غسل میت
سوال نمبر ۱۵۰: اپنے ملک (یعنی ایران) میں ایک سال پہلے بعض علاقوں میں ایک خطرناک بیماری پھیلی تھی جس کا نام ” کیڑے کے جراثیم سے خون کا بخار آنا“ تھاجو اپنے پڑوسی ملک افغانستان ، پاکستان یا عراق سے آئی تھی ۔ یہ بیماری جانور کے کھال میں ہونے والا کیڑا کے کاٹنے کی وجہ سے لوگوں کو ہوئی تھی جس کی ابتدائی علامت بخار ، قے ، اور کمر میں درد ہونا تھا ۔ پھر یہ بیماری جب خون میں سرایت کرجاتی تھی تو اس کی وجہ سے مریض کو خون گرنے لگتا تھا بعض اوقات پورے جسم سے خون اتنا آتا تھا کہ ماہر ڈاکٹر کے علاوہ پیشرفتہ مشینری ہی اس خون کو روک سکتی تھی ، شدید دیکھ بھال کے باوجود مریض کے پچاس فیصد مرنے کا احتمال رہتا تھا ۔ اس بیماری سے بعض مریض مربھی گئے تھے جس کا سبب جسم سے زیادہ خون کا گرنا تھا ۔ مرنے کے بعد جسم مریض سے اتنے خطرناک جراثیم نکلتے ہیں کہ اگر اس کو سرد خانہ میں رکھا گیا یا غسل دیا جاتا تو مزید جراثیم کے بڑھنے کا خوف ہے لہذا طبی تحقیقات نے اس مرض میںمبتلا ہوکر ، مرنے والوں کے لیے بغیر غسل اور کفن کے اس کو ایک مخصوص پلاسٹیک میں رکھ کر دفن کرنے کو کہا ہے کیونکہ اگر ایسانہیں کیاگیا تو تحقیقات کے مطابق لوگوں میں جراثیم پھیلنے کا امکان ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ انسان اس جراثیم سے مر بھی جائے ۔ لہذا ڈاکٹروں نے اس مرض میں مرنے والوں کو بغیر غسل اور کفن کے دفن کرنے کو کہا ہے ۔ اس سلسلے میں آپ کا فتویٰ کیا ہے ؟
جواب : اگر متدین ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق مرنے والے کے جسم سے نکلنے والے جراثیم سے بہت زیادہ خطرہ ہے تو اس کو بغیر غسل اور کفن کے دفن کردیں ۔ لیکن اگر پلاسٹیک کے اوپر تیمم کرنے ، اور کفن پہنانے سے جراثیم کے پھیلنے کا خوف نہیں ہے تو اس مرنے والے کو تیمم اور کفن ضرور دیں اگر اس سے خطرہ ہو تو صرف نماز میت پڑھ رکر اسی طرح دفن کردیں ۔
۲(
کفن
سوال نمبر ۱۵۱: تمام فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ کفن پر قرآن کی آیتوں ، جوشن کبیر اور صغیر اور شہادتیں کا لکھنا مستحب ہے ، نیز ان فقہاء کایہ بھی کہنا ہے کہ ان کو ایسی جگہ لکھنا چاہیئے جو نجس یا گندگی نہ ہو ۔ اس سلسلے میں ذیل کے چند سوالوں کے جواب دیں۔
(۱) نجاست اور گندگی کا ربط بدن میت کے خراب ہونے اور پھول کر پھٹ جانے سے ہے یا دوسری نجاست سے ہے ؟
(۲) کفن میں قرآن کی آیتوں اور دعاوٴں کو سیاہ روشنائی سے لکھ کر رکھنا کیا جائز ہے (کیونکہ محدث شیخ عباس قمی ۺ نے اپنی کتاب مفاتیح الجنان میں اس سیاہ روشنائی سے لکھنے کو منع کیا ہے ) اس صورت میں ہم قرآن کی آیتوں اور دعاوٴں کو کس روشنائی سے لکھ کر کفن میں رکھیں ؟
(۳) میت کی گردن اور ہاتھ میں خاک شفاء کی تسبیح کا پہنانا جائز ہے ؟
جواب: بدن میت کے پھٹنے سے بدن میت نجس نہیں ہوتا کیونکہ غسل دینے کے بعد بدن پاک ہوجاتا ہے مگر یہ کہ بدن کے پھٹتے وقت خون دیکھا جائے کہ جس کا یقین نہیں ہے ۔ لہذا نجاست سے مراد وہ چیز ہے جو بدن کے نچلے حصے سے نکلے ۔ قرآن کی آیتوں اور دعاوٴں کو اگر زعفران کے پانی یا اس کے مانند سے لکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔
۳)
حنوط
تیمم کرائی جانے والی میت کو حنوط کرنا ۔۲۔۵۔۷
سوال نمبر ۱۵۲: اگر کسی وجہ سے میت کو غسل نہ دیا جارہا ہو بلکہ اس کے بدلہ اس کو تیمم کرایا جارہا ہو تو اس صورت میں اس میت پر کیا حنوط واجب ہے یا اس کا تعلق صرف غسل سے ہے ؟
جواب: غسل اور تیمم دونوں صورت میں میت کے اوپر حنوط واجب ہے ۔
غسل جنابت
پروسٹاٹ کے مریض کو پیشاب کے ساتھ منی کا آنا (۱۔۵۔۸۔)(۱۔۱۔۲۔۶)
سوال نمبر ۱۴۶: جن لوگوں کے پروسٹاٹ ( یعنی مسانہ)کا اپریشن ہو چکاہے ان کے پیشاب میں اکثر اوقات منی بھی نکل آتی ہے ، منی کے آنے کے یقین کی وجہ سے کیا اس شخص پر غسل جنابت واجب ہوگا گرچہ کئی مرتبہ نکلے یایہ کہ طبیعی طور پر منی آنے پر غسل واجب ہوگا ؟
جواب: جیسا آپ نے لکھا ہے کہ پیشاب کے ساتھ منی آتی ہے یہ مجبوری کی حالت ہے جس میں غسل جنابت نہیں ہے لیکن اگر بغیر پیشاب کے منی نکلے تو غسل واجب ہوگا اور اگر متعدد بار غسل کرنا سخت عسروحرج کا باعث بن رہا ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرے ۔
غسل استحاضہ
ہورمون کی دوا سے پچاس سال کے بعد ماہواری کا دیکھنا (۱۔۲۔۲۔۶)
سوال نمبر ۱۴۷: اس زمانہ میں ڈاکٹر ہو رمن کے ذریعے ایسا کرتے ہیں کہ ماہواری کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس صورت میں پچاس سال کے بعد اگر خون دیکھاجائے اور اس میں تمام علامت ، خون حیض کی ہو تو کیا وہ خون ، خیض میں شمار ہوگا ؟
جواب: اگر اس میں ماہواری کے تمام شرائط پائے جارہے ہوں تو وہ حیض شمار ہوگا ۔
یائسگی کے زمانے میں ماہواری کی تمام علامتوں کے ساتھ خون کا دیکھنا ۔ (۱۔۵۔۸۔)(۳۔۲۔۲۔۶)
سوال نمبر ۱۴۸: اس زمانہ میں یائسگی (یعنی عورت کو خون حیض کا نہ آنا ) ایک بیماری شمار ہوتی ہے جس کا ڈاکٹر ایسا علاج کررہے ہیں کہ یائسہ کوبھی پہلے کی طرح خون آجائے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ یائسگی کے بعد دیکھا جانے والا خون ، استحاضہ کے خون میں شمار ہوتا ہے ایسی عورت جس کی عمر ۴۸ سال ہو (جو یائسگی کی فطری عمر ہے) یا ۲۰سال یا اس سے کم و زیادہ میں یائسہ ہوگئی ہو اور وہ عورت علاج کرائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
چونکہ یائسگی بیماری شمار ہوتی ہے لہذا ایسے مریض کی شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟ اگر اس کو استحاضہ قرار دیں تو پئے درپئے غسل کرنا بہت زیادہ زحمت کا باعث بن
سکتا ہے ، آیا ضرر کے نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا جاسکتا ہے ؟ چونکہ ستر فیصد عورتیں ایسے احکام پر عمل نہیں کرتیں ، ایسی عورتوں کی شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
جواب : اس سلسلے میں اسلام نے بہت آسان راہ حل بیان کیا ہے یائسگی (خون حیض کا بند ہوجانا ) پیری کی مانند ایک فطری چیز ہے گرچہ اس کو بیماری نہیں سمجھنا چاہیئے اور عورت کا اس کے برے اثرات سے بچنے کے لیے علاج کرانا صحیح ہے لہذا جس عورت کی عمر قمری سال کے مطابق پچاس سال کی ہوگئی ہے اور وہ خون دیکھے تو یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا بشرطیکہ اس میں تمام علامت حیض کے ہوں اور جن عورتوں کے لیے بار بار غسل کرنا ضرریا زیادہ مشقت کا باعث ہورہا ہو تو وہ عورتیں غسل کے بجائے تیمم کرکے اپنی نماز پڑھیں ۔
کپڑے کے اوپر غسل کرنا
کپڑا پہن کر غسل کرنا ۔۲۔۱۔۶
سوال نمبر ۱۴۹: سوئمنگ پل وغیرہ میں کپڑا پہن کر غسل ارتماسی کیا جاسکتا ہے ؟
جواب: کپڑا پہن کر غسل ارتماسی کرنے میں اشکال ہے لیکن اگر اسی کپڑے پر غسل ترتیبی یوں کیا جائے کہ پانی کپڑے کے نیچے سے ہوتا ہوا جسم پر آرہا ہواور بدن کا تھوڑا حصہ پانی سے باہر ہو اور پھر پانی میں چلاجائے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
معلول کا وضو میں نامحرم عورت کو نائب بنانا ۔ (۴۔۱۔۵)
سوال نمبر ۱۰۲: میں گردن سے مفلوج ہوں وضو کرانے کے لیے مرد بہت مشکل سے ملتے ہیں لیکن عورتیں نا محرم بہت آسانی سے مل جاتی ہیں ایسے میں وضو ہم ان عورت سے کرسکتے ہیں ؟
جواب : آپ نامحرم عورت کی مدد سے اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر پانی لے سکتے ہیں لیکن خیال رہے کہ اس عورت کا ہاتھ آپ کے چہرے اور ہاتھوں پر نہ پڑے
کیونکہ حرام ہے ، اب اگر بغیر ہاتھ لگائے وہ عورت وضو نہ کراسکتی ہو تو اس صورت میں آپ جتنا خود وضو کرسکتے ہیں اتنا ہی وضو آپ کے لیے کافی ہے ۔
سوال نمبر ۱۰۳: میں جانباز ہوں وضو کرتے وقت جب ہاتھ پر پانی ڈالتا ہوں تو کبھی نیچے سے اوپر کی طرف پڑجاتا ہے میرا کیا وضو صحیح ہے ؟
جواب : اگر اوپر سے نیچے کی طرف ہاتھ پھیریں تو کوئی اشکال نہیں ہے گرچہ بغیر نیت کے نیچے سے اوپر کی طرف پانی جائے ۔
معلول کو وضو کرانے کے لیے نائب کی رضایت لینا۔(۴۔۱۔۵)
سوال نمبر ۱۰۴: میں ایسا معلول ہوں کہ اپنی دیکھ بھال کرنے کے لیے ایک شخص کو رکھتا ہوں جس کو مہینہ میں تنخواہ بھی دیتا ہوں ، اس کے باوجود یہ شخص مجھے وضو کرانے میں کراہت محسوس کرتا ہے اور اس کام کو انجام دینے کے لیے مزید پیسہ چاہتا ہے ۔ آیا اس شخص کی رضایت وضو کرانے کے لیے حاصل کرنا میرے لیے ضروری ہے ۔؟
جواب : اس شخص کی اگر ذمہ داری آپ کو وضو کرانے کی ہے اور آپ اس کے لیے تنخواہ بھی دے رہے ہوں تو اس صورت میں اس شخص کی رضایت حاصل کرنا ضروری نہیں ہے ۔
نائب کو تنخواہ دینا۔(۴۔۱۔۵۔)
سوال نمبر ۱۰۵: میں گردن سے معلول سپاہی ہوں مجھے اپنے سے وضو کرنے میں دشواری ہوتی ہے آیا کسی کو پیسہ پر وضو کرانے کے لیے رکھنا صحیح ہے ؟
جواب : اس میں اشکال نہیں ہے ۔
نائب وضو کے ہوتے ہوئے کسی کا بغیر وضو کے نماز پڑھنا ۔(۱۔۳۔۹۔)(۴۔۱۔۵)
سوال نمبر ۱۰۶: اگر کوئی شخص گردن سے مفلوج ہوجانے کی وجہ سے اپنا وضو خود سے نہ کرسکتا ہو لیکن وضو کرانے والے آسانی سے مل رہے ہوں اس صورت میں وہ شخص بغیر وضو کے اپنی نماز پڑھ سکتا ہے ؟
جواب : اگر خود وضو کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے اور نائب بنانے میں عسروحرج (تنگی کا باعث ) بھی نہ ہو تو نائب بنائے ۔ ورنہ بغیر وضو کے نماز پڑھ سکتا ہے ۔
وضو کے لیے نائب کا نہ ملنا ۔ ۴۔۱۔۵۔
سوال نمبر ۱۰۷: میں گردن سے مفلوج ہوں مجھے ہمیشہ ایک شخص وضو کراتا ہے یہ شخص اگر گھر سے باہر چلاجائے اور نماز کے آخری وقت تک گھر واپس نہ لوٹے اس صورت میں کیا مجھ سے وضو ساقط ہے؟
جواب : آپ ایسی صورت میں بغیروضو کے نماز پڑھیں ۔
سوال نمبر ۱۰۸: میری آنکھیں جنگ میں زخمی ہوئی ہیں اس کی وجہ سے میرا وضو کرنا بہت ہی زحمت کا باعث ہے اس کے باوجود میں وضو کرتا ہوں یہاں تک کہ بعض اوقات آنکھوں میں پانی پڑنے سے گندگیاں بھی نکل آتی ہیں ، آیا میرا وضو کرنا صحیح ہے ؟ اور اگر غلط ہے تو جو نمازیں ہم نے وضو کرکے پڑھی ہیں ان نمازوں کا کیا ہوگا ؟
جواب: اگر آپ کی آنکھوں کے لیے پانی نقصان کررہا ہے تو آپ تیمم کریں ۔
سوال نمبر ۱۰۹: میں نے ڈاکٹر کے کہنے پر اپنی آنکھوں میں دوا اس وقت ڈالی کہ نماز کا وقت بہت کم ہے ۔ اگر وضو کرتا ہوں تو اس دوا کا اثر ختم ہوتا ہے اس صورت میں بغیر وضو کے ہم نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب: آپ وضو کریں اور آنکھوں میں دوبارا دوا ڈالیں بشرطیکہ ایسا کرنا ضرر کا باعث نہ بن رہا ہے ۔
بال اور کھال کی چکنئی۔۵۔۲۔۵۔
سوال نمبر ۱۱۰: سر کے بال اور کھال سے نکلنے والی چکنئی پر وضو اور غسل کرنا کیسا ہے ؟
جواب: عام طورپر جتنا بال اور جسم کی کھال میں چکنئی ہوتی ہے وضو اور غسل کرنے سے مانع نہیں ہوتی ۔
انگوٹھی پہن کر وضو اور غسل کرنا ۔ ۵۔۲۔۵۔
سوال نمبر ۱۱۱: آیا انگھوٹھی پہن کر وضو یا غسل کیا جاسکتا ہے ؟
جواب: اگر پانی جلد تک پہونچنے میں مانع نہ ہورہاہو تو اشکال نہیں ہے ۔
کھال کے مریض کا چکنے ہاتھوں سے وضو کرنا۔ (۴۔۱۔۵)(۵۔۲۔۵)
سوال نمبر ۱۱۲: ایک فوجی کی دونوں کلائی بم سے اڑ چکی ہے ہاتھ کے باقی حصوں میں ہمیشہ زخم بھرا رہتا ہے ۔ بعض اوقات اس زخم پر اتنی کریم یا مرہم لگاہوتا ہے کہ وضو کے لیے اس کو صاف کرنا بہت ہی دشوار ہے اس صورت میں وہ فوجی اپنا وضو کیسے کرے ؟
جواب : اپنے چہرے کو نل کے پانی سے دھوئے اوراپنے ہاتھوں کو اسی کریم یا مرہم پر دھولے پھر باقی ہاتھ کے اعضاء سے سر اور پیرکا مسح کرے ۔
کھال کے مریض کا وضو (۳۔۳۔۵۔)(۴۔۱۔۵) (۵۔۲۔۵)
سوال نمبر ۱۱۳: میں چمڑے کا ایسا مریض ہوں کے جب بھی نہاتا ہوں میری کھال خشک ہوجاتی ہے یہاں تک بعض اوقات منھ اور ہاتھ کے دھلنے کے بعد بھی ایسا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے میں ہمیشہ کریم یا مرہم کو لگاتا ہوں جس سے مجھے وضو کرنے میں بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ خاص طور پر صبح کے وضو میں آیا ہم صبح کی نماز کو وضو کے بجائے تیمم کرکے پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب : اگر آپ مرہم کو کم لگائے ہیں تو اسی پر وضو کرسکتے ہیں لیکن اگر مرہم یا کریم زیادہ ہوتو اس پر وضو کرنے کے بعد ایک تیمم کریں۔
آنکھ کی ترشح کے اوپر وضو(۴۔۱۔۵۔)(۵۔۲۔۵)
سوال نمبر ۱۱۴: میری آنکھوں سے پانی بہت نکلتا ہے اگر وضو کرنے کے وقت اس پانی کو میں صاف کرتا ہوں تو میری آنکھوں سے مزید اور آنے لگتا ہے اسی پانی پر ہم کیا وضو کرسکتے ہیں؟
جواب: اسی پانی کے اوپر سے وضو کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
وضو کے احکام
شکی کی طہارت اور قرائت نماز ۔ ۲۱۔۵۰
سوال نمبر ۱۱۵: افسوس شکی ہوگیا ہوں ، میں وضو ، غسل اور طہارت کرنے میں بہت شک کرتا ہوں ، خاص طورپر نماز میں ” ولاالضالین “ کی قرائت اتنا کرتا ہوں کہ دوسرے لوگ کیا ، میں خود بھی عاجز آجاتا ہوں ۔ اگر کوئی چیز زمین پر گرجاتی ہے تو اس کواٹھا کر پہلے پاک کرتا ہوں اکثر اوقات میں زمین کو نجس سمجھ کر اس پر بیٹھتا بھی نہیں ہوں اس شک سے بچنے کے لیے میں کیا کروں ؟
جواب: آپ کی نماز اور وضو میں جیسا کہ آپ نے ہی لکھا ہے اشکال ہے اگر ان اعمال کو یوں ہی انجام دیتے رہے تو آپ شرعی طورپر جوابدہ ہیں کیونکہ آپ کی شرعی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ جس طرح ایک عام متدین انسان اپنے اعمال کو انجام دیتا ہے اسی طرح آپ اپنے اعمال کو انجام دیں اور شیطان کے وسوسہ میں نہ آئیں ۔ اپنے اعمال کے صحیح ہونے کی ذمہ داری ہمارے اوپر چھوڑدیں ۔
ایک وضو سے کئی نماز کا پڑھنا ۔۱۔۴۔۱۔۵۔
سوال نمبر ۱۱۶: جس شخص کو مسلسل پیشاب اور پاخانہ آتا ہو کہ اس شخص کا ایک وضو سے تھوڑی نماز بھی پڑھنا مشکل ہو ایسا شخص کیا وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے ؟
جواب : ایسا شخص ایک وضو سے پئے در پئے دو نمازیں پڑھ سکتا ہے یا ایک وضو سے پوری نماز شب پڑھے ۔
مسلوس مریض کا ایک وضو سے نماز جمعہ میں شریک ہونا۔(۷۔۱۔۹)(۱۔۴۔۱۔۵)
سوال نمبر ۱۱۷: جو لوگ جنگ میں مجروح یا معلول ہوئے ہیں ان کا دیر تک پیشاب کو روکے رکھنا بہت ہی مشکل ہے ایسے لوگ کیا ایک وضو سے خطبہٴ نماز جمعہ کے بعد نماز جمعہ اور عصر کی نماز کو پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب : یہ لوگ خطبہٴ جمعہ شروع ہونے سے پہلے وضو کریں تاکہ نماز جمعہ اور عصر کی نماز اسی وضو سے پڑھ لیں ۔
وہ معلول جس کو پیشاب کے نکلنے یاریاح کے خارج ہونے کا علم نہ ہوسکے ۔ (۴۔ ۱۔۵۔)(۱۔۳۔۹)
سوال نمبر ۱۱۸: جو لوگ کسی وجہ سے مفلوج ہوگئے ہیں اور ان کا وضو کو دیر تک باقی رکھنا بہت مشکل ہے یا وضو کے ٹوٹنے پر متوجہ نہ ہوتے ہوں ان لوگوں کو کیا ہر نماز کے لیے وضو کرنا ضروری ہے یا ایک ہی وضو سے دو نماز ظہر اور عصر پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب :ایسے افراد ایک وضو سے ظہر اور عصر جیسی دو نمازیں پڑھ سکتے ہیں ۔
نماز احتیاط یا سجدہ سہو کے لیے دوسرا وضو ۔۱۔۴۔۱۔۵
سوال نمبر ۱۱۹: میں جنگ کا معلول فوجی ہوں مجھے پیشاب اور پاخانہ غیر اختیاری طورپر نکل آتا ہے میں کیا ہر نماز کے لیے وضو کروں ؟ اور میرے لیے نماز احتیاط پڑھنے کے لیے یا سجدہ سہو کے لیے دوسرا وضو کرنا ضروری نہیں ہے ۔ ؟
جواب : آپ دو نمازوں کو ایک وضو سے پڑھ سکتے ہیں اور نماز احتیاط یا سجدہ سہو کے لیے دوسرا وضو کرنا ضروری نہیں ہے ۔
پیشاب و پاخانہ کے نکل جانے والے مرض میں مبتلا شخص کے لیے مستحبات کا انجام دینا ۔ ۱۔۴۔۱۔۵۔
سوال نمبر ۱۲۰: میں معلول ہوں مجھے پیشاب اور پاخانہ غیراختیاری طور پر نکل آتا ہے اسی لیے میں فوراً وضو کرنے کے بعد صرف نماز پڑھتا ہوں کیونکہ اگر میں نے وضو کرنے کے بعد نماز کے لیے اذان اور اقامت کہی تو خوف اس کارہتا ہے کہ کہیں میرا وضو ٹوٹ نہ جائے ایسی صورت میں اذان اور اقامت کا کہنا صحیح ہے ۔؟
جواب : اگر وضو ٹوٹ جانے کا خوف ہے تو ان مستحبات کا ترک کردینا بہتر ہے ۔ ؟
جماعت میں شریک ہونے کے لیے وضو اور نماز کے درمیان فاصلہ کرنا ۔ ۱۔۴۔۱۔۵
سوال نمبر ۱۲۱: جو لوگ جنگ میں مجروح یا معلول ہوئے ہیں ان کااپنے پیشاب کو دیر تک روکے رکھنا بہت مشکل ہے ایسے لوگ کیا وقت سے پہلے وضو کرکے نماز جماعت میں شرکت کرسکتے ہیں ؟
جواب: اگر گھر سے مسجد تک کا فاصلہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔
نماز میں مسلسل پیشاب کا نکلنا۔ ۱۔۴۔۱۔۵
سوال نمبر ۱۲۲: ایسا شخص جس کو مسلسل پیشاب ہوتا ہو اگر اس شخص کو پہلی نماز میں پیشاب نکل آئے مگر دوسری نماز میں پیشاب بالکل نہ آیا ہو اس صورت میں ایک وضو سے وہ شخص کیا دو نمازیں پڑھ سکتا ہے ۔؟
جواب : اشکال نہیں ہے ۔
سوال نمبر ۱۲۳: جس شخص کو نماز میں کئی مرتبہ پاخانہ ہوجاتا ہو وہ شخص وضو ہر بار کرے گا یا ایک ہی وضو سے پوری نماز پڑھ سکتا ہے ۔؟
جواب: اس شخص کو اگر وضو کی تجدید کرنے میں پریشانی نہ ہوتوہر بار وضو کرے اور اگر پریشانی ہوتو ایک ہی وضو سے پوری نماز پڑھ سکتا ہے ۔
سوال نمبر ۱۲۴: جس شخص کو پاخانہ مسلسل ہوتا ہو اور اس شخص کا باربار وضو کرنا بھی دشوار ہو یہ شخص آیا ایک وضو سے ایک نماز پڑھ سکتا ہے ۔؟
جواب: اس شخص کا ایک وضو کرنا کافی ہے بلکہ اس سے دو نمازیں پے در پے بھی پڑھ سکتا ہے ۔
مسلسل ریاح نکلنے والے شخص کے لیے وضو ۔ ۲۔۴۔۱۔۵۔
سوال نمبر ۱۲۵: جس شخص کو ہمیشہ ذرا ذرا سی ریاح آتی ہو وہ شخص نماز کیسے پڑھے ۔؟
جواب : ہر نماز کے لیے وضو کرے بلکہ اسی وضو سے دو نمازیں پڑھ سکتا ہے ۔
وہ امور جن کے لیے وضو کرنا ضروری ہے
آئمہ معصومین ٪ کے نام والی لاکٹیں۔۱۔۳۔۵
سوال نمبر ۱۲۶: بعض جوان گردن میں ایسی لاکٹ ڈالے رہتے ہیںجن پر ” یا اباعبداللہ “ یا اس جیسی دوسری عبارتیں لکھی ہوتی ہیں اس طرح کی لاکٹ کا کیا پہننا صحیح ہے ؟
جواب: اس میں اشکال نہیں ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ خدا اور ائمہ معصومین ٪ کے اسماء کو بغیر وضو کے چھونا نہیں چاہیئے ۔
مختلف جگہوں پر چھپے ہوئے لفظ ” رضوی“ کی بی حرمتی۔ ۲۴۔۵۰
سوال نمبر ۱۲۷: لفظ ” رضوی“ جو حضرت امام علی رضا - سے منسوب ہے یا جن چیزوں پر ان جیسے الفاظ ” آستان قدس رضوی“ یا ” کیک رضوی“ لکھے ہوں ان پر پیر رکھنا یا ان کو کوڑا میں ڈالنا شرعی طور پر کیسا ہے ؟
جواب: بظاہر یہ سب الفاظ ادارے یا کمپنیوں سے مخصوص ، اور اسی سے مشہور ہوگئے ہیں لہذا ان پر پیر پڑنا یا ان کو کوڑے میں ڈالنا شرعی لحاظ سے کوئی اشکال نہیں ہے ۔ لیکن ان الفاظ کا احترام ہمیں ضرورکرنا چاہیئے ۔
سوال نمبر ۱۲۸: بعض لوگوں کے فیملی نام ” حسینی“ اور ” موسوی“ یا ”علوی“ ہوتے ہیں جو اہلبیت ٪ کے ناموں سے نسبت رکھتے ہیں ۔ یا جن کاغذ پر یہ اسماء ہوں ان پر پیر رکھنا یااس کا غذ کو جلانا شرعاً کیسا ہے ؟
جواب : اشکال نہیں ہے مگر ان اسماء کا احترام کرنا ضروری ہے ۔
آئمہ اطہار ٪ کے نام پر رکھے جانے والی سڑکوں کے نام کا جلانا۔۲۴۔۵۰
سوال نمبر ۱۲۹: کیا ” امام رضا اسٹریٹ “ اور ” امام حسین اسکوائر“ یا ” موسی بن جعفر مسجد “ جیسے الفاظ جو آئمہ معصومین ٪ کے نام ہیں اس کو جلانا یا ان کو پھیکنا شرعی لحاظ سے حرام ہے ؟
جواب : جن چیزوں پر ائمہ معصومین ٪ کے نام لکھے ہوں ان کا احترام کرنا ضروری ہے ۔
نابیناوٴں کا قرآن چھونا (۱۹۔۵۰)(۱۔۳۔۵)
سوال نمبر ۱۳۰: کیا نابینا کے لیے بھی قرآن کی آیتوں کو چھونے کے لیے وضو کرنا واجب ہے ؟
جواب: ان کے لیے بھی وضو کرنا واجب ہے ۔
نابیناوٴں کا غلطی سے اسم جلا لہ کو چھونا۔۱۔۳۔۵
سوال نمبر ۱۳۱: میں نابینا ہوں میرا ہاتھ غلطی سے خدا کے نام پر چلاجاتاہے اس سے گناہ کا تو مرتکب نہیں ہوتا ہوں ؟
جواب : غلطی سے خدا کے نام پر بغیر وضو کے ہاتھ پڑنے سے گناہ نہیں ہوتا ہے ۔
قرآن اس بیمار کا چھونا جو پیشاب کی تھیلی لگائے ہو۔ (۱۹۔۵۰)(۱۔۳۔۵)
سوال نمبر ۱۳۲: میں معلول ہوں مجھے پیشاب اور پاخانہ غیر اختیاری طور پر نکل جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے میں ہمیشہ پیشاب کی تھیلی لگائے رہتا ہوں اس صورت میں کیا ہم قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں ، ہمارا قرآن کی آیتوں کے چھونے کا حکم کیا ہے ؟
جواب: آپ وضو کرکے قرآن پڑھیں اور اسی سے کچھ دیر تک قرآن کی آیتوں کو بھی چھو سکتے ہیں۔
معلول کا بغیر وضو کے صفحات قرآن کو پلٹنا (۱۹۔۵۰)(۱۔۳۔۵)
سوال نمبر ۱۳۳: میں گردن سے مفلوج ہوں قرآن کی تلاوت یا اس کے صفحات کو جب بھی پلٹتا ہوں تو اپنے منھ یا ہونٹ سے سہارا لیتا ہوں کیونکہ ہمارا اس کام کے لیے دوسرے سے مدد لینا بہت مشکل ہے اور میرا وضو کرنا بھی سخت ہے اس صورت میں بغیر وضو کے ہم قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں ؟ یا اس قرآن کے اوراق کو اپنے ہونٹ یا منھ سے پلٹ سکتے ہیں ؟
جواب: اگر آپ کے لیے وضو کرنا واقعی مشکل ہے تو آپ بغیر وضو کے قرآن کی تلاوت کریں اور اس قرآن کے اوراق کو اپنے منھ یا ہونٹ سے پلٹ بھی سکتے ہیں ۔
نجس جسم سے قرآن کا اٹھانا۔(۱۹۔ ۵۰)
سوال نمبر ۱۳۴: میں معلول ہوں مجھے پیشاب اور پاخانہ غیر اختیاری طور پر نکل آتا ہے جس سے اکثر اوقات میرا جسم نجس رہتا ہے اس صورت میں ہم کیا قرآن کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں اس قرآن کو اٹھاسکتے ہیں ؟
جواب: آپ قرآن کو اپنے ساتھ رکھ بھی سکتے ہیں اور اس کو اٹھا بھی سکتے ہیں ۔
حروف بریل کے قرآن کو وضو کرکے چھونا۔ (۱۹۔۵۰)(۱۔۳۔۵)
سوال نمبر ۱۳۵: جو لوگ نابینا ہیں ان کو پڑھانے کے لیے حروف ” بریل“ پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے جس سے وہ لوگ حروف کی پہچان یا عبارت کو سمجھتے ہیں ، حالانکہ اس پر یل پر حروف کا پورا اطلاق ہوتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا نابینا افراد کا اس حروف پر قرآن پڑھنا یا اس کے مقدس اسماء پر ہاتھ رکھنے کے لیے وضو کرنا ضروری ہے ؟
جواب: وضو کرنا ضروری ہے یا پلاسٹیک کادستانہ پہن کر ان حروف کو چھوئیں ۔
تحریروں کو چھوتے وقت متبرک ناموں کی چھان بین کرنا ۔ (۲۴۔۵۰)
سوال نمبر ۱۳۶: کیا نابینا افراد کا ہاتھ رکھنے سے پہلے مقدس ناموں کے لکھے ہونے کی تحقیق کرنا ضروری ہے ؟
جواب : ان لوگوں کے لیے تحقیق کرناضروری نہیں ہے ۔
اسماء الہی کے نام کا ٹکٹ چھاپنا۔(۲۴۔۵۰)
سوال نمبر۱۳۷: بعض ٹکٹ پر قرآن کی آیتیں یا ان جیسے الفاظ ” محمد رسول اللہ “ یا ” اللہ اکبر“ چھپے ہیں ، جن کو انسان دن و رات بغیر وضو کے چھوتا ہے نیز یہ ٹکٹ بیرون ممالک میں بھی جاتے ہیں جن کو کفار ضرور چھوتے ہوں گے اس طرح کا ٹکٹ ، کیا چھاپنا صحیح ہے ؟
جواب: آپ کو ضرور معلوم ہوگا کہ پیغمبر اکرم ﷺ یا ائمہ معصومین ٪ کے زمانہ میں بھی اسی طرح کے سکے تھے جن پر ” لاالہ الا اللہ“ اور ” محمد رسول اللہ “ جیسی عبارت ہوتی تھی جس کو سبھی لوگ چھواکرتے تھے ، اس طرح کے ٹکٹ یا سکے اسلام اور قرآن کی ترویج کرنے کے لیے چھاپے جاتے ہیں ، لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ان ٹکٹ یا سکوں کو بغیر وضو کے نہ چھوئیں ۔
ٹوائلٹ کے فلش میں لکھا ہوا لفظ ”عبداللہ“ کا گرنا ۔۳۔۱۔۱۔۳
سوال نمبر ۱۳۸: جس مہر پر اس طرح نام ”عبدالہ “ لکھا ہو اہے ٹوائلٹ(جو استعمال بھی ہورہا ہے ) کے فلش میں گرجا ئے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اگر مہر کے اوپر جس طرح سے آپ نے لکھا ہے اسی طرح ” عبداللہ“ لکھا ہوا تھا تو اس ٹوائلٹ کے استعمال کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر اس طرح ” عبد اللہ “ لکھا ہوا ہے تو جب تک مہر کے اوپر یہ نام ہے اس وقت تک ٹوائلٹ کو بند کردینا چاہییے اس بات کو دوسروں سے بتانا ضروری نہیں ہے ۔ لیکن جن کو معلوم ہے ان کو ٹوائلٹ میںجانے سے ضرور پرہیز کرنا چاہیئے اگر ٹوائلٹ کا فلش گندگی دور کرنےوالے پائپ سے متصل ہو اور مطمئن ہوجائے کہ وہ مہر پائپ کے پانی کے ساتھ بہت دور چلی گئی ہے تو پھر اس کو استعمال کرنے میںکوئی بات نہیں ہے ۔
وضو جبیرہ
مصنوعی ہاتھ کا حکم جبیرمیں نہ ہونا (۳۔۱۔۵۔)(۲۔۱۔۱۔۵)
سوال نمبر ۱۳۹:کیا مصنوعی ہاتھ جبیرہ کے حکم میں ہے اور اس پر وضو کرنے کے وقت گیلے ہاتھ کا پھیرنا ضروری ہے ؟
جواب : مصنوعی ہاتھ جبیرہ کے حکم میں نہیں ہے ۔
مانع کو برطرف نہ کرنے والے کے لیے وضو جبیرہ (۴۔۱۔۵)(۳۔۱۔۵)
سوال نمبر۱۴۰: میں اپنے زخم کی وجہ سے ہمیشہ انجکشن لیتا ہوں اور انجکشن کی پٹی ہٹا کر وضو نہیں کرسکتا میری شرعی ذمہ داری کیا ہے ؟
جواب: اگر ہوسکے تو اس پر کپڑا ڈال کر وضو جبیرہ کریں ۔
اعضاء وضو سے پوری طرح موانع کا برطرف نہ ہونا ۔(۵۔۲۔۵)
سوال نمبر ۱۴۱: میں ہمیشہ ہاتھوں میں انجکشن لیتا ہوں وضو کرنے کے وقت اس انجکشن پر لگے ٹیپ کے اثرات کا چھڑانا بہت مشکل ہے کیا اس پر وضو کرنے میں اشکال ہے ؟
جواب: اگر اس پٹی کے اثرات کا چھڑانا مشکل ہے تو اسی پر وضو کریں ۔
اعضاء وضو سے مسلسل خون کا آنا (۴۔۱۔۵)(۳۔۳۔۵)
سوال نمبر۱۴۲: جس شخص کا ایک عضوایسا زخمی ہوکہ پٹی بندھنے کے باوجود اس عضو سے خون آرہا ہو اس صورت میں وہ شخص وضو کیسے کرے ؟
جواب: باقی اعضاء پر وضو کرے پھر سر اور پیروں کا مسح ، اور احتیاطاً تیمم بھی کرے ۔
گھر سے باہر وضو نہ کرنے کی وجہ سے تعلیم کا چھوڑدینا(۴۔۱۔۵)
سوال نمبر ۱۴۳: میں مفلوج ہوں اگر گھر میں ہوتا ہوں تو وضو اپنے پاس موجود وسائل کے ذریعے یا کسی کی مدد سے آسانی سے کرلیتا ہوں لیکن پڑھنے یا کسی کا م سے باہر جاتا ہوں تو میرے لیے وضو کرنا بہت ہی دشوار ہوتا ہے یا وضو ناقص کرنا پڑتا ہے کیا وضو کے لیے اپنے امور کو انجام نہ دوں اور ہمیشہ گھر میں بیٹھا رہوں ؟
جواب: آپ اپنی پڑھائی اور کاموں کو انجام دیں اور گھر سے باہر جس مقدار میں وضو کرسکتے ہیں اسی مقدار میں کرکے اپنی نماز پڑھیں ۔
وضو کے وقت نل کے پانی کا بندنہ کرنا۔۳۔۲۰۔۵۰۔اور۔۴۔۵
سوال نمبر ۱۴۴: اگر میں وضو کرنے کے وقت نل کے پانی کو بند نہ کروں تو اس کا شمار کیا اسراف میں ہوگا اور ایسا کرنا میرے لیے جائز نہ ہوگا ۔؟
جواب: بیشک پانی کا بے وجہ گرانا اسراف ہے اور یہ جائز نہیں ہے ۔
اعضاء وضو پر پانی کے قطرات کا پڑنا (۴۔۵)
سوال نمبر ۱۴۵: اگر وضو کرتے وقت پانی کے چند قطرے ہمارے اعضاء وضو پر آجائیں تو ان کا حکم کیا ہے ؟
جواب: پانی کے چند قطرے وضو پر موثر نہیں ہیں
(۱)
استحالہ
حیوان سے لے گئے ژولاتین کا حکم ۔ ۱۔۴۔۲۶
سوال نمبر ۴۳ : کلزین جو مادہ جانوروں کی ہڈی ، جوڑ اور کھال سے نکلتا ہے اگر اسی کو گرم پانی میں ڈالا جاتا ہے تو پروٹین بنتی ہے جب اس کو دھیمی آگ پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو بغیر ذائقہ ، بو اور رنگ کے ژولاتین بن جاتی ہے اسی کو جب پھلوں ، کھانے کے رنگوں یا میٹھی چیزوں سے تیار کیا جاتا ہے تو اس سے ایک اور چیز بنتی ہے جو چاکلیٹ ، میٹھائی ، آئیس کریم اوربیسکوٹ وغیرہ میں پڑتی ہے ۔ اکثر چیزوں میں ژولاتین گائے یا بھیڑ ہی ہوتی ہے جو کلزین سے بنتی ہے ۔ البتہ اس سلسلے میں امکان ہے کہ حرام گوشت کے جانور کے علاوہ غیر ذبیحہ سے بھی ژولاتین بنائی جاتی ہو لہذا کلزین استحالہ ہوکر ژولاتین ہوئی جس کو دنیا والے کھانے کی چیزوں میں ڈال رہے ہیں ، مذکورہ صورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ژولاتین کا کھانا کیسا ہے ؟
جواب : پہلے : جس چیز میں شک ہو کہ وہ کس چیز سے بنی ہے اس کا حکم پاک اور کھانا حلال ہے اس سلسلے میں زیادہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ دوسرے : اگر علم ہو کہ حرام گوشت کے جانور یا غیر ذبیحہ سے چیز بنی ہے لیکن تغیرات کے بعد کافی فرق آگیا ہو تو یہ استحالہ کے حکم میں ہے جو پاک اور اس کا کھانا حلال ہے اگر ایسا نہیں ہے تو حالت مجبوری کے علاوہ کھانا حرام ہے ۔
(۲)
دھوپ سے جوش کھایا ہوا انگور کا شیرہ (۳۔۲۶۔)(۶۔۴)
سوال نمبر ۴۴: ہمارے گاوٴں میں انگور کا عرق یوں نکالتے ہیں ۔انگور کو توڑنے کے بعد ایک مخصوص حوض میں دھوتے ہیں پھر انگور کو کچل کر اس کا عرق نکال لیتے ہیں اس کے بعد ایک خاص مٹی میں ملاکر اس عرق کو رکھ دیتے ہیں جب مٹی بیٹھ جاتی ہے تو اس وقت عرق کو مخصوص برتن میں نکال کر آگ پر جوش ایک تہائی یا چوتھائی تک دیتے ہیں پھر عرق کو کسی چھوٹے برتن یا لوٹے میں ڈال کر دھوپ سے اتنا جو ش دلاتے ہیں، کہ دو تہائی سے بھی کم ہوجاتا ہے ۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بتائیں -:
(۱) اس طرح کے عرق کا پینا کیا حلال ہے ؟ اور اگر حرام نہیں ہے تو کیا یہ عرق نجس نہیں ہے ؟ جو لوگ اس کو طویل مدت سے کھارہے ہیں یا بیچ رہے ہیں اس سلسلے
میں وہ کیا کریں ؟
جواب :اس طرح کا عرق نجس نہیں ہے لیکن کھانے اور اسکے بیچنے میں اشکال ہے کیونکہ آگ پردو تہائی جوش کھانا ضروری ہے ۔
(۲)اگر انگور کے عرق کو آگ پر دو تہائی جوش دینے کے بعد اس کو دھوپ سے جوش دلاجائے تو اس عرق کا کیا حکم ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے ۔
(۳) آیا ” انگور کا عرق “ استحالہ (یعنی تبدیل) ہوکر ” شیرہ انگور “ ہوجائے تو حلال ہے ؟
جواب : یہ چیز حکم استحالہ میں نہیں ہے ۔
پانی جو مقعد سے آیا ہو ۔ (۳۔۵)(۱۔۳)
(۱) اور (۲) پیشاب اور پاخانہ
سوال نمبر ۲۶ : اگر مقعد سے پانی آجائے اور اس میں پاخانہ کی بو نہ ہو تو اس پانی کاحکم کیا ہے ؟ اس سے کیا وضو ٹوٹ جائے گا ؟
جواب : ایسا پانی نجس نہیں ہے اور وضو باطل نہیں ہوگا ۔
پیشاب اور پاخانہ کا اپنے مخصوص مقام سے ہٹ کر آنا ۔ ۱۔۳۔
سوال نمبر ۲۷ : اگر پیشاب اور پاخانہ اپنی خاص جگہ سے ہٹ کر آتا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب :پیشاب و پاخانہ معمول کے مطابق آتے ہوں تو ان کے احکام خاص ہیں لیکن اگر اس میں شدید عسر و حرج ہوتو اس کا الگ حکم ہے ۔
(۳)
مردار
غیر مسلم میت کے عضو کا مسلمان کے جسم میں جڑے ہوئے کو چھونا ۔ ۳۔۳۔
سوال نمبر ۲۸: اگر غیر مسلم میت کے عضو کو مسلمان کے جسم میں جوڑدیا جائے لیکن وہ عضو بے جان ہو تو اس عضو کے چھونے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : جس انسان کے جسم میں وہ عضو لگا ہے عرف اسی کا عضو شمارکررہی ہو تو یہ پاک ہے ۔
مردہ انسان اور نجس العین حیوان کے عضو کا جوڑنے کا حکم ۔ ۳۔۳
سوال نمبر ۲۹ : اگر مردہ انسان کی آنکھ زندہ انسان میں ، یا مردہ یا زندہ نجس العین حیوان کی آنکھ کو نابینا انسان کی آنکھ میں لگادیا جائے تو اس سے جورطوبت نکلے گی اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب :یہ جوڑا ہوا عضو اسی انسان کے جسم کا عضو ہوگا اور اس سے جو رطوبت نکلے گی وہ پاک ہے ۔
(۴)
خون
زخم پر پٹی کا لگنا ۔ ۴۔۳
سوال نمبر ۳۰: جو پٹی زخم پرخون کو روکنے کے لئے بندھی ہو یہ نجس ہے یا پاک ؟اس پر غسل کرنا کیسا ہے ؟
جواب : اگر پٹی پر خون نہ ہو یا اس سے نہاتے وقت خون نہ آتا ہو تو پاک ہے اور اس پر غسل کرسکتے ہیں ۔
دانتوں کی صفائی کے وقت لعاب دہن میں مخلوط ترشح کا حکم ۔(۱۹۔۴۴)(۴۔۳)
سوال نمبر ۳۱ : عام طور پر دانت صاف کرنے والی مشین سپلائی پانی سے لگی رہتی ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص دانت کی صفائی کرا رہا ہو اس کے لعاب دہن کے ساتھ دوا اور خون وغیرہ کے ترشح جسم یا لباس پر آرہے ہوں تو وہ ترشح پاک ہے یا نجس ؟
جواب : اگر سپلائی کا پانی منھ میں جانے کے بعد گندگی یا کسی دوسری چیز (یعنی دوا اور خون سے ) مل کر نہ آرہا ہو تو پاک ہے ۔
(۵)
کافر اور اس کے مانند افراد
سوال نمبر ۳۲: برائے کرم اہل کتاب کے بارے میں ذیل کے چند سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں ؟
اہل کتاب کے ابزار و آلات کا استعمال ۔ ۱۔۱۔۶۔۳۔
۳۲۔الف ) ان کے بنائے ابزار و آلات کو استعمال کرسکتے ہیں ؟
جواب : اگر اہل کتاب سے ملنا جلنا نہ ہو تو ان کے ابزار و آلات سے پرہیز کریں لیکن جس اسلامی ممالک میں رہتے یا مسلمانوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو تو اس صورت میں ان سے پرہیز کرنا ضروری نہیں ہے ۔
اہل کتاب کی دواوٴں اور کھانے کی اشیاء کا استعمال ۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۳۲۔(ب) اہل کتاب کی دواوٴں اور کھانے کی چیزوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر احتمال یہ ہو کہ یہ سب چیزیں کارخانہ میں بغیر ہاتھ لگائے، یا دستانہ پہن کر بنائی گئی ہوں اشکال نہیں ہے لیکن ان کے ذبیحہ گوشت سے ضرور پرہیز کریں ۔
اہل کتاب کے ہاتھ کا ذبیحہ اور شکار۔۱۔۱۔۶۔۳
۳۲۔ج) ان کے ذبیحہ اور شکار کا کیا حکم ہے ؟
جواب : ان کے ہاتھ کا ذبیحہ یعنی گوشت ہرگز نہ کھائیں۔ لیکن اگر زندہ مچھلی ہو تو حلال ہے۔
اہل کتاب کا مقدس مقامات پر آنا۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۳۲۔د) اہل کتاب کا مقدس اماکن (خانہ کعبہ ، روضہ رسول ،ائمہ ٪ کے روضوں یا مسجدوں جیسے مقدس مقام) پر جانا کیسا ہے؟
جواب :اگر ان مقامات پر جانے سے بے حرمتی ہورہی ہو تو حرام ہے ۔
مسلمانوں کے قبرستان میں اہل کتاب کو دفن کرنا ۔۱۔۱۔۶۔۳
۳۲۔ھ) اہل کتاب کو مسلمان نشین علاقہ میں رکھنا، یا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا کیسا ہے ؟
جواب : اشکال ہے ۔
اہل کتاب کے شہداء کا حکم ۔ ۱۔۱ ۔ ۶۔۳
و) آیا اہل کتاب کے شہداء حکم شہید میں ہیں ؟
جواب : اگر اسلام کی راہ یا ممالک اسلامی کو بچانے کے لئے شہید ہوئے ہیں تو خدا کے نزدیک ماجور ہیں لیکن یہ اجرالہیٰ کس صورت میں ہے یہ خدا ہی جانتا ہے۔
اہل کتاب کے اعضاء کا لگانا ۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔ز)اہل کتاب کے اعضاء کو مومن کے جسم میں جوڑنا یا اس کے بر عکس کیسا ہے ؟
جواب : مومن کے بدن میں یا اس کے برعکس اہل کتاب کا عضو لگانے میں اشکال نہیں ہے ۔
اہل کتاب کے مریضوں کا علاج کرنا ۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔ح) آیااہل کتاب کے مریضوں کا علاج کرنااور ان کے طبی ابزار سے استفادہ کرنا کیا جائز ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سوء استفادہ کریں ۔
اہل کتاب کے معبد میں نماز کا پڑھنا ۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔ط) اہل کتاب کے معبد میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب : اشکال نہیں ہے ۔
اہل کتاب کے لباس اور برتن کا استعمال ۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔ی) ان کے برتن یا لباس کو استعمال کرنا جائز ہے ؟
جواب : اگر اہل کتاب کے ظروف ا ور لباس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔ لیکن اگرنجس ہونے کا ان کے یقین ہوتو اس کوضرور پاک کریں ۔
اہل کتاب کا مسلمان میت کو غسل دینا ۔۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔ک)اہل کتاب کا مسلمان مردے کو غسل دینا کیسا ہے ؟
جواب : مجبوری کی حالت میں جائز ہے ۔
اہل کتاب سے ازدوج ۔۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔ل) آیا اہل کتاب سے شادی کرنا صحیح ہے ؟
جواب :ان سے عقد موقت ( یعنی متعہ ) کرنا جائز ہے لیکن دائم عقد (ازدواج ) جائز نہیں ہے ۔
اہل کتاب والی زوجہ کا نفقہ ۔ ۱۔۱۔۶۔۳
۲۳۔م)اگر زوجہ (بیوی) اہل کتاب سے ہو تو اس کو نان و نفقہ دینا ضروری ہے ؟
جواب : چونکہ متعہ میں نفقہ نہیں ہے لہذا اس کا جواب معلوم ہے ۔
(۶)کتا
کتا اور بھیڑئیے سے مخلوط ہوکر پیدا ہونے والا حیوان کا حکم ۔۵۔۳
سوال نمبر ۳۳ : بعض اوقات ڈاکٹروں کے پاس غیر متعارف جانور معائنہ کے لئے لائے جاتے ہیں جن کے نجس یا پاک ہونے میں شک ہے ۔ جو جانور بھیڑ یا اور کتے سے مخلوط ہوکر،مثلاً: پیدا ہوا ہو چونکہ بھیڑیا پاک جانور ہے اس سے مشابہ ہونے کی وجہ سے وہ جانور آیا پاک ہے یا نجس؟
جواب : اگر بھیڑیا سے زیادہ مشابہ ہوتو پاک ہے ۔
گھر میں کتا رکھنا۔ ۱۔۵۔۵
سوال نمبر۳۴: کتے کو گاڑی ، گھر یا اپنے ساتھ لیکر چلناکیسا ہے ؟
جواب : یہ معزز مسلمان کے شایان شان نہیں ہے اور اس کو ساتھ میں رکھنا شرعی لحاظ سے بہت زیادہ مشکلات کھڑی کرنا ہے ۔
رطوبت کے ذریعہ نجاست کا سرایت کرنا۔۵۔۳
سوال نمبر۳۵: آیا کتا کی نجاست کا انسان کے جسم میں سرایت کرنا ضروری ہے ؟
جواب: ہاں نجس ہونے کے لئے رطوبت کا لگنا ضروری ہے ۔
(۷)شراب اور دیگر مشروبات
شراب نوشی کی بزم میں شریک ہونا (۱۔۳۔۲۶)(۲۳۔۵۰)
سوال نمبر ۳۶: جس بزم میں گانا اور شراب چل رہی ہو اس میںشریک ہونا کیا جائز ہے ؟
جواب : جائز نہیں ہے ۔
نشہ آور اشیاء کا بیچنا ۔ ۱۔۱۳۔۱۔۱۔۱۶
سوال نمبر ۳۷: ایک شخص کا پیشہ مسلمان ہونے سے پہلے شراب بیچنا تھا اور اسی کی آمدنی سے اپنے ماں اور باپ کے اخراجات کو پورا کرتا تھاوہ شخص مسلمان ہونے کے بعد اس پیشہ پرباقی رہ سکتا ہے ؟
جواب : اشکال ہے
شراب کو حلال جاننے والوں کے سامنے شراب کا رکھنا (۱۔۳۔۲۶۔)(۲۳۔۵۰)
سوال نمبر ۳۸: جو لوگ شراب کو حلال سمجھتے ہیں ان کے سامنے مسلمان عورت کا شراب رکھنا کیا جائز ہے ؟
جواب : مجبوری کی حالت کے علاوہ جائز نہیں ہے ۔
آب جو کو مشکوک نشہ آور اشیاء سے بنانا ۔ ۱۔۱۔۱۔۷۔۳
سوال نمبر ۳۹: ایک کمپنی ماء الشعیر ( جو کا پانی ) کو بیرونی ملک کے عرق یا پوڈر سے بنانا چاہتی ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے احتمال یہ ہے کہ اس عرق یا پوڈر میں الکحل پہلے سے رہا ہو پھر اس کو کسی چیز سے ختم کردیا گیا ہو اس سے کیا ماء الشعیر ( جوکا پانی ) بنانا جائز ہے ؟
جواب : جس چیز کے شروع میں الکحل ہو ( یوں کہ پہلے مست کنندہ پانی رہا ہو پھر اس کوجوش دے کر یا کسی دوسری چیز سے ختم کردیاگیا ہو ) اشکال ہے اگر ایسا نہیں ہے یا مستی لانے میں شک ہو تو اشکال نہیں ہے ۔
شک
نجاست اور طہارت میں شکی ہونا۔۲۱۔۵۰
سوال نمبر ۴۰: میری مشکل گھر کی دیوار اور اپنے بچے کو دھلاتے رہنا ہے کیونکہ ایک رومال جو نجس تھا دیوار پر رنگ ہوتے وقت لگ گیا تھا حالانکہ عین نجاست دیوار میں نہیں لگی تھی لیکن رومال پورا بھیگا ہوا تھا ۔ میرا بچہ اب گھٹنیوں چلنے لگا ہے اور ہاتھوں کو مستقل دیوار پر رکھے رہتا ہے جس کی وجہ سے ہم ہمیشہ اس کا ہاتھ دھلاتے رہتے ہیںجو ہمارے لئے زحمت کا باعث ہو گیا ہے برائے کرم ذیل کے چند سوالات کے جواب دیں تا کہ ہم اس سے جلدی نجات پاجائیں ۔
(۱) میں نے نجاست کے سرایت کرنے کے احکام پڑھے ہیں لیکن اس کی رطوبت کم از کم کتنی ہونی چاہئے یہ مجھے معلوم نہیں ہے آپ سے التماس ہے کہ اس کے متعلق وضاحت دیں ۔
جواب : اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ شکی ہوگئے ہیں جو ہم بتارہے ہیں اگر اس پر آپ نے عمل کرلیا تو نجات پاجائیں گے ورنہ بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ہم پہلے آپ کے سوالات کا جواب دیں گے پھر ایک عام قانون بیان کریں گے ۔ رطوبت سرایت کرنے کی مقدار یہ ہے کہ جب خشک ہاتھ کسی گیلی چیز پر پڑے تو اس کی رطوبت آسانی کے ساتھ معلوم ہو ۔
(۲) جس طرح ہم نے لکھا ہے کیا ہمارے گھر کی دیوار نجس ہے ؟
جواب : آپ کے لکھنے کے مطابق گھر کی دیواریں بالکل پاک ہیں ۔
(۳) جو پانی نل (یعنی سپلائی پائپ کی ٹونٹی سے گر کر جمع ) نیچے رکھے ہوئے برتن میں ہو رہا ہو لیکن پوری طرح بھرا ہوا نہ ہو تو اس پانی کا حکم کیا آب کرُ میں ہے ؟
جواب: جو پانی نل سے برتن میں گررہا ہے اگر چہ کم ہی کیوں نہ ہو اس کا حکم کرُ کے پانی کا ہے ۔
(۴) اگر دروازہ کی زنجیر یا دستہ سرد محسوس ہو اس کو سوکھے ہاتھ سے پکڑ لیا جائے تو کیا اس سے نجاست منتقل ہوسکتی ہے ؟
جواب : دستہ یا زنجیر کے سرد ہونے کا تعلق بھیگنے سے نہیں ہے اور نہ ہی ان کے سرد ہونے کی وجہ سے نجاست آسکتی ہے یہ سوال خو آپ کے شکی ہونے کا ثبوت ہے ۔
عام قانوں
آپ شکی اس لئے ہیں کہ مسائل سے واقفیت نہیں رکھتے ۔ اگر ان کی معلومات حاصل کرلیں تو آپ کی پوری مشکل حل ہوجائے ، اہم بات یہ ہے کہ شکی کا علم ویقین نہ نجاست کے لئے معیار بن سکتا ہے نہ ہی طہارت کا ۔ مزید وضاحت یہ ہے کہ عام متدین افراد کو معیار بنائیے کہ وہ کس طرح نجاست کا علم پیدا کرتے ہیں اور کس طرح طہارت کا ۔ اس کے بعد اگر آپ کو شک ہو تو اس کوہمارے اوپر چھوڑ دیں لہذا ہم نے جتنا بیان کیا ہے اسی پر عمل کریں ۔
جب تک اپنی آنکھوں سے نجاست کو نہ دیکھ لیں اس وقت تک گلیاں ، سڑکیں ، دوکانیں حتی ٹوائلٹ بھی پاک ہیں ۔ سرکاری گاڑیاں ، کرسیاں اور دروازوں کے دستہ بھی پاک ہیں ۔ حمام میں جب تک اپنی آنکھوں سے نجاست نہ دیکھ لیں وہ پاک ہے تمام مسلمان اور ان کے بچے اس وقت تک پاک ہیں جب تک ان کے نجس ہونے کا علم نہ ہوجائے ۔ آپ کی شرعی ذمہ داری اتنی ہے ہم نے جتنا بیان کیا ہے اسی پر عمل کریں انشاء اللہ ایک ہفتہ کے اندر شک سے نجات پاجائیں گے ۔
مختلف نجاستوں کے مسائل
قے کی طہارت اور نجاست ۔۱۳۔۳
سوال نمبر ۴۱ : کیا قے نجس ہے ؟ بڑے اور چھوٹے کی قے میں کیا کوئی فرق ہے ؟
جواب : قے نجس نہیں ہے بشرطیکہ خون کے ساتھ نہ ہو اور بڑے و چھوٹے یا لڑکا اور لڑکی کی قے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
سوال نمبر۴۲: بچہ کو دودھ پلاتے وقت اگر اس کا قطرہ زمین یا کپڑے آجائے ، تو کیا اس سے زمین یا کپڑا نجس ہوگا ؟
جواب : بچہ کا کپڑا اگر نجس نہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔
گندہ پانی جس کوصاف کیاگیا ہو ۔
گندے پانی کو صاف کرنے کے بعد استعمال کرنا۔ ۱۔۴۔۱۔۲
سوال نمبر ۲۲ : گندے پانی کو صاف کرنے کے بعد اس کے استعمال کرنے کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ؟کیونکہ گندہ پانی درج ذیل کے چند مرحلوں کو طے کرنے کے بعد صاف ہوتا ہے ۔
۱۔ گندے پانی سے کوڑا کرکٹ الگ کیا جاتا ہے ۔
۲۔ پانی سے کنکڑ اور مٹی کو جدا کیا جاتا ہے ۔
۳۔ پانچ عدد تالاب ۱۰۰/۱۰۰ایک کے بعد ایک ایسا ملا ہوتا ہے کہ گندا پانی ایک تالاب سے ہو کر دوسرے تالاب میں گرتا ہے پانچویں تالاب میں پہونچتے ہی ایک صاف پانی ہوجاتا ہے ۔ لیکن اس میں تھوڑی بدبو رہتی ہے ۔
جواب : ایسا پانی پاک نہیں ہے لیکن اس سے زراعت کرسکتے ہیں اور حیوانوں کو پلایاجا سکتاہے اس سلسلے میں مزید معلومات چاہتے ہیں تو اسی کتاب کی دوسری جلد کے سوال نمبر ۱۸ کے جواب کو ملاحظہ فرمائیں ۔
آب مضاف
کلر سے سپلائی کے پانی کا رنگ بدلنا۔۳۔۱۔۲
سوال نمبر ۲۳ : بعض اوقات سپلائی کا پانی کلر یا کسی دوسری چیز سے ایسا بدل جاتا ہے کہ سپلائی کا پانی اپنی حالت میں نہیں ہوتا ہے یہ پانی آیا مضاف کے حکم میں نہیں ہے ؟ اس سے وضو وغیرہ کیا جاسکتا ہے؟
جواب :ایسا پانی حکم مضاف میں نہیں ہے اس پانی سے وضو وغیرہ کیا جاسکتا ہے ۔
وضو اور غسل کے پانی سے دوسرا وضو یا غسل کرنا(۴۔۵۔)(۱۔۲۔۲۔۱۔۲)
سوال نمبر ۲۴ :وضو یا غسل واجب یا مستحب کے کئے ہوئے پانی سے دوسرا وضو ، غسل یا طہارت کی جاسکتی ہے ؟
جواب : وضو کے پانی سے دوسرا وضو یا غسل ہوسکتا ہے لیکن غسل کے پانی (البتہ جو آپ قلیل سے کیا گیا ہو)سے دوسرا وضو یا غسل کرنے میں اشکال ہے ۔ لیکن سب سے اچھا استعمال نہ کیا ہوا پانی ہے جس سے وضو اور غسل کرنا بہت ہی بہتر ہے ۔
دھوپ سے گرم ہوئے پانی کا استعمال کرنا۔۴۔۵
سوال نمبر ۲۵ : دھوپ سے گرم ہوئے پانی کا استعمال کرناکیا مکروہ ہے ؟یا اس میں ٹھنڈا پانی ملانے یا خود پانی کے ٹھنڈے ہوجانے کے بعد اس سے وضو،غسل ، یا پینا مکروہ نہیں ہے ؟
جواب:ظاہر روایت یہ ہے کہ جب تک پانی گرم ہو اس کا استعمال کرنا مکروہ ہے ۔
سوال نمبر ۱: آپ کی توضیح المسائل کے شروع میں آیا ہے” اصول دین میں مسلمانوںکا عقیدہ دلیل و برہان کے ذریعہ ہونا چاہیئے“ اگر کوئی مسلمان تحقیق کرنے کے بعد اسلام کے بجائے کسی دوسرے دین کو اختیار کرلیتا ہے تووہ مسلمان کیا اس دین کی پیروی کرسکتا ہے ؟ اس صورت میں اس مسلمان پر کیا مرتد کا حکم جاری نہیںہوگا ؟ اوراگر جاری ہوگا تو کیوں؟ آیایہ مرتد کا حکم اصول دین میںتحقیق کرنے اور اس میں کسی کی تقلید نہ کرنے سے نا سازگار نہیں ہے؟ ۔
نیزجس شخص کو یہ معلوم ہو کہ اگر اپنے ماں باپ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے گا تووہ شخص قتل کردیاجائے گا ایسے میں یہ شخص اصول دین میں آزادانہ طور پر تحقیق کیسے کرسکتا ہے ؟
جواب : دین کی تحقیق اور کسی مذہب کے عقیدہ کا اظہار یہ دو الگ چیزیں ہیں،اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ سب انسانوںپر ضروری ہے کہ اصول دین کی تحقیق اپنی توانائی بھر کرے اور اگر کسی انسان نے حقیقت میں اپنی کامل تحقیقات اور اہل علم سے پوچھ تاچھ کے بعد اسلام کے بجائے کسی دوسرے دین کو اختیار کرلیا ہے تو ایسا شخص معذور ہے کیونکہ اس نے شرعی و عقلی فریضہ کو پورا کردیا ہے اگرچہ اس نے خطا کی ہے ، لیکن جو شخص پہلے مسلمان تھا کسی وجہ سے دوسرے مذہب کو اختیار اور اس کا اظہار بھی کرنے لگا تو ایسا شخص مرتد کے حکم میں ہوگا حقیقت میں یہ مرتد کا حکم اسلام کا سیاسی حکم ہے تاکہ دشمن مسلمانوں کو فریب اور اسلامی ماحول میں نفوذ نہ کرنے پائے ۔
اصول دین کے بارے میں تحقیق کی حد ۔ ۱۷۔۱۰
سوال نمبر۲:نوجوانی یا جوانی میں اصول دین کے بارے میںجس قدرہم سے سوال کیاجاتاہے،مسلمان ہونے کے لئے اتنا ہی جاننا کافی ہے ؟ یا اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے ؟
جواب : کافی ہے لیکن اپنے عقائد کو مزید دلیل و برہان کے ذریعہ معلوم کرنے کی کوشش کرےں۔
مجتہد کی تقلید کرنے کے حدود ۔ ۳۔۱
سوال نمبر ۳ : انسان کن چیزوں میں مجتہدکی تقلید کرے ؟ کیا تقلید صرف احکام عبادات ( نماز و روزہ جیسی عبادت ) میں ہے یا معاملات اور حقوق جیسے احکام بھی تقلید ہے ؟
جواب : ضروریات دین کے علاوہ تمام اعمال اورشرعی احکام میںتقلید ہے لیکن اصول دین میں تقلید نہیں ہے ۔
اجتہاد کا دائرہ
ہرزمانے کی مشکلات کا حل فقہ میں ۔۲۱۔۱
سوال نمبر ۴: علمی پیشرفت ہونے کی وجہ سے ممکن ہے کہ کچھ ایسے مسائل پیش آجائیںجن کا قرآن مجید یا احادیث وغیرہ میں تذکرہ نہ ہواہو اور صرف عقل سے ان مسائل کو حل کرناکافی اس لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ اس عقل سے غلطیاں ہونے کا امکان زیادہ ہے اس بات کو پیش نظر ہوئے کیا مجتہدین آنے والی نسلوں کے سارے شرعی مسائل کا جواب دے سکتے ہیں ؟
جواب: اسلام کے کچھ ایسے قانون اور قواعد عام ہیں جن سے ہر زمانے کی مشکلات حل کی جاسکتی ہےں یہی وجہ ہے جب بھی ہم سے کوئی نئے مسائل کے بارے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو بفضل الہی ہم ان ہی قواعد اور قانون سے جواب دیتے ہیںاور کسی بھی مسئلے میں لاجواب نہیںرہتے ہیں ۔
اعلم مجتہد کی شناخت کا طریقہ۔۷۔۱
باپ یا شوہر کی تاسی میں ان کے مجتہد کی تقلید
سوال نمبر ۵: کیا زوجہ پر اپنے شوہر کے مجتہد یابیٹا اپنے باپ کے مجتہد کی تقلید کرنا ضروری ہے یا اس تقلید کے مسئلہ میں آزاد ہیں ؟
جواب: ہرانسان تقلید کے سلسلے میں آزاد ہے اعلم مجتہد کی ضرور تحقیق کرے پھر اس کے بعدمجتہد کی تقلید کرے ۔
گذشتہ مجتہدین پر دور حاضر کے مجتہد کا اعلم ہونا ۔ (۷۔۱)َ(۶۔۱)
سوال نمبر ۶: مجتہدین کے اختلافی مسئلے میں اعلم کی طرف رجوع کرنے کا ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً سبھی مجتہدین کرام کی توضیح المسائل میں آیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اعلم کی شناخت کرنا بہت مشکل بلکہ شاید محال ہو کیونکہ ہر شخص یا گروہ اپنے مجتہد تقلید کو اعلم بتاتا ہے اوردوسرے کو نہیں ،سوال یہ ہے کہ قدیم کے کچھ مجتہدین کرام تھے جن کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ اپنی حیات میں کیا بلکہ مرنے کے بعد بھی آج کے مجتہدین تقلید کے مقابلہ میں اعلم ہیںتو کیا ممکن ہے اس طرح کے مجتہدین کرام (رضوان اللہ علیھم ) جن کو اس دنیا سے گئے کافی زمانہ ہوگیا ہے آج کے زندہ مجتہدین ( جو بحث و مباحثہ اور درس وتدریس میں مشغول ہیںاور جدید علوم و فنون میں بھی دسترس رکھتے ہیں ) کے ہوتے ہوئے بھی گذشتہ مجتہدین اعلم ہوں؟
جواب : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ علم و دانش زمانہ کے ساتھ ساتھ متحول اور تکامل کی منزل پر گامزن ہے جیسا کہ ہم نے کتاب عروة الوثقی کی بحث میت مجتہد کی تقلید شروع سے جائز نہیں ہے کے حاشیہ پر لکھاہے کہ ممکن ہے بہت سے زندہ مجتہدین تقلید گذشتہ مجتہدوں سے اعلم ہوں کیونکہ زندہ مجتہد گذشتہ مجتہدوں کے علم اور معلومات کے علاوہ جدید علوم پرتبحر رکھتا ہے، اس اعتبار سے ممکن ہے کہ گذشتہ مجتہدوں میں کچھ ایسی شخصتیں ہوں جو صلاحیت و استعداد میں زندہ مجتہد سے زیادہ ہوں لیکن یہ بھی ممکن ہو کہ زندہ مجتہد کی معلومات گذشتہ مجتہد کی بہ نسبت واقعیت سے زیادہ قریب ہو اور اعلمیت کامعیار، واقعیت سے قریب تر ہونا ہے ، جیسا کہ ممکن ہے آج کے ڈاکٹرابن سینا سے زیادہ ماہر ہوں حالانکہ ابن سینا کی صلاحیت اور استعدادبہت زیادہ تھی اور دوسرے علوم بھی اسی طرح ہیں پس اس قانون سے فقہ و اصول کا علم بھی مستثنیٰ نہیں ہے اور یہ دونوں علم بھی ہمیشہ متحول اور تکامل کی منزل کی طرف گامزن رہے ہیں ۔
سوال نمبر ۷: آپ نے کتاب استفتاء ات جدید ج ۱ ، کے سوال نمبر ۵۶۹ میں اس شخص کی غیبت کرنے کے جائز ہونے کے سلسلے میں جو ڈاڑھی مونڈھتا ہو کے جواب میں یہ لکھا ہے کہ ”باوجودیکہ بعض گذشتہ اور حاضر کے مجتہدِتقلید اس چیز کو جائز سمجھتے ہیں لیکن اس شخص کی بھی غیبت کرنا جائز نہیں ہے ۔
اس جواب کو پیش نظر رکھتے ہوئے معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ ڈاڑھی مونڈھنے کے جائز نہ ہونے کے سلسلے میں احتیاط کے قائل ہیں آیا اس ظاہری عبارت کو دیکھتے ہوئے کے بعض مجتہد جائز ہونے کے قائل ہیں بعض زندہ مجتہدکے فتووں کی طرف جائز ہونے کے نسبت دیتے ہوئے اس پر عمل کرسکتے ہیں؟
جواب: اختلافی مسائل میں اعلمیت کاثابت ہونا ضروری ہے ۔
سوال نمبر۸: برائے کرم تقلید سے متعلق ذیل کے چند سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں ؟
الف)اہل خبرہ (ماہرین فن ) جن کے کہنے یا تائید کرنے سے کسی کی مرجعیت و اعلمیت ثابت ہوتی ہے کون لوگ ہیں ؟
جواب- -: اہل خبرہ سے مراد حوزہ علمیہ اور شہر کے صف اول و دوم کے علماء ہیں جو فقھی مبانی کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔
ب)آیا غیر مولوی مجتہد اور اعلم کی شناخت کرسکتے ہیں ؟ ان کا یہ کہنا کہ ہم مجتہد اور اعلم کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں قابل قبول ہوگا ؟
جواب: اگر ایسا شخص لوگوں کے درمیان قابل اعتماد ہو اور وہ اہل خبرہ سے پوچھ کر خبردے تو اس کی بات کو مان سکتے ہیں ۔
ج) جو شخص حوزہ علمیہ یا دینی مدارس سے دور ہو وہ کیسے تشخیص دے سکتا ہے کہ فلان عالم اہل خبرہ سے ہے یا نہیں ہے تاکہ مجتہد اعلم کی شناخت میں اس پر اعتماد کیا جاسکے ؟
جواب : ہر جگہ کے مشہور علماء عام طور سے اہل خبرہ ہیں ۔
د) اعلم کی تشخیص کے لئے کیا اہل خبرہ کا مجتہد ہونا ضروری ہے ؟
جواب: اہل خبرہ کے لئے مجتہد ہونا شرط نہیںہے ۔
ھ) اگر اعلم کی تشخیص میں اہل خبرہ کی گواہی میں تعارض ہو جائے تو اس صورت میں کیا مناسب نہیں ہے کہ اہل خبرہ کی خبرویت میں تحقیق کریںکہ کون کامل تر ہے اور پھر اس کی بات قبول کریں ؟
جواب-:- علم یا اطمینان جس طریقہ سے حاصل ہوجائے وہی کافی ہے ۔
و) اگر مجتہد اعلم کی تشخیص میں اہل خبرہ میں تعارض ہوجائے تو اس صورت میں کیا کیا جائے ؟
جواب: ایسی صورت میں اختیار ہے ۔
تقلید کے لیے انتخاب مجہتد کا صحیح معیار ۔۷۔۱
سوال نمبر۹: بعض لوگ مجتہد تقلید کا انتخاب توضیح المسائل میں جس طرح طریقے سے بیان کئے گئے ہیں سے ہٹ کر اس طرح کرتے ہیں۔
(الف) اپنے مجتہد تقلید کا شاگرد ہو۔
(ب) جس مجتہد کافتوا آسان ہو ۔
(ج) جس کے مقلد اور چاہنے والے زیادہ ہوں ۔
(د) جس مجتہد کو ماں ، باپ ، یا استاد نے بتایا ہو ۔
آیا یہ طریقے مجتہد کے انتخاب کرنے کے صحیح ہیں ؟
جواب: ان میں سے کوئی بھی طریقہ معیار نہیں ہے بلکہ مجتہد تقلید کے انتخاب کرنے کا معیار اعلم ہونا ہے جو جس طریقہ سے بھی حاصل ہو۔
تقلید کی اصطلاحات
احتیاط واجب اور احتیاط مستحب کا فرق۔ ۱۴۔۱
سوال نمبر ۱۰ : میں نے توضیح المسائل میں ان جیسی اصطلاح ” احتیاط واجب “ یا ”احتیاط مستحب “پڑھی ہیں ان پر کیا عمل کرنا ضروری ہے ؟
جواب : اس ” احتیاط واجب “ سے مراد یہ ہے کہ مجتہد نے اپنا فتوا صریح طور پر نہیں دیا ہے اس صورت میں مقلد کواختیار ہے چاہے تو احتیاط کرے یا کسی دوسرے مجتہد کے فتوا کی طر ف رجوع کرے لیکن یہ ” احتیاط مستحب “ ایسا نہیں ہے آپ چاہیں تو اس پر عمل کریں ورنہ اس کو چھوڑ سکتے ہیں ۔
جملہ ” جائز نہیں ہے “ کی وضاحت ۔ ۱۴۔ ۱
سوال نمبر ۱۱ : آیا جملہ ” جائز نہیں ہے “مترادف ”حرام ہے “ کے ہے یا ان دونوں میں کوئی فرق ہے اگر ہے تو کون سا فرق ہے ؟
جواب : کوئی فرق نہیں ہے ۔
احتیاط کا فتوا اورفتوا میں اختیاط کا فرق ۔ ۱۴۔۱
سوال نمبر ۱۲: کیا ” احتیاط کا فتوا“ اور ” فتوا میں احتیاط “فرق ہے اس کی مزیدوضاحت دیں ؟
جواب:اس احتیاط کا فتوا سے مجتہد کی مراد یہ ہے کہ آپ احتیاط کریں جس کی وضاحت یوں ہے اگر دو پانی کا برتن ہو جس میں ایک برتن نجس ہو لیکن معلوم نہ ہو کہ کون سا پانی کا برتن نجس ہے اس موقع پر احتیاط کرنا ضروری ہے اور ان دونوں برتن کو ہاتھ نہ لگائیں لیکن فتوا میں احتیاط یہ ہے کہ تیسری یا چوتھی رکعت میں مثلاً تسبیح اربعہ کا ایک مرتبہ پڑھنا اشکال ہے اس موقعہ پر احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس تسبیح اربعہ کو تین مرتبہ پڑھیں ۔
میت کی تقلید
سوال نمبر ۱۳ : ہمارے ایک رشتہ دار جو پہلے اہل حق کے ماننے والے تھے اب تحقیق کرنے کے بعد بحمد اللہ شیعہ ہوگئے ہیں اس سلسلے میں درج ذیل کے دو سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں ؟
الف ) آپ امام خمینیۺ(رضوان اللہ علیہ )کے زمانہ ء حیات میں بالغ تھے مگر ان کی تقلید میں نہیں تھے آیا یہ اس وقت امام خمینی(رضوان اللہ ) کی تقلید کرسکتے ہیں ؟
جواب : ابتداء سے میت مجتہد کی تقلید کرنے میں اشکال ہے۔
ب) چونکہ اپنے ملک ( ایران ) کے مغربی علاقے میں اہل حق نماز نہیںپڑھتے ہیں ، اور رمضان المبارک کے روزے کے بجائے آبان مہینہ ( ایرانی مہینہ ہے )میں صرف تین روزہ رکھتے ہیں ان مدت کی نمازیں اور روزہ کی وہ قضا کرے گایایہ سب نمازیں اور روزہ اس پر ساقط ہیں ؟
جواب : ساقط ہیں ۔
زندہ مجتہد کی اجازت کے بغیر مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہنا ۔۹۔۱
سوال نمبر ۱۴ : اگر کسی شخص نے اپنے مجتہد تقلید سے زیادہ محبت رکھنے کی وجہ سے ( مثلاً امام خمینی ۺ سے )کسی زندہ مجتہد کی طرف رجوع نہیں کیا یا مجتہد کی بغیر اجازت کے میت مجتہد کی تقلید پر باقی رہا اس کو یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ زندہ مجتہد میں کس کی تقلید کی جارہی ہے تو اس شخص کے اس مدت کے اعمال کیا ہوں گے ؟
جواب : زندہ مجتہد کی طرف رجوع کرے مجتہد کے کہنے پر اپنے گذشتہ مجتہد ( مثلاً امام خمینیۺ) کی تقلید پر باقی رہے اس صورت میں جاکر گذشتہ اعمال صحیح ہوں گے ۔
تمام شرعی مسائل میں زندہ مجتہد کی تقلید کرنا ۔۸۔ ۱
سوال نمبر ۱۵ : بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو میت مجتہد کی تقلید پر باقی ہیں لیکن اکثر مسائل میں زندہ مجتہد کی تقلید کرتے اور ان کے فتوے پر عمل کرتے ہیں کیونکہ میت مجتہد کے فتوا پر عمل کرنے میں شک ان کو رہتا ہے اس صورت میں اگر کوئی زندہ مجتہد کی تقلید شروع سے کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص کیا اس مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے ؟
جواب : جن امور میںمیت مجتہد کے فتوا پر عمل نہ کیا ہویا جس میں شک ہو ان امور میں زندہ مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے لیکن اگر زندہ مجتہد کی اعلمیت ثابت ہوجائے تو تمام شرعی مسائل میں اس زندہ مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے ۔
چند مجتہد کی تقلید
مجتہدین کا مختلف فقہ کے ابواب میں متخصص ہونا۔۱۱۔۱
سوال نمبر ۱۶ : بعض شخصیتوں کی پیشنھاد یہ ہے کہ مجتہد تقلیدکومتخصص ہونا چاہیئے اس سلسلے میںآپ کی کیا رائے ہے ؟
جواب : مجتہد حضرات فقہ کے جس باب میںاعلم ہو اور ان میں مرجعیت کی شان پائی جا رہی ہو تو اشکال نہیں ہے ۔
متعدد مجتہدین کی تقلید کرنا ۔ (۱۱۔۱)
سوال نمبر ۱۷ :طبی مسائل کے علاوہ بعض مسئلہ میں مجتہدین کے درمیان اختلاف ہے آیا ممکن ہے کہ طبی مسائل میں کسی مجتہد کی تقلید کی جائے اور دوسرے مسئلے (جیسے عبادات) میں دوسرے مجتہد کی تقلید ہو ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے ۔
تقلید کے دیگر مسائل
غیر مولوی سے دینی مسائل کو معلوم کرنا (۱۲۔ ۱)(۱۔۱)
سوال نمبر ۱۸ : آیا دینی امور میںہر انسان کے کہنے پر عمل کرسکتے ہیں ؟
جواب : مسائل دینی کو مجتہدین اور علماء دین سے معلوم کریں ۔
مجتہد کے نظریہ پر ولی فقیہ کی رائے کا مقدم ہونا۔ ۱۔۳۔۵۰
سوال نمبر۱۹: شرعی مسائل میں ولی فقیہ کی رائے تمام مجتہدین کی رائے پر کیافوقیت رکھتی ہے ؟
جواب : حکومتی امور میں ولی فقیہ کی رائے مقدم ہے اس کے علاوہ دیگر مسائل میں مجتہد تقلید کی پیروی کرنا ضروری ہے ۔
ملکی قانون کا قاضی کے مجتہد کے فتوے سے معارض ہونا (۱۸۔ ۱)(۱۔۱۵)
سوال نمبر۲۰: قاضی جو ولی فقیہ کی طرف سے منصوب ہوا ہے اس کو حکم صادر کرتے وقت اگر یہ معلوم ہو کہ قانون جو ( حدود ، قصاص اور معاملات کا ) پارلمینٹ اور شورای نظارت سے تصویب ہوا ہے اپنے مجتہد تقلید کے فتواکے خلاف ہے ( ایسی صورت میں اگر اپنے مجتہد تقلید کے فتوے پر چلتا ہے تو حکومت کی طرف سے مجرم ہوتا ہے ) اس صورت میں یہ قاضی کس کے حکم پرسزا سنائے ؟
جواب :محکمہ عدالت کو ان جیسے متضاد قانون کو حل کرنا چاہئے اس طرح کی فائلوں کو دوسری عدالت میں بھیجے کیونکہ قاضی اپنے مجتہد تقلید کے فتوا کے خلاف حکم نہیں دے سکتا ہے ۔
بعض احکام میں مجتہد ین کے درمیان اختلاف کے اسباب و علل ۔ ۱۶۔۱
سوال نمبر ۲۱ : خدا ایک ہے پیغمبر اکرم ایک ہیں اور آئمہ معصومین (علیھم السلام ) بھی ہردور میں ایک رہے ہیں اور ان سب کا قانون بھی ایک ہی ہے پھر ہمارے زمانہ کے مجتہدین تقلید کے درمیان دینی مسائل میں اختلاف کیوں ہے اور سب کا الگ الگ نظریہ کیوں ہے ؟
جواب :سب سے پہلے معلوم یہ رہے کہ مجتہدین تقلید اصل مسائل میں متفق الرائے ہیں اگر ان کے درمیان اختلاف ہے تو وہ جزئیات میں ہے ۔ دوسرے ہمارا یہ اختلاف آئمہ اطہار ٪ کے زمانہ سے دور ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ ان معصومین سے جو روایتیں مختلف طریقوں سے ہم تک پہونچی ہیں ممکن ہے ان میں سے بعض مجتہد اس روایت یا راوی کو قابل اعتماد سمجھتے ہوں جو دوسرے مجتہد کی نظر میں اعتماد کے قابل نہ ہو البتہ اس سلسلے میں مجتہدین بہت تحقیق کرتے ہیں اس کے باوجود ایک نتیجہ پر نہیں پہونچ پاتے اس کے علاوہ آئمہ معصومین ٪ کے ارشادات کا سمجھنا اس دور میں کوئی آسان کام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ مجتہدین کے درمیان فتوے میں اختلاف ہے ۔
قرآن کریم کے سورہ نحل میں ارشاد ہوتا ہے: <وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ> [1] ”خداوندعالم نے تم میں سے بعض لوگوں کو روزی کے لحاظ سے بعض دوسرے لوگوں پر برتری دی ہے“۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان رزق و روزی کے لحاظ سے فرق قرار دینا ؛ کیا خداوندعالم کی عدالت اور معاشرہ کے لئے ضروری مساوات سے ہم آہنگ ہے؟
(قارئین کرام!) اس سوال کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:
۱۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مادی اسباب اور مال و دولت کے لحاظ سے انسانوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کی اہم وجہ خودانسانوں کی استعداد اور صلاحیت ہے، انسان میں موجودہ جسمی اور عقلی یہی فرق ہی باعث ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے پاس بہت زیادہ مال و دولت جمع ہوجائے اور بعض دوسروں کے پاس نسبتاً کم رہے۔
البتہ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بعض لوگ اتفاقات کی بنا پر مالدار بن جاتے ہیں جو کہ خود ہمارے نظریہ کے مطابق صرف ایک اتفاق ہوتا ہے لیکن ایسی چیزوں کومستثنیٰ شمار کیا جاسکتا ہے، ہاں جو چیز اکثر اوقات قاعدہ و قانون کے تحت ہوتی ہے تو وہ استعداد وصلاحیت اور انسان کی کارکردگی کا فرق ہے (البتہ ہماری گفتگو ایسے سالم معاشرہ کے بارے میں ہے جس میں ظلم و ستم نہ ہو اور نہ ہی استثمار، اور نہ ہی ایسا معاشرہ جو قوانین خلقت اور انسانی نظام سے بالکل دور ہو)
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم جن لوگوں کو اپاہج (لولا او رلنگڑا) اور کم اہمیت سمجھتے ہیں وہ بہت زیادہ مال و دولت جمع کرلیتے ہیں اور اگر ان کے جسم و عقل کے بارے میں مزید غور و فکر کریں اور ظاہری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے گہرائی سے سوچیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ ان کے اندر کچھ ایسی طاقتور چیزیںپائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں، (ایک بار پھر اس بات کی تکرار کرتے ہیں کہ ہماری بحث ایک سالم اور ظلم و ستم سے دور معاشرہ کے بارے میں ہے)۔
بہر حال استعداد اور صلاحیت کی وجہ سے آمدنی میں فرق ہوتا ہے، اور استعداد خداوندعالم کی عطا کردہ نعمت ہے، ہوسکتا ہے بعض مقامات میں انسان سعی و کوشش کے ذریعہ کسب کرلے، لیکن دیگر مواقع پر انسان کسب نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ ایک سالم معاشرہ میں بھی اقتصادی لحاظ سے درآمد میں فرق پایا جانا چاہئے، مگر یہ کہ ایک جیسے انسان، ایک جیسی استعداد اور ایک جیسے رنگ کے انسان بن جائیں کہ جن میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہ ہو، جو خود مشکلات اور پریشانیوں کی ابتدا ہے!
۲۔ کسی انسان کے بدن، یا کسی درخت یا کسی پھول کو مد نظر رکھیں ، کیا یہ ممکن ہے کہ ان تمام چیزوں کے جسم کے تمام اعضا ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوجائیں؟
تو کیا درختوں کی جڑوں کی طاقت نازک پتوں کی طرح یا انسان کے پیر کی ایڑی ،آنکھ کے نازک پردہ کی طرح ہوسکتی ہے؟ اگر ہم ان کو ایک جیسا بنادیں تو کیا ہمارے اس کام کو صحیح کہا جاسکے گا؟! (اگر یہ نازک آنکھ، ایڑی کی طرح سخت یا ایڑی ،آنکھ کی طرح نرم ہوجائے تو انسان کتنے دن زندہ رہ سکتا ہے؟!!)
اگر جھوٹے نعرے اور شعور سے خالی نعروں کو دور رکھ کر فرض کریں کہ اگر ہم نے کسی روز تمام انسانوں کو ایک طرح بنادیا جو ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں ، اور دنیا کی آبادی پانچ ارب فرض کریں اور وہ سبھی ذوق، فکر اور صلاحیت بلکہ ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں، بالکل ایک کارخانہ سے بننے والی سگریٹ کی طرح۔
تو کیا اس وقت انسان بہتر طور پر زندگی گزار سکے گا؟ قطعی طور پر جواب منفی ہوگا، یہی نہیں بلکہ دنیا ایک جہنم بن جائے گی، سب لوگ ایک چیز کی طرف دوڑیں گے، ایک ہی عہدہ کے طالب ہوں گے، سب کو ایک ہی کھانا اچھا لگے گا، اور سب ایک ہی کام کرنا چاہیں گے!
یہ بات مکمل طور پرواضح ہے کہ اس طرح زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی، اور اگر یہ گاڑی چلی بھی تو واقعاً بور کرنے والی ، بے مزہ اور ایک طرح کی ہوگی، جس کا موت سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
اجتماعی زندگی کی بقا بلکہ مختلف استعداد کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے کہ استعداد اور صلاحیت میں فرق ہو، جھوٹے نعرے اس حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔
لیکن اس بات سے کوئی یہ مطلب نہ نکالے کہ ہم طبقاتی نظام یا استعماری نظام کو قبول کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں، ہماری مراد طبیعی فرق ہے نہ کہ مصنوعی، اور وہ فرق مراد ہے جو ایک دوسرے کے تعاون کا باعث ہو، نہ کہ ایک دوسرے کی ترقی میں رکاوٹ بنے، اورجس سے ایک دوسرے پر ظلم و ستم کیا جائے۔
طبقاتی اختلاف (توجہ رہے کہ طبقات سے مراد وہی استثماری نظام اور استثماری نظام کو قبول کرنے والے لوگ ہیں) نظام خلقت کے موافق نہیں ہے ، بلکہ نظام خلقت سے موافق استعداد اور صلاحیت اور سعی و کوشش کا فرق ہے، او ران دونوں کے درمیان زمین تا آسمان فرق ہے۔ (غور کیجئے )
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ استعداد اور لیاقت کے فرق سے اپنی اور معاشرہ کی فلاح و بہبود کے راستہ میں مدد لی جائے، بالکل ایک بدن کے اعضا کے فرق کی طرح، یا ایک پھول کے مختلف حصوں کی طرح، جو اپنے فرق کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مددگار ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے لئے باعث زحمت و پریشانی۔
المختصر : استعداد اور صلاحیت کے فرق سے غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے ، اور نہ ہی اس کو طبقاتی نظام بنانے میں بروئے کار لانا چاہئے۔
اسی وجہ سے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: < اٴَفَبِنِعْمَةِ اللهِ یَجْحَدُون> [2] ”کیا خداوندعالم کی عطا کردہ نعمتوں کا انکار کرتے ہو؟“۔
اس آیت میں طبیعی طور پر فرق (نہ کہ مصنوعی اور ظالمانہ فرق) خداوندعالم کی ان نعمتوں میں سے ہے جس کو معاشرہ کی بقا کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے [3]
جیسا کہ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں : <وَلٰا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ ․․․> [1]
”اور خبر دار جو خدا نے بعض افراد کو بعض سے کچھ زیادہ دیا ہے اس کی تمنا اور آرزو نہ کرنا“۔
اس آیہٴ --شریفہ کے پیش نظر بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی استعداد اور قابلیت زیادہ اور بعض لوگوں کی استعداد کم کیوں ہے؟ اسی طرح بعض لوگ دوسروں سے زیادہ خوبصورت اور بعض کم خوبصورت ہیں، نیز بعض لوگ بہت زیادہ طاقتور اور بعض معمولی طاقت رکھتے ہیں، کیا یہ فرق خداوندعالم کی عدالت کے منافی نہیںہے؟
اس سوال کے ذیل میں ہم چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱۔ بعض لوگوں میں جسمانی یا روحانی فرق کا ایک حصہ طبقاتی نظام، اجتماعی ظلم و ستم یا ذاتی سستی اور کاہلی کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا نظام خلقت سے کوئی سروکار نہیں، مثال کے طور پر بہت سے
مالدار لوگوں کی اولاد غریب لوگوں کی اولاد کی نسبت جسمی لحاظ سے طاقتور، خوبصورتی کے لحاظ سے بہتر اور استعداد و قابلیت کے لحاظ سے بہت آگے ہوتی ہے، کیونکہ ان کے یہاں غذائی اشیاء کافی مقدار میں ہوتی ہیں اور صفائی کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، جبکہ غریب لوگوں کے یہاں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، یا بہت سے لوگ سستی اور کاہلی سے کام لیتے ہیں اور اپنی جسمانی طاقت کھوبیٹھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کے فرق کو ”جعلی اور بے دلیل“ کہا جائے گا جو طبقاتی نظام کے خاتمہ اور معاشرہ میں عدل و انصاف کا ماحول پیدا ہونے سے خود بخود ختم ہوجائے گا ، قرآن کریم نے اس طرح کے فرق کو کبھی بھی صحیح نہیں مانا ہے۔
۲۔ اس فرق کا ایک حصہ انسانی خلقت کا لازمہ اور ایک طبیعی چیز ہے یعنی اگر کسی معاشرہ میں مکمل طور پر عدل و انصاف پایا جاتا ہو تو بھی تمام لوگ ایک کارخانہ کی مصنوعات کی طرح ایک جیسے نہیں ہوسکتے، طبیعی طور پر ایک دوسرے میں فرق ہونا چاہئے ، لیکن یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ معمولاً خداداد صلاحتیں اور روحی و جسمی استعداد اس طرح تقسیم ہوئی ہیں کہ ہر انسان میں استعدادکا ایک حصہ پایا جاتا ہے یعنی بہت ہی کم لوگ ایسے ملیں گے کہ یہ تمام چیزیں ان میں جمع ہوں، ایک انسان، جسمانی طاقت سے سرفرازہے تو دوسرا علم حساب میں بہترین استعداد کا مالک ہے، کسی انسان میں شعرکہنے کی صلاحیت ہوتی ہے تو دوسرے میں تجارت کا سلیقہ پایاجاتا ہے، بعض میں زراعتی امور انجام دینے کی طاقت پائی جاتی ہے، اور بعض دوسرے لوگوں میں دوسری مخصوص صلاحتیں ہوتی ہیں، اہم بات یہ ہے کہ معاشرہ یا انسان اپنی صلاحیت کوبروئے کار لائے اور صحیح ماحول میں اس کی پرورش کرے تاکہ ہر انسان اپنی صلاحیت کو ظاہر کرسکے اور اس سے حتی الامکان سرفرازہوسکے۔
۳۔ اس نکتہ پر بھی توجہ کرنی چاہئے کہ ایک معاشرہ کے لئے انسانی بدن کی طرح مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اگر ایک بدن کے تمام اعضا اور خلیے (Cells)ظریف اور لطیف ہوں گے جیسے آنکھ، کان اور مغز وغیرہ کے خلیے تو انسان میں دوام پیدا نہیں ہوسکے گا، یا اگر انسانی جسم کے تمام اعضا نرم نہ ہوں بلکہ ہڈیوں کے خلیوں کی طرح سخت ہوں تو وہ مختلف کاموں کے لئے بے کار ہیں(اور اس صورت میں انسان زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتا) بلکہ انسان کے جسم کے لئے مختلف خُلیوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک عضو میں سننے کی صلاحیت ہوتی ہے تو دوسرے میں دیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے زبان سے گفتگو کی جاتی ہے، پیروں سے ادھر ادھر جانا ہوتا ہے، لہٰذا جس طرح انسان کے لئے مختلف اعضا و جوارح کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک ”عمدہ معاشرہ“ کے لئے مختلف صلاحیتوں اور استعداد کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سے بعض لوگ بدنی طور پر کام کریں اوربعض لوگ علمی اور غور و فکر کا کام انجام دیں، لیکن یہ نہیں کہ معاشرہ میں کچھ لوگ غربت اور پریشانی کی زندگی بسر کریں، یا ان کی خدمات کو اہمیت نہ دی جائے یا ان کو ذلت کی نگاہ سے دیکھا جائے ، جس طرح سے انسانی اعضا و جوارح اپنے تمام تر فرق کے باوجود ہر قسم کی غذا اور دوسری ضرروتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انسان میں روحی اور جسمی طبیعی اختلاف خداوندعالم کی حکمت کے عین مطابق ہے اور خداوندعالم کی عدالت، حکمت سے کبھی جدا نہیں ہوتی ، مثال کے طور پر اگر انسان کے تمام اعضا ایک ہی طرح کے خلق کئے جاتے تو اس کی حکمت کے منافی تھااور یہ عدالت نہ ہوتی، جبکہ عدالت کے معنی ہر چیز کو اس کی جگہ پر قرار دینے کے ہیں، اسی طرح اگر معاشرہ کے تمام لوگ ایک روز ایک ہی بات سوچیں اور ایک دوسرے کی استعداد برابر ہوجائے تو اسی ایک دن میں معاشرہ کی حالت درہم و برہم ہوجائے گی! [2]
اکثر اوقات عوام الناس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟
(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ ”ہشام بن حکم“ کہتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:
<اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ> [1]
”وہ رحمن عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے“۔
امام علیہ السلام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔
سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نہیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟!
اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نہیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔ [2]
اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”اذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیہِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ“ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ“۔
اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم سب جگہ موجود نہیں ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! سب جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کوکیوں اٹھائیں؟
اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی:
<وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ> [3]
” اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سبب کچھ موجودہے)“۔
ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق ہوجاتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰہی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی دعا کی جاتی ہے۔
بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ہم کسی شخص یا کسی شئے کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔ [4]
[1] . سورہ طٰہ ، آیت ۵․
[2] . (1) بحار الانوار ، جلد ۳، صفحہ ۳۳۰․ توحید صدوق ، صفحہ ۲۴۸، حدیث۱، باب۳۶ ”باب الرد علی الثنویة والزنادقة“
[3] . سورہ ذاریات آیت ۲۲․
[4] . تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۲۷۰․
(قارئین کرام!) پہلے ہی یہ نکتہ عرض کردینا ضروری ہے کہ توسل سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان پیامبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام سے مستقل طور پر کوئی چیز طلب کرے بلکہ توسل سے مراد یہ ہے کہ اعمال صالحہ یا پیغمبر اور امام کی اطاعت و پیروی کے ذریعہ یا ان حضرات کی شفاعت یا خداوندعالم کو ان حضرات کے عظیم مرتبہ کی قسم دے کر( جو خود ایک طرح سے ان کی عظمت اور بلندی کا احترام کرنا ہے اور ایک طرح سے خداکی عبادت ہے) خداوندعالم سے کوئی چیز مانگی جائے تو اس میں نہ کسی طرح کا کوئی شرک ہے اور نہ ہی یہ قرآنی آیات کے مخالف ہے۔
اس کے علاوہ قرآنی آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم کو کسی صالح اور نیک انسان کی عظمت کا واسطہ دے کر اس سے کوئی چیز طلب کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور توحید خدا سے بھی منافی نہیں ہے، جیسا کہ سورہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے: <وَلَوْ اٴَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَہُمْ جَاوٴُکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا> [1]
”اور کا ش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے“۔
توسل اور اسلامی روایات
توسل کے سلسلہ میں اہل سنت اور شیعہ کتابوں میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں جن سے مکمل طور پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ توسل اور وسیلہ قرار دینے میں کوئی اشکال نہیں پایا جاتا، بلکہ ایک نیک کام ہے، اس سلسلہ میں بہت زیادہ روایات ہیں اور بہت سی کتابوں میں نقل بھی ہوئی ہیں، ہم نمونہ کے طور پراہل سنت کی مشہور و معروف کتابوں سے چند روایات کو نقل کرتے ہیں:
۱۔ مشہور ومعروف سنی عالم دین ”سمہودی“ اپنی کتاب ”وفاء الوفاء“ میں رقمطراز ہیں: پیغمبر اکرم (ص) یا آپ کی عظمت و بزرگی کے واسطہ سے خدا کی بارگاہ میں مدد طلب کرنا، شفاعت چاہنا ، آنحضرت کی خلقت سے پہلے بھی جائز تھا ،آپکی پیدائش کے بعد اور آپکی وفات کے بعد ، عالم برزخ اور روز قیامت میں بھی جائز ہے، اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص) سے توسل کیا: جناب آدم علیہ السلام پیغمبر اکرم کی خلقت کے بارے میں علم حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ہیں:
”یَا ربِّ اٴسئلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفرتَ لِی“[2]
”پالنے والے! تجھے محمد( (ص) )کا واسطہ، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف کردے“۔
اس کے بعد اہل سنت کے مشہور و معروف دانشوروں جیسے ”نسائی“ اور ”ترمذی“ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں او ر اس کو توسل کے جواز پر شاہد کے عنوان سے نقل کرتے ہیں، جس حدیث کا
خلاصہ یہ ہے:ایک نابینا شخص نے پیغمبر اکرم (ص) سے اپنی بیماری کی شفاء کے لئے درخواست کی تو پیغمبر اکرم (ص) نے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو:
”اَللَّھُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّہُ إلَیْکَ بِنَیِّکَ مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی تَوجھتُ بِکَ إلیٰ ربّي فِی حَاجَتِی لِتقضی لِي اٴللَّھُمَّ شَفِّعْہُ فِيّ“[3]
”پالنے والے! تیرے پیغمبر رحمت کے واسطہ سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں اور اے محمد! آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور آپ ہی کے واسطہ سے اپنی حاجت روائی کے لئے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں، پالنے والے! آنحضرت ( (ص)) کو میرا شفیع قرار دے“۔
اس کے بعد پیغمبراکرم (ص) کی وفات کے بعد توسل کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے یوں بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان کے زمانہ میں ایک حاجت مند پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کے نزدیک آیا اور اس نے نماز پڑھی اور اس طرح دعا کرنے لگا:
”اَللَّھُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّہُ إلَیْکَبِنَبِیِّنَا مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی اٴتوجہ إلیٰ رَبکَ اَنْ تَقْضي حَاجَتِي“[4]
”پالنے والے! تیری بارگاہ میں پیغمبر اکرم( (ص) )، پیغمبر رحمت کے وسیلہ سے درخواست کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! آپ کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری مشکل آسان ہوجائے“۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس کی مشکل آسان ہوگئی۔ [5]
۲۔ ”التوصل الی حقیقة التوسل“ کے موٴلف مختلف منابع و مآخذ سے ۲۶/ احادیث نقل کرتے
ہیں جن سے توسل کا جائز ہونا سمجھ میں آتا ہے، اگرچہ موصوف نے ان احادیث کی سند میں اشکال کرنا چاہا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ جب روایات زیادہ ہوجاتی ہیں اور تواتر [6] کی حد تک پہنچ جاتی ہیں تو پھر سند میں اشکال و اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی، اور مخفی نہ رہے کہ توسل کے سلسلہ میں احادیث تواتر کی حد سے بھی زیادہ ہیں، ان کی نقل کی ہوئی روایات میں سے ایک یہ ہے:
”ابن حجر مکی“ اپنی کتاب ”الصواعق المحرقہ“ میں اہل سنت کے مشہور و معروف”امام شافعی“ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے اہل بیت پیغمبر سے توسل کیا اور اس طرح کہا:
آل النَبِيّ ذَریعَتِي وَھُمْ إلَیہ وَسیلتي
اٴرْجُوْبِھمْ اٴعطي غَداً ِبیَدِ الیَمِینِ صَحِیفَتِي [7]”آل پیغمبر میرا وسیلہ ہیں ، اور وہی خدا کی بارگاہ میں میرے لئے باعث تقرب ہیں “
” میں امیدوار ہوں کہ ان کے وسیلہ سے میرا نامہ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دیا جائے“
اسی طرح ”بیہقی“ بھی نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانہ میں قحط پڑا، جناب بلال چند اصحاب کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک پر آئے اور اس طرح عرض کی:
”یَا رَسُولَ الله استسق لاٴمّتک ․․․ فَإنَّہُم قَد ہَلَکُوا ․․․“ [8]”یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے باران رحمت طلب فرمائیے ․․․ کیونکہ آپ کی امت ہلاک ہوا چاہتی ہے“۔ یہاں تک کہ ابن حجر اپنی کتاب ”الخیرات الحسان“ میں نقل کرتے ہیں کہ ”امام شافعی“ بغداد میں قیام کے دوران ”ابو حنیفہ“کی زیارت کے لئے جاتے تھے، اور اپنی حاجتوں میں ان کو وسیلہ بناتے تھے اور ان سے متوسل ہوتے تھے۔ [9]
نیز ”صحیح دارمی“ میں ”ابی الجوزاء“ سے نقل ہوا ہے کہ ایک سال مدینہ میں بہت سخت قحط پڑگیا، بعض افراد جناب عائشہ کی خدمت میں جاکر شکایت کرنے لگے، اور ان سے درخواست کی کہ قبر پیغمبر کی چھت میں سوراخ کردیا جائے تاکہ قبر پیغمبر کی برکت سے خداوندعالم باران رحمت نازل فرمادے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اس وقت بہت زیادہ بارش ہوئی!
تفسیر ”آلوسی“ میں اس سلسلہ میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں اور پھر ان احادیث کا مفصل طریقہ سے تجزیہ و تحلیل کرنے کے بعد اور مذکورہ احادیث میں بہت سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد ان کا اعتراف کرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں:
”اس گفتگو کے تمام ہونے کے بعد میرے نزدیک کوئی مانع نہیں ہے کہ خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص) کو وسیلہ قرار دیا جائے، چاہے پیغمبر اکرم کی زندگی میں ہو یا آنحضرت کے انتقال کے بعد “ موصوف اس سلسلہ میں کافی بحث کرنے کے بعد مزید فرماتے ہیں: ”خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر کے علاوہ کسی دوسرے سے توسل کرنے میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پیغمبر کے علاوہ جس کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنایا جائے اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بلند و بالا ہو۔ [10]
لیکن شیعہ منابع و مآخذ میں وسیلہ اور توسل کا موضوع اس قدر واضح ہے کہ اس کو بیان کرنے کی (بھی) ضرورت نہیں ہے۔
چند ضروری نکات:
(قارئین کرام!) یہاں پر چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:
۱۔ توسل اور وسیلہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ معصومین علیہم السلام سے کوئی شخص اپنی حاجات طلب کرے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی عظمت اور بلندی کے ذریعہ متوسل ہو، اور یہ کام درحقیقت خداو ندعالم کی طرف توجہ کرنا ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) کا احترام بھی خداکی وجہ سے ہے کہ آپ خدا کے رسول ہیں، اس کی راہ پر چلے، ان باتوں کے باوجود ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو اس طرح کے توسل کو شرک کی ایک قسم کہہ دیتے ہیں جبکہ شرک یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کے اعمال میں کسی کو شریک مانیں ، جبکہ اس طرح کا توسل شرک سے کوئی شباہت نہیں رکھتا۔
۲۔ بعض لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کی حیات اور وفات میں فرق قراردیں ، حالانکہ مذکورہ روایات جن میں بہت سی روایات وفات کے بارے میں ہیں؛ لہٰذا ان کے پیش نظر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء اور صالحین وفات کے بعد ”برزخی حیات “ رکھتے ہیں جو کہ دنیاوی زندگی سے وسیع تر ہے جیسا کہ شہداء کے بارے میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ ان کو مردہ تصور نہ کرو وہ زندہ ہیں اور خدا کی طرف سے رزق پاتے ہیں۔ [11]
۳۔ بعض لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) سے دعا کی درخواست اور خدا کی بارگا ہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے میں فرق ہے، لہٰذا دعا کی درخواست کو جائز اور خدا کی بارگاہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے کو حرام جانتے ہیں، حالانکہ ان دونوں کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی منطقی فرق دکھائی نہیں دیتا۔
۴۔ بعض علمائے اہل سنت خصوصاً ”وہابی علماء“ اپنی خاص ہٹ دھرمی کی بنا پر کوشش کرتے ہیں کہ وسیلہ اور توسل کے بارے میں بیان ہونے والی تمام احادیث کو ضعیف اور کمزور ثابت کرڈالیں، اس سلسلہ میں بے بنیاد اعتراضات کرتے ہیں جو درحقیقت بہت پرانے ہوچکے ہیں، جن کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ایک انصاف پسند انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ ان لوگوں نے پہلے اپنا عقیدہ معین کرلیا ہے اور پھر اپنے عقیدہ کو اسلامی روایات پر ”تھوپنا“ چاہتے ہیں، اور ایسا ہی کرتے ہیں اور جو کچھ ان کے عقیدہ کے خلاف ہوتا ہے اس کو چھوڑدیتے ہیں، جبکہ ایک تحقیق کرنے والا محقق انسان اس طرح کی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو قبول نہیں کرسکتا۔
۵۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ توسل کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات حدّ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں، یعنی اس قدر ہیں کہ ان کی سند میں بحث کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، اس کے علاوہ ان کے درمیان بہت زیادہ صحیح روایات بھی ہیں، لہٰذا ان کی اسناد میں اعتراض و اشکال کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
۶۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیہٴ شریفہ کے ذیل میں بیان ہونے والی روایات کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے اصحاب سے فرمایا: ”خداوندعالم سے میرے لئے ”وسیلہ“ طلب کرو“ یا جیسا کہ اصول کافی میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ بہشت میں وسیلہ سب سے بلند و بالا مقام ہے، اور جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے؛ ان کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہم نے بارہا عرض کیا ہے کہ ہر طرح کے تقربِ خدا پر ”وسیلہ“ صادق آتا ہے اور پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعے تقرب خداحاصل کرنے کانام وسیلہ ہے جو کہ جنت میں سب سے بلند و بالا مقام ہے ۔ [12]
[1] . سورہ نساء ، آیت ۶۴․
[2] . وفاء الوفاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷۱۔ کتاب (التوصل الی حقیقة التوسل میں ، صفحہ ۲۱۵، مذکورہ حدیث کو -” دلائل النبوة“ میں بیہقی نے بھی نقل کیا ہے․
[3] . . وفاء الوفاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷۱۔ کتاب (التوصل الی حقیقة التوسل میں ، صفحہ ۲۱۵، مذکورہ حدیث کو -” دلائل النبوة“ میں بیہقی نے بھی نقل کیا ہے․
[4] . وفاء الوفاء ،صفحہ۱۳۷۲․
[5] . وفاء الوفاء ، صفحہ ۱۳۷۳․
[6] . (1) علم حدیث میں ”حدیث تواتر“ اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے راویوں کی تعداد اس حد تک ہو کہ ان کی ایک ساتھ جمع ہوکر سازش کا قابل اعتماد احتمال نہ ہو․ (مترجم)"
[7] . التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۲۹․
[8] . التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۵۳․
[9] . التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۳۱․
[10] . روح المعانی ، جلد ۴۔۶، صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۵․
[11] . سورہٴ آل عمران ، آیت۱۶۹․
[12] . تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۳۶۶․
جیسا کہ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں: < یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اٴُمُّ الْکِتَابِ> [1]”اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے“۔
مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوندعالم کے سلسلہ میں ”بداء“ سے کیا مراد ہے؟
”بداء“ کا مسئلہ شیعہ و سنی علماکے درمیان ہونے والی معرکة الآراء بحثوں میں ایک اہم بحث ہے، چنانچہ علامہ فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں محل بحث آیت کے ذیل میں کہتے ہیں: ”شیعہ ؛خداوندعالم کے لئے ”بداء“ کو جائز مانتے ہیں، اور ان کے نزدیک بداء کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی چیز کا معتقد ہوجائے لیکن اس کے بعد معلوم ہو کہ وہ چیزاس کے عقیدہ کے برخلاف ہے اور پھر اس سے پھر جائے، اور شیعہ لوگ اپنے اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے آیہٴ مبارکہ < یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اٴُمُّ الْکِتَابِ> سے استدلال کرتے ہیں، اس کے بعد فخر رازی مزید کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ باطل اور بے بنیاد ہے، کیونکہ خداوندعالم کا علم ذاتی ہے جس میں تغیر و تبدیلی محال ہے“۔
افسوس کی بات ہے کہ ”بداء“ کے سلسلہ میں شیعوں کے عقیدہ سے مطلع نہ ہونا اس بات کا سبب بنا کہ بہت سے برادران اہل سنت، شیعہ حضرات پر اس طرح کی ناروا تہمتیں لگائیں!
وضاحت: لغت میں ”بداء“ کے معنی واضح یا آشکار ہونے کے ہیں، البتہ پشیمان ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے، کیونکہ جو شخص پشیمان ہوتا ہے اس کے لئے کوئی نئی بات سامنے آتی ہے (تب ہی وہ گزشتہ بات پر پشیمان ہوتا ہے)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان معنی میں ”بداء“ خداوندعالم کے بارے میں صحیح نہیں ہے، اور کوئی بھی عاقل انسان خدا کے بارے میں یہ احتمال نہیں دے سکتا کہ اس سے کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ ہو، اور ایک مدت گزرنے کے بعد خدا کے لئے وہ چیز واضح ہوجائے، اصولاً یہ چیز کھلا ہوا کفر اور خدا کے بارے میں بہت بُری بات ہے، کیونکہ اس سے خداوندعالم کی ذات پاک کی طرف جہل و نادانی کی نسبت دینا اور اس کی ذات اقدس کو محل تغیر و حوادث ماننا لازم آتاہے، لہٰذا ہر گزایسا نہیں ہے کہ شیعہ اثنا عشری خداوندعالم کی ذات مقدس کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہوں۔
”بداء“ کے سلسلہ میں شیعوں کا جو عقیدہ ہے اور جس بات پر وہ زور دیتے ہیں وہ یہ ہے جیسا کہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث میں بیان ہوا ہے :”مَاعَرفَ اللهُ حَقّ معرفتِہ مَنْ لَمْ یعرفہُ بِالبداءِ“ (جو شخص خدا کو ”بداء“ کے ذریعہ سے نہ پہچانے اس نے خدا کو صحیح طریقہ سے نہیں پہچانا) چنانچہ ”بداء“ کے سلسلہ میں اس حدیث کے مطابق شیعوں کا یہی عقیدہ ہے:
اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ظاہری اسباب و علل کے پیش نظر ہم کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے، یا خداوندعالم نے کسی واقعہ کے بارے میں اپنے نبی یا رسول کے ذریعہ آگاہ فرمایا دیا تھا لیکن بعد میں وہ واقعہ پیش نہیں آیاتو، ایسے موقع پر ہم کہتے ہیں کہ ”بداء“ حاصل ہوا، یعنی جیسا کہ ظاہری اسباب و علل کے لحاظ سے کسی واقعہ کے بارے میں احساس کررہے تھے اور اس واقعہ کے وقوع کو لازمی اور ضروری سمجھ رہے تھے ایسا نہ ہو بلکہ اس کے خلاف ظاہر ہو۔
اس کی اصلی علت یہ ہے کہ کبھی کبھی ہمیں صرف علت ناقصہ کا علم ہوتا ہے، اور ہم اس کے شرائط و موانع کو نہیں دیکھ پاتے، اسی لحاظ سے فیصلہ کربیٹھتے ہیں، بعد میں اس کی شرط حاصل نہ ہو یا کوئی مانع اور رکاوٹ پیش آجائے اور ہمارے فیصلہ کے برخلاف مسئلہ پیش آئے تو اس طرح کے مسائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
اسی طرح بعض اوقات پیغمبر یا امام ”لوح محو و اثبات“ سے مطلع ہوتے ہیں جوطبیعی طور پر قابل تغیر و تبدل ہے ، اور کبھی بعض موانع کی بناپریا شرط کے نہ ہونے سے وہ واقعہ پیش نہیں آتا۔
اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے ہم ”نسخ“ اور ”بداء“ کے درمیان ایک موازنہ کرتے ہیں: ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ ”نسخِ احکام “ تمام مسلمانوں کی نظر میں جائز ہے، یعنی یہ بات ممکن ہے کہ کوئی حکم گزشتہ شریعت میں نازل ہوا ہو اور لوگوں کو بھی اس بات کا یقین ہو کہ یہ حکم ہمیشہ باقی رہے گا لیکن ایک مدت کے بعد پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعہ وہ حکم منسوخ ہوجائے ، اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم آجائے، (جیسا کہ تفسیر، فقہ اور تاریخی کتابوں میں ”تحویل وتبدیل قبلہ“ کا واقعہ موجود ہے)۔
در اصل یہ (نسخ) بھی ایک قسم کا ”بداء“ ہے، لیکن تشریعی امورمیں، قوانین اورا حکام میں ”نسخ“ کہا جاتا ہے، جبکہ تکوینی امورمیں اسی کو ”بداء“ کہا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے بعض اوقات کہا جاتا ہے: ”احکام میں نسخ ایک قسم کا ”بداء“ ہے، اور تکوینی امورمیں”بداء“ ایک قسم کا نسخ ہے“۔
کیا کوئی اس منطقی بات کا انکار کرسکتا ہے؟ صرف وہی اس بات کا انکار کرسکتا ہے جو علت تامہ اور علت ناقصہ کو صحیح طور پر سمجھ نہ سکے، یا شیعہ مخالف گروپ کے غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہو ، اور اس کا تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہو کہ شیعہ عقائد کے سلسلہ میں شیعہ کتابوں کا مطالعہ نہ کرسکے، تعجب کی بات یہ ہے کہ فخر رازی نے < یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ اٴُمُّ الْکِتَابِ>کے ذیل میں بداء کے مسئلہ کو بیان کیا ہے لیکن اس بات پر ذرا بھی توجہ نہیں وی کہ بداء ”محو و اثبات“ کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے، اپنے مخصوص تعصب کی بنا پر شیعوں کونشانہ بنایا ہے کہ شیعہ کیوں ”بداء“ کے قائل ہیں؟
(قارئین کرام!) آپ حضرات کی اجازت سے ہم چند ایسے نمونہ بیان کرتے ہیں جن کوسبھی نے قبول کیا ہے۔
۱۔ ہم جناب یونس علیہ السلام کے واقعہ میں پڑھتے ہیں کہ آپ کی قوم کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب الٰہی طے ہوگیا، اور جناب یونس علیہ السلام جو اپنی قوم کو قابل ہدایت نہیں جانتے تھے اور ان کو مستحق عذاب جانتے تھے لہٰذا وہ بھی ان کو چھوڑ کر چلے گئے، لیکن اچانک (بداء واقع ہوا) اس قوم کی ایک بزرگ شخصیت نے عذاب الٰہی کے آثار دیکھے تو اپنی قوم کو جمع کیا اور ان کو توبہ کی دعوت دی، سب لوگوں نے توبہ کرلی، ادھر عذاب الٰہی کے جو آثار ظاہر ہوچکے تھے ختم ہوگئے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
< فَلَوْلاَکَانَتْ قَرْیَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَہَا إِیمَانُہَا إِلاَّ قَوْمَ یُونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنَاہُمْ إِلَی حِینٍ> [2]
”پس کوئی بستی ایسی کیوں نہیںہے جو ایمان لے آئے اور اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچائے ،علاوہ قوم یونس کے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو ہم نے ان سے زندگانی دنیا میں رسوائی کا عذاب دفع کردیا اور انھیں ایک مدت تک سکون سے رہنے دیا“۔
۲۔ اسلامی تواریخ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک دلہن کے بارے میں خبر دی تھی کہ وہ شبِ وصال ہی مرجائے گی لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے برخلاف وہ دلہن زندہ رہی! جس وقت اس سے تفصیل معلوم کی اور سوال کیا: کیا تو نے راہ خدا میں صدقہ دیا
ہے؟ تو اس نے کہا: ہاں، میں نے صدقہ دیا تھا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: صدقہ، یقینی بلاؤں کو بھی دور کردیتا ہے! [3]
در اصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوح محفوظ سے باخبر تھے جس کی بنا پر انھوں نے اس واقعہ کی خبر دی تھی، جبکہ یہ واقعہ اس شرط پر موقوف تھا (کہ اس راہ میں کوئی مانع پیش نہ آئے مثال کے طور پر”صدقہ“) لیکن جیسے ہی اس راہ میں مانع پیش آگیا تو فوراً نتیجہ بھی بدل گیا۔
۳۔ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام بت شکن بہادر کے واقعہ کو قرآن میں پڑھتے ہیں کہ انھیں اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا، لہٰذا وہ اس حکم کی تعمیل کے لئے اپنے فرزند ارجمند کو قربانگاہ میں لے گئے، لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل تیاری واضح ہوگئی تو ”بداء“ ہوگیا، اور یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ ایک امتحانی حکم تھا، تاکہ جناب ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فزرند ارجمند کی اطاعت و تسلیم کی حد کو آزمایا جاسکے۔
۴۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی بیان ہوا ہے کہ پہلے انھیں حکم دیا گیا کہ تیس دن تک کے لئے اپنی قوم کوچھوڑ دیں اور احکام توریت حاصل کرنے کے لئے الٰہی وعدہ گاہ پر جائیں، لیکن بعد میں اس مدت میں دس دن کا اور اضافہ کیا (تاکہ بنی اسرائیل کی آزمائش ہوسکے)
(قارئین کرام!) یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ”بداء“ کا فائدہ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب گزشتہ مطالب کے پیش نظر کوئی مشکل کام نہیں ہے، کیونکہ کبھی کبھی اہم مسائل جیسے کسی شخص یا قوم و ملت کا امتحان، یا توبہ و استغفار کی تاثیر(جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ میں بیان ہوا ہے) یا صدقہ ، غریبوں کی مدد کرنا یا نیک کام انجام دینا یہ سب خطرناک واقعات کو برطرف کرنے میں موثر ہوتے ہیں ، یہ امور باعث بنتے ہیں کہ آئندہ کے وہ حادثات جو پھلے دوسرے طریقہ سے طے ہوتے ہیں لیکن بعد میں خاص شرائط کے تحت ان کو بدل دیا جاتا ہے تاکہ عام لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی زندگی کے حالات ان کے ہاتھوں میں ہے، اور اپنے چال چلن اور راہ و روش کو تبدیل کرکے اپنی زندگی کے حالات بدل سکتے ہیں، اور یہی ”بداء“ کا سب سے بڑا فائدہ ہے․ (غور کیجئے)
جیسا کہ ہم نے گزشتہ حدیث میں پڑھا ہے کہ ”جو شخص خدا کو ”بداء“ کے ذریعہ سے نہ پہچانے اس نے خدا کو صحیح طریقہ سے نہیں پہچانا“ اس حدیث میں انھیں حقائق کی طرف اشارہ ہے۔
لہٰذا حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
”مَا بَعَثَ اللهعزَّ وَجَلَّ نَبِیًّا حَتّٰی یاٴخذ ُعلَیہِ ثلاثُ خِصَالٍ، الإقرار بالعبودیة، وَخلع الاٴنداد ،وإنَّ الله یقدِّم مَا یَشاءُ وَیوٴخِّرُ مَا یشاءُ“[4]
”خداوندعالم نے کسی نبی یا پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان سے تین چیزوں کے بارے میں عہد و پیمان لیا: خداوندعالم کی بندگی کا اقرار، ہر طرح کے شرک کی نفی، اور یہ کہ خداوندعالم جس چیز کو چاہے مقدم و موخر کرے“۔
در اصل سب سے پہلا عہد و پیمان خداوندعالم کی اطاعت اور اس کے سامنے تسلیم رہنے سے متعلق ہے، اور دوسرا عہد و پیمان شرک سے مقابلہ ہے اور تیسرا عہد و پیمان ”بداء“ سے متعلق ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی سرگزشت خود اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے یعنی اگرانسان اپنی زندگی کے حالات اور شرائط کو بدل دے تو اس پر یا رحمت خدا نازل ہوتی ہے یا وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوتا ہے۔
(قارئین کرام!) آخر کلام میں عرض کیا جائے، گزشتہ وجوہات کی بنا پر علمائے شیعہ کہتے ہیں کہ جس ”بداء“کی نسبت خداوندعالم کی طرف دی جاتی ہے تو اس کے معنی ”ابداء“ کے ہیں یعنی کسی
چیز کو واضح اور ظاہر کرنا جو کہ پہلے ظاہر نہیں تھی اور اس کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کی گئی تھی۔ لیکن شیعوں کی طرف یہ نسبت دینا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کبھی کبھی اپنے کاموں پر پشیمان اور شرمندہ ہوجاتا ہے یا بعد میں ایسی چیز سے باخبر ہوتا ہے جو پہلے معلوم نہ ہو، تو یہ سب سے بڑا ظلم و خیانت ہے اور ایک ایسی تہمت ہے جس کو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔
اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوا ہے:
”مَنْ زَعَمَ اٴَنَّ اللهَ عزَّ وَجَلَّ یبدو لَہُ فِی شَیءٍ لَمْ یعلمُہُ اٴمس فابرؤا منہ“([5] )[6]
”جو شخص گمان کرے کہ خداوندعالم کے لئے آج وہ چیز واضح و آشکار ہوگئی ہے جو کل واضح نہیں تھی تو ایسے شخص سے نفرت اور بیزاری اختیار کرو“۔
[1] . سورہ رعد ، آیت ۳۹ ․
[2] . سورہ یونس ، آیت ۹۸․
[3] ۔ بحار الانوار ،، جلد ۲ ، صفحہ ۱۳۱، ۔چاپ قدیم ،از امالی شیخ صدوق
[4] ۔ اصول کافی ، جلد اول، صفحہ ۱۱۴، سفینة البحار ، جلد اول، صفحہ ۶۱․
[5] . سفینة البحار ، جلداول، صفحہ ۶۱․
[6] . تفسیر نمونہ ، جلد۱۰، صفحہ ۲۴۵․
بعض عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خداوندعالم ”عیسیٰ مسیح“ میں حلول کئے ہوئے ہے، اور بعض صوفی لوگ بھی اپنے پیرو مرشد کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خداوندعالم ان میں حلول کئے ہوئے ہے۔
کتاب ”کشف المراد“ میں علامہ حلّی علیہ الرحمہ کے قول کے مطابق اس عقیدہ کے باطل و بے بنیاد ہونے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں ہے، کیونکہ حلول سے جو چیز تصور کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک موجود دوسرے موجود کے ذریعہ قائم ہو، (مثال کے طور پر کہاجا ئے کہ گلاب کے پھول میں خوشبو حلول کئے ہوئے ہے) ، مسلم طور پر خداوندعالم کے سلسلہ میں یہ معنی قابل تصور نہیں ہیں، کیونکہ اس کا لازمہ مکان، نیاز اور ضرورت ہے جو ”واجب الوجود“کے لئے ”غیر ممکن“ ہے، اور جو لوگ خداوندعالم کے حلول کے معتقد ہیں آخر کار وہ شرک میں گرفتار ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔
تصوّف اور اتحاد و حلول کا مسئلہ
مرحوم علامہ حلّی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”نہج الحق“ میں فرماتے ہیں کہ کسی دوسری چیز میں خداوندعالم کااس طرح سے حلو ل کرنا کہ دونوں شئی ایک چیز بن جائیں، یہ عقیدہ باطل ہے،اور اس کا باطل و بے بنیاد ہونا بالکل واضح ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں: ”اہل سنت کے صوفیہ فرقہ نے اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی مخالفت کی ہے، اور کہتے ہیں کہ خداوندعالم، عرفاء کے بدن میں حلول کرجاتا ہے!! یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ کہتے ہیں: خداوندعالم عین موجودات ہے، اور ہر موجود خدا ہے، (وحدت مصداقی وجود کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہے) ، اس کے بعد علامہ موصوف فرماتے ہیں: یہ عقیدہ عین کفر و دہریت ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے اس باطل عقیدہ سے دور رکھا ہے“۔
علامہ موصوف ”حلول“ کی بحث میں فرماتے ہیں:”یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ اگر کوئی چیز کسی چیز میں حلول کرنا چاہے تو اس کو ”محل“ کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ خداوندعالم واجب الوجود ہے اور اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا اس کا کسی چیز میں حلول کرنا غیر ممکن ہے“ اس کے بعد فرماتے ہیں: ”اہل سنت کے صوفیہ فرقہ نے اس سلسلہ میں مخالفت کی ہے، اور خداوندعالم کے حلول کو، عرفاء کے بدن میں ممکن شمار کرتے ہیں“ اس کے بعد علامہ موصوف ان لوگوں کی بہت زیادہ مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم نے خود صوفیہ کے ایگ گروہ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہٴ مبارک میں دیکھا ہے کہ ایک شخص کے علاوہ سب نے نماز مغرب پڑھی، اس کے بعدسبھی نے نماز عشاء پڑھی سوائے اسی ایک شخص کے، چنانچہ وہ یونہی بیٹھا رہا!!
ہم نے سوال کیا کہ اس نے نمازکیوں نہیں پڑھی؟ تو جواب دیا کہ اس کو نماز کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو خدا سے پیوستہ ہے! کیا یہ بات جائز ہے کہ خدا اور اس کے درمیان کوئی چیز پردہ بن جائے، نماز ان کے اور خدا کے درمیان ایک پردہ ہے![1] یہی معنی ”مثنوی “کی پانچویں جلد میں ایک دوسری طرح پیش کئے گئے ہیں: جب تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو وہی حقیقت ہے، اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے:
لَو ظَھرتْ الحقائقُ بَطَلَتِ الشّرائعُ“
”جب حقائق ظاہر ہوجاتے ہیں تو شریعتیں باطل ہوجاتی ہیں“۔
اس کے بعد شریعت کو علم کیمیا سے مشابہ قرار دیا ہے ( جس علم کے ذریعہ تانباکو سونے میں تبدیل کیا جاتا ہے) اور کہا ہے: جو چیز اصل میں ہی سونا ہے ، یا سونا بن چکا ہے تو اسے علم کیمیا کی کیا ضرورت ہے؟! جیسا کہ کہتے ہیں: ”طَلبُ الدَلیلِ بعدَ الوُصُولِ إلیٰ المدلولِ قبیحٌ!“[2]
”منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد دلیل طلب کرنا قبیح اور برا ہے“۔
کتاب ”دلائل الصدق“ شرح ”نہج الحق“ میں بھی ”صاحب مواقف“ سے نقل کیا گیا ہے کہ نفی ”حلول“ اور ”اتحاد“ کے سلسلہ میں مخالفوں کے تین گروپ ہیں، اس کے بعد دوسرے گروہ کے بعض صوفیوں کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی باتیں حلول و اتحاد کے بارے میں مردد ہیں، ( حلول سے مراد خداوندعالم کا کسی چیز میں نفوذ کرنا ہے، اور اتحاد و وحدت سے مراد خدا اور دوسری چیزوں کا ایک ہوجانا ہے)
اس کے بعد موصوف مزید فرماتے ہیں: ہم نے بعض ”صوفیہ وجودیہ“ کو دیکھا ہے جو حلول و اتحاد کا انکار کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں الفاظ خدا اور مخلوق میں مغایرت (جدائی) کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ہم اس چیز کے قائل نہیں ہیں! بلکہ ہماراکہنا یہ ہے :
”لَیسَ فِی دارِالوجودِ غیرہُ دیّار“، (وجود کی وادی میں اس کے علاوہ کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے)“!
اس موقع پر صاحب مواقف کہتے ہیں کہ یہ عذر،گناہ سے بھی بدتر ہے۔ [3]
البتہ اس سلسلہ میں صوفیوں کی بہت سی بے تُکی باتیں ہیں جو نہ اصول و منطق سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی شریعت کے موافق۔
بہر حال دو چیزوں کے درمیان حقیقی ”اتحاد “ محال اور ناممکن ہے جیساکہ ”علامہ مرحوم“ نے بیان فرمایا ہے چونکہ یہ بات بالکل تضاد اورٹکراؤ پر مشتمل ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ دو چیزیں ایک ہوجائیں، اس کے علاوہ اگر کوئی خدا کا دوسری مخلوق بالخصوص عارفوں سے اتحاد کے عقیدہ کا قائل ہو، تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوندعالم میں ممکنات کے صفات پائے جائیں جیسے زمان و مکان اور تغیر وغیرہ۔
اور اسی طرح خداوندعالم کا دوسری چیزوں میں ”حلول“ کا لازمہ بھی زمان و مکان ہے جبکہ یہ چیزیں خداوندعالم کے واجب الوجود ہونے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ [4] اصولی طور پر خود صوفی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ اس طرح کی باتوں کو عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا، اور غالباً اپنے راستہ کو عقلی راستہ سے الگ کرلیتے ہیں، اور اس سلسلہ میں اپنی مرضی جس کو ”راہ دل“ کہتے ہیں اس کے ذریعہ اپنے عقائد کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، اور مسلّم طور پر اگر کوئی عقلی منطق کو نہ مانے تو اس سے اس طرح کی ضد و نقیض باتوں کے علاوہ اور کوئی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ تاریخ میں بڑے بڑے علمائے کرام نے ان لوگوں سے دوری اختیار کی ہے، اور ان کو اپنے سے دور رکھا ہے۔
قرآن کریم نے بہت سی آیات میں عقل و برہان اور غور وخوض کے بارے میں توجہ دلائی ہے اور اسی کو ”معرفة اللہ“ کا راستہ بتایا ہے۔ [5]
[1] . نہج الحق ، ص۵۸ و۵۹․
[2] . دفترپنجم مثنوی ص۸۱۸،طبع سپہر ، تہران․
[3] . دلائل الصدق ، جلد اول، صفحہ ۱۳۷․
[4] . قابل توجہ بات یہ ہے کہ حلول واتحاد کے باطل ہونے کے سلسلہ میں علامہ حلی علیہ الرحمہ نے شرح تجرید الاعتقاد میں مفصل استدلال کے ساتھ بیان کیا ہے، (کشف المراد، صفحہ۲۲۷،باب انہ تعالیٰ لیس بحال فی غیرہ ونفی الاتحاد عنہ)
[5] . تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۲۶۷ ، ۲۸۱․
قرآن مجید کی مختلف آیات میں بیان ہوا ہے کہ اس کائنات کی تمام موجودات خدا کی تسبیح کرتی ہیں ، ان میں سب سے زیادہ واضح آیت سورہ اسراء (بنی اسرائیل) آیت نمبر ۴۴ ہے کہ جہاں ارشاد ہوتا ہے:
< وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ وَلَکِنْ لَاتَفْقَہُونَ تَسْبِیحَہُمْ>
”اور کوئی شئی ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہویہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “۔
اس آیت کی بناپر کائنات کی تمام موجوات بغیر کسی استثنا کے خداوندعالم کی اس عام تسبیح میں شامل ہیں۔
اس حمد و تسبیح کی حقیقت کی تفسیر کے بارے میں علماو فلاسفہ کے درمیان بہت زیادہ بحث و گفتگو ہے۔
بعض افراد نے اس حمد و تسبیح کو ”حالی“ (یعنی زبان حال) مانا ہے، جبکہ بعض دوسرے افراد نے اس سے ”قولی“ تسبیح مراد لی ہے، ہم یہاں پر ان تمام نظریات کا خلاصہ اور اپنا نظریہ بیان کرتے ہیں:
۱۔بعض گروہ کا کہنا یہ ہے کہ اس کائنات کے تمام ذرات چاہے وہ جاندار اور عاقل ہوں یا بے جان اور غیر عاقل؛ سب کی سب ایک طرح کا شعور اور ادراک رکھتی ہیں، اور یہ سب چیزیں خداوندعالم کی حمد و تسبیح کرتی ہیں، اگرچہ ہم ان کی حمد و تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے، اور نہ ہی سن پاتے ہیں۔
قرآن مجید کی بہت سی آیات اس عقیدہ پر شاہد اور گواہ ہیں، نمونہ کے طور پر:
< وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللهِ > [1]
”اور بعض خوف خدا سے گر پڑتے ہیں“۔
<فَقَالَ لَہَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْہًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِینَ [2]
”اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بکراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں“۔
۲۔ بہت سے افراد کا عقیدہ ہے کہ یہ حمد و تسبیح وہی ہے جس کو ہم ”زبان حال“ کہتے ہیں، اور یہ حمد و تسبیح حقیقی طور پر ہے، مجازی طور پر نہیں، لیکن زبان حال سے ہے نہ کہ زبان قال سے۔ (غور کیجئے (
وضاحت: بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے چہرے پر پریشانی اور ناراحتی یا درد و غم کے آثار پائے جاتے ہیں یا اس کی آنکھوں سے بیداری کے آثار واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں،چنانچہ ایسے موقع پر کہاجاتا ہے: اگرچہ تم اپنی زبان سے پریشانی اور مشکل نہیں بتارہے ہو، لیکن تمہارے چہرے سے پریشانی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، یا کہتے ہیں کہ تمہیں رات میں نیند نہیں آئی ہے!!
کبھی کبھی یہ ”زبان حال“ اس قدر واضح اورروشن ہوتی ہے کہ ”زبان قال“ کو موثر بنا دےتی ہے، اور زبان قال کو جھٹلادیتی ہے، جیسا کہ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
گفتم کہ با مکر و فسون پنہان کنم راز درون!
پنہان نمی گردد کہ خون از دیدگانم می رود!
”میں نے کہا کہ مکر و فریب سے اپنے اندرونی راز کو چھپالوں لیکن خون کبھی چھپائے سے نہیں چھپتا ، اور میری آنکھوں سے خون برستا دکھائی دیتا ہے“۔
اسی چیز کی طرف حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنے مشہور و معروف قول میں اشارہ فرمایا ہے:
”مَا ضمَر اٴحد شیئًا اِلاَّ ظھر فی فلتاتِ لسانِہ وَصفحاتِ وَجھہِ“[3]
”کوئی بھی راز دل میں چھپائے سے چھپ نہیں سکتا، اور ایک نہ ایک دن اس کی زبان یا چہرے پر ظاہر ہوہی جاتا ہے“۔
دوسری طرف کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بہترین مصور کی بنائی ہوئی تصویر اس کی مہارت اور ذوق کی گواہی نہ دے اور اس کی مدح و ثنا نہ کرے؟
کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ایک مشہور و معروف شاعر کا کلام اس کے بہترین ذوق کی عکاسی نہ کرے اور ہمیشہ اس کی مدح و ثنا نہ کرے؟
کیا اس بات کا منکر ہوا جاسکتا ہے کہ ایک عظیم الشان عمارت اوربڑے بڑے کارخا نے وغیرہ اپنی بے زبانی سے اپنے بنانے والے کے خلاق ذہن اور ایجادات کرنے والے ذہن کی تعریف نہ کریں اور ان کی ذہنیت کی قصیدہ خوانی نہ کریں؟
لہٰذا ہم کو یہ بات مان لینا چاہئے کہ کائنات کایہ عجیب و غریب نظام اور چکاچوند کردینے والی چیزیں خداوندعالم کی ”حمد و تسبیح“ کرتی ہیں۔
کیا ”تسبیح“ پاک و پاکیزہ ماننے کے علاوہ کسی اور چیز کا نام ہے، اس کائنات کا نظام اپنے پورے وجود کے ساتھ یہ اعلان کررہا ہے کہ اس کا خالق ہر طرح کے نقص و عیب سے پاک و پاکیزہ ہے۔
کیا ”حمد“ صفاتِ کمال بیان کرنے کے علاوہ کسی اور چیز کو کہتے ہیں؟ یہ کائنات کا نظام خدا وندعالم کی صفات کمال( بے کراں علم و قدرت ،اور مکمل حکمت )کی گفتگو نہیں کررہا ہے۔
(قارئین کرام!) ”حمد و تسبیح “ کے یہ معنی تمام موجوات کے لئے قابل فہم ہیں اور اس بات کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم تمام مخلوقات کے ذروں کو صاحب عقل و شعور فرض کریں، کیونکہ کوئی قطعی دلیل ان کے بارے میں موجود نہیں ہے، اور مذکورہ آیات بھی قوی احتمال کی بنا پر ”زبان حال“ کو بیان کرتی ہیں۔
لیکن یہاں پر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خداوندعالم کی ”حمد و تسبیح“ سے مراد نظام کائنات کا خدا کی عظمت اور اس کی پاکیزگی و عظمت کی حکایت کرنا ہے اور ”صفات سلبیہ“ و ”صفات ثبوتیہ“ اس کی وضاحت کرتی ہیں، تو پھر قرآن مجید میں کیوں ارشاد ہوا ہے کہ تم ان کی حمد و تسبیح کو نہیں سمجھتے؟
اگر بعض عوام الناس نہیں سمجھ سکتے تو کم سے کم دانشوروں کو تو سمجھنا چاہئے؟
اس سوال کے دو جواب دئے جاسکتے ہیں:
پہلا جواب: یہ ہے کہ قرآن مجید میں خطاب اکثر جاہلوں خصوصاً مشرکین سے ہے اور مومن دانشوروں کی اقلیت اس عموم سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ہر عام کے لئے ایک استثنا ہوتا ہے۔
دوسرا جواب: یہ ہے کہ اس کائنات کے جن اسرار کو ہم جانتے ہیں وہ نامعلوم اسرارکے مقابل سمندر کے مقابل ایک قطرہ یا پہاڑ کے مقابلہ میں ایک ذرّہ کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اگر صحیح غور و فکر کریں تو اس کو کسی علم و دانش کا نام تک نہیں دیا جاسکتا ۔
تا بدانجا رسید دانش من کہ بدانستمی کہ نادانم
”میری عقل آخر میں اس بات کو سمجھ پائی ہے کہ میں نادان اور جاہل ہوں“
لہٰذا حقیقت تو یہ ہے کہ اگرچہ ہم کتنے ہی بڑے عالم کیوں نہ ہوں اس کائنات کے ذروں کو نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ جو کچھ ہم سنتے ہیں وہ کسی بڑی کتاب کا ایک لفظ ہے، اس بنا پر تمام عوام الناس کے لئے یہ اعلان عام کیا جاسکتا ہے کہ تم اس کائنات کی موجودات کی حمد و تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ وہ زبان حال سے خداوندعالم کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور جو چیزیں ہم سمجھتے ہیں وہ اس قدر کم اور ناچیز ہیں کہ ان کا کوئی شمار ہی نہیں ہے۔
۳۔بعض مفسرین نے یہ بھی احتمال دیا ہے کہ اس کائنات کی موجودات کی حمد و تسبیح زبان ”حال“ اور زبان ”قال“ دونوں سے مرکب ہے یا دوسرے الفاظ میں ”تکوینی اور تشریعی تسبیح“ ہے، کیونکہ بہت سے انسان اور تمام ملائکہ اپنی عقل و شعور کے لحاظ سے خداوندعالم کی حمد و تسبیح کرتے ہیں لیکن اس کائنات کے تمام ذرے اپنی زبان بے زبانی سے خداوندعالم کی عظمت و کبریائی کی گواہی دے رہے ہیں۔
اگرچہ” حمد و تسبیح“کے دونوں معنی آپس میں مختلف ہیں لیکن ”ایک مشترک پہلو بھی رکھتے ہیں“ یعنی حمد و تسبیح کے عام اور وسیع معنی (یعنی اعلان پاکیزگی اور مدح و ثنا) میں مشترک ہیں۔
لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ مذکورہ دوسری تفسیر سب سے بہتر ہے۔ [4]
[1] . سورہ بقرہ آیت ۷۴․
[2] . سورہ فصلت ، آیت ۱۱․
[3] . نہج البلاغہ کلمات قصار نمبر ۲۶․
[4] . تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۳۴․
لغت میں ہدایت کے معنی دلالت اور رہنمائی کے ہیں [1] اور اس کی دو قسمیں ہیں
۱)”ارائة الطریق“ (راستہ دکھانا) ۲) ”إیصالٌ إلیٰ المطلوبِ“ (منزل مقصود تک پہنچانا) دوسرے الفاظ میں یوں کہئے: ”تشریعی اور تکو ینی ہدایت“۔[2]
وضاحت: کبھی انسان راستہ معلوم کرنے والے کو اپنی تمام دقت اور لطف و کرم کے ساتھ راستہ کا پتہ بتاتا ہے، لیکن راستہ طے کرنا اور منزل مقصود تک پہنچنا خود اس انسان کا کام ہوتا ، اور کبھی انسان راستہ معلوم کرنے والے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور راستہ کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اس کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے، دوسرے الفاظ میںیوں کہیں کہ انسان پہلے مرحلہ میں صرف قوانین بیان کرتا ہے،اور منزل مقصودتک پہنچنے کے شرائط بیان کردیتا ہے، لیکن دوسرے مرحلہ میں ان چیزوں کے علاوہ سامان سفر بھی فراہم کرتا ہے اور اس میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو بھی برطرف کردیتا ہے، نیز اس کے مشکلات کو دور کرتاہے اور اس راہ پر چلنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کو منزل مقصود تک پہنچنے میں حفاظت بھی کرتا ہے۔
اس کے مقابلہ میں ”ضلالت اور گمراہی“ ہے۔
اگر انسان قرآن مجید کی آیات پر ایک اجمالی نظرڈالے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم نے ہدایت اور گمراہی کو فعل خدا شمار کیا ہے، اور دونوں کی نسبت اسی کی طرف دی گئی ہے، اگر ہم اس سلسلہ کی تمام آیات کو یکجا کریں تو بحث طولانی ہوجائے گی، صرف اتناہی کافی ہے، چنانچہ ہم سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۱۳ میں پڑھتے ہیں:
<ِ وَاللهُ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ>
”اور خدا جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دےتا ہے“۔
سورہ نحل کی آیت نمبر ۹۳ میں ارشادہوتا ہے:
<وَلَکِنْ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ وَیَہْدِی مَنْ یَشَاءُ>
”خدا جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے منزل ہدایت تک پہنچا دیتا ہے“۔
ہدایت و گمراہی کے حوالہ سے قرآن مجیدمیں بہت سی آیات موجود ہیں [3]بلکہ اس کے علاوہ بعض آیات میں واضح طور پر پیغمبر اکرم (ص) سے ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور خدا کی طرف نسبت دی ہے، جیسا کہ سورہ قصص آیت نمبر ۵۶ میں بیان ہوا ہے:
< إِنَّکَ لَاتَہْدِی مَنْ اٴَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللهَ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ>
”(اے میرے پیغمبر!) آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دےتا ہے“۔
سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۷۲ میں بیان ہوا ہے:
< لَیْسَ عَلَیْکَ ہُدَاہُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ>
”اے پیغمبر ! ان کے ہدایت پانے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے، بلکہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے“۔
ان آیات کے عمیق معنی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض افراد ان کے ظاہری معنی پر تکیہ کرتے ہو ئے ان آیات کی تفسیر میں ایسے ”گمراہ“اور راہ ”ہدایت“ سے بھٹکے کہ”جبریہ“ فرقہ کی آتشِ عقا ئد میں جا گرے اور یہی نہیں بلکہ بعض مشہور مفسرین بھی اس آفت سے نہ بچ سکے، اوراس فر قہ کی خطرناک وادی میں پھنس گئے ہیں، یہاں تک کہ ہدایت و گمراہی کے تمام مراحل کو ”جبری“ طریقہ پر مان بیٹھے، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی انھوں نے اس عقیدہ کو خدا کی عدالت و حکمت کے منافی دیکھا تو خدا کی عدالت ہی کے منکر ہوگئے، تاکہ اپنی کی ہوئی غلطی کی اصلاح کرسکیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ”جبر“ کے عقیدہ کو مان لیں تو پھر تکالیف و فرائض اور بعثت انبیاء،اورآسمانی کتابوں کے نزول کا کوئی مفہوم ہی نہیں بچتا۔
لیکن جو افراد نظریہٴ ”اختیار“ کے طرفدار ہیں ،وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی بھی عقل سلیم اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ خداوندعالم کسی کو گمراہی کا راستہ طے کرنے پر مجبور (بھی) کرے اور پھر اس پر عذاب بھی کرے، یا بعض لوگوں کو ”ہدایت“ کے لئے مجبور کرے اور پھر بلاوجہ ان کو اس کام کی جزا اور ثواب بھی دے، اور ان کو ایسے کام کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت دے جو انھوں نے انجام نہیں د یا ہے۔
لہٰذا انھوں نے ان آیات کی تفسیر کے لئے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اور اس سلسلہ میں بہت ہی دقیق تفسیر کی ہے جو ہدایت و گمراہی کے سلسلے میں بیان ہونے والی تمام آیات سے ہم آہنگ ہے اور بغیر کسی ظاہری خلاف کے بہترین طریقہ سے ان تمام آیات کی تفسیر کرتی ہے، اور وہ تفسیر یہ ہے:
” تشریعی ہدایت“یعنی عام طور سے سبھی کو راستہ دکھادیا گیا ہے اس میں کسی طرح کی کوئی قید و شرط نہیں ہے، جیسا کہ سورہ دہر آیت نمبر ۳ میں وارد ہوا ہے:
< إِنَّا ہَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُورًا>
”یقینا ہم نے اس (انسان) کو راستہ کی ہدایت دیدی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے“۔
اسی طرح سورہ شوریٰ کی آیت نمبر ۵۲ میں پڑھتے ہیں:
<وَإِنَّکَ لَتَہْدِي إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ>
” اور بے شک آپ لوگوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت کرر ہے ہیں“۔
ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت حق خداوندعالم کی طرف سے ہے کیونکہ انبیاء کے پاس جو کچھ بھی ہوتاہے وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔
بعض منحرف اور مشرکین کے بارے میں سورہ نجم آیت نمبر ۲۳ میں بیان ہوا ہے:
<وَلَقَدْ جَائَہُمْ مِنْ رَبِّہِمْ الْہُدَی>
”اور یقینا ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے“۔
لیکن ”تکوینی ہدایت “یعنی منزل مقصود تک پہنچانا ، راستہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا اور ساحل نجات پر پہنچنے تک ہر طرح کی حمایت و حفاظت کرنا،جیسا کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں بیان ہوا ہے، یہ موضوع بدون قید و شرط نہیں ہے، اور یہ ہدایت ایک ایسے خاص گروہ سے مخصوص ہے جس کے صفات خود قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں، اور اس کے مدمقابل ”ضلالت و گمراہی“ ہے وہ بھی خاص گروہ سے مخصوص ہے جس کے صفات بھی قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔
اگرچہ بہت سی آیات مطلق ہیں لیکن دوسری بہت سی آیات میں وہ شرائط واضح طور پر بیان ہوئے ہیں، اور جب ہم ان ”مطلق“ اور ”مقید“ آیات کو ایک دوسرے کے برابر رکھتے ہیں تو مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے اور آیات کے معنی و تفسیر میں کسی طرح کے شک و تردید کی گنجائش باقی نہیں رہتی، اور نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار ، آزادی اور ارادہ کے مخالف نہیں ہے بلکہ مکمل اور دقیق طور پر ان کی تاکید کرتی ہے۔
ادامه مطلب
جیساکہ ہم سورہ اعراف آیت نمبر ۱۷۲ میں پڑھتے ہیں:
< وَإِذْ اٴَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَاٴَشْہَدَہُمْ عَلَی اٴَنفُسِہِمْ اٴَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَہِدْنَا اٴَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ>
” اور جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت کو لے کر انھیں خود ان کے اوپر گواہ بنا کر سوال کیا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا بے شک ہم اس کے گواہ ہیں یہ عہد اس لئے لیا کہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اس عہد سے غافل تھے“۔ اس آیت میں بنی آدم کے عہد و پیمان کو مجمل طور سے بیان کیا گیا ہے، لیکن یہ عہد و پیمان کیا تھا؟ (یہ سوال ذہن میں آتا ہے۔)
اس عالم اور اس عہد و پیمان سے مراد وہی ”عالم استعداد“ ، ”پیمان فطرت“ اور تکوین و آفرینش ہے، وہ بھی اس طرح سے کہ جب انسان ”نطفہ“ کی صورت میں صلب پدر سے رحم مادر میں منتقل ہوتاہے جس وقت انسان کی حقیقت ذرات سے زیادہ نہیں ہوتی، اس وقت خداوندعالم حقیقت توحید کو قبول کرنے کی استعداد اور آمادگی عنایت فرماتا ہے، لہٰذا انسان کی فطرت اور اس کی ذات میں یہ الٰہی راز ایک حس باطنی کی صورت میں ودیعت ہو تا ہے، نیز انسان کی عقل میں ایک حقیقت کی شکل میں قراردیاجاتا ہے!۔
اس بنا پر تمام انسانوں کے یہاں روحِ توحید پائی جاتی ہے، اور خداوندعالم نے انسان سے زبان تکوین و آفرینش میں سوال کیا ہے اور اس کا جواب بھی اسی زبان میں ہے۔
اس طرح کی تعبیریں ہمارے روز مرّہ کی گفتگو میں ہوتی ہے جیساکہ ہم کہتے ہیں کہ انسان کے چہرہ کے رنگ سے اس کے اندرونی حالات کا پتہ لگ جاتا ہے، یا انسان کی سر خ آنکھوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شخص رات میں نہیں سویا ہے۔
ایک عرب ادیب اور خطیب سے نقل ہوا ہے :
”سَلْ الاٴرضَ مَن شَقَ اٴنھارکِ وغرسَ اٴشجارکِ واٴینعَ ثِمَارِکِ فإنْ لَمْ تُجبکَ حواراً إجابتکَ إعتباراً“
”اس زمین سے سوال کرو کہ تیرے اندر یہ نہریں کس نے جاری کی ہیں اور کس نے یہ درخت اگائے ہیں اور کس نے پھلوں میں رس گھولا ہے؟ تو اگر وہ سادہ زبان میں جواب نہ دے تو پھر زبان حال سے گویا ہوگی“۔
اسی طرح قرآن مجید میں بھی بعض مقامات پر زبان حال سے گفتگو کا بیان ہوا ہے:
<فَقَالَ لَہَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْہًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِینَ>[1]
”اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بکراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں“۔[2]
قرآن مجید کی آیات میں تقریباً بیس مرتبہ ”عرش الٰہی“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی بنا پر یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عرش الٰہی سے کیا مراد ہے؟
ہم نے مکرر عرض کیا ہے کہ ہماری محدود زندگی کے لئے وضع شدہ الفاظ عظمت خدا یا اس کی عظیم مخلوق کی عظمت کو بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لہٰذا ان الفاظ کے کنائی معنی اس عظمت کا صرف ایک جلوہ دکھاسکتے ہیں، اسی طرح لفظ ”عرش“ بھی ہے جس کے معنی ”چھت“ یا ”بلند پایہ تخت“ کے ہیں اس کرسی کے مقابلہ میں جس کے پائے چھوٹے ہوتے ہیں،لیکن اس کے بعد قدرت خدا کی جگہ ”عرش پروردگار “ استعمال ہونے لگا۔
اب اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”عرش الٰہی“ سے کیا مراد ہے اور اس لفظ کے استعمال سے کیا معنی مراد لئے جاتے ہیں؟ اس سلسلہ میں مفسرین، محدثین اور فلاسفہ حضرات کے یہاں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔
کبھی ”عرش الٰہی“ سے ”خداوندعالم کا لامحدود علم“ مراد لیا جاتاہے۔
کبھی ”خداوندعالم کی مالکیت اور حا کمیت “کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
اور کبھی خدا وندعالم کی صفات کمالیہ اور صفات جلالیہ مراد لی جاتی ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر صفت ؛خداکی عظمت کو بیان کرنے والی ہے، جیسا کہ بادشاہوں کے تخت ان کی عظمت اور شان و شوکت کی نشانی ہوا کرتی ہے۔
جی ہاں!خداوندعالم ؛عرش علم، عرش قدرت، عرش رحمانیت اور عرش رحیمیت رکھتا ہے۔
(قارئین کرام!) مذکورہ تینوں تفسیر وں کے لحاظ سے ”عرش“ کالفظ خداوندعالم کی صفات کی طرف اشارہ ہے ، کسی وجود خارجی کی طرف نہیں، ( مثلاً کوئی چیز خارج میں موجود ہو)
اہل بیت علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں بھی اسی بات کی تائید ہوئی ہے، جیسا کہ حفص بن غیاث امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے < وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ> ک[1]ے بارے میں سوال کیا ، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اس سے مراد خداوندعالم کا ”علم“ ہے“۔[2]
امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”عرش“ یعنی وہ علم جس کو انبیاء کو عطا کیا ہے اور ”کرسی“ وہ علم جو کسی کو عطا نہیں ہوا ہے۔[3]
حالانکہ بعض دوسرے مفسرین نے دیگر روایات سے الہام لیتے ہوئے ”عرش“ اور ”کرسی“ کے معنی خداوندعالم کی دو عظیم مخلوق تحریر کئے ہیں۔
ان میں سے بعض لوگوں کا کہنا ہے: عرش سے تمام کائنات مراد ہے۔
بعض کہتے ہیں: تمام زمین و آسمان ”کرسی“ کے اندر قرار دئے گئے ہیں، بلکہ زمین و آسمان ”کرسی“ کے مقابلہ میں وسیع و عریض بیابان میں پڑی ایک انگوٹھی کی طرح ہے، اور خود ”کرسی“ خداوندعالم کے ”عرش“ کے مقابلہ میں وسیع و عریض بیابان میں پڑی ایک انگوٹھی کی طرح ہے۔
اور کبھی انبیاء علیہم السلام ،اوصیاء اور کامل مومنین کے ”دل“ کو ”عرش“ کہا گیاہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے:
”إنَّ قَلبَ الموٴمن عَرش الرَّحمٰن“[4]
”بے شک مومن کا دل، عرش الٰہی ہے“۔
اور حدیث قدسی میں بھی بیان ہوا ہے:
”لَمْ یسعني سمائي ولا اٴرضي و وسعني قلب عبدي الموٴمن“[5]
”میرے زمین و آسمان ، میری وسعت کی گنجائش نہیں رکھتے لیکن میرے مومن بندہ کا دل میرا مقام واقع ہوسکتاہے“۔
(لیکن جہاں تک انسان کی قدرتِ تشخیص اجازت دیتی ہے) معنی ”عرش“ سمجھنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں لفظ ”عرش“ استعمال ہوا ہے ان کی دقیق طریقہ سے تحقیق و جستجو کریں۔
قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے:
< ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ>[6]
”اور اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیا “
بعض آیات میں ان جملوں کے بعد ”یدبر الامر“ آیاہے یاایسے جملے آئے ہیں جو خداوندعالم کے علم اور اس کی تدبیر کی حکایت کرتے ہیں۔
یا قرآن کریم کی بعض دوسری آیات میں ”عرش“ کے لئے”عظیم“ جیسی صفت بیان ہوئی ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: <وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ >[7] ”اور وہی عرش اعظم کا پروردگار ہے“۔
اورکبھی حاملان عرش کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے جیسے محل بحث آیہ شریفہ۔
کبھی ان ملائکہ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جو عرش کو گھمانے والے ہیں، مثلاً:<وَتَرَی الْمَلاَئِکَةَ حَافِّینَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ>[8] ”اور تم دیکھو گے کہ ملائکہ عرش الٰہی کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد وتسبیح کررہے ہیں“۔
کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ عرش الٰہی پانی پر ہے: <وَکاَنَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ>(ہود/۷(
قرآن کریم کے ان الفاظ اور اسلامی روایات میں بیان ہوئی دورسری عبارتوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ لفظ ”عرش“ کا مختلف معنی پر اطلاق ہوتا ہے، اگرچہ سب کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔
”عرش“ کے ایک معنی وہی مقام ”حکومت، مالکیت اور عالم ہستی کی تدبیر ہے“، کیونکہ بعض معمولی اوقات میں عرش کہہ کر کنایةً ایک حاکم کا اپنی رعایا پر مسلط ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے: ”فلان ثل عرشہ“ یہ کنایہ ہے کہ فلاں بادشاہ کی طاقت ختم ہوگئی، جیسا کہ فارسی زبان میں بھی کہا جاتا ہے: ”پایہ ہای تخت او درہم شکست“ (یعنی اس کی حکومت کی چولیں ہل گئیں(
”عرش“ کے ایک معنی ”عالم ہستی کا مجموعہ“ ہے، کیونکہ دنیا کی تمام چیزیں اس کی عظمت و بزرگی کی نشانی ہیں، اور کبھی ”عرش“ سے ”آسمان“ اور ”کرسی“ سے ”زمین“ کو مراد لیا جاتا ہے۔
اور کبھی ”عرش“ سے ”عالم ماوراء طبیعت“ اور کرسی سے عالم مادہ (چاہے وہ زمین ہو یا آسمان) مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ آیة الکرسی میں بیان ہوا ہے: <وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ>
اور چونکہ خداوندعالم کی مخلوقات اور اس کی معلومات اس کی ذات سے جدا نہیں ہیں لہٰذا کبھی کبھی ”عرش“ سے ”علم خدا“ مراد لیا جاتا ہے۔
اوراگر پاک اور مومن بندوں کے دلوں کو ”عرش الرحمن“ کہا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مومنین کے قلوب خداوندعالم کی ذات پاک کی معرفت کی جگہ اور اس کی عظمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
لہٰذا ہر جگہ پر استعمال ہونے والے لفظ ”عرش“کو اس جگہ موجود قرائن سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس جگہ ”عرش“ سے کون سے معنی مراد ہیں، لیکن یہ تمام معانی اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ ”عرش“ خدا کی عظمت و بزرگی کی نشانی ہے۔
محل بحث آیہٴ شریفہ( جس میں حاملان عرش الٰہی کی گفتگو ہے) میں ممکن ہے کہ اس سے وہی حکومت خدا اور عالم ہستی میں اس کی تدبیر مراد ہو ، اور حاملان عرش سے مراد خداوندعالم کی حاکمیت اور اس کی تدبیر کو نافذ کرنے والے مراد ہوں۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام کائنات، یا عالم ماوراء طبیعت کے معنی میں ہو، اور حاملان عرش سے مراد وہ فرشتے ہوں جو حکم خدا سے اس کائنات کی تدبیر کے ستون اپنے شانوں پر اٹھائے ہوئے ہوں۔ [9]
[1] ۔ سورہٴ بقرہ ، آیت ۲۵۵․
[2] ۔ بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۲۸ (حدیث ۴۶ و۴۷)”اس کی کرسی، علم و اقتدار زمین و آسمان سے وسیع تر ہے“۔
[3] ۔ ) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۲۸ (حدیث ۴۶ و۴۷)
[4] ۔ بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۳۹․
[5] ۔ بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۳۹․
[6] ۔ سورہٴ اعراف ، آیت۵۴۔ سورہٴ یونس ، آیت۳۔ سورہٴ رعد ،آیت۲۔ سورہٴ فرقان ، آیت۵۹․ سورہٴ سجدہ ،آیت۴۔ سورہٴ حدید ، آیت۴․
[7] . سورہٴ توبہ آیت۱۲۹․
[8] . سورہٴ زمر آیت۷ ۵․
[9] . تفسیر نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۵․
عقلی دلائل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ خداوندعالم کو ہرگز آنکھوں کے ذریعہ نہیں دےکھاجا سکتا، کیونکہ آنکھ تو کسی چیز کے جسم یا صحیح الفاظ میں چیزوں کی کیفیتوں کو دیکھ سکتی ہیں، اور جس چیز کا کوئی جسم نہ ہو بلکہ اس میں جسم کی کوئی کیفیت بھی نہ ہو تو اس چیز کو آنکھ کے ذریعہ نہیں دیکھا جاسکتا، دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ آنکھ اس چیز کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں مکان، جہت اور مادہ ہو ، حالانکہ خداوندعالم ان تمام چیزوں سے پاک و پاکیزہ ہے اور اس کا وجود لامحدود ہے اسی وجہ سے وہ ہمارے اس مادی جہان سے بالاتر ہے، کیونکہ مادی جہان میں سب چیزیں محدود ہیں۔
قرآن مجید کی بہت سی آیات ،منجملہ بنی اسرائیل سے متعلق آیات جن میں خداوندعالم کے دیدار کی درخواست کی گئی ہے، ان میں مکمل وضاحت کے ساتھ خداوندعالم کے دید ار کے امکان کی نفی کی گئی ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے اہل سنت علمایہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر خداوندعالم اس دنیا میں نہیں دکھائی دے سکتا تو روز قیامت ضرور دکھائی دے گا!! جیسا کہ مشہور و معروف اہل سنت عالم، صاحب تفسیر المنار کہتے ہیں:”ھَذا مَذْھبُ اٴہل السُّنة والعِلم بالحدیثِ“ (یہ عقیدہ اہل سنت اور علمائے اہل حدیث کا ہے) [1]
اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ عصر حا ضر کے علمائے اہل سنت جو اپنے کو روشن فکر بھی سمجھتے ہیں وہ بھی اسی عقیدہ کا اظہارکرتے ہیں اور کبھی کبھی تو اس سلسلہ میں بہت زیادہ ہٹ دھرمی کرتے ہیں!
حالانکہ اس عقیدہ کا باطل ہونا اس قدر واضح ہے کہ بحث و گفتگو کی بھی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں (جسمانی معاد کے پیش نظر) دنیا و آخرت میں کوئی فرق نہیں ہے ، کیو نکہ جب خداوندعالم کی ذات اقدس مادی نہیں ہے وہ مادہ سے پاک و منزہ ہے، تو کیا وہ روز قیامت ایک مادی وجود میں تبدیل ہوجائے گا، اور اپنی لامحدود ذات سے محدود بن جائے گا، کیا اس دن خدا جسم یا عوارض جسم میں تبدیل ہوجائے گا؟ کیا خداوندعالم کے عدم دیدار کے عقلی دلائل دنیا و آخرت میں کوئی فرق کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، کیونکہ عقلی حکم کوئی استثنا نہیں ہوتا ۔
اسی طرح بعض لوگوں کا یہ غلط توجیہ کرنا کہ ممکن ہے انسان کو روز قیامت دوسری آنکھیں مل جائیں یا انسان کو ایک دوسرا ادراک مل جائے جس سے وہ خداوندعالم کا دیدار کرسکے، تو یہ بالکل بے بنیاد ہیں، کیونکہ اگر اس دید اور آنکھ سے یہی عقلانی اور فکری دید مراد ہے تو یہ تو اس دنیا میں بھی موجود ہے اور ہم اپنے دل اور عقل کی آنکھوں سے خدا کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور اگر اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو اس طرح کی چیز خداوندعالم کے بارے میں محال اور ناممکن ہے، چاہے وہ اس دنیا سے متعلق ہو یا اُس دنیا سے،لہٰذا کسی کا یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں خدا کو نہیں دیکھ سکتا مگر مومنین روز قیامت خداوندعالم کا دیدار کریں گے، یہ بات غیر منطقی اور ناقابل قبول ہے۔
یہ لوگ اپنی معتبر کتابوں میں موجود بعض احادیث کی بنا پر اس عقیدہ کا دفاع کرتے ہیں جن احادیث میں روز قیامت خدا کے دیدار کی بات کہی گئی ہے،لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ان روایات کے باطل ہونے کو عقل کے ذریعہ پرکھیں اور ان روایات کو جعلی اور جن کتابوں میں یہ روایات بیان ہوئی ہیں ان کو بے بنیاد مانیں، مگر یہ کہ ان روایات کو دل کی آنکھوں سے مشاہدہ کے معنی میں تفسیر کریں، کیا یہ صحیح ہے کہ اس طرح کی روایات کی بناپر اپنی عقل کو الوداع کہہ دیں ، اور اگر قرآن کریم کی بعض آیات میں اس طرح کے الفاظ موجود ہیں جن کے ذریعہ پہلی نظر میں دیدار خدا کا مسئلہ سمجھ میں اتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
< وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ # إِلَی رَبِّہَا نَاظِرَةٌ >[2]
”اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے۔اپنے پروردگار( کی نعمتوں) پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے“۔
مذکورہ آیت درج ذیل آیت کی طرح ہے:
< یَدُ اللهِ فَوْقَ اٴَیْدِیہِمْ>[3]
”اور ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ ہی کا ہاتھ ہے“۔
جس میں کنایةً قدرت پروردگار کی بات کی گئی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی کوئی بھی آیت اپنے حکم کے برخلاف حکم نہیں دے گی۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول روایات میں اس باطل عقیدہ کی شدت سے نفی اور مخالفت کی گئی ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر مختلف انداز میں تنقید کی گئی ہے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے مشہور و معروف صحابی جناب ہشام کہتے ہیں:
میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھاکہ امام علیہ السلام کے ایک دوسرے صحابی معاویہ بن وہب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول! آپ اس روایت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) نے خدا دیدارکیا ہے؟(اے فرزند رسول آپ بتائیے کہ ) آنحضرت (ص) نے کس طرح خدا کو دیکھا ہے؟ اور اسی طرح آنحضرت (ص) سے منقول روایت جس میں بیان ہوا ہے کہ مومنین جنت میں خدا کا دیدار کریں گے، تو یہ دیدار کس طرح ہوگا؟!
اس موقع پر امام صادق علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: اے معاویہ بن وہب! کتنی بری بات ہے کہ انسان ۷۰ ، ۸۰ سال کی عمر پائے ، خدا کے ملک میں زندگی گزارے اس کی نعمتوں سے فیضیاب ہو، لیکن اس کو صحیح طریقہ سے نہ پہچان سکے، اے معاویہ! پیغمبر اکرم (ص) نے ان آنکھوں سے خدا کا دیدار نہیں کیا ہے، دیدار اور مشاہدہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں: دل کی آنکھوں سے دیدار ، اور سر کی آنکھوں سے دیدار، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے دل کی آنکھوں سے خدا کا دیدار کیا ہے تو صحیح ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ ان ظاہری آنکھوں سے خدا کا دیدار کیا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور خدا اور اس کی آیات کاانکار کرتا ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: جو شخص خداوندعالم کو مخلوق کی شبیہ اور مانند قرار دے تو وہ کافر ہے۔[4]
اسی طرح ایک دوسری روایت جو ”کتاب توحید “شیخ صدوقۺ میں اسماعیل بن فضل سے نقل ہوئی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا روز قیامت خداوندعالم کا دیدار ہوسکتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوندعالم اس چیز سے پاک و پاکیزہ ہے اور بہت ہی پاک و پاکیزہ ہے:
”․․․ إنَّ الاٴَبصَار لا تُدرک إلاَّ ما لَہ لون والکیفیة والله خالق الاٴلوان والکیفیات“[5]
”آنکھیں صرف ان چیزوں کو دیکھ سکتی ہیں جن میں رنگ اور کیفیت ہو جبکہ خداوندعالم رنگ اور کیفیت کا خالق ہے“۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں لفظ ”لَون“ (یعنی رنگ) پر خاص توجہ دی گئی ہے اور آج کل ہم پر یہ بات واضح و روشن ہے کہ ہم خود جسم کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ کسی چیز کے جسم کا رنگ دیکھا جاتا ہے، اور اگر کسی جسم کا کوئی رنگ نہ ہو تو وہ ہرگز دکھائی نہیں دے سکتا۔[6]
جناب موسیٰ (ع) نے دیدارخدا کی درخواست کیوں کی؟
سورہ اعراف آیت نمبر ۱۴۳/ میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل ہوا کہ انھوں نے عرض کی: <ربِّ اٴرني اٴنظرُ إلیکَ> (پالنے والے! مجھے اپنا دیدار کرادے) ، اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ جیسا بزرگ اور اولو العزم نبی یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ خداوندعالم نہ جسم رکھتا ہے اور نہ مکان اور نہ ہی قابل دیدار ہے، تو پھر انھوں نے ایسی درخواست کیوں کی جو کہ ایک عام آدمی سے بھی بعید ہے؟
اگر چہ مفسرین نے اس سلسلہ میں مختلف جواب پیش کئے ہیں لیکن سب سے واضح جواب یہ ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے یہ درخواست اپنی قوم کی طرف سے کی تھی، کیونکہ بنی اسرائیل کے بہت سے جاہل لوگ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ خدا پر ایمان لانے کے لئے پہلے اس کودیکھیں گے، (سورہ نساء کی آیت نمبر ۱۵۳/ اس بات کی شاہد ہے) جناب موسیٰ علیہ السلام کو خدا کی طرف سے حکم ملا کہ اس درخواست کو بیان کریں، تاکہ سب لوگ واضح جواب سن سکیں، چنا نچہ کتاب عیون اخبار الرضا علیہ السلام میں امام علی بن موسیٰ الرضا سے مروی حدیث بھی اسی مطلب کی وضاحت کرتی ہے۔[7]
انھیں معنی کو روشن کرنے والے قرائن میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ اسی سورہ کی آیت نمبر ۵۵ میں جناب موسی علیہ السلام اس واقعہ کے بعد عرض کرتے ہیں: ”اٴتھلُکنا بِما فَعَلَ السُّفَھاء مِنَّا“ ( کیا اس کام کی وجہ سے ہمیں ہلاک کردے گا؟ جس کو ہمارے بعض کم عقل لوگوں نے انجام دیا ہے )؟
اس جملہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے نہ صرف اس طرح کی درخواست نہیں کی تھی بلکہ شاید وہ ۷۰/ افراد جو آپ کے ساتھ کوہِ طور پر گئے تھے ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں تھا، وہ صرف بنی اسرائیل کے دانشور اورلوگوں کی طرف سے نمائندے تھے، تاکہ ان جاہل لوگوں کے سامنے اپنی آنکھوں دیکھی کہانی کو بیان کریں جو خدا کے دیدار کے لئے اصرار کررہے تھے۔[8]
[1] . تفسیر المنار ، جلد ۷، صفحہ ۶۵۳․
[2] . سورہٴ قیامت ، آیت۲۳ ۔۲۴․
[3] . سورہٴ فتح ،آیت۱۰․
[4] . معانی الاخبار بنا بر نقل تفسیر المیزان ، جلد ۸، صفحہ ۲۶۸․
[5] . نور الثقلین ، جلد اول، صفحہ ۷۵۳․
[6] . تفسیر نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۳۸۱․
[7] . تفسیر نور الثقلین ، جلد ۲، صفحہ ۶۵․
[8] . تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۳۵۶․
اسم اعظم کے سلسلہ میں مختلف روایات بیان کی گئی ہیں جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص بھی اسم اعظم سے باخبر ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے بلکہ وہ شخص اس اسم اعظم کے ذریعہ اس دنیا کی بہت سی چیزوں میں دخل و تصرف کرسکتا ہے اور بہت سے عجیب و غریب کام انجام دے سکتا ہے۔
خدا کے ناموں میں سے کونسا نام ”اسم اعظم“ ہے ؟اس سلسلہ میں علمائے اسلام نے بہت زیادہ بحث و گفتگو کی ہے، اور اس موضوع پر اکثر بحثیں ہوا کرتی ہیں کہ خدا کے ناموں میں اس اسم کو تلاش کریں جو عجیب و غریب خاصیت رکھتا ہو۔
لیکن ہمارے نظریہ کے مطابق جس چیز پر زیادہ توجہ ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ خدا کے اسما اور صفات کا پتہ لگائیں ان کے مفہوم کو اپنے اندر پیدا کریں اور روحانی تکامل و پیشرفت حاصل کریں جن کے ذریعہ ہماری ذات پر اثر ہوسکے۔
دوسرے الفاظ میں اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ان صفات کو پیدا کریں اور اپنے کر دار کو ان صفات سے مزین کریں، ورنہ گناہوں میں آلودہ شخص اور ایک ذلیل انسان کیا ”اسم اعظم“ کا علم حاصل کرنے سے ”مستجاب الدعوة“ ہوسکتا ہے؟!
اگر ہم سنتے ہیں کہ ”بلعم“ نامی شخص اسم اعظم کا علم رکھتا تھا لیکن بعد میں اس سے ہاتھ دھوبیٹھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایمان و عمل صالح اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ذریعہ اس روحانی درجہ کو حاصل کرلیا تھا لہٰذا اس کی دعا قبول ہوجاتی تھی، لیکن اپنی خطاؤں کے ذریعہ (کیونکہ انسان خطا و غلطی سے پاک نہیں ہے) اور اپنے زمانہ کے فرعونی اور طاغوتی طاقتوں اور اپنی ہوا وہوس کی بنا پر اس روحانی طاقت کو بالکل کھو دیا ، اور اس مرتبہ سے گرگیا، اسم اعظم کے بھول جانے سے یہی معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
اور اسی طرح اگر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام اسم اعظم سے آگاہ تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے وجود میں خدا کے اسم اعظم کی حقیقت جلوہ گر ہوتی تھی، اور اسی وجہ سے خدا وندعالم نے ان کو اس عظیم مرتبہ پر فائز کیا تھا (کہ ان کی دعائیں مستجاب ہوتی تھیں)[1]
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ارادہ جن معنی میں انسان کے بارے میں استعمال ہوتا ہے ان معنی میں خداوندعالم کے لئے استعمال نہیں ہوتا ہے۔
کیونکہ انسان پہلے کسی چیز کا تصور کرتا ہے، (مثلاً پانی پینا) پھر اس کے فوائد کے بارے میں سوچتا ہے، اور اس کے فائدہ کی تصدیق کے بعد اس کام کو انجام دینے کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور جس وقت انسان کا شوق آخری درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اعضا کے لئے حکم صادر ہوتا ہے اور انسان اس کام کو شروع کردیتا ہے۔ [1]لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں ( تصور، تصدیق، شوق، حکم ،نفس اور اعضا کی حرکت) خداوندعالم کے سلسلہ میں بے معنی ہیں، کیونکہ یہ تمام چیزیں حادث ہیں ، پس خدا کے ارادہ کا کیا مفہومہے؟۔
اس سلسلہ میں علم عقائد اور اسلامی علماو فلاسفہ نے ایک ایسا مفہوم بیان کیا ہے کہ ”بسیط“ ہونے کے ساتھ ساتھ خدا میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی و تغیر نہیں ہوتا۔
(1) بعض فلاسفہ، ارادہ کو وہی ”شوقِ موٴکد “ کا نام دیتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے فلاسفہ ”شوق موٴکد “ کے علاوہ نفس کے ایک فعل اور حرکت کے بھی قائل ہیں، اور ارادہ کو وہی انسانی فعل شمار کرتے ہیں، (غور کیجئے)
ان حضرات کا کہنا ہے کہ خداوند عالم کا ارادہ دوطرح کا ہوتا ہے:
۱۔ ذاتی ارادہ ۔
۲۔ فعلی ارادہ ۔
۱۔ ”ذاتی ارادہ “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا و مافیہا کے بہترین نظام اور نظام خلقت کا علم رکھتا ہے اور احکام شرعی میں بندوں کے خیر و صلاح کا علم رکھتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ اس کائنات کا بہترین نظام کیا ہے، اور کس علاقہ میں کیا چیز پیدا ہونی چاہئے، یہی ”علم“ مختلف زمانوں میں موجودات اور حوادث کے پیدا ہونے کا سرچشمہ ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قوانین و احکام کے لحاظ سے کس چیز میں بندوں کی مصلحت ہے؟ اور ان قوانین و احکام کی روح اس کا یہی علم ہے جو مصالح و مفاسد کے بارے میں ہے۔(غور کیجئے)
۲۔ خداوندعالم کا فعلی ارادہ”عین ایجاد“ ہے اور صفات فعل کا جز شمار ہوتا ہے، اس بنا پر زمین و آسمان کی خلقت کے بارے میں اس کا ارادہ ”عین ایجاد“ ہے، نماز کے واجب ہونے اور جھوٹ کے حرام ہونے پر ارادہ ،عین وجوب و حرام ہے، (یعنی اس نے نماز کے واجب کرنے کا ارادہ کیا وہ واجب ہوگئی)
خلاصہ یہ کہ خدا وندعالم کا ذاتی ارادہ اس کا ”عین علم“ اور ”عین ذات“ ہے ، اور خدا وندعالم کا فعلی ارادہ اس کام کا ”عین ایجاد“ ہے۔[2]
خداوندعالم کی صفات کو معمولاً دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
”صفاتِ ذات“ اور ”صفات ِفعل“۔
اس کے بعد صفات ذات کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے :”صفاتِ جمال“ اور ”صفاتِ جلال“۔
”صفات جمال“ سے وہ صفات مراد ہیں جو خداوندعالم کے لئے ثابت ہیں جیسے علم، قدرت، ازلیت، ابدیت، لہٰذا ان صفات کو ”صفات ثبوتیہ“ کہا جاتا ہے، اور ”صفات جلال“ سے مراد وہ صفات ہیں جو خدا میں نہیں پائی جاتیں، جیسے جہل، عجز، جسم وغیرہ لہٰذا ان صفات کو ”صفات سلبیہ“ کہا جاتا ہے، اور یہ دونوں صفات خداوندعالم کی”صفات ذات“ ہیں، اور اس کے افعال سے قطع نظر قابل درک ہیں۔
”صفات فعل “ سے مراد وہ صفات ہیں جو خداوندعالم کے افعال سے متعلق ہوتی ہیں، یعنی جب تک خداوندعالم اس فعل کو انجام نہ دے تو اس صفت کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا، جب وہ فعل انجام دیتا ہے تو اس صفت سے متصف ہوتا ہے جیسے ”خالق“، ”رازق“اور”محی“، ”ممیت“ (یعنی خلق کرنے والا، روزی دینے والا، زندہ کرنے والا اور موت دینے والا)
ہم ایک بار پھر اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ خداوندعالم کی ”صفات ذات“ اور ”صفات فعل “ لامحدود ہیں، کیونکہ نہ اس کے کمالات ختم ہونے والے ہیں اور نہ اس کے افعال و مصنوعات، لیکن پھر بھی ان میں سے بعض صفات دوسری صفات کی اصل اور سرچشمہ شمار ہوتی ہیں، نیز وہ ان کی شاخیں شمار کی جاتی ہیں، لہٰذا اس نکتہ کے پیش نظر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خداوندعالم کی درج ذیل پانچ صفات خداوندعالم کی ذات اقدس کے تمام اسما و صفات کے لئے اصل و سرچشمہ ہیں اور باقی ان کی شاخیں ہیں:
وحدانیت، علم، قدرت، ازلیت اور ابدیت۔[1]
تمام اسلامی علمااور دانشوروں نے خداوندعالم کو سمیع و بصیر ما ناہے، کیونکہ یہ دونوں صفات قرآن مجید میں بار ہا بیان ہوئی ہیں، البتہ اس سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے:
چنا نچہ محققین کا اس بات پر عقیدہ ہے کہ خدا کے سمیع و بصیر ہونے کا مطلب اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ خدا وندعالم ”آواز“ اور ”یعنی دکھائی دینے والی چیزوں“ کی نسبت علم و آگاہی رکھتا ہے، اگرچہ یہ دونوں الفاظ سننے اور دیکھنے کے معنی میں وضع ہوئے تھے، جن کے لئے ہمیشہ”کان“ اور ”آنکھ“ ضروری ہوتے ہیں، لیکن جب یہ الفاظ خدا کے بارے میں استعمال ہوں تو پھر جسمانی آلات و اعضا کے تصور سے خالی ہوتے ہیں، چونکہ ذات خدا جسم و جسمانیات سے پاک و پاکیزہ ہے۔
اور یہ معنی مجازی نہیں ہے، او راگر اس کو مجاز کہیں بھی تو یہ مجاز مافوق حقیقت ( یعنی معنی حقیقی سے بالاتر) ہے کیونکہ خداآواز اور مناظر پر اس طرح احاطہ رکھتا ہے اور یہ چیزیں اس کے پاس اس طرح حاضر ہیں کہ ہر آنکھ کان سے بالاتر ہے، لہٰذا دعاؤں میں خدا وندعالم کو ”اٴسمعُ السَّامِعِین“ (سب سے زیادہ سننے والا) اور ”اٴبصرَ الناظِرین“( سب سے زیادہ دیکھنے والے) کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔(1)
(1) ماہ رجب میں ہر روزپڑھی جانے والی دعا میں وارد ہوا ہے: ”یااسمع السامعین وابصر الناظرین واسرع الحاسبین“ (اے سب سے زیادہ سننے والے اور سب سے زیادہ دیکھنے والے اور سب سے زیادہ جلدی حساب کرنے والے)!
لیکن بعض قدیم متکلمین کا عقیدہ تھا کہ خدا کے ”سمیع“ اور ”بصیر“ ہونے کا مطلب صفت ”علم“ کے علاوہ ہے، یہ لوگ مجبور ہیں کہ صفات ”سمیع“ اور ”بصیر“ کو زائد بر ذات مانیں، اور صفات ازلی متعدد ہوجائیں جو ایک طرح کا شرک ہے، وگرنہ خداوندعالم کا ”سمیع“ اور ”بصیر“ ہونا سنی جانے والی آوازوں اور مناظر کے علم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔[1]
کتاب ”بحار الانوار“ میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت بیان ہوئی ہے کہ ایک شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ کے محبوں میں سے ایک شخص کا کہنا ہے: خداوندعالم کان کے ذریعہ سمیع ہے اور آنکھوں کے ذریعہ بصیر ہے! اور علم کی وجہ سے عالم ہے! (یعنی خداکی صفات زائد بر ذات ہیں) اور قادر ہے اپنی قدرت کی وجہ سے (یعنی اس کے صفات زائد بر ذات ہیں)
امام علیہ السلام نے ناراض ہوتے ہوئے فرمایا: ”مَنْ قَال ذَلک و دَانَ بِہِ فَہوَ مشرکٌ، وَ لَیْسَ مِنْ ولایتنا علٰی شیءٍ ؛ إنَّ اللهَ تبارکَ و تعالیٰ ذات علامة سمیعة بصیرة قادرة“([2] )[3]
”جو شخص یہ کہے اور اس پر عقیدہ رکھے تو ایسا شخص مشرک ہے، اور ہماری ولایت سے دور ہے، خداوندعالم کی ذات عین عالم ،عین سمیع، اور عین بصیر و قادر ہے (اور یہ صفات اس کی ذات پر زائد نہیں ہیں)“۔
[1] . (1) اشاعرہ خداوندعالم کی سات صفات ( علم، قدرت،ارادہ، سمع، بصر، حیات اور تکلم) کو قدیم اور زائد بر ذات جانتے ہیں، جن میں سے بعض افراد خدا وندعالم کی ذات اور سات صفات کے قدماء ثمانیہ (یعنی آٹھ ازلی وجود) کہتے ہیں جبکہ ہماری نظر میں یہ عقیدہ باطل اور شرک ہے( کیو نکہ اس صورت میں تعدد الٰہ لا زم آتا ہے)
[2] . بحار الانوار، جلد ۴، صفحہ ۶۳․
[3] . تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۱۱۶․
فطرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان بعض حقائق کو بغیر کسی استدلال اور برہان کے حاصل کرلیتا ہے، (چاہے وہ پیچیدہ اور مشکل استدلال ہو اور چاہے واضح اور روشن استدلال ہوں) اور وہ حقائق اس پر واضح و روشن ہوتے ہیں ان کو وہ قبول کرلیتا ہے، مثلاً انسان کسی خوبصورت اور خوشبو دار پھول کو دیکھتا ہے تو اس کی ”خوبصورتی“ کا اعتراف کرتا ہے اور اس اعتراف کے سلسلہ میں کسی بھی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی، انسان اس موقع پر کہتا ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ خوبصورت ہے، اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
خدا کی شناخت اور معرفت کے سلسلہ میں بھی فطرت کاکردار یہی ہے جس وقت انسان اپنے دل و جان میں جھانکتا ہے تو اس کو ”نور حق“ دکھائی دیتا ہے، اس کے دل کو ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اس کو اس دنیا کے خالق اور صاحب علم و قدرت کی طرف دعوت دیتی ہے، اس مبداء کی طرف بلاتی ہے جو ”کمالِ مطلق“اور ”مطلقِ کمال“ ہے، اور اس درک اور احساس کے لئے اسی خوبصورت پھول کی طرح کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔
خدا پر ایمان کے فطری ہونے پر زندہ ثبوت:
سوال :ممکن ہے کوئی کہے: یہ صرف دعویٰ ہے، اور خدا شناسی کے سلسلہ میں اس طرح کی فطرت کو ثابت کرنے کے لئے کوئی راستہ نہیں،کیو نکہ میں تواس طرح کا دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میرے دل و جان میں اس طرح کا احساس پایا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی اس بات کو قبول نہ کرے تو اس کو کس طرح قانع کرسکتا ہوں؟
جواب :ہمارے پاس بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعہ توحید خدا کو فطری طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے اور یہ شواہد انکار کرنے والوں کا منہ توڑ جواب بھی ہیں چنا نچہ ان قرائن کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
۱۔ تاریخی حقائق :
ان تا ریخی حقا ئق کے سلسلہ میں دنیا کے قدیم ترین مورخین نے جو تحقیق اور جستجو کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم و ملت میں کوئی دین نہیں تھا؟بلکہ ہر انسان اپنے لحاظ سے عالم ہستی کے مبدا علم و قدرت کا معتقد تھا اور اس پر ایمان رکھتا تھا اور اس کی عبادت کیا کرتا تھا، اگر یہ مان لیں کہ اس سلسلہ میں بعض اقوام مستثنیٰ تھیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا (کیونکہ ہر عام کے لئے نادر مقامات پر استثنا ہوتا ہے)
”ویل ڈورانٹ“ مغربی مشہور مورخ اپنی کتاب ”تاریخ تمدن“ میں بے دینی کے بعض مقامات ذکر کرنے کے بعد اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے: ”ہمارے ذکر شدہ مطالب کے باوجود ”بے دینی“ بہت ہی کم حالات میں رہی ہے ، اور یہ قدیم عقیدہ کہ دین ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں تقریباً سبھی افراد شامل رہے ہیں، یہ بات حقیقت پر مبنی ہے، یہ بات ایک فلسفی کی نظر میں بنیاد ی تاریخی اور علم نفسیات میں شمار ہوتی ہے، وہ اس بات پر قانع نہیں ہوتا کہ تمام ادیان میں باطل و بیہودہ مطالب تھے بلکہ وہ اس بات پر توجہ رکھتا ہے کہ دین قدیم الایام سے ہمیشہ تاریخ میں موجود رہا ہے“[1]
یہی موٴلف ایک دوسری جگہ اس سلسلہ میں اس طرح لکھتا ہے: ”اس پرہیزگاری کا منبع و مرکزکہاں قرار پاتا ہے جو کسی بھی وجہ سے انسان کے دل میںختم ہونے والی نہیں ہے“[2]
”ویل ڈورانٹ“ اپنی دوسری کتاب ”درسہای تاریخ“ میں ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیظ و غضب اور ناراحتی کی حالت میں کہتا ہے کہ ”دین کی سو جانیں ہوتی ہیں اگر اس کو ایک مرتبہ مار دیا جائے تو دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے!“[3]
اگر خدا اور مذہب کا عقیدہ ، عادت، تقلید ، تلقین یا دوسروں کی تبلیغ کا پہلو رکھتا ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا اس طرح عام طور پر پا یا جاتا اور ہمیشہ تاریخ میں موجود رہتا، لہٰذا یہ بہترین دلیل ہے کہ دین فطری ہے۔
۲۔ آثار قدیمہ کے شواہد :
وہ آثار اور علامتیں جو ماقبل تاریخ (لکھنے کے فن اختراع سے پہلے اور لوگوں کے حالات زندگی تحریر کرنے سے پہلے) میں ایسے آثار و نشانیاں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ مختلف قومیں اپنے اپنے لحاظ سے دین و مذہب رکھتی تھیں، ”خدا “ اور مرنے کے بعد ”معاد“ پر عقیدہ رکھتی تھی، کیونکہ ان کی من پسند چیزیں مرنے کے بعد ان کے ساتھ دفن کی گئی ہیں تاکہ وہ مرنے کے بعد والی زندگی میں ان سے کام لے سکیں! مردوں کے جسموں کو گلنے اور سڑنے سے بچانے کے لئے ”مومیائی“ کرنا ،یا ”اہرام مصر“ جیسے مقبرے بنانا تاکہ طولانی مدت کے بعد بھی باقی رہیں یہ تمام چیزیں اس بات کی شاہد ہیں کہ ماضی میں زندگی بسر کرنے والے افراد بھی خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے تھے۔
اگرچہ ان کاموں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہاں مذہبی عقائد میں بہت سے خرافات بھی پائے جاتے تھے ، لیکن یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصلی مسئلہ یعنی مذہبی ایمان ماقبل تاریخ سے پہلے موجود تھا جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
۳۔ ماہرین نفسیات کی تحقیق اور ان کے انکشافات:
انسانی روح کے مختلف پہلووٴں اور اس کی اصلی خواہشات پر ریسرچ بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مذہبی اعتقاد اور دین ایک فطری مسئلہ ہے۔
چار مشہور و معروف احساس (یا چار بلند خواہشات) اور انسانی روح کے بارے میں نفسیاتی ماہرین نے جو چار پہلو بیان کئے ہیں: (۱۔ حس دانائی، ۲۔ حس زیبائی، ۳۔ حس نیکی، ۴۔ حس مذہبی،) ان مطالب پر واضح و روشن دلیلیں ہیں۔ [4]انسان کی حس مذہبی یا روح انسان کا چوتھا پہلو ، جس کو کبھی ”کمال مطلق کا لگاؤ“ یا ”دینی اور الٰہی لگاؤ“ کہا جاتا ہے یہ وہی حس اور طاقت ہے جو انسان کو مذہب کی طرف دعوت دیتی ہے ، اور بغیر کسی خاص دلیل کے خدا پر ایمان لے آتی ہے، البتہ ممکن ہے کہ اس مذہبی ایمان میں بہت سے خرافات پائے جاتے ہوں، جس کا نتیجہ کبھی بت پرستی ، یا سورج پرستی کی شکل میں دکھائی دے، لیکن ہماری گفتگو اصلی سرچشمہ کے بارے میں ہے۔
۴۔ مذہب مخالف پروپیگنڈے کا ناکام ہوجانا
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ چند آخری صدیوں میں خصوصاً یورپ میں دین مخالف پروپیگنڈے بہت زیادہ ہوئے ہیں جو ابھی تک وسیع اور ہمہ گیروسائل کے لحاظ سے بے نظیر ہیں۔
سب سے پہلے یورپ کی علمی تحریک (رنسانس)کے زمانہ سے جب علمی اور سیاسی معاشرہ گرجاگھر کی حکومت کے دباؤ سے آزاد ہوا تو اس وقت اس قدر دین کے خلاف پروپیگنڈہ ہوا جس سے الحادی نظریہ یورپ میں وجود میں آیا ہے اور ہرجگہ پھیل گیا( البتہ یہ مخالفت عیسائی مذہب کے خلاف ہوئی چونکہ یہی دین وہاں پر رائج تھا ) اس سلسلہ میں فلاسفہ اور سائنس کے ماہرین سے مدد لی گئی تاکہ مذہبی بنیاد کو کھوکھلا کردیا جائے یہاں تک کہ گرجاگھر کی رونق جاتی رہی، اور یورپی مذہبی علماگوشہ نشین ہوگئے، یہی نہیں بلکہ خدا ، معجزہ، آسمانی کتاب اور روز قیامت پر ایمان کا شمار خرافات میں کیا جانے لگا، اور بشریت کے چار زمانہ والا فرضیہ ( قصہ و کہانی کا زمانہ، مذہب کا زمانہ، فلسفہ کا زمانہ اور علم کا زمانہ) بہت سے لوگوں کے نزدیک قابل قبول سمجھا جانے لگا ، اور اس تقسیم بندی کے لحاظ سے مذہب کا زمانہ بہت پہلے گزرچکا تھا!
عجیب بات تو یہ ہے کہ آج کل کی معاشرہ شناسی کی کتابوں میں جو کہ اسی زمانہ کی ترقی یافتہ کتابیں ہیں ان میں اس فارمولہ کو ایک اصل کے عنوان سے فرض کیا گیا ہے کہ مذہب کا ایک طبیعی سبب ہے چاہے وہ سبب ”جہل“ ہو یا ”خوف“ یا ”اجتماعی ضرورتیں“ یا ”اقتصادی مسائل“ اگرچہ ان کے نظریہ میں اختلاف پایا جاتا ہے!!۔
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس وقت رائج مذہب یعنی گرجا گھر نے ایک طویل مدت تک اپنے ظلم و ستم اور عالمی پیمانہ پر لوگوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا اور خاص کرسائنسدانوں پر بہت زیادہ سختیاں کیں نیز اپنے لئے بہت زیادہ مرفہ اور آرام طلب اور دکھاوے کی زندگی کے قائل ہوئے اور غریب لوگوں کو بالکل بھول گئے لہٰذا انھیں اپنے اعمال کی سزا تو بھگتنا ہی تھی ، لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ صرف پاپ اور گرجا کا مسئلہ نہ تھا بلکہ دنیا بھر کے تمام مذاہب کی بات تھی۔
کمیونسٹوں نے مذہب کو مٹانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کردی اور تمام تر تبلیغاتی وسائل اور فلسفی نظریات کو لے کر میدان میں آئے اور اس پروپیگنڈہ کی بھر پور کوشش کی کہ ”مذہب معاشرہ کے لئے ”افیون“ ہے!
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی اس شدید مخالفت کے باوجود وہ لوگوں کے دلوں سے مذہب کی اصل کو نہیں مٹاسکے، اور مذہبی جوش و ولولہ کو نابود نہ کرسکے، اس طرح سے کہ آج ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ مذہبی احساسات پر پھر سے نکھار آرہا ہے، یہاں تک کہ خود کمیونسٹ ممالک میں بڑی تیزی سے مذہب کی باتیں ہورہی ہیں، اور میڈیا کی ہر خبر میں ان ممالک کے حکام کی پر یشانی کوبیان کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر مذہب خصوصاً اسلام کی طرف لوگوں کا رجحان روز بزور بڑھتا جارہا ہے، یہاں تک کہ خود کمیونسٹ ممالک میں کہ جہاں ابھی تک مذہب مخالف طاقتیں بیہودہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ، وہاں پر بھی مذہب پھیلتا ہوا نظرآتا ہے۔
ان مسائل کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذہب کا سرچشمہ خود انسان کی ”فطرت“ ہے، لہٰذا وہ شدید مخالفت کے باوجود بھی اپنی حفاظت کرنے پر قادر ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو مذہب کبھی کا مٹ گیا ہوتا۔
۵۔ زندگی کی مشکلات میں ذاتی تجربات:
بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی میں اس بات کا تجربہ کیا ہے کہ جس وقت بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بلاؤں اور مصیبتوں کا طوفان آتا ہے جہاں پر ظاہری اسباب دم توڑدیتے ہیں، اور انسان کی گردن تک چھری پہنچ جاتی ہے، تو اس طوفانی موقع پر اس کے دل کی گہرائیوں سے ایک امید پیدا ہوتی ہے اور انسان اس مبداکی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کی تمام مشکلات کو دور کرسکتا ہے، لہٰذا انسان اسی سے لَو لگاتا ہے اور اسی سے مدد مانگتا ہے، یہاں تک کہ معمولی افراد جو عام حالات میں دینی رجحان نہیں رکھتے وہ بھی اس مسئلہ سے الگ نہیں ہیں بلکہ وہ بھی شدید مشکلات یا لاعلاج بیماری کے وقت اس طرح کا روحانی نظریہ رکھتے ہیں۔
(قارئین کرام!) یہ تمام چیزیں اس حقیقت پر واضح شاہد ہیں کہ دین ایک فطری شئے ہے ، چنا نچہ قرآن مجید نے اس سلسلہ میں بہت پہلے ہی خبر دی ہے․
جی ہاں انسان اپنے دل کی گہرائیوں سے اپنے اندر ایک آواز کو سنتا ہے جو محبت اور پیار سے لبریز ہوتی ہے اور وہ مستحکم و واضح ہوتی ہے اور اس کو ایک عظیم حقیقت یعنی عالم و قادر کی طرف دعوت دیتی ہے جس کا نام ”اللہ“ یا ”خدا“ ہے ، ممکن ہے کوئی شخص دوسرے نام سے پکارے ، نام سے کوئی بحث نہیں ہے، بلکہ اس حقیقت پر ایمان کا مسئلہ ہے۔
مفکر شعراء کرام نے بھی اپنے دلچسپ اور بہترین اشعار میں اس مطلب کو بیان کیا ہے:
شورش عشق تو در ہیچ سری نیست کہ نیست
منظر روی تو زیب نظری نیست کہ نیست!
نہ ہمین از غم تو سینہ ما صد چاک است
داغ تو لالہ صفت، بر جگری نیست کہ نیست؟؟
ایک دوسرا شاعر کہتا ہے:
در اندرون من خستہ دل ندانم کیست؟
کہ من خموشم و او در فغان و در غوغاست
”میں نہیں جانتا کہ میرے خستہ دل میں کون ہے کہ میں تو خاموش ہوں لیکن وہ نالہ و فریاد کررہا ہے“۔
۶۔مذہب کے فطری ہونے پر دانشوروں کی گواہی
”معرفت خدا“ کے مسئلہ کا فطری ہونا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں صرف قرآن و احادیث نے بیان کیا ہو ،بلکہ غیر مسلم فلاسفہ ،دانشوروں اور نکتہ فہم شعرا کی گفتگو سے بھی یہ مسئلہ واضح ہے۔
چند نمونے:
اس سلسلہ میں ”اینشٹائن“ ایک مفصل بیان کے ضمن میں کہتا ہے: ” بغیر کسی استثنا کے سبھی لوگوں میں ایک عقیدہ اور مذہب پایا جاتا ہے․․․ اور میں اس کا نام ”مذہب کی ضرورت کا احساس “ رکھتا ہوں․․․ چنانچہ انسان دنیوی چیزوں کے علاوہ جن چیزوں کا احساس کرتا ہے اس مذہب کے تحت انسان تمام اہداف اور عظمت و جلال کو حقیر سمجھتا ہے ، وہ اپنے وجود کو ایک قید خانہ سمجھتا ہے، گویا اپنے بدن کے پنجرے سے پرواز کرنا چاہتا ہے اور تمام ہستی کو ایک حقیقت کی شکل میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔[5]
اس طرح مشہور و معروف دانشور ”پاسکال“ کہتا ہے:
”دل کے اندر ایسے دلائل ہوتے ہیں جن تک عقل نہیں پہنچ سکتی“![6]
”ویلیم جیمز “ کہتا ہے:”میں اس بات کو اچھی طرح مانتاہوں کہ مذہبی زندگی کا سرچشمہ ”دل“ ہے، اور اس بات کو بھی قبول کرتا ہوں کہ فلسفی فارمولے اور دستور العمل اس ترجمہ شدہ مطلب کی طرح ہیں جس کی اصلی عبارت کسی دوسری زبان میں ہو“۔[7]
”ماکس مولر“ کہتا ہے:”ہمارے بزرگ اس وقت خدا کی بارگاہ میں سرجھکاتے تھے کہ اس وقت خدا کا نام بھی نہیں رکھا گیا تھا۔[8]
ماکس ایک دوسری جگہ اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اس نظریہ کے برخلاف، جس میں کہا جاتا ہے کہ دین پہلے سورج چاند وغیرہ اور بت پرستی سے شروع ہوا ہے اس کے بعد خدائے واحد کی پرستش تک پہنچا ہے، آثار قدیمہ کے ما ہرین نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ خدا پرستی سب سے قدیم دین ہے“۔[9]
مشہور و معروف مورخ ”پلوتارک“ لکھتا ہے:
”اگر آپ دنیا پر ایک نظر ڈالیں تو بہت سی ایسی جگہ دیکھیں گے جہاں پر نہ کوئی آبادی ہے نہ علم و صنعت اور نہ سیاست و حکومت، لیکن کوئی جگہ ایسی نہیں ملے گی جہاں پر ”خدا“ نہ ہو“![10]
”ساموئیل کنیگ“ اپنی کتاب ”جامعہ شناسی“ میں کہتا ہے: ”دنیا میں تمام انسانی جماعتوں کا کوئی نہ کوئی مذہب تھا، اگرچہ سیاحوں اور پہلے (عیسائی) مبلغین نے بعض گروہوں کا نام لیا ہے جن کا کوئی مذہب نہیں تھا، لیکن بعد میں معلوم یہ ہوا ہے کہ اس کی رپورٹ کا کوئی حوالہ نہیں ہے، اور ان کا یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے تھا کہ ان کے گمان کے مطابق ان کا مذہب بھی ہماری طرح کا کوئی مذہب ہونا چاہئے تھا“۔[11]
(قارئین کرام!) ہم اپنی بحث کو مشہور و معروف دور حا ضر کے مورخ ”ویل ڈورانٹ“ کی گفتگو پر ختم کرتے ہیں، وہ کہتا ہے:
”اگر ہم مذہب کے سرچشمہ کو ماقبل تاریخ تصور نہ کریں تو پھر مذ ہب کو صحیح طور پر نہیں پہچان سکتے“۔[12].[13]/
[1] . تاریخ تمد ن ، ویل ڈورانٹ“ ، جلد اول، صفحہ ۸۷ و۸۹․
[2] . تاریخ تمد ن ، ویل ڈورانٹ“ ، جلد اول، صفحہ ۸۷ و۸۹․
[3] . فطرت“ شہید مطہری، صفحہ۱۵۳․
[4] . حس مذہبی یا بعد چہارم روح انسانی“ میں ”کونٹائم“ کے مقالہ کی طرف رجوع فرمائیں،( ترجمہ مہندس بیانی(
[5] . دنیائی کہ من می بینم“ (باتلخیص) صفحہ ۵۳․
[6] . سیر حکمت در اروپا“ ، جلد ۲، صفحہ ۱۴․
[7] . سیر حکمت در اروپا“ ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۱․
[8] . مقدمہٴ نیایش صفحہ ۳۱․
[9] . فطرت “شہید مطہری ، صفحہ ۱۴۸․
[10] . مقدمہ نیایش ، صفحہ ۳۱․
[11] . جامعہ شناسی،ساموئیل کنیگ“ صفحہ ۱۹۱․
[12] . تاریخ تمدن ، جلد اول، صفحہ ۸۸․
[13] . تفسیر پیام قرآن ، جلد ۳، صفحہ ۱۲۰․
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ توحید ذات کے معنی یہ ہیں کہ خدا ایک ہے دو خدا نہیں ہیں، لیکن یہ معنی صحیح نہیں ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام سے منقول روایت میں بیان ہوا ہے، کیونکہ اس کا مطلب ”واحدِ عددی“ ہے (یعنی دوسرے خدا کا تصور پایا جاتا ہے لیکن اس کا وجود خارجی نہیں ہے)، قطعاًیہ نظریہ باطل ہے، توحید ذات کے صحیح معنی یہ ہیں کہ خدا ایک ہے اور اس کے دوسرے کا تصور بھی نہیں ہے، یا دوسرے الفاظ میں کہا جائے کہ ”خدا کے لئے کوئی شبیہ و نظیر او رمانند نہیں ہے“ نہ کوئی چیز اس کی شبیہ ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز سے مشابہ، کیونکہ ایک لامحدود و بیکراں کامل وجود کے یہی صفات ہوتے ہیں۔
اسی وجہ سے ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے پوچھا: ”اٴیّ شَیءٍ الله اٴکْبَر“ ( اللہ اکبر کے کیا معنی ہیں؟(
تو اس نے عرض کی: ”الله اکبر من کل شیء“ اللہ تمام چیزوں سے بڑا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ”فَکَانَ ثمَّ شیءٍ فیکونُ اٴکبرُ مِنْہُ“ کیا کوئی چیز (اس کے مقابلہ میں) موجود ہے جس سے خدا بڑا ہو،؟
صحابی نے عرض کیا: ”فما ہو“؟ آپ خود ہی فرمائیں اللہ اکبر کی تفسیر کیا ہے؟
تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اللهُ اٴکبرُ من اٴنْ یُوصفْ“ خدا اس سے کہیں بلند و بالا ہے کہ اس کی توصیف کی جائے۔[1]
۲۔توحید صفاتی
جس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ توحید کی ایک قسم ”توحید صفاتی“ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف خداوندعالم جس طرح اپنی ذات میں ازلی اور ابدی ہے اسی طرح اپنے صفات: علم و قدرت وغیرہ میں بھی ازلی و ابدی ہے، تو دوسری طرف یہ کہ یہ صفات زائد بر ذات نہیں ہیں یعنی اس کی ذات پر عارض نہیں ہیں بلکہ یہ صفات ؛ عین ذات ہیں۔
نیز یہ کہ اس کے صفات ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں یعنی اس کا علم اور اس کی قدرت ایک ہی ہیں، اور دونوں اس کی عین ذات ہیں!۔
مزیدوضاحت: جب ہم اپنے آپ کو دیکھتے ہیں کہ شروع شروع میںہمارے یہاں بہت سے صفات نہیں تھے، پیدائش کے وقت نہ علم تھا اور نہ طاقت، لیکن آہستہ آہستہ یہ صفات ہمارے یہاں پیدا ہوتے گئے،اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ صفات ہمارے لئے زائد بر ذات ہیں ، لہٰذا ممکن ہے کہ ایک روز ہمارا وجود ہو لیکن ہمارا علم و طاقت ختم ہوجائے ، نیز ہم اس بات کو واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارا علم اور ہماری قدرت ہم سے جدا اور الگ ہیں، طاقت ہمارے جسم میں اور علم ہماری روح میں نقش ہے!
لیکن خداوندعالم کے یہاں یہ تصور نہیں پایاجاتا،بلکہ اس کی تمام ذات علم ہے، اس کی تمام ذات قدرت ہے اور یہ تمام چیزیں ایک ہی ہیں، البتہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان معنی و مفہوم کی تصدیق کرنا تھوڑا پیچیدہ او ر غیرمانوس ہے کیونکہ یہ صفات ہمارے یہاں نہیں پائے جاتے،
صرف عقل و منطق اور دقیق استدلال کے ذریعہ ہی ان صفات کو سمجھا جاسکتا ہے۔[2]
۳۔توحید افعالی
یعنی دنیا میں ہر موجود،اور ہر فعل خداوندعالم کی ذات پاک کی طرف پلٹتا ہے، وہی مسبب الاسباب ہے، تمام علتوں کی علت اسی کی ذات اقدس ہے، یہاں تک کہ جن افعال کو ہم انجام دیتے ہیں ایک طرح سے وہ بھی اسی کی طرف پلٹتے ہیں، اس نے ہمیں قدرت، اختیار اور ارادہ دیا ہے، لہٰذا ایک لحاظ سے ہم اپنے افعال کے فاعل اور ان کے ذمہ دارہیں ، اورایک لحاظ سے ان کا فاعل خداوندعالم ہے، کیونکہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ سب اسی کی طرف پلٹتا ہے۔ ”لا موٴثر فی الوجود الا الله“ (وجود میں سوائے اللہ کے کوئی موثر نہیں ہے)
۴۔ عبادت میں توحید
یعنی صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کا اہل اور سزاوار نہیں ہے، کیونکہ عبادت اس کی ہونی چاہئے کہ جو کمالِ مطلق اور مطلق کمال ہو، جو سب سے بے نیاز ہو، جو تمام نعمتوں کا عطا کرنے والا ہو، جو تمام موجودات کا خلق کرنے والا ہو، اور یہ صفات ذات اقدس الٰہی کے علاوہ کسی غیر میں نہیں ہیں۔
عبادت کا اصلی مقصد کمالِ مطلق اور لامتناہی وجودکی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا ہے، تاکہ اس کے صفات کمال و جمال کا عکس انسان کی روح پر پڑے، جس کے نتیجہ میں انسان ہوا ہوس سے دوری اختیار کرے اور اپنے نفس کے تزکیہ اور پاکیزگی کے لئے سعی وکوشش کرے۔
عبادت کا یہ ہدف اور مقصد صرف ”اللہ تعالیٰ“ کی عبادت میں موجودہے اور اس کے علاوہ کسی غیر کی عبادت میں نہیں پایا جاتا چونکہ صرف وہی کمال مطلق ہے۔[3]
[1] . معانی الاخبار“ ،صدوق ۺ ، صفحہ ۱۱، حدیث۱․
[2] . تفسیر نمونہ ، جلد ۲۷، صفحہ ۴۴۶․
[3] . تفسیر پیام قرآن، جلد ۳، صفحہ ۲۷۴․
خوش قسمتی سے آج سائنس نے ترقی کر کے بہت سی ایسی چیزیں بناڈالی ہیں کہ ان کے وجود سے مادیت اور اس کے نتیجہ میں مادی اور الحادی نظریہ کی تردید ہوجاتی ہے، قدیم زمانہ میں تو ایک دانشور یہ کہہ سکتا تھا کہ جس چیز کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے اس کوقبول نہیں کیا جاسکتا، لیکن آج سائنس کی ترقی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے: اس دنیا میں دیکھی جانے والی اور درک ہونے والی چیزوں سے زیادہ وہ چیزیں ہیں جن کو دیکھا اوردرک نہیں کیا جاسکتا، عالم طبیعت میں اس قدر موجودات ہیں کہ انھیں حواس میں سے کسی کے بھی ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، اور ان کے مقابلہ میں درک ہونے والی چیزیں صفر شمار ہوتی ہیں!
نمونہ کے طور پر چند چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
۱۔ علم فیزکس کہتا ہے کہ رنگوں کی سات قسموں سے زیادہ نہیں ہیں جن میں سے پہلا سرخ اور آخری جامنی ہے، لیکن ان کے ماوراء ہزاروں رنگ پائے جاتے ہیں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ بعض حیوانات ان بعض رنگوں کو دیکھتے ہیں۔
اس کی وجہ بھی واضح اور روشن ہے ، کیونکہ نور کی لہروں کے ذریعہ رنگ پیدا ہوتے ہیں، یعنی آفتاب کا نور دوسرے رنگوں سے مرکب ہوکر سفید رنگ کو تشکیل دیتا ہے اور جب جسم پر پڑتا ہے تو وہ جسم مختلف رنگوں کو ہضم کرلیتا ہے اور بعض کو واپس کرتا ہے جن کو واپس کرتا ہے وہ وہی رنگ ہوتا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، لہٰذا اندھیرے میں جسم کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، دوسری طرف نور کی موجوں کی لہروں کی شدت اور ضعف کی وجہ سے رنگوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے اور رنگ بدلتے رہتے ہیں، یعنی اگر نور کی لہروں کی شدت فی سیکنڈ۴۵۸ ہزار ملیارڈ تک پہنچ جائے تو سرخ رنگ بنتا ہے اور ۷۲۷ ہزار ملیارڈ لہروں کے ساتھ جامنی رنگ دکھائی دیتا ہے ، اس سے زیادہ لہروں یا کم لہروں میں بہت سے رنگ ہوتے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے ۔
۲۔ آواز کی موجیں ۱۶/مرتبہ فی سیکنڈ سے لے کر ۰۰۰/۲۰ مرتبہ فی سیکنڈ تک ہمارے لئے قابل فہم ہیں اگر اس سے کم یا زیادہ ہوجائے تو ہم اس آواز کو نہیں سن سکتے۔
۳۔ امواجِ نور کی جن لہروں کو ہم درک کرسکتے ہیں انھیں۴۵۸ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ سے ۷۲۷ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ تک کی حدود میں ہونا چاہئے اس سے کم یا زیادہ چاہے فضا میں کتنی ہی آوازیں موجود ہوں ہم ان کو درک نہیں کرسکتے۔
۴۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے جانداروں (وائرس اور بیکٹریز) کی تعدادانسان کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں، اور بغیر کسی دوربین کے دیکھے نہیں جاسکتے ، اور شایداس کے علاوہ بہت سے ایسے چھوٹے جاندار پائے جاتے ہیں جن کو سائنس کی بڑی بڑی دوربینوں کے ذریعہ ابھی تک نہ دیکھا گیا ہو۔
۵۔ ایک ایٹم اور اس کی مخصوص باڈی اور الکٹرون کی گردش نیز پروٹن کے ذریعہ ایک ایسی عظیم طاقت ہوتی ہے جو کسی بھی حس کے ذریعہ قابل درک نہیں ہے، حالانکہ دنیاکی ہر چیز ایٹم سے بنتی ہے، اور ہوا میں بمشکل دکھائی دینے والے ایک ذرہ غبار میں لاکھوں ایٹم پائے جاتے ہیں۔
گزشتہ دانشور وں نے جو کچھ ایٹم کے بارے میں نظریہ پیش کیا تھا وہ صرف تھیوری کی حد تک تھا لیکن کسی نے بھی ان کی باتوں کو نہیں جھٹلایا۔(1)
(1) منجملہ ان چیزوں کے جو محسوس نہیں ہوتی لیکن کسی بھی دانشور نے ان کا انکار نہیں کیا ہے زمین کی حرکت ہے یعنی 7
لہٰذا اگر کوئی چیز غیر محسوس ہے تو یہ اس کے نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے، آپ دیکھئے دنیا میں ایسی بہت سی چیزیں بھری پڑی ہیں جو غیر محسوس ہیں جن کو ہمارے حواس درک نہیں کرسکتے!
جیسا کہ ایٹم کے کشف سے پہلے یا ذرہ بینی (چھوٹی چھوٹی چیزوں) کے کشف سے پہلے کسی کو اس بات کا حق نہیں تھا کہ ان کا انکار کرے، اور ممکن ہے کہ بہت سی چیزیں ہمارے لحاظ سے مخفی ہوں اور ابھی تک سائنس نے ان کو کشف نہ کیا ہو بلکہ بعد میں کشف ہوں تو ایسی صورت میں ہماری عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان شرائط (علم کا محدود ہونا اور مختلف چیزوں کے درک سے عاجز ہونے) کے تحت ہم ان چیزوں کے بارے میں نظریہ پیش کریں کہ وہ چیزیں ہیں یا نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ہمارے حواس اور دوسرے وسائل کا دائرہ محدود ہے لہٰذا ان کے ذریعہ ہم عالَم کو بھی محدود مانیں۔[1]
8کرہٴ زمین گھومتا ہے، اور یہ وہی ”مدو جزر“(پھیلنا اورسکڑنا ) ہے جو اس زمین پر رونما ہوتا ہے، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاؤں تلے کی زمین دن میں دو بار ۳۰ سینٹی میٹر اوپر آتی ہے، جس کو نہ کبھی ہم نے دیکھا، اور نہ کبھی اس کااحساس کیا، یہ زمین دن میں دو بار ۳۰cmاوپر آتی ہے․
انھیں چیزوں میں سے ہوا بھی ہے جوہمہ وقت ہمارے چاروں طرف موجود رہتی ہے اوراس قدر وزنی ہے کہ ہر انسان ۱۶ ہزار کلوگرام کے برابر اس کو برداشت کرسکتا ہے، اور ہمیشہ عجیب و غریب دباؤ میں رہتا ہے البتہ چونکہ یہ دباؤ (اس کے اندرونی دباؤ کی وجہ سے) ختم ہوتا رہتا ہے لہٰذا اس دباؤ کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جبکہ کوئی بھی انسان یہ تصور نہیں کرتا کہ ہوا اس قدر وزنی ہے، ”گلیلیو“ اور ”پاسکال“ سے پہلے کسی کو ہوا کے وزن کا علم نہیں تھا، اور اب جبکہ سائنس نے اس کے وزن کی صحت کی گواہی دے دی پھر بھی ہم اس کا احساس نہیں کرتے․
انھیں غیر محسوس چیزوں میں سے ”اٹر“ ہے کہ بہت سے دانشوروں نے ریسرچ کے بعد اس کااعتراف کیا ہے، اور ان کے نظریہ کے مطابق یہ شئے تمام جگہوں پر موجود ہے اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے، بلکہ بعض دانشور تو اس کو تمام چیزوں کی اصل مانتے ہیں، اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ ”اٹر“ ایک بے وزن اوربے رنگ چیز ہے اور اس کی کوئی بو بھی نہیں ہوتی․․․ جو تمام ستاروں اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے اور تمام چیزوں کے اندر نفوذ کئے ہوئے ہے، لیکن ہم اسے درک کرنے سے قاصر ہیں․
(1البتہ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ دعویٰ کرناچاہتے ہیں کہ جس طرح سے الکٹرون ، پروٹون یا دوسرے رنگ سائنس نے کشف کئے ہیں تو سائنس مزید ترقی کرکے بعض مجہول چیزوں کو کشف کرلے گا، اور ممکن ہے کہ ایک روز ایسا آئے کہ اپنے ساز و سامان کے ذریعہ ”عالم ماورائے طبیعت“ کو بھی کشف کرلے!
جی نہیں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا کہ ”ماورائے طبیعت“ اور ”ماورائے مادہ “ کو مادی وسائل کے ذریعہ نہیں سمجھا جاسکتا، اور یہ کام مادی اسباب و سازو سامان کے بس کی بات نہیں ہے۔
8خدمت میں پیش کر تے ہیں:
”لوگ جہالت ونادانی کی وادی میں زندگی بسر کررہے ہیں اور انسان یہ نہیں جانتا کہ اس کی یہ جسمانی ترکیب اس کو حقائق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتی ہے، اور اس کویہ حواس خمسہ ،کسی بھی چیز میں دھوکہ دے سکتے ہیں، صرف انسان کی عقل و فکر اور علمی غور و فکر ہی حقائق کی طرف رہنمائی کرسکتی ہیں“! اس کے بعد ان چیزوں کو بیان کرنا شروع کرتا ہے جن کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے، اوراس کے بعد موٴلف کتا ب ایک ایک کرکے بیان کرتا ہے اور پھر ہر ایک حس کی محدودیت کو ثابت کرتا ہے یہاں تک کہ کہتا ہے:”لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری عقل اور سائنس کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ بہت سی حرکات ، ذرات، ہوا ، طاقتیں اور دیگر چیزیں ایسی ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے، اور ان حواس میں سے کسی ایک سے بھی ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے اطراف میں بہت سی ایسی چیزیں ہوں جن کا ہم احساس نہیں کرتے ، بہت سے ایسے جاندار ہوں جن کو ہم نہیں دیکھتے، جن کا احساس نہیں کرتے، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ ”ہیں“ بلکہ ہم یہ کہیں : ”ممکن ہے کہ ہوں“ کیونکہ گزشتہ باتوں کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے حواس تمام موجودات کو ہمارے لئے کشف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ بلکہ یہی حواس بعض اوقات تو ہمیں فریب دیتے ہیں ،اور بہت سی چیزوں کو حقیقت کے بر خلاف دکھاتے ہیں، لہٰذا ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ تمام موجودات کی حقیقت صرف وہی ہے جس کو ہم اپنے حواس کے ذریعہ درک کرلیں، بلکہ ہمیں اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ بہت سی موجودات ہوں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، جیسا کہ ”جراثیم“ کے کشف سے پہلے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ”لاکھوں جراثیم“ ہر چیزکے چاروں طرف موجود ہوں گے، اور ان جراثیم کے لئے ہر جاندار کی زندگی ایک میدان کی صورت رکھتی ہوگی․
نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے یہ ظاہری حواس اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ موجودات کی حقیقت اور ان کی واقعیت کا صحیح پتہ لگاسکیں، مکمل طور پر حقائق کو بیان کرنے والی شئے ہماری عقل اور فکر ہوتی ہے“ (نقل از علی اطلال المذہب المادی، تالیف فرید وجدی ، جلد ۴)
مطلب یہ ہے کہ جس طرح بعض چیزوں کے کشف ہونے سے پہلے ان کے بارے میں انکار کرنا جائز نہیں تھا اور ہمیں اس بات کا حق نہیں تھا کہ یہ کہتے ہوئے انکار کریں کہ فلاں چیز کوچونکہ ہم نہیں دیکھتے؛ جن چیزوں کو دنیاوی سازو سامان کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا ، یاوہ سائنس کے ذریعہ ثابت نہیں ہیں لہٰذا ان کا کوئی وجود نہیں ہے، اسی طرح سے ”ماورائے طبیعت“ کے بارے میں یہ نظریہ نہیں دے سکتے کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے، لہٰذا اس غلط راستہ کو چھوڑنا ہوگا اور خدا پرستوں کے دلائل کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اس کے بعد اپنی رائے کے اظہار کا حق ہوگا اس لئے کہ اس صورت میں واقعی طور پر اس کا نتیجہ مثبت ہوگا[2]
[1] . مذکورہ بالا مطلب کی تصدیق کے لئے ”کامیل فلامارین“ کی کتاب ”اسرار موت“ سے ایک اقتباس آپ حضرات کی 7
[2] . آفریدگار جہان، آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کی بحثوں کا مجموعہ، صفحہ ۲۴۸․
خدا پرستوں پر مادیوں کا ایک بیہودہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ”انسان کس طرح ایک ایسی چیز پر ایمان لے آئے جس کو اس نے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو یا اپنے حواس سے درک نہ کیا ہو، تم کہتے ہو کہ خدا کا نہ جسم ہے اور نہ اس کے رہنے کے لئے کوئی جگہ، نہ زمان درکار ہے اور نہ کوئی رنگ و بووغیرہ تو ایسے وجودکو کس طرح درک کیا جاسکتاہے اور کس ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے؟لہٰذا ہم تو صرف اسی چیز پر ایمان لاسکتے ہیں کہ جس کو اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکیں اور جس چیز کو ہماری عقل درک نہ کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے“۔
جواب :اس اعتراض کے جواب میں مختلف پہلوؤں سے بحث کی جاسکتی ہے:
۱۔ معرفت خدا کے سلسلہ میں مادیوں کی مخالفت کے اسباب :
ان کا علمی غرور اور ان کا تمام حقائق پر سائنس کو فوقیت دینا ، اور اسی طرح ہر چیز کو سمجھنے اور پرکھنے کا معیار صرف تجربہ اور مشاہدہ قرار دینا ہے، نیز اس بات کا قائل ہونا کہ طبیعی اور مادی چیزوں کے ذریعہ ہی کسی چیز کو درک کیا جاسکتا ہے، (یہ سخت بھول ہے۔)
کیونکہ ہم اس مقام پر ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ سائنس کے سمجھنے اور پرکھنے کی کوئی حد ہے یا نہیں؟!
واضح ہے کہ اس سوال کا جواب مثبت ہے کیونکہ سائنس کے حدود دوسری موجودات کی طرح محدود ہیں ۔
تو پھر کس طرح لامحدود موجود کو طبیعی چیزوں کے ذریعہ درک کیا جاسکتا ہے؟۔
لہٰذا بنیادی طور پر خداوندعالم، اور موجودات ِماورائے طبیعت ،سائنس کی رسائی سے باہر ہیں، اورجو چیزیں ماورائے طبیعت ہوں ان کو سائنس کے آلات کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، ”ماورائے طبیعت “سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس کے ذریعہ ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں سے ہر شعبہ کے لئے ایک الگ میزان و مقیاس ہوتا ہے جس سے دوسرے شعبہ میں کام نہیں لیا جاسکتا، نجوم شناسی، فضا شناسی اور جراثیم شناسی میں ریسرچ کے اسباب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔
کبھی بھی ایک مادی ماہر اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ ایک منجم سے کہا جائے کہ فلاں جرثومہ کو ستارہ شناسی وسائل کے ذریعہ ثابت کرو، اسی طرح ایک جراثیم شناس ماہر سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے آلات کے ذریعہ ستاروں کے بارے میں خبر دے ، کیونکہ ہر شخص اپنے علم کے لحاظ سے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرسکتا ہے، اور اپنے دائرے سے باہر نکل کر کسی چیز کے بارے میں ”مثبت“ یا ”منفی“ نظریہ نہیں دے سکتا۔
لہٰذا ہم کس طرح سائنس کو اس بات کا حق دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے دائرے سے باہر بحث و گفتگو کرے ، حالانکہ اس کے دائرے کی حد عالم طبیعت اور اس کے آثار و خواص ہیں؟!
ایک مادی ماہر کو یہ حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں ”ماورائے طبیعت“ کے سلسلہ میں خاموش ہوں، کیونکہ یہ میرے دائر ے سے باہر کی بات ہے، نہ یہ کہ وہ ماورائے طبیعت کا انکار کرڈالے، یہ حق اس کو نہیں دیا جاسکتا۔
جیسا کہ اصولِ فلسفہٴ حسی کا بانی ” ا گسٹ کانٹ“ اپنی کتاب ”کلماتی در پیرامون فلسفہ حسی“ میں کہتا ہے:”چونکہ ہم موجودات کے آغاز و انجام سے بے خبر ہیں لہٰذا اپنے زمانہ سے پہلے یا اپنے زمانہ کے بعد آنے والی موجودات کا انکار نہیں کرسکتے، جس طرح سے ان کو ثابت بھی نہیں کرسکتے،(غور کیجئے گا(
خلاصہ یہ کہ حسی فلسفہ ، جہل مطلق کے ذریعہ کسی بھی طرح کا نظریہ نہیں دےتا، لہٰذا حسی فلسفہ کے فرعی علوم کو بھی موجوات کے آغاز اور انجام کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے ، یعنی ہم خدا کے علم و حکمت ، او راس کے وجود کا انکار نہ کریں اور اس کے بارے میں نفی و اثبات کے سلسلہ میں بے طرف رہیں ،(نہ انکار کریں اور نہ اثبات) “
ہمارے کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ”ماورائے طبیعت دنیا“ کو سائنس کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاسکتا، اصولی طور پر وہ خدا جس کو مادی اسباب کے ذریعہ ثابت کیا جائے خدا نہیں ہوسکتا۔
دنیا بھر کے خداپرستوں کے عقائد کی بنیاد یہ ہے کہ خدا ،مادہ اور مادہ کی خاصیت سے پاک و منزہ ہے، اور اسے کسی بھی مادی وسیلہ سے درک نہیں کیا جاسکتا۔
لہٰذا یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس دنیا کو خلق کرنے والے کو آسمان کی گہرائیوں میں میکروسکوپ (Microscope) یا ٹلسکوپ کے ذریعہ تلاش کیا جاسکتا ہے، یہ خیال بیہودہ اور بےجا ہے۔
۲۔ اس کی نشانیاں
دنیا کی ہر چیز کی پہچان کے لئے کچھ آثار اور نشانیاں ہوتی ہیں ، لہٰذا اس کی نشانیوں کے ذریعہ ہی اس کو پہچانا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ آنکھوں اور دوسرے حواس کے ذریعہ جن چیزوں کو درک کرتے ہیں در حقیقت ان کو بھی آثار اور نشانیوں کے ذریعہ ہی پہچانتے ہیں، (غور کیجئے )
کیونکہ کوئی بھی چیز ہمارے فکر و خیال میں داخل نہیں ہوسکتی اور ہمارا مغز کسی بھی چیز کے لئے ظرف واقع نہیں ہوسکتا۔
مثال کے طور پر: اگر آپ آنکھوں کے ذریعہ کسی جسم کو تشخیص دینا چاہیں اور اس کے وجود کو درک کرنا چاہیں تو شروع میں اس چیز کی طرف دیکھیں گے اس کے بعد نور کی شعائیں اس پر پڑتی ہیں اور آنکھ کی پتلی میں نورانی لہریں ”شبکیہ“ نامی آنکھ کے پردہ پر منعکس ہوتی ہیں تو بینائی اعصاب نور کو حاصل کرکے مغز تک پہنچاتے ہیں او ر پھر انسان اس کو سمجھ لیتا ہے۔
اور اگر لمس کے ذریعہ (یعنی چھوکر) کسی چیز کو درک کریں تو کھال کے نیچے کے اعصاب انسان کے مغز تک اطلاع پہنچاتے ہیں اور انسان اس کو درک کرتا ہے، لہٰذا کسی جسم کو درک کرنا اس کے اثر (رنگ، آواز اور لمس وغیرہ ) کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور کبھی بھی وہ جسم ہمارے مغز میں قرار نہیں پاتا، اور اگر اس کا کوئی رنگ نہ ہو اور اعصاب کے ذریعہ اس کا ادراک نہ کیا جاسکتا ہو تو ہم اس چیز کو بالکل نہیں پہچان سکتے۔
مزید یہ کہ کسی چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا ایک نشانی کا ہونا کافی ہے، مثلاً اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہوکہ دس ہزار سال پہلے زمین کے فلاں حصہ میں ایک آبادی تھی اور اس کے حالات اس طرح تھے، تو صرف وہاں سے ایک مٹی کا کوزہ یا زنگ زدہ اسلحہ برآمد ہونا کافی ہے، اور اسی ایک چیز پر ریسرچ کے ذریعہ ان کی زندگی کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل ہوجائیں گی۔
اس بات کے پیش نظر ہر موجود چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی اس کو اثر یا نشانی کے ذریعہ ہی پہچانا جاتا ہے اور یہ کہ ہر چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا نشانی کا ہونا کافی ہے، تو کیا پوری دنیا میں عجیب و غریب اور اسرار آمیز چیزوں کو دیکھنا خدا کی شناخت اور اس کی معرفت کے لئے کافی نہیں ہے؟!
آپ کسی چیز کو پہچاننے کے لئے ایک اثر پر کفایت کرلیتے ہیں اور ایک مٹی کے کوزہ کے ذریعہ چند ہزار سال پہلے زندگی بسر کرنے والوں کے بعض حالات کا پتہ لگاسکتے ہیں، جبکہ خدا کی شناخت کے لئے ہمارے پاس لاتعداد آثار، لاتعداد موجودات اور بے کراں نظم ، جیسی چیزیں موجود ہیں کیا اتنے آثار کافی نہیں ہیں؟! دنیا کے کسی بھی گوشہ پر نظر ڈالیں خدا کی قدرت اور اس کے علم کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں، پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور اپنے کانوں سے نہیں سنا، تجربہ اور ٹلسکوپ کے ذریعہ نہیں دیکھ سکے، توکیا ہر چیز کو صرف آنکھوں سے دیکھا جاتاہے؟!
دروغ و دروغگويي از نگاه قرآن
دروغ در حوزه رذايل اخلاقي و
نابهنجاري اجتماعي به معناي سخن ناراست، خلاف حقيقت و يا واقعيت و گفتاري ناحق
است.
راغب اصفهاني در کتاب مفردات الفاظ القرآن بر اين باور است که اصل کذب و دروغ در
گفتار است. تفاوتي در دروغ از اين لحاظ نيست که در گذشته اتفاق افتاده باشد يا در
آينده; چنان که تفاوتي از اين جهت وجود ندارد که دروغ نسبت به وعده اي باشد که
انجام نمي شود و يا امر ديگري باشد. (مفردات ص 478 ذيل واژه صدق)
البته براي دروغ اقسام و انواعي گفته اند و براي هر يک از آنها نام هاي خاصي گذاشته
شده است. از جمله به افک و افترا و زور و حرص اشاره کرد.
نفاق و دروغ، دو روي يک سکه
شخصي که کاري ناپسند انجام مي دهد و يا قانون شکني مي کند، زماني که در موقعيت
بازخواست قرار مي گيرد با ابزار دروغ مي کوشد تا زشتي کار خويش را بپوشاند و ديگري
را فريب دهد. فريب و نيرنگ زدن از راه تغيير ماهيت عمل به گفتار موجب مي شود تا
شخص در جايگاهي قرار گيرد که عيب و عاري بر او نيست.
ماهيت دروغ فريب ديگري است. دروغگو در تعامل اجتماعي، براي بازسازي وجه شخصيتي و
اعتباري خويش تلاش مي کند و فريب و نيرنگ در گفتار از اين جهت انجام مي شود.
دروغگو، به نوعي، شخصي منافق است و اساسا ارتباط تنگاتنگي ميان دروغ و دورويي است.
دو رويي و دروغ بيانگر آن است که ميان ظاهر و باطن فرد سازگاري و تناسب نيست و عدم
تطابق به عنوان مولفه اصلي نفاق و کذب مي باشد. دورويي و دروغگويي از اين نظر
يکسان هستند.
در دروغگويي شخص براي بازسازي و توجيه رفتارها و کردارهايش تلاش مي کند و مي کوشد
تا شخصيت کاذبي را به جامعه نشان دهد که عامل وادارکننده شخص به دروغگويي مي تواند
ترس از قدرت ديگري و يا دست يابي به منفعت و يا مصلحتي باشد اما در نفاق عامل اصلي
و هدفي که موجب مي شود تا به نفاق گرايش يابد ترس از قدرت است که مي تواند وي را
از منفعتي محروم کند و يا فشاري بر او وارد سازد و او را وادار به امري کند که با
باورها و اعتقادات وي سازگار نيست. از اين رو مي توان گفت نسبت ميان دروغگويي و
نفاق عموم و خصوص مطلق است.
عوامل دروغگويي
قرآن عوامل چندي را به عنوان عامل دروغگويي معرفي مي کند. قرآن منشا دروغ را شيطان
و ابليس مي داند و به انسان هشدار مي دهد که شيطان به عنوان بنيانگذار دروغ و کسي
که از اين طريق کوشيد تا به اهداف پست خود دست يابد، موجودي است که انسان را تشويق
به دروغ مي کند. قرآن در داستان آفرينش و خلافت انسان گزارشي کامل از واقعه به دست
مي دهد و در آن جا به اموري توجه مي دهد که بسيار حياتي و حساس است.
قرآن گزارش مي کند که ابليس براي دست يابي به اهداف خويش و خوار و گمراه کردن
انسان به دروغ متوسل مي شود و نخستين موجودي است که از آن براي دست يابي به اهداف
شوم خود سود مي برد. به نظر مي رسد که ابليس بي دروغگويي نمي توانست آدم را گمراه
کند و لذا براي گمراه کردن وي از سوگند دروغ بهره برد.
قرآن به انسان هشدار مي دهد که شياطين و ياران ابليس الهام کنندگان دروغ بر
دروغگويان هستند (شعرا» آيه 221 و 222) و آنان هستند که به اين نابهنجاري دامن مي
زنند. البته قرآن توضيح مي دهد که شخصيت دروغگويان به آنان اجازه مي دهد تا تصرف
شوند. از اين رو مي فرمايد شياطين بر هر تهمت زننده و گناهکار الهام به دروغ مي
کنند.
چيرگي شيطان و ابليس بر انسان موجب مي شود تا به دروغ بلکه سوگندهاي دروغ گرايش
پيدا کند و براي دست يابي به منافع، با سو»استفاده از باورهاي مردم به اموري چون
خدا و پيامبر و امامان (ع) سوگند بخورد. (مجادله آيات 14 و 19)
حسادت، عامل دروغ
از ديگر عوامل، مي توان به حسادت
اشاره کرد. انسان به جهت حسادت نسبت به ديگري گرفتار اخلاق زشت دروغ مي شود. نمونه
و مصداقي که قرآن مطرح مي سازد داستان برادران يوسف(ع) است که براي جلب اعتماد
حضرت يعقوب و دست يابي به منفعتي، دروغ بر زبان راندند است. (يوسف آيه 9 و11)
بي گمان حسادت، عامل بسياري از نابهنجاري ها، و رذايل اخلاقي است و از اين لحاظ مي
بايست گفت که حسادت حتي عامل مهم در کفر ابليس و رانده شدن حضرت آدم(ع) از بهشت
است.
عامل ديگري که قرآن شناسايي ومعرفي مي کند گناه پيشگي انسان است. در حقيقت دروغ
گويي ريشه در گناه دارد از اين رو در آيه 7 سوره جاثيه مي فرمايد: ويل لکل افاک
اثيم; واي بر هر دروغگوي گناهکار. در اين آيه اثيم به عنوان تعليل و علت و عامل
دروغ بيان شده است.
قرآن مکر زنانه را نيز به عنوان عامل دروغگويي مطرح مي سازد. (يوسف آيه25 تا 28)
با توجه به آنچه ذکر شد به نظر مي رسد که عامل اصلي همان مساله توجيه رفتار و
اعمال است.
شخص مي کوشد تا با توجيه رفتار خويش و زشت نشان دادن رفتار ديگري خود را تبرئه
نمايد. از اين رو مکر، هم مي تواند زنانه باشد و هم غيرزنانه و هم دروغگويان از
اين شيوه براي دست يابي به اهداف خاصي بهره مي برند.
با آن که دروغ در ميان همه ملت ها و اديان امري ناپسند و زشت شمرده مي شود (غافر
آيه 28) ولي همگان بدان تمسک مي جويند و برخلاف باورها و اعتقادات خويش دروغگويي
را گاه به صورت پيشه و گاه به صورت موردي انجام مي دهند.
برخي از افراد بيش از ديگران به دروغ تمايل و گرايش دارند. اين افراد کساني هستند
که از نظر شخصيتي، خود را با گناه آلوده کرده اند ولي از آن جايي که نمي توانند به
آساني و در همه جا رفتارهاي نابهنجار و غيرقانوني خود را انجام دهند به دروغ گرايش
مي يابند تا در پناه دروغ، اعمال و رفتار خويش را توجيه و پسنديده جلوه دهند.
آثار دروغ و دروغگويي
برخي بر اين باورند که عامل فزاينده
نابهنجاري ها و گناهان در شخص و جامعه، دروغ و دروغگويي است. هر چند که هنجارشکني
و گناه، ريشه در علل و عوامل ديگري دارد ولي افزايش گرايش فرد به گناه را مي بايست
در دروغگويي انسان دانست.
اگر شخص به جهت کسب منافع و يا مصالح، قانون را زير پا مي گذارد و با عبور از
قانون و هنجارهاي پسنديده اجتماعي مي کوشد تا به آن منافع دست يابد اين عامل دروغ
است که اين مساله را سامان مي دهد و با تغيير وجوه ناپسند و زشت آن، مساله را در
ظاهر پسنديده و هنجاري مي نماياند. بنابراين بايد گفت دروغ در جامعه مهم ترين عامل
افزايش نابهنجاري ها و حريم شکني ها و قانون شکني هاست.
آثار دروغ و دروغگويي
هر نابهنجاري آثار و تبعاتي در فرد و
جامعه و در دنيا و آخرت به جا مي گذارد. از مهم ترين آثار دروغگويي در حوزه
اجتماعي، سلب اعتماد عمومي است. افزايش دروغ در ميان افراد جامعه، هرگونه قضاوت و
داوري درستي را سلب مي کند و اشخاص در تعامل با يک ديگر نمي توانند به گفتارهاي يک
ديگر در هيچ حوزه اي اعتماد کنند.
از آثار ديگري که قرآن براي دروغ بر مي شمارد آثاري است که به حوزه شخصي باز مي
گردد. قرآن بيان مي کند که نخستين کسي که از دروغ زيان مي بيند خود دروغگوست.
(غافر آيه 28) قرآن از مردم مي خواهد که از دروغ پرهيز کنند; زيرا دروغگويي امري
زيان آور براي انسان است (همان) افزون بر اين موجب مي شود تا در زمره ستمگران قرار
گيرد (آل عمران آيه 94 و انعام آيه 21 و 93 و 144) و در دنيا از رستگاري محروم
گردد (يونس آيه 69 و نحل آيه 116) و از هدايت الهي نصيب و بهره اي نبرد. (زمر آيه
3 و نيز غافر آيه 28) و در آخرت نيز روسياه برانگيخته شود. (زمر آيه 60)
دروغ عامل بدعت ها
قرآن گفته هاي بي اساس و دروغ را عامل اصلي بدعت ها در دين برمي شمارد. (نحل آيه 116) و دروغگويي را عامل مهمي در افزايش بيمار دلي افراد بيان مي کند. (بقره آيه 8 و 10) و اين گونه است که از دريافت آيات الهي و حقايق باطني محروم مي شود. (جاثيه آيه 7 و 8) و در نهايت با پيشه گرفتن دروغگويي در دنيا به جرگه منافقان وارد مي شود و به مصيبت نفاق گرفتار ميآيد. (توبه آيه 77).
دروغگو، انسان نامتعادل
به نظر مي رسد که دروغ به عنوان نابهنجاري گفتاري، هم به صورت موردي و هم به صورت تداوم عامل مهمي در خروج انسان از تعادل شخصيتي است. انسان متعادل براي اين که دچار بيماري نفاق و فقدان سلامت شخصيتي نشود مي بايست از دروغ موردي نيز پرهيز کند.
1388
چرا مردم دروغ میگویند؟
پاسخ سادهاش این است: برای این که آسان است. تقریباً همه مردم دروغ میگویند و اغلب آنها در این کار مهارت دارند. شواهد نشان میدهد که...
پاسخ سادهاش این است: برای این که آسان است. تقریباً همه مردم دروغ میگویند و اغلب آنها در این کار مهارت دارند. شواهد نشان میدهد که اغلب مردم دروغگویی را در همان سنین اولیه یاد میگیرند. کودکان تقریباً در سن 3 سالگی برای این که خود را به مشکل نیندازند دروغ میگویند. در 5 سالگی، وقتی پای تنبیه در میان باشد، اغلب کودکان دروغگویان ماهری هستند.
به گفته گیل سالتز، روانپزشک بیمارستان نیویورک، نکته جالب این است که به کودکان یاد داده میشود تا برای محافظت از احساسات دیگران، و خوشامد آنها دروغ بگویند. پدر و مادرها از همان سنین کودکی به فرزندانشان یاد میدهند که این گونه «دروغهای مصلحتآمیز» را بیان کنند. برای مثال، «به خاله بگو چقدر توی این لباس خوشگل شده.»
دروغ گفتن برای محافظت از فردی دیگر، مشکلتر است. برای مردم، دروغ گفتن برای محافظت از خودشان و پوشاندن خطاهایشان، طبیعی است امّا محافظت کردن از فردی دیگر، کمی پیچیدهتر است و به تجربه بیشتری نیاز دارد. اما هنگامی که مردم به سن بلوغ میرسند، دیگر دروغگویی به صورت طبیعت ثانویه آنها در آمده است.
مردم درباره چه چیزی دروغ میگویند؟
دروغگویی در افراد بالغ به منظورهایی فراتر از اجتناب از تنبیه شدن صورت میگیرد، هر چند اغلب افراد بالغ برای دریافت نکردن برگه جریمه رانندگی یا تخلفات جدّیتر به دروغگویی روی آوردهاند. به عقیده رابرت فلدمن، روانشناس دانشگاه ماساچوست، افراد بالغ میخواهند چگونگی نگریستن دیگران به خود و نیز چگونگی نگریستن خودشان به خودشان را کنترل کنند.
به گفته فلدمن، مردم دروغ میگویند تا مطلوبتر و خوشایندتر جلوه کنند و در یک موقعیت اجتماعی، دیگران را تحت تاثیر قرار دهند. در واقع، آنها میخواهند عزّتنفس خود را بالا ببرند. به عقیده فلدمن، مردم به محض آن که عزّت نفسشان را در خطر ببینند، دروغ خواهند گفت.آنها درباره نوع ماشینی که دارند، محل زندگیشان و مقدار درآمدشان به دروغگویی خواهند پرداخت.
براساس نتیجه مطالعهای که در مجلّه «روانشناسی پایه و کاربردی» منتشر شده است، 60 درصد افراد مورد مطالعه در خلال یک مکالمه 10 دقیقهای حداقل یکبار دروغ گفتهاند و میانگین تعداد دروغگوییها برای هر نفر 92/2 بوده است.
مردم به طور مرتب به خودشان نیز دروغ میگویند. آنها درباره مقدار کاری که باید برای خاتمه دادن یک پروژه انجام دهند، میزان غذایی که در روز میخورند، و بسیاری موارد دیگر به خودشان دروغ میگویند. این نوع دروغها صرفاً در خدمت فرار از واقعیتها و نوعی گولزدن خود است.
برخی از افراد بیشتر از دیگران دروغ میگویند. در واقع، بعضیها آنقدر دروغ میگویند که اعتماددیگران را از دست میدهند و حرفهای راست آنها نیز دروغ پنداشته میشود. مطالعهای که در دانشگاه کالیفرنیای جنوبی بر روی دروغگویان آسیبشناختی (پاتولوژیک) صورت گرفته نشان میدهد که این افراد از نظر مغزی تفاوتهایی با دیگران دارند.
نشانههای دروغگویی
سالتز عقیده دارد که روش صد در صدی برای این که بفهمیم فردی دارد دروغ میگوید وجود ندارد امّا برخی رفتارها را میتوان مورد توجه قرار داد:
* اجتناب ازتماس چشمی. آیا فرد به پائین یا اطراف نگاه میکند؟
* تغییر آهنگ صدا. آیا فرد بلندتر یا آهستهتر و یا تندتر از معمول صحبت میکند؟
* زبان بدن. آیا فرد آرام ندارد، وول میخورد، با دست جلوی دهان یا صورتش را میپوشاند؟
* تناقض با حرفهای قبلی. آیا گفتههای شخص با حرفهای قبلیش تناقض دارد؟
همه مردم به دلایل مختلف دروغ میگویند. بعضی ممکن است بیشتر از دیگران دروغ بگویند و برخی ممکن است به کمک روان درمانگر نیاز داشته باشند. امّا در یک نظر کلّی، دروغگویی هم یکی از خصلتهای بشر است.
ترجمه: کلینیک الکترونیکی روانیار
ادامه مطلب
![]()
|
|
شعبہ دعوت و ارشاد: پچھلے ایک صدی کے دوران توحید و سنت کی تبلیغ سے فیضاب ہوکر سینکڑوں افراد راہ حق پا چکے ہیں اور سلف صالحین کے منہج پر گامزن ہیں موجودہ دور میں یہ شعبہ یومیہ وعظ و نصیحت ، ہفتواری دروس، تبلیغی دوروں، اجتماعات اور جلسوں کا انتظام کرتا ہے۔
دارالقضاء والافتاء: مقتدر علماء کی کمیٹی ہے جس کے ذریعے مقدمات کا شرعی فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ سرکاری عدالتیں بھی بعض مقدمات میں فریقین کو اس کمیٹی کی طرف بھیج دیتی ہیں۔ نیز عوام کی طرف سے آنے والے سوالات کا جواب اور فتوی بھی دیا جاتا ہے ۔
شعبہ کفالت ایتام: اس ادارے کے تحت ناردرن ایریاز کے سینکڑوں یتیموں تک کفالت کی باقاعدہ رقم پہنچانے کے علاوہ تعلیم و تربیت کے معیار کی نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے اس معیار کو منظم، مربوط اور بہتر بنانے کے سلسلے کی تمہیی کے طور پر دارالایتام کی عمارت بھی تیار ہو گئی ہے۔
الاغاثہ الاسلامیہ: کے زیر عنوان غواڑی، سکردو اور یوگو میں فری ڈسپنسریاں قائم ہیں۔ غواڑی میں ایک ایمبولینس کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
شعبہ تعمیرات: حسب ضرورت مساجد اور مدارس کی تعمیر و مرمت کا اہتمام کرتا ہے۔ اہل خیر کے تعاون سے اب تک سینکڑوں مساجد و مدارس کی تعمیر و مرمت ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔
شعبہ رفاہ عامہ: یہ شعبہ تعمیرات کا فلاحی پہلو ہے جس کے ذریعے عوام اور ادارے کی زرعی ضروریات کے لئے اب تک بیسوں کوہلوں کی تعمیر ومرمت ہو چکی ہیں۔ نیز پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے 200 قریب کنویں اور ٹنکیاں تعمیر کی گئیں۔ نیز واٹر پائپ کے منصوبوں میں بھی تعاون کیا گیا۔ عوام کی بجلی سپلائی کے لئے دو جنریٹر خریدے گئے۔ ایک فلاحی ادارے کے تعاون سےبنا ہوا پن بجلی گھر غواڑی کی اکثر آبادی کو روشنی فراہم کر رہا ہے۔ ان کے اخراجات لوگوں کے جمع کردہ فیس سے پورے کئے جاتے ہیں۔
مجلہ
التراث:
یہ مجلہ جامعہ ہذا کا ترجمان ہے۔ جو اردو زبان میں توحید و سن
ت
کی دعوت اور اصلاح معاشرہ کا درد لئے 1998
سے
ہر چھے ماہ بعد طلوع ہو رہا تھا۔ اب اس کی بڑھتی ہوئی مانگ اور قارئین
کرام کے اصرار پر سہ ماہی کر دیا گیا ہے۔
صندوق البر: علاقے کی عمومی فقرو حاجت مندی کے پیش نظر فقراء و مساکین اور ناگہانی ضرورت مندوں کا خیال رکھنے اور غریبوں کی شادی میں تعاون کے لئے اقدام کرتا ہےصندوق الطالب: کالجوں ، یونیورسٹیوں اور بیرونی دینی مدارس کے مستحق طلباء کو تعلیم جاری رکھوانے کے لئے معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس وقت سینکڑوں طلباء اس فنڈ سے استفادو کر رہے ہیں۔ جامعہ اور برانچ مدارس کا تمام تدریسی و خدماتی عملہ مذکورہ دونوں مصارف کے لئے ماہانہ تعاون کرتا ہے۔
شعبہ کفالت مکتبات: جامعہ دارالعلوم کی مرکزی لائبریری کے علاوہ علاقہ بھر میں درجنوں ذیلی لائبریریاں قائم کی کئی ہیں تاکہ تعلیم یافتہ لوگ اپنے فرصت کے قیمتی لمحات علوم نبوت کی روشنی میں حیات انسانی کا اصل مقصد سمجھنے میں صرف کریں۔ نیز قرآن مجید اور عام فہم دینی لٹریچرز کی تقسیم بھی عمل میں آتی رہتی ہیں۔
محاسبہ کمیٹی: جامعہ کی آمد و خرچ کا حساب رکھنے کے لئے ہمہ وقتی سٹاف مستعد رہتا ہے۔ حسابات کی جانچ پڑتال کے لئے معتمد حساب دانوں کی ٹیم مقرر ہے جو اپنی رپورٹ مجلس شوری کو پیش کرتی ہے۔
دوسرے مرحلے کی تجدید:
نصرت الٰہی ہمرکاب رہی ۔ بزرگوں کی مخلصانہ دعائیں رنگ لاتی رہیں اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل علماء کی خدمات حاصل رہیں اور مخلص اہل احسان کا فیاضانہ تعاون برگبار لاتا رہا۔ مرکزی دارالعلوم بلتستان غواڑی کی عمارت توسیع کے باوجود تنگی داماں کا شکوہ رہیں اور مخلص محسنین کے باہمی تعاون سے 2000ء کو کلیۃ الحدیث کا افتتاح کیا گیا۔ یہاں مرحلہ متوسطہ(مڈل گروپ) سے آخر تک کے طلبہ کو منتقل کیا گیا۔ جبکہ مرحلہ ابتدائیہ (پرائمری گروپ) کو مناسب کمروں کی فراہمی تک حسب سابق وہاں رکھا گیا۔ اب کلیۃ الشریعۃ کی شاندار عمارت مکمل ہو رہی ہے۔
کلیۃ الدراسات الاسلامیہ بنات: دارالعلوم کے سابق عمارت میں قائم معہد خدیجۃ الکبری کے نصاب اور نظام میں بہتر ترمیم کے ساتھ اس سے کلیۃ الدراسات الاسلامیہ للبنات کا نام دیا گیا۔ اب وہاں بھی نئے دور کے تقاضوں کے مطابق عمارت بن رہی ہے۔
جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی کی خدمات:
جامعہ بنیادی طور پر ایک خالص دینی تعلیمی و تبلیغی ادارہ ہے۔ لیکن دعوت و توحید و سنت اور تعلیم کتاب و سنت کے تقاضوں کو پورا کرتے کرتے اس سے بہت سے فلاحی اور رفاہی نوعیت کی خدمات بھی ادا ہو رہی ہے۔ اور تعلیمی، ثقافتی، عدالتی اور فلاحی میدانوں میں کام چلانے کے لئے متعدد ادارے اور کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ ان خدمات کی مختصر سی جھلک پیش خدمت ہے۔
ادارۃ التعلیم: یہ ادارہ جامعہ دارالعلوم غواڑی کے چاروں شعبوں پر ہمہ وقت توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ تعلیمی، امتحانی، اور ادارتی معاملات کے ایک مربوط نظام کے تحت جامعہ کے تمام برانچ مدارس کی باقاعدہ نگرانی کرتا ہے۔
عصری تعلیم: جامعہ کی سر پرستی میں رائج الوقت سرکاری نصاب تعلیم کے فروغ کے لئے کئی پرگرام چل رہے ہیں:
(۱) جامعہ دارالعلوم بلتستان غواڑی کے قسم البنین اور قسم البنات دونوں میں زیر درس طلباء و طالبات کو مڈل سے میٹرک کی سطح تک بنیادی مضامیں کی تیاری کا موقع اور علمی معاونت فراہم کیجاتی ہے۔2002 میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کے میٹرک سال اول آرٹس گروپ کے امتحان میں اسی جامعہ کے ہونہار طلباء نے پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں۔ جس پر جامعہ کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
(2) برنامج المساعدہ التعلیمیہ کے تحت مرکز اسلامی سکردو میں کالج کے ریگولر طلباء کے لئے قیام و طعام، اسلامی عقائد کے دروس اور تعلیمی و تربیتی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
(3) الاثر پبلک سکول : جامعہ دارالعلوم کے سر پرستی اور کوشش سے الاثر پبلک سکولز کا سلسلہ قائم کیا گیا ۔ غواڑی میں کامیابی کے بعد اب یہ سکول کریس، یوگو ،کھرفق میں بھی قائم ہو چکے ہیں۔ ان سکولوں کے اخراجات طلبہ کے فیس سے پورے کئے جاتے ہیں۔ کمی بیشی کی صورت میں ادارہ کفالت کرتا ہے۔
.: Weblog Themes By Pichak :.
