رہبرانقلاب
اسلامی نے فرمایا ہے کہ ملت ایران اپنی بھر پور طاقت کے ساتھ انتخابات میں
زیادہ سے زیادہ شرکت کرکے اسلامی نظام سے اپنے گہرے اور مستحکم رشتے سے
اھل عالم کو مطلع کرے گي اور دشمن کو ایک بار پھر ناکام اور مایوس کردے گي۔
ابنا: ۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ
العظمی سید علی خامنہ ای نے آج تین شعبان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی
مناسبت سے ہزاروں افراد سے خطاب میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے قانون کی
پابندی کو ملت ایران کی قابل تحسین خصوصیت قراردیا۔ آپ نے انتخابات میں
شرکت کرنے کے لئے عوام کے جوش وجذبے کومبارک قراردیتے ہوئےاسے بھی سراہا۔رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روز ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتےہوئے فرمایا کہ انتخابات میں شرکت کے لئے ملت کا جوش و جذبہ سیاسی کارنامے کی نوید دے رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آج ہی سے سیاسی کارنامے کا آغاز ہوچکا ہے اور عوام کی ہمت، توکل اور امید سے جمعے کے دن یہ اپنے عروج کو پہنچ جائے گا اور حقیقی معنی میں معرض وجود میں آجائے گا۔ رہبرانقلاب اسلامی نے چودہ جون کے صدارتی انتخابات کو خاص رنگ و بو کا حامل قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام و انقلاب و ایران کے دشمنوں نے اپنی تمام تر مالی، میڈیا اور سیاسی توانائیوں کو بروئے کار لاکر عوام کو اسلامی حکومت سے جدا کرنے اور انتخابات اور انتخابات کرانے والے اداروں سے بدگمان کرنے کی کوششیں جار رکھی ہیں لیکن ملت ایران جمعے کے دن بھر پور طرح سے انتخابات میں شرکت کرکے اور اپنی عظیم طاقت کا مظاہرہ کرکے دشمن کو ایک بار پھر شکست و یاس سے دوچار کردے گي۔ آپ نے فرمایا کہ انتخابی عمل آج تک اچھی طرح سے جاری رہا ہے اور عوام نے گيارھویں صدارتی انتخابات کے حوالے سے قانون کی پابندی کا نظریہ پیش کیا ہے اور سب نے جہاں کہيں بھی ہوں قانون کی پابندی کی ضرورت پر تاکید کی ہے اور یہ نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے قومی ٹی وی پر آٹھ صدارتی امیدواروں کی گفتگو کو ان کے نظریات سے عوام کی آگہی کا باعث قراردیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایران میں آزادی بیان کا ثبوت ہے۔ آپ نے قومی میڈیا کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر تہمت و الزام لگانے والے برسوں یہ نعرے لگارہے ہیں کہ ایران میں آزادی بیان نہیں ہے اور لوگوں کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا لیکن آج وہ اپنا منہ چھپائے پھر رہےہیں۔
تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 0:55 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
