تقریب کی صدارت کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقائے ڈاکٹر تقی صادقی نے کی

اسلام ٹائمز۔ صدر محفل کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقای ڈاکٹر تقی صادقی نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کو سمجھنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ امام خمینی (رہ) کے عمومی بیانات تقریروں، اخلاقی نصیحتوں اور ظاہری شخصیت کو سمجھنا آسان ہے لیکن ان کی عمیق سیاسی، فقہی، فلسفی، عرفانی، ادبی اور نظریاتی باریکیوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ امام خمینی (رہ) کی شناخت کے آسان پہلو کو ہم لوگوں نے اپنایا ہے جبکہ غیر مسلم طاقتیں امام خمینی (رہ) کے گہرے عمیق اور پیچیدہ افکار و اقوال پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی ترکیب کر رہے ہیں۔
جامعۃالنجف اسکردو میں امام خمینی (رہ) ریسرچ سنٹر کا افتتاح
اسلام ٹائمز۔ جامعۃالنجف اسکردو میں امام خمینی (رہ) کی چوبیسویں برسی کے موقع پر امام خمینی (رہ) ریسرچ سنٹر کے افتتاح کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقائے ڈاکٹر تقی صادقی نے کی جبکہ حجۃالاسلام علامہ شیخ محسن علی نجفی مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے بعد کلچرل قونصلیٹ آقائے تقی صادقی نے تحقیقی سنٹر کا افتتاح کیا۔ اس عظیم تقریب میں بلتستان بھر کے علماء، دانشوروں، سیاستدانوں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، ماہرین تعلیم، علمی و تحقیقی شخصیات، سماجی شخصیات اور تنظیمی افراد اور جوانوں نے کثیر مقدار میں شرکت کی۔

خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے جامعۃالنجف کے پرنسپل حجۃالاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے کہا یہ دور تحقیق اور ریسرچ کا دور ہے۔ جو اقوام میدان میں پیچھے ہوں وہ ترقی نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام تحقیق کے میدان میں پیچھے ہونے کے باعث ترقی یافتہ اقوام کے دست نگر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم و تحقیق کے فقدان کے باعث جہل، تعصب، نفرت اور دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے جامعۃالنجف کی تحقیقی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امام خمینی (رہ) ریسرچ سنٹر مستقبل میں قومی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔ یہ سنٹر علاقے کے محققین اور ریسرچروں کے لیے تحقیقی وسائل کی فراہمی کی کوشش کرے گا، جدید ترین تحقیقی لائبریری قائم کرے گا، محققین کی رہنمائی کرے گا اور تحقیق کے ذریعے جہل، نفرت، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد کرے گا۔

صدر محفل کلچرل قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران آقای ڈاکٹر تقی صادقی نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کو سمجھنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ امام خمینی (رہ) کے عمومی بیانات تقریروں، اخلاقی نصیحتوں اور ظاہری شخصیت کو سمجھنا آسان ہے لیکن ان کی عمیق سیاسی، فقہی، فلسفی، عرفانی، ادبی اور نظریاتی باریکیوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ امام خمینی (رہ) کی شناخت کے آسان پہلو کو ہم لوگوں نے اپنایا ہے جبکہ غیر مسلم طاقتیں امام خمینی (رہ) کے گہرے عمیق اور پیچیدہ افکار و اقوال پر تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی ترکیب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کا کارنامہ یہ تھا کہ وہ دنیا میں ایک عظیم اور جامع اسلامی انقلاب لے آئے۔

مہمان خصوصی حجۃالاسلام علامہ محسن علی نجفی نے فرمایا کہ عام لوگ اپنے معاشرے اور ماحول سے متاثر ہوکر اپنا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں جبکہ نابغہ روزگار لوگ ماحول اور معاشرے سے متاثر ہونے کی بجائے ماحول اور معاشرے کو بدل دیتے ہیں۔ تقریب کے آخر میں حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد حسن جعفری امام جمعہ اسکردو نے کہا کہ امام خمینی (رہ) نے عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے علمبردار رہے۔ انہوں نے امام خمینی (رہ) کے درجات کی بلندی، ان کے افکار کی ترویج، عالم اسلام کی کامیابی اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض شیخ احمد علی نوری نے انجام دیئے۔ قاری عابدین نے تلاوت کی اور ننھے نعت خوان اجمل نذیر حسین آبادی نے نعت رسول (ص) مقبول سے محفل کو گرمایا۔



تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم خرداد ۱۳۹۲ | 2:23 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |