حضرت امام علی نقی علیہ السلام ہرحال میں یادالہی اورعبادت خدامیں مشغول رہتے اور وہ دنیا سے استغناء اورمصائب کے ہجوم میں اپنے آبائے طاہرین کی طرح صبر و استقامت کا پہاڑ تھے۔ 

 امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر تسلیت و تعزیت عرض ہے

 ابنا: حضرت امام علی نقی علیہ السلام ہرحال میں یادالہی اورعبادت خدامیں مشغول رہتے اور وہ دنیا سے استغناء اورمصائب کے ہجوم میں اپنے آبائے طاہرین کی طرح صبر و استقامت کا پہاڑ تھے۔ 

دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے پیش آنا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی امدادکرنا،  وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی (رہ)کی سیرت میں نمایاں طور پرنظرآتے ہیں۔

قیدکے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی تیار رہتی تھی دیکھنے والوں نے جب اس پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں اپنے دل میں موت کا خیال رکھنے کے لیے یہ قبر اپنی نگاہوں کے سامنے تیار رکھتا ہوں.

امام علیہ السلام کا اپنے اس عمل سے بادشاہ وقت کو یہ عملی جواب دینا تھا کہ تو ہمیں موت سے نہیں ڈرا سکتا ہم تو ہمیشہ موت کے لئے تیار ہیں اور ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے کبھی تسلیم نہیں ہونگے۔متوکل کے بعداس کابیٹا مستنصرپھرمستعین اورپھر ۲۵۲ہجری میں معتزباللہ خلیفہ ہوا معتزابن متوکل نے بھی اپنے باپ کی راہ و روش کونہیں چھوڑااورحضرت کے ساتھ سختی ہی کرتارہا یہاں تک کہ اسی نے آپ کوزہردیدیا ۔

علامہ ابن جوزی تذکرةخواص الامةمیں لکھتے ہیں کہ آپ معتزباللہ کے زمانہ خلافت میں شہیدکئے گئے ہیں اورآپ کی شہادت زہرسے واقع ہوئی ہے، علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے شہیدکیاگیاہے (انوارالابصارص ۱۵۰) ۔آپ کی شہادت بتاریخ ۳/ رجب ۲۵۴ہجری بروز پیر  واقع ہوئی . اور حضرت امام نقی (ع) کی نماز جنازہ ان کے فرزند حضرت امام حسن عسکری (ع) نے ادا کی اور آپ کو  سامرہ دفن کردیا گیا۔

.......



تاريخ : سه شنبه بیست و چهارم اردیبهشت ۱۳۹۲ | 0:31 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |