ایران
کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقے سراوان کی سرحد پر گزشتہ شب
نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ہوئے بارڈر فورس پر حملے کے نتیجے میں ۱۴
افراد شہید اور ۶ زخمی ہوئے ہیں۔

ایران پاکستان کے سرحدی علاقے سراوان میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے ایرانی سرحدی فورس کو اپنے دھشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھشتگرد گروپ ’’بیگانہ‘‘ سے وابستہ مسلح افراد نے سراوان سرحد پر موجود ایرانی سپاہیوں کو اس وقت اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی ڈیوٹیاں بدل رہے تھے۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے نائب سیکورٹی گورنر نے اس خبر کی تائید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ جھڑپ ایک دم سرحد کے اوپر ہوئی جس میں ایرانی سپاہیوں کے ۱۴ افراد کو شہید، ۶ کو زخمی اور ۴ کو اغوا کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلح دھشتگرد حملہ کر کے پاکستان کی طرف فرار کر گیے۔
شیعہ سنی اتحاد میں دن بدن مضبوطی/ فتنہ پرور افراد کا منہ توڑ جواب دیں گے
ابنا کی رپورٹ کے مطابق صوبہ چاربھار کے نمایندے جدگال یعقوب نے اس حادثہ کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس حملے میں شہید ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہیوں کی شہادت کے موقع پر جو گزشتہ شب سرحد پر دھشتگردوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں رہبر معظم انقلاب اور ان کے گھروالوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ شب سراوان بارڈر پر کئے گئے حملے کا مقصد ایران میں ایرانی برداری کے اندر موجود اتحاد اور یکجہتی کو خدشہ دار کرنا ہے۔
صوبہ چابہار کے نمائندے نے مزید کہا: یقینی طور پر اس بزدلانہ حملے کے پیچھے عالمی استکبار اور استعمار کا ہاتھ ہے لیکن خدا انہیں اندھا کرے انہوں نے نہیں دیکھا کہ ۸ سالہ دفاع مقدس میں ہمارے جوانوں نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اسلامی انقلاب کی جڑوں کو مضبوط بنانے میں کس قدر قربانیاں پیش کیں؟
یعقوب جدگال نے تاکید کی: ایران میں شیعہ سنی اتحاد دن بدن مضبوط ہو رہا ہے اور ہرگز ہم دشمنوں کو اختلاف اور تفرقہ کی اجازت نہیں دیں گے اور بہر قیمت اپنے وطن کی حفاظت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم ملک کے سکیورٹی عہدہداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ان افراد کے ساتھ سختی سے نمٹیں جو صوبہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاريخ : یکشنبه پنجم آبان ۱۳۹۲ | 1:8 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
