1عقد متعہ کی عدت کا دوران، نکاح دائمی
کسی طلاق یافتہ خاتون سے، عدت گذرنے کے بعد، عقد متعہ ہو جاتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد خاندان کے بزرگوں کے ذریعہ یہ بات طے پاتی ہے کہ اس کی شادی دوبارہ پہلے شوہر سے کی جائے وہ خاتون ، دوسرے (متعی) شوہر کے پاس جاتی ہے اور اس سے چارہ جوئی اور متعہ کی باقی مدّت کو بخش دینے کا مطالبہ کرتی ہے وہ اس کی باقی مدّت بخش دیتا ہے، اور دوبارہ اس خاتون سے عقد متعہ کرلیتا ہے، اور دخول سے پہلے ہی، عقد متعہ کو فسخ کردیتا ہے ، اور اس کے فوراً بعد خاتون کی شادی پہلے شوہر سے ہوجاتی ہے، اس استدلال کے ساتھ کہ یہ دوسرا فسخ، دخول سے پہلے ہے اور جس کے دخول نہ ہوا ہو اس کی عدّت نہیں ہوتی ہے، کیا یہ بات صحیح ہے ؟
جواب:۔پہلے عقد متعہ کی عدّت اس طرح کے کاموں سے، ساقط نہیں ہوگی اور جب تک عدّت ، ختم نہیں ہوگی اسکی دوبارہ شادی صحیح نہیں ہوگی، اور بغیر عدّت رکھے، اس خاتون کی کسی بھی شخص کے ساتھ شادی نہیں ہوسکتی .
2طلاق رجعی کی عدت میں عورت سے متعہ کرنا
اگر طلاق رجعی میں رجوع کرنے کے بجائے متعہ کرلے اورعدت کے ختم ہونے پر متعہ کا وقت بھی ختم ہوجائے تو کیا یہ مطلقہ رجعیہ ،دوسرے مرد سے شادی کرسکتی ہے؟ یا عدت کی ضرورت ہے؟ اگر متعہ کے دوران دخول نہ ہوا ہو توکیا پھر بھی عدت ضروری ہے؟
متعہ کی عدت کو بھی پورا کرے، اس کے بعد دوسرے مرد سے شادی کرے لیکن اگر متعہ کے دوران دخول نہ ہو تو متعہ کی عدت کی ضرورت نہیں ہے ۔



تاريخ : شنبه هجدهم آذر ۱۳۹۱ | 18:37 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |