اسلام ٹائمز: شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے مدرسے میں ہونے والے خودکش دھماکے پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے تین روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔



تاريخ : جمعه سی و یکم خرداد ۱۳۹۲ | 22:30 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


پشاور میں قائم جامعۃ الشہید عارف الحسینی کے احاطے میں واقع جامع مسجد میں نماز جمعہ سے کچھ دیر قبل خودکش دھماکہ میں شہید علامہ عارف حسینی کے پوتے سمیت ۱۵ افراد کے شہید ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ 

 علامہ عارف حسینی کے پوتے سمیت ۱۴ افراد شہید اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ پشاور کے علاقے فیصل کالونی میں قائم جامعۃ الشہید عارف الحسینی کے احاطے میں واقع جامع مسجد میں نماز جمعہ سے کچھ دیر قبل خودکش دھماکہ ہوا، جس میں آخری اطلاع کے مطابق ۱۵ افراد جاں بحق جبکہ ۲۷ کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والوں میں علامہ عارف حسین حسینی کے پوتے بھی شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں جی ٹی روڈ پر واقع جامعۃ الشہید عارف الحسینی کے احاطے میں واقع جامع مسجد میں نماز جمعہ سے کچھ دیر پہلے دھماکہ ہوا، عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل دو مسلح افراد نے گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ کو گولی مار کر اندر داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔
 خودکش حملہ آور فوری طوری پر مسجد میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد نے مدرسے کے احاطے میں بھی کئی افراد کو نشانہ بنایا، تاہم وہ بچ گئے۔
واضح رہے کہ موسم گرما کی چھٹیاں ہونے کے باعث مدرسے کے اساتذہ، مسئولین اور طلباء موقع پر موجود نہ تھے، جبکہ دھماکہ خطبوں اور نماز جمعہ سے پہلے ہونے کی وجہ سے امام جمعہ والجماعت علامہ عابد حسین شاکری بھی اس حملے میں محفوظ رہے۔
 
دیگر ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت مسجد میں پچاس کے قریب افراد موجود تھے۔ ایک اور عینی شاہد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور کالے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھا۔ خودکش حملہ آور کی عمر بیس سے بائیس سال تھی۔ عینی شاہد کا مزید کہنا تھا کہ وہ خودکش حملہ آور کے پیچھے ہی تھا، اسی دوران حملہ آور نے گیٹ پر کھڑے سکیورٹی اہلکار کو گولیاں مار کر جاں بحق کرنے کے بعد مسجد کے اندر داخل ہو کر خود کو زوردار دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے سے مدرسے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔



تاريخ : جمعه سی و یکم خرداد ۱۳۹۲ | 22:28 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

«صلي اللّه عليك و علي عترتك و اهل بيتك و آبائك و ابنائك و امهاتك الاخيار الذين اذهب الله عنهم الرجس و طهّرهم تطهيراً»
اللہ کا درود ہو آپ پر، اور آپ کی عترت اور آپ کے اہلبیت، آپ کے آباو و اجدا اور آپ کی اولاد اور آپ کی مادران گرامی پر جن سے اللہ نے پلیدگی کو دور کیا اور انہیں ایسا پاک کیا جیسا پاک کرنے کا حق تھا۔ 

بقلم: افتخار علی جعفری


 حضرت علی اکبر(ع) کی ولادت اور عمر کے بارے میں مختصر تحقیق
الف: آپ کی ولادت اور عمر با برکت
حضرت علی اکبر علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی وجہ سے آپ کی عمر شریف بھی معلوم نہیں ہے۔ اکثر مورخین نے صرف کربلا کے مصائب بیان کرتے ہوئے آپ کے حالات کا تذکرہ کیا ہے اور فقط آپ کی شہادت کے واقعہ کو بیان کیا ہے(۱)۔ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف کی وجہ سے آپ کی عمر کے بارے میں معتدد اقوال و نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ کربلا میں آپ کی عمر ۱۹ سال تھی بعض نے ۲۰ سال اور بعض نے ۳۳ سال بیان کی ہے حتی بعض مورخین نے بیان کیا ہے کہ آپ کربلا میں سن بلوغ کو نہیں پہنچے تھے جبکہ ایک گروہ نے آپ کی عمر ۳۸ سال بھی ذکر کی ہے۔
مورخین کے درمیان اس سلسلے میں پائے جانے والے کثرت اختلاف اور تعدد آراء کی بنا پر جناب علی اکبر علیہ السلام کی عمر کا دقیق طور پر اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آپ کی عمر کے سلسلے میں پائے جانے والے اختلاف کے ساتھ ساتھ آپ کے لقب’’اکبر‘‘ کے سلسلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے بعض علماء اور بزرگان نے لقب’’ اکبر‘‘ کو امام سجاد علیہ السلام کے لیے بیان کیا ہے جبکہ بعض نے اس سلسلے میں سکوت اختیار کیا ہے کہ آیا لقب ’’اکبر‘‘ امام سجاد علیہ السلام کا لقب تھا یا آپ کے بھائی علی کا جو کربلا میں شہید ہوئے؟ (۲)
جن علماء نے لقب’’ اکبر‘‘ کو امام سجاد علیہ السلام کی طرف نسبت دی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ امام سجاد(ع) امام حسین علیہ السلام کے سب سے بڑے بیٹے تھے لہذا اکبر ان کا لقب تھا۔(۳)
بہرحال جناب علی اکبر علیہ السلام کی تاریخ ولادت اور آپ کی عمر کے بارے میں جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہم اس سلسلے میں مورخین کے نظریات کو تحلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
مورخین کے نظریات اور آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ ایسے قوی دلائل اور شواہد پیش کئے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے ہم آپ کی تاریخ ولادت اور عمر کا تقریبا دقیق طریقے سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
پہلی دلیل: بعض محققین نے تمام مورخین کے نظریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جناب علی اکبر علیہ السلام کی تاریخ ولادت کو ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری قمری قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر آيت الله عبدالرزاق الموسوي المقرم نے كتاب انيس الشيعه تأليف محمد عبدالحسين كربلائي اور كتاب حدائق الورديه في مناقب ائمه الزيديه تأليف حسام الدين محلي سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: علی اکبر علیہ السلام ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری قمری کو خلیفہ سوم کے قتل سے دو سال پہلے پیدا ہوئے (۴) خلیفہ سوم سن ۳۵ ہجری قمری کو قتل کئے گئے۔(۵)
اس کے بعد لکھتے ہیں: مرحوم ابن ادریس حلّی کتاب سرائر کے حصے زیارات میں لکھتے ہیں:’’ علی اکبر علیہ السلام خلیفہ سوم کے دور خلافت میں پیدا ہوئے‘‘ اس اعتبار سے جو تاریخ ہم نے بیان کی ہے زیادہ واقعیت کے قیرب ہے۔
اس قول کی بنا پر کربلا میں آپ کی عمر ۲۷ سال رہی ہو گی(۶)
دوسری دلیل: بہت سارے مورخین جناب علی اکبر علیہ السلام کو حضرت امام سجاد علیہ السلام سے بڑا قرار دیتے ہیں اس اعتبار سے ثابت ہو جاتا ہے کہ لقب ’’اکبر‘‘ آپ ہی کا لقب تھا۔
تیسری دلیل: جب امام مظلوم علیہ السلام کے اہلبیت(ع) کو اسیر کر کےشام دربار یزید میں لے جایا گیا تو یزید ملعون نے امام سجاد علیہ السلام سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ امام نے فرمایا: علی بن حسین۔ یزید نے کہا: مگر خدا نے علی بن حسین کو قتل نہیں کیا؟ امام نے فرمایا: «كان لي اخ اكبر مني يسمي عليا فقتلتموه(۷)» وہ علی نام کے میرے بڑے بھائی تھے  جنہیں تو نے قتل کیا ہے۔
ممکن ہے ابن کثیر کا کتاب البدایہ و النہایہ میں کلام امام علیہ السلام کے اسی کلام سے ماخوذ ہو جووہ لکھتے ہیں: «و كان له اخ اكبر منه يقال له علياً ايضاً(۸)»  امام سجاد علیہ السلام کے ایک بڑے بھائی تھے جن کا نام بھی علی تھا۔
 چوتھی دلیل: امام سجاد علیہ السلام کی تاریخ ولادت ۳۶ یا ۳۸ ہجری قمری بیان ہوئی ہے(۹) اور آپ کے فرزند امام باقر علیہ السلام ۴ سال کی عمر میں کربلا میں موجود تھے (۱۰) نیز آپ کے مذکورہ بیان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناب علی اکبر علیہ السلام جو آپ سے بڑے تھے کی تاریخ ولادت ۳۳ ہجری قمری ہے اور شہادت کے وقت آپ کی عمر۲۷ یا ۲۸ سال تھی۔
ب: حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شادی
حضرت علی اکبر علیہ السلام کے سلسلے میں ایک اختلافی مسئلہ آپ کی شادی کا مسئلہ بھی ہے کہ کیا جناب علی اکبر نے شادی کی تھی یا نہیں؟ اگر شادی کی تھی تو یقینا آپ کی اولاد بھی رہی ہو گی۔ اس سلسلے میں بھی مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے جہاں تک ہم نے تحقیق کی ہے تو قرآئن و شواہد یہی بتا رہے ہیں کہ آپ  شادی شدہ تھے۔
ان قرآن و شواہد میں سے ایک قرینہ جو آپ کے شادی شدہ ہونے پر دلالت کرتا ہے یہ ہے کہ مرحوم قولویہ قمی نے کتاب’’ کامل الزایارات‘‘  میں جناب علی اکبر علیہ السلام کے لیے جو زیارت نامہ ذکر کیا ہے اس میں آپ کے فرزند کا تذکرہ کرتے ہوئے ان پر بھی سلام بھیجا ہے۔ یہ زیارت نامہ ابو حمزہ ثمالی کی روایت سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے۔ اس زیارت نامہ میں آیا ہے:
«صلي اللّه عليك و علي عترتك و اهل بيتك و آبائك و ابنائك و امهاتك الاخيار الذين اذهب الله عنهم الرجس و طهّرهم تطهيراً»
یعنی اللہ کا درود ہو آپ پر، اور آپ کی عترت اور آپ کے اہلبیت، آپ کے آباو و اجدا اور آپ کی اولاد اور آپ کی مادران گرامی پر جن سے اللہ نے پلیدگی کو دور کیا اور انہیں ایسا پاک کیا جیسا پاک کرنے کا حق تھا۔
جسیا کہ محقق ربانی آیت اللہ موسوی مقرّم نے کہا: اس زیارت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جناب علی اکبر علیہ السلام کے یہاں اولاد تھی چونکہ لفظ ابنا واضح طور پر اولاد پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ لفظ عترت سے بھی یہی معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ اس لیے کہ کسی شخص کی عترت اس کی اولاد ہی ہوتی ہے (۱۱) اسی زیارت نامہ میں دوسری جگہ بیان ہوا ہے: «ضع خدك علي القبر و قل صلي اللّه عليك يا ابا الحسن ثلاثاً(۱۲)»  ( یعنی زیارت پڑھنے والے سے کہا گیا ہے کہ) اپنے چہرے کو قبر پر رکھ کر تین مرتبہ کہو اے ابا الحسن آپ پر اللہ کا درود و سلام ہو۔
واضح ہے کہ ابا الحسن کنیت ہے یعنی حسن کے بابا، زیارت میں جناب علی اکبر علیہ السلام کو اس کنیت سے یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے یہاں حسن نام کا بیٹا تھا جس کی وجہ سے آپ کی یہ کنیت تھی۔
ممکن ہے یہاں پر کوئی یہ اشکال کرے کہ عربوں کے یہاں یہ مرسوم تھا کہ وہ بیٹوں کے پیدا ہوتے ہی ان کے لیے ایک کنیت کا انتخاب کر لیتے تھے چاہے انہوں نے شادی نہ بھی کر رکھی ہو۔ جواب میں یہ کہیں گے کہ یہ چیز عمومیت نہیں رکھتی۔ عام طور پر عرب اسی وقت کنیت سے معروف ہوتے تھے جب ان کے یہاں اولاد ہوتی تھی۔
دوسری بات یہ ہے کہ مرحوم کلینی نے فروع کافی میں ایک روایت نقل کی ہے جس میں حضرت علی اکبر (ع) کی کنیز کا تذکرہ کیا ہے اور اس کنیز سے اولاد ہونے کا ذکر بھی کیا ہے(۱۳) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیارت میں جو آپ کی اولاد پر سلام کیا گیا ہے وہ حقیقت ہے چونکہ آپ شادی شدہ تھے اور آپ کے یہاں اولاد تھی۔
 حوالہ جات
[1]- محمد بن جرير طبرى، تاريخ الملوك و الامم، ج 5، ص 446. شيخ مفيد ارشاد، ج 2، ص 135.
[2]- ميرزا ابوالفضل تهرانى، شفاء الصدور فى زيارت العاشورا (انتشارات سيدالشهداء (عليه السلام) ايران) ج 2، ص 446.
[3]- حضرت آية الله خوئى، مجمع الرجال الحديث، مدينة العلم قم، ج1، 358.
[4]- شيخ مفيد، ارشاد، حر المؤتمر العالمى، ج 2، ص 135.
[5]- حسام الدين المحلّى، حدائق الورديه فى مناقب ائمه الزيديه (طبع قديم، دمشق، غير هاتف، ص 116.
[6]- وہی حوالہ، ص 16.
[7]- ابوالفرج اصفهانى، مقاتل الطالبين، ص 120، مؤسسه اسماعيليان.
[8]- ابن كثير، البدايه، ج 9، ص 103.
[9]- شيخ عباس قمى، منتهى الامال، ص 557، مطبوعاتى حسينى، 1372 هـ ش.
[10]- وہی حوالہ، ج 2، ص 671.
[11]- على اكبر عبدالرزاق الموسوى، ص 15، المقرّم كتبة الحيدريه فى النجف.
[12]- ابن قولويه، كامل الزيارات، ص 253، كتبته الصدوق، چاب اوّل.
[13]- كلينى، فروع كافى، ج 5، ص 363.



تاريخ : پنجشنبه سی ام خرداد ۱۳۹۲ | 23:20 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


مصر کی الازھر یونیورسٹی کے معلم قرآن ’’محمد عصفور‘‘ کو شیعہ مذہب قبول کرنے کے جرم میں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ 

 الازھریونیورسٹی کے معلم قرآن کو شیعہ ہونے کے جرم میں معطل کر دیا گیا

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قاہرہ کے مقامی پراسیکیوٹر نے الازہر یونیورسٹی کے معلم قرآن ’’ محمد عصفور‘‘ کو شیعہ مذہب قبول کرنے کے جرم میں یونیورسٹی سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔
’’ اخبار الان‘‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مصر کے پراسیکیوٹر نے الازھر یونیورسٹی میں معلم قرآن کی حیثیت سے کام کرنے والے استاد محمد عصفور کو اس وقت یونیورسٹی سے نکلنے کا حکم سنایا جب ان کے شیعہ مذہب قبول کر لینے کی خبر عام ہو گئی۔ پراسیکیوٹر نے عصفور کی برطرفی کے حکم نامہ کو کونٹر سائن کے لیے شیخ الازھر ’’ احمدالطیب‘‘ کے پاس بھیج دیا ہے۔
مصر کے صوبہ الغربیہ میں واقع الازھر کی قانونی امور سے متعلق کمیٹی نے عصفور کی فائل مصر کے مرکزی قانونی ادارے کے سپرد کردی ہے تاکہ وہ اس استاد کے شیعہ مذہب قبول کرنے کے سلسلے میں تحقیقات انجام دے کر نہائی فیصلہ لے۔
اس رپورٹ کے مطابق صوبہ الغربیہ کے شہر ’’کفر الزیات‘‘ کی مقامی عدالت پہلے سے ہی محمد عصفور کو شیعہ ہونے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔
الازھریونیورسٹی کی قانونی امور سے متعلق کمیٹی نے بھی اس استاد کے حکم برطرفی کی تائید کرتے ہوئے ان کے دوبارہ اپنے منصب پر بحال ہونے کے سلسلے میں عدم امکان کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ تاہم الازھر یونیورسٹی کے متعدد اساتید اور فارغ التحصیلان اپنی تحقیقات کے بعد مذہب تشیع قبول کر چکے ہیں جبکہ یونیورسٹی کی طرف سے انہیں شدید سختیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
علامہ محقق احمد امین انطاکی ان  فارغ التحصیلان میں سے ایک ہیں جنہوں نے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد شیعہ مذہب قبول کر لیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ انقلاب مصر کے بعد مصر کے لوگ جوق در جوق مذہب حقہ کی طرف پلٹ رہے ہیں جبکہ سلفی وہابیوں کی طرف سے شیعوں کے خلاف تبلیغ اور پروپیگنڈوں کا سلسلہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ بڑے پیمانے پر چل رہا ہے۔



تاريخ : دوشنبه بیست و هفتم خرداد ۱۳۹۲ | 18:41 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


حجۃ الاسلام و المسلمین حسن روحانی ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات میں 18,613,329/ 50.70 فیصد ووٹ حاصل کر کے ایران کے آئندہ چار سال کے لیے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ 

 نو منتخب صدر حسن روحانی کا مختصر تعارف
 ڈاکٹر حسن روحانی 13 نومبر1948  کو صوبہ سمنان کے شہر سرخہ کے ایک مذہبی گھرانے  میں پیدا ہوئے۔
 انہوں نے صوبہ سمنان کے دینی مدارس بورڈ کے تحت 1960 میں مذہبی تعلیم کا آغاز کیا اور  محض ایک سال کے بعد اعلی مذہبی تعلیم کے لئے مقدس شہر قم آگئے۔
 1969 میں انہوں نے تہران یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور تین سال کے بعد ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔
انہوں نے قانون میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور گلاسگو کیلیڈونین یونیورسٹی سے ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کیا۔
ڈاکٹر حسن روحانی اس وقت سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل میں قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ کے نمائندے ہیں۔ وہ ایکسپیڈینسی کونسل اور ایکسپرٹ اسمبلی  کے رکن بھی ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی ایکسپیڈینسی کونسل کے سینٹر فار اسٹریٹیجک ریسرچ کے ڈائریکٹر کے فرا‏ئض بھی انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے ایام جوانی میں شاہی حکومت کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیکر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔
بانی انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خمینی رح جب 1979 میں اپنی جلاوطنی کے بعد ایران تشریف لائے تو حسن روحانی اس وقت یورپ میں سیاسی طور پر سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ یورپ میں مقیم ایران طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کے پروگرام کیا کرتے تھے۔
1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ڈاکٹر روحانی پارلیمنٹ کے رکن بنے، اور سن دوہزار تک مسلسل پانچ بار اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ وہ پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر یا دفاعی اور خارجہ امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ جیسے اہم عہدوں پر رہے۔
عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے دوران وہ 1980 سے 1988 تک اعلی دفاعی کونسل کے رکن، ایئر ڈیفنس کمانڈر اور آرمڈ فورسز کے ڈپٹی کمانڈر انچیف رہے ہیں۔
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی تشکیل کے بعد انہیں اس کونسل میں قائد انقلاب اسلامی نے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ وہ 16 سال تک یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی 1989 سے 1997 یعنی ہاشمی رفسجانی کے دور صدرات سے لیکر سید محمد خاتمی کے دور صدارتک سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری رہے۔
وہ 1991 سے ایکسپیڈینسی کونسل کے رکن چلے آرہے ہیں۔
 حسن روحانی روانی کے ساتھ انگریزی، عربی اور فارسی بولتے ہیں اور انہوں نے اب تک سو سے زائد کتابیں اور مقالے تحریر کئے جبکہ 700 سے زیادہ ریسرچ پیپرز میں حصہ لیا۔



تاريخ : دوشنبه بیست و هفتم خرداد ۱۳۹۲ | 18:39 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات اور شہری و دیہی کونسلوں کے چوتھے انتخابات میں عوام کی ولولہ انگيز اور بھر پور شرکت پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے نام اہم پیغام دیا ہے۔ 

 امام خامنہ ای کا انتخابات کے بعد قوم کے نام اہم پیغام
ابنا: رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات اور شہری و دیہی کونسلوں کے چوتھے انتخابات میں عوام کی ولولہ انگيز اور بھر پور شرکت پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے نام اہم پیغام دیا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ملت عزیز ایران!
24 خرداد مطابق 14 جون ، جمعہ کے دن انتخابات میں ولولہ انگیز سیاسی جہاد ایک عظیم اور شاندار امتحان تھا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کا پختہ،مصمم ، پرعزم اور امید افزا چہرہ دوستوں اور دشمنوں کے سامنے ایک بار پھر نمایاں ہوا، عوام کے اندر سیاسی بصیرت ،سیاسی رشد و نمو اور دینی عوامی حکومت پر اصرارایک درخشاں اور تابناک حقیقت ہے جسے آپ نے انتخابات میں بھر پور شرکت کرکے ایک بار پھر عملی طور پر پایہ ثبوت تک پہنچا دیا اور اس طرح آپ نے دشمنوں اور حاسدوں کےبیہودہ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا سحر باطل کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسلامی نظام کے ساتھ ایران اور ایرانی قوم کے مضبوط و مستحکم تعلق کو آپ کے عظیم جدوجھد و جہاد نے تمام بد نیت افراد کے سامنے نمایاں کردیا جنھوں نے سینکڑوں سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی سازشوں کے ذریعہ اس مقدس اعتماد اور پاک تعلق کو توڑنے اور اسےکمزور کرنے کی بھر پورکوششیں کیں۔
ایران کی غیور و بہادر قوم نے کل کے انتخابات میں سامراجی اور تسلط پسند طاقتوں کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں عظیم ظرفیت ،متانت، خردمندی اور عقلمندی کا بہترین اور شاندار ثبوت پیش کیا۔ اور اپنے ملک، اپنے قومی مفادات، اور اپنے امید افزا مستقبل کو بیمہ(محفوظ) کردیا۔
کل کے انتخابات میں ایرانی قوم حقیقی معنی میں کامیاب ہوئی ہے اور اللہ تعالی کی مدد و نصرت سے اس نےمضبوط اور استوار قدم اٹھایا اور اپنے ناقابل تسخير گوہر، اور مصمم و بانشاط چہرے اور ایمان و امید سے سرشار اور لبریز دل کو نمائش کے طور پرپیش کیا۔
میں خدا وند علیم و حکیم کی رحمت اور اس کے لطف و کرم  کے سامنے عجز و انکساری اور خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی پیشانی اس کی بارگاہ میں شکر و سپاس کے لئے خم کرتا ہوں اور اپنے آپ کو اور آپ کو اس عظیم نعمت کی قدر و قیمت جاننے کے لئے اللہ تعالی کا شکر و سپاس ادا کرنے کی سفارش کرتا ہوں اور حضرت ولی عصر امام زمانہ (عج) کی خدمت میں مخلصانہ سلام پیش کرتا ہوں۔ عزیز قوم اور منتخب صدر جناب حجۃ الاسلام آقائ حاج شیخ حسن روحانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی اور قوم کے ہر فرد کی خدمت میں چند نکات پیش کرتا ہوں
1 : اب جبکہ سیاسی رزم و جہاد بروز جمعہ 24 خرداد مطابق 14 جون کو ایرانی قوم اور اسلامی جمہوری نظام کی فتح و کامیابی کے ساتھ  سرانجام کو پہنچ گیا ہے لہذا اب رقابت کے ولولہ انگیز ایام اور ہفتوں کو باہمی تعاون اور دوستی میں تبدیل کرنا چاہیے اور رقیب امیدواروں کے حامیوں کو حلم و بردباری، متانت و دانائی کے ساتھ اپنا شائستہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ہر ایسے احساس، رفتار ، گفتار ، خوشی اور مسرت سے پرہیز کرنا چاہیے جو شان و عظمت اور انسانی شرافت و کرامت کے خلاف ہو اور عوام کے احساسات کے ساتھ بد نیت افراد کو کھیلنےکا موقع نہیں دینا چاہیے، انھیں پلید اہداف تک پہنچنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور دشمنوں کی سازشوں کو غیر مؤثر بنانے اور ملک کی سلامتی کے لئے قومی اتحاد و یکجہتی  پر خاص توجہ مبذول کرنی چاہیے کیونکہ قومی اتحاد، اسلامی نظام کابہترین پشتپناہ ہے۔
2 : منتخب صدر پوری قوم کے صدر ہیں، اور سب کو چاہیے کہ وہ بڑے اہداف تک پہنچنے کے لئےصدر اور ان کے ساتھیوں سے بھر پور تعاون کریں اور ان کی متعہد حکومت جن منصوبوں اور پروگراموں پر کام کرنا چاہتی ہے سبھی اس میں ان کے ساتھ مخلصانہ مدد اور تعاون کریں۔
3 : اب ہفتوں کی باتیں سننے کے بعد کام اور عمل کی باری ہے منتخب صدر کے پاس سرکاری طور پر ذمہ داری سنبھالنے تک اچھی خاصی فرصت باقی ہے اور اس  سے انھیں بہترین استفادہ کرنا چاہیے اور صدارتی عہدے کے آغاز پر جن اہم اور عظيم کاموں  کو انجام دینے کی ضرورت ہے ان کو کسی وقفہ کے بغیر شروع کردینا چاہیے۔
4 : دوسرے صدارتی امیدواروں کی شرکت اور ان کی تلاش و کوشش کے بغیر انتخاباتی جہاد کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں تھا اور میں ان تمام افراد اور شخصیات کا مخلصانہ طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے اس میدان میں قدم رکھا اور لوگوں کے اندر شوق و ولولہ پیدا کرنے کے سلسلے میں تلاش و کوشش کی ، میں انھیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ انقلاب اسلامی کے مختلف میدانوں میں اپنا بھر پورکردار اداکریں۔
 
5 : میں پوری قوم، بالخصوص مراجع عظام، علماء اعلام، سیاسی، ثقافتی اور یونیورسٹی کی ممتاز شخصیات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ایک بار پھر تاریخی اور یادگار تاریخ رقم کرنے میں اپنا گرانقدر اور اہم کردار اداکیا۔ میں صدارتی انتخابات اور شہری اور دیہی کونسلوں کے انتخابات منعقد کرانے والے اہلکاروں بالخصوص وزارت داخلہ و گارڈین کونسل کے اہلکاروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے صبر و تحمل کے ساتھ اس سلسلے میں زحمات برداشت کیں اور اس سنگين بوجھ کو مکمل امانتداری کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچایا اور سکیورٹی اہلکاروں اور ان سے تعاون کرنےوالےتمام اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ملک بھر کے دوردراز علاقوں میں  اس عظیم کام کو انجام دینے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کواحسن طریقے سے انجام دیا ،میں اللہ تعالی کی بارگاہ سےان کے لئے اجر و ثواب طلب کرتا ہوں۔
 
6 : قومی ریڈیو و ٹی وی کے اہلکاروں ، ہنرمندوں اور ماہرین کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جنھوں نے اپنی خلاقانہ تدبیر کے ذریعہ صدارتی امیدواروں کے اہداف، افکار اورنظریات کو صاف و صریح طور پر بیان کرنے اور دنیا کے سامنے اسلامی جمہوری نظام  کی طاقت و قدرت کو آشکار اور نمایاں کرنے کے سلسلےمیں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ تعالی کی بارگاہ سے ان کے لئے اجر و ثواب اور توفیق طلب کرتا ہوں۔
 
آخرمیں اللہ تعالی کی اس عظیم نعمت پر خضوع و خشوع کے ساتھ اس کا شکر و سپاس ادا کرتا ہوں۔ حضرت امام (رہ) ، شہداء اور جانبازوں کو خراج تحسین  پیش کرتا ہوں اور ملک و قوم کے بہتر اوردرخشاں مستقبل کے لئے  اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں۔
 
السّلام علیکم و رحمتہ الله
سیّدعلی خامنه ای
25 خرداد ماه 1392 / مطابق 15 جون 2013



تاريخ : دوشنبه بیست و هفتم خرداد ۱۳۹۲ | 18:38 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
اسلام ٹائمز: کروڑوں ووٹرز اپنے حق رائے دہی سے آئندہ چار برسوں کیلئے نئے صدر کا انتخاب عمل میں لائیں گے۔ ایران کے صدارتی انتخابات میں کل آٹھ امیدوار میدان میں تھے جن میں سے دو امیدوار دستبردار ہوگئے اور یوں اب چھ امیدواروں کے مابین کانٹے کا مقابلہ ہے۔


























تاريخ : شنبه بیست و پنجم خرداد ۱۳۹۲ | 22:23 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اسلام ٹائمز: اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کیلئے ایرانی عوام کا جوش و جذبہ دیدنی ہے، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی بڑھ چڑھ کر انتخابات میں شرکت کر رہی ہیں۔























تاريخ : شنبه بیست و پنجم خرداد ۱۳۹۲ | 22:21 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


اسلام ٹائمز: ایران کے وزیر داخلہ مصطفٰی محمد نجار کے مطابق 3 کروڑ 67 لاکھ 13 ہزار 329 افراد نے اپنے ووٹ ڈالنے کے حق کو استعمال کیا یعنی ووٹ ڈالنے کی شرح 72.7فیصد رہی، جو کی کسی بھی جمہوری ملک میں ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی 50.70 فیصد ووٹ لیکر ایران کے نئے صدر منتخب
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند امیدوار ڈاکٹر حسن روحانی کو ووٹوں کی گنتی ختم ہونے پر کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے 1،86،13،329 حاصل کئے جو کل ووٹوں کا 50.70 فیصد ہے۔ انکے مقابلے میں موجود امیدواروں میں تہران کے میئر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف دوسرے نمبر پر رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 50،73،652 ووٹ حاصل کئے جو کل ووٹوں کا 15.76 فیصد ہے۔ ان کے بعد  ڈاکٹر محسن رضائی، ڈاکٹر سعید جلیلی، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی اور  سید محمد غرضی ہیں جنہوں نے بالاترتیب 35،93،507 (11.16%)، 36،65،234 (11.38%)، 19،69،351 (6.11%)، 3،91،840 (1.21%) ووٹ حاصل کئے۔ ایران کے وزیر داخلہ مصطفٰی محمد نجار کے مطابق 3 کروڑ 67 لاکھ 13 ہزار 329 افراد نے اپنے ووٹ ڈالنے کے حق کو استعمال کیا یعنی ووٹ ڈالنے کی شرح 72.7فیصد رہی، جو کی کسی بھی جمہوری ملک میں ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔



تاريخ : شنبه بیست و پنجم خرداد ۱۳۹۲ | 22:19 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند امیدوار حسن روحانی کا آج ووٹوں کی گنتی ختم ہونے پر کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔ 

 حجۃ الاسلام و المسلمین حسن روحانی، ایران کے آئندہ صدر منتخب
ابنا: ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند امیدوار حسن روحانی کا آج ووٹوں کی گنتی ختم ہونے پر کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے 18,613,329 حاصل کئے جو کل ووٹوں کا 50.70 فیصد ہے۔ انکے مقابلے میں موجود امیدواروں میں ایران کے میئر محمد باقر قالیباف دوسرے نمبر پر رہے جنہوں نے مجموعی طور پر  5,073,652 ووٹ حاصل کئے جو کل ووٹوں کا 15.76 فیصد ہے۔ ان کے بعد محسن رضائی، سعید جلیلی، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی اور محمد غرضی ہیں جنہوں نے بالاترتیب  3,593,507 (11.16%) ، 3,665,234 (11.38%) ، 1,969,351 (6.11%) ، 391,840 (1.21%)  ووٹ حاصل کئے۔

مصطفی محمد نجار کے مطابق ۳ کروڑ ۶۷ لاکھ ۱۳ ہزار ۳۲۹ افراد نے اپنے ووٹ ڈالنے کے حق کو استعمال کیا یعنی ووٹ ڈالنے کی شرح ۷۲۔۷ فیصد رہی جو کی کسی بھی جمہوری ملک میں ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔



تاريخ : شنبه بیست و پنجم خرداد ۱۳۹۲ | 22:17 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


تقریب کی صدارت کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقائے ڈاکٹر تقی صادقی نے کی

اسلام ٹائمز۔ صدر محفل کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقای ڈاکٹر تقی صادقی نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کو سمجھنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ امام خمینی (رہ) کے عمومی بیانات تقریروں، اخلاقی نصیحتوں اور ظاہری شخصیت کو سمجھنا آسان ہے لیکن ان کی عمیق سیاسی، فقہی، فلسفی، عرفانی، ادبی اور نظریاتی باریکیوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ امام خمینی (رہ) کی شناخت کے آسان پہلو کو ہم لوگوں نے اپنایا ہے جبکہ غیر مسلم طاقتیں امام خمینی (رہ) کے گہرے عمیق اور پیچیدہ افکار و اقوال پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی ترکیب کر رہے ہیں۔
جامعۃالنجف اسکردو میں امام خمینی (رہ) ریسرچ سنٹر کا افتتاح
اسلام ٹائمز۔ جامعۃالنجف اسکردو میں امام خمینی (رہ) کی چوبیسویں برسی کے موقع پر امام خمینی (رہ) ریسرچ سنٹر کے افتتاح کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقائے ڈاکٹر تقی صادقی نے کی جبکہ حجۃالاسلام علامہ شیخ محسن علی نجفی مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے بعد کلچرل قونصلیٹ آقائے تقی صادقی نے تحقیقی سنٹر کا افتتاح کیا۔ اس عظیم تقریب میں بلتستان بھر کے علماء، دانشوروں، سیاستدانوں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، ماہرین تعلیم، علمی و تحقیقی شخصیات، سماجی شخصیات اور تنظیمی افراد اور جوانوں نے کثیر مقدار میں شرکت کی۔

خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے جامعۃالنجف کے پرنسپل حجۃالاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے کہا یہ دور تحقیق اور ریسرچ کا دور ہے۔ جو اقوام میدان میں پیچھے ہوں وہ ترقی نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام تحقیق کے میدان میں پیچھے ہونے کے باعث ترقی یافتہ اقوام کے دست نگر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم و تحقیق کے فقدان کے باعث جہل، تعصب، نفرت اور دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے جامعۃالنجف کی تحقیقی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امام خمینی (رہ) ریسرچ سنٹر مستقبل میں قومی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔ یہ سنٹر علاقے کے محققین اور ریسرچروں کے لیے تحقیقی وسائل کی فراہمی کی کوشش کرے گا، جدید ترین تحقیقی لائبریری قائم کرے گا، محققین کی رہنمائی کرے گا اور تحقیق کے ذریعے جہل، نفرت، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد کرے گا۔

صدر محفل کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقای ڈاکٹر تقی صادقی نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کو سمجھنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ امام خمینی (رہ) کے عمومی بیانات تقریروں، اخلاقی نصیحتوں اور ظاہری شخصیت کو سمجھنا آسان ہے لیکن ان کی عمیق سیاسی، فقہی، فلسفی، عرفانی، ادبی اور نظریاتی باریکیوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ امام خمینی (رہ) کی شناخت کے آسان پہلو کو ہم لوگوں نے اپنایا ہے جبکہ غیر مسلم طاقتیں امام خمینی (رہ) کے گہرے عمیق اور پیچیدہ افکار و اقوال پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی ترکیب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کا کارنامہ یہ تھا کہ وہ دنیا میں ایک عظیم اور جامع اسلامی انقلاب لے آئے۔

مہمان خصوصی حجۃالاسلام علامہ محسن علی نجفی نے فرمایا کہ عام لوگ اپنے معاشرے اور ماحول سے متاثر ہوکر اپنا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں جبکہ نابغہ روزگار لوگ ماحول اور معاشرے سے متاثر ہونے کی بجائے ماحول اور معاشرے کو بدل دیتے ہیں۔ تقریب کے آخر میں حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد حسن جعفری امام جمعہ اسکردو نے کہا کہ امام خمینی (رہ) نے عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے علمبردار رہے۔ انہوں نے امام خمینی (رہ) کے درجات کی بلندی، ان کے افکار کی ترویج، عالم اسلام کی کامیابی اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض شیخ احمد علی نوری نے انجام دیئے۔ قاری عابدین نے تلاوت کی اور ننھے نعت خوان اجمل نذیر حسین آبادی نے نعت رسول (ص) مقبول سے محفل کو گرمایا۔



تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 2:23 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اسلام ٹائمز: تقریب کی صدارت کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقائے ڈاکٹر تقی صادقی نے کی جبکہ حجۃالاسلام علامہ شیخ محسن علی نجفی مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے بعد کلچرل قونصلیٹ آقائی تقی صادقی نے تحقیقی سینٹر کا افتتاح کیا۔



تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 2:22 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ ملت ایران اپنی بھر پور طاقت کے ساتھ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرکے اسلامی نظام سے اپنے گہرے اور مستحکم رشتے سے اھل عالم کو مطلع کرے گي اور دشمن کو ایک بار پھر ناکام اور مایوس کردے گي۔ 

 ولادت امام حسین (ع) کے موقع پر رہبر انقلاب کا خطاب ابنا: ۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج تین شعبان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہزاروں افراد سے خطاب میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے قانون کی پابندی کو ملت ایران کی قابل تحسین خصوصیت قراردیا۔ آپ نے انتخابات میں شرکت کرنے کے لئے عوام کے جوش وجذبے کومبارک قراردیتے ہوئےاسے بھی سراہا۔
رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روز ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتےہوئے فرمایا کہ انتخابات میں شرکت کے لئے ملت کا جوش و جذبہ سیاسی کارنامے کی نوید دے رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آج ہی سے سیاسی کارنامے کا آغاز ہوچکا ہے اور عوام کی ہمت، توکل اور امید سے جمعے کے دن یہ اپنے عروج کو پہنچ جائے گا اور حقیقی معنی میں معرض وجود میں آجائے گا۔ رہبرانقلاب اسلامی نے چودہ جون کے صدارتی انتخابات کو خاص رنگ و بو کا حامل قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام و انقلاب و ایران کے دشمنوں نے اپنی تمام تر مالی، میڈیا اور سیاسی توانائیوں کو بروئے کار لاکر عوام کو اسلامی حکومت سے جدا کرنے اور انتخابات اور انتخابات کرانے والے اداروں سے بدگمان کرنے کی کوششیں جار رکھی ہیں لیکن ملت ایران جمعے کے دن بھر پور طرح سے انتخابات میں شرکت کرکے اور اپنی عظیم طاقت کا مظاہرہ کرکے دشمن کو ایک بار پھر شکست و یاس سے دوچار کردے گي۔ آپ نے فرمایا کہ انتخابی عمل آج تک اچھی طرح سے جاری رہا ہے اور عوام نے گيارھویں صدارتی انتخابات کے حوالے سے قانون کی پابندی کا نظریہ پیش کیا ہے اور سب نے جہاں کہيں بھی ہوں قانون کی پابندی کی ضرورت پر تاکید کی ہے اور یہ نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔ رہبرانقلاب  اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے قومی ٹی وی پر آٹھ صدارتی امیدواروں کی گفتگو کو ان کے نظریات سے عوام کی آگہی کا باعث قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایران میں آزادی بیان کا ثبوت ہے۔ آپ نے قومی میڈیا کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر تہمت و الزام لگانے والے برسوں یہ نعرے لگارہے ہیں کہ ایران میں آزادی بیان نہیں ہے اور لوگوں کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا لیکن آج وہ اپنا منہ چھپائے پھر رہےہیں۔



تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

امام حسین علیہ السلام کی خصوصیات/کیا امام حسین علیہ السلام کی زیارت خانہ خدا کی زیارت کے برابر ہے؟/ امام حسین علیہ السلام اور دینی حکومت/ امام حسین علیہ السلام اور آزادی/امام حسین (ع) کی زیارت کا ثواب/امام حسین علیہ السلام کی عفو و گذشت/ایک سائل کے ساتھ امام کی رفتار/امام حسین (ع)کا تواضع اور انکساری/امام حسین علیہ السلام کا احسان. 

بقلم :سید افتخار علی جعفری


 امام حسین علیہ السلام صفات الہیہ کا مظہر

 
مقدمہ

اس سے پہلے کہ اصلی موضوع کے متعلق گفتگو کریں اور شخصیت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کچھ لکھیں اپنے فہم و ادراک کے مطابق سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی معرفت کے سلسلے میں مقدمہ کے طور پر کچھ باتیں پیش کرتے ہیں:
۱: یہ بات متفق علیہ ہے کہ تمام ائمہ معصومین علیہم السلام، مولائے کائنات سے لیکر امام مھدی علیہ السلام تک ایک ہی نور سے ہیں کہ جو حقیقت محمدیہ ہے۔اس بنا پر اصل خلقت کے اعتبار سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ یہ سب انوار الٰہیہ ہیں اور نور محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے ہیں۔ اور کمالات و فضائل میں سب برابر ہیں۔ یعنی جو فضیلت کسی ایک امام کے لئے ثابت ہو دوسرے ائمہ کے لیے بھی خودبخود ثابت ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو امامت میں نقص لازم آئے گا کہ جو عقلا باطل اور محال ہے۔
۲: بعض ائمہ علیہم السلام کی زندگی میں کچھ خاص مواقع اور فرصتیں پیش آتی رہی ہیں کہ جو دوسرے اماموں کی زندگی میں پیش نہیں آئی تھیں۔ لہٰذا  ائمہ میں سے بعض کے کچھ فضائل و کمالات ظاہر ہوئے اور بعض کے کچھ دوسرے فضائل و کمالات  ۔ جیسے بنی امیہ کے سقوط اور بنی عباس کے برسر اقتدار آنے کے دوران امام صادق علیہ السلام کو فرصت ملی کہ آپ نےاس سے مکمل فائدہ اٹھایا اور علمی کارنامہ انجام دینا شروع کئے کہ جس کے نتیجہ میں چار ہزار سے زیادہ شاگردوں کو تربیت کیا۔دنیا میں اسلام کی واقعی پہچان کروائی  اور مذہب تشیع کو عروج عطا کیا۔
اب اگر یہ کہا جاتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام موسس تشیع اور مجدد اسلام  ہیں تو اس کا مطلب ہر گز  یہ نہیں ہے کہ باقی ائمہ کے اندر معاذ اللہ اس کام کو انجام دینے کی صلاحیت نہیں تھی۔ یا امام حسین علیہ السلام نے قیام کیا اور حیرت انگیز کارنامہ انجام دے کر اسلام کو حیات جاودانہ عطا کی تو اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ دوسرے امام یہ کام نہیں کر سکتے تھے یا امام حسن علیہ السلام تکوینی طور پر قیام کرنے سے عاجز تھے۔ تاریخ کا دقیق مطالعہ کرنے سے  یہ تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں کہ امام حسین علیہ السلام  کا قیام پہلے مرحلے پر حسنی ہے دوسرے مرحلے پر حسینی ہے۔

امام حسین علیہ السلام کی خصوصیات
۱: پروردگار عالم نے امام حسین علیہ السلام کےلیے ایک خصوصی حساب و کتاب رکھا ہے جو کسی نبی  یا معصوم کے لیے نہیں رکھا۔
کیوں اور کیسے امام حسین علیہ السلام نے اتنا بڑاانعام جیتا ہے؟ اس کا جواب آپ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نہ صرف شیعوں کے دلوں میں مقام و منزلت رکھتے ہیں بلکہ تما م مذاہب اسلامی اور غیر اسلامی آپ کو ایک آزاد مردکے عنوان سے پہچانتے ہیں۔اور آپ کے لیے کچھ خاص خصوصیات کے قائل ہیں۔ ہم یہاں پر بعض غیر اسلامی دانشوروں اور مورخین کے اقوال امام حسین علیہ السلام سلسلے میں نقل کرتے ہیں:
ع۔ ل۔ پویڈ لکھتے ہیں:
"امام حسین علیہ السلام نے یہ درس دیا ہے کہ دنیا میں بعض دائمی اصول جیسے عدالت، رحم، محبت وغیرہ پائے جاتے ہیں کہ جو قابل تغییر نہیں ہیں۔ اور اسی طریقے سے جب بھی کوئی برائی رواج پھیل جائے اور انسان اس کے مقابلے میں قیام کرے تو وہ دنیامیں ایک ثابت اصول کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ گذشتہ صدیوں میں کچھ افراد ہمیشہ جرأت ،غیرت اور عظمت انسانی کو دوست رکھتے رہے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ آزادی اور عدالت، ظلم و فساد کے سامنے نہیں جھکی ہے ۔امام حسین بھی ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے عدالت اور آزادی کو زندہ رکھا۔ میں خوشی کا احساس کر رہا ہوں کہ میں اس دن ان لوگوں کے ساتھ جن کی جانثاری اور فداکاری بے مثال تھی شریک ہوا ہوں اگرچہ ۱۳ سو سال اس تاریخ کو گزر چکے ہیں۔
امریکہ کےمشہور ومعروف  مورخ اپرونیک، واشنگٹن سے لکھتے ہیں:
"امام حسین علیہ السلام کے لیے ممکن تھا کہ یزید کے آگے جھک کر اپنی زندگی کو بچا لیتے۔ لیکن امامت کی ذمہ داری اجازت نہیں دی رہی تھی کہ آپ یزید کو  خلیفۃ المسلمین کے عنوان سے قبول کریں انہوں نے اسلام کو بنی امیہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ہر طرح کی مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا۔ دھوپ کی شدت طمازت میں  جلتی ہوئی ریتی پر حسین علیہ السلام نے حیات ابدی کا سودا کر لیا ، اے مرد مجاہد، اے شجاعت کے علمبردار، اور اے شہسور، اے میرے حسین علیہ السلام"۔
۲:امام حسین علیہ السلام کی ولادت سے پہلے اور ولادت کے بعد شہادت تک تمام موجودات عالم نے آپ پر گریہ کیا ہے۔ اور شہادت کے بعد قیامت تک گریہ کرتے رہے گے ایسا حادثہ کسی کے لیے نہ پیش آیا ہے اور نہ پیش آ ئےگا۔ ہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لیے بھی آسمان نے گریہ کیا تھا۔ تفسیر مجمع البیان میں  اس آیت " فما بکت علیھم السماء وا لارض " کے ضمن میں مرحوم طبرسی نے فرمایا: دو آدمیوں جناب یحیی علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے لیے آسمانوں اور فرشتوں نے چالیس دن تک گریہ کیا ۔ اور اسی تفسیر  میں آیا ہے: سورج طلوع اور غروب کے وقت چالیس دن تک سرخ حالت میں رہا ہے ۔ ابن شہر آشوب کے مناقب میں یوں آیا ہے:
بکت السماء علی الحسین علیہ السلام اربعین یوماً۔( تفسیر صافی ، سورہ دخان)۔
۳: امام حسین علیہ السلام تمام کمالات اور فضائل میں تمام انسانوں سے برتر تھے۔ کیوں آپ کی کنیت ابا عبدا للہ ہے ۔ کیا یہ ایک معمولی سی کنیت ہے؟ بظاہر اس کنیت کے اندر ایک ایسی خصوصیت ہے جو آپ کو تمام کمالات کا محور اور مرکز قرار دیتی ہے۔
ابو عبد اللہ یعنی اللہ کے بندے کا باپ۔ باپ کا ایک خاندان میں بنیادی رول ہوتا ہے۔وہ اس خاندان کے لیے نمونہ ہوتا ہے۔ باپ ایک مربی ہوتا ہے۔ پس امام حسین علیہ السلام بھی تمام اللہ کے بندوں کے باپ ہیں یعنی تمام عبادتگذار انسانی کمالات  حاصل کرنے کے لیے آپ کے در پہ آتے ہیں ۔ وہ ہر کمال کا نمونہ ہیں اور ہر کمال آپ میں خلاصہ ہوتا ہے۔
۴: امام حسین علیہ السلام کی زیارت حج اور عمرہ کے مترادف ہے۔ بہت ساری روایات میں آیا ہے کہ اگر کسی دن ایسا ہو کہ خانہ خدا حجاج سے خالی ہو جائے تو اس وقت تمام مسلمانوں پر واجب کفائی ہو جاتا ہے کہ بیت اللہ کی زیارت کرنے جائیں۔ اگر چہ مستطیع نہ بھی ہوں یا حج واجب ادا کر چکے ہوں۔ مرحوم صدوق رضوان اللہ علیہ نے یہی بات امام حسین علیہ السلام  کے روضے کے بارے میں لکھی ہے۔ اگر کبھی ایسا ہوکہ امام حسین علیہ السلام  کا روضہ زائرین سے خالی ہو جائے تو تمام شیعوں پر واجب کفائی ہو جائے گا کہ امام کی زیارت کرنے جائیں۔ امام کا روضہ زائرین سے خالی نہیں رہنا چاہیے۔( نقل از آیت اللہ مرعشی نجفی)
کیا امام حسین  علیہ السلام کی زیارت خانہ خدا کی زیارت کے برابر ہے؟
یا یہ کہا جائے کہ امام کی زیارت کا ثواب خانہ خدا کی زیارت سے زیادہ ہے یا برابر ہے؟۔ سب سے بڑی دلیل اس سلسلے میں یہ ہے : اس میں کوئی شک نہیں کہ خانہ خدا جو مکہ مکرمہ میں واقع ہے اس کی عظمت، حرمت اور اس کا احترام جناب ابراہیم علیہ السلام کی وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس کو تعمیر کیا ہے۔ اور یہی ابراہیم جب حکم خدا سے اپنے فرزند اسماعیل کو ذبح کرنے لگتے ہیں تو آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کئی اسماعیل راہ خدا میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن آنکھوں پر پٹی نہیں باندھتے۔ پس زمین کربلا کہ جو فخر اسماعیل علی اکبر اور علی اصغر اور فخر ابراہیم امام حسین علیہم السلام کو اپنی آغوش میں سلائے ہوئے ہے اس کی زیارت خانہ خدا کی زیارت سے اگر زیادہ ثواب نہیں رکھتی تو کسی قیمت پر کم بھی نہیں رکھتی۔
۵: امام حسین علیہ السلام اپنے والد بزرگوارمولاے متقیان علیہ السلام کی طرح رات کی تاریکی میں اپنے دوش پر اناج کر فقراء کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ حتیٰ آپ کی شہادت کے بعد بھی آپ کی پشت پر کچھ ایسے زخم تھے جو نہ تلوار کے زخم تھے اور نہ نیزہ کے بلکہ اناج کی بوریاں اٹھانے کی وجہ سے یہ زخم پڑے تھے۔ لہذا جب امام زین العابدین علیہ السلام سے پوچھا گیا فرمایا: یہ زخم فقراء اور مساکین کے گھروں تک غذا پہنچانے کے ہیں۔ اس حدیث کو دوسروں نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ جیسے ابن جوزی نے کتاب تذکرۃ الخواص اور ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں۔
امام حسین علیہ السلام اور دینی حکومت
الٰہی نمائندوں اورآسمانی راہنماؤں نےاپنی  آخری سانسوں تک دینی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اورظلم و ستم سے بشریت کو نجات دلانے کے لیے کچھ قوانین مقرر کیے ہیں ۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی امیہ کے بر سر اقتدار آنے سے اسلامی حکومت استعماری حکومت میں تبدیل ہو گئی۔ حکام نے اسلامی خلیفہ کے عنوان سے اسلام کو کھلونہ بنا لیا۔
سماج میں نسل پرستی شروع ہوگئی حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کو تمام اسلامی اور سماجی حقوق سے محروم رکھا جانے لگا۔ شعیوں پر زندگی نہات تنگ کر دی گئی۔ علی علیہ السلام اور ان کے خاندان سے محبت عظیم جرم شمار ہونے لگا کہ جو شیعوں کی محرومیت کا سبب بن گیا۔ معاویہ اور اسکے تمام اہلکاروں کو قتل و غارت کے سوا کوئی کام نہیں تھا۔ مختصر یہ کہ اسلام کومکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹانے کی  سازش رچائی گئی۔
بعض لوگ اشکال کرتے ہیں کہ کیوں امام حسین علیہ السلام نے زندگی کو خطرے میں ڈال دیا اور حکومت  وقوت کے ساتھ صلح نہیں کی؟
مگر چین  و سکون کی زندگی کیاہے؟ چین وسکون کی زندگی الٰہی رہبروں کے نزدیک یہ ہے کہ معاشرہ چین  و سکون سے زندگی گذارے۔ لوگ اپنی زندگی پر راضی ہوں، آزادی ہو ظلم وستم نہ ہو،قوم پرستی اور نسلی  تعصب نہ پایا جاتا ہو۔
امام حسین علیہ السلام  اس وقت آرام کی زندگی گذار سکتے ہیں جب لوگوں کے حقوق پامال نہ ہوتے اور لوگ اپنے مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہو سکتے، نہ یہ کہ لوگوں کے حقوق کو پامال کیا جائے اور وہ تنگ ماحول میں زندگی گذار رہے ہوں ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ ایک گروہ دوسروں کے حقوق مار کر شان و شوکت کی زندگی بسر کر رہا ہو اور خوشیوں سے مزے اڑا رہا ہو اور دوسرا گروہ ایک لقمہ نان کے لیے ترس رہا ہو۔
حسین علیہ السلام اس علی (ع) کا بیٹا ہیں جنہیں ہمیشہ بے کسوں اور بے بسوں کی فکر لاحق رہتی تھی۔ اور محروم اور مظلوم لوگوں کوظالموں اور ستمگروں سے نجات دلانے میں کوشاں رہتےتھے۔ راتوں کو اناج اپنے کاندھوں پر اٹھاتے اور فقراء کے گھروں تک پہنچاتے تھے  اور کبھی بھی ایک ساتھ دوقسم کی غذا تناول نہیں کرتے تھےاور فرماتے تھے: میں کیسے نیا لباس پہنوں اور پیٹ بھر کے کھانا کھاؤں حالانکہ ممکن ہے اسلامی ممالک میں کوئی بھوکا اور برہنہ ہو۔
امام حسین علیہ السلام اور آزادی
حریت اور آزادی ہر نظام کی بقاء کے لیے ایک بنیادی اصل اور اساسی رکن ہے۔قوموں کو آزادی  دلاناپیغمبروں کے اہداف میں سے ایک اہم ہدف رہا ہے۔ وہ آئے تاکہ بشریت کو آزادی دلائیں۔ انسانی سماج کو سپر پاور اور ڈکٹیٹر شپ سے نجات دلائیں۔ آزادی ایسی چیز ہے جسے دنیا کا ہر انسان چاہتا ہے حتیٰ حیوانات اور دیگر موجودات بھی آزادی کو دوست رکھتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام دنیائے اسلام پر ایک گہری نگاہ ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ بنی امیہ کے اقتدار سنبھالنے اور دین اسلام کا کھلواڑ بنانے سے اسلام کا نام ونشان بھی مٹ رہا ہے۔ اسلامی احکام اور قوانین، انحراف کا شکار ہو گئے ہیں شیعہ جو اسلام کے واقعی ماننے والے تھے محرومیت کی زندگی گذار رہے ہیں۔
اس حالت کودیکھ کر فرزند علی علیہ السلام جگر گوشہ بتول علیہا السلام اپنے آپ کو اجازت نہیں دیتےکہ خاموشی سے بیٹھ جائیں اور تماشہ دیکھتے رہیں۔ وہ علی علیہ السلام کا لال ہے اسے میدان میں نکلنا پڑے گا اور طاغوت اور یزدیت کو صفحہ ہستی سے نابود کرنا پڑے گا۔
آپ بار بار یہ کہتے ہوئے جارے رہے تھے: اذا بلیت الامۃ علی مثل یزید بن معاویہ فعلی الاسلام السلام۔ یعنی جب بھی  اسلامی امت یزید جیسے ملعون کے ہاتھوں گرفتار ہو گی تو اس وقت اس اسلام پر فاتحہ پڑھنی پڑے گی۔ لہذا امام حسین علیہ السلام نے امت اسلامیہ کی آزادی کی خاطرقیام کر کے ایک عظیم انقلاب رونما کر دیا۔

امام حسین (ع) کی زیارت کا ثواب

شیخ صدوق نے کتاب " امالی" میں عبد اللہ بن فضل سے روایت کی ہے، ان کا کہنا ہے : میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا کہ طوس کا رہنے والا  ایک آدمی گھر میں داخل ہوا اور امام سے سوال کیا : اے فرزند رسول! جو شخص امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرے اسے کیا ثواب ملے گا؟۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
اے طوس کے رہنے والے! جو شخص امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرے گا اس معرفت کے ساتھ کہ امام واجب الاطاعت ہیں یعنی خدا وند عالم نے تمام انسانوں پر واجب کیا ہے کہ ان کی اطاعت کریں ، تو خدا اس کے گذشتہ اور آئندہ کے تمام گناہوں کومعاف کر دے گا۔  اس کی شفاعت کو ستر(۷۰) گناہگاروں کے حق میں قبول کرے گا اور امام حسین علیہ السلام کی قبر کے پاس انسان جو حاجت بھی طلب کرے گا خدا اسے بھر لائے گا۔(امالي صدق، ص 684، ح 11، مجلس 86).
امام حسین علیہ السلام  کی عفو و گذشت
بعض اخلاقی کتابوں میں وارد ہوا ہے کہ عصام بن مصطلق نے کہا: میں مدینہ میں داخل ہوا امام حسین علیہ السلام کو دیکھا کہ عجیب طرح کی چہرہ پہ نورانیت اور ہیبت تھی۔ میں حسد سے جل گیا اور ان کے باپ کی نسبت جو میرے سینے میں بغض و کنہ تھا وہ ابھر آیا میں نے ان سے کہا: پس ابوترابی آپ ہی ہیں؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ جب انہوں نے جواب میں ہاں کہا، میں نے جوکچھ میری زبان پر آیا انہیں اوران کے باپ کو کہااور گالیاں دی۔امام حسین علیہ السلام نے ایک محبت بھری نگاہ سے میری طرف دیکھا اور فرمایا:
" آعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ عفو اور بخشش کو اپنا پیشہ بنا لو اور نیکی اور صبر کی تلقین کرو، اور جاہل لوگوں سے منہ موڑ لو۔ اور جب شیطان تمہیں وسوسہ میں ڈالنا چاہے تو خدا کی پنا لو بتحقیق وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ صاحبان تقویٰ جب شیطانی وسوسوں اور توہمات میں گرفتار ہوتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے ہیں اور فورا آپے سے باہر آتے ہیں اور باخبر ہو جاتے ہیں لیکن شیاطین اپنے بھائیوں کو ضلالت اور گمراہی کی طرف کھینچتے ہیں اور اس کے بعد انہیں گمراہ کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرتے۔( سورہ اعراف، ۱۹۹،۲۰۲ )
ان آیات کی تلاوت کے بعد مجھے فرمایا:
تھوڑا آہستہ آہستہ اوراپنے حواس میں رہو، میں اپنے لیے اور تمہارے لیے خدا سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ اگر تمہیں مدد کی ضرورت ہے تو تمہاری مدد کرتا ہوں اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو عطا کرتا ہوں اور اگر راستہ بھول گئے ہو تو رہنمائی کرتاہوں ۔
عصام کہتا ہے: میں اپنے کئے پہ پشیمان ہوا اور امام نے جب میرے چہرے پہ شرمندگی کے آثار دیکھے تو فرمایا:
کوئی اشکال اور عیب نہیں ہے خدا آپ کو معاف کر دے گا۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔( سورہ یوسف ۹۲)
اس کے بعد فرمایا: کیا تم شام کے رہنے والے ہو؟ عرض کیا: جی ہاں
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: حیانا اللہ و ایاک۔ یعنی خدا  ہمیں اور آپ کو زندہ رکھے۔ اور اسکے بعد فرمایا: شرم مت کرو جو تمہیں چاہیے ہے مجھ سے مانگو۔ اور اگر ہم سے کچھ طلب کیا  توہمیں اپنے گمان سے بھی زیادہ عطا کرنے والا پاؤ گے۔
عصام کہتا ہے : زمین مجھ پر تنگ ہو گئی میں سوچ رہا تھا زمین پھٹے اور میں دفن ہو جاؤں اس لیے کہ شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا۔ دھیرے دھیرے امام سے دور ہوتا ہوا دور ہو گیا، لیکن اس کے بعد روۓ زمین پر امام حسین علیہ السلام  اور ان کے باپ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی محبوب نہیں تھا ۔(سفينة البحار، ج 2، ص 116)
ایک سائل کے ساتھ امام کی رفتار
شیخ ابو محمد حسن بن علی بن شعبہ صاحب کتاب " تحف العقول" نقل کرتے ہیں :
 انصار کا ایک آدمی امام حسین علیہ السلام  کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سےاپنی  حاجت  طلب کرنا چاہتا تھا، امام نے اس  سے فرمایا:
اے بھائی ، اپنی عزت کا خیال رکھو، اپنی حاجت کو ایک کاغذ پہ لکھو اور مجھے دو  انشا ء اللہ تمہیں راضی کروں گا۔
اس آدمی نے لکھا: میں فلاں شخص کےپانچ سو دینار کا مقروض ہوں اوروہ اس کے واپس لینے میں اصرار کر رہا ہے۔ آپ سے تقاضا کر رہا ہوں کہ اس سے کہیں کہ مجھے اتنی مہلت دے جب تک میں آمادہ کرتا۔
جب امام حسین علیہ السلام نے اس کے نوشتہ کو پڑھا فورا گھر تشریف لے گئے اور اس تھیلی کو جس میں ہزار دینار تھے لا کے اسے دیا اور فرمایا:
پانچ سو دینار سے اپنا قرض ادا کرو اور پانچ سو کو اپنے پاس محفوظ رکھو تاکہ مشکلات میں تمہاری مدد ہو سکے۔ اور یاد رکھو اپنی حاجت کو ان تین آدمیوں کے علاوہ کسی سے طلب نہ کرنا جن کو میں پہچنوا رہا ہوں:
۱: متدین اور دیندار،  ۲: سخی اور اہل کرامت، ۳: وہ شخص جو شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہو۔( تحف العقول ، ص 245)
امام حسین (ع)کا تواضع اور انکساری
روایت میں ہے کہ عاشورا کے دن امام علیہ السلام کے پشت مبارک پر کچھ اثرات رونما تھے۔ امام زین العابدین علیہ السلام سے ان کی وجہ معلوم کی گئی۔ آپ نے فرمایا: هذا مما كان ينقل الجراب علي ظهره إلي مناز الأرامل و اليتامي و المساكين یہ اثرات اس بوجھ کے ہیں جو آپ اپنی پشت پر اٹھا کر بیواؤں ، یتیموں اور بیکسوں کے گھروں میں پہنچاتے تھے۔( مناقب ابن شهر آشوب، ج4، ص 66).
امام حسین علیہ السلام کا احسان
انس کہتے ہیں: میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں تھا ایک کنیز داخل ہوئی اور پھولوں کا گلدستہ امام کو ہدیہ دیا۔ امام نے فرمایا:
تم راہ خدا میں آزاد ہو۔
عرض کیا: اس نے آپ کے لئے  پھولوں کا ایک گلددستہ لایا  ہےکہ جس کی  اتنی قیمت نہیں ہے کہ آپ اس کو آزاد کر دیں۔ امام نے فرمایا:
خدا نے اسی طرح کا ہمیں ادب سکھایا ہے۔ اور قرآن میں فرمایا: و إذا حُييتُم بِتَحِية فَحَيوا بِأَحسَن مِنها أو رُدُّوها." ( نساء/86  جب تمہیں کوئی سلام کرے یا تمہارے ساتھ احسان کرے تم  یا تو اس کا ویسا ہی جواب لوٹا دو یا اس سے بہتر جواب دو۔ اور اس کے احسان سے بہتر اس کو آزاد کرنا ہی ہے۔(كشف الغمة، ج 2، ص 31.)



تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


امام صادق (ع) نے جناب عباس (ع) کے بارے میں فرمایا: «كان عمُّنا العبّاسُ نافذ البصيره صُلب الايمانِ، جاهد مع ابي‏عبدالله(ع) وابْلي’ بلاءاً حسناً ومضي شهيداً؛ہمار ےچچا عباس بانفوذ بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے امام حسین (ع) کے ساتھ رہ کر راہ خدا میں جہاد کیا اور بہترین امتحان دیا اور مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔ 

بقلم :سید افتخار علی جعفری


 شیر خدا کا شیر بس عباس علمدار(ع)
مقدمہ
ایمان، اطاعت، شجاعت اور وفاداری کی بلند چوٹیوں پر جب نگاہ کرتے ہیں تو  وہاں صرف ایک شخص نظر آتا ہے جو فضل و کمال میں، شجاعت اور جلالت میں اپنی مثال آپ ہےجو اخلاص،استقامت، ثابت قدمی اور جوانمردی میں نمونہ اور آئیڈیل ہے اور ہر اچھی صفت جو انسان کی بزرگی کو عروج عطا کرتی ہے اس شخص میں دکھائی دیتی ہے وہ ایک لشکر کا علمبر دار نہیں بلکہ مکتب شہادت کا سپہ سالار ہے جس نے پوری دنیا کے جوانوں کو اطاعت،وفاداری، جانثاری اور فداکاری کا درس دیا ہے اور جس نے وفاداری، جانثاری اور فداکاری کا ایسا مثالی نمونہ پیش کیا جس کی نظیر تاریخ بشریت میں نہیں ملتی، وہ شخص صرف شیر خدا کا شیر، عباس علمدار(ع) ہیں۔
اگرچہ ان کی فداکاری، جانثاری اور وفاداری کو چودہ سو سال گذر چکے ہیں لیکن تاریخ عباس بن علی (ع) کے خلعت کمالات کو میلا نہیں کر پائی۔ آج عباس(ع) کا نام عباس نہیں وفا ہے، ایثار ہے، اطاعت ہے، تسلیم محض ہے۔
حضرت عباس (ع) ان اولیاء الٰہی میں سے  ہیں جو ہر سالک الی اللہ کے لیے مشعل فروزاں ہیں اور ہر تشنہ ہدایت کے لیے ہادی برحق ، وہ نہ صرف شجاعت اور جنگ کے میدان میں نمونہ عمل اور سرمشق ہیں بلکہ ایمان اور اطاعت حق کی منزل میں، عبادت اور شب زندہ داری کے میدان  میں اور علم اور معرفت کے مقام پر بھی انسان کامل ہیں۔
ذیل   میں حضرت عباس کی زندگی کا ایک گوشہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ ان کے چاہنے والے اپنی زندگی کو کسی حد تک ان کی زندگی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں اور انہیں راہ حق پر چلنے کے لیے نمونہ عمل قرار دیں۔
ولادت حضرت عباس علیہ السلام
کئی سال حضرت زہراء  سلام اللہ علیہا کی شہادت کو گزر چکے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دختر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کی شہادت کے بعد دس سال تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی اور ہمیشہ ان کے فراق میں مغموم تھے۔
خاندان پیغمبر کے لیے حیرت انگیز مقام تھا اس لیے کہ اس خاندان کے بزرگ بغیر زوجہ کے زندگی بسر کر رہے تھے۔ بالاخر ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے جناب عقیل کو بلایا کہ جو نسب شناسی میں مہارت رکھتےتھے اور قبیلوں کی اخلاقی خصوصیات اور ان کے مختلف خصائل سے آشنا تھے، ان سے کہا: ہمارے لیے ایسے خاندان کی خاتون تلاش کریں جو شجاعت اور دلیری میں بے مثال ہو تا کہ اس خاتون سے ایک بہادر اور شجاع فرزند پیدا ہو۔
کچھ عرصہ کے بعد جناب عقیل نے قبیلہ بنی کلاب کی ایک خاتون کی امیر المومنین (ع) کو پہچان کروائی کہ جن کا نام بھی فاطمہ تھاجن کے آباؤواجداد عرب کے شجاع اور بہادر لوگ تھے۔ ماں کی طرف سے بھی عظمت و نجابت کی حامل تھی اسے فاطمہ کلابیہ کہا جاتا تھا۔ اور بعد میں ام البنین  کے نام سے شہرت پاگئیں۔
جناب عقیل رشتہ کے لیے ان کے باپ کے پاس گئے باپ نے بڑے ہی فخر سے اس رشتہ کو قبول کیا اور مثبت جواب دیا۔ حضرت علی (ع) نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی۔ فاطمہ کلابیہ نہایت ہی نجیب اور پاکدامن خاتون تھیں۔ شادی کے بعد جب امیر المومنین (ع) کے گھر میں آئیں تو امام حسن اور حسین (ع) بیمار تھے۔ انہوں نے ان کی خدمت اور دیکھ بال کرنا شروع کر دیا۔
کہتے ہیں کہ جب انہیں فاطمہ کے نام سے بلایا جاتا تھا تو کہتی تھیں: مجھے فاطمہ کے نام سے نہ پکارو کبھی آپ کے لیے آپ کی  ماں فاطمہ کا غم تازہ نہ ہوجائے۔ میں آپ کی خادمہ ہوں۔
امام علی علیہ السلام کی اس  خاتون شادی کے بعد انہیں اللہ نے چار بیٹوں سے نوازا: عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان۔ جو چاروں کے چاروں بعد میں کربلا میں شہید ہو گئے۔ عباس (ع)  کہ جن کی خوبیوں اور فضیلتوں کے بارے میں یہاں پر گفتگو کرنا مقصود ہے اس شادی کا پہلا ثمرہ اور جناب ام البنین (س)کے پہلے بیٹے ہیں۔
فاطمہ کلابیہ خاندان پیغمبر(ص) میں قدم رکھنے کے بعدباکمال خاتون  بن گئیں ۔اور خاندان پیغمبر (ص)کے لیے نہایت درجہ احترام کی قائل تھی۔ انہوں نے گھرانۂ وحی میں قدم رکھتے ہی  یہ پہچان لیا کہ اجر رسالت مودت اہلبیت  علیہم السلام ہے۔انہوں نے حسنین اور زینب و کلثوم  علیہم السلام کے لیے حقیقی ماں کا فریضہ ادا کیا۔ اور اپنے آپ کو ہمیشہ ان کی خادمہ قرار دیا۔ امیر المومنین (ع)کی نسبت ان کی وفا بھی حد درجہ کی تھی۔ امام علی (ع) کی شہادت کے بعد امام کے احترام میں اور اپنی حرمت کو باقی رکھنے کی خاطر انہوں نے دوسری شادی بھی نہیں کی۔ اگر چہ ایک دیرتک (تقریبا بیس سال ) ان کے بعد زندہ رہیں۔
ام البنین(س) کے ایمان اور فرزندان رسول کی نسبت ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ انہیں اپنی اولاد پر ترجیح دی۔  جب واقعہ کربلا درپیش آیا تو اپنے بیٹوں کو امام حسین (ع) پر قربان ہونے  کی خاص  طور پرتاکید کی اور ہمیشہ جولوگ کربلا اور کوفہ سے خبریں لے کر آرہے تھے ان سے سب سے پہلے امام حسین (ع) کےبارے میں سوال کرتی تھیں۔
عباس بن علی(ع) ایسی ماں کا بیٹا تھےاور علی (ع) جیسےباپ کا فرزند۔ اور دست قدرت نے بھی ان کی تقدیر میں وفا، ایمان، اورشہامت  و شجاعت کو لکھ دیا تھا۔
آپ کی ولادت با سعادت ۴ شعبان سن ۲۶ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔جناب عباس (ع)  کی ولادت نے خانہ علی (ع)کو نور امید سے روشن کردیا۔ اس لیےکہ امیر المومنین (ع) دیکھ رہے تھے کہ کربلا پیش آنے والی ہے یہ بیٹا حسین(ع) کا علمبردار ہو گا۔ اور علی (ع)کا عباس(ع)  فاطمہ زہرا (س) کےحسین (ع) پر قربان ہو گا۔
جب جناب عباس(ع) نے دنیا میں قدم رکھا علی علیہ السلام نے ان کے کانوں میں اذان و اقامت کہی۔ خدا اور رسول کا نام ان کے کانوں میں لے کر ان کی زندگی کا رشتہ توحید،رسالت اور دین کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور ان کا نام عباس رکھ دیا۔ ولادت کے بعد ساتویں دن اسلامی رسم کو نبھاتے ہوئے ایک دھنبہ ذبح کروا کر عقیقہ دیا۔ اور فقراء میں تقسیم کیا۔
امیر المومنین (ع) کبھی کبھی جناب عباس (ع) کو اپنی گود میں بٹھاتے تھے اور ان کی آستینوں کو پیچھے الٹ کر بوسہ دیتے تھے۔ اور آنسو بہاتے تھے۔ ایک دن انکی ماں ام البنین(س)  اس ماجرا کودیکھ رہی تھی، حضرت علی (ع) نے فرمایا: یہ ہاتھ اپنے بھائی حسین (ع) کی مدد اور نصرت میں کاٹے جائیں گے میں اس دن کے لیے رو رہا ہوں۔
جناب عباس(ع) کی ولادت سے خانۂ علی(ع) خوشی اور غمی سے مملو ہو گیا۔ خوشی اس اعتبار سے کہ عباس جیسا بیٹا گھر میں آیا ہے۔ اور غم و اندوہ اس فرزند کے آیندہ کے لیے کہ کربلا میں اس پر کیا گزرے گی۔
جناب عباس(ع) نے علی (ع) کے گھر میں حسنین(ع) کے ساتھ تربیت حاصل کی اور عترت رسول(ص) سے  انسانیت ،شہامت، صداقت اور اخلاق کا درس حاصل کیا۔
امام علی (ع) کی اس خصوصی تربیت نے اس نوجوان کی روحی اور نفسانی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا جناب عباس(ع) کا وہ عظیم فہم و ادراک اسی تربیت کا نتیجہ تھا۔
ایک دن امیر المومنین (ع) جناب عباس (ع)کو اپنے پاس بٹھائے ہوئے تھے حضرت زینب(س) بھی موجود تھیں امام نے اس بچے سے کہا: کہو ایک۔جناب عباس نے کہا : ایک۔ فرمایا : کہو دو۔جناب عباس نے دو کہنے سے منع کر دیا۔ اور کہا مجھے شرم آتی ہے جس زبان سے خدا کو ایک کہا اسی زبان سے  دو کہوں۔ امام(ع)،جناب عباس (ع) کی اس زیرکی اور ذہانت سے خوش ہوئے اور پیشانی کو چوم لیا۔
آپ کی ذاتی استعداد اور خاندانی تربیت اس بات کا با عث بنی کہ جسمی رشد و نمو کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معنوی رشد و نمو بھی کمال کی طرف بڑھی۔ جناب عباس(ع)  نہ صرف قد و قامت میں ممتاز اور منفرد تھے بلکہ خرد مندی، دانائی اور انسانی کمالات میں بھی منفرد تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کس دن کے لیے پیدا ہوئے ہیں تاکہ اس دن حجت خدا کی نصرت میں جانثاری کریں۔ وہ  حقیقت میں عاشورا ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔
شائدحضرت علی(ع)اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب آپ کی تمام اولاد آپ کے اطراف میں  نگراں وپریشاں اور گریہ کناں  حالت میں جمع تھی،جناب عباس کا ہاتھ امام حسین(ع) کے ہاتھ میں دیا ہوگا اور یہ وصیت کی ہوگی کہ عباس تم اور تمہارا حسین کربلا میں ہوں گے کبھی اس سے جدا نہیں ہونا اور اسے اکیلا نہ چھوڑنا۔
جوانی کی بہار
جب سےجناب  عباس (ع)نے دنیا میں آنکھیں کھولیں امیر المومنین(ع) اور امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو اپنے اطراف دیکھا اور ان کی مہر و محبت کے سائے میں پروان چڑھے اور امامت کے چشمہ علم و معرفت سے سیراب ہوتے رہے۔
چودہ سال زندگی کے جناب امیر کے ساتھ گزارے ۔ جب علی (ع) جنگوں میں مصروف تھے تو کہتے ہیں کہ جناب عباس بھی ان کے ساتھ جنگوں میں شریک تھےحالانکہ بارہ سال کے نوجوان تھے۔ نوجوانی کے زمانے سے ہی حضرت امیر (ع) نے انہیں شجاعت اور بہادری کے گر سکھا رکھے تھے۔ جنگوں میں حضرت علی (ع) انہیں جنگ کی اجازت نہیں دیتے تھے انہیں کربلا کے لیے ذخیرہ کر رکھا تھا۔
تاریخ نے اس نوجوان کے بعض کرشمے جنگ صفین میں نمایاں کئے ہیں کہ جب آپ بارہ سال کے تھے۔
مگر آپ کے بھتیجےجناب قاسم تیرہ سال کے نہیں تھے کہ جنہوں نے اپنے چچا کی رکاب میں شجاعت کے وہ جوہر دکھلائے کہ دشمن دھنگ رہ گئے؟ مگر آپ کے والد علی (ع) نوجوان نہیں تھے جب جنگ بدر و احد،اور خیبر و خندق میں مرحب و عنتر اورعمر بن عبد ودّ جیسے نامی گرامی پہلوانوں کے ساتھ مقابلہ کر کے انہیں واصل جہنم کیا اور پرچم اسلام کو سربلندی عطا کرتے رہے ؟ کیا جناب عباس کے نانہال والے قبیلہ بنی کلاب میں سے نہیں تھے جو شجاعت، بہادری اور شمشیر زنی میں معروف تھے؟۔ عباس(ع) شجاعت کے دو سمندروں کے آپس میں ٹکراؤں کا نام ہے، عباس (ع) وہ ذات ہے جسے باپ کی طرف سے بنی ہاشم کی شجاعت ملی اور ماں کی طرف سے بنی کلاب کی بہادری۔
صفین کی جنگ کے دوران، ایک نوجوان امیر المومنین (ع) کے لشکر سے میدان میں نکلا کہ جس نے چہرے پر نقاب ڈال رکھی تھی جس کی ہیبت اور بہادری سے دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور دور سے جاکر تماشا دیکھنے لگے۔ معاویہ کو غصہ آیا اس نے اپنی فوج کے شجاع ترین آدمی( ابن شعثاء) کو میدان میں جانے کا حکم دیا کہ جو ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کیا کرتا تھا۔  اس نے کہا : اے امیر لوگ مجھے دس ہزار آدمی کے برابر سمجھتے ہیں آپ کیسے حکم دے رہے ہیں کہ میں اس نوجوان کے ساتھ مقابلہ کرنے جاؤں؟معاویہ نے کہا: پس کیا کروں؟  شعثاء نے کہا میرے سات بیٹے ہیں ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں تاکہ اس کا کام تمام کر دے۔ معاویہ نے کہا: بھیج دو۔ اس نے ایک کو بھیجا۔ اس نوجوان نے پہلے وار میں اسے واصل جہنم کر دیا۔ دوسرے کو بھیجا وہ بھی قتل ہو گیا تیسرے کو بھیجا چوتھے کو یہاں تک کہ ساتوں بیٹے اس نوجوان کے ہاتھوں واصل جہنم ہو گئے۔
معاویہ کی فوج میں زلزلہ آگیا۔ آخر کار خود ابن شعثاء میدان میں آیا یہ رجز پڑھتا ہوا : اے جوان تو نے میرے تمام بیٹوں کو قتل کیا ہے خدا کی قسم تمہارے ماں باپ کو تمہاری عزا میں بٹھاؤں گا۔ اس نے تیزی سے حملہ کیا تلواریں بجلی کی طرح چمکنے لگیں آخر کار اس نو جوان نے ایک کاری ضربت سے ابن شعثاء کو بھی زمین بوس کر دیا۔ سب کے سب مبہوت رہ گئے امیر المومنین (ع) نے اسے واپس بلا لیا ۔نقاب کو ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا۔ ہاں یہ نوجوان کون تھا یہ قمر بنی ہاشم ، یہ بارہ سال کا عباس(ع) یہ شیر خدا کا شیر تھا۔
نیز تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ صفین میں معاویہ کی فوج نے پانی پر قبضہ کر رکھا تھا جب امیر المومنین (ع) کی فوج کو پیاس لاحق ہوئی تو آپ نے امام حسین (ع) کی قیادت میں کچھ افراد کو پانی کے لیے بھیجا اور حضرت عباس(ع) امام حسین (ع) کے دائیں طرف تھے۔ جنہوں نے پانی کو باقی لشکر والوں کے لیے فراہم کیا۔
یہ ایام گزر گئے سن چالیس ہجری آگئی  مسجد کوفہ کا محراب رنگین ہو گیا۔ جب حضرت علی(ع) شہید ہوئے حضرت عباس چودہ سال کے تھے۔ بابا کی شہادت کا عظیم صدمہ برداشت کیا رات کے سناٹے میں جنازے کا دفن کرنا برداشت کیا۔ اب ہر مقام عباس کے لیے امتحان کی منزل ہے عباس ہر منزل پر اپنا لہو پی کر  برداشت کر رہے ہیں۔ باپ کے بعد حسنین (ع) عباس کی پناگاہ ہیں۔ ان کے اشاروں پر عمل کر رہے ہیں اور ہر گز اپنے باپ کی وصیت جو ۲۱ رمضان کو عاشورا کے سلسلے میں کی کہ حسین کو اکیلا نہ چھوڑنا فراموش نہیں کر رہے ہیں۔ وہ جانتے تھے سخترین ایام درپیش ہیں کمر ہمت  کو مضبوطی سے باندھے رکھیں۔
وہ دس سال بھی سختیوں کے گزار دیے جب امام حسن علیہ السلام مقام امامت پر فائز تھے اور معاویہ کی طرف سے مسلسل فریب کاریاں امام کو اذیت کر رہی تھیں۔ بنی امیہ کا ظلم و ستم عروج پکڑ رہا تھا حجر بن عدی کو شہد کر دیا عمرو بن حمق خزاعی کو شہید کر دیا علویان کو قیدی بنایا جانے لگا۔ منبروں سے وعظ و نصیحت کے بدلے مولا علی(ع) کو سب وشتم کیا جانے لگا۔ عباس ان تمام واقعات کو آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور اپنا خون پی پی  کرانہیں تحمل کر رہےتھے۔ آخر وہ دن بھی دیکھنا پڑا جب امام حسن(ع) کو زہر دے دیا گیا اور ان کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر باہر آگیا۔ جنازے کو تیر لگ گئے عباس تلوار کو نیام سے نہ نکال سکے۔
جناب عباس کرتے بھی کیا جب بھی ہاتھ قبضہ شمشیر پر رکھا ہے امام حسین(ع) نے یہ کہہ کے روک دیا ہے کہ عباس ابھی جنگ کا وقت نہیں ہے۔ عباس صبر کرو۔ آخر کار جناب عباس ان تلخ ایام کو بھی امام حسین (ع) کی رہنمائی کے سائے میں گزار دیتے ہیں اور مسلسل تاریخ کے نشیب و فراز کا اپنی گہری نگاہوں سے مطالعہ کرتے ہیں۔
جناب عباس ؑ کی ازدواجی زندگی
جناب عباس نے اٹھاراں سال کی عمر میں امام حسن (ع) کی امامت کے ابتدائی دور میں عبداللہ بن عباس کی بیٹی لبابہ کے ساتھ شادی کی۔ عبد اللہ بن عباس راوی ا حادیث، مفسر قرآن اور امام علی (ع) کے بہترین شاگرد تھے۔ اس خاتون کی شخصیت بھی ایک علمی گھرانے میں پروان چڑھی تھی اور بہترین علم و ادب کے زیور سے آراستہ تھیں۔ جناب عباس کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے  عبید اللہ اور فضل جو بعد میں بزرگ علماء اور فضلاء میں سے شمار ہونے لگے۔ حضرت عباس (ع)کے پوتوں میں سے کچھ افراد راویان احادیث اور اپنے زمانے کے برجستہ علماء میں سے شمار ہوتے تھے۔ یہ نور علوی جو جناب عباس کی صلب میں تھا’’ نسلِِ بعد نسل‘‘ تجلی کرتا گیا۔ اور کبھی خاموش نہیں ہوا۔
آپ مدینہ میں  قبیلہ بنی ہاشم میں رہتے تھے۔ اور ہمیشہ امام حسین(ع) کے شانہ بہ شانہ رہے۔ جوانی کو امام کی خدمت میں گذار دیا۔ بنی ہاشم کے درمیان آپ کا خاص رعب اور دبدبہ تھا۔ جناب عباس بنی ہاشم کے تیس جوانوں کا حلقہ بنا کر ہمیشہ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ جو ہمیشہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے ساتھ ساتھ رہتے اور ہر وقت ان کا دفاع کرنے کو تیار رہتے تھے۔ اور اس رات بھی جب ولید نے معاویہ کی مرگ کے بعد یزید کی بیعت کے لیے امام کو دار الخلافہ  بلایا تیس جوان جناب عباس کی حکمرانی میں امام کےساتھ دار الخلافہ تک جاتے ہیں اور امام کے حکم کے مطابق اس کے باہر امام کے حکم جہاد کا انتظار کرتے ہیں تا کہ اگر ضرورت پڑے تو فورا امام کا دفاع کرنے کو حاضر ہو جائیں۔ اور وہ لوگ جو مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا گئے وہ  بھی جناب عباس(ع) کی حکمرانی میں حرکت کر رہےتھے۔
یہ جناب عباس کی جوانی کے چند ایک گوشہ تھے جن کی طرف اشارہ کیا گیا۔ اس کے بعد واقعہ کربلا ہے کہ جہاں جناب  عباس پروانہ کی طرح امام حسین (ع) کے ارد گرد چکر کاٹ رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی میرے مولا کو گزند نہ پہنچا دے۔سلام ہو عباس کے کٹے ہوئے بازوں پر۔سلام ہو عباس کی جانثاری اور وفاداری پر۔
ایک دن امام سجاد (ع) کی نگاہ عبید اللہ بن عباس پر پڑتی ہے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اوراپنے  چچا عباس کو یاد کر کے فرماتے ہیں:
رسول خدا(ص) کے لیے روز احد سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں تھا۔ اس دن آپ  کےچچا حضرت حمزہ کو کہ جو آپ کے شیر دلاور تھے شہید کر دیا گیا۔ بابا حسین(ع) کے لیے بھی کربلا سے زیادہ سخت دن نہیں تھا اس لیے کہ اس دن عباس(ع) کو کہ جو حسین(ع)  کا شیر دلاور تھے شہید کر دیاگیا۔
اس کے بعد فرمایا: خدا رحمت کرے چچا عباس کو کہ جنہوں نے اپنے بھائی کی راہ میں ایثار اور فداکاری کی۔ اور اپنی جان کو بھی قربان کر دیا۔ اس طریقہ سے جانثاری کی کہ اپنے دونوں بازوں قلم کروا دیے۔ خدا وند عالم نے انہیں بھی جعفر بن ابی طالب کی طرح دو پر دئیے ہیں کہ جن کے ذریعے جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں عباس کا خدا وند عالم کے یہاں ایسا عظیم مقام ہے جس پر تمام شہید روز قیامت رشک کریں گے۔
اور امام صادق (ع) نے جناب عباس کے بارے میں فرمایا: «كان عمُّنا العبّاسُ نافذ البصيره صُلب الايمانِ، جاهد مع ابي‏عبدالله(ع) وابْلي’ بلاءاً حسناً ومضي شهيداً؛ہمار ےچچا عباس  بانفوذ  بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے امام حسین کے ساتھ رہ کر راہ خدا میں جہاد کیا اور بہترین امتحان دیا اور مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔

منابع تحقيق:
1 . ارشاد، شيخ مفيد، كنگرهء هزارهء مفيد، قم، 1413 ق.
2 . اعيان الشيعه، سيد محسن الامين، دارالتعارف للمطبوعات، بيروت، 1404 ق.
3 . بحارالانوار، علامه محمد باقر مجلسي، مؤسسه الوفاء، بيروت، 1403 ق.
4 . تاريخ طبري، محمد بن جرير طبري، قاهره، 1358ق.
5 . ترجمهء نفس المهموم (محدث قمي)، شعراني، انتشارات علميه اسلاميه، تهران.
6 . تنقيح المقال، عبدالله مامقاني، مطبعه مرتضويّه، نجف، 1352ق.
7 . چهرهء درخشان قمر بني هاشم، علي رباني خلخالي، مكتبه الحسين، قم، 1375.
8 . حياه الامام الحسين بن علي، باقر شريف القرشي، دارالكتب العلميه، قم، 1397 ق.
9 . زندگاني قمر بني هاشم، عم‏اد زاده، انتش‏ارات خ‏رد، 1322 ش.
10 . سفينه البحار، شيخ عباس قمي، فراهاني، تهران.
11 . العباس، عبدالرزاق الموسوي المقرّم، منشورات الشريف الرّضي، 1360 ق.
12 . العباس بن علي، باقر شريف القرشي، دارالاضواء، بيروت، 1409 ق.
13 . قاموس الرّجال، محمد تقي شوشتري، مركز نشر كتاب، تهران.
14 . المحاسن والمساوي، ابراهيم بن محمد بيهقي، داربيروت للطباعه والنشر.
15 . معالي السبطين، محمد مهدي مازندراني حائري (چاپ سنگي)، مكتبه القرشي، تبريز.
16 . مفاتيح الجنان، شيخ عباس قمي، دفتر نشر فرهنگ اسلامي، تهران.
17 . مقاتل الطالبيين، ابوالفرج اصفهاني، دارالمعرفه، بيروت.
18 . مقتل الحسين، عبدالرزاق الموسوي المقرّم، مكتبه بصيرتي، قم، 1394 ق.
19 . منتهي الامال، شيخ عباس قمي، انتشارات هجرت.
20 . يادوارهء پنجمين مراسم شب شعر عاشورا (عباس، علمدار حسين)، ستاد شعر عاشورا، شيراز





تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:53 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
اسلام ٹائمز: روز مبعث محبت و عطوفت کا دن ہے، اس دن عربوں کی جہالت کو ختم کرنے کا باقاعدہ قانون آ گیا۔ وہ جاہل عرب جو معصوم بچیوں کو ماں کی نرم و گرم آغوش دینے کی بجائے انکو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، بیٹی کا وجود ان کے لئے باعث ننگ و عار تھا۔ معمولی معمولی باتوں پر جنگیں شروع ہو جاتیں جو سالوں جاری رہتیں، ہزاروں بیگناہ مارے جاتے، عورتوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، عورت کو صرف ہوا و ہوس اور بچے لانے کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا، بت پرستی کا دور دورہ تھا، ایسے میں رب العزت نے آج کے دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منصب رسالت پر فائز کر کے ایک سنت ناب محمدی کا آغاز کیا۔
روز مبعث رسول اعظم (ص)

تحریر: ایم صادقی

27 رجب المرجب کا دن بہت ہی مبارک ہے، آج مبعث رسول اعظم کا دن ہے، آج کے دن خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیامبری کے درجے پر فائز کیا گیا۔ تاریخ میں نقل ہے، آج کے دن غار حرا میں جبرائیل امین خدا کی طرف سے پیامبر پر وحی لے کر نازل ہوئے، اور انکو پیامبری کی بشارت سنائی اور کہا کہ خدا نے آپکو دین مبین اسلام کی تبلیغ و ترویج پر نائل فرمایا ہے، پس بت پرستی کا خاتمہ کرو اور خدا پرستی کو رواج دو، اور خدا کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچاو۔ جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اسوقت آپ کی عمر مبارک 40 سال تھی۔ روز مبعث محبت و عطوفت کا دن ہے، اس دن عربوں کی جہالت کو ختم کرنے کا باقاعدہ قانون آ گیا۔ وہ جاہل عرب جو معصوم بچیوں کو ماں کی نرم و گرم آغوش دینے کی بجائے انکو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، بیٹی کا وجود ان کے لئے باعث ننگ و عار تھا۔ معمولی معمولی باتوں پر جنگیں شروع ہو جاتیں جو سالوں جاری رہتیں، ہزاروں بیگناہ مارے جاتے، عورتوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، عورت کو صرف ہوا و ہوس اور بچے لانے کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا، بت پرستی کا دور دورہ تھا، ایسے میں رب العزت نے آج کے دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منصب رسالت پر فائز کر کے ایک سنت ناب محمدی کا آغاز کیا۔ 

شیعہ روایات کے مطابق:
شیعہ روایات کے مطابق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 27 رجب المرجب عام الفیل، 13 سال قبل از ہجرت، پیامبری کے لئے مبعوث ہوئے۔ اہل تشیع میں آج کے دن نہایت تزک و احتشام کے ساتھ جشن و محافل میلاد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مبارک و بابرکت شب و روز کے لئے بہت سے اعمال بھی بیان کئے گئے ہیں۔ جن میں آج کے دن دعا، نماز، غسل مستحب اور روزہ رکھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔
اہل سنت روایات کے مطابق: اہل سنت والجماعت کے نزدیک مبعث کی دقیق تاریخ مشخص نہیں، لیکن بعض روایات و احادیث کے مطابق یہ واقعہ 21 رمضان کو پیش آیا۔ چونکہ اہلسنت کے نزدیک اس واقعے کی دقیق تاریخ نہیں ہے، اسی لئے روز مبعث کا جشن بھی نہیں منایا جاتا ہے۔ 

شب و روز مبعث کے مخصوص اعمال: مصباح میں امام جواد (ع) سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ، " ماہ رجب میں ایک ایسی شب ہے کہ جس کی اہمیت دنیا کی ہر اس چیز سے زیادہ ہے کہ جس پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے اور وہ 27 رجب کی شب ہے، کہ اس کی صبح کو رسول امجد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیامبری پر فائز ہوئے، اس شب کے لئے مخصوص اعمال ہیں کہ جو ان کو انجام دے گا اسے 60 سال کی عبادت کا ثواب ملے گا"۔ اس شب کو نمازعشاء کے بعد اور نیمہ شب سے پہلے 12 رکعت نماز پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے، ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد کسی بھی سوہ کی تلاوت کیجائے۔ آخری رکعت میں سلام پھیرنے کے بعد سات مرتبہ معوذتین، اور سات مرتبہ سورہ توحید و قل یایھا الکافرون، اور سات سات مرتبہ ہی سورہ قدر اور آیۃ الکرسی کی تلاوت کی جائے۔
اسکے بعد یہ دعا پڑھی جائے، "اَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذى لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَریکٌ فى الْمُلْکِ وَ لَمْیَکُنْ لَهُ وَلِىُّ مِنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرْهُ تَکْبیراً اَللّهُمَّ اِنّى اَسئَلُکَ بِمَعاقِدِ عِزِّکَ عَلَى اَرْکانِ عَرْشِکَ و َمُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ وَ بِاسْمِکَ الاْعْظَمِ الاْعْظَمِ الاْعْظَمِ وَ ذِکْرِکَ الاْعْلىَ الاْعْلىَ الاْعْلى وَ بِکَلِماتِکَ التّامّاتِ اَن تُصَلِّىَ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ اَنْ تَفْعَلَ بى ما اَنْتَ اَهْلُهُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اس دن کے اعمال میں غسل مستحبی انجام دینے اور روزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے حتیٰ روایات میں اس دن کا روزہ رکھنے کے ثواب کو 70 سال روزے رکھنے کے ثواب کے برابر کہا گیا ہے۔ اس دن محمد و آل محمد پر کثرت سے صلوات بھیجنے اور زیارت حضرت رسول اور امیر المومنین علیہ السلام کی تلاوت کا بہت اجر بیان ہوا ہے۔ (التماس دعا)



تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:59 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

جب عید نوروز ہو تو غسل کرنا، نیا لباس پہننا، مہندی لگانا، حمام جانا، اچھی خوشبو استعمال کرنا۔ اس کے بعد فرمایا: مستحب ہے عید نوروز کے دن روزہ رکھنا، اور نماز ظہر و عصر کے بعد چار رکعت نماز ادا کرنا دو دو رکعتیں کر کے، جس کی پہلی رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ انا انزلنا، دوسری رکعت میں دس مرتبہ قل یا ایھا الکافرون، تیسری رکعت میں دس مرتبہ قل ھو اللہ احد اور چوتھی رکعت میں دس مرتبہ سورہ فلق اور دس مرتبہ سورہ ناس کی تلاوت کرنا۔ 

ترجمہ: جعفری


 کیوں اسلام نے نوروز کی تائید کی ہے؟
اسلام میں عید نوروز کا کیا مقام ہے اور ائمہ اطہار (ع) نے کیوں اس عید کی تائید کی ہے؟ اس سوال کے جواب میں آیت اللہ العظمی مظاہری نے بیان کیا:
عید کی قسمیں
ہم ایرانیوں کی عیدوں کی تین قسمیں ہیں: پہلی: اسلامی عیدیں، جو تمام مسلمان مناتے ہیں جسے عید فطر، عید قربان کہ ان دو عیدوں میں نماز عید بھی وارد ہوئی ہے۔ اور اس نماز کے قنوت میں بھی اس دن کے عید ہونے کا تذکرہ ہوا ہے۔ اسی طریقہ سے عید میلاد پیغمبر(ص)، عید مبعث۔
دوسری قسم، مذہبی عیدیں ہیں جو بہت ساری ہیں جیسا کہ مذہب شیعہ کے اندر بھی پائی جاتی ہیں عید غدیر، پندہ شعبان، عید زہرا، وغیرہ
تیسری قسم، ملی اور قومی عید ہے جیسے ہم ایرانیوں کی عید نوروز ہے یعنی یہ عید ایرانیوں کی عید ہے۔
عید نوروز اسلام کی نظر میں
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ طاہرین(ع) نے نہ صرف اس عید کو رد نہیں کیا بلکہ اس کی تائید کی ہے۔ مرحوم محدث قمی نے مفاتیح الجنان میں امام صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ (ع) نے معلی بن خنیس سے فرمایا: جب عید نوروز ہو تو غسل کرنا، نیا لباس پہننا، مہندی لگانا، حمام جانا، اچھی خوشبو استعمال کرنا۔ اس کے بعد فرمایا: مستحب ہے عید نوروز کے دن روزہ رکھنا، اور نماز ظہر و عصر کے بعد چار رکعت نماز ادا کرنا دو دو رکعتیں کر کے، جس کی پہلی رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ انا انزلنا، دوسری رکعت میں دس مرتبہ قل یا ایھا الکافرون، تیسری رکعت میں دس مرتبہ قل ھو اللہ احد اور چوتھی رکعت میں دس مرتبہ سورہ فلق اور دس مرتبہ سورہ ناس کی تلاوت کرنا۔ اس کے بعد ایک دعا نقل کرتے ہیں جو نماز کا حصہ نہیں ہے جسے سجدہ اور سجدہ کے علاوہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔(۱)
اس دعا میں ایک جملہ ہے جس میں فرماتے ہیں «فَضَّلْتَهُ وَ كَرَّمْتَهُ»  یعنی خدایا تو نے اس عید کو فضیلت دی اور تو نے اسے بزرگی عطا کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ معصومین (ع) نے اس عید کی قومی عید ہونے کے عنوان سے تائید کی ہے۔
شاید ائمہ معصومین (ع) کی تائید کوئی اور دلیل رکھتی ہو۔ بعض روایات میں ملتا ہے کہ عید غدیر یعنی جس دن علی علیہ السلام کو رسول پاک نے مولا بنایا یہی وہ دن عید نوروز کا دن تھا۔ مجھے نہیں معلوم یہ بات درست ہے یا نہیں۔ علم نجوم اور علم اعداد سے کچھ اور فضیلتیں بھی اس دن کے لیے بیان کی گئی ہیں مجھے نہیں معلوم وہ کس حد تک درست ہیں۔ البتہ جو چیز میرے لیے یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اس دن کی کچھ خصوصیات ہیں جو اسلام میں مورد تائید واقع ہوئی ہیں۔
پہلی خصوصیت
عید نوروز پر نظافت اور صفائی ستھرائی ہے۔ لوگ نئے لباس پہنتے ہیں، حمام جاتے ہیں، گھروں کو صاف کرتے ہیں، اسلام کہتا ہے: النظافةُ مِنَ الْايمان ، نظافت ایمان کی نشانی ہے۔ اس روایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص نظافت کی رعایت نہیں کرتا واقعی مسلمان نہیں ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
(يا بَني ادَمَ خُذُوا زينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ)[2]
اے اولاد آدم ہر مسجد میں داخل ہوتے وقت اپنے آپ کو مزین کرو۔
جب مسجد میں جانا چاہو، کسی اجتماع میں جانا چاہو، تو پاکیزہ ہو کر جاو، اپنے دانتوں کو مسواک کرو، نیا لباس پہنو، عطر لگاو، اگر جوراب یا لباس بدبو دے رہا ہے تو اسے تبدیل کر کے جاو، پاک و پاکیزہ ہو کر مجمع میں داخل ہو۔ حتی پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
«لَوْ لا اَنْ اَشُقَّ عَلي اُمَتّي لَاَمَرْتُهُمْ بِالسِّواكِ مَعَ كلِّ صَلاةٍ»[3]
اگر مجھے اپنی امت پر سختی کا خوف نہ ہوتا تو میں ہر نماز سے پہلے مسواک کو واجب قرار دے دیتا۔
اسلام کو یہ پسند نہیں ہے کہ لباس گران قیمت ہو۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ لباس پاکیزہ ہو صاف ستھرا ہو۔
سفید لباس پہننے پر اسلام کی تاکید
اسلام میں جو سفید لباس پہننے کی تاکید ہوئی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سفید لباس پر میل صاف دکھائی دیتی ہے اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ اسے دھوئے۔ لیکن اگر کسی مسلمان کے کپڑے میلے کچیلے ہیں، جوتے اور جورابیں بدبودار ہیں، اگر وہ مسلمان ظاہری طور پر صاف ستھرا نہیں ہے تو اس کا اسلام کامل نہیں ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ جب انسان کسی مجمع میں داخل ہو تو صاف ستھرا ہو۔ روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ جب گھر سے باہر نکلتے تھے تو اپنے لباس کو مرتب کرتے تھے عمامہ کو مرتب کرتے تھے شیشہ دیکھتے تھے اگر شیشہ نہیں ہوتا تھا تو پانی والے برتن میں نگاہ کرتے تھے تاکہ کہیں آپ کا عمامہ ٹیڑا نہ ہو۔ (۴)
یہ جو عید نوروز کے موقع پر گھروں میں ہر چیز کو رد و بدل کیا جاتا ہے ادھر ادھر کیا جاتا ہے جسے ’’خانہ تکانی‘‘ کہتے ہیں یہ اچھی چیز ہے روایات میں ہے کہ گھر میں کوڑا کا جمع ہونا، مکڑے کا جالا پایا جانا گھر میں فقر لاتا ہے۔ اور خدا کی رحمت اس گھر سے دور ہو جاتی ہے۔ ملائکہ چلے جاتے ہیں اور شیاطین آجاتے ہیں۔ روایات میں گھر کو صاف رکھنے کی بہت تاکید ہوئی ہے۔
خواتین کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شوہر کے گھر آنے سے پہلے اپنے آپ اور گھر کو مرتب کریں۔ جو لباس شوہر کو پسند ہے وہ پہنیں، بچوں کو صاف رکھیں، گھر کو صاف رکھیں، اگر کھانے کا وقت ہے تو دسترخوان لگائیں۔۔۔ وگرنہ شوہر داری کے اعتبار سے ناکام ہیں۔ اور اگر کوئی خاتون شوہر داری میں کامیاب نہیں ہے شوہر داری کے وظیفہ کے اچھے طریقہ سے انجام نہیں دے پا رہی ہے معلوم نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے گی۔
اور اسی طرح مرد کی بھی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بھی گھر میں اپنے آپ کو صاف رکھے۔
عورت کا اصلی کام خانہ داری اور بچہ داری ہے اس کے بعد سماج میں کوئی دوسری مشغولیت انجام دے سکتی ہے اگر ان دو ذمہ داریوں کو چھوڑ کر کوئی تیسری ذمہ داری اٹھا لیتی ہے تو وہ گناہگار ہے۔
اس وجہ سے اسلام عید نوروز کی تائید کرتا ہے چونکہ اس عید میں صفائی ستھرائی کے کام زیادہ انجام پاتے ہیں۔
دوسری خصوصیت
مہمان داری اور مہمان نوازی۔ مہمان بلانے اور مہمانی پر جانے کو اسلام دوست رکھتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
«المؤمِنُ يألَفُ و يُؤلَفُ و لا خَيْرَ في مَنْ لا يَألَفْ وَلا يُؤلَف»[5]
یعنی مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ مانوس ہو ان کے ساتھ رفت و آمد رکھے اور دوسرے بھی اس کے ساتھ مانوس ہوں۔ یعنی وہ بھی لوگوں کو دوست رکھے اور لوگ بھی اسے دوست رکھیں۔ اس کے بعد فرمایا: اگر کوئی گوشہ نشینی اختیار کر لے دوسروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دے تو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔
منفی تقویٰ کو اسلام پسند نہیں کرتا، منفی تقوی کا مطلب یہ ہے کہ انسان گوشہ نشین ہو کر، دوسروں سے دور ہو کر تقویٰ اختیار کرے، چونکہ اکیلا ہو جائے گا نہ کسی کی غیبت کرے گا، نہ کسی پر تہمت لگائے گا نہ کسی سے جھوٹ بولے گا نہ کسی نامحرم کو دیکھے گا۔۔۔۔ اگر چہ یہ اچھی چیز ہے لیکن اسلام اسے دوست نہیں رکھتا۔ اسلام سماج کے درمیان رہ کر ان صفات کو دیکھنا چاہتا ہے۔
اسلام مثبت تقوی کا مطالبہ کرتا ہے یعنی آپ سماج کے اندر رہیں اور غیبت نہ کریں، لوگوں کے بیچ میں رہیں اور کسی پر تہمت نہ لگائیں، جھوٹ نہ بولیں نامحرموں کو نہ دیکھیں۔
لہذا اس حوالے سے بھی عید نوروز اسلام کی مورد تائید قرار پاتی ہے۔
حوالہ جات
[1]. مفاتيح، اعمال عيد نوروز (فصل يازدهم).
[2]. سوره ی اعراف، آيه ی 31.
[3]. بحارالانوار، جلد 73، صفحه ی 126 و فروع كافي، جلد 3، صفحه ی 22.
[4]. بحارالانوار، جلد 16، صفحه ی 249
[5]. كنزالعمال، جلد 1، صفحه ی 142، حديث شماره ی 679.

تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:57 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

انسان کمال کا عاشق ہوتا ہے، اور یہ عشق تمام انسانوں میں ہمیشہ پایا جاتا ہے، انسان جس چیز میں اپنا کمال دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،البتہ یہ بات علیحدہ ہے کہ بعض لوگ خیالی اور بیہودہ چیزوں ہی کو کمال اور حقیقت تصور کربیٹھتے ہیں۔ 

 خدا کی معرفت کیوں ضروری ہے؟  
جب یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کوئی بھی فعل بغیر علت کے نہیں ہوتا تو پھر اس دنیا کے خالق کی معرفت اور اس کو پہچاننے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی علت اور سبب ہونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسی کے لئے تین بنیادی وجہیں اور علتیں بیان کی ہیں،جن پر قرآن کریم نے واضح طور پر روشنی ڈالی ہے:
١۔ عقلی علت ۔
٢۔ فطری علت ۔
٣۔ عاطفی علت ۔
عقلی علت :
انسان کمال کا عاشق ہوتا ہے، اور یہ عشق تمام انسانوں میں ہمیشہ پایا جاتا ہے، انسان جس چیز میں اپنا کمال دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،البتہ یہ بات علیحدہ ہے کہ بعض لوگ خیالی اور بیہودہ چیزوں ہی کو کمال اور حقیقت تصور کربیٹھتے ہیں۔
کبھی اس چیز کو ''منافع حاصل کرنے اور نقصان سے روکنے والی طاقت'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انسان اسی طاقت کی بنا پر اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ جس چیز میں اس کا فائدہ یا نقصان ہو اس پر خاص توجہ دے۔
انسان کی اس طاقت کو ''غریزہ'' کا نام دینا بہت مشکل ہے کیونکہ معمولاً غریزہ اس اندرونی رجحان کو کہا جاتا ہے جو انسان اور دیگر جانداروں کی زندگی میں بغیر غور و فکر کے اثر انداز ہوتا ہے اسی وجہ سے حیوانات کے یہاں بھی غریزہ پایا جاتا ہے۔
لہٰذا بہتر ہے کہ اس طاقت کو ''عالی رجحانات''کے نام سے یاد کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس کا تذکرہ بھی کیاہے۔
بہر حال انسان کمال دوست ہوتا ہے اور ہر مادی و معنوی نفع کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر طرح کے ضررو نقصان سے پرہیز کرتا ہے چنانچہ اگر انسان کو نفع یا نقصان کا احتمال بھی ہو تو اس چیز پر توجہ دیتا ہے اور جس قدر یہ احتمال قوی تر ہوجاتا ہے اسی اعتبار سے اس کی توجہ بھی بڑھتی جاتی ہے، لہٰذایہ ناممکن ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی چیز کو اہم و موثر مانے لیکن اس سلسلہ میں تحقیق و کوشش نہ کرے۔
خدا پر ایمان اور مذہب کا مسئلہ بھی انھیں مسائل میں سے ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انسان کی زندگی سے ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی سعادت اور خوشبختی یا شقاوت اور بدبختی کا تعلق ہوتا ہے، اور اسی کے ذریعہ انسان سعادت مند ہوتا ہے یا بدبخت ہوجاتا ہے،اور ان دونوں میں ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔
 اس بات کو واضح کرنے کے لئے بعض علمامثال بیان کرتے ہیں: فرض کیجئے ہم کسی کو ایک ایسی جگہ دیکھیں جہاں سے دوراستے نکلتے ہوں ، اور وہ کہے کہ یہاں پر رکنا بہت خطرناک ہے اور (ایک راستہ کی طرف اشارہ کرکے )کہے کہ یہ راستہ بھی یقینی طور پر خطرناک ہے لیکن دوسرا راستہ ''راہ نجات'' ہے اور پھر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کچھ شواہد و قرائن بیان کرے، تو ایسے موقع پر گزرنے والا مسافر اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس سلسلہ میںتحقیق و جستجو کرے ،ایسے موقع پر بے توجہی کرنا عقل کے برخلاف ہے۔(1)
جیسا کہ ''دفعِ ضررِمحتمل ''(احتمالی نقصان سے بچنا) ایک مشہور و معروف قاعدہ ہے جس کی بنیاد عقل ہے، قرآن کریم نے پیغمبر اکرم  ۖ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
( قُلْ َرََیْتُمْ ِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اﷲِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہِ مَنْ َضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ )(2)
''آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہیں یہ خیال ہے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا''۔
البتہ یہ بات ان لوگوں کے سلسلہ میں ہے جن کے یہاں کوئی دلیل و منطق قبول نہیں کی جاتی ، در حقیقت وہ آخری بات جو متعصب، مغرور اور ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے : اگر تم لوگ قرآن، توحید اور وجود خدا کی حقانیت کو سوفی صد نہیں مانتے تو یہ بات بھی مسلم ہے کہ اس کے بر خلاف بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ قرآنی دعوت اور قیامت واقعیت رکھتے ہوں تو اس موقع پر تم لوگ سوچ سکتے ہو کہ دین خدا سے گمراہی اور شدید مخالفت کی وجہ سے تمہاری زندگی کس قدر تاریکی اور اندھیرے میں ہوگی۔
اس بات کو ائمہ علیہم السلام نے ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے آخری بات کے عنوان سے کی ہے،جیسا کہ اصول کافی میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے ملحد و منکر خدا ''ابن ابی العوجائ'' سے متعدد مرتبہ بحث و گفتگو فرمائی ہے،اور اس گفتگو کاآخری سلسلہ حج کے موسم میں ہوئی ملاقات پر تمام ہواجب امام علیہ السلام کے بعض اصحاب نے  آپ سے کہا: کیا ''ابن ابی العوجائ'' مسلمان ہوگیا ہے؟!تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا دل کہیں زیادہ اندھا ہے یہ ہرگز مسلمان نہیں ہوگا، لیکن جس وقت اس کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کہا: اے میرے مولا و آقا!
امام علیہ السلام نے فرمایا:  ''ماجائَ بِکَ لیٰ ہذَا المَوضِع'' (تو یہاں کیا کررہا ہے؟)
تو اس نے عرض کی:  ''عادة الجسد، و سنة البلد، و لننظر ما الناس فیہ من الجنون و الحلق و رمی الحجارة!'' (کیونکہ بدن کو عادت ہوگئی ہے اور ماحول اس طرح کا بن گیا ہے ، اس کے علاوہ لوگوں کا دیوانہ پن، ان کا سرمنڈانا اور رمی ِجمرہ دیکھنے کے لئے آگیا ہوں!!)
امام علیہ السلام نے فرمایا: أَنْتَ بعدُ علیٰ عتوک و ضلالک یا عبدَ الکریم! (اے عبد الکریم!تو ابھی بھی اپنے ضلالت و گمراہی پر باقی ہے (3)
اس نے امام علیہ السلام سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کہا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ''لا جدال فی الحج''(حج، جنگ و جدال کی جگہ نہیں ہے) اورامام علیہ السلام نے اس کے ہاتھ سے اپنی عبا کو کھینچتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: ''ان یکن الامر کما تقول۔ ولیس کما تقول۔ نجونا ونجوت ۔ وان یکن الامر کما نقول ۔وھو کمانقول۔نجونا وھلکت''!:
''اگر حقیقت ایسے ہی ہے جیسے تو کہتا ہے کہ (خدا اورقیامت کا کوئی وجود نہیں ہے) جب کہ ہرگز ایسا نہیں ہے، تو ہم بھی اہل نجات ہیں اور تو بھی، لیکن اگر ہمارا عقیدہ ہے ،جب کہ حق بھی یہی ہے تو ہم اہل نجات ہیں اور تو ہلاک ہوجائے گا''۔
''ابن ابی العوجائ'' نے اپنے ساتھی کی طرف رخ کیا اور کہا: ''وجدت فی قلبی حزازة فردونی،فردوہ فمات'' (میں اپنے دل میں درد کا احساس کررہا ہوں، مجھے واپس لے چلو، چنانچہ جیسے ہی اس کو لے کر چلے تو تھوڑی ہی دیر بعدوہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔  (4)(5)
٢۔جذبۂ محبت:
اشارہ:
ایک مشہور و معروف ضرب المثل ہے کہ ''انسان احسان کا غلام ہوتا ہے'' (الانسان عبید الاحسان)
یہی مطلب تھوڑے سے فرق کے ساتھ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
''النسان عبد الحسان''(6)
''انسان، احسان کا غلام ہے''۔
نیزامام علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:
''بالحسان تملک القلوب''(7)
''احسان کے ذریعہ انسان کے قلوب کو مسخر کیا جاتا ہے ''۔
نیز ایک دوسری حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے:
''وافضِلْ علیٰ من شئت تکن أمیرہ''(8)
''ہر شخص کے ساتھ احسان کرو تاکہ اس کے حاکم بن جاؤ''
ان تمام مطالب کا سرچشمہ حدیث ِپیغمبر اکرم  ۖ ہے کہ آپ نے فرمایا:
''نَّ اﷲَ جَعَلَ قُلُوب عبادِہِ علیٰ حُبَّ مَنْ أحسَنَ لیھا ،و بغض من أساء لیھا''(9)
''خداوندعالم نے اپنے بندوں کے دلوں کو اس شخص کی محبت کیلئے جھکادیا ہے جو ان پر احسان کرتا ہے اور ان کے دلوں میں اس شخص کی طرف سے عداوت ڈال دی ہے جو ان سے بدسلوکی کرتا ہے''۔
مختصر یہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ احسان کرے یا اس کی کوئی خدمت کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تو وہ شخص بھی اس سے محبت کرتا ہے، اور نعمت عطا کرنے والے اور احسان کرنے والے سے مانوس ہوجاتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کو مکمل طریقہ سے پہچانے، اور اس کا شکریہ ادا کرے، اور یہ بات بھی طے ہے کہ نعمت اور احسان جتنے اہم ہوتے ہیں ''منعم'' ]یعنی نعمت دینے والے[ کی نسبت اس کی محبت اور اس کی پہچان بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے علمائے علم کلام (عقائد) قدیم الایام سے مذہب کی تحقیق کے سلسلہ میں ''شکرِ منعم'' (نعمت عطا کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کو ) معرفت خدا کی علتوں میں سے ایک علت شمار کرتے ہیں۔
لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ''شکر منعم''کا مسئلہ عقلی حکم سے پہلے ایک عاطفی مسئلہ ہے، اس مختصر سے اشارہ کو عرب کے مشہور و معروف شاعر ''ابو الفتح بستی'' کے شعر پر ختم کرتے ہیں:                             
احسن لی النَّاس تَستعبد قلوبَھُم    
فطالما استعبد النسان حسان
''لوگوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان کے دل پر حکومت کرسکو ، بے شک انسان احسان کا غلام ہوتا ہے''۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: '' ایک روز رسول اکرم ۖ  عائشہ کے حجرے میں تھے تو عائشہ نے سوال کیا کہ آپ اس قدر کیوں خود کو (عبادت کے لئے) زحمت میں ڈالتے ہیں؟ جبکہ خداوندعالم نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ کے الزاموں کو معاف کردیا ہے''(10)
 آنحضرت  ۖ نے فرمایا: ''لاّٰ اکون عبداً شکوراً'' (11) (کیا مجھے اس کا شکر گزار بندہ نہیں ہونا چاہئے؟)
٣۔ فطری لگائو:
اشارہ:
جس وقت فطرت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو اس سے مراد اندرونی ادراک و احساس ہوتا ہے جس کے اوپر کسی عقلی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
جس وقت ہم ایک دلکش منظر ، یا خوبصورت باغ اور چمن دیکھتے ہیں اور ہمارے دل میں اس خوبصورت منظر کے پیش نظر کشش محسوس ہوتی ہے تو اندر سے ہمارا احساس آواز دیتا ہے کہ اس کشش اور لگائو کا نام عشق یا خوبصورتی رکھ دیا جائے، جبکہ یہاں کسی بھی طرح کے استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
                               
جی ہاں!  خوبصورتی کا احساس کرنے والی یہ طاقت ،انسان کی بلند پرواز روح کے خواہشات اور رجحانات میں سے ہے، مذہب کے سلسلہ میں یہ کشش خصوصاً معرفت خدا کا مسئلہ بھی ایک اندورنی اور ذاتی احساس ہے، بلکہ انسان کے اندر سب سے بڑی طاقت کا نام ہے۔
اسی وجہ سے ہم کسی قوم و ملت کو نہیں دیکھتے (نہ آج اور نہ ماضی میں ) کہ ان کے یہاں مذہبی عقائد نہ پائے جاتے ہوں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمیق احساس ہر انسان کے یہاں پایا جاتا ہے۔
قرآن مجید نے عظیم الشان انبیاء کے قیام کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس نکتہ پر توجہ دی ہے کہ رسالت کی ذمہ داری شرک و بت پرستی کا خاتمہ تھا (نہ کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا، کیونکہ یہ موضوع تو ہر انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے)
یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انبیاء علیہم السلام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ''خدا پرستی کا درخت'' لوگوں کے دلوں میں لگائیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں موجود اس درخت کی آبیاری کریںاور اس کے پاس سے بے کار گھاس اور کانٹوں کو ہٹادیں جن کی وجہ سے کبھی یہ درخت بالکل خشک ہوسکتا ہے یہاں تک کہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔
''الاَّ تعبد وا لاَّ اﷲ'' یا ''الَّا تعبدوا لاَّ یاہُ'' (خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرو) اس جملہ میں بتوں کی پوجا سے روکا جارہا ہے نہ یہ کہ وجود خدا کو ثابت کیا جارہا ہے، اور یہ جملہ بہت سے انبیاء کی گفتگو میں بیان ہوا ، منجملہ حضرت پیغمبر اکرم  ۖ کی تبلیغ میں (12)جناب نوح علیہ السلام کی تبلیغ میں(13) جناب یوسف علیہ السلام کی تبلیغ میں(14) اور جناب ہود علیہ السلام کی تبلیغ میں بیان ہوا ہے۔(15)
اس کے علاوہ ہمارے دل و جان میں دوسرے فطری احساسات بھی پائے جاتے ہیں جیسے علم و دانش ؛ جن کے بارے میں بہت زیادہ شوق و رغبت ہوتی ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا کے عجیب و غریب نظام کو تو دیکھیں لیکن اس نظام کے پیدا کرنے والے کی معرفت و شناخت کے سلسلہ میں کوئی شوق ورغبت نہ ہو؟
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دانشور چیونٹیوں کی شناخت کے بارے میں بیس سال تک ریسرچ کرے اور دوسرا دسیوں سال پرندوں یا درختوں، یا دریائی مچھلیوں کے بارے میں تحقیق کرے ، لیکن اس کے دل میں علم کا شوق نہ پایا جاتا ہو؟ کیا یہ لوگ اس وسیع و عریض دنیا کے سرچشمہ کی تلاش نہیں کریں گے؟!
جی ہاں! یہ تمام چیزیں ہمیں ''معرفت خدا''کی دعوت دیتی ہیں، ہماری عقل کو اس بات کی طرف بلاتی ہیں، ہماری عاطفی طاقت کو اس طرف جذب کرتی ہیں اور ہماری فطرت کو اس راستہ کی طرف لگاتی ہیں۔(16)
حوالہ جات
(1) تفسیر پیام قرآن ،جلد ٢، ص٢٤.
 (2)سورہ فصلت آیت٥٢.
(3) ''عبد الکریم '' کا اصلی نام ''ابن ابی العوجائ'' تھا،کیونکہ وہ منکر خدا تھا لہٰذا امام نے خاص طور سے اس کواس نام سے پکارا تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے.
(4) کافی، جلد اول، صفحہ ٦١، (کتاب التوحید باب حدوث العالم)
(5) تفسیر نمونہ ج٢٠، صفحہ ٣٢٥.
(6) غررالحکم.
(7) وہی حوالہ
(8) بحار الانوار ، جلد ٧٧، صفحہ ٤٢١ ( آخوندی)
(9) تحف العقول ص٣٧ (بخش کلمات پیامبر  ۖ)
(10) سورۂ فتح کی پہلی آیت کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفسیر کی وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ٢٢، کے صفحہ ١٨ پر موجود ہے.
(11) اصول کافی ،جلد ٢،باب الشکر حدیث٦.
(12) سورۂ ہود، آیت٢.
(13) سورۂ ہود، آیت٢٦.
(14) سورۂ یوسف، آیت٤٠.
(15) سورۂ احقاف ، آیت٢١.
(16) تفسیر پیام قرآن ، جلد ٢، صفحہ ٣٤.

تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:56 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |




 خداوندعالم کو کیوں درک نہیں کیا جاسکتا؟ خداوندعالم کی ذات پاک کا نامحدود ہونا اور ہماری عقل ، علم اور دانش کا محدود ہونا ہی اس مسئلہ کا اصلی نکتہ ہے۔
خداوندعالم کا وجود ہر لحاظ سے لامتناہی ہے، اس کی ذات ،اس کے علم و قدرت اور دوسرے صفات کی طرح نامحدود اورختم نہ ہونے والا ہے، دوسری طرف ہم اور جو چیزیں ہم سے متعلق ہیں چاہے علم ہو یا قدرت، زندگی ہو یا ہمارے اختیار میں موجود دوسرے امور سب کے سب محدود ہیں۔
لہٰذا ہم اپنی تمام تر محدودیت کے ساتھ کس طرح خدا وندعالم کے لامحدود وجود اور نا محدود صفات کو درک کرسکتے ہیں؟ ہمارا محدود علم اس لامحدود وجود کی خبر کس طرح دے سکتا ہے؟۔
جی ہاں! اگر ہم دور سے کسی چیز کو دیکھیں اگرچہ وہ ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو لیکن پھر بھی اس کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کیا جاسکتا ہے، لیکن خداوندعالم کی ذات اور صفات کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے یعنی تفصیلی طور پر اس کی ذات کا علم نہیں ہوسکتا۔
اس کے علاوہ ایک لامحدود وجود کسی بھی لحاظ سے اپنا مثل و مانند نہیں رکھتا، وہ محض اکیلا ہے کوئی دوسرا اس کی طرح نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی دوسرا اس کی مانند ہوتا تودونوں محدود ہوجاتے۔
اب ہم کس طرح اس وجود کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کریں جس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سبھی ممکنات کے دائرے میں شامل ہے، اور اس کے صفات خداوندعالم سے مکمل طورپرفرق رکھتے ہیں(١)
ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اصل وجود سے آگاہ نہیں ہیں، اس کے علم، قدرت، ارادہ اور اس کی حیات سے بے خبر ہیں، بلکہ ہم ان تمام امور کے سلسلہ میں ایک اجمالی معرفت رکھتے ہیں، جن کی گہرائی اور باطن سے بے خبر ہیں، بڑے بڑے علمااور دانشوروں کے عقلی گھوڑے (بغیر کسی استثنا کے)اس مقام پر لنگڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں، یا شاعر کے بقول:
بہ عقل نازی حکیم تاکی؟     بہ فکرت این رہ نمی شود طی!
بہ کنہ ذاتش خرد برد پی     اگر رسد خس و بہ قعر دریا!(٢)
''اے حکیم و دانا و فلسفی تو اپنی عقل پر کب تک ناز کرے گا، تو عقل کے ذریعہ اس راہ کو طے نہیں کرسکتا۔
اس کی کنہِ ذات تک عقل نہیں پہنچ سکتی ہیں جس طرح خس و خاشاک سمندر کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل ہوئی ہے:
''ذا انتہیٰ الکلام لیٰ اﷲ فامسکوا''(۳)
'' جس وقت بات خدا تک پہنچ جائے تو اس وقت خاموش ہوجائو''
یعنی حقیقت خدا کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ اس کے سلسلہ میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں اور کسی مقام پر نہیں پہنچ سکتیں، اس کی لامحدود ذات کے بارے میں محدود عقلوں کے ذریعہ سوچنا ناممکن ہے، کیونکہ جو چیز بھی عقل و فکر کے دائرہ میں آجائے وہ محدود ہوتی ہے اور خداوندعالم کا محدود ہونا محال ہے۔(۴)
یا واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ جس وقت ہم اس دنیا کی عجیب و غریب چیزوں اور ان کی ظرافت و عظمت کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں یا خود اپنے اوپر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو اجمالی طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا کوئی پیدا کرنے والا ہے، جبکہ یہ وہی علمِ اجمالی ہے جس پر انسان خدا کی معرفت اور اس کی شناخت کے آخری مرحلہ میں پہنچتا ہے، (لیکن انسان جس قدر اسرار کائنات سے آگاہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے تو اس کی وہ اجمالی معرفت قوی تر ہوتی جاتی ہے) لیکن جب ہم خود اپنے سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ اور کس طرح ہے؟ اور اس کی ذاتِ پاک کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہیں تو حیرت و پریشانی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی شناخت کا راستہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے حالانکہ مکمل طور پر بند بھی ہے۔
اس مسئلہ کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوتِ جاذبہ کا وجود ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو چھوڑتے ہیں تو وہ گرجاتی ہے اور زمین کی طرف آتی ہے ، اور اگر یہ قوتِ جاذبہ نہ ہوتی تو روئے زمین پر بسنے والے کسی موجود کو چین و سکون نہ ملتا،لیکن اس قوۂ جاذبہ کے بارے میں علم ہونا کوئی ایسی بات نہیں جو دانشوروں سے مخصوص ہو ، بلکہ چھوٹے بچے بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں البتہ قوتِ جاذبہ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا دکھائی نہ دینے والی لہریں ہیں ، یا نامعلوم ذرات یا دوسری کوئی طاقت؟ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے ۔
اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ قوتِ جاذبہ ،مادی دنیا میں معلوم شدہ چیز کے برخلاف، ظاہراً کسی چیز کو دوسری جگہ پہنچانے میں کسی زمانہ اور وقت کی محتاج نہیں ہے، نور کے برخلاف جو کہ مادی دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے ، لیکن کبھی اس نور کوایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے لاکھوں سال درکار ہوتے ہیں، جبکہ قوتِ جاذبہ اسے دنیا کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ میں لمحہ بھر میں منتقل کردیتی ہے، یا کم سے کم ہم نے جو سرعت و رفتار سنی ہے اس سے کہیں زیادہ اس کی رفتار ہوتی ہے۔
یہ کونسی طاقت ہے جس کے آثار ایسے(عجیب و غریب) ہیں؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ کوئی شخص بھی اس کا واضح جواب نہیں دیتا، جب اس ''قوتِ جاذبہ  '' (جو ایک مخلوق ہے) کے بارے میں ہمارا علم صرف اجمالی پہلو رکھتا ہے اور اس کے بارے میں تفصیلی علم نہیں ہے، تو پھر کس طرح اس ذات اقدس کی کُنہ (حقیقت) سے باخبر ہوسکتے ہیں جو اس دنیا اور ماورائے طبیعت کا خالق ہے جس کا وجود لامتناہی ہے، لیکن بہر حال ہم اس کو ہر جگہ پر حاضر و ناظر مانتے ہیں اور کسی بھی ایسی جگہ کا تصور نہیں کرتے جہاں اس کا وجود نہ ہو۔
با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من       با صد ہزار   دیدہ  تماشا کنم تو را (۵)
'' تولاکھوں جلووں کے ساتھ جلوہ افروز ہے تاکہ میں لاکھوں آنکھوں کے ذریعہ تیرا دیدار کروں''۔
حوالہ جات
(١)  اگر آپ حضرات تعجب نہ کریں تو ہم ''لامتناہی'' (لامحدود) مفہوم کا تصور ہی نہیں کرسکتے ،لہٰذا کس طرح لفظ ''لامتناہی'' کو استعمال کیا جاتا ہے؟ اور اس کے سلسلہ میں خبر دی جاتی ہے اور اس کے احکام کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے ، تو کیا بغیر تصور کے تصدیق ممکن ہے؟
جواب :  لفظ ''لامتناہی'' دو لفظوں سے مل کر بنا ہے ''لا'' جو کہ عدم اور نہ کے معنی میں ہے اور ''متناہی'' جو کہ محدود کے معنی میں ہے، یعنی ان دونوں کو الگ الگ تصور کیا جاسکتا ہے، (نہ ، محدود) اس کے بعد دونوں کو مرکب کردیا گیا، اور اس کے ذریعہ ایسے وجودکی طرف اشارہ کیا گیاہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اور اس پر (صرف) علم اجمالی حاصل ہوتا ہے . (غور کیجئے)
(٢) پیام قرآن ، جلد ٤، ص٣٣.
(۳) تفسیر ''علی بن ابراہیم '' نور الثقلین ، جلد ٥، صفحہ ١٧٠ کی نقل کے مطابق.
(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ٢٢، صفحہ ٥٥٨.
(۵) پیام امام (شرح نہج البلاغہ)، جلد اول، صفحہ ٩١



تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |




 کس طرح بغیر دیکھے خدا پر ایمان لائیں؟ خدا پرستوں پر مادیوں کا ایک بیہودہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ''انسان کس طرح ایک ایسی چیز پر ایمان لے آئے جس کو اس نے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو یا اپنے حواس سے درک نہ کیا ہو، تم کہتے ہو کہ خدا کا نہ جسم ہے اور نہ اس کے رہنے کے لئے کوئی جگہ، نہ زمان درکار ہے اور نہ کوئی رنگ و بووغیرہ تو ایسے وجود کو کس طرح درک کیا جاسکتا ہے اور کس ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے؟ لہٰذا ہم تو صرف اسی چیز پر ایمان لاسکتے ہیں کہ جس کو اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکیں اور جس چیز کو ہماری عقل درک نہ کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے''۔
جواب :اس اعتراض کے جواب میں مختلف پہلوئوں سے بحث کی جاسکتی ہے:
١۔ معرفت خدا کے سلسلہ میں مادیوں کی مخالفت کے اسباب :
ان کا علمی غرور اور ان کا تمام حقائق پر سائنس کو فوقیت دینا ، اور اسی طرح ہر چیز کو سمجھنے اور پرکھنے کا معیار صرف تجربہ اور مشاہدہ قرار دینا ہے، نیز اس بات کا قائل ہونا کہ طبیعی اور مادی چیزوں کے ذریعہ ہی کسی چیز کو درک کیا جاسکتا ہے، (یہ سخت بھول ہے۔)
کیونکہ ہم اس مقام پر ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ سائنس کے سمجھنے اور پرکھنے کی کوئی حد ہے یا نہیں؟!
واضح ہے کہ اس سوال کا جواب مثبت ہے کیونکہ سائنس کے حدود دوسری موجودات کی طرح محدود ہیں ۔
تو پھر کس طرح لامحدود موجود کو طبیعی چیزوں کے ذریعہ درک کیا جاسکتا ہے؟۔
لہٰذا بنیادی طور پر خداوندعالم، اور موجودات ِماورائے طبیعت ،سائنس کی رسائی سے باہر ہیں، اورجو چیزیں ماورائے طبیعت ہوں ان کو سائنس کے آلات کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، ''ماورائے طبیعت ''سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس کے ذریعہ ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں سے ہر شعبہ کے لئے ایک الگ میزان و مقیاس ہوتا ہے جس سے دوسرے شعبہ میں کام نہیں لیا جاسکتا، نجوم شناسی، فضا شناسی اور جراثیم شناسی میں ریسرچ کے اسباب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔
کبھی بھی ایک مادی ماہر اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ ایک منجم سے کہا جائے کہ فلاں جرثومہ کو ستارہ شناسی وسائل کے ذریعہ ثابت کرو، اسی طرح ایک جراثیم شناس ماہر سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے آلات کے ذریعہ ستاروں کے بارے میں خبر دے ، کیونکہ ہر شخص اپنے علم کے لحاظ سے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرسکتا ہے، اور اپنے دائرے سے باہر نکل کر کسی چیز کے بارے میں ''مثبت'' یا ''منفی'' نظریہ نہیں دے سکتا۔
لہٰذا ہم کس طرح سائنس کو اس بات کا حق دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے دائرے سے باہر بحث و گفتگو کرے ، حالانکہ اس کے دائرے کی حد عالم طبیعت اور اس کے آثار و خواص ہیں؟!
ایک مادی ماہر کو یہ حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں ''ماورائے طبیعت'' کے سلسلہ میں خاموش ہوں، کیونکہ یہ میرے دائرے سے باہر کی بات ہے، نہ یہ کہ وہ ماورائے طبیعت کا انکار کرڈالے، یہ حق اس کو نہیں دیا جاسکتا۔
جیسا کہ اصولِ فلسفۂ حسی کا بانی '' اگسٹ کانٹ'' اپنی کتاب ' امور حسیہ کے بارے میں گفتگو'' میں کہتا ہے:''چونکہ ہم موجودات کے آغاز و انجام سے بے خبر ہیں لہٰذا اپنے زمانہ سے پہلے یا اپنے زمانہ کے بعد آنے والی موجودات کا انکار نہیں کرسکتے، جس طرح سے ان کو ثابت بھی نہیں کرسکتے،(غور کیجئے گا)
 خلاصہ یہ کہ حسی فلسفہ ، جہل مطلق کے ذریعہ کسی بھی طرح کا نظریہ نہیں دیتا، لہٰذا حسی فلسفہ کے فرعی علوم کو بھی موجوات کے آغاز اور انجام کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے ، یعنی ہم خدا کے علم و حکمت ، اوراس کے وجود کا انکار نہ کریں اور اس کے بارے میں نفی و اثبات کے سلسلہ میں بے طرف رہیں ،(نہ انکار کریں اور نہ اثبات) ''
ہمارے کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ''ماورائے طبیعت'' دنیا کو سائنس کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاسکتا، اصولی طور پر وہ خدا جس کو مادی اسباب کے ذریعہ ثابت کیا جائے خدا نہیں ہوسکتا۔
دنیا بھر کے خدا پرستوں کے عقائد کی بنیاد یہ ہے کہ خدا ،مادہ اور مادہ کی خاصیت سے پاک و منزہ ہے، اور اسے کسی بھی مادی وسیلہ سے درک نہیں کیا جاسکتا۔
لہٰذا یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس دنیا کو خلق کرنے والے کو آسمان کی گہرائیوں میں میکروسکوپ (Microscope) یا ٹلسکوپ کے ذریعہ تلاش کیا جاسکتا ہے، یہ خیال بیہودہ اور بیجا ہے۔
٢۔ اس کی نشانیاں
دنیا کی ہر چیز کی پہچان کے لئے کچھ آثار اور نشانیاں ہوتی ہیں ، لہٰذا اس کی نشانیوں کے ذریعہ ہی اس کو پہچانا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ آنکھوں اور دوسرے حواس کے ذریعہ جن چیزوں کو درک کرتے ہیں در حقیقت ان کو بھی آثار اور نشانیوں کے ذریعہ ہی پہچانتے ہیں، (غور کیجئے )
کیونکہ کوئی بھی چیز ہمارے فکر و خیال میں داخل نہیں ہوسکتی اور ہمارا مغز کسی بھی چیز کے لئے ظرف واقع نہیں ہوسکتا۔
مثال کے طور پر:  اگر آپ آنکھوں کے ذریعہ کسی جسم کو تشخیص دینا چاہیں اور اس کے وجود کو درک کرنا چاہیں تو شروع میں اس چیز کی طرف دیکھیں گے اس کے بعد نور کی شعائیں اس پر پڑتی ہیں اور آنکھ کی پتلی میں نورانی لہریں ''شبکیہ'' نامی آنکھ کے پردہ پر منعکس ہوتی ہیں تو بینائی اعصاب نور کو حاصل کرکے مغز تک پہنچاتے ہیں اور پھر انسان اس کو سمجھ لیتا ہے۔
اور اگر لمس کے ذریعہ(یعنی چھوکر) کسی چیز کو درک کریں تو کھال کے نیچے کے اعصاب انسان کے مغز تک اطلاع پہنچاتے ہیں اور انسان اس کو درک کرتا ہے، لہٰذا کسی جسم کو درک کرنا اس کے اثر (رنگ، آواز اور لمس وغیرہ ) کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور کبھی بھی وہ جسم ہمارے مغز میں قرار نہیں پاتا، اور اگر اس کا کوئی رنگ نہ ہو اور اعصاب کے ذریعہ اس کا ادراک نہ کیا جاسکتا ہو تو ہم اس چیز کو بالکل نہیں پہچان سکتے۔
مزید یہ کہ کسی چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا ایک نشانی کا ہونا کافی ہے، مثلاً اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہوکہ دس ہزار سال پہلے زمین کے فلاں حصہ میں ایک آبادی تھی اور اس کے حالات اس طرح تھے، تو صرف وہاں سے ایک مٹی کا کوزہ یا زنگ زدہ اسلحہ برآمد ہونا کافی ہے، اور اسی ایک چیز پر ریسرچ کے ذریعہ ان کی زندگی کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل ہوجائیں گی۔
اس بات کے پیش نظر ہر موجود چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی اس کو اثر یا نشانی کے ذریعہ ہی پہچانا جاتا ہے اور یہ کہ ہر چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا نشانی کا ہونا کافی ہے، تو کیا پوری دنیا میں عجیب و غریب اور اسرار آمیز چیزوں کو دیکھنا خدا کی شناخت اور اس کی معرفت کے لئے کافی نہیں ہے؟!
آپ کسی چیز کو پہچاننے کے لئے ایک اثر پر کفایت کرلیتے ہیں اور ایک مٹی کے کوزہ کے ذریعہ چند ہزار سال پہلے زندگی بسر کرنے والوں کے بعض حالات کا پتہ لگاسکتے ہیں، جبکہ خدا کی شناخت کے لئے ہمارے پاس لاتعداد آثار، لاتعداد موجودات اور بے انتہا نشانیاں موجود ہیں کیا اتنے آثار کافی نہیں ہیں؟! دنیا کے کسی بھی گوشہ پر نظر ڈالیں خدا کی قدرت اور اس کے علم کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں، پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور اپنے کانوں سے نہیں سنا، تجربہ اور ٹلسکوپ کے ذریعہ نہیں دیکھ سکے، توکیا ہر چیز کو صرف آنکھوں سے دیکھا جاتاہے؟!
٣۔ دیکھنے اور نہ دیکھنے والی چیزیں:
خوش قسمتی سے آج سائنس نے ترقی کر کے بہت سی ایسی چیزیں بناڈالی ہیں کہ ان کے وجود سے مادیت اور اس کے نتیجہ میں مادی اور الحادی نظریہ کی تردید ہوجاتی ہے، قدیم زمانہ میں تو ایک دانشور یہ کہہ سکتا تھا کہ جس چیز کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے اس کوقبول نہیں کیا جاسکتا، لیکن آج سائنس کی ترقی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے: اس دنیا میں دیکھی جانے والی اور درک ہونے والی چیزوں سے زیادہ وہ چیزیں ہیں جن کو دیکھا اوردرک نہیں کیا جاسکتا، عالم طبیعت میں اس قدر موجودات ہیں کہ انھیں حواس میں سے کسی کے بھی ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، اور ان کے مقابلہ میں درک ہونے والی چیزیں صفر شمار ہوتی ہیں!
نمونہ کے طور پر چند چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
١۔ علم فیزکس کہتا ہے کہ رنگوں کی سات قسموں سے زیادہ نہیں ہیں جن میں سے پہلا سرخ اور آخری جامنی ہے، لیکن ان کے ماوراء ہزاروں رنگ پائے جاتے ہیں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ بعض حیوانات ان بعض رنگوں کو دیکھتے ہیں۔
اس کی وجہ بھی واضح اور روشن ہے ، کیونکہ نور کی لہروں کے ذریعہ رنگ پیدا ہوتے ہیں، یعنی آفتاب کا نور دوسرے رنگوں سے مرکب ہوکر سفید رنگ کو تشکیل دیتا ہے اور جب جسم پر پڑتا ہے تو وہ جسم مختلف رنگوں کو ہضم کرلیتا ہے اور بعض کو واپس کرتا ہے جن کو واپس کرتا ہے وہ وہی رنگ ہوتا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، لہٰذا اندھیرے میں جسم کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، دوسری طرف نور کی موجوں کی لہروں کی شدت اور ضعف کی وجہ سے رنگوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے اور رنگ بدلتے رہتے ہیں، یعنی اگر نور کی لہروں کی شدت فی سیکنڈ٤٥٨ ہزار ملیارڈ تک پہنچ جائے تو سرخ رنگ بنتا ہے اور ٧٢٧ ہزار ملیارڈ لہروں کے ساتھ جامنی رنگ دکھائی دیتا ہے ، اس سے زیادہ لہروں یا کم لہروں میں بہت سے رنگ ہوتے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے ۔
٢۔ آواز کی موجیں ١٦مرتبہ فی سیکنڈ سے لے کر ٢٠٠٠٠ مرتبہ فی سیکنڈ تک ہمارے لئے قابل فہم ہیں اگر اس سے کم یا زیادہ ہوجائے تو ہم اس آواز کو نہیں سن سکتے۔
٣۔ امواجِ نور کی جن لہروں کو ہم درک کرسکتے ہیں انھیں٤٥٨ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ سے ٧٢٧ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ تک کی حدود میں ہونا چاہئے اس سے کم یا زیادہ چاہے فضا میں کتنی ہی موجیں موجود ہوں ہم ان کو درک نہیں کرسکتے۔
٤۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے جانداروں (وائرس اور بیکٹریز) کی تعداد انسان کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں، اور بغیر کسی دوربین کے دیکھے نہیں جاسکتے ، اور شاید اس کے علاوہ بہت سے ایسے چھوٹے جاندار پائے جاتے ہیں جن کو سائنس کی بڑی بڑی دوربینوں کے ذریعہ ابھی تک نہ دیکھا گیا ہو۔
٥۔ ایک ایٹم اور اس کی مخصوص باڈی اور الکٹرون کی گردش نیز پروٹن کے ذریعہ ایک ایسی عظیم طاقت ہوتی ہے جو کسی بھی حس کے ذریعہ قابل درک نہیں ہے، حالانکہ دنیاکی ہر چیز ایٹم سے بنتی ہے، اور ہوا میں بمشکل دکھائی دینے والے ایک ذرہ غبار میں لاکھوں ایٹم پائے جاتے ہیں۔
گزشتہ دانشوروں نے جو کچھ ایٹم کے بارے میں نظریہ پیش کیا تھا وہ صرف تھیوری کی حد تک تھا لیکن کسی نے بھی ان کی باتوں کو نہیں جھٹلایا۔(١)                             
لہٰذا اگر کوئی چیز غیر محسوس ہے تو یہ اس کے نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے، آپ دیکھئے دنیا میں ایسی بہت سی چیزیں بھری پڑی ہیں جو غیر محسوس ہیں جن کو ہمارے حواس درک نہیں کرسکتے!
 جیسا کہ ایٹم کے کشف سے پہلے یا ذرہ بینی (چھوٹی چھوٹی چیزوں) کے کشف سے پہلے کسی کو اس بات کا حق نہیں تھا کہ ان کا انکار کرے، اور ممکن ہے کہ بہت سی چیزیں ہمارے لحاظ سے مخفی ہوں اور ابھی تک سائنس نے ان کو کشف نہ کیا ہو بلکہ بعد میں کشف ہوں تو ایسی صورت میں ہماری عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان شرائط (علم کا محدود ہونا اور مختلف چیزوں کے درک سے عاجز ہونے) کے تحت ہم ان چیزوں کے بارے میں نظریہ پیش کریں کہ وہ چیزیں ہیں یا نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ہمارے حواس اور دوسرے وسائل کا دائرہ محدود ہے لہٰذا ان کے ذریعہ ہم عالَم کو بھی محدود مانیں۔(۲)                                   
انھیں چیزوں میں سے ہوا بھی ہے جوہمہ وقت ہمارے چاروں طرف موجود رہتی ہے اوراس قدر وزنی ہے کہ ہر انسان ١٦ ہزار کلوگرام کے برابر اس کو برداشت کرسکتا ہے، اور ہمیشہ عجیب و غریب دبائو میں رہتا ہے البتہ چونکہ یہ دبائو (اس کے اندرونی دبائو کی وجہ سے) ختم ہوتا رہتا ہے لہٰذا اس دبائو کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جبکہ کوئی بھی انسان یہ تصور نہیں کرتا کہ ہوا اس قدر وزنی ہے، ''گلیلیو'' اور ''پاسکال'' سے پہلے کسی کو ہوا کے وزن کا علم نہیں تھا، اور اب جبکہ سائنس نے اس کے وزن کی صحت کی گواہی دے دی پھر بھی ہم اس کا احساس نہیں کرتے.
انھیں غیر محسوس چیزوں میں سے ''اٹر'' ہے کہ بہت سے دانشوروں نے ریسرچ کے بعد اس کااعتراف کیا ہے، اور ان کے نظریہ کے مطابق یہ شئے تمام جگہوں پر موجود ہے اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے، بلکہ بعض دانشور تو اس کو تمام چیزوں کی اصل مانتے ہیں، اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ ''اٹر'' ایک بے وزن اوربے رنگ چیز ہے اور اس کی کوئی بو بھی نہیں ہوتی... جو تمام ستاروں اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے اور تمام چیزوں کے اندر نفوذ کئے ہوئے ہے، لیکن ہم اسے درک کرنے سے قاصر ہیں.
البتہ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ دعویٰ کرناچاہتے ہیں کہ جس طرح سے الکٹرون ، پروٹون یا دوسرے رنگ سائنس نے کشف کئے ہیں تو سائنس مزید ترقی کرکے بعض مجہول چیزوں کو کشف کرلے گی، اور ممکن ہے کہ ایک روز ایسا آئے کہ اپنے ساز و سامان کے ذریعہ ''عالم ماورائے طبیعت'' کو بھی کشف کرلے!
جی نہیں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا کہ ''ماورائے طبیعت'' اور ''ماورائے مادہ '' کو مادی وسائل کے ذریعہ نہیں سمجھا جاسکتا، اور یہ کام مادی اسباب و سازو سامان کے بس کی بات نہیں ہے۔                        
مطلب یہ ہے کہ جس طرح بعض چیزوں کے کشف ہونے سے پہلے ان کے بارے میں انکار کرنا جائز نہیں تھا اور ہمیں اس بات کا حق نہیں تھا کہ یہ کہتے ہوئے انکار کریں کہ فلاں چیز کوچونکہ ہم نہیں دیکھتے؛ جن چیزوں کو دنیاوی سازو سامان کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا ، یاوہ سائنس کے ذریعہ ثابت نہیں ہیں لہٰذا ان کا کوئی وجود نہیں ہے، اسی طرح سے ''ماورائے طبیعت'' کے بارے میں یہ نظریہ نہیں دے سکتے کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے، لہٰذا اس غلط راستہ کو چھوڑنا ہوگا اور خدا پرستوں کے دلائل کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اس کے بعد اپنی رائے کے اظہار کا حق ہوگا اس لئے کہ اس صورت میں واقعی طور پر اس کا نتیجہ مثبت ہوگا(۳)
حوالہ جات
(١) منجملہ ان چیزوں کے جو محسوس نہیں ہوتی لیکن کسی بھی دانشور نے ان کا انکار نہیں کیا ہے زمین کی حرکت ہے یعنی کرۂ زمین گھومتا ہے، اور یہ وہی ''مدو جزر''(پھیلنا اورسکڑنا ) ہے جو اس زمین پر رونما ہوتا ہے، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پائوں تلے کی زمین دن میں دو بار ٣٠ سینٹی میٹر اوپر آتی ہے ، جس کو نہ کبھی ہم نے دیکھا، اور نہ کبھی اس کااحساس کیا، یہ زمین دن میں دو بار ٣٠cmاوپر آتی ہے.
(۲)  مذکورہ بالا مطلب کی تصدیق کے لئے ''کامیل فلامارین'' کی کتاب ''اسرار موت'' سے ایک اقتباس آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر تے ہیں:
''لوگ جہالت ونادانی کی وادی میں زندگی بسر کررہے ہیں اور انسان یہ نہیں جانتا کہ اس کی یہ جسمانی ترکیب اس کو حقائق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتی ہے، اور اس کویہ حواس خمسہ ،کسی بھی چیز میں دھوکہ دے سکتے ہیں، صرف انسان کی عقل و فکر اور علمی غور و فکر ہی حقائق کی طرف رہنمائی کرسکتی ہیں''! اس کے بعد ان چیزوں کو بیان کرنا شروع کرتا ہے جن کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے، اوراس کے بعد مؤلف کتاب ایک ایک کرکے بیان کرتا ہے اور پھر ہر ایک حس کی محدودیت کو ثابت کرتا ہے یہاں تک کہ کہتا ہے:''لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری عقل اور سائنس کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ بہت سی حرکات ، ذرات، ہوا ، طاقتیں اور دیگر چیزیں ایسی ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے، اور ان حواس میں سے کسی ایک سے بھی ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے اطراف میں بہت سی ایسی چیزیں ہوں جن کا ہم احساس نہیں کرتے ، بہت سے ایسے جاندار ہوں جن کو ہم نہیں دیکھتے، جن کا احساس نہیں کرتے، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ ''ہیں'' بلکہ ہم یہ کہیں : ''ممکن ہے کہ ہوں'' کیونکہ گزشتہ باتوں کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے حواس تمام موجودات کو ہمارے لئے کشف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ بلکہ یہی حواس بعض اوقات تو ہمیں فریب دیتے ہیں ،اور بہت سی چیزوں کو حقیقت کے بر خلاف دکھاتے ہیں، لہٰذا ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ تمام موجودات کی حقیقت صرف وہی ہے جس کو ہم اپنے حواس کے ذریعہ درک کرلیں، بلکہ ہمیں اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ بہت سی موجودات ہوں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، جیسا کہ ''جراثیم'' کے کشف سے پہلے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ''لاکھوں جراثیم'' ہر چیزکے چاروں طرف موجود ہوں گے، اور ان جراثیم کے لئے ہر جاندار کی زندگی ایک میدان کی صورت رکھتی ہوگی.
نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے یہ ظاہری حواس اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ موجودات کی حقیقت اور ان کی واقعیت کا صحیح پتہ لگاسکیں، مکمل طور پر حقائق کو بیان کرنے والی شئے ہماری عقل اور فکر ہوتی ہے'' (نقل از علی اطلال المذہب المادی، تالیف فرید وجدی ، جلد ٤)
(۳) آفریدگار جہان، آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کی بحثوں کا مجموعہ، صفحہ ٢٤٨.



تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

شیعہ مکتب کا عقیدہ یہی ہے کہ لامؤثر فی الوجود الا اللہ اور اگر اللہ کے سوا کسی اور میں کچھ کرنے کی کوئی صلاحیت ہے تو وہ اسی لئے ہے کہ انہیں یہ سب کچھ اللہ تعالی نے عنایت فرمایا ہے۔ منشأِ وجود صرف اللہ ہے جس کے بارے میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے بے شمار ارشادات موجود ہیں۔ 

 کیا یا علی مدد کہنا جائز ہے

سوال؛ اہل سنت اور اہل تشیع کے علما‏ء کے حوالے سے جواب دیتے ہیں:

بریلوی جواب:

سوال نمبر 910:
کیا یا علی مدد اور المدد یا غوث الاعظم کہنا جائز ہے؟ مہربانی فرما کر شرعی دلیل کے ساتھ سمجھا دیں۔
جواب:
انبیا کرام خصوصاً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپکی امت کے اولیاء کرام کے لیے مجازاً یہ الفاظ استعمال کرنا جائز ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ اپنے چچا سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی عزوہ احد میں شہادت پر اس قدر روئے کہ انہیں ساری زندگی اتنی شدت سے روتے نہیں دیکھا گیا۔ پھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمانے لگے :
يا حمزة يا عم رسول الله اسد الله واسد رسوله يا حمزة يا فاعل الخيرات! يا حمزة ياکاشف الکربات يا ذاب عن وجه رسول الله.
(المواهب اللدينه، 1 : 212)
آپ نے دیکھا کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام اپنے وفات شدہ چچا سے فرما رہے ہیں یا کاشف الکربات (اے تکالیف کو دور کرنے والے)۔ اگر اس میں ذرہ برابر بھی شبہ شرک ہوتا تو آپ اس طرح نہ کرتے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے پیارے اور مقرب بندے قابل توسل ہیں۔
لہذا یہ جائز ہے لیکن خیال رہے کہ حقیقی مستعان فقط صرف اللہ ہی ہے اور اولیاء کرام فقط وسیلہ ہے۔
مزید تفصیل کے لیے آپ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتاب مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت کا مطالعہ فرمائیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان
تاریخ اشاعت: 2011-04-20

فتوی آنلائن

استغاثہ و استمداد /نداء یار سول اللہ

کیا علی علیہ السلام کو مشکل کشا (مشکل حل کرنے والے) کہنا درست ہے؟

دیوبندی جواب:
فتوی: 1925=1547/1430/ھ
امیرالموٴمنین خلفیة الرابع سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ مشکل سے مشکل مقدمات اور پیچیدہ معاملات میں فیصلہ فرماکر بہت آسانی سے حل فرمادیا کرتے تھے، اسی لیے حضرت رضی اللہ عنہ کو حلّال المعضلات کے لقب سے ملقب کیا جاتا تھا، جس کا ترجمہ بزبان فارسی مشکل کشا ہے، اس معنی کے لحاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر امت پر اس لفظ کا اطلاق درست ہے، شرعاً یا عقلاً اس میں کچھ استبعاد یا مانع نہیں ہے.
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
(مفتی صاحب نے یہاں تک تصدیق کی ہے اور ہم بھی یہیں تک صارفین و قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اگر آپ ان کا مزید فتوی دیکھنا چاہتے ہیں جہاں مفتی صاحب نے ذاتی تبصرہ لکھا ہے تو یه لیجئے لنک)

شیعہ جواب:

کیا یا علی مدد اور یا علی ادرکنی کہنا جائز ہے؟
جواب:
حجت اللہ اور ولی اللہ سے مدد مانگنا اور ان سے استغاثہ کرنا جائز ہے جس کی سب سے اہم دلیل دعائے فَرَج ہے۔
شیخ عباس قمی المعروف "محدث قمی" رحمة اللہ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ اور زندہ جاوید کتاب دعاء "مفاتیح الجنان" (جنت کی کنجیاں) میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت امام زمانہ ولی العصر بقیةاللہ الاعظم سلام اللہ علیہ و علی آبائہ الطیبین الطاہرین، نے ایک شخص کو اس دعا کی تعلیم دی جو اسیر تھا اور وہ اسیری سے رہا ہو گیا۔ یہ دعاء کفعمی کی کتاب بلدالامین سے نقل ہوئی ہے۔ شیعہ کے نزدیک یہ یا محمد (ص) اور یا علی (ع) کہنا بعنوان وسیلہ الی اللہ، جائز ہے۔
دعائے فَرَج:
الهی عظم البلاء و برح الخفاء وانکشف الغطاء و انقطع الرجاء وضاقت الارض و منعت السماء و انت المستعان و الیک المشتکی و علیک المعول فی الشدة و الرخا اللهم صل علی محمد و آل محمد اولی الامر الذین فرحت علینا طاعتهم و عرفتنا بذلک منزلتهم ففرج عنا بحقهم فرجا عاجلا فریبا کلمح البصر او هو اقرب یا محمد یا علی یا علی یا محمد اکفیانی فانکما کافیان و انصرانی فانکما ناصران یا مولانا یا صاحب الزمان الغوث الغوث ادرکنی ادرکنی الساعه الساعه الساعه العجل العجل العجل یا ارحم الراحمین بحق محمد و اله الطاهرین۔
۔۔۔۔۔۔
دعائے توسل میں بھی واضح طور پر چودہ معصومین علیہم السلام کو وسیلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کی آبرو اور عظمت کے صدقے ہم اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہیں اور اگر وہ مدد کرسکتے ہیں تو اس کی وجہ بھی اذن الہی ہے اور اگر ہم اہل بیت (ع) کو معاذاللہ خدا کے مساوی قرار دیں اور کہیں کہ اللہ کے اذن کے سوا وہ خود ہی سب کچھ کرنے پر قادر ہیں تو یہ شرک کے زمرے میں آئے گا۔ لیکن اگر ہم یا رسول اللہ (ص) یا علی (ع) یا ۔۔۔ کو اس عنوان سے ورد زبان بنائے رکھیں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں صاحبان عزت و عظمت ہیں اور اللہ تعالی ان کی دعا رد نہیں کرتا تو یہ عین عبادت اور عین توحید ہے اور شیعہ مکتب کا عقیدہ یہی ہے کہ لامؤثر فی الوجود الا اللہ اور اگر اللہ کے سوا کسی اور میں کچھ کرنے کی کوئی صلاحیت ہے تو وہ اسی لئے ہے کہ انہیں یہ سب کچھ اللہ تعالی نے عنایت فرمایا ہے۔ منشأِ وجود صرف اللہ ہے جس کے بارے میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کے بے شمار ارشادات موجود ہیں۔



تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


پیغمبر اسلام (ص) کی بعثت، شرک، ناانصافی، نسلی قومی و لسانی امتیازات، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز کہی جا سکتی ہے. 

 27 رجب المرجب؛ رسول اللہ (ص) کی بعثت؛ مسلمانان عالم کو یہ عید مبارک ہو

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا :-

ہجرت سے 13 سال قبل،27 رجب المرجب کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت، شرک، ناانصافی، نسلی قومی و لسانی امتیازات، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز ہے اور صحیح معنوں میں خدا کے آخری نبی نے انبیائے ما سبق کی فراموش شدہ تعلیمات کو از سر نو زندہ و تابندہ کرکے عالم بشریت کو توحید، معنویت، عدل و انصاف اورعزت و کرامت کی طرف آگے بڑھایا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دلنشین پیغامات کے ذریعے انسانوں کو مخاطب کیا کہ ”خبردار ! خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا اور کسی کواس کا شریک قرار نہ دینا تاکہ تم نجات و فلاح پا سکو“۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس پر خلوص معنوی تبلیغ نے جہالت و خرافات کی دیواریں بڑی تیزی سے ڈھانا شروع کردیں اورلوگ جوق درجوق اسلام کے گرویدہ ہوتے چلے گئے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت جو درحقیقت انسانوں کی بیداری اورعلم و خرد کی شگوفائی کا دور ہے۔

مورخین کابیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا میں عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی " یامحمد" آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھرآوازآئی پھرآپ نے ادھرادھردیکھا، ناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پرپڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقراء“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا " مااقراء" کیاپڑھوں انہوں نے عرض کی کہ " اقراء باسم ربک الذی خلق الخ" پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔
مپیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۳۸سال کی عمرمیں " کوہ حرا " کواپنی عبادت گذاری کی منزل قراردیااوراس کے ایک غارمیں بیٹھ کرعبادت کرتے تھے۔

غارکی لمبائی چارہاتھ اورچوڑائی ڈیڑھ ہاتھ تھی اورخانہ کعبہ کودیکھ کرلذت محسوس کرتے تھے یوں تو دو دو، چارچارشبانہ روز وہاں رہاکرتے تھے لیکن ماہ رمضان سارے کا سارا وہیں گزارتے تھے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی عالم تنہائی میں مشغول عبادت تھے کہ آپ کے کانوں میں آوازآئی " یامحمد" آپ نے ادھرادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔ پھر آواز آئی پھرآپ نے ادھر ادھر دیکھا ناگاہ آپ کی نظرایک نورانی مخلوق پر پڑی وہ جناب جبرائیل تھے انہوں نے کہا کہ ”اقراء“ پڑھو، حضورنے ارشاد فرمایا”مااقراء-“ کیاپڑھوں انہوں نے عرض کیا کہ " اقراء باسم ربک الذی خلق الخ" پھرآپ نے سب کچھ پڑھ دیا۔
کیونکہ آپ کوعلم قرآن پہلے سے حاصل تھا جبرئیل کے اس تحریک اقراء کا مقصدیہ تھا کہ نزول قرآن کی ابتداء ہوجائے اس وقت آ پ کی عمر چالیس سال ایک یوم تھی اس کے بعد جبرئیل نے وضو اور نماز کی طرف اشارہ کیا اور اس کی تعداد رکعات کی طرف بھی حضور کو متوجہ کیا چنانچہ حضور والا صفات نے وضو کیا اور نماز پڑھی آپ نے سب سے پہلے جو نماز پڑھی وہ ظہر کی تھی پھر حضرت وہاں سے اپنے گھرتشریف لائے اور خدیجةالکبری اور علی ابن ابی طالب علیهماالسلام سے واقعہ بیان فرمایا۔

ان دو بزرگواروں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! ہم عرصۂ دراز سے اس دن کا انتظار کررہے تھے۔ اور یوں دونوں ایمان لائے اور دونوں نے اظہار ایمان کیا اور نماز عصر ان دونوں نے رسول الله (ص) کی امامت مین با جماعت ادا کی یہ اسلام کی پہلی نماز باجماعت تھی جس میں رسول کریم امام اورخدیجہ اورعلی ماموم تھے۔

آپ درجہ نبوت پر ابتدا ہی سے فائزتھے، ۲۷رجب کومبعوث برسالت ہوئے اسی تاریخ کونزول قرآن کی ابتداء ہوئی۔

یہاں اس افسانے کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے جو بعض اسلام مخالف قوتوں کے لئے بھی ایک دستاویز کی صورت اختیار کرگیا ہے اور وہ یوں کہ رسول اللہ (ص) غار حرا سے آئے تو آپ (ع) کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آپ (ص) کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے؟ اور یہ کہ آپ کو بخار چڑھ گیا تھا اور ام المؤمنین سیدہ خدیجة الکبری سلام اللہ علیہا نے آپ (ص) کو چادر دی اور آپ نے چادر اوڑھ لی۔ اور پھر حضرت خدیجہ نے عرض کیا: یا محمد (ص)! فکرمندی کی کوئی ضرورت نہین ہے، میرے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل ان مسائل سے آگہی رکھتے ہیں اب ان کے پاس جاکر معلوم کرتے ہیں کہ کیا واقعہ نمودار ہوا ہے۔ دونوں ورقہ کے پاس پہنچے اور معاذاللہ ورقہ نے کہا: "لگتا ہے کہ آپ اس زمانے کے نبی ہیں"!!!؟؟؟... یہ ایک جھوٹا افسانہ ہے جو شیعہ عقائد کے مطابق بالکل باطل اور غلط ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) نے خود ہی فرمایا ہے کہ "میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (ع) پانی اور مٹی کے درمیان تھے"۔
بعثت کے بعد آپ نے تین سال تک نہایت رازداری اورپوشیدگی کے ساتھ فرائض انجام دیئے اس کے بعد کھلے عام تبلیغ کاحکم آگیا”فاصدع بما تؤمر“ جو حکم دیاگیاہے اس کی تکمیل کرو،
تاریخ ابو الفدا میں ہے کہ " تین برس تک پیغمبر خدا دعوت فطرت اسلام خفیہ کرتے رہے مگر جب کہ یہ آیت نازل ہوئی" و انذر عشیرتک الاقربین" یعنی ڈرا اپنے کنبے والوں کو جو قریبی رشتہ دار ہیں....

.....



تاريخ : جمعه هفدهم خرداد ۱۳۹۲ | 20:42 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

شام کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج کے مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے بعد اس شہر کے بلندیوں پر دوبارہ پرچم شام لہرا دیا گیا ہے۔ 

 القصیر آزاد/ لبنان اور شام میں جشن مسرت/ ایران کی شام کو مبارک باد
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شامی فوج کی مسلسل تین ہفتہ جد و جہد کے بعد دو سال سے مقبوضہ شہر القصیر کو تفکیری دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک کروا لیا ہے۔

 القصیر میں پرچم شام لہرا دیا گیا

شام کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج کے مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے بعد اس شہر کے بلندیوں پر دوبارہ پرچم شام لہرا دیا گیا ہے۔
القاعدہ سے وابستہ سلفی وہابی دہشت گردوں کی کثیر تعداد اس شہر میں ہلاک اور مابقی فرار ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ القصیر شام کے صوبہ حمص کا شہر ہے جس پر گذشتہ دوسال سے القاعدہ سے وابستہ ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا قبضہ تھا شامی فوج نے تین ہفتوں کی کارروائی کے دوران القصیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اس کارروائی درجنوں سلفی وہابی دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں بہت سے دہشت گرد شام کے اس سرحدی شہر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ شام کے اہلسنت اور دیگر شامی اقوام نے ملکر شام کو سلفی وہابیوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا ہےاور سعودی عرب اور قطر کے سلفی وہابی ملاؤں کے فتوے بھی سلفی وہابی دہشت گردوں کے کچھ کام نہ آئے اہلسنت علماء ، سلفی وہابیوں کو بے دین سمجھتے ہیں۔

القصیر کی آزادی پر شام اور لبنان میں جشن مسرت
شامی اور لبنانی عوام نے شام کے شہر القصیر پر شامی فوج کی فتح اور دہشت گردوں کی شکست پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی ہے۔ شامی فوج نے القصیر پر امریکہ و اسرائيل سے وابستہ القاعدہ دہشت گردوں پر کاری ضرب وارد کرتے ہوئے شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
 ذرائع کے مطابق اجتماعی و سماجی نیٹ روکس پر جاری تصویروں سے پتہ چلتا ہے القصیر شہر پر شامی فوج کی کامیابی پر شام اور لبنان کے عوام جشن اور خوشی منارہے ہیں۔ القصیر شہر پر گذشتہ دو برسوں سے سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ اور اسرائیل نواز سلفی وہابی دہشت گردوں کا قبضہ تھا جسے شامی فوج نے تین ہفتوں کی مرحلہ وار کارروائی کے دوران آج مکمل طور پر آزاد کرلیا ہے شامی فوج نے اس علاقہ میں سلفی وہابیوں کی کمر توڑتے ہوئے انھیں عبرتناک سبق سکھایا ہے۔

 صدر مملک احمدی نژاد کی بشار الاسد کو مبارک باد
 شام کی نیوز ایجنسی دام پرس کے مطابق شام کے شہر القصیر کے تکفیری دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک ہونے کے پر مسرت موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے براہ راست شام کے صدر بشار الاسد کو مبارک باد پیش کی ہے۔

القصیر کے آزادی پر ایران کے وزارت خارجہ کی طرف سے کی شام کو مبارک باد
اسلامی جمہوری ایران کے عرب اور افریقائی ممالک کے لئے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے شامی فوج کی طرف سے لبنان کے بارڈر کے نزدیک واقع اہم اور اسٹریٹجک شہر القصیر کو تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کروانے اور مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے پر شام کی حکومت، عوام اور مسلح افواج کو مبارکباد دی ہے۔
 ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض ممالک ابھی تک شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو اسلحہ ارسال کر رہے ہیں، اور شامی حکومت اور عوام کے خلاف ان کے دہشتگردانہ اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ممالک شام میں قتل و غارت اور وہاں ہونے والی تباہی کے براہ راست ذمہ دار ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر مقدمہ چلایا جائے۔ شام کی مسلح افواج نے تقریباً دو ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد آج القصیر شہر کو تکفیری دہشتگردوں سے مکمل طور پر آزاد کروا لیا ہے، اور وہاں پر شام کے پرچم نصب کر دیئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب شامی فوج القصیر شہر کے شمالی حصے سے دہشتگردوں کے فرار کے بعد اس کی پاکسازی کر رہی ہیں اور تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے اس علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ شہر القصیر شام کے صوبہ حمص کا مرکزی شہر ہے۔

تاريخ : پنجشنبه شانزدهم خرداد ۱۳۹۲ | 11:44 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

یمن کے حوثیوں نے گزشتہ روز تحریک حوثی کے بانی ’’سید حسین بدر الدین الحوثی‘‘ کے جسد خاکی کو جو ۹ سال پہلے سابقہ سلطنت کے مظالم کا نشانہ بنے تھے تشییع جنازہ کر کے دفن کر دیا ہے۔ 

 
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن کے حوثیوں نے گزشتہ روز۔ بدھ۔ تحریک حوثی کے بانی ’’سید حسین بدر الدین الحوثی‘‘ کے جسد خاکی کو جو ۹ سال پہلے سابقہ سلطنت کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے تشییع جنازہ کر کے دفن کر دیا ہے۔
شہید بدر الدین الحوثی سے یمنی حوثیوں کی بے انتہا محبت کا اس ملک کے دار الحکومت میں جگہ جگہ نصب شدہ ان بورڈز سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جو شہید بدر الدین کے نام سے مختلف طرح کی عبارتوں کے ساتھ نصب کئے ہیں جو سابقہ سلطنت کے مظالم کی عکاسی کرتی ہیں اور حال حاضر عربی ممالک خاص طور پر قطر اور سعودی عرب کی برہمی کا باعث ہیں۔





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاريخ : پنجشنبه شانزدهم خرداد ۱۳۹۲ | 11:43 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے بروز شہادت کاظمین میں ساٹھ لاکھ زائروں اور عزاداروں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کا تابوت اٹھا کر ماتم اور سینہ زنی کرتے ہوئے فرزند امام حضرت حجت علیہ السلام کو ان کے جد کا پرسہ دیا:
 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



تاريخ : پنجشنبه شانزدهم خرداد ۱۳۹۲ | 11:42 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


اسلام ٹائمز: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بلتستان کے اپنے مختصر دورے کے دوران علاقہ شگر، کچورا، روندو اور گمبہ اسکردو کا دورہ بھی کیا۔ اسکردو میں مرکزی محفل عید، روندو محفل عید، عظمت شہدا کانفرنس کے علاوہ شگر میں علماء اور جوانوں سے بھی خطاب کیا۔



تاريخ : دوشنبه سیزدهم خرداد ۱۳۹۲ | 0:36 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

تیرہ رجب مولائے متقیان،امیر المومنین،یعسوب الدین،حیدر کرار،غیر فرار،باب العلم، معدن الحلم،علی مرتضیٰ،شیر خدا علی ابن ابی طالب کا یوم ظہور ہے۔ اس مسرت موقع پر تمام عالم اسلام کو اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی کی طرف سے ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ 

 مولا امیرالمؤمنین (ع)

 ابنا:   بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت"

تیرہ رجب مولائے متقیان،امیر المومنین،یعسوب الدین،حیدر کرار،غیر فرار،باب العلم، معدن الحلم،علی مرتضیٰ،شیر خدا علی ابن ابی طالب کا یوم ظہور ہے۔ تمام عالم اسلام کو ادارہ القمر آن لائن اس موقع پر ہدیہ تہنیت پیش کرتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام تیرہ رجب (599 – 661) کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔
حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور انہوں نے اسی سایہ نبوت میں پرورش پائی ۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ علی علیہ السلام دین اسلام پر پیدا ہوئے۔یہ کہنا بڑا ظلم ہے کہ علی بچوں میں سب سے پہلے اسلام لے کر آئے۔

جگر گوشہ بتول ،خاتون جنت سیدہ فاطمہ سلام اللہ اور مولائے متقیان زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی کہ مرد اور عورت آپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں ،کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے ,
باب العلم کی زندگی ہر رخ سے ایک آفتاب درخشندہ ہے۔علم، حلم، عبادت، خطابت، شجاعت، ریاضت، تلاوت ہر ایک وصف گویا منفرد تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ زندگی دراصل اطلاعت پروردگار اور اطاعت رسول کانام ہے۔ انہوں نے کام کرنے کو انسان کی معراج بنایا۔
علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے او جو کچھ مزدوری ملتی تھی اسےگھر پر لاتے اور کچھ رقم سے بازار سے جو خرید کر خاتون جنت کو دیتے تھے اورسیدہ چکی پیستی , کھانا پکاتی اورگھر میں صفائی کرتیں, حسنین کی پرورش اورفرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتیں خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں۔
بہت سے مفسرین اور مفکرین نے اہلیبیت اطہار کے حوالے سے اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انکے لیئے کھانا اور کپڑے جنت سے آ جاتے تھے اور گویا روئے زمین پر یہ مثالی ہستیاں مافوق الفطرت طور پر زندگی گزارتی تھیں۔حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ خانوادہ رسالت کے ہر فرد کو اگرچہ خالق کائنات نے بیش بہا معجزات عنایت لیئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی عام انسان کی طرح محنت مزدوری اور کام کاج کر کے گزاری اور دوسروں کے لیے کام میں عظمت کی مثال چھوڑی۔
مدینہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا.پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی ,

اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا , گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے , ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کرلیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے .
اس لڑائی میں زیادہ رسول اللہ نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے . علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا . 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت علی کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے .
تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی کو تنہا بھیجا اورانھوںنے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔
غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمروبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعاب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کی تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔
کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چناچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر آئی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر آگیا کہ اس کا قاتل علی سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔
آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔
رسول اللہ کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمے تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا۔
جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ براَت کی آیتیں سنائیں-
حضرت علی علیہ السلام کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے.
کبھی یہ کہتے تھے کہ ‘‘علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں‘‘ .کبھی یہ کہا کہ ‘‘میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ‘‘ کبھی یہ کہا ‘‘تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے‘‘ کبھی یہ کہا‘‘علی کومجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی‘‘کبھی یہ کہا‘‘علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے‘‘۔
کبھی یہ کہ‘‘وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘۔
 ہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی نفسِ رسول قرار پائے اور اللہ کے نبی انہیں مولائے کائنات اور اپنا وصی کہا. عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کا دروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح کاسرپرست اورحاکم ہوں اسی طرح علی سب کے سرپرست اور حاکم ہیں۔ جس کا میں مولا ہوں اسکا علی مولا ہے۔
اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے حضرت علی کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے حضرت علی کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے.
جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول آپ کی لاش کو کس طرح چھوڑتا, چنانچہ رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا , رسول کے دفن سے فرصت ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اتنی دیر میں پیغمبر کی جانشینی کاانتظام ہوگیا ہے . اگر کوئی دوسرا انسان ہوتاتو جنگ آزمائی پر تیار ہوجاتا مگر حضرت علی کو اسلامی مفاد اتنا عزیز تھا کہ آپ نے اپنے حقوق کے اعلان کے باوجود اپنی طرف سے مسلمانوں میں خانہ جنگی پیدا نہیں ہونے دی , نہ صرف یہ کہ آپ نے معرکہ آرائی نہیں چاہی بلکہ جس وقت ضرورت پڑی , اس وقت اسلامی مفاد کی خاطر آپ نے امداد دینے سے دریغ بھی نہیں کیا , مشکل مسائل کے فیصلہ اور ضروری مشورہ ليے جانے پر اپنی مفید رائے کااظہار کیاا س سے کبھی پہلو نہیں بچایا .
خلیفہ وقت حضرت عمر کا یہ قول اس بات کا شاہد ہے کہ ‘‘اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا‘‘۔
علی علیہ السلام اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ ومنسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے ۔
پچیس برس تک رسول کے بعد حضرت علی نے خانہ نشینی میں بسر کی اور جب 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی کے سامنے پیش کیا توآپ نے پہلے انکار کیا , لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا .
مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا , آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل اور صفین اور نہروان کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں . جن میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .
ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود محنت مزدوری کرتے، پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے،غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے ، جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے ۔یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں ,
انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بجھادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میںمال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے .
حضرت علی علیہ السلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل ابن ملجم کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے
دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہےآخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے
مکمل نام. علی ابن ابی طالب
ترتیب. امام اول
جانشین .حسن علیہ السلام
تاریخ ولادت. جمعہ، 13 رجب، 22 قبل ہجری
جائے ولادت. خانۂ کعبہ، مکہ مکرمہ
لقب. ابو تراب
کنیت. ابو الحسن
والد. ابو طالب ابن عبد المطلب [والد کا نام بعض منابع میں عمران بتایا گیا ہے لیکن معتبر تاریخی منابع کے مطابق امیرالمؤمنین علیہ السلام کے والد کا نام "عبدمناف" اور آپ کی کنیت ابوطالب ہے جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دادا کا نام شیبة الحمد بن ہاشم بن عبدمناف اور ان کا لقب عبدالمطلب ہے]۔
والدہ: فاطمہ بنت اسد
تاریخ وفات: 21 رمضان، 40 ہجری
جائے وفات: نجف، عراق
وجۂ وفات: شہادت



تاريخ : جمعه سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:56 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

حضرت علی علیہ السلام سے منسوب چند دستی تحریروں اور کتیبوں کی تصویریں۔ 

 تصویری رپورٹ / امیر المومنین علی علیہ السلام سے منسوب دستی تحریریں

حضرت علی علیہ السلام سے منسوب کوفی زبان میں دستی تحریر جس میں آپ علیہ السلام نے سورہ احزاب کی ۱۷ سے ۲۰ تک آیات کو مرقوم فرمایا ہے۔ یہ دستی تحریر نجف اشرف کی لائبریری روضۃ الحیدریہ میں محفوظ ہے۔

مکہ مکرمہ سے نزدیک ایک مسجد کی تعمیر نو کے دوران زمین سے ملنے والا کتیبہ جسے آثار قدیمہ کے ماہرین نے امیر المومنین (ع) کی دستی تحریر قرار دیتے ہوئے ۱۳ سو سال اس کی عمر کا اندازہ لگایا۔

امیر المومنین (ع) سے منسوب یہ دستی تحریر مشھد مقدس کے میوزم میں محفوظ ہے۔

حضرت علی علیہ السلام سے منسوب دستی تحریرجس میں قرآن کریم کا ایک صفحہ مرقوم ہے قم میں آیت اللہ مرعشی لائبریری میں محفوظ ہے یہ تحریر ہرن کی کھال پر کوفی خط میں لکھی ہوئی ہے۔ 



تاريخ : جمعه سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |


 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



تاريخ : جمعه سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |