آل سعود کے بارے میں شہید آیت اللہ باقر نمر کے خیالات

آیت اللہ شیخ باقر نمر کے کچھ فرامین کو جو انہوں نے آل سعود کے خلاف مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے تھے، اسلام ٹائمز اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے قارئین ان ارشادات کو پوری دنیا میں پھیلا کر اس عظیم شخصیت کے نظریات کو پوری دنیا میں پہنچائیں گے۔
رپورٹ: ایس ایم عابدی
آیت اللہ شیخ باقر نمر آل سعود کے خلاف ایک مضبوط آواز تھی، ایک ایسی آواز کہ جس نے سعودی مظالم کے خلاف جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، دنیائے اسلام کی اس عظیم شخصیت کو آج آل سعود نے ہم سے چھین لیا ہے اور آیت اللہ شیخ باقر نمر شہادت کے عظیم مرتبے پر فائض ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز شیخ باقر نمر کے کچھ فرامین کو جو انہوں نے آل سعود کے خلاف مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے تھے، اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے قارئین ان ارشادات کو پوری دنیا میں پھیلا کر اس عظیم شخصیت کے نظریات کو پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔
1) نجد و حجاز اور مشرق و جنوب پر ایک صدی سے مسلط آل سعود نامی خاندان کی ملوکیت پورے ملک میں منظم فرقہ وارانہ امتیازات پر استوار ہے اور خاص طور پر الشرقیہ کے دو علاقوں الاحساء اور القطیف کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
2) میں کلمۂ حق کے اظہار سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا، خواہ سعودی خاندان مجھے گرفتار کرے، خواہ مجھے تشدد کا نشانہ بنائے اور اذیت و آزار دے اور حتیٰ مجھے شہید کر دے۔
3) ہم آل سعود کی طرف سے عوام اور بالخصوص شیعیان آل رسول (ص) کی عزت و حیثیت پر تجاوز اور انہیں تمام شہری حقوق سے محروم کرکے انہیں دوسرے درجے کے شہریوں کا درجہ دیئے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ہم اس ملک میں رہنے والے شیعیان آل محمد (ص) کا بہر صورت تحفظ کریں گے۔
4) میں آل سعود کے خلاف جدوجہد کے اگلے مورچے میں خود ہی بیٹھا ہوا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جدوجہد کے بغیر کسی مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور مقاصد کے حصول کے لئے ایثار اور شجاعت و جہاد کی ضرورت ہے۔
5) ہم پرامن جدوجہد پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں مسلح تحریک کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا کرتی اور ملک میں عدل و انصاف قائم نہیں ہوا کرتا اور ملک کے باشندے حریت کے ساتھ نہيں جی سکتے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبہ جہاد میں بھی زور دیا گیا ہے کہ عدل جہاد کے سوا قائم نہیں کیا جاسکتا اور حق ایثار، جہاد اور شجاعت کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔
6) شیعیان آل رسول (ص) آل سعود کے ظلم و تجاوز کے سامنے خاموش نہيں رہیں گے۔ اے آل سعود! ہم خاموش نہیں رہیں گے، تم جو ظلم بھی چاہو ہم پر روا رکھو، جو بھی چاہتے ہو کرو اور ہماری شخصیت اور ہماری حیثیت کو پامال کرو۔
7) سعودی عرب کے تمام ذرائع ابلاغ اور اخبارات و جرائد آل سعود سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان کی تشہیری مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ان کا رویہ آزاد صحافت سے کوسوں دور ہے۔
8) سعودی مفتی آل سعود کے بنے بنائے افراد ہیں، سعودی حکام انہیں پیسہ دیتے ہیں، تاکہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کو آپس میں الجھائے رکھیں اور یوں سعودی شہزادے پورے چین و سکون کے ساتھ ملکی وسائل لوٹتے رہیں۔
9) اے آل سعود! میں جاتنا ہوں کہ آج نہیں تو کل مجھے گرفتار کرنے کے لئے آؤ گے، میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں کیونکہ تمہاری منطق ہی یہی ہے، "گرفتاری، ٹارچر اور قتل و غارت" لیکن ہم قتل و غارت سے نہيں ڈرتے، ہم کسی بھی مصیبت سے نہيں ڈرتے۔
10) اگر آل سعود کے حکام پرامن مظاہروں کی مخالفت کرتے ہيں اور دھرنوں پر پابندی لگاتے ہیں تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لئے نئے نئے راستے اختیار کریں گے اور اپنے جائز حقوق لے کر رہیں گے، مظاہرے اور دھرنے ہمارے احتجاجی طریق کار کا ایک ہی جزو ہے۔
آیت اللہ شیخ نمر سعودی حکام کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی استبدادی اور آمر حکمرانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر بحرین پر مسلط آل خلیفہ کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی درباری عدالت نے شیخ نمر کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جس کے بعد سے تمام مراجع عظام اور دینی و مذہبی شخصیات نے سعودی عرب کے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی جبکہ کئی ممالک میں شیخ نمر کی حمایت اور آل سعود کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ اس ظالم اور خائن سعودی بادشاہت نے ایک مظلوم عالم کو حق گوئی کی پاداش میں آج سزائے موت دے کر اپنی بربریت اور فتنہ انگیزی کا ثبوت دے دیا۔ انشاءاللہ شیخ نمر اور مظلومین کا خون سعودی نظام کی تباہی کا سبب بنے گا۔
آیت اللہ شیخ باقر نمر آل سعود کے خلاف ایک مضبوط آواز تھی، ایک ایسی آواز کہ جس نے سعودی مظالم کے خلاف جدوجہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا، دنیائے اسلام کی اس عظیم شخصیت کو آج آل سعود نے ہم سے چھین لیا ہے اور آیت اللہ شیخ باقر نمر شہادت کے عظیم مرتبے پر فائض ہوچکے ہیں۔ اسلام ٹائمز شیخ باقر نمر کے کچھ فرامین کو جو انہوں نے آل سعود کے خلاف مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے تھے، اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہا ہے۔ امید ہے کہ ہمارے قارئین ان ارشادات کو پوری دنیا میں پھیلا کر اس عظیم شخصیت کے نظریات کو پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔
1) نجد و حجاز اور مشرق و جنوب پر ایک صدی سے مسلط آل سعود نامی خاندان کی ملوکیت پورے ملک میں منظم فرقہ وارانہ امتیازات پر استوار ہے اور خاص طور پر الشرقیہ کے دو علاقوں الاحساء اور القطیف کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
2) میں کلمۂ حق کے اظہار سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا، خواہ سعودی خاندان مجھے گرفتار کرے، خواہ مجھے تشدد کا نشانہ بنائے اور اذیت و آزار دے اور حتیٰ مجھے شہید کر دے۔
3) ہم آل سعود کی طرف سے عوام اور بالخصوص شیعیان آل رسول (ص) کی عزت و حیثیت پر تجاوز اور انہیں تمام شہری حقوق سے محروم کرکے انہیں دوسرے درجے کے شہریوں کا درجہ دیئے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ہم اس ملک میں رہنے والے شیعیان آل محمد (ص) کا بہر صورت تحفظ کریں گے۔
4) میں آل سعود کے خلاف جدوجہد کے اگلے مورچے میں خود ہی بیٹھا ہوا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جدوجہد کے بغیر کسی مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور مقاصد کے حصول کے لئے ایثار اور شجاعت و جہاد کی ضرورت ہے۔
5) ہم پرامن جدوجہد پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں مسلح تحریک کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا کرتی اور ملک میں عدل و انصاف قائم نہیں ہوا کرتا اور ملک کے باشندے حریت کے ساتھ نہيں جی سکتے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبہ جہاد میں بھی زور دیا گیا ہے کہ عدل جہاد کے سوا قائم نہیں کیا جاسکتا اور حق ایثار، جہاد اور شجاعت کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔
6) شیعیان آل رسول (ص) آل سعود کے ظلم و تجاوز کے سامنے خاموش نہيں رہیں گے۔ اے آل سعود! ہم خاموش نہیں رہیں گے، تم جو ظلم بھی چاہو ہم پر روا رکھو، جو بھی چاہتے ہو کرو اور ہماری شخصیت اور ہماری حیثیت کو پامال کرو۔
7) سعودی عرب کے تمام ذرائع ابلاغ اور اخبارات و جرائد آل سعود سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان کی تشہیری مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ان کا رویہ آزاد صحافت سے کوسوں دور ہے۔
8) سعودی مفتی آل سعود کے بنے بنائے افراد ہیں، سعودی حکام انہیں پیسہ دیتے ہیں، تاکہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کو آپس میں الجھائے رکھیں اور یوں سعودی شہزادے پورے چین و سکون کے ساتھ ملکی وسائل لوٹتے رہیں۔
9) اے آل سعود! میں جاتنا ہوں کہ آج نہیں تو کل مجھے گرفتار کرنے کے لئے آؤ گے، میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں کیونکہ تمہاری منطق ہی یہی ہے، "گرفتاری، ٹارچر اور قتل و غارت" لیکن ہم قتل و غارت سے نہيں ڈرتے، ہم کسی بھی مصیبت سے نہيں ڈرتے۔
10) اگر آل سعود کے حکام پرامن مظاہروں کی مخالفت کرتے ہيں اور دھرنوں پر پابندی لگاتے ہیں تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لئے نئے نئے راستے اختیار کریں گے اور اپنے جائز حقوق لے کر رہیں گے، مظاہرے اور دھرنے ہمارے احتجاجی طریق کار کا ایک ہی جزو ہے۔
آیت اللہ شیخ نمر سعودی حکام کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی استبدادی اور آمر حکمرانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر بحرین پر مسلط آل خلیفہ کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی درباری عدالت نے شیخ نمر کے لئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جس کے بعد سے تمام مراجع عظام اور دینی و مذہبی شخصیات نے سعودی عرب کے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی جبکہ کئی ممالک میں شیخ نمر کی حمایت اور آل سعود کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ اس ظالم اور خائن سعودی بادشاہت نے ایک مظلوم عالم کو حق گوئی کی پاداش میں آج سزائے موت دے کر اپنی بربریت اور فتنہ انگیزی کا ثبوت دے دیا۔ انشاءاللہ شیخ نمر اور مظلومین کا خون سعودی نظام کی تباہی کا سبب بنے گا۔
تاريخ : شنبه دوازدهم دی ۱۳۹۴ | 22:30 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
آیت اللہ شیخ باقر النمر کے حالات زندگی پر ایک نظر

آیت اللہ نمر باقر نمر نے جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے بھی جدوجہد کی اور سن دو ہزار چار سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن دو ہزار سات تک جاری رہا۔
رپورٹ: ایس ایم عابدی
آیت اللہ نمر باقر النمر تیرہ سو اناسی ہجری قمری میں مشرقی سعودی عرب کے صوبے قطیف کے شہر العوامیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی بن ناصر آل نمر بھی اپنے علاقے کے معروف عالم اور خطیب تھے۔ ان کے خاندان سے دیگر علماء میں آیت اللہ محمد بن ناصر آل نمر کا نام بھی لیا جاسکتا ہے۔ آیت اللہ نمر نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے آبائی شہر عوامیہ میں حاصل کی، اس کے بعد وہ دینی علوم کے حصول کی خاطر سن چودہ سو ہجری مطابق انیس اناسی میں ایران تشریف لائے۔ دس سال تک یہاں مقیم رہنے کے بعد دمشق کے نواح میں واقع دینی مرکز زینبیہ تشریف لے گئے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر ایران اور شام میں حصول علم اور تدریس کے بعد سعودی عرب واپس پہنچے اور اپنے آبائی شہر العوامیہ میں دینی علوم کی تدریس اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔
انہوں نے سن دو ہزار تین میں العوامیہ میں مرکزی نماز جمعہ قائم کی اور اس کے بعد الامام القائم مرکز کی بنیاد ڈالی۔ یہ مرکز آگے چل کر سن دو ہزار گیار میں مرکز الاسلامیہ میں تبدیل ہوگیا۔ آیت اللہ نمر باقر نمر نے العوامیہ میں مساجد کے کردار کو اجاگر کرنے، نماز جمعہ کے قیام، شادی بیاہ کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے، معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھانے، نوجوانوں کو دینی مسائل اور معاملات سے آشنا کرنے اور سماجی برائیوں سے مقابلہ کرنے کا مشن شروع کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر نے جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے بھی جدوجہد کی اور سن دو ہزار چار سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن دو ہزار سات تک جاری رہا۔
آیت اللہ نمر باقر نمر نے فروری دو ہزار نو میں سعودی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ملک کی شیعہ آبادی کو اس کے حقوق نہ دیئے اور ملک میں آزادانہ انتخابات نہ کرائے تو وہ عوام کو احتجاج اور مظاہروں کی کال دے دیں گے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر اپنی تقریروں میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور عوام کو ان کے جمہوری اور مذہبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رہے۔ سعودی حکومت نے سن دو ہزار آٹھ میں حکم زباں بندی جاری کرتے ہوئے ان کے خطبات اور تقریروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سن دو ہزار گیارہ میں تیونس اور مصر میں آمریتوں کے خاتمے کی تحریک شروع ہوئی تو آیت اللہ نمر باقر نمر نے بھی ایک بار پھر اپنے خطبات کا سلسلہ شروع کر دیا اور ملک میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ سن دو ہزار تین میں انہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا، انہیں نماز جمعہ پڑھانے سے منع کیا گیا اور اس مسجد کو مسمار کر دیا گیا، جہاں وہ نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے لیکن آیت اللہ نمر باقر نمر اسی تباہ شدہ مقام پر نماز جمعہ پڑھاتے رہے۔
انہیں سن دو ہزار چار، دو ہزار پانچ، دو ہزار چھے اور دو ہزار آٹھ میں گرفتار کیا گیا اور مہینوں تک جیل میں رکھا گیا۔ آیت اللہ نمبر باقر نمر کو چھٹی اور آخری بار آٹھ جولائی سن دو ہزار بارہ میں، باقاعدہ منصوبے کے تحت ان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ اس حملے میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے اور ان کے پیر میں چار گولیاں لگی تھیں۔ سعودی حکومت کی ایک نمائشی عدالت نے پندرہ اکتوبر سن دو ہزار چودہ کو اس مجاہد عالم دین اور آمریت مخالف رہنما کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کو خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کے لوگوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور دنیا بھر میں اس کے خلاف مظاہرہے بھی ہوتے رہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سعودی حکام نے ایک بار پھر تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے دو جنوری دو ہزار سولہ کو اس عالم ربانی کو شہید کر دیا۔
آیت اللہ نمر باقر النمر تیرہ سو اناسی ہجری قمری میں مشرقی سعودی عرب کے صوبے قطیف کے شہر العوامیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی بن ناصر آل نمر بھی اپنے علاقے کے معروف عالم اور خطیب تھے۔ ان کے خاندان سے دیگر علماء میں آیت اللہ محمد بن ناصر آل نمر کا نام بھی لیا جاسکتا ہے۔ آیت اللہ نمر نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے آبائی شہر عوامیہ میں حاصل کی، اس کے بعد وہ دینی علوم کے حصول کی خاطر سن چودہ سو ہجری مطابق انیس اناسی میں ایران تشریف لائے۔ دس سال تک یہاں مقیم رہنے کے بعد دمشق کے نواح میں واقع دینی مرکز زینبیہ تشریف لے گئے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر ایران اور شام میں حصول علم اور تدریس کے بعد سعودی عرب واپس پہنچے اور اپنے آبائی شہر العوامیہ میں دینی علوم کی تدریس اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔
انہوں نے سن دو ہزار تین میں العوامیہ میں مرکزی نماز جمعہ قائم کی اور اس کے بعد الامام القائم مرکز کی بنیاد ڈالی۔ یہ مرکز آگے چل کر سن دو ہزار گیار میں مرکز الاسلامیہ میں تبدیل ہوگیا۔ آیت اللہ نمر باقر نمر نے العوامیہ میں مساجد کے کردار کو اجاگر کرنے، نماز جمعہ کے قیام، شادی بیاہ کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے، معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھانے، نوجوانوں کو دینی مسائل اور معاملات سے آشنا کرنے اور سماجی برائیوں سے مقابلہ کرنے کا مشن شروع کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر نے جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے بھی جدوجہد کی اور سن دو ہزار چار سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن دو ہزار سات تک جاری رہا۔
آیت اللہ نمر باقر نمر نے فروری دو ہزار نو میں سعودی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ملک کی شیعہ آبادی کو اس کے حقوق نہ دیئے اور ملک میں آزادانہ انتخابات نہ کرائے تو وہ عوام کو احتجاج اور مظاہروں کی کال دے دیں گے۔ آیت اللہ نمر باقر نمر اپنی تقریروں میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور عوام کو ان کے جمہوری اور مذہبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رہے۔ سعودی حکومت نے سن دو ہزار آٹھ میں حکم زباں بندی جاری کرتے ہوئے ان کے خطبات اور تقریروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سن دو ہزار گیارہ میں تیونس اور مصر میں آمریتوں کے خاتمے کی تحریک شروع ہوئی تو آیت اللہ نمر باقر نمر نے بھی ایک بار پھر اپنے خطبات کا سلسلہ شروع کر دیا اور ملک میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ سن دو ہزار تین میں انہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا، انہیں نماز جمعہ پڑھانے سے منع کیا گیا اور اس مسجد کو مسمار کر دیا گیا، جہاں وہ نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے لیکن آیت اللہ نمر باقر نمر اسی تباہ شدہ مقام پر نماز جمعہ پڑھاتے رہے۔
انہیں سن دو ہزار چار، دو ہزار پانچ، دو ہزار چھے اور دو ہزار آٹھ میں گرفتار کیا گیا اور مہینوں تک جیل میں رکھا گیا۔ آیت اللہ نمبر باقر نمر کو چھٹی اور آخری بار آٹھ جولائی سن دو ہزار بارہ میں، باقاعدہ منصوبے کے تحت ان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد سعودی سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ اس حملے میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے اور ان کے پیر میں چار گولیاں لگی تھیں۔ سعودی حکومت کی ایک نمائشی عدالت نے پندرہ اکتوبر سن دو ہزار چودہ کو اس مجاہد عالم دین اور آمریت مخالف رہنما کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کو خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کے لوگوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور دنیا بھر میں اس کے خلاف مظاہرہے بھی ہوتے رہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سعودی حکام نے ایک بار پھر تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے دو جنوری دو ہزار سولہ کو اس عالم ربانی کو شہید کر دیا۔
تاريخ : شنبه دوازدهم دی ۱۳۹۴ | 22:28 | نویسنده : ارشادحسین مطهری |
.: Weblog Themes By Pichak :.
