین حکمتیار در مناطق قبیله ای
شمال پاکستان مخفی شده اند. 10 - Pakistan Borders Clear Present Danger ، Associated Press ، 30 March ، 2008 CIAمقدمه
الزامات امنیت ملی جمهوری اسلامی ایران در قبال خشونت های فرقه ای پاکستان
نتیجه گیری
پی نوشت ها:
درآغازتاسیس کشور پاکستان
با دشواری های ویژه ای برای بهره برداری از سرزمین خود روبرو شد، زیرا رشد
اقتصادی سرزمین هایی که نصیب این کشور شده بود از رشد اقتصادی سرزمین های
زیر نفوذ حکومت هندوستان کمتر بود. پاکستان نزدیک به 20 درصد جمعیت شبه قاره را در اختیار داشت، در حالی که تنها حدود 10 درصد مجموع تاسیسات صنعتی در سرزمین های زیر نفوذ پاکستان قرار گرفته بود، به همین ترتیب پاکستان از نظر ذخایر معدنی و منابع نیرو نسبت به هندوستان ضعیف تر بود.
1 - کشاورزی: نظام کشاورزی پاکستان
بر پایه دو بخش دولتی و خصوصی است. بخش دولتی به طور مستقیم و غیرمستقیم
در اداره اقتصاد کشور دخالت دارد. توسعه اقتصادی این کشور با تنگناها و
کمبودهای زیادی مانند مساله بازپرداخت وام های متعدد روبرو است.(26)
اقتصاد پاکستان
کشاورزی است که حدود 33 درصد تولید ناخالص ملی آن را تشکیل می دهد. این
کشور با بهره گیری از عواملی مانند رودهای بزرگ، جنس خاک و میزان رطوبت یکی
از نواحی مهم کشاورزی در آسیای موسمی است. نزدیک به 30 درصد کل اراضی پاکستان
قابل کشت می باشد، بجز نواحی شمالی و غربی این کشور که کوهستانی است بقیه
نواحی آن قابل کشاورزی است. یکی از وسیعترین شبکه های آبیاری جهان که به
وسیله رود سند و شعبه های پنجگانه آن تشکیل شده است و نزدیک به 4/19 میلیون
هکتار از اراضی را آبیاری می کند در این کشور واقع شده است.(27)
از
نظر توزیع اشتغال، نسبت جمعیت فعال به کل کشور در مناطق روستایی حدود 2/3
درصد بیشتر از مناطق شهری است. همان طوری که در بحث جمعیت و تحولات آن
اشاره شد، در سال های اخیر کشور پاکستان
با کاهش تدریجی میزان اشتغال در بخش کشاورزی و به نفع بخش خدمات روبرو
بوده است، با توجه به این که عرصه خدمات عمدة در شهرها تمرکز یافته اشت،
لذا می توان پدیده مهاجرت را در شهرها بخوبی مطالعه کرد. همچنین میزان
سرمایه گذاری صنایع در روستاها حدود 1/16 درصد نسبت به شهرها اختلاف دارد.
به دلیل اهمیت نقش بخش کشاورزی در اقتصاد پاکستان،
دولت حمایت های بسیاری از این بخش به عمل می آورد، همچون تضمین قیمت
محصولات کشاورزی، اعطای وام به کشاورزان و توزیع بذر و کود با نرخ اندک.
بانک کشاورزی پاکستان در این موارد بسیار فعال است.
آب و زمین از عوامل بسیار مهم و مؤثر در کشاورزی پاکستان
است. قریب به 77 درصد اراضی این کشور توسط سیستم های آبیاری موجود کشت می
شوند. از مجموع 3/19 میلیون هکتار اراضی کشور، حدود 5/4 میلیون هکتار به
صورت دیم و بقیه به صورت آبی کشت می شود.(28) سیستم آبیاری پاکستان
یکی از مهتمرین سیستم های آبیاری در جنوب آسیا است. با بهره گیری از 6600
کیلومتر کانال، تعداد زیادی از قنوات، و مهار آب های سطحی، اراضی وسیعی
آبیاری می شود. آب های سطحی توسط سدها و بندها مهار می شود و سپس از راه
کانال ها به زمین های کشاورزی هدایت می گردد.
زمین یکی از بهترین منابع طبیعی پاکستان
است. از نظر توزیع جغرافیایی، مزارع کم وسعت بیشترین بخش زمین های زراعی
این کشور را تشکیل می دهند. بیش از 8/4 میلیون واحد ملک و مزرعه در پاکستان
هر کدام حداکثر 2 هکتار وسعت دارند. تنها 2 درصد این مزارع بیش از 20
هکتار وسعت داشته اند. تعداد مزارع باوسعت 60 هکتار بسیار اندک است. به طور
کلی نظام مالکیت در این کشور، چهار نوع است:
1) مالکیت مطلق املاک و مستغلات زمینداری (Zamindari)؛
2) مالکیت فردی، خرده مالکی با املاک نسبة کوچک؛
3) رعیت واری (Ryatwari) یا اجاره داری املاک دولتی براساس قراردادهای مقطوع؛
4) تملک اراضی که دولت بلاعوض واگذار می کند - جاگیرداری (Jagirdari) .
فرآورده های مهم کشاورزی پاکستان
1-
گندم: از عصر حجر غلات غذای اصلی انسان بوده است و از محصولات مهم کشاورزی
محسوب می شده است. گندم در ادامه حیات اقتصادی و سیاسی کشورها بسیار مؤثر
است و لذا جنبه راهبردی دارد. اساسا غذای اصلی مردم جهان یکی از چهار غله
گندم، جو، برنج و ذرت می باشد. گندم در بین غلات به علت دارا بودن پروتئین
برای پخت نان مناسب تر است. این محصول از 14 درصد آب،67 درصد مواد نشاسته
ای، 8/12 درصد پروتئین، 4/1 درصد چربی و 2 درصد مواد معدنی تشکیل شده
است.(29) مواد ازته گندم، گلوتن نام دارد. کشورهای پاکستان، چین و هند از مراکز مهم تولید گندم آسیا می باشند. بخش قابل توجهی از اراضی پاکستان
با سی سال تلاش و احداث آبراهه های متعدد و با استفاده از کودهای شیمیایی و
بذرهای اصلاح شده، به کشت گندم اختصاص یافته است. در سال های اخیر با
افزایش مقدار تولید گندم، مقداری به خارج نیز صادر می گردد. پاکستان از جمله ده کشور مهم تولیدکننده گندم دنیا است.
2
- برنج: برنج یکی از غذاهای اصلی مردم جهان بویژه در مناطق پرجمعیت است.
پروتئین آن حدود7 درصد است ولی از نظر هضم، غذایی مناسب است. در آسیا برنج
کشت شده از گونه Orlyzalsaliva است در حالی که برنج آفریقا بیشتر از گونه
O. Claberrima می باشد. این دو گونه گرچه تفاوت های مرفولوژیکی اندکی با
یکدیگر دارند ولی با تحقیقات انجام شده، هیبرید حاصل بین آنها از درجه
عقیمی بالایی برخوردار است. تاکنون بیست گونه برنج در دنیا شناخته شده است.
پاکستان بعد از اندونزی و بنگلادش بیشترین مقدار تولید برنج را در میان کشورهای اسلامی قاره آسیا دارد. جدول زیر رتبه کشور پاکستان را در زمینه تولید جهانی برنج نشان می دهد.(30)
3 - نیشکر: روند تولید این محصول در پاکستان نوسان بسیار دارد ولی در مجموع رشدی برابر3 درصد را نشان می دهد. پاکستان
بعد از بنگلادش و مصر مقام سوم را در میان کشورهای اسلامی داشته است. و در
میان ده کشور بزرگ تولیدکننده نیشکر با6/3 درصد تولید جهانی مقام ششم را
دارد.(31)
بجز گندم، برنج و نیشکر کشت محصولاتی مانند ذرت، پنبه و جو نیز در پاکستان اهمیت دارد. از نظر کشت ذرت در میان کشورهای اسلامی در مرتبه پنجم و پس از کشورهای اندونزی، ترکیه، مصر و نیجریه قرار دارد.
2 - دامپروری: در پاکستان
دامپروری چندان گسترش نیافته است. بجز عوامل طبیعی مانند خشکی هوا و کمی
وسعت مراتع باید به تغذیه نامناسب دامها، انحطاط ژنتیکی دامها و ضعف
بازاریابی نیز اشاره کرد. پرورش گوسفند عمدة در ایالت شمال غربی، گاو بیشتر
در نواحی سند و پنجاب و شتر در ایالت بلوچستان رواج دارد. محصولات دامی پاکستان بویژه تولید پشم برای صنایع نساجی این کشور اهمیت ویژه دارد. (32)
3 - معادن: به طول کلی پاکستان
از نظر مواد معدنی چندان غنی نیست و بخش معدن سهم ناچیزی را در توسعه
صنعتی این کشور دارد. کانی های صنعتی این کشور نمی تواند تمام نیازهای مواد
اولیه صنعتی را فراهم کند و بیشتر در اختیار بخش خصوصی است. مواد سوختنی
مانند نفت، گاز و زغال سنگ حدود 5/2 درصد تولید ناخالص داخلی را تامین می
کند. کرومیت در ناحیه ژوب و سنگ آهن در ناحیه کالاباغ استخراج می شود.
اورانیوم در غازی خان در مولتان و مس در سیندوک کشف شده است.(33)
در سال 1984 م، 2/34 درصد انرژی مصرفی پاکستان
گاز طبیعی،9/18 درصد نیروی برق، 5/39 درصد نفت و 4/7 درصد باقیمانده را
زغال سنگ تشکیل می داده است. در حال حاضر شرکت های خارجی از جمله شرکت نفت و
گاز اوکسیدنتال ( Oxidentaloilgas) مشغول حفاری و پی جویی های فراوان برای
استخراج نفت می باشد و امید وجود ذخایر عظیم نفت در جنوب کراچی و دلتای
رود سند، وجود دارد. هم اکنون کمبود نفت مصرفی این کشور از حوضه خلیج فارس
بویژه عربستان تامین می شود. ذخایر گاز طبیعی در پاکستان
قابل توجه است و از یازده حوضه استخراج می شود. گاز مصرفی توسط لوله از
ناحیه سویی (Sui) تا کراچی و مولتان انتقال می یابد. سایر معادن این کشور
عبارتند از سنگ آهک، سنگ گچ و خاک نسوز.
4 - صنایع: پاکستان
در زمینه فعالیت های صنعتی، تلاش های قابل توجهی از نظر تجارب فنی و
سرمایه گذاری انجام داده است. صنایع این کشور از فناوری خارجی بهره می گیرد
و دولت نیز از راه های مختلف به توسعه صنعتی کشور کمک می کند. در سال
1985م بخش صنعت 4/17 درصد تولید ناخالص داخلی پاکستان را تشکیل می داده است.(34) تعداد شاغلان بخش صنعت تقریبا یک چهارم شاغلان بخش کشاورزی است و پاکستان
در سال های اخیر گام های بلندی در جهت توسعه صنعتی برداشته است. صنعت
نساجی بیشترین تعداد شاغلان این کشور را به خود اختصاص داده است.
اقتصاد صنعتی پاکستان
در دو بخش خصوصی و گسترده و بخش دولتی، کوچک ولی رو به رشد متمرکز است.
دولت کنترل بسیاری از صنایع پایه از قبیل ذوب آهن، فولادسازی، صنایع سنگین،
شیمیایی، پتروشیمی، تراکتورسازی و تجهیزات برق را در اختیار دارد.
بیشتر صنایع دولتی پاکستان
با مشکلاتی مانند عدم کارآیی، فرسودگی تجهیزات، و تورم دستمزدها روبرو
هستند و تعداد زیادی از مؤسسات صنعتی این کشور با ظرفیت کمتر از 50 درصد
کار می کنند و در نتیجه برگشت سرمایه آنها بسیار اندک است. از سال 1978م
سرمایه داران بخش خصوصی بیشتر در صنایعی مانند تولید روغن نباتی، سیمان
سازی و فرآورده های شیمیایی که قبلا در تملک دولت بود، سرمایه گذاری کرده
اند.
صنایع کوچک در پاکستان
از کارآیی نسبتا بالایی برخوردار هستند. لذا بانک جهانی به این کشور
پیشنهاد کرده است که برای توسعه و گسترش صنایع کوچک تلاش کند. بخش قابل
توجهی از صادرات این کشور را کالاهای ورزشی تشکیل می دهد که در کارخانه های
سیالکوت پنجاب تولید می شود. صنایع سنتی و دستی مانند ورشوکاری، زری دوزی،
گلابتون دوزی، قلاب دوزی، سوزن کاری و فرش بافی تقریبا 80 درصد کل تولیدات
را شامل می شود که بیشتر در پنجاب، لاهور و پیشاور متمرکز می باشند.
از سال 1978 م دولت پاکستان
دو منطقه آزاد تجاری - صنعتی در کراچی و لاهور اعلام کرده است که نزدیک به
چهل کشور خارجی اقدام به سرمایه گذاری در این مناطق کرده اند. دولت برای
جذب سرمایه های خارجی و بازگشت سرمایه تسهیلاتی قایل شده است. بهره برداری
از نخستین کارخانه فولادسازی پاکستان از سال 1983م و به کمک کشور شوروی سابق شروع شد.
3 - شبکه راه ها: یکی از جدی ترین مسائل پاکستان
شبکه راه های ارتباطی این کشور می باشد که تا حال مشکلات زیادی را در
ترابری و ارتباطات به وجود آورده است. طول شبکه راه آهن این کشور حدود 3000
کیلومتر است. فاصله بخشی از ریل های آن از استانداردهای بین المللی بیشتر
است. شبکه راه آهن سراسری این کشور به هفت قسمت تقسیم می شود. کراچی،
لاهور، مولتان، کویته، پیشاور، راولپندی و سکر محل های انشعاب خطوط راه آهن
پاکستان
می باشد. طول آبراه های داخلی این کشور 1850 کیلومتر است، بزرگترین بندر آن
کراچی و دومین بندر که از سال 1980 م در ساحل دریای مکران مورد بهره
برداری قرار گرفت، محمدبن قاسم نام دارد. شرکت کشتیرانی ملی پاکستان
در زمینه بهره برداری از راه های آبی فعال است. توجه و تجهیز بنادر و
گسترش تاسیسات بندری همزمان با توسعه شبکه راه ها باید مورد توجه قرار
گیرد. راه های زمینی این کشور اهمیت خاصی دارد. بزرگراه 800 کیلومتری قره
قوم که ایالت سین کیانگ را از طریق کوهستان های بلند و دره هنزه کشمیر به
اسلام آباد می پیوندد، از جمله بزرگراه های مهم این کشور می باشد.(35)
4 - تجارت: واردات پاکستان
عبارتند از ماشین آلات، ادوات برقی، آهن، فولاد، انواع دارو، کود شیمیایی و
روغن های صنعتی. مهمترین کالاهای صادراتی آن، پنبه، برنج، بافته های نخی،
انواع لباس، پوست، چرم، الیاف مصنوعی و کالاهای ورزشی است. واردات و صادرات
پاکستان
بیشتر با کشورهای ژاپن، آمریکا، عربستان، انگلیس، آلمان، کویت، فرانسه و
مالزی صورت می گیرد. بازار مشترک اروپا مهمترین شریک بازرگانی پاکستان
است که نزدیک به یک چهارم صادرات این کشور و23 درصد واردات آن را تامین می
کند. موازنه بازرگانی این کشور با بازار مشترک همواره منفی است.
فرجام
با توجه به آنچه گفته شد، پاکستان دارای نیروهای بالقوه طبیعی و اقتصادی مناسبی برای توسعه بخش کشاورزی است. این عوامل عبارتند از:
1 - وجود رود سند که حدود نیمی از طول رود در پاکستان جاری است و نقش بسزایی در توسعه اقتصادی کشور دارد.
2 - مناسب بودن آب و هوا، خاک، مقدار باران و سایر شرایط طبیعی لازم برای کشت محصولات در بخش های وسیعی از کشور.
3
- وجود جلگه های حاصلخیز سند و پنجاب، و رودهای پرآب که باعث شده است
کشتزارها در دره سند بسیار فشرده باشند و مهمترین محصولات کشاورزی پاکستان از این دره تامین شود.
4 - احداث کانال های متعدد آبرسانی که باعث شده است اراضی وسیعی به زیر کشت درآیند.
پاکستان
به کمک عوامل طبیعی و اقتصادی مساعد که توانسته است یکی از سه قطب عمده
تولید غلات در آسیا باشد. تولید فرآورده های کشاورزی این کشور به آهستگی رو
به افزایش است. از نظر کشاورزی، پاکستان
به دلیل دسترسی به جلگه های پیوسته و وسیع، رودهای پرآب همیشگی و نوع خاک
آن دارای امتیازهای خاصی است مشروط بر این که شیوه های مناسب زراعی به طور
گسترده مورد استفاده قرار گیرد لذا پاکستان
در برنامه های رشد اقتصادی سعی فراوانی برای جبران کمبودهای طبیعی خود از
جمله منابع انرژی و بهبود وضع کشاورزی برای جوابگویی به نیاز جمعیت رو به
تزاید و بالا بردن سطح معیشت مردم از طریق توجه به بخش کشاورزی و صنعت
دارد.
در میان محصولات کشاورزی تولید نیشکر و گندم نسبت به جمعیت فزونی
دارد. بالا بودن میزان تولید این دو محصول به خاطر کوشش هایی است که این
کشور در زمینه احداث کانال های آبیاری، به کارگیری اصول به زراعی و وسایل
کشاورزی ماشینی جدید و توسعه زمین های زیرکشت انجام داده است که بدون تردید
آینده ای امیدبخش دارد.
پی نوشت:
26- بررسی مسایل کشوره،ا پاکستان، ص 110.
27- مجله زیتون، شماره 86، ص 20.
28- سیمای اقتصادی جهان، ص 147.
29- همان، ص 153-152.
30- جهان اسلام، ج 2، ص 211.
31- جغرافیای کامل جهان، ص 174.
32- جهان اسلام، ج 2، ص 215-214.
33- ماکساکوفسکی، جغرافیای اقتصادی جهان، ترجمه پویا زند، صادق [و دیگران]، نشر دنیای نو،1363، ص 314.
ابنا: رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے کل اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی موجودگی میں مسجد آعظم حرم مطھر حضرت معصوم قم میں منعقد ہوا روایات کے آئینے میں بدگمانی اور سوء ظن کی تفصیل بیان کی۔
انہوں نے ان روایات سے حاصل دروس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اگر ھم چاھتے ہیں کہ لوگوں کے دل ھم سے صاف رہیں تو پہلے اپنے دل کو لوگوں کی بہ نبست صاف کریں تاکید کی : دوسروں کی اصلاح کا آغاز خود اپنی اصلاح سے کریں ، انسان دوسروں کا خیر خواہ اور ان کا وفادار رہے تاکہ لوگ اس کے خیر خواہ اور وفادار رہیں۔
اس مرجع تقلید نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ آج کی دنیا میں یہ ھمارے لئے بھی اھم درس ہے کہا: ھمارے دشمن کبھی ھمیں مزاکرہ کی پیش کش کرتے ہیں اگر چہ بعض افراد ان کی لچھے دار باتوں کے دھوکہ میں آ کر کہتے ہیں کہ جب انہوں نے ہاتھ بڑھایا ہے تو ھم بھی ان سے مذاکرہ کریں جب کہ ھمیں متوجہ رہنا چاھئے کہ انہوں نے ھر میدان میں ھم سے اپنی دشمنی کا مظاھرہ کیا اورھم پر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ ھرگز ھمارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے مزید کہا: البتہ ممکن ہے کہ ایک وقت ائے جب مذاکرہ انجام پائے مگر اطمینان نہ کرنا اور ان کے سلسلہ میں بدگمانی فطری امر ہے چوں کہ ھمارے دشمن ھمارے خیر خواہ نہیں رہے ہیں اور ابھی تک ھم نے ان سے وفاداری نہیں دکھی ہے اور اسی بنیاد پر اطمینان نہ کرنا ایک فطری امر ہے۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا: اگر آیات قرآن کریم اور روایات اهل بیت علیھم السلام خصوصا نهج البلاغه میں امام علی(ع) کے کلمات کو یکجا کیا جائے تو مذهبی اور اسلامی نفسیاتی علوم کا ایک مجموعہ تیار ہوگا۔
انہوں نے اپنے بیان کے دوسرے حصہ میں مظلوم بحرینیوں کے عوامی قیام کی دوسری سالگرہ کے موقع پر یاد دہانی کی : دوسال پہلے انہیں ایام میں بحرین کے عوامی قیام کا آغاز ہوا اور ابھی تک سیکڑوں شھید اس قیام کی راہ میں تقدیم کئے گئے اور تقریبا ۱۶۰۰ علما، شخصیتیں ، جوان ، نوجوان اور خواتین آل خلیفہ جیلوں میں موجود ہیں ، ایک مختصر آبادی والے ملک کے لئے یہ تعداد بہت بڑی تعداد ہے۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ بحرینی عوام آل خلیفہ پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے کہا: واقعا ھم عجیب دنیا میں زندگی بسر کررہے ہیں ، ایک دوسرے سے قریب دنیا کے دو کونے میں دو مختلف کام انجام پارہے ہیں اور جمھوریت اور انسانی حقوق کے دعویدار دونوں ہی کا دفاع کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: بحرینی شیعہ و سنی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمہ حقوق کے طلبگار ہیں مگر ملکی سرحدوں سے باہر ان کی تقدیروں کا فیصلہ کیا جارہا ہے اور عالمی سامراجیت کے غلام ممالک سے بحرین میں فوجیں بھیجی جارہی ہیں تاکہ عوامی قیام کو کچل کر رکھ دیا جائے۔
اس مرجع تقلید نے مزید کہا: سوریہ میں بھی باہر سے فورس بھیجی گئی تاکہ دکھواے کا قیام عمل میں آسکے اور قابل توجہ یہ ہے کہ جہاں یہی لوگ بحرینی قیام کو کچلنے میں کوشاں ہیں اور وہیں دوسری جانب جمھوریت اور انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہیں۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے عالمی سامراجیت ، آزادی کے مدافع ، انسانی حقوق کی تنظمیوں اور جمھوریت کے طلبگاروں کی دوگانہ سیاست کو محکوم کرتے ہوئے آل خیلفہ حکومت کو ڈکٹیٹر کا نام دیا اور کہا : انسانی حقوق کے دعویدار سوریہ میں دھشت گرد بھیجتے ہیں تاکہ قتل اور دھمکوں کے ذریعہ بشار اسد کی حکومت گراسکیں۔
انہوں نے عالمی سامراجیت اور ان کی پٹھووں کی حکومتوں سے ملتوں کی نجات کی تمنا کی۔
اہلبیت نیوز ایجنسی ۔ ابنا۔ کی رپورٹ کے مطابق شام کے علاقہ حومہ میں جناب سکینہ سلام اللہ علیہا کے روضہ میں گھسے ہوئے کچھ مسلح افراد کے ساتھ فوج کی جھڑپ میں روضہ کو کافی نقصان پہنچا۔
فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق روضہ میں گھسے ہوئے مسلح افراد نے گنبد پر ماٹرگولہ مار کر توڑا تاکہ وہاں سے فوج کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا سکیں جو انہیں اطراف سے گھیرے میں لیے ہوئے تھی۔
دمشق کی فوج نے روضہ کے اطراف میں رکھے ہوئے بمبوں کو ناکارہ بنایا جبکہ دھشت گردوں نے کئی بمب روضہ کے اندر بھی رکھے ہوئے تھے تاکہ باہر نکلتے وقت ان کا دھماکہ کر کے روضہ کو مسمار کر سکیں۔
دمشق کے تکفیری دھشت گردوں نے کئی بار پہلے بھی جناب سکینہ سلام اللہ علیہا کے روضہ کو گرانے کی دھمکی دی تھی۔
شامی فوج روضہ کے اندر اور باہر رکھے ہوئے بمبوں کی وجہ سے ابھی تک انہیں اپنی گرفت میں لینے پر قادر نہیں ہوئی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج صبح درس خارج فقہ
کے موقع پر تاکید فرمائی کہ ایک ایسے موقعے میں جب اسلامی انقلاب کی
کامیابی کو 34 سال گزر گئے ہیں ایرانی عوام ،جوان اور بوڑھے ، مرد اور
خواتین کی زبردست شمولیت الہی نعمت ہے جس کا عمر بھر ،مشکور ہونا چاہیئے ۔
رہبرمعظم
انقلاب اسلامی نے میدان میں ایرانی عوام کی حاضری کی قدردانی کرتے ہوئے
فرمایا کہ عین اس وقت پر جب ایرانی قوم کی خودمختاری اور عزت وکرامت کے
دشمنوں کو توقع تھی کہ ایرانی عوام ،انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کی آواز نہ
سنیں ، ایران کی قوم نے میدان میں حاضر ہوکر دشمنوں کو مایوس کردیا ۔ آپ نے
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انقلاب اسلامی کے دشمن ، 22 بہمن کے
جلوسوں میں ایرانی قوم کی شرکت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں فرمایا
کہ اسکے باوجود ،وہ حقائق کو سمجھتے ہیں اور یہ نتیجہ حاصل کرسکے ہیں کہ
ایرانی قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
کل 22 بہمن کو ایران بھر میں اسلامی
انقلاب کی چونتیسویں سالگرہ کے موقع پر بڑے بڑے جلوس نکالے گئے جن میں عوام
نے بھرپور شرکت کرکے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ،
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اوراسلامی نظام
سے وفاداری کا ثبوت دیا اور شہدا و اسلامی انقلاب کے اھداف ومقاصد پر گامزن
رہنے پر تاکید کی۔
.......
ابنا: علی
لاریجانی نے اسلام آباد میں پاکستانی خبررساں ایجنسی ایکسپرس نیوز کے ساتھ
خصوصی انٹرویو میں کہا کہ صہیونی ریاست ایران پر حملے کی جرات نہیں کرسکتی
کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران دفاعی امور میں بہت طاقتور ہے ۔
ایران کی
پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر جو ایک اعلی وفد کے ہمراہ "ای سی او
" کے پارلیمانی اسپیکروں کے دوروزہ اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد کے
دورے پر ہیں مزید کہا کہ ایران ایک بڑی طاقت ہے اور اس پر حملہ ،جارح طاقت
کو سخت پشیمان کردے گا۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ
ایران کسی بھی طرح ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایران کا ایٹمی
پروگرام،مکمل طور پر پرامن ہے۔
علی لاریجانی نے ایران اور پاکستان کے
آپسی تعلقات کو دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا ایران پر حملے کی صورت میں
پاکستان کی حکومت اور عوام اسلامی جمہوریہ ایران کی بھرپور حمایت کریں گے۔
انہوں
نے ایران – پاکستان گیس پائپ لائن کےبارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں
کہا کہ امریکی دباؤ کے باوجود دونوں ممالک کو اپنے قومی مفادات کے مطابق
فیصلہ کرنا ہے اور ایران اور پاکستان کی حکومتیں اس منصوبے کی تکمیل کےلئے
بھرپور کوشش کررہی ہیں۔
ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی اقتصادی تعاون تنظیم اکو کے رکن ممالک کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ جہاں پاکستانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے انکا استقبال کیا۔
لاریجانی اس سفر میں پاکستان کے اعلی حکام اور اکو رکن ممالک کے پارلیمانی سربراہان سے ملاقات اورگفتگو کریں گے اس سفر میں پارلیمنٹ کے چند نمائندے بھی لاریجانی کے ہمراہ ہیں۔
ماری قوم ان سالوں میں علمی، ٹیکنالوجی، سیاسی، ثقافتی تمام میدانوں میں عظیم نتائج کی شاہد ہے جن میں سے اہم ترین غیروں کے تسلط سے رہائی، لوگوں پر صرف اسلام کی حکومت اور بین الاقوامی روابط میں استقلال ہے
انقلاب اسلامی ایران کی چونتیسویں سالگرہ کی مناسبت سے اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے درج ذیل بیان دیا ہے:
« والفجر ولیال عشر والشفع والوتر »
انقلاب اسلامی ایران، نے ۳۳ سال کے عرصہ میں کئی طرح کے فراز و نشیب سے گزرنے اور ظلم و استبداد کا مقابلہ کرنے کے بعد قوم کی چاہتوں پورا کیا اورگام بگام دنیا کے مظلوم اور مستضعف عوام کی آواز پر لبیک کہی۔ اس مقاومت اور پائیداری کا ثمرہ اسلامی بیداری کی شکل میں ایک موج بن کر سامنے آیا جو پوری دنیا میں مخصوصا استعمار اور استکبار کے زیرقدرت ملکوں میں پھیل گئی۔
ہماری قوم ان سالوں میں علمی، ٹیکنالوجی، سیاسی، ثقافتی تمام میدانوں میں عظیم نتائج کی شاہد ہے جن میں سے اہم ترین غیروں کے تسلط سے رہائی، لوگوں پر صرف اسلام کی حکومت اور بین الاقوامی روابط میں استقلال ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس درمیان دشمن کی طرف سے کچھ سازشوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ان افراد کی طرف سے دہشت گردی کی آفت کو تحمل کرنا پڑا جو ابتدائے انقلاب سے دشمن انقلاب بن کر کھڑے رہے۔ امریکہ اور صہیونیسٹ کی ظاہری اور باطنی دشمنیوں کا مقابلہ کیا اور طرح طرح کی اقتصادی پابندوں کو تحمل کیا۔ یہ تمام کامیابیاں حضرت امام خمینی (رہ) کے خلف صالح حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ العالی کی سنجیدہ رہبری کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ہیں۔
ایسے میں ملت غیور ایران کو ایک بار پھر اپنی بصیرت اور آگہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلاب اسلامی ایران کے یوم آزادی پر تمام خارجی اور داخلی دشمنوں اور پروپیگنڈا کرنے والوں کو یہ دکھلانا چاہیے کہ ہم ابھی بھی انقلاب اسلامی کے مقاصد پر پابند اور امام امت اور رہبر معظم کی تعلیمات پر متعہد ہیں۔
لہذا اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی، ایران کی شجاع اور دلیر قوم سے تقاضا کرتی ہے کہ ۲۲ بہمن کو پورے ملک میں نکلنے والی ریلیوں میں بھرپور شرکت کرکے امام راحل اور شہداء اسلام کے ساتھ تجدید عہد کرے۔
نیز اسمبلی اس مناسبت سے تمام مسلمانوں مخصوصا ایرانی عوام کو تبریک اور تہنیت پیش کرتی ہے۔ اور اسلام کی کفر اور حق کی باطل پر دائمی کامیابی کی آروز کرتے ہوئے حقیقی والی و وارث حضرت حجت(ع) کے ظہور کی دعا اوربارگاہ رب العزت سے رہبر معظم کی سلامتی کی درخواست کرتی ہے۔
۲۰ بھمن،۱۳۹۱
مطابق با، ۸،۲،۲۰۱۳
ابنا: تفصیلات
کے مطابق فیضان کے نام پولیس کانسٹیبل جہانگیر نے مالٹے کی ایک پیٹی کسی
مقامی حجام کی وساطت سے جیل انتظامیہ کے حوالے کی، ڈیوٹی پر معمور ایف سی
اور جیل انتظامیہ کے اہلکاروں نے جب پیٹی کی تلاشی شروع کی تو اس دوران
مالٹے کی پیٹی سے ایک عدد ہینڈ گرنیٹد اور ایک عدد ٹی ٹی پستول بمعہ دس
راونڈ برآمد ہوئے، جنہیں فوری قبضے میں لیکر کانسٹیبل جہانگیر اور سامان
بجھوانے والے باربر کو فورا گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت
مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ
گلگت کی ہی ایک جیل سے ممتاز عالم دین شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی قتل
کیس میں ملوث خطرناک دہشت گرد شاکر اللہ کو بھی جیل انتظامیہ کی ملی بھگت
سے فرار کروایا گیا تھا۔ گلگت بلتستان کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے
اس واقعے پر شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گلگت بلتستان
حکومت اور محکمہ داخلہ سے جیلوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور
دیا ہے۔
.......
سؤال: چگونه خداى متعال امت يهود را پس از نپذيرفتن بشارت ظهور پيامبر اسلام(صلى الله عليه وآله) نكوهش كرده است؟
جواب: در بعضى از روايات آمده است: يهود مى گفتند: اگر محمد(صلى الله عليه وآله) به رسالت مبعوث شده، رسالتش شامل حال ما نيست، لذا خداى متعال در آيه 5 سوره «جمعه» به آنها گوشزد مى كند: اگر كتاب آسمانى خود را دقيقاً خوانده و عمل مى كرديد، اين سخن را نمى گفتيد; چرا كه بشارت ظهور پيامبر اسلام(صلى الله عليه وآله) در آن آمده است.
مى فرمايد: «كسانى كه تورات بر آنها نازل شد، مكلف به آن گشتند ولى حق آن را اداء ننمودند و به آياتش عمل نكردند، همانند درازگوشى هستند كه كتاب هائى بر پشت خود حمل مى كند» (مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْراةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوها كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفاراً).
او از كتاب، چيزى جز سنگينى احساس نمى كند، و برايش تفاوت ندارد كه سنگ و چوب بر پشت دارد، يا كتاب هائى كه دقيق ترين اسرار آفرينش و مفيدترين برنامه هاى زندگى در آن است.
اين قوم از خود راضى، كه تنها به نام «تورات» يا تلاوت آن قناعت كردند، بى آنكه انديشه در محتواى آن داشته باشند و عمل كنند، همانند همين حيوانى هستند كه در حماقت، نادانى ضرب المثل و مشهور خاص و عام است.
اين، گوياترين مثالى است كه، براى عالِم بى عمل مى توان بيان كرد كه، سنگينى مسئوليت علم را بر دوش دارد، بى آن كه از بركات آن بهره گيرد، افرادى كه با الفاظ قرآن
سر و كار دارند، ولى از محتوا و برنامه عملى آن بى خبرند (و چه بسيارند اين افراد در بين صفوف مسلمين) مشمول همين آيه اند.
اين احتمال نيز وجود دارد كه: يهود با شنيدن آيات نخستين سوره «جمعه» و مانند آن كه، از موهبت بعثت پيامبر(صلى الله عليه وآله)سخن مى گويد، گفته باشند:
ما نيز اهل كتابيم، و مفتخر به بعثت حضرت موسى كليم(عليه السلام) هستيم، قرآن در پاسخ آنها مى گويد: چه فائده؟ كه دستورهاى «تورات» را زير پا نهاديد و آن را در زندگى خود هرگز پياده نكرديد.
ولى، به هر حال هشدارى است به همه مسلمانان كه، مراقب باشند، سرنوشتى همچون «يهود» پيدا نكنند، اين فضل عظيم الهى كه شامل حال آنها شده، و اين قرآن مجيد كه بر آنها نازل گرديده، براى اين نيست كه تنها در خانه ها خاك بخورد، يا به عنوان «تعويذ چشم زخم» حمايل كنند، يا براى حفظ از حوادث به هنگام سفر از زير آن رد شوند، يا براى ميمنت و شگون خانه جديد، همراه «آئينه» و «جاروب»! به خانه تازه بفرستند، و تا اين حدّ آن را تنزل دهند، و يا آخرين همت آنها، تلاش و كوشش براى تجويد، تلاوت زيبا، ترتيل و حفظ آن باشد، و در زندگى فردى و اجتماعى كمترين انعكاسى نداشته باشد و در عقيده و عمل، از آن اثرى به چشم نخورد.
و در ادامه اين مثل، مى افزايد: «قومى كه آيات الهى را تكذيب كردند مسلّماً مثال بدى دارند» (بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآياتِ اللّهِ).
چگونه آنها تشبيه به «حمار حامل اسفار» نشوند؟ در حالى كه، نه تنها با عمل، كه با زبان هم آيات الهى را انكار كردند، چنان كه در آيه 87 سوره «بقره» درباره همين قوم «يهود» مى خوانيم: أَ فَكُلَّما جاءَكُمْ رَسُولٌ بِما لا تَهْوى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقاً كَذَّبْتُمْ وَ فَرِيقاً تَقْتُلُونَ:
«آيا هر زمان پيامبرى بر خلاف هواى نفس شما آمد، در برابر او تكبر كرديد، گروهى را تكذيب نموديد، و گروهى را به قتل رسانديد»؟!
و در پايان آيه، در يك جمله كوتاه و پرمعنى مى فرمايد: «خداوند قوم ستمگر را هدايت نمى كند»؟ (وَ اللّهُ لايَهْدِي الْقَوْمَ الظّالِمِينَ).
درست است كه، هدايت، كار خدا است، اما زمينه، لازم دارد، و زمينه آن كه روح حق طلبى و حق جوئى است، بايد از ناحيه خود انسان ها فراهم شود، و ستمگران از اين مرحله دورند.(1)
1. تفسير نمونه، جلد 24، صفحه 126.
سؤال: چگونه تعصبات نژادى يهود مانع ايمان به پيامبر اسلام(صلى الله عليه وآله) گرديد؟
جواب: خداى متعال در آيات 91ـ93 سوره «بقره» به يكى از جنبه هاى تعصبات نژادى يهود كه در دنيا به آن معروفند اشاره كرده، چنين مى گويد: «هنگامى كه به آنها گفته شود: به آنچه خداوند نازل فرموده ايمان بياوريد، مى گويند: ما به چيزى ايمان مى آوريم كه بر خود ما نازل شده باشد (نه بر اقوام ديگر) و به غير آن كافر مى شوند» (وَ إِذا قيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِما أَنْزَلَ اللّهُ قالُوا نُؤْمِنُ بِما أُنْزِلَ عَلَيْنا وَ يَكْفُرُونَ بِما وَرائَهُ).
آنها نه به «انجيل» ايمان آوردند و نه به قرآن، بلكه تنها جنبه هاى نژادى و منافع خويش را در نظر مى گرفتند «در حالى كه اين قرآن حق است و منطبق بر نشانه ها و علامت هائى است كه در كتاب خويش خوانده بودند» (وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقاً لِما مَعَهُمْ).
پس از آن پرده از روى دروغ آنان بر داشته مى گويد: اگر بهانه عدم ايمان شما اين است كه محمّد(صلى الله عليه وآله) از شما نيست «پس چرا به پيامبران خودتان در گذشته ايمان نياورديد؟ پس چرا آنها را كشتيد اگر راست مى گوئيد و ايمان داريد»؟! (قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِياءَ اللّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنينَ).
اگر به راستى آنها به «تورات» ايمان داشتند، توراتى كه قتل نفس را گناه بزرگى مى شمرد، نمى بايست پيامبران بزرگ خدا را به قتل برسانند.
از اين گذشته، اصولاً اين سخن كه ما تنها به دستوراتى ايمان مى آوريم كه بر ما نازل شده باشد، انحراف روشنى از اصول توحيد و مبارزه با شرك است، اين يك نوع خود خواهى و خود پرستى است، چه در شكل شخصى باشد؟ يا در شكل نژادى؟
توحيد آمده است كه اين گونه خوهاى زشت را از وجود انسان ريشه كن سازد، تا انسان ها دستورات خدا را فقط به خاطر اين كه از ناحيه خدا است بپذيرند.
به عبارت ديگر اگر پذيرش دستورات الهى مشروط به اين باشد كه بر خود ما نازل گردد، اين در حقيقت شرك است، نه ايمان، و كفر است، نه اسلام، و قبول چنين دستوراتى هرگز دليل ايمان نخواهد بود.
جالب اين كه: در آيه فوق مى گويد: «هنگامى كه به آنها گفته شود به آنچه خدا نازل كرده ايمان بياوريد...» كه در اين عبارت، نه محمّد(صلى الله عليه وآله) مطرح است، نه موسى و نه عيسى(عليهما السلام)بلكه صرفاً «ما أَنْزَلَ اللّه».
قرآن براى روشن تر ساختن دروغ و كذب آنها، در آيه بعد، سند ديگرى را بر ضد آنها افشا مى كند و مى گويد: «موسى آن همه معجزات و دلائل روشن را براى شما آورد، ولى شما بعد از آن گوساله را انتخاب كرديد و با اين كار ظالم و ستمگر بوديد»! (وَ لَقَدْ جاءَكُمْ مُوسى بِالْبَيِّناتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَ أَنْتُمْ ظالِمُونَ).
اگر شما راست مى گوئيد و به پيامبر خودتان ايمان داريد، پس دليل گوساله پرستى بعد از آن همه دلائل روشن توحيدى چه بود؟
اين چه ايمانى است كه به محض غيبت موسى(عليه السلام) و رفتنش به كوه طور از دل هاى شما پرواز مى كند و كفر جاى آن، و گوساله جاى توحيد را مى گيرد؟
آرى شما با اين كارتان هم به خود ستم كرديد و هم به جامعه خود و نسل هاى آينده تان.
در سومين آيه مورد بحث، سند ديگرى بر بطلان اين ادعاى آنها ذكر كرده مسأله پيمان كوه طور را به ميان مى كشد، مى گويد: «ما از شما پيمان گرفتيم و كوه طور را بالاى سرتان قرار داديم و به شما گفتيم، دستوراتى را كه مى دهيم محكم بگيريد و درست بشنويد اما آنها گفتند شنيديم و مخالفت كرديم» (وَ إِذْ أَخَذْنا ميثاقَكُمْ وَ رَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّة وَ اسْمَعُوا قالُوا سَمِعْنا وَ عَصَيْنا).
«آرى دل هاى آنها به خاطر كفرشان با محبت گوساله آبيارى شده بود»! (وَ أُشْرِبُوا في قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ).
آرى، شرك و دنياپرستى كه نمونه آن عشق به گوساله طلائى سامرى بود در تار و پود قلبشان نفوذ كرد، و در سراسر وجودشان ريشه دواند، و به همين دليل، خدا را فراموش كردند.
شگفتا! اين چگونه ايمانى است كه هم، با كشتن پيامبران خدا مى سازد، هم گوساله پرستى را اجازه مى دهد، و هم ميثاق هاى محكم الهى را به دست فراموشى مى سپرد؟!
آرى «اگر شما مؤمنيد ايمانتان بد دستوراتى به شما مى دهد» (قُلْ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إيمانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنينَ).(1)
1. تفسير نمونه، جلد 1، صفحه 404.
سؤال: چرا يهوديان را بنى اسرائيل مى گويند؟
جواب: «اسرائيل» يكى از نام هاى يعقوب، پدر يوسف(عليه السلام) مى باشد، در علت نامگذارى يعقوب به اين نام، مورخان غير مسلمان، مطالبى گفته اند: كه با خرافات آميخته است.
چنان كه «قاموس كتاب مقدس» مى نويسد: «اسرائيل به معنى كسى است كه بر خدا مظفر گشت»!
وى اضافه مى كند: «اين كلمه لقب يعقوب بن اسحاق است كه در هنگام مصارعه (كشتى گرفتن) با فرشته خدا به آن ملقب گرديد»!
همين نويسنده در ذيل كلمه «يعقوب» مى نويسد: «ثبات، استقامت و ايمان خود را ظاهر ساخت، در اين حال خداوند اسم وى را تغيير داده «اسرائيل» ناميد، و وعده داد كه پدر جمهور طوائف خواهد شد... و... بالاخره در كمال پيرى در گذشت، و مثل يكى از سلاطين دنيا مدفون گشت! و اسم يعقوب و اسرائيل بر تمام قومش اطلاق مى شود».
همچنين او در ذيل كلمه «اسرائيل» مى نويسد: «و اين اسم را موارد بسيار است چنان كه گاهى قصد از نسل اسرائيل و نسل يعقوب است».
ولى دانشمندان ما مانند مفسر معروف «طبرسى» در «مجمع البيان» در اين باره چنين مى نويسد: «اسرائيل همان يعقوب فرزند اسحاق پسر ابراهيم(عليهما السلام)است...» او مى گويد، «اسر» به معنى «عبد» و «ئيل» به معنى «اللّه» است، و اين كلمه مجموعاً معنى «عبداللّه» را مى بخشد.
بديهى است: داستان كشتى گرفتن اسرائيل با فرشته خداوند و يا با خود خداوند كه در «تورات» تحريف يافته كنونى ديده مى شود يك داستان ساختگى و كودكانه است كه از شأن يك كتاب آسمانى به كلى دور است و اين خود يكى از مدارك تحريف تورات كنونى است.(1)
1. تفسير نمونه، جلد 1، صفحه 248.
سؤال: در قرآن آمده كه يهوديان با خدا پيمان بستند آن پيمان ها چه بودند؟
جواب: در آيات 83ـ85 سوره «بقره» بحث از پيمان بنى اسرائيل به ميان آمده، خداوند در اين آيات موادى از اين پيمان را ياد آور شده است، بيشتر اين مواد ـيا همه آنهاـ از امورى است كه مى بايست آن را جزء اصول و قوانين ثابت اديان الهى دانست; چرا كه در همه اديان آسمانى اين پيمان ها و دستورات به نحوى وجود دارد.
در اين آيات، قرآن مجيد، يهود را شديداً مورد سرزنش قرار مى دهد كه چرا اين پيمان ها را شكستند؟ و آنها را در برابر اين نقض پيمان به رسوائى در اين جهان و كيفر شديد در آن جهان، تهديد مى كند.
در اين پيمان كه بنى اسرائيل خود شاهد آن بودند و به آن اقرار كردند اين مطالب آمده است:
1 ـ توحيد و پرستش خداوند يگانه، چنان كه نخستين آيه مى گويد: «به ياد آوريد زمانى را كه از بنى اسرائيل پيمان گرفتيم جز اللّه (خداوند يگانه) را پرستش نكنيد» و در برابر هيچ بتى سر تعظيم فرود نياوريد (وَ إِذْ أَخَذْنا ميثاقَ بَني إِسْرائيلَ لاتَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ).
2 ـ «و نسبت به پدر و مادر نيكى كنيد» (وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً).
3 ـ «و نسبت به خويشاوندان و يتيمان و مستمندان نيز به نيكى رفتار نمائيد» (وَ ذِي الْقُرْبى وَ الْيَتامى وَ الْمَساكينِ).
4 ـ «و با سخنان نيكو با مردم سخن گوئيد» (وَ قُولُوا لِلنّاسِ حُسْناً).
5 ـ «نماز را بر پا داريد» (و در همه حال به خدا توجه داشته باشيد) (وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ).
6 ـ «زكات و حق محرومان را اداء كنيد» و كوتاهى روا مداريد (وَ آتُوا الزَّكاةَ).
«اما شما ـ جز گروه اندكى ـ سرپيچى كرديد، و از وفاى به پيمان خود، روى گردان شديد» (ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاّ قَليلاً مِنْكُمْ وَ أَنْتُمْ مُعْرِضُونَ).
7 ـ و به ياد آوريد: «هنگامى كه از شما پيمان گرفتيم خون يكديگر را نريزيد» (وَ إِذْ أَخَذْنا ميثاقَكُمْ لاتَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ).
8 ـ «يكديگر را از خانه ها و كاشانه هاى خود بيرون نكنيد» (وَ لاتُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ).
9 ـ چنان چه كسى در ضمن جنگ از شما اسير شد، همه براى آزادى او كمك كنيد، فديه دهيد و او را آزاد سازيد(اين ماده از پيمان از جمله «وَ إِنْ يَأْتُوكُمْ أُسارى تُفادُوهُمْ» كه بعداً خواهد آمد استفاده مى شود).
شما به همه اين مواد اقرار كرديد و بر اين پيمان گواه بوديد (ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَ أَنْتُمْ تَشْهَدُونَ).
ولى شما بسيارى از مواد اين ميثاق الهى را زير پا گذاشتيد «شما همانها هستيد كه يكديگر را به قتل مى رسانيد و جمعى از خود را از سرزمينشان آواره مى كنيد» (ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُونَ فَريقاً مِنْكُمْ مِنْ دِيارِهِمْ).
«و در انجام اين گناه و تجاوز، به يكديگر كمك مى كنيد» (تَظاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالإِثْمِ وَ الْعُدْوانِ).
اينها همه بر ضد پيمانى بود كه با خدا بسته بوديد، درست است كه شما به بعضى از دستورات تورات عمل مى كنيد يعنى: «هنگامى كه بعضى از آنها به صورت اسيران نزد شما بيايند فديه مى دهيد و آنها را آزاد مى سازيد» (وَ إِنْ يَأْتُوكُمْ أُسارى تُفادُوهُمْ).
اما چرا در بيرون ساختن آنها از خانه و كاشانه شان كه حرام است اقدام مى كنيد، لذا مى فرمايد: اين فديه و آزادى درست «اما بيرون ساختن آنها از خانه و كاشانه شان از آغاز بر شما حرام بود» (وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ).
شما در دادن فدا و آزاد ساختن اسيران به حكم تورات و پيمان الهى استناد مى كنيد، اما در بقيه اعتنا نمى كنيد «آيا به بعضى از دستورات كتاب الهى ايمان مى آوريد و نسبت به بعضى كافر مى شويد»؟! (أَ فَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتابِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْض).
«جزاى كسى از شما كه چنين تبعيضى را در مورد احكام الهى روا دارد چيزى جز رسوائى در زندگى اين دنيا نخواهد بود» (فَما جَزاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذلِكَ مِنْكُمْ إِلاّ خِزْيٌ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا).
«و در روز رستاخيز به اشد عذاب گرفتار مى شوند» (وَ يَوْمَ الْقِيامَةِ يُرَدُّونَ إِلى أَشَدِّ الْعَذابِ).
«و خداوند از اعمال شما غافل نيست» (وَ مَا اللّهُ بِغافِل عَمّا تَعْمَلُونَ).
و همه آن را دقيقاً احصاء كرده و بر طبق آن شما را در دادگاه عدل خود محاكمه مى كند.(1)
1. تفسير نمونه، جلد 1، صفحه 381.
سؤال: رهبانيت چه مفاسدى دارد؟
جواب: انحراف از قوانين آفرينش، هميشه واكنشهاى منفى به دنبال دارد، بنابراين، جاى تعجب نيست كه وقتى انسان از زندگى اجتماعى كه در نهاد و فطرت او است فاصله بگيرد، گرفتار عكس العملهاى منفى شديد مى شود، لذا «رهبانيت» به حكم اين كه: بر خلاف اصول فطرت و طبيعت انسان است، مفاسد زيادى به بار مى آورد از جمله:
1 ـ «رهبانيت» با روح مدنى بالطبع بودن آدمى مى جنگد، و جوامع انسانى را به انحطاط و عقب گرد مى كشاند.
2 ـ «رهبانيت» نه تنها سبب كمال نفس و تهذيب روح و اخلاق نيست. بلكه، منجر به انحرافات اخلاقى، تنبلى، بدبينى، غرور، عجب و خود برتربينى و مانند آن مى شود، و به فرض كه انسان بتواند در حال انزوا به فضيلت اخلاقى برسد، فضيلت محسوب نمى شود، فضيلت آن است كه انسان در دل اجتماع بتواند خود را از آلودگيهاى اخلاقى برهاند.
3 ـ ترك ازدواج كه از اصول رهبانيت است نه فقط كمالى نمى آفريند، بلكه موجب پيدايش عقده ها و بيماريهاى روانى مى گردد.
در «دائرة المعارف قرن بيستم» مى خوانيم: «بعضى از رهبانها تا آن اندازه توجه به جنس زن را عمل شيطانى مى دانستند كه حاضر نبودند، حيوان ماده اى را به خانه ببرند! مبادا روح شيطانى آن به روحانيت آنها صدمه بزند»! !
اما با اين حال، تاريخ، فجايع زيادى را از «ديرها» به خاطر دارد، تا آنجا كه به گفته «ويل دورانت» «پاپ انيوسان سوم»، يكى از ديرها را به عنوان فاحشه خانه توصيف كرد!.
و بعضى از آنان مركزى براى اجتماع شكم پرستان و دنياطلبان و خوشگذرانها شده بود، تا آنجا كه بهترين شرابها در ديرها پيدا مى شد.
البته، طبق گواهى تاريخ، حضرت مسيح(عليه السلام) هرگز ازدواج نكرد، اما اين، هرگز به خاطر مخالفت او با اين امر نبود، بلكه عمر كوتاه مسيح(عليه السلام) به اضافه اشتغال مداوم او به سفرهاى تبليغى، به نقاط مختلف جهان به او اجازه اين امر را نداد.
اين بحث را با حديثى از على(عليه السلام) پايان مى دهيم: در حديثى در ذيل آيه: قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بالأَخْسَرِينَ أَعْمالاً * الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى الْحَياةِ الدُّنْيا وَ هُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً: «بگو آيا به شما خبر دهم كه زيانكارترين مردم كيانند؟ * آنها هستند كه تلاشهايشان در زندگى دنيا گم شده، با اين حال گمان مى كنند كار نيك انجام مى دهند».(1)
على(عليه السلام) در تفسير آن فرمود: هُمُ الرُّهْبانُ الَّذِينَ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِى السُّوّارِى: «يكى از مصاديق بارز آن، رهبانها هستند كه خود را در ارتفاعات كوهها و بيابانها محبوس داشتند و گمان كردند كار خوبى انجام مى دهند».(2)
1 ـ كهف، آيات 103 و 104.
2. تفسير نمونه، جلد 23، صفحه 401.
سؤال: سرچشمه تاريخى رهبانيت چيست؟
جواب: تواريخ موجود مسيحيت نشان مى دهد، رهبانيت به صورت فعلى در قرون اول مسيحيت وجود نداشته، و پيدايش آن را بعد از قرن سوم ميلادى، هنگام ظهور «امپراطور رومى» به نام «ديسيوس» و مبارزه شديد او با پيروان مسيح(عليه السلام)مى دانند، آنها بر اثر شكست از اين «امپراطور» (خونخوار) به كوهها و بيابانها پناه بردند».
در روايات اسلامى نيز همين معنى به صورت دقيقترى از پيغمبر گرامى اسلام(صلى الله عليه وآله) نقل شده كه روزى آن حضرت(صلى الله عليه وآله) به «ابن مسعود» فرمود: «مى دانى رهبانيت از كجا پيدا شد»؟ عرض كرد: خدا و پيامبرش آگاهترند، فرمود: «بعد از عيسى(عليه السلام) جمعى از جباران ظهور كردند، و مؤمنان سه مرتبه با آنها پيكار نموده شكست خوردند، لذا به بيابانها متوارى شدند، و به انتظار ظهور پيامبر موعود عيسى، حضرت محمّد(صلى الله عليه وآله) در غارهاى كوهها، به عبادت مشغول گشتند، بعضى از آنها بر دين خود باقى ماندند، و بعضى راه كفر پيش گرفتند.
سپس افزود آيا مى دانى «رهبانيت» امّت من چيست؟ عرض كرد: خدا و رسولش آگاهترند، فرمود: الهِجْرَةُ، وَ الجِهادُ، وَ الَّصلاةُ، وَ الصَّوْمُ، وَ الحَجُّ، وَ العُمْرَةُ: «رهبانيت امت من هجرت و جهاد و نماز و روزه و حج و عمره است».
مورخ مشهور مسيحى «ويل دورانت» در تاريخ معروف خود در جلد 13 بحث مشروحى راجع به رهبانان نقل مى كند، او معتقد است: پيوستن «راهبه ها» (زنان تارك دنيا) به «راهبان» از قرن چهارم ميلادى شروع شد، و روز به روز كار «رهبانيت» بالا گرفت تا در قرن دهم ميلادى به اوج خود رسيد.
بدون شك، اين پديده اجتماعى، مانند هر پديده ديگر، علاوه بر ريشه هاى تاريخى، ريشه هاى روانى نيز دارد، كه از جمله مى توان به اين واقعيت اشاره كرد كه: اصولاً عكس العمل روانى افراد و اقوام مختلف در برابر شكستها و ناكاميها كاملاً متفاوت است، بعضى، تمايل به انزوا و درون گرائى پيدا مى كنند و كاملاً از اجتماع و فعاليتهاى اجتماعى كنار مى كشند، در حالى كه گروه ديگر، از شكست، درس استقامت مى آموزند و صلابت و مقاومت بيشترى پيدا مى كنند، گروه اول، به رهبانيت يا چيزى شبيه به آن رو مى آورند و گروه دوم، به عكس، اجتماعى تر مى شوند.(1)
1. تفسير نمونه، جلد 23، صفحه 400.
سؤال: ديدگاه اسلام در مورد رهبانيت چيست؟
جواب: «رهبانيت» از ماده «رهبه»، به معنى «خوف و ترس» است كه در اينجا خوف و ترس از خدا منظور است، و به گفته «راغب» در «مفردات»: ترسى است كه آميخته با پرهيز و اضطراب باشد و «تَرَهُّب» به معنى «تعبد» و عبادت كردن و «رهبانيت» به معنى «شدت تعبد» است.
البته نوعى رهبانيت مطلوب در ميان مسيحيان وجود داشت، هر چند در آئين مسيح چنين دستور الزامى به آنها داده نشده بود، ولى، پيروان مسيح آن رهبانيت را از حد و مرز آن بيرون برده و به انحراف و تحريف كشاندند.
به همين دليل، اسلام به شدت آن را محكوم كرده، و حديث معروف: لا رَهْبانِيَّةَ فِى الإِسلامِ: «در اسلام رهبانيت وجود ندارد» در بسيارى از منابع اسلامى ديده مى شود.
از جمله بدعتهاى زشت مسيحيان در زمينه رهبانيت «تحريم ازدواج» براى مردان و زنان تارك دنيا بود، و ديگر «انزواى اجتماعى» و پشت پا زدن به وظائف انسان در اجتماع، و انتخاب صومعه ها و ديرهاى دورافتاده براى عبادت و زندگى در محيطى دور از اجتماع بود، سپس مفاسد زيادى در ديرها و مراكز زندگى رُهبانها، به وجود آمد كه بعداً به گوشه اى از آن براى تكميل اين بحث به خواست خدا اشاره خواهيم كرد.
درست است كه زنان و مردان تارك دنيا (راهبها و راهبه ها) خدمات مثبتى نيز انجام مى دادند، از جمله پرستارى بيمارانِ صعب العلاج و خطرناك، همچون جذاميان، و تبليغ در نقاط بسيار دوردست و در ميان اقوام وحشى، و مانند اينها، و همچنين برنامه هاى مطالعاتى و تحقيقاتى، ولى اين امور در برابر كل اين برنامه، مسأله ناچيز و كم اهميتى بود، و در مجموع مفاسد آن به مراتب بيشتر بود.
اصولاً انسان، موجودى است كه براى زندگى در اجتماع ساخته شده، و تكامل معنوى و مادى او نيز در همين است كه زندگى جمعى داشته باشد، و لذا هيچ يك از مذاهب آسمانى اين معنى را از انسان نفى نمى كند، بلكه پايه هاى آن را محكم تر مى سازد.
خداوند در انسان «غريزه جنسى» براى حفظ نسل آفريده، هر چيزى كه آن را به طور مطلق نفى كند مسلماً باطل است.
زهد اسلامى، كه به معنى سادگى زندگى و حذف تجملات و عدم اسارت در چنگال مال و مقام است، هيچ ارتباطى به مسأله «رهبانيت» ندارد، زيرا «رهبانيت» معنى جدائى و بيگانگى از اجتماع است، و «زهد» به معنى آزادگى و وارستگى به خاطر اجتماعى تر زيستن است.
در حديث معروفى مى خوانيم: «عثمان بن مظعون» فرزندش از دنيا رفته بود، بسيار غمگين شد، تا آنجا كه خانه اش را مسجد قرار داد و مشغول عبادت شد (و هر كار را جز عبادت ترك گفت) اين خبر به رسول خدا(صلى الله عليه وآله)رسيد، او را احضار كرده، فرمود: يَا عُثْمَانُ! إِنَّ اللَّهَ تَبارَكَ وَ تَعالى لَمْ يَكْتُبْ عَلَيْنَا الرَّهْبَانِيَّةَ، إِنَّمَا رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: «اى عثمان! خداوند متعال رهبانيت را براى امت من مقرر نداشته، رهبانيت امت من جهاد در راه خدا است».
اشاره به اين كه: اگر مى خواهى پشت پا به زندگى مادى بزنى، اين عمل را به صورت منفى و انزواى اجتماعى انجام مده، بلكه در يك مسير مثبت، يعنى جهاد در راه خدا، آن را جستجو كن.
سپس، پيامبر(صلى الله عليه وآله) بحث مشروحى درباره فضيلت نماز جماعت براى او بيان فرمود كه تأييدى است، بر نفى رهبانيت و انزوا.
در حديث ديگرى از امام موسى بن جعفر(عليه السلام) مى خوانيم: كه برادرش على بن جعفر(عليه السلام)از محضرش پرسيد: الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ هَلْ يَصْلَحُ لَهُ أَنْ يَسِيحَ فِي الأَرْضِ أَوْ يَتَرَهَّبُ فِي بَيْت لايَخْرُجُ مِنْهُ؟ قَالَ(عليه السلام): لا: «آيا براى مرد مسلمان سزاوار است دست به سياحت بزند، يا رهبانيت اختيار كند، و در خانه اى بنشيند و از آن خارج نگردد؟ امام(عليه السلام) در پاسخ فرمود: نه».
توضيح اين كه: سياحتى كه در اين روايت از آن نهى شده، چيزى همرديف رهبانيت، يعنى يك نوع «رهبانيت سيّار» بوده است، به اين معنى كه بعضى از افراد، بى آنكه خانه و زندگى براى خود تهيه كنند، يا كسب و كارى داشته باشند، به صورت جهانگردى بدون زاد و توشه، دائماً از نقطه اى به نقطه ديگر مى رفتند، و با گرفتن كمك از مردم و گدائى، زندگى مى كردند، و آن را يك نوع زهد و ترك دنيا مى پنداشتند، ولى اسلام، هم «رهبانيت ثابت» را نفى كرده است و هم «رهبانيت سيّار» را، آرى از نظر تعليمات اسلام، مهم آن است كه انسان در دل اجتماع وارسته و زاهد باشد، نه در انزوا و بيگانگى از اجتماع!(1)
1. تفسير نمونه، جلد 23، صفحه 397.
سؤال: آيا رهبانيت جزء آئين مسيح(عليه السلام) بود؟
جواب: در آيه 27 سوره «حديد» مى خوانيم: «در قلوب آنها علاقه به رهبانيتى افكنديم كه آن را ابداع كرده بودند و ما آن را بر آنها مقرر نداشته بوديم، هدفشان جلب خشنودى خدا بود ولى حق آن را رعايت نكردند، لذا ما به كسانى از آنها كه ايمان آوردند پاداش داديم، ولى بسيارى از آنها فاسق و گنهكارند» (وَ رَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلاَّ ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللّهِ فَمارَعَوْها حَقَّ رِعايَتِها فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ فاسِقُونَ).
به اين ترتيب، آنها نه تنها آئين توحيدى مسيح را رعايت نكردند و آن را با انواع شرك آلودند، بلكه، حق آن رهبانيتى را كه خودشان ابداع كرده بودند نيز رعايت ننمودند، و به نام زهد و رهبانيت، دامها بر سر راه خلق خدا گستردند، و ديرها را مركز انواع فساد نمودند، و ناهنجاريهائى را در آئين مسيح(عليه السلام) به وجود آوردند.
مطابق اين تفسير، «رهبانيت» جزء آئين مسيح نبود، بلكه پيروانش بعد از او آن را ابداع كردند، و در آغاز، چهره معتدل و ملايمى داشت، اما بعداً به انحراف گرائيد و سر از مفاسد بسيارى در آورد.
اما طبق تفسير ديگرى، نوعى رهبانيت و زهد در آئين مسيح بود، آنچه پيروان مسيح بعد از او بدعت گذاردند، نوع ديگرى از رهبانيت بود كه هرگز خداوند براى آنها مقرر نداشته بود.
ولى تفسير اول مشهورتر و از بعضى جهات مناسب تر است.
به هر حال، از آيه فوق در مجموع چنين استفاده مى شود كه: رهبانيت در آئين مسيح نبوده و پيروانش آن را بعد از او ابداع كردند، ولى در آغاز، نوعى زهدگرائى و از ابداعات نيك، محسوب مى شد، مانند بسيارى از مراسم و سنتهاى حسنه اى كه هم اكنون در ميان مردم رائج است، و كسى نيز روى آن به عنوان تشريع و دستور خاص شرع، تكيه نمى كند، اما اين سنت، بعداً به انحراف گرائيد و آلوده با امورى مخالف فرمان الهى و حتى گناهان زشتى شد.
تعبير قرآن به جمله: فَما رَعَوْها حَقَّ رِعايَتِها: «حق آن را رعايت نكردند» دليل بر اين است كه اگر حق آن ادا مى شد، سنت خوبى بود، و تعبير آيه 82 «مائده» كه از «رهبانها» و «عالمان» مسيحيان راستين، با نظر موافق و مثبت ياد مى كند نيز شاهد اين مدعا است (دقت كنيد).
و هرگاه كلمه «رهبانيت» را عطف بر رأفت و رحمت بدانيم نيز شاهد ديگرى براى اين مدعى پيدا مى شود، چرا كه همرديف رأفت و رحمتى مى شود كه خداوند آن را به عنوان يك صفت پسنديده در قلوب آنها افكنده است.
كوتاه سخن اين كه: اگر سنت حسنه اى در ميان مردم رائج شود كه اصول كلى آن (مانند دستور زهد) در آئين حق باشد، و مردم آن سنت را به طور خاص به دستور الهى نسبت ندهند، بلكه آن را مصداقى از مصاديق دستورات كلى بدانند، و حق آن را ادا نمايند، كار بدى نيست، بدبختى از آنجا شروع مى شود كه افراطها و تفريطها پيش آيد و آن را به سنت سيّئه اى تبديل كند.
مثلاً هم اكنون در ميان ما مراسمى براى عزادارى و سوگوارى و اعياد و وفاتهاى پيشوايان بزرگ دين، و همچنين بزرگداشت شهيدان و عزيزانى كه از دست مى روند در روز شهادت و يا هفتمين و چهلمين و سالگرد آنها معمول است كه مصداقى است از دستورات كلى اسلام در مورد تعظيم شعائر، و بزرگداشت پيشوايان دين و شهيدان و عموم مسلمين، و همچنين مصداقى است از اصل كلى «سوگوارى بر شهداى كربلا» و مانند آنها، بى آنكه جزئيات و تفاصيل اين مراسم يك دستور خاص شرع تلقى شود، بلكه صرفاً به عنوان يك مصداق از آن اصل كلى انجام مى شود.
هرگاه در اين مراسم از حدود شرع تجاوز نشود و آلوده با گناه و خرافه اى نگردد، مسلماً مصداق «ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللّه» و مصداق سنّت حسنه است، در غير اين صورت، بدعت شوم و سنّت سيّئه اى خواهد بود.
به نظر مى رسد: «رهبانيت» كه از ماده «رهبه» به معنى ترس از خدا گرفته شده، در آغاز مصداقى از زهد و بى اعتنائى نسبت به دنيا بود، ولى بعداً به تحريفهاى گسترده اى كشيده شد، و اگر مى بينيم اسلام به شدت با اين رهبانيت مبارزه مى كند، نيز به خاطر همين چهره نهائى آن است.(1)
1. تفسير نمونه، جلد 23، صفحه 394.
ابنا: مزید تفصیلات کے مطابق 29 سالہ سید قمر رضا نقوی ولد سید محمد حسین نقوی کو کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے اُس وقت نشانہ بنایا جب قمر رضا کو بچوں کو ٹیوشن پڑھانے گولیمار کے علاقے میں گئے تھے۔ عینی شاہد کے مطابق ناصبی مسجد باب السلام سے نکلنے والے دہشتگردوں نے قمر کے سر میں 3 گولیاں ماری۔ گولی لگنے کے بعد 20 منٹ تک بوڈی روڈ پر رکھے رہی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔شہید قمر رضا عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں قانونی کاروائی کے بعد امام بارگاہ رضویہ منتقل کیا جائے گا۔
منظم انداز میں ریاستی اداروں کے بعض متعصب جرنل کرنل کی سرپرستی میں پورے ملک میں مٹھی بھر دہشتگرد شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں لیکن حکومتی اور سکیورٹی اداروں کو ابھی تک ہوش نہیں آیا۔ عالمی ہیومن رائٹس بہر دفعہ اس بات کی طرف کرچلی ہیں کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے پیچھے ریاستی ادارے ملوث ہیں۔
ابنا: اطلاعات کے مطابق دارالحکومت تہران کے مخلتف علاقوں سے نکلنے والی عظیم الشان ریلی میں دسیوں لاکھ افراد شریک ہیں۔
انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے جلوسوں میں شرکت کرکے ایران کے عوام نے ایک بارپھر انقلابی اقدار واصول اورامنگوں پر کار بند ر ہنے کا عزم کیا اوراس بات کا اعادہ کیا کہ انقلابی اقدار کی پاسداری سے کبھی بھی غافل نہيں ہوں گے۔
جشن انقلاب کی ریلیوں میں شریک لوگوں کے ہاتھوں میں مختلف پلےکارڈ اوربینرزدیکھے جاسکتے ہیں جن میں اسلامی اقدارکے دفاع اورفلسطین وديگر حریت پسند اقوام کی حمایت میں نعرے درج ہیں۔
ایران کے عوام اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چونتیسويں سالگرہ کےموقع پر اسلامی اقدار کے دفاع میں اپنی استقامت کا بے مثال جلوہ پیش کر رہے ہیں۔
اس موقع پر تہران کے آزادی اسکوائرپردنیا کے مختلف ممالک کے نامہ نگار اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی موجود ہیں۔
ابنا: انقلاب اسلامی ایران کی چونتیسویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں ایک پرشکوہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جسمیں مختلف سیاسی، مذہبی اور سفارتی شخصیات شامل تھیں۔ جن میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، مشیر وزیراعظم برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر اور وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ شامل تھے۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے پیش کئے گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ ایران ہمارے آڑے وقت کا ساتھی ہے۔ ہم آیت اللہ سید علی خامنہ کی طرف سے سیلاب متاثرین کی امداد کو کبھی نہیں بھلا سکتے۔ رحمان ملک نے مزید کہا کہ ایران کی طرف سے امت مسلمہ کو آپس میں جوڑنے کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ، ایرانی صدر اور ایرانی قوم کو مبارکباد پیش کی۔
.: Weblog Themes By Pichak :.



