شام
کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج
کے مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے بعد اس شہر کے بلندیوں پر دوبارہ پرچم شام
لہرا دیا گیا ہے۔
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شامی فوج کی مسلسل تین ہفتہ جد و جہد کے بعد دو سال سے مقبوضہ شہر القصیر کو تفکیری دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک کروا لیا ہے۔
القصیر میں پرچم شام لہرا دیا گیا
شام کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج کے مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے بعد اس شہر کے بلندیوں پر دوبارہ پرچم شام لہرا دیا گیا ہے۔
القاعدہ سے وابستہ سلفی وہابی دہشت گردوں کی کثیر تعداد اس شہر میں ہلاک اور مابقی فرار ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ القصیر شام کے صوبہ حمص کا شہر ہے جس پر گذشتہ دوسال سے القاعدہ سے وابستہ ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا قبضہ تھا شامی فوج نے تین ہفتوں کی کارروائی کے دوران القصیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اس کارروائی درجنوں سلفی وہابی دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں بہت سے دہشت گرد شام کے اس سرحدی شہر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ شام کے اہلسنت اور دیگر شامی اقوام نے ملکر شام کو سلفی وہابیوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا ہےاور سعودی عرب اور قطر کے سلفی وہابی ملاؤں کے فتوے بھی سلفی وہابی دہشت گردوں کے کچھ کام نہ آئے اہلسنت علماء ، سلفی وہابیوں کو بے دین سمجھتے ہیں۔
القصیر کی آزادی پر شام اور لبنان میں جشن مسرت
شامی اور لبنانی عوام نے شام کے شہر القصیر پر شامی فوج کی فتح اور دہشت گردوں کی شکست پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی ہے۔ شامی فوج نے القصیر پر امریکہ و اسرائيل سے وابستہ القاعدہ دہشت گردوں پر کاری ضرب وارد کرتے ہوئے شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجتماعی و سماجی نیٹ روکس پر جاری تصویروں سے پتہ چلتا ہے القصیر شہر پر شامی فوج کی کامیابی پر شام اور لبنان کے عوام جشن اور خوشی منارہے ہیں۔ القصیر شہر پر گذشتہ دو برسوں سے سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ اور اسرائیل نواز سلفی وہابی دہشت گردوں کا قبضہ تھا جسے شامی فوج نے تین ہفتوں کی مرحلہ وار کارروائی کے دوران آج مکمل طور پر آزاد کرلیا ہے شامی فوج نے اس علاقہ میں سلفی وہابیوں کی کمر توڑتے ہوئے انھیں عبرتناک سبق سکھایا ہے۔
صدر مملک احمدی نژاد کی بشار الاسد کو مبارک باد
شام کی نیوز ایجنسی دام پرس کے مطابق شام کے شہر القصیر کے تکفیری دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک ہونے کے پر مسرت موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے براہ راست شام کے صدر بشار الاسد کو مبارک باد پیش کی ہے۔
القصیر کے آزادی پر ایران کے وزارت خارجہ کی طرف سے کی شام کو مبارک باد
اسلامی جمہوری ایران کے عرب اور افریقائی ممالک کے لئے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے شامی فوج کی طرف سے لبنان کے بارڈر کے نزدیک واقع اہم اور اسٹریٹجک شہر القصیر کو تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کروانے اور مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے پر شام کی حکومت، عوام اور مسلح افواج کو مبارکباد دی ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض ممالک ابھی تک شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو اسلحہ ارسال کر رہے ہیں، اور شامی حکومت اور عوام کے خلاف ان کے دہشتگردانہ اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ممالک شام میں قتل و غارت اور وہاں ہونے والی تباہی کے براہ راست ذمہ دار ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر مقدمہ چلایا جائے۔ شام کی مسلح افواج نے تقریباً دو ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد آج القصیر شہر کو تکفیری دہشتگردوں سے مکمل طور پر آزاد کروا لیا ہے، اور وہاں پر شام کے پرچم نصب کر دیئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب شامی فوج القصیر شہر کے شمالی حصے سے دہشتگردوں کے فرار کے بعد اس کی پاکسازی کر رہی ہیں اور تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے اس علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ شہر القصیر شام کے صوبہ حمص کا مرکزی شہر ہے۔
تاريخ : پنجشنبه شانزدهم خرداد ۱۳۹۲ | 11:44 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
