جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم اور تہران کے مجاہد علماء سوسائٹی نے بیک وقت حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای کی مرجعیت کا اعلان کیا۔ 

 فقہاء کی دستی تحریر بسلسلۂ مرجعیت حضرت آیت‌الله امام خامنہ ای + تصاویر

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مورخہ 2 دسمبر 1994 کو جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم اور تہران کے مجاہد علماء سوسائٹی نے بیک وقت حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای کی مرجعیت کا اعلان کیا؛ گوکہ بعض علماء اور مراجع نے اس سے بھی کئی سال قبل آپ کی مرجعیت کی تائید کی تھی جن میں آیت اللہ العظمی جوادی آملی بھی شامل تھے۔
اسی سلسلے میں معاصر فقہاء نے رہبر انقلاب کی مرجعیت کی تائید میں اپنی رائے پیش کی ہے جن میں سے بعض کی آراء درج ذیل ہیں؛ واضح رہے کہ مذکورہ علماء کی دستی تحریر تصویریں بھی یہاں درج کی جارہی ہے:

آیت‌الله العظمی عبدالله جوادی آملی

بسمه تعالی شانه العزیز

آیت اللہ جناب آقائے الحاج سید علی خامنہ ایک دامت برکاتہ کا اجتہاد و عدالت ثابت شدہ اور مصدقہ ہے۔ لازم و ضروری ہے کہ امت اسلامی ایدہم اللہ معظم الیہ (موصوف) کی قیادت کو تقویت پہنچانے میں جان و مال صرف کرنے اور کسی قسم کے ایثار و نثار سے دریغ نہ کریں۔ تا کہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے۔
و السلام علی من اتبع الهدی.
جوادی آملی    
30 ذی حجۃالحرام 1410 ہجری قمری --- یکم مرداد 1369 ہجری شمسی ـ 25 مارچ 1990 عیسوی

حضرت آیت‌الله العظمی محمد فاضل لنکرانی (رحمہ اللہ)

بسمه تعالي

رہبر معظم آیت اللہ خامنہ دامت برکاتہ کی قیادت کے سلسلے میں اعلان کیا جاتا ہے کہ معظمٌ لہ کی علمی حیثیت اور اجتہاد و فقاہت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ میں ان کے ساتھ دیرینہ شناسائی اور اس کے تعلیمی مراتب و مراحل سے آگہی کی بنا پر ان کے مطلق اور ہمہ جہت اجتہاد کی تائید کرتا ہوں۔ علاوہ ازیں امام عظیم الشأن (امام خمینی) قُدِّسَ سِرّهُ الشَّریف نے متعدد بار قیادت و رہبری کے لئے ان کی صلاحیتوں کی تائید فرمائی ہے جو ان معظم لہ کے اجتہاد کی اہم ترین دلیل ہے۔  
قم، حوزه علميه، محمدفاضل
7 محرم الحرام 1411 ہجری قمری ۔۔۔ 8 مرداد 1369 ہجری شمسی ۔۔۔ 30 جولائی 1990۔

حضرت آیت اللہ محمد یزدی
بسمه تعالی

انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر معظم حضرت آیة اللہ الحاج سید علی خامنہ ای ـ دام ظله الشریف ـ والا مقام فقیہ اور عالم رتبہ مجتہد ہیں جو استنباط میں کردار ادا کرنے والے علوم بہت اعلی پائے کا عبور رکھتے ہیں علاوہ بر لغت، ادبیات، اصول، حدیث اور تفسیر، حتی رجال اور درایہ میں بھی ـ جو کہ فتوی کے استحکام میں کردار ادا کرتے ہیں ـ خود استاد اور عالم ہیں اور استنباط اور فروع کو اصول کی طرف لوٹانے (رد الفروع علی الاصول) اور فتوی میں مستحکم مبانی اور اصول کے مالک ہیں اور مسائل مستحدثہ (نئے پیش آنے والے مسائل) میں ـ جن کی اسلامی معاشروں کو ضرورت ہے ـ وسیع معلومات اور دقیق آراء کے ساتھ دلچسپ فتاوی رکھتے ہیں. یہی امتیازی خصوصیات اور دوسرے علمی و اخلاقی فضائل ـ قیادت کے حوالے سے ـ مجلس خبرگان کے محترم اراکین اور مجتہد شناسوں کی رائے کی بنیاد تھے۔
یا اللہ! تو شاہد ہے کہ اگر وہ موجودہ منصب و مرتبت اور بھاری ذمہ داری کے حامل نہ بھی ہوتے میں ایک چھوٹے طالب علم کی حیثیت سے اپنی محدود معلومات کے پیش نظر یہی شہادت دیتا۔
محمّد یزدی
27 خرداد 1369 ہجری شمسی ـ 23 ذیقعدۃالحرام 1410 ہجری قمری ـ 17 جون 1990 عیسوی۔

حضرت آیة الله حاج شیخ محمّد مؤمن
بسمه تعالی

مجلس خبرگان میں حضرت آیت اللہ خامنہ ای دامت برکاتہ کی قیادت کے لئے ووٹنگ کے دوران معظم لہ کا اجتہاد شرعی بیّنہ (دلائل) کی بنا پر میرے نزدیک ثابت تھا لیکن بعد میں ان کے فقہی مباحثے کی مجالس میں شرکت کرکے ذاتی طور پر بھی ان کے اجتہاد پر یقین حاصل کیا اور اب میں گواہی دیتا ہوں کہ کہ معظم لہ ایک عال اور جامع الشرائط مجتہد ہیں۔
محمّد مؤمن
12 محرم الحرام 1411 ہجری قمری - 13 مرداد 1369 ہجری شمسی ـ 4 اگست 1990 عیسوی

حضرت آیت اللہ ابراہیم امینی

بسمہ تعالی

حضرت آیت اللہ خامنہ ای دامت برکاتہ فقاہت اور اجتہاد میں اس مقام پر فائز ہیں کہ ولایت و رہبری کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور خبرگان کونسل کے اراکین نے جب قیادت کی تمام خصوصیات اور صلاحیات میں معظم لہ کی جامعیت کا یقین کرلیا تو غالب اکثریت سے ان کو اس مقام کے لئے منتخب کیا۔
قم ــ ابراہیم امینی
محرم 1411 ہجری قمری ــ مرداد 1369 ہجری شمسی ــ اگست 1990 عیسوی

مرحوم آیت‌الله علی مشکینی

بسم الله الرحمن الرحیم
بعد الحمد لله و الصلاة و السلام علی رسوله و آله

توضیح یہ کہ حضرت مستطاب آیت اللہ الحاج سید علی خامنہ ای مدظله العالی مقام فقاہت و اجتہاد اور احکام شرعیہ کی قوت استنباط ـ جس کی قیادت عظمی کے لئے ضرورت ہے ـ کے مالک ہیں؛ چنانچہ معظم لہ امت کی ولایت اور مسلمین برادری کی رہبری کی تمام خصوصیات کے بطور اوفی، حامل ہیں اور یہ امر قیادت کونسل کے محترم خبرگان (ماہرین و مجتہدین شناس اکابرین) درایت و اطلاع اور آگہی اور رہبر عظیم الشأنِ راحل امام خمینی قُدِّسَ سِرّهُ الشَّریف کے متعدد بیانات و تائیدات کی بنا پر، تائید کرچکے ہیں چنانچہ شیعہ اور سنی سمیت تمام مسلمانان عالم ـ بالخصوص فری‍قین کے علمائے کرام أَیَّدَهُمُ الله تعالی ـ پر نیز ایران کے اسلامی انقلاب کے دوام اور دنیا بھر میں اسلام کے فروغ و ترویج کے خواہاں، اقیموالدین و لاتتفرقوا پر عملدرآمد کے خواہشمند، اور لیظہرہ علی الدین کلہ" کی طرف مائل تمام انسانوں پر مُؤَکَّد شرعی و عقلی واجب ہے کہ معظم لہ کو فقیہ اور ولی امر مسلمین کے طور پر تسلیم اور قبول کریں۔ قرآن مجید کے تمام پیروکاروں اور قبلہ رخ ہوکر نماز قائم کرنے والوں کی توفیق حضرت حق جل و علا سے خواستگار ہوں۔
علی مشکینی
والسلام علینا و علی عباد الله الصالحین 15/5/1369 ہجری شمسی ـ 14 محرم 1411 ہجری قمری ــ 6 اگست 1990۔

شیخ یوسف صانعی
بسمہ تعالی

حضرت آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی کا اجتہاد ـ ثبوتاً و اثباتاً ـ کسی رائے و نظر کا محتاج نہیں ہے اور وہ نہ صرف مجتہد مسلّم ہیں بلکہ واجب الاتّباع جامع الشرائط فقیہ ہیں اس امید کے ساتھ کہ ان کا ساسیہ مسلمانوں کے سروں پر مستدام ہو۔
یوسف صانعی
4 صفر 1411 ہجری قمری ــ 4 شہریور 1369 ہجری شمسی ــ 26 اگست 1990۔



تاريخ : پنجشنبه شانزدهم آذر ۱۳۹۱ | 20:35 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |