دنیا کے موجودہ حکام کو معلوم ہے کہ "ظہور" آج کی سیاست کا رکن ہے دنیا کے لوگ عنقریب "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کے نعرے لگائے گی / کویتی روزنامے صحیفة الدار نے لکھا ہے کہ دنیا ـ اور خاص طور پر عالم اسلام ـ میں وسیع البنیاد ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہے اور یہود بھی "ظہور کے بارے میں خبردار کررہے ہیں"، اور ظہور صرف شیعیان اہل بیت (ع) ہی کا عقیدہ ہی نہیں ہے، دنیا کے لوگ بہت جلد "ہم امام مہدی (عج) کے خواہاں ہیں" کا نعرہ اٹھائیں گے۔ 

 کویتی روزنامہ:

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ الدار نے ایک مضمون میں علاقے کے حکمرانوں کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب  لوگ جو اس وقت صدر یا بادشاہ کے زوال کے خواہاں ہیں اور اسی حوالے سے نعرے لگا رہے ہیں کہ "قوم صدر کا زوال چاہتی ہے" یا "قوم بادشاہ کا زوال چاہتی ہے"، نیا نعرہ لگانا شروع کریں گے کہ "قوم امام مہدی کا ظہور چاہتی ہے"۔
کالم نگار «حسن الانصاری» اس مضمون میں لکھتے ہیں: عالم اسلام میں مسلسل حادثات و واقعات کا سلسلہ جاری ہے، عالم اسلام کو وار زون قرار دیا گیا ہے، برادرکشی اور ظالمانہ تشدد پسندی، عرب اور مسلم عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ شدید سے شدید تر ہوگیا ہے اور بے گناہ نوجوانوں کے قتل میں اضافہ ہوا ہے ایک بار پھر امت کے نجات دہندہ حضرت حجت بن الحسن العسکری المہدی (عج) کی میلاد نے ناامیدوں کی امیدیں زندہ کرلی ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا: جن لوگوں نے یہ بین الاقوامی ظالمانہ پالیسیاں اپنا کر امّہ پر ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ امام مہدی (عج) کا ظہور آج کی عالمی سیاست کا رکن رکین ہے کیونکہ انتہاپسند یہودی ظہور کے بارے میں بڑی طاقتوں کو مسلسل خبردار کررہے ہیں۔
انھوں نے لکھا: عالمی نجات دہندہ کا مسئلہ عالمگیر ہے اور آج ظہور صرف شیعہ مسئلہ نہیں ہے لیکن شاید وہ فارمولا ابھی مکمل طور پر عملی جامہ نہیں پہن سکا ہے اور عالمی سطح پر ظلم و جبر کی سطح اس حد نہیں پہنچی ہے جس کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالی نے امت کو امام مہدی (عج) کی ظہور کی بشارت دی ہے کیونکہ بعض عالمی عوامل اور اصول اور متغیرات (Terms & variables) ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔ 
انھوں نے مزید لکھا ہے کہ دنیا کی آج کے سیاستدان جو دنیا پر مسلط ہیں، ہماری امت کے خلاف منصوبہ بندیاں کررہے ہیں لیکن اللہ کی مشیت ـ جس نے ابراہیم (ع) کو اور ان سے قبل نوح (ع) کو اور ان کے بعد موسی (ع) کو اور سب کے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نجات دی اسی ـ کا وعدہ ہے کہ اس امت کو عالم ظلم و جبر سے نجات ملنے والی ہے۔
حسن الانصاری نے کہا: گذشتہ عشرون میں دشمنان اسلام نے علاقے کے ممالک نیز شمالی افریقی ممالک کو ان کے آداب و تمدن نیز مفاہیم و معانی سے خالی کردیا اور اس کے بعد انہیں عقائد اور تہذیبوں کی جنگوں میں دھکیل دیا حتی کہ سیاسی اور سماجی کشمکش کی باری بھی آگئی اور ریشہ دوانیاں بدستور جاری ہیں اور مقصد یہ ہے کہ اسلام کی اصل روح پس پردہ ہی رہے چنانچہ امت مسلمہ کے دشمنوں نے المناک منصوبوں اور لوائح عمل کی بنیاد پر استبدادی نظاموں اور آمریتوں کی بنیاد رکھی حتی کہ عالم عرب کا غضب آخر کار ظاہر ہوگیا اور وہ بھی ایسے زمانے میں کہ "عرب قوموں کے پاس کھونے کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے اور کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جانوں کا نذرانہ دینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا"۔
انھوں نے آخر میں لکھا ہے: آج عرب اقوام نے اپنی استبدادی حکومتوں کے خلاف انقلاب کا آغاز کیا ہے اور ان سب کا مشترکہ نعرہ ہے کہ "ملت نظام حکومت کی سرنگونی چاہتی ہے"، "قوم صدر کی برطرفی کی خواہاں ہے"، ایسے حال میں کون اس عالمی وحشیانہ لائحہ عمل کا راستہ روک سکتا ہے، اور عرب قومیں کب تک سڑکوں پر آکر ظالموں کی سرنگونی کا مطالبہ کرسکیں گی اور کب تک عالمی طاغوت کے مد مقابل استقامت کرسکیں گی؟ جب صبر کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے اور سیاسی حکمرانوں سے ملتوں کی امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں اور عرب اور مسلم عوام کی بات ایک اور امت کی امید زندہ ہوجاتی ہے وہ دن بھی آئے گا جب لوگ نعرہ لگائیں گے کہ "امت اسلامی مہدی منتظَر (ع) کے ظہور کے خواہاں ہیں"۔
۔۔۔۔۔۔۔



تاريخ : سه شنبه سی و یکم اردیبهشت ۱۳۹۲ | 18:37 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |