سؤال: قیامت کے روز بندوں کے حال
احوال کی ان کے اعمال سے کیا نسبت هوگی؟
جواب: خدا وند عالم سوره قارعه کی 6- 11 آیات میں اس کے بعد حشر ونشر، مردوں کے زندہ ہونے اور ان کی دو گرہوں میں تقسیم کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس جس شخص کا ترازوئے عمل وزنی ہوگا “ ( فاما من ثقلت موازینہ)۔
” وہ ایک عمدہ او رپسندیدہ زندگی میں ہو گا“۔ ( فھو فی عشیة راضیة)۔
” لیکن جس شخص کا ترازوئے اعمال ہلکا ہو گا ( و امامَم خفت موازینہ)۔
” تو اس کی پناہ گاہ جہنم ہے “۔ ( فامہ ہاویة)۔
اور تو کیا جانے ھاویہ ( دوزخ ) کیا ہے ؟ ( وما ادراک ماھیہ) ۔
”ایک جلانے والی آگ ہے “ ( نار ھامیة)۔
عیشة راضیة“ ( خوش وخرم زندگی) کی تعبیر بہت ہی عمدہ اور بلیغ تعبیر ہے ، جو قیامت ،میں اہل بہشت کی پر نعمت اور سراسر سکون و آرام کی زندگی کے لئے بیان ہوئی ہے یہ زندگی اتنی پسندیدہ اور رضایت بخش ہے گویا کہ وہ خود ہی راضی ہیں ، یعنی بجائے اس کے کہ ” مرضیة“ کہا جائے، زیادہ تاکید کے لیے” اسم مفعول“ کی بجائے ” اسم فاعل“ استعمال ہوا ہے ۔
اور یہ عظیم امتیاز آخرت کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی چاہے جتنی بھی مرفہ، پر نعمت، امن و امان اور رضایت و خوشنودی کے ساتھ ہو، پھر بھی ناخوشی اور ناپسندید گی کے عوامل سے خالی نہیں ہوتی ۔ یہ صرف آخرت ہی کی زندگی ہے جو سراسر رضایت و خوشنودی، آرام اور امنیت و دل جمعی کا سبب ہے ۔
”فامہ ھاویہ“کے جملہ میں ”ام “ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ”ام “ ماں کے معنی میں ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ماں اولاد کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ ہے جس کی طرف مشکلات میں پناہ لیتے ہیں اور اس کے پاس رہتے ہیں ، اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہلکے وزن والے، گنہگار، دوزخ کے علاوہ اور کوئی جگہ پناہ لینے کے لیے نہ پائیںگے ، اس شخص کے حال پر وائے ہے جس کی پناہ گاہ دوزخ ہوگی۔
بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہاں ”ام “ کامعنی”مغز“ ( دماغ) ہے کیونکہ عرب سر کے مغز کو ” ام الراٴس“ کہتے ہیں ، تو اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہیں سر کے بل جہنم میں پھینکیں گے، لیکن یہ احتمال بعید نظرآتاہے کیونکہ اس صورت میں بعد والی آیت ” وما ادراک ماھیہ“( تو کیا جانے کہ وہ کیا چیزہے ) کا مفہوم درست نہیں رہے گا۔
” ھاویة“ ” ھوی“ کے مادہ سے گر نے اور سقوط کرنے کے معنی میں ہے ، اور وہ ”دوزخ“کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، کیونکہ گنہگار اس میں گریں گے اور یہ جہنم کی آگ کے عمق اور گہرائی کی طرف بھی اشارہ ہے
اور اگر ہم ”ام “ کو یہاں ” مغز“ کے معنی میں لیں ، تو ” ھاویة“ کا معنی گر نے والی ہوگا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے ۔
” حامیة“ ”حمی“ ( بروزن نفی)کے مادہ سے شدتِ حرارت کے معنی میں ہے ، اور ” حامیة“ یہاں جہنم کی آگ کی حد سے زیادہ حرارت او رجلانے کی طرف اشارہ ہے ۔
بہر حال یہ جملہ جو یہ کہتا ہے تو کیاجانے کہ ” ھاویة“ کیاہے ” ھاویة“ جلانے والی آگ ہے“۔ اس معنی پر ایک تاکید ہے کہ قیامت کا عذاب اور جہنم کی آگ تمام انسانوں کے تصور سے بالاتر ہے ۔
جواب: خدا وند عالم سوره قارعه کی 6- 11 آیات میں اس کے بعد حشر ونشر، مردوں کے زندہ ہونے اور ان کی دو گرہوں میں تقسیم کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس جس شخص کا ترازوئے عمل وزنی ہوگا “ ( فاما من ثقلت موازینہ)۔
” وہ ایک عمدہ او رپسندیدہ زندگی میں ہو گا“۔ ( فھو فی عشیة راضیة)۔
” لیکن جس شخص کا ترازوئے اعمال ہلکا ہو گا ( و امامَم خفت موازینہ)۔
” تو اس کی پناہ گاہ جہنم ہے “۔ ( فامہ ہاویة)۔
اور تو کیا جانے ھاویہ ( دوزخ ) کیا ہے ؟ ( وما ادراک ماھیہ) ۔
”ایک جلانے والی آگ ہے “ ( نار ھامیة)۔
عیشة راضیة“ ( خوش وخرم زندگی) کی تعبیر بہت ہی عمدہ اور بلیغ تعبیر ہے ، جو قیامت ،میں اہل بہشت کی پر نعمت اور سراسر سکون و آرام کی زندگی کے لئے بیان ہوئی ہے یہ زندگی اتنی پسندیدہ اور رضایت بخش ہے گویا کہ وہ خود ہی راضی ہیں ، یعنی بجائے اس کے کہ ” مرضیة“ کہا جائے، زیادہ تاکید کے لیے” اسم مفعول“ کی بجائے ” اسم فاعل“ استعمال ہوا ہے ۔
اور یہ عظیم امتیاز آخرت کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی چاہے جتنی بھی مرفہ، پر نعمت، امن و امان اور رضایت و خوشنودی کے ساتھ ہو، پھر بھی ناخوشی اور ناپسندید گی کے عوامل سے خالی نہیں ہوتی ۔ یہ صرف آخرت ہی کی زندگی ہے جو سراسر رضایت و خوشنودی، آرام اور امنیت و دل جمعی کا سبب ہے ۔
”فامہ ھاویہ“کے جملہ میں ”ام “ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ”ام “ ماں کے معنی میں ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ماں اولاد کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ ہے جس کی طرف مشکلات میں پناہ لیتے ہیں اور اس کے پاس رہتے ہیں ، اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہلکے وزن والے، گنہگار، دوزخ کے علاوہ اور کوئی جگہ پناہ لینے کے لیے نہ پائیںگے ، اس شخص کے حال پر وائے ہے جس کی پناہ گاہ دوزخ ہوگی۔
بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہاں ”ام “ کامعنی”مغز“ ( دماغ) ہے کیونکہ عرب سر کے مغز کو ” ام الراٴس“ کہتے ہیں ، تو اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہیں سر کے بل جہنم میں پھینکیں گے، لیکن یہ احتمال بعید نظرآتاہے کیونکہ اس صورت میں بعد والی آیت ” وما ادراک ماھیہ“( تو کیا جانے کہ وہ کیا چیزہے ) کا مفہوم درست نہیں رہے گا۔
” ھاویة“ ” ھوی“ کے مادہ سے گر نے اور سقوط کرنے کے معنی میں ہے ، اور وہ ”دوزخ“کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، کیونکہ گنہگار اس میں گریں گے اور یہ جہنم کی آگ کے عمق اور گہرائی کی طرف بھی اشارہ ہے
اور اگر ہم ”ام “ کو یہاں ” مغز“ کے معنی میں لیں ، تو ” ھاویة“ کا معنی گر نے والی ہوگا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے ۔
” حامیة“ ”حمی“ ( بروزن نفی)کے مادہ سے شدتِ حرارت کے معنی میں ہے ، اور ” حامیة“ یہاں جہنم کی آگ کی حد سے زیادہ حرارت او رجلانے کی طرف اشارہ ہے ۔
بہر حال یہ جملہ جو یہ کہتا ہے تو کیاجانے کہ ” ھاویة“ کیاہے ” ھاویة“ جلانے والی آگ ہے“۔ اس معنی پر ایک تاکید ہے کہ قیامت کا عذاب اور جہنم کی آگ تمام انسانوں کے تصور سے بالاتر ہے ۔
تاريخ : پنجشنبه سی ام دی ۱۳۸۹ | 13:45 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
