قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔

 
تحریر: محمد حسن جمالی

خدا نے ہدایت کے لئے انسان کو رسول ظاہری و باطنی سے نوازا۔ رسول باطنی سے مراد عقل ہے۔ نعمت عقل ہر انسان رکھتا ہے۔ عقل ایک ایسی عظیم دولت ہے کہ جس کی نظیر نہیں۔ کائنات کی تمام ترقی و پیشرفت کا راز عقل سے درست استفادہ کرنا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ نعمت عقل کو درک کرتے ہیں، اس کی منزلت اور قدر و قیمت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ درنتیجہ عقل سے درست استفادہ کرکے دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ نعمت عقل کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی قدر ومنزلت سے آشنائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں بھی ناکام رہتے ہیں اور آخرت میں بھی نامراد۔ پاکستان کی سرزمین پر وقت کے یزیدیوں نے ملت تشیع کی سرمایہ شخصیات کی زبان بندی کا اعلان کرکے اپنی حماقت، سفاہت و جہالت اور استبداد کا کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس قبیح حرکت کے ذریعے پوری دنیا کو ایک بار پھر اپنی منافقت، دوغلی پالیسی، علم دشمنی، تبلیغ دین سے منافرت، حق کی مخالفت، عدم صداقت اور ملت تشیع کے ساتھ خصوصی طور پر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تعصب اور ظلم و ستم کا برتاو جاری و ساری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اس مزموم و نامناسب حرکت سے اس بات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں پر اسلام اور مسلم دشمن عناصر کا تسلط کتنا ہے۔ وہ کس طرح ان پر حکمرانی کرتے ہیں۔ اس ناروا سلوک سے اس حقیقت کو درک کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ ہمارے حکمران اپنی عقلی صلاحیتں کھو چکے ہیں۔ ان سے آزادی اور اختیار کی نعمتیں سلب ہوچکی ہیں۔ وہ مسند اقتدار پر صرف نمائشی مجسمے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ در واقع وہ مسلم دشمنوں بالخصوص امریکہ و اسرائیل اور سعود آل یہود و سقوط کے ایجنٹ و آلہ کار ہیں، جن کے اشارے سے وہ اپنے ملک میں قوانین، اصول اور احکامات جاری کرتے ہیں۔ ملت تشیع کی فعال شخصیات بالخصوص فخر قوم، مفسر قرآن، محسن ملت، عظیم شخصیت حجت الاسلام والمسلمین علامہ محسن علی نجفی کی زبان بندی کا اعلان صرف اپنے بے دین آقاؤوں کی رضایت و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔ اورنگزیب فاروقی، منگل باغ، ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی جیسے امن اور انسانیت کے دشمنوں کی صف میں امن اور اتحاد بین المسلمین کے داعی، محسن ملت اور آقای شفا نجفی و علامہ امینی جیسی شخصیات کو لاکھڑا کرنے کی کوشش کرنا، اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہماری حکومت کا نظام دوسرے چلا رہے ہیں۔

ہمارے حکمران اغیار کے اشارے، کنائے اور حکم سے سر مو اختلاف نہیں کرسکتے۔ جس کی تازہ مثال بہت سارے شریف لوگوں من جملہ محسن ملت کے بینک اکاؤنٹ منجمند کرنے کا حالیہ حکومتی اعلان ہے، جس میں مولانا عبدالعزیز جیسے دیشتگردوں کی سرپرستی و تربیت کرنے والوں کی خباثتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے، ایسے خطرناک دہشتگردوں کو دہشتگردی کی تربیت کا جواز فراہم کرنے کے لئے، ہماری شخصیات کو بھی ان ملک و ملت کے ناسوروں کے زمرے میں لانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، جو صد در صد ظلم ہے۔ قومی درد کے معالجوں اور قومی درد ایجاد کرنے والوں کو یکساں سمجھنا پکار پکار کر یہ کہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی غلط اور ناانصافی پر مبنی حرکتوں کی وجہ سے زوال کے قریب ہے۔ نور پھیلانے اور ظلمت و تاریکی کا پرچار کرنے والوں کو ایک صف میں جمع کرنے کی کوشش کرنے والوں کی عقل اور تدبیر پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ارے عقل کے اندهو" اچھے اور برے کے درمیان تمیز کرنے کے لئے، تعمیری کام اور تخریبی کام کرنے والوں کی پہچان کے لئے، قوم کے لئے مفید اور مضر فعالیت سرانجام دینے والوں کی شناسائی کے لئے، اللہ نے تمہیں گوہر عقل سے نوازا ہے، ذرا ہوش کے ناخن لو۔ اپنے اس غلط فیصلے پر جلدی نظرثانی کرو، پانی سر سے گزرنے کے بعد پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی غلط حرکتوں کا سرا یزید اور آل یزید کی حرکتوں سے جا ملتا ہے۔

پوری تاریخ یزید کے ناپاک کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ آج کرہ ارض پر موجود انسان یزید کے نام سے ہی متنفر ہیں۔ اس کا نام سننا تک گوارا نہیں کرتے۔ یزید اور آل یزید نے بھی ماہ محرم الحرام میں ظلم کی انتہا کر دی تھی اور آج کے یزیدیوں نے بھی ٹھیک محرم کے قریب حق اور حقیقت بیان کرنے والوں کی زبان بندی کا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اگر آپ زبان پر پابندی لگاتے ہیں تو ان پر پابندی لگاو جو شیعہ ذاکرین کے لبادے میں ممبر حسین کی توہین کرتے ہیں، جو ممبروں پر چڑھ کر ناچتے ہیں، نفاق و کفر کا پرچار کرتے ہیں اور لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ زبان بندی کی پابندی ان پر لگاو، جو امن کے دشمن ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محسن ملت علامہ شیخ محسن نجفی صاحب پر کس جرم میں زبان بندی کی پابندی لگائی گئی ہے؟ جی ان کا جرم یہ تھا کہ وہ اتحاد کے داعی ہیں، وہ بے لوث قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی خدمات سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ رفاہی اور معاشرتی میدان میں بھی ملت پاکستان کے لئے متعدد بنیادی خدمات سرانجام دی ہیں۔

جن کے کچھ نمونے یہ ہیں:
1۔ ملک کے مختلف شہروں میں 22 سے زیادہ مدارس دینیہ کا قیام، پسماندہ علاقوں میں 68 سے زیادہ جگہ پر اسوہ سکول سسٹم کا قیام، کالجز اسوہ ماڈل کالج اسلام آباد، اسوہ کالج سکردو، پاک پولی ٹیکنیکل کالج چنیوٹ کا قیام، مدارس حفظ قرآن کی تاسیس، دارالقرآن اور دینیات سنٹرز کا قیام، امام بارگاہ و مساجد کی تعمیر، ملک کے مختلف حصوں میں 100 سے زائد مساجد بنائی جا چکی ہیں۔ یتیموں اور غریبوں کے لئے رہائشی منصوبوں پر کام کیا ہے، جن میں سکردو، مظفر آباد، اور مانسہرہ میں مکانات کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مکانات تعمیر ہوچکے ہیں، ٹیوب ویل اور کنوے کی تعمیر، یتیموں اور فقراء کی امداد، غریبوں کی کفالت، بزرگ شہریوں کی امداد، مستحق افراد کی شادیاں اور ہر سال اجتماعی شادی کے پروگرام بھی سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے ملت پاکستان کے سینکڑوں طلباء کی تعلیمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تربیت سے آراستہ کرکے پاکستانی معاشرے کو مفید انسان پیش کر دیئے ہیں اور مختلف اچھی علمی کتابیں تصنیف کرکے برصغیر کی قوم کو غربت علمی سے نکال باہر کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کی تصنیفات کے کچھ نمونے یہ ہیں:
الکوثر فی التفسیر القرآن بلاغ القرآن (ترجمہ و حاشیہ)، النھج السوی فی معنی المولیٰ والولی، دراسات الایدو الوجیۃ المقارنۃ، محنت کا اسلامی تصور، فلسفہ نماز، راہنماء اصول، تلخیص المنطق للعلامۃ المظفر، تلخیص المعانی للتفتازانی، اسلامی فلسفہ اور مارکسزم، تدوین و تحفظ قرآن، شرح و ترجمہ خطبہ زھراء سلام اللہ علیہا، آئین بندگی وغیرہ اور ان کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی مقالات جو مختلف ملکی اور غیر ملکی جرائد و مجلات میں چھپ چکے ہیں۔ وقت کے یزیدیوں کیلئے اب بھی فرصت ہے کہ جلد از جلد ہماری ان عظیم شخصیات پر لگائی گئی زبان بندی کی پابندی اٹھائیں، یہ سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ یاد رکھو کہ ظلم کو دوام حاصل نہیں، بالآخر ظلم مٹ کے رہیگا اور امن و اتحاد کے داعی، دین مقدس اسلام اور ملت پاکستان کی خدمات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر رکهنے والی عظیم علمی و فکری شخصیت، محسن ملت، علامہ محسن نجفی پر عائد کردہ زبان بندی کی پابندی اور ان کے بینک اکاونٹس کے انجماد کو فوری طور پر ختم کریں، وگرنہ ماہ محرم نزدیک ہے، جگہ جگہ حسینی عزادار اپنے مولا و آقا کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے حکومت وقت کی اس ناانصافی و ستم پر مبنی حرکت کے خلاف آواز بلند کرکے ظالموں کا جینا حرام کر دیں گے۔ سیدالشہداء حضرت امام حسین (ع) نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ ہمیں ذلت کی زندگی نہیں چاہئے، اس کے بجائے عزت کی موت کے استقبال کے لئے ہم تیار ہیں۔
 


تاريخ : جمعه سی ام مهر ۱۳۹۵ | 12:17 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

: یقینی طور پر ان میں سب سے نمایاں نام علامہ شیخ محسن علی نجفی کا ہے، جو اسلام آباد کے معروف دینی اداروں جامعہ کوثر اور جامعہ اہل البیت کے سربراہ ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور کئی ایک علمی و تعلیمی اداروں کے بانی ہیں۔ انھوں نے دینی اداروں کے قیام کے علاوہ عصری تعلیم کے ایسے ادارے اور کالج قائم کئے، جنھوں نے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کالجوں کے مقابلے میں اپنی کامیابیوں کا سکہ منوایا۔ شیخ محسن علی نجفی نے کچھ ہی عرصہ پہلے تفسیر الکوثر کے نام سے قرآن حکیم کی ایک مکمل اور قابل افتخار تفسیر لکھی ہے، جو تھوڑے ہی عرصے میں پاکستان کی مقبول ترین تفاسیر قرآن میں شامل ہوگئی ہے۔

 

تحریر: ثاقب اکبر

قومی ایکشن پلان پر یکساں طور پر پورے ملک میں عملدرآمد کے لئے ملک کے تمام محب وطن حلقے اور پارٹیاں آواز بلند کرتے رہے ہیں، لیکن یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پلان فورتھ شیڈول کے نام پر اس ملک کے شرفاء کے سروں پر بھی دھول ڈال دے گا اور حق و باطل میں کوئی تمیز باقی نہ رہے گی۔ ایک طرف اس ملک میں وہ لوگ ہیں جو جی ایچ کیو سے لے کر کالجوں، یونیورسٹیوں، وکیلوں، علماء، سیاستدانوں، ہسپتالوں، قبرستانوں، جنازوں، مسجدوں، مزاروں اور امام بارگاہوں پر حملہ آور ہیں، ایسے دہشت گرد جو القاعدہ، طالبان اور داعش جیسی انسانیت دشمن تنظیموں سے وابستہ ہیں، ایسی تنظیمیں جو سپاہ، جیش اور لشکر جیسے ناموں سے سرگرم عمل ہیں، ایسے گروہ جو تکفیر، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ میں اپنا منفی کردار کئی دہائیوں سے ادا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو اس ملک میں رواداری، ہم آہنگی، یکجہتی، محبت اور اخوت کے جذبوں کو عام کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ ان میں کئی جماعتیں، ادارے اور افراد موثر طور پر وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو حکومتوں کو ادا کرنا چاہیے اور شاید اس سے بڑھ کر یہ کہا جاسکے کہ جو حکومتیں بھی ادا نہیں کرسکتیں۔

گذشتہ دنوں جب فورتھ شیڈول کے نام پر دو ہزار سے زیادہ افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اعلان ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس فہرست میں جہاں ایک طرف شدت پسند اور تکفیری عناصر کے نام موجود ہیں، وہاں اس ملک کے معتبر، محب وطن، مثبت شناخت رکھنے والے اور خدمات کا روشن ماضی رکھنے والے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید کسی دفتری غلطی، کسی بابو کی غلط فہمی کی وجہ سے یا شاید اداروں میں گھسی ہوئی بعض کالی بھیڑوں کے ایماء پر ایسا ہوگیا ہے اور جونہی ذمہ دار حکام کی نظر اس فہرست پر پڑے گی تو حق و باطل میں اختلاط اور اچھے اور برے کو ایک ہی آنکھ سے دیکھے جانے کا تاثر ختم ہو جائے گا اور جن بے گناہوں کا نام اس فہرست میں شامل ہوا ہے، انھیں یقینی طور پر نکال دیا جائے گا، لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا بلکہ اگلا مرحلہ بھی آگیا اور ان تمام افراد کی قومی شناخت کو معطل کر دیا گیا۔

ویسے تو اس فہرست میں شامل متعدد افراد کو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ جنھوں نے اس ملک میں امن و امان کے قیام اور سلامتی و رواداری کے فروغ کے ساتھ ساتھ رفاہی اور فلاحی خدمات کا بھی ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تاہم اس میں بعض نام ایسے نمایاں ہیں، جنھوں نے سالہا سال سے اخوت و محبت کا پرچم اپنے ہاتھ میں تھام رکھا ہے۔ یقینی طور پر ان میں سب سے نمایاں نام علامہ شیخ محسن علی نجفی کا ہے، جو اسلام آباد کے معروف دینی اداروں جامعہ کوثر اور جامعہ اہل البیت کے سربراہ ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور کئی ایک علمی و تعلیمی اداروں کے بانی ہیں۔ انھوں نے دینی اداروں کے قیام کے علاوہ عصری تعلیم کے ایسے ادارے اور کالج قائم کئے، جنھوں نے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کالجوں کے مقابلے میں اپنی کامیابیوں کا سکہ منوایا۔ شیخ محسن علی نجفی نے کچھ ہی عرصہ پہلے تفسیر الکوثر کے نام سے قرآن حکیم کی ایک مکمل اور قابل افتخار تفسیر لکھی ہے، جو تھوڑے ہی عرصے میں پاکستان کی مقبول ترین تفاسیر قرآن میں شامل ہوگئی ہے۔ وہ گذشتہ کئی برسوں سے علمائے اسلام کانفرنس کے نام پر ایک ایسی کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں، جس میں تمام مکاتب فکر کے جید اور مایہ ناز علمائے کرام، مذہبی جماعتوں کے اکابر شریک ہوتے ہیں اور اتحاد امت اور وحدت مسلمین کے عنوان سے اپنے نظریات و افکار کو پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے مسلمانوں کو بالخصوص اور امت اسلامیہ کو بالعموم اتفاق و اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔

مذکورہ بالا فہرست میں علامہ شیخ محمد امین شہیدی کا نام بھی شامل ہے، جنھوں نے مرحوم قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر ملی یکجہتی کونسل کے احیاء اور فعالیت کے لئے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ قاضی صاحب نے مرکزی ذمہ داروں کا انتخاب کیا تو انھیں اتفاق رائے سے مرکزی سیکرٹری مالیات منتخب کیا گیا۔ حال ہی میں جب ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی ذمہ داروں کا نئے سرے سے چناؤ ہوا تو انھیں اتفاق رائے سے مرکزی نائب صدر منتخب کیا گیا۔ انھوں نے ملک بھر میں اتحاد امت کے لئے اجتماعات منعقد کئے اور ان کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ وہ میڈیا پر انٹرویوز ہوں یا اجتماعات میں خطابات، ہمیشہ اس ملک کی بہتری کے لئے گفتگو کرتے ہیں اور امت اسلامیہ کے اتحاد و اتفاق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل رہے ہیں۔

اسی فہرست میں علامہ مقصود علی ڈومکی کا نام بھی شامل ہے۔ وہ اس وقت ملی یکجہتی کونسل صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ جہاں دہشت گرد ایک عرصہ سے دندناتے پھرتے ہیں اور جنھوں نے ایک ہی دن میں کئی مرتبہ سینکڑوں افراد کو خاک و خون میں نہلایا ہے، اس سرزمین پر وہ حوصلے اور صبر کی علامت اور اتحاد و وحدت کی نشانی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ بدترین حالات میں بھی مسلمانوں کو آپس میں متحد ہونے کے لئے صدا بلند کی۔ انھوں نے جذباتی ترین مراحل میں بھی صبر کی نصیحت کی۔ اس سرزمین پر قاتلوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے نہ کہ صبر و شکیبائی کا درس دینے والوں اور اتحاد و اتفاق کی نصیحت کرنے والوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرکے ان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی۔ ہمیں یہ کہتے ہوئے بھی افسوس ہو رہا ہے کہ صرف معروف افراد میں سے کئی ایک بے گناہوں کو اذیت اور آزار کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایسے تعلیم یافتہ اور پرامن نوجوانوں کو بھی ’’گناہگاروں‘‘ کی مذکورہ فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے، جن پر اس ملک کے دیگر نوجوانوں کو ناز کرنا چاہیے، جنھوں نے محنت اور قابلیت سے اپنے آپ کو اس ملک کا مفید شہری ثابت کیا ہے۔ ہم ایسے کئی ایک اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو جانتے ہیں کہ جن کا نام غلط طور پر فورتھ شیڈول میں شامل کرکے ان کے مستقبل کو تاریک کر دیا گیا ہے۔

ہم نے چند نام بطور نمونہ لکھے ہیں۔ یقینی طور پر اس فہرست میں اور بھی ایسے افراد ہوں گے اور ممکنہ طور پر دیگر مکاتب فکر کے بے گناہ افراد بھی ہوں گے، جنھیں فورتھ شیڈول میں غلط طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ حکومت اس فہرست پر نظرثانی کرے اور جن کا نام غلط طور پر یا غلط فہمی سے اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، ان کا نام اس فہرست سے نکالے اور ان سے اس سلسلے میں معذرت بھی کرے۔ یہی کافی نہیں اگر بعض کالی بھیڑوں نے جان بوجھ کر نیک نام اور بے گناہ افراد کو اس فہرست میں شامل کیا ہے تو ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جانا ضروری ہے، تاکہ ایسے افراد کو عبرت کا نشان بنایا جائے جو حکومت کے علاوہ ریاستی اداروں کو اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے یا اپنے فرقہ وارانہ مقاصد کے پیش نظر یا زیر زمین دہشت گرد تنظیموں سے اپنے روابط کی بنا پر اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ اس طریق کار کو فوری طور پر اختیار کئے بغیر وہ دھول زمین پر نہیں بیٹھ سکتی جو فورتھ شیڈول کے نام پر اڑائی گئی ہے۔



تاريخ : جمعه سی ام مهر ۱۳۹۵ | 12:15 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

 

اسلام ٹائمز: اپنے خصوصی انٹرویو میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اندھیری رات کے بعد بلآخر سویرا ہوتا ہے، ظلم کیخلاف آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا، حق اور سچ کی آواز کوئی نہیں دبا سکتا۔ یہ جتنا بھی ظلم کرلیں، کم از کم یہ اموی اور عباسیوں سے زیادہ ظلم نہیں کرسکتے۔ یہ کسی کا موقف تبدیل نہیں کرسکتے اگر وہ موقف انصاف پر مبنی ہے۔ ہم بڑے اطمینان کے ساتھ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم نے جو راستہ چنا ہے، وہ حق گوئی اور سچ کا راستہ ہے، ظلم کی مخالفت کا راستہ ہے، طالبان، القاعدہ اور النصرہ کے خلاف آواز بلند کرنے کا راستہ ہے، ہم کھڑے ہیں اور آخری وقت تک کھڑے ہیں، جب تک خون کا آخری قطرہ ہے۔
 

علامہ محمد امین شہیدی کسی تعارف کے محتاج نہیں، نامور عالم دین اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے رکن ہیں، اسوقت ملی یکجہتی کونسل میں نائب صدر بھی ہیں، ان کا نام حکومت کی جانب سے شیڈول فور میں ڈال دیا گیا ہے، اسکے ساتھ ہی علامہ محمد امین شہیدی کا شناختی کارڈ معطل اور پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے شیڈول فور میں شامل افراد کے اکاونٹس بھی سیز کر دئیے گئے ہیں، جن میں علامہ امین شہیدی کا نام بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز نے اس تمام تر صورتحال اور ملکی حالات پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: حکومت کیجانب سے آپ کا نام بھی شیڈول فور کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، جس میں مولانا عبدالعزیز اور لدھیانوی جیسے لوگ شامل ہیں۔ اسے بیلنس پالیسی کہیں گے یا کچھ اور نام دیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایک لمبے عرصے سے قانون اسی کا غلام ہے جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے۔ قوانین کی عمل درآمدی اسی کے خلاف ہوتی ہے، جس کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ واقعات اور مسائل کے حوالے سے ایک خاص طبقہ تھا جس نے پاکستان کے امن کو تباہ کیا، حکومت اور ریاست کی مجبوری تھی کہ ایسے عناصر کو تنہا کرتے اور انہیں سائیڈ لائن لگاتے۔ لیکن یہ ایک عجیب منطق ہے اور ابتدا سے چلی آ رہی ہے، بالخصوصی انگریزوں کی یہ پالیسی رہی ہے، جن سے ان کالے انگریزوں نے بھی سیکھا ہے کہ ظالم کے ساتھ مظلوم کو بھی اکٹھا کر دو، اِدھر سے چار مارتے ہو تو اُدھرے سے بھی دو مار دو، تاکہ بیلنس رہے اور ادھر سے کوئی ردعمل نہ آئے۔ اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف مظالم ڈھائے۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ جب کوئٹہ کی سرزمین پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو اس وقت کے آئی جی بلوچستان نے بیان دیا تھا کہ شیعوں کو بھی چاہیئے کہ انہیں ٹارگٹ کرکے ماریں۔ یعنی وہ زمین ہموار کرنا چاہتے تھے کہ شیعہ بھی کارروائیاں کریں اور انہیں بیلنس کیا جاسکے، لیکن وہاں عقل اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل بیت علیہ السلام کے ماننے والوں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا اور یہ موقع کسی کے ہاتھ میں نہیں آنے دیا۔ لیکن اس کے باوجود کوئٹہ کے شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔

جب فرقہ وارانہ جماعتوں کے نام پر پابندیاں لگیں تو ان پابندیوں میں بلینسنگ کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے تحریک جعفریہ جیسی جماعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ اُن کو کہا گیا کہ آئندہ آپ کوئی سرگرمی اور فعالیت نہیں کرسکتے۔ جب پشاور کے واقعہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے نام پر ایک پالیسی بنی جس میں کہا گیا کہ کالعدم جماعتوں پر پابندی لگے گی، ان کی ہر صورت زبان بندی کی جائے گی، انہیں پرچم نہیں اٹھانے نہیں دیئے جائیں گے، انہیں کوئی ریلی نہیں نکالنے دی جائے گی، انہیں معاشرے میں کوئی افراتفری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنے دی جائے گی۔ اس میں بھی انہوں نے بلینس پالیسی اپنائی، کالعدم جماعتوں کے ساتھ بےگناہ لوگوں کو بھی رگیدنا شروع کر دیا گیا، انہیں اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا۔ اس دوران بہت سارے ایسے واقعات ہوئے جن میں نظر آتا تھا کہ بےگناہ عزادار کو اور بانی مجلس کو صرف جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد شدت پسند اور کالعدم جماعتوں کو مطمئن کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ انہیں بتایا جاسکے کہ ہم ادھر بھی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ اب جب شیڈول فور کی باری آئی تو اس میں حکومت اور ریاستی اداروں نے ہر اس بندے کو سامنے رکھا جو بولتا تھا، جو حکومت کی پالیسی کے خلاف بولتا تھا یا حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتا تھا۔ شیڈول فور کا مقصد تھا کہ امن و امان تباہ کرنے والوں کو قانون کے دائرہ میں لایا جائے، جیسے لال مسجد کے خطیب تھے، جیسے مسلح جھتے تھے، جیسے کافر کافر کے نعرہ لگانے والے بدبخت لوگ تھے، جیسے فرقہ وارانہ لٹریچر تقسیم کرنے والے اور اس کو چھاپنے والے تھے، لیکن یہاں بھی بیلنس کی پالیسی اپنائی گئی اور ان شیعہ افراد کو شامل کیا گیا، جن کا اتحاد امت اور اتحاد وحدت کے حوالے سے واضح رول ہے، ان کا فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے کے حوالے سے کوئی رول نہیں تھا۔ ان افراد کو فقط حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے جرم میں شیڈول فور میں ڈال دیا گیا۔

اب یہ جو سلسلہ چل نکلا ہے، شناختی کارڈ معطل کرنے، پاسپورٹ بلاک کرنے اور زبان بندی کا، اس میں بھی بیگناہ لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، ان افراد کو شامل کیا گیا ہے، جو اس امت اور اس ملک کو مقتدر اور سربلند ملک دیکھنا چاہتے ہیں، جنہوں نے دوسرے مسالک کے درمیان اتحاد و وحدت کی فضا قائم کرنے کیلئے شب و روز محنت کی ہے۔ میں خود اس وقت ملی یکجہتی کونسل میں نائب صدر ہوں اور اس کیلئے ہم نے خون پسینہ بہایا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ملی یکجہتی کونسل اتحاد امت کیلئے کس طرح کام کر رہی ہے، اب وہ لوگ جو ملی یکجہتی کونسل میں شامل نہیں ہیں، ان کے ساتھ بیگناہوں کو اور ہم جیسوں کو بھی شامل کر رہے ہیں۔ اس سے ان کی ساکھ زیرو ہو جاتی ہے۔ اس اقدام سے جو بےگناہ لوگ ہیں، ان کے منفی جذبات سامنے آئیں گے۔ اس طرح کی ظلم کی پالیسیاں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ جس ڈیپارٹمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے، اس نے پاکستان کیخلاف فیصلہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فیصلے شواہد کی بنیاد پر ہونے چاہیئں، عدالتیں اور ادارے آپ کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ کس نے روکا ہے کہ آپ شواہد پیش نہ کریں۔ اگر کسی پر جرم ثابت ہوتا ہے اور عدالت سزا دیتی ہے تو اس پر عمل درآمد کریں۔ لیکن اس طرح شہری آزادیاں صلب کریں، بنیادی ترین حق کو چھیننا، شناختی معطل کرنا اور پاسپورٹ بلاک کرنے جیسے اقدام سے کسی طور پر بھی معاشرے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس وقت بھی و ہ لوگ جو ریاست کی آغوش میں پل رہے تھے، وہ اب بھی پل رہے ہیں اور یہی ہمارا قصور ہے کہ ہم اس پر آواز بلند کرتے تھے۔ وہ چھاونیاں آج بھی آباد ہیں، وہ لوگ آج بھی پرامن زندگیاں بسر کر رہے ہیں، وہ لوگ جنہوں نے ریاستی اداروں پر حملے کئے تھے، وہ آج بھی آزاد زندگی گزار رہے ہیں، ان کی سکیورٹی ہو رہی ہے، جبکہ انہوں نے اس ملک کے اندر میں منافرت پھیلانے، نفرت پھیلانے، لوگوں کو نشانہ پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کے مقابلے میں جنہوں نے ملک کو فرقہ واریت سے پاک کرنے کی کوشش کی، جنہوں نے نفرت کے خاتمے کیلئے عملی اقدام کیا، جنہوں نے مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے کیلئے عملی اقدام کرنے کی کوشش کی، انہیں تنگ کیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اندھیری رات کے بعد بلآخر سویرا ہوتا ہے، ظلم کیخلاف آواز کو کوئی نہیں دبا سکتا، حق اور سچ کی آواز کوئی نہیں دبا سکتا۔ یہ جتنا بھی ظلم کرلیں کم از کم یہ اموی اور عباسیوں سے زیادہ ظلم نہیں کرسکتے۔ یہ کسی کا موقف تبدیل نہیں کرسکتے، اگر وہ موقف انصاف پر مبنی ہے۔ ہم بڑے اطمینان کے ساتھ دعوے کرسکتے ہیں کہ ہم نے جو راستہ چنا ہے، وہ حق گوئی اور سچ کا راستہ ہے، ظلم کی مخالفت کا راستہ ہے، طالبان، القاعدہ اور النصرہ کے خلاف آواز بلند کرنے کا راستہ ہے، ہم کھڑے ہیں اور آخری وقت تک کھڑے ہیں، جب تک خون کا آخری قطرہ ہے۔ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو بہت بڑی لعنت اور اللہ سے دشمنی سمجھتے ہیں۔ پوری شفافیت کے ساتھ اپنے مشن اور ارادے پر قائم ہیں۔ ہم تمام مسالک کو آپس میں جوڑنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے مشن پر قائم ہیں۔ شیعہ سنی اور دیوبندی سنی کو ملانے کیلئے اپنا مشن جاری رکھیں گے۔ یہ ہماری شرعی، اسلامی، عقلی اور محب وطن ہونے کا تقاضا ہے۔

اسلام ٹائمز: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک خاص لابی ان افراد کیخلاف سرگرم عمل ہے جو میڈیا پر انکے موقف کو کمزور کرتے ہیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کیا آپکی بھی یہی رائے کہ ایک خاص قسم کی لابی اسوقت متحرک ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
جی یقنی طور پر ایسا ہے، دیکھنا چاہیے کہ مجھ سے نقصان کس کو تھا، میری گفتگو سے فائدہ کس کو تھا، یقیناً میری گفتگو سے پاکستان اور محب وطن لوگوں کو فائدہ تھا، میری گفتگو سے نقصان پاکستان مخالف قوتوں اور دہشتگردوں کو تھا۔ نقصان ان لوگوں کا تھا، جو پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانا چاہتے ہیں، جو فرقہ واریت کی آگ کو مزید بڑھوا دینا چاہتے ہیں، انہی کی خواہش تھی کہ میری زبان بندی ہو، اداروں کی طرف سے دھمکیاں دی گئیں کہ آپ کو فلاں قتل میں ملوث کر دیں گے، تاکہ میں طالبان کے خلاف بات نہ کروں، تاکہ میں ان کے خلاف بات نہ کرسکوں، جنہیں دہشتگردی کی وجہ سے کالعدم قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی کی سزا دی جا رہی ہے، اگر یہ اسی کی سزا ہے تو ہم حق گوئی تو نہیں رک سکتے۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ اس ریاستی جبر کیخلاف قانونی اقدمات کرینگے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
دیکھیں قانون نے ہمیں جو جو راستہ اپنانے کیلئے کہا ہے، وہ میں اپناوں گا۔ یقینی طور پر میں یہ کام کروں گا، قانون نے جہاں جہاں مجھے اجازت دی ہے کہ میں اس طرح کے ریاستی کالے اقدامات کیخلاف جاوں تو وہ میں ان شاء اللہ ضرور جاوں گا۔

اسلام ٹائمز: آپ اس وقت ملی یکجہتی کونسل میں نائب صدر ہیں، کونسل نے بھی اس پر کوئی آواز اٹھائی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
ابھی ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس نہیں ہوا، یہ تازہ واقعہ ہے، کونسل کا اجلاس ہوگا تو اس مسئلے پر مجموعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور بات کریں گے۔ دیکھیں کیا نیتجہ نکلتا ہے۔

اسلام ٹائمز: نیکٹا نے اسٹیرنگ کمیٹی بنائی ہے، جسکا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ آپ بھی اسکا حصہ ہیں۔ اسکے باوجود آپکا نام شیڈول فور میں ہے، عجیب نہیں ہے۔ کیا وہاں اجلاس میں بھی یہ بات اٹھائیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
نیکٹا نے ایک اسٹرینگ کمیٹی بنائی ہے، جس میں اہل فکر، اہل سیاست، اہل دانش اور معاشرے کے معتبر طبقات کی نمائندگی ہے، اس میں جو مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی ہے، اس میں اہل تشیع کی نمائندگی میں کر رہا ہوں، جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس پر یہی کہوں گا کہ ان شاء اللہ نیکٹا اسٹرینگ کمیٹی میں بھی اس پر ضرور آواز اٹھائیں گے۔

اسلام ٹائمز: لین دین آپ نہیں کرسکتے، اکاونٹس آپکے منجمد کر دیئے گئے ہیں، شناختی کارڈ آپکا معطل ہے اور ملک سے باہر آپ نہیں جا سکتے، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ان ریاستی اقدامات سے منفی جذبات جنم لیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
میں نے عرض کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے منفی جذبات جنم لیں گے، یہ منفی جذبات پیدا کرنے میں کون لوگ ملوث ہیں؟ ظاہر ہے جو حکومت اور ریاست کے مختلف اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جن کا کام اپنا الو سیدھا کرنا ہے، جن کا کام کرپشن کرنا اور اپنا کام سیدھا کرنا ہے۔ اگر آپ پیسہ خرچ کریں تو یہ سب چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انصاف کے حصول کیلئے پورے یقین کے ساتھ چلیں گے، ان شاء اللہ کوئی لاقانیت نہیں ہونے دیں گے۔ یہ طے بات ہے کہ ریاست کے اس طرح کے اقدامات سے بعض لوگوں میں منفی جذبات ابھریں گے، لیکن یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بعض فرقہ پرستوں نے منفی جذبات کا اظہار بھی کیا ہے، لیکن ہم فرقہ پرست نہیں ہیں، ہم تکفیری سوچ کے حامل نہیں ہیں، ہم فرقہ پسندی کو لعنت سمجھتے ہیں، دوسرے فرقوں کی بےاحترامی کو لعنت سمجھتے ہیں، باہر سے مداخلت کو لعنت سمجھتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے میں اگر کسی ملک کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے اور ایک دوسرے کیخلاف کھڑے کرنے میں کوئی ملک لابنگ کر رہا ہے، اثر و رسوخ کا استعمال کر رہا ہے، پیسہ خرچ کر رہا ہے تو وہ سعودی عرب ہے۔ جب اس طرح سے مداخلتیں کریں گے اور مختلف اداروں میں کرائے کے مزدوں سے اقدامات کرائیں گے تو اس سے منفی جذبات جنم لیتے ہیں، لیکن ایک بات واضح کر دوں کہ ہم ملک کے بانیوں کی اولاد ہیں، اس لئے ہم سجھتے ہیں کہ اس ملک میں سب کو جینے کا حق حاصل ہے، ان لوگوں کو بھی جینے کا حق حاصل ہے، جو مسلمان نہیں ہیں لیکن اس ملک کے شہری ہیں، انہیں بھی برابری کی بنیاد پر جینے کا حق حاصل ہے۔ ہم قانون اور ریاست کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس طرح کے کالے قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔

اسلام ٹائمز: نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات طے کئے گئے تھے، لیکن عملی طور پر تین نکات پر عمل درآمد کیا گیا، کیا آپ سمجھتے ہیں اسکی وجہ پک اینڈ چوز بھی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
جی بالکل ایسا ہے، فوج کے ذمے جو کام تھا اس نے کیا، لیکن حکومت کے ذمے جو کام تھا وہ نہیں کیا گیا۔ وہاں عملداری نظر نہیں آئی۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے کتنے نکات پر عمل درآمد ہوا ہے اور کتنوں پر نہیں۔ بڑے بڑے لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جن نکات پر عمل ہوا ہے وہ تین یا چار ہیں۔ اب تک کتنے مدارس بند ہوئے، کتنوں کے فنڈنگ روکی گئی، ابتک کتنے دہشتگردوں کے اڈوں کو بند کیا گیا، یوٹیوب ان لوگوں کی بدزبانی اور گفتگو سے بھری پڑی ہے، آپ لوڈاسپیکر پر تو پابندی لگاتے ہیں لیکن ان کی زبان بندی کیوں نہیں کراتے جو نفرت پھیلاتے ہیں۔؟ اس طرح لسٹ بناتے چلیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ فقط تین چار کے علاوہ پندرہ سے سولہ نکات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ شہروں میں ضرب عضب شروع نہیں کیا گیا۔ ہم کہتے ہیں کہ ضرب عضب میں پک اینڈ چوز نہ کی جائے، اس کا دائرہ کار اتنا وسیع ہونا چاہیئے کہ جو بھی دہشتگرد ہے، اسے سزا ملنی چاہیئے۔ چاہے وہ فرقہ پرستی اور شدت پسندی پھیلاتا ہے یا بیرون ملک سے پیسے لیکر نفرت پھیلاتا ہے، اسے روکا جائے۔

اسلام ٹائمز: سیرل المیڈا کی اسٹوری آپ نے بھی پڑھی ہوگی، یقیناً اس میں جھوٹ نہیں ہے، دہشتگرد ایک عرصہ تک اس ریاست کا اثاثہ رہے ہیں، یہی وجہ بنی کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہوگیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت واقعاً دہشتگردوں سے نمنٹا چاہتی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
دیکھیں ان حقیقتوں کا کوئی انکار تو نہیں کرسکتا۔ ابھی جو شکار پور میں عید کے موقع پر واقعہ ہوا تھا، دو خودکش حملہ آوروں کو عوام نے پکڑا تھا، ایک مارا گیا دوسرے کی جیکٹ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت اتاری۔ اللہ نے معجزہ دکھایا کہ وہ پھٹا نہیں۔ میں خود وہاں گیا تو عوام نے بتایا کہ یہاں سے کچھ مہینے قبل پانچ سو کے قریب دھماکہ خیز مواد پر مبنی ڈرم برآمد ہوئے اور چار سے پانچ افراد کو بھی پکڑا گیا۔ مگر وہ چند دن بعد سب کے سب آزاد ہوگئے، میں نے وہاں کے ایم این اے آفتاب میرانی سے استفسار کیا کہ آپ لوگ دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں یا نہیں، کیا آپ لوگ امن کے خواہاں ہیں یا نہیں، تو ان کے ساتھ ایک پولیس افسر تھا، اس نے کہا کہ میں وہ آفسر ہوں، جس نے یہ آپریشن کرکے دھماکہ خیز مواد برآمد کیا اور ملزمان کو گرفتار کیا۔ اس نے بتایا کہ ہم نے تمام ملزمان کیخلاف ایف آئی آرز کاٹیں، لیکن چار مہینوں کے بعد سب کے سب آزاد ہوگئے۔ جس ملک میں بنیادی دہشتگردی کرنے والوں کو چند مہینوں میں چھوڑ دیا جائے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ یہ چھوڑنے والے کون ہیں، ظاہر ہے کہ ریاست کے ہی لوگ ہیں، لہذا ان اداروں کی تطہیر کی اشد ضرورت ہے۔ کیا سیاسی لوگ چند ووٹوں کی خاطر ان کالعدم جماعتوں اور دہشتگردوں کی سپورٹ نہیں حاصل کرتے۔ ریاستی اداروں میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، جب تک ان کالی بھیڑوں کو صاف نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پاکستان دہشتگردی سے پاک نہیں ہوسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملک میں ان غلط پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث یہ ملک یہاں پہنچا، کہاں غلطی ہوئی، اس کے ازالے کی ضرورت ہے، جو پرامن لوگ ہیں، انہیں پرموٹ کریں اور جو دہشتگرد اور شدت پسند ہیں، انہیں تنہا کریں۔ مجرموں کو سزا ملنی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: یمن اور شام کے حوالے کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ امین شہیدی:
دیکھیں کہ ظلم کی رات طویل نہیں ہوتی، ایک نہ ایک وقت صبح ہو کر رہتی ہے، سورج طلوع ہو کر رہتا ہے۔ بظاہر مظالم کی وجہ سے رات طولانی لگتی ہے، ایک دن امن کا سورج طلوع ہوگا، جن لوگوں نے ایک لاکھ لوگوں کو شام میں دہستگردی کیلئے جمع کیا تھا، وہ آج ان سے برات کر رہے ہیں، ان کو لانے والا بندر بن سلطان ہی تھا، وہی سعودی عرب جو داعش، طالبان، لشکر جھنگوی اور دیگر کالعدم جماعتوں کی ماں ہے، اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ روس کی مداخلت کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ اب فرقین مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں، اب کیونکہ زمینی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور فتح کا سلسلہ ہر روز آگے بڑھ رہا ہے، اس لئے دہشتگردوں کو بنانے والی قوتیں بیک فٹ پر ہیں، ایک دن ان شاء اللہ شام میں امن آئے گا کہ وہاں جمہوری حکومت قائم ہوگی۔ ایک غیر جانبدار الیکشن ہوگا، مسئلہ حل ہوگا۔ جہاں تک یمن کی بات ہے، وہ ایک لٹا پھٹا ملک ہے، اس پر ظلم کی انتہا کر دی گئی ہے، اسرائیل اور امریکہ نے یمن کیخلاف سعودیوں کی مدد کی ہے۔ تمام حقوق بشر کی تنظیمیں نابینا ہوگئی ہیں، گنگ ہوگئی ہیں، اس ظلم کیخلاف کوئی نہیں بول رہا، اس کے باجود مظلوم کا خون بولتا ہے، ابھی مجلس ترحیم پر انہوں نے حملہ کیا اور چھ سو افراد کو شہید کیا، پوری دنیا میں سعودیوں کیخلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے، یہ جتنا ظلم بڑھاتے جاتے ہیں، ان کیخلاف نفرت کی دیوار بڑھتی جائے گی۔ مثبت قوتیں مایوس نہیں ہوتیں، یمنیوں کو ان شاء اللہ ایک دن آزادی ملے گی، یمن سعودی، اسرائیلی اور امریکی چراگاہ نہیں بنے گا، ان سے آزاد ہوکر رہے گا۔



تاريخ : جمعه سی ام مهر ۱۳۹۵ | 12:14 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |

 

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے یمن کو آج کی کربلا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ موصل کی آزادی میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، لہذا اس کی مکاری سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

 

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقے الضاحیہ میں سید الشہداء امام بارگاہ میں دس محرم شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاداری میں شرکت کی اور عزداران حسینی سے خطاب کیا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایسے تمام شہداء کے اہلخانہ کو تسلیت عرض کی، جنہوں نے دینی اقدار اور مقدسات کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کابل اور بغداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے عزاداران حسینی کیلئے بھی اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: "اس سال مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ہر میدان میں مجاہدین کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کامیابیوں نے تکفیری دہشت گردوں کو کمزور اور عاجز کر ڈالا ہے۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے یمن کے خلاف سعودی جارحانہ اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آج ہم یمن کے بارے میں بات کریں گے اور ہم نے تاکید کی ہے کہ ضاحیہ، صور، بعلبک اور الھرمل سے مغربی البقاع تک منعقد ہونے والی مجالس عزاداری میں یمن کے عوام، یمن کی فوج اور رضاکار فورس سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ ہر سیاسی ماہر اور تجزیہ کار کیلئے یہ حقیقت انتہائی واضح ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جنگ سیاسی اہداف کی خاطر نہیں بلکہ اس دشمنی اور کینہ توزی کا نتیجہ ہے جو سعودی حکومت کے دل میں یمنی عوام کی نسبت پایا جاتا ہے۔ سعودی حکومت جس انداز میں یمن میں عام اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام کر رہی ہے، اس کے اہداف ہرگز سیاسی نہیں ہوسکتے بلکہ یہ اقدامات وہابیت کی دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جنگ کا مقصد یمنی عوام کی قوت ارادی کو ختم کرنا ہے، کیونکہ وہ خود مختاری اور عزت کے خواہاں ہیں۔"

سید حسن نصراللہ نے کہا: "آج یمن میں بھی کربلا کی طرح بیگناہ انسانوں کا قتل اور ٹکڑے ہوئے لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ صنعا اور یمن کے دیگر شہروں میں غم انگیز مناظر نظر آتے ہیں جبکہ یمنی عوام انتہائی شجاعت اور استقامت سے امریکی اور سعودی قتل و غارت اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمنی عوام ہرگز جارح قوتوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، ان کے دشمنانہ اقدامات کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے اور ہم بہت جلد امام خامنہ ای کی اس پیشین گوئی کو حقیقت کا رنگ اختیار کرتا دیکھیں گے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آل سعود کی ناک مٹی پر رگڑی جائے گی۔ سید حسن نصراللہ نے یمنی عوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "میں اپنے یمنی بھائیوں کو اپنے ذاتی تجربے اور ایمان کی روشنی میں کہتا ہوں کہ خداوند متعال پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو وحشی دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے مسئلہ فلسطین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہنا شروع ہوگئے تھے کہ فلسطینی انتفاضہ شکست کا شکار ہو کر ختم ہوچکی ہے، لیکن حال ہی میں انجام پانے والے شہادت طلبانہ اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ انتفاضہ فلسطینی جوانوں کے دلوں، عقل اور ضمیر کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "غاصب اسرائیلی بہت جلد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ فلسطین کی سرزمین ان کی موت، شکست اور ان کا خون جاری ہونے کی سرزمین ہے۔ اسرائیلیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ وہیں لوٹ جائیں، جہاں سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے تھے اور فلسطینی مزاحمت کا بھی یہی پیغام ہے۔" سید حسن نصراللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی حکام کے سامنے خشوع و خضوع کا فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسرائیل وہی ہے جو امریکہ سے بے تحاشہ اسلحہ وصول کرتا ہے اور غیر مشروط امریکی حمایت سے بھی برخوردار ہے۔ اس وقت ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن اسرائیل کی نامحدود حمایت کے اظہار میں ایکدوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے فلسطین کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔"

سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے عراق میں جاری داعش کے خلاف آپریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقی عوام کو خبردار کیا اور کہا: "امریکی موصل کے ذریعے شام کے مشرقی حصے میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے داعش کے تمام دہشت گرد عناصر کو شام کے مشرقی حصے میں جمع کر دیا ہے، تاکہ اس جگہ ان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ ایسی صورت میں داعش اپنی قوت بحال کرنے کے بعد دوبارہ عراق پر حملہ آور ہوسکے گی۔" سید حسن نصراللہ نے کہا: "یہ ایک امریکی سازش ہے، جس کا مقصد موصل میں عراقی عوام کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کرنا ہے۔ لہذا عراق کی مسلح افواج اور رضاکار فورس کو چاہئے کہ وہ موصل میں موجود داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کر ڈالیں اور ان کے کمانڈرز کو گرفتار کر لیں اور انہیں شام کی طرف بھاگنے کی اجازت نہ دیں، کیونکہ شام میں ان دہشت گرد عناصر کی موجودگی عراق کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوگی۔"

سید حسن نصراللہ نے بحرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام اپنے عظیم مقاصد کی راہ میں ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اس استقامت اور شجاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرینی عوام اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے اور پوری دنیا تک اپنی آواز پہنچانی چاہئے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "ہم نے اسرائیل اور اسرائیل سے ملنے والی اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم نے اسرائیل پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اسلامی مزاحمت ہرگز اسرائیل کے خلاف میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ ہماری طاقت کا راز فوج، عوام اور اسلامی مزاحمت کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح ہم نے لبنان کی شمالی سرحدوں پر بھی تکفیری دہشت گرد عناصر سے مقابلے کیلئے نظریں جما رکھی ہیں۔ ہم ملک کے دفاع کیلئے وہاں موجود رہیں گے۔" حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ مجاہدوں کی شہادت نے حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ بعض ہمارے شہداء کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے۔ اسی طرح بعض یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حزب اللہ لبنان مالی اعتبار سے کمزور ہوگئی ہے، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ میرا جواب ایک جملہ ہے کہ ہم نے نہ تو شکست کھائی ہے اور نہ ہی ہم تھکے ہیں۔



تاريخ : جمعه سی ام مهر ۱۳۹۵ | 12:13 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |