رپورٹ: این ایچ نقوی
شام
کے وقت جب میں گھر پہنچا تو امی جان اور ابو جی کو بہت پریشان پایا۔ ٹی وی
پر چلنے والی خبر نے مجھے بھی پریشان کر دیا۔ خبر یہ تھی کہ راجہ بازار
میں ہنگامہ، پتھراؤ، فائرنگ اور مدینہ مارکیٹ کو آگ لگا دی گئی ہے۔ مدینہ
مارکیٹ کی خبر نے تو جیسے سب کو ہی بہت پریشان کر دیا۔ پریشانی کی اہم وجہ
ہمارا چھوٹا بھائی ثاقب تھا۔ جو پولیس میں ہے اور اس کی ڈیوٹی مدینہ مارکیٹ
کی چھت پر لگی ہوئی تھی۔ وہاں دیوبندی مسجد بھی تھی اور اسی مسجد میں ان
کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ پریشانی کی وجہ سے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا
کیا جائے۔
فیصلہ کیا گیا کہ میں خود جا کر وہاں کا جائزہ لوں اور
ثاقب کو کسی طرح گھر لے کر آؤں۔ جب میں گھر سے نکلا تو میرے بعد میرا چھوٹا
بھائی عمر بھی چلا گیا۔ میں نے جب وہاں جا کر دیکھا تو سپاہ صحابہ کے
دیوبندیوں کا ایک ہجوم تھا، یہ سب لوگ اہل تشیع کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
گنج منڈی والے پل سے آگے کسی کو جانے نہیں دیا جا رہا تھا۔ میں نے ثاقب کو
تلاش کرنا تھا، اس لیے میں نے دوسرے راستے کی طرف رخ کر لیا۔ باقی تمام
اطراف کوئی ہنگامہ نہیں تھا، بس مدینہ مارکیٹ کی طرف جانے والے راستے پر ہی
ہنگامہ تھا، باقی تمام اطراف میں اہل تشع ماتم کر رہے تھے اور پولیس نے ان
کو سکیورٹی فراہم کر رکھی تھی، لیکن راجہ بازار اور مدینہ مارکیٹ کی طرف
بہت ہنگامہ تھا، وہاں لوگ دکانوں کو آگ لگا رہے تھے اور پتھراو کر رہے تھے،
اس طرف سے لوگوں کو پولیس اور آرمی آگے نہیں جانے دے رہی تھی۔ میں نے ہر
طرف سے کوشش کی، لیکن میرا رابطہ کسی بھی طرح ثاقب سے نہ ہوسکا اور میں
افسردہ خالی ہاتھ گھر کی طرف لوٹ آیا۔
گھر آکر میں والد صاحب کو
تسلی دیتا رہا کہ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں ہے، حالات ٹھیک ہیں، بس کچھ لوگ ہی
پتھراو کر رہے ہیں، لیکن میں خود حالات دیکھ کر آیا تھا، جو کہ بہت خراب
تھے۔ کچھ ہی دیر میں ثاقب کا گھر کے نمبر پر فون آگیا کہ وہ خیریت سے ہے
اور آفس پہنچ گیا ہے اور عمر بھی اس کے آفس میں ہے۔ سب کو تسلی ہوئی اور 9
بجے ثاقب گھر پہنچ گیا۔ سب سے پہلی خبر تو اس نے یہ سنائی کہ اس کا موٹر
سائکل جلا دیا گیا ہے۔ پھر میں نے اس سے تفصیل پوچھی کہ وہاں ہوا کیا تھا،
یہ سارا مسئلہ کہاں سے شروع ہوا تو اس نے کچھ یوں تفصیل سنائی۔
"مولوی
صاحب جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، اس مسجد کے مولوی صاحب دیوبند مسلک سے تعلق
رکھتے ہیں، مولوی صاحب اہل تشیع کے خلاف بہت نفرت انگیز تقریر کر رہے تھے،
مسجد میں سپاہ صحابہ کے لوگ اسلحہ سمیت موجود تھے اور لاؤڈ اسپیکر پر کافر
کافر شیعہ کافر، یزیدیت زندہ باد کے نعرے لگوا رہے تھے، کچھ ہی دیر میں
وہاں اہل تشیع کا جلوس آنا تھا اور مولوی صاحب انتہائی جوش سے شیعوں کے
خلاف تقریر کر رہے تھے۔ جب جلوس وہاں پہنچا تو نفرت انگیز نعرے سن کر شیعوں
نے پتھراو شروع کر دیا، لیکن مولوی صاحب نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ تقریر
میں انہوں نے میلاد اور عاشورہ کے جلوسوں میں شرکت کرنے والے سنی اور شیعہ
مسلمانوں کو کافر اور مشرک قرار دے دیا، جس کی وجہ سے جلوس میں شامل سنی
اور اہل تشیع کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے شدید احتجاج کیا، اس پر دیوبندی
مسجد سے پتھراو شروع ہوگیا اور سپاہ صحابہ کے راجہ بازار کے صدر اور اس کے
رشتہ داروں نے جلوس پر فائرنگ شروع کر دی اور انہوں نے پتھراو اور
فائرنگ کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں کھڑے موٹر سائکلز کو آگ لگانا شروع کر دی،
جب آگ مارکیٹ میں لگنا شروع ہوئی تو سپاہ صحابہ کے مولوی حضرات نے پولیس سے
اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران باہر موجود شیعوں اور بریلویوں نے بھی
پولیس سے اسلحہ چھین لیا اور اپنے دفاع میں فائرنگ شروع کر دی۔ ادھر ہم
صرف دو پولیس والے تھے، اس لیے پھر ہم بڑی مشکل سے چھتوں سے چھلانگیں لگا
کر وہاں سے نکلے اور آفس پہنچے۔” اس کے بعد کا جو ہنگامہ ہے وہ سب آپ کو
سچی اور حھوٹی خبروں کے ساتھ سننے اور پڑھنے کو مل گیا ہے۔
میرے
خیال میں ایک چھوٹی سی بات کی وجہ سے اتنا بڑا مسئلہ بنا ہے۔ اگر آج کے
خطبہ میں دیوبندی مولوی صاحب اہل تشیع اور سنی بریلویوں کے خلاف تقریر نہ
کرتے، جبکہ وہ جانتے تھے کہ آج ان کا جلوس بھی یہاں ہی آنا ہے اور یہاں آکر
جلوس نے ختم ہونا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے تقریر کی اور خالص شیعوں
کے خلاف تقریر کی تو پھر ایسا مسئلہ تو ہونا ہی تھا۔ پھر اس کے بعد سپاہ
صحابہ کے مسلح لوگوں نے جلوس پر پتھراو اور فائرنگ شروع کر دی اور سنی
بریلوی اور شیعہ کو اغوا کرکے دوبندی مسجد میں لے آئے، کچھ بے گناہ شیعہ
اور سنی زندہ جلا دیئے گئے اور سپاہ صحابہ والے دیوبندی بھاگ گئے، ایک مسجد
شہید ہوگئی۔ سو سے زیادہ دکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ کتنے ہی انسانوں کی جان
چلی گئی اور کتنے ہی زخمی حالت میں ہسپتالوں میں موجود ہیں اور اس پر یہ
جھوٹی خبروں نے اور نقصان پہنچایا ہے۔
اس واقعے کی کوریج پر مامور
اسلام آباد میں ایک ٹی وی کے رپورٹر نے بی بی سی کے نامہ نگار محمود جان
بابر کو بتایا کہ وہ فوارہ چوک میں ڈیوٹی پر موجود ہیں اور ابھی کچھ دیر
پہلے علاقے کے دیوبندی لوگوں نے ان کی گاڑیوں اور کیمروں پر ہلہ بول دیا
اور انہیں زبردستی یہ کہتے ہوئے رہائشی علاقے کے اندر لے گئے کہ لاشیں اندر
پڑی ہیں، تباہی اندر ہوئی ہے اور میڈیا باہر سے کس چیز کی کوریج کر رہا
ہے۔
یااللہ پاکستان کی خیر فرما، آمین
حضرت عباس علمدار علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی
والدہ کا نام ام البنین سلام اللہ علیہا تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر
قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس (ع) اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور
ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا
کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اطاعت
امام وقت اور وفا اگر کوئی سیکھنا چاہے تو اسے باب الحوائج حضرت عباس
علمدار (ع) سے ہی سیکھنا چاہیئے۔ بقول شاعر
کس قدر تیری وفا کے چرچے ہیں اقوام میں
تھی وفا بےنام ورنہ تو وفا کا نام ہے
ولادت باسعادت:
حضرت
عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس وقت تک
آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انہیں اپنے
ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انہیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت
محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔
روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ
السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ
کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھا، حضرت علی ابن
ابی طالب (ع) نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کے مشورے سے جو انساب کے
ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور
اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا فرما جو
اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسین (ع) کی نصرت و
مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ
السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا، چار بیٹے امام علی کو عطا کر
دیئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان
کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیا اور شہید ہوئے لیکن عباس (ع) ان سب میں
ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص
نہج پر پرورش کی تھی۔
ابتدائی زندگی:
حضرت علی
علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انہوں
نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصا
علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت
عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری،
تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و
تربیت خصو صاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود
کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل
ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے
روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے
عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ
وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ
وفا ہے ۔
جنگ صفین:
جنگ صفین امیر المومنین
خلیفتہ المسلمین حضرت علی علیہ السلام کے خلاف شام کے گورنر نے مئی، جولائی
657ء مسلط کروائی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ
السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست
جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان
میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے
بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ہیں اور یہ بنو ھاشم کے
چاند ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم کہا جاتا ہے۔
واقعہ کربلا اور حضرت عباس علیہ السلام:واقعہ
کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام
حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔ امام حسین علیہ
السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد
تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن
زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلا میں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ
السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انہیں لڑنے کی اجازت نہیں
دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق
علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا
کرتے تھے، ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش
تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں
تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے آپ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور
بہترین عنوان سے اپنا حق ادا کر گئے“ ۔
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے
حرم
حسین (ع) کے پاسدار، وفاؤں کے درخشان مینار، اسلام کے علمبردار، ثانیِ
حیدرِ کرّار، صولتِ علوی کے پیکر، خاندانِ رسول (ص) کے درخشان اختر، اسلام
کے سپاہ سالارِ لشکر، قلزمِ علی کے نایاب گوہر، فاطمہ زہرا (س) کے پسر،
ثانیِ زہرا (س) کے چہیتے برادر، علمدار کربلا حضرتِ ابوالفضل العبّاس علیہ
السلام، کسی کے قلم میں اتنی طاقت کہاں کہ طیّارِ عرشِ معرفت، اطلسِ
شجاعانِ عرب کے بارے میں خامہ فرسایی کر سکے یا انکی فضیلت میں اپنے لبوں
کو وا کر سکے ۔ اسلیے کہ انکی فضیلت اور عظمت وہ بیان کر رہے ہیں جو ممدوح
خدا ہیں۔ شخصیت والا صفات کے بارے میں چند روایاتِ معصومین اور چند حقایق
تاریخ، قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔
امام زین العابدین حضرت سید سجّاد (ع) فرزند سید شہداء علیہ السلام فرماتے ہیں، "ان العباس عنداللہ تبارک و تعالیٰ منزلۃ یغبتہ علیہا جمیع الشہداء یوم القیامۃ" خداوند عالم کے نزدیک عبّاس کی وہ منزلت ہے کہ تمام شہداء قیامت کے دن رشک کرینگے۔1
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں، "کان عمّی العباس بن علی نافذ البصیرۃ، صلب الایمان، جاہد مع اخیہ الحسین و ابلی بلاء حسنا و مضی شہیدا"۔ میرے
عمو عباس جو بصیرتِ نافذ اور ایمان محکم رکھتے تھے انہوں نے اپنے بھائی
حسین کے ساتھ جہاد کیا اور بلاء نیک کے متحمل ہوئے اور افتخار شہادت سے
شرفیاب ہوئے۔2
بصیرت نافذ وہ رکھتا ہے جسکی فکر اور رائے قوی ہو اگر
عبّاس اس صفت کے حامل نہ ہوتے تو راہِ اسلام میں یہ فداکاری جو آپ نے پیش
کی وہ نہ ہوتی۔ استحکام ایمان حضرتِ عباس کی فداکاری سے ثابت ہوتا ہے۔
مقاتل نے آپ کا رجز جو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کے کٹ جانے کے بعد پڑ ھا، یوں
بیان کیا ہے۔
واللہ ان قطعتم یمنی انّی احامی ابدا عن دینی
و عن امام صادق الیقین نجل النبی المصطفیٰ الامین
قسم خدا کی اگر میرا داہنا ہاتھ قلم کر دیا تب بھی میں ہمیشہ اپنے دین اور امام جو پیامبر خدا کی یادگار ہیں حمایت کروں گا۔3
جمالِ حضرتِ عبّاس:
آپکو قمرِ بنی ہاشم اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ بہت حسین اور جمیل تھے اور مورّخین نے آپکے حسن و جمال کو اس طرح نقل کیا ہے، "کان العباس و سیما جمیلا یرکب الفرس المطہم و رجلاہ یخطان فی الارض و یقال لہ قمر بنی ہاشم"۔
عباس اتنے خوبصورت اور حسین تھے کہ جب بلند قامت گھو ڑ ے پر سوار ہوتے تو
انکے پاؤں زمین پر خط دیتے ہوئے جاتے تھے اور انکو لوگ بنی ہاشم کا چاند
کہتے تھے۔ 4
علمِ حضرتِ عبّاس:
حضرت عبّاس کے علم کے بارے میں آئمہ فرماتے ہیں، "ان العباّس بن علی زق العلم زقا عبّاس"۔ عباس نے
علم کو اس طرح حاصل کیا جیسے کبوتر اپنے بچّے کو دانا چگاتا ہے۔ 5 ملّا
محمد باقر بجنوردی اپنی کتاب الکبریت الاحمر میں لکھتے ہیں، عبّاس اہلبیت
کے افاضل اور اکابر فقہاء میں سے ہیں بلکہ وہ عالم غیر معلّم ہیں۔ 6 امامِ
سجّاد اپنے خطبہ میں جو آپ نے دربارِ یزید میں ارشاد فرمایا ایک جملہ حضرتِ
عبّاس کے لیے ارشاد فرماتے ہیں، انّہ من اہل بیت زقّو العلم زقا۔
7 وہ اس خاندان سے تعلّق رکھتے ہیں جنہوں نے علم کو غذا کی طرح کھایا ہے
جب یزید نے اس جملہ کو سنا بےاختیار ا سکی زبان سے نکلا کہ اس کلمہ کو عرب
پرندے کو غذا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں اسلئے زقو العلم زقا کا مطلب ہے کہ خاندان پیامبر اپنی اولاد کو بچپنے میں ہی علم سے آراستہ کر دیتے ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔
علم کسی نے کسی کو دیا تھا خیبر میں
وہ دن اور آج کا دن علم ہمارا ہے
شجاعتِ حضرتِ عبّاس:
تاریخ نے شجاعتِ حضرتِ عبّاس کو اس طرح نقل کیا ہے، کالجبل العظیم و قلبہ کاالّطود الجسیم لانّہ کان فارسا ہماما و بطلا ضرغاما و کان جسور اعلیٰ الطّعن والضرب فی میدان الکفّار۔
وہ بلندی میں کوہِ عظیم کی مانند، قوّت میں ان کا قلب بلند و وسیع پہاڑ کی
طرح شجاعِ بے، مثال شیرِ ضرغام تھے، جنگ میں کفار ہمّت اور مردانگی کی داد
دیتے تھے۔ 8 روایت میں ہے کہ جنگِ صفین میں ایک جوانِ نقابدار لشکرِ
امیرالمومنین سے نکلا جس سے ہیبت اور شجاعت ظاہر ہوتی تھی، جسکی عمر تقریبا
سولہ سال ہو گی اور جنگ کرنے کے لیے مبارز طلب کرنے لگا شامی فوج کے
سربراہ نے ابو شعثاء کو حکم دیا کہ جنگ کرے، ابو شعثاء نے کہا شام کے لوگ
مجھے ہزار سوار کے برابر سمجھتے ہیں، میرے سات بیٹے ہیں میں ان میں سے ایک
کو بھیجتا ہوں وہ اس کا کام تمام کر دے گا اور اس نے اپنے ایک بیٹے کو
بھیجا لیکن وہ قتل ہو گیا اسی طرح اس نے اپنے ساتوں بیٹوں کو بھیجا اور سب
قتل ہوتے رہے، ابو شعثاء نے جب یہ دیکھا دنیا اسکی نظر میں تاریک ہو گئی وہ
خود بھی میدان میں آیا اور وہ بھی جہنم واصل ہوا، جب لوگوں نے شجاعت کے اس
ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو میدان میں دیکھا تو کسی کی ہمّت نہ ہوئی کہ
کوئی اس شجاع بے مثال کے مقابلہ میں جاتا وہ جوان اپنے لشکر کی طرف پلٹ گیا
اصحاب امیرالمومنین حیرت زدہ تھے کہ یہ جوان کون ہے لیکن جب نقاب رخ سے
ہٹی تو پتا چلا کہ قمرِ بنی ہاشم حضرتِ ابوالفضل العباس ہیں۔ 9
شجاعت
حضرتِ عبّاس کا اس روایت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ چیزیں جو
اہلبیت علیہم السلام کے لشکر سے لوٹی گئیں تھیں ان میں پرچمِ حضرت عبّاس
بھی تھا جب یہ تمام اشیاء یزید کے سامنے پیش کی گئی تو یزید لعین کی نگاہ
اس پرچم پر گئی وہ
غور سے اس پرچم کو دیکھتا رہا اور تعجّب سے کبھی
اٹھتا تھا کبھی بیٹھتا تھا، کسی نے سوال کیا، امیر کیا ہوا کہ اس طرح مبہوت
اور حیرت زدہ ہو یزید نے پوچھا یہ پرچم کربلا میں کس کے ہاتھ میں تھا کہا
عبّاس برادرِ حسین کے ہاتھ میں، یزید کہتا ہے کہ مجھے تعجّب اس علمبردار کی
شجاعت پر ہے پوچھا کیوں؟ کہا دیکھو پورا پرچم حتیّٰ اس کی لکڑی پر تیروں
اور دوسرے اسلحوں کے نشانات ہیں صرف اس ایک جگہ کے جہاں سے اس کو پکڑ ا گیا
ہے یہ جگہ کاملا محفوظ ہے اسکا مطلب ہے کہ تیر اور دوسرے اسلحے اس جگہ بھی
لگے لیکن اس بہادر نے علم کو اپنے ہاتھ سے رہا نہیں کیا آخری وقت تک اس
پرچم کی حفاظت کرتا رہا جب اسکا ہاتھ گرا تب پرچم گرا۔
شہادت:
کربلا
میں حضرت عباس (ع) نے ایک نرالی تاریخ رقم کی، امام حسین (ع) کے فوج کے
قابل ترین اور ماہرترین سپہ سالار اور علمدار تھے اور آنحضرت کو بھی آپ سے
نہایت محبت تھی اور آپ کے مشورے پر عمل کرتے تھےـ عاشورا کی عصر کو جب شمر
بن ذی الجوشن نے حضرت عباس (ع) اور ان کے بھائیوں جعفر، عثمان، اور عبداللہ
کے لئے امان نامہ بھیجکر چاہا کہ امام حسین (ع) کو چھوڑ کر عمر بن سعد کے
ساتھ مل جائیں یا دونوں کو چھوڑ کر وطن واپس چلے جائیں۔ حضرت عباس اور انکے
بھائیوں نے شمر کی اس دعوت کو ٹھکرایا اور حضرت عباس نے کہا، تیرے ہاتھ
ٹوٹیں اور تیرے امان نامے پر لعنت ہوـ اے خدا کے دشمن کیا تم ہمیں حکم کرتے
ہو کہ امام حسین (ع) کی مدد نہ کریں اور اسکے بدلے ملعون اور اسکے اولادوں
کی اطاعت کریں؟ کیا ہمیں امان ہے اور پیغمبر (ص) کے فرزند کیلۓ امان نہیں۔
اسی طرح جب عاشور کی رات امام حسین (ع) نے اپنے تمام ساتھیوں سے کہا کہ
رات کے اندھیرے کا سہارا لے کے یہاں سے چلے جاو اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ
جاو، دشمن کا معاملہ صرف مجھ سے ہے اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ـ اس
وقت سب سے پہلے حضرت عباس (ع) نے اپنی جانثاری اور وفاداری کا اعلان کیا۔
عرض کی اے امام ! کس لئے آپ کو چھوڑ دیں؟ کیا آپ کے بعد زندہ رہیں؟ خدا نہ
کرے ہم آپ کو دشمنوں کے مقابلے میں اکیلا چھوڑیں۔ ہم آپ کے ساتھ رہیں گے
اور اپنی آخری سانس تک آپ کی حمایت کریں گے۔ حضرت عباس (ع) کے بعد امام
حسین (ع) کے دوسرے سارے ساتھیوں نے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ الغرض، اس
عظیم انسان نے دسویں محرم کو قربانی اور فداکاری کی عظیم اور بےنظیر تاریخ
رقم کی اور جب تک زندہ تھے امام حسین (ع) پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دی اور
خمیہ گاہ کی طرف دشمن ترچھی آنکھ سے بھی دیکھنے کی جرات نہ کر سکا، امام
زین العابدین (ع) نے جو کربلا میں حاضر تھے اپنے چاچا عباس (ع) کی بےنظیر
فداکاری اور مجاہدت کو نزدیک سے دیکھا تھا، انکی فداکاری اور معنوی مقام کے
بارے میں فرماتے تھے، "رَحَمَ اللہ العبّاس، فَلَقَدْ آثَر، و أبلي، و فدي اخاہ بنفسہ حتّي قطعت يداہ، فابدلہ اللہ
(عزّ و جلّ) بہما جناحين يطير بہما مع الملائكہ في الجنّہ، كما جعل لجعفر
بن ابي طالب(ع)، و انّ للعباس عند اللہ (تبارك و تعالي) منزلہ يغبطہ بہا
جميع الشّہداء يوم القيامہ"۔ خدا میرے چچا عباس (ع) کو رحمت کرے کہ
اپنے آپ کو اپنے بھائی پر فدا کیا یہاں تک کہ دونوں بازوں قلم ہوئے اور
اللہ تعالی نے ان دو ہاتھوں کے بدلے دو پر دیئے، جن سے وہ جنت میں اڑتے ہیں
جسطرح انکے چچا جعفر بن ابیطالب (ع) کو دو پر عنایت ہوئے ہیں۔ بارگاہ
الٰہی میں حضرت عباس (ع) کا ایسا مقام اور ایسی فضیلت ہے کہ ہر شہید اسکی
آرزو کرتا ہےـ
دس محرم روز عاشورا کو امام حسین علیہ السلام نے ان
کے بےحد اصرار پر انہیں پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہ بنت
الحسین کے لئے پانی لانے کی اجازت دی، مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ
رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیئے اور
شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے
پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت
پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی حضرت
ابوالفضل العباس کے ساتھ ہوا۔ ان کے سر مبارک کو کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا
اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ 10 ان کا روضہ اقدس
عراق کے شہر کربلا میں ہے، جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں
شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ
فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے اور یہ معجزہ آج
تک دنیا کو اہلبیت اطہار (ع) بالخصوص باب الحوائج حضرت عباس (ع) کی فضلیت
بیان کر رہا ہے۔ حضرت عباس (ع) 34 سال کی عمر میں شھید ہوئے، آپ کی اولاد
میں ایک چھوٹا فرزند تھا جن کا نام" عبداللہ " تھاـ ان سے آپ کی نسل با
برکت آگے چلی۔ یہ حضرت عبّاس کی وفا، شجاعت، علم اور انکی معرفت امام کی
ایک جھلک تھی۔ خداوند عالم سے دعا ہے کہ ہمیں حقیقی محبین اہلبیت علیہم
السلام میں سے قرار دے۔ (آمین یا رب العالمین)
حوالہ جات:
1۔ بحار ج ۴۵ ص ۲۹۸
2۔ العبّاس بن علی ص ۳۶ نقل ذخیرۃالدّارین
3۔ منتہی الامال ج ۱ ص۲۷۱
4۔ العبّاس ، مقرّم ص۷۶ و خصایص العبّاسیہ ص۱۲۰
5۔ اسرار الشہادۃ ص۳۲۴
6۔ الکبریت الاحمر ج ۳ ص۴۵
7۔ العبّاس ، مقرم ص۹۵
8۔ خصایص العباسیہ ص ۱۱۸ و ۱۱۹
9۔ فرسان الھیجاء ج۱ ص
10۔ چہرۂ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العبّاس ص ۱۹۰۔۱۹۳
افسوس صد افسوس کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض قریبی افراد کی جاہلانہ کینہ توزی اور جاہ طلبی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ادھوری رہ گئی اور اس پر عمل نہ کیا گیا اور وہ فیصلہ جو خداوند متعال نے امت مسلمہ کیلئے کر رکھا تھا اسے عملی جامہ پہننے سے روک دیا گیا۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (سورہ مائدہ، آیہ 3)
"آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں مکمل کر دیں اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو چن لیا"۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام ائمہ معصومین علیھم السلام نے عید سعید غدیر کے دن خوشی منانے اور اس دن کی یاد تازہ رکھنے پر خاص تاکید کی ہے۔ ائمہ معصومین علیھم السلام نے عید سعید غدیر کو "عید الاکبر" یعنی بڑی عید کے طور پر یاد کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ بلافصل کے طور پر تعیین کیا گیا بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دستور الہی کے تحت اپنے بعد آنے والے تمام جانشینوں یعنی حضرت زہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کے گیارہ فرزندان کا نام لے کر انہیں لوگوں کو پہچنوایا اور آخر الزمان میں امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خوشخبری بھی سنائی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غدیر کے واقعے نے اسلام کے مستقبل پر انتہائی گہرا اثر ڈالا ہے اور اسلام کی تقدیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ واقعہ غدیر کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ایک اہم ترین الہی فریضہ انجام دیا۔ وہ فریضہ جس کا انجام دینا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام رسالت کے برابر تھا اور نعوذباللہ اس فریضے کو انجام دینے میں کوتاہی کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گذشتہ تمام محنتوں پر پانی بہ جانے اور اسلام کے آغاز سے جدوجہد کرنے والے تمام مسلمانوں کی فداکاریاں اور قربانیاں ضائع ہو جانے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا۔ وہ فریضہ جس کی ادائیگی کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ صرف اپنے جانشین یعنی حضرت علی علیہ السلام بلکہ ان کے بعد والے جانشینوں یعنی حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کی نسل سے باقی 9 اماموں میں سے ہر ایک کا نام لے کر لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ یہ افراد میرے جانشین اور خلیفہ ہیں۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض قریبی افراد کی جاہلانہ کینہ توزی اور جاہ طلبی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ادھوری رہ گئی اور اس پر عمل نہ کیا گیا اور وہ فیصلہ جو خداوند متعال نے امت مسلمہ کیلئے کر رکھا تھا اسے عملی جامہ پہننے سے روک دیا گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلام اور مسلمین کو ان کے حقیقی راستے سے منحرف کر دیا گیا جس کے بھیانک نتائج عالم اسلام آج بھی بھگت رہا ہے۔ خداوند متعال سورہ مائدہ کی تیسری آیہ میں فرماتا ہے:
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (سورہ مائدہ، آیہ 3)
"آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں مکمل کر دیں اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو چن لیا"۔
اسی طرح سورہ مائدہ کی آیہ 67 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:
یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس
"اے رسول، جو کچھ تمہاری جانب تمہارے خدا کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے اپنی رسالت کو کوئی کام انجام نہ دیا اور یاد رکھو خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا"۔
سب مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جب یہ آیہ نازل ہوئی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھام کر اسے ہوا میں بلند کیا اور فرمایا:
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ
"جس جس کا میں مولی ہوں یہ علی اس اس کا مولا ہے، اے خدا جو علی سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر اور جو علی سے دشمنی اختیار کرے تو بھی اس سے دشمنی کر"۔
شیعہ اور سنی مورخین کا کہنا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی موجود تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد عرض کی اور کہا:
بَخّ بَخّ لَکَ یَا ابْنَ أَبی طالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَیْتَ مَوْلایَ وَ مَوْلا کُلِّ مُؤمِنٍ وَ مُؤمِنَةٍ
"مبارک ہو اے ابوطالب کے بیٹے، تو ہمارا بھی ولی بن گیا اور ہر مومن مرد اور عورت کا بھی ولی بن گیا ہے"۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ انتہائی اہم اور مشکل دینی فریضہ انجام دینے کے باوجود پریشان تھے اور فرماتے رہتے تھے کہ خداوند متعال نے مجھے ایسا کام انجام دینے کا حکم دیا تھا جس کو انجام دینے میرے لئے انتہائی مشکل تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ لوگ اس بارے میں مجھے جھٹلا دیں گے۔ لیکن خداوند متعال نے مجھے دھمکی دی کہ اگر اس فریضہ کو انجام نہیں دیا تو میرے عذاب کا شکار ہو جاو گے اور یہ آیہ نازل فرمائی:
یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس (سورہ مائدہ، آیہ 67)۔
واقعہ غدیر ائمہ معصومین علیھم السلام کے کلام اور سیرت کی روشنی میں:
جب ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی سیرت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، امیرالمومنین امام علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ طاہرین علیھم السلام نے روز غدیر کو ایک عید کے طور پر منایا ہے اور اس دن دوسرے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کیا کرتے تھے اور انہیں تاکید کرتے تھے کہ وہ اس دن ایک دوسرے کو عید مبارک کہیں۔
حجہ الوداع کے دوران جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خم کے میدان میں غدیر کا معروف خطبہ دیا تو اس کے آخر میں تین بار فرمایا: من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ تاکہ یہ جملہ تاریخ میں اور مسلمانوں کے کانوں میں ہمیشہ کیلئے باقی رہ جائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر اعلان کر چکے تو اسی دن اس دن کو عید قرار دیا اور ایک خیمے میں تشریف لے گئے اور ہر آنے والے کو انتہائی خوشی کے عالم میں مبارکباد دینے لگے اور ان سے فرمایا:
"مجھے بھی مبارکباد دیں کیونکہ خداوند عالم نے مجھے نبوت سے اور میرے اہلبیت کو امامت سے مخصوص کر دیا ہے"۔
اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک اور موقع پر یوں فرماتے ہیں:
"غدیر خم کے دن (18 ذی الحج) میری امت کی سب سے بڑی عید کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خداوند متعال نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بھائی ابوطالب کے بیٹے علی کو اپنی امت کی ہدایت کا پرچم عطا کروں اور یہ اعلان کروں کہ میرے بعد ہدایت کا راستہ صرف اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ غدیر خم وہ دن ہے جب خداوند متعال نے دین اسلام کو کامل کر دیا اور میری امت پر اپنی نعمتوں کو مکمل کر دیا اور ہمارے لئے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا"۔
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا خطبہ غدیریہ:
خود امیرالمومنین امام علی علیہ السلام سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے 18 ذی الحج کو عید کا دن قرار دیا کرتے تھے۔ امام علی علیہ السلام کے دورہ خلافت کا واقعہ ہے کہ ایک دن عید سعید غدیر جمعہ کو آ گئی۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ میں شریک ہونے کیلئے مسجد میں جمع تھی۔ امام علی علیہ السلام خطبہ جمعہ کیلئے منبر پر تشریف لائے۔ امام حسین علیہ السلام اس دن کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
"دن شروع ہوئے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے جب میرے والد محترم نے جمعہ کا خطبہ دینا شروع کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے خداوند متعال کی حمد و ثنا انجام دی اور اس کے بعد خدا کی صفات بیان کیں اور فرمایا کہ حاکمیت اعلی خداوند متعال کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کے بعد خدا کی نعمتوں کا ذکر کیا اور لوگوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا: خداوند متعال نے آج کے دن آپ کیلئے دو بڑی عیدیں اکٹھی کر دی ہیں (عید غدیر اور عید جمعہ)۔ ایسی دو عیدیں جو ایک دوسرے کے فلسفہ وجودی کی تکمیل کرتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک عید دوسری عید کے ذریعے ہدایت حاصل کرنے میں موثر ہے۔ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم نے اس کے بعد فرمایا: توحید اور خدا کی وحدانیت پر ایمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کو مانے بغیر درگاہ خداوندی میں قبول نہیں کیا جائے گا اور دین و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس شخص کی ولایت کو مانے بغیر قبول نہیں ہو گا جس کا حکم خدا نے دیا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اہل ولایت کے ساتھ توسل اور تمسک پیدا نہ ہو جائے"۔
اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "خداوند متعال نے غدیر کے دن اپنے منتخب شدہ افراد کے بارے میں اپنا ارادہ اپنے رسول پر نازل کر دیا اور اپنے رسول کو دستور دیا کہ ان کی ولایت اور جانشینی کا اعلان کر دو تاکہ کفار اور منافقین کا راستہ بند ہو جائے۔ اور اس کام میں اپنے دشمنوں کی جانب سے کسی خطرے کی پرواہ نہ کرے۔ غدیر کا دن انتہائی شان و منزلت والا دن ہے۔ اس دن خدا کی جانب سے مسلمانوں کیلئے آسانیاں نازل ہوئی ہیں اور سب افراد پر اتمام حجت ہو چکی ہے۔ آج کا دن حقائق کو فاش کرنے اور اعلی عقائد کے اظہار کا دن ہے۔ آج کا دن دین کی تکمیل اور وعدہ پورا کرنے کا دن ہے۔ غدیر کا دن شاہد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مشہود (علی ابن ابیطالب علیہ السلام) کا دن ہے۔ آج کا دن کفر و نفاق کے زیرسایہ انجام پانے والے معاہدوں کے ٹوٹنے کا دن ہے۔ آج کا دن حقیقی اسلام سے متعلق حقائق کے آشکار ہونے کا دن ہے۔ آج کا دن شیطان کی ذلت اور خواری کا دن ہے۔ آج کا دن دلیل اور استدلال کرنے کا دن ہے۔ آج کا دن ایسے افراد کی صف الگ ہونے کا دن ہے جو اس کا انکار کرتے ہیں اور آج کا دن وہ عظیم دن ہے جس سے آپ میں سے کچھ لوگوں نے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے۔ آج کا دن ہدایت اور خدا کے بندوں کی آزمائش کا دن ہے۔ آج کا دن دلوں اور سینوں میں چھپے ہوئی نفرتوں اور دشمنیوں کے آشکار اور واضح ہونے کا دن ہے۔ آج کا دن مومن اور جان نثار افراد کیلئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واضح باتوں کے بیان کا دن ہے۔ غدیر حضرت شیث پیغمبر کا دن ہے، حضرت ادریس پیغمبر، حضرت یوشع پیغمبر اور حضرت شمعون پیغمبر کا دن ہے۔
عید غدیر کی مناسبت سے منشور علوی علیہ السلام:
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام خطبہ غدیریہ کے آخر میں فرماتے ہیں:
"اے مسلمانو تم پر خدا کی رحمت نازل ہو، آج کے اس عظیم اجتماع سے واپسی پر آج کے دن کو عید کے طور پر منائیں (اور مندرجہ ذیل اعمال انجام دیں): اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کیلئے زیادہ سے زیادہ تحائف خریدیں اور ان کے ساتھ نیکی سے پیش آئیں اور عفو و درگذر سے کام لیں۔ اپنی دینی بھائیوں کے ساتھ جہاں تک ہو سکے نیکی کریں اور انہیں مال عطا کریں۔ خدا نے جو نعمتیں آپ کو عطا کر رکھی ہیں ان کی بابت اس کا شکر ادا کریں۔ آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک جگہ جمع ہوں تاکہ خداوند متعال آپ کے اجتماع میں برکت ڈالتے ہوئے آپ کی تعداد بڑھا دے۔ ایکدوسرے کے ساتھ بھلائی کریں تاکہ خدا آپ کے دلوں میں زیادہ محبت اور الفت ڈال دے۔ ایکدوسرے کو الہی نعمتوں کی خاطر مبارکباد دیں جیسا کہ خداوند متعال بھی آپ لوگوں کو دوسری عیدوں کی نسبت زیادہ ثواب اور اجر دے کر مبارکباد دے رہا ہے"۔
اس کے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
"آج کے دن ایکدوسرے کی مالی مدد کرنا آپ کے اموال میں برکت اور عمر میں اضافے کا باعث بنے گا۔ دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا خدا کی رحمت اور عنایت کا سبب بنے گا۔ آج کے دن مسکراتے چہروں اور اظہار مسرت کرتے ہوئے ایکدوسرے سے مصافحہ کریں۔ اپنی توفیقات پر خدا کا شکر ادا کریں۔ ایسے فقیر اور کمزور افراد کے پاس جائیں جنہوں نے آپ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے کھانے میں شامل ہوں۔ عید غدیر کے دن کسی فقیر کی ایک درھم سے مدد کرنا عام دنوں میں 2 لاکھ درہم مدد کے برابر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ جب ایکدوسرے سے ملاقات کریں اور ایکدوسرے کو گلے لگائیں، ایکدوسرے کو مبارکباد پیش کریں کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایسا ہی دستور فرمایا ہے۔
جنگ صفین کے دوران حدیث غدیر کو بیان کرنا:
مولای متقیان امام علی علیہ السلام جنگ صفین کے دوران ایک دن اپنے سپاہیوں کے درمیان بیٹھے تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی اپنے فضائل بیان فرما رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے سورہ مائدہ کی آیہ 55 "انما ولیکم اللہ و رسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاۃ و یوتون الزکوۃ و ھم راکعون" اور اسی طرح سورہ توبہ کی آیہ 16 "و لم یتخذوا من دون اللہ و لا رسوله و لا المومنین ولیجه" کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: لوگوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول کیا ولایت سے متعلق آیات کچھ خاص مومنین کے ساتھ مخصوص ہیں یا سب مسلمانوں کیلئے ہیں؟ اس موقع پر خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ نماز، روزہ، زکات اور حج کی مانند ولایت اور حکومت سے متعلق امور بھی لوگوں کو بیان فرمائیں۔ لہذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم میں مجھے لوگوں کا ولی قرار دیا اپنے خطبے کے دوران فرمایا: ان اللہ ارسلنی برساله ۔۔۔۔۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔۔۔۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیھا اور غدیر:
حضرت سیدہ زہرا سلام اللہ علیھا سے پوچھا گیا:
آیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل امیرالمومنین علی علیہ السلام کی امامت اور جانشینی کے بارے میں کچھ فرمایا تھا؟
آپ سلام اللہ علیھا نے جواب دیا: وا عجبا، کیا تم لوگ روز غدیر خم کو بھول گئے ہو؟
اسی طرح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے ایک اور موقع پر فرمایا:
خداوند متعال نے غدیر خم کے ذریعے سب پر اپنی حجت تمام کر دی ہے اور کسی کے پاس کوئی بہانہ باقی نہیں بچا۔
ایک دن حضرت زہرا سلام اللہ علیھا احد کے مقام پر اپنے والد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا سید الشھداء حضرت حمزہ کے مزار پر گریہ کناں تھیں۔ اسی دوران محمود بن لبید کا وہاں سے گزر ہوا۔ وہ باہر ہی بیٹھ گیا اور جب حضرت زہرا سلام اللہ علیھا عزاداری سے فارغ ہوئیں تو اس نے آپ سلام اللہ علیھا سے پوچھا:
اے دختر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، کیا علی ابن ابیطالب کی امامت اور جانشینی کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے کوئی حدیث دلیل کے طور پر پیش کر سکتی ہیں؟
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فرمایا:
"وا عجبا، کیا تم غدیر خم جیسے عظیم واقعے کو فراموش کر چکے ہو؟ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میں نے اپنے کانوں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ: علی وہ بہترین انسان ہے جسے میں نے آپ لوگوں کے درمیان اپنا جانشین قرار دیا ہے، علی میرے بعد آپ کا امام اور خلیفہ ہے۔ میرے دو فرزند حسن اور حسین اور ان کے بعد حسین کی نسل سے 9 افراد پاک اور نیک امام اور پیشوا ہوں گے۔ اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت کی تو وہ تمہیں ہدایت کی جانب لے جائیں گے اور اگر ان کی مخالفت کی تو قیامت تک تم لوگوں میں اختلافات اور تفرقہ موجود رہے گا"۔
امام حسن و امام حسین علیھما السلام اور غدیر:
امام حسن اور امام حسین علیھما السلام ہر سال عید سعید غدیر کے موقع پر شہر کوفہ میں بڑے پیمانے پر دعوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ یہ دعوتیں اور جشن حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے دوران بھی برگزار کئے جاتے تھے۔ ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل کوفہ میں عید غدیر منانے کا رواج پڑ گیا۔ اسی طرح امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح نامہ لکھتے وقت واقعہ غدیر خم کو بیان کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ وہ حق پر ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی ایک سال حج کے موقع پر بنی ہاشم قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اور دوسروں کو جمع کیا اور انہیں غدیر خم کا واقعہ یاد دلایا۔
امام حسن مجتبی علیہ السلام کا خطبہ اور غدیر خم کو بیان کرنا:
امام حسن علیہ السلام نے اہل کوفہ کو خطبہ دیتے ہوئے ان کی توجہ اہل بیت اطہار علیھم السلام کی حاکمیت جیسی عظیم نعمت کی جانب مبذول کروائی جو اب ان سے چھینی جا چکی تھی۔ امام مجتبی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے برحق اور جائز ہونے پر تاکید فرمائی اور غدیر خم کے عظیم واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"آپ لوگوں کو میرے جد امجد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ فرمائشات یاد ہوں گی جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ: جب بھی لوگ ایسے شخص کو اپنا حکمران چن لیں جس سے زیادہ بہتر اور باصلاحیت شخص ان میں موجود ہو تو اس کا نتیجہ ان کی بدبختی کی صورت میں ظاہر ہو گا اور اس سے بچنے کا صرف ایک راستہ ہے کہ وہ جس شخص کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اسے بھول چکے ہیں اس کی جانب واپس لوٹ آئیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اے علی میرے بعد تمہاری مثال موسی کے بعد ہارون جیسی ہے، وہ اپنے بھائی موسی کا جانشین تھا جبکہ تم میرے جانشین اور خلیفہ ہو۔ تم میں اور ہارون میں فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔
اس کے بعد امام حسن مجتبی علیہ السلام نے فرمایا:
تم لوگوں نے اپنے پیغمبر کو دیکھا ہے اور غدیر خم میں ان کی فرامین کو سنا ہے۔ اس دن میرے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد علی علیہ السلام کا ہاتھ تھاما اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: ہر وہ شخص جس کا میں مولی اور سرپرست ہوں اس کا علی مولی ہو گا۔ خدایا، ہر اس شخص سے دوستی کر جو علی سے دوستی کرے اور ہر اس شخص سے دشمنی کر جو علی سے دشمنی کرے۔ ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میرے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سختی سے تاکید کی کہ موجود افراد اس واقعے کی خبر تمام ایسے افراد تک پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں۔
امام حسین علیہ السلام اور منی میں حدیث غدیر کو بیان فرمانا:
معاویہ کی موت سے ایک سال قبل امام حسین علیہ السلام حج ادا کرنے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ عبداللہ ابن عباس اور عبداللہ ابن جعفر بھی آپ علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ اس سال بنی ہاشم کے مرد و خواتین کی بڑی تعداد بھی حج پر موجود تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے ایام تشریق کے دوران انہیں منی کے میدان میں جمع کیا۔ اس عظیم اجتماع میں 700 سے زیادہ تابعین اور 200 سے زیادہ اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شریک تھے۔ سب افراد امام حسین علیہ السلام کے گرد پروانوں کی طرح جمع تھے اور اس انتظار میں تھے کہ آپ علیہ السلام انہیں اپنے کلام سے مستفیض فرمائیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے کا آغاز خدا کی حمد و ثنا سے کیا اور پھر فرمایا:
"آپ لوگ اچھی طرح دیکھ رہے ہیں کہ معاویہ کے ساتھی کس طرح ہم اور ہمارے شیعیان پر ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہیں۔ میری باتوں کو غور سے سنیں اور انہیں لکھ لیں (تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فیض یاب ہو سکیں) اور دوسرے شہروں اور قبیلوں میں بسنے والے مومن اور قابل اعتماد ساتھیوں تک بھی پہنچائیں۔ انہیں ہم اہلبیت علیھم السلام کے حقوق کو ادا کرنے کی جانب دعوت دیں۔ مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ وقت گزر جائے اور ہمارے حقوق ضائع ہو جائیں اور ہم مظلوم قرار پائیں کیونکہ خدا سب سے بہتر حامی ہے۔ میں آپ لوگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو یاد نہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے روز میرے والد علی علیہ السلام کو اپنا وصی اور اپنے بعد امام اور خلیفہ قرار دیا تھا؟ اور حدیث ولایت بیان کی تھی؟ اور آپ لوگوں کو تاکید کی تھی کہ جو بھی اس وقت حاضر ہیں وہ یہ خبر ایسے افراد تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں؟"۔ سب نے مل کر جواب دیا: جی ہمیں یاد ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام اور غدیر:
فضیل بن یسار، بکیر بن اعین، محمد بن مسلم، برید بن معاویہ اور ابوالجارود امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت اور غدیر کے بارے میں فرمایا:
"خداوند متعال نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ ولایت علی علیہ السلام کو بیان کریں اور یہ آیہ نازل فرمائی: انما ولیكم الله و رسوله و الذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة و یؤتون الزكاة۔ اس آیہ کے نازل ہونے کے بعد اولی الامر کی اطاعت بھی مسلمانوں پر واجب ہو گئی لیکن بعض مسلمان یہ نہ سمجھ سکے کہ اولی الامر کون ہے؟ خداوند متعال نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کیلئے واضح طور پر بیان کریں اور نماز، زکات، روزہ اور حج کی طرح اولی الامر کا مصداق بھی کھلے الفاظ میں بیان کریں۔ اس حکم خداوندی کے بعد پیغمبر اکرم پریشان ہو گئے اور انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس وضاحت کے بعد کچھ لوگ دین اسلام سے مرتد نہ ہو جائیں اور انہیں جھٹلانا شروع نہ کر دیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کی جانب توجہ کی اور پھر آیہ تبلیغ (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ۔۔۔۔) نازل ہوئی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بعد دستور دیا کہ تمام مسلمان غدیر خم کے میدان میں جمع ہو جائیں اور وہاں سب کے سامنے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب افراد پر تاکید کی کہ وہ یہ پیغام ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام اور غدیر:
حسان جمال روایت کرتا ہے: میں امام صادق علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے مکہ کی جانب سفر کر رہا تھا۔ جب ہم جحفہ کی میقات کے نزدیک "مسجد غدیر" پر پہنچے تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے مسجد کے بائیں جانب دیکھا اور فرمایا: یہ وہ جگہ ہے جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر کے دن علی علیہ السلام کو اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر پیش کیا تھا اور فرمایا تھا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے باقی افراد کی خیمہ گاہ کی جگہ مشخص کی اور فرمایا: ابوخذیفہ کا غلام سالم اور ابوعبیدہ جراح اس طرف بیٹھے تھے۔ بعض افراد ایسے تھے جنہوں نے جب دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کا ہاتھ تھام رکھا ہے تو وہ شدید حسد کا شکار ہو گئے اور ایکدوسرے سے کہنے لگے: پیغمبر خدا کی دو آنکھوں کو دیکھو، کس طرح (نعوذ باللہ) پاگلوں کی طرح اردگرد گھوم رہی ہیں اور انہیں آرام نہیں آتا۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور یہ آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل فرمائیں: و ان یكادالذین كفروا لیزلقونك بابصارهم لما سمعوا الذكر و یقولون انه لمجنون و ما هو الا ذكر للعالمین۔ (وہ افراد جو کافر ہو گئے ہیں جب انہوں نے قرآن کو سنا تو قریب تھا تمہیں بری نظر لگا دیتے، وہ کہ رہے تھے کہ یہ پاگل ہے جبکہ قرآن دنیا والوں کیلئے آگاہی اور بیداری کے سوا کچھ نہیں)۔
حسن بن راشد نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہوئے کہا: میں نے آپ علیہ السلام کو کہا: میری جان آپ پر قربان ہو، کیا مسلمانوں کیلئے عید فطر اور عید قربان کے علاوہ کوئی اور بھی عید ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں اے حسن، ان دونوں سے زیادہ عظیم اور بڑی ایک اور بھی عید ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کون سا دن ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: وہ دن جب امیرالمومنین علی علیہ السلام کو لوگوں کیلئے امام اور پیشوا مقرر کیا گیا۔ میں نے پوچھا: میری جان آپ پر قربان ہو، اس دن کون سے اعمال انجام دینے چاہئیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: روزہ رکھو اور پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجو اور جن لوگوں نے ان پر ظلم ڈھائے ہیں ان پر تبری کرو۔ تمام انبیاء الہی نے اپنے اوصیاء یہ حکم دے رکھا تھا کہ جس دن ان کا جانشین مشخص ہوا ہے اس دن کو عید کے طور پر منائیں۔ میں نے عرض کی: جو شخص اس دن روزہ رکھے اس کا کیا ثواب ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس کا ثواب 60 مہینے روزہ رکھنے کا ہے۔
امام کاظم علیہ السلام اور مسجد غدیر:
عبدالرحمان بن حجاج کہتا ہے: میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں شرف یاب ہوا۔ میں سفر پر جانا چاہتا تھا۔ میں نے آپ علیہ السلام سے مسجد غدیر خم کے بارے میں سوال پوچھا۔ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: اس مسجد میں نماز ادا کرو کیونکہ بہت ثواب اور فضیلت رکھتی ہے۔ میرے والد فرمایا کرتے تھے کہ مسجد غدیر میں ضرور نماز ادا کریں۔
امام علی رضا علیہ السلام اور غدیر:
امام علی رضا علیہ السلام کو خبر ملی کہ کچھ لوگ واقعہ غدیر خم کا انکار کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"میرے والد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ غدیر کا دن آسمان والوں کے درمیان زمین والوں کی نسبت زیادہ معروف ہے۔ بالتحقیق خدا اس دن مومن مردوں اور خواتین کے 60 سالہ گناہ بخش دیتا ہے اور ماہ مبارک رمضان سے دوگنا انہیں جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ دن کس قدر بافضیلت اور اہم ہے تو یقینا فرشتے ہر روز دس بار ان سے مصافحہ کرنے آتے"۔
فیاض بن محمد بن عمر طوسی نے 259 ہجری قمری میں جب خود اس کی عمر 90 سال تھی روایت کی ہے: میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے غدیر کے دن ملاقات کی۔ آپ علیہ السلام کے حضور بعض خاص صحابی بھی موجود تھے۔ امام علی رضا علیہ السلام نے انہیں افطار کی دعوت دے رکھی تھی اور ان کے گھر بھی کھانا، لباس اور تحائف حتی جوتے اور انگوٹھیاں بھجوائیں۔ امام علی رضا علیہ السلام ہمیشہ اس عظیم دن کو یاد کرتے رہتے تھے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام اور غدیر:
ایک مومن شخص نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے پوچھا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کا کہ "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" کیا مطلب ہے؟ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
"خداوند متعال چاہتا تھا کہ یہ جملہ ایک ایسی نشانی اور پرچم میں تبدیل ہو جائے جو امت میں اختلافات کے وقت اہل حق کی پہچان کا باعث بنے"۔
امام زمانہ عج اور غدیر:
حضرت ولی عصر عج سے منسوب دعای ندبہ میں آیا ہے:
فلما انقضت ایامه اقام ولیه علی بن ابی طالب صلواتك علیهما و آلهما هادیا اذ كان هم المنذر و لكل قوم هاد فقال و الملاء امامه من كنت مولاه فهذا علی مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه.
"جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات آئے تو انہوں نے علی ابن ابیطالب علیہ الصلوات و السلام کو امت کی ہدایت کیلئے چن لیا چونکہ وہ ڈرانے والے تھے اور ہر قوم کو ہادی کی ضرورت ہے۔ پس رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کے روبرو کھڑے ہو کر لوگوں کو کہا: جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا علی مولا ہے، خدایا جو بھی علی سے دوستی کرے اس سے دوستی کر اور جو بھی علی سے دشمنی کرے اس سے دشمنی کر۔

ایران پاکستان کے سرحدی علاقے سراوان میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے ایرانی سرحدی فورس کو اپنے دھشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھشتگرد گروپ ’’بیگانہ‘‘ سے وابستہ مسلح افراد نے سراوان سرحد پر موجود ایرانی سپاہیوں کو اس وقت اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی ڈیوٹیاں بدل رہے تھے۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے نائب سیکورٹی گورنر نے اس خبر کی تائید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ جھڑپ ایک دم سرحد کے اوپر ہوئی جس میں ایرانی سپاہیوں کے ۱۴ افراد کو شہید، ۶ کو زخمی اور ۴ کو اغوا کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلح دھشتگرد حملہ کر کے پاکستان کی طرف فرار کر گیے۔
شیعہ سنی اتحاد میں دن بدن مضبوطی/ فتنہ پرور افراد کا منہ توڑ جواب دیں گے
ابنا کی رپورٹ کے مطابق صوبہ چاربھار کے نمایندے جدگال یعقوب نے اس حادثہ کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس حملے میں شہید ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہیوں کی شہادت کے موقع پر جو گزشتہ شب سرحد پر دھشتگردوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں رہبر معظم انقلاب اور ان کے گھروالوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ شب سراوان بارڈر پر کئے گئے حملے کا مقصد ایران میں ایرانی برداری کے اندر موجود اتحاد اور یکجہتی کو خدشہ دار کرنا ہے۔
صوبہ چابہار کے نمائندے نے مزید کہا: یقینی طور پر اس بزدلانہ حملے کے پیچھے عالمی استکبار اور استعمار کا ہاتھ ہے لیکن خدا انہیں اندھا کرے انہوں نے نہیں دیکھا کہ ۸ سالہ دفاع مقدس میں ہمارے جوانوں نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اسلامی انقلاب کی جڑوں کو مضبوط بنانے میں کس قدر قربانیاں پیش کیں؟
یعقوب جدگال نے تاکید کی: ایران میں شیعہ سنی اتحاد دن بدن مضبوط ہو رہا ہے اور ہرگز ہم دشمنوں کو اختلاف اور تفرقہ کی اجازت نہیں دیں گے اور بہر قیمت اپنے وطن کی حفاظت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم ملک کے سکیورٹی عہدہداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ان افراد کے ساتھ سختی سے نمٹیں جو صوبہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.: Weblog Themes By Pichak :.

