ؤال: قرآن
کریم نےسوره قارعہ کی آیات میں روز قیامت کا کس طرح تعرف کرایا ہے؟
جواب : ان آیات میں،جو قیامت کا تعارف کراتی ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے : وہ چبھنے والا حادثہ“ ( القارعة
اور وہ کیسا چبھنے والا حادثہ ہے “۔ ( ما القارعة)۔
” اور تو کیا جانے کہ وہ چبھنے والا حادثہ کیاہے ؟ ( وما ادراک ما القاعة)۔
” قارعة“ ” قرع“ ( بروزن فرع) کے مادہ سے ، کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر اس طرح رگڑ نے کے معنی میں سے کہ اس سے سخت آواز پیدا ہو، تازیانہ اور ہتھوڑے کو بھی اسی مناسبت سے ” مقرعہ“ کہتے ہیں ، بلکہ ہر اہم سخت حادثہ کو ” قارعة“ کہا جاتا ہے ۔ ( یہاں تاء تانیث کا تاء ممکن ہے تاکید کی طرف اشارہ ہو۔
ان تعبیروں سے جو دوسری اور تیسری آیات میں آئی ہیں ، جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک سے یہ فرمایا ہے کہ تو کیا جانے یہ سخت اور سر کوبی کرنے والا حادثہ کیا ہے : واضح ہو جاتا ہے کہ یہ چبھنے والا حادثہ اس قدر عظیم ہے کہ اس کے ابعاد اور مختلف جہات ہر شخص کے ذہن میں نہیں آسکتے ۔
بہر حال بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ” قارعة“ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، لیکن انہوں نے ٹھیک طور سے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا یہ تعبیر قیامت کے مقدمات کی طرف اشارہ ہے جس میں عالم ِ دنیا درہم بر ہم ہو جائے گا، آفتاب و ماہتاب تاریک ہو جائیں گے، سمندروں میں آگ لگ جائے گی ، اگر اس طرح ہو تو پھر اس حادثہ کے لیے ” قارعة“ کے نام کے انتخاب کی وجہ واضح ہے ۔
دوم اس سے دوسرا مرحلہ مراد ہو، یعنی مردوں کے زندہ ہونے اور عالم ہستی میں ایک نئی طرح ڈالنے کا مرحلہ ، اور ٹکرانے اور چھبنے کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اس دن وحشت وخوف اور ڈردلوں سے ٹکرائیں گے ان کی سر کوبی کریں گے۔
وہ آیات جو اس کے بعد آئیں ہیں ، ان میں سے بعض تو جہان کے خراب و برباد ہونے کے حادثہ سے مناسبت رکھتی ہیں اور بعض مردوں کے زندہ ہونے کے ساتھ ، لیکن مجموعی طور سے یہ پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اگر چہ ان آیات میں دونوں حادثے یکے بعد دیگرے ذکر ہوئے ہیں ( قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مانند جو قیامت کی خبر دیتی ہیں )۔
اس کے بعد اس عجیب و غریب دن کے تعار ف میں کہتا ہے :” وہی دن جس میں لو گ پراگندہ، حیران و پریشان ، پروانوں کی طرح ہر طرف جائیں گے “۔ ( یوم یکون الناس کالفراش المبثوث)۔
” فراش“ ” فراشة“کی جمع ہے ، بہت سے اسے” پروانہ“ کے معنی میں سمجھتے ہیں ، بعض نے اس کی ” ٹڈی دل“ کے معنی میں تفسیر کی ہے ، او رظاہراً یہ معنی سورہٴ قمر کی آیہ ۷ سے لیا ہے جو لوگوں کو اس دن پراگندہ ٹڈی دل سے تشبیہ دیتی ہے ،( کانھم جراد منتشر) ورنہ اس کے لغوی معنی ” پروانہ“ ہی ہیں ۔
بہر حال ” پروانہ“ کے ساتھ تشبیہ اس لیے ہے کہ پروانے اپنے آ پ کو دیوانہ وار آگ پر پھینک دیتے ہیں ۔ بد کار لوگ بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں ڈالیں گے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ پروانہ کے ساتھ تشبیہ ایک خاص قسم کی حیرت و سر گردانی کی طرف اشارہ ہے ، جو اس دن تمام انسانوں پر غالب ہوگی۔
اور اگر” فراش“ ٹڈی دل کے معنی میں ہوتو پھر مذکورہ تشبیہ اس لیے ہے کہ کہتے ہیں بہت سے پرندے اڑتے وقت ایک معین راستہ میں اکھٹے پرواز کرتے ہیں ، سوائے ٹڈی دل کے ، جو گروہ کی صورت میں اڑتے ہوئے بھی کوئی مشخص راستہ نہیں رکھتے، بلکہ ان میں سے ہر ایک کسی دوسری ہی طرف اڑرہا ہوتا ہے ۔
پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حیرت و پراگندگی و سر گردانی اور وحشت و اضطراب جہاں کے خاتمہ کے ہولناک حوادث کی وجہ سے ہو گا ، یا قیامت اور حشر و نشر کے آغاز کی وجہ سے ۔
اس سوال کا جواب ہمارے اسی بیان سے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے واضح ہوجاتا ہے ۔
اس کے بعد اس دن کی ایک خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے:” اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کے مانند ہو جائیں گے“۔ ( تکون الجبال کالعھن المنفوش)۔
” عھن“ (بر وزن ذہن ) رنگی ہوئی اون کے معنی میں ہے ۔
اور ” منفوش“ ” نفش “ ( بر وزن نقش) کے مادہ سے اون کو پھیلانے کے معنی میں ہے جو عام طور پردھنکنے کے مخصوص آلات کے ذریعے اون کو دھنکنے سے انجام پاتی ہے ۔
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات کے مطابق قربِ قیامت میں پہاڑ پہلے تو چلنے لگیں گے ، پھر ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراکر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انجام کار غبار کی صورت میں فضا میں اڑنے لگیں گے ۔ زیر بحث آیت میں ان کو رنگین اور دھنکی ہوئی اون سے تشبیہ دی گئی ہے ، ایسی اون جو تیز آندھی کے ساتھ چلے اور ا س کا مصرف رنگ ہی رنگ نمایاں ہو، اور یہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر نے کا آخری مرحلہ ہو گا۔
ممکن ہے یہ تعبیر پہاڑوں کے مختلف رنگوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ روئے زمین کے پہاڑوں میں سے ہر ایک خاص رنگ رکھتا ہے ۔
بہر حال یہ جملہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اوپر والی آیات قیامت کے پہلے مرحلوں ، یعنی اس جہان کی ویرانی اور اختتام مرحلہ کی ہی بات کرتی ہیں ۔
جواب : ان آیات میں،جو قیامت کا تعارف کراتی ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے : وہ چبھنے والا حادثہ“ ( القارعة
اور وہ کیسا چبھنے والا حادثہ ہے “۔ ( ما القارعة)۔
” اور تو کیا جانے کہ وہ چبھنے والا حادثہ کیاہے ؟ ( وما ادراک ما القاعة)۔
” قارعة“ ” قرع“ ( بروزن فرع) کے مادہ سے ، کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر اس طرح رگڑ نے کے معنی میں سے کہ اس سے سخت آواز پیدا ہو، تازیانہ اور ہتھوڑے کو بھی اسی مناسبت سے ” مقرعہ“ کہتے ہیں ، بلکہ ہر اہم سخت حادثہ کو ” قارعة“ کہا جاتا ہے ۔ ( یہاں تاء تانیث کا تاء ممکن ہے تاکید کی طرف اشارہ ہو۔
ان تعبیروں سے جو دوسری اور تیسری آیات میں آئی ہیں ، جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک سے یہ فرمایا ہے کہ تو کیا جانے یہ سخت اور سر کوبی کرنے والا حادثہ کیا ہے : واضح ہو جاتا ہے کہ یہ چبھنے والا حادثہ اس قدر عظیم ہے کہ اس کے ابعاد اور مختلف جہات ہر شخص کے ذہن میں نہیں آسکتے ۔
بہر حال بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ” قارعة“ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، لیکن انہوں نے ٹھیک طور سے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا یہ تعبیر قیامت کے مقدمات کی طرف اشارہ ہے جس میں عالم ِ دنیا درہم بر ہم ہو جائے گا، آفتاب و ماہتاب تاریک ہو جائیں گے، سمندروں میں آگ لگ جائے گی ، اگر اس طرح ہو تو پھر اس حادثہ کے لیے ” قارعة“ کے نام کے انتخاب کی وجہ واضح ہے ۔
دوم اس سے دوسرا مرحلہ مراد ہو، یعنی مردوں کے زندہ ہونے اور عالم ہستی میں ایک نئی طرح ڈالنے کا مرحلہ ، اور ٹکرانے اور چھبنے کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اس دن وحشت وخوف اور ڈردلوں سے ٹکرائیں گے ان کی سر کوبی کریں گے۔
وہ آیات جو اس کے بعد آئیں ہیں ، ان میں سے بعض تو جہان کے خراب و برباد ہونے کے حادثہ سے مناسبت رکھتی ہیں اور بعض مردوں کے زندہ ہونے کے ساتھ ، لیکن مجموعی طور سے یہ پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اگر چہ ان آیات میں دونوں حادثے یکے بعد دیگرے ذکر ہوئے ہیں ( قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مانند جو قیامت کی خبر دیتی ہیں )۔
اس کے بعد اس عجیب و غریب دن کے تعار ف میں کہتا ہے :” وہی دن جس میں لو گ پراگندہ، حیران و پریشان ، پروانوں کی طرح ہر طرف جائیں گے “۔ ( یوم یکون الناس کالفراش المبثوث)۔
” فراش“ ” فراشة“کی جمع ہے ، بہت سے اسے” پروانہ“ کے معنی میں سمجھتے ہیں ، بعض نے اس کی ” ٹڈی دل“ کے معنی میں تفسیر کی ہے ، او رظاہراً یہ معنی سورہٴ قمر کی آیہ ۷ سے لیا ہے جو لوگوں کو اس دن پراگندہ ٹڈی دل سے تشبیہ دیتی ہے ،( کانھم جراد منتشر) ورنہ اس کے لغوی معنی ” پروانہ“ ہی ہیں ۔
بہر حال ” پروانہ“ کے ساتھ تشبیہ اس لیے ہے کہ پروانے اپنے آ پ کو دیوانہ وار آگ پر پھینک دیتے ہیں ۔ بد کار لوگ بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں ڈالیں گے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ پروانہ کے ساتھ تشبیہ ایک خاص قسم کی حیرت و سر گردانی کی طرف اشارہ ہے ، جو اس دن تمام انسانوں پر غالب ہوگی۔
اور اگر” فراش“ ٹڈی دل کے معنی میں ہوتو پھر مذکورہ تشبیہ اس لیے ہے کہ کہتے ہیں بہت سے پرندے اڑتے وقت ایک معین راستہ میں اکھٹے پرواز کرتے ہیں ، سوائے ٹڈی دل کے ، جو گروہ کی صورت میں اڑتے ہوئے بھی کوئی مشخص راستہ نہیں رکھتے، بلکہ ان میں سے ہر ایک کسی دوسری ہی طرف اڑرہا ہوتا ہے ۔
پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حیرت و پراگندگی و سر گردانی اور وحشت و اضطراب جہاں کے خاتمہ کے ہولناک حوادث کی وجہ سے ہو گا ، یا قیامت اور حشر و نشر کے آغاز کی وجہ سے ۔
اس سوال کا جواب ہمارے اسی بیان سے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے واضح ہوجاتا ہے ۔
اس کے بعد اس دن کی ایک خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے:” اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کے مانند ہو جائیں گے“۔ ( تکون الجبال کالعھن المنفوش)۔
” عھن“ (بر وزن ذہن ) رنگی ہوئی اون کے معنی میں ہے ۔
اور ” منفوش“ ” نفش “ ( بر وزن نقش) کے مادہ سے اون کو پھیلانے کے معنی میں ہے جو عام طور پردھنکنے کے مخصوص آلات کے ذریعے اون کو دھنکنے سے انجام پاتی ہے ۔
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات کے مطابق قربِ قیامت میں پہاڑ پہلے تو چلنے لگیں گے ، پھر ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراکر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انجام کار غبار کی صورت میں فضا میں اڑنے لگیں گے ۔ زیر بحث آیت میں ان کو رنگین اور دھنکی ہوئی اون سے تشبیہ دی گئی ہے ، ایسی اون جو تیز آندھی کے ساتھ چلے اور ا س کا مصرف رنگ ہی رنگ نمایاں ہو، اور یہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر نے کا آخری مرحلہ ہو گا۔
ممکن ہے یہ تعبیر پہاڑوں کے مختلف رنگوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ روئے زمین کے پہاڑوں میں سے ہر ایک خاص رنگ رکھتا ہے ۔
بہر حال یہ جملہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اوپر والی آیات قیامت کے پہلے مرحلوں ، یعنی اس جہان کی ویرانی اور اختتام مرحلہ کی ہی بات کرتی ہیں ۔
1. تفسیر
نمونه، جلد 27، صفحه 285.
تاريخ : پنجشنبه سی ام دی ۱۳۸۹ | 13:47 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
