۲۰۱۱ کے آخر میں بعض علماء کے بیان کے مطابق اس وقت پاکستان میں مدارس کی تعداد 524 اور مدارس کے طلاب کی تعداد19000 کے قریب ہے ۔ نیز جامعۃ المنتظر کے تحت نظر چلنے والے مدارس کی تعداد38، جامعہ اہل بیت کے تحت 17 ،مخزن العلوم کے تحت 30 ہیں اور محمدیہ ٹرسٹ بلتستان کی تگ و دو سے تقریبا 23 مدارس کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ۔
صدر ضیاء الحق کے دور حکومت میں مدارس کی تعلیمات کو تعلیمی اداروں میں قبول کیا جانے لگا جس کے تحت پاکستان کی دوسرے مکاتب فکر کی مانند وفاق المدارس الشیعہ کے نام سے ادارہ بنایا گیا جس کا ترتیب دیا ہوا سلیبس مدارس رائج ہوا اور طلبہ کو ان کے درجے مطابق اسناد دی جانے لگیں جس کی آخری ڈگری "سلطان الافاضل " کہلاتی ہے ۔
دیگر علمی فعالیتیں:
دینی مدارس کے علاوہ قوم کو دینی احکامات اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کروانے کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی یا دینیات سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جو عام طور پر مدارس دینی سے ہی وابستہ ہوتے ہیں جبکہ کچھ مخصوص افراد کے تحت نظر کام کرتے ہیں۔ ۔مدارس ہوں یا دینیات سینٹرز یہ تمام ادارے اپنے اخراجات مخیر حضرات کی مدد پورا کرتے ہوئے اپنی فعالیت جاری رکھتے ہیں۔جامعہ اہل البیت کی نگرانی میں تقريباً 60 پرائمری اسکول،50 مساجد کام کر رہی ہیں ۔ محمدیہ ٹرسٹ کے تحت 45 مساجد، 25امام بارگاہیں، 154 تبلیغی سینٹرز اور ايک يتيم خانہ کام کر رہے ہیں۔تنظیم المکاتب کے تحت 1200 دینی سینٹر اور مدارسِ مولانا غلام رضا سریوال کے نام سے حیدر آباد اور اسکے گردو نواح کے مختلف علاقوں میں ترویج دین میں مشغول ہیں۔اسی طرح تعلیمی اداروں میں طلباء کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے آئی ایس او (ISO)، اصغریہ سٹوڈنٹس اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (JSO) اور غیر تعلیمی اداروں میں آئی او (IO) وغیرہ تنظیمیں موجود ہیں ۔گذشتہ چند سالوں سے تربیت کے حوالے سے چند روزہ ورکشاپوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مختلف عناوین سے پروگرام تشکیل دئے جاتے ہیں .
.: Weblog Themes By Pichak :.
