جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی
(شعبہ تعلقات عامہ جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی کیجانب سے2006 میں نشر کی گئی پمفلٹ سے نقل کیا گیا ہے )
بلتستان: اسلامی جمہوریہ پاکستان کے انتہائی شمال میں کوہ قراقرم اور ہمالیہ کی چند وادیوں پر مشتمل قدیم آبادی ہے۔ یہ انتظامی لحاظ سے دو ضلعوں سکردو اور گنگچھے میں منقسم ہے۔ یہاں تقریبا چار لاکھ افراد بستے ہیں۔ ان میں سے تقریبا پندرہ فیصد اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں، یہ علاقہ سیاچن گلیشئر، کے ٹو اور دیوسائی میدان وغیرہ کے بنا پر دفاعی و سیاحتی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل اور بین الاقوامی مہم جو سیاحوں کی جولا نگاہ ہے۔
دخول اسلام: مقامی روایات کے مطابق یہاں آٹھویں صدی ہجری کے آخری عشروں میں نامور مبلغ دین سید علی ہمدانیؒ کی مساعی جمیلہ سے اسلام پھیلا۔ بعد میں ان کا نام لیتے ہوئے متعدد داعی وارد ہوئے اور عوام الناس رفتہ رفتہ فرقہ بندی کا شکار ہوئے اور اولین مبلغ کا اپنا مذہب (شافعی) ناپید ہو گیا۔
تجدید دعوت و توحید: تیرویں صدی کے اواخر میں بابا محمد حسین پشاوری کے ہاتھوں توحید و سنت کے تبلیغ و تعلیم کو فروغ حاصل ہوا۔ اور انہی کے فیض یافتہ عبدالرحیم عبدالعزیز ؒ نے مولانا حافظ عبدالمنان وزیر آبادی ؒسے سند فراغت حاصل کر لی۔ 1305ھ 1884ء غواڑی میں کتاب و سنت کی ترویج کے لئے جدو جہد شروع کی ۔ لیکن انہیں مختلف ہتھکنڈوں سے واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
پھر داعی موصوف کے بھتیجے مولانا محمد موسی بن علی بن عبدالعزیز کو حصول علم نبوی کا شوق دہلی لے گیا۔ آپ محدث العصر سید نذیر حسین دہلوی سے سند فراغت لیکر 1318ھ 1897ء میں وطن واپس آئے اور محلہ گھربی کھور میں مدرسہ دارالحدیث قائم کیا۔ اسی دور میں کریس ، شگر ، بلغار وغیرہ میں ایسے ہی دینی مدارس قائم ہوئے اور ہر جگہ ان مدارس نے داعی اول کے منہج و عقیدے کی ترویج میں گرانما خدمات سر انجام دیے۔ لیکن بعد میں غواڑی کا مدرسہ مشن میں کامیابی کے لحاظ سے سب پر فوقیت حاصل کر گیا۔ اور ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے نام میں بھی کئی بار تبدیلی آّئی۔
دوسرا مرحلہ: 1395ھ 1974 میں سماحۃ الشیخ ابن باز ؒ کی خصوصی ہدایت پر الشیخ عبدالرحمان خلیق ؒ اور الشیخ عبدالوہاب حنیف ؒ یہاں مبعوث ہوئے ۔ ان کے دور میں دارالعلوم بلتستان غواڑی کے مادی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ مدینہ یونیورسٹی میں داخلے کا سلسلہ قائم ہوا،۔ بلتستان میں پہلے سے قائم قابل ذکر مدارس میں سے مدرسہ منبع العلوم شگر کے علاوہ باقی تمام مدارس اس کی برانچیں بن گئیں۔ حسب ضرورت نئے برانچ مدارس قائم کیے گئے۔ 1982 میں مرکز اسلامی سکردو قائم ہوا۔
.: Weblog Themes By Pichak :.
