
حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سعودیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ داعش اور القاعدہ مستقبل میں خود ان کے لئے بھی خطرہ بن جائیں گے، لیکن اس کے باوجود وہ یمن میں دونوں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آج ہماری جنگ تکفیریوں سے ہے، لیکن ہمیں اپنے اصل دشمن یعنی اسرائیل سے ہرگز غافل نہیں رہنا چاہیئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ صیہونیوں کے خدمت گزار ہیں۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے کو درپیش ایک خطرہ، وہابیت کا ہے، جس کو پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے مسلم امہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اہلسنت مسلمان، تکفیری اور وہابی نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے درمیان وہابی انتہائی اقلیت میں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مغربی کنارے میں تیسری تحریک انتفاضہ قریب پہنچ گئی ہے، کہا کہ صیہونی دشمن کے خلاف ہماری جنگ ایک حقیقت ہے اور اسی وجہ سے ہم ہروقت اسلحہ سے لیس اور تیار ہیں۔
منٰی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ جو کچھ منٰی میں رونما ہوا وہ داعشی سعودیوں کا غیر انسانی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودیوں نے جان بوجھ کر حجاج کرام کی مدد نہیں کی اور انہیں گھنٹوں تک دشوار حالات کے رحم کرم پر چھوڑ دیا، پھر زخمیوں اور مرنے والوں سب کو ایک ساتھ بلڈوزروں کے ذریعے اٹھا کر کنٹینروں میں بھر دیا۔ حزب اللہ کے سیکٹری جنرل نے استفسار کیا کہ سعودیوں کو معلوم تھا کہ ایک خاص ملک کے حجاج ایک طے شدہ راستے پر چل رہے ہیں تو رمی جمرات کے ایک راستے کو آخر کس لئے بند کیا گیا؟ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر ایران صدائے احتجاج بلند نہ کرتا تو سعودی سانحہ منٰی پر آسانی کے ساتھ پردہ ڈال دیتے، مرنے والوں کو خاموشی سے دفن کر دیتے اور جسے چاہتے جیل میں ڈال دیتے۔
.: Weblog Themes By Pichak :.
