قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔
تحریر: محمد حسن جمالی
خدا نے ہدایت کے لئے انسان کو رسول ظاہری و باطنی سے نوازا۔ رسول باطنی سے مراد عقل ہے۔ نعمت عقل ہر انسان رکھتا ہے۔ عقل ایک ایسی عظیم دولت ہے کہ جس کی نظیر نہیں۔ کائنات کی تمام ترقی و پیشرفت کا راز عقل سے درست استفادہ کرنا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ نعمت عقل کو درک کرتے ہیں، اس کی منزلت اور قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ درنتیجہ عقل سے درست استفادہ کرکے دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ نعمت عقل کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر ومنزلت سے آشنائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی ناکام رہتے ہیں اور آخرت میں بھی نامراد۔ پاکستان کی سرزمین پر وقت کے یزیدیوں نے ملت تشیع کی سرمایہ شخصیات کی زبان بندی کا اعلان کرکے اپنی حماقت، سفاہت و جہالت اور استبداد کا کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس قبیح حرکت کے ذریعے پوری دنیا کو ایک بار پھر اپنی منافقت، دوغلی پالیسی، علم دشمنی، تبلیغ دین سے منافرت، حق کی مخالفت، عدم صداقت اور ملت تشیع کے ساتھ خصوصی طور پر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تعصب اور ظلم و ستم کا برتاو جاری و ساری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس مزموم و نامناسب حرکت سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں پر اسلام اور مسلم دشمن عناصر کا تسلط کتنا ہے۔ وہ کس طرح ان پر حکمرانی کرتے ہیں۔ اس ناروا سلوک سے اس حقیقت کو درک کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ ہمارے حکمران اپنی عقلی صلاحیتں کھو چکے ہیں۔ ان سے آزادی اور اختیار کی نعمتیں سلب ہوچکی ہیں۔ وہ مسند اقتدار پر صرف نمائشی مجسمے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ در واقع وہ مسلم دشمنوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل اور سعود آل یہود و سقوط کے ایجنٹ و آلہ کار ہیں، جن کے اشارے سے وہ اپنے ملک میں قوانین، اصول اور احکامات جاری کرتے ہیں۔ ملت تشیع کی فعال شخصیات بالخصوص فخر قوم، مفسر قرآن، محسن ملت، عظیم شخصیت حجت الاسلام والمسلمین علامہ محسن علی نجفی کی زبان بندی کا اعلان صرف اپنے بے دین آقاؤوں کی رضایت و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔ اورنگزیب فاروقی، منگل باغ، ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی جیسے امن اور انسانیت کے دشمنوں کی صف میں امن اور اتحاد بین المسلمین کے داعی، محسن ملت اور آقای شفا نجفی و علامہ امینی جیسی شخصیات کو لاکھڑا کرنے کی کوشش کرنا، اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہماری حکومت کا نظام دوسرے چلا رہے ہیں۔
ہمارے حکمران اغیار کے اشارے، کنائے اور حکم سے سر مو اختلاف نہیں کرسکتے۔ جس کی تازہ مثال بہت سارے شریف لوگوں من جملہ محسن ملت کے بینک اکاؤنٹ منجمند کرنے کا حالیہ حکومتی اعلان ہے، جس میں مولانا عبدالعزیز جیسے دیشتگردوں کی سرپرستی و تربیت کرنے والوں کی خباثتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے، ایسے خطرناک دہشتگردوں کو دہشتگردی کی تربیت کا جواز فراہم کرنے کے لئے، ہماری شخصیات کو بھی ان ملک و ملت کے ناسوروں کے زمرے میں لانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، جو صد در صد ظلم ہے۔ قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔
پوری تاریخ یزید کے ناپاک کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ آج کرہ ارض پر موجود انسان یزید کے نام سے ہی متنفر ہیں۔ اس کا نام سننا تک گوارا نہیں کرتے۔ یزید اور آل یزید نے بھی ماہ محرم الحرام میں ظلم کی انتہا کر دی تھی اور آج کے یزیدیوں نے بھی ٹھیک محرم کے قریب حق اور حقیقت بیان کرنے والوں کی زبان بندی کا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اگر آپ زبان پر پابندی لگاتے ہیں تو ان پر پابندی لگاو جو شیعہ ذاکرین کے لبادے میں ممبر حسین کی توہین کرتے ہیں، جو ممبروں پر چڑھ کر ناچتے ہیں، نفاق و کفر کا پرچار کرتے ہیں اور لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ زبان بندی کی پابندی ان پر لگاو، جو امن کے دشمن ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محسن ملت علامہ شیخ محسن نجفی صاحب پر کس جرم میں زبان بندی کی پابندی لگائی گئی ہے؟ جی ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اتحاد کے داعی ہیں، وہ بے لوث قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ رفاہی اور معاشرتی میدان میں بھی ملت پاکستان کے لئے متعدد بنیادی خدمات سرانجام دی ہیں۔
جن کے کچھ نمونے یہ ہیں:
1۔ ملک کے مختلف شہروں میں 22 سے زیادہ مدارس دینیہ کا قیام، پسماندہ علاقوں میں 68 سے زیادہ جگہ پر اسوہ سکول سسٹم کا قیام، کالجز اسوہ ماڈل کالج اسلام آباد، اسوہ کالج سکردو، پاک پولی ٹیکنیکل کالج چنیوٹ کا قیام، مدارس حفظ قرآن کی تاسیس، دارالقرآن اور دینیات سنٹرز کا قیام، امام بارگاہ و مساجد کی تعمیر، ملک کے مختلف حصوں میں 100 سے زائد مساجد بنائی جا چکی ہیں۔ یتیموں اور غریبوں کے لئے رہائشی منصوبوں پر کام کیا ہے، جن میں سکردو، مظفر آباد، اور مانسہرہ میں مکانات کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مکانات تعمیر ہوچکے ہیں، ٹیوب ویل اور کنوے کی تعمیر، یتیموں اور فقراء کی امداد، غریبوں کی کفالت، بزرگ شہریوں کی امداد، مستحق افراد کی شادیاں اور ہر سال اجتماعی شادی کے پروگرام بھی سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے ملت پاکستان کے سینکڑوں طلباء کی تعلیمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تربیت سے آراستہ کرکے پاکستانی معاشرے کو مفید انسان پیش کر دیئے ہیں اور مختلف اچھی علمی کتابیں تصنیف کرکے برصغیر کی قوم کو غربت علمی سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کی تصنیفات کے کچھ نمونے یہ ہیں:
الکوثر فی التفسیر القرآن بلاغ القرآن (ترجمہ و حاشیہ)، النھج السوی فی معنی المولیٰ والولی، دراسات الایدو الوجیۃ المقارنۃ، محنت کا اسلامی تصور، فلسفہ نماز، راہنماء اصول، تلخیص المنطق للعلامۃ المظفر، تلخیص المعانی للتفتازانی، اسلامی فلسفہ اور مارکسزم، تدوین و تحفظ قرآن، شرح و ترجمہ خطبہ زھراء سلام اللہ علیہا، آئین بندگی وغیرہ اور ان کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی مقالات جو مختلف ملکی اور غیر ملکی جرائد و مجلات میں چھپ چکے ہیں۔ وقت کے یزیدیوں کیلئے اب بھی فرصت ہے کہ جلد از جلد ہماری ان عظیم شخصیات پر لگائی گئی زبان بندی کی پابندی اٹھائیں، یہ سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ یاد رکھو کہ ظلم کو دوام حاصل نہیں، بالآخر ظلم مٹ کے رہیگا اور امن و اتحاد کے داعی، دین مقدس اسلام اور ملت پاکستان کی خدمات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر رکهنے والی عظیم علمی و فکری شخصیت، محسن ملت، علامہ محسن نجفی پر عائد کردہ زبان بندی کی پابندی اور ان کے بینک اکاونٹس کے انجماد کو فوری طور پر ختم کریں، وگرنہ ماہ محرم نزدیک ہے، جگہ جگہ حسینی عزادار اپنے مولا و آقا کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے حکومت وقت کی اس ناانصافی و ستم پر مبنی حرکت کے خلاف آواز بلند کرکے ظالموں کا جینا حرام کر دیں گے۔ سیدالشہداء حضرت امام حسین (ع) نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ ہمیں ذلت کی زندگی نہیں چاہئے، اس کے بجائے عزت کی موت کے استقبال کے لئے ہم تیار ہیں۔
خدا نے ہدایت کے لئے انسان کو رسول ظاہری و باطنی سے نوازا۔ رسول باطنی سے مراد عقل ہے۔ نعمت عقل ہر انسان رکھتا ہے۔ عقل ایک ایسی عظیم دولت ہے کہ جس کی نظیر نہیں۔ کائنات کی تمام ترقی و پیشرفت کا راز عقل سے درست استفادہ کرنا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ نعمت عقل کو درک کرتے ہیں، اس کی منزلت اور قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ درنتیجہ عقل سے درست استفادہ کرکے دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ نعمت عقل کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر ومنزلت سے آشنائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی ناکام رہتے ہیں اور آخرت میں بھی نامراد۔ پاکستان کی سرزمین پر وقت کے یزیدیوں نے ملت تشیع کی سرمایہ شخصیات کی زبان بندی کا اعلان کرکے اپنی حماقت، سفاہت و جہالت اور استبداد کا کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس قبیح حرکت کے ذریعے پوری دنیا کو ایک بار پھر اپنی منافقت، دوغلی پالیسی، علم دشمنی، تبلیغ دین سے منافرت، حق کی مخالفت، عدم صداقت اور ملت تشیع کے ساتھ خصوصی طور پر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تعصب اور ظلم و ستم کا برتاو جاری و ساری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس مزموم و نامناسب حرکت سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں پر اسلام اور مسلم دشمن عناصر کا تسلط کتنا ہے۔ وہ کس طرح ان پر حکمرانی کرتے ہیں۔ اس ناروا سلوک سے اس حقیقت کو درک کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ ہمارے حکمران اپنی عقلی صلاحیتں کھو چکے ہیں۔ ان سے آزادی اور اختیار کی نعمتیں سلب ہوچکی ہیں۔ وہ مسند اقتدار پر صرف نمائشی مجسمے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ در واقع وہ مسلم دشمنوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل اور سعود آل یہود و سقوط کے ایجنٹ و آلہ کار ہیں، جن کے اشارے سے وہ اپنے ملک میں قوانین، اصول اور احکامات جاری کرتے ہیں۔ ملت تشیع کی فعال شخصیات بالخصوص فخر قوم، مفسر قرآن، محسن ملت، عظیم شخصیت حجت الاسلام والمسلمین علامہ محسن علی نجفی کی زبان بندی کا اعلان صرف اپنے بے دین آقاؤوں کی رضایت و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔ اورنگزیب فاروقی، منگل باغ، ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی جیسے امن اور انسانیت کے دشمنوں کی صف میں امن اور اتحاد بین المسلمین کے داعی، محسن ملت اور آقای شفا نجفی و علامہ امینی جیسی شخصیات کو لاکھڑا کرنے کی کوشش کرنا، اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہماری حکومت کا نظام دوسرے چلا رہے ہیں۔
ہمارے حکمران اغیار کے اشارے، کنائے اور حکم سے سر مو اختلاف نہیں کرسکتے۔ جس کی تازہ مثال بہت سارے شریف لوگوں من جملہ محسن ملت کے بینک اکاؤنٹ منجمند کرنے کا حالیہ حکومتی اعلان ہے، جس میں مولانا عبدالعزیز جیسے دیشتگردوں کی سرپرستی و تربیت کرنے والوں کی خباثتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے، ایسے خطرناک دہشتگردوں کو دہشتگردی کی تربیت کا جواز فراہم کرنے کے لئے، ہماری شخصیات کو بھی ان ملک و ملت کے ناسوروں کے زمرے میں لانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، جو صد در صد ظلم ہے۔ قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔
پوری تاریخ یزید کے ناپاک کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ آج کرہ ارض پر موجود انسان یزید کے نام سے ہی متنفر ہیں۔ اس کا نام سننا تک گوارا نہیں کرتے۔ یزید اور آل یزید نے بھی ماہ محرم الحرام میں ظلم کی انتہا کر دی تھی اور آج کے یزیدیوں نے بھی ٹھیک محرم کے قریب حق اور حقیقت بیان کرنے والوں کی زبان بندی کا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اگر آپ زبان پر پابندی لگاتے ہیں تو ان پر پابندی لگاو جو شیعہ ذاکرین کے لبادے میں ممبر حسین کی توہین کرتے ہیں، جو ممبروں پر چڑھ کر ناچتے ہیں، نفاق و کفر کا پرچار کرتے ہیں اور لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ زبان بندی کی پابندی ان پر لگاو، جو امن کے دشمن ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محسن ملت علامہ شیخ محسن نجفی صاحب پر کس جرم میں زبان بندی کی پابندی لگائی گئی ہے؟ جی ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اتحاد کے داعی ہیں، وہ بے لوث قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ رفاہی اور معاشرتی میدان میں بھی ملت پاکستان کے لئے متعدد بنیادی خدمات سرانجام دی ہیں۔
جن کے کچھ نمونے یہ ہیں:
1۔ ملک کے مختلف شہروں میں 22 سے زیادہ مدارس دینیہ کا قیام، پسماندہ علاقوں میں 68 سے زیادہ جگہ پر اسوہ سکول سسٹم کا قیام، کالجز اسوہ ماڈل کالج اسلام آباد، اسوہ کالج سکردو، پاک پولی ٹیکنیکل کالج چنیوٹ کا قیام، مدارس حفظ قرآن کی تاسیس، دارالقرآن اور دینیات سنٹرز کا قیام، امام بارگاہ و مساجد کی تعمیر، ملک کے مختلف حصوں میں 100 سے زائد مساجد بنائی جا چکی ہیں۔ یتیموں اور غریبوں کے لئے رہائشی منصوبوں پر کام کیا ہے، جن میں سکردو، مظفر آباد، اور مانسہرہ میں مکانات کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مکانات تعمیر ہوچکے ہیں، ٹیوب ویل اور کنوے کی تعمیر، یتیموں اور فقراء کی امداد، غریبوں کی کفالت، بزرگ شہریوں کی امداد، مستحق افراد کی شادیاں اور ہر سال اجتماعی شادی کے پروگرام بھی سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے ملت پاکستان کے سینکڑوں طلباء کی تعلیمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تربیت سے آراستہ کرکے پاکستانی معاشرے کو مفید انسان پیش کر دیئے ہیں اور مختلف اچھی علمی کتابیں تصنیف کرکے برصغیر کی قوم کو غربت علمی سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کی تصنیفات کے کچھ نمونے یہ ہیں:
الکوثر فی التفسیر القرآن بلاغ القرآن (ترجمہ و حاشیہ)، النھج السوی فی معنی المولیٰ والولی، دراسات الایدو الوجیۃ المقارنۃ، محنت کا اسلامی تصور، فلسفہ نماز، راہنماء اصول، تلخیص المنطق للعلامۃ المظفر، تلخیص المعانی للتفتازانی، اسلامی فلسفہ اور مارکسزم، تدوین و تحفظ قرآن، شرح و ترجمہ خطبہ زھراء سلام اللہ علیہا، آئین بندگی وغیرہ اور ان کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی مقالات جو مختلف ملکی اور غیر ملکی جرائد و مجلات میں چھپ چکے ہیں۔ وقت کے یزیدیوں کیلئے اب بھی فرصت ہے کہ جلد از جلد ہماری ان عظیم شخصیات پر لگائی گئی زبان بندی کی پابندی اٹھائیں، یہ سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ یاد رکھو کہ ظلم کو دوام حاصل نہیں، بالآخر ظلم مٹ کے رہیگا اور امن و اتحاد کے داعی، دین مقدس اسلام اور ملت پاکستان کی خدمات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر رکهنے والی عظیم علمی و فکری شخصیت، محسن ملت، علامہ محسن نجفی پر عائد کردہ زبان بندی کی پابندی اور ان کے بینک اکاونٹس کے انجماد کو فوری طور پر ختم کریں، وگرنہ ماہ محرم نزدیک ہے، جگہ جگہ حسینی عزادار اپنے مولا و آقا کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے حکومت وقت کی اس ناانصافی و ستم پر مبنی حرکت کے خلاف آواز بلند کرکے ظالموں کا جینا حرام کر دیں گے۔ سیدالشہداء حضرت امام حسین (ع) نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ ہمیں ذلت کی زندگی نہیں چاہئے، اس کے بجائے عزت کی موت کے استقبال کے لئے ہم تیار ہیں۔
تاريخ : جمعه سی ام مهر ۱۳۹۵ | 12:17 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
