عبادت ،خداوند عالم سے مخصوص ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، یہ شاخ ،توحید کی سب سے اہم شاخ میں شمار ہوتی ہے اور انبیاء الہی سب سے زیادہ اس پر تاکید کرتے ہیں:
وما امرواالا لیعبدوااللہ مخلصین لہ الدین حنفاء۔۔۔و ذلک الدین القیمہ
انھیں (انبیاء) اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اپنے دین کو اس کے لیے خالص کریں اور شرک سے باز آئیں، یہ ہے اللہ کا محکم اور پایدار دین۔(6)
اخلاق و عرفان کے کمال کی منزلیں طے کرنے کے لیے اس سے بھی عمیق توحید کی ضرورت ہوتی ہے، اس راہ میں توحید اس منزل تک پہیچ جاتی ہے جہان انسان صرف اللہ تعالی سے لو لگاتاہے اور ہر مرحلہ پر صرف اسی کو طلب کرتاہے اور اس کے سوا کسی کی فکر اسے مشغول نہیں کرتی اور کوئی بھی شی اسے خدا سے دور کرکے خود میں مشغول نہیں کرتی:
کلما شغلک عن اللہ فھو ضمک۔ ہر چیز جو تجھے خود سے مشغول کردے اور خداوند سے دور کرے ، وہ تیرابت ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی شاخیں صرف ان چار تک محدود و منحصر نہیں ہیں بلکہ توحید مالکیت (تمام اشیاء کا مالک خداوند عالم ہے)
اللہ ما فی السماوات و ما فی الارض) (7)
و توحید حاکمیت (قانون بنانے کا حق صرف اللہ تعالی کوہے)
من لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکافرون) (8)

یہ سب توحید کی شاخیں ہی۔ں


 (۱) سورہ زمر آیہ ۶۲
(2) سورہ زمر آیہ ۶۲
(۳) سورہ انسان آیہ ۳
(۴) سورہ نجم آیہ ۳۹
(5)اصول کافی جلد ۱،صفحہ ۱۶۰ (باب الجبر والقدر والامر بین الامرین)
(6) سورہ بینہ آیہ ۵
(7)سورہ بقرہ آیہ ۲۸۴
(8) سورہ مائدہ آیہ ۴۴



تاريخ : جمعه دوم بهمن ۱۳۸۸ | 15:54 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |